بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع اللہ کے نام سے۔۔
الَّذِ ي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ
(جس نے علم سکھایا قلم کے ذریعے!)
☆ ☆ ☆
انتساب؛
میرے نوک قلم سے نکلنے والا ایک ایک حرف اس عظیم ہستی کے نام!
جس نے مجھے قلم کار ہونے کی منفرد صلاحیت سے نوازا۔
ایک ایسی صلاحیت، جو اُسکی اپنی ذات کا خاصہ ہے۔
داستان نویس!
یعنی داستان سر انجام دینے والا!
☆ ☆ ☆
اس داستان کو چند معاشرتی نظریات، استحصالی مطالبات اور نفسیاتی تعصبات جیسے سنگین نتائج جرائم کے زیر اثر تخلیق کیا گیا ہے جس کے تحت براجمان وجودوں نے آزاد نوع بشر کی گردنوں میں غلامی کا طوق ڈال کر دقیانوسی روایات کے تختہ دار پر لٹکایا۔ یہ کہانی؟
گٹھ جوڑ سازش۔۔ گہرے تاریک کھنڈر۔۔ قدیم طرز پر مبنی انسانی ہتیا۔۔ اور پرتوں میں چھپے ابلیس چہروں کو بے نقاب کرتے بے حسی کے روح لرزاں مراحل سے گزرے گی۔ جسمیں کچھ حقائق کا انکشاف پڑھنے والی آنکھوں کو بے یقینی کے گہرے سمندر میں غرق کر دے گا۔
(بے شمار لفظوں کے جال میں بنی اس طویل داستان میں بیان کی گئی چند روایات ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہیں جو پسماندہ علاقوں میں دب کر رہ گئی ہیں۔ انہیں اجاگر کرنے کے لیے جگہیں اور نام مکمل طور پر بدل دیے گئے ہیں اس کے علاوہ یہ داستان مکمل فرضی ہے لہٰذا کسی بھی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔)
میری داستان میں میرے ساتھ جڑنے کے لیے شکریہ۔
مختصر! لیکن مخلص دعاؤں کی طلبگار،
آپ کی داستان گو!
کنزہ احمد!
☆ ☆ ☆
"ب"
(باطل سوز)
کیا تمہیں سناؤں قصہ ایک ایسے باطل سوز کا؟
جس کا ہر قدم سیاہ، جس کا ہر داؤ تاریک تھا۔
جہاں بچھاتے اُس وقت کے ابلیس اپنے مکر کا جال؟
وہ ان غاصبوں کے قہر پر مسلط کاری وار تھا۔
اس کے سیاہ قدموں نے لکھی حق کی ایسی داستاں
جو مٹے نہیں کبھی، وہ ہر باب پر کٹھن دشوار تھا۔
اس کے دیس کے بڑے بوڑھے داستان سناتے تھے
وہ رُخ پلٹتا تو تخت کانپتے۔۔
وار بدلتا، تو روح کی لرزہ کار تھا۔
پھر اک روز اس پرُ اسرار قصیدے کو جان کر
ایک داستان گو نے دیا اُسکو لقب!
“باطل سوز کا”
باطل سوز یعنی (ظلم اور ناحق کو جلا کر راکھ کر دینے والا)
☆ ☆ ☆
رات کا آخری پہر،
وقت: چار بج کر انیس منٹ۔
فضائے بسیط میں ڈھولتی زمین کا پہاڑی خطہ، وادی پغمان کے برفانی گھیرے میں محفوظ، دسمبر کی ہولناک خاموشی میں سانس روکتی ہوئی ڈھند، اور منجمد کرتی ہوئی برف میں پوشیدہ، افغانی دارالحکومت ”کابل“ کا جائے پناہ افغانستان تھا۔ وسیع رقبے پر پھیلے کابل کے مغرب میں واقع، وادی پغمان کے فلک بوس پہاڑوں کے بالائی ڈھلوانوں پر بنے گھروں میں خاموش گھڑیالوں کا کوفت زدہ تک تک رات کی خاموشی میں واضح خلل پیدا کر رہا تھا۔
کہا جاتا ہے دسمبر برفانی علاقوں میں وقت کو منجمد کر دیتا ہے۔ یہاں کی راتیں غم کی ماتمی راتوں کی مانند طویل ہو جاتی ہیں۔ سانس لیتی ہر چیز برف میں سرایت کر جاتی ہے یونکہ یہ خطہ ایک ایسا مظلوم قیدی دکھائے دے جسے برف نے تِخ بستہ حراست میں لیتے منجمد کر دیا ہو۔
ایسی ہی ایک اولے برساتی رات پغمان کے پہاڑوں پر چھائی اپنے آخری پہر کو پہنچ چکی تھی۔ ہوا کے تیز جھونکوں کے ساتھ گرتی برف نے زندگی کی حدت کو منجمد کر دیا تھا۔ ہر طرف سفیدی کا راج تھا اور جہاں تک نگاہ جاتی تھی وہاں تک صرف سناٹا۔ رات کے اس پہر دنیا میں کی گئی ہر تخلیق کے لیے وقت براق کی مانند بھاگ رہا تھا سوائے پغمان کے پہاڑوں کے۔ یہاں کے باسیوں پر ایک گٹھ جوڑھ سازش کے تحت طویل نیند اتاری گئی تھی اتنی طویل کہ طلوع آفتاب ہونے تک زمانے بدل جانے تھے۔ قسمتیں پلٹ جانی تھیں۔ سازشیں پایہ تکمیل پہنچ جانی تھیں۔
اس سے پہلے کہ یہ سازشی ہوائیں کوہ پغمان کی چوٹیوں پر سے گزرتے وقت کے سست قدموں پر مزید غلبہ کرتی کہ اگلے پل گھپ سناٹے میں کسی کے بھاگتے قدموں کی آواز گونجی۔
”سنسان برف پر دوڑتے بغاوتی قدموں کی سنسنی خیز آواز۔۔۔“
یک دم تجسس کی ایک گہری چمک نے وقت کی آنکھوں میں اداسی کی دھند کو کہیں دور بھاگایا اور وقت نے ہاتھ جھلا کر دھند کو صاف کیا تاکہ متجسس نظریں جا پڑیں؛
”بغاوت کا لبادہ اوڑھے دو سیاہ مجسموں پر! “جو اسے للکارنے کی طاقت قدموں میں قید کیے آگے بڑھ رہے تھے۔ ان کے ارادے پختہ اور عزائم خوفناک معلوم ہوتے تھے بالکل کوہ پغمان کے بلند غرور کی طرح۔
وقت نے ٹھنڈی آہ بھرتے سر کو گہرے افسوس میں ہلایا اور کندھے ڈھیلے چھوڑتے فرصت سے دیکھنے لگے تیز قدموں سے آگے بڑھتے ہوئے اونچے سائے کو۔ جس کے سر اور آنکھوں کو ڈھکتی سیاہ شال آسمان سے گرنے والی برف میں سفید پڑ چکی تھی۔ کندھے پر ایک بھاری بیگ تھا جو لمبے سفر کی ضمانت تھا۔ وہ اونچا مرد دائیں طرف چلتی (پختون برقعے سے پاؤں تک گرائے) خاتون کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہا تھا۔ مرد کی تیز نظریں زرد ٹارچ کو دائیں بائیں گھماتے دھند میں سے راستہ تلاش کرنے تھیں جبکہ زنانہ سائے نے رخ موڑ کر برفانی ڈھلوان پر بنی اونچے ستونوں والی سرخ حویلی کو ودائی نظر دیکھا۔ مان، بھرم، امید، سب ایک ساتھ ٹوٹنے اس کی جالی دار برقعے سے نظر آتی خاموش آنکھوں میں اک شور برپا کر گئے تھے۔ کتنے موسم تھے جو اس حویلی کے سنگ گزرے تھے۔ کتنی راتیں تھی جو اس ڈھلوان پر لاوارث رہ جانی تھیں۔ وہ بنا پلک جھپکے انہیں ساتھ لے جانے کی اجازت مانگنے ہی لگی تھی کہ اگلے لمحہ اس کا ہاتھ پکڑ کر چلتے محافظ مرد کا مضبوط ہاتھ اوپر کو اٹھایا اور اس کی آنکھوں کے سامنے دیوار سی کھڑی کر گیا- حویلی اس بھاری ہاتھ کی آڑ میں خاتون کی آنکھوں سے اوجھل ہو چکی تھی۔ بھاری ہاتھ سے ہوتی خاتون کی نظریں دوبارہ اٹھنے کی گستاخی کرنے ہی والی تھیں کہ حویلی اور اس کے درمیان اس مرد کا فولادی وجود آکھڑا ہوا-
وہ وجود۔۔ ”جس کی آنکھوں میں بغاوت ازل سے راج کرتی آئی تھی۔“
وہ وجود۔۔ ”جس کے چہرے پر کابل کے جنگلوں میں پڑی ٹھنڈی وحشتناک برف نقش کر دی گئی تھی۔“
وہ وجود۔۔ ” کہ وادی پغمان کی ساری بادشاہت جس کی فقط دو آنکھوں کی غلام تھی۔“
اس فولادی مرد نے دو لفظوں میں خاتون کا نام پکارا تھا۔ آواز اتنی سرد تھی کی تھپیرے مارتے یخ بستہ ہوا کے جھونکے بھی کپکپا جائے۔ برف کی شدت کو مات دیتے اس کے سرد لہجے پر خاتون کے وجود میں لرزش طاری ہوئی۔ ایک دم ہاتھوں سے کچھ پھسل کر گرا۔ ایک نوکیلا پتھر، جسے وہ پچھلے کئی وقتوں سے مٹھیوں میں جکڑے کسی قیمتی متاع کی طرح سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ اب وہ پتھر برفانی ڈھلوان کو چیرتا تاگہرائی میں گمناہم ہوتا چلا گیا تھا۔
سیاہ شال اوڑھے مرد نے ایک نظر اسکے قدموں میں گہر اسوراخ کرتے برف کی تہہ میں جاتی چیز کو دیکھا، پھر اسکے چہرے کی جانب، اور اگلے پل وہ درشتگی سے اسکا کپکپاتا ہاتھ تھامے واپس آگے بڑھ گیا تھا۔
ابھی وہ چند قدم ہی آگے بڑھے تھے کہ شب کی تاریکی میں حویلی کی حفاظت کے لیے چاروں دشاؤں میں کھلا چھوڑا گیا حفاظتی کتوں کا غول منہ سے رال ٹپکاتے ان پر حملہ کرنے کو شکاری کی مانند جھپٹا۔ شاید اس غول کو دور سے ہی ابلیس کسی کا گھر اجاڑ کر بھاگتادکھائی دے گیا تھا۔
چند فاصلاتی قدم۔ اور پیچھے سے بھاگ کر آتا جنگلی کتوں کا غول شال میں لپٹے کھڑے مرد کی شاہ رگ کو شکنجے میں لیتے چیر پھاڑ ڈالتا کہ خاتون کو اپنے مضبوط بازوؤں کے حصار میں لیتے اس مرد نے شال کے سرے کو آنکھوں سے تھوڑا نیچے سرکا دیا۔۔ ساتھ ہی گردن کو پیچھے موڑتے بھاگ کر آتے کتوں کے غول کی جانب دیکھا۔
وقت نے ڈھیلے چھوڑے کندھے اکڑ لیے تھے۔ مردانخانے کے صحن میں جلتی بجھتی زرد روشنی کی لہر، دھند کو کاٹ کر اس مرد کا چہرہ واضح کرنے میں ناکام رہی تھی۔ مرد نے ہاتھ میں تھامی زرد ٹارچ کو گھما کر اپنے چہرے کی کیا۔ اسکے نقوش واضح ہونے کی دیر تھی کہ موت کی لپک، کتوں کی غراہٹ اور وقت کی ست رفتار، سب ایک ساتھ تھم گئیں۔
چند لمحوں کا کھیل اتنابرق رفتار تھا کہ آگے چلتی خاتون اور اسکے قدموں پر قدم رکھتے جاتے اس مرد کے تیز قدم سست بھی ناپڑے تھے۔ کتوں نے بجائے آگے کے چند قدم پیچھے لیے۔ آنکھوں میں دبوچ کھانے کی جگہ اب مالک سے وفا ابھر آئی تھی۔ ان وحشی کتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے قہر آور آنکھوں والے مرد کا ہاتھ اوپر کو اٹھا اور ایک بار پھر شال سے چہرے کو ڈھک گیا۔
آگے بڑھتی خاتون کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ یوں تھی جیسے اس مضبوط مرد کا سہارا نہ ہوتا تو وہ اب تک پغمان کے پہاڑوں میں سر تک دھنس چکی ہوتی۔ دیکھتے ہی دیکھتے دو انسانی وجودوں کا زندہ سایہ جنگل کی ہولناک سیاہی میں کہیں غائب ہوتا چلا گیا۔ وہ جا چکا تھا بغاوت کے گہرے بادل پغمان کے پربتوں پر چھوڑے۔ جو جب چمکتے آگ کابل کے مکینوں پر برستی، جو جب گرجتے طوفان کی لپیٹ میں پورا افغانستان آتا۔
وہ جا چکے تھے لیکن برف پر نقش ان کے آخری قدموں کے نشانوں پر صدیوں پرانی حویلی کی بوڑھی آنکھیں، مردانخانے کے دروازے کے پاس سردی سے ٹھٹکتے بے زبان خرگوش کی معصوم نظریں، اور جنگلی کتوں کے سرراہ کی دردناک نگاہیں جم کر رہ گئی تھیں۔ آنے والے سو سالوں تک؟ صدیوں تک؟ یا پھر کون جانے زمانے گزر جانے کے بعد بھی وہ یو نہی منجمد رہ جاتیں۔
اس لمبی سیاہ رات کے بعد وقت کی بڑھتی رفتار آسمان کو رنگ بدلنے پر مجبور کر گئی تھی۔ آسمان سے گرتے اولے تھم چکے تھے۔ جنگل میں ہر طرف درختوں کی برہنہ شاخوں پر برف نے یوں پردہ ڈال رکھا تھا جیسے ابکی بار ہمیشہ کے لیے لباس پہنا دیا ہو۔ اسی جنگل کے اونچے لمبے درختوں کے بیچ وہ دونوں مسلسل بھاگے جا رہے تھے۔ ٹھہر جانا موت تھا۔ ٹھنڈی موت۔ جو جسم محفوظ کر لیتی ہے جو وجود نہیں لوٹاتی۔ کیا تم برف کا جنونی ہونا سمجھتے ہو؟
کسی مؤذن کی دور دور تک گونجتی حی علی الفلاح کی آوازوں نے بھی ان کے قدم نہیں جکڑے تھے۔ وہ فلاح پانے نکلتے تورات کا آخری پہر ہی کیوں چلتے؟
آدھا گھنٹہ مسلسل بھاگنے کے بعد وہ جنگل سے سنسان طرف نکل آئے تھے۔ سامنے میدانی صورت میں دور تک پھیلا برفانی ڈھلوان تھا۔ دھند اتنی شدید تھی کہ ایک پل کو دل سہم جائے۔ ہر طرف سفیدی ہی سفیدی۔ عکس بھی وجود بھی۔ خاتون کا جسم ٹھنڈ کی شدت سے سن پڑتے بے جان ہونے لگا تو تھم گئی۔ پاؤں برف میں دھنسنے لگے۔ منہ سے نکلتی سانس ہوا میں گھلتے دھند بنتی جارہی تھی۔ تھم جانا موت تھا۔ اسے آگے بڑھنا چاہیے تھا لیکن لمحہ بہ لمحہ وہ نیچے جارہی تھی۔ گہرائی میں۔ تاریکی کی اور۔ برفوں کی دنیا میں۔ جہاں لوگ داستانیں دفن تھیں۔ جہاں جذبات بھی برف تھے۔ جہاں انسان بھی برف۔
ملکہ کے آنے کی خبر کوئی قدیم خادم اپنے وقت کے بادشاہ تک پہنچا تھا کہ آن کی آن میں بنیادیں رکھ دی گئی تھیں۔ خادم کھڑے کر دیے گئے تھے۔ ملکہ کے لوٹنے پر ایک نیا محل تخلیق ہونے جا رہا تھا۔ کسی کا فرصت سے اسکی آنکھوں کو دکھایا خواب آج سچ ہونے کو پڑا تھا۔
آگے بڑھتے مرد نے ساتھ اٹھتے قدموں اور ہانپتی سانسوں کا شور نہ سنتے پیچھے پلٹ کر دیکھا۔ وہ اب گھٹنوں تک نرم برف میں دھنسی جا چکی تھی۔
”ہمالہوااااااااااا۔۔۔!“
ایک تیز چنگاڑتی آواز برفوں کو چیرتے ہوئے اس کی منجمد سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔ اگلے لمحہ وہ محافظ مرد سلو موشن میں اپنی جانب بھاگتا دکھائی دیا۔ وہ نیچے جارہی تھی۔ بھاگ کر آتے وجود کا عکس دھندلا پڑ گیا تھا۔ آنکھیں بند ہوئیں۔ وہ خود کو قدیم دنیا کے حوالے کر چکی تھی۔ ابھی تو بغاوت کے ”ب“ نے انکے قدموں کو جکڑا تھا ابھی تو ”غاوت“ نے سر کو آنا تھا۔
”ہمالہااا۔۔“
وہ ایک بار پھر چلایا۔ جیسے کہا ہو؟ (”اپنا جسم ڈھیلا مت چھوڑو۔ کہاتھاناں؟ ٹھہر مت جانا!“)
وقت نے انہونی ہو جانے کے تحت ہاتھ منہ پر جما لیے۔ ڈھلوان کے نیچے برف کی نئی ملکہ کے لیے راستے ہموار اور خادم کھڑے کیے جا چکے تھے۔ بادشاہ کے آنے کا وقت قریب ہی تھا کہ محافظ مرد اس تک پہنچتے گھٹنوں کے بل گرا۔ اب وہ اسے کندھوں سے پکڑے اوپر کھینچ رہا تھا۔ وہ جتنا اوپر کھینچتا اس کے اپنے قدم برف میں دھنسنے لگتے۔ ڈھلوان کا وہ حصہ برفانی دلدل تھا۔ دو قدم پیچھے ہٹتے اس مرد نے نیچے جھک کر جگہ کو ٹٹولا۔ وہاں برف سخت تھی۔ اپنا وزن پتھریلے حصے پر پھینکے وہ کہنیوں کے بل آگے کو جھکا۔
”ہمالہ! آنکھیں کھولو۔ وہ دیکھو سامنے۔ لمبی سیاہ لکیر۔ برف کو کاٹتی ہوئی ۔ تم سنو غور سے سنو۔ برف کے پار دور سے آواز آ رہی ہے۔ ہم یہاں سے دور چلے جائیں گے۔ بہت دور۔ ان آدم خور پہاڑوں کو ہم مزید جانیں نہیں دے سکتے۔ آنکھیں کھولو ہمالہ۔۔“
اس مرد کی بھاری آواز میں اب کی بار نرمی تھی دلاسا تھا۔ خاتون کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں بھرے ٹھہر ٹھہر کر بولتا وہ اسے زندہ رہنے کی ایک آخری امید دے رہا تھا جو وہ کھو بیٹھی تھی۔
”پغمان کے پہاڑوں میں میرا انتقام باقی ہے میں وہ لیے بنا نہیں جاؤں گی۔“ضدی اور اکھڑ لہجہ اسکے قبائلی ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔
”(تم اسے ڈھونڈتے کیوں نہیں؟ م۔ مجھے یاد ہے اسنے کہاہتا (میں کھو جاؤں تو مجھے مشرق میں ڈھونڈنا۔ ناملا تو مغرب میں ڈھونڈنا۔ شمال اور جنوب میں ڈھونڈنا۔ میں پھر بھی ناملا تو مجھے صرف پہاڑوں میں تلاشنا۔ بار بار تلاشنا۔ میں تمہیں برفوں میں مل جاؤں گا سنگیرو چکا) مجھے آخری مہلت دو میں اسے برفوں میں سے ڈھونڈلاؤں گا۔)“
”ہمالہ ہوش میں آؤ ہمیں نکلنا ہے یہاں سے۔ آنکھیں کھولو۔۔“
محافظ مرد کبھی اسکے نیلے پڑتے چہرے پر تھپتھپاتا تو کبھی گردن پیچھے کو گھماتے سنائے میں گونجتے سائرن کا وقت ناپتا جسکی آواز ہر بار پہلے سے زیادہ قریب ہوتی جارہی تھی۔
”وہ کہتا تھا میں “سنگیرو چُکا“(برفوں کی ملکہ) ہوں مجھے برف سے بنایا گیا ہے۔ میں کیسے اسے تلاشنے میں ناکام ٹھہر گئی؟“
اپنے رخسار پر رکھے مرد کے ہاتھوں کو وہ جھک گئی تھی۔ ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے۔ آواز میں کسی گہرے دکھ کا جہاں آباد تھا۔
”ناتم اس وقت کوئی برفانی ملکہ ہو ناہم کسی داستان کا حصہ۔ آخری بار بول رہا ہوں میرے ہاتھوں کو پکڑو۔ میں کسی صورت تمہیں ان برفوں کے حوالے نہیں کروں گا ہمالہ۔“
اسے سر کو پوری شدت سے دونوں ہاتھوں میں جکڑتے وہ سابقہ سخت لہجے اور ٹھنڈے تاثرات کے ساتھ اسے خبر دار کر گیا تھا۔ نرمی اپنا تاثر کھو چکی تھی۔ اب صرف سرد مہری تھی۔
اسے اوپر ہونے کی جدوجہد نا کرتے دیکھے وہ برف پر سیدھا لیٹ گیا اس کے سامنے، بالکل سیدھ میں۔ دونوں ہاتھ پیچھے کرتے اس برفانی سنگیرو چُکا کے گرد باندھے اور ایک جھٹکے میں اسے برفانی محل سے کھینچ لایا۔ نیچے کہیں گہرائیوں میں کسی قدیم بادشاہ کو ایک بار پھر مات ہوئی تھی۔ برفوں کا محل ملکہ کے وجود سے اس بار بھی محروم ٹھہرتا تھا۔ وقت نے کہانی کے اختتام کو یکدم آغاز کی سمت بڑھتے دیکھ ہاتھ بلند کر دیے جیسے کہا ہو؛
”ہک ہاہ! یہ برفانی باشندے بھی ناں۔۔“
ریل گاڑی کی سیٹی اب کی بار مختصر فاصلے سے سنائی دی۔ سفیدی میں گونجتا اسکا سائرن کسی گہری داستان کا خوفناک حصہ لگ رہا تھا۔ آخری موقع، آخری امید۔ مرد نے کندھے پر بھاری بیگ اٹھاتے بنا لمحہ ضائع کیے خاتون کا ہاتھ پکڑا اور پوری قوت سے بھاگا۔ خاتون کا برقعہ اور مرد کی شال ہوا کی مخالف سمت سے ٹکراتے پھڑپھڑارہے تھے۔ انکے تیز رفتار قدم پڑتے ہی برف کے نرم گولے اوپر کو اچھلتے اور پھر زمین میں بوس ہو جاتے اور یہ سلسلہ یوں ہی جاری تھا۔
اوپر سے گزرتے کسی مہاجر پرندے نے سفیدی میں قید ان دو سیاہ وجودوں کو گردن جھکائے گہرے افسوس سے دیکھا، پھر یکلخت اونچی اڑان بھرتی۔ ”اپنے دیسوں کے باغی تمام عمر بھٹکتے رہ جاتے ہیں کاش وہ یہ بات انکو سمجھاپاتا۔“
پٹری پر چھڑک چھڑک کی آواز قریب ہوتی جارہی تھی۔ پلک جھپکنے کی دیر تھی کہ سائرن بجاتی ریل گاڑی پٹری پر پڑی برف کو چیرتے آگے بڑھنے لگی۔ وہ دونوں ابھی پٹری سے بیس قدم دور تھے۔
”یہ کار گوریل گاڑی ہے ہمیں اس میں چھلانگ لگانی ہے۔ آگے اسٹیشن ہے اس کی رفتار آہستہ ہے میں جیسے کہوں اپنے پاؤں زمین سے اٹھادینا۔“
وہ بول رہا تھا۔ بھاگتے ہوئے، ہانپتے ہوئے۔ سانسوں میں غیر روانی تھی۔ لہجہ ابکی بار تحکم آمیز تھا۔ روکھا اور بے جان سا۔
ابھی تو وہ ایک موت کو شکست دے کر آئی تھی کہ زندگی نے ایک بار پھر سے عزرائیلی راستے پر لاکھڑا کیا تھا۔ اسے شدت سے احساس ہوا وہ آج تک حویلی کی چاردیواری میں کتنا محفوظ رہا کرتی تھی۔ موت کو تو اس اونچے محل نے جیسے برفوں میں قید کر رکھا ہو۔
وہ پٹری تک پہنچ چکے تھے۔ ریل گاڑی بڑھتی جارہی تھی۔ ”کچھ چیزیں اور کچھ لوگ کبھی نہیں ٹھہرتے چاہے ان کے راستے ہمارے وجود کو کچلتے ہوئے ہی کیوں نہ گزرتے ہوں۔ کچھ چیزیں اور کچھ لوگ بہت بے حس واقع ہوتے ہیں۔۔۔“
دھیمی ہو کر بھی ریل کی رفتار کم سے کم زندگی کو شکست دینے ہی والی تھی۔ مرد کی نظریں جیسے پیچھے گئیں ریل گاڑی کا اختتام قریب تھا۔ گہر اسانس چھوڑتے اسنے کندھے سے لگی لڑکی کے شانوں کو سختی سے مٹھی میں جکڑ لیا۔ آنکھوں میں خوف کی گہری لکیر ابھری اور اگلے پل مدہم پڑتی چلی گئی۔ رخ موڑ کر اپنی جانب بے یقین نظروں سے دیکھتی ہوئی برف کی ملکہ کو دیکھا۔
”میں جینا چاہتی ہوں نوح۔۔“
بنا لفظوں کے وہ منت کر رہی تھی۔ آنکھوں میں اک امنگ تھی جسے بہاروں کا موسم دیکھنے تھے۔ ساون کی رُتیں دیکھنی تھیں۔ مکمل چاند دیکھنا تھا۔ منظر اتناخوفناک تھا کہ کوئی حد نہیں۔ کہاتا ناسفیدی سے زیادہ وحشت ناک کچھ نہیں ہوتا؟
”کلمہ پڑھ لو ہمالہ۔۔۔“
ایک صور تھا جو خاتون کی ساعتوں پر پھونکا گیا- قابض ارواح کے سارے رنگ بولتے ہوئے مرد کے چہرے پر نظر آئے تھے۔ اب کی بار سفیدی نے بھی لہجے پر جھر جھری لی تھی۔ کیسا عجیب لہجہ تھا۔ وحشیانہ- بے رحم۔ ساعتوں کو چیرتا ہوا-
وہ لفظ نہیں لہجے بدلتا پھر لہجوں کے بھی انداز بدل دیتا تھا۔ اس نے رنگ بدلتی ہر مخلوق کی تاریخ الٹ پلٹ کر رکھ دی تھی۔ اب دنیا کو رنگ بدلنے والوں سے زیادہ اور انداز بدلنے والوں سے خطرہ تھا۔
ہمالہ مسلسل سر نفی میں ہلا رہی تھی۔ اسکی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو سامنے کھڑا امر د اپنے پوروں پر سمیٹ گیا تھا پھر کچھ پڑھ کر اسکے چہرے پر پھونک ماری شاید کوئی آخری کلمات۔ پھر سامنے کھڑی موت کو دیکھا۔ پھر آسمان کی طرف۔ ہونٹ سختی سے دانتوں میں جکڑ لیے۔ چار قدم پیچھے لیے اور اگلے ہی پل بھاگ کر ریل گاڑی کے داخلی دروازے کے پکڑتے اپنے پاؤں اوپر اٹھا لیے۔ پھر اتنی ہی تیزی سے دوسرے ہاتھ کو گھما کر، پوری شدت کے ساتھ خاتون کو ریل گاڑی میں اٹھا پھینکا۔
لمحے کے باریک حصے میں وہ بے خوف مرد دو زندگیوں کے ساتھ بھاری رسک کھیل گیا تھا اسکی دلیری پر سفیدی کی آنکھیں متحیر رہ گئی تھیں۔
وزنی بیگ، ہوا کی شدت، اور ریل کی رفتار سے اپنا توازن برقرار نہ پا سکے نوح کے ہاتھوں سے چھوٹا تھا ہمالہ کا وجود دور جا گرا۔ مرد کا اپنا وجود آدھا ریل کے اندر اور آدھا باہر کی پٹری سے رگڑتا جا رہا تھا ۔ فاصلے پر کھڑے ملک الموت نے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا تھا کہ اگلے پل کوئی کمزور قوت اسے گردن سے پکڑتے موت کے منہ سے کھینچ لائی۔ اپنی پوری طاقت اسی ایک پل پر لگائے۔
”نوح حح حح۔۔۔“
محافظ کو پکارتے وہ درد سے بلبلا اٹھی تھی۔ اسے لگا یہ برف اس سے محل ٹھہرانے کے بدلے اس کا گھر چھین لے گی- وہ نوح کے قریب دھڑپ سے گری تھی۔ دل کی حد سے تجاوز کرتی دھڑکن ہمالہ کے سانس لینے میں رکاوٹ بنی۔ ٹانگیں شل پڑتی چلی گئیں۔ جسم لرز اٹھا تھا۔ جھکتے ہوئے کانپتا ہاتھ اٹھایا اور نوح کے دل کے مقام پر رکھا۔ حرکت نہیں ہوئی ۔ دوسرا لرزتا ہاتھ اسکی آنکھوں پر رکھا۔ چند لمحوں کے لیے پٹری کے ساتھ رگڑ کھاتا وجو داس مضبوط مرد کی حواس خمسہ چھلنی کر گیا تھا۔
”نوح؟“
اپنی ہی آواز اسے آج پغمان کی کھائیوں سے آتی سنائی دی تھی۔ وہ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہا تھا؟ یہ آدم خور پہاڑ اسے نہیں چھین۔۔ نہیں۔۔ ایک دم کسی اندیشے کے تحت اسکا چہرہ سرخ سے زرد پڑتا چلا گیا۔ برف کی ملکہ کو آج برف ہی رفتہ رفتہ پگھلانے کا سبب بنی تھی۔
کسی کے زور زور سے جھنجھوڑنے پر اس مرد کازخمی وجود سلگ اٹھا۔ نیم وا آنکھیں کھلتے ہی سیدھا سر کی طرف جھکلی ہمالہ پر گئیں۔ گہر ا زرد چہرہ جیسے مر جانے کے قریب ہو۔
”ٹھیک ہوں۔“
دو لفظوں پر مشتمل، جذبات سے عاری لہجہ تھوڑی دیر پہلے اس پر طاری ہوئے خوف کی دھجیاں اڑا چکا تھا۔ کیا وہ ٹھیک تھا.. واقعی؟
تشکر کا سانس بھرتے ہمالہ اسکے ماتھے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ ہونٹوں پر سختی سے دانت جمائے اس مرد نے درد کی شدت اور اپنے چہرے پر گرتے خاتون کے آنسوؤں کی حدت کو اندر تک اتارا تھا۔
جنگلوں اور بیابانوں سے گزرتی بل کھاتی ہوئی ریل گاڑی کی حالت کافی خراب تھی، جس حصے میں اس وقت برفانی باشندوں نے پناہ لی تھی اس میں ایک طرف مشینی پرزے، لوہے کے بڑے بڑے پائپ اور ٹوٹا پھوٹا سامان رکھا تھا جن میں مٹی کے تیل اور عجب زنگ آلود مہک گھلی تھی جیسے تجارتی مال اپنی منزل کی جانب رواں ہو۔ اس بکھرے سامان کے دوسرے طرف نفاست سے سیل پیک کاٹن رکھے تھے۔
بیگ کے سہارے کمر ٹکا کر اوپر اٹھتے نوح نے سرسری نظر ریل گاڑی میں پڑے سامان کو دیکھا اور پھر اپنے وجود کو۔۔ وہ زندگی اور موت کے راستے عبور کر آیا تھا۔ چند لمحوں کی تاخیر اور وہ پٹری پر کچلے ہوئے ہوتے۔ ”موت کے منہ میں جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آتے اور جو لوٹ آئیں وہ پورے زندہ بھی نہیں رہتے۔ ان کے وجود کا کوئی ایک حصہ وہیں رہ جاتا ہے جہاں وہ آدھے مر چکے ہوتے ہیں۔“ کچھ تو تھا اس وقت کے آخری حصے میں ہمیشہ کے لیے بدل چکا تھا۔ انسان موت کا بھیانک چہرہ کبھی نہیں بھلا پاتے۔
”ہم پغمان کے پہاڑوں سے بہت دور جا رہے ہیں۔۔۔“
تھوڑی دیر بعد وہ گھٹنوں کو بازوؤں کے گھیرے میں لیے ان پر سر ٹکائے بیٹھی ہمالہ سے مخاطب ہوا۔ لہجہ پرسکون تھا۔ ایک نئی زندگی میسر آنے کے بعد والا۔ دھیما اور مطمئن سا۔
”وہ آج تمہیں چھیننے والے تھے۔ وہ آج پھر سفاک بن گئے تھے نوح(نوح)۔۔“
بولتے ہوئے ہمالہ کی آنکھیں کہیں دور ٹکی تھیں ۔ اس ایک لمحہ پر جب سامنے بیٹھا محافظ موت کے منہ میں جا چکا تھا۔ اسکے چہرے کو دیکھے گیا۔ آج نوح کے مرنے پر اس چہرے نے رُل جانا تھا۔
”سنگیرو چُکا کے ساتھ تو برف تعاون کیا کرتی تھی میرے ساتھ اتنی ظالم کیوں ہے نوح؟“
ریل گاڑی کے دروازے سے پیچھے چھوٹتی جاتی برف پر سوالیہ نظریں جمائے وہ خود سے سوال کر رہی تھی؟ نظر آتی برف سے؟ یا پھر نوح کے وجود سے؟
نوح سمجھ نہ سکا۔ جبکہ ہمالہ کا پورا وجود کپکپاتی سردی میں سکڑتا جا رہا تھا۔ بے قابو ہوتی ایک ٹانگ پر سختی سے دانت جمائے وہ اسے نوچ رہی تھی۔ وہ ڈر گئی تھی۔۔ وہ خوفزدہ ہوئی تھی۔ نوح جانتا تھا لمحے کے جس حصے میں بھی اسکا خوف اسکے وجود پر حاوی ہو وہ خود کو نوچنے لگے گی۔ پینک ایکس بس کی بات تھوڑی ہوتے ہیں۔
چند لمحے وہ اس شہزادی کے چہرے کو بنا پلک جھپکے دیکھتا رہے وہ محل سے چرا لایا تھا۔
”پغمان کے پہاڑ اپنی اپسراؤں کو بچانے کے لیے محافظ بھیج دیتے ہیں میرے ساتھ تو پھر انکی سنگیرو چُکا تھی اور تاریخ گواہ ہے سنگ (برف) اپنی روچکا (ملکہ) کے لیے کبھی سنگدل نہیں رہی۔“
وہ اسکا دھیان بٹانا چاہتا تھا۔ برف کی ملکہ کی اذیت دیکھی نہ گئی۔
”جھوٹ بول رہے ہو تم۔ جھوٹا نام دیا ہے تم نے مجھے۔ سنگیرو چُکا کا دل برف کا تھا اسے کچھ محسوس نہیں ہوتا لیکن مجھے درد محسوس ہوتا ہے۔ وہ بہار سے خوفزدہ رہا کرتی تھی مجھے برف اداس رکھتی ہے۔“
ہذیانی کیفیت اس پر طاری ہو چکی تھی ۔ بے قابو ہوتی اذیت آخری دہانے پر جا کھڑی ہوئی۔
”میری طرف دیکھو تو سچ پتا چلے ناں۔۔ دیکھو میری طرف؟“
وہ اسے بچوں کی طرح پکار گیا تھا لہجے میں صرف محبت کی تپش تھی۔ پغمان کی برف کو پگھلاتی ہوئی۔
”میں نے پہاڑوں کو آج ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا ہے پتا ہے کیوں؟“
ہمالہ نے پھر بھی سفیدی سے نظریں نہیں ہٹائی تھیں۔
”کیونکہ وہ اپنی سنگیرو چُکا کو اداس رکھنے لگے تھے کیا یہ برفانی اپسر ا کو خوش کرنے کے لیے کافی نہیں؟“
وہ درد کے باوجود ہلکا سا مسکرایا تھا۔ کیا وہ مسکراتا بھی تھا؟ پیچھے چھوٹتی جاتی برف کو حیرت ہوئی تھی۔ ہاں شاید تب؟ جب مقابل اسکے عزیز چہرے ہوں۔۔
”دوغلے ہو تم۔ تم سانسیں چھوڑ سکتے ہو تم کبھی پہاڑوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ تم چوٹیوں پر کھڑے ہو کر چلاتے ہو (میں برفانی باشندہ کسی دن اپنے ہمنام پہاڑوں میں امر ہو جاؤں گا۔) تم مر تو سکتے ہو مان، تم پہاڑوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔“
ہمالہ کے منہ سے نکلے چند الفاظ وزنی بیگ سے ٹھیک لگائے نوح کی ساعتوں کو زخمی کرتے چلے گئے تھے۔ وہ تو کہیں تھی نہیں؟ سامنے بیٹھی برفوں کی اداس ملکہ تو کسی اور سے مخاطب تھی۔ وہ تو اسکے عکس میں کسی اور کو ڈھونڈ رہی تھی ۔ یہ شکوے تو اسے کسی اور سے تھے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر کھڑے ہو کر پکارے جانے والے یہ الفاظ بھی تو کسی اور کے اعلان کردہ تھے۔ جسے آج وہ بہت پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ بہت پیچھے ۔ اندھیروں کی نگری میں۔
کانوں میں گونجتے اس ایک جملے نے نوح کی آنکھوں سے چمک کو چھینتے وقت کو الٹے قدم گھمایا تھا اور وقت ماضی کے پردے چاک کرتے اس وجود کی پہلی جھلک آشکار کرنے دوڑ پڑا جو داستان کے تابوت میں ٹھوکی کی آخری کیل تھا۔ وہ وجود جس کے بنا داستان، داستان نہ تھی۔
نوح نے آنکھیں بند کر لی تھی ۔ ریل گاڑی غائب ہوتی چلی گئی، اسکی آنکھوں کے سامنے اب منظر کسی برفانی ڈھلوان کا تھا جہاں ایک بکھرے بالوں والا لڑکا درخت سے لٹکتے ہوئے لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ اسکے نقوش پٹھانی تھے۔ جبڑے منہ میں دھنسے ہوئے۔ کھڑی ناک۔ آنکھیں مغرور نظر آتی تھیں۔
”آگے مت جانا پغمان۔۔!“
خانیلوں کے ہونے والے سردار ہو تم۔ ڈھلوان سے لڑھکتے ہوئے کسی راشی خاتون کے گھر جاگرے اور انہوں نے معاملہ عزت و غیرت پر لیتے تمہیں لوٹانے سے انکار کر دیا تو راشیوں کو اپنا خوبصورت سردار کھونے پر تمام عمر افسوس رہے گا۔
وہ خود دوسرے درخت پر لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ آنکھوں میں شرارت سی ابھری تھی۔ وہ اس ہونے والے سردار (پغمان خانیل) کو سرد گرم موسم سے محفوظ رکھنے والا محافظ تھا۔ جس کا فرض اول تھا اسکو زندہ نکال کر لانا چاہے وہ جنگلی جانور کے منہ میں ہو یا پھر ملک الموت کے شکنجے میں۔
”بے شرم انسان۔! تبھی ہونے والے سردار کو درخت کاٹنے پر لگا رکھا ہے؟ وقت آنے دو خانیلوں کے سردار کے ہاتھ چومے جاتے ہیں، میں تم سے اپنے پیر چمواؤں گا۔“ مقابل حاضر جواب تھا اور زیر ک بھی۔ لقمہ عود کر آیا۔
”چوم لوں گا۔ بس تخت پر بیٹھنے سے پہلے پاؤں دھولینا تم۔ کل ہی حویلی کی عورتوں کو بات کرتے سنا ہے پیدا ہونے کے بعد صرف دائی ماں نے رگڑ رگڑ کر دھویا تھا تمہیں، اس کے بعد آج تک یہ نوبت پھر نہیں آئی۔“
وہ اس کے ہفتے میں ایک بار نہانے پر صاف لب کشائی کر رہا تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ برفانی لوگ دھول مٹیوں سے پاک ہی رہتے ہیں۔ ایسا پغمان کا کہنا تھا۔
”خانہ خراب!! دیکھا تو کبھی بھول جائیں یہ بات حویلی کی عورتیں ۔ بس نہیں چلتا انکا پورے کابل میں اعلان کرتی پھریں ۔۔“ پٹھانی تیش میں آتا سردار کلھاڑی سے درخت کے بڑے ڈال پر ضربیں مارتے منہ ہی منہ میں بڑبڑائے جا رہا تھا۔
”کبھی ملے سہی وہ دائی۔۔۔ کمبخت ہونے والے سردار کو ان منہ پھٹ عورتوں کے سامنے ہی رگڑنا تھا؟ پردے کا کچھ اہتمام ہی کر لیتی۔ حویلی کے راز، راز اور سردار کے راز سو جھی کا حلوہ؟“
ہونے والا سردار کلس کر ہی تو گیا تھا۔
لکڑیاں کاٹ کر نیچے پھینکتا نوح، بہت گہرا مسکرایا تھا۔ کتنا عزیز تھا اسے یہ مقامی زبان میں کوستاہو اسردار۔
