باب نمبر ایک
گرمی کے موسم کی وہ ایک حبس زدہ دوپہر تھی۔ گرمی اپنے جوبن پر تھی۔ ہر ذی روح گرمی سے نڈھال تھی۔
ایسے میں اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں تھا۔ ہر کوئی اپنے کام میں مصروف نظر آتا تھا۔ بلا ضرورت کوئی بھی گھر سے باہر نہیں نکل رہا تھا۔ ایسے میں ایک سڑک کے کنارے میں بنے پارک میں آتے، تو وہ بھی سنسان تھا۔ اگر غور سے دیکھو تو اس کے کنارے پر تم کو ایک لڑکی بنچ پر بیٹھی دکھائی دے گی۔ پورے پارک میں اس کے علاؤہ کوئی دکھائی نہیں دیتا تھا۔
ایسا لگتا تھا گرمی اس پر اثر ہی نہیں کر رہی تھی۔ سورج کی جھلسا دینے والی دھوپ، اس کے سر اور کمر پر پڑ رہی تھی لیکن وہ اِس سے بے نیاز تھی۔ اس کی رنگت سفید تھی۔ اس کی آنکھیں سنہری اور نقوش خوبصورت تھے۔ اس نے چہرے پر ہلکا سا میک اپ کیا تھا جو اسے مزید خوبصورت دکھا رہا تھا۔ اس کے بھورے لمبے بال کمر پر گر رہے تھے۔اس نے کالے رنگ کی فراک اور کالے رنگ کا ہی پاجامہ پہنا ہوا تھا۔اس کے چہرے پر بے یقینی واضح تھی۔ شاید وہ کسی صدمے کا شکار تھی۔
اس کی نظریں بائیں ہاتھ میں پہنی اپنی انگوٹھی پر تھی۔
پھر اس نے نظریں اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔ اس کے اندر پچھتاوے کی لہر اٹھی۔
"کاش میرے ساتھ اتنا برا نہ ہوتا! کاش میں باغی نہ بنتی! کاش میرے ساتھ محبت کے نام پر اتنا بڑا دھوکا نا کھیلا جاتا، لیکن کیا واقعی میں دھوکا صرف محبت کے نام پر دیا گیا تھا؟ مجھے تو دھوکا دوسرے رشتوں کے نام پر بھی دیا گیا تھا۔"
اس کی سوچیں ہنوز جاری تھیں۔
***************************
ہر سو اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ رات کے اندھیرے میں اسلام آباد کی سڑکیں اور گلیاں سنسان تھیں۔ اسلام آباد کی ایک کالونی میں آتے تو وہاں بھی رات کا اندھیرا ہر سُو پھیلا تھا۔ اس کالونی میں بنے ایک بنگلے میں آئے، تو وہاں پر سناٹا چھایا تھا۔ گھر میں موجود سب افراد بستر پر لیٹے سو رہے تھے، مگر ایک بیڈروم ایسا تھا جہاں پر کوئی ابھی تک اٹھا تھا۔ اس کمرے سے ہچکیاں باندھ کر رونے کی آواز آ رہی تھی۔
اس کمرے میں جھانکو تو ایک لڑکی زمین پر بیٹھی رو رہی تھی۔ وہ کچھ اس طرح بیٹھی تھی کہ بیڈ کی پائنتی سے ٹیک لگی ہوئی تھی جبکہ چہرے کا رخ اوپر چھت کی جانب تھا۔ بیڈ کے پاس پڑے ٹیبل لیمپ کی روشنی سیدھا اس کے منہ پر پڑ رہی تھی۔ اس کی سنہری آنکھیں زیادہ رونے کی وجہ سے سوجی ہوئی تھیں۔ اس کی رنگت گندمی تھی جبکہ چہرے پر انگلیوں کے لال نشان واضح تھے۔ اس کے نقوش صاف تھے۔ اس کے لمبے کالے بال آبشار کی مانند بیڈ کے گدے پر گرے ہوئے تھے۔ گلابی رنگ کی شلوار قمیض پہنے وہ غمگین تھی۔ ایسا لگ رہا تھا وہ کب سے رو رہی تھی۔
وہ کب سے اسی طرح بیٹھی ہوئی تھی۔ اب اس کے جسم میں درد ہونا بھی شروع ہوگیا تھا۔ وہ سیدھی ہوئی اور بڑی بے دردی سے اپنے آنسوؤں کو ہاتھ کی پشت سے رگڑا۔ پھر وہ ہمت کرتی اٹھی اور کمرے کے اس کونے میں گئی جدھر ایک موبائل ٹوٹ کر بکھرا ہوا تھا۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھی اور ان ہی ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا اٹھا لیا۔ وہ ٹکڑا موبائل کی اسکرین کا لگتا تھا۔ وہ ایک بار پھر کھڑی ہوئی۔ اب اس کا رخ باتھ روم کے دروازے کی جانب تھا۔ اس نے باتھ روم کا دروازہ کھولا اور بلب جلایا۔ پورا باتھ روم روشنی سے نہا گیا۔ اس کی نظر سامنے واش بیسن کے اوپر لگے آئنے پر تھی۔ اسے اپنا عکس صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ آگے آئی اور آئنے کے بلکل سامنے جھک کر اپنے چہرے پر موجود تھپڑ کا نشان دیکھا۔ پھر اس نے ایک نظر اپنی بند مٹھی کو دیکھا جس میں موبائل کا ٹکڑا تھا، پھر دوبارہ اپنے چہرے کو۔۔۔۔
وہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھی۔ اسی ذہنی رو میں اس کے کانوں میں ماضی کی آوازیں گونجنے لگی۔ سنہری آنکھوں میں کرب اترا۔ اس نے اپنی مٹھی اتنی سختی سے بھینچی کہ موبائل کا ٹکڑا اسے چبھنے لگا۔ اسے ان آوازوں سے چھٹکارا چاہیے تھا مگر آوازیں بند نہیں ہورہی تھیں۔ اس نے مٹھی کھول کر اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں پر رکھ دیا۔ لیکن آوازیں تھیں کہ دم توڑنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ واش روم کے فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔ ہاتھوں سے کانوں کو ڈھانپے وہ اپنا سر نفی میں ہلا رہی تھی۔
