انتساب
”فقط اک انسان میں تو نہیں بستا محبت کا احساس
تو جہاں بھر کی محبتوں کا شمار کر کے تو دیکھ ۔“
☆ ☆ ☆
لاہور:
”بس ایک بڑی جیت اور پھر سب بدل جائے گا“
اس حبس اور گھٹن زدہ والی رات میں زندہ دلانِ شہر لاہور کی سنسان ہوتی سڑکوں کا سفر کرتے ہوئے نکلو تو کانیں شتر شتر کی آوازوں سے اب بند ہو ناشروع ہو چکی تھیں۔ انہی میں کھڑی دکان نمادہ منزلہ عمارت جو نچلی منزل پر شٹر اور اوپری منزل پر چاروں طرف سے سیاہ شیشے کی گھرکیوں سے ڈھکی تھی البتہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ آیا اس منزل پر کوئی موجود تھا یا نہیں۔
اسی عمارت کی پتھروں والی چھت پر کوئی دراز قد نوجوان لڑکا تیز قدم بھرتا اپنے کان سے فون لگائے ہوئے اپنی کنپٹی کو مسل رہا تھا۔ البتہ چھت کے ملگے اندھیرے میں اس کے نقوش غیر واضح تھے۔
”آجاؤ حارث گیم شروع ہونے والی ہے۔“ اسی پل کسی مرد نے چھت میں داخل ہونے والے دروازے کو دھکیل کر اس کو دھیمی ہانک لگائی تھی۔
حارث نامی وہ لڑکا ابھی بھی یو نہی فون کو کان سے لگائے ہوئے تھا، قدموں میں پہلے سے زیادہ تیزی آگئی تھی۔
اس کی طرف سے کوئی جواب نہ ملنے پر اب وہ مرد اس کی جانب بڑھا تھا۔
”بات کیوں نہیں سن رہے میری، آدھے گھنٹے سے چھت پر ہو، کیا کر رہے ہو آخر؟“
متناسب قد والا مرد اس پر اب کچھ گر گیا تھا
”خاموش۔“ حارث نے انگلی کو منہ میں رکھتے ہوئے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا تھاغالباً دوسری جانب سے کال وصول کرلی گئی تھی۔ وہ جو بولنے والا تھاچار و ناچار چپ سا ہوا۔
”تم سے میں نے کہا تھا دس لاکھ کی گیم کا، کہا تھا یا نہیں؟“ آواز سپاٹ رہی۔
”پھر کس کے باپ کی اجازت سے تم نے ڈھائی لاکھ کی گیم لگائی تھی۔ ہاں، بولو؟“
”اوہ! فار گاڈسیک، تمہیں واقع ہی لگتا ہے میں کوئی داؤں گاؤں اور وہ بازی نہ جیتوں۔“ لہجہ خود شناس ہوا۔
”ہم پورے میں لاکھ جیت سکتے تھے، سہیل۔“ وہ جیسے تلملا کر بولا۔
”تمہاری یہ ڈرنے کی عادت نے میرا بہت نقصان کروایا ہے۔“ آواز میں افسوس در آیا۔
وہ مرد حارث کے قریب ہی کھڑا تھا۔ کچھ کوفت زدہ سا۔
”خیر یہ جو تم نے میرے ساتھ ساڑھے سات لاکھ کی دھاندلی کرنے کی کوشش کی ہے وہ تو اب ویسٹ ہو گئی ہے، میں ابھی بارہ بجے تک گیم سینٹر میں ہوں۔ مجھے پیسوں کی ٹرانزیکشن بارہ بجنے سے پہلے چاہیے۔“
وہ اب مقابل کو ہدایت جاری کر رہا تھا۔
”زیادہ میرے سگے مت بنو۔ کو شش تو تمہاری یہ ہی تھی کہ میں کچھ نہ جیت پاؤں۔“
”ورنہ کیا تم جانتے نہیں تھے کہ حارث رحمان جب بھی ہارتا ہے اپنی مرضی سے ہارتا ہے۔“ پھر سے خود شناسی اس کے لفظوں سے ٹپکی تھی۔
”میں گیمز کے معاملے میں اپنا بھروسہ بھی نہیں کرتا تم تو پھر دوست ہو_“ یہ کہتے اس نے فون کا سرخ بٹن دبایا اور کنپٹی کو سہلایا۔
”اور تم ہر وقت میرے سر پر سوار مت ہوا کرو، تمہاری طرح امیر باپ کی اولاد نہیں، ایک ایک پیسے کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔ تم امیروں کو تو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ پیسہ آگہاں سے رہا ہے اور جا کہاں رہا ہے۔“
پتھریلی آواز میں اس مرد کو سخت ست سناتے ہوئے حارث دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا۔ وہ مرد بھی اس کے پیچھے لپکا تھا اور خفگی سے بولا۔
”تم سارے امیروں کو اکٹھا کر کے جلا کیوں نہیں دیتے_ ہر گیمز میں لوٹتے ہو ہم جیسے امیر بچوں کو ابھی بھی نہیں کیا تمہارا اپیٹ بڑھتا۔“
”میں لوٹتا نہیں ہوں، وہ خود کو لٹوانے کے لیے آتے ہیں، کیونکہ امیر لوگ بے وقوف ہوتے ہیں، پیسے کی زیادتی سب سے پہلے ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج کرتی ہے۔“
وہ صاف طنز کر رہا تھا۔ اس کے پیچھے چلتا وہ مرد بڑی طرح تلملایا۔
”اور ہاں میں گھر جا رہا ہوں، آج میرا جیتنے کا کوئی موڈ نہیں ہے۔“ اس نے کہا اور دروازہ کو اندر کی جانب دھکیلا۔
سیڑھیوں میں لگی زرد پیلی بتی عين اس کے چہرے پر پڑی اور اس کے اطراف سے گزرتی ہوئی آگے پیچھے پھیلی تھی۔ حارث نے اپنی آنکھوں کے آگے ہاتھ رکھا اور ابھی ایک قدم آگے لینا چاہا جب اس نے تیزی سے اس کا کندھا پیچھے کو اپنی جانب کھینچا۔
”حارث میں نے پورے میں لاکھ لگائے ہیں۔ دماغ ٹھیک ہے تیرا۔“ وہ دھیما سا چلایا۔
کندھے پر رکھے اس کے ہاتھ کو جھٹک حارث نے اپنا رخ اس کی جانب کیا تھا۔ اس کے گرد زرد ہالا بناتی روشنی اس کے نقوش کو گہرا اور واضح کرتے چلی گئی۔
صاف رنگت پر کھڑے اس کے وجیہہ نقوش اس کو ڈھیروں پل ٹھہر کر دیکھنے والا بناتے۔ ہلکے چھوٹے گھنگھرالے بال جو سلیقے سے پیچھے کو ججھے تھے اور زرد روشنی میں سنہری مائل بھورے معلوم ہو رہے تھے۔
چہرہ بیضوی تھا اور زرد روشنی میں نظر آتی اس کو ہلکی شیو والی ٹھوڑی پر عین بائیں جانب دو سیاہ ہی مائل موٹنگ کے دانے جتنے تل تھے جو اس کی شیو میں چھپے ہوئے قابل نظر تھے۔
اب وہ اپنی سیاہ غلافی آنکھوں میں ڈھیر و ڈھیر تمسخر لیے اپنی ہی عمر کے زرد روشنی میں نظر آتے خوش شکل سے لڑکے کو دیکھ رہا تھا، جس کی گول سیاہ آنکھوں میں فقط مسکریت طاری تھی۔
حارث نے گہری سانس بھری۔
”میں نے کہاناں میرا آج گیم جیتنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، علی۔“ اس نے اپنے ابرو خاصے تمسخر سے اچکائے۔
”برویوں مت کرو میں نے میں لاکھ لگایا ہے۔“ علی نے اس کو پچکارنا چاہا۔
”موڈ نہیں ہے میرا۔“ اس نے بات ہوا میں اڑائی۔
علی کا دل چاہا وہ اس کا منہ یا اپنے آدھے پونی میں چھوٹے سیدھے بالوں کو نوچ ڈالے۔ اس کا چہرہ زچ ہو لگتا تھا۔ مگر اس نے ایک گہری سانس لی۔
”ابھی تو تم نے نے سہیل سے کہا تھا کہ بارہ بجے تک یہی ہوں_“ اس کی آنکھیں سکڑیں۔ گلے میں جھولتی چمکتی زنجیریں زرد روشنی میں کچھ زیادہ ہی چمک رہی تھیں ان کو اس نے آگے پیچھے کیا۔
”ہاں پراب موڈ نہیں ہے میرا،“ وہ اس پل علی کو بہت مغرور معلوم ہوأ
”کیوں ایسی کیا موت آن پڑی ہے تمہیں_“ وہ ترخا_ اس نے ہیں لاکھ لگایا تھا اور اس کا موڈ نہیں بن رہا تھا۔ آنکھوں میں خفگی اتری۔
حارث نے اپنی داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو کھجایا۔ آنکھیں لاپرواہ ہوئیں۔
”ہانی سے ملنے جا رہا ہوں_ ادھر رکا تو شاید دیر ہو جائے گھر واپس بھی جانا ہے۔“ وہ اب اپنی آنکھوں کو مسل رہا تھا۔
اس کی بات سننے کی دیر تھی۔ علی کی رنگت بدلی اور سیاہ چمکتی آنکھوں میں ایک چمک در آئی اور وہ چمک شیطانی سے بھرپور تعلق رکھتی تھی۔
”ہانی، واہ برو! مجھے بھی لے جا۔ میں بھی مل لوں گاہانی میڈم سے۔“ چہرہ کمینگی سے پر ہوا۔
”وہ تم جیسی شکل سے تو کبھی نہ ملے۔“ حارث نے بنا تردید جواب دیا۔ غالبا
”اچھا!“ اس نے اس لفظ کو با قاعدہ کھینچا تھا۔
”بٹ وہ انگیجڈ شکلوں والے لڑکوں سے تو مل لیتی ہے۔ ایسا کیوں؟“ وہ گہرا مسکرایا۔
پر کچھ تھا اس کی بات میں کہ حارث کا چہرہ لمحہ پل کو بدلا تھا۔ مگر بس ایک پل کو۔
”ہاں وہ انگیجڈ اور بہت حد تک تو میر ڈ لڑکوں سے بھی مل لیتی ہے۔ تمہیں کوئی تکلیف_“ اس نے ٹھہر ٹھہر کر کہا تھا۔ چہرہ دوبارہ سے پہلے جیسا وجیہ ہو گیا تھا۔
”مائی فٹ۔“ علی نے ناک چڑھائی۔
”تمہیں کچھ شرم ہے آٹھ سال سے انگیجڈ ہو تم اور میں نے تمہیں اس دوران مسلسل لڑکیاں بدلتے دیکھا ہے۔ تم منگیتر کو چھوڑو تم ان لڑکیوں کے ساتھ لوئی نہیں ہو_“
”تمہیں کوئی تکلیف_“ حارث نے ہنوز لاپرواہی سے کہا۔
”نہیں مجھے کیوں کوئی تکلیف ہوگی، ایزیو سیڈ، کوئی تمہارا باپ نہیں ہے۔“ اس نے جل کر کہا تھا۔
”گڈ_“ حارث نے تھمزاپ دکھایا اور جانے کے لیے مڑنا چاہا پار اگلے ہی پل علی کے الفاظ اس کے پاؤں بری طرح روک چکے تھے۔
”ویسے میں نے سحر آئی مین تمہاری منگیتر کو دو تین بار دیکھا۔“ علی کی آواز بہت تیزی سے حارث کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی اور وہ اسی تیزی سے مڑا بھی تھا۔
”تو؟“
اور علی دیکھ سکتا تھا کہ اس کی سیاہ غلافی آنکھیں کسی کے زیر اثر ڈوب سی تھیں، اور جانے کیوں اس کو مزہ سا آیا۔
”تو کچھ نہیں_“ علی نے دیکھا کہ حارث کے ہاتھ کی مٹھی خود بخود بھینچ گئی تھی۔ وہ یکدم ہی اس کو بے سکون ہوتاڈھا۔ اس کا دل چاہا وہ جھومیں ، اس کا میچ نہیں کھیلے گا تو آج وہ اس کو بھی سکون سے نہیں رہنے گا۔
“But I must say she is very gorgeous.”
حارث کا جبڑا سخت ہوا۔ آنکھیں خود بخود چندھیا گئیں کوئی ابال گردش کرتے خون میں بے اختیار سا اٹھا۔
”یہ ہانی اور تمہاری وہ پرانی ماہین، علییشہ، سارہ ای ٹی سی وغیرہ اس کے آگے کچھ نہیں ہے، سحر کا فگر۔۔۔“ علی اپنی بات مکمل نہیں کر پایا تھا کیونکہ حارث کا خون تیزی سے گردش ہوا اور پھر اس نے جے ہوئے ہاتھ کا مکمف اس کے دائیں گال پر اتنی قوت سے مارا تھا کہ وہ لڑکھڑا کر چند قدم پیچھے ہٹا۔
لڑ کھڑانے کے چند پل بعد علی سیدھا ہوا اور اسے دیکھا۔ جو پھولتے تنفس کو روکنے کی سعی کر رہا تھا۔ جبڑے کی ہڈی سختی سے بھینچ رکھی تھی اور ہاتھوں کو سختی سے دبایا ہوا تھا۔
علی نے ناک سے رستے ہوئے خون کو انگوٹھے سے صاف کیا جبڑا دائیں بائیں کیا۔ اس کا جبڑا کھ رہا تھاور پھر سے مسکرا دیا_
”ہنہ، پوزیسیو۔“ علی کی آنکھوں میں وہی کمینگی تھی۔
حارث نے ایک قدم آگے بڑھایا اور اس کو پیچھے گدی سے پکڑ چہرہ اپنے مقابل کیا، علی کا چہرہ بھی سپاٹ ہوا۔
”آئندہ اگر میں نے تمہارے منہ سے اس کا ذکر سنا اور وہ بھی اس طرح کے الفاظ میں، تو میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں اور تمہارے جدی پشتی رئیسوں والے خاندان کو قرضے میں ایسا ڈوباؤں گا کہ کوئی تمہیں بھیک بھی نہیں دے گا_“
علی نے اس بار ستائشی انداز میں اس کو دیکھ ابرو اچکائی۔ غالباً اس نے اس کے مکّے کا رتی برابر بھی فرق نہیں لیا تھا۔
ابھی وہ کہتا کہ حارث پھر سے ترشی سے بولا۔
”ای ٹی سی والی لڑکیوں کا comparison اس سے بھول کر بھی مت کرنا، وہ میرے لیے کیا ہے کیسے ہے میری کون ہے، یہ مجھے بتانے والے تم کوئی نہیں ہوتے، کیونکہ تم میرے باپ نہیں ہو۔“
”اور وہ لڑکیاں میرے کام کی حد تک مجھ سے منسلک ہیں۔“
چپا چپا کر بولتے اس نے جھٹکے سے اسے چھوڑا اور پھر مڑ کر زینیوں کی جانب تیز تیز قدم لیتا نیچے کی طرف غائب ہوا۔
علی اب اپنی گردن سہلا رہا تھا۔ چہرہ خفگی سے پر ہوا۔
”تم بھی منگیتر ہو اس کے باپ نہیں، خود تم ہزار عورتوں سے تعلق رکھو وہ عورتیں کس کیٹگیری کی ہوتی ہیں یہ جانتے ہوئے بھی ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہو_ پر اپنے سے منسلک عورت کے بارے میں کوئی ایسی بات کہے توائیو ہرٹ ہو جاتی ہے۔ اور اس عورت کا نہیں سوچتے۔“
وہ ناک پہ ہاتھ رکھے خود سے ہی بڑبڑاہٹ کرتے ہوئے چھت کا دروازہ لگا رہا تھا۔
”ڈبل اسٹینڈرڈ والے سانپ ہے آج کل کے مرد۔“ "Bloody narsacisit"
نحوت سے کہتا وہ بند دروازے کے پیچھے کہیں معدوم ہوا تھا۔
رات سیاہی کی چادر اوڑھے گہری اور سیاہ ہو رہی تھی، پر ٹم ٹم کرتے تارے سیاہی میں اجالا سا بکھیر رہے تھے۔
☆☆☆
”حقیقت، خواب، سراب۔“
رات گزری اور دن برآمد ہوا۔ لاہور میں صبح کا اجالا پھیل اپنے آپ آس پاس سب کچھ روشن کر رہا تھا مگر موسم بو جھل تھا۔ سورج آسمان پر مکمل تپش لیے سڑک پر بھاگتی ہوئی دیگر سواریوں اور فٹ پاتھ پر چلتے راہگیروں کو جھلسانے کا کام بخوبی سر انجام دے رہا تھا۔ اسی پر تپش ہواؤں سے گزرتے ہوئیں کندھوں تک آتے کرل شدہ بالوں کو بار بار کندھے سے پیچھے کی جانب جھٹکتے ہوئے سرخ عمارت والے سرکاری کالج کے وسیع سے گھاس کے دوسری جانب بنے میدان میں ایک لڑکی تیز تیز قدم لیے خاری گیٹ کی جانب بڑھ رہی تھی۔ عین اسی پل اس کو کسی نے نرمی سے پکارا تھا۔
”میڈم سحر جبین!“ وہ لڑکی کی ٹھہری اور کولاپوری چپل پہنے پاؤں کو تقریباً گھماتے ہوئے مڑی تھی۔ اس کی گندمی رنگت میں سورج کی قہر برساتی گرمی کے باعث سرخیاں گھل رہی تھی_ ہلکے تیکھے نین نقش والی وہ لڑکی اپنی ہلکی چھوٹی بھوری آنکھوں کو مزید چھوٹا کیے دور سے اپنے جانب آتے واجی نقوش والے دراز قد مرد کو دیکھ رہی تھی۔
سحر جبین نے داہنے سلیولیس بازو والے ہاتھ کا چھجہ بنایا اپنے ماتھے پر رکھا غالباً اس کو گرمی کا ادراک بخوبی تھا۔
”سوری میں نے آپ کو اتنی دور سے مخاطب کیا-“ اپنی صاف رنگت میں سرخی لیے وہ نوجوان مرد ٹھہر ٹھہر کر بولا۔
پھر اس نے ایک نظر سحر جبین کے کانوں میں چمکتے ہوئے ننھے گلابی نگینوں والے ایرنگز کو اپنی بھوری آنکھوں سے دیکھا اور پھر دوسرے پل اس نے اپنی نظروں کو جھکتا ہوا پایا۔
