"زخم"
وہاب کے کمرے میں:
اسی وقت اس کمرے کا دروازہ کھلا اور سایہ اندر آیا۔ وہاب کے انتظار کیے بغیر اس نے کھانے کی ٹرے خاموشی سے بیڈ کے ساتھ رکھی۔
"تم کون ہو... اور مجھے کیوں بچایا؟" وہاب کی آواز بخار سے کمزور تھی۔
سای نے ایک لمحے کے لیے رک کر اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی ہمدردی نہیں تھی، بس ایک سرد تجسس۔ جیسے وہ کسی زخمی جانور کا معائنہ کر رہا ہو۔
"میں سایہ ہوںـ" اس نے مختصر جواب دیا اور مڑ گیا۔
"جب میرے اپنوں نے مجھے تنہا چھوڑ دیا تو یہ اجنبی کیوں میری جان بچانے پر تلا ہے؟" وہاب نے سوچا۔
جاتے ہوئے سایہ دروازے پر رکا۔ پیچھے مڑے بغیر بولا، "کھانا کھا لو۔ مرنا ہے تو طاقت کے ساتھ مرناـ" اور باہر نکل گیا۔ ٹرے میں ایک چھوٹے پیالے میں پھیکے چاول، ابلی ہوئی مچھلی اور سی فوڈ سے بنی ایک عجیب شکل کی کڑی رکھی تھی۔ اس نے دیکھتے ہی منہ دوسری طرف کر لیا۔ جی متلانے لگا۔
جتنی ہمت اس میں باقی تھی، اس نے خود کو سنبھالا اور مشکل سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس نے بے دلی سے چاول کا ایک نوالہ لیا۔ ہر نوالہ اس کے گلے میں کانٹے کی طرح رہا تھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے ہاتھوں پر اب بھی خون لگا ہو، جو چاولوں میں گھل رہا ہے۔
اب اسے لگتا تھا کہ وہ جینے کا حق کھو چکا ہےـ کیونکہ اس نے اپنے ہاتھوں سے ایک انسان کی جان لی تھی۔
گھر کا منظر- سڈنی، آسٹریلیا۔
کچھ دیر بعد وہ لڑکھڑاتا ہوا کمرے سے باہر نکلا۔ سامنے پھیلا ہوا گھر روشن اور خاموش تھا۔ بڑی کھڑکیوں سے چھن کر آنے والی دھوپ لکڑی کے فرش پر سنہری لکیریں بنا رہی تھیـ ہوا میں تازہ کافی اور لکڑی کی ہلکی سی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔
بیٹھک میں ایک سادہ صوفہ اور کتابوں کی الماری تھی کھلے باورچی خانے کا کاؤنٹر چمک رہا تھا۔ ڈائننگ ٹیبل کھڑکی کے قریب رکھی تھی۔
دیوار پر لگے ٹی وی پر انگریزی میں خبریں چل رہی تھیں۔ اسکرین کے کونے پر اے بی سی نیوز آسٹریلیا کا لوگو تھا اور نیچے "سڈنی" لکھا آ رہا تھا۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ اپنے ملک میں نہیں تھا۔ باہر کھڑکی سے یوکلپٹس کے درخت نظر آ رہے تھے۔ گھر میں پھیلی ہلکی دھوپ کے باوجود فضا میں سردی کا احساس باقی تھا۔ وہ سردی کھڑکی کے باہر سے نہیں، اس کے اندر سے آ رہی تھی۔
بچے معصوم ہوتے ہیں۔ انہیں کسی کے مرنے کا مطلب سمجھ نہیں آتا۔ مگر وہ کسی پسندیدہ انسان کی غیر موجودگی کو سب سے زیادہ محسوس کرتے ہیں۔
امل نے کسی سے بھی بات کرنا بند کر دیا تھا۔ اب وہ اسکول جاتی اور واپس آ کر اپنے کمرے میں بند ہو جاتی۔
"ماما، بھائی کب واپس آئیں گے؟ انہوں نے کہا تھا وہ مجھے چھوڑ کر کبھی نہیں جائیں گے۔ـ" وہ درد بھری مایوسی سے زرینہ بیگم سے پوچھ رہی تھی۔ زرینہ بیگم کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ صرف امل کے سر پر ہاتھ رکھ کر رہ گئیں۔ دروازے پر کھڑے جہانگیر صاحب نے بھی یہ سوال سن لیا۔
چند لمحے وہ امل کو دیکھتے رہےـ ان کی آنکھوں میں کچھ ٹوٹا، کچھ مراـ ان کی مٹھی آہستہ بھنچ گئی یہاں تک کہ انگلیاں سفید پڑ گئیں۔
پھر وہ خاموشی سے مڑ گئے۔
مگر جاتے جاتے ان کے ذہن میں صرف ایک خیال گونج رہا تھا:
"جس درد نے میری دنیا اجاڑی ہے... اب وہی درد ظاہر بھی محسوس کرے گاـ"
سڈنی
رات کے 2 بجے تھے۔ گھر کی ساری بتیاں بجھ چکی تھیں۔ صرف کچن سے فریج کی ہلکی سی آواز آ رہی تھی۔
وہاب واش روم کے آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے پہلی بار اپنی قمیص اتاری۔ بائیں کندھے کے نیچے، پسلیوں کے پاس، ایک موٹا سا، سرخ سیاہ زخم تھا۔ گولی کا نشانـ ٹانکے تازہ تھے۔
اس نے انگلی سے اسے چھوا، درد کی ایک لہر ریڑھ کی ہڈی تک گُم گئی ،مگر درد جسم کا نہیں تھا۔
"ڈاکٹر وہاب مر گیاـ" اس کے اپنے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے۔
وہ لڑکھڑاتا ہوا کمرے میں آیاـ سائیڈ ٹیبل پر ایک لینڈ لائن فون رکھا تھا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے ریسیور اٹھایاـ ڈائل ٹون آ رہا تھا۔نمبر یاد تھاـ 0321...
اس نے 4 ہندسے ملائے اور رک گیاـ
سایہ دروازے میں کھڑا تھاـ پتہ نہیں کب آیا۔
"فون نہیں۔" اس کی آواز میں کوئی نرمی نہیں تھی۔
"مجھے... امی سے بات کرنی ہے۔" وہاب کی آواز بچے جیسی ہو گئی۔
سایہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ صرف آگے بڑھا، ریسیور وہاب کے ہاتھ سے لے کر واپس رکھ دیا، اور کمرے سے نکل گیا۔دروازہ باہر سے لاک ہونے کی آواز آئی۔
وہاب فرش پر ہی بیٹھ گیاـ دیوار سے ٹیک لگا کراس رات وہ اپنی ماں کو یاد کر کے رویا تھاـ
اسے کیا معلوم تھا کہ جس انسان کو وہ سب سے پہلے فون کرنا چاہتا تھا، وہ اسی دن لاہور میں دفنائی جا چکی تھی۔آسمان سے روئی کے گالوں کی طرح برف نیچے گر رہی تھی۔ کھڑکی کے باہر کا منظر دلکش تھا، مگر کمرے کے اندر صرف موت کا سناٹا تھا۔
وہی لڑکا، جس کی بھنوؤں پر کٹ کا نشان تھا، ہاتھ میں پستول لیے کھڑا تھا۔
"میں اب کسی کام کا نہیں رہا۔ میرے لیے مرنا ہی بہتر ہے۔" یہ سوچ اس کے دماغ پر حاوی تھی۔
جب بھی لیٹنے کے لیے آنکھیں بند کرتا، اس کے کانوں میں ایک ہی آواز گونجتی تھی:
"قاتل... قاتل... قاتل..."
