
انگریزی ترجمہ ابھی دستیاب نہیں ہے — اردو اصل دکھایا جا رہا ہے۔
رات 2:17 بجے
اگلا وار 💰
بینک اکاؤنٹس۔
دبئی۔ لندن۔ سوئٹزرلینڈ۔
اسود ملک ٹرسٹ — 47 ملین
"یہ پیسہ کہاں سے آیا، اسود صاحب؟"
"تنخواہ سے... یا ان بچوں کے مستقبل سے جنہیں آپ نے بیچا؟"
ڈیجیٹل سکول سسٹم کے نام پر گورنمنٹ سے لاکھوں روپے کا بجٹ حاصل کرنے کے بعد اس کام میں کیوں تاخیر کی گئی ۔ لوگ جاگ چکے تھے۔
ہر فون پر یہی اسکرین۔
#فینٹم_سچ_ہے
#اسود_چور
#گرفتار_کرو
ایک استاد کی آواز کانپ گئی:
"ہم مہینوں سے تنخواہ کے لیے مر رہے ہیں... اور یہ لوگ محل بنا رہے ہیں؟"
اسود کافون مسلسل بج رہا تھا ۔
وزیراعظم۔ پارٹی۔ خاندان۔
وہ سب نظر انداز کر رہا تھا۔ صرف ایک مسیج آیا۔
نامعلوم نمبر۔
"میں نے تمہاری طاقت نہیں چھینی۔"
"میں نے تمہاری عزت چھینی ہے۔"
"اب قوم تمہیں دیکھ رہی ہے، اسود۔"
"فینٹم۔" اسود کی انگلی رکی۔
ٹی وی خود بخود دوبارہ آن ہوا۔
"اور سب سے اہم بات..."
"یہ سارا پیسہ... اسی بیٹے پر خرچ ہوا جسے آپ نے 'حبیب' کا جھوٹ سنایا۔" اسود کا چہرہ سخت ہو گیا۔
"بند کرو!!" مگر آواز نہیں رکی۔
دروازے پر زور دار دستک جاری تھی۔
دھک... دھک... دھک...
اسسٹنٹ سفید پڑ گیا۔
"سر... نیب... ایف-ایی-اے... پولیس..."
"وارنٹ لے کر آئے ہیں..." اسود کھڑکی کے پاس گیا۔ باہر روشنیوں کا طوفان تھا۔
نعرے:
"چور ہے! چور ہے!"
اس نے آئینے میں خود کو دیکھا۔
سفید قمیض۔ سیاہ واسکٹ۔ مگر اب... کوئی وزیر نہیں تھا۔ صرف ایک گرتا ہوا آدمی
فون پر ایک آخری وائس نوٹ:
"طاقت گئی-"
"عزت گئی-"
"اب سکون جائے گا..."
"ملتے ہیں، اسود۔"
طاقت چلی جائے تو بھی انسان زندہ رہتا ہے پر اگر سکون چلا تو انسان پل پل مرتا ہے ۔
☆ ☆ ☆
رات کے سوا تین بج رہے تھے۔
اسود ملک کی رہائش گاہ اب گھر نہیں رہی تھی...
وہ ایک محاصرہ بن چکی تھی۔ باہر نیب، پولیس اور ایف آئی اے کی گاڑیاں قطار در قطار کھڑی تھیں۔
سرخ اور نیلی بتیوں کی چمک دیواروں پر رینگ رہی تھی۔
درجنوں کیمرے ایک ہی دروازے کی طرف رخ کیے کھڑے تھے۔
ہر چینل پر صرف ایک ہی خبر چل رہی تھی۔
"وزیر تعلیم اسود ملک کے گھر پر چھاپہ۔"
"کیا اسود گرفتاری دے گا؟"
"ملک کی نظریں اسی دروازے پر۔" ایک سینئر پولیس افسر نے لاؤڈ اسپیکر اٹھایا۔
"اسود ملک!قانون کے مطابق آپ کے خلاف وارنٹ موجود ہے۔دروازہ کھولیے اور پرامن طریقے سے باہر آجائیے۔مزاحمت آپ کے لیے حالات مزید خراب کرے گی۔" سارا ماحول ساکت ہو گیا۔
مگر اندرسے کوئی جواب نہ آیا۔
گھر کے اوپر والے کمرے میں اسود کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا۔
پردے کی ہلکی سی دراڑ سے اس نے باہر دیکھا۔
ہزاروں نظریں...
سینکڑوں کیمرے...
اور وہ لوگ جنہوں نے کل تک اس کے نام کے نعرے لگائے تھے۔آج اسی کے زوال کا انتظار کر رہے تھے۔ اس کے ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ ابھری۔تھوڑی دیر بعد وہ خود ہی ہنس پڑا۔
ایک ایسی ہنسی... جس میں خوشی نہیں تھی۔
صرف شکست تھی۔
"مجھے ہتھکڑی؟" وہ دھیرے سے بولا۔
"میں نے لوگوں کے ہاتھوں میں قلم دیے..."
"اور آج وہی لوگ میرے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔"
وہ آہستہ آہستہ کمرے میں چلنے لگا۔
"عجیب دنیا ہے..."
"جب طاقت ہوتی ہے تو سب جھکتے ہیں۔اور جب طاقت چلی جائے تو سب پتھر اٹھا لیتے ہیں۔" وہ آئینے کے سامنے رکا۔اپنے عکس کو دیر تک دیکھتا رہا۔
"یہ انجام نہیں ہونا چاہیے تھا۔"
"میرا نام عدالتوں میں نہیں تاریخ کی کتابوں میں ہونا چاہیے تھا۔" اس کی آنکھوں میں پہلی بار نمی چمکی۔
"میں مجرم ہو سکتا ہوں،
مگر تماشہ کبھی نہیں بنوں گا۔" باہر پھر آواز گونجی۔
"یہ آخری وارننگ ہے!"
"دروازہ کھول دیں !" اسی لمحے اس کا بیٹا سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر آیا۔
"بابا!"
"براہ کرم... دروازہ کھولیں !"
"سب ختم ہو جائے گا !"
"ہم... ہم کوئی راستہ نکال لیں گے !"
اندر مکمل خاموشی تھی۔
پھر...
'دھاں---!'