”اٹس او کے! کوئی کام تھا۔“
سحر نے ہاتھ کایو نہی چھجہ بنائے اس سے پوچھا۔ اس مرد کا قد طویل ہونے کے باعث اس کو گردن اور نظریں دونوں اٹھاناپڑی تھیں۔
”جی وہ یہ آپ کا کارڈ آپ کی ورکنگ ٹھیبل پر رہ گیا تھا۔“
اس نے اپنی سیاہ ڈریس شرٹ کے اوپر پہنے ہوئے چھوٹے سے بھورے بیگ میں سے ایک کارڈ نکال کر اس کی جانب بڑھایا۔
”اوہ!“ سحر نے اپنے سر پر ہاتھ مارا۔
وہ مرد دبا دیکھے ہی اس کی حرکت پر دھیما سا ہنسا تھا۔
”تھینک یو سوچ تیمور سر!“ وہ اب اس سے کارڈ تھامتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کر رہی تھی
”دراصل آج میں کوئی بیگ نہیں لائی تھی، تھوڑے سے ٹائم کے لیے آنا تھااس لیے۔ اگین تھینک یو-“
”My Pleasure۔“ وہ دھیما سا بولا۔
”ٹھیک ہے میں اب چلتی ہوں-“ ایک پل ٹھہر کر وہ بولی اور دوسرے ہی پل تیزی سے پاؤؤں گھمانے کے باعث اس کے دائیں پاؤں والی کولاپوری چپل کا اوپری تل اپنی سلائی سے علیحدہ ہوا۔ دوسرا پاؤں اس پر آیا جس کی وجہ سے وہ ہلکا سا لڑکھڑائی تھی۔
تیمور فوراً سے پہلے اس کی آواز پر متوجہ ہوا تھا۔
”آپ ٹھیک ہیں؟“ اس کا چہرہ یکدم پر شان سا ہوا۔
”جی بس لگتا ہے جوتا ٹوٹ گیا میرا-“
وہ سمجھنے کے بعد آواز میں بیچاری سی بولے۔ پھر وہ گھٹنوں کے پل بیٹھی۔ چھوٹے کرل کیے بال بھی اس کے کندھے سے پھسل کر آگے کو گرے تھے۔ تیمور بھی چند قدم دور پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا۔
سرخ عمارت اس پل زیادہ لوگوں کی موجودگی سے غیر معلوم ہو رہی تھی۔ سحر نے اپنی سیاہ کولاپوری چپل کو دیکھا اور پھر سامنے سافاصلہ رکھ کر بیٹھے ہوئے تیمور کو۔ تیمور اسے نہیں دیکھ رہا تھا وہ نفی سی کولاپوری چپل کو کچھ افسوس سے دیکھ رہا تھا۔
شدید آنچ دیتی گرمی کے باعث اب ان دونوں کے چہروں پر پسینہ نمودار ہو نا شروع ہو چکا تھا۔ تیمور نے کسی احساس کے تحت چونک کر نظریں اٹھائی تھیں۔ وہ اس کو ہی دیکھ رہی تھی لیکن سحر کی آنکھوں کا تاثر اس کے لیے ناقابل فہم تھا۔
”سوری!“ تیمور نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ”میں آپ کو نہ روکتاتو شاید یہ نا ٹوٹتی۔“ اس کے تاثر کو اپنی طرف سے کوئی نام دے اس نے کہا
سحر کی آنکھیں کچھ اور سکڑیں۔ تیمور کھسیانہ ساہو کر نظریں پھیر گیا
پھر دوسرے ہی پل اس نے فضا میں مدھر سی ہنسی گونجتے سنی، وہ ہنسی سحر کی تھی۔ جواب ہنستے ہوئے کھڑی ہو رہی تھی، کندھوں پہ آئے چھوٹے سیاہ بالوں کو اس نے جھٹک دیئے پیچھے کیا تھا۔
تیمور بھی گھٹنوں پر ہاتھ رکھے کھڑا ہوا، اور پھر جانے کس اثر کے تحت اس کو دیکھے گیا۔ اس کا کا واجی چہرہ دیکھے ایسے لگتا تھا جیسے وہ کسی شے کے زیر اثر مبہوت ہوا ہو۔ اس پل اس کا چہرہ اسی اثر کے تحت نرم موم سے بنا ہوا لگتا تھا، خالص اور ملائمت والی موم۔
سحر نے ایک ہاتھ میں چپل تھام رکھی تھی اور دوسرا ہاتھ چہرے کے آگے تھا۔
یہ پل گزرا اور دوسرا پل آیا۔ اور اسی ایک پل میں تیمور نے نظروں کا رخ اس کی چپل کی جانب کیا تھا۔ حالانکہ وہ پوچھنا چاہتا تھا وہ کیوں ہنس رہی ہے؟ لیکن نہیں پوچھ پایا۔
شاید اس کو یہ منظر بہت بھلا معلوم ہوا تھا۔
”سوری مجھے بس آپ کی بات سن کر ہنسی آگئی ویسے بھی مجھے ہمیشہ غلط وقت پر ہنسی آجاتی ہے۔“
اس نے خود ہی اپنے ہنَسنے کا جواز پیش کیا۔
”نہیں آپ کا کوئی قصور نہیں۔ دراصل یہ جوتی میرے ہر آؤٹ فٹ کے ساتھ میچ کر جاتی ہے۔ اس لیے میں زیادہ یہی پہنتی ہوں۔ لیکن اس کی حالت کچھ دنوں سے مجھے پہلے ہی وارننگ دے رہی تھی کہ میں نے ٹوٹی جانا ہے بھئی کچھ نیا بند وبست کر لو۔“
اس نے اپنی ہنسی روکنے کے بعد چہرہ پر پھر سے ہاتھ کا چھجہ بناتے اسے وضاحت پیش کی تھی۔ غالباً وہ اب تیمور کے پریشان کن چہرے کے تاثرات سے مزید حظ نہیں اٹھا سکتی تھی۔
”سی۔۔“ سحر نے زمین پر رکھا پاؤں یکدم اٹھایا۔ ”زمین زیادہ ہی گرم ہے۔“
اس نے چھوٹے بالوں کو پھر سے پیچھے جھٹکا اور دوسرے ہی پل وہ بدق کر پیچھے ہٹی تھی، کیونکہ تیمور اب گھٹنوں کے بل بیٹھے اپنے لیسز والے بوٹ اتار رہا تھا۔
”یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟“
اس نے چہرہ اٹھائے پو چھا۔ چھوٹی آنکھیں ہلکی سی واہ ہوئیں۔
”آپ یوں اتنی گرمی میں ایک جوتی کے بغیر پار کینگ ایریا تک نہیں جاپائیں گی۔“ وہ اپنے کندھے پر ٹنگے ہوئے بیگ میں سے ایک رومال کو نکالتے ہوئے بوٹوں کو اندر اور باہر سے صاف کر رہا تھا۔
تیمور نے کمر کے بل جھکتے ہوئے سیاہ بوٹوں کو عین اس کے پاؤںوں کے سامنے رکھا۔ اب اس کے اپنے بھورے موزے پہنے والے پاؤں گرم زمین پر دل جمعی سے قائم تھے۔
سحر کے تاثرات عجیب سے ہو ناشروع ہوئے۔ چھوٹے بالوں کو اپنی عادت کے مطابق پھر سے جھٹک دئے پیچھے کیا۔
”نہیں تیمور سر میرے پاس ایک جوتی ہے اور میں۔۔۔“
”پلیز گرمی بہت ہے۔ پہن لیجیے۔ ایسے مجھے مناسب نہیں لگے گا کہ آپ بغیر جوتی کے اتنی دور پیدل جائیں وہ بھی جب میں یہاں موجود ہوں آپ کی مدد کے لیے۔“ وہ جتنی نرمی سے کہہ سکتا تھا اس نے کہا۔
”پر آپ۔۔۔“ سحر ہچکچائی۔
”پلیز، مجھے ابھی کافی کام کرنا ہے، دو تین بج جائیں گے گھر جاتے ہوئے تب تک میں کوئی بند وبست کر لوں گا۔ جوتوں کا۔ آپ کو دور جانا ہے یوں اچھا نہیں لگے گا۔“ اس نے نرمی سے اس کی بات کاٹی۔ گرمی سے دونوں کے چہرے پر پسینے کی بوندے ٹپکنا شروع ہوئی تھی۔
”آپ کا آج ویسے بھی آخری دن تھا کالج میں اور مجھے واقع ہی لگ رہا میری وجہ سے آپ کی جوتی ٹوٹی ہے۔ میں نے آپ کو روکا۔ نہیں تو اب تک آپ پار کینگ ایریا میں پہنچ ہی چکی ہوتیں۔“
”آپ نے مجھے میری چیز پہنچانے کے لیے ہی روکا تھا۔ خود کو یوں بلیم نہ کریں۔“ سحر کو عجیب سی شرمندگی نے آن گھیرا۔
”پھر بھی۔۔۔“ وہ پھر سے کہہ گیا۔
سحر نے اپنی کنپٹی کو کھجایا اس کو اب شرمندگی ہو ہی رہی تھی۔ اس کا تو کوئی قصور نہ تھا پھر بھی وہ اس کی مدد کر رہا تھا۔ لب کاٹے اس نے اس کے پاؤں دیکھے جو اپنی ازلی حالت میں کھڑے تھے اس کی طرح نہ کبھی آگے ہوتے نہ کبھی پیچھے
”کیا اس کو زمین گرم نہیں لگ رہی؟“ وہ یہ بس سوچ سکی کہہ نہ سکی۔
”پر آپ کیسے جائیں گے وہاں تک۔“ اس نے دور سے نظر آتے ہال کے کھلے ہوئے دروازے کی جانب اشارہ کیا تھا۔
”دیکھیں میں نے جرابے پہنی ہوئی ہیں اور میں وہاں تک با آسانی چلا جاؤں گا۔ اتنی گرم لگنے گی مجھے زمین جتنی آپ کو یوں جانے کے باعث لگے گی۔“
دونوں کے درمیان عجیب ہی معمہ بن چکا تھا۔
تیمور نے دیکھا وہ واضح کشمکش میں پڑ گئی تھی۔ چہرے پر جا بجا پسینہ چمک رہا تھا۔ پھر اس نے اس کو کہتے ہوئے سنا
”میں کل آؤں گی اور آپ کے شوز واپس کر دوں گی۔ اور ایسے مت کہیں کہ یہ آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔ یہ واقع ہی مجھے سگنل دے رہے تھے کہ ہم نے جلد ہی ٹوٹ جانا ہے۔ بس میں ہمیشہ سگنل ٹوٹنے کے بعد ہی سمجھتے ہوں-“
وہ اپنے تعین اپنے پاؤں اس کے پیروں سے بے حد لمبے اور کھلے بوٹوں میں اپنے نازک مرمری سے پاؤں بھرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ ایک دم ہی اس کے پاؤں کو بوٹوں کی گرم سی نرمی نے سکون دیا تھا۔ پر وہ پھر سے رکی۔
تیمور اس کے آگے ٹشو بڑھا رہا تھا۔ وہ ٹھٹھک سی گئی۔
”آپ کے اس بیگ میں سب کچھ ہوتا ہے۔ کیا ڈورے مون کا بیگ ہے یہ؟“ سحر نے سر کو جھٹک ممنون تاثر لیے ٹشو تھاما اور پھر راز درانہ انداز میں اس سے گویا ہو کر پوچھا۔
اس بار وہ چہرہ جھکائے دل کھول کر ہنس دیا۔ چھوٹی تراشیدہ شیو میں ننھا سا گڑھا ڈوب کر ابھرا تھا۔ وہ اس کی بات سے کافی حد تک محفوظ دکھتا تھا۔
”ویل آپ یہ کہہ سکتی ہیں۔“
”ویسے کیا آپ کو ڈورے مون پسند ہے؟“ وہ ویسے ہی دھوپ میں جلتی ہوئی زمین پہ قدم جمائے کھڑا تھا۔
”بہت-“ اس نے بھی سوال سن یکدم ننھے بچوں والا اشتیاق لیے اس سے کہا۔
پھر اس نے اپنے پاؤؤں کو بوٹوں میں ہی آگے پیچھے کیا۔ مگر اس کے پاؤں مکمل طور پر بوٹوں میں فٹ ہونے سے قاصرہ ہو رہے تھے۔ اس کو یکدم ہی کوفت سی ہوئی۔ اور پھر وہ رواونی میں کہہ بیٹھی۔
”آپ کے پاؤں کتنے بڑے ہیں۔“ مگر احساس ہونے پر اس نے آنکھیں میچیں۔ ایسے بھلا کون کہتا ہے۔ اس نے دل میں خود کو کوٹا۔
”وہ میرا مطلب۔۔۔“
”بلکہ ڈورے مون کی طرح-“ تیمور نے برا منایا بغیر تصحیح چاہی۔ نظریں بوٹوں پہ مقید تھیں۔
سحر جھینپ کر کچھ شرمندہ سی مسکرادی۔ رخسار سرخ ہوئے-
”سوری-“ وہ شرمندہ ہوئی- ایک تو وہ اس کی مدد کر رہا تھا۔ اور اوپر سے اس کے پاؤں کو لے کر بیٹھ گئی تھی۔
”کوئی بات نہیں ڈورے مون کے پاؤں اتنے ہی بڑے ہوتے ہیں۔“ اب کہ وہ کندھے اچکائے کہہ رہا تھا۔ پاؤں ویسے ہی ججھے تھے۔
”آپ خود کو ڈورے مون کہہ رہے ہیں۔“ وہ یہی آخر کر سکی۔
”بلکہ بھی نہیں، ڈورے مون جیسا کوئی کہاں۔ ہاں میرے پاؤں ضرور اس جیسے ہیں۔“ طنز نہیں تھا بس سادگی تھی اس کے جملے میں۔
اس بار وہ ہنس دی۔ وہ بھی دھیما سا اس کی جانب دیکھے بغیر ہنسا تھا۔ ارد گرد پھیلی حدت والی روشنی تیمور کو اپنے اطراف میں قسقزح کے رنگ بکھیرتی معلوم ہوئی تھی۔ پر جب تک اس کو پیچھے سے پیون نے آواز نہیں دی تھی
”جبین بی بی!“ پیون اس کے قریب آ رکا۔
”وہ کوئی نئے صاحب آئے ہیں آپ کو آج لینے- حارث نام بتا رہے ہیں اپنا۔ کافی بار پوچھ چکے ہیں آپ کا-“
”حارث-“ وہ زیر لب بولی۔ آنکھوں میں ایک خاص چمک اتری تھی۔ پر دوسرے ہی لمحے اضطراب لہرایا۔
”کب سے پوچھ رہے ہیں وہ میرے بارے میں؟“
اس نے اپنا مکمل رخ پیون کی جانب کیا اور تیزی سے پوچھا۔ چھوٹے بالوں کو کان کے پیچھے اڑسا تھا۔ ہاتھ میں موجود ٹشو سے چہرے کو صاف کیا۔
”تقریباً پانچ، دس منٹ۔۔۔“
”اوہ! خداایا آپ مجھے بتا تو دیتے-“ وہ جلدی سے بولتے ہوئے آگے بڑھی تھی۔ نہ اس نے اپنی ٹوٹی ہوئی کولاپوری چپل کے جوڑے کو دیکھاانہ اس کو جس نے قبل اس کی مدد کی تھی وہ تیز تیز قدم لیتی آگے بڑھ رہی تھی۔ حارث نامی شخص نے جیسے ہر شے کو پس پشت ڈال دیا تھا۔
اس لمحے خود کو قوس قزح والی فضا میں محسوس کرتے ہوئے مرد کے چہرہ پر سب کچھ بدل گیا تھا۔ جلن شدید جلن کے باعث اس نے اپنے پاؤں آگے پیچھے کیے تھے۔ نظریں تیز قدم بھرتی سحر کی پشت سے ہوتی ہوئی اس کی کولاپوری چپل کے جوڑے پر آن ٹھہری تھی۔
آہ! ایک گہری سانس لی اور جوتی کے جوڑے کو کمر کے بل جھکتے ہوئے اٹھایا۔ وہ صحیح کہہ رہی تھی جوتی کے دونوں تل ہی اب ٹوٹنے والے تھے۔
”کیا یہ اس کو اتنی پسند تھی جو وہ اس حالت میں بھی اس کو پہنے آئی-“ دل کے گوشے میں آواز لہرائی۔
”صاحب یہ ٹوٹ گئی ہے۔ پھینکنی ہے؟“ پیون نے آستین سے پسینہ پونچھتے ہوئے پوچھا۔
تیمور کے پاؤں گرم زمین پر ٹکنے سے اب انکاری تھے جانے کیوں اس کو یکدم ہی زمین گہری جلن پہنچارہی تھی۔
”ہر ٹوٹی ہوئی چیز کو پھینکتے نہیں ہیں۔ کچھ ٹوٹی ہوئی چیزوں کو جوڑنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔“
اس کی ٹھہری ہوئی سلجھی بات پیون بابا کے سر سے گزری تھی۔ اس نے کندھے اچکائے اور واپس سے صدر دروازے کی جانب ہو لیے۔
صاف رنگت والے چہرے پر پسینہ ابھر رہا تھا۔ کولاپوری چپل کو اس نے نیچے زمین پر رکھا۔ بیگ کھولا ساری چیزیں زمین پر الٹ دیں۔
جوتی کا سائز دور میانہ تھا جو با آسانی اس کے بیگ میں سماگئی۔ زمین پر بکھری چیزوں کو بیگ میں سے ہی نکلے ایک شاہر میں ڈالا، پھر کھڑا ہوا۔ اب کے سارے میں گرم لو والی ہوا بھی چل رہی تھی۔ پھر اس نے تیز تیز قدم بھرنا شروع کیے، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھاگتا تھا۔ غالباً اس سے زمین کی حدت والی جلن برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ وہ جلن اب آہستہ آہستہ اس کے جسم میں سرایت کر رہی تھی۔
کیونکہ وہ بھی ایک انسان تھا اور جلن تو کسی انسان سے برداشت نہیں ہوتی۔ سرخ کالج کی عمارت ویسے ہی اپنے سامنے ادھر سے ادھر جاتے گرمی سے بے حال ہوتے انسانوں کو دیکھ رہی تھی۔
سحر بھی تیزی سے اسی عمارت کے ساتھ بنی پار کینگ ایریا میں داخل ہوئی۔ بالوں کو بار بار پیچھے جھٹکتی وہ بہت جلدی جلدی بڑے بوٹوں کو بمشکل اپنے پاؤں میں برقرار رکھنے کی کوشش میں ہلکان ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔
جب زور دار ہارن کی آواز اس کے کانوں کا پردہ پھاڑنے کے مترادف پیچھے سے آئی۔
اس کار رنگ بدلا، دل ڈوبا، پیٹ میں گرہیں پڑیں وہ مڑی، وہ سامنے ہی کھڑا تھا، اپنے پرانے ماڈل کی سیٹی کے ساتھ ٹھیک لگائے، اپنی وجیہہ شخصیت کاثر لیے۔