لبوں سے بس یہی نکلا۔
"خاموش ہو جاؤ۔۔۔۔"
****************************
رات ہو رہی تھی۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ گلی میں لگے اسٹریٹ پولز کی روشنی اس کمرے کی کھڑکی سے اپنی جگہ بناتی آ رہی تھی۔ اسی روشنی نے کمرے کو دیکھنے کے کچھ قابل بنایا ہوا تھا۔ اس دھیمی روشنی میں کمرے کی حالت بکھری لگتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے کمرے میں کچھ دیر پہلے طوفان آیا ہو۔ طوفان تو ویسے آیا تھا جس نے کسی کی زندگی کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ وہ طوفان بیڈ پر لیٹی لڑکی کی زندگی میں آیا تھا۔ اس نے اسکن رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا جس پر مختلف رنگوں سے کڑھائی ہوئی تھی۔ بیڈ کے پاس اسکن ہیل کی جوتی الٹی پڑی تھی۔ لڑکی کچھ اس طرح لیٹی تھی کہ اسکی کمر بیڈ پر جبکہ اس کے پاؤں زمین پر لٹک رہے تھے۔ وہ اپنے دوپٹے کے اوپر لیٹی تھی جو ابھی تک اس کے بالوں میں اٹکا تھا۔
اس کی آنکھیں بند تھیں۔ کھڑکی سے آتی گلی کی روشنی اس کی سانولے چہرے کو مزید سانولا دکھا رہی تھی۔ اس نے آنکھ کھولیں، تو اس کی بھوری آنکھیں روشنی کی وجہ سے چمک گئیں۔
چند لمحے وہ کمرے کی چھت کو دیکھتی رہی۔ پھر اس نے اپنے آپ کو اٹھ کر بیٹھتے ہوئے محسوس کیا۔ پھر اس نے اپنے پاؤں کمرے کے فرش پر رکھے۔ پھر وہ اٹھ کر سنگھار میز کی طرف قدم بڑھانے لگی۔ وہ سنگھار میز کے آئنے کے عین سامنے کھڑی تھی۔ اس کا عکس اتنی کم روشنی میں بمشکل دکھائی دیتا تھا۔
وہ خود کو عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کا میک اَپ اب خراب ہوچکا تھا۔ اس کی نظر اپنے دوپٹہ پر گئی جو ابھی تک اس کے بالوں میں اٹکا ہوا تھا۔ اس نے اپنے دوپٹے کو کنارے سے پکڑا اور ایک جھٹکے سے کھینچ لیا۔ ڈوپٹہ تھورا سا پھٹ گیا تھا لیکن فکر کس کو تھی؟
اس نے دوپٹہ زمین پر پھینک دیا۔ پھر اپنے بالوں میں موجود پن اتارنے لگی۔ کچھ دیر بعد وہ ساری ہیئر پن اتار چکی تھی۔ اسکے بال کسی بھی قسم کے اسٹائل سے آزاد تھے۔
پھر اس نے اپنے کانوں میں لگے سنہری رنگ کے جھمکوں پر ہاتھ پھیرا۔ اس نے ان کو اتارا اور جارہانہ انداز میں پھینک دیا۔
اب اس نے اپنے گردن میں پہنے سنہری رنگ کے نیکلس پر انگلیاں پھیری۔ پھر بے دردی سے اس کو کھنچا۔ اس کی گردن میں خراش آئی تھی۔ اس کا نیکلس بھی ٹوٹ گیا
تھا لیکن پروا کس کو تھی!
اس نے اپنا ہاتھ کی پشت ہونٹوں پر رکھی، لپ اسٹک لگے ہونٹوں کو رگڑا۔ اس کی لپ اسٹک چہرے پر پھیل رہی تھی مگر اس کا ہاتھ نہیں رکا۔
تھوڑی دیر بعد اس کا اپنے ہونٹوں کو رگڑتا ہاتھ رک گیا۔
اس نے اب دوبارہ اپنے سراپے کو دیکھا۔ اس کو دیکھ کر صرف ایک لفظ ذہن میں آتا تھا "اجڑنا"۔ وہ اپنے عکس کو دیکھتی عجیب طریقے سے مسکرائی۔
اپنے عکس کو دیکھتے دیکھتے جب وہ تھک گئی تو اس نے آئنے سے منہ موڑ لیا اور سارا وزن میز پر ڈال کر کمر کا سہارا لیتے ہوئے زمین پر بیٹھ گئی۔ اس نے سنگھار میزسے ٹیک لگا لی۔ چھوٹے بالوں والی لڑکی نے اپنے پاؤں فولڈ کرکے اپنے سینے سے لگا لیے اور سر گھٹنوں پر رکھ دیا۔ اس کا منہ چھپا ہوا تھا لیکن سسکیاں ابھرنے کی آواز آ رہی تھیں۔ وہ رو رہی تھی۔ سسکیوں کی آواز آہستہ آہستہ تیز ہورہی تھی۔ یہاں تک کہ اس کی آواز کمرے سے باہر جانے لگی۔ اس کے پاس آج رونے کے لیے بہت کچھ تھا۔
************************
صبح کی ٹھنڈی ہوا اپنی راحت اور ٹھنڈک بکھیرتی ہر سو پھیل رہی تھی۔ یہ ہوا مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی اسلام آباد کے ایک پوش علاقے سے بھی گزری۔ کالونی میں بنے بنگلوں میں سے ایک بنگلے کی طرف بڑھتے، تو اس کا گیٹ بھورا تھا۔ بھورے گیٹ کے کھلتے ہی پورچ دکھائی دیتا، جس کا فرش چپس کا تھا۔ پورچ میں اس وقت دو گاڑیاں کھڑی تھیں۔ اس کے بائیں طرف لان تھا۔، جس کے کناروں میں مختلف قسم کے پھول اور پودے تھے جبکہ درمیان کے حصے میں سبز گھاس اگی تھی۔ گاڑیوں سے ذرا آگے آئیں، تو گھر کے اندر داخل ہونے کے لیے بھورے رنگ کا دروازہ لگا ہوا تھا۔