”ایک بات اور بھی ہے ہونے والے سردار۔ اجازت ہو تو عرض کروں؟“
نوح پھر سے شوخیہ ہوا۔ آنکھوں میں گہری چاہتی اتر آئی تھی۔
”ہم مم! اجازت ہے عرض کیا جائے۔۔“
کلہاڑی کو کندھے پر جمائے درخت کی تنی شاخوں سے برف جھاڑتا پغمان شاہی مخاطب پر سینا چوڑا کر گیا۔۔ دور کہیں خیالوں میں وہ زمین بوس قیمتی پوشاک پہنے، ہاتھ میں خاندانی تلوار تھامے تخت پر بیٹھ رہا تھا۔ رعایا باری باری آتے اب ہاتھ چوم رہی تھی۔
”اب خدا جانے کابل در غدار ہیں یا دیوار؟ اس دن دشمنوں کا پوتا مجھے فاصلے پر لے جا کر پوچھ رہا تھا کہ کیا یہ بات سچ ہے ہونے والا سردار، پغمان خانیل دانتوں سمیت پیدا ہوا تھا؟“
اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اسے یہ بات کیلاشی عورتوں سے پتا چلی ہے۔ میرا خیال ہے سردار تمہاری لنکا کوئی گھر کا بھیدی ڈھائے جا رہا ہے۔ خود سوچو حویلی کی بات دشمنوں کی عورتوں تک کیسے پہنچی؟“
سارے تخیل کا بیڑا غرق ہوا تھا۔ ہونے والے سردار کے مانو پٹھانی رنگت میں سرخیاں گھول دی گئی ہوں۔ خیالوں میں جو پوشاک زمین پر جھولتی جارہی تھی اب اپنے ہی سردار کا منہ چھپانے کے کام آئی۔
”جس بھیدی نے لنکا ڈھائی ہے اسے ڈھونڈا جائے اور سر قلم کر دیا جائے۔ سات قبیلوں کے ہونے والے سردار پغمان خانیل کا آدیش ہے۔“
سبکی چھپانے کو وہ اتر آیا تھا۔ بس نہیں چلا درخت کی کس شاخ میں منہ جا چھپائے۔ اگر وہ ایک بار پلٹ کر اپنے محافظ کی آنکھوں میں دیکھ لیتا تو جان جاتا، عرض کرنے والا ہی غدار بھیدی تھا۔
”پھر تم نے کیا کہا؟ بات جھٹلا دی یا۔۔۔“
گردن کو زر اساخم دیے وہ اندر کی بات نکلوانے کے لیے بے تاب ہوا۔ دونوں کان نوح کی طرف لگادیے۔
”میں نے کہا سارے نہیں بس چار دانت پہلے سے تھے باقی کے اٹھائیسں تو ہماری ناک میں دم کروا کر نکالے ہیں۔ ایسا حویلی کی عورتوں کو بات کرتے سنا میں نے۔“
نوح نے کلہاڑی کے سرے کو ہونٹوں پر سختی سے جمائے بڑی مشکل سے امڈ تا قہقہہ روک رکھا تھا۔
”سردار بننے کے بعد سب سے پہلے ان عورتوں کا ہی بندوبست کرتا ہوں۔ کیا ہی تھا اگر دو چار دانت میرے انکو نظر آہی گیے؟ ہو جاتی ہے کبھی ملا یکہ سے بھی بھول چوک۔ لیکن نہیں سردار کے ڈھنڈورے کون پیٹے پھر؟؟“
سردار جلال میں آچکا تھا۔ نوح کو چاہئے تھا کہ تیسری عرضی کا دم یہی گھونٹ دے۔
آگے سے حوصلہ افزائی نا کرنے پر اڑتا ہوا ڈال آکر قہقہہ روکنے کی ناکام کوشش کرتے نوح کی کمر میں لگا تھا۔ کمبخت کہیں کا۔
”سنو پغمان! گلخان بتا رہا تھا کیلاشی کے ڈیرے پر کچھ اندرونی معاملات چل رہے ہیں انکے تین لوگ راتوں رات مارے گئے۔۔ تم کچھ جانتے ہو اس بارے میں؟“
درخت سے سوکھی ٹہنیوں کا ڈھیر کاٹ کر نیچے پھینکتا نوح پغمان کی پیٹھ کو دیکھتے ہوئے بولا۔ لہجے میں البتہ پہلے کی نسبت سرد مہری تھی۔ ایک محافظ والی سخت اور بے تاثر۔
”اچھا۔۔۔؟“
حیرت ہوئی ! کالاشیوں کی ناک تلے تو پرندہ پر نہیں مار سکتا، کوئی آدم کا بچہ کیسے مار گیا؟“
بولتے ساتھ ہی اس نے سوکھے درخت کا ڈال جس پر جمی برف جگہ سے ہٹنے نام نہیں لے رہی تھی اسے کاٹ کر اتنے زور سے نیچے پھینکا کہ اپنی جانب مشکوک نظروں سے دیکھتے نوح کے منہ پر اچھلتی برف پغمان کے چہرے کو ایک پل کے لیے ڈھانک گئی۔
”مجھے ایسے نادیکھو۔ پغمان کے پہاڑوں کی قسم! اس بار پغمان نے زیادہ کچھ نہیں کیا۔“
اسکی جھوٹی قسم کا یقین کر لیا جاتا اگر وہ جھک کر جھوٹی قسم کا استغفار کرتے ہوئے نوح کی نظروں میں آنا چکا ہوتا۔ نوح کے ہنوز اپنی طرف دیکھتے رہنے پر وہ ڈھیٹوں کی طرح مسکرانے لگا، خطرناک مسکراہٹ۔
ہونٹوں کے قریب گڑھا سا بننے لگا اور محافظ سمجھ گیا تھا کیلاشیوں کی ناک تلے پر مارنے کی جرأت کس آدم کے بچے کی ہے؟
”ہے ےےے چل نانو خیل! پتا کرنے چلتے ہیں اپنے کیلاشی دشمنوں کو ہوائی دشمن ملا بھی یا نہیں۔ ایسے دشمنوں کے تین خاص لوگ؟ چہ گہر افسوس۔۔۔
ابھی کل ہی مرحوموں کو زمینوں کے گرد چکر لگاتے دیکھا تھا۔ ہونے والے سردار کے دل پر بوجھ بن گئی ہے بات۔ آخر کیسے وہ میری دستار پوشی پراتن ر قص کیے بنا مر سکتے ہیں؟“
اور پھر جو والہانہ افسوس اسکے چہرے سے زیادہ باتوں سے ٹپک رہا تھا اسکی رگ رگ سے واقف تھا محافظ۔
(نوح چھلانگ مارتے نیچے اترا)
”میں ابھی ہی جا کر سردار سائیں کو خبر کرتا ہوں کہ کل رات تم تین دنبے لینے نہیں، تین لوگ ذبح کرنے گئے تھے۔ اگلی خبر وہ تم سے خود آکر لیں گے۔“
نوح کو ڈھلوان سے نیچے جاتا دیکھ وہ بلندی سے سیدھا نیچے چھلانگ مار گیا ۔ برف نہ ہوتی تو آٹھ دس ہڈیاں ضرور ٹوٹنی تھیں۔
”تمہیں خوبصورت پغمان اور اسکے ہمنام پہاڑوں کا واسطہ“
(دادا سائیں کے نام سے ہونے والے سردار کے فرشتے بھی کانپ جاتے تھے) الٹے قدم بھاگ کر وہ آگے جاتے نوح کی گردن میں بازو ڈال گیا۔
”آخری بار بھید رکھ لو نانوح۔۔“ ساتھ ہی وہ اسکی کنپٹی پر سفارشی بوسہ بھی دے رہا تھا۔
نوح کا سر نفی میں ملتے دیکھ اسے بات بننے کے آثار تو نہیں، بگڑنے کے ضرور نظر آئے تھے۔ محافظ کا فرض اول تھا اسکی ہر خیر اور ہر شر کا نامہ اعمال سات قبیلوں کے موجودہ سردار تک پہنچانا۔
”چلو پھر اس بار حتمی معاہدہ کر لیتے۔ حکمران بننے کے بعد جو تاج میرے سر پر رکھا جائے گا اس میں جو دادا سائیں کا قدیم ہیرا جڑا ہے؟ وہی سبز والا (جس پر ہونے والے سردار کی نیت پہلے سے ہی خراب تھی) وہ میں دل گردوں پر ہاتھ رکھ کر تمہیں دے دونگا۔“
سفارش ذرا بڑی تھی نوح نے سر موڑ کر ایک ابرو اٹھایا۔ بات تھی بھی چونکا دینے والی۔ جس ہیرے سے وہ افغانستان کے سارے پہاڑوں کو خرید کر ان پر بے تاج حکومت کرنا چاہتا تھا آج خیرات میں کیسے بانٹنے لگا؟ خرافات ضرور کسی چال کا حصہ تھی۔
”اور واپس کب لوگے یہ بھی پہلے ہی بتا دو؟ دو منٹ، دو گھنٹوں، دو دن، یا دو ہفتوں بعد، کیونکہ دو سالوں تک تو تمہارے ایک گردے نے اس ہیرے کے غم میں مفلوج پڑ جانا ہے اور بہانہ؟؟ تمہیں بہانوں کی کمی ہوتی ہی کہاں ہے دی ہوئی چیز واپس مانگنے میں۔۔“
محافظ اسکی ایک ایک رگ سے نہیں بلکہ خون میں موجودایک ایک خلیے سے بھی واقف تھا۔ سیدھا ساز شی خلیہ جا پکڑا۔
پغمان نے پہلے اسکے کندھے پر رکھا سر اٹھایا پھر اسکے چہرے کو دیکھا۔ کیا نہیں تھا اسکی آنکھوں میں؟ مان، عقیدت، بھروسہ؟ خیر خواہی آج بھی باقی سب جذبوں سے بڑھ کر تھی۔
”جب نامور پتھر تراش بن جاؤ گے تب بھی واپس نہیں لوں گا۔ تب بھی نہیں جب اس ہیرے کا دوسرا حصہ تم تلاش کر لو گے۔ سمجھو میں نے دو سالوں سے محفوظ رکھا اپنے خاندان کا قیمتی اثاثہ تمہارے حوالے کر دیا۔ جانتے ہونا اسکی ایک داستان بھی ہے؟ میں نے سوچا تھا یہ میرا نصیب ہے اور اپنا نصیب بیچ کر پغمان اپنے عشق کی تکمیل پائے گا۔ بے تاج حکومت کرے گا ان سفید پہاڑوں پر۔ لیکن اس کو میری تلاش کبھی تھی ہی نہیں۔
یہ دو سالوں کا سفر کاٹ کر کسی اور کی تلاش میں آیا ہے ۔ ایک ایسے پتھر تراش کی جو اسکے دوسرے حصے کی تلاش پائے گا جس کے بارے میں مغرب کی دوسری پرانی سلطانہ نے دادا سلطان کو کہا تھا کہ اب اس ہیرے اس دور کی تلاش ہے جب بڑی بڑی مشینیں ہواؤں میں اڑایا کریں گے ۔ لوگ غاروں سے نکل کر روشنیوں میں جائے گے. لوگ طاعون سے مرا نہیں کرے گے بلکہ جان لیوا مرضوں سے بھی شفا پالیں گے، اس دور کے پتھر تراش کو اسکی پہچان معلوم ہوگی یہ اسکے حوالے کرنا۔“
پغمان کے خاموش ہوتے ہی فسوں خیز ماحول کا سحر ٹوٹا تھا۔
”اگر تم اپنے دادا کی تمہیں بچپن میں لوری سنا کر سلانے والی کہانیاں مجھے اب سنا کر روکنا چاہتے ہو تو پہاڑ تمہاری جوانی پر لعنت بھیجے پھر۔ چار دانتوں والے پغمان اور بتیس دانتوں والے پغمان میں زیادہ فرق نہیں، اور تخت سنبھالنا ہے۔“
پغمان کی دریادلی کو کسی خاطر میں نہیں لایا گیا تھا۔
”اچھا چلو، بنا کسی داستان کے لے لو۔“ پغمان ہتھیار ڈال گیا تھا۔ ”میں چاہوں گا تم پر وہ وقت نہ آئے جب اس داستان کا اگلا حصہ جاننے کے لیے تمہیں تلاش کرنا پڑے۔“
”اور یہ قدیم ہیر ہ مجھے سونپنے کی کچھ شرائط بھی تو ہوگی؟“
نوح کو اسکا اتنا سیدھا پن ہضم نہیں ہو رہا تھا تب جب وہ اسے دادا سائیں کے تختہ دار پر لٹکانے جا رہا تھا۔
”زیادہ نہیں بس ایک۔۔“
”کونسی؟“ نوح کی بھنویں سکڑیں جیسے شرط پہلے سے ہی معلوم ہو۔
”ساری عمر میرے جرائم اپنے سر لینے ہونگےـ“ بلی کا متضاد آخر کار تھیلے سے باہر آہی گیا تھا۔
”ہمم۔۔۔ جبکہ تم جانتے ہو میں یہاں کسی مقصد سے ہوں اور تم یہ بھی جانتے ہو جس دن میں نے مقصد پالیا اس سے اگلے دن تمہارے کتے بھی مجھے ڈھونڈ نہیں پائیں گے اور تمہیں لگتا ہے میں پھر بھی تم سے وفا نبھاؤں گا؟ کچھ گھاٹے کا سودا نہیں ہوا؟“
نوح کے قدموں میں پہلے سے زیادہ تیزی در آئی تھی۔ سر موڑ کر اپنے کندھے پر رکھے پغمان کے چہرے کو دیکھا جو آنکھیں بند کیے اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
”سوچ لو! ہیراابھی جائے گا اور جان بھی۔۔۔“ وہ اس پر کیا جتانا چاہتا تھا کہ وہ جب چاہے اسے قابو میں لیے اسکی پوری زندگی الٹ سکتا ہے۔
پغمان نے اسکے گلے میں ڈالے دونوں بازو مزید کس لیے۔ ”تمہارے لیے تو دنیا کو خاطر میں نہیں لاتاپغمان۔۔ گھاتوں کی کیا ہی اوقات؟“
رشوت کام نہیں آئی تو شاطر سردار نے داؤ بدل دیا تھا۔ یہ تو طے تھا کہ ڈھلوان سے نیچے اترنے تک کسی پینترے نے کام کرنا تھا۔ آنکھیں ہنوز بند رکھے وہ نوح کے ساتھ ساتھ چلتا اس پانچ سالہ ضدی بچے کی مانند لگ رہا تھا جو بات منوانے کے لیے ماں کے وجود سے چپک کر رہا جاتا ہے۔
”میں اس قتل کا الزام اپنے سر نہیں لونگا پغمان! خود کو نیک پارسار رکھنے کے چکروں میں مجھے خونی ہی بنا دیا تم نے۔ راشی عورتوں کو جہاں میں نظر آجاؤں اگلے پل وہ وہاں نظر نہیں آتیں۔ انکے بچے بھی اب مجھے دیکھ کر گھونسلوں میں چھپ جاتے۔“
اسکے چہرے پر عجیب سی جھنجھلاہٹ تھی ۔ پغمان کے بال اور ان سے اٹھتی سرسوں کے تیل کی بوا اسے سخت بیزار کر رہی تھی۔
”دادا سائیں نے ایک بار کہا تھا، پہاڑوں پر بادشاہت تم کرو گے لیکن یہ خوف صرف نوح نویل سے کھائے گا۔ شاید سہی کہا تھاـ جب تک میری بادشاہت رہے گی تب تک تم اپنا خوف ایسے ہی قائم رکھنا۔“
ایک اور شاہی مطالبہ۔ جیسے وہ حکم دینے کے لیے بنا تھا اور محافظ صرف آمین کہنے کے لیے۔
وہ دونوں اس وقت جہاں سے گزر رہے تھے وہ ایک پہاڑی راستہ تھا۔ جگہ جگہ نا ہموار سطح تھی کیونکہ غلطی سے بھی انکا پاؤں اس ڈھولتی سطح پر آجاتاتو سیدھا منہ کے بل گہری ندی میں جاگرتے۔
نوح نے اک نظر پغمان کی سیدھ میں آتی اس نا ہموار سطح کو دیکھا اور دوسری گلے میں پڑے اسکے بازوؤں اور کندھے پر رکھے سر کو۔ جسکی آنکھیں تو بند تھیں لیکن زبان مسلسل چل رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ پغمان کا قدم اس پتھریلی سطح پر پڑتا، نوح وہیں سے راستہ بدل گیاـ حویلی کو جاتا طویل راستہ اسنے چن لیا تھا لیکن اپنے کندھے سے پغمان کے وجود کو اٹھانا نہ سکا۔
”تمہارے دادا سائیں غلط کہتے ہیں انہیں کہنا جب تک نوح نویل کا خوف رہے گا تب تک تمہاری بادشاہت سلامت رہے گی جس دن نوح نے پہاڑوں کو الوداع کر دیا اس دن جنگل کے بلے، کتے، چیل اور گدھ تمہارا تاج، تخت اور بادشاہت نوح کھائے گا کہ یہاں تک کہ تمہارا الماس بھی۔“
نوح نے اسے تلخ حقیقت دکھائی تھی جبکہ پغمان کو لگا کہ وہ اسے ہی باتوں میں الجھا کر ہیرا اسکے حوالے کر دے گا اور نوح سمجھ بھی نہیں پائے گا تو غلط تھا۔ اس قدیم مالیت کے پیچھے پغمان کی جان تک تلواروں کی نوک پر تھی۔ اور اسکی جان اور اسکی مالیت کا محافظ رب کے بعد صرف اور صرف نوح تھا۔
”تم مجھے ایک بار پھر گرنے سے بچا چکے ہو؟ آخر مان کیوں نہیں لیتے تم تین تین لوگوں کا قتل بھی اپنے سردار کی حکمت عملی ترتیب دے چکے ہو۔“
پغمان کی آدھی بات ابھی زبان کی نوک پر ہی تھی کہ نوح اپنی داہنی کہنی سیدھا اسکی پسلیوں میں گھونپ گیا۔ اگلے پل وہ درد سے دہرا ہوتے اسے موٹی تازی گالیوں سے نوازنے لگا۔
”تمہاری محبوبہ نہیں ہوں جو کبھی بھی آکر گلے پڑ جاتے ہو، اپنے سہارے چلا کرو۔“
انداز کندھے سے کچرا جھاڑنے والا تھا۔ ساتھ ہی سر موڑ کر اپنے کندھے سے لمبا سانس کھینچا اور اگلے ہی پل نوح کے منہ کے بگڑے زاویے دیکھنے لائق تھے۔ اسے سرسوں کے تیل کی بدبو برداشت نہیں ہوا کرتی تھی۔
”خبردار اگر تم میرے سرسوں کے تیل کو غلیظ القابات نوازے ان خوبصورت گھنے بالوں کی شان ہے یہ۔۔۔“
اس سے پہلے نوح کچھ کہتا پغمان بول پڑا۔ ہونٹوں کو سختی سے دانتوں میں جکڑے وہ درد کا اثر زائل کرنے کے لیے مزید گھٹنوں پر جھک گیا تھا (کبھی پسلیوں پر گھونسا کھایا ہے؟ آہ کہنی پر لگنے والی چوٹ سے زیادہ میٹھا ہوتا ہے)
”کیلاشیوں کے خاص بندوں کو کیوں مارا؟ کس کس نے مارتے دیکھا ہے تمہیں؟“
دوٹوک تفیشی انداز کے ساتھ وہ اسے کندھے سے پکڑ کر اوپر کھڑا کیا گیا۔ سردار سائیں کی کچہری میں کھڑا ہونے سے بچ بھی جاتا تو محافظ کے سوالوں سے اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی تھی۔
شاطر پغمان کے دماغی گھوڑوں نے رفتار پکڑ لی۔ ”کلاشی خاتون سے ملنے گیا تھا۔۔۔ منع کر رہے تھے۔۔۔ چپکا دیا۔“
زر اسی ناک سکیر کر مکھیوں کا پور ا خاندان اڑایا گیا تھا۔
اگلے ہی پل نوح اسے گریبان سے پکڑتے اسکا چہرہ اپنے مقابل کر گیا۔ ”میں نے کہا اسکو کیوں مارا؟ جھوٹ نا قابل برداشت ہوگا پغمان۔۔“
آنکھوں میں آنکھیں گڑھائے ایک ایک لفظ چبھاتا نوح اسکے منہ پر پھنکار رہا تھا۔
”تمہیں جلانے آئے تھے جاکر بھون آیا سالوں کوـ کر لو اب سچ برداشت۔۔“
نوح کے منہ پر اسی انداز میں پھنکارتے وہ اپنا گریبان اس سے چھڑوا گیا۔ جبکہ نوح کے چہرے پر سے مانو کسی نے خون نچوڑ لیا ہو۔ اس دن مدہوشی کی کیفیت محض وہم نہیں تھا۔ واقعی کوئی اسے جلانے آیا تھا۔
بادشاہ کو مارنے سے قبل پہلا وار اسکے مقربین پر کیا جاتا ہے اور نوح محض قریبی نہیں تھا۔ وہ بادشاہ کی وہ نیام تھا جس میں شاہی تلوار تھی، قدیم تخت تھا، صدیوں پر اناراج تھا۔
غاروں سے آئی پہلی سازشی چال کو شکست دی گئی تھی اور پہلی بار بادشاہ نے اپنے محافظ کو زیرپناہ لیا تھا۔ تاریخی کے اوراق بدلنے چاہیے تھے۔
”چل چلتے ہیں پھر کیلاشیوں کی طرف، تاریخ گواہ ہے آج تک کوئی خانیل سلام دعا کے بغیر نہ دوستوں کے سامنے سے گزارا ہے نہ دشمنوں کے۔ کیاپتا ایک افسوس کے بدلے جانان پغمان کا دیدار بھی نصیب ہو جائے؟“
نوح کو ساتھ چلنے کا اشارہ کرتے پغمان نے کوٹ کے کالروں کو کھینچ کر منہ پر چڑھا لیا۔ وجہ فاصلے پر گھومتے خانیلوں کے جاسوس تھے جو اسے مچھر کاٹنے کی خبر بھی سردار سائیں تک سانپ بنا کر پہنچاتے تھے۔
”سردار سائیں کے خاص جاسوس مکرم کی نظر ہم پر ہی ہے۔ بغیر ہتھیاروں کے جانا سہی نہیں ہے اس وقت۔ کیلاشی کو تم پر رتی بھر شک بھی گزرا تو حملہ کر دے گا۔“
حویلی چلو۔“ لاٹھی کے سہارے برفوں میں سے راستہ بناتا نوح اسے بھی حویلی چلنے کا اشارہ کر گیا۔
”خود پر شک بڑھانے ہی تو جانا ہے نسلی باپ کی اولادیں ہیں کوی بگاڑ کر دکھائے کچھ پغمان کا۔۔“
آبیل مجھے مارو والا جملہ یقیناً اسی کے لیے لکھا گیا ہو گا۔
”کیلاشی کے ہاتھوں سے بچ گئے تو اس بارمیں بگاڑ دونگا تمہیں۔۔“
سخت لہجے میں اسے تنبیہ کرتے وہ پہاڑوں سے اترتا چلا گیا تھا۔ اسکی حفاظت کے تحت یہ اختیار تھا نوح کو کہ اسے مار کر لایا جائے یا بے ہوش کر کے، لیکن لایا ہر حال میں سلامت جائے اور پھر پہاڑ گواہ تھے انکے سردار نے اپنے محافظ کے لفظوں سے کبھی بغاوت نہیں کی تھی۔
”بات ایسی ہے کہ ہم پٹھان ہیں یار۔۔۔ خانیل پٹھان! مارنے کی باتیں تو ہمارے دسترخوان پر رات کو پکنے والی سبزی کی طرح ہوتی ہیں اور مر جانے کو جانے (ویسے بھی پغمان خانیل نے ایک دن اپنے ہمنام پہاڑوں میں امر ہو جانا ہے) پھر تم میری دلیری کے قصے سنایا کرنا کابل کے مکینوں کو-"
پیچھے پہاڑی پر کھڑا وہ اتنی زور سے چلایا تھا کہ کتنی ہی دیر تک اسکی آواز پہاڑوں سے ٹکراتے بازگشت کرتی رہ گئی تھی۔
ماضی سے واپس حال میں پہنچتے یہ الفاظ ہتھوڑے کی مانند ریل گاڑی میں بلکورے کھاتے نوح کے وجود پر ضربیں لگانے لگ گئے تھے۔ وہ خیال جھٹکنے کو سر دوسری طرف موڑ گیا کہ پغمان ایک بار پھر سوچوں پر حاوی ہوتا چلا گیا تھا۔ اسکی زبان کی طرح اسکی یادیں بھی آج بے لگام بن گئی تھیں۔
”پغمان خان! تمہارے لیے چائے لائے یا قہوہ؟“
(پغمان اور وہ اس وقت چترال کے علاقے میں کیلاشیوں کے ڈیرے پر بیٹھے تھے) ”گلخان بتا رہا تھا تم کو چائے سے عشق ہے؟ اور تمہارے لیے چائے کا پتی خاص ہمارے چترال سے جاتا ہے۔ ہمیں یہ بات معلوم ہی ناپڑی آج تک، ورنہ ہم خود پتی بھجواتا۔“
چترالی میزبان، ہونے والے سردار کی مہمان نوازی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑنا چاہتا تھا بچھے جا رہے تھے ۔
”گلخان آج کل ہونے والے سردار کے بارے میں غلط افواہیں پھیلا رہا ہے کیلاشی۔ پغمان کو بس دو چیزوں سے عشق ہے، ایک اپنے ہمنام پہاڑوں سے اور دوسرا ال۔۔“
چائے پیتے نوح خیل کو اچھو لگا۔ (منہ مت کھولنا (آنکھوں ہی آنکھوں میں پغمان کو خبر دار کیا گیا تھا)۔
”دوسرا کیا خان۔۔؟“ وہ میزبان کچھ زیادہ ہی میزبانی پر اتر آیا تبھی غلط بندے سے غلط سوال پوچھ بیٹھا۔
”کیلاش کی خوبصورت عورتوں سے وہ۔۔“
نوح خیل کے زور سے کھانسنے پر اسکی اگلی بات کھانسی کے شور میں دب گئی تھی پھر بھی نہ جانے کیوں؟ سامنے بیٹھے کیلاشی مرد کے کان سرخ انگارہ بن گئے تھے۔
”چائے سے تو صرف محبت ہے وہ بھی تب کہ اس کا پتی کیلاشیوں کے علاقے سے آتا ہے۔ گلخان ان پڑھ آدمی ہے گلروز! اسکو معلوم نہیں عشق اور محبت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔“ پغمان ہی کیا جو چپ کر جائے۔
”خدا اپامان گلروز۔۔! ہم چلتے ہیں کبھی چکر لگانا خانیلوں کے علاقے میں۔ مہمان نوازی کا قرض بھی ادا کریں گے اور زمینوں کا حق بھی۔۔“
نوح خیل آدھے چائے کا کپ میز پر رکھتے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ فوراً یہاں سے نکلنا تھا ور نہ کوئی بعید نہیں تھا ہونے والا سردار کی لاش یہاں سے جانے میں۔
بالوں کو بے رحمی سے مٹھیوں میں قید کرتا نوح ماضی کے اوراق بند کرتا چلا گیا۔ حلق میں جیسے کانٹے سے اگ آئے ہوں۔ ایک ہاتھ سے آنکھوں کو اتنی شدت سے دبایا تھا کہ خیالات کی دھند چھپتی چلی تھی اور وہ پھر سے ریل گاڑی کی چھرک چھٹرک اور سردیوں کی دھند میں آکھڑا ہوا تھا۔ اگر دماغ کو چیر کر یادداشت کا کچھ حصہ باہر نکالا جاتا تو یہ وہ آخری یادیں تھیں جنہیں وہ برفوں میں دفن کرتا ہوا جاتا یا زمین کی گہرائیوں میں۔
سر بیگ کی پشت سے لگائے وہ ایک بار پھر آنکھیں موند گیا۔ کچھ لمحے ابھی اور لگنے تھے اسے اٹھنے کے لیے ہمت جتانے میں۔ پلکوں کے جال میں قید اسکی دردناک آنکھیں بند ہوگئی تھیں۔ درد کی شدت ان آنکھوں کی خوبصورتی کو مزید بڑھادیتی تھی۔ کب سے اسے خیالوں میں گم ایک طرف دیکھتا پا کر ہمالہ کی سماعتوں سے نوح کے ہونٹوں کی جنبش سے نکلا آخری جملہ ٹکرایا (تم نے میرے دل کو مار ڈالا ہے پغمان) جو اس کے جسم میں اٹھتی ٹیسوں سے بھی گہرے درد کی عکاسی کر رہا تھا۔ اور پھر کسی بزرگ کے الفاظ ہمالہ کے کانوں میں گونجتے چلے گئے تھے۔
”یہ جو پیچھے آ رہا ہے نا؟ اس کے سر کے صدقے دیا کر، اس کی آنکھوں کی خیر مانگا کر“
آسمان گزرتے وقت کے ساتھ رنگ بدلتا جا رہا تھا۔ صبح کی ہلکی روشنی میں دور سے نظر آتا پرانا اسٹیشن دھند کے باعث دھندلا دکھائی دے رہا تھا جس کی کھڑکیوں پر سمّٹی زردی روشنی گہری خاموشی میں پرانے وعدے کو آخری دم تک نبھاتے جھلملا رہی تھی۔ کچھ وقت بعد نوح نے اوپر اٹھتے گاڑی کے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ منزل بے نشاں تھی شاید راستہ ہمنوامل جاتا۔ چاروں طرف گھومتی اسکی متلاشی آنکھیں ایک طرف کو ٹھہر گئیں۔ بڑے بڑے کارگو کے ڈبوں پر جمی دھول مٹی میں آتا پاکستان کا نام اور جھنڈا ادور سے بھی نمایاں نظر آرہا تھا۔ کچھ رنگ تحفظ کا احساس دلانے کے لیے کافی ہوتے ہیں اور پاکستان کا جھنڈا تو تھا ہی گرین فلگ۔ وہ دھیما مسکرا دیا۔
”محفوظ سرزمین“
دروازے کے بعد سامان کے چند ہلکے ڈبوں کو کھڑکیوں کے آگے رکھ کر وہاں سے بھی ہوا کی غیر ضروری مداخلت اور سردی سے بچنے کا حفاظتی انتظام مکمل کرتے اب وہ ہاتھ جھاڑ رہی تھی۔ برفانی باشندے کا لگایا گیا تھا ہواؤں میں بھی اندر سے رہیں اور کوئی سرحدی نما زندہ بھی۔
”ہم کہاں جا رہے ہیں؟“ سامان سے ٹیک لگا کر نوح کے چہرے کو نظروں کے حصار میں لیتے وہ پوچھ رہی تھی۔
آنکھوں میں قید تھوڑی دیر پہلے کی اذیت کا نام و نشان تک نہ تھا۔ تو کیا وہ انداز بدلنے میں ماہر تھی؟
”پاکستان!“
مختصر جواب دیتے نوح نے سر اوپر نہیں اٹھایا تھا۔ بدن چیرتی یخ بستہ ہواؤں کا راستہ بند ہونے سے جسم کو راحت کا کچھ احساس ہوا تو نیم وا آنکھیں ایک بار پھر موند لیں۔
”پچھلے کہیں دور۔۔ بہت دور۔ پٹری کے پاس کندھوں پر سفید چادر اور سر پر سفید ہی مفلر ڈالے بیٹھا کوئی گمنام شخص! برفوں پر چھوڑے ان کے قدموں کے آخری نشان برابر کر رہا تھا۔۔۔“
☆ ☆ ☆
کابل:
”وادیِ پغمان“
ریل گاڑی کو آگے بڑھتا چھوڑ ہم وادیِ پغمان کے فلک بوس پہاڑوں میں واپس چلتے ہیں جہاں رات بھر کی برف باری کے بعد اب پورے آب و تاب سے نکلا آفتاب آسمان کے سینے پر پھیلا چمک رہا تھا۔ سورج سے نکلتی شرارتی کرنیں پہاڑوں سے ٹکرا کر نیچے ڈھلوانوں پر بنے گھروں میں آکر گرتی انہیں نرم و گرم احساس مہیا کر رہی تھیں۔ اگر تم چوٹیوں پر سے جھانک کر نیچے ڈھلوان پر ترتیب سے بنے گھروں میں دیکھو تو تمہیں ہر شخص درختوں اور گھریلو سامان سے برف جھاڑتا ہوا ہی دکھائی دے گا۔ برف پہاڑی لوگوں کے مسائل بڑھادیتی ہے۔
پہاڑوں کے گھیرے میں لپٹی اس وادی کو افغانستان کا جھومر کہا جائےتو بے جا نہ ہو گا۔ کہیں ڈھلوانوں پر پتھروں سے بنے مقامی لوگوں کے کچے پکے مکان تو کہیں اونچی اونچی رعب دار حویلیاں یہاں کی خوبصورتی کو دوبالا کرتی تھیں۔ ڈھلوان کے بالائی گھروں سے نظر آتے پہاڑوں میں سے تراشے گئے راستے دیکھنے والی آنکھ کو خوفناک اور خوشگوار احساس میں بیک وقت مبتلا کر دیتے تھے۔ افغانستان کے اس علاقے میں برف نومبر کے آخری ہفتے سے پڑنا شروع ہوتی جو دسمبر سے فروری تک شدید رخ اختیار کرتے مارچ کے آخر میں پگھلنے لگ جاتی۔
یہاں کے مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ پغمان پر اترنے والی پہلی برف ایک ایسا سحر ساتھ لاتی ہے جو یہاں آنے والے سیاحوں کو خود میں جکڑ لیتی ہے اس قدر کہ وہ زندگی میں دوسری بار پغمان کا رخ ضرور کرتے ہیں۔ یہاں کی عورتوں سے ان کے اچھے دنوں کی یاد، یا کسی خاص کام کا حوالہ پوچھا جائے تو ان کی باتوں میں ایک جملے کا ذکر ہر بار دہرایا جاتا تھا:
”جب پغمان پر برف اترتی ہے“
نیز یہاں کی خوبصورتی اپریل سے ستمبر کے دوران جتنی سرسبز اور ہری بھری ہوتی تھی، برف کے مخصوص مہینو میں اتنی ہی خوفناک اور خوابناک بن جایا کرتی تھی۔
پغمان کی خوبصورتی کو مختصر جملوں میں قلمبند کرتے ہم اس علاقے کے ایک اونچے ڈھلوان پر بنے سرخ ستونوں والے حویلی نما محل کی جانب بڑھتے ہیں جہاں پچھلی کئی صدیوں سے مقیم یہ بلند و بالا محل غرور اور تنفر سے سر اٹھائے پورے رعب و دبدبے کے ساتھ کھڑا تھا۔ مشرق کی سمت کھڑے سورج کی گرم کرنیں حویلی کے ستونوں پر پڑتی اس کے سرخ رنگ کو مزید اجاگر کر رہی تھی۔
بلندی پر بنی اس حویلی تک جاتا گاڑیوں کاراستہ دونوں طرف لوہے کے خوبصورت گرل لگے تھے اس وقت برف میں دھنسانسان پڑا تھا۔ حویلی تک جاتا یہ ڈھلوانی راستہ اس خوبصورتی سے بنایا گیا تھا کہ اگر تم بنا گرل تھامے اس پر چلنے کی کوشش کرو تو خود بخود تمہارے قدم پیچھے کی طرف اٹھنے لگے اور وجود کشش ثقل کی مانند ڈھولنے لگے۔
حیرت انگیز یہ راستہ نہیں تھا حیرت انگیز وہ کلاکارتھا جس نے دو سال پہلے اس حویلی کو جاتا یہ راستہ تخلیق کیا تھا۔ راستے سے ہوتے اوپر کی جانب جاؤ تو دائیں ہاتھ پر حویلی کے اندر جانے والا سفید گیٹ تھا، جسکی سلاخوں میں پھنسے برف کے ذرے اور برف میں ہی قید اطراف میں جھولتی جھاڑیاں اسے کسی خوفناک قلعے کا تاثر دے رہی تھیں۔ گیٹ کے بائیں ہاتھ پر بھی ویسے ہی لمبی سلاخیں لگی تھیں اس طرح سے اوپر کی طرف جاتے وہ تیر کی شکل اختیار کر لیتی۔ ان سلاخوں میں چھاتے تلے اس وقت تین گاڑیاں کھڑی تھی۔ حویلی اور گاڑیوں کے گیراج کے درمیانی حصے سے تھوڑا آگے بڑھو تو ایک باغ کی صورت کھلا میدان تھا جہاں موسم بہار میں حویلی کے مکینوں کے گھوڑے، بکرے، خرگوش، اونٹ اور کتے گھومتے نظر آتے تھے لیکن اس وقت وہ میدان کسی بھی حیوان کی عدم موجودگی کے باعث برف میں ڈھکا سفید جھیل نما معلوم ہو رہا تھا۔
حویلی کے سفید دروازے سے اندر کی طرف بڑھو تو دو گاڑیاں بھی حفاظتی چھاتے تلے کھڑی نم ہوا کے باعث دھندلی سی تھیں ۔ بائیں طرف مردان خانہ تھا جس کے اندر جانے والے راستے پر ایک آدمی سامنے قطار میں کھڑے دس سے بارہ ملازموں کو ہدایات دے رہا تھا۔ شاید آج یہاں کوئی تقریب ہونے والی تھی۔
گیٹ کی سیدھ میں چلتے رہو تو مردان خانے کی دیوار جہاں ختم ہوتی تھی اس سے آگے زنان خانہ شروع ہو جاتا تھا۔ جہاں قطار میں ایک برابر لمبائی اور گیلائی میں لکڑیوں کی حیرت انگیز تراشے ہوئے دروازے لگے تھے۔ جن کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے کوئی بھی انسانی روح دنگ رہ جائے۔ اگر تم انہیں چند لمحے رک کر پوری توجہ کے ساتھ دیکھو تو صدیوں پرانے تراشے گئے یہ عمدہ دروازے تمہیں کسی ماہر کاریگر کی زندگی کی آخری ریاضت معلوم ہونگے۔
واپس پیچھے آتے مردان خانے کی طرف بڑھو تو سبزے کی جگہ اس وقت سفید برف پڑی تھی۔ حویلی کے اونچائی پر بنے ہونے کی وجہ سے سامنے سے نظر آتیں پہاڑوں میں بنی سڑکیں دل کو حیرت انگیز سحرور بخشتی تھیں۔ خاص کر برفباری اور بارش کے دوران یہ نظارہ پورے مردان خانے سے نظر آتا تھا۔
مزید آگے بڑھو تو برآمدے میں بڑے بڑے صوفوں کے سامنے چھوٹے میز رکھے گئے تھے۔ سورج کی روشنی مردان خانے کے اس حصے میں داخل ہونے سے قاصر تھی جس کی وجہ سے صوفوں کے درمیان رکھے گئے انسانی قد نما آتشدان سرخ انگاروں اور جلتی لکڑیوں میں دہک رہے تھے۔ ان سے اٹھتی تپش نے پورے ماحول کو گرم کر رکھا تھا۔
صوفوں اور آتشدانوں کی سامنے والی دیوار میں نسب قدیم سونے کی قدیم کرسی جس پر اصلی ہیروں سے نقش و نگار کیے گئے تھے وہ یہاں پڑی ہر چیز سے زیادہ بلند تھی۔ کرسی کے سر پر بنے تاج میں جڑا سبز ہیر ا اور اس پر رکھی دستار پر لگے بے شمار ہیرے آتش دان کی شعاعوں سے تپش کھینچتے آنکھوں کو چندھیا دینے پر مجبور کر رہے تھے۔ دو سال پرانی حویلی کی یہ دوسوسال پرانی کرسی پر پہلے حکمران سے لے کر آج تک صرف خانخیلوں کی نسل نے حکومت کی تھی۔ اب یہ کرسی اپنے نئے سردار کے بیٹھنے کی منتظر نظر آتی تھی۔
الغرض خانخیلوں کی یہ حویلی کسی ماہر مصور کا بنایا گیا وہ شاہکار تھی جس کے فنکاروں کے ہاتھ اس صدی کے بادشاہ کے کاٹ ڈالے ہوں تاکہ دوبارہ کوئی بھی ایسی تخلیق کھڑی نہ کر پائے۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حویلی کے اندرونی حصے میں جدید تبدیلیاں کی گئی تھیں لیکن کچھ چیزیں آج بھی پچھلی صدی کی ہی یادگار تھی۔
مردان خانے میں اس وقت نابندہ تھا نہ بندہ کی ذات۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہی ملازموں کو ہدایت دیتا گھنگریالے بالوں والا افغانی آدمی موٹی سوئیٹر پہنے اب برآمدے کی طرف آتا دکھائی دیا۔ اس کے پیچھے چل کر آتے ملازموں کے ہاتھوں میں نقرئی کے نیلے پھولوں والے بڑے بڑے تھا ل تھے۔ (نقرئی تھا ل یہاں کے روایتی برتن ہوتے ہیں جن میں خاص مہمانوں کو خشک میوہ جات پیش کیا جاتا ہے)۔
”ہتھیار تیار ہیں سب۔۔؟“
چالیس سے پینتالیس سال کے قریب گھنگریوالے بالوں والا آدمی مقامی زبان پشتو میں ملازموں سے مخاطب ہوا۔
”تیار ہیں گلخان۔۔۔ سردار سائیں پر تو ہماری نسلیں بھی قربان۔ جیسے ہی ہمکو خطرے کا بو آیا ماں قسم! ہم دشمن کے سینے میں بندوقیں خالی کر دے گا۔۔“
تھال تھامے کھڑے آدمیوں میں سے ایک آگے بڑھتے ہوئے پشتو میں ہی بول رہا تھا۔
”اس کی ضرورت نہیں ہے مکرم۔۔!