ایک زور دار ہارن پھر دیا گیا اب کہ وہ بری طرح بوکھلا کر اس کی جانب بڑھی وہ زیادہ دور نہ تھاپر وہ بہت دور تھا۔
بڑے بوٹ اس کو چلنے میں دقت ضرور دے رہے، پر زمین کی جلن اس تک نہیں پہنچ پا رہی تھی، سکون اور آرام تھا۔
”اندھی ہو، کب سے ادھر دھوپ میں کھڑا ہوں۔“ وہ ابھی اس تک آہی رہی تھی کہ وہ ایک ہی جست میں اس تک آیا اور اس کی کلائی کو ہاتھ میں نوچے آگے بڑھا۔ اور سحر جبین نے اس کا انداز بہت سنگین پایا۔
”وہ میری جوتی۔۔۔“
”شٹ اپ سحر، تم امیر لوگ غریب کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہو۔“ وہ درستگی سے اس کی بات کاٹ گیا۔ وہ پھر سے کچھ کہہ نہ پائی۔
اب وہ اسے لیے گاڑی کے سامنے کھڑا تھا، کلائی وہ چھوڑ چکا تھا۔ جھلساتی ہوئی لووالی دھوپ ویسے ہی برس رہی تھی ۔ وہ بمشکل اس کے کندھے تک آ رہی تھی اور نظروں کو جھکائے وہ جزب تھی۔۔
ان دونوں کا چہرہ سرخ پر رہاتھا، حارث کا غصے سے اور اس کا شاید شرمندگی سے وہ اس کے سامنے ہاتھ کا چھجا بھی نہیں بناری تھی، سخت دھوپ اس کا چہرہ جھلساری ہی تھی۔
”ایک ہفتہ تم میرے ساتھ آناجانا ہے، تمہارے یہ ٹانٹر مز میں کسی صورت برداشت نہیں کروں گا۔ سمجھی۔“
”میری جوتی۔۔۔“ اس نے گلا تر کیے بولنے کی سعی کی۔ جواباً حارث نے زور دار مکہ گاڑی کے بونٹ پر مارا۔۔
”اب میں تمہارے لیے یہاں جوتیاں لیے پھروں، ہاں۔۔۔“
”نہیں، میرا مطلب۔۔۔“ اس نے تھوک نگلا، دل عجیب بے ترتیب ہو ناشروع ہوا۔
”بھاڑ میں جائے تمہارا مطلب، ہر کسی کو نوکر سمجھنا چھوڑدو، انتہائی بری خصلت ہے یہ۔“ اندازابھی بھی مشتعل تھا_ ”وہ تمہارا راحم بھائی اتنا انتظار کر سکتا ہے میں نہیں۔“
دھوپ اور اس کی باتیں مسلسل اسکا چہرہ بدل رہی تھیں ۔ اس کو اپنی آنکھیں نم نم نا محسوس ہوئی۔
”مجھے نہیں پتا تھا آپ نے آنا ہے مجھے پک کرنے، راحم نے کہا تھا وہ آئے گا۔“ وہ چپ ہوا تو وہ موقع غنیمت جان گلوگیر سی آواز وضاحت دے بیٹھی۔ آواز کی نمی کو تھوک نگل گلے میں دہانے کی کوشش کی۔ وہ کچھ دیر اس کو مشتعل نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ کی طرف ہوا۔
”گو ٹو ہیل ودیور راحم، پٹکواب گاڑی میں، امیر ہوگی اپنے گھر نخرے غلاموں کو کھاؤ جن کو پیسے دیتے ہو تم لوگ۔ میں نوکر یا غلام نہیں ہوں تمہارا۔“ سحر نے ارد گرد نم ہوتی آنکھوں سے دیکھا، پارکنگ ایریا میں اکا دکا لوگ تھے جنہوں نے گزرتے ہوئے بگاہے حارث کی آواز کے باعث ان پر نظر ڈالی تھی۔ خفت سے اس کا چہرہ سرخ پڑنا شروع ہوا۔
اس نے اپنے دل میں لرزش ہوتی پائی، ہر طرف جلن تھی، سوائے پیروں کے۔ پھر وہ بھی ڈوبتے دل اور ہلکی بھوری آنکھوں میں انڈتی نمی کو ڈوبانے کی کوشش کرتے ہوئے پینجر سیٹ میں بیٹھ گئی۔ البتہ دل بے ترتیب تھا بے حد بے ترتیب۔
☆☆☆
لاہور کی کھلی اور صاف ستھری سڑکوں پہ سے گزرتے ہوئے اس مڈل کلاس کالونی میں جھانک تو اس علاقے میں دھکم پیل صاف سنائی اور دکھائی دے رہی تھی، گلی میں سے گزرتی وگینیس مختلف کلاس کے بچوں کو انکے مطلوبہ گھروں کے سامنے اتاریں اور پھر سڑک کی دھول اڑاتے آگے بڑھتیں۔ انہیں متوسط مگر خوبصورت سے مناسب رقبے والے گھروں میں سے ایک گھر میں فون کی تیز چھنگھاڑتی آواز گونج رہی تھی۔ اور جس کمرے سے آرہی تھی اس کمرے میں فقط نیم اندھیرا تھا۔
فون چیخ چیخ کر بجنے کے بعد پھر سے چینخنا شروع ہوا۔ اور چند ساعتوں بعد آؤں کی آواز سے کمرے کی سیلنگ سے لگے تیزی سے گھومتے پنکھے کی رفتار آہستہ آہستہ بند ہونا شروع ہوئی۔ وہ کچھ پل خالی الذہن کی حالت میں فون کی آواز کو سنتا رہا۔ اوندھے منہ لیٹے اس کی آنکھوں میں خماری تھی۔ فون ابھی بھی بج رہا تھا۔ پھر اس نے ہاتھ بڑھایا اور بنا کرنے والے کا نام دیکھے فون کو کان سے لگایا۔
”ہیلو ہانی، بولو!“ غالباً اس کو اندازہ تھا کہ دوسری طرف کون ہوگا۔ سو کر اٹھنے کے باعث آواز کافی بھاری تھی۔
”ٹھیک ہے میں جب آؤں گا لے لوں گا اپنے پاس سنبھال کر رکھ لو۔“ خمار زدہ آنکھیں پھر سے بو جھل ہو رہی تھیں.
”کیا ہوا تھا کل؟“ دوسری طرف کی بات سن وہ کچھ پلوں کی دِیری کے بعد سوالیہ لہجہ میں مقابل سے پوچھ رہا تھا۔
”نہیں ناراض نہیں ہوں۔۔۔“
”ہانی ابھی میرے سر میں شدید درد ہے بعد میں بات کرتا ہوں ڈسٹرب مت کرو۔“ غنودگی میں جاتی آواز میں جھنجھلاہٹ در آئی۔
”اور تم سے جسٹ میں کام کے سلسلے میں ملتا ہوں، زیادہ میرے پرسنل میں مت گھسا کرو۔“
فون کو بنا دیکھے ہی پرے اچھالے۔ وہ ڈسٹرب لگتا تھا۔ پھر اس نے رخ بدلا اور نظروں کو ساکت ہوئے پنکھے کے پروں پر جمایا۔
وہ جانے کن سوچوں میں غرق تھا جب تیزی سے کمرے کا دروازہ کھول نسوانی آواز میں بڑبڑاتے ہوئے داخل ہوئی۔
”بھائی اٹھ جائیں اب، ممی نے میری جان کھائی ہوئی ہے، حارث کو اٹھاؤ، حارث کو اٹھاؤ۔ بھلاں آپ چھوٹے کاکے ہیں، ہنہ۔“
دھیمی آواز میں خفا سی کہتی ہوئی اس نے کمرے کی بتی جلائی، حارث نے آنکھوں پر تیز روشنی پڑنے کی وجہ سے ہاتھ رکھا۔
وہ اکیس، بائیس سالہ لڑکی تھی_ لمبے گھنگریالے بالوں کی چٹیا آگے کو لٹک رہی تھی۔ ناک پہ دھڑ چشمہ، سانولی رنگت اور خوبصورت نقوش، آنکھیں حارث جیسی سیاہ غلافی۔
”اٹھ جاؤ بھائی۔“ وہ کہتی باہر کو بڑھی۔
”ناز، لیموں پانی لا کر دے دوائٹھ جاؤں گا۔“ حارث اب اٹھ کر بیٹھ رہا تھا۔ بھورے سے گھنگریالے بالوں میں ہاتھ پھیر ان کو پیچھے دھکیلا۔ اب وہ پھر سے آنکھیں مسل رہا تھا۔
ناز نے ناک پر دھڑ چشمہ اوپر کیا اور ناک سکوڑی۔ ”پتہ نہیں اتنا لیموں پانی کیسے پی لیتے ہیں آپ؟“
”منہ سے۔“ حارث بیڈ سے کھڑا ہوا۔ آواز سنجیدہ تھی.
”اوہ! مجھے تو پتا ہی نہیں تھا۔“ پھر سے ناک سکھیڑی دروازہ کھولا اور باہر نکلی۔
حارث کا چہرہ سپاٹ تھاپر آنکھیں پر سوچ۔ ارد گرد نظر ڈالو تو کمرہ بے حد سادہ اور در میانہ تھا۔ سفید اور خاکی رنگ کی دیواروں کے آمنے سامنے بیڈ اور الماری رکھی ہوئی تھی، بیڈ کے عین پیچھے کھڑی کی تھی بھاری سیاہ اور سفید پھولوں والے پردے لٹک رہے تھے۔ داہنی دیوار کے ساتھ ایل ای ڈی نسب تھی۔ اور اس کے تلے ورکنگ ٹیبل پر نجانے کئی قسموں کی فائلز اور تاریں الجھی ہوئی تھیں۔
ٹھیک کی آواز کے ساتھ اس نے الماری کو بند کیا ابھی وہ سامنے نظر آتے واش روم کی طرف بڑھتا اس سے قبل ہی اس کو اپنا دل سا خراب ہوتا محسوس ہوا۔ یکدہ وہ کھانسا اور پھر گلے کو مسلتے ہوئے اس نے اپنا لباس بیڈ پر اچھالا اور مرکزی دروازہ کھول باہر بڑھا۔
گھر زیادہ بڑا نہیں تھا، اس کے کمرے کے ساتھ ایک اور کمرہ اور دائیں طرف کچن اور بائیں جانب بھورے صوفوں کو سیٹ کیے گیا تھا، جوٹی وی لاؤنج ہونے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس کی دوسری طرف شیشے کے سلائیڈنگ ڈور لگے تھے۔ غالباً سلائیڈنگ ڈور کے پار وہ حصہ تھا جو محض مہمانوں کے لیے مخصوص تھا.
پھر وہ ٹی وی لاؤنج کے تھری صوفے پر بیٹھا، جس پر نفاسست سے فرل والے اناری رنگ کے کور بچے تھے، پورشن صاف ستھرا اور نفیس سی سجاوٹ والا تاثر دیتا تھا۔
کچن کے ساتھ بنی لکڑی کے زینوں پر سے ناز ناک سکھیڑے نیچے اتر رہی تھی۔ ایک ہاتھ میں در میانہ سفید باؤل تھا اور دوسرے میں لیموں پانی کا بڑا ساگ۔
”یہ لیس بھائی آپ کا دوپہر کا کھانا، کیونکہ صبح کو گزرے تو اب زمانہ بیت گیا ہے۔“ حارث نے صوفے کی پشت سے سر کو ٹکائے اس کی مصنوعی رنجیدہ آواز سنی۔
”تم بھی گزر جاتی اس بیتی ہوئی صبح کے ساتھ۔“ حارث نے مگ کو لبوں سے لگایا۔
”تو بہ ہے، ایسے کوئی کہتا ہے اپنی سات سالہ چھوٹی بہن کو۔“ ناز نے عادتانک سکھیڑی، لہجہ دکھی ہوا.
وہ اب پہلی بار مسکرایا۔
”ہاں میں کہتا ہوں اور تم مجھے بوڑھا کہہ رہی ہو_“ نرم سے کہتے ہوئے لہجہ سنجیدہ ہوا۔ ناز نے چشموں کے پار سیاہ آنکھیں سکیڑیں پر اس کے چہرے میں بلا کی سنجیدگی تھی، ناز گڑ بڑائی۔
”نہیں میرا مطلب۔۔۔“ اس نے بال کھجائے۔
”تمہار امطلب میں بوڑھا ہار ہوں اور صبح کے ساتھ مجھے گزر جانا چاہیے، ہاں۔“ ہنوز سنجیدہ چہرہ۔
”تو بہ ہے بھائی، میں نے بس بات کی تھی اور آپ نے مجھے کہا تھا گزرنے کا میں نے نہیں۔“ ناک سکھیڑو وہ دھوپ سے صوفے پر بیٹھی۔
لمبی قمیض کے لمبے بازو فولڈ کیے وہ کچھ بڑبڑارہی تھی۔ حارث نے کچن کے دروازے کے اوپر دیوار پر لگی گڑھی میں وقت دیکھا جو چار بجارہے تھے۔
”اب تم ممی کو ہی بتانا۔“ ناز کو دیکھ اس نے کندھے اچکائے اور کوئی اندیکھی وارننگ دی، ”مجھ سے اب بات مت کرنا آپ۔ حد ہے بھائی۔“ وہ اٹھی اور سیڑھیوں کی طرف لپکی کے عین اسی پل دھپ دھپ کرتی سیڑھیوں سے بھاری جسامت اور سانولی رنگت والی عورت نیچے اترتے دکھی۔ ناز بھی ٹھہر گئی۔
فیروزی رنگ کالون کا سوٹ اور اسی رنگ کا دو پٹا چہرے کے اطراف میں لپیٹا ہوا تھا_ بس کان اور ان کی لو میں چمکتے نیلے موتی واضح ہو رہے تھے۔
”ناز، جاؤ جلدی سے دروازہ کھولو، ماموں آئے ہیں جاؤ۔“ وہ بڑی ہی تیزی اور پھرتی میں لگتی تھیں۔ حارث کا باؤل اٹھاتا ہاتھ رکا۔ چہرہ پر ناگواری لہرائی۔ پہلے سے خراب ہو تادل کچھ اور خراب ہوا۔
”او کے ممی،“ ناز ناک پر دھڑ چشمہ درست کرتی لمبی راہداری کی طرف بڑھی۔ جس کے دائیں بائیں آرٹیفیشل پھول ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔
ممی اب صوفے پر رکھے کشن، چادریں، ٹیبل اور ٹی وی کے اطراف میں بنی الماری کو غور غور سے دیکھتی اور جہاں کہیں بے ترتیبی نظر آتی فورا اسے پہلے درست کر رہی تھیں، چھوٹا سا ٹی وی لاؤنج تقادیرہی کتنی لگنی تھی۔
”ریلیکس، تبسم میڈم نواز صاحب ہی آ رہے ہیں۔ اتنی جذباتی کیوں ہو رہی ہیں۔“ تبسم نے اس کی طرف دیکھنا ہی کوئی جواب دیا۔
پھر وہ کچن کا دروازہ دھکیل اس میں داخل ہوئیں۔ ”راحم باہر آؤ مجھے چیزیں منگوانی ہیں۔“ انہوں نے ہانک لگائی۔ حارث باؤل میں پڑے کیوبز کی شکل میں کٹے سیبوں کو بس دیکھ رہا تھا اس کا ان کو کھانے کا ارادہ نہ تھا.
”اس کا پیپر تھا می سو یار رہنے دیں اسے۔ مجھے بتادیں کیا لانا ہے۔“
حارث نے سنجیدہ سی آواز میں کچن کی بھوری الماریوں میں سے مختلف برتن نکالتے ہوئے تبسم سے کہا۔ جنہوں نے اب بھی کوئی رد عمل نہیں دیا تھا۔
”ممی۔۔۔“ وہ جھنجھلایا بھی وہ مزید کچھ کہتا کہ اس سے قبل اسی لمبی خوشنما پھولوں والی راہداری میں سے ناز کے ساتھ متناسب قد اور بے حد دبلی پتلی سی جسامت والا ادھیر عمر مرد، گرے تھری پیس سوٹ پہنے ٹی وی لاؤنج میں داخل ہوا۔ ان کے ساتھ ڈرائیور کی وردی پہنے ہاتھوں میں ڈھیروں ڈھیر مختلف پھلوں والے شاپر لیے اور دوسرے ہاتھ میں بیکری آئٹمز کے باکس لیے ہوئے بھی تھا۔
حارث اپنی ازلی حالت میں بیٹھا رہے اس کو اس مرد کی موجودگی سے خاص فرق نہ پڑا_ جاذب خدوخال والے چہرے میں بے تاثری گل سی گئی۔۔ مرد نے اپنے کافی خوش شکل چہرے کو طشوسے تھپتھپایا اور حارث کو دیکھا۔ حارث نے سیب کا کیوب منہ میں ڈالا بالکل اس آدمی کا دیکھنا اور سیب کا ذائقہ ایک جیسا لکھا۔ میٹھا ہوتے ہوئے بھی کڑوا، دوغلا۔
”کیسے ہو حارث؟“ انہوں نے پوچھا۔ سر سمیٹ لیے ہلکے بال وہ اب ماتھے سے پیچھے کر رہے تھے۔
”فائن۔“ سیب کا خشک ذائقہ اس کا لہجہ بھی خشک کر گیا۔ ناز کو اپنے بھائی کو ایسے ان کے ساتھ مخاطب ہونے پر ڈھیروں ڈھیر شرمندگی ہوئی_
”آپ یہ سامان ادھر رکھ دیں۔“ ناز نے ڈرائیور کو سامان رکھنے کی تلقین کی اور کچن کی اور بڑھی۔
تبسم باہر آئیں اور اتنا سامان دیکھ کر خفیف سے انداز میں کہہ اٹھیں_
”نواز بھائی آپ میری بات کیوں نہیں مانتے پھر اتنا کچھ لے آئے آپ۔“ ڈرائیور سامان ٹی وی لاؤنج کی میز پر رکھے اب باہر جا چکا تھا۔
نواز جواباً ہیمانسا ہنس دیے، اور ان کو اپنے ساتھ احترام اور پیار سے لگایا۔
”کیسی ہو_“
”ٹھیک ہوں۔ آپ کینیڈا سے واپس کب آئے، آپ نے تو کہا تھا ایک مہینہ اور لگے گا۔“ وہ مہمان خانے کا سلائیڈنگ ڈور کھینچتے ہوئے اندر داخل ہوئیں۔ یہ حصہ کچھ زیادہ ہی صاف ستھرا تھا۔ پانچ سیٹر کریم رنگ کے صوفے_ در میان میں بچھا سفید مکمل رگ، اور سجاوٹ کی چیزیں۔
”بس کام جلدی وائنڈ اپ ہو گیا تھا تو کل کی فلائٹ سے واپس آیا ہوں_“
تبسم نے اے سی چلایا اور سنگل سیٹ صوفے پر بیٹھیں_
”چائے بناؤ، یا جوس لاؤں_“ انہوں نے تیز دھوپ کو آگے پردے کے پیچھے دھکیلا، کمرہ اب ٹھنڈا ہو ناشروع ہو چکا تھا۔
”بس چائے اور تمہارے ہاتھ کے شامی کباب۔“ انہوں نے بے تکلفی سے کہا۔
تبسم ہنستے ہوئے اٹھیں.