اس نے بندوق آہستہ سے اپنی کنپٹی کی طرف کی۔ انگلی ٹریگر پر جم گئی۔اسی وقت دوسرے کمرے کا دروازہ کھلا اور سایہ نکلتا ہوا آیا۔
"مجھے تم سے یہ بیوقوفی کی امید نہیں تھی۔" سایہ کی آواز میں غصہ نہیں، مایوسی تھی۔"تم اپنے مرنے سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟"
وہاب نے کوئی جواب نہیں دیا۔بندوق ابھی کنپٹی پر تھی۔تمہیں تو اس وقت ان لوگوں کا انجام پلان کرتے ہوئے بیٹھنا چاہیے تھا جنہوں نے تمہاری اور تمہاری فیملی کے لیے جینا دوبھر کر دیاـ،اور تم ادھر اپنی زندگی ختم کرنے پر تلے ہو؟"
سایہ دو قدم آگے بڑھا۔ "اگر تم مرنا چاہتے ہو تو میں تمہیں نہیں روکوں گا۔مگر اگر تم میری بات سن لو... تو تم ان سب کا انجام پلان کر سکتے ہو جنہوں نے تمہارے ساتھ یہ کیا۔"
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ باہر برف گرنے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔انسان کے پاس جب کوئی سہارا نہ ہو تو وہ بس ایک چھوٹی سی امید کی کرن کو بھی تھامنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
"جب مرنا ہی ہے تو اس کی بات سننے میں کیا حرج ہے؟" وہاب نے سوچا۔ اس نے آہستہ سے گن نیچے کر دی۔
سایےنے خاموشی سے بندوق اٹھائی۔
اور اسے ٹیبل پر رکھ دیا۔
پھر کہا:
"تم مرنا نہیں چاہتے تھےـ"
"تم صرف درد روکنا چاہتے تھےـ" وہاب نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔پھر سایے نے کہا
اور درد کبھی نہیں رکتا۔
"تم بس اسے کسی اور چیز سے بدلتے ہویا جذبے میں منتقل کرنا سیکھ جاتے ہو۔
غم، نفرت یا انتقام۔
سایہ نے وہاب کی طرف دیکھاـ اس کی آواز سرد تھی:
"میں نے تمہاری جان بچائی ہےـ اور اگر تم سوچ رہے ہو کہ میں اس کے بدلے میں کچھ نہیں چاہتا تو تم غلط سوچ رہے ہوـ اس وقت تمہارے پاس صرف دو راستے ہیں۔"
"پہلاــ میرے ساتھ آ جاؤ، کیونکہ تم وہ واحد شخص نہیں ہو جو اسسٹنٹ کمشنر اور اسود کی وجہ سے عذاب بھگت رہے ہو، دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہےـ"
"دوسرا اگلی فلائٹ سے پاکستان چلے جاؤ،اور اپنے خاندان کی زندگی بھی اپنی طرح عذاب بنا لو،میں تمہیں ایک دفعہ بچانے آیا تھا، بار بار نہیں آؤں گا۔"
اور اسی وقت سایہ نے اس کے سامنے ایک پیکٹ رکھا۔ اس میں دو تکونی شکل کی گولیاں تھیں۔
"اب کیا یہ مجھے دوائی دے گا؟" وہاب نے سوچا۔
"زیادہ اندازے کی ضرورت نہیں۔" سایہ نے گولیوں کو دیکھاـ "یہ دوائیاں نہیں ہیں۔"
"ہر سلطنت کی بنیاد کسی نہ کسی زہر پر رکھی جاتی ہےـ"
یہ سنتے ہی وہاب کا سانس گلے میں اٹک گیا۔
"میری پوری بات سن لوـ یہ جذبے سے فیصلہ کرنے کا وقت نہیں۔اپنے دشمن کو نابود کرنا چاہتے ہو تو اس کے برابر طاقت چاہیے۔"
سایہ رکا: "طاقت چاہیے؟ طاقت کی قیمت ہوتی ہے۔میں تمہیں راستہ دکھا سکتا ہوں۔"
وہاب نے پہلی بار منہ کھولاـ آواز کانپ رہی تھی۔
"میں... میں ڈرگز نہیں بیچوں گا۔" سایہ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
"اور تمہارے دشمن قانون بیچ رہے ہیں؟"
وہاب خاموش ہو گیاـ چند لمحے بعد اس نے نظریں اٹھائیں۔اس کی آنکھوں میں نفرت سے زیادہ خوف تھا۔خود سے خوف۔
"میں ان جیسا نہیں بنوں گاـ"
سایہ نے کوٹ اٹھایا۔ دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے رکے بغیر بولا:
"یہی بات ہر آدمی شروع میں کہتا ہےـ"
پھر رکاـ پلٹا نہیں۔
"ڈاکٹر وہاب آج مر گیا ہےـ"اب دیکھتے ہیں تم کیا بنتے ہو۔دروازہ بند ہو گیاـ پوری رات برف گرتی رہی۔کھڑکی کے شیشے پر سفید تہہ جمتی گئی، مگر کمرے کے اندر کی سردی باہر سے زیادہ تھی۔
وہاب بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔نیند نہیں آ رہی تھی۔
آنکھیں بند کرتا تو امل کا چہرہ سامنے آ جاتاـ وہ "بھائی" کہہ کر ہنس رہی تھی۔
آنکھیں کھولتا تولوگوں کی سرگوشیاں،اور پھر وہ آواز
بار بارایک ہی لائن
"اور تمہارے دشمن قانون بیچ رہے ہیں؟"
وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔سر ہاتھوں میں دے لیا۔
میز پر وہی پیکٹ پڑا تھا۔
دو تکونی گولیاں۔
زہریا طاقت؟
اس نے کانپتے ہاتھوں سے پیکٹ اٹھایا۔ دیر تک دیکھتا رہا۔
نہ اس نے ہاں کی۔
نہ اس نے نہ کی۔
اس نے صرف پیکٹ کو مٹھی میں بھینچ لیا۔باہر برف گرتی رہی۔اندر ایک آدمی ٹوٹ رہا تھا۔
وہ اپنے کمرے سے باہر نکلا۔اس گھر کے لان میں موجود پودے اور گھاس برف سے سفید ہو چکے تھے۔
اگر وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہوتا تو یقیناً اس منظر سے محظوظ ہوتا۔وہ اور امل برف میں کھیلتے، امی اور چچی کچن میں پکوڑے بنا رہی ہوتے، جبکہ ابو اور چچا ہمیشہ کی طرح سیاست پر بحث کر رہے ہوتے۔
مگر اب وہاں کوئی نہیں تھا۔
جب ادسیاں روح میں اتر جائیں تو قدرت کی خوبصورتی بھی انسان کے زخم نہیں بھر پاتی۔
اس نے آسمان سے اترتے روئی کے گالوں کو دیکھا۔
اجنبی ملک... اجنبی گھر... اجنبی برف... اور وہ، ایک اجنبی سیاح ۔
وہ دوسرے کمرے کے دروازے تک گیا، آہستہ سے دستک دی اور اندر داخل ہو گیا۔بیڈ پر تکونی شکل کی گولیاں رکھی تھیں، جبکہ اندر موجود سایہ انہیں پیکس میں ڈال رہا تھاـ
اس نے بس ایک نظر اٹھا کر وہاب کو دیکھا، پھر خاموشی سے دوبارہ پیکس بنانے لگا۔اس نے وہاب سے اس کے آنے کی وجہ بھی نہ پوچھیوہ بہت کم بولتا تھا۔
آخرکار وہاب خود ہی بول اٹھا۔
"میں... تمہاری بات ماننے کو تیار ہوںـ بس مجھے پاکستان میں میرے گھر والوں سے بات کروا دو۔"
اس کی آواز میں ایسی تڑپ تھی کہ اتنا کچھ جھیلنے کے باوجود اسے صرف گھر والوں کی فکر تھی۔
سایہ نے بغیر کوئی تاثر بدلے کہا،
"میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا... پاکستان میں تم مر چکے ہو۔"اس کی آواز میں سفاکی تھی۔
وہاب خاموش رہا۔
"میں تمہاری بات نہیں کروا سکتا... لیکن ان کے حالات ضرور بتا سکتا ہوںـ" شاید ایک لمحے کے لیے سایہ کو اس پر ترس آ گیا تھا، اسی لیے اس نے یہ پیشکش کی۔وہاب نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
کچھ دیر بعد سایہ، وہاب کے کمرے میں موجود تھاـ
"میں جانتا ہوں... یہ تمہارے لیے بہت تکلیف دہ ہوگا، مگر خود پر قابو رکھناـ"
وہاب کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
سایہ نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا،
"تمہاری امی... اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔" اس نے جملہ مکمل نہیں کیا، بلکہ وہاب پر قیامت ڈھا دی۔
"ک... کیا؟"
وہاب کے منہ سے بمشکل یہی لفظ نکل سکا۔
"وہ... وہ اس طرح کیسے...