اس کو کھول کر اندر آؤ، تو سامنے ایک راہداری تھی جس کے دیوار اور فرش سفید رنگ سے رنگے تھے۔ راہداری سے چلتے ہوئے دائیں طرف ایک دروازہ تھا جس میں داخل ہو کر ڈائننگ ہال آتا تھا۔اس کے فرش پر سفید رنگ کی چمکتی ہوئی ٹائلز لگی تھیں۔ دیواروں پر سفید رنگ کا روغن ہوا تھا۔ ڈائننگ ہال کے درمیان میں ڈائننگ ٹیبل رکھی ہوئی تھی، جو بھورے رنگ کی تھی۔ اس کے ساتھ رکھی کرسیوں کا رنگ بھی بھورا تھا۔ ڈائننگ ٹیبل کے عین اوپر فانوس لگا ہوا تھا، جس میں سفید رنگ کے موتی، لڑیوں کی صورت میں لٹکے ہوئے تھے۔
ڈائننگ ٹیبل کی سربراہی کرسی پر ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھے دکھائی دیتے تھے۔ وہ اخبار پڑھ رہے تھے۔ وہی اس وقت اس گھر کے مکینوں میں سب سے زیادہ پر سکون دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے سفید رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی جس پر نیلے رنگ کی دھاریاں تھیں۔ اس کے اوپر انہوں نے ایک کالے رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا جو ان پر بہت اچھا لگ رہا تھا۔ ان کے نقوش اپنی جوانی جیسے وجہیہ تھے۔ ان کے بال مکمل طور پر سرمئی تھے۔ سیدھے ہاتھ میں گھڑی پہنی ہوئی تھی۔
وہ اشفاق احمد تھے۔
ان کے سامنے میز پر خالی پلیٹیں پڑی ہوئی تھیں۔ ان کا ناشتہ ابھی تیار نہیں ہوا تھا۔ ڈائننگ روم کے دائیں جانب ایک دروازہ تھا جو کچن کا تھا۔ کچن میں سے کھانا پکنے کی خوشبو پورے ڈائننگ ہال میں پھیلی ہوئی تھی۔
ایسے میں ایک اٹھارہ سالہ لڑکی ڈائننگ روم میں داخل ہوئی۔ اس نے لال رنگ کی فراک اور اسکن رنگ کا پاجامہ پہنا ہوا تھا۔گردن پر اس نے اسکن رنگ کا ڈوپٹہ لٹکایا ہوا تھا۔ اس کی رنگت گہری سانولی، نین نقش پرکشش اور آنکھیں بھوری تھیں۔ اس کے بال کندھوں تک با مشکل آتے تھے۔
اس کے کندھے پر بیگ اور ہاتھ میں چند کتابیں تھیں۔ وہ اشفاق صاحب کی بائیں جانب والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
اس نے پہلے میز کو دیکھا جس میں خالی پلیٹیں پڑی تھیں اور پھر اشفاق صاحب کو، اس کے بعد اونچی آواز میں بولی۔
"پرانے وقتوں میں جب شوہر کھانا کھانے کے لیے میز پر بیٹھتے تھے، تو اگلے ہی لمحے اِن کی بیویاں ان کے سامنے دس طرح کے کھانے رکھ دیا کرتی تھیں، لیکن آج کل کی عورتوں سے تو دو وقت کی ہانڈی نہیں پکتی۔"
لڑکی کی آواز کچن میں پہنچ چکی تھی۔
"پرانے زمانے کی مائیں بھی اپنی بگڑی اولاد کو سدھارنے کے لئے ان کے سر پر بیلن مارتی تھیں!"
لڑکی کی بات پر کچن سے جواب آیا۔
لڑکی نے اپنا ہاتھ سینے سے لگایا اور اشفاق صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے صدمے سے بولی۔
"بابا! دیکھ رہے ہیں آپ! آج آپ کے سامنے آپ کی بیوی مجھے دھمکی دے رہی ہیں۔ سوچیں آپ جب کام پر جاتے ہونگے، تو میرا کیا حال ہوتا ہوگا!"
اس کی ڈرامائی شکایت سن کر اشفاق مسکرا دیے۔
"اپنی ماں کو تنگ نہ کرو ، جائی یانہ!"
اشفاق نے لڑکی کو ٹوکا۔
جس پر جائی یانہ منمنائی۔
"میں نے کیا کیا ہے؟"
اتنی دیر میں کچن سے ایک سنہری آنکھوں والی لڑکی باہر نکلی۔ اس نے ایپرن پہنا ہوا تھا۔ اس کی رنگت گندمی تھی اور نقوش وجیہہ تھے۔ کالے بال چٹیا میں گوندھے ہوئے تھے۔اس کے ہاتھ میں آملیٹ کی پلیٹ تھی جو اس نے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے اشفاق صاحب کے سامنے رکھ دی۔
"شکریہ عزاہ بیٹا!”
عزاہ یہ سن کر مسکرائی، پھر واپس مڑ گئی۔ جائی یانہ نے اسے پیچھے سے آواز دی۔
"میرا بھی ناشتہ لا دیں بجو!! کب سے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔ اب تو ایسا لگ رہا ہے میرے پیٹ میں دوڑتے چوہے بھی بھوک کی شدت سے ہلاک ہو گئے ہیں۔"
اس نے آخری بات اپنا پیٹ پکڑ کر بولی۔
"تمہارا ناشتہ آ رہا ہے۔ اتنا بے صبرا پن اچھا نہیں ہوتا!"
عزاہ بغیر مڑے بولتی ہوئی دوبارہ کچن میں چلی گئی۔
"آج آپ کا یونیورسٹی میں پہلا دن ہے۔ کیسا لگ رہا ہے؟"
اشفاق صاحب نے اخبار پڑھتے ہوئے سرسرا سا پوچھا۔
"میں تو بہت ایکسائیٹڈ ہو۔ رات سے اس بارے میں سوچ رہی ہوں۔ آج میرے بی بی اے کے فرسٹ سمیسٹر کا پہلا دن ہے۔ آپ تو جانتے ہیں مجھے بزنس پڑھنے کا کتنا شوق تھا!"