گولی چلنے کی آواز نے پورے گھر کو ہلا دیا۔چند لمحوں کے لیے وقت رک گیا۔باہر کھڑے رپورٹرز بھی ساکت رہ گئے۔ پولیس افسر نے فوراً حکم دیا۔
"دروازہ توڑو !"
"بابا!"عمرا ن پو ری طاقت سے دروازہ پیٹنے لگا
"بابا... پلیز!" پولیس نے کندھا مارا۔
ایک بار... دوسری بار... تیسری بار...
'دھڑام !'
دروازہ ٹوٹ کر اندر جا گرا۔
کمرے میں عجیب سی خاموشی تھی۔
صرف کھڑکی سے آتی ہوا پردوں کو ہلا رہی تھی۔
فرش پر خون پھیلا ہوا تھا،اور اس خون کے درمیان اسود ملک بے حس و حرکت پڑا تھا۔
اس کا چہرہ آسمان کی طرف تھا۔
---
آنکھیں آدھی کھلی ہوئی تھیں۔جیسے وہ اب بھی کسی کو گھور رہا ہو۔بیٹا وہیں گھٹنوں کے بل گر گیا۔
"بابا...?"اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
مگر جواب خاموشی نے دیا۔ پولیس والے چند لمحوں تک ساکت کھڑے رہےـ
---
دروازہ ٹوٹنے کے چند لمحوں بعد...
پولیس، فرانزک ٹیم اور میڈیا ایک کرکے کمرے میں داخل ہونے لگے۔کیمروں کی فلشیں مسلسل چمک رہی تھیں۔ ہر کوئی خون میں لت پت پڑے اسود ملک کی تصویر قید کرنا چاہتا تھا۔
انہی رپورٹرز کے درمیان...
ایک نوجوان بھی خاموشی سے اندر داخل ہوا۔
سادہ سیاہ شرٹ۔
گردن میں پریس کارڈ۔
چہرے پر کوئی ماسک نہیں تھا۔
سیاہ آنکھیں
صرف دائیں بھنو کے اوپر ایک پرانا سا کٹا ہوا نشان
جو شاید ہی کسی کی نظر میں آیا ہو۔وہ بھیڑ سے الگ ہوتا ہوا آہستہ آہستہ اسود کی لاش کے قریب جا کر رک گیا۔چند لمحوں تک بس اسے دیکھتا رہا۔
خون... خاموشی...
اور وہ آدمی... جس کے زوال کے لیے اس نے پندرہ سال انتظار کیا تھا۔ اس کے ہونٹ ہلکے سے ہلے۔
"ہمیشہ کی طرح..."
"تم نے پھر آسان راستہ چن لیا، اسودـ" وہ چند لمحے خاموش رہا۔پھر دھیرے سے بولا،
"میں تمہیں مارنا نہیں چاہتا تھا،
میں چاہتا تھا تم زندہ رہو۔"
"ہر اس لمحے کے ساتھ... جس نے میری زندگی چھینی تھی۔" اس نے نظریں جھکا کر خون میں بھیگی زمین کو دیکھا۔
"موت..."
"بہت سستا حساب ہے۔"
"دیکھنا" اصل سزا تو صبح آئینے میں اپنا چہرہ
اور اپنے گناہوں کے نتائج کو بھگتنا ہے۔
☆ ☆ ☆
مقام: جوائے ہوٹل
رات ڈھل چلی تھی ۔سڑکوں پر خاموشی تھی۔
مگر وفا کے اندر شور برپا تھا۔ گاڑی کب گھر کے باہر آ کر رکی،اسے خود بھی یاد نہیں رہا۔ آج اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔
آج صرف برف تھی ۔
سامنے شاہ زیب کھڑا تھا۔
یا وہاب...
یا فینٹم...
وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ آج اسے کس نام سے پکارے۔شیڈو خاموشی سے دروازے کے باہر کھڑا تھا۔وہ اندر نہیں آیا۔
کیونکہ آج یہ دو لوگوں کے درمیان کا حساب تھا۔
چند لمحے گزر گئےـ خاموشی دونوں کے درمیان دیوار بن کر کھڑی رہی۔
پھر وفا نے لب کھولے۔
"میں سوچ کر آئی ہوںـ" شاہ زیب نے آہستہ سے سر اٹھایا۔اس کی آنکھوں میں پہلی بار امید کی ایک مدھم سی کرن جاگی۔
"کیا سوچا؟"
اس کی آواز میں بے اختیار کپکپاہٹ تھی۔ وفا ایک قدم آگے بڑھی۔اب وہ اتنی قریب تھی کہ اس کی سانسوں کی آہٹ بھی سن سکتی تھی۔
وہی سانسیں...
جو بچپن کی راتوں میں اس کے ماتھے پر محسوس ہوتی تھیں۔
"میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔" وہ چند لمحے خاموش رہی۔
پھر اس نے کہا...
"میں تم سے نفرت کروں گی۔"
فضا جیسے ایک دم منجمد ہو گئی۔
شاہ زیب کی انگلیاں بے اختیار مٹھی میں سمٹ گئیں۔
مگر اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ آیا۔
وہ صرف اتنا بولا،
" کیا" پھر ہلکی سی سانس لی۔
"نفرت ہی تمہارا حق ہے۔"
وفا کے ہونٹوں پر ایک بے جان، تلخ مسکراہٹ ابھری۔
"حق؟" وہ آہستہ سے بولی۔
"تمہیں معلوم ہے سب سے بڑا ظلم کیا ہوتا ہے؟"
اس کی آواز آہستہ آہستہ بلند ہونے لگی ،یہ کہ نفرت کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔
"جب سامنے والا قاتل بھی ہو۔" وہ رک گئی۔
اس کی آواز ٹوٹنے لگی۔
"اور بھائی بھی"
شاہ زیب خاموش کھڑا رہا۔
وفا نے جیب سے ایک پرانی تصویر نکالی۔
وہی تصویر...
جس میں ایک ننھی سی وفا ہنس رہی تھی۔اور اس کے ساتھ ایک مسکراتا ہوا وہاب کھڑا تھا۔
وہ چند لمحے اس تصویر کو دیکھتی رہی۔
پھر اس نے اسے شاہ زیب کی طرف بڑھا دیا۔
"یہ کون ہے؟" اس کی انگلی تصویر پر ٹھہر گئی۔
"جواب دو..."