آج یہاں خانخیلوں کے وارث کی تاج پوشی ہونے والی ہے۔ خطرہ ہر طرف موجود ہے لیکن جب تک میر اشارہ نہ ملے، بندوقوں کا رخ آنے والے مہمانوں کی طرف نہیں اٹھنا چاہیے۔ سردار سائیں کا حکم ہے وہ خون خرابہ نہیں چاہتا۔ باقی ہتھیار تیار ہی رکھو۔ غلزیوں اور خانخیلوں کے ایک طرف دشمن تاک لگائے بیٹھے ہیں اس دن کا۔ مخالف برادری کا کتا نظر آئے یا کبوتر سب کو چیر پھاڑ دینا۔“
گلخان نامی شخص انگلی اٹھائے ایک ایک ملازم کو سخت لہجے میں خبر دار کر رہا تھا۔ زبان میں پشتونوں والا علاقائی عنصر شامل تھا۔
”جو حکم گلخان۔۔“ مکرم ابھی مزید آگے سے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ باہر سے ملازم بھاگتا ہوا آیا۔
”گلخاا ان! ہمارے کتے صبح سے بھونک رہے ہیں۔ کھانا بھی ڈالا خرگوش بھی چھوڑ دیے۔ سونگھا تک نہیں انکو۔ مجھے لگتا ہے کوئی خطرہ ہے آس پاس۔ چھوٹے سائیں کو خبر کر دوں؟“ ملازم ہانپتے ہوئے بولا تھا۔
”مکرم تم جاؤ دیکھو، جب خانخیلوں کے کتے بلا وجہ کھانا چھوڑ دے تو خطرے کے بادل منڈلانے پہنچ جاتے ہیں۔ حویلی کے چاروں طرف آدمی پھیلا دو۔ کچھ آدمی زمینوں پر بھی بھیج دو گودام میں میوہ پڑا ہے۔“
”جو حکم گلخان۔۔!“
مکرم جا چکا تھا۔ نقرئی تھا ل میزوں پر سجا دیے گئے تھے۔ اتنے میں زنان خانے کی طرف لگے لکڑیوں کے دروازے کھلے۔ لاٹھی کے سہارے چل کر آتا ساٹھ برس کا بوڑھا آدمی، سفید لنگی پر سفید تمبان پہنے، سر پر اونچی دستار باندھے، کمر بند پر چا قو اور کندھوں کے گرد قابلی پاشم (کابل کی دنبہ بکریوں کے کھال سے بنی شال) ڈالے اپنے پورے رعب کے ساتھ چل کر آتا سات قبیلوں کا حکمران اور خانخیلی حویلی کا سربراہ تاشکور خان خیل تھا۔
چہرے پر کابل کے سات قبیلوں کا واحد حکمران ہونے کی کر ختگی چھائی تھی۔ اٹھتا ہر قدم جابر ہونے کی مخصوص چال میں لپٹا تھا۔ مردان خانے اور زنان خان کے درمیان ایک حدود قائم تھی جسے باہر کا کوئی مرد کسی صورت پھلانگ نہیں سکتا تھا، ان حدود کے ختم ہوتے ہی گلخان بھاگتے ہوئے گیا اور سردار کا دائیں ہاتھ اٹھاتے پہلے سر، آنکھوں اور پھر لبوں سے لگا لیا۔
”سلام سردار سائیں۔۔!“
روایات کے مطابق سردار کا ہاتھ چومنا وفا اور احترام کا ثبوت سمجھا جاتا تھا اور جو انکار کر دیتا اسے حریف تصور کر لیا جاتا تھا۔
تاشکور خانیل نے گلخان کے جھکے سر پر ہاتھ رکھا۔ گلخان کا درجہ اس کے نزدیک اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر تھا۔ گلخان نے بھی اس مقام کی لاج رکھتے تمام عمر وفا نبھائی، اس حد تک کہ اگر تاشکور خانیل کو رات ہی رات اپنی اولاد سے بھی خطرہ لاحق ہو جاتا تو اگلی صبح تک گلخان کی اولادوں کا نام و نشان ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتا۔
باری باری وہاں کھڑے سب ملازمین نے سردار سائیں کے ہاتھ کا بوسہ لیا تھا۔ انہیں ہاتھ سے جانے کا اشارہ کرتے تاشکور خانیل کا ہاتھ بڑھ گیا۔
"دل خوش کر دیا تم نے گلخان۔۔!"
تاشکور خان کی ستائشی نظریں رات کیے گئے انتظامات پر تھیں۔
"کوئی غلطی تو نہیں ہوئی سردار؟ وقت کی قلت کے باعث جو انتظام مناسب لگا میں نے وہی کیا، اگر کچھ نامناسب ہے تو حکم کریں۔"
گلخان سینے پر ہاتھ رکھے سر جھکا گیا۔
"تم میں اصل بات یہی ہے کہ تم غلطیاں کبھی نہیں کرتے، شیر کی اولاد ہو تم گلتان۔۔"
وہ اس کا کندھا تھپک گیا۔
"بس ایک ہماری اپنی اولاد ہی خبیث، نافرمان نکلی۔ جو باپ کی لاج رکھ سکی نہ خاندانی وراثت کی۔"
سامنے مردان خانے کے دروازے سے کلف زدہ سفید شلوار قمیص اور چوڑے کندھوں پر خاکی چادر ڈالے اپنے بڑے بیٹے چنگیز خانیل کو داخل ہوتے دیکھ وہ اونچی آواز میں غرایا تھا۔ لمبی سفید داڑھی، سرخ سفید رنگت اور اس پر غرانے کا انداز، تاشکور خان کے خالص پشتون ہونے پر مہر لگاتا تھا۔ آنکھوں میں ظالم حکمران ہونے کے سخت تیور ہر وقت موجود رہتے تھے۔
"گلخان تم نے آج سے پہلے کبھی خونی دشمنوں کا پھولوں سے استقبال ہوتے دیکھا ہے؟"
تاشکور خان ایک نگاہ چنگیز خان پر رکھتے، دوسری گلخان پر جماتے مونچھوں کو بل دیتے ہوئے مسکرایا۔ وہ کسی بھی وقت اپنے بیٹے سے یہ جتانا نہیں بھولتا تھاکہ ہاتھ باندھے کھڑا فرمانبردار خادم اس سے لاکھ درجے بہتر ہے۔
"گلخان کی غلام آنکھوں نے آج تک صرف وہی دیکھا ہے سردار سائیں، جس کی آپ نے اجازت دی۔ آپ دشمنوں کی میزبانی کا شرف مجھ ناچیز کو بخشنا چاہتے ہیں تو گلخان حاضر ہے۔"
وہ پینتالیس سالہ خوبرو گلخان ایک بار پھر سر جھکا گیا۔
"شاباش۔۔۔!
تیری تو زبان کا بھی کوئی مول نہیں گلتانے۔۔"
جھک کر اپنے ہاتھ پر بوسہ دیتے چنگیز خان کے آگے تاشکور خان اپنا سینہ چوڑا کر گیا۔ اس کے پٹھان بیٹے کی غیرت پر اتنا ہی کافی تھا کہ اس کے سامنے باپ نے ایک خادم کو بیٹے سے بھی اونچا درجہ دیا۔
یکدم پہاڑوں کی فضا گولیوں کی چنگھاڑ (?) سے تھرتھرا اٹھی۔ تینوں مردوں نے ایک ساتھ سر موڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا۔
دور پغمان کے پہاڑوں پر پڑی برف کو چیرتے ہوئے سیاہ چمکتی گاڑیوں کا لشکر خانئیلوں کی حدود میں
تصویر 2
داخل ہو رہا تھا۔ چنگیز خان آگے بڑھتے ترتیب سے لگے صوفوں پر بیٹھ گیا۔ پینتالیس سالہ اس کا وجود پہاڑوں کی مانند فولادی تھا۔ چہرے پر تناؤ کے ٹھنڈے تاثرات تھے۔ سرخ سفید رنگت اپنے باپ کی چرائی (?) لگتی تھی۔
"گلتان تو نسلی وفادار ہے، تیرے دادا نے میرے باپ اور تیرے باپ نے میرے لیے سینے پر گولیاں کھائی تھیں۔ وہ جو ہوتے ہیں ناں سونگھنے والے؟ کیا کہتے ہیں انہیں؟
ہاں نسلی کتے۔ تیرا خاندان ان سے بھی زیادہ وفادار نکلا، جا، تیری نسلیں عیش کریں گی۔۔" (?)
تاشکور خان اس کے سینے پر ہاتھ مارتے برآمدے کے اندر بڑھ گیا۔ صوفے پر پیچھے کو بازو گرائے بیٹھا چنگیز خان، گلتان کی طرف حقارت بھری نظروں سے دیکھتے تمسخرانہ مسکرایا تھا۔ "ہنہ، کتا۔۔!" (?)
گلتان الٹے قدم واپس لیتے حویلی کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ ایک بار پہلے بھی یہی لشکر اس حویلی میں داخل ہوا تھا۔ بڑی مہنگی قیمت چکائی تھی گلتان نے اس لشکر کے آنے کی۔ آج دس سال بعد دوبارہ وہی لشکر خانئیلوں کی چوکھٹ پر سیلاب کی مانند تباہی پھیلاتا آ رہا تھا۔ آج حساب پورا کرنے کا وقت آیا تھا۔ ہونٹوں کو سختی سے دانتوں میں بھینچے بندوق اٹھائے وہ دروازے سے نکلتا چلا گیا۔ وہ جابر حکمران کا سفاک پیادہ تھا۔ "ظالم اور بے رحم گلتان"
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ پہاڑوں کے گرد و مٹی (?) گاڑیوں کا طوفان حویلی کے ڈھلوانی راستے سے آ ٹکرایا۔
"کتوں کو آزاد کر دو اور بندوقیں تان لو۔" (?)
سپیکر سے نکلتی گلتان کی آواز چاروں طرف پھیلنے کی دیر تھی کہ آن کی آن میں سیاہ کپڑوں پر بلٹ پروف جیکٹس پہنے خانئیلوں کے محافظ پہاڑوں سے نکلتے چلے آئے۔
تصویر 3
آنے والی گاڑیوں کے فرنٹ دروازے کھلے۔ مخالف قبیلے کے محافظوں نے چھلانگ مارتے بندوقیں تان لی تھیں۔ گاڑیاں رکیں۔ پچھلے دروازے کھلے اور سیاہ نقاب پوش محافظوں کے درمیان ایک ساٹھ برس کا بوڑھا آدمی گاڑی سے باہر نکلتا دکھائی دیا۔ ساتھ ہی پچھلی گاڑیوں سے بھی سروں پر دستار باندھے دوسرے قبیلوں کے حکمران ان (کے ساتھ؟) چلے گئے۔ (?)
ہتھیار اٹھائے محافظ اور ان کے بیچ پورے رعب سے چلتا غلزئی قبیلے کا سردار "ضمر غلزئی" ہاتھ اوپر اٹھائے اپنے لوگوں کو بندوقیں نیچے کرنے کا حکم دے گیا۔ امن کا پیغام ملتے ہی خانئیل محافظ بھی پیچھے ہٹتے چلے گئے۔ زنجیروں میں جکڑے خونخوار کتے ان کی طرف لپکنے میں ناکام ٹھہرے تھے۔
"ہمارے آباؤ اجداد کہا کرتے تھے جب دوست ضرورت اور کتا خوف سونگھ لے تو دونوں کو کاٹ ڈالو، ورنہ وہ باؤلے ہو کر تمہیں کاٹ کھانے کو دوڑیں گے۔۔"
مردان خانے میں داخل ہوتے ہی آگے سے آتا چنگیز خان (?) سرخ پھولوں کا ہار غلزئی قبیلے کے سردار ضمر غلزئی کے گلے میں ڈالتے ہوئے بھاری آواز میں بولا تھا۔ آواز میں اس قدر رعب تھا کہ مقابل نے آنکھ اٹھا کر اوپر دیکھا اور بنا کچھ کہے برآمدے کی طرف بڑھ گیا۔ (?)
"کیا بات ہے تاشکور خانئیل؟
تم نے تیاری تو ایسے کی ہے جیسے ہم بارات لے کر آئے ہیں۔ کہیں تم نے اپنی نسل کو لال جوڑے اور پھولوں والی ڈولی کے خواب دکھانا تو نہیں شروع کر دیے؟"
(آس پاس کے انتظام دیکھ کر دور سے ہی زہر اگلتا ضمر غلزئی تاشکور خانیل کی طرف سلامی ہاتھ اٹھا کر گیا۔)
”جہاں تک مجھے معلوم پڑتا ہے خشک میوہ جات کثرت سے اگتے ہیں غلزییوں میں؟ ذہنی صحت بھی درست ہی نظر آتی ہے؟ پھر بھی غلزی بھول گئے کہ خانخیلوں کو لال رنگ کس کی شریانوں سے بہتے خون کا پسند ہے؟“
چنگیز خان نے بولتے ساتھ ہی تیکھی نگاہ ضمر د کے بیٹے پر ڈالی اور سگار سلگایا۔ چنگاری سیدھاغلزیوں کے سینے میں اٹھی تھی۔ تو پھر اندازسے ثابت ہوا وہ بیٹا تا شکور خانخیل کا ہی تھا۔ پتھر کے جواب میں اینٹ مار دینا خانخیلوں سے بہتر بھلا کون جانتا تھا؟
”سمندر سے معاہدے کرنے والے آگ بھڑکاتی ہوا کو پھونک نہیں مارتے ضمر دد۔“
تا شکور خان دو قدم ضمر د کی طرف بڑھا۔ چہرے پر گہر اسکون نسب تھا۔ ”سمندر راوقات یاد دلا دیتے ہیں۔“
معنی خیز انداز میں بات مکمل کرتے وہ اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کر گیا۔
”لاڈلے پوتے (پغمان) کی موت نے تیری زبان میں زہر گھول دیا ہے تاشکور۔ ورنہ پہلے میرے آنے پر سلام اتنا روکھا نہیں ہوتا تھا۔“
ضمر دغلزی دستار والی کرسی کی جانب بڑھنے ہی لگا تھا کہ گلخان نے پیچھے سے جا کر دونوں ہاتھوں سے اسے روک دیا۔
”اس گستاخی کی سزا جانتے ہیں تمہارے ملازم تاشکور خان؟“
وہ پیچھے مڑتے سخت چہرے کے ساتھ پھنکارا تھا۔ بھرے مجمعے میں ایک خادم اسے خاندانی کرسی پر بیٹھنے سے روک گیا۔ ذلت کے ناگ نے بہت گہر ا ڈسا تھا۔
”یہ انتظامات جو تم دیکھ رہے ہو تمہارے لیے نہیں ہمارے پوتے کی دستار پوشی کے لیے گئے ہیں۔ آج وہ یہاں بیٹھے گا۔ اس تخت پر۔ سرداری کا تاج پہنے، سات قبیلوں کا حکمران بن کر۔“
سر اٹھا کر فخر سے کہتا تا شکور خانخیل خود بھی فاصلے پر لگے صوفوں میں سے ایک پر براجمان ہو گیا۔ باقی سب سردار بھی اسکے بیٹھنے کے بعد اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھتے چلے گئے تھے۔
”تاشکور خان۔۔! لگتا ہے پوتے کی موت کا صدمہ تمہاری بینائی چھین چکا ہے یا پھر بڑھتی عمر اب حافظہ کمزور کرنے لگی ہے۔ تیرا وہ دستاور پوتا؟ تیرے تخت کا اگلا تاج نشین؟ اپنے ہاتھوں سے مٹی ڈالا تھا اس کی قبر پر۔ بھول گیا؟“
چادر اتار کر تنفر سے جھٹکتا ضمر دغلزی پیچھے لگے صوفوں پر بیٹھ گیا۔
”شروع کرتے ہیں پھر تاشکور! آج کافی بھولی بسری باتیں یاد کروانے واپس آیا ہے ہم تمکو۔
دس سال پہلے سات قبیلوں کے درمیان بیٹھ کر جو زبان تم نے دیا تھا آج اسکا وقت ختم ہوا۔ دس سال پہلے یہاں سے تیر النگوٹیا یار نہیں، بدنامی اور ذلالت کی کالک چہرے پر لگائے غلزی قبیلہ گیا تھا۔
دیکھ آج۔۔! پورا کابل ساتھ لایا ہوں چنگیز خان کی بد نسل عورت سے جمی بیٹی کو لینے۔۔“ خشک اخروٹ منہ میں ڈالتے وہ چنگیز خان کے چہرے پر نظریں جمائے پچھلی بات کا حساب برابر کر گیا تھا۔
چنگیز خان قمیض اوپر کرتے کمر بند سے چاقو نکالنے ہی والا تھا کہ تاشکور خان کی غراہٹ پر رک گیا۔
”ضمر د کے پوتے (ماغوط کیلاش) نے میرے بیٹے کی جان لی ہے اباسر دار۔ ان بدبخت آنکھوں سے میں نے پغمان کے پہاڑوں کو پغمان کے خون میں ڈوبتے دیکھا ہے۔ خدا قسم اباسر دار!
میں ان کی نسلیں بڑھانے والوں کو آج بد نسل کر دوں گا۔۔“
چنگیز خان کے طیش میں آنے پر دوسرے قبیلے کے سرداروں اور ضمر د کے بیٹے نے بھی بندوق پر گولیاں چڑھانی شروع کر دیں۔ صورت تحال نازک ترین ہوتی چلی گئی تھی۔
”خاموش شش۔۔!!“
تاشکور خان کی رعب بھری دھاڑ پر مردان خانے میں ایک دم سکتہ چھا گیا۔ دیواروں تک نے دم ساندھ لیا تھا۔
”بھول تم رہا ہے ضمر د!
مرنے والا میر ادو سراپو تھا جس کے قتل کا قصاص میں نے اپنے ہاتھوں سے تیرے بڑے بیٹے کو مار کر پورا کیا۔ رہی بات میرے زبان کی تو دس سال پہلے جو تم کو زبان دیا گیا تھا وہ آج ضرور پورا ہو گا۔ کوئی خانخیل اپنی زبان سے پلٹے آج تک ایسا غدار پیدا نہیں ہوا اس نسل میں لیکن۔۔۔ جو بات ہو گا ہم اپنے پوتے کے سر پر دستار رکھنے کے بعد کرے گا۔“
”لیکن اباسر دار۔۔۔“
”خاموش چنگیز خان خاموش۔۔!“ اس بار اس کی پھنکار اپنے بیٹے کی طرف تھی۔ ”تم دو بار میرے بولنے سے پہلے بول چکے اب۔ بالکل۔ خاموش شش۔۔“
”یہ مجھے منظور نہیں ہے اباسر دار۔ غلزیوں سے ہمارے لین دین اسی دن ختم ہو گئے تھے جب۔۔“
”لین دین اس دن ختم نہیں ہوئے تھے چنگیز۔۔!
اس دن ختم ہو جاتے اگر تم نے اپنے بیٹے کو لگلامیں ڈالی ہوتیں۔ آج تمہارا بیٹی غلزیوں کو اس دن کے حساب میں دیا جائے گا جب وہ تمہاری بہن کو لینے آیا تھا اور تمہارے بیٹے نے تمہارے سامنے تمہارے بہن کے سینے میں گولیاں دی تھیں۔ مت بھولو چنگیز خان دس سال پہلے کیا ہوا تھا دربار میں؟
میں نے زبان دیا تھا سات قبیلوں کے سامنے کہ تمہارے اسی بیٹے کے بہن کو خود غلزیوں کے حوالے نہ کیا تو سات قبیلوں کا تاج غلزیوں کے قدموں میں رکھ دے گا سردار تا شکور خانخیل۔۔“
تو آج پورے دس سال بعد خانخیلوں کی حویلی میں وہی دربار لگا دیا گیا تھا جس میں انکی پیشہ ور قالینیں نہیں بیٹیاں بیچی جاتی تھیں۔ دس سال پہلے بھی ایک دربار لگا تھا جس میں تا شکور خان کی چھوٹی بیٹی کی لگائی قیمت پر اسکے قدم غلزیوں کی طرف اٹھنے سے پہلے ہی لال خون میں بھر دیے گئے تھے اور اسے مارنے والا کوئی غیر نہیں اس کی گود میں پلا بڑھا اپنا بھتیجا تھا۔
اندر سے کتنے ظالم تھے خانخیلوں کے یہ دلکش در و دیوار۔ جس کی بنیادیں خون سے بھر چکی تھی پھر بھی خود پر، پربت بوس قلعے اٹھائے تکبر اور نخوت سے کھڑے تھے۔ یہاں کی روایتیں بھی اپنے بے حس حکمرانوں کی طرح احساس سے عاری ہو گئی تھیں۔ یہاں عورتوں کو بیچ دینا طاقت اور انا کا اونچا درجہ سمجھا جاتا اور اپنے لیے دوسرے قبیلے کو عورتوں کو خرید کر لانا، ان کی مردانہ انا کو زندہ رکھتا تھا۔ اس علاقے کے لوگ کسی کے گھر رشتہ مانگنے جانے کو باعث توہین سمجھتے تھے اور خرید کر لانے کو باعث فخر۔
صدیوں سے چلتی آئی یہ روایات صحیح اور غلط کا فرق کھوتے اب فرض کا درجہ پا چکی تھیں۔ یہاں کے لوگ بیٹیوں کے پید اہوتے ہی نفع نقصان کے معاملات طے کر آتے تھے۔ اگر کہیں گھسی پٹی دو لفظوں پر مشتمل ابتدائی تعلیم کا نظام ہوتا بھی توانہیں اس سے بھی محروم رکھا جاتا۔ جدید ٹیکنالوجی، انسانی حقوق، سکرین اور سیاست جیسے بنیادی چیزوں کے نام سے بھی وہ ناواقف رہتیں۔ شروع سے انکے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی جاتی کہ انہیں ایک معزز گھرانے میں بیچ دیا جائے گا اور باقی تمام عمر انہیں ان کے گھروں کے خاندان اور کاروبار چلانے ہونگے اور پھر وہ تمام عمر گھر کے مردوں کے تحکمانہ فیصلوں پر کشیدہ کاری کرتے بسر کردیتیں ۔ کئی نسلیں اس روایت کو برقرار رکھتے بیچ دی گئی تھی اور کئی بکنے کے لیے تیار۔۔
دوسرے قبیلے، ملک یا گاؤں پر بیچ دینے والی عورت سے سارے رشتے ختم کر لیے جاتے اور بدلے میں دوسرے قبیلے کی خرید کر لائی عورتوں سے بھی انکے سابقہ تعلقات ختم کروا کر تمام عمران پر واپسی کے دروازے بند کردیتے۔ قبیلے کے وہ لوگ جنکے معاشی حالات تنگ ہوتے وہ بہن بیٹیوں کے بدلے بھاری رقم، اناج یا زمین کا مطالبہ کرتے تھے اور جن کی معیشت اچھی ہوتی تھی وہ عورت کے بدلے عورت۔
یہ روایات سرحد پار ملکوں کے ساتھ پاکستان کے علاقوں میں تب بوئی گئی تھیں جب آج سے کئی برس پہلے کثیر پیمانے پر کابل کے کئی خاندانوں نے پاکستان ہجرت کی تھی۔ تب سے انکی نسلیں پاک سر زمین پر اپنے قدم مضبوط کرتے یہاں کے خمیر میں آباد ہو چکی تھیں۔ افغانیوں میں حسن کی کمی تو نہیں تھی لیکن روزی روٹی اور اپنی روایتوں سے مجبور ہو کر انکے کچھ خاندانوں نے چند ٹکوں کے عوض اپنی راضی عورتیں بیچنا شروع کر دی - خاص کر پشاور اور صوابی جیسے مزید علاقوں کی طرف۔ پاکستانی گھرانوں میں جنہیں کوئی بھی عزت دار گھرانہ اپنی جوان بیٹی دینا محفوظ نہیں سمجھتا تھا اپنے طلاق یافتہ مردوں، زناخور مردوں، معذور مردوں، دماغی مفلوج اور جوان بچوں کے باپ کے لیے کابل کی اٹھارہ سے بیس برس کی کم عمر خوبصورت راضی عورتیں ان علاقوں سے خرید کر لاتے تھے۔ کہیں اچھے گھرانوں میں اگر انکو دو وقت عزّت کی روٹی اور تن ڈھکنے کو کپڑا دے دیا جاتا تو وہ مقدر کے ہاتھوں سمجھوتہ کرتے خود سے تیس برس بڑے آدمی یا با معذور مرد کے ساتھ گھر بسالیتی تھیں اور کہیں انہیں ذاتی جاگیر سمجھ کر جانوروں سے بھی بر سلوک کیا جاتا۔ کچھ گھرانے ایسے بھی تھے جو صرف اپنے کاروبار کے لیے انکو خرید کر لاتے تھے۔ اور پھر قالینوں اور پوشاکوں جیسی مزید چیزوں کا بھاری بوجھ ان کی کمر پر لاد کر انہیں دیہی علاقوں میں گھر گھر بیچنے کے لیے نکال دیتے تو کہیں کسی کو چوڑیوں کے کاٹن تھمائے تو کچھ کو اونٹوں کا دودھ بیچنے پر لگادیا جاتا اور جب وہ بغیر بیچے واپس آتیں توانہیں جسمانی اور ذہنی تشدد سے دوچار کیا جاتا۔
بے حسی کا یہ عالم تھا کے گھر گھر جاتے کسی ہوس کے مارے مردوں کو انکا حسن بھاجاتا تو ان کی عزّتیں بھی ان ناپاک گھروں میں لوٹ لی جاتی تھیں۔ اسی وجہ سے وہ کئی بار اپنا حلیہ بگاڑے پھرا کرتی تھیں۔ کابل سے آئی ان عورتوں کو پاکستان کے علاقوں میں ”پارکی عورتیں “(پاررے) اور ”راضی عورتیں“ (جو بے حد خوبصورت ہوتی تھی) کے ناموں سے جانا جاتا تھا ۔ جبکہ کابل میں انکو خاص کر راضی عورتیں کہہ کر بلایا جاتا تھا۔ کابل کی جو عورتیں ایک حویلی سے دوسری حویلی بک کر جاتی تھی ان کے ساتھ اوروں کی نسبت اچھا سلوک کیا جاتا جیسا کہ کپڑا، جوتے اونٹوں کا دودھ بیچنے انہیں چھوٹے علاقوں میں نہیں بھیجا جاتا تھا بلکہ حویلی میں ہی کشیدہ کاری، مقامی دنبوں کی کھال سے شالیں بنانا اور قالینیں بنانے جیسے کاموں پر لگا دیا جاتا۔ ان سے ہر وہ چیز بنائی جاتی جو یہاں کی ثقافت تھی۔ اس دوران اگر وہ کم عمر ہوتی تو بیس برس کے ہونے تک انہیں حویلی کے مردوں سے پردے میں رکھا جاتا اور جب وہ بیس برس کو پہنچ جاتی تو حویلی کے کسی بیٹے سے نکاح پڑھا دیا جاتا یا پھر کسی خاص نوکر سے۔ اس طرح یہاں کے لوگوں کے کاروبار بھی چلتے تھے اور خاندان بھی۔
جس عورت کے ہاتھوں کی بنی قالینیں یا پوشاکیں باہر کے ملکوں میں زیادہ پسند کی جاتی انہیں باقی عورتوں پر برتری دی جاتی تھی اور بھاری معاوضہ بھی۔ یہ روایات پورے افغانستان اور پاکستان میں تو نہیں لیکن کچھ کچھ قدیم علاقوں میں آج بھی رائج الوقت تھیں۔
کئی سوسال سے چلتی انہی روایات کے باعث آج پھر خانخیل اور غلزی قبیلے آمنے سامنے ہوے تھے۔
دس سال پہلے تاشکور خانخیل نے اپنی چھوٹی بیٹی کو ضمرد کے بڑے بیٹے کے حق میں سونپنا تھا کیونکہ وہ اپنے دوسرے بیٹے کے لیے ضمرد کی بیٹی خرید کر لایا تھا۔ لیکن عین موقع پر حویلی کے ایک دس سالہ بچے نے اس عورت کو گولیاں مار دی تھیں۔ اس لیے اس وقت طے کی گئی زبان کے مطابق آج خانخیل حویلی نے اپنی دوسری عورت غلزیوں کے حوالے کرنی تھی۔
”ضمر دودد۔۔!
میں آج بھی اپنی زبان پر قائم ہوں۔ چنگیز خان کا بیٹی اسی جرگے میں تم لوگ کے حوالے کیا جائے گا لیکن پہلا بات میرے پوتے کے تخت اور تاج پر ہوگا۔ تمہیں صرف ہمارا چھوٹا پوتا (پغمان) ہی یاد ہے جس پر تم نے اپنے ہاتھ سے مٹی ڈالا تھا۔ حیرت ہے تم ہمارے بڑے پوتے کو کیسے بھول گئے؟ جس نے تیری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، تیرے منہ پر ذلالت اور سیاہی کی کالک ملاتھا۔
یاد ہے چنگیز خان کا بڑا بیٹا ؟ تاشکور خانخیل کا بڑا پوتا؟ خانخیل حویلی اور خانخیل قبیلے کا بڑا وارث؟
نوح خانخیل۔۔۔؟؟؟
آج اسے اس خاندانی تخت پر بٹھا کر میں تیری ساری نسلوں کو اس کے ہاتھ چومنے پر مجبور کر دوں گا۔“
سردار تاشکور موچھوں کو بل دیتے شارانہ مسکرایا تو رونق پورے مردانخانے میں پھیل گئی۔ یہ شاطرانہ مسکراہٹ کسی وارث سے میل کھاتی تھی اگر تمہیں یاد ہوپہاڑوں کا حکمران تو؟
چنگیز خان نے بھی ضمر دغلزی کی آنکھوں میں دیکھتے موچھوں کو بل دیا تھا۔ انکے منہ سے نکلی بات نہیں بھڑکتی آگ کی ایک چنگاری تھی جس نے ضمر دغلزی کو اندر تک بھسم کر ڈالا تھا۔ مٹھی بھر اخروٹ ایک ساتھ منہ میں ڈالتے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”اب چنگیز خان کی انگریزی عورت کے پیٹ سے جناوہ ”بدنسل کتااا“ آکر سات قبیلوں کی دستار سنبھالے گا؟“
اونچی آواز میں پھنکارتے ہوئے ضمر دنے منہ پر ہاتھ پھیر کر تَمش کو دبانے کی ناکام کوشش کی تھی ۔ بس چلتا تو تاشکور کی زبان پر جلتا انگارہ رکھ دیتا۔
”تم، تمہارا خاندان، تمہارے نوکر یہاں تک کہ تم تو کتے بھی نسلی رکھتے تاشکور۔۔
سات قبیلوں کا حکمران ایک بد نسل خون کیوں؟ مت بھولو، مت بھولو تاشکور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ذلالت کی کالک ملنے والے تمہارے اس بد نسل پوتے نے جس عورت کے سینے میں گولیاں ماری تھی وہ تمہاری بیٹی تھی۔ ایک بد نسل کو اپنے خون کا عادی بنا ڈالا ہے تم نے۔“
اپنی پھنکار پر تاشکور کو آگے سے ہنوز مسکراتے دیکھ صوفوں کے گرد چکر کاٹتے ضمر د نے پوری شدت سے صوفے کی پشت پر بندوق مارا۔
”قبیلے والو! یاد ہے ناں تاشکور کے اس بدنسل پوتے نے دس سال پہلے کیا کہا تھا؟ میں حویلی کی عورتوں کو مار ڈالوں گا! پر بکنے نہیں دوں گا۔
اہاہاہ۔۔۔ وہ رکھے گا تیری پگڑی کی لاج؟ وہ۔۔۔؟؟“
داڑھی پر ہاتھ پھیر تا ضمر دغلزی صوفے کے پیچھے سے ہوتا تا شکور خانخیل کی طرف جھکا:
”اس کی انگریزی آنکھوں میں بغاوت بڑے گہرے غوطے مارتی ہے تاشکور۔۔۔!“
تاشکور خان کی کرسی کے دائیں طرف کھڑے گلخان نے اسے آگے بڑھتے دیکھ کمر بند سے پستول کھینچ کر نکالی۔
”تمہارا بیٹا اس کی بد نسل ماں کی آنکھوں میں ڈوب مرا تھا کہیں تیرا خاندانی تاج اس کی چالوں میں نہ ڈوب۔۔۔“
اس کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے کہ گلخان نے لو ڈڈ پستول اسکے سر پر تان دی۔ تاشکور خان نے ہاتھ اوپر کرتے گلخان کو رک جانے کا اشارہ کیا۔
”دھیان سابتہ، تا شکور دھیان سابتہ“ (خیال رکھو تا شکور) ضمر داس کے کندھے پر ہاتھ مارتے پیچھے ہٹتا چلا گیا۔
”جس دن تمہارے کیلاشی پوتے نے میرے پوتے پغمان کے سینے پر خنجروں سے وار کیا تھا اس دن میں جان گیا تھا جن سے خوف ہو ان کو موقع پر مار دیا جاتا ہے اور جو خوفناک ہوں ان کو مارنے کے لیے پہلے چالیں چلنی پڑتی ہیں۔
آج تمہاری باتوں میں چھپی چال میرے نوخیل کے خوفناک ہونے پر مہر لگ گئی ہے ضمر دد۔۔۔ تم اس کی انگریزی آنکھوں کی چمک اور خاندانی دہشت پر رکھے اسکے دہشتی قدموں سے خوف کھا رہے ہو۔ تمہیں خوف ہے اس بات کا کہ تمہاری نسل نے اس کے بھائی کے خون میں منہ مارا ہے اب وہ تیری دس نسلوں کو زندہ کھائے گا۔
تمہیں خوف لاحق ہے اس سے آج سے نہیں۔ تب سے جب وہ صرف دس سال کا تھا۔ جب وہ بغیر دیکھے نشانہ باندھ لیتا تھا۔ بغیر مڑے قدم پہچان لیتا تھا۔ آنکھیں اٹھاتا تھا تو دشمن سونگ لیتا تھا۔ پہاڑوں پر ہوتا تو تمہارے لوگ راستہ بدل لیتے تھے۔ زمینوں پر ہوتا تو فصلوں کو آگ لگانے کی جرات کوئی ماں کا لعل نہیں کر پاتا تھا۔ آج دستار اسکے سر پر رکھ کر بتاؤں گا کہ دیکھو، اس پر چھتی ہے حکومت سات قبیلوں کی۔“
تاشکور خان ٹھہر ٹھہر کر بولتا غلزیوں کے ساتھ ساتھ باقی قبیلوں کے سرداروں کو بھی ٹھھکنے پر مجبور کر گیا۔ انکے چہرے سے سوالیہ تھے جیسے (نوح کو پوتے کا درجہ کب دیا تا شکور خان نے؟) اسکی حیثیت تو نوکروں سے بھی بد تر تھی۔
”اس معاملے کو تحمل سے انجام دیتے ہیں تاشکور۔ یہ طے تھا کہ آپکے بعد یہ تخت اور تاج چنگیز خان کی وراثت پاتا لیکن خاندانی روایت توڑنے کے بعد اب یہ تاج چنگیز خان کے بیٹے کی وراثت ہے۔ چاہے وہ راشی عورت کے پیٹ سے ہو یا بر ازیلی عورت سے۔
پغمان چنگیز خان کی راشی عورت سے تھا۔ اسکا قتل کر کے غلزیوں نے ثابت کیا کہ وہ خانخیلی تاج اور تخت کے طلبگار ہیں لیکن اسکا حساب قصاص کے ساتھ پورا ہو چکا ہے۔ اب سردار تا شکور اگر بر ازیلی عورت کے بیٹے (نوح) کو تخت پر بٹھانا چاہتا ہے تو وہ چنگیز خان کی پہلی اولاد ہے۔
روایت کے مطابق ہم اسکی دستار قبول کریں گے، قبیلوں اور جرگوں میں اس کا مقام افضل ہوگا، اسکے فیصلوں پر سر جھکائے جائیں گے، لیکن اسکے بعد آپکی حویلی کی دوسری عورت کو آج اسی جگہ غلزیوں کے حوالے کیا جائے گا جو رشتے میں چنگیز خانخیل کی بیٹی اور نوح خانخیل کی ہمشیرہ ہے۔ آپ اپنے پوتے کو بلائیں۔ دستار پوشی کے بعد وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی ہمشیرہ کو ضمر د غلزی کے پوتے کے حق میں سونپ کر دس سال پہلے کی دشمنی کا خاتمہ کرے۔۔
نکاح اسی جرگے میں پڑھایا جائے گا اور پھر ضمر دغلزی بھی اپنی پوتی کو نوح خانخیل کے حق میں دے کر خانخیلوں کی جانب اپنی پرانی دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا۔ اسکے ساتھ ہی کابل کا ہر قبیلہ نوح خانخیل کو کابل کے سات بڑے قبیلوں اور باقی رعایا کا حکمران منتخب کر لے گا۔“
دوسرے قبیلے کے سرداروں میں سے ایک دراز عمر بزرگ نے بڑھتی رنجش کو دیکھ کر سمجھداری کا ثبوت دیا تھا۔ باقی سرداروں نے بھی سر ہلاتے اس فیصلے کے حق میں منظوری دے دیے۔ کچھ دیر سب کی نظریں تا شکور خان کی جانب لگی رہی پھر سناٹے میں اسکی آواز گونجی؛
”میں ، سات قبیلوں کا حکمران۔ سردار تا شکور خان۔ اس فیصلے میں اپنی رضامندی دیتاہوں۔“
ہاتھ اٹھا کر اسنے گلخان کو اپنے بڑے پوتے نو خیل کو زمینوں سے بلانے کا اشارہ کیا۔ پیچھے بیٹھے باقی سرداروں کے تاثرات نوح خانخیل کو اپنا سر دار منتخب کرنے اور حلف دینے پر رضامند دکھائی دیتے تھے۔ ملازم کابل کے خاص پخوان نقرئی تھالوں میں سجائے مہمانوں کو پیش کرنے لگے۔ مردان خانے کے پیچھے والی جگہ پر چڑھی دیگوں اور کُشووں سے نکلتی کھانے کی لذیذ خوشبوئیں پورے ماحول کو جکڑ گئی۔ افغانی قابلی پلاؤ دنیا بھر میں مشہور ہونے کے ساتھ ساتھ افغانی کھانوں میں پانی جتنی خاص اہمیت کا حامل تھا اس کے بغیر خانخیلوں کے دستر خوان ادھورے رہتے تھے۔ خانخیلوں کی مہمان نوازی اور بہترین کھانوں کی افواہیں سرحد پار تک پھیلی تھی۔ کافی عرصے بعد آنے والی اس مہمان نوازی کے عوض سرداروں کے چہروں پر چھائے خوشی کے تاثرات نمایاں تھے لیکن یہاں کی روایت تھی وہ کھانا چک کر اسکی تعریف کیا کرتے تھے پہلے نہیں۔
آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا، گلخان واپس نہیں لوٹا۔ کسی اندیشے کے تحت تا شکور نے چنگیز خان کو مختصر اشارہ کرتے گلخان کے پیچھے جانے کو کہا۔ اس وقت تا شکور کے دوسرے پوتے کابل سے باہر تھے۔
چنگیز خان ابھی مردان خانے سے نکلا بھی نہ تھا کہ سامنے سے گلخان بھاگ کر آتا دکھایا دیا۔ رنگ اڑے ہوئے تھے۔ حواس باختہ اور قدموں میں لڑکھڑاہٹ تھی۔
”مت کہنا حریفوں نے حملہ کر دیا ہے گلخااان؟؟؟“ پاس کھڑے ملازم سے بندوق چھینتے چنگیز خان دھاڑا تھا۔
”چنگیز خان۔۔۔ چنگیز خان غضب ہو گیا۔-- وہ۔ وہ۔۔ چھوٹا سائیں۔۔۔“
”گلخان جلدی بول ورنہ ساری گولیاں تیرے اندر ٹھوک دوں گا۔“ گریبان سے پکڑتے چنگیز خان نے بندوق کی نال گلخان کی گردن پر رکھ دی۔ سردار صوفوں سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ محافظوں نے تا شکور خانخیل کو حفاظتی حراست میں لیا تھا۔ تھوڑی دیر پہلے والا پر سکون ماحول اب وحشتناک بن چکا تھا۔
”گلخان ہوا کیا ہے؟“ تا شکور خان آگے بڑھتے اسے چنگیز خان کے شکنجے سے نکال گیا۔ آنکھوں میں حیرانی سی تھی۔ پہلے کبھی ایسا وقت نہیں دیکھا تھا جب بے خوف گلخان بھی خوف کھا جائے۔
گلخان ہاتھ میں پکڑا لفافہ کانپتے ہاتھوں سے سردار تا شکور کے آگے کر گیا۔ تا شکور خان متتخیر آنکھوں سے کبھی اسے دیکھتا تو کبھی لفافے کو۔ دل میں کہیں ہول اٹھنے لگا تھا۔ ساری دشاؤں نے مل کر اسکے خیالات کی نفی کی تھی۔
تاشکور خان لفافے کو کھولنے لگا۔ خون میں ڈوبے انگوٹھے کا نشان لفافے پر مہر کی صورت لگتا تھا، مطلب پکی مہر۔ سو سالوں سے چلتی حکمرانی تا شکور خان کو اس وقت خطرے میں پڑتی محسوس ہوئی تھی۔ وہ لفافہ کھولتے پڑھنے لگا۔ ابھی چند سطریں ہی پڑھی تھی کہ گلخان بول اٹھا؛
”س۔ س۔ سر دار سائیں۔۔ نو۔۔ نو خیل سائیں زمینوں پر نہیں ہے وہ اپنے بستر پر آگ لگا کر۔۔۔“
”گللل خاااااااااننن۔۔۔۔۔۔۔ !!!“
چنگیز خان کے ہاتھوں سے بندوق چھینتے وہ اتنی شدت سے دھاڑا تھا کہ ہر چیز کا شور ایک پل کے لیے تھم گیا۔ چلتی ہوا، بھڑکتی آگ، اور کھڑے انسانوں کی سانسوں کا بھی۔ اور پھر یکے بعد دیگرے تین برقی گولے گلخان کے کندھے کو چیرتے خون کے فوارے بلند کرتے چلے گئے۔
ضمر دغلزی نے نیچے جھکتے لفافہ اٹھایا جس پر اب گلخان کے خون کے چھینٹے بھی پڑ چکے تھے۔ وہ آنکھیں چھوٹی کیے اونچی آواز میں پڑھنے لگا؛
”پورے کابل میں آج تک کوئی نسلی ماں کا نسلی لعل پیدا ہوا ہے تو مجھے اور میری بہن کو ڈھونڈ کر دکھائے۔ پہلے بھی کہا تھا آج پھر کہہ رہا ہوں! حویلی کی عورتوں کو مار ڈالوں گا پر بکنے نہیں دوں گا۔
ضمر دغلزی کے پوتے ”ماغوط کیلاش غلزی“ کو میرا پیغام دینا؛
بولنا پغمان خان کے قتل کا قصاص ایک نسل پر پورا ہونے سے رہا۔ اپنے بھائی کی زندہ آنکھوں میں دم توڑتی ایک ایک سانس کے بدلے یہ نوح خانخیل!