"دن میں ہزار دفعہ تو سب کو اپنے شوق بتاتی ہو۔ بھلا کوئی انجان ہو سکتا ہے؟"
عزاہ کچن میں سے آتتے ہوئے بولی۔ اس کے ہاتھوں میں ڈبل روٹی اور مکھن تھا۔
"اس بات سے تو میں بھی متفق ہوں۔"
اشفاق صاحب نے بھی بیچ میں لقمہ دیا۔ عزاہ نے میز پر سامان رکھا اور ایک فاتحانہ نظر جائی یانہ پر ڈالتے واپس کچن کی طرف مڑ گئی۔ جائی یانہ تلملا گئی۔
“بابا آپ بھی بجو کا ساتھ دے رہے ہیں!"
جائی یانہ نے منہ بنایا۔
"ایک تو میں نے آواز لگا کر آپ کی بیگم کو آپ کے ناشتہ کا ہوش دلایا ہے، ورنہ آپ کو آج کی تاریخ میں ناشتہ نہ ملتا لیکن آپ ہیں کہ بجو کی سائیڈ لے رہے ہیں۔ جائیں میں آپ سے ناراض ہوں۔"
جائی یانہ نے آخری بات کہہ کر اپنے چہرے کا رخ موڑ لیا۔
"اچھا آپ ناراض تو نہ ہو۔ میں تو مزاق کر رہا تھا۔”
اشفاق صاحب نے جائی یانہ کو منانے کی ایک ناکام کوشش کی۔
جائی یانہ نے منہ پھلائے میز پر سے ڈبل روٹی کا ٹکڑا اٹھایا۔ اس نے اشفاق کی بات سنی ان سنی کردی۔
ایسے میں فربہہ عورت کچن سے نکل کر ڈائننگ روم میں داخل ہوئیں۔ ان کی آنکھیں سنہری، رنگت گندمی اور چہرے پر جھریاں واضح دکھائی دیتی تھیں۔
وہ نوال تھیں، اشفاق احمد کی بیوی۔۔۔
ان کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں ٹی پاٹ اور کھانے کے دوسرے لوازمات تھے۔ انہوں نے اسے میز پر رکھا اور جائی یانہ کو حکم دیا
"جاؤ جائی یانہ! جا کر عالیہ کو اٹھا کر لے کر آؤ۔ غضب خدا کا کہنے کو سب سے بڑی ہے لیکن مجال ہے بڑی بیٹیوں جیسی زمہ دار ہو۔"
"اماں میں کھا رہی ہوں۔ کسی اور کو کہہ دیں۔"
وہ ڈبل روٹی پر چھڑی کی مدد سے مکھن لگاتی ہوئے بولی۔
اماں نے اس کے ہاتھ سے ڈبل روٹی پکڑ کر کہا۔
"اب تو نہیں کھا رہی نا کچھ۔ چلو جاؤ بڑی بہن کو بلا کر لاؤ! سنا نہیں تم نے۔"
جائی یانہ کا پہلے منہ کھلا رہ گیا، پھر وہ غصے سے اٹھی اور پیر پٹختے ہوئے اپنی بہن کو بلانے کے لیے کھڑی ہوئی۔
"اس گھر میں تو سکون سے ناشتہ بھی نہیں کر سکتے!" وہ زیر لب بڑبڑائی۔
"اسے ساتھ لے کر آنا، ورنہ جب تک وہ نہیں آئے گی تمہیں ناشتہ نہیں ملے گا۔"
نوال نے جائی یانہ کو پیچھے سے آواز لگائی۔
"یہ صحیح ہے، جب تک بڑی بیٹی نہیں آئے گی تب تک کوئی سکون کے دو نوالے بھی نہیں توڑ سکتا۔"
جائی یانہ کو مزید تپ چڑھ گئی۔ وہ غصے سے ڈائننگ سے باہر چلی گئی۔
اشفاق نے اس کے جانے کے بعد نوال کی سرزنش کی۔
"آپ لڑکیوں کو سمجھایا کریں۔ کھانے کے وقت ڈائننگ روم میں سب کا ہونا لازمی ہے۔ گھر میں کھانے کے وقت تو کم از کم سب بیٹھ کر ساتھ کھانا کھائے۔"
"میں انہیں سمجھاتی ہوں۔ عالیہ ذرا نیند کی کچی ہے۔ اس لیے ناشتے میں تھوڑی دیر سے اٹھتی ہے۔"
نوال اپنے دفاع میں بولیں۔
اب اشفاق صاحب نوال سے کسی اور متعلق بات کر رہے تھے۔ ان کو چھوڑ کر اگر ہم گھر کی دوسری منزل پر جاتے تو سیڑھیوں کو چڑھتے ہوئے سامنے راہداری تھی۔ راہداری پر چلو تو تھوڑی ہی دور ایک کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔
اس کمرے کے اندر داخل ہوتے تو کمرے کے بلکل درمیان میں ایک سنگل بیڈ رکھا ہوا تھا۔ اس پر کوئی سویا ہوا تھا۔ پورا جسم چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔
بیڈ کے تاج کے پاس سونے والے کے سر پر جائی یانہ کھڑی تھی۔ اس نے سوئے ہوئے نفوس کو اپنے ہاتھوں سے جھنجھوڑا اور اونچی آواز میں بولی۔
"عالیہ آپی! اٹھ جاؤ۔ اماں بلا رہی ہیں اور بابا بھی آپ کا پوچھ رہے ہیں۔"
"جائی یانہ یہاں سے چلی جاؤ۔ مجھے تھوری دیر اور سونے دو۔"
چادر کے اندر سے ایک نسوانی آواز سنائی دی۔
"تو آپ نہیں اٹھیں گی؟!"
اس نے ہلاتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں!"
چادر منہ پر ڈھکے بڑے سکون سے جواب دیا گیا۔
جائی یانہ سیدھی کھڑی ہوکر کچھ دیر چپ چاپ چادر سے لپٹے وجود کو گھورتی رہی۔ پھر اس کے ذہن میں ایک ترکیب سوجھی۔
"آپ کو پتہ ہے آج ناشتے میں بجو اماں کی مدد کروا رہی ہیں کیونکہ نسرین (ملازمہ) آج چھٹی پر ہے۔ ایسے میں اگر ناشتے پر نہیں آؤ گی تو بابا کے سامنے آپ کا ہی امپریشن خراب ہوگا۔"
اس بات پر سوئے ہوئے نفوس نے چادر اپنے منہ سے اتاری، لیکن وہ مڑی نہیں۔ اس کی جائی یانہ کی طرف پشت تھی۔
"اگر آپ سونا چاہتی ہو پھر آپ کی مرضی ہے۔ میرا کام تھا آپ کو بتانا، جو میں نے بتا دیا۔ باقی جیسے آپ کی مرضی۔ ہیپی سلیپنگ!"