"یہ کون ہے؟" شاہ زیب نے تصویر کو دیر تک دیکھا۔ اس کی پلکیں بھاری ہو گئیں۔
اس نے لرزتے ہاتھ سے تصویر کو چھونا چاہا...
مگر خود ہی ہاتھ روک لیا۔ "یہ...."
وہ بمشکل بولا۔
"...کوئی اور تھا"
---
یہ سنتے ہی وفا کے اندر کچھ ٹوٹ گیاـ
"نہیں !"
وہ پہلی بار چیخی
"وہ کوئی اور تھا ۔ وہ پندرہ سال پہلے مر گیا تھا !" "اور تم..."
اس کی آنکھیں شاہ زیب پر جم گئیں۔
"تم اس کی لاش پر فینٹم کا ماسک پہن کر واپس آئے ہو !" ۔
کمرےمیں پھر خاموشی اتر آئی۔
وفا نے تصویر کو دیکھا۔
اس کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکااور تصویر پر گر گیا۔
اس نے آہستہ سے تصویر شاہ زیب کے قدموں میں گرادی۔
"رکھ لو..." اس کی آواز اب بالکل بے جان تھی۔
یہ تمہاری آخری یادگار ہے۔
"کیونکہ میرے لیےوہاب آج واقعی مر گیا ہے۔"
اس نے ایک قدم پیچھے ہٹایا۔
"اور آج کے بعدمیں صرف فینٹم سے نفرت کروں گی۔" شاہ زیب کی نظریں فرش پر پڑی تصویر پر جم گئیں۔ وہ آہستہ سے جھکا۔ تصویر کو دونوں ہاتھوں سے اٹھایا۔ اس پر پڑا وفا کا آنسو ابھی تک خشک نہیں ہوا تھا۔ اس نے بے اختیار اپنے انگوٹھے سے وہ آنسو صاف کرنے کی کوشش کی۔
مگر کاغذ پر بنا وہ دھندلا نشان باقی رہ گیا۔
وہ بہت دیر تک اسے دیکھتا رہا۔ پھر دھیرے سے بولا،
"تو کر لو۔" وہ چند لمحے خاموش رہا۔
پھر پہلی بار اس نے اس کا نام پورا لیا۔
"مگر ایک بات یاد رکھنا، وفا..." اس کی آواز میں عجیب سی تھکن تھی۔
"نفرت کرنے کے لیے بھی سامنے والے کا زندہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔" وہ ہلکا سا مسکرایا۔
وہ مسکراہٹ، جو حقیقت میں شکست تھی۔
"اورمیں تو پندرہ سال پہلے ہی مر چکا تھا۔"
یہ جملہ وفا کے دل میں تیر کی طرح اتر گیا۔
اس نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں۔
پھر انہیں کھولاـ
اب ان میں نہ سوال تھا...
نہ شکایت...
نہ امید...
صرف ایک فیصلہ۔
"اللہ حافظ..."
وہ رکی۔ پھر پہلی بار اسے اس کے نام سے پکارا۔
"شاہ زیب۔" اس نے "بھائی" نہیں کہا۔
اور شایدیہی اس کی سب سے بڑی سزا تھی۔
وہ مڑی اور بغیر پیچھے دیکھے کمرے سے باہر نکل گئی۔
دروازہ بند ہوگیا۔
ہر طرف خاموشی تھی۔شاہ زیب اب بھی وہیں کھڑا تھا۔ اس کی نظریں تصویر پر جمی تھیں۔ وہ آہستہ سے فرش پر بیٹھ گیا۔ تصویر کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ اور دیر تک۔
وہ کچھ نہ بولا۔
پھر اس کی بند مٹھی ڈھیلی پڑ گئی۔
اس نے تصویر کو دیکھا،
اور ٹوٹی ہوئی آواز میں سرگوشی کی،
"معاف کرنا ...."
اس کی پلکوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر تصویر پر گرا۔
آنسو صاف کرنے کے بعد نشا ن نہیں مٹتے۔وفا گاڑی میں بیٹھی تھی۔ اس کا سر اسٹیئرنگ پر جھکا ہوا تھا۔
وہ مسلسل ایک ہی جملہ دہراتی رہی تھی۔
"میں نفرت کرتی ہوں..."
"میں نفرت کرتی ہوں..."
"میں نفرت کرتی ہوں..."
مگر ہر بار...
اس کے دل کے کسی کونے سے ایک کمزور سی آواز ابھرتی...
"وہ تمہارا بھائی تھا..." وفا نے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ مگر دل کی آوازکبھی ہاتھوں سے نہیں رکتی۔ اور اس رات اسے پہلی بار احساس ہواکبھی کبھی نفرت محبت سے بھی زیادہ اذیت دیتی ہے۔
☆ ☆ ☆
وہ سنہری آنکھوں والی لڑکی اسی پارک میں، اسی بینچ پر بیٹھی تھی جس رات اسے اغوا کا پتہ چلا تھا۔ وہی بینچ جہاں بیٹھ کر وہاب نے اسے تسلی دی تھی۔ اس کے ہاتھ میں کائن کینڈی تھی۔ دو تین بچے۔ بھاگتے ہوئے آئے۔
"آپی! آپ نے کہا تھا کہ ہینسل اور گریٹل والی کہانی آج پوری کریں گے۔"
ہینسل اور گریٹل ۔اس نے بینچ پر ان بچوں کو جگہ دی۔
"اچھا سنو..." جب کئی سالوں بعد ہینسل اور گریٹل اس چڑیل کو چولہے میں دھکا دے کر آزاد ہوئے، تو اپنے گھر والوں کے پاس لوٹے تو وہ ویسے نہیں تھے جیسے وہ کچھ سالوں پہلے تھے۔