”جی میں بس ابھی لائی۔ بچوں کو بھی لے آتے۔“
”وہ بچوں سے میری ملاقات نہیں ہوئی، جلدی آگیا تھا پر رات میں سحر سوئی ہوئی تھی صبح اپنے پینٹ برش اٹھا کر چلی گئی، نعیم سے ہی مل سکوں ابھی تک، ابھی بھی سیدھا آفس سے آیا ہوں_“
وہ تفصیل بتا رہے تھے۔
”اچھا چلیں میں بس ابھی آئی۔ شامی دیکھ لوں چولہے پر رکھے ہوئے ہیں،“ سلائیڈنگ ڈور کو کھینچ وہ باہر نکلیں_ بے تاثر چہرہ لیے حارث پر نظر پڑی تو وہ ٹھہر گئیں۔ وہ انتہائی بری شکل بنائے سیب کو کڑوے کریلے کی طرح کھا رہا تھا۔ پھر وہ کچن میں گھسیں اور بولیں_
”حارث!“ آواز دھیمی تھی پر حارث کو صاف سنی۔ اس نے آنکھوں کو زور سے میچا۔ ماں کی پکار تھی وہ نظر انداز نہیں کر سکا۔
اس نے تبسم کی طرف دیکھا وہ آنکھوں میں نرم سی تنبیہ والی التجا لیے اس کو مہمان کھانے میں جانے کا اشارہ کر رہی تھیں۔ اس کا جبڑا سخت ہوا، چہرے کو نارمل رکھا گہری سانس لی اور سیب کا باؤل ہاتھ میں لیے تبسم کی جانب دیکھے بغیر مہمان کھانے میں گھسا۔
باہر کی نسبت اندر خنکی تھی۔ وہ نواز کے سامنے بیٹھا، انداز بے لاتعلقی والا تھا۔
نواز نے اب فریم لیس گلاس لگائے ہوئے تھے۔ فون کو ہاتھ میں تھامے انہوں نے جون کی توں اس کو دیکھا۔
”آفس کیسا جا رہا_“ نظریں فون پر جمائے پوچھا۔ سیب کا ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے حارث نے ان کو دیکھا، یہ ٹکڑا کھٹا میٹھا تھا۔ کھٹاس مٹھاس گلے میں گھلی۔
”جیسا آپ کا بزنس۔“ کھٹاس مٹھاس کو نگلا اور ایک ٹکڑا پھر منہ میں رکھا۔ اس کا ذائقہ کڑوا کڑوا سا لگا۔
”یعنی کہ لاس میں،“ انہوں نے بھی صاف جیسے کوئی طنز کیا۔
”کہہ سکتے ہیں شاید میرے باس کی تھنکنگ اور اسٹریژی آپ کی طرح کی ہوگئی ہے۔“ سیب کی کڑواہٹ نگلی اور ایک ٹکڑا پھر منہ میں رکھا۔ یہ ٹکڑا بے صواد تھا۔
”تم اپنی اسٹریٹجی بناؤ۔ دوسروں کی ٹکنیک دیکھتے رہے تو بہت پیچھے رہ جاؤ گے۔“ نظریں فون پر جمائے ایک اور طنز کیا۔ حارث بنا اثر لیے گہرا مسکرایا اور ان ہی کی طرح ٹانگ پر ٹانگ جمائی۔
”بالکل آپ نے صحیح کہا، تکنیک نہیں ہمیں دوسروں کا حصہ کھانا چاہیے، اس سے تو میں ضرور آگے بڑھ جاؤں گا، ہے ناں!“ سلگاتا ہوا انداز تھا اس کا۔
سیب کا ٹکڑا منہ میں رکھا، آہ اب اس کو صواد آیا تھا، یہ ٹکڑا ذائقے والا تھا، میٹھاتر و تازہ کرنے والا۔
نواز کی رنگت بدلی۔ ان کی رنگت بذات خود گواہی دے رہی تھی کہ وہ اس جواب کی امید نہیں رکھتے تھے۔ فریم لیس گلاس اتارے اور ابھی بولنے کو لب وا کیے ہی تھے کہ سلائیڈنگ ڈور کھینچتے ہوئے ناز کھانے والی تین منزلہ ٹرالی گھسیٹ اندر داخل ہوئی۔ ساتھ ہی ایک دبلا پتلا پیاری سی شکل والا لڑکا سوئی جاگی کیفیت میں داخل ہوا۔
”اسلام وعلیکم ماموں !“ تمیز سے سلام لیتے ہوئے اس لڑکے نے نواز سے ہاتھ ملایا۔ ناز قتیلی میں سے اب چائے کو کپ میں انڈیل رہی تھی.
”کیسے ہو راحم؟“ ماموں کا لہجہ خوشگوار ہوا_ ”آؤ بیٹھو۔“ انہوں نے اپنے ساتھ جگہ بنائے بٹھایا۔ راحم نے اپنے سفید شلوار قمیض کی شکنیں درست کیں اور ان کے برابر میں بیٹھا۔ تبسم بھی پھلوں والی ٹوکری لیے اندر داخل ہوئیں.
سب آہستہ ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف ہو رہے تھے، سیب کے ابھی بھی بہت سے ٹکڑے حارث کے باؤل میں تھے۔ سب نواز کی طرف متوجہ تھے۔ کسی نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ آنکھوں میں اجنبی سی کاٹ در آئی، باؤل کو میز پر رکھا، چہرے کو سخت بنایا۔
یہ شخص اور اس کا خاندان اس کو ہر بار ایسے ہی پس پشت ڈال دیتا تھا۔ ماموں راحم سے باتیں کر رہے تھے اور وہ انہیں اپنی میڈیکل کے ٹھر ڈائر کی تازہ ہوتے ایگیمز کے متعلق بتارہا تھا۔ ناز کی نظریں کبھی کبھی اس کی طرف ضرور اٹھتی تھی، ممّی تو بالکل کسی اور دیس کی باسی لگ رہی تھیں۔ اس نے صوفے کی پشت سے سرکایا۔ آنکھوں کی کاٹ سوچ میں منتقل ہوئی، وہ سوچ جو عنقریب کسی کو توڑنے یا برباد تو ضرور کرنے والی تھی۔ وہ سوچ شر اور باطل بزजात خود تھی۔ اور اس کی آنکھوں میں روشن چہرے والی لڑکی کا عکس لہرایا تھا۔ وہ سوچ کا مرکز تھی۔۔ ایسی سوچ کی مقصد کی تقلید کے لیے بس وہ ہی لہراتی تھی۔
وہ گہرا مسکرایا۔
☆☆☆
”بو جھل دل، بو جھل شام،
سب بیزار یا فقط ہے خمار“
لاہور کی صاف ستھری سڑکیں اس پوش علاقے والے ٹاؤن میں بھی کشادگی اور خوبصورتی سے کھل رہی تھیں۔
جدید تراش و خراش سے بنے بنگلے اپنی حیثیت کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ تقریباً دو کَنال کے رقبے پر پھیلا وہ بنگلا اسٹریٹ کی گلی کے آخر میں تھا۔ رنگ برنگی بیلیں اسی ٹیرس کی گرل سے نیچے کو لٹک رہی تھی۔ موسم صبح کی نسبت خوشگوار تھا۔ اسی بنگلے کے سامنے بچوں کے کھیلنے کی آوازیں بڑے سے انڈے کی شکل والے جھولے میں بیٹھی سلیولیس قرمزی رنگ کا نائٹ سوٹ پہنے اس لڑکی کو صاف سنائی دے رہی تھیں.
چھوٹی ہلکی بھوری آنکھیں سیاہی والی رات میں ٹم ٹم کرتے اجالا بکھیرتے ننھے تاروں پر تھیں۔ وہ اداس لگتی تھی_ روشن چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔ چھوٹے بال بڑے سے کیچر میں مقید ہوتے ہوئے بھی باہر نکلنے کی سع کر رہے تھے۔ انہیں تاروں کو دیکھتے اس کی آنکھوں کے آگے دھند بڑھی۔ پلکوں کو جھپکا تو وہ دھند شفاف پانی کی صورت گالوں پر لڑکھی۔ دھند بڑھتی گئی اور شفاف پانی گالوں پر لڑھکتا گیا.
اس کا دل بو جھل ہو رہا تھا، لب پیوست کیے وہ سرخ رنگت لیے مسلسل نہ رونے کی سع میں جتی تھی۔
”جبین!“ نسوانی پکار پر اس نے برق رفتاری سے چہرہ پھیر ہاتھ کی پشت سے آنکھوں کو رگڑا۔ اسی دوران اس کی ہچکی بے اختیار ہی ابھری.
وہ دراز قد متناسب جسامت والی لڑکی تھی۔ لباس بھی سحر جیسا تھا البتہ بازو مکمل تھے۔ نقوش واجی۔ سیاہ آنکھوں میں فکر سموئے وہ اس کے ساتھ جھولے میں بیٹھی۔ بازو پھیلائے اس کو اپنے ساتھ لگایا.
سحر کچھ ساعتیں نرمی سے اس کے ساتھ لگتی رہی اور پھر اس کی ہچکی ابھری.
”حارث نے آج مجھے بہت ڈانٹا ہے، یاسمین بھابھی۔“ اس نے ہچکیوں کے درمیان بمشکل لفظ ادا کیے.
یاسمین کی آنکھوں میں خفگی اتری.
”میں بس تھوڑی ہی لیٹ ہوئی تھی۔ اس نے مجھے بہت انسلط کیا۔“
”مجھے پتا ہے چپ کر جاؤ،“ بھابھی نے ملائمت سے کہا.
”مجھے بالکل اچھا نہیں لگا، بلکہ وہ جب مجھے یوں ٹریٹ کرتا ہے مجھے اچھا نہیں لگتا۔“ آواز بھاری ہونا شروع ہوئی.
”مجھے اچھا نہیں لگتا وہ مجھے ڈانٹیں جن سے میں محبت کرتی ہوں_“ وہ اب بھابھی سے الگ ہو رہی تھی۔ آنکھیں آنسوؤں سے لبریز چہرہ سرخ تھا۔ پر چہرے پر شاید رونے کے باعث چمک تھی.
پشت سے آنکھوں کو رگڑا۔ گہر اسانس لیا پر آنکھیں پھر سے دھندلا گئیں.
”پر وہ سمجھتا ہی نہیں، وہ مجھے ان نظروں سے دیکھتا ہے جن سے میں چاہتی ہوں وہ مجھے نہ دیکھے۔ پر میں کیا کروں بھابھی، میں اس کو اپنے ساتھ اس طرح بیہیو کرتے روک بھی نہیں پاتی۔ میں کچھ نہیں کرپاتی۔“
بھابھی نے آہستہ آہستہ جھولا ہلانا شروع کیا۔ نظریں ٹم ٹم کرتے تاروں پر تھیں.
”چپ کر جاؤ کتارونا ہے اب تم نے۔“ آواز میں ملائمت تھی۔ پر الفاظ کسی شے سے ٹوکنے والے.
”وہ ہر شے میں میری امیری کو لے آتا ہے، میں امیر ہوں اس میں میرا کیا قصور مجھے مولا، ڈیڈی کی وجہ سے ملا، اپنے نصیب کی وجہ سے ملا، امیروں کو تو وہ اچھوت سمجھتا ہے۔ وہ میری غلطیوں کو امیری سے ہی جج کرتا ہے۔“
وہ رندھی ہوئی آواز میں دھیما سا کہہ رہی تھی.
”کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میں ساری دولت بھی بیچ دوں تو اپنے لیے حارث کی محبت نہیں خرید پاؤں گی۔“
آواز میں ملال در آیا۔ دھند گالوں پر بہہ نکلی.
”مجھے اگر معلوم ہوتا کہ میری امیری حارث کو مجھ سے محبت نہیں کرنے دے گی تو میں اس عمارت کو ہزار بار ٹھکرا دیتی۔“ پھر ملال ابھرا۔ یاسمین کے لب کسی سوچ کے تحت سکڑے.
”کاش میں امیر نہ ہوتی۔“ آواز پھر سے بھر آئی.
”چپ کر جاؤ کتارونا ہے تم نے، اتنا بھی وہ ہینڈ سم نہیں ہے کہ تم اس کے لیے یوں روو۔ اس کی محبت کو پانے کے لیے ایسی باتیں کرو۔“ بھابھی نے کوفت سے اس کو کہا.
سحر جبین رک گئی، آنکھوں میں حیرانی در آئی، چمکتا چہرہ کچھ اور سرخ ہوا_ پھر وہ ہنس دی۔ عجیب غمزدہ سی ہنسی تھی اس کی۔ اس کے یوں روتے روتے ہنسنے پر بھابھی نے اس کو دیکھے آنکھیں گھمائیں.
”وہ مجھے بہت ہینڈ سم لگتا ہے۔ سب سے پیاری مجھے اس کی ٹھوڑی لگتی ہے۔“ لہجے میں اس شخص کے ذکر نے آسودگی سمودی.
بھابھی نے پھر سے آنکھیں گھمائیں، لیکن ان کی نظروں میں اس کا کے ذکر پر یوں ہنسنا سوچ کی لکیریں بکھیر گیا تھا_ وہ پہلے اس کی وجہ سے رو رہی تھی پر اب یوں محض اس کے ذکر پر وہ ہنس دی_ عجیب بے حد عجیب_ سحر جبین کو اس کا ذکر یوں یونہی ہر شے بھلا دیتا تھا۔ جیسے وہ اس وقت اس کے ذکر پر یہ تک بھول گئی کہ کچھ قبل وہ اس کی وجہ سے رو رہی تھی_ لیکن ہر ہنسی خوشی والی تو نہیں ہوتی.
”۔but I love him, the way he is“ یاسیت سے کہتے اب اس کی آنکھیں دھندلائی نہیں.
”سحر محبت کے علاوہ بھی دنیا میں بہت سے شے ہیں، کیوں خود کو ان فضول ایکٹیویٹیز میں الجھارہی ہو_“ بھابھی نے رخ اس کی جانب کی کہنا شروع کیا.
”تم پچیس کی ہو_ تمہیں زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے_ محبت میں دوسری جانب سے یہ سب ملے تو سمجھ جاؤ آپ کو آگے بھی بس بدلے میں خواری ملے گی_ اپنے ایموشنز کو پیچھے ہتاؤ۔ اس عمر میں لڑکیاں خود کو ان کاموں میں الجھا کر بس ٹارچر اور ڈپریشن لیتی ہیں۔ یہ عمر خود کو ڈسکور کرنے کی ہوتی ہے۔ ایک طرفہ محبتوں کو نہیں_“
وہ تیز لہجے میں آہستگی سے کہہ رہی تھی.
سحر نے گہری سانس لی اور نظر تاروں پر جمائی.
”جب تم پریکٹیکل لائف میں آؤگی تو تمہیں کسی کے لیے رونا صرف لاج لیس اور میمچپورٹی لگے گی_“ انہوں نے سیاہ ہاف باندھے بالوں کو جوڑے میں باندھنا شروع کیا۔ سحر نے آنکھیں تاروں سے ہٹاچکالیں.
کچھ لمحے خاموشی میں بیتے بھابھی نے سحر کو دیکھا جو نظریں جھکائے شاید پھر سے رونے کی تیاری کر رہی تھی.
”میرے ہاتھوں میں اس کے نام کی کوئی انگوٹھی نہیں ہے، بس یہ ایرنگز ہیں۔ جو میں نے آٹھ سال اور چھ ماہ ستائیں دن پہلے پہنے تھے۔ اس چیز نے بھی مجھے اس سے محبت نہیں کروائی۔“
چہرہ اور آنکھیں آسمان کی طرف پھر سے اٹھائیں اور پھر بھابھی کی جانب دیکھا.
بھابھی کی آنکھوں میں اس کے اعداد و شمار پر حیرانی ابھری.
”حیران مت ہوں، مجھے اس سے جڑی ہر شے عزیز اور پیاری ہے وہ میرے دماغ میں کاپی ہے۔ یہ تو بس دن ہیں_“
اس نے آنکھوں کو کور گرا.
”نوڈاؤٹ وہ خاندان میں سب سے ہینڈ سم ہے، اس کی گریلس الگ ہے۔ لیکن مجھے اس سے محبت اس وجہ سے بھی نہیں ہے_ مجھے اس سے کوئی اٹریشن نہیں ہے۔“
”اچھا تو پھر کیوں ہے تمہیں اس بد تمیز شخص سے محبت_“ وہ صاف بد مزہ ہوتی دکھ رہی تھی.
”پتا نہیں بس مجھے اس سے محبت ہے تو ہے، دل دماغ اس کے پابند ہیں۔“ وہ زور رد دے کر بولی۔ بھابھی نے اس کو جتی نگاہوں سے دیکھا، جھولا ویسے ہی جھول رہا تھا.
”وہ میرے ساتھ جیسے بھی سلوک کر لے میں پھر بھی اس کی چاہ کی خواہش رکھوں گی۔ یہ میرے بس سے باہر ہے۔“
اسٹریٹ میں کھیلتے بچوں کی مائیں اب انہیں واپس گھروں کو لے جا رہی تھیں_ بچوں کو مزید مہلت مانگتے اور ماؤں کی ڈبٹ کر منع کرنے کی آوازیں وہ دونوں خوبصورت سے پھولوں اور لائٹس سے سجے ٹیرس میں بیٹھی با آسانی سن رہی تھیں.
”اور محبت کوئی ایکٹیویٹی نہیں ہے، یہ کوئی جادو ہے، پر یہ جادو جذبوں کو نگلنے والا ہوتا ہے، اور سارے جذبے نگل کر جو جس سے آپ محبت کرتے ہیں بس اس کی غلامی کرنے کا جذبہ دیتا ہے۔“
اب وہ بھی جھولا پاؤں سے آگے پیچھے کر جھلارہی تھی، اسٹریٹ میں اب خاموشی تھی۔ غالباً مائیں اپنے بچوں کو لے جا چکی تھیں_ یہ خاموشی ان دونوں کے درمیان بھی کافی دیر حائل رہی.
”تو پھر یہ روناڈونا کیسا؟ وہ جیسا سلوک کرتا ہے اس کو قبول کرو۔“
سحر جبین نے لب کاٹے_ وہ یکدم ہی اتنی دلیلوں سمیت بے سی ہوئی۔ اس بات کا جواب کوئی نہیں تھا.
یاسمین اس کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر تلخی سے مسکرائی.