چند دن پہلے ہی تو انہوں نے اسے گلے لگا کر پیار کیا تھاـ وہ بالکل ٹھیک تھیں۔وہاب چند لمحوں تک ساکت کھڑا رہا، جیسے اس کے کان سننا بھول گئے ہوں اور دماغ نے حقیقت ماننے سے انکار کر دیا ہو،پھر اچانک اس کا ضبط ٹوٹ گیا۔وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگاـیہ زخم اس کے تمام پرانے زخموں سے کہیں زیادہ گہرا اور تکلیف دہ تھا۔
سایہ اس کے قریب آیا، اسے اپنے بازوؤں میں لیا اور اپنا کندھا اس کے سر کے نیچے کر دیا کہ وہ جی بھر کر رو سکے۔
اس لمحے سایہ کوئی خوفناک سیاہ سایہ نہیں لگ رہا تھا، بلکہ ایک ایسا دوست محسوس ہو رہا تھا جو اپنے دوست کے بدترین وقت میں اس کے ساتھ کھڑا تھا۔
وہ پوری رات نہ سو سکا۔اسے برف سے نفرت ہونے لگی تھی۔اسے دنیا کے ہر انسان سے نفرت ہونے لگی تھی جو خوش تھا... یا مطمئن تھا۔
اگر اس کا خاندان تباہ ہو گیا، تو اب وہ اسود اور اس کے خاندان کی نسلیں تباہ کر دے گا۔
اس کے ذہن میں انتقام کے دھاگے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکے تھے،بس آگ کا وہ لباس پہننا باقی تھا جو ان قصورواروں کو جلا کر راکھ کر دیتا۔
"میں طاقت حاصل کرنے کے لیے تیار ہوںـ"
"مجھے کیا کرنا ہوگا؟"اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔
بے تاثر...
جیسے جذبات کبھی اسے چھو کر بھی نہ گزرے ہوں۔
اسی دن اس نے بے رحم بننا سیکھ لیا تھا۔
سایہ نے اس کی طرف دیکھا۔
وہ یہی دیکھنا چاہتا تھا...
انتقام کا یہی جذبہ
اس نے جیب سے ایک شناختی کارڈ نکالا اور وہاب کی طرف بڑھا دیا۔
"یہ لو... تمہارا نیا شناختی کارڈـ"
وہاب نے کارڈ پر نظر ڈالی۔
اس پر لکھا تھا...
شاہ زیب
"تم اب وہاب نہیں شاہ زیب ہو،یہی اب تمہاری شناخت ہے۔"انتقام کے پہلے قدم نے ہی اس سے اس کا نام چھین لیا تھا۔
مگر اب وہ اپنے انتقام کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار تھا۔
وہاب اس دن کے بعد ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔
اب صرف شاہ زیب باقی تھا۔
وقت گزرتا گیا۔
سایہ نے اسے لڑنا سکھایا...
نشانہ لگانا...
لوگوں کے چہروں کے پیچھے چھپے ارادے پڑھنا...
اور جذبات کو کمزوری کے بجائے ہتھیار بنانا۔
شاہ زیب نے ہر سبق غیر معمولی تیزی سے سیکھا۔
جس دنیا کو سمجھنے میں لوگوں کو برس لگ جاتے تھے، وہ اس کے راز چند ہی مہینوں میں جان چکا تھا۔
جلدی ہی سایہ نے اسے اپنے چند اہم کام سونپنے شروع کر دیےـہر مشن کامیاب رہا۔
وہ آتا کام مکمل کرتا،اور کسی سائے کی طرح غائب ہو جاتا ،کوئی اس کا چہرہ نہ دیکھ سکا۔
کوئی اس کے قدموں کی آہٹ نہ سن سکا۔
زیر زمین دنیا میں اس کے چرچے پھیلنے لگے۔
"وہ آیا تھا..."
"نہیں... وہ تو صرف ایک سایہ تھا۔"
"آخر وہ ہے کون؟"کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔
فینٹم ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔
ایک وقت تھا جب وہ بھی ایک عام انسان تھا۔جس کے فیصلے سادہ تھے، خواب صاف تھے، اور یقین مضبوط تھا،مگر پھر وقت نے اسے ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا جہاں انصاف اور ظلم کے درمیان لکیر مٹ گئی۔
جن لوگوں پر وہ سب سے زیادہ بھروسہ کرتا تھا،
وہی اس کی تباہی کا سبب بنے۔
اس نے چیخا نہیں...
رویا نہیں...
بس اندر ہی اندر ٹوٹتا چلا گیا۔
اور جب ایک انسان کے اندر سب کچھ ٹوٹ جائے
تو وہ انسان نہیں رہتاوہ فینٹم بن جاتا ہے۔
اب وہ نہ کسی کے لیے ہیرو تھا، نہ کسی کے لیے دشمن...
وہ صرف ایک سوال تھا۔
جس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔
اس کا ماسک دراصل اس کا چہرہ نہیں چھپاتا تھا،
بلکہ وہ دنیا کو یہ دکھاتا تھا کہ درد ایک انسان کو کس حد تک بدل سکتا ہے۔
فینٹم برائی لے کر پیدا نہیں ہوا تھا...
فینٹم بنایا گیا تھا۔رفتہ رفتہ ایک نام ہر زبان پر آنے لگا۔
فینٹم۔
یہ نام کسی نے اسے تحفے میں نہیں دیا تھا۔اس نے اپنی صلاحیت، اپنی خاموشی، اور اپنے خوف سے یہ نام خود کمایا تھا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے...
وہ انڈر ورلڈ کا سب سے پراسرار نام بن چکا تھا۔
فینٹم
اور اسود کو ابھی یہ بھی معلوم نہیں تھا،کہ اس کی موت کا ایک نام رکھا جا چکا ہے۔
فینٹم
---
حال:
اگر اس کے ساتھ یہ ناانصافیاں نہ ہوئی ہوتی تو وہ آج مختلف ہوتاشاید انسانوں کو بچانے والا ڈاکٹر، گولڈی نے دھڑکتے دل سے تبصرہ کیا۔
کمرے میں روشنی جل رہی تھی، مگر وہ روشنی سکون نہیں دے رہی تھی، جیسے ہر چیز کسی ان کہی حقیقت سے ڈری ہوئی ہو۔
وفا میز کے سامنے نہیں بیٹھی تھی... وہ جیسے کسی بوجھ کے نیچے دبی ہوئی تھی۔
"میں نے سوچا تھا تمہیں وقت سے بچا لوں گی ،مگر تمہیں وقت نے ہی ختم کر دیا۔" ، اور اس کے سامنے وہی پرانا بریسلیٹ رکھا تھاـ اس نے بریسلیٹ کو دیکھا تو لگا جیسے کوئی پرانی سانس اچانک کمرے میں واپس آگئی ہو۔ وہی ٹوٹا ہوا بریسلیٹ جو پولیس نے اسماء کی لاش کے پاس برآمد کیا تھا۔
جو کبھی اسماء کی کلائی پر ہوتا تھا۔
ان کی دوستی کی نشانی۔
اس کے ہونٹوں پر ایک لمحے کے لیے خاموشی چھاگئی۔
"میں نے کہا تھا اسے زندگی کے ہر خوبصورت لمحے میں اپنے پاس رکھنا... مگر تم نے اسے بدترین وقت میں بھی خود سے الگ نہیں کیا۔" اس نے اپنے تصور میں اسماء کو مخاطب کیا۔
مگر اب کبھی بھی جواب نہیں آنا تھا...
مرنے والے کہاں بولتے ہیں؟
اس نے انگلیوں سے یوں بریسلیٹ کو چھوا جیسے کسی پرانی یاد کو چھونے کی کوشش کر رہی ہو۔ اسماء کی ہنسی۔
اس کی باتیں... سب ایک دم ذہن میں گھوم گئیں۔
وفا نے گہرا سانس لیا۔
وفا کا ایس خان کے لیے کیا گیا پروجیکٹ مکمل ہو چکا تھا۔اب وہ دوبارہ اپ ورک پر نئے پروجیکٹس اور جابز تلاش کر رہی تھی۔
اب تک وہی اس کا واحد کلائنٹ تھا... جو اسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ ہمیشہ اسے یاد رہے گا۔ وہ انہی خیالوں میں گم تھی کہ اچانک اس کے موبائل کی اسکرین روشن ہوئی۔
ایس خان
نام دیکھتے ہی اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون اتر آیا، شاید پروجیکٹ میں کوئی تبدیلی کرنی ہو، اسی لیے کال کی ہوگی۔اس نے فوراً کال رسیو کی۔
مختصر سی سلام دعا کے بعد دوسری جانب سے سنجیدہ لہجے میں آواز آئی۔
"جو پروجیکٹ آپ نے کیا تھا... وہ دراصل صرف ایک ٹرائل تھا۔ ہم آپ کی صلاحیت جانچنا چاہتے تھے۔" وفا کے دل کی دھڑکن بے اختیار تیز ہو گئی۔
میں جوائے ہوٹل کا مالک شاہزیب خان بات کر رہا ہوں۔
آپ اب باضابطہ طور پر جوائے ہوٹل کے میڈیا مینیجر کے طور پر ملازم رکھ لیے گئے ہیں ۔آپ کا ملازمت کا معاہدہ آپ کو ای میل کے ذریعے بھیج دیا جائے گا۔ چند لمحوں کے لیے جیسے اس کی سوچنے کی صلاحیت ہی سلب ہو گئی۔
آن لائن فری لانسنگ میں اکثر کلائنٹس اپنی اصل شناخت ظاہر نہیں کرتے تھے، اس لیے اسے زیادہ حیرت نہیں ہوئی۔
مگر...