کچھ بدل گیا تھا۔" اس بینچ پر سایہ کرنے والے درخت کے پیچھے وہی سیاہ آنکھوں اور بھنو پر کٹ والا لڑکا کھڑا تھا۔ وہ اسے دیکھنے آیا تھا... کیونکہ اب شاید دوبارہ جدا ہونے کا وقت آنے والا تھا۔
"جب انہوں نے چڑیل کو مارا تھا تو انہوں نے اپنی معصومیت کھودی تھی۔ جو لوگ انتقام کی راہ پر نکلتے ہیں وہ بھی ویسے ہی اپنی معصومیت کھو دیتے ہیں۔"
اسے لگا شاید اسی کی بات ہو رہی ہے۔
"بچو! اس کہانی سے کیا سیکھا؟"
"کہ کبھی کبھی بدلہ لینے والا بھی اسی اندھیرے کا حصہ بن جاتا ہے جس سے وہ لڑ رہا ہوتا ہے۔"
ایک بچی بولی۔
وہ بچے تھے، وہ اتنی گہری بات کو کیسے سمجھ سکتے تھے۔ انہیں تو بس یہ جاننے میں دلچسپی تھی کہ آخر ہینسل اور گریٹل آزاد تو ہو گئے۔
جبکہ درخت کے پیچھے کھڑے لڑکے کی سیاہ آنکھیں گلابی ہو رہی تھیں،یوں جیسے اس کے دل پر جمی برف آہستہ آہستہ پگھل رہی ہو۔ اسی وقت وہی سیاہ آنکھوں والا لڑکا پارک سے باہر نکلتا دکھائی دیا۔
وفا کو لگا جیسے وہ کسی صدیوں پرانی کہانی کا کردار ہے۔
☆ ☆ ☆
پولیس اسٹیشن
رات پرانے پنکھے کی آواز خاموشی کو توڑ رہی تھی۔
تھانے میں موجود افسران ابھی بھی اسی کیس کی فائلوں میں الجھے ہوئے تھے۔
اچانک دروازہ کھلا۔ ایک حوالدار تیزی سے اندر آیا۔
"سرایک میل آئی ہے۔" سب انسپکٹر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
"کس کی؟"
"پتہ نہیں سر لیکن بھیجنے والے نے کہا ہے کہ یہ اسی شخص کے بارے میں ہے جسے آپ لوگ دن رات تلاش کر رہے ہیں۔" افسر نے فوراً لیپ ٹاپ کھولا۔
ای میل میں صرف ایک جملہ لکھا تھا:
"جس ڈرگ مافیا کو تم لوگ صبح شام تلاش کر رہے ہو۔میں اس کے خلاف تمام ثبوت اور اس کی اصل شناخت ظاہر کرنے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن مجھے سیکورٹی چاہیے۔" سب انسپکٹر کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
اس نے جلدی جلدی نیچے موجود فائلیں کھولیں۔
پہلا صفحہ
نام: فینٹم
اصل نام: وہاب عرف شہزیب
عرفیت: فینٹم
جرمائم:
ڈارک ویب کے ذریعے غیر قانونی نیٹ ورک چلانا
خطرناک نشہ آور گولیوں کی سپلائی
منظم جرائم کا سربراہ
پولیس افسر کی آنکھیں چند لمحوں کے لیے رک گئیں۔
"یہ... یہ وہی ہے؟" اس نے اگلا ڈاکومنٹ کھولا۔
یو-ایس-بی کی تفصیل درج تھی۔
اس میں موجود تھا:
۰خفیہ ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ
۰دھمکی آمیز پیغامات
۰چند اہم وائس ریکارڈنگز
۰رابطوں کی تفصیل
۰لوکیشن ٹریک کرنے کے لیے ایک نمبر
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
سب انسپکٹر نے آہستہ سے یو-ایس-بی میز پر رکھی۔
"اتنے سالوں سے جس سائے کو ڈھونڈ رہے تھے ۔وہ اتنا قریب تھا۔پھر اس کی آواز سخت ہو گئی۔
"ابھی اسی وقت "
وہ کھڑا ہوا۔
"وہاب عرف شہزیب جو بھی ہے، اس کے خلاف وارنٹ جاری کرواؤ۔" کمرے میں موجود سب افسر حرکت میں آگئے۔
کیونکہ آج پہلی بار
فینٹم
صرف ایک نام نہیں رہا تھا۔
آج وہ ایک شناخت بن چکا تھا۔
یہ تاریخ تھی:
7جولائی
۰آخری گواہ: مارگلہ شیڈو برج
"سر! اس کا نمبر ٹریس نہیں ہو رہا۔ شاید بند ہے۔"
"کوشش کرتے رہو۔ آخر کب تک وہ بچ پائے گا؟"
پچھلے 5 گھنٹوں سے اس کی لوکیشن ڈھونڈنے کی کوشش ہو رہی تھی۔ کمرے میں صرف کمپیوٹرز کی بیپ اور افسروں کی تھکی ہوئی سانسیں تھیں۔
اچانک ایک افسر پختے ہوئے اٹھا:
"سر! اس کی لوکیشن ٹریس ہو گئی ہے!" کچھ ہی دیر میں پولیس کی تمام گاڑیاں ایک نامعلوم مقام کی طرف روانہ تھیں۔ سائرن رات کا سینہ چیر رہے تھے۔
☆ ☆ ☆
مارگلہ شیڈو برج
مارگلہ کی پہاڑیوں کے سائے میں بنا ہوا ایک پرانا، خاموش پل...
نیچے گہرا سیاہ پانی بہتا تھا، جس پر رات کی روشنیاں ٹوٹے ہوئے آئینے کی طرح جھلملا رہی تھیں۔
لوگ کہتے تھے اس پل پر رات کے بعد صرف وہی آتے ہیں جن کے پاس چھپانے کے لیے راز ہوں...
یا جن کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہ بچا ہو۔
رات کے دو بجے، دھند میں لپٹا وہ پل ایک بار پھر گواہ بننے والا تھا...