”تم بہت اچھی ہو سحر پر تمہاری یہ اچھائی ڈیزرو نہیں کرتا۔“
”اس سچ کو سمجھو_“ یاسمین نے سادگی سے کہا۔ اس کی اس ساری باتوں میں کوئی طنز کوئی غصہ نہیں تھا بس کسی عزیز کو سمجھانے والا سمجھاؤ تھا.
لب بھینچے اس نے نظروں کا رخ بدلا_ کھڑی ہوئی لکڑی کے فرش پہ پڑی کولاپوری چپل پیروں میں اڑسی اور ٹیرس سے گھر کے اندرونی حصے کی جانب کے لیے بڑھی.
”عجیب پی اوویز ہیں آپ کے بھائی کے۔ مجھے تو آپ کی ان باتوں میں کوئی سچ نہیں ملا۔“ کہتے وہ آگے بڑھی.
”اچھاایہ بتاؤ اس کی گئی انلٹ اور روڈ نیس کے ساتھ رہ لوگی۔ ہاں_“ یاسمین نے نرمی سے سوال داغا.
سحر ٹھہر گئی_ آنکھوں کے آگے آج صبح حارث کی گئی بد کلامی ابھری، لبوں کو کاٹا، دل ڈوب سا گیا.
”یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ صرف تمہیں ایلیٹ کلاس کی مغرور لڑکی سمجھتا ہے۔ اس کا سچ قبول کروگی۔ ہاں_“ بھابھی کی آواز میں چیلنج در آیا۔ وہ صاف بے بس ہوئی۔ وہ یہ سچ قبول نہیں کر سکتی تھی چاہے تو بھی نہیں.
اس کے گلے میں کچھ اٹکا۔
”افوہ بھابھی آپ بھی پتا نہیں کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی ہیں، یہ نہیں ہوتا تو اس کو کچھ بنا کر کھلا دوں ، آپ کا ایسا شیف ہونے کا کیا فائدہ، ہاں۔“
اس نے ڈھیر و ڈھیر مصنوعی خفگی سے کہا اور تین زینیوں پر چڑھتے ہوئے دروازہ دھکیل اندر داخل ہوئی۔
بھابھی نے یو نہی جھولا جھلاتے اس کو جاتے دیکھا۔ سر کو بیچارگی سے جھٹکا اور کھڑی ہوئی.
”کیا کروں میں تمہارا ازہرہ جبیں_“ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس نے نائٹ سوٹ کے ٹراؤزر میں سے فون نکالا، پھر اس کی انگلیاں فون پر تیزی سے چلیں اور تبسم پھپھو کا نام سے سیو نمبر کو دبایا اور فون کو کان سے لگایا_ بیل جاتی رہی اور پھر دوسری جانب سے اٹھائے جانے پر اس نے کہا۔
”اسلام وعلیکم ! تبسم پھپھو، کیسی ہیں آپ_“ فون کو کان سے لگائے وہ ٹیرس کے سامنے طویل راہداری والی روشن گلی میں گھسی۔
☆☆☆
اس صاف ستھرے گھر میں اس وقت سناٹا تھا۔ وہ تقریباً رات کے بارہ بجے درمیان لوہے کا گیٹ کھول کر اندر داخل ہوا_ اس نے مضبوطی سے نئی چمکتی ہوئی بائیک کو پودوں سے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے لمبی راہداری جو اس
وقت اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی میں کھڑا کیا۔ پھر آگے بڑھا۔ راہداری کے سرے پر لگی زرد بتی سیاہ آنکھوں میں چمکتی مسرتویت واضح دکھارہی تھی_ چہرہ بھی ویساہی مسرور ہورہا تھا.
ٹی وی لاؤنج میں داخل ہوتے وہ بری طرح ٹھٹھک کر رکا۔ تبسم صوفے پر بیٹھی سوچ نگاہوں سے تسبیح کے دانے گراتے ہوئے سامنے کچن کے بند دروازے کو دیکھ رہی تھی.
”ممی آپ سوئی نہیں ابھی تک_“ تبسم اس کی آواز پر چوکنیں_ آنکھیں اس کو دیکھتے ہی سکڑیں.
”کسی دن میں تمہارے آفس آؤں گی، دیکھوں تو بھلا یہ کون سا آفس ہے جو اس ٹائم تک کام کرواتا ہے۔“ ممی کے ارادے حارث کو خطر ناک لگے۔ ساری مسرتویت جھٹ سے اڑچھوو ہوئی۔ پر چہرہ وہ گہرا مسکرایا.
”آجائیے گا، موسٹ ویلکم_ منع کس نے کیا ہے_“ وہ ان کے ساتھ بیٹھا.
”پر میرے ذاتی آفس میں۔ ابھی تو میں جب کرتا ہوں اور لیٹ بھی ہوتا ہوں اس لیے ہوتا ہوں کیونکہ فور آلکنزریز اس وقت اویلیبل ہوتی ہیں_“
وہ ان کا ہاتھ تھامے غلافی آنکھوں میں چمک لیے صاف، بڑے سچاؤ کے ساتھ جھوٹ بول رہا تھا.
ممی نے بھی گہری سانس بھری_ اب سوچ کی جگہ پریشانی اور اضطراب حارث نے ان کے چہرے پر ابھرتے دیکھا.
”کوئی بات کہی ہے_“ اس نے یہ دیکھا وہ کافی حد تک چوکنیں.
”کہنے کا کیا فائدہ جب تم میری سنتے ہی نہیں_“ وہ اداس ہوئیں.
اور حارث کے دماغ میں بہت کچھ کلک ہوا، وہ ایک ہی معاملے میں ان کی بات ماننے سے قاصر رہتا تھا اور وہ بات ہمیشہ روشن چہرے والی لڑکی سے متعلق ہوتی تھی.
”آپ کہیں میں ہمہ تن گوش ہوں_“ اس نے بدقت بات کو مزاح میں بدلنا چاہا۔
”بیٹا سحر کے ساتھ اچھے سے پیش آیا کرو_“ انہوں نے نرمی سے اس کے گھنگریالے سلیقے سے جھے بال سنوارنا شروع کیے۔
آہ! اس کا دل کرا رہا بھلاں دل کے اندازے بھی غلط ہوئے ہیں کبھی.
”وہ تمہارے ماموں کی بیٹی بھی ہے، تمہاری منگیتر بھی ہے، اور وہ بہت حساس ہے، بچپن میں بھائی کی جلدی وفات نے اس پر بہت اثر ڈالا تھا، اب تو وہ کافی بہتر ہے پر پھر بھی تھوڑی احتیاط کیا کرو، کوئی غلطی ہو جائے تو آرام و سکون سے پہلے اس کی بات سنا کرو، نے بغیر اس پر تختی مت کیا کرو تختی بھی کیوں کرنی اس کو بس سمجھایا کرو_“
”ممی سارے امیر لوگ ہی حساس ہوتے ہیں۔“ وہ دل میں کڑھ کر بولا.
انہوں نے اس کے چہرہ پر اپناسانولی رنگت والا ہاتھ دھرا۔ اور تبسم صاف انداز لگا سکتی تھیں، کہ اس کا جبڑا بھینچا تھا ، چہرے پر تختی عودی جس کو اس نے شاید ان کے آگے چھپانے کی کوشش میں ان کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹایا.
”اور کیا سلوک کیا ہے میں نے اس حساس لڑکی کے ساتھ_“ سپاٹ آواز میں اس نے کچن کا بند دروازہ دیکھتے پوچھا۔ اس لمحے اس کی آنکھوں میں عجیب جنونی سی کاٹ تھی.
”میں ایک بات کہہ رہی ہوں، حارث_“
”بات،“ سر جھٹکا ”یہ ضرور اس حساس لڑکی نے میری برائیاں آپ سے کی ہوں گی_“ وہ خفا ہوا_ ”اور آپ کیسے ان امیر لوگوں کی باتوں میں آجاتی ہیں_“.
”نہیں، بیٹا_“ وہ جلدی سے بولیں۔ ”اس نے مجھے کچھ نہیں کہا۔ اور یہ امیر لوگ کیا لگار کھا ہے بھائی کا خاندان ہے وہ میرا_“
”اچھا تو پھر آپ یہاں کیا میری آرتی اتارنے کو بیٹھی تھیں اتنی دیر سے؟ اچھی طرح پتا ہے اس نے آپ کو میرے خلاف کیا ہے_“
اس نے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔
”حارث میں ایک بات کہہ رہی ہوں، وہ تمہاری کزن بھی ہے، منگیتر بھی ہے۔ اس کے احساسات تم سے جڑے ہیں، وہ صاف الفاظ استعمال کر رہی تھی_“
”یوں تم اس کو بلا وجہ ڈانٹتے پھرو گے تو وہ کیا سوچے گی_ کل کو تم دونوں کی شادی ہونی ہے وہ تو آگے ہی سال میں کم ہی تم سے مل پاتی ہے۔ اوپر سے جب تم سے ملتی ہے تم اس کو ڈانٹنے بیٹھ جاتے ہو، کیوں اس کو خود سے خائف کر رہے ہو_“
وہ سمجھا سے کہہ رہی تھی_ حارث نے پھر سے سر جھکایا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی.
”میں نے تو آپ سے کہا ہی نہیں کہ میں نے اس کو ڈانٹا تھا، پھر آپ کو کیسے پتا چلا؟“
اور اس نے دیکھا ممی اس کے انداز میں ہلکا سا بو کھلائی.
”نہیں ایسا_“
”پلیز ممی آپ کو معلوم ہے آپ میرے سامنے جھوٹ نہیں بول سکتی تو کیوں بات گھمارہی ہیں_“ وہ نرمی سے تبسم کی بات کاٹ گیا.
انہوں نے تسبیح کو ٹیبل پر رکھا.
”آپ سیدھی بات کیوں نہیں کرتیں_“ وہ زور رد دے کر بولا.
”یاسمین کی کال آئی تھی، وہ بتا رہی تھی تم نے سحر کو صرف دس منٹ کی دیری پر آنے سے بہت ڈانٹا تھا۔ اس کا جوتاٹوٹ گیا تھا۔ اور ہاں اس نے ہی تمہاری شکایت لگائی تھی_“ انہوں نے ہار مانتے ہوئے کندھے اچکائے اور اس کو بتایا.
”اور اس نے کہابوگا مجھے سمجھائیں۔“ اس نے آنکھیں گھمائیں.
”نہیں بالکل نہیں، تم بچے نہیں ہو اور نہ وہ جو مجھے کہتی تمہیں سمجھائے_ وہ مجھے بس تم دونوں کی منگنی پر نظرثانی کرنے کو کہہ رہی تھی_ اس کو تم سحر کے بارے میں سیر يس نہیں لگ رہے ہو_“ تبسم نے آخری فقرہ خاصی پریشانی سے کہا.
حارث نے محسوس کیا اس کا دل نظرثانی کے لفظ پر جانے کیوں ڈوبا.
”منگنی پر نظرثانی_“ وہ حیران ہوا_
”یہ منگنی کہاں سے بیچ میں آگئی_ منگیتر کزن، بھئی میری بات سنیں_“ وہ یکدم ہی جھنجھلایا_ ”اتنی گرمی تھی میں کب سے باہر اس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ باہر نکلی بھی اور مجھے دیکھے بنا پار کینگ ایریا میں گھسی۔ اب بتائیں میں کیا کرتا آگیا غصہ تو ڈانٹ دیا میں نے۔ اور وہ پاپا کی پری پہنچ گئی بھابھی کے سامنے میری برائیاں کرنے کے لیے۔ بھابھی بھی اس نے استعمال کیا ہے، خود وہ اچھی رہنا چاہتی ہے اور سب کو میری طرف سے بد گمان کرنا چاہتی ہے۔“
لہجہ میں عجیب بیزاریت تھی، جیسے وہ اس ذکر سے جان چھڑانا چاہ ہو.
”پھر وہی بات اس کی جوتی ٹوٹ گئی تھی، تم اس کی کنڈیشن تو سمجھتے اور برف سے بنے ہو جتنی گرمی میں پگھل جاتے اور اس کو کیا فائدہ سب کو تمہارے خلاف کر کے_ عجیب ہو تم بھی!“ انہوں نے ناک چڑھائی.
وہ چپ رہا۔
”پر سو تم نے اس کو پک کرنے جانا ہے۔ اور میں پھر کہہ رہی ہوں سحر کو تم کچھ کہو گے چاہے وہ کوئی غلطی کرے بھی یا نہیں آرام اور سکوں سے اس کے ساتھ پیش آؤ گے۔ سمجھ آئی۔“
اس نے محض سر ہلایا۔ البتہ ان کو وہ کچھ سوچتا نظر آیا۔
”آپ لوگ واقع ہی اس منگنی کو اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی سیر یس لے رہے ہیں۔“ اس کا لہجہ بے حد عجیب ہوا_ ”وہ منگنی جو بس باتوں ہی باتوں میں ہوئی تھی_“
”یہ کیسی بات کہی تم نے؟ بھلاں ایسی باتیں کوئی مذاق میں ٹلے کرتا ہے۔ سیر یس تھی تو جبین کی بات بھائی سے تمہارے لیے کی اور بھائی نے بھی ہامی بھری۔ اور اس وقت تم دونوں ہی چھوٹے تھے تو باتوں میں ہی بات پکی کرنی تھی نہ_“ وہ اپنے تعین اس کو کچھ خفگی سے سمجھارہی تھیں.