غلزیوں کی دس نسلوں کو ایسے گھٹ گھٹ کر مرنے پر مجبور کریگا کہ وہ پغمان کے پتھروں پر سر مارے گے لیکن موت نہیں آئے گی ۔ آج سے اپنی عورتوں کو مصلحوں پر بٹھا کر اپنی نسل کی خیر منگواؤ۔ انہیں بتاؤ کہ وہ پناہ مانگے ۔ نوح خانخیل کہ لوٹ آنے سے۔
اور ضمر دغلزی!
بڑی کمینی خواہش تھی کہ پغمان کے پہاڑوں پر کھڑے ہو کر تیری ذلالت کا نظارہ ایک بار پھر دیکھ پاتا۔ لیکن جب کابل دیکھ رہا ہے تو سمجھو نوح دیکھ رہا ہے، دیکھ پھر۔۔
آج دوسری بار تیرے قبیلے کے ایک ایک فرد کو خانخیلوں کی چوکھٹ پر لا کر، ذلالت اور سیاہی کی کالک ملتے خالی ہاتھ لوٹایا ہے۔ پچھلی بار مردوں نے کہا تھا صرف، اس بار عورتیں اور بچے بھی کہیں گے، غلزی تو نامرد ٹھہرے!
جا۔۔!
غلزیوں کو کابل کا تاج اور تخت اپنی حویلی کی راشی عورتوں کے سر سے وار کر دیا۔“
اپنی نسلوں کو بھولنے مت دینا۔
تاشکور خانخیل کا بد نسل پوتا
نوح خانخیل!
سارے میں سکتہ پھیل گیا۔ ہر چیز سائیں سائیں کرنے لگی جیسے یہاں کھڑے ہر زندہ روح کو سانپ سونگ گیا ہو۔ جلتی لکڑیوں کی چنخار۔ بے یقین مجسمے ۔ گہر اخوف۔ متتحیر آنکھیں اور پھر چاروں طرف گونجتے ضمر دغلزی کے بھانک قہقہے آج خانخیلوں اور غلزیوں کی دشمنی پر بھی خونی مہر لگا گئے تھے۔ چند ملازم گلخان کو پکڑے مردانخانے کے کمرے میں لے گئے۔ فضاخون کی نحوست سے بھر گئی تھی۔۔
”کیا کہا تھا سردار تا شکور خان نے؟
میں اپنی زبان سے پلٹا تو سات قبیلوں کی حکمرانی کا تخت ضمرد کے قدموں میں رکھ دوں گا ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔ دکھاگیا بد نسل پوتا اپنا بغاوتی رنگ۔۔۔
دس سال پہلے کہا تھا تا شکور۔ مار دے بھرے جرگے میں گولیاں پوتے کو، اور مٹادے ہمارے در میان حریف کی دیوار لیکن تو نے ہانڑ کی سنگت پر خون کو چن لیا تھا۔ دیکھ آج۔۔ بد نسل، بد نسل ہی ہوتا ہے کتا بھی اور خون بھی۔
ہے ے ے ے! پغمان کے خالص میوے بھر بھر کر کابل میں بٹواو اور خبر کرو۔ آج سے ان پر حکومت غلزی خاندان کرے گا۔ اعلان کرواو۔ غلزی قبیلے کے بڑے وارث ”ماغوط کیلاش غلزی“ کی دستار پوشی دیکھنے سب پہاڑوں پر آئیں ہتھیار لے کر۔ آج پغمان کے پہاڑوں پر کابل کے ہر قبیلے کا ہر مرد رقص کرے گا۔“
تخت کے پاس کھڑے چنگیز خان کی باپ پر ٹکی سرخ انگارہ نگاہیں اور تا شکور خانخیل کی خاندانی دستار پر جمی بوڑھی آنکھیں ویران پڑ چکی تھیں۔ دکھ اور درد نے بڑے عرصے بعد اسکی آنکھوں میں ڈیرہ جمایا تھا۔ ساتھ ہی گزری رات کا ایک تاریک منظر تا شکور خان کی بے جان آنکھوں میں لہراتا چلا گیا۔
”پغمان مر چکا ہے نوح خیل۔۔
مجھے ناچاتہے ہوئے بھی دستار تمہارے سر پر رکھنا ہوگی۔ ہماری پشتوں میں کابل کے حکمران خانخیلوں کی پہلو ٹھی اولادیں رہی ہیں۔ تمہارے باپ سے برازیلی عورت کے ساتھ نکاح کے جرم میں، میں نے سرداری چھین لی تھی۔ پغمان تمہارے باپ اور چاچا کی بیوہ (جو چنار خان کے نکاح میں دی گئی تھی) کا نسلی اور خاندانی خون تھا۔ آج وہ زندہ ہوتا تو تخت پر بیٹھتا۔۔ دستار سنبھالتا۔۔ حکومت کرتا۔۔“
تاشکور خان زندگی میں پہلی بار نم آنکھوں اور بغیر حقارت کے اسکے چہرے کو دیکھ کر نرم اور میٹھے لہجے میں بات کر رہا تھا۔ تخت کیا کچھ نہیں کرواتے؟
وہ سر جھکائے پوری بات تحمل سے سنتا رہا۔ تا شکور خان بوڑھا ہو کر بھی اپنے اکیس سالہ اس پوتے کہ سامنے حکم منوا نہیں سکتا تھا۔ وہ اسے قائل کر رہا تھا پیار سے۔۔ نرمی سے۔۔ اور پھر اچانک سے لٹائی گئی مہربانیاں دل کہاں نرم کرتی ہیں؟ دلوں کو فتح کرنے کے لیے تو بنیادی سینچنی پڑتی ہیں۔ غرضیں مارنی پڑتی ہیں۔ عز تیں بخشی جاتی ہیں۔ خلوص نوازا جاتا ہے۔
”قبیلے کی حکمرانی کا تاج پغمان کے سر کے لیے بنا تھا جو اسکے ساتھ ہی چھ فٹ گہر ادفن ہو چکا ہے۔“ دیواروں نے دم ساندھ لیا تھا۔ بے رخی آج عروج پر تھی۔
”پغمان کے سر پر پڑی مٹی کے ساتھ اپنی طاقت کی موت بھی قبول کر لے سردار سائیں۔۔“
(اسے دادا سائیں کہنے کی اجازت نہیں تھی) اور پغمان کی ہواؤں نے یہ منظر بھی پہلی بار دیکھا تھا کہ بات بات پر اسکے وجود پر ہاتھ اٹھانے والا تا شکور خانخیل اس بار اپنے پوتے پر آنکھ تک نہ اٹھا سکا۔
”اور تمہارے سر کے لیے کیا بنانا ہے؟ ہماری نسل پر بدنسلی کا داغ لگانے کا تاج؟“ نرمی کو بالائے طاق رکھے بوڑھا شیر غرایا تھا۔
”بہت جلد معلوم پڑے گا آپکو۔ میر اسر کس تاج کے لیے بنا ہے اور وجود کس تخت کے لیے۔۔“
تو بالآخر وہ ثابت کر کے جا چکا تھا۔ وہ خانخیلی تخت کا تاجدار نہیں بلکہ بغاوتی تخت کا باطل سوز تھا۔
باطل سوز یعنی ”سچ اور حق کی جنگ میں سب کچھ جلا کر خاک کر دینے والا۔“
☆ ☆ ☆
(دس سال بعد)
کیلیفورنیا کا ٹھنڈا شہر (The City Of Fog)
”سان فرانسسکو“ (San Francisco)
شام کے سائے ہر طرف پھیلنے لگے تھے۔ سان فرانسسکو کی پہاڑی گلیوں پر شام کی ٹھنڈی ہوا نے ایک عجیب ساسرور پھیر دیا تھا۔ سورج آہستہ آہستہ سمندر کی گہرائیوں میں اترتا جا رہا تھا جسکی سرخی نے پورے آسمان کو سنہری و قرمزی رنگوں میں رنگ دیا تھا۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر ، سان فرانسسکو میں واقع دنیا کا سب سے مشہور اور تاریخی پل (گولڈن گیٹ برج) اس وقت سورج کی زرد روشنی میں نہایا آتش فشاں کی مانند بھڑک رہا تھا۔ جبکہ معمول کے دنوں میں دھند میں ڈوبا اسکا سات سو پچاس فٹ لمبا اور اپنے اصل رنگ انٹر نیشنل اور نرج کا نظارہ دیتا۔ محیط رقے پر پھیلے اس برج کے درمیان سے تیز رفتار دوڑتی گاڑیاں آگے بڑھتے زندگی کی بھیڑ میں گم ہوتی جارہی تھیں۔ ہائی وے کے ساتھ دونوں طرف موجود کشادہ راستہ سائیکل اور پیدل چلنے والوں کے لیے ڈوبتے سورج کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتا تھا۔ شاہراہ سے نظر آتیں اونچی عمارتیں شام کی خنکی میں اس وقت دھندلی پڑتی معلوم ہو رہی تھیں۔ برج کے نیچے سے گزرتے پانی نے آج کافی وقت طغیانی کا روپ دھار رکھا تھا۔ معمول کی نسبت لہریں نرم انداز میں پتھروں سے ٹکرانے کے بجائے مستانہ روپ میں اوپر اٹھتے ڈوبتے سورج کو دوبالا کر رہی تھی۔
ایسا منظر سان فرانسسکو کے اس برج پر کئی ہفتوں یا پھر مہینوں بعد دیکھنے کو ملتا تھا خاص کر جب دھند نہ ہونے کے باعث آسمان صاف ہوتا اور ڈوبتے سورج کا نظارہ بالکل شفاف نظر آتا۔ یہی وجہ تھی کہ آج کثیر تعداد میں مقامی اور غیر مقامی باشندے اپنے اپنے محبوب جوڑوں کے کندھوں پر بازو جمائے، تو کوئی ہاتھوں میں ہاتھ تھامے گولڈن گیٹ برج سے ڈوبتے سورج کا منظر دیکھنے پہنچ آیا تھا۔
کچھ سیاح برج کے نیچے ساحل سے ٹکراتی لہروں کے پاس خوش گپیوں میں مصروف نظر آتے تو کوئی پتھروں پر بیٹھے گردن اوپر اٹھائے گولڈن گیٹ برج پر کھڑے لوگوں اور ڈوبتے سورج کا حسین نظارہ اپنے کیمروں میں قید کرنے کی کوشش میں مصروف۔
ان میں زیادہ تعداد کم عمر جین زیز کی تھی۔ ”بے فکر ماتھے پر سلوٹیں ڈالے، دنیا جہاں سے بیزار چہرے، زندگی میں حاصل کردہ ہر نعمت سے ناخوش لیکن چند فالورز بڑھانے کی خاطر اور استھیٹک طبیعت کے پیش نظر سورج کو کیمروں میں قید کرتے بورنگ جینزیز۔“
یقیناً یہ دنیا کا کیمروں میں اتارے جانے والاغیر معمولی منظر ہوگا ورنہ جین زیز اور کسی معمولی چیز کو اہمیت دینے خود تشریف لائیں ؟ نا ممکن۔۔
وہاں کھڑے ہجوم میں سے شازو نادر ہی کوئی اس منظر کو لفظوں میں قید کر پاتا جو سامنے سے دیکھنے پر ایک روح سرشار کیفیت طاری کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہاں کے مقامی لوگ قدرت سے لطف اندوز ہوتے خاموش کھڑے تھے جبکہ دوسرے دیسوں سے آئے سیاح دھڑا دھڑ تصاویر کھنچنے میں مگن۔
گولڈن گیٹ برج کی اس غیر معمولی بھیڑ کو دوسری طرف چھوڑے ایک درمیانے قد کا تنہا لڑکا سیاہ ڈینم پر الٹی پی کیپ پہنے، برج کی ریلنگ پر گرائے دونوں بازوؤں پر سر رکھے، ڈوبتے سورج اور پانی کا آخری ملاپ بنا پلک جپکے دیکھ رہا تھا۔ برج کے اس طرف اکا دکا لوگ ہی نظر آتے تھے خاصکر وہ جن کے چہرے زندگی کے شور سے تھکے ہارے معلوم ہوتے تھے اور وہ پانی کے شور میں کچھ پلوں کا ہی سہی سکون ڈھونڈنے چلے آئے تھے۔
ڈوبتے سورج پر نظر ٹکائے لڑکے کو اگر تم پانی کے بیچ جا کر دیکھو تویوں معلوم پڑے گا جیسے سورج پانی میں کم اور اس کی آنکھوں میں زیادہ غروب ہو رہا ہو۔ ایک دلکش منظر تھا جو اسکی آنکھوں میں قید تھا۔ لیکن پیچھے سے گزرتے لوگ ایک وقت میں قدرت کے دو حسین منظر دیکھنے سے قاصر تھے۔
وقت دھیرے دھیرے گزر رہا تھا۔ الکاہل کا پانی آسمان کی طاقت کو قید کرنے میں بے تاب نظر آتا تھا۔ دن میں پورے جلوے سے دہکتا سورج جو اپنا مد مقابل نہیں سمجھتا تھا اب اس کے اندر اپنازوال دیکھتے اداس نظر آیا۔ اس تنہا کونے پر کھڑے گنتی کے چار لوگ بھی اب رخ موڑے واپس پلٹنے لگے تھے۔ شاید وہ زوال کا درد سمجھتے تھے کہ ایک دم ٹھنڈی ہوا کے ایک طاقتور جھونکے نے پوری شدت سے لہروں کو اٹھا کر ساحل پر دے مارا۔ پتھروں پر بیٹھے جینزیز کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑتی چلی گئی۔ سلوٹیں گم ہوئیں ۔ چہرے کھل اٹھے تھے۔ آخر انہیں اور چاہیے ہی کیا؟ پندرہ سیکنڈ کی استھیٹک ریل جس میں قدرت انکا ساتھ دے دے۔ بس۔
یقیناً یہ نظارے بھی اسپاٹ لائٹ چاہتے تھے جبھی جیسے ہی کوئی جینزی نظر آتا باچھیں کھول دیتے۔
لہروں کا دورانیہ اتنا شدید تھا کہ ٹھنڈے پانی کی یخ برج پر کھڑے لڑکے پر بھی آگری۔ یہاں عورتوں کا جم غفیر ہو تا تو اب تک چیخ و پکار سے آسمان پھٹ چکا ہوتا۔ اور دھڑادھڑ ریلز بنائی جارہی ہوتیں یا کوئی سوشل پر لائیو گیا انسان اینٹوں کے کچے مکان میں بیٹھے غربت اور مفلسی کے گھونٹ پیتے کسی سیاحت پسند مفلس کا دل دکھانے اور حسرت بن جانے کی وجہ بن چکا ہوتا۔ لیکن وہاں صرف خاموشی چھائی تھی۔ گہری خاموشی سوائے ہوا کہ تند و تیز جھونکوں کے۔
چند لوگ خاموشی سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ وہ لڑکا ہنوز ساکت کھڑا تھا بغیر حرکت کیے۔ کیا اس پر زندہ زی روح ہونے کا گمان ہوتا تھا؟
بھیڑ کو چیرتے ہوئے تیز قدموں سے آگے بڑھتی ایک سفید اور کوٹ اور سفید ہی جوگرز میں ملبوس لڑکی جس نے آدھے سر سے پیچھے کی طرف سرخ بندانہ رکھا تھا، بائیں کندھے پر ایک بیگ لٹکائے، کبھی غروب ہوتے آشتی سورج کو دیکھتے رک جاتی تو کبھی ریلنگ کے پاس کھڑے لوگوں کو دیکھتے آگے بڑھنے لگتی۔ یوں جیسے وہ منظر بھی نا کھونا چاہتی ہو اور تلاش بھی۔
ریلنگ کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے اچانک اسکی نظریں اور قدم سامنے کے منظر پر تھم گئے۔ وہی لباس، وہی مخصوص انداز، جو گولڈن گیٹ برج پر کھڑے ہر انسان سے مختلف تھا۔ وہ اسے لوگوں کی بھیڑ میں بھی پہچان لیتی لیکن وہ ہمیشہ تنہا لوگوں میں نظر آتا تھا۔ ریلنگ پر رکھے بازو ، سر کو سورج کی سمت ٹکائے، پوری کیلیفورنیا کا درد آنکھوں میں سمیٹے ہوئے۔
چند لمحے یو نہی سامنے کا منظر دیکھنے کے بعد اس نے بازو پر لٹکے بیگ کو اتارتے منی کیمرہ نکالا۔ اسے کیمرہ سیٹ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی وہ ہمیشہ اس جگہ اس انداز میں کھڑا ہوتا تھا جسے دی پرفیکٹ کہا جائے۔
آنکھوں کے سامنے کیمرہ لاتی لڑکی نے لمبے فاصلے کو زوم کیا۔ سامنے کا منظر کچھ یوں تھا کہ سورج کی گہری زرد روشنی سیدھا اس لڑکی کی آنکھوں میں پڑ رہی تھی یوں جیسے وہ سورج کی طاقت چھین رہی ہو- یا پھر ڈوبتا سورج اپنی چمک اس کے پاس گروی رکھے جا رہا تھا- پیچھے کا سارا منظر روشنی اس کی آنکھوں میں رک جانے کے باعث سیاہ پڑ رہا تھا- اگلے پل وہ بغیر اجازت کے تین کلکس نکال گئی-
ایک دور کا، جس میں سورج اسے روشنی ادھار دیے جا رہا تھا- دوسرا قریب کا، جس میں وہ سورج کی طاقت چھین رہا تھا- اور تیسرا صرف آنکھوں کا تھا جو بازوؤں کے دباؤ سے چھوٹی پڑتی معلوم ہو رہی تھیں-
کیمرہ آنکھوں سے نیچے کرتے وہ بیگ میں ڈالنے ہی لگی تھی کہ ایک ایشین جوڑا جو اس کے مقابل رخ پر کھڑا کب سے اسے کسی کی مہارت سے تصاویر اتارتے دیکھ رہا تھا، فوٹوگرافی کی پیشکش کی- شاید وہ انہیں یہاں آنے والے لوگوں کے لیے فوٹوگرافی کرتی پرسن معلوم ہوئی تھی- لیکن وہ نہایت سرد مہری سے سر نفی میں ہلاتے ان کے گمان پر پانی پھیرتی چلی گئی-
ہر مہینے کے کچھ مخصوص دنوں میں جب موسم صاف اور پانی کا بہاؤ تیز ہو جاتا تھا وہ ہر بار یہاں چلی آتی تھی- اور ہر بار وہ اس انسان کو بھی اسی مخصوص جگہ پر موجود پاتی تھی- آج بھی ہر بار کی طرح اس کا دل چاہا وہ اس سے جا کر پوچھے کہ وہ جو ہر انسانی سوچ سے پرے کی چیزوں کو اپنے کیمرے کا حصہ بناتی ہے آخر ایک معمولی انسان ہر بار اسے کیوں اتنا منفرد، اتنا متاثر کرتا ہے کہ وہ اسے قید کرنے کو لوگوں کے بیچ تلاش کرتی پھرتی ہے؟
اس کا دل آج پھر چاہا کہ وہ ایک بار اس سے ضرور پوچھے آخر وہ کیوں اس جگہ ٹھہرتا ہے؟ جہاں سے ہزاروں لوگ پانی میں کود کر گولڈن گیٹ برج کو اپنی جان دے چکے ہیں-
یا ایسا کون سا دکھ ہے؟ جو اس کی آنکھوں کی بینائی چھین لیتا ہے اور وہ ڈوبتے سورج سے روشنی ادھار لینے آتا ہے-لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی سوالوں کا انبار لیے اپنے ہاتھوں کو کوٹ کی جیب میں اڑستے، لوگوں کی بھیڑ کو چیرتے ہوئے وہ الٹے قدم واپس پلٹ گئی-دنیا کے ہر کونے سے آئے مختلف لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے اس کے کانوں میں پڑتے ان کے انگریزی و ہسپانوی جملے دھیمے پڑتے جا رہے تھے-منظر کو ذہنوں میں قید کرنے کے بجائے کیمروں میں قید کرتے لوگ چہروں پر کوفت سجائے اسے لیڈیز فرسٹ والا راستہ دے رہے تھے اس بات سے انجان کہ،
ان کے پاس سے گزرتی، سفید کوٹ میں ملبوس لڑکی کے بیگ میں، کیلیفورنیا کا سب سے حسین منظر قید ہو چکا تھا-
☆ ☆ ☆
یہ منظر سان فرانسسکو کے ایلیٹ کلاس سوسائٹی میں ایک پرائیویٹ اسپیشل ایونٹ کا تھا-نازک شیشوں سے بنا، دھیمے لیرکس پر روشنیوں سے جگمگاتا ہال جو اپنے طے کیے وقت میں سیاہ پڑ جاتا اور پھر مدہم رنگوں کی کراسنگ انداز میں اٹھتی لہریں ہر طرف روشنی بکھیر دیتیں یوں کہ اگر تم قدم زمین پر رکھو تو لیرکس تمہیں دل میں گونجتے سنائی دیں-
نفاست سے جڑی نشستوں کی پشت سے نکلتی سرخ روشنیاں، جو آنے والے وقت میں مطلوبہ انسان کے بیٹھنے پر سبز پڑ جاتی، اس وقت اپنے بیٹھنے والوں کی منتظر نظر آتی تھیں-چاروں طرف گھومتے ہاتھوں میں کیمرہ اسٹینڈ پکڑے نامور میڈیا کے باوقار نمائندے اور شیشوں کے دروازے کے پار تعینات ہائی سیکیورٹی گارڈ جدید اسلحہ تھامے اپنے فرائض پورے کرنے میں ربورٹ کی مانند کھڑے تھے-
اسٹیج کی دیوارِ گیر سکرین پر ایک نامور ہستی کا نام پورے آب و تاب کے ساتھ روشنیوں سے نکلتا اور مختصر وقفے کے بعد دوبارہ اندھیرے کی نذر ہو جاتا-ہال کی نشستیں اس وقت مہمانوں کے شرف سے محروم تھیں-ریمپنگ واک سنسان پڑا تھا-شاید تقریب شروع ہونے میں ابھی کافی وقت تھا-
انسانی ذہن کو شکنجے میں لیتے خوابناک روشنیوں والے اس گراؤنڈ فلور سے کنارہ کرتے اسٹیج کے دائیں طرف بنی سکرین لفٹ کی جانب بڑھو تو انسانی قدم رکھتے ہی وہ لفٹ نیلاہٹ روشنی میں ڈھلتے تیسرے فلور تک جاتی تھی-لفٹ کے اختتام پر بنی راہداری سے آگے دائیں طرف مڑو تو روشنیوں میں نہائے کانچ سے بھی نازک فلور پر لوگوں کا جمِ غفیر موجود تھا-ہال میں ترتیب سے جڑے آئینوں کے سامنے نفیس لباسوں میں کھڑی ماڈلز کہیں میک اپ کو آخری ٹچ دینے میں تو کہیں بالوں پر مشینیں پھیرتے مصروف سی نظر آتی تھیں-فلور گراؤنڈ کی دوسری طرف لگژری سپا چیئرز پر آدھی لیٹی ماڈلز کے پاؤں کا مساج اور پیڈیکیور جاری تھا-
سفید ورکر شرٹس میں ملبوس فی میل اور میل ورکرز جنکے کندھے اور کمر کے درمیان چسپاں "واسکو" نام پر ڈیزائن ہوا لوگو چمک رہا تھا وہ ان ماڈلز کے پاؤں پر مختلف محلول لگا کر دھونے میں مگن تھے-ہر کوئی اپنا کام میں ہمہ تن مصروف نظر آتا تھا-
پوری دنیا میں واسکو برانڈ کے لیے ماڈلنگ کرنا وہ گڈ لک تھی جو یہاں موجود لاکھوں میں سے چن کر لائی گئی چند تعداد کے حصے آئی تھی-واسکو جس کا نام اس کی پہچان اور جس کی پہچان ہی اس کا نام تھا-
نیچے گھومتے مختلف جگہوں پر کیمرے نصب کرتے میڈیا کے ایک نمائندے نے دو گھنٹے قبل اپنے سوشل اکاؤنٹ پر ہیش ٹیگ واسکو نیو لانچنگ ڈالا تھا جس پر آئے ایک سو بیس منٹ میں پانچ ملین ویوز اس بات کا واضح ثبوت تھے کہ ایک بار پھر واسکو کا نیا شاہکار دیکھنے کو آدھی دنیا بے تاب بیٹھی ہے-دنیا کے ہر کونے سے واسکو ایونٹ کو دیکھا جانا دوسرے فیشن شوز سے بڑھ کر ضروری سمجھا جاتا تھا-واسکو کے بیگز، جوتے، میل آؤٹ فٹس، واسکو بیوٹی پروڈکٹس اور سب سے بڑھ کر واسکو ہیلز، جس کے لیے آج کی خاص تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا-پچھلے سال دنیا کی سب سے خطرناک اور منفرد ہیلز بنانے پر واسکو "(HAH) ہائی الرٹ ہیلز" کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکا تھا جس کے اونر کا کہنا تھا؛
”دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں، ایک وہ جو واسکو افورڈ نہیں کر سکتے اور دوسرے وہ جو افورڈ کر لیں تو ہینڈل نہیں کر سکتے-“
واسکو وہ خطرہ تھا جس کو پہن کر چلنا دھاری دار تلوار پر چلنے کی مانند تھا-نا جانے کتنی ماڈلز واسکو کے جنون میں اپنی پرکشش چال کھو بیٹھی تھیں لیکن پھر بھی ان کی پہلی چوائس واسکو ہی تھا پھر چاہے وہ انہیں خرید کر شیشے میں سجا کر ہی کیوں نہ رکھنا پڑے-
پچھلے سال ایک خاتون کا ریمپنگ واک کے دوران گر کر ریڑھ کی ہڈی متاثر ہو جانے پر جب اس سے پوچھا گیا، کیا واسکو انسانوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے؟ تو اس کے بولے گئے ہسپانوی لفظوں کو واسکو انڈسٹری پر کچھ مدت کے لیے نقش کر دیا گیا تھا- اس نے کہا تھا؛
”واسکو اب نارمل ذہن کے لیے ایک چیلنج ہے اگر تم اسے قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہو تو یوں سمجھو واسکو تمہیں خطروں سے کھیلنے کے لیے تیار کر رہا ہے“
ایک اور انٹرویو میں واسکو کی ایک ماڈل نے کہا تھا
”میں نے واسکو کے لیے ماڈلنگ کے دوران ان عورتوں کی اکثریت دیکھی ہے جو اپنی پہچان کھو چکی تھیں اور انہیں واسکو نے پہچان دلائی- جنہیں کل سٹریٹ پر بیٹھا معمولی سنگر بھی نہیں جانتا تھا آج انہیں دیکھنے کے لیے کانسرٹ چھوڑ دیے جاتے ہیں-“
مزید ایک اور خاتون جو واسکو کی ٹاپ ماڈل رہ چکی تھی اس نے اپنے انسٹاگرام پر پچھلے کچھ سالوں سے ایک تحریر پن کر رکھی تھی؛
”میں ایک سیاہ فام عورت ہوں جسے اپنی پہچان واسکو سے ملی- یہاں تک کہ میرے پاس ایک لپسٹک خریدنے تک کے پیسے نہیں تھے اور ہر خاص وعام برانڈ مجھے ریجیکٹ کر چکا تھا- سفید فام مجھے نسل پرستی کا نشانہ بناتے تھے- نفسیاتی بحران کا شکار ہو کر میں نے تنگ غاروں جیسے مزید خطروں کی طرف ذہنی ہیلنگ ڈھونڈنے کی کوشش کی کیونکہ انسان میرا مرض بن گئے تھے۔ میرا ذہنی دباؤ مجھے اندھیروں کی طرف دھکیلنے لگا۔ اس دوران میری ملاقات کسی اجنبی لڑکے سے ہوئی مجھے یاد ہے اس نے مجھے ایک لفافہ تھمایا تھا، ہاں وہ لفافہ ہی تھا۔ اس میں لکھا تھا آپ سمندر کی گہرائیوں میں جا سکتے ہیں، آپ تنگ غاروں میں پناہ بھی لے سکتے ہیں لیکن واسکو ہینڈل نہیں کر سکتے۔
مجھے لگا یہ میرے لیے تھا یا میری جیسی ہر عورت کے لیے۔ تب میں نے واسکو کا وہ خطرہ چنا جس کا مقابلہ شکل و صورت سے نہیں بلکہ دماغ کی جارحانہ طاقت سے تھا جو اسے قابو کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ میں نے سات سال واسکو کے لیے ماڈلنگ کی۔ آج میں زندہ ہوں اور مجھے دنیا جانتی ہے۔ ہو سکتا ہے میں غاروں سے واپس نہ آ سکوں اور دنیا میری موت سے بے خبر رہ جاتی۔ واسکو فکشن کے خول میں لپٹی ایک خطرناک ہیلنگ تھی لیکن پہاڑوں اور غاروں سے بہت کم۔۔
واسکو کی ہر سال لانچ ہونے والی محدود تین، ہیلز عام ہیلز نہیں تھیں۔ واسکو بیمار دماغوں کے لیے ایک ڈیفنس میکانزم کا کام کر رہا تھاـ خاصکر وہ لوگ جن میں جارحیت حد سے زیادہ پائی جاتی تھی اور وہ شدید ذہنی تکلیف، لاعلاج بیماری کے تناؤ، جذباتی صدمہ، پینک اٹیکس جیسے مختلف نفسیاتی مسائل اور غیر صحت مندانہ تخلیقی صلاحیتوں سے مجبور ہو کر عام لوگوں سے مختلف ترجیحات کو چننے پر مجبور ہو جایا کرتے تھے۔ مغرب میں ایسے لوگوں کی کثیر تعداد اکثر پہاڑوں سے چھلانگ لگانے یا پھر سمندر میں کود جانے کو ترجیح دیتی تھی اور واسکو ایسے لوگوں کو ہیلنگ سبلیمیشن کے تحت چیلنجز فراہم کرتا تھا۔ جن میں زیادہ تر تعداد مغرب کی خواتین اور ٹنینجرز کی تھی۔ مختصر یہ کہ واسکو نے فکشن کے نام پر مغربی دماغوں کو مٹھی میں جکڑ لیا تھا۔
آج بھی اس سال کی وہی تین ہائی الرٹ ہیلز لانچ ہونے جا رہی تھیں جنکی بناوٹ اتنی خطرناک ہوتی تھی کہ ان پر قدم رکھنے سے پہلے اجازت نامے دستخط کیے جاتے تھے اسکے بعد حواس کو قابو کیا جاتا، اگلے مرحلے میں وزن، اور پھر خوف۔۔
تیسرے مرحلے پر آتے آتے آدھی سے زیادہ تعداد ریجیکٹ ہو جایا کرتی تھی۔ اسلیے کہا جاتا تھا لاکھوں میں سے کوئی ایک انسان جسکو واسکو منتخب کرلیتا ہے، وہ نارمل نہیں ہو سکتا۔
شیشے کے پار ماڈلز کا مینیکیور پیڈییکیور ختم ہو چکا تھا۔ ان میں سے تین ماڈلز کو ہائی الرٹ ہیلز کے لیے چنا جاتا تھا۔ عورتوں کے باوجود جہاں تھوڑی دیر پہلے کمال کی خاموشی چھائی تھی اب کسی کی زور زور سے چیخنے کی آوازیں آنے لگیں۔ کچھ ماڈلز ہجوم کی صورت ایک کمرے کے سامنے کھڑے اندر ہونے والے تماشے کو دیکھتے ہوئے مزے لے رہی تھی اور کچھ اس سب سے لاتعلق بنی سکرینوں میں مگن۔ جیسے یہ سب معمول کا حصہ ہو۔
ہجوم کی صورت کھڑی ماڈلز کے بیچ میں سے گزر کر اندر کی جانب بڑھو تو دو ماڈلز نے ایک دوسرے کے بال نوچ رکھے تھے۔ ایک کا گال پھٹا ہوا تھا اور دوسری کے ناخن اسکی گردن میں پیوست تھے۔ صورتحال کافی نازک تھی۔ آئے دن واسکو کے لیے آگے بڑھنے کا جنون ہاتھاپائی پر ختم ہوتا تھا اور سکھ شانتی کے تحت جو بھی انکو چھڑوانے کے لیے آگے بڑھتا ناخنوں کے دوچار نشان اپنے چہرے پر بھی لیے واپس آتا، اسی لیے جھگڑتی عورتوں سے شیطانی بھی پناہ مانگتا ہے۔ کسی ماڈل نے سیکیورٹی کو بلایا تھا شاید تبھی سیاہ وردی میں آگے بڑھتے دو اہلکاروں نے آتماؤں کو پیچھے سے جا کر جکڑ لیا۔
”عماؤس میم۔۔!
