قونیہ کے پر شکوہ شہر سے ذرا دوربحیرہ
ایجیئن کے ساحل کے ساتھ بھی قدیم عمارتوں
میں ایک خفیہ تنظیم کام کرتی تھی، جسے
محافظین اناطولیہ کہتے تھے۔ اس ٹیم کا
سربراہ تھا زایان رحمانی پاشا.زایان ایک
غیر معمولی شخصیت کا مالک تھا۔ وہ نہ
صرف ایک ماہر جنگجو، ایک کامیاب بزنس
مین تھا ، بلکہ اس کی خوبصورتی کا چرچا
بھی عام تھا۔ اس کے بال گھنےآنکھیں
گہری اور چہرہ ایسا تراشا ہوا تھا کہ ہر
کوئی اس کی طرف دیکھے بغیر رہ نہ
سکتا تھا۔تاہم اس ظاہری دلکشی کے پیچھے
ایک مضبوط فولادی عزم چھپا تھا۔ وہ
ترکی اور پاس کے علاقوں میں ہونے والے
ہر طرح کے ظلم اور غیر قانونی سرگرمیوں
کو روکنے کا کام کرتا تھا زایان کی ٹیم چار
افراد پر مشتمل تھی ، ہر ایک اپنے شعبے
کا ماہر الہان ٹیم کا ٹیکنیکل ماسٹر اور ہیکر
وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں کمپیوٹر سسٹم کو
کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا ابرو
ایک ماہر مارشل آرٹسٹ اور خفیہ نگرانی
کی ماہر۔ وہ ایک سائے کی طرح حرکت کرتی
تھی عارف ٹیم کا رابطہ کار اور حکمت عملی
ساز ، جو کسی بھی صورتحال میں پر سکون
رہ کر بہترین حل نکالتا تھا۔ لیلٰی میڈیکل اور
فورینسک کی ماہر، جو ہر مشن کے بعد جسمانی
اور تکنیکی شواہد کو سنبھالتی تھی۔ان کی
سب سے بڑی دشمنی ایک بین الاقوامی
مجرم عبد الرحمن سے تھی، عبدالرحمن کا
گھناؤنا کاروبار معصوم لڑکیوں کی خرید و فروخت
کا تھا وہ غریب اور ضرورت مند علاقوں سے
لڑکیوں کو اغوا کرتا یاجھانسہ دے کر لاتا اور
پھر انہیں دنیا کے تاریک علاوں میں بیچ دیتا
تھا۔رات کی تاریکی
میں، سمندر کی دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ٹیم
نے خفیہ طور پر یارڈ میں داخل ہوئی۔الہان نے
سیکیورٹی کیمروں کو جام کیا ایبرو نے گارڈز کو
غیر مسلح کیا اور عارف نے نکلنے کے راستے
محفوظ کیےزایان سب سے آگے تھا اس کی نگاہیں
شیر کی طرح ہر حرکت پر تھیں۔جب وہ گودام کے
اندر داخل ہوئے، تو وہاں انہوں نے کئی خوفزدہ
لڑکیوں کو بند پایا زبان اور اس کی ٹیم فوراً انہیں
آزاد کروانے لگے، لیکن اسی وقت عبدالرحمن کے
سب سے خطرناک ساتھیوں نے حملہ کر دیا
زایان کی نظر ایک لڑکی پر پڑی جو ایک کونے
میں چھپی ہوئی تھی۔ وہ باقی لڑکیوں سے زیادہ
سہمی ہوئی اور زخمی لگ رہی تھی۔ جیسے ہی
ایک دشمن اسے پکڑنے کے لیے آگے بڑھا زایان
نے برق رفتاری سے اس کو مار گرایا اور
لڑکی کی طرف بڑھا
خوفزدہ نہ ہو ، " زایان نے ترک
زبان میں سرگوشی کی، اس کی آواز میں گہری
ہمدردی تھی۔ "تم محفوظ ہو، میں تمہیں بچانے
آیا ہوں۔عبدالرحمن کی گرفتاری اور گودام میں
کامیاب آپریشن کے بعد زایان رحمانی پاشا کی ٹیم نے
آئلہ اور دیگر بچائی گئی لڑکیوں کو استنبول کے