حارث کے کندھے ڈھلکے_ چہرہ نہ چاہتے ہوئے بھی بیزار سا ہوا_
”اور یاد آیا تمہیں نواز بھائی نے اپنے آفس بلایا ہے کچھ باتیں کرنی ہیں تم سے، بارہ ایک بجے تک چلے جانا۔ مجھے تمہیں کہنا نہ پڑے دوبارہ_“ حارث کی بیزاریت حد سے سوا ہوئی_
”چلواپ ان کی پیشی بھی بھگتناپڑے گی_“ تبسم مسکرا دیں_
”حارث میں نے بھائی سے اس کا ہاتھ تھا، بہت مان سے مانگا تھا، احتیاط کرو میرا مان نہ ٹوٹے_“ انہوں نے تسبیح کو تھاما اور کھڑی ہوئی_ حارث نے ان کا ہاتھ تھاما۔ کچھ پل ان کو دیکھتا رہا_ چہرہ ماں کو دیکھتے ہی نرم ہوا_
”نہیں ٹوٹا آپ کا مان، پراس_“ ممی پر سکون سی ہوئی اس کی بات سن_ انکواس کا چہرہ بھی مطمئن لگا۔
”لیموں پانی_“ انہوں نے سولیہ ابرو اچکائی۔
وہ مسکرایا اور نفی میں سر ہلایا۔
”نہیں موڈ نہیں ہے میرا_“
”اچھی بات ہے، اس ٹائم پینے بھی نہیں دینا تھا تمہیں نے_“ انہوں نے بھی مذاقاً کہا اور سیز ہیوں کی طرف ہو لیں_
”چلواپ سو جاؤ تم بھی_“
وہ ہنس دیا۔ کچھ پلوں بعد ممی کے اوپر چلے جانی کی چاپ معدوم ہوئی_ اس کی نظریں کچن کے بند دروازے پر ٹکی تھیں_
”مان ٹوٹے گا ممی اور آپ کی طرف سے نہیں اس جھوٹے کھوکھلے نواز کی طرف سے، اس کی بیٹی کی طرف سے_ کیونکہ یہ رشتہ بھرَم سے بنا ہے اس میں مان دور دور تک نہیں ہے_“ کھڑا ہوا_
”اور میں جھوٹے بھرَم نہیں رکھتا۔“
خود کو باور کرواتے ہوئے، وہ خود سے یہ سب بڑھبڑارہا تھا، یاشاید آنے والے وقت کے لیے آنکھوں کی کاٹ میں سوچ چھپارہا تھا_
☆☆☆
صاف ستھرا اجلا چہرہ، نفاست سے پیچھے کو ججھے ہلکے گھنگریالے بال اور سیاہ غلافی آنکھیں اس وقت شکاری کی مانند لگ رہی تھیں_ حارث رحمان تبسم کے بتائے وقت سے تقریباً پچھے گھنٹوں بعد نواز کے شاہانہ آفس کے سامنے کھڑا تھا_ لبوں کو سکھیڑے اس نے ٹھوڑی کے تلوں کو چھوا اور پھر گہرا مسکرایا۔
نیوی چیک شرٹ اور سیاہ پینٹ کی جیبوں میں سے دائیں والی جیب میں ہاتھ ڈالے اس نے سرخ رنگ کا پین نکال شرٹ کی دائیں جانب بنی جیب میں اٹکایا_ پھر اس نے سامنے نظر آتے بھاری کاپچ کے بھورے دروازے کی طرف قدم بڑھانا شروع کیے_ دروازے تک جانے کے لیے اس کو دس زینے عبور کرنا تھے_ پہلی سیڑھی پر چڑھتے ہی وہ گہرا مسکرایا۔ عجیب جنونیت تھی اس کی مسکراہٹ میں_ اور پھر جیسے جیسے وہ زینے عبور کرتا گیا اس کی مسکراہٹ سنجیدگی کے بھید میں بدلتی چلی گئی_ ایک گہر اسانس بھر اس نے اب کہ بے تاثر نگاہوں سے خاکی وردی پہنے سیکیورٹی گارڈ کو دیکھا جو ضعیف ساتھ اور اب نقاہت زدہ طبیعت لیے اس کے واسطے دروازہ کھولنے کے لیے اٹھنے والا تھا_ مگر حارث رحمان اس سے قبل ہی بول اٹھا۔
”بیٹھے رہو چاچو میں دروازہ کھول سکتا ہوں_“ اس پر ایک نظر ڈال دروازے کو آگے کی طرف دھکیل وہ اندر داخل ہوا_
پچھلے اس ضعیف سے سیکیورٹی گارڈ نے چہرے پر عجیب سا اثر لیے اس کو جاتے دیکھا۔
آنکھوں میں سوچ کی لکیریں سموئے وہ آفس چئیر پر بیٹھے کچھ مغموم سے لگتے تھے، جب ان انٹرا کام کی گھنٹی نے سارے میں ارتعاش ساپیدا کر اکوان کو چو نکاسدیا۔
”ہیلو_“ ریسیور کو کان سے لگائے نواز دھیما سا بولے_
”ٹھیک ہے میرے آفس میں بھیج دو_“ سنجیدگی سے کہتے انہوں نے آفس ٹیبل پر رکھی ننھی پیلی گھڑی پر وقت دیکھا جو اس وقت چھے بجے رہی تھی_ سر جھٹک انہوں نے آنکھوں کو مسلا اور کرسی کو گھمائے سیدھا کیا اور نظر کا چشمہ ناک پر ٹکایا۔
لڑکی کے لش پیش دروازے پر ناک کیئے جانے کی آواز سن ان کے چہرے پر سنجیدگی طاری ہوتی چلی گئی۔ گہری سانس بھر انہوں نے مقابل کو اندر آنے کی اجازت دی_
”کم ان_“
کچھ پل بیتے اور پھر دروازہ بغیر کسی چرچراہٹ کے کھلا اور انہوں نے حارث رحمان کو اپنے سامنے نمودار ہوتے پایا۔ وہ کچھ چونکے، وجہ اس کے چہرے کی حد درجہ سنجیدگی تھی۔ حارث رحمان قدم دھرتا نکتک آیا اور ان کے سامنے رکھی دو کرسیوں میں سے ایک پر بڑے آرام سے بیٹھا اور پھر اسی سنجیدگی سے اس کو تکتے نواز کا چہرہ دیکھا۔
”جی، ممی بتاہی تھیں آپ کو کچھ باتیں کرنی ہیں مجھ سے_“
جواباً آواز کے چہرے پر یکدم کر ختگی سی گھلتی چلی گئی اپنی سیٹ کے ساتھ ٹھیک لگائے انہوں نے نے گہر اسانس بھرا۔
”میرے خیال میں میری بہن نے اتنی بری تربیت نہیں کی کہ تم کسی سے سلام تک نہ لو، خاص کر اپنے خونی رشتوں سے_“ وہ اسی کر ختگی سے بولے تھے جو اس وقت ان کے چہرے پر چھائی ہوئی تھی_ مگر حارث رحمان کی سنجیدگی میں بھی رتی برابر بھی فرق نہیں آیا تھا_
”خونی رشتے حق کھانے والے ہوں تو ان پر سلامتی نہیں بھیجی جاتی ہے نواز صاحب_“
”کیا مطلب ہے تمہارا، میں لعنت کا مستحق ہوں_“ ان کو حارث کی بات طمانچے کی مانند لگی تھی_ اب کہ وہ مسکرایا_
”آپ بہتر جانتے ہیں نواز صاحب کون کس چیز کا حق دار ہے_“ حارث کی آنکھوں میں مسرتویت چھارہی تھی_ نواز نے لب بھینچے اس کو دیکھا_ پھر وہ کچھ آگے ہوئے اور میز کی سطح پر دونوں کہنیوں کو ٹکایا اور ہاتھوں کو باہم ملایا_
کیوں بد ظن ہو آخر مجھ سے اتنے حارث؟“ ان کے چہرے پر یکدم ہی بے بسی چھائی تھی یہ لفظ ادا کرتے ہوئے_
”تم مجھے میری اولاد کی طرح عزیز ہو حارث۔۔۔“
اس نے نفی میں سر ہلایا” نہیں اپنی اولاد صرف اور صرف اپنے والدین کو عزیز ہوتی ہے۔ کوئی کسی کی اولاد کو اپنا نہیں سمجھتا اور تب تو بالکل بھی نہیں جب وہ غریب اور یتیم اور مسکین ہوں_“ اس کی آواز میں قطعیت تھی_
”بے جانفر تیں پھیلا کر کسی کو کچھ نہیں ملتا_“ نواز اسی بے بسی سے بولے_
”مجھے کسی سے کچھ چاہیے بھی نہیں۔ محبت بالکل بھی نہیں_“ لہجہ وہی قطعیت والارہا_
نواز کی آنکھیں چشمے کے پار بے بسی سے لبریز ہوئیں_
”تمہیں جو مسئلہ ہے مجھے بتاؤ ہم کوئی حل نکال لیں گے_ یوں مجھ سے کھار مت رکھو_“
”کھار انسان خود پیدا نہیں کرتے یہ خود بخود دلوں میں سماتی ہے_“
”بے وجہ تو یہ پیدا نہیں ہوتیں_“
”وجہ تو کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے، کوئی بھی کسی بھی وجہ سے دل میں پیدا ہونے والی کھار سے ناواقف نہیں ہوتا_“
حارث پر نواز کے لفظوں کا، چہرے اور آنکھوں کی بے بسی کا تنکا برابر بھی اثر نہیں ہوا تھا_
انہوں نے بے بسی سے واپس سے کرسی کے ساتھ ٹھیک لگائی_ حارث اسی سنجیدگی کے ساتھ انہیں دیکھے گیا لیکن اس کی آنکھوں میں مسرتویت تھی_
”خیر چھوڑو ان باتوں کو آج میں نے مان لیا کہ تم میرے حوالے سے کبھی اپنے دل صاف نہیں کر سکتے_“
”بلکل_“ اس نے سر خم تسلیم کیا_ نواز جوابا اپناپچتابھی نہ کھاسکے_
”لیکن مجھے تم واقع ہی عزیز ہو_“ حارث اب کہ خاموش رہا_
”مجھے کہیں سے پتہ چلا ہے کہ تم گیملنگ کے اڈوں پر پائے جاتے ہو۔ اور بتانے والے میرے بہت قریبی ہیں اور وہ تمہارا تعلق مجھ سے بخوبی جانتے ہیں۔ حقیقت کیا ہے مجھے بتاؤ_“ اب کہ نواز نے حارث کو چو کنا ہوتے پایا تھا_
ان کی بے بسی میں سنجیدگی بڑھتی چلی گئی_
”ایک دو دفعہ میچ کھیلنے گیا تھا_“ اس نے کچھ توقف کے سے ہی سہی لیکن بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہا_ ”پر آپ یہ بتائیں آپ کا وہ عزیز وہاں کیا کر رہا تھا؟ اور آپ نے ایسے عزیز سے تعلق کیوں رکھا ہے؟ جو ایسی جگہوں میں جاتا ہے یا پھر آپ ابھی تک جوانی کی لت کو لیے بیٹھے ہیں آخر کو اپنے زمانے کے گیملنگ کے چیمئین رہ چکے ہیں_“
اس نے صاف بات گھمائی تھی اس کی ان باتوں نواز کے چہرے پر سے ہوائیاں اڑائیں_ حارث کی آنکھوں کی مسرتویت بڑھتی چلی گئی_
”کیا فضول بات ہے یہ_“ وہ اب باقاعدہ گرجے_
”ویسا ہی پوچھا ہے نواز صاحب جیسے آپ نے مجھ سے پوچھنا چاہا_“ اس نے کندھے اچکائے، چہرے پر صاف ڈھٹائی تھی_
”میں ماموں ہوں تمہارا تمہارے بارے میں ایسی ویسی باتیں سنتا ہوں تو میرا فرض بنتا ہے کہ تم سے پوچھ گچھ کروں_“ انہوں نے اسی گرج سے کہا، آواز اونچی نہ تھی_ حارث کچھ بیزار سا ہوا_
”ماموں ہیں باپ نہیں جو آپ کا میری ایسی ویسی باتیں سن مجھ سے پوچھ گچھ کرنا فرض بنتا ہو_“ نواز کی کان کی لوئیں تک سرخ ہوئی تھیں_ یہ تزیلیل تھی_
”اس رویہ کے ساتھ تم کسی قابل نہیں رہوگے_“ انہوں نے نے نفی میں سر ہلاتے کہا_
”اپنی بہن کے بیٹے کو بد دعائیں دے رہیں آپ، چچ! چچ!“ آواز میں افسوس اور مصنوعی تاسف در آیا_
نواز کو اپنی داہنی کن پٹی دکھتی محسوس ہوئی_
”پر آپ ہمیں تبسم کی اولاد تھوڑی نہ سمجھتے ہیں آپ تو ہمیں رحمان کی اولاد سمجھتے ہیں، خاص کر مجھے_“ اس کا انداز اتارنے والا تھا_
”تم جاؤ یہاں سے، جس موضوع پر تم سے بات کرنا تھی اس پر پھر کروں گا، جاؤ_“ نواز کی رنگت متغیر پر رہی تھی، جیسے وہ صبر کے آخری مراحل سے گزر رہے ہوں_ اس کی ایک بات نے جیسے ماضی کی تمام یادوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے لاپٹخا تھا_ کیا بات کرنی تھی؟ اور کیا نہیں؟ حارث کی باتوں میں بولے گئے ایک لفظ نے سب کچھ گڈمڈ کر دیا تھا_
حارث نے غور سے ان کی حالت ملاحظہ کی اور کرسی کو پیچھے کھسکا اٹھ کھڑا ہوا_ نواز نے دونوں ہاتھوں سے اپناسر تھام لیا_
”چلیں جیسی آپ کی مرضی_ پر ٹائم سے بتا دیجیے گا اگلی دفعہ کی حاضری کا وقت، دراصل اپنا کاروبار نہیں ہے میرا عام سی ملازمت کرتا ہوں، آپ کی طرح نہیں ہوں جب چاہا آفس سے جہاں دل کیا چلا گیا_“ نواز نے کوئی رد عمل نہیں دیا بس ایک چشمہ اتارتے ہوئے ایک ملامتی نظر اس پر ڈالی_
پر ایک نظر ڈالتا وہ آگے بڑھاہی تھاجاننے کس وجہ سے پلٹا_
”اور ہاں یاد آیا، کوئی صحت مند اور جوان سیکیورٹی گارڈ رکھیں۔ اتنے ضعیف آدمی کو رکھا ہوا ہے وہ کیا ہی آپ کی حفاظت کرے گا_ ایسے انسان کی سفید پوشی سے مدد کر دیا کریں، آخر کو پیسے کی کونسی کمی ہے آپ کو، یوں کام لے کروہ بھی اس کی طاقت سے زیادہ بھلا کیا ہی ثواب دے گا آپ کو_“ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا_ اور نواز ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتے ہوئے بس اتنی کہہ سکتے تھے_
”جاؤ!“ حارث نے مسدرت سے کندھے اچکائے اور دروازے کی جانب بڑھا
نواز نے آج کی گفتگو سے ایک بات تو اخذ کر لی تھی کہ حارث رحمان لوگوں کا صبر آزمانے میں ماہر تھا_
☆☆☆
اس کا آرٹ روم بہت خوبصورت تھا_ کمرے کی چار دیواریاں ہلکے منفر د رنگوں سے مزین تھیں_ جو اس وقت کمرے کے وسط میں لٹکتے جھومر کی سفید ملگی سی روشنی میں جگ مک کر رہی تھیں_ جھومر کی روشنی زیادہ حصہ اسی تلے رکھے ایک کینوس پر پڑ رہا تھا_ ارد گرد پینٹ بر شز کا بڑا سا بیگ ترتیب سے رکھا تھا_ البتہ سحر جبین خود اس وقت ادھر موجود نہیں تھی_ اسی پل دروازے کا ناب گھمایا سمین اندر داخل ہوئی تھی_ وہ غالباً کہیں جارہی تھی کیونکہ اس نے سیاہ لمبی نفیس سے موتیوں والی قمیض اور ہم رنگ ہی سلک کا پلازوہ اور ڈوپٹاسٹالش انداز میں رکھا تھا_ بالوں کا سلیک بن بنا رکھا تھا جو اس پرنچ رہا تھا اور چہرے پر نفاست سے کیا گیا میک اس کو خوبصورت دکھا رہا تھا_
یاسمین جھومر تلے رکھے اس کینوس کو غور سے دیکھ رہی تھی، جب اس نے اپنے پیچھے دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز سنی_ وہ بغیر مڑے بھی جانتی تھی پیچھے کون تھا؟ اس کے علاوہ ادھر آتا ہی کون تھا؟ اس نے چہرہ پھیرا تو دیکھا_
وہ دیوار کے ساتھ لگے کنسول کے دراز کو کھولے کھڑی تھی_ سحر جبین نے لمبی سیاہ سلیولیس قمیض پہن رکھی تھی_ چھوٹے بال بڑے سے موتیوں والے کلپ میں قید تھے_
”ناراض ہو؟“ سادگی سے اپنی طرف پشت کیے اداس نظر آتی لڑکی سے پوچھا_ لیکن اس لڑکی نے کوئی جواب نہ دیا_
پھر یاسمین اس تک گئی اور کندھوں سے تھامے اس کا رخ اپنی طرف کیا_ سحر نے نظریں اٹھائے اس کو دیکھاتو نظروں میں اس کا تیار شدہ روپ دیکھ ستائش ابھری پر لبوں پر قفل لگارھا_
”کیسی لگ رہی ہوں؟“
سحر نے منہ کا زاویہ بگاڑ کہا_ ”مجھے کیا پتا ہو؟ اپنے شوہر سے پوچھیں میں آپ کا شوہر تھوڑی ناں ہوں_“
یاسمین ہنس دی_ اور دوسرے پل اس کو گلے سے لگایا_ سحر کے تاثرات میں لا تعلقی گھلی رہی، البتہ یاسمین بخوبی جانتی تھی کہ اس لا تعلقی کا تعلق دل سے نہیں تھا_
”میری پیاری بہن ہو تم_“ یاسمین نے اس کا خصار نرمی سے چھوواور الگ ہوئی_
”بھابھی، یہ نہ کیا کریں_ پچی تھوڑی ناں ہوں میں!“ وہ جھنجھلا کر بولی_ چہرے کے لا تعلقی میں دراڑ پڑی_
یاسمین ہنس پڑی_ پھر اس نے اس کے دونوں مومی سے ہاتھ تھامے_ ”میرے لیے تم میری بچی ہو_ پورے سات سال بڑی ہوں تم سے_“ آنکھیں دکھا کر اس کو پچکارا_
سحر کے گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی_ نظروں کو اٹھایا بھابھی کو دیکھا_ ہاں! وہ واقع اس کو اپنی بچی سمجھتی تھی_ وہ اس کے ساتھ مخلص تھی، وہ اس کی بہترین ساتھی اور دوست تھی_ کم از کم سحر جبین اس کی نیت پر شک نہیں کر سکتی تھی_ وہ جانتی تھی وہ اس کے لیے کبھی برا نہیں چاہے گی_
”بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ_“ سحر نے دل کھول کر اور مسکرا کر تعریف کی_
”آئی نو!“ کچھ اتر کر کہا_ بھابھی کا انداز دیکھ سحر کو ہنسی آئی اور اس کو ہنستادیکھ یاسمین بھی ہنس دی_ دل کی کثافت ان کی شفاف ہنسی میں معدوم ہوئی_
اس دوران دروازے کا ناب گھمائے ایک ملازمہ کمرے میں داخل ہوئی_
”یاسمین میڈم آپ کو نعیم سر بلا رہے ہیں_“
”جی ان سے کہیں آ رہی ہوں بس_“ وہ ملازمہ کی طرف چہرہ پھیر بولی_ ملازمہ نے ”جی اچھا“ کہا اور کمرے سے باہر گئی_
”اب تو نہیں ناراض مجھ سے؟“ وہ ابرو اچکائے سحر سے پوچھ رہی تھی_ سحر نے نفی میں سر ہلايا_
”میں آپ سے ناراض نہیں ہوتی بھابھی لیکن مجھے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں آپ مجھ سے ناراض نہ ہو جائیں_“ سحر نے یاسمین کے ہاتھ مضبوطی سے تھام کر کہا_
”میں تمہیں سمجھاتی ہوں تمہاری بہتری کے لیے، نہ کہ تم سے ناراض یا تمہیں ناراض کرنے کے لیے نہیں_“ سحر نے بدقت سر کو جنبش دی_ وہ جس کے لیے سحر کو سمجھاتی تھی، وہ اس کے متعلق کچھ بھی نہیں سمجھ سکتی تھی، شاید کبھی بھی نہیں، چاہ کر بھی نہیں_
یاسمین سادگی سے مسکرائی_
”ڈیڈی ابھی کچھ دیر میں آجائیں گے، تم خود ان کو کھانا دینا اور ان کے ساتھ بیٹھ بیٹھ جانا، دو دن ہو گئے ہیں ان کو کینیڈا سے واپس آئے ہوئے اور تم ان سے ملی نہیں ہو_ وہ کیا سوچیں گے؟“
”اس گھر میں میرے بارے میں کوئی کچھ نہیں سوچتا بھابھی یہ آپ بھی جانتی ہیں اور میں بھی_“ اس نے بھابھی کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ نرمی سے آزاد کیے۔ اور جھومر تلے پڑے کینوس کی اور بڑھی۔
یاسمین نے گہری سانس بھری اور سر کو جھٹکا۔ ”خیر تم پھر بھی ڈیڈی کے پاس چلی جانا وہ روز کھانے کے وقت تمہارا انتظار کرتے ہیں۔“
”جی اچھا۔“ اس نے بجھی ہوئی آواز میں کہا۔ پھر اس نے دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز سنی تو زور زور سے نفی میں سر ہلایا۔
”سحر جبین کا کوئی انتظار نہیں کرتا، میں کسی کے لیے ضروری نہیں ہوں۔“ لفظوں کی بازگشت نے یکدم ہی اس کا شے سے دل اچاٹ کر دیا تھا۔ دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر اس نے آنکھوں کو زور سے میچ کر کھولا۔
چہرہ اوپر کی جانب کیے جھومر کو دیکھا، اس روشنی میں اس کی چھوٹی ہلکی بھوری آنکھیں کسی کی یاد میں مبتلا لگ رہی تھیں.