انچارج کو کال کرے جلدی، یہ آج ایک دوسرے کو مار دیں گے۔“
ایک اہلکار نے مسکینی صورت بنائے اسی کمرے کے کونے میں بیٹھی ایک سرخ بالوں والی ماڈل کو انگریزی میں مخاطب کیا جسکے ایک ہونٹ، کان اور ابرو میں چھوٹی چھوٹی بالیاں لک رہی تھیں۔ وہ اس پاس سے انجان بنے بہرے ہونے کا مکمل ثبوت فراہم کرتے اپنے کام میں مگن رہی۔ جیسے ساری دنیا کی آوازیں اسکی سماعتوں پر ناکام ٹھہر گئی ہوں۔ اسکے چہرے کے تاثرات سے صاف معلوم ہوتا تھا دو گھروں میں آگ لگانے والا ابلیسی کام اسی ابلیس نے انجام دیا ہے۔
سیکیورٹی کے بازوؤں میں جکڑے ہونے کی وجہ سے ہاتھ پاؤں نا پہنچتے اب وہ نوچتی عورتیں آنکھوں سے ایک دوسرے کو کاچاپانے لگیں۔ دس منٹ اسی کشکش میں گزرے تھے جب وہ لفٹ سے نکل کر فلور میں داخل ہوتا ہوا دکھائی دیا۔
اگر تمہیں یاد ہو تو؟ سیاہ ڈینم پر الٹی پی کیپ پہنے، گولڈن گیٹ برج پر کھڑا، ڈوبتے سورج کو دیکھتا ہوا، اداس لڑکا؟؟
دو گھنٹے قبل؛
سفید اوور کوٹ پہنے دراز قد لڑکی گولڈن گیٹ برج سے نکلتے ہی فاصلے پر کھری اپنی سیاہ جیگوار میں بیٹھنے زن سے آگے بڑھ گئی۔۔ دس منٹ بعد وہ ایک سٹریٹ سٹال کے سامنے رکی۔ گاڑی میں سے ہی کافڈ کافی کا ٹمبلر پکڑا۔ چند ڈالر
سال پر کھڑے کم عمر لڑکے کو ٹرانسفر کرتے ایک مخصوص مسکراہٹ نوازی۔ پرانی شناسائی تھی شاید تبھی وہ لڑکا بھی احترام سے گاڑی تھپتھپا کر اسے آگے بڑھنے کا اشارہ دے گیا۔ مزید پانچ منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد وہ ایک مشہور فوٹوگرافر کی شاپ پر گاڑی رک گئی۔۔ گاڑی سے باہر نکلتے اسکے قدموں میں عجلت تھی اسے دیر ہو رہی تھی یا واقعی دیر ہو چکی تھی۔ شاپ پر بیگ سے منی کیمرہ نکالتے چند تصاویر شاپ مین کو دکھاتے ہوئے انگریزی میں کچھ کہا۔ شاپ مین کے چہرے پر جنجلہات یوں تھی جیسے وہ اسے محاذ فتح کرنے کا بول چکی ہو۔ دو منٹ کے مختصر ڈسکشن کے بعد کیمرہ وہیں چھوڑے وہ ایک بار پھر گاڑی آگے بڑھانے لگی۔ تیز رفتار میں ماہر طریقے سے ڈرائیونگ کرتے ہیں منٹ کا راستہ دس منٹ میں طے کیے وہ گاڑی کو ایک خوبصورت شیشوں سے مزین عمارت کے سامنے روک گئی جس کی پیشانی پر چسپاں **”کیلیساح لیگیسی“** کا برانڈ لوگو سبز ہیرے کی روشنی میں دمک رہا تھا۔
گاڑی بلڈنگ کے گيرات میں کھڑی کرتے وہ تیز قدموں سے عمارت کے اندر داخل ہوئی۔ ریسپشن پر کھڑی ورکرنگ خاتون نے سفید کوٹ میں داخل ہوتی ٹھہر اثر قدم رکھنے والی پرکشش باس کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔ پتلے نقوش، صاف رنگت، دراز قد اور سرد تاثرات کے ساتھ آدھے بالوں کو ہمیشہ کی طرح پیچھے کی طرف سرخ شالر میں قید کیے بلاشرہ وہ ایک خوبصورت اور ڈیسنٹ خاتون نظر آتی تھی۔
”ویلکم کیلیساح میم!“
ریسپشنسٹ مسکراتے چہرے کے ساتھ خوش آمدید کرتے ورکنگ الٹرابک اسکی طرف بڑھاگئی۔
”کیا اپڈیٹ ہے سیمن؟“ سپاٹ تاثرات کے ساتھ وہ الٹرابک تھام گئی۔
”ابھی منع کر دو سیمن۔ میں کچھ وقت تک انٹرنیشنل شپنگ روک چکی ہوں۔ کیا زاشا نے ابھی تک لوگ نہیں کیا؟“
ایک نظر الٹرابک کی سرخ ڈیڈلائن پر ڈالتے وہ مصروف نگاہ سیمن پر ٹک گئی۔
”ہاں کر دو منع سیمن۔۔ اسے کہو کیلیساح میم ابھی موڈ سوئنگز کے مائونٹ ایورسٹ پر ہیں کچھ دنوں بعد وہ واپسی کا دورہ کریں گے اسکے بعد ملاقات کا شرف بخشا جائے گا۔“
دونوں نے سر موڑے پیچھے سے آئی آواز کی طرف دیکھا۔ سیمن کے ہونٹ باقاعدہ گول ہو چکے تھے۔ آخر سامنے کھڑی لڑکی سان فرانسسکو کی چلتی پھرتی فیشن پلس ٹرینڈ میکر جو تھی۔
انکے پلٹ کر دیکھنے پر ایک ادا سے بال جھٹکے گئے۔ بال جھٹکنے کا یہ اوپر انداز ایک کان سے جھانکتا سنییک ایئر رنگ دکھانے کے لیے تھا۔ جس پر سیمن کی نظر پڑی تھیـ (پروموشن یونیو)
”سیمن تم اگلے دس سیکنڈ میں میری ڈیوٹی سے ہاتھ فارغ کر لو۔ انٹرنیشنل کسٹمز کو زاشا کے سوا کوئی نہیں سنبھال سکتا۔“
کیا ادا تھی اور اس پر ناخنوں کا نانو کیلا تراش۔ ساتھ ہی بڑی بڑی آنکھوں پر کھینچ کھینچ کر لگایا گیا سرخ آءی لائنز۔ ہندوستانی رنگت اور مناسب سے نقوش۔ بال چوٹی میں قید اور تھری پیس مردانہ سوٹ میں آدھامر داور اور آدھازنانہ بنی یہ ٹرینڈ میکر اور کیلیساح پر زبردستی کی مسلط ہوئی پرسنل منیجر ”زاشا ایوب“ تھی۔
”زاشا میم! آپ تو اپنے سوتیلے گرینڈ فادر کے فاو نر کے فیونزل میں جانے والی تھی ناں؟“
شش و پنج کی کیفیت میں مبتلا سیمن آخر سامنے کھڑی ٹرینڈ میکر سے پوچھ ہی بیٹھی۔
"کیا مطلب ہے سیمن؟ تمہیں میری آنکھیں سرخ نظر نہیں آ رہی کیا؟"
ضرورت سے زیادہ آنکھیں کھولے وہ شاک ہی تو ہوئی تھی۔
"تو آپ وہاں سے آرہی ہیں؟" حیرت کی جھیل میں غوطہ لگاتے سیمن نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا تھا۔
"مجھے دیکھ کر تمہیں لگتا ہے اس فارمل لک میں زاشا ایوب کسی پارٹی سے ہو کر آئے گی۔؟"
آہہ۔۔ تو یہ فارمل لک جنازے کے لیے تھا اب سمجھی تھی معصوم سیمن۔
"زاشا افسوس ہوا تمہارے گرینڈ فادرکا۔ اللہ انہیں جنت۔۔"
"رکو، رکو لیساح۔۔" وہ اسکی آدھی بات منہ سے ہی اچک گئی۔
"اچھے کارنامے تھے نہیں ویسے انکے۔ اماں بتارہی تھی ساری زندگی انگریزوں کو دو نمبر مال بیچا ہے تبھی تو ایک سو دس سال تک اپنے گناہ بخشاتے رہے۔ آخر جنت بھی کسی لحاظ میں ملتی ہے بندے کو اور ایوب کی بیٹی خود گواہ ہے ایک نمبر کے بدلحاظ آدمی تھے۔ جاتے جاتے بھی ایسا بکھیڑا اکٹھا کر کے گئے ہیں کہ مت پوچھو۔ ایشین چاچو اسکی انگریز بیوی اور انکے مشترکہ بچے اب تک جیل پہنچ چکے ہونگے۔"
سیمن فرصت سے اسکو دیکھتے آگے سننے کے لیے بے چین تھی جبکہ کیلیساح کے چہرے پر تاثرات یوں تھے جیسے اس ضعیف آدمی کو دعا دے کر گناہ کبیرہ کر بیٹھی ہو۔
"میم میں بتانا بھول گئی ایک ورکر آیا تھا واسکو انڈسٹری سے۔ اسکے پاس آپکا اپروول ٹیکسٹ تھا۔ میں نے کئی بار نام پوچھا پر کافی روڈ بندہ تھا آگے سے سخت گھورنے لگا۔ آپکا نیٹورک بھی آف تھا پھر زاشا میم نے مجھے اپروول ایکسیپٹ کرنے کو کہا سو میں نے جانے دیا اسے۔"
سیمن کہ دماغ میں جیسے ہی کچھ کلک ہوا وہ پیشہ ورانہ انداز میں کیلیساح کو معلومات دے گئی۔
"واٹ۔۔ میر اپروول؟ کیا مطلب زاشا نے پرمیشن دے دی؟" کیلیساح کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔
"آہہ۔ آئم سوری لیساح میں نے تمہارا اپروول دیا تھا اسکو میں تمہیں انفارم کرنا ہی بھول گئی۔ اسنے کہا تھا اسے کوئی ضروری ڈسکشن کرنی ہے اور اسے واسکو کے اونر نے بھیجا ہے۔"
زاشا کا انداز لاپرواہ سا تھا جیسے یہ روز کی معمولی بات ہو۔
"کہاں ہے اس وقت وہ سیمن؟ (جواب وہ نا ہو جو اس وقت وہ سننا نہیں چاہتی تھی)"
"آپکے آفس میں۔۔"
ہک ہاہ۔۔ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کو بالائی دانتوں کے نیچے رکھے اسنے سر کو اوپر کی طرف جھٹکا دیا تھا۔ ایسا وہ تب کیا کرتی تھی جب کوئی بات اس کی برداشت سے بالکل باہر چلی جاتی۔ شیشے کے کاؤنٹر پر رکھے بائیں ہاتھ کی مٹھی اتنی شدت سے بھینچ لی تھی کہ اوپر سے ابھرتی سبز رگیں واضح دکھائی دینے لگیں۔
"سارے آفیشل اکاؤنٹ ابھی کے ابھی بلاک کرو سیمن۔ انٹری اور ایگزیکٹ بھی۔ میں ایک اور سر درد نہیں چاہتی۔--"
زاشا کو تاسف سے دیکھتے وہ سیمن کو دو ٹوک انداز میں جھڑک گئی۔ سر کاؤنٹر پر رکھے بازوؤں پر ٹکا دیا۔
وہ ضرورت سے زیادہ تلخ ہوئی تھی۔ مسکراہٹ اس کی شخصیت کا خاصہ نہیں تھا۔ بہت کم ایسا ہوتا تھا جب لیگیسی برانڈ کی اونر کو مسکراتے ہوئے دیکھا گیا ہو۔ ایک سنجیدگی ہر وقت اس کے چہرے کا احاطہ کیے رکھتی تھی۔ زاشا اسکے یک دم بدلتے انداز سے قاصر تھی تبھی وہ اسکے چہرے پر چھائے خوف کی مدھم کرن نہیں دیکھ پائی۔
"کول یار لیساح۔۔ ایسی بھی کیا بڑی بات ہو گئی؟
آج واسکو کا ورکر آیا ہے صاف ظاہر ہے کیلیساح لیگیسی کا اوپر جاتا نام انکو پریشان کرنے لگا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب واسکو کا اونر خود چل کر آئے گا۔"
اسکا انداز سر سری سا تھا۔ بے تکلف اور لاپرواہ سا۔ جبکہ سیمن اپنی کول باس کے اتنا جارحانہ ردعمل پر اداس دکھائی دی تھی۔
"تمہیں ذرا بھی اندازہ ہے زاشا تم کیا کر چکی ہو؟"
کیلیساح بازوؤں پر رکھا سر اوپر اٹھائے زاشا کی طرف مڑی۔
"کہنے کو تم میری پرسنل مینیجر ہو لیکن تمہیں معلوم نہیں ہوتا کیسے ( اے براؤن زی ) آرٹیکل کی پوری شپ رات و رات غائب ہو جاتی ہے؟ کیوں ایک شخص کیلیساح کے مقبول آرٹیکلز کو آگ لگا کر ہمیں ٹیگ کر رہا ہے؟ صبح سے ہماری ویب سائٹ کو بار بار ہیک کرنے کی کوششیں کس وجہ سے کی جا رہی ہیں۔ یہ سب محض کول لگ رہا ہے تمہیں؟
تمہارے اس فیورٹ واسکو کا نام جب جب لیگیسیز سے جڑا ہے صرف اور صرف نقصان اٹھانا پڑا ہے ہمیں۔ ان سارے سیکنڈل کے باوجود کوئی اجنبی انسان اس وقت میرے آفس میں بیٹھا ہے۔ ایک پل کے لیے سوچو زاشا۔ اگر وہ واسکو کا ورکر نہ ہوا تو۔۔۔؟"
وہ ہنوز مٹھیاں بھینچے خود کو شدید تلخ کہنے سے بہت مشکل سے روکے ہوئے تھی۔
"مائے بیڈ۔ مائے بیڈ لیساح۔۔ مجھے اس صورتحال کا سچ میں اندازہ نہیں تھا۔ اومائے گاڈ میرے سارے سوشل اکاؤنٹ تبھی لاگ ان نہیں ہو رہے تھے اور میں سمجھی کوئی تکنیکی مسئلہ ہو گا۔ میرے ذہن میں یہ بات کیسے نہیں آ سکی؟"
وہ رکی جیسے اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ چکا ہو۔
"نو۔ نو۔ نو یہ بات تو اب باس تک بھی پہنچ چکی ہو گی۔ وہ مجھے نکال دیں گے لیساح یہ لاسٹ وارننگ تھی۔"
تشویش کی حالت میں وہ ہاتھ کی مٹھی بنائے کاؤنٹر پر پٹخنے لگی۔
"میں کور کرتی ہوں سارے مسئلے کو پلیز تم باس سے کچھ مت کہنا۔--"
جلے پیر کی بلی کی مانند وہ کبھی کیلیساح کے ایک طرف جاتی تو کبھی دوسری طرف۔ شرمندہ اور خوفزدہ وہ بیک وقت ہوئی تھی۔ اسے اس وقت کیلیساح کو عذاب میں ڈالنے سے زیادہ اپنی جان کے لالے پڑتے دکھائی دے رہے تھے۔
"میم سارا نیٹورک بلاک ہو چکا ہے۔--"
تیزی سے کیبورڈ پر انگلیاں چلاتے اداس سی سیمن اپنی باس کو کام ہو جانے کی خبر دے گئی۔ کیلیساح نے سکھ کا سانس بھرا اور ساتھ ہی تنقیدی نظروں سے زاشا کی طرف دیکھا جو مسکینی صورت بنائے اپنے فون پر آنے والی کال کی منتظر تھی۔
"مجھے نظر ثانی کر لینی چاہیے اپنی مینیجر منتخب کرنے میں اور یقیناً سیمن درست آپشن ثابت ہو گی۔"
وہ زاشا کو افسوس بھری نگاہوں سے دیکھتے آگے بڑھتی چلی گئی۔ اتنی سی بات تھی اور اداس سی سیمن کا چہرہ کھل اٹھا تھا لیکن آگے کتنی دیر کھلا رہنا تھا یہ ضرور زاشا طے کرنے والی تھی۔
"میں چلو تمہارے ساتھ آفس؟ مینیجر اچھی نا سہی۔ چلو دوست بھی اچھی نا سہی۔۔ لیکن فائٹر تو اچھی ہوں ناں؟"
وہ لپک کر راہداری میں سے گزرتی کیلیساح کے برابر ہوئی۔ ساتھ ترچھی نظر اپنے ہاتھ میں تھامے فون پر بھی ڈالی جیسے اگلے پل کسی ناگ نے سکرین سے منہ نکالنا تھا اور زاشا نے جہنم واصل ہو جانا تھا۔
"نہیں تم سیکورٹی لائن پر رہو وہ واسکو کا ورکر ہوا تو میں سنبھال لونگی، اگر کو کلس کلاں کے گروہ یانکیز میں سے ہوا تو کسی صورت بچنا نہیں چاہئیے۔"
زاشا کو سخت تاثرات سے خبردار کرتے وہ چمکتی سیاہ لفٹ میں قدم رکھتے ہی اوپر جاتا بٹن پریس کر گئی۔ پیچھے سے زاشا نے اپنے ایئربڈز کانوں میں لگاتے انہیں ایکٹیویٹ کر لیا تھا۔
لفٹ کے تیسرے فلور پر رکتے ہی وہ تیز قدموں سے آگے بڑھتے گہرا سانس انہیل کر گئی۔ قدموں میں غیر معمولی عجلت تھی۔ خوف کے معمولی سے سائے کو کمال مہارت کے ساتھ سرد تاثرات کے خول میں بند کرتے وہ جیسے ہی آفس کا گلاسی ڈور دھکیل کر اندر بڑھی، نظر سیدھا صوفے پر فرصت سے لیٹے ہوئے شخص پر جا پڑی۔ بے اختیار اسکے اٹھتے قدم اپنی جگہ جم کر رہ گئے تھے۔
آفس کی عجیب و غریب دیواروں پر چھائی خطرے کی نحوست کیلیساح کو خبردار رہنے کا اندیشہ دینے لگی. چہرے کے تاثرات کو نارمل رکھے اسنے سفید کوٹ کو اتار کر ہینگر پر لٹکایا اور آدھے سر پر موجود بندانہ سٹالر کو آگے کرتے کندھوں پر پھیلا دیا.
بغیر اس شخص کو مخاطب کیے وہ مناسب قدم اٹھاتے اپنی نشست کی جانب بڑھ گئی. پاور چیئر پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ آن کرتے ایک بار پھر صوفے کی طرف دیکھا جہاں دنیا جہان سے بے خبر لیتا شخص ہاتھ میں پکڑی کیلیساح برانڈ کی سکپچ بک پر گہری نظریں جمائے کسی اور ہی دنیا میں گم تھا. رنگت نہ بہت گوری تھی نا ہی گندمی. بس مناسب سی.
سفید ہڈی نما اور سائز شرٹ کے ساتھ بلیک بیگی پہنے، بال الجھے ہوئے ماتھے پر پڑے تھے جنہیں ہاتھ سے بھی درست کرنے کی مزاحمت نہیں کی گئی تھی. سفید جاگرز میں مقید ایک پاؤں جو سائیڈ میز پر رکھا جھول رہا تھا. ساتھ ہی ہاتھ میں تھامی سکیچ بک پر بنے آرٹیکل کو گھورتا ہوا وہ اجنبی کسی بھی اینگل سے واسکو کا ورکر ہرگز نہیں لگ رہا تھا.
ایک ہی نظر میں اس کا مکمل جائزہ لیتے کیلیساح نے میز پر رکھے پنڈولم کو زور سے شیشے پر کھٹکھٹایا. صوفے پر لیٹے نفوس کی خاموشی میں خلل پڑا تھا شاید جبھی وہ سکیچ بک صوفے پر پھینکتے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا.
"کیا آپ کے اونر نے آپ کو لیگیسیز کے ڈیزائن کاپی کرنے بھیجا ہے یا پھر ضرورت سے زیادہ وقت ہے آپ کے پاس؟"
نظریں لیپ ٹاپ پر ٹکائے وہ سخت لہجے میں بولی تھی. جو ستائش قریبی لوگوں کے لیے اس کے لہجے میں ہوا کرتی تھی اجنبیوں سے بات کرتے ہیں وہ بھی ختم ہو جاتی.
"پندرہ منٹ کے مقابل پندرہ سیکنڈ کافی کم نہیں ہوتے مس۔۔؟ دوسرے کے وقت کا آپ کو بھی احساس رہنا چاہیے چاہے وہ اضافی ہو یا پھر فضول۔"
طنز یہ لہجہ صاف کیلیساح کے دیر سے آنے پر تھا. لہجے میں بد اخلاقی کا وہ عنصر تھا کہ حد نہیں. اور تاثرات بھی نرم طبیعت والے بالکل نہیں تھے.
"ورکر آف واسکو انڈسٹری۔" صوفے سے اٹھ کر وہ واسکو اور ورکر کا کارڈ کیلیساح کے سامنے میز پر رکھ گیا.
"وچ انڈسٹری؟"
بغیر سر اٹھائے وہ بولی تھی. سکرین کی روشنی میں اسکے ہاتھ میں پہنا کیلیساح لیگیسی کے لوگو پر ڈیزائن ہوا سبز ہیرے والا بریسیلیٹ دمک رہا تھا.
"وومین ہائی الرٹ سیلز!"
باس نے آپکورات کے ایونٹ پر انوائٹ کیا ہے وہ چاہتے ہیں لیگیسیز اپنی وائرل ہیل (اے براؤن زی) کا ہینڈ سکپچ واسکو کو بطور تحفہ پیش کریں. یقیناً لیگیسی کی اونر ایک سمارٹ وومن ہیں جو واسکو کو انکار کی صورت اپنا نقصان نہیں چاہیں گے.
"اسے خبر داری سمجھایا جائے؟"
کیلیساح کیبورڈ پر ٹائپ کرتی انگلیاں رک گئی.
"واسکو کا طریقہ کار سمجھ لیں۔۔"
لیگیسی کو واسکو کے ساتھ کام اور نام دونوں بنانے کا موقع دیا جائے گا. وہ موقع جس کا انتظار لیگیسیز برسوں سے کر رہے ہیں؟
میز پر مٹھی کی صورت رکھے ہاتھوں پر زور ڈالے وہ آگے کی طرف جھکا تھا. آنکھوں میں مقابل کو زیر کرنے کی چاشنی سی ابھری تھی. ہاہ۔ واسکو کا بھرَم!
"کیا واسکو کے آرٹسٹ اتنے ناکارہ ہو چکے ہیں کہ واسکو کو اپنے مقابل آئی معمولی برانڈ سے اسکا وائرل آئٹم بطور تحفہ مانگنے کی ضرورت پڑنے لگی؟"
کیلیساح کا انداز خالص تفتیشی تھا. واسکو اور کسی دوسری برانڈ کا ڈیزائن مانگے ناممکن سی بات تھی کچھ تو کھٹکا تھا اس سے سامنے بیٹھے انسان میں، کچھ تو نظروں سے اوجھل تھا.
"واسکو کے مقابل کھڑی معمولی انڈسٹریوں کو واسکو اور اسکے جینئس ڈیزائنرز کے متعلق غلط فہمیاں بہت جلد ہو جاتی ہیں، نہیں۔۔؟؟"
اب کی بار نرم لہجے میں سوالیہ ابرو اچکائے وہ ایک ہاتھ سے کرسی کھینچ کر کیلیساح کے سامنے بیٹھ گیا. بحث میں واسکو کے حمایتیوں کو کون زیر کرے؟ کیبورڈ پر مسلسل ٹائپ کرتے کیلیساح نے آگے سے کوئی جواب نہ دیا تو وہ اس سے ہٹاتے پورے آفس میں دوڑانے لگا.
دیواروں کے اندر نفائست سے ڈیزائن کیے کاؤنچ سے بھی نازک اتھینٹک پیس لگے تھے جن کی اوپری دیوار پر عجیب و غریب آرٹ بنے تھے جن میں سے ایک نمایاں آرٹ کسی کم عمر بچی کا تھا جس کا چہرہ واضح نہیں تھا لیکن اسنے ساحل پر کھڑے ایک بھیڑیے کی آنکھوں کو ناخنوں سے نوچ رکھا تھا. بھیڑیے کی آنکھوں سے رستا گڑھاخون قطرہ قطرہ پانی پر ٹپک رہا تھا. سمندر کی بڑی لہر بچی کو دبوچنے میں ناکام تھی.
آرٹ کو اتنی باریکی سے بنایا گیا تھا کہ بھیڑیے کے چہرے پر رقم اذیت دیکھی جاسکتی تھی. آرٹ سے ہوتی اسکی نظریں نیچے شیلف پر رکھیں پاگل رائٹرز کی سالوں پہلے ہو چکی انگریزی کتابوں پر جاپڑی. کیا تمہیں کچھ عجیب نہیں لگا؟
اس اجنبی کی جانچ لگاتی آنکھوں میں ستائش ایسی تھی جیسے جگہ اور حالات کا جائزہ لینے والے جاسوس کی نظروں میں ہوتی ہے. اسکی متاثر نگاہیں دوسری طرف گھومتے ہی پاور چیئر کے پیچھے دیوار پر لگی دماغ کو الجھا دینے والی آپٹیکل آرٹ پر تھم گئی.
ایک بڑا کینوس جس پر سفید سیاہ اور سرخ لکیریں. ان لکیروں کے میل جول سے ابھرتے دو سیاہ ہاتھ. انکے بیچ میں ڈولتا انسانی دماغ جس سے خون کی لکیریں نیچے کی طرف بہہ رہی تھی. انسانی ہاتھوں میں کھلتا ہوا وہ زخمی دماغ، دیکھنے والی آنکھوں پر حاوی ہونے لگتا جیسے ان ہاتھوں نے دیکھنے والے کا دماغ جکڑ لیا ہو. دیکھتے ہی دیکھتے وہ آرٹ مدھم پڑتے تاریکیوں میں گم ہو جاتا اور پھر اچانک سے ابھرتا.
اس عجیب و غریب آرٹ پر نظر تھمتے ہی اس اجنبی کی آنکھیں سکڑیں اور اگلے پل وہ گردن جھٹکتے چہرہ پھیر گیا. کیلیساح کا دھیان اسکی طرف نہیں تھا یا پھر وہ اس اجنبی کو جانچنے کے لیے پھینکا گیا ایک جال تھا اور سامنے بیٹھی لپ ٹاپ میں مصروف لڑکی ایک جال ساز.
"ہیلا امپریسو۔۔۔ مس ہپناٹسٹ (ہیلا فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے، بہت زیادہ) تو آپکا ذوق دماغوں پر عبور حاصل کرنا بھی ہے. ویسے ایک بے نام آرٹسٹ کی اس مشہور آرٹ سے لوگوں کو متاثر دیکھا گیا ہے لیکن آپ تو متاثر اور آبسیسڈ بیک وقت نظر آتی ہیں؟"
بولتے ساتھ وہ مسلسل اپنی آنکھوں کو مسل رہا تھا. دماغ موؤف ہوا تھا. نظر آتی ہر چیز اس اپنے دماغ پر حاوی ہوتی محسوس ہو رہی تھی یہاں تک کہ سامنے بیٹھی لیگیسیز کی اونر بھی.
نامحسوس نظر سکرین سے اٹھاتے کیلیساح نے اس پر ڈالی. پھر اسکا واسکو کارڈ اٹھایا جس پر ورکر کے نمبر کے ساتھ کوئی کوڈ لکھا تھا. اسے واسکو کی آفیشل ویب سائٹ کے سکینگ پروسیس میں ڈالا، اگلے پل لوڈنگ سٹارٹ ہو چکی تھی.
"ماڈل ہو؟"
دونوں ہاتھ باہم ملائے ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر وہ تفتیشی انداز میں بولی تھی. جال ساز کا پھینکا گیا جال شکاری کے دماغ کو جکڑ جو چکا تھا سوالات کا وقت ہو جاتا ہے.
"اگر آپکو لگ رہا ہوں توضرور۔۔۔ آج رات واسکو ہیلس پہن کر کیٹ واک میں ہی تو کرنے والا ہوں۔"
برا ہی تو مان گیا تھا وہ مطلب کچھ بھی؟ کیلیساح کا اوپر اٹھادائیاں ابرو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ اسے یہ بے تکلفی ایک آنکھ نہیں بھائی.
"واسکو میں کئی عورتوں کی ٹانگیں ٹوٹیں ، کچھ کے پاؤں. کچھ ریڑھ کی ہڈی متاثر ہونے پر سرگل رہی ہیں. ان وجوہات کی بنا پر آپکو نہیں لگتا واسکو عورتوں کی بیلنس کردہ، ہیلز تو ہر گز نہیں بناتا اس لیے اب مرودوں کو ہی پہن کر گھومنا ہو نگی؟"
کیلیساح اسے بات کو ڈبل کراس کرتے دیکھ کے ہاتھوں کو ٹھوڑی تلے سے نکالتے کمر سیدھی کر گئی. چمکتے بریسیلیٹ نے کلائی سے بازو کا سفر کیا تھا.
"ویسے آپکی ان طنزیہ باتوں سے تو لگتا ہے آپ واسکو کی دوسری کیٹیگری میں آتے ہیں جو واسکو ا افورڈ تو کر لیتے ہیں لیکن ہینڈل نہیں کر پاتے. کیا اس مخالفت کی اصل وجہ بھی آپکا واسکو ٹرائی کرتے تین چار زمین سے ہائے ہیلو کرنا ہے؟"
کیلیساح کے ماتھے پر پڑیں سلوٹیں گہری ہوئیں. مقابل شاطر تھا اور زیرک بھی. وہ سوال پر سوال کر رہا تھا جواب نہیں دے رہا تھا.۔ جال ساز کی شکست یقینی ٹھہری.
"سینس آف ہيومر۔۔"
کیلیساح کے تاثرات سنجیدہ پا کر وہ ہتھیار ڈالنے والے انداز میں ہاتھوں کو کھڑا کرتے بات کو بے تکلف رخ دے گیا. نظریں کیلیساح کے چہرے سے ہٹا دی تھیں. زیر کرنے کی چاشنی بھی مدھم پڑتی چلی گئی جیسے برسوں کی میل جول ہو انکے درمیان اور ایک پل میں ختم کر دی گئی ہو.
کیلیساح کی نظر پہلی بار اسکے ہاتھوں پر پڑی تھی. عجیب کھردرے بدصورت ہاتھ جو چہرے کی رنگت سے میل نہیں کھاتے تھے. بائیں ہاتھ پر زخموں کے نشان تھے جبکہ دائیں ہاتھ پر شہادت کی انگلی سے ہو تا کٹ بازو تک جاتا تھا اور اس پر ادھڑے ہوئے ٹانکوں کے نشان۔ وہ پہلی نظر تو کیا آخری نظر میں بھی بدصورت ہاتھ تھے۔ کیلیساح نے یکدم جھر جھری لی تھی۔
اپنے ہاتھوں پر ٹکی کیلیساح کی نظروں کو دیکھتے وہ ہاتھ نیچے کر گیا۔
"کتنی عجیب بات ہے نامس؟
خطرہ کے باوجود دنیا واسکو کو ہی چوز کرتی ہے ہر بار۔ پھر بھی لیگیسیز واسکو کے مقابل آنے کی کوششوں میں لگے ہیں کمفرٹ ہیلز کا پتا پھینکنے۔۔ کیوں؟"
نجانے سابقہ ایک لمحہ میں ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ اپنا انداز، لہجہ، زاویہ اور بات کا رخ سب اسی پل کے ہزارویں حصے میں بدل گیا۔
"واسکو کے عام ورکر سے اندرونی معاملات میں بولنے لگے؟ حالانکہ اس سوال کا جواب واسکو کا اونر پوچھے تو اسے بھی انکار کر دیا جائے۔"
وہ پیچیدہ ہوئی تھی سامنے والا ہوم ورک کر کے آیا تھا۔ وہ سوالات بنتی جارہی تھی اور وہ اھیٹر تاجار ہاتھا۔ دونوں کا مقصد ایک دوسرے کو پیچیدگیوں میں پھنسا کر بھید اگلوانا تھا۔ دونوں کے ہدف پر اسرار معلوم ہوتے تھے۔
"کافی اچھی قسمت کی لگتی ہیں آپ۔"
ایک ہاتھ پر دوسرے ہاتھ کی انگلیاں تھپتھپاتے نظریں سیدھا کیلیساح کی آنکھوں میں گاڑھ دیں۔ "ہزاروں میں سے صرف آپکا پھینکا پتاہی واسکو کی نظروں میں آیا۔ کافی اچھی قسمت کی علامت ہے۔ نہیں۔"
نجانے یہ اسکا انداز تھا لیکن وہ بات کو دو سوالیہ رخ دیتا تھا کہ سامنے والا ایک جواب پر متفق نہ ہوپائے۔
کیلیساح نے اک نظر سکرین کو دیکھا لوڈنگ پروسیس ابھی جاری تھا۔ وہ واسکو کے سوا کوئی دوسری بات نہیں کر رہا تھا جیسے یقین دہانی مسلط کروانا چاہتا ہو کہ وہ واسکو اور کر رہا ہے جبکہ وہ اب تک واسکو کا ورکر ثابت ہوا نہیں تھا۔ اسے کسی بھی طرح کی انفارمیشن دینا صرف اور صرف کیلیساح کی بربادی تھا۔
"واسکو میں کام کرتے کتنا عرصہ ہو چکا ہے؟"
"دس سال۔۔۔"
"اسکے باوجود تمہارے علم میں یہ بات نہیں کہ تمہارے باس یعنی واسکو انڈسٹری کے اونر نے مجھے ہائی الرٹ ہیلز کی ماڈلنگ آفر کی تھی جو میں نے ٹھکرا دی۔"
آرٹ کے ذریعے نا سہی وہ اسے باتوں کے جال میں پھانس لیتی بس ایک غلطی۔
"اس لیے تو خبر دار کرنے بھیجا ہے مجھے کہ اس بار آپ سمجھداری کا ثبوت دیں۔ کیلیفورنیا میں ابھرتا ٹیلنٹ انکی نظروں سے مخفی نہیں رہ سکتا۔" چند لمحے وہ دیکھتا رہا اور پھر ٹیک چھوڑتے آگے کو جھکا؛
"کیا آپ نہیں جانتی ریجیکشن از آپوائنزن؟"
انداز گہر اور راز دارانہ تھا۔ زچ کرتا تھا۔ اور کیا انداز تھا مقابل زچ ہو بھی گئی تھی.
"حیرت نہیں اب یقین ہو رہا ہے کہ واقعی واسکو اس قدر انسیکیور ہے کہ اس نے اپنے مقابل کھڑی ایک عورت کو ہراساں کرنے کے لیے کرائے کا جاسوس بھیج دیا۔"
آخر کب تک۔ کب تک وہ چونکے گا نہیں۔ کب تک وہ لاجواب ٹھہرے گا۔
"آہ ہاں ہر اساں کرنے نہیں۔ سان فرانسسکو کے ایک ابھرتے ٹیلنٹ نے ڈھنکے کی چوٹ پر انکار کیا تھا انہیں اور ٹھکرایا جانا واسکو کے لیے قابل قبول نہیں۔ آپ متاثر کر رہی ہیں انہیں"
وہ اس سارے وقت میں پہلی بار مسکرایا تھا۔ بہت مدھم۔ جیسے سامنے بیٹھی عورت سے بحث کرنے میں کمال کا مزہ آرہا ہو۔۔
کیلیساح کلس کر رہ گئی۔ جھنجھلاہٹ نے اسکے چہرے سے تمیز کے سارے رنگوں کو چھین لیا تھا۔
"واسکو کی اتنی اہم معلومات ایک عام ورکر کے پاس کیسے؟ کیا مطلب تم واسکو میں صفائی نہیں کرتے؟"
کیلیساح کا کلستاہوا دو ٹوک انداز اتنا نیچرل تھا کہ وہ ایک برانڈ کی سرد تاثرات والی باس کہیں سے نہیں لگی تھی۔ وہ تپ گئی تھی۔ مقابل بیٹھا انسان اسے تپا رہا تھا۔
"دنیا نے سانپ بچھو کو ویسے ہی بدنام کر رکھا ہے حالانکہ زہر تو عورتیں بھی اگلتی ہیں۔"
وہ اسے مزید سلگانے کو ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنساتے ٹھوڑی تلے جما گیا۔ انداز پچھلی بات کا حساب برابر کرتا ہوتا تھا۔ پہلے ہیلز ماڈل اور اب ڈیپ کلینر (مطلب جھاڑو پونچہ والا)۔ ایسے کیسے؟ مزید سلگانا تو بنتا تھا۔ اور یہاں ہوا تھا واسکو کی آفیشل ویب سائٹ پر سکیننگ پروسیس مکمل۔
سامنے ریڈلا نئنز شو کرتی سکرین وائبریٹ ہوئی اور اگلے پل واسکو کے ورکر کا دکھایا وہ ورکر کا چھل غلط ثابت ہوتا چلا گیا۔
کیلیساح کے چہرے پر خوف پھر سے ابھر ا۔ سانس لینے کے لیے اسے جگہ کم پڑتی دکھائی دی تھی۔ نامحسوس انداز میں اسنے گردن کو رب کرتے گہر اسانس چھوڑا اس انداز میں کہ مقابل بیٹھا انسان اسے بیزار یت سمجھتا۔
"کون ہو تم؟ ایک عام ورکر کے پاس اتنی اہم معلومات نہیں ہو سکتیں۔۔۔"
لیپ ٹاپ کی سکرین اسکی جانب گھماتے جب وہ بولی تو لہجہ ٹھنڈا اٹھار اور پر سکون تھا۔ دشمن پر خوف واضح کرنا مطلب شکست تسلیم کرنا۔
چند لمحے وہ ہاتھ ٹھوڑی تلے جمائے سکرین تکتا رہا جہاں اسکے کارڈ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ ماتھے پر شکنیں پڑتی گئیں ۔۔ جیسے یقین نا ہوا ہو ایک رول کے تحت رکھے کارڈ پر یہ نفسیاتی عورت فارنزک تفتیش شروع کر دے گی۔ پھر نجانے اسے کیا ہوا کہ ماتھے سے شکنیں غائب ہوتی چلی گئی۔ پیچھے کرسی سے ٹھیک لگاتے وہ اپنا سمارٹ فون نکال گیا۔ انداز از ازلی لاپرواہ۔
"چہ چہ۔۔۔ یہ اے براؤزی آرٹیکل آپکا ہی ہے نا جسکو جلانے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل جا رہی ہے؟"
چند پل سکرولنگ کے بعد وہ یوں اس سے مخاطب تھا جیسے سالوں کی جان پہچان ہو اور اسے دلی صدمہ ہو ۔
"آس پاس تھوڑی احتیاط برتیے مس۔۔ حسن نزاکت جان خطرے میں ڈال دیتا ہے اور حسن ذہانت ساکھ۔۔۔"
"میں پوچھ رہی ہوں ہو و آر یو؟"
خود پر بڑی مشکل سے قابو پاتے کیلیساح نے کڑواہٹ کو اندر تک اتارا تھا۔
"ہاں میں بتانا بھول گیا۔ میں وہ ہوں جو چاہوں تو دن میں واسکو فلاپ ہو! چاہوں تو رات میں صرف واسکو ہی چمکے۔"
کیا اداءئے بے نیازی تھی۔ کیلیساح کے تن بدن میں آگ لگاتی چلی گئی۔
"شکل سے تو تم مہاویر واسکو نہیں لگتے؟" عجیب ڈھھیٹ انسان واقع ہوا تھا۔ پکڑا گیا تھا پھر بھی ماننے سے انکاری تھا۔
"شکل سے تو آپ بھی ہپناٹسٹ نہیں لگتی؟"
"اپنا نام اور اصلیت بتاؤ؟ تمہارا آئیڈی کوڈ غلط ثابت ہو چکا ہے۔ اگلے دو سیکنڈ میں منہ نہیں کھولا تو واسکو کا نام استعمال کرنے کے جرم میں میرے پاس تمہیں قانون کے ہاتھوں سزا دلوانے کا ٹھوس ثبوت موجود ہے۔"
وہ ساری تمیز کو بالائے طاق رکھے ازلی ٹون میں واپس آچکی تھی۔ یہ بندہ اسکی برداشت آزمائے ہی جارہا تھا۔
"آرٹسٹ ہوں میں، واسکو کا آرٹسٹ!"