کیونکہ آج وہاں فینٹم آنے والا تھا۔
☆ ☆ ☆
آسمان پر گہرے سیاہ بادل تھے۔ موسلا دھار بارش تھی جیسے آسمان خود رو رہا ہو، اور بارش کے بیچ، پولیس کی گاڑیوں کے گھیرے میںفینٹم کھڑا تھا یا شایدوہاب اس کے ہاتھ میں کچھ تھا۔ کچھ سرخ اور سفید سا اندھیرے کی وجہ سے صاف نظر نہیں آرہا تھا۔ سب کے ہاتھوں میں گن تھیں۔
"سر ندر کر دو! اب بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں!"*
ایک افسر گرجا۔
فینٹم نے سر اٹھایا۔ بارش اس کے چہرے پر تھپڑڑوں کی طرح پڑ رہی تھی۔
"live stream یہ
ہونی چاہیے... ورنہ تم مجھے نہیں پکڑ پاؤ گے۔"
اس کی آواز کانپ رہی تھی، مگر لہجے میں عجیب سکون تھا۔
کوئی حرکت نہیں ہوئی۔صرف تیز سانسوں کی آواز اور وہ ہاتھ میں گن لیے ایک مجسمہ سا کھڑا لڑکا۔
"جس طرح سکول میں میری پہلی ویڈیو بنائی تھی اب بھی بناؤ۔"
وہ چیخا۔ ایک افسر نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل پر ویڈیو آن کر دی۔
وہاب نے آہستہ سے ہاتھ چہرے سے ماسک ہٹایا۔ اس نے ہاتھ میں سرخ اور سفید ماسک تھا۔
بارش میں وہ بھیگ کر اور گہرا ہو گیا تھا۔
"جانتے ہو اس کا رنگ سرخ اور سفید کیوں ہے؟"
اس کی آواز لرز رہی تھی۔
"سفید اس لیے کہ کبھی میں وہاب تھا۔ سفید رنگ کی طرح بے داغ۔" پولیس والوں کو اس کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ بس اس طوفان میں اسے گرفتار کر کے لے جانا چاہتے تھے۔
فینٹم کی آنکھیں بند ہوئیں۔ ایک آنسو بارش میں گم ہو گیا۔
"پھر میں نے اپنے ہاتھ سرخ خون میں ڈبو لیے... اور میں فینٹم بن گیا۔"
انتقام کے خون سے_ نفرت کے خون سے۔ جیب سے لائٹر نکالا اور ماسک کو جلانے لگا۔اس نے
جب سرخ حصہ جل گیا تو اس نے ماسک کو نیچے پھینک دیا۔
"پر آج... آج میں ان دونوں کو ختم کر دوں گا"
نہ وہاب رہے گا نہ فینٹم۔
"ماں... آج میں خود کو چن رہا ہوں آج میں قسمت سے جیت جاؤں گا۔" اس نے سرگوشی کی۔
اس نے موبائل نکال کر نیچے رکھ دیا۔ویڈیو ابھی بھی ریکارڈ ہو رہی تھی۔جیب سے گن نکالی۔
اسکے ہاتھ کانپ رہےپر وہ خود نہیں تھا۔
"سب چھپ جاؤ!" ایک افسر نے حکم دیاسب گاڑیوں کے پیچھے چھپ گئے۔
تم نے سوچا میں پھر جیل جاؤں گا؟
نہیں ہرگز نہیں میں اس جہنم واپس نہیں جاؤں گا۔
وہ رویا نہی وہ بس تھک گیا تھا۔خود کو پولیس کے حوالے کر دو ورنہ مارے جاؤ گے۔ ایک پولیس افسر چیخا۔ تمہیں کیا لگا کہ میں زندہ ہوں۔
نہیں میں 15 سال پہلے ہی مر گیا تھا آج بس تدفین باقی ہے۔
وہ ہنساوہ ہنسی جس میں 15 سال کا درد تھا۔
وہ پوری زندگی اپنے فیصلے خود نہیں کر سکا۔ کبھی حالات نے اسے دھکیلا۔
کبھی نفرت نے۔
کبھی انتقام نے۔
اور کبھی اس نام نے جسے دنیا "فینٹم" کہتی تھی۔
ہر موڑ پر کسی نہ کسی نے اس کے لیے راستہ چن لیا۔
وہاب کب "فینٹم" بن گیا۔ وہاب کب "فینٹم" بن گیا،شاید اسے خود بھی یاد نہ رہا۔
پھر ایک دن پہلی بار زندگی نے اس کے سامنے دو راستے رکھے۔
ایک راستہ
جس کے آخر میں گھر تھا۔
خاندان تھا۔
اور شاید ایک معمولی سی زندگی بھی۔
دوسرا راستہ
جس کے آخر میں خاموشی تھی۔
وہ جانتا تھا کہ اگر وہ زندہ رہتا تو فینٹم کبھی نہیں مرے گا
اس کے دشمن، اس کے گناہ، اس کا ماضی...
ہر روز اس کے پیاروں کے دروازے تک پہنچیں گے
اس نے موت اس لیے نہیں چنی کہ وہ جینا نہیں چاہتا تھا۔اس نے موت اس لیے چنی
کیونکہ پہلی بار وہ اپنے چاہنے والوں کو جیتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا۔ پوری زندگی وہ اپنی مرضی سے کچھ حاصل نہ کر سکا، مگر آخری لمحے اس نے اپنی موت خود چنی۔اور شاید یہ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری فیصلہ تھا ۔
جو صرف وہاب نے کیا تھا، فینٹم نے نہیں۔
اس نے گن آسمان کی طرف کی اور فائر کر دیا۔
دھاں کی آواز گونجی اسی وقت پولیس کی ایک گولی آئی۔دھاں کی آواز اور گولی اس کی بائیں ٹانگ میں لگی۔اسے لگا جیسے کسی نے لوہے کی سلاخ اس کے گوشت میں پیوست کر دی ہو۔ وہ پل کی ریلنگ پر گر پڑا۔ درد نے اسے گرا کر رکھ دیا۔
اس نے بھاگنے کی کوشش نہیں کی، شاید پہلی بار زندگی میں وہ کسی سے نہیں، خود سے بھاگنا چھوڑ چکا تھا۔دوسری گولی سینے میں لگی ،دل کے پاس
اس نے بند ہوتی آنکھوں سے اپنی قمیض دیکھی۔
وہ سرخ ہو رہی تھی بالکل اس کے ماسک کی طرح۔