ایک مستقل نوکری وہ بھی اتنے بڑے ہوٹل میں یہ اس کے لیے کسی غیر متوقع خواب سے کم نہیں تھا۔
"محترمہ وفا... کیا آپ ابھی تک لائن پر ہیں؟"
دوسری طرف سےشاہزیب کی آواز سن کر وہ چونک گئی۔
"ج... جی، سرـ میں سن رہی ہوںـ"
"سر... میں پہلے معاہدہ پڑھنا چاہوں گی۔ اس کے بعد ہی اپنا فیصلہ بتا سکوں گی۔"
وہ وہاں کام کرنا چاہتی تھی،لیکن بغیر معاہدہ پڑھے نوکری قبول کرنا دانش مندی نہیں تھی۔
اور پھر...
جوائے ہوٹل
وہی جگہ جہاں اس کی بہترین دوست اسماء کی لاش ملی تھی۔"ضرورـ اپنا وقت لے لیجیے۔"
اتنا کہہ کر کال ختم ہو گئی ۔وفا فون ہاتھ میں لیے دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔ اس کی نظریں فرش پر جمی تھیں، مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا۔
کیا یہ محض ایک نئی نوکری تھی،
یا قسمت اسے ایک بار پھر اسی جگہ لے جا رہی تھی، جہاں سے ہر راز کی شروعات ہوئی تھی؟
چیپٹر: معاہدہ
وفا نے لپ ٹاپ دوبارہ کھولا۔
اس کی ای میل میں ایک نئی اطلاع موجود تھی۔
جوائے ہوٹل - ملازمت کا معاہدہ
اس نے چند لمحے اسکرین کو خاموشی سے دیکھا، پھر گہرا سانس لے کر ای میل کھول لی۔
معاہدہ غیر معمولی حد تک پروفیشنل تھا۔
تنخواہ...
کام کی ذمہ داریاں...
دفتر کے اوقات...
رازداری کی شرائط...
ہر چیز نہایت منظم انداز میں لکھی گئی تھی۔اس نے ایک ایک شق بغور پڑھی۔
سب کچھ درست تھا۔
پھر بھی...
اس کی انگلیاں کی بورڈ پر رکی رہ گئیں۔
اس کی نظروں کے سامنے ایک لمحے کے لیے اسماء کا چہرہ ابھر آیا۔
جوائے ہوٹل وہی جگہ جہاں سے اس کی دوست کی زندگی کا آخری باب شروع ہوا تھا۔وفا نے بے اختیار لپ ٹاپ بند کر دیا۔
"کیا مجھے واقعی وہاں جانا چاہیے؟" یہ سوال اس کے ذہن میں بار بار گونجنے لگا۔
اگر وہ اس نوکری کو قبول کر لیتی ،تو اسے ہر روز اسی عمارت میں جانا پڑا جہاں اسماء نے اپنی زندگی کے آخری دن گزارے تھے۔
لیکن اگر وہ انکار کر دیتی...
تو شاید وہ ایک ایسا موقع کھو دیتی جو دوبارہ کبھی نہ ملتا۔اس نے آنکھیں بند کر کے چند لمحے سوچا۔
پھر خود ہی دھیرے سے بولی،
"میں ماضی سے بھاگتے بھاگتے کب تک جیتی رہوں گی؟" اس نے دوبارہ لپ ٹاپ کھولا۔
کانٹریکٹ کے آخر میں موجود بٹن پر کرسر رکا۔
"نوکری قبول کریں "
ایک لمحے کی ہچکچاہٹ اور پھر اس نے کلک کر دیا۔
چند ہی سیکنڈ بعد ایک نئی ای میل موصول ہوئیـ
"مبارک ہو، محترمہ وفا
ہم آپ کو جوائے ہوٹل کے خاندان میں خوش آمدید کہتے ہوئے نہایت خوشی محسوس کر رہے ہیں ۔
آپ کے آنے کا وقت پیر کے روز صبح 9 بجے ہے۔"
وفا نے ای میل بند کی اور کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
باہر شام آہستہ آہستہ رات میں بدل رہی تھی۔اسے معلوم نہیں تھا...
کہ وہ صرف ایک نئی نوکری قبول نہیں کر رہی تھی،
بلکہ انجانے میں ایک ایسے راستے پر قدم رکھ چکی تھی... جو اسے ان سچائیوں تک لے جانے والا تھا جنہیں برسوں سے بڑی احتیاط کےساتھ چھپایا گیا تھا۔شہزیب اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔
سفید شرٹ، سیاہ کوٹ، اور سیاہ پینٹ۔
اس نے آہستگی سے ماتھے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کیا تو سیاہ، گہرے بادلوں جیسی آنکھیں نمایاں ہو گئیں۔ ان کے ساتھ ہی ابرو پر موجود پرانا کٹ بھی واضح ہو گیا۔ زخم بھر چکا تھا، مگر اس کا نشان آج بھی باقی تھا۔
اس نے ہیئر جیل اٹھائی، مگر چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ پھر خاموشی سے واپس رکھ دی۔
اسی ہی لمحے اس نے جان بوجھ کر اپنے بال اپنےماتھے پر بکھیر لیے، جیسے وہ اس نشان کو دنیا کی نظروں سے چھپانا چاہتا ہو۔ وہ پرسکون اور پروقار انداز میں سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا۔
لاؤنج میں موجود تقریباً ہر نظر چند لمحوں کے لیے اسی پر ٹھہر گئی۔
☆ ☆ ☆
آج جوائے ہوٹل کی ساتویں سالگرہ تھی، اور اس کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام زیب محل میں کیا گیا تھا۔
پول کے کنارے بنے سرسبز لان میں خوبصورت سجاوٹ کی گئی تھی، جبکہ مہمانوں کے لیے باربی کیو کا خصوصی انتظام تھا۔پول کے کنارے بنے سرسبز لان میں خوبصورت سجاوٹ کی گئی تھی، جبکہ مہمانوں کے لیے باربی کیو کا خصوصی انتظام تھا۔
کیک کاٹا گیا، مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوا، اور خوشی کی ہلکی سی رونق ہر طرف پھیل گئی۔وفا ہلکے گلابی رنگ کے نفیس کڑھائی والے سوٹ میں ملبوس تھی۔ آج کافی عرصے بعد اس کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ تھی، جیسے زندگی نے چند لمحوں کے لیے اس کے کندھوں سے بوجھ ہٹا دیا ہو۔
اسی دوران اس کی نظر باربی کیو کے قریب ،شہزیب پر جا ٹھہری۔آج اس نے اپنی شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک موڑ رکھی تھیں۔
تبھی وفا کی نظر اس کی کلائی پر بندھے ایک بریسلیٹ پر پڑی۔سفید اور گلابی دھاگوں سے بنا ہوا وہ سادہ سا بریسلیٹ...
جو اس کے سیاہ و سفید لباس کے ساتھ بالکل بھی میل نہیں کھا رہا تھا۔ وفا چند لمحے اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، مگر اگلے ہی لمحے وہ سوچ میں ڈوب گئی۔
یہ بریسلیٹ...
میں نے اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔
"ارے، دکھی روح! آج تو کم از کم مسکرا دو!" سفیر کی آواز نے اس کے خیالات کا سلسلہ توڑ دیا۔ وہ شہزیب کو چھیڑ رہا تھا۔وفا بے اختیار مسکرادی، مگر اس کا ذہن اب بھی اسی بریسلیٹ میں الجھا ہوا تھاـ
تقریب اپنے اختتام کو پہنچی اور سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئےـ
لیکن وفا کے ذہن سے وہ سفید اور گلابی ڈوریوں سے بنا بریسلیٹ نہیں نکل رہا تھا۔
وہ بار بار خود سے ایک ہی سوال کر رہی تھی۔
یہ بریسلیٹ... شہزیب کے ہاتھ میں کیا کر رہا تھا؟
وفا پھر سے اسی اسماء کے چاند والے ٹوٹے ہوئے بریسلیٹ کو لیے بیٹھی تھی۔
"میں اسے ٹھیک کر دوں گی..." اس نے فیصلہ کیا۔اس نے چھوٹے سے اوزار نکالے اور بریسلیٹ کو کھولنا شروع کیا۔اسد خاموشی سے اس کی کارروائی کو تکنے میں مشغول تھاـ
اس بریسلیٹ کا چند ٹکڑا ٹوٹا ہوا تھا... وفا کو لگا جیسے اب وہ ٹوٹا ہوا چاند کبھی روشنی نہیں دے پائے گا۔
وفا نے بھنویں سکوڑیں۔
"یہ اتنا خراب کیسے ہو گیا..." اس نے آہستہ سے ایک ٹکڑا الگ کیا،اچانک اسے دھاتی پرت میں ایک چھوٹا سا غیر معمولی حصہ نظر آیا۔
وہ رک گئی۔
اس کی انگلیاں وہیں جم گئیں۔"یہ کیا ہے...؟"
وہ جھک کر غور سے دیکھنے لگی۔
وفا نے باریک تار کو دیکھا... جو اسے پہلی بار احساس ہوا کہ یہ بریسلیٹ کبھی "صرف زیور" نہیں تھا۔
جو بریسلیٹ کے اندر چھپایا گیا تھا۔
وفا کی سانس تھم گئی۔ اس نے احتیاط سے اسے باہر نکالا۔
اور پھر...