پھر وہ کرسی کو کینوس کے قریب رکھ، اس کینوس پر رنگ بکھیرنا شروع ہوئی۔ البتہ وہ مختلف رنگوں سے کینوس پر کیا بنارہی تھی اس کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔
نیچے بڑے سے گیراج میں جھانک تو یاسمین تیز تیز قدم بھرتی گیٹ عبور کرتی باہر نکلی تھی۔ گیٹ کے سامنے ایک چمکتی ہوئی گاڑی کے قریب ایک اسمارٹ ساخوش شکل نوجوان مرد دایش گرے تھری پیس سوٹ پہنے کھڑا تھا۔
وہ اس مرد کے قریب آکر رکی۔ ”چلیں_“
مرد نے اپنی سیاہ آنکھوں سے بغور اس کی تیاری دیکھی، اور پھر مسلسل دیکھے چلے گیا_
”نعیم اگر تم چاہتے ہو میں تمہارے دیکھنے سے شرماؤ۔ تو یہ ناممکن ہے۔“ وہ جیسے اس کو آگاہ کر رہی تھی_
نعیم مسکرا دیا_
”چلو اب ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔“ اس نے اس کو کندھے سے ہلا آگے کرنا چاہا_
”جی بالکل ہم لیٹ ہو رہے ہیں اور آپ کی وجہ سے_ دس دن پہلے ہی میں تمہیں بتا چکا تھا کہ ہمیں اگلی اتوار کسی فنکشن میں جانا ہے_“ نعیم نے یاسمین کا ہاتھ تھاما اور گاڑی کا پینجر سیٹ والا دروازہ کھولا_
یاسمین نے آنکھیں گھمائیں_
”ویسے کبھی مجھے لگتا ہے میں نے کسی انسان سے نہیں بلکہ ایک چلتے پھرتے ٹائم ٹیبل سے شادی ہے_“
یاسمین نے گاڑی کے دروازے پر دونوں ہاتھ ٹکائے محظوظ انداز میں کہا اور فٹ سے اندر بیٹھ کر دروازہ بند کیا_
نعیم نے بخوبی اس کا جملہ سنا تھاپر سر جھٹک مسکرا دیا_
”وہ مسلسل ڈیڑھ گھنٹہ کینوس پر جھکی رہی تھی_ پھر ایک دم سیدھی ہوئی تو کمر پر پڑنے والی درد نے اس کو آنکھیں میچنے پر مجبور کیا۔ گردن کو دائیں بائیں ڈھلکایا اور کھڑی ہوئی وہ تھکی ہوئی لگ رہی تھی_ اور پھر جیسے یکدم ہی اس کے ذہن میں جھماکا ہوا_ ”ڈیڈی!“ زیر لب بڑبڑادہ جتنی تیزی سے کمرے سے نکل سکتی تھی
بڑے سے بنگلے کی بڑی بڑی راہداریوں سے جو اس وقت خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھیں سے گزرتے ہوئے وہ ڈائمنگ ہال تک آئی، وہاں کی بتیاں بھی گل تھیں_ البتہ دائیں جانب بنے کچن میں دو لڑکیاں اور وہی ملازمہ جو یاسمین کو بلانے آئی تھی، کچن کو سمیٹ رہی تھیں_
”ڈیڈی آگئے_“ البتہ وہ دل میں دعا کر رہی تھی کہ وہ ابھی نہ آئے ہوں_
”جی سحر میڈم وہ تو ایک گھنٹے پہلے ہی آگئے تھے_“ ڈبل ڈور فریج میں سامان رکھتی ایک ملازمہ نے اس کو بتایا_
سحر کا دل ڈوبا_
”کھانا کھالیا؟“ اس کی آواز دھیمی تھی لیکن ملازماؤں نے سن لی تھی_
”جی، وہ بھی آتے ساتھ ہی کھالیا تھا_“
”وہ روز کھانے کے وقت تمہاراپوچھتے ہیں_“ یاسمین کا جملہ اس کے کانوں میں گونجا_
آنکھوں کو چندھیا وہ ڈائمنگ ہال سے نکلی_ گھر میں پھیلی خاموشی اس کو کسی سوگ کی مانند معلوم ہو رہی تھی_
”کھانا بھی کھالیا اور پوچھا بھی نہیں_“ تلخی سے سوچ اس کا دل بھر آیا_
”سحر جبین کا کوئی انتظار نہیں کرتا، میں کسی کے لیے ضروری نہیں ہوں_“ وہ اپنے بارے میں یہ سوچتی تھی تو بالکل صحیح سوچتی تھی_
لیکن اگر وہ سوچتا تو اسے پتہ چلے کہ اس نے یہ تو پو چھاہی نہیں تھا کہ نواز نے اس کے بارے میں پوچھا تھا یا نہیں؟
☆☆☆
دو ہفتہ بعد:
وہ ابھی ابھی سو کر اٹھا تھا_ کمرے میں ملگاجا سا اندھیرا تھا_ سیاہ غلافی آنکھوں کی چمک دیدنی_ پھر وہ اٹھا اور بغیر کمرے کی بتی جلائے واش روم میں گھسا_ کچھ پلوں بعد وہ واپس آیا تو صاف ستھرے سفید ٹراؤزر پہنے تھا_
بالوں کو تولیے سے رگڑا اور ایک دو مرتبہ ہاتھ پھیر پیچھے کیا_ کمرے کا مرکزی دروازہ کھول وہ باہر نکلا اور پھر وہ جیسے بری طرح چو نکا_ سلائیڈنگ ڈور کے اس پار اسے وہ نظر آئی تھی، روشن چہرے والی سحر جبین جوادھر سے ادھر چلتے فون کو کان سے لگائے کھل کھلاٹیں بکھیر رہی تھی_ پھر جانے اس کے دل میں کیا سمائی کہ وہ چلتا چلتا سلائیڈنگ ڈور کو دھکیل ڈائمنگ ہال میں داخل ہوا، سحر کی اب اس کی جانب پشت تھی_
اس نے اس کو سرتا پیر باقاعدہ گھور کر دیکھا تھا_ اس نے آج بھی سلیولیس پہنا ہوا تھا اسی دن کی طرح جب وہ اسے پک کرنے گیا تھا، بلکہ وہ تو پہنتی ہی سلیولیس تھی_ پھر وہ کپڑے سے ڈھکے تین سیٹر صوفے کے وسط میں
بیٹھا_ انداز خودشناس تھا، مغروریت والا_ وہ بہت غور سے اس کو ہنستے ہوئے اب سن رہا تھا_ پھر ایک نظر گھڑی میں ڈالی جواب تین بجارہی تھی_
گلابی گھٹنوں تک آتی فراک پہنے اور ہم رنگ کھلا پلازو پہنے، چھوٹے بالوں والی لڑکی نے جھٹکادے بالوں کو پیچھے کیا_ حارث نے اس کے اس طرح ہال جھٹکنے پر اس کے کان کی لو میں چمکتا وہ ننھاگلابی ہیرا دیکھا تھا_
”کیسی ہو جبین؟“ نرم ٹھہری آواز میں اس نے اس کو مخاطب کیا_ اور دوسری جانب چہرہ کیے لڑکی کا دل دھک سے رکا_ رنگت سرخ، قلب منتشر ہوا_
سحر کو اپنے پیٹ میں عجیب گرہیں پڑتی محسوس ہوئی_ مڑنے نہ مڑے وہ اب ہونق دکھ رہی تھی_ وہ کب آیا، کب بیٹھا وہ اس بات سے یکسر انجان تھی_
”پھر اس نے چہرہ پھیرا اور پھر اس کو خواہ مخواه ہی ٹھوک لگنا پڑا_ حارث ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ کو جمائے، بہت عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا_ یاشاید انہیں نظروں سے جن سے وہ چاہتی تھی وہ اسے نہ دیکھے_
”زبان گھر چھوڑ کر آئی ہو_“ سحر نے پھر سے تھوک نگلا_ اس کا انداز صاف ظاہر کر رہا تھا کہ اس کو کچھ برا لگا ہے_
”نہیں، وہ ٹھیک ہوں میں_“ دھیمی آواز میں صاف منمنائی تھی_ حارث نے اس کو کچھ پل ٹکا جواب سر اور چہرہ جھکائے زمین کو دیکھتے ہوئے غیر آرام دہ لگ رہی تھی_
”بیٹھ جاؤ_“ اس بار اس نے نرمی سے کہا_
”نہیں وہ میں پھپھو کو دیکھ لوں وہ اوپر ہیں_“ وہ جتنی تیزی سے کہہ سکتی تھی اس نے کہا اور پھر اس کی جانب دیکھے بغیر آگے بڑھی وہ اتنی تیزی سے کہ بائیں جانب درمیانی استول کو بھی نہ دیکھ سکی_ اور اگلے ہی لمحہ وہ بری طرح لڑکھڑاتے ہوئے حارث کے بائیں سائیڈ کے صوفے پر اوندھے منہ گری تھی_
اف، اف، اف! شدید سکی، اہانت، شرمندگی، ان سب کو ملاؤ تو سحر کا دل اور اس کا چہرہ بنا تھا_ پر مقابل بیٹھے حارث پر جوں تک نہیں رینگی تھی_ کچھ پل بیتے تو وہ تیزی سے دونوں ہتھیلیوں کو جمائے اٹھی، ابھی وہ آگے بڑھتی کہ حارث نے اس کی کلائی تھامی_ سحر کو اپنا سر چکراتا محسوس ہوا_ ہاتھ میں تھاما فون پہلے ہی زمین بوس ہو چکا تھا_ اس کے ہاتھ میں واضح لرزش اتری تھی_ وہ کھڑا ہوا، وہ قدم میں بمشکل اس کے کندھے تک آرہی تھی_ پھر حارث نے بازو سے تھام اس کا رخ اپنی جانب کیا_
”کہیں لگی تو نہیں_“ اس کے لہجے کی نرمی اس کے دل میں اتری، سرخ ناک پڑتی لڑکی کی چھوٹی بھوری آنکھیں اٹھا اس کو دیکھا، ہر گز نہیں! اس کی سیاہ غلافی آنکھوں میں نرمی نہیں تمسخر تھا رحم نہیں محفوظ کن تاثر تھا_
”بولوه_“
”نہیں_“ وہ بس یہی کہہ پائی_
”अच्छा लेकिन مجھے لگتا ہے تمہارے دماغ میں کوئی انٹڑل چوٹ لگی ہوئی ہے_“
”جی_“ وہ الجھی_
”अपना इलाज کیوں نہیں کرواتی جب دیکھو کہیں نہ کہیں گرتی پڑتی رہتی ہو آخر کو میرے ماموں اور ان کے صاحب زادے اتنا کماتے ہیں اور اب تو آپ بھی کماتی ہیں_ یوں ہر کسی کے سامنے گرنا اچھا نہیں لگتا_“
سحر کے لب واہوئے_ یہ کیا کہہ رہا تھا؟ کیا وہ اس کو پاگل سمجھتی ہے، اس نے لب بھینچے اس کو دیکھا_
”یا پھر مجھے دیکھتے ہی تمہاری دماغی حالت بگڑتی ہے میں نے اکثر تمہیں اپنے سامنے گرتے دیکھا_ انات گرا کرو مجھے گرے ہوئے لوگ پسند نہیں ہیں_“
سحر کو اپنا دل تیزی سے دھڑکتا محسوس ہوا_ یہ کیسی باتیں کر رہا تھا؟ عجیب بے عزتی تھی جو سحر کے دل میں اترتی چلی گئی_ اس کی بات سن اس نے بازو اس کے ہاتھ سے نکالنا چاہا تو وہ اگاأس سے پہلے ہی چھوڑ گیا_ پھر اس نے وہ کیا جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا_ حارث نے بڑی ہی بے تکلفی سے اس کی کمر کے گرد بازو ڈالے اس کے اور اپنے درمیانی کچھ قدموں کا فاصلہ چھوڑا_
سحر کا دل اچھل کر حلق میں آیا_ دم سادھے، شل دماغ اور اعصاب کے ساتھ اس کے ہاتھ کپکپائے، اس کو اپنے ماتھے سے ٹھنڈا پسینہ پھوٹتا محسوس ہوا_
”حارث_“ اس کی آواز لرزی_ پہلوؤں میں گرے بازو اٹھنے سے انکاری ہوئے_
”کیوں گھبرا رہی ہو_ سہارا دیا ہے تمہیں کہیں نا گر جاؤ_“ اس نے دائیں ہاتھ سے اس کے چہرے پر آتی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا_
”اوپر پھپھو میرا انتظار کر رہی ہوں گی_“ لہجے میں بوکھلاتی ہوئی منمناہٹ تھی_ حارث کی پہلے سے خامور آلود آنکھوں میں خماری بڑھی_
وہ یوں نہی چند قدموں کے فاصلے میں لیے اس کو کھڑا تھا_ ”پہلے بھی تو تمہیں کئی بار سہارا دیا ہے، یاد ہے یا تم امیر لوگ دوسروں کی مدد بس ایس آئیڈوانٹیج لیتے ہو_“ حارث نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اس کا گال آہستگی سے سہلایا_ وہ غیر ہوتی حالت کے باعث کسمسا بھی نہ سکی_ اس کے انداز و اطوار نے سحر کے اوسان مکمل طور پر سلب کیے تھے_ وہ حارث جیسے شخص سے کبھی اس کی توقع نہیں کر سکتی تھی_ پر یہ جو بھی کرنے کی کوشش کر رہا تھا وہ غلط تھا سر اسرا غلط_
سحر کو اس سے پل کو کوفت ہوئی، حارث کی گرفت کے ہالے میں کھڑی وہ بالکل کبوتر لگ رہی تھی اور حارث بلی جو اس کے غیر آرام دہ، خوف سے پڑتے پیلے چہرے کو غلافی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا_
سحر نے محسوس کیا اس کی گرفت مضبوط ہوتی جارہی تھی، یاشاید وہ جان کر انگلیوں کا دباؤ بڑھا رہا تھا_ وہ کیا کر رہا تھا؟ کیوں کر رہا تھا؟ کس لیے کر رہا تھا؟ وہ یہ سمجھ نہیں رہی تھی_ وہ بے شک اس سے محبت کرتی تھی، لیکن وہ ہر گز اس کا یہ عمل نہ قبول کر سکتی نہ اس کی حوصلہ افزائی_
ایک لمحہ گزر اور پھر وہ بڑی طرح خوفزدہ ہو کر اس کے تنگ ہوتے حصار سے نکلی_ حارث نے بھی بڑی آسانی سے اس کو آزاد کیا_ پھر سحر سٹ پٹ بھاگی، سلائیڈنگ ڈور کو کھینچتے ہوئے اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے آنکھیں دھندلانا شروع ہوئی_ جسم ٹھنڈا پڑ رہا تھا_ تیز ہلکی سی لرزش والے قدم لیے وہ کچن کے ساتھ بنے زینوں پر قدم دھرتی اوپر کو بڑھی_
حارث گہرا مسکرایا، پر آنکھوں میں کاٹ ابھری_
صوفے کے قریب گرے فون کو اٹھایا، وہ سحر کا فون تھا، الٹ پلٹ کر دیکھا پھر سوچتے ہوئے وہ بھی مہمان خانے سے باہر نکلا اس کا رخ بھی اوپر جاتی سیڑھیوں کی جانب تھا_
غالباً بابلی کا کبوتر کو ابھی آزاد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا_
اوپر آوہ سامنے ہی چھوٹے سے اوپن ٹی وی لاؤنج کے رکھے لکڑی کے سنگل صوفے پر بیٹھا_ اوپر والا پورشن زیادہ نفیس اور پیاراد کھ رہا تھا_ دائیں جانب دو کمرے اور اس کے سامنے ہی اوپن کچن_ کچن کے آگے جالی دار پردے لٹک رہے تھے، اور انہیں پردوں کے پیچھے وہ چھوٹے بالوں والی لڑکی کی پشت دیکھ سکتا تھا_ ٹی وی لاؤنج در میان میں تھا_
”ممی!“ سحر کے ساتھ کھڑی تبسم نے حارث کی آواز پر چہرہ پھیر پیچھے دیکھا سحر نے آنکھیں میچیں_ دل پھر سے ڈوبا_ روشن چہرے میں زردی، چھوٹی آنکھوں میں دبی ہوئی نمی ابھرنے کو بے تاب ہوئی_
”بولو_“
”لیموں پانی دے دیں بنا کر مجھے آفس کے لیے نکلنا ہے_“ حارث نے آنکھوں کو مسلا_ اور صوفے کی پشت سے سر کو ٹکایا_
”ناشتہ نہیں کرنا؟“
”نہیں موڈ نہیں ہے_“ اس نے ٹھوڑی پہ قابل غور سیاہی مائل تلوں کو کھجایا_
”سحر تم فریج میں سے لیموں پانی والا جگ نکال کر اس کو دے آؤگی_ میں اس کے پاس گئی تو مجھے باتوں میں لگادے گی میں جلدی سے اس کے لیے سییب کاٹ کر لائی پتا نہیں پھر آفس جاکر کب ناشتہ کرے گا_“
وہ پریشانی سے کہہ رہی تھی_ اس پریشانی سے جو ہر ماں کو اپنی اولاد کے لیے ہوتی ہے جب وہ بنا کھائے پیے باہر جائے_
سحر نے بدقت سر کو جنبش دی_ دل کو پتا نہیں پھر سے کیا ہوا_ تبسم اپنے دھیان میں ہی فرائنگ پین میں شامیوں کو شتر شتر کرتے چھوڑتے ہوئے پھولوں والی ٹوکری سے دو سیب اٹھارہی تھی_
سحر نے سامنے دیوار کے ساتھ لگی فریج کا نچلا دروازہ کھولا اس میں سے لال جگ کو باہر نکالا_ شیشے کا ہونے کے باعث اس کو پتا چل گیا تھا کہ وہ لیموں پانی ہے_
”ممی یار لادیں لیموں پانی_“
”لارہی ہے سحر، صبر کرو_“ ہاتھ تیزی سے سیب کے کیوبز بنارہے تھے_
سحر نے برتنوں والے رینک میں سے شیشے کا گلاس اٹھایا اور جگ سے لیموں پانی اس میں انڈیلنا شروع کیا_ ابھی وہ گلاس بھر رہی تھی جب اس کے داہنے کندھے کے قریب حارث کی آواز ابھری_
”ممی ناز آپ کو کمرے میں بلارہی ہے_“ سحر نے برق رفتاری سے گردن موڑ اس کو دیکھا، حارث کا چہرہ ممی کی طرف تھا_
”مجھے تو آواز نہیں آئی_“ ممی نے بنا اس کو دیکھا کہا_
”آپ کچن میں ہیں تو آواز کہاں سے آئے گی آپ کو تبسم میڈم_“ لہجے میں شوخی تھی_
”چپ کرو تم یہ وقت ہے بھلاں اٹھنے کا مجھے سارا کہتا ہے یہ ناشتہ نہ کر کے جانے کے بہانے ہیں_ سحر بیٹیا یہ ذرا شامیام تو پلٹنا_“ تبسم نے سیب کے کیوبز کی شکل میں کاٹا باؤل حارث کو پکڑایا_ اور تنبیہ کی_
”باہر آکر بیٹھ کر کھاؤ_ کھائے بغیر گئے نہ تو آج تم باہر ہی سوؤگے_“ خفگی سے کہتیں وہ پردہ دھکیل باہر نکلیں_
حارث نے باؤل کو تھاما اور چہرہ گھمائے پیچھے دیکھا۔
”لیموں پانی آج کی تاریخ میں مل سکتا ہے۔“
اس نے طنزیہ نظروں سے سحر کو مخاطب کیا جو گم صم سی کھڑی تھی۔ چہرے پر غیر آرام دہ رنگوں کی بھر مار تھی۔
”جی، یہ لیں۔“ سحر چوونکی اور پھر تیزی سے کہتی فریج کی طرف بڑھی، جگ کو اندر رکھا اور باہر بڑھنا چاہا۔ حارث نے اس کا یہ انداز قابل غور طریقے سے ملاحظہ فرمایا۔ اس کے جبڑے خود بخود بھینچے۔