"تو... کیا یہی میرا انجام ہے؟" اس نے سوچا۔
پولیس اندھا دھند گولیاں چلا رہی تھی۔ اس کے جسم سے خون فوارے کی طرح نکل رہا تھا۔
درد تھا ۔بے انتہا درد۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔بارش اس کے زخم دھو رہی تھی۔ اس اس کی بصارت دھندلی ہو رہی تھی۔ ہیلی کاپٹر کی آواز، چیخیں، بارش کی آواز سب مدھم ہو گئی۔اسے اپنی ماں کی گود یاد آئی۔
ان کا ہاتھ اپنے سر پر محسوس ہوا۔وہاب بیٹا ڈرو نہیں میں ہوں نا ۔اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
"اللہ... مجھے معاف کر دینا..."اللہ کیا میرے لیے معافی ہے؟
ٹوٹے ٹوٹے الفاظ اس کے لبوں سے آزاد ہوئے۔
اسی وقت اس کے جسم نے آخری جھٹکا کھایا۔ اور وہ پل سے نیچے گر گیا۔
کانوں میں صرف ایک آواز تھی۔
"وہاب بھائی"
'ڈھپ'! دریایا کے پانی میں آواز آئی۔ سیاہ پانی نے اسے اپنی گود میں لے لیا۔ تھوڑی دیر لہروں میں ہلچل ہوئی۔اور پھر ایسی خاموشی چھا گئی جیسے اس دریا کی بے رحم لہروں نے ابھی ابھی کسی انسان کو نگل ہی نہ لیا ہو۔
پھر سب ختم۔ "مگر سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ اس بار فینٹم کے ساتھ وہاب بھی چلا گیا تھا۔"
اب کوئی بھی اسے دوبارہ نہیں دیکھ پائے گا۔
ویڈیو ریکارڈ ہوتی رہی۔ صرف بارش کی آواز۔
آدھا جلا ماسک اور خالی پل۔ اب کتاب کے اوراق جلتے ہیں میرے ہاتھوں میں اور ہر لفظ چیخ کے کہتا ہے۔ وہ لوٹ کر کبھی نہیں آئے گا۔
انتقام کی کہانیوں کی بھی کیا ہیپی اینڈنگ ہوتی ہے بھلا؟
☆ ☆ ☆
اگلے دن سوشل میڈیا پر صرف فینٹم کی وہی ویڈیو چل رہی تھی۔ ہر نیوز چینل پر وہی منظر تھا۔
مگر لوگوں کے لیے اس کی موت بس ایک ٹرینڈنگ کہانی تھی۔ گھر کی اسکرین پر بھی وہی ویڈیو چل رہی تھی۔
وفا ہلکی ہلکی کانپ رہی تھی اور پھر وہ پاگلوں کی طرح اونچی اونچی چیخنے لگی۔
"آج میں نے دوسری بار اپنے بھائی کو کھو دیا ہے۔"
غم کا پہاڑ اس پر ٹوٹ پڑا تھا۔
---
پولیس کی اطلاعات کے مطابق فینٹم کے پاس سے برآمد ہونے والے موبائل کی تفصیلات چیک کرنے سے پتہ چلا کہ فینٹم کے خلاف ٹپ دینے والا کوئی اور نہیں، وہ خود تھا۔ وہ ای میل بھی اسی موبائل سے بھیجی گئی تھی۔
"تم نے ایسا کیوں کیا؟" وفا رو رہی تھی۔
اس کے کانوں میں الفاظ گونج رہے تھے:
"وفا... پلیز فینٹم کو یاد مت رکھنا۔ اگر کبھی مجھے یاد کرنا ہے تو صرف وہاب کی صورت میں یاد کرنا۔"
☆ ☆ ☆
ایک اولڈ ایج ہوم کی شکستہ ہال دیوار پر لگے ٹی وی کے سامنے بیٹھے جہانگیر ٹی وی پر وہاب کے مرنے کی ویڈیو کو دیکھ رہے تھے۔ ان کے ہاتھ چکنائی سے بھرے برتن دھونے میں مگن تھے جیسے یہی ان کا روز کا کام تھا۔ گولیوں کی آواز سن کر ہاتھ میں موجود پلیٹ ٹہاہ کی آواز سے نیچے گر گئی۔
اے بوڑھے اگر کام نہیں ہوتا تو بتا دے۔
برتن توڑنے کی کیا ضرورت ہے۔
نہ _ نہیں ۔وہاب تو پہلے ہی مر گیا تھا۔
وہ اپنی تذلیل سے بے خبر خود کو تسلیاں دینے میں مصروف تھے۔ پھر اچانک وہ چیخنے لگے۔
وہاب، وہاب۔
کمرے کے دوسرے حصے سے ایک آدمی ہاتھ میں لوہے کی زنجیریں لے کر بھاگتا ہوا آیا۔ وہ جہانگیر صاحب کو زنجیروں میں جکڑنے لگا۔ امو کو کہو مجھے معاف کر دے۔ وہ بار بار یہی الفاظ دہرارہے تھے۔
جو لوگ اپنے جذبات میں آکر دوسروں کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں پھر قسمت ان کے ساتھ بھی کھیلتی ہے۔ بوڑھے کو کمرے میں بند کر دو اور 2
دن کھانا نہ دینا۔جیسے ہی چارلقمے کھا کر جان آئے چیخنے لگتا ہے۔ وہی زنجیروں والا شخص حکم دے رہا تھا۔
☆ ☆ ☆
فینٹم کی لاش کو دریا سے برآمد کرنے کی کوششیں جاری ہیں ،مگر اس رات کے طوفانی موسم کی وجہ سے امکان ہے کہ لاش کہیں بہ گئی ہو۔
فینٹم کی لاش کبھی نہیں مل پائی۔ شاید وہ ایسا ہی تھا۔ لوگ اس کے بارے میں اتنا ہی جان پائے جتنا وہ چاہتا تھا۔
شاید اس نے صرف موت کو ہی نہیں چنا تھا۔
اس نے اپنی موجودگی کا ہر نشان مٹا دینا چاہتا تھا۔
فینٹم نے کوئی ثبوت نہیں چھوڑا"
شاید اسی لیے آج تک کوئی نہیں جان پایا کہ وہ حقیقت میں کون تھا؟
وہاب؟ شاہزیب؟ ایس خان؟ یا فینٹم؟
☆ ☆ ☆
کچھ دن بعد وفا کو ایک سیاہ رنگ کا لفافہ موصول ہوا۔
اس کے اندر لکھا تھا:
"فینٹم اسما کا قاتل نہیں تھا۔"
"وہ اسے بھی اور تمہیں بھی کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔" میں نے اسے مجبور کیا تھا۔