ایک چھوٹا سا چپ نما آلہ اس کے ہاتھ میں آگیا۔
خاموشی۔
خاموشی اچانک بھاری ہو گئی۔
"نہیں..."
اس کے منہ سے بس اتنا نکلا۔
"اسد" وہ چپ وفا نے فوراً لپ ٹاپ آن کیا۔
اس کے کانپ رہے تھے۔
اسکرین چند لمحے سیاہ رہی۔
پھر ایک ویڈیو فائل کھل گئی۔پہلے صرف شور تھا۔پھر ایک چہرہ بننے لگا،اور پھر ایک حقیقت۔
پھر آہستہ آہستہ تصویر صاف ہونے لگی۔
ایک کمرہ...
چینخیں...
اور ایک پہچانی ہوئی آواز...
وفا کی آنکھیں پھیل گئیں۔
”یہ... یہ اسماء ہے...“لیکن یہ سوال نہیں تھا... یہ انکار تھا۔اس کی آواز کانپ گئی۔
ویڈیو میں اسماء بری طرح ڈری ہوئی تھی،
اور پس منظر میں کچھ لوگ تھے۔
وفا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔اس نے اسکرین کے قریب ہو کر دیکھا۔
ایک سایہ...
صرف ایک سایہ...
اور پھر وہ لمحہ آیا جس نے اس کی پوری دنیا بدل دی۔
کیمرے میں ایک لمحے کے لیے ایک نشان دکھائی دیا،
وہی سرخ و سفید نشان۔
اور پھر اس نے اسے دیکھا۔
وہی آنکھیں۔
وہی چہرہ۔
جو کبھی اس کی حفاظت کے لیے کھڑا ہوتا تھا۔ جو وہ کہیں نہ کہیں پہلے بھی دیکھ چکی تھی۔
پھر اسکرین پر وہی بھنو پر کٹ والا انسان دکھائی دیا۔
اس کے ماتھے کے بال چچھے کر کے سیٹ تھے
اس کا ماضی اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔
اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
”نہیں... نہیں...“اور اس دن وفا نے پہلی بار سمجھا
کہ کبھی کبھی دشمن باہر نہیں ہوتاگھر کے اندر ہوتا ہے۔
”قتل کر دو اسے...“اسے ایک آواز سنائی دی۔
وہی آواز جو پندرہ سال پہلے اسے زندگی کی نوید دیا کرتی تھی۔
نہیں... نہیں... وہ چیخی۔
جیسے وہ اس وقت بھی اپنی دوست کو مرنے سے روکنا چاہتی ہو۔وہ پیچھے ہٹ گئی۔کرسی گر گئی۔
اس کی سانس ٹوٹنے لگی۔
اور اس کے ذہن میں صرف ایک بات گونج رہی تھی۔
وہ اس شخص کو کبھی نہیں بھول سکتی تھی جو اس کا بچپن کا بھائی اور دوست تھا، مگر آج وہی اس کے سامنے اس کی دوست کے قاتل کے روپ میں کھڑا تھا۔
قاتل... اس کا اپنا ہی بھائی تھا۔
☆ ☆ ☆
رات گہری تھی۔
مگر وفااور اسد کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔
اسکرین بند تھی... لیکن وہ منظر ابھی بھی چل رہا تھا۔
وہی چہرہ۔ وہی آنکھیں۔
وہی حقیقت جسے وہ قبول نہیں کر پا رہی تھی۔
”نہیں... یہ وہ نہیں ہو سکتا...“وہ حقیقت سے منہ موڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔اس نے سر پکڑ لیا۔
”تو کیا وہ اسی لیے بالوں سے آنکھیں چھپاتا تھا؟ کہ کوئی پہچان نہ لے؟“جتنا وہ انکار کرتی، حقیقت اتنی ہی واضح ہوتی جاتی۔
11:41صبح P
0 بائٹس فی سیکنڈ 95
آخر کار وہ کھڑی ہوئی۔فیصلہ ہو چکا تھا۔
آپی آپ کدھر جا رہی ہیں؟اسد نے تھکے تھکے لہجے میں سوال کیا۔
میں جواب لینے جا رہی ہوں۔اس کی آواز پرعزم تھا۔
میں آپ کو اس قاتل کے پاس اکیلے نہیں جانے دے سکتا۔وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
گاڑی خاموش سڑک پر دوڑ رہی تھی۔
ہر کلومیٹر کے ساتھ دل بھاری ہوتا جا رہا تھا۔
غصہ۔ درد۔ اور سب سے زیادہ... دھوکہ۔”تم محافظ تھے... تم جان لینے والے کب بنے؟“
یہ سوال اس کے ذہن میں ہتھوڑے کی طرح بج رہے تھے۔
مقام: جوائے ہوٹل
دروازہ کھلا۔وہ اندر داخل ہوئی۔شیڈو نے سر تک نہیں اٹھایا۔وفا کی سانس اکھڑ رہی تھی۔اسد ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔یہ خوف ہرگز نہیں تھا یہ دھوکا تھا۔
”وہ کہاں ہے؟“خاموشی۔
”میں نے پوچھا... وہ کہاں ہے؟!“
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ایک دروازہ کھلا۔
اور وہ سامنے تھا۔
وہاب یا نہیں... اب وہ شاہ زیب تھا۔کمرہ خاموش تھا۔مگر یہ سکون والی خاموشی نہیں تھی۔یہ وہ خاموشی تھی جو اندر سے توڑ دیتی ہے۔
تینوں انکے درمیان فاصلہ صرف چند قدم تھا۔
مگر حقیقت میں صدیوں کا فاصلہ تھا۔وفا نے اسے دیکھا۔آنکھوں میں نہ آنسو تھے، نہ لرزش۔ صرف خالی پن۔
میری بہن نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟ کیوں مار دیا اسے۔
اسد نے اسے گریبان سے پکڑ لیا۔
”تمہیں یاد ہے؟“آواز بہت دھیمی تھی۔
”جب میں ڈرتی تھی... تم کہتے تھے ’میں پیچھے رہوں‘۔“ایک لمحہ رکا۔
اسد نے گریبان چھوڑ دیا۔
”اور آج... جب تم خود ایک خوفناک حقیقت بن کر سامنے ہو... تو میں کس کے پیچھے چھپوں؟“
شاہ زیب خاموش رہا۔اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔بس انگلیاں ہلکی سی مٹھی میں بند ہو رہیں۔
”امل...“ وہ بولا۔
”میں وفا ہوں۔“ اس نے بیچ میں کاٹا۔
”آپ کی بدولت میں وفا ہوں۔“
”اگر تم زندہ تھے... تو ہمیں کیوں تڑپایا؟“وہ آج سارے گلے شکوے نکالنے آئی تھی۔
”تمہارے انتقام کی خاطر تمہارے با پ نے مجھے میرے گھر والوں سے دور کر دیا۔“اس کی سسکی نکل گئی۔