”یہ شامی کباب پلٹ دو ممی کہہ کر گئی تھیں تم سے۔“ حارث نے گلاس کو لبوں سے لگایا۔
سحر کا پردہ ہٹاتا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا۔ لب کاٹے، وہ اس پل یہاں رہنا چاہتی تھی جہاں وہ تھا۔ وہ اس کے نیچے کیے گئے عمل کی بھی وضاحت چاہتی تھی لیکن کیا وہ اسے کسی وضاحت کے قابل سمجھتا تھا؟
وہ باہر چلی بھی جاتی لیکن ہلکی سی جلنے کی بو اس کے نکھوں سے ٹکرائی پھر وہ مڑی اور سامنے چولہے کی طرف آئی_ حارث کو نظر انداز کیے چمٹا اٹھائے اس نے شامیوں کو ایک ایک کر پلٹنا شروع کیا_ حارث بھی فریج کی طرف بڑھا باؤل کو اندر رکھا گلاس کو لیموں پانی سے بڑھا_
چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھرتے ہوئے وہ سحر کو پھر سے دیکھ رہا تھا_ چھوٹے بال جن کو وہ پیچھے کی جانب جھٹک رہی تھی_ حارث نے رینک میں سے پلیٹ نکالی اون پر پڑے ٹشو والے ڈبے میں سے تین ٹشو نکال گول پلیٹ میں بچھائے_ لیموں پانی سے بھرا گلاس پیا اور گلاس سنک میں رکھا_ پھر وہی پلیٹ اس کی جانب آیا_
”یہ لو اس میں نکال لو کباب_“ پلیٹ اس کی طرف بڑھائی_ شامی اب گہرے بھورے ہو نا شروع ہو چکے تھے اب اگر وہ ان کو نہ نکالتی تو وہ جل جاتے_
”تھینک یو_“ اس نے دھیمی آواز میں چہرے پر آتے بالوں کو پیچھے جھٹکا، کان کی لو میں چمکتے نگینے پھر سے حارث سے جھلک دکھلا گئے_
پلیٹ کو شیلف پر رکھ اب وہ ایک ایک کر کے نفاست اور ترتیب سے پلیٹ میں شامی کباب سجارہی تھی، چہرہ جھکنے سے چھوٹے سے بال آگے کو گرے، اب کی بار اس نے عادت سے مجبور ہو کر بھی ان کو پیچھے نہیں دھکیلا_ چہرہ بے تاثر رکھنے کی کوشش میں بھی سب عیاں ہورہا تھا، بوکھلائی، گھبرائی اور غیر آرام دہ، دل کی حالت اب بھی غیر تھی_
حارث کی نظریں اس کی اٹھتی گرتی پلکوں پر جمی تھیں_ چہرہ میکاپ سے عاری تھا_ کچن میں چولہے کی حدعت کے باعث ماتھے پر ننھی شفاف بوندھے چمک رہی تھیں_
اس کو وہ اس پل جانے کیوں پیاری لگی، پر اگر پیاری لگ رہی ہے تو وہ اچھی کیوں نہیں لگ رہی، اچھا اور پیارا، امیر غریب_ ہاں شاید یہ ہی وجہ ہوگی_
”آپ کو اگر کچھ کہنا ہے تو کہہ سکتے ہیں_ آپ کی حرکتیں مجھے آرڈیفیل کروارہی ہیں_“ سحر کی آواز پر وہ چو نکا_
اس کو دیکھا جواب فرائنگ پین سے گھی کو ڈبے میں الٹ رہی تھی_ یہ کہتے ہوئے سحر کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا_
”کرنی ہوگی تو تمہیں لگتا ہے مجھے تمہاری اجازت درکار ہوگی_“ اس نے ناک سے جیسے مکھی اڑائی_
سحر نے چہرہ جھکائے لب کاٹے_ بالوں کو کان کے پیچھے اتسا، نگینوں نے پھر سے جھلک دکھائی اور اب حارث کا چہرہ بدلا تھا_ سیاہ آنکھیں مبسوت ہوئیں، یاشاید نرم_ وہ جب جب ان نگینوں کو دیکھتا تو وہ اپنا دل نرم ہوتے پاتا تھا_ اس بات کا اس کو اندازہ تھا وہ بھی بخوبی_
سحر الجھی ہوئی کبابوں کو کھانے والی ٹ्रالی میں رکھ رہی تھی_ یاشاید وہ خود کو اس سے بچارہی تھی_ یاس سے بچ رہی تھی، دل جھنجھلایا دماغ اور ہراس کی موجودگی پر یہاں آنے پر پچھتایا_ الابته دل ابھی بھی تیز رفتار سے دھڑک رہا تھا_
”اور میں کس طرح تمہیں آرڈیفیل کروارہا ہوں_“ نگینوں کی جھلک دماغ سے معدوم ہوئی اور اس کی کہی بات ذہن میں لپکی_
”آپ نے جو کچھ قبل میرے ساتھ حرکت کی ہے_ مجھے وہ اچھی نہیں لگی اور اب یوں آرام سے۔۔۔“ اس نے بہت دقت سے یہ بات کی_ وہ اس کو چھو نہیں سکتا، اس کو اس بات کی اجازت وہ نہیں دے سکتی_ اس کو اس کے چھونے سے کوفت ہوئی تھی_
حارث کے ابرو خفگی سے سکڑیں_ ٹھوڑی کو کھجایا_
”تو روک دیتی مجھے، میرے سامنے گرنے کی ایکٹنگ نا کرتی، ہاں تمہیں اٹینشن گریِب کرنے کی عادت ہے_“ سحر نے اس کی کڑوی بات سنی_ ایکٹنگ مگر اس نے ایکٹنگ تو نہیں کی تھی_
”میں ایسی نہیں ہوں_“ سحر نے ٹرے برے والے رینک سے پلیٹیں نکال اوپر نیچے رکھنا شروع کیں_ رنگت متغیر تھی_ دل میں عجیب سا ابال اٹھتا محسوس ہوا_
”اچھا, تمہیں کیا میں بے وقوف نظر آتا ہوں جس نے تمہارے ساتھ وہ حرکت کی_“ اب کہ اس نے جیسے اپنے کچھ دیر پہلے کیے گئے عمل کی حامی بھری_ لیکن تنفر سے_
بہت سوچ سمجھ کر مجھے فیصلے لینے کی عادت ہے۔ تمہارا مجھے پیچھے نہ دھکیلنا صاف اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ۔۔۔“ وہ دھیمی آواز میں تحاشہ خفگی لیے کہتے رہا_
"you like being touched by men"، وہ آنچ دیتی دھیمی آواز میں غرا کر بولتا تھا۔
اور سحر کے لیے جیسے دنیا جہاں کی گرد شیں رک تھی_ یہ کیا کہا تھا اس نے؟ اس ایک انگریزی جملے میں کس قدر تند لیل تھی کہ وہ کچھ پل جیسے شل سی ہو گئی_
”تم نے کہا اوپر پھپھو ہیں یعنی پھپھو نہ ہوتی تو تم مجھے ہر شے کی اجازت دیتی_“
وہ اب سنگیں آواز میں غرایا_
اس کا تنفس بڑھ رہا تھا اور سحر کو اپنی دل کی دھڑکن گم، مانند ہوتی محسوس ہوئی_ ”وہ تو بس گری تھی_ اس نے تو کو واقع ہی گرا ہو سمجھ لیا_ دل پر جیسے کسی نے زور دار پیر رکھ دیا تھا_ زر در نگت مزید زرد ہوئی_
”وہ اس کے بارے میں ایسے سوچتا ہے_“ لب کسی ننھے بچے کی طرح کپکپائے، ذہن میں بس ایک شے ہی گھوم رہی تھی، وہ تو بس گری تھی_
”میرے لیے یہ مرنے کا مقام ہوگا کہ میری شادی ایک ایسی لڑکی سے ہو جو خود کو دوسروں کو چھو نے سے باز نہ رکھ پاٹھی ہو_“
اس کی دھیمی غراہٹیں، آنکھوں میں طیش کی لالی بکھیر رہی تھی_
میں آج یا کل منگنی توڑ دوں گا، میری طرف سے کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہ ہونا سمجھیں_“ وہ آنچ دیتی دھیمی آواز میں اب بھی غرارہا تھا_ وہ اس کی کردار کشی کر رہا تھا اس کو روک کیوں نہیں پارہی تھی_ کیا محبت میں وہ اس اتنی اندھی، گو نگی بہری ہو گئی تھی_
سحر کی اس کی جانب پشت تھی، پر اس کا چہرہ اندھیری رات کی مانند ہورہا تھا_ ٹ्रالی پر اس کی گرفت مضبوط ہوئی_ اس نے کی تھی مزاحمت، یہ وہ کیا کہہ رہا تھا_ اس کی کردار کشی_ اس کو یہ نہیں کہنا چاہیے تھاوہ ایسی نہیں ہے_ اور وہ منگنی بھی توڑ دے گا_
”زور زور سے نفی میں سر ہلایا_ ”میں ایسی نہیں ہوں، میں نے تو بس محبت کی ہے_“ اس نے زیر لب کپکپاتے لبوں سے جملہ دہرایا_
”تم ایلیٹ کلاس کی ہو، میں ایک عام سے سوفٹوئیر ہاؤس میں انجنیئرز، تم اور میں ساتھ نہیں چل سکتے_“ وہ اور بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا، امیروں کی شان میں القابات بک رہا تھا_
سحر کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا پھر وہ تیز ہوتے تنفس کے ساتھ مڑی اور اس کے مقابل جا کر ٹھہر گئی_ گردن اٹھا آنسوؤں سے لبریز آنکھیں اٹھا دیکھا_ حارث صاف دیکھ سکتا تھا کہ وہ ہولے ہولے کپکپارہی تھی_ لیکن اس کے سنجیدہ چہرے پر کوئی فرق نہیں آیا_
”آپ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں_“ ہلکی بھوری چھوٹی آنکھیں رونے کے دوران مزید چھوٹی دکھ رہی تھیں_ اس نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور کانپتے ہوئے رونے کے درمیان کہنا شروع کیا_
”پر میں نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ آپ کو اپنی طرف یوں ان طریقوں سے متوجہ کروں_ میں ایسی نہیں ہوں_ میں۔۔۔ میں ایسی نہیں ہوں_“ حارث اس کو خاموشی سے دیکھے گیا_ اس روتی بلکتی لڑکی کے واسطے جیسے اس کے پاس کوئی دلاسا نہیں تھا_ ”میں نے کبھی نہیں چاہا کہ کوئی مرد میری طرف متوجہ ہو_“ زور زور سے نفی میں سر ہلایا_
”میں آپ کو بہت پسند کرتی ہوں، میں چاہتی ہوں ہمارا ایک گھر ہو_“ اس نے ٹوٹے دل کے ساتھ اس کو کہہ دیا جو شاید اگر کبھی وہ اس کی زندگی میں داخل ہو کر بھی نہ کہہ پاتی_ آنکھوں سے آنسو ابل کر گالوں پر پھسل رہے تھے_ وہ بہت تکلیف میں لگ رہی تھی_
”مجھ سے فرق پڑتا ہے کہ میری زندگی میں ہونے نہ ہونے سے_ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کی حیثیت کیا ہے_“
”میں بے بس ہو چکی ہوں آپ کے لیے_“ یہ واقع ہی اس کے بے بسی کی انتہا تھی کہ وہ اس کے کردار پر بات کرنے والے کو کچھ بھی نہ کہہ پا رہی تھی_ محبت نے واقع ہی اسے بے بس و بے حال کر ڈالا تھا_
”آپ کا رویہ مجھے بہت ہرٹ کرتا ہے، پلیز میرا ساتھ یوں مت کیا کریں_“ ٹوٹی ہوئی التجائیں کی گئیں_ ”میری بے بسی کا فائدہ مت اٹھایا کریں_“ وہ بلک بلک کر روتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اپنی حالت بیان کر رہی تھی_
اور پھر دوسرے ہی پل اس کے قدموں میں کسی ننھے بچے کی مانند بیٹھتی چلی گئی_ اس کی حالت ایسی ہو رہی تھی جیسے اس سے کوئی اس کا پسندیدہ کھلونا چھن رہا ہو_
”مجھے ایسامت سمجھیں میں ایسی نہیں ہوں_“ وہ زور زور سے نفی میں سر ہلائے ایک ہی بات اب کہے جارہی تھی_
حارث جوں کا توں کھڑا رہا_ اگروہ سنگدل تھا تو کمال کا تھا، بے حس تھا تو وہ بھی لاجواب_
لیکن سحر کو سب کچھ بھول رہا تھا_ تاریکی گلے میں گھلتی جارہی تھی، حبس گھٹن اس کے اعصاب میں منتقل ہو رہی تھی_ سیاہی اب دل کو ڈوبارہی تھی_ بھوری چھوٹی آنکھیں ساکت ہوئیں، پر ذہن منتشر ہورہا تھا، اگراس نے اس بات کو بنیاد بنا کر اس سے منگنی کا تعلق توڑ دیا تو وہ محبت کے ان اونچے ستونوں پر بیٹھی تھی جہاں پر وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر تھی کہ اس پل اس کو اپنے کردار کی فکر کرنی چاہیے، اس بے نام منگنی کی نہیں_ وہ اس نہیں ہو سکے گا سوچ، اندھیرا دماغ میں منتقل ہونا شروع ہوا، اور پھر اس کو اپنا سر چکراتا محسوس ہوا_ سب بو جھل ہوا پلکیں بھاری، سانسیں شل_
اور پھر سب ڈوبتا چلا گیا_ کچن کی سفید دیواریں اندھیرے میں ڈوبیں یاشاید اس کی آنکھوں کی بصارت وہ اندازہ نہ کر سکی_ پھر وہ اوندھے منہ زمین پر گِری، روشن چہرے والی لڑکی کے لیے سب کچھ سیاہی رات والا ہو گیا تھا، سب کچھ_
سب کچھ ختم ہونے جا رہا تھا شاید ہو چکا تھا_
☆☆☆
تین مہینے بعد:
تیز بتی کی روشنی گول میز پر پڑ رہی تھی_ اطراف میں پڑی چھ کرسیوں پر دونوں مرد متناسب قد اور جسامت والے بیٹھے تھے_ دوپر لگ بھگ چالیس سے بینتالیس سالہ مرد بیٹھے تھے اور ایک کرسی پر علی اور ایک پر حارث_
کمرے میں نیم اندھیرا تھالیکن میز کے ارد گرد بیٹھے لوگوں کے چہرے واضح تھا_
”میری مجبوری کس شخص نے کی ہے_“ حارث کی سنجیدہ آواز بڑی ہی دوٹوک تھی_
”دیکھو حارث میں تو کبھی تمہارے اڈوں پر نہیں آیا، جب بھی آئے میرے بھیجے گئے لڑکے آئے ہیں اور ان کو ایڈریس تم خود دیتے ہو_ ہو سکتا ہے ان لڑکوں میں سے کوئی ہو، لیکن میرا کسی سے پرسنلی کوئی تعلق نہیں ہے_“
ایک سانولی سی رنگت والا مرد خود کو بری ذمہ کرنے کے واسطے لمبی تفصیل سنارہا تھا_
”میرے گھر پر ریڈ پڑی ہے اعظم صاحب، میرے اڈوں پر_“
”گھر کا معاملہ تمہارا تو پھر سہیل اور علی کے ساتھ ہی ہے بھئی ان سے پوچھو_“ دوسرے ادھیڑ مرد نے اس کے ساتھ بیٹھے علی اور سہیل کی طرف اشارہ کیا_
”اگروہ اس معاملے میں ہوتے تو وہ میرے ساتھ یوں نہ بیٹھے ہوتے ،ثاقب صاحب_“ انداز پتھریلا تھا_
”میرے گھر میں، میری عورتوں کے ساتھ کیسی بد سلوکی ہوئی ہے اس بات کا آپ کو اندازہ نہیں ہو سکتا۔ جب تک آپ کی عورتوں کیساتھ ویسا سلوک نہ ہو_“ وہ اب کہ طیش سے گرجا_
”گھر کی عورتوں کو بیچ میں مت لاؤ_“ ایک نوجوان مرد بھی اسی انداز میں اس پر بگڑا_
”ہاں فکر مت کرو کسی کی عورتوں کو بیچ میں میں نہیں لاؤں گا، کیونکہ غیرت والا ہوں_ لیکن جس نے یہ کام مجھے میرے گھر والوں کی نظروں میں گرانے کی کوشش کی ہے وہ انتہائی بغیرت ہے_“ وہ بری طرح طیش میں آیا_
”حارث دیکھتے ہیں کول ڈاؤن_“ علی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ اس کو پر سکون کرنا چاہا_ ”ہو جائے گا معاملہ حل_“
”تم کچھ نہیں کہو گے؟“ علی کیساتھ بیٹھے سہیل نے سامنے کرسی پر غور سے دیکھتے ہوئے کافی سوبر سے اور خوش شکل مرد سے پوچھا_
”یہاں پر سب لڑ رہے ہیں اور میں لڑنا نہیں چاہتا کسی سے بھی_ جس نے بھی یہ حرکت کی ہے بہت غلط کیا ہے_ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ ایسی باتیں گھروں تک جائیں_ مجھے افسوس ہے_“ اس نے سبھاو سے کہتے ہوئے حارث کو دیکھا جو جبڑے بھینچے اس کو دیکھ رہا تھا_
”مجھے کسی کی ہمدردی نہیں چاہیے، مجھے وہ شخص چاہیے جس نے میری مجبوری کی ہے_ کاشف خان !، مجھ پر ڈرگز ڈیلنگز کا الزام لگا ہے_“
”اگر مجھے وہ۔۔۔۔“ ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ یکدم دروازے سے دروازہ کھول بھاری بوٹوں کی چاپ ان سب کو سنائی دی_ حارث اور علی نے بیک وقت گردن موڑ پیچھے دیکھا اور پھر شاید حارث رحمان کی دنیا اندھیروں میں ڈوبی تھی_
سامنے پولیس اہلکار کھڑے تھے_
”معافی چاہوں گا تم سے حارث رحمان لیکن تم اپنا سب کچھ گنوانا چکے ہو_“ کاشف خان کی سرسراتی آواز پر اس نے گردن پھیر بے یقین نظروں سے اس کو دیکھا_
کاشف اب اپنی نشست چھوڑ اہلکاروں کی سمت بڑھ رہا تھا اور حارث کی سیاہ غلافی آنکھیں جیسے پتھرا گئی تھیں_
”سب کو اریسٹ کرو_“ حکم دیا اور اوپر پر جاتے زینوں کی اور بڑھا_
اہلکار سب کو ہتھکڑیاں لگارہے تھے_ کمرے میں ان سب کے اونچی اونچی بولنے کی آوازیں تھیں_ غالباً وہ مرد اپنی ساٹھ کھونے سے اب ڈر رہے تھے اور نوجوان مرد اپنے امیر باپوں کی_
کاشف خان نے کسی بھیڑیے کی مانند بھیڑوں کے جھنڈ میں گھس کر اس کا شکار کیا تھا_ لیکن وہ معصوم بھیڑ تو نہ تھا جس کا کوئی بھی یوں شکار کر جاتا_ کیا وہ اتنا آسان ہدف تھا_ اس کا دماغ شل تھا_ کچھ بھی سوچنے سمجھے سے قاصر۔