”شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے“
ماں ایک احساس کا نام ہے۔ اور اس بات کا اندازہ اسے تب ہوا، جب ہسپتال کے ایک کمرے میں بستر پہ بیٹھے اس نے تیزی سے دھڑکتے دل اور کانپتے ہاتھوں سے گلابی مخملی کمبل میں لپٹے اس ننھے وجود کو تھاما۔
یہ کیسا سکون تھا؟ جو اسے ملا اس وجود کو تھام کے۔ کیا سبھی ماؤں کو ایسا سکون ملتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ سکون سب سکونوں سے بالا تر ہے۔
اس نے اس ننھے وجود کا چہرہ دیکھا۔ آہ! وہ کتنا معصوم، کتنا پیارا تھا، کتنا خوبصورت غرض دنیا میں جتنے بھی پیارے الفاظ تھے ۔ اس کو اس وقت اپنے ننھے سے وجود کے لیے محسوس ہو رہے تھے۔
کیا سبھی ماؤں کو اپنی اولاد ایسی ہی خوبصورت لگتی ہے؟ کیا دنیا کے بنائے ہوئے اصولوں سے بھی زیادہ؟ ہاں کیونکہ ماں کی محبت اپنی اولاد کے لیے بے غرض ہوتی ہے۔ بالکل صاف شفاف پانی کی طرح ہر ملاوٹ کے بغیر۔ ماؤں کو اپنی اولاد بہت پیاری ہوتی ہے۔ بالکل اپنے دل کے قریب۔ پھر اس نے اس کو اپنے چہرے کے قریب کیا۔ آہ! کتنی پیاری خوشبو تھی جو اس کو اس سے آئی اس کو یہ خوشبو دنیا کی مہنگی ترین خوشبوؤں سے بھی پیاری اور مہنگی لگی۔ پھر اس نے اس وجود کے ننھے سے ماتھے پہ اپنے لب رکھے ۔ آہ! کیا احساس تھا کہ ، اس کو ان مرحلوں میں محسوس ہوئی ہر تکلیف پہ کوئی شفا سی محسوس ہوئی۔ یہ کیسی شفا تھی جو اس ننھے سے وجود نے اس کو دی تھی ۔ اس کو یہ شفا دنیا کی مہنگی دوائیوں سے ملنے والی شفاؤں سے بھی مہنگی لگی۔
پھر اس نے بے حد نرمی سے اپنے لب اس کی آنکھوں پہ رکھے ۔ اس کو ان لمحوں میں بہائے گئے ہر آنسو خوشی کا آنسو لگا۔ یہ وہ احساسات تھے جن کو وہ چاہ کر بھی اپنے لفظوں سے بیاں نہیں کر سکتی تھی۔
پھر اس نے نرمی سے اس کے روئی جیسے گالوں پہ پیار کیا۔ وہ وجود اس کو اپنے دل کے بے حد قریب محسوس ہو رہا تھا۔ نقاہت زدہ طبیعت کے باوجود اس کا دل چاہا وہ اس کو یونہی دیکھتی رہے۔ اس کو یہ نظارہ دنیا کے خوبصورت نظاروں سے بھی خوب صورت لگا۔ اس وجود کو تھامنے سے اس کو کوئی تھکن محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
تب ہی اس ننھی سی پری نے ہلکی ہلکی آوازیں نکالیں، جیسے اپنی ماں کو اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہو۔ لیکن وہ تو اس میں ہی مگن تھی۔ بھلا کوئی ماں بھی اپنی اولاد کی موجودگی کو فراموش کر سکتی تھی۔ اس کی آواز سن اس کو لگا جیسے اس کی بیٹی اس سے باتیں کر رہی ہو بغیر لفظوں کے۔ کیونکہ ماں اور اولاد کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ اس میں لفظوں کی کیا ضرورت۔ اس کو اپنی بیٹی کی کلکاریاں بالکل کوئل کی آواز جیسی لگی۔ پھر اس نے اس کے چھوٹے سے ہاتھوں کو اپنے لبوں سے لگایا۔ اس کو وہ ہاتھ اتنے پیارے لگے کہ اس کو اپنے ہاتھوں پہ ڈرپ کے لیے لگی سوئیوں کی تکلیف جاتی محسوس ہوئی۔
اس کو کوئی پرواہ نہ تھی۔ کون اس کو دیکھ رہا ہے اور کون نہیں۔ کون اس کے پاس ہے اور کون نہیں۔
وہ بس اپنی بیٹی میں مگن رہنا چاہتی تھی ۔ کیا سبھی مائیں اپنی اولاد کی موجودگی میں ہر شے کو فراموش کر دیتی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اس کو یہ فراموش کرنا دنیا کا خوب صورت کام لگا۔