”ان سالوں کا حساب کس سے مانگوں؟ جو میں نے اپنے خاندان سے دور گزارے؟“
”امل... مجھے معاف کر دو۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری وجہ سے تمہارے ساتھ...“
”میں وفا ہوں۔“ وہ پھر بولی۔وہ آگے بڑھی۔
”میں نے وہ ویڈیو دیکھی ہے۔“الفاظ سیدھے سینے میں لگے۔
”اسماء...“نام لیتے ہی سانس اٹک گئی۔
”تم نے اسے مارا...“
خاموشی۔ اور زیادہ بھاری ہو گئی۔
شاہ زیب نے سر اٹھایا۔ آواز تھکی ہوئی تھی۔
”اگر تم یہ مان چکی ہو... تو پھر یہاں کیوں آئی ہو؟“
وہ شاید اس دنیا کو صفائیاں پیش کرتے کرتے تھک گیا تھا۔وفا کی آنکھوں میں پہلی بار نمی آئی۔ مگر وہ نہیں گری۔
”میں یہ سننے نہیں آئی کہ تم نے کیا...“ایک قدم آگے بڑھیں۔
”میں یہ سننے آئی ہوں... کیوں کیا؟“
”کیا تمہیں واقعی لگتا ہے... کہ میرے پاس کوئی جواب ہے؟“
”جھوٹ نہیں بولو! “ وہ چلائی۔
”تمہارے پاس سب کچھ تھا! ہم تھے... اسماء تھی... میں تھی...“اواز کانپ گئی۔
”پھر تم کیسے...؟“شاہ زیب ایک قدم پیچھے ہٹا۔ جیسے خود سے بھاگ رہا ہو۔
”میں وہ آدمی نہیں رہا جسے تم جانتی تھی۔“
”تو بنے کیوں؟“
لمبی خاموشی۔ دردناک خاموشی۔
”کیونکہ مرنے سے پہلے... انسان کو اندر سے مرنا پڑتا ہے۔“یہ جملہ وفا کو توڑ گیا۔
پہلی بار آنسو بھر آئے۔
”اور ہم؟“ آواز ٹوٹ گئی۔
”ہم نے تمہارے ساتھ کیا کیا تھا؟“اسد نے بات کاٹیشاہ زیب نے اسے دیکھا۔ اس نظر میں پہلی بار درد تھا۔
غصہ نہیں۔ نفرت نہیں۔ صرف درد۔
تمہیں پندرہ سال پہلے ہی مر جانا چاہیے تھا۔ وہاب کو یوں لگا جیسے اس کا دل پھٹنے لگا ہو۔اگر آئندہ تم مجھے میرے خاندان کے پاس نظر آئے تو میں تمہیں زندہ گاڑ دوں گا۔اسد یہ کہہ کر جھٹکے سے باہر نکل گیا۔
”تم لوگ نہیں تھے...“ وہ آہستہ بولا
”وہ وقت تھا...“
”نہیں...“ وفا نے سر ہلا دیا۔ آنکھیں بند کر لیں
”یہ جواب نہیں ہے۔“وہ ایک قدم پیچھے ہٹی۔
”تم نے مجھے کھو دیا... اور آج... میں نے تمہیں۔“
خاموشی۔
”اگر کبھی تمہیں یاد آئے... کہ تم کون تھے...“
وہ رکی۔
”تو یہ یاد رکھنا... میں تمہیں معاف نہیں کروں گی۔“کاش وہ ایسا کہتی۔
شاہ زیب کا دل کرچی کرچی ہو گیا۔
وہ مڑی۔ اس بار تیزی سے نہیں... ٹوٹ کر۔
دروازہ بند ہوا۔اور وہیں کھڑا رہ گیا۔
کافی دیر۔پھر آہستہ سے آنکھیں بند کیں۔
اور پہلی بار... ایک آنسو گر گیا۔آواز نہیں آئی۔
کاش یہ راز، راز ہی رہتا۔ کاش وہ نہ دیکھ پاتی۔
کچھ زخم بھرنے کے لیے نہیں ہوتے بس یاد رکھنے کے لیے ہوتے ہیں۔
☆ ☆ ☆
کیا مجھے اب یہ سب چھوڑ دینا چاہیے؟ سفیر
اس نے اپنے پیچھے کھڑے شیڈو سے کہا۔
شیڈو: تم وہاب کی طرح کمزور نہیں ہو- نہ شاہ زیب کی طرح دبے ہوئے۔ تم فینٹم ہو۔ابھی تو حساب لینے کا وقت ہے۔ اور تم ابھی سے پیچھے ہٹ رہے ہو؟
شیڈو: اس نے اس کی پشت کی طرف دیکھ کر کہا:
ہاں، اسے 15 سال لگے تھے خود کو دوبارہ کھڑا کرنے میں۔اس نے آہستہ سے سانس لی۔
☆ ☆ ☆
وہ ایک قبر کے پاس کھڑا تھا۔
تختی پر لکھا تھا:
صالحہ بیگم مرحومہ
زوجہ: جہانگیر اکبر
وہ جب بھی ان الفاظ کو پڑھتا تو اسے ہر دفعہ نئے سرے سے اذیت ہوتی۔وہ جب بھی اداس یا پریشان ہوتا تو ماں کی قبر کے سرہانے آکر بیٹھ جاتا۔
"ماں... بس ایک آخری حساب باقی ہے۔ اس کے بعد شاید میں بھی تھک جاؤں..."ماں، بس ایک آپ کا بدلہ، اور پھر میں سب چھوڑ دوں گا۔
وہ آتا، گھنٹوں باتیں کرتا، اور پھر چلا جاتا۔
ماں... ماؤں کو نہیں مرنا چاہیے۔
ماں، آج میں امل سے ملا۔ وہ کافی بڑی ہو گئی ہے۔
ماں... اس نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا... ’تم قاتل ہو۔
ماں، مجھے لگا میں پھر قسمت سے ہار گیا۔اس کا گلا گھٹنے لگا۔ماں، وہ تو مجھے بھائی مانتی تھی۔یہ میں نے کیا کیا۔
وہ پچھتا رہا تھا۔ماں، میں اسے نہیں مارنا چاہتا تھا۔
میں نے اسے بچانا بھی چاہا، پر پھر بھی وہ میرے رازوں کو کھوجنے سے باز نہیں آئی۔ اور پھر وہ مر گئی۔اس کی آواز میں خود کے لیے ملامت تھی۔
ماں، سب مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔
آپ تو نہیں کریں نا؟
امی، پلیز آپ مجھ سے نفرت نہ کرنا۔
قبر کے پاس بیٹھا وہ تیس سال کا آدمی... اس لمحے نہ فینٹم تھا، نہ شاہ زیب۔ وہ صرف ایک بیٹا تھا۔جو اپنی ماں سے یہ بھیک مانگ رہا تھا کہ دنیا چاہے اس سے نفرت کرے، ماں نہیں کرے گی۔
☆ ☆ ☆
وزیر تعلیم کے گھر کے مرکزی دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی۔چند لمحوں بعد ایک ڈیلیوری مین اندر آیا اور دربان کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھما کر فوراً واپس چلا گیا۔لفافہ خون کی طرح سرخ تھا۔
جیسے کسی نے اسے جان بوجھ کر اس رنگ میں ڈبو دیا ہو۔۔
اور اس پر بھیجنے والے کا کوئی نام درج نہیں تھا۔
بس ایک نام لکھا تھا...