بتانے کے بعد چند لمحوں تک خاموشی چھائی رہی جیسے بتا کر کیلیساح پر احسان کیا ہو۔ البتہ نظریں فون سے اٹھانے کی زحمت نہیں کی گئی تھی جیسے جھوٹ پکڑے جانے پر اب وہ آگے اطلاع کر رہا ہو۔۔
"سوری۔۔۔ کیا میں نے کچھ غلط سنا؟"
کیلیساح کرسی کی پشت چھوڑے آگے کی طرف جھکی۔ مقابل نے چونک کر سر اٹھایا۔ کیلیساح کی نظروں میں بے یقینی نہیں صاف صاف تمسخر اڑاتی حقارت تھی۔ اب کی بار مقابل کو اپنا مذاق اڑاتا انداز ایک آنکھ نہیں بھایا۔
"تھوڑی دیر پہلے جن ڈیزائن کی شان میں آپ مجھے قصیدے سنا رہے ہیں انکا پہلا سکپچ میرے کینوس پر بنتا ہے اور میرے ہاتھوں پہلا ڈیزائن۔ ہڈیاں تڑوانے والے ڈیزائن یونو؟ (نظریں کیلیساح کی آنکھوں میں گاڑھ کر اسے جتایا گیا تھا) جنکے مقابل۔۔۔ نہیں بلکہ میرے مقابل آنے کی آپ ناکام کوشش کر رہی ہیں۔"
"تم اور واسکو کے ہیلز ڈیزائنر۔۔۔؟"
کیلیساح کے پوچھنے پر ایک بار پھر ڈھیٹوں کی طرح آگے سے سر ہلا گیا ۔ کیلیساح کا بس نہیں چلا وہ اسکے حلق میں ہاتھ ڈال کر ایک ہی بار میں سب اگلوائے۔
"ملاحظہ فرمائیے ذرایہ آپکی شکل، کارڈ، شناخت یا پھر کو نسے ڈاکو منٹس میں لکھا ہے؟"
"پہلے آپ جملہ درست کیجیے مس! صرف ہیلز نہیں ہائی الرٹ ہیلز کا ڈایزائنر۔"
عجیب انسان تھا ورکر سے آگے ڈیزائنر تک بڑھ چکا تھا۔ کوئی بعید نہیں تھا تھوڑی دیر بعد پوری واسکو انڈسٹری ہی اپنا نام کر واليتا۔۔ آنکھیں بند کرتے کیلیساح نے صبر کے کڑوے گھونٹ ایک بار پھر اندر اتارے۔
"اگر تمہیں اپنے سامنے بیٹھی خاتون کے ماتھے پر بیوقوف لکھا نظر آرہا ہے تو پلیز ایک بار آنکھیں صاف کر کے دیکھو۔"
دیکھ لیا اب؟ لڑکے کے انداز میں شوخی سی ابھری تھی۔
"اب کان کھول کر سنو، اگر تم واسکو کے اندر ایک دفعہ بھی قدم رکھ چکے ہوتے تو تمہاری پیدائش ہونے سے لے کر مرنے تک کی ساری معلومات اس وقت اس سکرین پر دکھائی جارہی ہوتیں۔ مختصر یہ کہ تم واسکو کا حصہ نہیں ہو اور جس بھی مقصد کے تحت بھیجے گئے ہو؟ وہ اب قانون کی حراست میں پورا کرنا۔"
لیپ ٹاپ کی سکرین بند کرتے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایک ہاتھ سے کان پر لگے آلے کو دبایا۔
"زاشا! سیکورٹی کو اندر بھیجو فوراً۔۔"
"کیا۔ کیا مطلب سیکورٹی؟ میں کوئی آوارہ یانکیز ہوں جو پرسنل سپیس میں گھس کر اٹیک کرتا پھرے؟"
وہ اچھل کر کرسی چھوڑتا واپس اپنے پہلے تاثر سنجیدگی میں ڈھلا۔ حالات کو اب تک وہ ایک انجانی ملاقات کا خوشگوار حصہ سمجھ رہا تھا لیکن سامنے کھڑی باس کچھ زیادہ ہی شکی خاتون ثابت ہوئی تھی۔
"میں واسکو کا آفیشل آرٹسٹ ہوں مس! بنامیری مرضی کے مجھے کوئی نہیں ڈھونڈ سکتا سکلین دوسرے درجے کی بات ہے اور جس ویب سائٹ پر آپ مجھے سکین کر رہی تھیں وہ میرے اندر ہے۔ سیکورٹی اشوز ہوتے ہیں لیکن طرح آپ نے اپنے ذہن میں واسکو کے لیے خور پال رکھا ہے مہاویر واسکو خود بھی آکر آپکے سامنے بیٹھ جائے تو آپ کہیں گی جاوتم تو شکل سے واسکو کے چوکی دار لگتے ہو۔"
وہ پھر ہی تو گیا تھا۔
اتنے میں سیکورٹی اہلکار دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے۔ پیچھے زاشا بھی بھاگتی آئی۔
"سب ٹھیک ہے کیلیساح؟"
اہلکاروں کو زاشاداروازے پر ہی رکنے کا اشارہ دے گئی۔
"تمہیں یاد ہے زاشا! پچھلی بار بھی ایسے ہی واسکو ورکر ٹریپ کے تحت ہم پر حملہ کیا گیا تھا صرف اس لیے کہ مہاویر واسکو نے کیلیساح برانڈ کو ہی ماڈلنگ آفر یوں کی؟"
زاشا نے اثبات میں سر ہلایا۔
"یہ اسی یانکیز کلاں کا فرد ہے۔ اسکی کوئی ڈِیٹیلز نہیں واسکو آفیشل پر۔ اور خود کو واسکو کا آرٹسٹ کہتے ہر غیر ضروری بات کو کور کر رہا ہے بلڈی یانکیز۔۔"
"ریلیكس کوئی غلط فہمی ہو سکتی ہے کیلیساح اسنے مجھے مہاویر واسکو کا اپروول دکھایا تو تھا؟"
"آرٹیفیشل انٹیلیجنس۔۔!"
اس ٹیکنالوجی کا سب سے زیادہ فائدہ تو ہوا ہی ان کرمنلز کو ہے۔ بنا لیا ہوگا جھوٹا اپروول بھی جس طرح یہ واسکو کا سکیم کارڈ بنا کر لایا ہے۔"
وہ کارڈ میز سے اٹھا کر اسکے قدموں میں پھینک گیا۔ مقابل کے سر پہ لگی تلگو پہ بجھی۔
"دماغ خراب ہوگیا ہے آپکی اس باس کا۔ میرے باس نے مجھے کیلیساح لیگیسی کی اونر کوٹ کے ایونٹ پر پرسنلی انوائٹ کرنے بھیجا ہے کچھ سکیچ بھی مانگے ہیں کیونکہ وہ ایونٹس کو آفیشلی اناؤنس کرنے والے ہیں اور یہ ہیں کہ مجھے یانکیز یانکیز بلائے جارہی ہیں۔ اگر میں واقعی وہ ہوتا تو اب تک انکی ہڈیاں بورے میں ڈال کر لے جا چکا ہوتا۔ کانوں کان خبر بھی نا لگتی کسی کو"
(وہ زاشا پر چڑھ دوڑا تھا)
"ویسے مجھے کچھ نفسیاتی مسئلہ لگ رہا ہے انکے ساتھ۔ زیرِ علاج تو نہیں ناں؟"
تھوڑا سا نیچے ہوتے وہ زاشا کے کان کی طرف جھکا ہی تھا کہ وہ چار قدم پیچھے لپک گئی۔۔ ہونٹوں پر مٹھی جماتے جس انداز میں اسنے ہنسی روکنے کی کوشش کی، تباہ کن تھا۔ وہ اسے واقعی یانکیز سمجھ بیٹھی تھیں۔
"زبان سنبھال کر اور پی۔۔ پیچھے رہ کر بات کریں آپ؟ ہیں کون آپ کیلیساح میم کی پرسنلز میں دخل دینے والے اور یہ جینزیز والا لباس، کالج بیگ، پاؤں میں جاگرز، بال ماتھے پر، عمر کوئی تنیس چوبیس برس، کیا لگتا ہے آپکو واسکو اپنے ورکنگ آورز میں ایسے ڈریس اپ کرتے ہیں؟ آرٹسٹ تو چھوڑئے آپ تو ورکر بھی نہیں لگتے وہاں کے۔۔"
زاشاپیشہ ورانہ انداز میں بولتے ساتھ سیکورٹی کو اسکا بیگ چیک کرنے کا اشارہ کر گئی۔ آج پہلی بار زاشا کو کوئی بے وقوف بنایا تھا۔ ایسے کیسے جانے دیتی۔
"نام بتاؤ اپنا؟ ہماری ریسپشنسٹ کو بھی آپ چکما دے کر آئے ہیں۔ نام کیا ہے آپکا؟"
وہ ہو تک بنا کبھی زاشا کے منہ کی طرف تو دیکھتا تو کبھی کیلیساح کی طرف۔ انداز یوں تھا جیسے یہ میل لیڈ واقعی کیلیساح برانڈ چلا رہی ہیں؟
"ایک بات بتائیں۔ کیا آپ اور یہ شکی باس آپکی۔ آپ دونوں اپنے کسٹمر کے ساتھ بھی ایسا ہی برتاؤ کرتے ہیں؟"
زاشا نے نا سمجھی سے آنکھیں سکیڑیں۔ "نہیں آپ لوگوں کے سیکیورٹی اشوز دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ جب کوئی جوتے خریدنے آتا ہوگا تو آپ دوسرے فلور سے سیدھا نیچے پھینک دیتی ہونگی۔"
"یہی سے لے جاؤڈئیر بایر ز اوپر آنے کی ضرورت نہیں ہمیں آپ سے خطرہ ہے"
(لمبی زبان تو خیر اوپر سے ہاتھوں کو اٹھا کر طنز مار تا وہ زاشا کے تن بدن میں بھی آگ لگا گیا)۔
"کافی بدتمیز انسان ہیں آپ!"
زاشا سیکورٹی اہلکار سے باڈی سکینر لیتے اس کے جسم کے گرد گھما گئی۔
"نام اور سوشل اکاؤنٹ؟ آخری بار ہے ورنہ قانون سے آپکو کوئی نہیں بچا سکے گا۔ آپ کرمنل نہیں ہیں تو ابھی پروو کرے۔۔"
وہ اسے نرم اور سیدھے لہجے میں آخری وارننگ دے گئی تھی، ایک تو کمبخت کوئی بات آگے پیچھے دیکھ کر نہیں کرتا تھا سیدھا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتا تھا زاشا بلاوجہ ہی جھجھکنے لگی۔
"قانون کی بات آپ ناہی کرے تو اچھا ہے ورنہ آپکی باس کافی غیر قانونی حرکت میں پھنس سکتی ہیں۔۔۔"
وہ کن اکھیوں سے کیلیساح کی جانب دیکھتے ہوئے بولتا تھا۔ شکار شکاری کے بچھائے گئے جال سے انجان بالکل نہیں تھا۔
"کیا مجھے ایک بار پھر دہرانا پڑے گا یا آپ حراست میں بتانا پسند کریں گے؟"
کیلیساح کی بس ہو چکی تھی۔ اسنے سیکورٹی کو آگے آنے کا اشارہ کیا لیکن جس انداز میں اسنے پلٹ کر دیکھا تھا وہ باوردی اہلکار اپنی جگہ جم گئے۔ یانکیز سے تو سان فرانسکو کے بڑے بڑے سور ماخوف کھا جاتے۔ پچھلی بار والے اہلکار کی حالت بھولے نہیں تھے۔
"مجھے شناخت بتانے کی اجازت نہیں ہے کام سے کام رکھے آپ اور مجھے مطلوبہ آئٹمز دیں۔ میرے پاس آپ لوگوں کی فضولیات سننے سے بھی زیادہ ضروری کام پڑے ہیں۔"
وہ پھر سے بد اخلاق بنا تھا۔ شاید یہی اسکی شخصیت کا خاصہ تھا۔
"دیکھیے مسٹر! آپ نا اپنا نام بتا رہے ہیں نہ پہچان۔ واسکو پر بھی آپ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ہم پر پہلے بھی حملہ واسکو کے ورکر کے تحت کروایا گیا تھا. مشکوک صورتحال کے بعد ہم آپ پر تب تک بھروسہ نہیں کر سکتے جب تک"
آپ اپنا واسکو آفیشل کارڈ نہیں دکھادیتے۔ باقی آپ واسکو میں جس بھی عہدے پر ہوں ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہمیں صرف آپکی شناخت کا ٹھوس ثبوت چا۔۔ی۔"
"ڈسکاسٹننگگ۔۔۔۔" زاشا کی بات بیچ میں ٹوکتے وہ فون واپس نکال گیا۔
"سیکورٹی کو باہر بھیجو۔"
"جو بات ہوگی سیکورٹی کے سامنے ہوگی۔" خاموشی سے اسکے تاثرات کا جائزہ لیتی کیلیساح بولی تھی۔
"پلیز لیساح۔ بات بڑھ جائے گی ویسے ہی۔ اگر واقعی یہ مہاویر واسکو کا بھیجا ہواتو؟ اور رات میں واسکو کا ایونٹ بھی تو ہے۔ اگر یہ بہروپیہ نکلا تو ہم اس بار سکینڈل واسکو کے سر ڈال دے گے پھر دیکھتے ہیں یانکیز کیسے ہاتھ نہیں آتے۔۔"
انکی سرگوشیاں مقابل تک پہنچنے میں ناکام تھیں ۔ ایسا زاشا کو لگ رہا تھا کیا پتہ مقابل تیز حسیات کا مالک ہو؟ کیلیساح کے اشارے پر پروہی باوردی اہلکار الٹے قدم واپس پلٹ گئے۔
"واسکو کی سیکورٹی کے تحت میرے لیے رولز ہیں کچھ۔ میری شناخت سوشل نہیں ہے۔ اتنی ویسے امید رکھ سکتا ہوں کہ میری پہچان راز رہے گی؟؟"
زاشانے سر ہلا دیا تھا، کیلیساح نے وہ بھی ضروری نہیں سمجھا تھا۔
سکرین پر چند سیکنڈ سکرولنگ کے بعد وہ فون زاشا کو پکڑا گیا تھا۔ سامنے لوڈنگ کے سرخ نشان تھے۔ اسکا ڈالا کوڈ سکین ہو رہا تھا۔ چند سیکنڈ مزید اور سکیننگ مکمل ہوتے سب کچھ گرین ہو تا چلا گیا تھا۔
واسکو کے آفیشل پر ایک تصویر ابھری تھی۔ اس پر موجود پروفیشن اور ساتھ لکھا نام ان دونوں کے پاؤں تلے سے زمین نکالتا چلا گیا تھا۔
"واااٹ۔۔۔؟؟؟"
سامنے موجود انفارمیشن پر زاشا کو صدمہ لگا۔ مارے حیرت کے وہ منہ کھولے کبھی سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھتی تو کبھی سکرین پر، جیسے یقین نا ہو رہا ہو۔۔ زاشا سے فون لیتے کیلیساح کی سکرین پر پڑی نظریں بھی متغیر رہ گئی تھیں۔ جیسے وہ پلک جھپکتی تو طلسم ٹوٹ جاتا۔ کیلیساح کے شدید حیرت انگیز تاثر پر سامنے کھڑا لڑکا منہ میں گول گھماتی زبان روک گیا تھا۔
کیا وہ اسے جانتی تھی؟ ناجانے کیوں اسکا دل چاہا وہ انکارنا کرے۔۔
"تم۔۔ مم۔۔ تم۔۔ کار۔۔"
زاشا کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ وہ بول پڑا۔
"غور سے دیکھ لیں چہرہ صحیح نظر آرہا ہے یا آپکے مطابق کرمنل یا نکیز جیسا ہے؟" باری باری دونوں کے حیرت میں ڈوبے چہرے دیکھتے وہ افسوس سے سر ہلا کر رہ گیا۔
"تم، تم کار سکل ہو؟ تم سچ میں کار سکل ہو؟"
زاشا کا بڑا منہ کھلتے دیکھ کے مقابل کے دونوں ابرو ایک ساتھ اوپر کو اٹھے۔
"تم۔۔ ہائی الرٹ، ہیلز کے ایوارڈ یافتہ؟ دنیا کا ہر مہنگا برانڈ جسے ڈھونڈنے کے لیے ڈھونڈ رہا ہے؟ واسکو نے جس کی پہچان کو راز بنا دیا تم۔۔ وہ کار سکل ہو؟"
زاشا کا سکتہ اب تک نہیں ٹوٹا تھا۔ حیرت اور خوشی کی ملی کیفیت میں وہ کبھی اس کا چہرہ دیکھتی تو کبھی سکرین پر اس کی تصویر۔
"واسکو انڈسٹری کا آفیشل آرٹسٹ ہوں اتنا ہضم کر لو کافی ہے۔" وہ فون زاشا کے ہاتھ سے کھینچ گیا۔ "آپکی باس سے اب اکثر ملاقات ہوتی رہا کرے گی انہیں کہیے گالوگوں کو انکی صورت سے جج نہیں کرتے۔۔"
نجانے اسکے لہجے میں ایسا کیا تھا کہ برف ہو چکی کیلیساح کی منجمد آنکھیں اس پر اٹھی تھیں۔ پہلی بار ان آنکھوں میں حقارت نہیں تھی۔ اس نے یہ نام سن رکھا تھا بہت بار۔۔ کئی بار۔
پچھلے سال ہیلز لانچنگ کے دوران جب لوگوں نے واسکو کے آرٹسٹ سے ملنا چاہا۔ واسکو دیکھنا چاہا۔ تب مہاویر واسکو نے کہا تھا وہ پچاس برس کا ایک دراز آدمی ہے میں اسکو دنیا کے سامنے لا کر اسکی حقیقی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ تب اس نے سوچا تھا کہ وہ ایک بار واسکو کے آرٹسٹ سے ضرور ملے گی تاکہ پوچھ سکے وہ اتنے خطرناک ڈیزائن کیوں بناتا ہے؟ ہر بار اس کی کی گئی غلطی فیشن کا درجہ کیسے پائی جاتی ہے؟ آخر کیوں وہ دنیا کو خطرے میں ڈال چکا ہے؟
وہ اسے ایک بڑی عمر کا ماہر آرٹسٹ سمجھتی آئی تھی بلکہ صرف وہ ہی نہیں آدھی دنیا سے پچاس برس کا تجربہ کار اور ماہر آرٹسٹ سمجھتی تھی۔ اگر یہ مہاویر واسکو کا کھیلا داؤ تھا تو دونوں سے اسے داد دینا بنتی تھی۔
"اومائے گاڈ۔۔۔ اومائے گاڈ لیساح، یہ وہ کار سکل ہے جس سے تم ملنا چاہتی تھی۔۔ وہ کار سکل جس کا بنایا گیا ایک ڈیزائن واسکو کی پہچان ہے۔ یہ وہ ہے لیساح۔ یہ تو پچاس سال کا بوڑھا نہیں یہ تو پچیس سال کا بھی نہیں لگ رہا؟ پھر وہ مہاویر واسکو کا بیان۔۔ وہ کیا تھا؟"
زاشا کو خود سمجھ نہیں آرہا تھا کیا بولنا چاہتی تھی اور کیا بول رہی تھی۔ کیلیساح بغیر ایک لفظ کہے بالکل ساکت کھڑی تھی۔ سوالات اپنا دم توڑ گئے تھے۔ وہ پہلے ہی اتنا بول چکی تھی کہ اب کچھ بھی بولنا فضول ہو گیا تھا۔
"میرے بارے میں آپکے یہ سوالات یہیں تک محدود رہیں تو بہتر ہے سان فرانسسکو کی ہواؤں میں پھیلے تو سانسیں بھاری پڑ جائیں گی آپکو۔۔"
کیلیساح پر ایک نظر ٹھہرائے وہ زاشا کو خبر دار کر گیا تھا۔ اس لہجے، اس انداز میں اسنے بات ابھی تک کیلیساح سے نہیں کی تھی۔ اسے بس وہ زچ کرتا آیا تھا۔ لیکن اب کی بار اسکے لہجے میں تنفر صاف دیکھا جاسکتا تھا۔
ناچاہتے ہوئے بھی اسکی نظر کیلیساح پر آٹھہری۔ "آپ کے ڈیزائن دیکھنے آیا تھا مس ہپناٹسٹ، لیکن فلحال زبان دیکھ کر جارہا ہوں توڑ ڈیزائن میل کر دیجیے گا، ایونٹ سے پہلے۔۔"
کیلیساح پر ایک آخری نظر ڈالے وہ پیچھے صوفے پر پڑا اپنا بیگ اٹھائے کندھے پر ڈال گیا۔
"کار سکل پلیز بیٹھواس طرح بالکل بھی اچھا نہیں رہا۔ ہم اکثر تمہارے ڈیزائنز کی تعریف کرتے ہیں۔" زاشا کو ڈھیروں شرمندگی نے آگھیرا تو وہ کرسی پیچھے کھینچتے اسے بیٹھنے کا اشارہ کر گئی۔
"آدھی دنیا کرتی ہے وہ۔ کچھ نیا بتاؤ!"
انداز مغرور نہیں بس بیزار تھا جیسے وہ ان نواز شوں کا عادی نا ہو۔
"ہمیں یقین نہیں ہورہا۔۔۔ نہیں میرا مطلب ہمیں یقین ہے بس ایک غلطی فہمی ہو گئی تھی ہم۔۔ معافی چاہتے ہیں" زاشا ہو چکی واردات کا اثر زائل کرنے کو ہاتھ اسکی جانب بڑھا گئی (آخر چھپا ہوا انٹر نیشنل کرش تھاوہ)
"کافی شکلی مزاج خاتون، باس ہیں آپکی۔ ایک اچھا بھلا عزت دار آدمی ان کے سیکیورٹی اشوز کی وجہ سے ابھی سلاخوں کے پیچھے کھڑا ہوتا۔۔"
زاشا کا بڑھا ہاتھ نظر انداز کرتے وہ کیلیساح پر آخری طنزیہ نظر ڈالتے الٹے قدم پلٹ گیا۔
"اور ہاں۔۔" باہر جاتے جاتے وہ واپس پلٹا۔ "اگر میرے آفیشل آرٹسٹ ہونے کی خبر راتوں رات باہر آئی؟ آپ لوگ مجھے تو نہیں لیکن پوری کیلیساح برانچ کو واسکو ورکر برین ٹریپ کرنے کی کوشش میں سلاخوں کے پیچھے کھڑا کر دوں گا۔ وہاں سے کریے گا پھر آرٹیکل لانچ، ایکسٹر اسکیورٹی میں۔"
ایک آخری بار ان دونوں کو خبر دار کرتے وہ تیز قدموں سے دروازہ واہ کیے نکلتا چلا گیا تھا۔ زاشا کامارے حیرت کے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا جب کیلیساح کاذہن ابھی تک ایک ہی بات پر اٹکا تھا:
کار سکل،
واسکو کا آفیشل آرٹسٹ۔۔!
☆ ☆ ☆
ماڈل فلور:
وہ لفٹ سے نکل کر اندر کی جانب بڑھ گیا۔ چہرے کے تاثرات ضرورت سے زیادہ سرد تھے اور اوپر سے آئے دن ماڈلز۔۔ اسے فلور میں داخل ہوتے دیکھ کمرے کے سامنے کھڑا ہجوم پیچھے ہٹتا چلا گیا۔ مجمعے میں سے کسی نے اسے کے آنے کی خبر آگے پہنچائی کہ پورے فلور میں یک دم خاموشی چھا گئی ۔ دیواروں نے دم سادھ لیا۔ چیخنے چلانے کی آوازیں بھی تھم گئی تھیں۔
مجمعے نے پیچھے ہٹتے اسے بیچ سے گزرنے کا راستہ دیا۔ ہجوم میں سے گزرتے اتنے دروازے کے پاس رکھی کرسی اٹھائی اور الٹا گھما کر اس پر بیٹھ گیا۔ ٹھوڑی کو کرسی کی پشت پر ٹکائے سیکیورٹی کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا جو دو طوفانوں کو جکڑے کھڑے تھے۔ سیکیورٹی کے چھوڑتے ہی دونوں ماڈلز ایک بار پھر ایک دوسرے پر جھپٹ پڑیں۔ ایک کا گال پھٹ چکا تھا۔ خون کی بوندیں قوس قزح کی مانند اسکے شفاف چہرے پر ابھر آئیں جبکہ دوسری کے ٹوٹے ریشمی بال زمین پر بارش کے قطروں کی مانند وقفے وقفے سے گر رہے تھے ساتھ انگریزی گالیاں اور غلاظت بکتی چینیں الگ۔۔
دس منٹ تک وہ ٹھوڑی کرسی کی پشت پر جمائے سامنے چلتی فلم کا نظارہ فرصت سے دیکھتا رہا۔ کرسی کی پشت کو بازوں کے حصار میں لیے ایک ہاتھ کبھی گٹار کی مانند بجنے لگتا تو کبھی تھم جاتا۔ اہلکار حیرت زدہ آنکھوں سے اسے یوں دیکھ رہے تھے جیسے کوئی عجوبہ ہو اور اسکے سامنے چلتا تماشہ کسی سرکس کا منظر۔۔
سامنے کا منظر حد سے تجاوز کرتے گریبانوں تک پہنچا تو اسنے ایک نظر اپنے پیچھے کھڑے ہجوم پر ڈالی اور اونچی آواز میں بولا۔ "سب ریلز بنا بنا کر اپنے سوشل پر اپلوڈ کرو ساتھ ان دونوں کے اکاؤنٹس مینشن کر دینا۔۔"
"اور کیپشن میں کیا لکھیں کار سکل؟" ہجوم سے آواز آئی۔
"جس کو بھی جسمانی مساج کی ضرورت ہے واسکو کی ماڈلز سے رابطہ کرے۔۔"
اگلے ہی پل جم غفیر کا چھپت پھاڑ قہقہہ بلند ہوا تھا۔ البتہ وہ خود سیر لیس بیٹھا تھا اپنے بد اخلاق تاثرات سمیت۔ ریلز بھی بنانا شروع بھی نہ ہوئیں تھیں کہ سامنے چلتی فلم بغیر کلایمکس کے ختم ہوتی چلی گئی۔ جو کام ہتھیار اٹھائے اہلکار نا کر سکے وہ کام جینزیز کا خطرناک ہتھیار سوشل میڈیا کر چکا تھا۔
"ہیرس شیشہ لاؤ۔۔"
لان میں ماڈلز کا ہیئر سٹائل بناتے ورکر کو اس نے آواز دی ۔ ہیرس تیار ہوتی ماڈل کے سامنے رکھا شیشہ اٹھالايا اور لا کر کار سکل کے سامنے رکھ دیا.
"اپنے چہرے اور حالت دیکھ کر بتاؤ اگلے گھنٹے میں تم دونوں واسکو ایونٹ کے پاس سے بھی گزرنے کے قابل ہو؟"
کار سکل کے کہنے کی دیر تھی کہ ایک کم عمر ماڈل جس کا گال پٹھا ہوا تھا روا دی.
"کار سکل تم جانتے ہو نامیں پچھلے تین سالوں سے ریجیکٹ ہونے کے باوجود لگاتار محنت کرتی رہی صرف آج کے دن کے لیے۔ تم جانتے ہو واسکو کے لیے میں نے کتنا کچھ قربان کیا ہے لیکن جب آج واسکو نے مجھے قبول کر لیا تو دیکھو۔۔"
وہ اپنے پاؤں اسکے آگے کر گئی جہاں اب بڑے بڑے سفید چھالے بن چکے تھے۔ ساتھ ہی ہونٹوں کو تکلیف سے بچتے وہ آنکھوں سے گرتے آنسو بازو سے پونچھ گئی۔
"ایک نمبر کی شاطر عورت ہے یہ کار سکل۔ میرے مساج پروڈکٹ میں کیمیکل ملایا تھا اور وہی میں نے اس کے پاؤں پر لگا دیا۔ جب سے اسنے مجھے دس انچ کی ہیل پر بغیر ڈگمگائے چلتے دیکھا ہے اس دن سے اسکو اپنا خطرہ خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ مجھے سیلیکٹڈ ماڈل کی لسٹ سے نکالنا چاہتی تھی۔ اب یہ آنسو بہا کر تمہاری ہمدردی لینے کی کوشش کر رہی ہے۔"
دوسری ماڈل بھی بھری پڑی تھی پوچھے بغیر ہی اپنی صفائی دینے لگی۔
"کار سکل میں تو کل سارا دن پریکٹس کلاسز میں تھی تمہارے ساتھ۔ تم جانتے ہو میں ایسا نہیں کر سکتی میں تین سالوں کی محنت کو خطرے میں کیوں ڈالوں گی؟ اسنے ایک جھوٹی ویڈیو کے بدلے میرا خواب چھین لیا ہے کار سکل۔"
آنکھوں سے آنسو پانچ سال کے بچے کی طرح بہتے ہی جارہے تھے۔
"کونسی ویڈیو؟ یہاں لاؤ۔۔"
کب سے خاموش کھڑا صورت حال کا اندازہ لگاتا ہیرس دوسری ماڈل سے مخاطب ہوا جو اپنے ٹوٹے بال سمیٹ رہی تھی۔
"مجھے گرین ایپ (واٹس ایپ) کیا تھا کسی نے۔ ونس ٹائم تھا اور نام میں دکھا دیتی۔"
کار سکل ہنوز اسی انداز میں بیٹھا رہا۔ کرسی پر سر گرائے، مسلسل ایک ٹانگ ہلاتے۔
"کار سکل میری مانو تو دونوں کو باہر کرو۔ آئے دن یہی ڈرامے لگے رہتے ہیں انکے۔ ایک دوسرے کو نوچنے کے بجاے ٹارگٹ پر فوکس کر تیں تو ہڈیاں ٹوٹنے کا نظارہ پوری دنیا کو نا کرواتیں۔ پانچ گھنٹے لگے تھے میرے ان کو تیار کرنے میں۔۔" ہیرس اپنا ہی غم روئے جارہا تھا۔
"ہیرس انجیکشن دو مجھے۔" بالآخر وہ کرسی کو آگے دھکیلے اٹھ کھڑا ہوا۔
"کار سکل وہ تو باس کی مرضی کے بغیر نہیں لگائے جاتے ناں؟"
"دماغ مت کھاؤ میر اہیرس۔ انجیکشن لاؤ۔۔"
اسکے ماتھے پر ضرورت سے زیادہ پڑی سلوٹیں دیکھ کر ہیرس بغل میں بنے کمرے سے انجیکشن لا کر اسے پکڑاتے چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔ مزاج خراب تھے آج انچارج کے۔
کار سکل نے روتی ماڈل جس کا گال پھٹا ہوا تھا اسکو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ساتھ ہی ہاتھ میں پہنے بریسلٹ کا سخت حصہ کانچ کی شیشی پر مارا۔ شیشی کا اوپری حصہ پرزہ پرزہ ہوتے دور جاگرا تھا۔ اسے اوپر کی طرف الٹاتے اب وہ سرنج میں محلول بھرنے لگا۔
اسی کمرے کے کونے میں بیٹھی کانوں، ہونٹ اور آئبرو پر چھوٹی بالیاں ڈالے ہلکے سرخ بالوں والی لاپرواہ لڑکی جو تھوڑی دیر پہلے بہرے ہونے کا تسلی بخش ثبوت فراہم کر چکی تھی اب بے چین نظر آئی، جیسے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہو کسی نے۔ اسکی نظریں پچھلے کئی وقت سے کار سکل پر ٹکی تھیں۔ عجیب سی آنکھیں تھیں جو شدت سے سرخ پڑتی جارہی تھیں۔ ہاتھوں میں لرزش یوں تھی جیسے دل پر شکنجہ ڈال دیا ہو کسی نے۔ اندر کا پورا وجود جل کر بھسم ہو رہا تھا ۔ وہ اسکے سامنے کیسے کسی اور کو اتنا حق اتنی توجہ دے سکتا تھا؟
"یہ ٹھیک نہیں ہے کار سکل۔" برداشت کا پیمانہ لبریز ہوا تو وہ بھاگ کر اس کی جانب لپکی۔
"تم کیوں اسے فیور دے رہو ہو۔۔ پاؤں خراب ہو چکے ہیں تو سیلیکٹڈ ماڈل کی لسٹ سے نکال باہر پھینکو۔۔ تم۔۔ تم۔۔ کیوں اسے چھوڑ رہے ہو۔۔ اسے ہاتھ مت لگاؤ کار سکل۔ تم اسے۔۔ ہ۔۔ ا۔۔۔"
بے ترتیب جملوں کے بیچ وہ بد حواس ہوئی تھی، جنونی پن پھر سے عود آیا تھا۔
"بس تم اسے ہاتھ نہیں لگا سکتے۔" وہ اسکا سرنج والا ہاتھ پکڑ گئی۔
"تم یہ مجھے لگاؤ دیکھو مجھے درد ہو رہا ہے۔ دل میں درد۔ بہت درد ہو رہا ہے کار سکل۔" ساتھ ہی اسکے دونوں ہاتھ نوچتے اسے کرسی پر بیٹھی ماڈل سے دور دھکیلنے لگی۔
"ہاتھ چھوڑو عماؤس۔۔!"
اپنے ہاتھوں پر جمے اسکے ہاتھوں کو دیکھتے پل بھر میں کار سکل کی آنکھوں کا رنگ اور چہرے کا زاویہ بدلا تھا۔ فاصلے پر کھڑا ہیرس چونکا، خطرے کی گھنٹیاں چاروں دشاوں میں گونجنے لگی تھی۔
"کار سکل تم۔۔۔ تم اس کے لیے مجھے۔۔ ہ۔۔"
"میں نے کہا ہاتھ چھوڑووووووو۔۔!"
وہ اتنی شدت سے دھاڑا تھا کہ آس پاس کی ماڈل بوکھلا کر چند قدم پیچھے ہٹیں.
عماؤس کے کپکپاتے ہاتھوں سے کار سکل کا داغدار ہاتھ چھوٹ چکا تھا۔
"پیچھے۔۔۔"
زبان سے زیادہ ترچھی آنکھ کا اشارہ اسے دوبارہ قریب آنے سے خبر دار کر چکا تھا۔
"تم۔۔ مم۔۔ تم ساری دنیا کے لیے نرم پڑجاتے ہو تم میرے ساتھ رحم کا معاملہ کیوں نہیں کرتے کیا تم اس سب کی وجہ بھی مجھے سمجھ رہے ہو؟"
وہ ایک بار پھر اسکی جانب بڑھنے ہی لگی تھی کہ کار سکل کے پلٹ کر دیکھنے پر اسکے قدم اور زبان جہاں تھے وہیں تھم گئے۔ وہ بے اختیار چار قدم پیچھے ہوئی۔۔
"تم اس سب کا ذمہ دار مجھے نہیں ٹھہراسکتے میں اس معاملے سے بے خبر ہوں۔"
سنبھل کر کہتے ساتھ اسنے ایک خون آمیز نظر کار سکل کے پاس کرسی پر بیٹھی ماڈل کو دیکھا جسے کار سکل کی نزدیکی میسر تھی۔ اسکی یہ نظریں انسانی نہیں لگتی تھیں ان میں ایک قہر آباد تھا۔ کار سکل کے نزدیک بیٹھی ماڈل نے خوف سے نظریں پھیر لیں.
"چہروں پر چھائے تاثرات دماغوں میں پلتے گند اور ہاتھوں سے پھیلائی گندگی کا صاف عکس ہوتے ہیں مجھے مجبور متکرو میں تمہارے ساتھ بہت غلط کر بیٹھوں۔۔"
انگلی اوپر اٹھائے وہ عماؤس کی طرف لپکتے اسکے منہ پر غرایا تھا۔ اشارہ صاف اسکے انجام دیے ابلیسی کام کی طرف تھا۔ یہاں کھڑا اوپر فلور جانتا تھا عماؤس کار سکل کے چند لمحوں کے لیے پاگلپن کی کس حد تک پہنچ جاتی تھی۔ ہیرس اسے آج ضرورت سے زیادہ غصے میں دیکھتے ہاتھ آگے کیے عماؤس کو اس سے دور کر گیا۔
کار سکل گھٹنوں کے پل جھکتے زخمی ماڈل کے پاؤں پر باری باری انجیکشن لگاتے اوپر اٹھا۔
"دو گھنٹوں تک تمہارے پاؤں سن رہیں گے چل پاؤ گی لیکن درد محسوس نہیں ہوگا۔ ہائی الرٹ ہیلز کی پہلی واک تمہاری ہوگی اور اسکے فوراً بعد میڈیکل کروالینا۔۔"
وہ نرم لہجے میں اب اسے سمجھارہا تھا۔ اثبات میں سر ہلاتے وہ کم عمر ماڈل چہرہ یوں دیکھ رہی تھی جیسے کسی نے تپتے صحرا میں دو گھونٹ پانی پلا دیا ہو۔
"ہیرس اگلے دس منٹ میں انکوریڈی کرو۔ پروڈکٹس لگا کر سارے زخم کور کرو۔ بیس منٹ بعد مجھے یہ دونوں ماڈل پہلے کی طرح ریڈی چاہئے۔۔"
اسکی تاکید پر اثبات میں سر ہلاتا ہیرس شیشے کو واپس اٹھائے اپنی جگہ لے جانے لگا۔ کار سکل کا نرم رویہ کسی اور کو میسر آتے دیکھ فاصلے پر کھڑی عماؤس کا رنگ خاکستر ہوا تھا جیسے اسکے وجود کو کوئی جلتے کو یلوں پر گھسیٹ گیا ہو۔ ایک دہکتا ہوا انگارہ اسکے پورے وجود میں گردش کرتے پاؤں کے تلوں تلے سے جانکلا۔
"کیوں دے رہے ہو؟ کیوں دے رہے ہو تم اس کو اتنی فیور؟ آخر لگتی کیا تمہاری؟ تمہارے باپ سے پیدا ہوئی ہے یا ماں ں ں سے۔۔ ہ۔۔۔ے ۔۔"
بس ایک لمحہ اور اگلے ہی پل اسکے الفاظ پورے ہونے سے پہلے اسکی گردن کار سکل کے شکنجے میں قید ہوتے لفظوں کے ساتھ ساتھ اسکی سانسیں بھی گھونٹ گئی ۔ باہر کھڑی ماڈلز نے ہاتھ منہ پر جمائے۔ سیکیورٹی اہلکار پہلے ہی جاچکے تھے۔ اس فلور کا سارا کنٹرول کار سکل کے ہاتھوں میں تھا.