*بھیجنے والے کا نام تھا: سا یہ
وفا کو یاد آیا کہ کیوں اسما کی ڈائری میں لکھا تھا کہ
ہر کہانی کے دو رخ ہوتے ہیں ایک وہ جو نمایاں ہوتا ہے اور دوسرا وہ جو کوئی نہیں دیکھنا چاہتا۔
---
اسماء کیس میں نئی اپڈیٹس:
نامعلوم ذرائع سے موصول ہونے والی فوٹیج کے مطابق وزیر تعلیم اسود ملک کا بیٹا عمران ملک بھی اس کیس میں شامل ہے۔
جہانگیر ہاؤس میں ٹی وی فل والیم پر چل رہا تھا۔
---
اسماء کے قتل والی رات:
کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔
صرف لیپ ٹاپ کی نیلی روشنی چار نوجوان چہروں پر پڑ رہی تھی۔ ان میں سے ایک لڑکا عمران تھا۔
کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ دوسرے کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے۔ اسکرین پر ویڈیو ختم ہوئی۔
چند لمحوں تک مکمل خاموشی چھائی رہی۔
آخرکار ایک لڑکے نے گہرا سانس لیا اور لیپ ٹاپ بند کر دیا۔
"ہو گیا..."اس کی آواز میں اطمینان نہیں، بلکہ خوف تھا۔ ایک لڑکی نے لرزتے ہوئے پوچھا،
"لوگ... یقین کر لیں گے نا؟"
"کرنا پڑے گا۔" دوسرے لڑکے نے خشک لہجے میں جواب دیا۔
"لیکن... اگر کسی کو اصل ویڈیو مل گئی تو؟" اس سوال پر سب کے چہرے ایک دوسرے کی طرف اٹھ گئے۔ کمرے کے کونے میں کھڑا نوجوان آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھا۔ اس کی نظریں ٹھنڈی تھیں۔
"اصل ویڈیو اب کسی کے پاس نہیں ہے۔
اور اگر،اگر کچھ بھی ہوا..." اس نے بات کاٹ دی۔
" تو ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا۔" کمرے کا درجہ حرارت جیسے اچانک گر گیا۔ ایک لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
"ہم نے ایک بے گناہ کو قاتل بنا دیا۔" کسی نے جواب نہیں دیا۔ وہ کانپتی آواز میں بولی،
"وہ قاتل نہیں تھا۔"
خاموشی
اتنی گہری کہ سب کو اپنی دھڑکنیں سنائی دینے لگیں۔
کونے میں کھڑا نوجوان آہستہ سے بولا،
"یہ فیصلہ ہمارا نہیں تھا۔مگر ویڈیو تو ہم نے بدلی ہے۔ ہم نے صرف وہی کیا جو ہمیں بچا سکتا تھا۔"
"اور اگر ہم نہ کرتے؟" اس کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ ابھری۔
"تو آج ہماری تصویریں بھی کسی فائل میں بند ہوتیں۔" سب کے چہرے زرد پڑ گئےـ
اسی لمحے لیپ ٹاپ سے ایک ہلکی سی آواز آئی۔
اسکرین پر نئی فائل نمودار ہوئی۔
Final_Edit.mp4
سب کی نظریں اسی نام پر جم گئیں۔
کسی نے اسے کھولنے کی ہمت نہ کی۔
آخرکار عمران مڑا اور دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے دھیرے سے بولا،
"کل سے پوری دنیا ایک بے گناہ سے نفرت کرے گی۔اور اصل قاتل پہلے سے زیادہ محفوظ ہو جائے گاـ" دروازہ بند ہوا۔
اور کمرے میں پھر صرف خاموشی رہ گئی۔
---
ثبوت کی تبدیلی
رات کے دو بج رہے تھے۔
سا راشہر سو چکا تھا۔ مگر سنٹرل پولیس اسٹیشن کے عقبی دروازے پر ایک سیاہ گاڑی آکر رکی۔
دروازہ آہستہ سے کھلا۔تین نوجوان چہروں پر ماسک چڑھاۓ اندر داخل ہوئے۔
استقبالیہ خالی تھا۔
صرف دور کہیں گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔ایک شخص پہلے ہی ان کا انتظار کر رہا تھاـ
اس نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی، مگر ٹوپی اس کے چہرے پر سایہ کیے ہوئے تھی۔
"تم لوگوں کے پاس صرف دس منٹ ہیں۔" اس نے سرد لہجے میں کہا۔
"اس کے بعد یہ کمرہ دوبارہ سیل کر دیا جائے گا۔"
اس نے جیب سے چابی نکالی۔
Case#4731 والے لاکر کا دروازہ کھلا۔
اندر شفاف ثبوتی تھیلی میں بند ایک ٹوٹا ہوا بریسلیٹ رکھا تھا۔ ایک لڑکی نے بے اختیار سرگوشی کی،
"... یہی ہے۔" بریسلیٹ نکالا گیا۔ لیپ ٹاپ پر باریک تار جوڑی گئی۔چند لمحوں بعد اسکرین پر ایک ویڈیو نمودار ہوئی۔کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
ویڈیو چلنے لگی:
اسماء کرسی سے بندھی ہوئی تھی۔
"اس لڑکی کو کیوں اٹھا لائے ہو؟ میں نے تمہیں پلوشہ کو لانے کو کہا تھا!" عمران غصے سے گرجا۔
"یار اسی وقت پلوشہ بھی اسی ہوٹل میں آئی تھی اور وہ بھی اسی کے ہلکے رنگ کے کپڑوں میں تھی ۔ہم کنفیوز ہو گئے اور چہرہ دیکھے بغیر اسے اٹھا لائے۔"
علی بولا۔
"علی، لڑکی کو ہوش آرہا ہے۔" ویران، ٹوٹی پھوٹی عمارت میں ایک طرف سے پانی ٹپک رہا تھا۔
ٹپ... ٹپ... ٹپ...