جائی یانہ اس کے بعد کمرے کے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ ابھی اس نے دروازے کی چوکھٹ پر قدم ہی رکھا تھا جب اسے پیچھے سے آواز سنائی دی۔
"رکو!"
جائی یانہ آواز سن کر مسکرائی۔ اپنی مسکراہٹ دبا کر وہ مڑی اور لڑکی کو دیکھا جو بستر پر بیٹھی ہوئی تھی۔اس کی چادر اتر چکی تھی۔ اس کی آنکھیں سنہری تھیں اور رنگ سفید تھا۔ اس کے نقوش وجیہہ تھے اور بھورے لمبے بال بکھرے ہوئے تھے۔
جائی جانہ نے اس کو دیکھ کر بڑی تابعداری سے کہا۔
"جی عالیہ آپی! آپ نے بلایا؟"
"رکو میں منہ ہاتھ دھو لوں۔ میرے ساتھ چلنا۔"
عالیہ نے یہ بولا اور بیڈ پر سے اٹھ گئی۔ کالے رنگ کی شلوار قمیض پہنے اس کا قد دراز لگتا تھا۔ وہ منہ پر بیزاری لیے باتھ روم کی طرف چل دی۔
عالیہ کے واشروم چلے جانے کے بعد اس نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے شکر ادا کیا۔
********************************
احمد اور حسن بھائی تھے۔ ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ وہ اسلام آباد کے ایک سفید پوش علاقے میں قیام پذیر تھے۔ ان کے والد انور صاحب کی محلے میں کریانے کی دوکان تھی۔ انور صاحب ایک عزت دار اور شریف انسان تھے۔ ان کی شرافت کی گواہی پورا محلہ دیتا تھا۔ وہ بس غصے کےتیز تھے۔ اس لیے ان کے دونوں بیٹے ان سے دب کر رہتے تھے۔ البتہ ان کی والدہ قدسیہ بیگم نہایت نرم مزاج عورت تھیں۔ دونوں بھائی اپنی اکثر ضروریات اور باتیں اپنی والدہ کے ذریعے، انور صاحب تک پہنچاتے تھے۔
ان دونوں کا دوسرا کوئی بہن بھائی نہیں تھا۔ احمد، حسن سے ایک سال بڑے تھے۔ اس لیے دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے کھل کر ہر بات کرتے تھے۔
میٹرک کرنے کے بعد انور صاحب نے ان کی پڑھائی چھڑوا دی اور اپنی دوکان پر بٹھا دیا۔احمد کی تو پڑھائی سے ویسے ہی جان گھبراتی تھی، اس لیے وہ اپنے ابا کے اس فیصلے پر خوش تھے۔ البتہ حسن کو پڑھائی کا شوق تھا اور وہ مزید آگے پڑھنا بھی چاہتے تھے۔ جب انہوں نے اپنی اس خواہش کا ابا کے سامنے اظہار کیا، تو وہ غصے میں آ گئے۔ انہوں نے حسن سے غصے میں پوچھا۔
"کیا کر لینا ہے مزید آگے پڑھ کر؟کون سی کوئی افسری لگ جانی ہے۔ چپ چاپ میری دوکان پر بیٹھو اور اب اس متعلق گھر میں کوئی بات نہیں ہوگی۔"
انور صاحب اپنا فیصلہ سنا کر کمرے میں چلے گئے۔ حسن جانتے تھے ابا کا فیصلہ پتھر پر لکیر ہوتا ہے۔ اس لیے انہوں نے دل مار کر انور صاحب کی دوکان پر بیٹھنا شروع کردیا۔
کچھ عرصے بعد ان کے ابا نے اپنے دونوں بیٹوں کی شادی اپنے چھوٹے بھائی کی بیٹیوں سے کروا دی۔ احمد کی شادی بڑی بہن پروین سے جبکہ حسن کی شادی چھوٹی بہن مریم سے ہوئی۔ جس پر ان دونوں بھائیوں کی طرف سے کوئی اعتراض سامنے نہ آیا۔
ان کی زندگیوں کی گاڑی یونہی رواں دواں رہی۔ اپنے بیٹوں کی شادی کے دو ماہ بعد قدسیہ بیگم کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد انور صاحب بہت بیمار رہنے لگے۔ ان کا غصہ اور دبدبا بلکل ختم ہوگیا۔ انہوں نے پورا کاروبار اپنے بیٹوں کے حوالے کر دیا اور خود زیادہ تر وقت اپنے کمرے گزارنے لگے۔
کچھ عرصے بعد احمد اور پروین کو اللّٰہ نے بیٹے کی نعمت سے نوازا، جس کا نام انور صاحب نے اشفاق رکھ دیا۔ ان کو اپنے پوتے سے ایک خاص قسم کا لگاؤ تھا۔ جو پیار انہوں نے اپنے بیٹوں کو کبھی نہیں دیا تھا، وہ ان کے پوتے کے نصیب میں لکھا تھا۔
دوسری طرف حسن پانچ سال تک بے اولاد رہے۔ پھر اللّٰہ نے ان کو ایک بیٹی دی جس کا نام نوال رکھا گیا لیکن انور صاحب اپنی پوتی کو دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہے۔ ان کا انتقال نوال کی پیدائش سے ایک سال پہلے ہوگیا۔
ایک سال بعد حسن کے ہاں دوبارہ بچی کی پیدائش ہوئی جس کا نام ام ہانی رکھا گیا۔ حسن نے دو بیٹیوں کی پیدائش پر ناشکری نہیں کی بلکہ اپنی دونوں بیٹیوں کو اللّٰہ کی رحمت سمجھا۔