عماؤس کا رنگ پل بھر میں گاڑھا پڑا جیسے سر کے بل الٹا لٹکا دیا گیا ہو۔ بد صورت ہاتھوں نے گردن پر دباؤ مزید بڑھایا تھا۔ عماؤس کے پاؤں سہارا چھوڑتے چلے گئے اور اگلے پل ہوا میں جھولتا اسکا وجود سرخ سے جامنی پڑا ایسا کہ تمہیں دیکھ کر خوف آئے۔ آنکھیں باہر کو نکل آئی تھی جیسے ابھی ابل پڑے گی۔۔ ماتھے کے قریب ابھری اسکی جامنی رگیں پھڑنے لگی تھیں۔ غوں غوں کی گھٹتی آوازیں اور ہوا میں جھولتا اسکا نازک وجود درو دیوار پر بے رحمی کی تاریخ رقم کرتے چلے گئے۔ کار سکل کے بازو کی تنی رگیں اس بات کی گواہ تھیں کہ یہ شکنجہ موت کے آخری مرحلے پر پہنچ کر ہی دم توڑے گا۔
عماؤس کی حالت دیکھتے کرسی پر کار سکل کے قریب بیٹھی ماڈل خوف زدہ ہوتے تھر تھر کانپنے لگی۔ جیسے جیسے عماؤس کا رنگ بدلتا جارہا ویسے اسکی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی تھی اور اگلے لمحہ وہ ٹانگوں کو سینے سے لگائے بے ساختہ چیخنے لگی۔ اس پر دہشت کی کیفیت طاری ہوئی تھی۔ پہلی کبھی اس انسان کو اس روپ میں دیکھا جو نہیں تھا۔ سامنے کھڑا انسان اس وقت موت کا بے رحم فرشتہ لگ رہا تھا جس سے رحم مانگا جائے جورحم ناکھائے۔۔
ماڈلز کے چیخنے چلانے پر ہیرس الٹے قدم بھاگتا آیا اور سامنے کا منظر اسکے ہوش اڑانے کے لیے کافی تھا۔
"نو۔ نو۔ نو۔۔ وہ مر جائے گی۔۔ مر جائے گی وہ کار سکل۔۔ لیووہر ررا!"
وہ قریب پہنچتے کار سکل کو کمر سے پکڑتے پیچھے دھکیلنے لگا جبکہ کار سکل کی سرخ انگارہ آنکھیں صرف عماؤس کے چہرے پر جمی تھیں جو گزرتے وقت کے ساتھ موت کی حدود پار کرتا جارہا تھا۔
"یہ مر گئی تو باس زندہ زمین میں گاڑ دے گی تمہیں۔۔ ہوش میں آؤ کار سکل"
ہیرس اسکے بازو پر مارتے ساتھ چلاتا تھا۔ انہونی ہو جانے کا خوف ہیرس کے چہرے پر نمودار ہوتے اسے بھی دونوں ہاتھ منہ پر رکھنے پر مجبور کرتا چلا گیا۔
صرف ایک پل مزید۔۔ وہ مر چکی ہوتی کار سکل ہاتھ سے اسکی گردن آزاد کر گیا۔ زمین پر گرنے سے پہلے ماڈلز نے آگے بڑھتے اسے تھام لیا تھا۔ کرسی پر بیٹھی خوفزدہ ماڈل لپک کر ہیرس کے پیچھے چھپی تھی۔
عماؤس کے مر چکے وجود میں زندگی کے رمق دوڑنے لگی۔ گہرے بباشکل سانس بھرتے موت کیا ہوتی ہے وہ کار سکل پر جمی اسکی آنکھوں میں قید تھی۔ سرد، بے تاثر، بے خوف۔۔ جبکہ کار سکل کی آنکھوں میں اس کو زندہ چھوڑ دینے کا واضح ملال۔۔
"مم۔ میں۔ مم۔ وت۔ د۔ دیکھ۔۔ چکی۔ ی۔ ہوں کا۔۔ کار سکل۔۔ سمجھو مرگئی! لیکن تم۔ تم جس پر رحم کروگے وہ خوف کھائیں مجھ سے۔ خوف کھائیں مجھ سے خوفففف کھائیں۔"
اٹکتی سانسوں کے بیچ وہ اتنی شدت سے دھاڑتے ہوئے ہنس رہی تھی کہ پورا فلور کانپ کر رہ گیا۔
"یہ آدھی پاگل ہے کار سکل تم نے کیا کر دیا؟" ہیرس اسے گردن سے پکڑتے باہر کھینچنے لگا۔
وہ ہیرس کے دونوں ہاتھ اپنی گردن سے جھٹکتے گھٹنوں کی بل نیچے بیٹھا۔ عماؤس کے زمین پر بکھرے بال اسکے جوتوں تلے مسلتے چلے گئے تھے۔ ایک ہاتھ بڑھا کر اسکے سانس لیتے بے جان چہرے کو سیدھا کیا۔ اسکی آنکھوں سے بہتے پانی کی لکیر کو پورے پرچنتے اپنی آنکھوں کے قریب کیا اور اگلے پل انگوٹھے کے بیچ مسل کر اسکے چہرے پر چھڑک گیا۔
"دنیا پہلے ہی فرعونوں سے بھری پڑی ہے عماؤس مجھے اچھا رہنے دو۔۔ ہمم" چند لمحے اسکی بے جان آنکھوں میں دیکھتے وہ اوپر اٹھا اور تیز قدموں سے باہر نکلتا چلا گیا۔
☆ ☆ ☆
(پینتالیس منٹ بعد)
واسکو ایونٹ:
دو گھنٹے پہلے اپنے بیٹھنے والوں کی منتظر سرخ نشستیں اب مطلوبہ ہدف مل جانے پر سبز پڑ چکی تھی۔ دونوں اطراف میں لگی نشستوں کے بیچ سے ہوتا راستہ اسٹیج کی طرف جاتا تھا جس وقت سرخ قالین بچھا تھا۔ ریمپنگ ایریا کے نیچے بائیں طرف کا حصہ معزز شخصیات اور اداکاروں کے بیٹھنے کے لیے مختص تھاجبکہ دائیں طرف، صرف اور صرف دنیا کے مختلف حصوں سے آئے نامور برانڈز کے اونرز کے لیے مخصوص تھا۔ ہر طرف لوگوں کی مدھم چہل پہل تھی سنگرز اور سیلبرٹیز کے آٹو گراف لیتے معزز لوگ۔ اور انکو یادگار بناتے فلمیش کیمرے۔
لوگوں کی اس مدھم بھیڑ کو چیرتے سرخ قالین پر قدم رکھتے وہ دونوں آگے بڑھتی دکھائی دیں۔ گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک آتا سیاہ ڈریس۔ جس کی کمر میں پرابیلٹ اور اس پر لگا کیلیساح برانڈ کے لوگو پر تراشا گیا سبز ہیر اکلیساح کے لباس کی خوبصورتی کو دس گنا بڑھا گیا تھا۔ کمر بیلٹ اور ہاتھ میں پہنے بریسلیاٹ پر جڑا سبز ہیرایہ دونوں کیلیساح کی شخصیت کا اہم حصے تھیں. پورے سان فرانسسکو میں یہ دیکھ کر کوئی بھی پہچان سکتا یہ کس کی ملکیت ہے۔
گھٹنوں تک سیاہ ہی ہیل نما لمبے بوٹ اور کندھوں پر کیمل رنگ اور کوٹ جو پاؤں میں پہنے بوٹوں کی ہیل کو چھوڑ رہا تھا۔
بال ہمیشہ کی طرح آدھے سر پر موجود کیملی اسٹالر میں گردن سے بل کھا کر پیچھے جاتے کوٹ میں قید تھے۔ گردن کے ساتھ چپکانازک ہیروں سے تراشا گیا نیکلس چک رہا تھا۔ سموکی آئیز اور نیچرل میک اپ میں ٹھہر اک قدم رکھتی لیگیسی کی اونر واسکو ایونٹ کی ساری خوبصورتی اپنے نام کر گئی تھی۔
ساتھ چلتی زاشا نے اپنا مخصوص زنانہ پلس مردانہ لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ بال جوڑے میں قید تھے۔ لمبے ناخنوں کو کمال مہارت سے تراشا گیا تھا۔ نجانے آن کی آن میں اسکے ناخنوں کی تراش کیسے بدل جایا کرتی تھی۔
مغرب کے لوگوں میں حسن بہت عام چیز ہے۔ یہاں کے ہر دوسرے مرد عورت پر نظر ٹکائے نہیں نکتی۔ لیکن، لوگوں کی کیلیساح کی جانب متوجہ نظروں کا راز اس کا حسن نہیں، پرکشش شخصیت تھی. وہ جس طرح اپنے آپ کو اعتماد میں لے کر چلا کرتی تھی لوگوں کا گھنٹوں نظریں جمائے دیکھنا بہت عام سی بات تھا۔
زاشانے آگے بڑھتے ہاتھ میں پکڑی الٹرا بک پر سکرولنگ کرتے کچھ سرچ کیا اور اگلے پل فرنٹ پر موجود نشستوں میں آٹھویں نشست کیلیساح کے نام پر وائبریٹ کرنے لگی۔ زاشا سے آگے بڑھنے کا اشارہ کرتے خود دوسری جانب بڑھ گئی۔ کیلیساح کے بیٹھتے ساتھ ہی وائبریٹ ہوتی نشست پر سکون ہوتے سبز ہوتی چلی گئی اور سامنے سٹیج گییر سکرین پر اسکے ساتھ کے انگریزی میں لکھا خوش آمدید سب کو اسکی موجودگی کا پیغام سنا آیا تھا۔ کیلیساح دھیما سا مسکرادی۔ واسکو کا اونر انسانوں کو خاص محسوس کروانا بہت بہتر جانتا تھا۔
رفتہ رفتہ خالی نشستیں بھی سبز ہوتی گئیں۔ دس منٹ مزید گزرے تھے جب کراسنگ انداز میں خوابناک ماحول پیدا کرتی روشنیاں مدھم پڑتے دم توڑ گئیں۔ سامنے سکرین پر کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوا تھا۔ ڈرونز چاروں طرف گھومے تھے۔ داخلی دروازے تک گئی سرخ قالین پر محافظوں نے جھرَمٹ ڈالا تھا اور اس محفوظ گھیرے میں ایک سیاہ ہیل اور سیاہ ہی مردانہ قدم ایک ساتھ پڑے تھے۔ ہواؤں میں گھلتی خوشبوؤں میں آنے والی ہستیوں کی موجودگی کا پیغام سناتے ہر دل کو بے چین کر گئی تھی۔ کئی وجودوں کے رخ بے اختیار پیچھے کی جانب پلٹے تھے۔ کیلیساح نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔ نیلاہٹ روشنی میں آگے بڑھتے وجود. ہتھیار اٹھائے محافظ، چند قدم، مزید قدم اور پھر مخصوص خوشبوؤں کا ریلہ اس کے پاس سے گزرتے سٹیج پر بڑھتا چلا گیا۔
سکرین پر کاؤنٹ ڈاؤن ختم ہوتے ہی روشنیوں کا ایک سیلاب آندھ آیا تھا۔ ہر طرف مدھم لیر کس پر لوگوں کی چیخوں کی پکار. فلش پھینکتے کیمرے. ایک کے بعد ایک کھینچتی چلی جاتی تصاویر. چاروں طرف ڈرونز کی صورت گھومتے میڈیا کے اہلکار۔ سیاہ جیکیٹوں میں کھڑے عقاب کی مانند ہر چیز کو جانچتے ہوئے محافظ اور ان سب کے پیچھے سٹیج پر کھڑا واسکو کی پانچ برانچوں کا اکلوتا مغرور شہنشاہ "مہاویر حنان واسکو" ایک ہاتھ بلند کرتے مسکرادیا۔
کون کیلیساح؟ کہاں کا ایونٹ؟ اور کونسی مغرب کی چمکتی دنیا؟ سب کچھ ملیامیٹ ہوا تھا اس ایک مسکراہٹ پر۔
شور تھمنے کی بجائے مزید بڑھتا چلا گیا. جس میں سب سے آگے تو ہماری زاشا مینیجر تھیں جسے آدھا گھنٹہ لگا کر کیلیساح نے سمجھایا تھا جذبات قابو میں رکھنا۔ سٹیج کے دونوں طرف لائیو سکرینوں پر تعداد املینز میں بڑھتی جا رہی تھی۔ دنیا کے مختلف کونوں میں بیٹھے لوگوں کے واسکو کے لیے مخلص جذبات نہ ہو کر بھی سانس لیتے محسوس ہو رہے تھے۔ کیلیساح نے سامنے کے منظر سے نامحسوس انداز میں نظریں چراتے ایک اچٹتی نگاہ آس پاس گھمائی۔ وہ یہاں نہیں تھا جس کی وجہ سے دنیا کا کوناکونا اسکو پکار رہا تھا۔ اسے حیرت ہوئی، کیا واسکو کی ان چمکتی روشنیوں میں وہ اس حد تک گمنام تھا؟
سٹیج پر کھڑا واسکو کا مغرور شہنشاہ بغل میں کھڑی عورت کی کمر میں بازو ڈالے لائیو سکرینوں کی طرف ہاتھ اٹھاتا ان کی موجودگی کو اپنے لیے خاص سمجھنے کا اشارہ دیتے ہونٹوں سے لگایا گیا تھا۔ ایک دنیا تھی جو اسکے ساتھ چلتی تھی وہ جانتا تھا دلوں پر بادشاہت قائم کرنا۔
"بسم الله الرحمن الرحيم"
ایک ہاتھ سے مییک ایکٹو کرتے وہ ہمکلام ہو تھا اور سحر ہر سووں چھاتا چلا گیا۔ صرف مہاویر واسکو سننے کے لیے لوگوں نے اپنے سروں کو ہلاتے سماعتوں کو باقی ہر چیز کے لیے محروم ٹھہرادیا تھا۔
"واسکو کو اپنا خلوص دینے، دنیا کے مختلف حصوں سے آئے معزز شخصیات کے ہم دل سے شکر گزار ہیں۔"
بولتے ساتھ دل پر ہاتھ رکھا گیا مطلب دنیا لوٹی گئی تھی۔
"لیکن"
مہاویر واسکو کو آج پھر آپ لوگوں سے مل کر حیرت نہیں ہوئی! آپ لوگ مجھے حیرت زدہ کیوں نہیں کرتے؟
اسکی ذہانت سے بھرپور آنکھیں اس وقت چمک رہی تھیں۔ جو اسکی بات کا مقصد جانتے تھے انکی طرف سے شور بلند ہوا تھاجبکہ انجان چہروں پر سوالیہ نشان ابھرے تھے جن میں سے ایک کیلیساح کا بھی تھا۔
"اتنے مخلص جذبوں کا عادی کر دیا ہے آپ لوگوں نے کہ اب جی چاہتا ہے کوئی بغاوت کرے اور سدا کی عمده بغاوت کرے. مہاویر واسکو خود کھڑا ہوا اسے داد دینے کے لیے۔"
ٹھہر ٹھہر کر انگریزی میں بولتا وہ چاروں طرف اپنی بھاری آواز کے سائے لہراتے سوالیہ چہروں پر بھی ستائش بکھیر تا چلا گیا۔ آنکھوں میں نوازی گئیں مخلص محبتوں کا غرورامنڈ آیا تھا۔ کتنا گھمنڈ تھا اسے حاصل کردہ مخلص جذبوں پر؟ کتنا نازاں تھا وہ ان چاہتوں کے آسرے۔
"ایک بات ہے جو میں آج آشکار کرنا چاہتا ہوں۔"
ہجوم سننے کو شانت پڑا تھا۔
"میں نے، مہاویر خان واسکو نے (وہ خود کو اکثر اپنا نام لے کر مخاطب کیا کرتا تھا) اگر زندگی میں مخلص جذبے اپنی وومن کے بعد کسی دوسری چیز کو نوازے ہیں تو وہ صرف اور صرف آپکے دلوں میں دھڑکتا واسکو کا نام ہے۔ میرے والد قیصر خان واسکو! جو مجھ سے پہلے آپ کے دلوں میں زندہ ہیں۔"
بولتے ہوئے وہ ایک پل کو رکا۔ پورا گو نجتا حال اداس ہوا تھا۔ ایسا کبھی ہوتا تھا جب وہ آغاز اپنے باپ کو یاد کرتے ہوئے نا کرتا ہو۔
"جب انہوں نے آخری بار میرے ہاتھ پر واسکو کا نیلامی کارڈ رکھا تب زندگی میں پہلی بار مہاویر واسکو نے فیشن کی دنیا پر راج کرتے اپنے باپ کے مضبوط ہاتھوں کو کانپتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس نیلامی کی قیمت اتنی بھاری تھی کہ وہ اپنی زندگی سے چکا کر چلے گئے اور مہاویر؟
مہاویر واسکو کے بوجھ تلے دبے انہیں بدنامی کے اندھیروں میں کہیں گمنام ہوتا چلا گیا. وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے:
"VASCO Is Not Aa Fashion, It’s Aa Comfort"
کیلیساح نے پہلی بار اسے غم زدہ دیکھا تھا۔ مغرور لوگ نرم جذبات کہاں چھپا کر رکھتے ہیں؟
"پھر میرے اندھیروں پر روشنیوں کا وہ سورج طلوع ہوا جس نے مجھے ایک بات کہی صرف!
سلطنت کو سر پر رکھو گے تو بوجھ بنتے گردن جھکا دے گی، سانس روک دے گی. اسے قدموں کے نیچے دبا کر رکھو تاکہ تم اس پر بوجھ بنے رہو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم اس کا سانس روک دو۔۔"
ہر سوں خاموشی. لوگ چہروں کے نیچے ہاتھ جمائے اسے بولتے ہوئے سن رہے تھے۔ اسے یونہی سنا جاتا تھا۔ سن کر پھر سراہا جاتا تھا۔ ایک دنیا اسے اپنے رول ماڈل کا درجہ دے چکی تھی۔
"اس لیے آج مہاویر خان واسکو کہتا ہے،
"VASCO Is Not Aa Comfort, It’s Aa Psyche"
ستائش سے اوپر اٹھتا ہجوم اس خوشبخت انسان کو جاننے کے لیے بیتاب ہوا۔ مہاویر واسکو نے زرا سا تر چھا ہوتے مائیک کو اوپر کیا۔
"مہاویر واسکو کے اندھیروں پر طلوع ہوا وہ واحد سورج! جس نے مجھے تاریکیوں کی وحشت سے کھینچ کر اجالوں کر دلدل میں پھینکا؛
مائے وائف۔ مائے وو من۔ اونلی مائن "ور جینا حنان واسکو!"
وہ اتنی نفاست سے بولا تھا کہ پورا حال تالیوں کی گونج سے تھر تھرا اٹھا۔ سٹیج پر اسکے بغل میں کھڑی خاتون بہت کم سکرین پر نظر آتی تھی شاید اس لیے وہ دنیا کی نظروں سے اوجھل تھی۔ مکمل سیاہ خوبصورت لباس میں ہاتھوں اور گلے کی زینت بنے سبز ہیرے اس کے خوبصورت براؤن میک اپ سے مزین چہرے کے آگے بے اثرٹھے۔ وہ ایک دراز قد، صوبر، نرم اور سرد تاثرات کی ملاپ شدہ، خاموش اور شور سے اکتائی خاتون معلوم ہوتی تھی بالکل اٹھارویں صدی کی لکھاری ورجینیا وولف لکھی کتابوں کی طرح۔
بائیں طرف موجود ہجوم میں لوگوں کا شور زیادہ بلند تھا۔ جبکہ وی آئی پی نشستوں پر بیٹھے مختلف برانڈز کے اونز کے مسکرانے پر اکتفا کر رہے تھے۔ مہاویر واسکو کی خوش اخلاقی کا اثر تھا کہ ان میں سے ایک نے اپنا مائیک اٹھاتے ور جینا ور واسکو کو انگریزی میں مخاطب کیا۔ ہجوم کا شور مقابل کی آواز سننے کو مدہم پڑا تھا۔
"مسز واسکو! آپ سے ایک سوال مہاویر واسکو کی بیوی ہونے کے ناطے نہیں انگلش موویز کی رائٹر اور ڈائریکٹر ہونے کے ناطے ہے۔ اجازت ہے؟"
مہاویر واسکو نے ور جینا کی کمر سے ہاتھ نکالتے اسکا مائیک ایکٹو کیا اور اشارے سے اسے جواب دینے کو کہا۔ وہ مسکرادی۔ لمحے قید ہوتے چلے گئے۔
"شیور۔۔ پوچھیے؟"
"آپ کی انسانیت کے ڈارک سائیکالوجی پہلو پر لکھی کتاب رات و رات کیوں بین کر دی گئی؟ جبکہ اس پر بنایا گیا فلم ٹریلر ساری دنیا دیکھ چکی ہے۔۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ وہ بھی بین کر دیا جائے گا۔ اگر نہیں؟ تو آخر کب ہمیں ہمارے خطرناک پہلو کو آنکھوں سے دیکھنے کا موقع؟"
یہ سوال یہاں بیٹھے ہر انسان کے ذہن و دل میں تھا لیکن زبان پر آنے سے قاصر تھا۔ ور جینا واسکو ٹھنڈے تاثرات سے تھوڑا آگے بڑھی۔ روشنیوں نے کہیں دور سے فلیش مارا تھا اور گلے سے اٹھتی ہیروں کی چمک دور تک گئی تھی۔
"جو سم برانڈ رائٹ؟"
مائیک سے نکلتی اس کی آواز بھی اس کی طرح نازک سی تھی۔ مقابل نے سر اثبات میں ہلایا۔
"مجھے رگریٹ تھا میں نے مردوں کی نفسیات پر غیر ضروری ریسرچ کر دی ہے اس لیے کتاب پر لکھی داستان کو واپس اٹھالیا۔ جہاں تک بات ہے فلم ٹریلر کی تو واسکو سکرین پر لانے کے جرم میں اوپری درجے کی چند فرشتہ صفت ہستیاں جنکو اپنے چھپے چہرے آشکار ہو جانے کا خوف لاحق ہو گیا تھا انکے احتجاج کے باعث کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔"
"کیسی مشکلات مسز واسکو؟" جو سم نامی آدمی نے دوسرا سوال کیا تھا۔
ور جینا واسکو نے ٹھہر کر اسے دیکھا پھر عین چہرے کے سامنے رک چکے ڈرون کیمرہ اکو۔ وہ دنیا کے سامنے ایک راز سے پردہ اٹھانے جارہی تھی لکھاریوں کا غضب بڑا تہذیب یافتہ ہوتا ہے۔
"مجھے خون کی دھمکی دی گئی، مہاویر پر قاتلانہ حملہ ہوا، ہمارے بیٹے یماک واسکو کو ہراس کیا گیا اس لیے پروجیکٹ کو فلحال کے لیے روک دیا گیا ہے۔ پشت پر مہاویر کھڑا ہو تو کیسی مشکل اور کیسا خوف؟"
وہ ہلکا سا مہاویر کی سمت مڑتے اٹھی گردن مزید تن گئی۔ دنیا کی خیر اسی میں پوشیدہ تھی کہ ور جینا واسکو خاموش ہی رہے۔ اسے توجہ سے سنتے ہوئے ہاتھ پشت پر باندھے کھڑا وہ غرور کا مجسمہ اسکی آخری بات پر سر نیچے کیے مسکرادیا تھا۔
"لیکن یہ حقیقت ہے دنیا میں سکز و فرینیا کے متاثر لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے خاص کر مردوں میں عورتوں کی نسبت دس گنا زیادہ۔ آپ کو یہ حقیقت قلمبند کرنے پر افسوس کیوں ہوا؟"
اس آدمی کے سوال ختم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے تھے۔ مہاویر کے ماتھے پر شکنیں پڑیں۔ اسکی بیوی کی اسکے ساتھ سکرین پر آنے کی پہلی شرط ہی یہی تھی کہ مجھے تمہاری دنیا میں سوالی علامت نا بنایا جائے۔
"آپ نے قبول کر لی حقیقت؟" اب کی بار ور جینا کا لہجہ حمایتی نہیں، سرد تھا۔ طنزیہ اور رو کھاسا ۔سوال بے ساختہ تھا مقابل ہڑبڑا گیا۔
"بلکہ آپ درست کہہ رہے ہیں مجھے افسوس نہیں ہونا چاہیے اس ریسرچ پر۔ تب تو بالکل بھی نہیں جب مرد خود آدھی دنیا کے سامنے بیٹھ کر اپنی حقیقت تسلیم کر رہے ہوں، یا پھر اس حقیقت کے زمرے میں دنیا کے ہر مرد کی طرح صرف دوسرا امر دہی آتا ہے؟"
مردوں کی کچھ تعداد نظریں چراتے تو کچھ ہو نقوں کی طرح ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ چند لمحوں تک بلا کی گہری خاموشی چھائی رہی۔
"جواب دینا ہے آپ نے؟" اب کی بار مہاویر جو سم نامی شخص سے برا راست مخاطب ہو تھا۔
"نہیں۔ " وہ شرمندہ ہوتے سر نفی میں ہلا گیا۔
"بہتر بھی یہی ہے۔ مرد کو سوال وہ پوچھنے چاہیے جنکے جواب خود دینے پڑ جائیں تو شرمندگی نا اٹھانی پڑے، خاصکر جب مقابل ایک عورت کھڑی ہو ورنہ عورتیں لحاظ نہیں رکھتیں۔"
آنکھیں مقابل کی آنکھوں میں گاڑ کر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ وہ دنیا کو اپنی بیوی کی اہمیت اور اسے اسکی غلطی کا احساس بہتر دلا چکا تھا۔
"جہاں تک بات پروجیکٹ لانچ ہونے کی ہے تو مہاویر اور میں ایک سال میں دو بار آپ لوگوں کو ہارٹ اٹیک نہیں دے سکتے۔ آپ سب پہلے واسکو کے نیولا نچنگ، ہیلز سے بگڑنے والے اعصاب سنبھال لیں فلم اگلے سال کے لیے!"
ور جینا چاروں طرف نظریں گھمائے ہجوم سے مخاطب ہوئی تھی۔ اسکا غیر ضروری تلخ لہجہ کیلیساح کو چبھا تھا۔ کیلیساح نے ایک نظر جو سم برانڈ کے اونر کی جانب دیکھا جو اپنے اردگرد بیٹھے مردوں کی طنزیہ اور تمسخرانہ نظروں سے آنکھیں چراتے شرمندگی زائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ اپنا مائیک ایکٹو کر گئی۔
"مس ور جینا! آپ کی ریسرچ سے لگتا ہے کافی قریبی اور گہر ارشتہ ہے آپکا ایسے مردوں سے، اسی لیے تو آپ اتنا پیچیدہ رخ پکڑ پائی ہیں؟"
پورے حال پر اسکی آواز بجلی بن کر گری تھی۔ لوگ ششدر رہ گئے تھے۔ ہر طرف ہوش باختگی کا عالم چھایا تھا۔
"آپ کا پروجیکٹ واقعی قابل داد ہے۔ دونوں ہاتھوں کو اوپر کرتے وہ تالی کا رخ دے گئی۔"
ور جینا واسکو کے ساتھ مہاویر واسکو کی نظریں بھی اگلی نشستوں میں بیٹھی گردن اٹھا کر بولتی ہوئی کیلیساح پر پڑیں جو جواب دینے کی ہمت کر چکی تھی۔ بالاتر عورتوں کو جب بالاتر عورتیں ٹکرایا جائے تو مرد اکژ ایک طرف کھڑے خاموش ہی رہ جاتے ہیں۔ کیلیساح کے انداز نے مہاویر واسکو کے سابقہ طنزیہ لہجے کو ادھیڑ کر رکھ دیا تھا۔
"اقتدار کی آڑ میں نیک نامی کا لبادہ اوڑھے جن مردوں کی ایک جھلک دنیا کو دکھانے کی کوشش کی ہے، انکا چہرہ دنیا کے سامنے آنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا سائیکو ریپسٹ اور وومنز اڈکٹڈ کا مردوں کو یہ بات تسلیم کر لینے میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ وہ قابل علاج ہیں اور انکا علاج نفسیاتی عملہ ہے، عورتیں نہیں۔"
ڈرونز کا رخ اب اسکی طرف مڑا تھا۔ سٹیج کی سب سکرینوں پر ابھری کیلیساح کی تصویر کو کچھ لوگ ستائشی نظروں سے دیکھ رہے تھے تو کچھ ملامتی نظروں سے۔ جبکہ ور جینا اور مہاویر واسکو خاموش کھڑے تھے بالکل سٹل۔
ور جینا واسکو بولنے کی سعی کرنے ہی لگی تھی کہ نامحسوس انداز میں مہاویر اسکے قریب ہوا۔ یہ ایک اشارہ تھا کہ اسے بولنے دو۔
"میرے سوال یہ ہے مسز واسکو کہ میں ایک عورت ہوں اور ہو سکتا ہے مجھ میں بھی کچھ کچھ علامات سکز و فرینیا کی پائی جاتی ہوں بلکہ یہاں بیٹھی سب عورتوں میں؟ تو آپ ہمیں تو بتاہی سکتی ہیں نا آپکا پروجیکٹ کب سکرین کی زینت بننے جا رہا ہے ہم ایک عرصے سے منتظر ہیں۔"
انداز وہی تھا جس میں ور جینا نے تھوڑی دیر پہلے ایک مرد کو زیر کیا تھا. نڈر. بے خوف. سوالیہ اور طنز کرتا ہوا.
"مس؟" مہاویر بولتے بولتے شاید اسکا نام جاننے کے لیے رکا.
"اپولوجائز مسٹر واسکو! لیکن میرا سوال آپ سے نہیں مسز سے۔"
چہرہ بلا کا پر سکون تھا لیکن ایک تپش ضرور تھی اسکے لہجے میں۔ اور یہ تپش صرف مقابل کے تلخ لہجے کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ ازلی تھی۔ مہاویر کے بغل میں پورے حق سے کھڑی عورت کیلیساح کو حسد کرنے پر مجبور کر جایا کرتی تھی۔
زاشانے دل پر ہاتھ رکھ لیا کیلیساح کو آج کیا ہو گیا تھا وہ اتنا تلخ رخ اختیار کر گئی تھی؟ غیر ضروری خاموشی حالات کو سنگین صورتحال کی جانب لے جانے لگی تھی کہ سارے میں ور جینا واسکو کی آواز گونجی:
"مجھے آج تک وہ انسان نہیں ملا جو کلا یمکس کو حقیقی تاثر دے سکے۔ ایک ایسا انسان جس پر سکز و فرینیا کی ساری علامات تمام ہو جائے۔ ایسا جو اندھیروں کا عکس ہو۔ اسکا دماغ اسکے وجود پر حاوی ہو چکا ہو۔ جس دن میری تلاش مکمل ہوئی میرا شاہکار دیکھنے کے لیے آپکو اور ایسے مردوں کے جبر کا نشانہ بنی دوسری عورتوں کو انتظار کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی مس۔۔؟"
اسکا نام جاننے کے لیے اب کی بار ور جینا خود سوالیہ ہوئی۔
"الماس لیگیّسی کے اونر عمیس (Ram'ses Noah) نوح کی. بہن۔۔ کیلیساح نوح"
بولتے ساتھ وہ مسکرائی تھی۔ بدلہ لٹایا جا چکا تھا۔ آس پاس کے لوگ اب جو سم برانڈ کے اونر کو تمسخرانہ نظروں کے بجائے کیلیساح کو بے یقین نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
"آپ اور مسٹر واسکو، رُعمیس نوح کو تو بہتر جانتے ہونگے؟" ساتھ ایک نظر ور جینا کے گلے میں پڑے سبز نیکلس پر جمائی وہ کس کا تراشا ہوا تھا اسے جانے میں چند سیکنڈ نہیں لگتے تھے۔
"آف کورس۔۔! اس پتھر تراش کو جاننے سے بھلا انکار کیا جاسکتا ہے؟ خاصکر تب، جب وہ آپکی وائف کا پورے مغرب میں سے چُنا گیا واحد جیورلی میکر ہو۔ "
مہاویر کی آنکھوں میں اب شناسائی سی اتر آئی تھی جبکہ کیلیساح کی گردن مزید اکڑی۔ "سر پر بھائی کھڑے ہوں تو بہنوں کی گردنیں اونچی ہی جایا کرتی ہیں، کوئی چاہ کر بھی انہیں زیر جو نہیں کر پاتا۔"
"اور آپ اے براؤن زی بلاک آرٹیکل کی ڈیزائنر کیلیساح نوح رائٹ؟"
مہاویر واسکو نے دنیا کو پس پشت ڈالے ایک نظر ور جینا کو دیکھا اور پھر کیلیساح سے مخاطب ہوا۔ لہجے میں حیرانگی تھی جیسے یقین کرنا مشکل ہو کہ ایک تئیس چوبیس برس کی کم عمر لڑکی واسکو کے بعد اپنے بلاک آرٹیکل کے باعث انٹرنیشنل لیول پر چھائی تھی۔ کیلیساح نے سر اثبات میں ہلا کر اسکی حیرانگی پر یقین کی مہر ثبت کی۔
"بہت کم عمر عورتیں مہاویر واسکو کو لاجواب کر پاتی ہیں۔ آپکا اندازِ تخاطب عام عورتوں سے الگ ہے آپنے مہاویر واسکو کو متاثر کر دیا۔"
"کیسا اند از۔۔؟ بالاتر عورتوں جیسا؟" کیلیساح کی آنکھیں مسکرائی تھیں.
"بلکل! بے خوف بالاتر عورتوں جیسا۔"
مہاویر کے مسکرا کر کہنے پر ور جینا واسکو بھی مسکرادی تھی۔
مہاویر ور جینا کو ہاتھ سے پکڑے سٹیج سے نیچے لایا اور سب سے آگے لگی وی آئی پي نشستوں پر بیٹھاتے واپس سٹیج کی جانب بڑھ گیا۔ دوسری طرف کے ہجوم سے زاشا اٹھ کھڑی ہوئی۔
"مہاویر واسکو! اجازت ہو تو ایک سوال ہماری طرف سے بھی؟ ورنہ ہمیں افسوس رہ جائے گا کہ ہماری محبت کے بدلے واسکو ہمیں مختصر وقت بھی نہیں دے پایا۔"
دس نمبری زاشا سیدھا اسکی کمزوری پر چوٹ کر گئی تھی۔
"اچھا تو ایسی بات ہے۔ پوچھیے پھر؟ اونلی ون پلیز! ایونٹ کی بعد ہمیں ٹریول کرنا ہے۔۔۔"
تو توقعات کے برعکس وہ مان چکا تھا۔ وہ سچ میں مان چکا تھا۔ شک و شبہات کی کوئی گنجائش نہیں بچی تھی بلاشبہ مخلص جذبے اسکی کمزوری تھے اور وہ اپنی کمزوریوں کا قدردان۔
"مہاویر واسکو! جیسا کہ ایک دنیا ہے جو آپ کو پسند کرنے کے ساتھ ساتھ آپ سے حسد بھی رکھتی ہے یہ الگ بات ہے کہ آپ اتنے نرم طبیعت کے مالک ہیں کہ کسی خاطر میں نہیں لاتے۔"
کیلیساح کے چہرے کے رنگ بدلے تھے۔
"میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کوئی انسان ہے جس سے آپ، یعنی مہاویر خان واسکو پسند کرنے کے ساتھ ساتھ حسد بھی رکھتے ہیں؟"
سوال کافی غیر متوقع تھا۔ ایک بار پھر خاموشی سارے میں پھیلتی چلی گئی کہ اچانک مہاویر واسکو کا مائیک سے گونجتا قہقہہ کئی دلوں کو د دھڑ کا تا چلا گیا.