اسود ملک۔
دربان نے فوراً وہ لفافہ وزیر کے اسسٹنٹ کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اسے اسود یعنی وزیر تعلیم تک پہنچادے۔اسسٹنٹ نے ہوم آفس کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔
اندر بیٹھا شخص تقریباً تینتیس سال کا تھا، اور اس کے چہرے سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ کافی بیزار اور تھکا ہوا ہے۔اسسٹنٹ نے مناسب نہ سمجھا کہ زیادہ بات کرے، اور خاموشی سے وہ لفافہ اس کی میز پر رکھ دیا۔مگر اس سرخ رنگ کے لفافے کو زیادہ دیر تک نظر انداز کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔
اس نے لفافہ کھولا تو اندر ایک
یو-ایس-بی اور ایک سفید کاغذ تھا۔
کاغذ پر ایسے سرخ نشان تھے جیسے سفید کپڑے پر خون کے دھبے بکھرے ہوں۔
کون ایسا شخص ہوگا جو یو-ایس-بی کے ذریعے یہ پیغام بھیجے؟وہ سوچ میں پڑ گیا۔
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کا ماضی اس کے سامنے کھلنے والا ہے۔اس نے یو-ایس-بی کو لیپ ٹاپ میں لگایا۔ یو-ایس-بی میں صرف ایک وڈیو تھی، اور اس کا نام تھا:
"پورا کرنے کا وقت ا گیا" اسے لگا شاید کوئی مذاق ہے۔ اس نے وڈیو چلائی تو اسکرین پر ایک غسل خانے کا منظر تھا، جہاں چند لڑکے ایک لڑکے کو بری طرح مار رہے تھے، اور پھر اسے کچھ گولیاں دینے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ وڈیو... یہ تو... وہ سُن رہ گیا۔
اور وڈیو کے آخر میں لکھا آیا:
"جلد ہی، ہر ایک کے سامنے آپ کا نقاب اتر جائے گا" یہ دیکھتے ہی سردی کے باوجود اس کے ماتھے پر پسینہ آنے لگا۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔
وہ ڈر رہا تھا... لیکن کس سے؟
یہ کیسے ممکن ہے؟ وہ خود سے بار بار سوال کر رہا تھا۔
کوئی اسے دھمکی آمیز میل کر رہا تھا... یا پھر کچھ اور؟
وہ خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
وڈیو اسکرین پر جم گئی تھی۔
اور اس کے ساتھ ہی کمرے کی سانس بھی رک گئی تھی۔ٹی وی کی نیلی روشنی اسود کے چہرے پر پڑ رہی تھی، مگر وہاں کوئی رنگ نہیں بچا تھا۔ صرف سختی... اور ایک ایسی خاموشی جو چیخ سے بھی زیادہ بھاری تھی۔
وہ اسکرین کو گھور رہا تھا جیسے اگر وہ اسے کافی دیر تک دیکھے گا تو تصویر بدل جائے گی۔ حقیقت پیچھے ہٹ جائے گی۔ مگر حقیقت ضدی ہوتی ہے۔
اس کا بیٹاکلب کی چیختی ہوئی روشنیوں میں، ہنسی اور شور کے بیچ، ایک ایسی دنیا میں کھڑا تھا جہاں نام نہیں ہوتے... صرف زوال ہوتا ہے۔
اس نے سفید رنگ کی گولی نما چیز کو تیزی سے اٹھایا، جیب سے ایک کارڈ نکالا اور مضبوط ہاتھوں میں اسے کچل دیا۔ پھر اس نے اپنا چہرہ میز پر جھکا دیا۔وہ کسی عادی نشے باز کی طرح ناک کے ذریعے اس حرام نشہ آور چیز کو اپنی سانسوں میں بسا رہا تھا۔
اسود کے ہاتھ میں موجود ریموٹ آہستہ سے نیچے گر گیا۔ٹک۔
وہ آواز بھی بہت بلند تھی۔
"یہ... کیا ہے؟" اس کی آواز نہیں تھی
یہ ضبط ٹوٹنے کی پہلی دراڑ تھی۔
کمرے میں موجود عمران نے ہونٹ کھولے، مگر الفاظ اس سے پہلے ہی بھاگ گئے۔
اسود ایک دم اٹھا۔
اس بار تھپڑ نہیں آیا فوراً۔
پہلے وہ قریب گیا۔
بہت قریب۔ اس نے اپنے بیٹے کو ایسے دیکھا جیسے وہ پہلی بار دیکھ رہا ہو... اور جو کچھ وہ دیکھ رہا تھا وہ اسے قبول نہیں تھا۔
پر وہ بھول رہا تھا کہ انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔
"تم..." اس کی آواز نیچی تھی، مگر اندر سے پھٹ رہی تھی۔
"تم نے یہ کیا بنایا ہے اپنے آپ کو؟" عمران پیچھے ہٹا، مگر غرور ابھی بھی زندہ تھا۔
"یہ پرانی وڈیو ہے... آپ اسے اتنا بڑا..." جملہ ٹوٹ گیا۔ اس بار تھپڑ آیا۔
زور سے نہیں... مگر ایسا جیسے صبر کا آخری دھاگہ ٹوٹ گیا ہو۔ بیٹے کا سر ایک طرف جھک گیا۔ کمرہ پھر بھی نہیں بولا۔ اسود کی سانس تیز ہو رہی تھی۔
اور پھر...
موبائل زندہ ہو گیا۔ ایک کے بعد ایک اطلاع۔
اسکرین جلنے لگی۔
اہم خبر
عمران وزیر تعلیم اسود ملک کے بیٹے
کی وڈیو وائرل
#وزیر_تعلیم_کا_بیٹا ٹرینڈنگ
قوم کا شدید ردعمل
استعفیٰ اپوزیشن کا مطالبہ
ٹی وی پر خبر پڑھنے والے کی آواز کپکپا رہی تھی۔
"یہ صرف ایک نوجوان کی غلطی نہیں... یہ ایک نظام پر سوال ہے..."
اسود نے ٹی وی بند کرنے کی کوشش کی۔
کیا ملک کا مستقبل ایسے لوگوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ قوم جواب مانگتی ہے۔
مگر اگلے ہی لمحے دوسرا اسکرین اس کے ہاتھ میں تھا۔
اور وہ بھی چیخ رہا تھا۔ وہ رکا۔
پھر آہستہ سے بولا...
"پورا ملک... دیکھ رہا ہے تمہیں۔"
کی آنکھوں میں اب دفاع نہیں تھا... اب غصہ تھا۔ عمران۔"تو کیا ہوا؟" اس نے پہلی بار اونچی آواز میں کہا۔
"آپ کو صرف اپنا نام بچانا ہے نا؟ میری زندگی نہیں!" یہ جملہ ہوا میں نہیں رکا۔ یہ لگا جیسے دیواروں میں جا بیٹھا ہو۔ اسود کا چہرہ بدل گیا۔
اس نے آگے بڑھ کر گریبان پکڑا۔
مگر آواز نہیں نکلی فوراً۔
پہلے وہ کانپ گیا۔ نام؟" وہ دھاڑا۔
"یہ نام میں نے بنایا ہے! اور تم نے اسے ایک لمحے میں مٹی کر دیا ہے!"
جھٹکا دے کر الگ ہوا۔
عمران ۔"آپ نے مجھے کبھی بنایا ہی نہیں!"
"آپ نے صرف ایک تصویر بنائی ہے... ایک وزیر کی!"
خاموشی۔
یہ بار خاموشی مختلف تھی۔
یہ اسود کے اندر کہیں کچھ توڑ رہی تھی۔اسی لمحے دروازہ کھلا۔اسسٹنٹ اندر آیا۔ چہرہ سفید۔
”سر... پریس باہر جمع ہے... اور...“ وہ رکا،
”... وہ لفافہ دوبارہ آیا ہے۔“اسود نے وہ کاغذ ہاتھ میں لیا۔
سرخ رنگ... جیسے کسی وارننگ کا زخم۔
”وہاب واپس آ گیا ہے“الفاظ نہیں تھے یہ۔ یہ ماضی کی وہ چیخ تھی جو برسوں بعد واپس آگئی تھی۔اس کے ہاتھ میں کاغذ ہلکا سا کانپا۔
پہلی بار۔اس نے فوراً نظریں اٹھائیں۔
بیٹا ابھی بھی وہیں کھڑا تھا۔ آنکھوں میں ضد، چہرہ پر بکھرا ہوا غرور... اور اب تھوڑی سی بغاوت۔مگر اسود اسے نہیں دیکھ رہا تھا۔وہ جیسے کسی اور وقت میں چلا گیا تھا۔کمرے کی دیواریں بھاری ہونے لگیں۔
ہوا کم ہو گئی۔ٹی وی کی روشنی دھندلا گئی۔
اور اس دھند میں صرف ایک نام واضح تھا...