وقت یونہی گزرتا گیا لیکن دونوں بھائیوں کا پیار کم نہ کر سکا۔ ان دونوں نے شادی کے بعد بھی الگ گھر نہیں کیا بلکہ سب ساتھ ہی رہے۔ ان کا گھر گھریلو جھگڑو اور سیاست سے پاک تھا۔ ان کا گھر صحیح معنوں میں امن کا گہوارا تھا لیکن پھر پتا نہیں کس کی نظر لگ گئی۔
اشفاق جب آٹھ سال کے ہوئے تو ان کی والدہ، پروین ایک دفعہ پھر حاملہ ہوگئیں۔ اس بات کو آٹھ ماہ گزر گئے تو احمد کے ایک دوست کی شادی آگئی۔ وہ احمد کے بچپن کے دوست تھے، اس لیے احمد کی شادی میں شرکت لازمی تھی۔ ان کے ساتھ پروین بھی گئیں۔ اشفاق کی طبیعت خراب تھی، اس لیے وہ ان کے ساتھ نہیں گئے بلکہ اپنی چچی مریم کے پاس رک گئے۔
شادی سے واپسی پر احمد اور پروین کی بائیک کی ٹرک سے ٹکر ہوگئی۔ دونوں کو بری طرح زخمی ہوئے۔ ٹرک ڈرائیور رات کے اندھیرے میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ حادثے کے قریب موجود لوگوں نے ان کو ہسپتال پہنچایا۔
حسن کو جب حادثے کی خبر ملی تو ان پر تو گویا آسمان ٹوٹ گیا۔ انہوں نے مریم کو بتایا تو ان کا بھی یہی حال تھا۔ انہوں نے پڑوسن کو گھر پر بچوں کے پاس ٹھہرایا اور خود ہسپتال کے لیے نکل گئے۔ راستے میں دونوں کے دلوں میں عجیب و غریب خیالات آرہے تھے جسے وہ جھٹک رہے تھے۔
************************
تھوڑی دیر بعد عالیہ اور جائی یانہ ڈائننگ میں داخل ہوئیں۔ ڈائننگ ٹیبل پر سب بیٹھے ہوئے تھے اور ان کا انتظار کر رہے تھے۔ جائی یانہ نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے ایک نظر اپنی ماں اور دونوں بڑی بہنوں کو دیکھا۔
اس کی دونوں بڑی بہنیں اپنی ماں پر گئی تھیں۔ عالیہ اور عزاہ بہت زیادہ اپنی ماں سے مشابہت رکھتی تھیں۔ ان دونوں نے سنہری آنکھیں اپنی ماں سے لی تھی۔
جائی یانہ اپنی ماں اور بہنوں پر نہیں گئی تھی۔ وہ سب سے منفرد تھی۔ اشفاق اکثر کہتے تھے کہ جائی یانہ اپنی دادی پر گئی ہے۔ اس کے نین نقش اور رنگت بلکل اشفاق صاحب کی ماں پر گئے تھے لیکن اس کو لگتا بابا اس کا بس دل رکھنے کے لیے کہتے ہیں۔
جائی یانہ نے دل ہی دل میں شکوہ کیا۔
"اللّٰہ پاک مجھے بھی اپنی ماں جیسا لگنا تھا۔ مجھے بھی ان جیسی سنہری آنکھیں چاہیے۔ آپ نے یہ صرف آپی اور بجو کو ہی کیوں دے دیا؟"
اس کو چھوڑ کر اگر تم نوال کی طرف آئیں، تو وہ عالیہ کو گھور رہی تھیں۔ عالیہ کے بال ابھی تک بکھرے ہوئے تھے۔ نوال کو اس کے بکھرے بال ایک آنکھ نہیں بھا رہے تھے۔
"انسان جب کمرے سے نکلے تو اسکے بال تو اچھے سے بنے ہونے چاہیے۔"
انہوں نے عالیہ کو ٹوکا۔
"اماں آج دیر سے انکھ کھلی تھی۔ بس اس لیے بال نہیں بنا پائی۔"
عالیہ نے بیزاری سے بولا۔
"تو جلدی اٹھ جایا کرو۔ جب سے تمہارے تیسرے سمیسٹر کے امتحان ختم ہوئے ہیں، تمہیں سونے سے فرصت ہی نہیں مل رہی!"
نوال نے دوبارہ اس کو جھڑکا۔
"عزاہ بھی تو لڑکی ہے۔ جب سے اس کے امتحانات ختم ہوئے ہیں، میرے ساتھ کچن میں کھڑی کام کراتی ہے۔ جلدی اٹھ جاتی ہے۔ کمرے سے نکلتی ہے تو حلیہ سدھار کر نکلتی ہے۔ اس سے کچھ سیکھ لو۔ کہنے کو تم بڑی ہو لیکن مجال ہے بڑوں والی کوئی حرکت کبھی کی ہو۔"
اماں کے منہ سے عزاہ کا نام سن کر عالیہ کی برداشت ختم ہوگئی۔
"اماں آپ کو تو بس مجھ میں ہی سو عیب دکھائی دیتے ہیں۔"
اس نے غصے سے بولا۔ پھر وہ عزاہ کی طرف مڑی۔
"تمہیں تو چین مل گیا ہوگا امی کے سامنے مجھے ذلیل کروا کر!"
عزاہ جو ان سب سے لاتعلق بنی ناشتہ کر رہی تھی۔ عالیہ کی بات سن کر اس نے حیرانگی سے پوچھا۔
"میں نے کیا کیا ہے؟ مجھے ان سب میں مت گھسیٹو۔"
"تمہاری وجہ سے یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ اماں کے سامنے اپنے نمبرز بڑھاتی رہتی ہو۔ سب کو یہ دکھاتی ہو تم ایک اچھی سگھڑ، لڑکی ہو جو اپنی ماں کی ہر وقت مدد کرواتی ہے۔ تمہارا مقصد ہی مجھے نیچا دکھانا ہے۔"
عزاہ کو اس کی بات سن کر غصہ آیا۔
"میں کسی کو نیچا نہیں دکھاتی۔ مجھے ان سب سے دور رکھو۔ بات تمہاری اور اماں کی ہے، تو بہتر ہوگا آپ دونوں اسے اپنی حد تک محدود رکھیں۔"
اس سے پہلے عالیہ مزید جواب میں کچھ کہتی اشفاق
صاحب کی گرج دار آواز پورے ڈائننگ روم میں گونجی۔
"بس! خاموش!!"