ایک محفوظ ٹھکانے پر منتقل کر دیا۔آئلہ، جو اب
با ضابطہ طور پر آئکہ کہلا رہی تھی (جس کا
مطلب چاند کی روشنی تھا)آئیلہ کو ایک مہمان کے
طور پر رکھا گیا تھا، مگر حقیقت میں وہ زایان کے
دل میں ایک اَن دیکھی جگہ بنا چکی تھی۔آئلہ کا
سب سے زیادہ وقت لیلٰی کے ساتھ گزرتا تھا، جو
اسے طبی امداد کے ساتھ ساتھ ترک زبان بھی
سکھا رہی تھی۔ مگر اس کی نگاہیں ہمیشہ زایان کو
ڈھونڈتی تھی زایان نے اس کےبعد
احتیاطاً آئلہ سے براہ راست بات چیت کم کر دی تھی
وہ اپنےاندر پیدا ہونے والے غیر معمولی جذبات
سے خوفزدہ تھا اور انہیں فرض کی سخت چادر میں
چھپانا چاہتا تھا ایک شام، آئلہ ٹھکانے کی
چھت پر بیٹھی تھی، جہاں سے استنبول کی
روشنیاں اور باسفورس کا ہلکا نیلا پانی نظر
آتا تھا۔ وہ ایک پرانی ڈائری میں کچھ لکھ
رہی تھی، جو اسے زایان نے دی تھی۔اچانک
زایان وہاں آیا۔ وہ سادہ سفید لباس میں تھا
اور اس کے چہرے پر معمول کی پُرسکون
چمک کے بجائے ایک گہری سوچ کا تاثر تھا۔
"یہاں اکیلے کیوں بیٹھی ہو، آئلہ ؟"آئلہ
(اٹھ کھڑی ہوتی ہے، اس کی موجودگی سے
دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے) میں بس
شہر کو دیکھ رہی تھی۔ یہ شہر بہت خوبصورت
ہے۔ اور یہ آزادی مجھے لگتا ہے کہ یہ سب
ایک خواب ہے۔"زیان: (آہستہ سے اس کی
طرف بڑھتے ہوئے، اس کی نظریں شہر
کی روشنیوں پر تھیں) "خواب نہیں، یہ حقیقت
ہے۔ تم آزاد ہو۔ یہ ترک سرزمین تمہیں تحفظ
دیتی ہے۔"تحفظ زمین نہیں دیتی، زیان۔ تحفظ
وہ لوگ دیتے ہیں جو اپنا فرض، اپنی جان
سے بھی زیادہ سمجھتے ہیں۔ آپ دیتے ہیں۔"
زیان پلٹا اور آئلہ کو گہری نظروں سے
دیکھا۔ اس کے خوبصورت چہرے پر جذبات
کا ایک ایسا طوفان تھا جسے وہ روک نہیں
پا رہا تھا۔تم مجھ سے اتنی متاثر کیوں ہو؟
میں ایک عام ا عام انسان ہوں۔ میرا رستہ
ہمیشہ تنہائی کا رہا ہے۔"آپ عام نہیں ہیں۔
جس نے ایک مظلوم کو نام اور عزت دی
ہو، وہ عام کیسے ہو سکتا ہے؟ جب میں
اس گودام میں تھی، تو مجھے لگا کہ
میں جہنم میں ہوں۔ لیکن جب آپ نے مجھے
بچایا اور میرا ہاتھ تھاما تومجھے محسوس
ہوا جیسے میرے لیے جنت کے دروازے
کھل گئے ہوں۔آئلہ کی بات میں اتنی سچائی
تھی کہ زاءا کے دل پر تیر چلا دیا ہو۔ وہ روحانی
شخص تھا، مگر یہ جذباتی کشش اس کے
تمام روحانی حصار کو توڑ رہی تھی تم بہت
جذباتی ہو، آنلہ۔ تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔
تمہاری زندگی ایک بڑے صدمے سے گزری ہے۔"
صدمہ نہیں، محبت نے مجھے بچایا ہے۔ اور اس
محبت نے آپ نے مجھے سکھایا کہ میں
مضبوط ہوں۔"زایان کے قدم رک گئے۔ وہ اپنا
سر جھکا لیتا ہے۔ آہستہ سے( اردو میں جسے
اس نے عارف سے سیکھا تھا) تو میرے لیے
بہت مشکل ہے۔ آئلہ "(حیرت سے اسے دیکھتے
ہوئے) " آپ نے کیا کہا ؟"