"تو تمہیں ہوش آگیا؟" عمران منحوس آواز میں بولا۔
"میں کہاں ہوں؟" اسماء خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔
"مجھے جانے دو۔ میں۔" اسی وقت رنگے ہوئے بالوں والی لڑکی نے اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔
"عمران! کیا کریں؟"
"ابا کی نئی ڈیجیٹل اسکول سسٹم والی سکیم شروع ہونے والی ہے۔اگر اس لڑکی کے اغوا میں میری موجودگی کا کوئی ثبوت نکل آیا اور ابو کو کوئی سکینڈل فیس کرنا پڑا تو میری خیر نہیں۔" عمران کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی۔
"اب ایک ہی حل بچا ہے..." علی بولا۔ سب نے اس کی طرف دیکھاـ
"یہ لڑکی اب دوبارہ دنیا کے سامنے نہ جائےـ"
کیا مطلب ہے تمہارا؟۔
"اسے مار دینا چاہیے اور ثبوتوں کو فیبریکیٹ کر کے خودکشی کی شکل دے دیتے ۔" عمران سفاکیت سے بولا۔
"نہیں! ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ تمہارے ابا کی عزت بچانے کے لیے کسی انسان کی قربانی دینا مناسب نہیں ہےـ" حمزہ نے انہیں جگانے کی کوشش کی۔
"تو پھر کیا کریں؟ اسے جانے دیں اور ہم سب مصیبت میں آجائیں؟"
عمران چیخا۔
حمزہ خاموش ہو گیا۔وہ بھی اپنے والدین کی شان پر داغ نہیں لگنے دے سکتا تھا۔پھر انہوں نے اس کا گلا گھونٹ دیا۔اسماء چیخنے کی کوشش کر رہی تھی۔
جب انسان حیوانیت پر آجائے تو پھر بے قابو ہو جاتا ہے۔
اسے اسماء کا گلا گھونٹنے ہوئے ذرا بھی ترس نہیں آیا۔
وہ تو حیوان تھا، جو اپنا جرم چھپانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھا۔
پھر ان سب نے اسےجوائے ہوٹل کے اسٹور میں پنکھے کے ساتھ لٹکا کر خود کو بچا لیا تھا،پر کوئی بھی جرم سدا نہیں چھپ سکتا۔وہ پھر سے اسی ایویڈنس روم میں تھے۔ایک لڑکے نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
"ہم یہ نہیں کر سکتے..."حمزہ کی آواز کانپ رہی تھی۔
"یہ غلط ہے۔"
کونے میں کھڑے عمران نے سخت لہجے میں کہا،
"اب بہت دیر ہو چکی ہے۔"
"مگر وہ بے گناہ ہے۔"
"بے گناہ؟"اس نے تلخ ہنسی ہنسی۔
"اگر آج وہ نہیں پھنسے گی۔ تو کل ہم سب مریں گے۔" کسی نے مزید بحث نہ کی۔
لڑکی نے آنکھیں بند کیں اور کی بورڈ پر انگلیاں رکھ دیں۔
چند منٹ بعد...
اصل ویڈیو کی جگہ ایک نئی فائل تیار تھی۔اس میں چند مناظر غائب تھے۔کچھ آوازیں بدل دی گئی تھیں۔
اور آخر میں صرف اتنا چھوڑا گیا تھا کہ دیکھنے والا ایک ہی نتیجہ نکالے۔قاتل وہی سرخ و سفید ماسک والا تھا۔عمران نے گہرا سانس لیا۔
"ہو گیا۔"اس نے اصل فائل حذف کرنے کے لیے کرسر بڑھایا۔مگر انگلی ایک لمحے کو رک گئی۔
"معاف کرنا۔"اس نے بمشکل سرگوشی کی۔پھر ایک کلک...
اور اصل سچ اسکرین سے غائب ہو گیا۔
ترمیم شدہ ویڈیو دوبارہ برسلٹ کے اسٹوریج میں محفوظ کر دی گئی۔برسلٹ احتیاط سے ثبوتی تھیلی میں واپس رکھا گیا۔تھیلی دوبارہ سیل ہوئی۔پولیس والے نے گھڑی دیکھی۔
"تمھارا وقت ختم ہو گیاَ۔"تینوں نوجوان خاموشی سے باہر نکل گئے،پر وہ بے خبر تھے کہ حمزہ کے پاس اصل ویڈیو موجود تھی۔دروازہ بند ہوا۔
اور ثبوتوں کا کمرہ ایک بار پھر خاموش ہو گیا۔
جیسے یہاں کبھی کوئی آیا ہی نہ ہو۔
بریکنگ نیوز
سابق وزیر تعلیم اسود ملک کے بیٹے عمران ملک اور اس کے دوستوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔وفا کے ہاتھ سرد تھے اور آنکھوں سے مسلسل پانی رواں تھا۔
"کاش میں نے اس پر الزام لگانے کی بجائے اس کی بات سن لی ہوتی۔"
وفا کانپ گئی۔
اس نے زندگی میں بہت گناہ کیے تھے پر ہمیشہ سزا اسے ناکردہ گناہوں کی ملی۔کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں وہ بس خاموش ہو جاتی ہیں۔بس یاد رہ جاتے ہیں کچھ لوگ مرتے نہیں۔
وفا نہیں...
بلکہ وہاب کی بہن امل ا سی پل کے کنارے کھڑی تھی جس کے ظالم پانی نے اس کے بھائی کو نگل لیا تھا۔ وہ آج پھر مارگلہ شیڈو برج پر آئی تھی۔
اس پر جہاں ایک کہانی نے آخری سانس کی تھی۔
بارش تھم چکی تھی پر طوفان ابھی بھی تھا۔
"بھائی... "
پلیز مجھے معاف کر دیں۔
"یہ لوگ مرنے کے بعد کیوں معافیاں مانگتے ہیں؟"
کسی زندہ انسان کو خوشی کے دو پل کیوں نہیں دے پاتے؟۔
"بھائی... میں آپ سے نفرت نہیں کرتی۔ میں نے جھوٹ کہا تھا۔"بھائی پلیز واپس آ جائیں۔میں آپ کو بہت یاد کرتی ہوں۔
بھائی آپ نے سچ کیوں نہیں کہا؟
آپ نے صفائی کیوں نہیں دی ۔اس نے پل کی ریلنگ پر ایک سفید پھول رکھا،اور بولی الوداع وہاب۔وہ پانی کی لہروں سے سرگوشیاں کر رہی تھی۔
آنسو اس کی آنکھوں سے رواں تھے۔اب صرف پچھتاوا باقی تھا۔
اپنے محافظ سے منہ موڑ لینے کا پچھتاوا۔
اس نے پل کی ریلنگ پر ایک سفید پھول رکھا اور بولی الوداع وہاب۔
"کچھ لوگوں کو مر ہی جانا چاہیے۔
ورنہ روز لوگوں کی باتیں، طعنے اور نفرت اگلتی زبانیں انہیں پل پل مار دیتی ہیں۔"
*"ختم شد "*
سائن ان کریں بات چیت میں شامل ہونے کے لیے۔
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنی رائے دینے والے پہلے فرد بنیں۔