اشفاق نے غصے سے کہا۔ سب کے منہ پر تالے لگ گئے۔ عالیہ نے عزاہ کو گھورا اور اٹھ کر چلی گئی۔ عزاہ بھی خاموشی سے ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ گئی۔
ان کا یوں اپنے باپ سے معافی نہ مانگنا اور ناشتہ چھوڑ کر چلے جانا نوال کو بہت برا لگا۔ وہ ان دونوں کا دماغ درست کرنے کے لیے جانے لگیں تو اشفاق نے انہیں روکا۔
"رک جائیں۔ بیٹھ کر ناشتہ کریں۔ اس کے بعد میں نے آپ سے بات کرنی ہے۔"
نوال چپ چاپ بیٹھ گئیں اور حلق سے نوالے اتارنے لگیں۔ جائی یانہ اس سارے معاملے میں خاموش رہی۔ وہ جانتی تھی اب بابا امی کو کمرے میں لے جاکر ایک اچھی کلاس دیں گے۔
*******************************
حسن اور مریم جب ہسپتال پہنچیں، تو ریسیپشن کی طرف تقریباً بھاگتے ہوئے جانے لگے۔ ابھی وہ کچھ دور ہی تھے جب حسن کی نظر ایک اسٹریچر پر پڑی۔ اسٹریچر پر پڑے انسان کی شکل کو دیکھ کر، حسن کا چہرہ فق ہوگیا۔ وہ ان کے پاس دوڑتے ہوئے آئے۔ اسٹریچر پر پڑا وجود احمد کا تھا۔ ان کا جسم بلکل بے جان تھا۔ چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔
حسن نے احمد کے بے جان وجود کو جھنجھوڑ کر بولا۔
"احمد! میرے بھائی! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ اٹھو!"
اسٹریچر کو لے جاتے دو آدمی رک گئے۔ ان میں سے ایک نے پوچھا۔
"کیا آپ ان کو جانتے ہیں؟"
"یہ میرا بھائی ہے۔ اس کو کیا ہوا ہے؟"
حسن کی نظریں ابھی بھی اپنے بھائی پر ٹکی ہوئی تھی۔
"ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ زیادہ خون بہنے اور گہری چوٹوں کی وجہ سے یہ راستے میں دم توڑ گئے۔"
وہ حسن کو بلکل مشینی انداز میں بتا رہا تھا۔ اس کے لہجے میں کسی قسم کا افسوس نہ تھا۔ مریم، حسن کے پیچھے کھڑی تھیں۔ یہ سن کر اں کے پیروں سے زمین نکل گئی۔ انہوں نے دیوار کا سہارا لے کر خود کو سنبھالا۔
حسن کی کیفیت تو "بدن کاٹو تو لہو نہ نکلے" کے مصداق تھی۔ ان کو یقین نہیں آرہا تھا وہ بھائی جو ابھی کچھ گھنٹے پہلے ان کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا، اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
"آپ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں!"
حسن کی آواز کھائی میں سے آتی محسوس ہوئی۔ انہوں نے ایک نظر ان آدمیوں کو، پھر اپنے بھائی کی لاش کو دیکھا۔ وہ احمد صاحب کے اوپر جھک گئے۔
"احمد میرے بھائی یہ بول رہے ہیں کہ تم مر گئے ہو۔خدا کے لیے اٹھو ورنہ یہ ہم دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیں گے۔ اٹھو!"
وہ احمد کے جسم سے بچوں کی طرح لپٹ کر رو رہے تھے۔ ایسے میں ایک نرس ان کے پاس آئی اور پوچھا۔
"ان کے ساتھ ایک عورت بھی آئی تھیں۔ کیا آپ انہیں بھی جانتے ہیں؟"
حسن اس کی بات نہ سن پائے۔ انہیں ہوش ہی کہا تھا مگر مریم نے نرس کی بات سن لی۔ وہ فوراً نرس کے پاس آئیں اور اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
"میں اس کی بہن ہوں۔ کہا ہے وہ؟"
نرس نے انہیں اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ مریم غائب دماغی سے اس کے پیچھے چلنے لگین۔ نرس کسی کمرے کے اندر چلی گئی جبکہ مریم کمرے کے دروازے کے سامنے کھڑی رہیں۔ تھوڑی دیر میں نرس اپنی گود میں بچی اٹھائے باہر نکلی۔ اس نے وہ بچی مریم کو دی اور بتایا۔۔
"آپ کی بہن جب یہاں آئیں، تو ان کی حالت بہت نازک تھی۔ ہم نے بروقت آپریشن کرنا مناسب سمجھا۔ اس آپریشن میں ان کی بچی تو بچ گئی لیکن آپ کی بہن۔۔۔!"
"میری بہن کو کیا ہوا؟"
"ان کی حالت پہلے ہی بہت زیادہ نازک تھی۔ وہ اپنی بیٹی پیدا کرنے کے بعد دم توڑ گئیں۔"
مریم نے صدمے سے نرس کو دیکھا۔ نرس نے اپنا ہاتھ مریم کے کندھے پر تھپتھپایا اور آگے چلی گئی جبکہ مریم گود میں بچی تھامے یوںہی کھڑی رہیں۔ ان کا دماغ بند ہو گیا تھا۔ بچی نے رونا شروع کیا، تو مریم حال میں آئیں۔ انہوں خالی نظروں سے گود میں موجود بچی کو دیکھا۔ بچی بہت کمزور تھی۔ اس کو دیکھتے ہوئے مریم بولیں۔
"تمہاری ماں مر چکی ہے، زینب!"