”وہاب...“اسود نے آہستہ سے دہرایا، جیسے یقین کرنا چاہ رہا ہو کہ یہ حقیقت ہے یا کوئی انتہا ہی خواب۔
اس کے جبڑے سخت ہو گئے۔
غصہ جو ابھی کچھ لمحے تک طوفان تھا... اب خاموش ہو رہا تھا۔مگر یہ خاموشی کمزوری نہیں تھی۔یہ وہ خاموشی تھی جو خطرے سے پہلے آتی ہے۔
اس نے کاغذ میز پر رکھا۔
آہستہ۔
بہت آہستہ۔
جیسے وہ اچانک کوئی غلط حرکت نہیں کرنا چاہتا ہو۔
بیٹے نے یہ تبدیلی محسوس کی۔
”اب کیا ہوا؟“ اس نے طنز سے کہا۔ ”اب کون آ گیا ہے؟“اسود نے اس کی طرف دیکھا۔اس بار نظریں میں غصہ نہیں تھا۔صرف سردی تھی۔
”تمہیں اندازہ نہیں...“ اس نے دھیرے سے کہا، ”... تم نے کیا چیز جگادی ہے۔“کمرے میں ایک لمحہ رکا۔باہر ہجوم کی آوازیں اور کیمرے کی فلشز اب بھی گونج رہی تھیں۔کمرے میں اسکرین کی ٹمٹماتی روشنی باقی تھی۔باہر میڈیا کا شور
اور اندر ایک ٹوٹتا خاندان۔
صبح 11:00 بجے
وزارت تعلیم کا پریس ہال
کیمرے۔ مائیک۔ شور۔
سو سے زیادہ رپورٹرز۔
اور سامنے... ایک اکیلا آدمی۔
اسود ملک۔
سفید شلوار قمیض۔ سیاہ واسکٹ۔
چہرہ تراشا ہوا۔ آنکھوں کے نیچے تھکاوٹ، مگر آواز میں فولاد۔اس کے پیچھے پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔
اور اس کے سامنے... سوالوں کا طوفان۔
”وزیر صاحب! ویڈیو سچ ہے؟“
”کیا آپ استعفیٰ دیں گے؟“
”قوم کے بچوں کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں محفوظ ہے؟“اسود نے ایک لمحہ آنکھیں بند کیں۔
پھر مائیک کے قریب گیا۔کمرے میں سناٹا چھا گیا۔
”سب سے پہلے...“ اس کی آواز دھیمی تھی، مگر ہر لفظ وزن رکھتا تھا۔
”میں ایک باپ ہوں-“
پہلا وار۔
جذبہ
”اور کسی بھی باپ کے لیے... اپنے بچے کی غلطی کو دنیا کے سامنے دیکھنا... موت سے کم نہیں ہوتا۔“
کیمروں کی فلشز رک گئیں۔
”وہ ویڈیو... ہاں۔ وہ میرے بیٹے کی ہے۔“
دوسرا وار۔
سچ۔
ہال میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔اسود نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روکا۔
”مگر وہ ویڈیو پرانی ہے۔“اس کی آواز اب سخت ہو گئی۔
”تین سال پرانی۔ ایک ایسے وقت کی... جب وہ گمراہ تھا۔ جب وہ غلط صحبت میں تھا۔ بطور باپ ناکام تھا-“
تیسرا وار۔
ذمہ داری خود پر۔
اس نے ایک قدم آگے بڑھایا۔
”آج میرا بیٹا حبیب میں ہے۔ علاج کروا رہا ہے۔ اور روز اللہ سے معافی مانگ رہا ہے۔“
جھوٹ۔ مگر کتنا سچا لگ رہا تھا۔
”میں نے اسے پالا ہے۔ میں نے اسے بگاڑا ہے۔ اور میں ہی اسے ٹھیک کروں گا۔“
چوتھا وار۔
باپ کا درد۔
ایک رپورٹر کھڑا ہوا۔
”تو کیا آپ یہ مان رہے ہیں کہ آپ کے گھر میں بھی وہی نشہ ہے جس کے خلاف آپ تقریریں کرتے ہیں؟“اسود کی آنکھیں لال ہوئیں۔
مگر وہ ہنسا۔ ایک تھکا ہوا، ٹوٹا ہوا باپ والا ہنسنا۔
”بیٹا-“ اس نے کہا۔
”اگر کسی ڈاکٹر کا بیٹا بیمار ہو جائے... تو کیا وہ ڈاکٹر برا ہو جاتا ہے؟“
اگر کسی استاد کا بچہ فیل ہو جائے... تو کیا وہ استاد نالائق ہو جاتا ہے؟“
خاموشی۔
”نہیں-“ اسود نے مٹھی بھینچ لی۔”اس کا مطلب ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اور میں... یہ جنگ جیتوں گا۔ اپنے گھر سے شروع کر کے-“
تالیاں نہیں بجیں۔مگر کیمرے جھک گئے۔
آخری سوال-
”سر... یہ ویڈیو لیک کس نے کی؟“
اسود کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے کچھ چمکا۔
غصہ؟ خوف؟ یا... پہچان؟
”کوئی ہے۔“ اس نے بہت آہستہ کہا۔
”کوئی ہے جو میرا نام نہیں گرا سکا... تو میرے خون کو نشانہ بنا رہا ہے۔“
”مگر میں وعدہ کرتا ہوں۔"اس نے جھنڈے کی طرف دیکھا۔
”نہ میں جھکوں گا۔ نہ میرا ملک جھکے گا۔“
وہ مڑا۔ اور بغیر کوئی سوال لیے چلا گیا۔
پیچھے ہال میں صرف شٹر کی آوازیں رہ گئیں۔
تیس منٹ بعد
اس کی گاڑی میں
اسود نے ٹائی ڈھیلی کی۔
اسسٹنٹ نے پوچھا: ”سر... کیسا رہا؟“اسود نے موبائل نکالا۔
اسکرین پر ایک نیا پیغام تھا۔
نامعلوم نمبر سے۔
”بہت اچھا جھوٹ بولا۔" تالیاں"
مگر سچ سننے کے لیے تیار ہو جاؤ، اسود۔
-W-“
اسود نے موبائل بند کر کے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
باہر نعرے لگ رہے تھے:
”ہم اسود ملک کی حمایت کرتے ہیں!“
اور اس کے دل میں صرف ایک آواز تھی:
"وہاب واپس آ گیا ہے"
☆ ☆ ☆
پریس کانفرنس ختم ہوئے بیس منٹ ہوئے تھے
اسود کی گاڑی ابھی وزارت سے دو کلومیٹر دور ہی گئی تھی...
کہ اس کے فون پر سینتالیس مسڈ کالز آ گئیں۔اسسٹنٹ کا چہرہ زرد تھا۔
”سر... کچھ... کچھ غلط ہو گیا ہے۔“ اسود نے ٹی وی آن کیا۔ اور اس کی دنیا پھر گر گئی۔
بریکنگ نیوز
لائیو: نوجوان صحافی کا دھماکہ خیز انکشاف
اسکرین پر ایک لڑکی کھڑی تھی۔ عمر چھبیس سے ستائیس سال-
ہاتھ میں فائل۔ آنکھوں میں آگ۔
”میرا نام زویا ہے۔ میں ’سچ ٹی وی‘ سے ہوں۔
اور آج میں وزیر تعلیم اسود ملک کا جھوٹ توڑنے آئی ہوں۔“ اسود کا جبڑا سخت ہو گیا۔
زویا نے فائل کھولی۔
”وزیر صاحب نے ابھی کہا کہ ان کے بیٹے کا علاج چل رہا ہے۔ کہ وہ ریہیب میں ہے۔“
اس نے ایک تصویر لہرائی۔
تاریخ: کل رات دو بج کر تیرہ منٹ پر
جگہ: اسلام آباد کلب
تصویر: اسود کا بیٹا۔ وہی کپڑے- وہی گھڑی- ہنستا ہوا۔
”رہیب؟“ زویا نے طنز سے کہا۔
”یہ رہیب ہے؟ یا پارٹی؟“ گاڑی میں سناٹا۔
”اور یہ رہا ثبوت نمبر دو۔“
دوسرا کاغذ۔
عمران ہسپتال کا ریکارڈ۔ جس میں لکھا ہے کہ مذکورہ مریض گزشتہ تین سال سے ہسپتال آیا ہی نہیں۔
”وزیر صاحب نے قوم سے جھوٹ بولا۔“
زویا کی آواز اب چیخ بن گئی تھی۔
”انہوں نے ایک باپ کے درد کا ڈرامہ کیا... تاکہ اپنی کرسی بچا سکیں!“
”گاڑی روکو!“ اسود دھاڑا۔ ڈرائیور نے بریک لگائی۔ اسود نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
سڑک پر لوگ موبائل پر وہی کلپ دیکھ رہے تھے۔
دکاندار- طالب علم- ٹیکسی ڈرائیور۔
اور سب... اسے گھور رہے تھے۔
#جھوٹا_وزیر ٹرینڈ کر رہا تھا۔
#استعفیٰ_دو ٹرینڈ کر رہا تھا۔
اس کا فون بجتا- پارٹی چیئرمین کی کال۔
اس نے کاٹ دی۔
دوسری کال- نامعلوم۔
اس نے اٹھالی۔
دوسری طرف سے ایک دھیمی، بے تاثر آواز آئی۔
”دیکھا اسود؟“
”تم نے سچ چھپا کر جھوٹ بولا۔
اور میں نے سچ بول کر تمہیں ننگا کر دیا۔“
اسود کی سانس رک گئی۔
”میں نے کہا تھا نا... تمہارا ماسک سب کے سامنے گرے گا۔اب دیکھو... کون بچاتا ہے تمہیں۔“ کال کٹ گئی۔
اسود نے موبائل زور سے ڈیش بورڈ پر دے مارا۔
شیشہ چکنا چور۔
باہر ایک بچہ پوسٹر لے کر کھڑا تھا:
”تعلیم کا دشمن، استعفیٰ دو!“ اسود نے آنکھیں بند کر لیں۔ پہلی بار... اسے ڈر لگا۔
غصے کا نہیں۔
زوال کا۔
کیونکہ میڈیا پلٹ چکا تھا۔
عوام پلٹ چکی تھی۔
اور اب صرف مکافات عمل باقی تھا۔