"میرے جواب پر کافی لوگ خبر دار ہو جائیں گے پھر۔۔؟"
وہ مسکرارہا تھا نا جانے کیوں؟ آج وہ بن بات کے پر اسرار سا مسکرائے جا رہا تھا آنکھوں کے گرد سلوٹیں گہری ہوتی جا رہی تھیں۔
"پلیززز۔۔" زاشا جواب سننے کو بے صبری ہوئی۔
"میں۔۔"
گہر اسانس چھوڑا گیا جیسے وہ کہنا چاہتا ہو اور مجبور کر دیا گیا ہو۔
"لیگیسیز کے دونوں اونرز سے تھوڑا۔ جیلیس ہوں کیونکہ میری وائف صرف انہی سبلنگز پیئر کے بنائے شاہکار پہننا پسند کرتی ہیں۔"
نیکلس کا تو سب جانتے تھے کیونکہ یہاں بیٹھے سب رئیس رُعمیس نوح کے تراشے ہیرے پہنتے تھے لیکن ور جینا واسکو کیلیساح کے شوز پہنتی ہیں؟ کیوں۔۔؟ کیسے؟ کب سے؟ کئی منہ مارے حیرت کے کھلے رہ گئے تھے۔ جن میں سے ایک زاشا ایوب کا بھی تھا۔ یک دم سارے ہجوم کی نظریں اگلی نشست پر بیٹھی کیلیساح کے تاثرات پر تھم گئی۔ ہاتھوں کو کراسنگ گھٹنوں پر رکھے کیلیساح کی انگلیوں کی مومنٹ ایک پل کو رکی تھی اور شاید کہیں دل بھی۔ پھر دونوں اپنی رفتار پکڑ گئے۔
"اٹ مکس می جیلس جب مسز مہاویر میرے الفاظ مجھے لوٹاتے ہوئے کہتی ہیں دیکھو مہاویر! میں واسکو فورڈ بھی کر سکتی ہوں اور ہینڈل بھی، لیکن چوز نہیں کرتی۔"
ہجوم سے زور دار قہقہہ بلند ہوا تھا۔ ور جینا واسکو مہاویر کے چہرے کو دیکھ کر رہ گئی۔
"آئی گیٹ جِیلیس جب کیلیفورنیا کے جینئس سبلنگز کیلیفورنیا کے سب سے خوبصورت کپل پر بازی لے جاتے ہیں۔"
آخر میں سب مسکرا دیے تھے سب سے آگے بیٹھی ور جینا خان واسکو بھی۔ زاشا منہ پر ہاتھ جمائے نیچے بیٹھ گئی۔ اسے دو دوشاک ایک ساتھ لگ چکے تھے۔ جبکہ کیلیساح مسکرا بھی نہ پائی تھی، کوشش کے باوجود بھی نہیں۔
"ناؤ! اٹس ٹائم آف واسکو ہیلز۔۔"
ہاتھوں کو سر سے اوپر لے جا کر دو تالیوں کا رخ دیتے ہجوم کی گونجتی تالیوں میں سٹیج سے اترتا مہاویر واسکو ور جینا کے ساتھ والے صوفے کی جانب بڑھ گیا۔ کیلیساح نے آخری نظر اس پر اترتے سٹیج سے ڈالی اور نظروں کا زاویہ بدل دیا۔ یہ طے تھاوہ اب اسے تب تک نہیں دیکھنے والی تھی جب تک وہ تنہانا نظر آجاتا۔
روشنیاں مدھم پڑتے سٹیج پر فوکس کر دی گئیں۔ ہر طرف اندھیرا اچھا تا چلا گیا۔ ڈرونز کے رخ ریمپنگ ایریا کی طرف موڑ دیے گئے۔ سٹیج کے کونے میں بنی لفٹ کے دروازے کھلے اور اگلے لمحے لفٹ سے نکلتی ماڈل پورے اعتماد کے ساتھ کیٹ واک کرتے اس سال کی پہلی ہائی الرٹ، ہیلز کا اشتہار بنی جلوہ گر ہوئی۔
آگے بڑھتی ماڈل کے پاؤں سے نکلتی چاندنی اندھیرے میں جگنو کی مانند دور تک پھیلتی جا رہی تھی۔ ریمپنگ ایریا کے اختتام پر پہنچتے ماڈل کمر پر ہاتھ رکھے بائیں طرف مڑی اور یہاں نظر آیا تھا واسکو کا شاہکار۔
ہیلز کے سول کو آدھے چاند پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔ یوں جیسے چاند کو آسمان سے اتار کر دو ٹکڑوں میں تقسیم کرتے ان ہیلز کے نیچے لگا دیا ہو
۔ پلاٹینیم سول سے نکلتی چاند کی مدھم چاندنی چلنے پر رقص کرتی معلوم ہوتی تھی۔ ماڈل زاویہ بدل کر دائیں طرف مڑی ہی تھی کہ اچانک چاند سرخ پڑنے لگا، مدھم سرخ سے دہکتا سرخ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ آتشی انگارہ بن گیا جیسے گرہن لگنا اسکا مقدر کر دیا گیا ہو۔
بائیں طرف بیٹھے ہجوم کے منہ مارے حیرت کے کھلے رہ گئے تھے۔ ایک پل کو کیلیساح بھی دنگ رہ گئی۔ ہونٹ ستائش سے گول ہوئے تھے۔ آنکھیں متاثر ہوتے چمکنے لگی تھیں۔ ماڈل مزید ایک چکر لگاتے واپسی کی روش پر بڑھتے اندھیرے میں گم ہوتی چلی گئی۔ جس طرح وہ دس انچ اونچے سول پر بغیر قدم ڈگمگائے چل رہی تھی انداز لمبے عرصے کی انتھک کاوشوں کا نتیجہ لگتا تھا۔
ماڈل کے جاتے ہی سکرین پر ہائی الرٹ، ہیلز کے پہلے مون آرٹیکل کی آفیشل تصاویر ابھری۔ سرخ ربن میں قید اس آرٹیکل پر انڈسٹریل پرائس کئی ملین ڈالرز میں شو ہوتے بہت سے دلوں میں جلتی اسکو پا لینے کی مدھم توڑتی چلی گئی۔ کتنے برانڈز اس کی دوسری کاپی تیار کرنے کا دل ہی دل میں عہد باندھ بیٹھے تھے۔
چند سیکنڈز کے وقفے کے بعد مدھم روشنیوں میں سے دوسری ماڈل نکلتی دکھائی دی جسکے پاؤں سے لے کر ٹانگ کے گرد لپٹا اور گھٹنوں تک جاتا دنیا کا سب سے خطرناک سانپ کوبرا ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس مہارت سے کہ وہ گھٹنوں سے کھاتا تو حسیانی انداز میں منہ کھولے ہوئے تھا۔ منہ سے باہر نکلتا دور نکلتی زہر زندگیاں نگل جاتا اگر اس پر پلاٹینیم کا خول نہ چڑھایا گیا ہو۔ وہ ایک زندہ سانپ تھا جسے پلاٹینیم کے سول میں قید کرتے مار دیا گیا تھا۔ اسکی آنکھیں کھھی تھیں۔ ہیل کے نچلے سول میں اسکا زہر ڈالا گیا تھا اور سبز رنگ کا انتقامی زہر۔
کمزور حواس کے لوگ بوکھلا کر نشستوں سے کھڑے ہو چکے تھے جبکہ خطروں کے شوقین آرٹسٹ کی اس مہارت پر داد دیے بنا نہ رہ سکے۔
"کانٹ بلیو مہاویر۔۔"
ور جینا واسکو کی بے یقین آواز پر مہاویر واسکو کی سٹیج پر جمی آنھیں چمک اٹھیں۔ وہ خود حیران تھا۔ گہرا حیران۔ خطرے کی اس لیول سے وہ بھی انجان تھا جو اسکے آرٹسٹ نے ڈیزائن کیا تھا۔
"یہ وہی کوبرا آرٹ ہے نامہاویر جو اسکے کمرے سے جلا ہوا ملا تھا؟"
جس مرد نے تھوڑی دیر پہلے حیران نا ہونے کا دعویٰ آدھی دنیا کے سامنے کیا تھا اب حیرانگی سمیٹ نہیں پایا۔
"اسکے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں رہا مہاویر۔ اپنے بیٹے کو اس سے دور رکھو۔۔"
وہ اتنے دھیمے لہجے میں بات کر رہی تھی کہ آس پاس گھومتے ڈرون بھی اسکی آواز سننے سے قاصر تھے۔
"ور جینا مجھے کبھی یوں لگتا ہے جیسے کوئی ہے جس کے پاس بڑے خطرناک ہتھیار ہیں، آگ اگلتے جنگی اوزار ہیں، وجود پگھلا تا بارود ہے یہاں تک کہ وہ مہاویر واسکو کو تباہ کرنے کے آخری دہانے پر کھڑا ہے۔"
ور جینا نے گردن موڑ کر مہاویر کا سائیڈ رخ دیکھا جو آدھا ہیرے اور آدھاروشنیوں کی نذر ہوتا اسے ایک مختلف انسان کا تاثر دینے لگا۔
"لیکن وہ مجھے برباد کرنے سے خوف کھائے بیٹھا ہے اور وجہ جانتی ہو؟"
"اور کون ہو سکتا ہے اسکے سوا جسے تم نے دینا سے چھپا رکھا ہے اس قدر کہ وہ ہر جگہ ہے مگر دکھائی تک نہیں دیتا۔"
اندھیرے میں بکھری روشنیوں کی کوئی کرن سیدھا ور جینا اور واسکو کے گلے پر پڑی تھی۔ اس کے تیکھے نقوش سبز روشنی کے حالے میں کسی میوزیم میں رکھے بے جان مجسمے کا حصہ لگنے لگے۔ اگر مہاویر کی نظر پڑ جاتی تو وہ خود پر طاری ہوئی حیرت سے نکل کر اسکے چہرے کی بناوٹ میں کھو جاتا۔
"جب جنگیں یقینی ہو جائے تو خطرناک ہتھیاروں کی بڑی حفاظتیں کرنی پڑتی ہیں انہیں سر عام نہیں رکھا جاتا، اور وہ جنگوں کے دور کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے، ورجینا!"
"مہاویر واسکو کی محبتوں سے سینچا گیا تباہ کن ہتھیار۔۔"
ہجوم سے وی کانٹ بلیو والے جملے بڑھتے جا رہے تھے۔ سلیبر ٹیز کے چہرے حیرت اور خوف کے ملے جلے تاثرات میں غرق تھے جبکہ میڈیا کے سارے کیمروں کا مرکز اس وقت کوبرا آرٹیکل تھا۔ ماحول فشن شو سے زیادہ ناگ میونزم بنا ہوا تھا۔
"کون، ہیلز میں کوبرا سانپ قید کر سکتا ہے؟ آخری ہے کون واسکو کا اتنا خطرناک ڈیزائنر؟"
ہجوم کی آوازیں مہاویر کے کانوں میں پڑتیں رس گھول رہی تھیں۔ کیسے ایک پل میں اسکا ہتھیار لوگوں کے دماغوں میں خوف بھر جاتا تھا۔ مہاویر سر پیچھے پھینکنے دونوں ہاتھ بالوں سے گزار کر گردن پر باندھ گیا۔ کیلیساح کی ان چاہی نظر اس پر جاپڑی تھی۔ کتنی بار اسکا یہ انداز وہ سکرینوں پر دیکھ چکی تھی۔ کیسی ایڈٹس بنائی جاتی تھی مہاویر واسکو کے اس انداز پر۔ آج آنکھوں کے سامنے دیکھاتواسے اندازا ہواکتنی سحر انگیز شخصیت کا مالک تھا۔ صور پھونکتا ہوا۔سحر طاری کرتا ہوا۔
تیسری ماڈل کے آنے تک لوگوں کی سرگوشیاں بڑھتی چلی گئی۔ دوسری برانڈز کو اب واسکو کو کاپی کرنا بھی ناممکن ہوتا نظر آنے لگا تھا۔ کیلیساح کی نظر سامنے سے آتی تیسری اور آخری ماڈل پر پڑی۔ جسکے پاؤں کے نیچے واسکو کا لوگو ڈیزائن کیا گیا تھا۔ عجیب دھاری دار تراشا ہوا۔ جسے کسی کو اپنا وجود عزیز نہ ہو اور وہ جان بوجھ کر اپنی ہڈیاں تڑوانے کے لیے اسے پہن لے۔
دنیا ویسے ہی واسکو واسکو نہیں چلاتی تھی۔ مہاویر نے فیشن کے نام پر انکے دماغوں کو مٹھی میں جکڑا ہوا تھا۔
ماڈل کے پاؤں سختی سے ہیل میں جکڑے ہوئے تھے یہاں تک کہ اسکا چہرہ بھی پاؤں سے اٹھتے درد کے آثار بیان کر رہا تھا۔ چہرہ تمہیں یاد ہو تو کار سکل کے ہاتھوں مر چکی عماؤس کا شیطانی چہرہ؟
ایک بار پھر ہجوم کی سراہی آنکھوں میں ستائش کے جگنو دوڑنے لگے۔ نوکیلے سول پر چلتی اس ماڈل کا انداز واقعی قابل داد تھا۔ کچھ وقت جلوہ گر ہونے کے بعد وہ واپسی کے راستے پر پلٹ گئی۔ سب ٹھیک چل رہا تھا۔ لایم لائٹ۔ ریٹنگ۔ چرچے۔ بیلنس۔ تجربہ۔ پھر نجانے کیا ہوا کہ یکدم مہارت سے چلتے اس ماڈل کے گھٹنے میں لچک آئی۔ جو ہر دکھاتا قدم ڈگمگایا۔ جلوہ ناکام ہوا۔ ہیل پر توازن کمزور پڑتے ہی وہ سر کے بل گری تھی اور پوری شدت کے ساتھ کوئی نوکیلی چیز اسکی ٹانگ میں پیوست ہوتی چلی گئی۔ شاید اسی ہیل کا تراشا ہوا نکلا حصہ۔۔
اگلے پل ایک دردناک چیخ نے ماحول میں ارتعاش پیدا کیا تھا اور اسکے ساتھ ہی ہر سوں سناٹا پھیل گیا۔ ایسا ہو سکتا تھا بھلا واسکو ایونٹ اور ماڈل ناگرے؟
یکخت تمام لیر کس روک دیے گئے۔ روشنیاں جہاں تھیں وہی جم گئیں۔ کیمروں کے رخ مہاویر سے ہٹ کر اس ماڈل پرپڑے۔ ور جینا بے ساختہ اٹھ کر سٹیج کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی کہ مہاویر اسے روک گیا۔
(میرے کینوس پر جنکا پہلا آرٹ بنتا ہے۔ وہی ہڈیاں تڑوانے والے ڈیزائن؟) سامنے کے منظر پر افسوس سے سر کو نفی میں ہلاتے کیلیساح کے کانوں میں اس گمنام آرٹسٹ کے قبل از وقت کہے جملے بازگشت کرتے رہ گئے تھے۔ واسکو بے رحمی کے آخری دہانے پر پہنچ چکا تھا۔
اہلکاروں میں سے کوئی آگے بڑھتے اسے اٹھارہا تھا۔ وہ درد کی شدت سے کراہ رہی تھی۔ مہاویر نے فون نکالتے کچھ ڈائل کیا۔ پھر کان سے لگایا۔
"یس باس۔۔!"
سیکنڈ کے بھی نچلے حصے میں جواب موصول ہوا تھا جیسے رابطے کا مخالف سسٹم اسی کال کے انتظار میں ہو۔
"کار سکل کہاں ہے؟" ساتھ ایک نظر اپنے ہاتھ میں پہنی گھڑی کو دیکھا اور دوسری سامنے کے منظر کو۔
"آخری فویٹج 09:27 پر ماڈل فلور سے نکل کر واسکو پیلس کی طرف ہے اسکے بعد سے اسکا فون بند ہے باس۔۔"
آگے سے مزید بھی کچھ کہا گیا تھا مہاویر کے چہرے پر تفکر کے سائے لہرائے۔
"یماک سے بات کرواؤ۔ اسکے کمرے میں مت جانا، ڈیوائس کنیکٹ کرو۔۔"
آواز میں گہری تنبیہ تھی۔ رابطے کی مخالف سمت بیٹھا وجود حکم کی تکمیل میں لگ چکا تھا۔ مہاویر کے کانوں میں پڑتا سکرینوں کا ساؤنڈ اس بات کا ثبوت تھا کہ اسکے مخالف جانے کی ہمت کبھی مشینوں نے بھی نہیں کی تھی.
اگر تم مہاویر واسکو کے سیل سے جھانک کر دوسری طرف دیکھو تو اس وقت نیم خوابناک ماحول میں ڈوبا کسی شہنشاہ کے شہزادے کا کمرہ بیڈ کے بائیں طرف پڑے میز کے اوپر سے وائبریٹ کر رہا تھا۔ سکرین پر نیلاہٹ روشنی میں لکھا انگریزی جملہ "مہاویر وانٹس ٹو کنکٹ یووو۔۔"
ملائم بستر پر تکیوں کے بیچ الٹے سوئے وجود کو اٹھانے کی بھرپور کو کوشش کر رہا تھا۔ لمحوں کی تاخیر طویل ہوئی اور پھر مہاویر کی سماعتوں میں گو نجتی خمار آلود آواز اسے روح تک سرشار کرتی چلی گئی۔
"اپنے پرنس آف ویلز کی نیند میں خلل ڈالنے کے لیے معذرت خواہ ہوں۔۔" مہاویر رکا۔ گہری چشم شوخ ور جینا کے سنجیدہ چہرے پر ڈالی۔
"کیا تم جانتے ہو تمہاری دوسری ماں اس وقت کہاں ہے؟"
وہ اتنا سنجیدہ تھا کہ حد نہیں۔ ور جینا اپنے بازو میں دھرے مہاویر کے دائیں ہاتھ پر آڑھی ترچھی لکیریں بناتے اسکے شوخہ لہجے کو نظر انداز کر گئی۔
"یماک یو ہیئر می؟؟"
مخالف سمت سے پرنس آف ویلز کے مدھم خراٹوں کی آواز مزید مدھم ہوئی جیسے وہ رخ پلٹ گیا ہو یا تکیہ کانوں پر دھر گیا ہو۔
"یماک۔۔؟؟"
"آئی سیڈ ڈونٹ ڈسٹرب می، ماویررر۔۔"
نیند کے خمار میں بڑبڑاتا بچہ اب کی بار غرایا تھا۔ مہاویر نے فون کان سے ہٹا کر باقاعدہ سکرین کو دیکھا اور پھر ور جینا کو جو ہنسی روکنے کے لیے ہونٹ سختی سے میچ کر خود کو ان سنا ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
"ہمم۔۔ تو پھر بتا دیا میرے بیٹے نے دوسری ماں کا پتا؟"
آس پاس دیکھتے وہ محفوظ ہوئی تھی۔ یقیناً مہاویر واسکو اس دنیا میں اگر کوئی ٹکر دینے کی ہمت رکھتی تھی تو وہ صرف ور جینا واسکو تھی جسے دی گئی یہ ہمت مہاویر واسکو کی اپنی عنایت کردہ تھی۔
"یماک کے والد کے اثرورسوخ کو کچھ زیادہ ہلکے میں نہیں لے رہی آپ، مس مہاویر؟"
اب کی بار مہاویر کے لہجے میں وہ تھا جسے ور جینا کبھی سمجھ نہیں سکتی تھی وہ اسکے اثرور سوخ کو کبھی سمجھ ناپائی تھی البتہ اب مہاویر کے ہاتھوں پر اسکی انگلی سے بننے والی آڑھی ترچھی لکیروں کی جگہ الفابیٹ کے تین حروف لے گئے تھے (M, V, Y) اور پھر V کے دونوں سروں سے کھینچ کر بنایا گیا واحد دل جس میں باقی کے حروف قید ہو جاتے۔
"میرے لیے کوئی حکم باس؟"
یماک سے رابطہ ٹوٹتے ہی ایک بار پھر فون پر مشینی آواز گونجی۔
"یماک کے کمرے کا ٹیمپریچر بڑھادو۔ وہ جہاں بھی ہو اسکی نظر میرے بیٹے پر ضرور ہوگی۔ تم اسے نہیں ڈھونڈ سکتے، مہاویر اسے نہیں ڈھونڈ سکتا لیکن میرا بیٹا اسے ڈھونڈ سکتا ہے۔"
"جو حکم باس۔"
کال کاٹی جا چکی تھی جبکہ مہاویر کی پہلی بات پر ور جینا کے وجود میں چیونٹیاں سی رینگنے لگی۔ مہاویر کے بازو پر اسکی گرفت ڈھیلی پڑی اور پھر وہ اپنا بازو نکال گئی۔ سامنے کے منظر میں واسکو کا عملہ زخمی ٹانگ پر مرہم باندھ رہا تھا۔
"ہمارا بیٹا ہے وہ مہاویر تم کیسے اسکے ساتھ ایسا کر سکتے ہو؟ پانچ سال کا ہے وہ صرف۔۔ تم اس معمولی ورکر کے لیے بیٹے کو استعمال کروگے اب؟"
ور جینا نے گردن موڑ کر زخمی نگاہوں سے اسے دیکھا۔ جس جگہ وہ اس وقت بیٹھی تھی اس سے بڑھ کر رد عمل دیواوہ فورڈ نہیں کر سکتی تھی۔
"معمولی نہیں ور جینا معمولی نہیں۔ جس پناہ گاہ میں تم تین حروف لکھ کر انہیں محفوظ کر دیتی ہو اسکے باہر بھی ایک حرف ایسا ہے جو انسانی شر سے غیر محفوظ ہے۔ وہ تنہا ہے اور اسے میں نے محفوظ رکھنا ہے۔ قدرت ہر بار مہاویر پر اتنی مہربان نہیں ہو سکتی کہ اسے ایک جنم میں دوبارہ کار سکل نوازے۔"
ور جینا سے نظر ہٹاتے اسنے ایک ہاتھ سے سامنے کھڑے عملے کو معاملہ جلد رفع دفع کرنے کا اشارہ کیا۔
ور جینا نے بے چینی سے گردن مسلی۔ اسے سانس لینے کو جگہ تنگ پڑنے لگی تھی۔
بات اولاد کی ہو توور گوں میں دوڑتے خون کی گردش باپ کی نسبت ماں کی زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔ باپ سخت دل سخت جاں اور سخت طبیعت ہو سکتے ہیں، لیکن ظالم نہیں ہوتے۔ بس انکے فیصلوں میں ماں کی نظروں سے اوجھل خیر چھپی ہوتی ہے۔
"تم دنیا کو بے وقوف بناتے ہو مہاویر کہ تمہیں واسکو عزیز ہے اسکا نام عزیز ہے اپنی پہچان عزیز ہے لیکن سچ یہ ہے تمہیں کار سکل سے زیادہ عزیز کوئی نہیں، میں بھی نہیں۔۔"
تھوڑی دیر پہلے والی ور جینا کے چہرے کی چمک مانند پڑ چکی تھی۔ ناخنوں کی شدت سے اسکی دودھیا گردن پر سرخ لکیریں ابھر آئیں۔ اسکا بس چلتا وہ یہ دنیا تیاگ کرا اپنے بیٹے کے پاس پہنچ جاتی۔ مہاویر نرمی سے اسکا ہاتھ گردن سے ہٹاتے اپنے گرم ہاتھوں کی حدم میں لے گیا۔
"کار سکل میری طاقت ہے ور جینا۔ اور مرد کو پہلا عشق طاقت سے ہوتا ہے عورت سے نہیں۔" مہاویر کا لہجہ کچھ اور تھا۔ بہت اور۔۔ سکرینوں کی دنیا پر موجود لہجے کی دھجیاں اڑاتا ہو۔
اہلکار ماڈلز کو اٹھاتے اندھیرے میں گم ہوتے چلے گئے۔ آج ایک اور ماڈل کی سرخیاں بنی جانیں تھیں۔ سوشل میڈیا پر اسکی ریٹنگ بڑھنے والی تھی۔ ایک دنیا ہوٹلوں ، سڑکوں ، شاہراہوں ، ساحلوں اور ڈھابوں پر بیٹھ کر فرصت سے واسکو پر گفتگو کرنے والی تھی۔ بلاگر اور انفلوئنسر صرف فیم کی حد تک واسکو کو تنقید کا نشانہ بنانے والے تھے۔ کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے یہی ہوتا چلا آ رہا تھا۔ واسکو کو بدنام کرنے کے چکروں میں آدھی دنیا اپنا نام بنا چکی تھی۔
واسکو کی ماڈل کا گرنا جب انہیں فیم دلانے لگا تو وہ اپنی ہڈیاں تک تروانے پر راضی ہو گئی۔ اگر کبھی مرنا فیم دلانے لگاتو دنیا سائیکو پیتھی کے اس آخری مرحلے پر پہنچ چکی ہے کہ وہ سکرینوں پر خون کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ بلاشبہ اکیسویں صدی کے لوگ، ماضی کی تاریخ میں بے خوف اور بے رحم مخلوق کے طور پر پکارے جائیں گے۔
کیلیساح نے ایک بار پھر پورے گراؤنڈ فلور میں نظر دوڑائی۔ کار سکل اسے کہیں نظر نہ آیا۔کتنا عجیب انسان تھا اپنے بنائے شہکار کو اپنی ہی ستائشی نظروں سے محروم کر رکھا تھا۔
تینوں ہیلز کی لانچنگ ختم ہوتے ہی ایک بار پھر روشنیاں ہر طرف پھیر دی گئی۔ لوگ ایک سے بڑھ کرا ایک ڈیزائن کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے۔ وی آئی پی نشستوں پر بیٹھے انٹرنیشنل برانڈز کے اونرز آخری اناؤنسمنٹ کے انتظار میں بے تاب نظر آتے تھے جب یہاں بیٹھے مختلف برانڈز سے کسی ایک کو واسکو کے مقابل آنے کے لیے چنا جانا تھا۔ مہاویر واسکو ایک بار پھر سٹیج کی جانب بڑھتا دکھائی دیا۔
لمبے چوڑے مضبوط شانے۔۔ سیاہ لباس میں نمایاں ہوتا دراز قد۔۔ مشرقی نقوش۔۔ گہرائی سے دیکھتی گہری سیاہ آنکھیں۔۔ بے حد سفید ہاتھوں کے مقابل ہلکا گندمی چہرہ۔۔ تھری پیس ڈیزائنر ڈریس میں بالوں کو سلیقے سے سیٹ کیے۔ دائیں ہاتھ میں سفید ہیروں کی گھڑی (عموماً دائیں ہاتھ میں پہنتے ہیں) اور دوسرے ہاتھ سے چہرے کے گرد مائیک ٹھیک کرتا ہو امہاویر خان واسکو!
نہ جانے کیوں اسے دیکھتے ہی دلکشی آنکھوں میں گھلنے لگتی تھی۔
"پچھلے ایک سال سے واسکو کی نظر ان تمام فیشن ڈیزائنر پر تھی جو واسکو کے مقابل آنے کی لگاتار کوشش کرتے رہے۔ اس دوران کافی ایسے چہرے بھی بے نقاب ہوئے جنہوں نے واسکو کے ہنر مند دماغوں کو خریدنے کی کوشش کی حالانکہ وہ مہاویر سے ہاتھ ملاتے تو واسکو انہیں کبھی مایوس نا لوٹاتا۔"
وہ دنیا کو اسکی کہنی چال اور اپنی آگاہی سے خبر دار کر رہا تھا۔ وہ خبر دار بھی کرتا تھا اور چاہنے والے دستبردار بھی نہیں ہو پاتے تھے۔ میٹھے لہجے بھی بھلا کے غضب ناک ہوتے ہیں۔
"اسے واسکو کی خاصیت کہے یا پھر اصول، واسکو ٹیلنٹ ضائع نہیں ہونے دیتا۔" چند لمحے وہ تھا۔ ایک گہری نگاہ دائیں ہجوم پر ڈالی۔ کئی چہروں نے رخ بدل لیے تھے۔
"بقول میرے انویسٹیگیٹرز اور ڈیزائنرز کے؛ انٹرنیشنل لیول پر واسکو کے بعد سب سے زیادہ فروخت ہونے والا آرٹیکل (A براؤن Z) ہے۔"
پیچھے سکرین پر اس آرٹیکل کا سکپچ واضح ہوا تھا۔ کیلیساح کا دل یکدم سکرا۔ کیا وہ دنیا کے سامنے اسے اپنے مقابل کھڑا کرنے کے لیے بلانے والا تھا؟
"اس لیے واسکو آفیشل اپنی مکمل جانچ کے بعد آنے والے وقتوں میں ساتھ کام کرنے کے لیے جس برانڈ کا انتخاب کر چکا ہے وہ ہے۔۔۔"
پورے ہجوم کو سانپ سونگھ گیا۔ شاید کہیں وہ جانتے بھی تھے کہ سکرین پر موجود وائرل آرٹیکل کس برانڈ کی پہچان ہے۔
کیا آپ نہیں جانتی ریجیکشن از آپوائنزن؟
کیلیفورنیا میں ابھرتا ٹیلنٹ انکی نظروں سے مخفی نہیں رہ سکتا۔
ہزاروں میں سے صرف آپکا پھینکا پتاہی واسکو کی نظروں میں آیا۔ کافی اچھی قسمت کی علامت ہے یا نہیں؟
کئی آوازیں۔ کئی خوف۔ کئی اندیشے۔۔۔
"کیلیساح لیگیّسی"
مہاویر واسکو کی ایک پکار۔۔ اور آدھی دنیا کی دو تہائی سکرینوں پر کیلیساح برانڈ کا لوگو چمک اٹھا۔
"شاطر سبلنگز۔ آخر کار واسکو کو اپنے آگے بچھا کر ہی دم لیا۔"
زاشانے گردن کو ناخنوں سے نوچ لیا تھا۔ اسکا بس چلتا وہ چلتا چلا کر آسمان پھاڑ دیتی۔
"تو، مس کیلیساح نوح! کیا آپ واسکو لایم لائٹ کی طرف قدم بڑھانا چاہیں گی؟"
اور اس ایک جملے کے لیے تو جال ساز نے سالوں پہلے جال بچھاایا تھا۔ کون یقین کرتا کہ اس کم عمر خاتون پر ایک ہپناٹسٹ ہونے کے سارے اصول درست بیٹھتے تھے۔
دائیں طرف موجود لوگوں کے چہرے اتر سے گئے۔ وہ اپنے ہنر کے زینوں پر قدم رکھتے واسکو تک آتے تو آج مہاویر واسکو انہیں یہ عقیدت نواز رہا ہوتا۔ پچھتاوا انکے آتے جاتے رنگوں پر نقش ہو چکا تھا۔ ہر آنکھ میں کیلیساح نوح کے لیے حسد تھا۔ بے یقینی تھی۔ زاشا پاگلوں کی طرح چیختے پھاڑ ہو کرگر نے لگی تھی یہ الگ بات ہے کہ اس کی طرف کھڑے ایک باوردی محافظ نے اسے گھور کر دیکھا تو واپس بیٹھ گئی۔ بڑی بڑی معزز شخصیات نے بھی تالیاں بجاکر کیلیساح کو مبارکباد پیش کی تھی۔ تیکھی نظروں اور بے ترتیب شور میں اپنی نشست سے اوپر اٹھتے قدم قدم آگے کی طرف بڑھتے کیلیساح نوح کی آنکھوں میں گزرے زمانے ایک پل میں سمٹ آئے تھے۔
( سمندر کی لہروں میں ڈھولتی ایک کم عمر لڑکی۔۔)
( اس کو پکڑتے دو ہاتھ اور پھر کندھے سے لگاتا وجود۔۔)
( میں اسکو محفوظ کرلوں نوح، تم جاؤ۔۔)
( جب بھیڑیا ہمیں کھانے آتا ہے تو کیا کرتے ہیں؟)
( ہمیں پانی کے اندر سانس روکنی ہوگی ورنہ بھیڑیا ڈھونڈ لے گا ہمیں۔۔)
( روکوگی نا؟)
( وہ مجھے کھا نہیں جائے گا؟ وہ پوچھ رہی تھی۔۔)
(تم مہاویر کے پناہ میں ہو، بھیڑیا ڈر جائے گا۔۔)
روش ختم ہو چکی تھی اب وہ سٹیج کی سیڑھیوں چڑھنے لگی۔۔
( سمندر میں آگ برساتے بیڑے۔۔ پانی کی گہرائیوں میں غوطہ لگاتا مسیحا۔۔ اور اسکے کندھوں سے لگی خوفزدہ لڑکی۔۔)
وہ سٹیج پر چڑھ چکی تھی۔ دنیا کے مختلف حصوں سے اٹھی رشک اور حسد بھری نگاہیں اس پر تھیں۔ مہاویر واسکو تک پہنچتے جیسے ہی وہ پلٹی۔
دور بہت دور، نشستوں سے پیچھے اندھیرے کے عکس میں اس کی نظر ایک سائے پر پڑی۔ جو دیوار سے ٹیک لگائے منہ میں کوئی دھواں نماچیز پکڑے اسی طرف دیکھ رہا تھا۔ تو کیا وہ سارے وقت میں یہیں موجود تھا جسے واسکو کی چمکتی دنیا میں گمنام سمجھ بیٹھی تھی؟
فلیش پھینکتے کیمروں کے بیچ و بیچ کھڑے ناجانے کیوں وہ ایک لمحے کے لیے بھول گئی تھی کہ وہ سٹیج پر اس انسان کے ساتھ کھڑی ہے جس کے ساتھ کھڑے ہونے کے وہ سپنے دیکھتے بڑی ہوئی تھی۔
جس کے پروفیشن پر وہ کیلیساح برانڈ کھڑی کر چکی تھی۔ جس کے سراہنے کے لیے وہ ایک ان چاہ ہنر اپنائی تھی۔ جو اسکی چو بیس سالہ زندگی کا پہلا دل کو بھایا مرد تھا۔ اسکی پہلی پسند۔ کم عمری کا عشق اور جوانی کا روگ۔ اسکو سمندر سے سے بچا کر لانے والا مسیحا_ برفوں کے سراب کے بعد حقیقت کی جاگتی آنکھوں سے بنایا گیا پہلا تخیل۔
اسکا حسد_ گہر احسد۔
سب یاد آتے سامنے دھواں ہو تا منظر اسکے آگے پھیکا پڑتا چلا گیا۔ وہ جان گئی تھی وہ اس وقت کس کے ساتھ کھڑی ہے اب اسے دنیا کو بتانا تھا۔
وہ دو قدم پیچھے ہوتے مہاویر کے قریب ہوئی۔ مہاویر واسکو کے کندھوں تک آتی تھی کیلیساح نوح۔
بیچ فاصلہ تھا وہ مزید ایک قدم پیچھے ہوئی۔ اب وہ اسکے برابر آ چکی تھی یہاں تک کہ اسکے اور مہاویر کے کندھے کے بیچ صرف ہوا گزرنے کا راستہ باقی رہ گیا تھا۔ دیکھنے والی آنکھوں کو یوں لگتا جیسے وہ تصویر بنانے کو قریب ہوئی ہو لیکن اسے تو آدھے ارض کو دکھانا تھا. زرا اپتا تو چلے دنیا کو؛
جاگتی آنکھوں کے خواب یوں بھی پورے ہوتے ہیں کبھی بارشوں میں آگ یوں بھی لگائی جاتی ہے!
وہ کبھی کیمرے کی طرف دیکھتی تو کبھی دوسرے کی طرف۔ کلک کلک کے ساتھ سینکڑوں تصاویر سان فرانسسکو کی تاریخ میں محفوظ ہوتی چلی گئیں۔
"مس کیلیساح!
کافي غیر اخلاقانہ طریقے سے واسکو کا ماڈلنگ پروپوزل ٹھکرا چکی ہیں آپ۔ حیرانی نہیں ہو رہی آپکو یہاں کھڑے ہونے پر؟"
مہاویر واسکو اس سے ہمکلام کیا ہو اساری دنیا کی آوازیں کیلیساح نوح کے لیے حرام ٹھہر گئیں۔ ور جینا واسکو کی بے تاثر نگاہیں سامنے کے منظر پر ٹک چکی تھیں۔ اسکے تاثرات سے اسکے دماغ میں چلتے خیالات کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔ شاید یہی منفرد حس لکھاریوں کو دوسروں سے الگ بناتی ہے۔
آج طویل عرصے کے بعد کیلیساح نے سامنے کھڑے مہاویر کی آنکھوں میں براہ راست دیکھا تھا۔ آخری بار تب جب وہ اس سے پوچھ رہی تھی کیا اسے سمندر کا بھیڑیا کھا جائے گا؟
تب ان سیاہ آنکھوں میں مسیحائی تھی۔ یقین تھا۔ لیکن آج اسکی آنکھوں میں دلکشی تھی۔ غرور تھا۔ بادشاہت تھی۔ بے شمار محبتوں کا خمار تھا۔ بس ایک لمحہ اور وہ نظر ہٹا گئی۔
"اہم۔۔ لگتا ہے آپکو حقیقت پر یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے ورنہ مہاویر واسکو کے ساتھ کھڑا کوئی شخص اتنی دیر خاموش کیسے رہ سکتا ہے کیا اسنے دنیا کو کچھ نہیں بتانا؟"
اسے خاموش دیکھ وہ آنکھیں چھوٹی کیے شوخہ ہوا۔ خود کے نام کا کتنا مان تھا اسے جیسے دنیا کے لیے بے تاب بیٹھی ہو۔ گمان غلط تو نا تھا؟
"پلیز اب مجھے چٹکی کاٹنے کا مت کہیے گا میں چالیس کے ہندسے کو پار کر آیا ہوں بس کوئی یقین نہیں کرتا یہ الگ بات ہے۔"
اسکے جھینپ کر کہنے پر دبلا قہقہہ چاروں طرف سے بلند ہوا تھا۔
"مجھے تو نہیں ہاں دنیا کو مجھے آپکے ساتھ دیکھ کر ضرور ہو گا۔ حسد؟ حیرانی؟ رنجش؟ دکھ؟ اور بے یقینی؟"
وہ جو کبھی نہیں مسکراتی تھی کھلے دل سے مسکرادی۔ بڑی مشقتوں کے بعد گال میں ایک طرف گڑھا بنتے اگلے پل غائب ہوتا چلا گیا۔ مہاویر واسکو بھی سر گراۓ دھیما سا مسکرادیا۔ زاشا اب اپنے فون سے اسے زوم کرتے لمحے محفوظ کرنے لگی تھی.
"ایسا مت بولیے مس کیلیساح۔ ویسے بھی مسز مہاویر کو اپنی کہانی کا ولن نہیں مل رہا کہیں اگلے سال کلیمکس میں، میں ہی نا نظر آنے لگوں۔ بات ہے تو نہیں بتانے والی لیکن بتا دیتا ہوں مہاویر واسکو اپنی محبوبہ سے بڑا خوف کھاتا ہے۔"
وہ بیچاری سے گردن کو کھجھاتا ہوا اتنا حسین لگتا تھا کہ ہجوم کھلکھلا اٹھا۔ ور جینا واسکو کی اٹھی گردن مزید تن گئی۔ ساری دنیا بھی اسکے ساتھ جاکر کھڑی ہو جاتی تب بھی وہ اسی کی ملکیت رہتا۔ یہ مہاویر واسکو کی اپنی عورت کو نوازامان تھا، اور مان نوازی عور تیں بھلا خوف کھاتی ہیں؟
"جنکے پاس ساگر ہوں وہ جل دھارا میں اٹھتی لہروں سے خوف نہیں کھاتے مسٹر واسکو۔ آپ کی وومن کے پاس ساگر ہے۔ گہرا ٹھٹرتے مارتا ہوا ساگر۔"
ناجانے کس خیال کے زیر اثر وہ بولی تھی۔ شاید وہ پہچان لے اسے؟ شاید وہ اسے یاد ہو؟
مہاویر واسکو نے اپنے ہاتھ بلند کرتے اسے داد دی۔ "اگر آپ فیشن ڈیزائنر نہ ہو تیں تو ایک عظیم رائٹر ہو تیں اور آپ کی کتابیں مغرب کے قدیم کتب خانوں میں محفوظ۔۔"
کیلیساح کے ہونٹ بھینچنے پر ایک بار پھر گال میں گڑھا ابھر کر مدھم پڑا۔ آنکھوں میں جلتے دیے بجھ سے گئے۔ مہاویر واسکو سے پہنچانے سے انکار کر چکا تھاچاہتا تھا کہ کیلیساح کے دکھ پر ماتم کرے۔
"میری ریکیجیکشن کا کافی گہرا رنج ہے آپکو۔ لگتا ہے آپکا کوئی شہکار میرے بنا ادھورار ہا؟"
لہجے میں لہجہ اور انداز بدلتے وہ فاصلے پر ہوتے اپنے ازلی خول میں واپس پلٹ آئی۔ باوقار عورتوں کو جب عشق اور وقار میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ عشق کا گلا گھونٹ دیتی ہیں۔دہائیوں پرانا عشق آج کیلیساح کے بے رحمی پر بن آب کی مچھلی کی طرح تڑپتا دکھائی دیا جس پر پاؤں رکھ کر کیلیساح نے آگے بڑھ taxas اور مغرب کی ہواؤں نے اس باوقار عورت کے وقار پرستائش سے سر جھکا دینا تھا۔
"مجھے نہیں میرے آرٹ کو۔ اسکی عمر بھر کی ریاضت تھا جو آپ کا انکار آگ کی نظر کر چکا۔"
بنا کیلیساح کی طرف دیکھے مہاویر نے اپنی ٹیم کو مخصوص اشارہ کیا۔
جبکہ کیلیساح اپنی سماعتوں میں پڑنے والے اس مختصر جملے پر حیران ہوئی تھی۔ گہری حیران۔ اور کوئی نہیں لیکن وہ جانتی تھی واسکو کا وہ آرٹسٹ کون تھا۔ اسنے مڑ کر دیکھا۔ تھوڑی دیر پہلے جہاں وہ کھڑا تھا اب وہاں مرغولے کھاتاسفید دھواں تھاجو کیلیساح کے پلٹنے سے عین وقت پہلے اس گمنام آرٹسٹ کے چلے جانے کی گواہی دے رہا تھا۔
"واسکو کا آفیشل آرٹسٹ! کار سکل۔"
"آپکا انکار ایک شہکار آگ کی نذر کر چکا۔"
"اپنی باس سے کہنا انسانوں کو انکی صورتوں سے جج نہیں کرتے۔"
"بنامیری مرضی کے مجھے کوئی نہیں ڈھونڈ سکتا۔"
"شکل سے توہپناٹسٹ نہیں لگتی آپ؟"
مختلف آوازیں گڈ مڈ ہوتے کیلیساح کے دماغ پر پہرہ زن ہوئیں تھیں۔
لفٹ سے نکلتے واسکو کے باوقار نمائندے ایک بڑا باکس لاتے دکھائی دیے جو مہاویر واسکو آگے بڑھ کر ان سے تھام گیا۔ اب وہ اسکی جانب بڑھ رہا تھا۔
"آپکا نام شروع سے سلیکٹڈ تھا اس لیے پورے ایونٹ کے دوران آپ کے ہیلز پر آنے والے رینڈم تاثرات ریکارڈ کیے گئے ۔ میری مسز نے اپنے پسندیدہ ڈیزائنر کے لیے واسکو کا کوبرا ہیل آرٹیکل منتخب کیا تھا لیکن وہاں آپ کافی سنجیدہ دکھائی دیں۔ مون آرٹیکل پر آپکے تاثرات متاثر کن تھے۔ سو پہلا تحفہ واسکو انڈسٹری کی طرف سے لیگیسیز کی ینگ باس کے لیے۔"
مہاویر مون، ہیلز کا باکس اسے تھما گیا۔
واسکو واقعی خطرناک تھے اس کے علم میں لائے بغیر وہ اسے جانچ بھی چکے تھے۔ مدھم سا مسکراتے اسے تعجب ہوا۔ جس چاندی کو پانے کی لوگ امید کھو بیٹھے تھے وہ اسکے قدموں میں پیش کیا جا چکا تھا۔
اور اسکے ساتھ ہی دور اندھیروں میں بھاگتے کسی وجود نے کانوں سے کوئی مشینی آلہ نکالتے زمین پر دے مارا۔ دوڑتے قدموں کی رفتار بڑھتی چلی گئی تھی۔ پسینے کی بوندیں اسکے جسم سے پانی کی مانند بہہ رہی تھیں۔
"ہمالہ ہ ہ اااااااااااا۔۔"
تنفس بگڑتے وہ گھٹنوں پر جھکا اور پوری شدت سے چلا دیا۔ گہرا۔ درد بھرا۔ بے بس ہو کر۔۔ زوال کی طرف بڑھتا عروج شروع ہو چکا تھا اس وجود کے دوڑتے قدموں کی بچھائی گئی بساط پر۔