پھر اس نے ایک بار پھر اپنے لب اس ماتھے پہ رکھے۔ اس کو پھر سے وہی احساس ہوا، جو پہلی دفعہ میں ہوا تھا۔ کیا یہ احساس کبھی نہ ختم ہونے والا تھا؟ اگر ایسا تھا تو اس نے اس احساس کے کبھی نہ ختم ہونے کی دعا کی۔
لیکن نہیں، یہ احساس بھلا کیسے ختم ہو سکتا تھا یہ چاہے وہ دعا کرتی یا نہ کرتی ۔ کیونکہ وہ وجود تو اسی کے وجود کا حصہ تھا۔ یہ ازل سے ابد تک کے لیے نھی تھا۔ وہ چاہ کر بھی اس احساس کو ختم نہیں کر سکتی تھی_
کیونکہ یہ احساس کوئی عام احساس نہ تھا۔ یہ تو ایک ماں کا احساس تھا، اور یہ احساس ہر چیز سے پاک تھا۔ اس کے لیے کسی پیپر ، کسی زبانی کلامی چیز کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ وہ ایک ماں کا احساس تھا۔
بے لوث ، بے غرض، مخلص سا دل سے جڑا ماں کا احساس۔
"عیشاء!" وہ اپنی ماں کی آواز پہ چونکی۔
ہاں وہ بھی تو ایک اولاد تھی۔ کیا اس کی ماں نے بھی یہی سب محسوس کیا ہو گا اس کے لیے جو وہ کر رہی تھی اپنی اولاد کے لیے؟ یقیناً ہاں ، وہ بھی تو ایک ماں تھی۔
لیکن اس نے تو اپنی اولاد کو دیکھتے ہوئے اپنی ماں کی موجودگی کو بھلا دیا ۔ ہاں کیونکہ وہ اب ایک ماں تھی جس نے اپنی اولاد کے لیے سب کچھ فراموش کیا۔ بالکل اس کی ماں کی طرح جنہوں نے اسے کبھی فرا موش نہیں کیا تھا۔ جیسے اس کی ماں کو وہ عزیز تھی، ویسے ہی اب اسے اپنی بیٹی۔ لیکن اس کو دکھ سا بھی ہوا ۔ کیا آپ کی اولاد آپ کو آپ کے اپنوں کی موجودگی بھی فراموش کروا دیتی ہے؟
اس نے ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھیں پیار بھری نظروں سے۔ اس کے دل کا ایک کونہ پر سکون سا ہوا یہ فراموشی کسی ماں کو بھلا کیسے بری لگ سکتی تھی۔ وہ خود ایک ماں تھیں اور اس حساس کو بخوبی سمجھتی ہوں گی۔
"ماما میری بیٹی۔" وہ نم آنکھوں اور نم آواز سے مسکرا کر بولی۔
اس کی ماں بھی مسکرائیں "ہوں! بالکل تمہارے جیسی ہے، تم بھی ایسی ہی تھی جب پیدا ہوئی تھی۔"
اس کو عجیب سا احساس ہوا۔ کیا اس کی ماں کو چھبیس، ستائیس سالوں بعد بھی اس کا ایک دن کا چہرہ یاد تھا۔ اس نے اپنی بیٹی کے معصوم سے چہرے کو دیکھا۔ ہاں ، یاد ہو گا ۔ کیونکہ اس کو اپنی بیٹی کے نقوش اپنے دل پہ نقش ہوتے محسوس ہوئے۔ تو اس کی ماں کے دل پہ بھی اس کا چہرہ ایسے ہی نقش ہو گا آج بھی۔
"لاؤ اس کو مجھے دے دو، تم اب آرام کرو۔" ماں نے اس کی بے آرامی کا خیال کرتے ہوئے کہا۔
عیشاء نم آنکھوں سے مسکرادی۔ اس کی ماں کو اپنی بیٹی کے آرام کا خیال تھا، اور اس کو اب اپنی بیٹی کے آرام کا۔
وہ کیا کہتی کہ ماں مجھے یہ بے آرامی ہر ماں کی طرح بہت پیاری ہے۔ اس کو اس طرح بے آرام ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ سوچ کر اس کی آنکھوں سے کچھ آنسو گرے۔
"عیشاء! بیٹا کیا ہوا، کہیں درد ہو رہا ہے؟ تو مجھے بتاؤ۔" ماں اس کو روتا دیکھ پریشان ہوئی۔
لیکن وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے مسکرائی۔ وہ کیا بتاتی کہ، ماں اس ننھے سے وجود نے اس کی گود میں آکر ہر تکلیف، ہر درد، ہر آواز اری، ہر بے سکونی کا ازالہ کر دیا ہے۔ اب اس کو کوئی بے آرامی محسوس نہیں ہو رہی۔
"نہیں ماما کوئی درد نہیں ہو رہا اب مجھے۔"
"تو پھر رو کیوں رہی ہو؟" ماں نے پوچھا۔
"آپ بھی تو کبھی مجھے گود میں لیے ایسے ہی روئی ہوں گی۔" ماں مسکرائی۔ ان کو اب سمجھ آئی کہ یہ تو ایک