وہ غائب دماغی میں اسے نام دے چکی تھیں۔ پھر وہ اپنے میاں کے پاس جانے کے لیے مڑ گئیں۔
********************************
ناشتہ کر لینے اور نوال سے "بات" کرنے کے بعد، اشفاق جائی یانہ کو یونیورسٹی چھوڑنے چلے گئے۔ وہ یونیورسٹی پہنچ گئے تھے۔ جائی یانہ ابھی تک اشفاق سے ناراض تھی مگر صبح کے ہنگامے کی وجہ سے اس نے اپنی ناراضی اس وقت جتانا بہتر نہیں سمجھا۔ وہ صبح والے کپڑوں میں تھی لیکن سر پر دوپٹہ اچھی طرح جما تھا۔ اس نے دروازہ کھول کر پاؤں باہر نکالا تو اسے اپنے پیچھے سے آواز آئی۔
"معاف نہیں کرو گی اپنے بابا کو؟"
یعنی وہ جانتے تھے، وہ ان سے ابھی تک ناراض تھی۔
"بلکل نہیں!"
وہ جو نیچے اترنے والی تھی، دروازہ بند کرکے دوبارہ اپنی جگہ پر بیٹھ گئی اور چہرہ کا رخ سامنے کی طرف کر لیا۔
"آئندہ ایسا کچھ نہیں کروں گا۔ ہمیشہ اپنی بیٹی کا ساتھ دوں گا۔"
"ایسے خالی معافی سے کام نہیں چلے گا۔ مجھے ناراض کرنے کا جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔"
ایک ہاتھ ان کی جانب بڑھایا، لیکن نظریں ابھی تک سامنے تھی۔
"اچھا! کتنے کا جرمانہ مجھ غریب پر عائد ہوا ہے؟"
اشفاق اس کے اس انداز پر مسکرا دیے۔
"پانچ سو روپے!"
سنجیدہ لہجے میں بتایا۔
اس کی یہ بات سن کر اشفاق مسکراتے ہوئے جیب میں سے اپنا والٹ نکالا اور ہزار روپے نکال کر جائی یانہ کی طرف بڑھائے۔
"اب مجھے معافی ملے گی؟"
"چلیں آپ بھی کیا یاد رکھیں گے کس سخی سے پالا پڑا تھا۔"
وہ پیسے ملنے پر اندر ہی اندر خوش ہو رہی تھی مگر اس نے چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا۔ اس نے نوٹ لیتے ہوئے اپنی معافی کا اعلان کیا۔
اشفاق نے اس کی بات سن کر سکھ کا سانس لیا۔
“اللّٰہ حافظ، بابا!"
وہ اپنی طرف کا دروازہ کھول کر جانے لگی تو اسے اچانک کچھ یاد آیا۔ اس نے دروازہ بند کیا اور انگلی اٹھا کر اشفاق کو تنبیہ دی۔
"اگر آپ نے اپنا جرمانہ ادا کرنے والی بات کسی کو بتائی خاص طور پر اماں کو، تو میں اگلی دفعہ دو ہزار روپے لوں گی!"
اشفاق نے اپنے ہونٹوں پر انگلی پھیری جیسے زپ لگا لی ہو۔
"کون سے پیسے؟ آپ کن پیسوں کی بات کر رہی ہیں؟ میں تو آپ کو چھوڑنے آیا ہوں؟"
"اب لگے نا آپ میرے بابا!"
جائی یانہ نے چہک کر بولا۔ پھر وہ گاڑی سے اتر گئی اور یونیورسٹی جانے لگی۔ دروازے کے احاطے میں پہنچ کر وہ مڑی اور اشفاق کو دیکھا۔ اشفاق گاڑی میں بیٹھے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ اس نے ہاتھ ہلا کر اپنے بابا کو اللّٰہ حافظ کیا۔ اشفاق نے بھی جواب میں ہاتھ ہلایا۔
جائی یانہ مسکراتے ہوئے مڑی اور یونیورسٹی کے اندر چلی گئی۔ اشفاق اس کو تب تک دیکھتے رہے، جب تک وہ ان کی نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی۔
*************************
"یہ ابھی تم دونوں نے کیا کیا ہے؟"
نوال لاونج کے صوفے پر بیٹھیں، ان دونوں بہنوں کو خوب سنا رہی تھیں۔ نوال کو اشفاق نے بہت ڈانٹا تھا۔ اب وہ سارا غصہ ان دونوں پر اتار رہی تھیں۔
"اماں آپ صبح ہی شروع ہوگئی تھیں!"
عالیہ نے اپنی صفائی پیش کی۔
"ہاں تو وہ کوئی حلیہ تھا۔ لڑکیاں جب اپنے کمرے سے نکلتی ہیں، تو حلیہ سدھار کر نکلتی ہیں۔"
اماں نے اسے دوبارہ جھڑکا۔
"اماں اچھا اب آپ اتنا غصہ تو نہ کریں!"
عالیہ نے ماں کے غصے کو ٹھنڈا کرنا چاہا۔
"مجھے ایک بات بتاؤ میں نے تو عزاہ کا بس نام لیا تھا، اس کا نام سن کر تمہیں کون سا کرنٹ لگتا ہے؟"
ان کی یہ بات سن کر عالیہ کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔ اس نے ایک نظر اپنے ساتھ کھڑی عزاہ کو دیکھا جو اس سے اپنا چہرہ موڑے کھڑی تھی۔
"اماں پلیز آپ میری باتوں میں اس کو نا لایا کریں۔"
عالیہ نے عزاہ کی طرف انگلی سے اشارہ کیا۔ نوال نے تاسف سے ان دونوں کو دیکھا۔ اب جب وہ بولیں، تو ان کا لہجہ کچھ نرم تھا ۔
"تم دونوں پہلے یوں تو نہیں لڑتی تھیں؟ اب تو ایک دوسرے کا نام سننا ہی پسند نہیں کرتیں۔۔"
وہ ان دونوں کو سمجھانے لگیں۔
"آخر مسئلہ کیا ہے؟ کس چیز نے تم دونوں کو اتنا بدگمان کر دیا ہے؟ مجھے بتاؤ تاکہ میں ان لڑائیوں کو جڑ سے ختم کر دوں۔"
"اماں آپ نے جو پوچھنا ہے، اپنی لاڈلی بیٹی سے شوق سے پوچھیں!"
عالیہ نے نفرت بھری نگاہ عزاہ پر ڈالی پھر کمرے سے باہر چلی گئی۔ عزاہ نے گھورتے ہوئے عالیہ کوباہر جاتے دیکھا، پھر ناگواری سے سر جھٹکا۔ نوال ان دونوں کی حرکتیں دیکھ رہی تھیں۔
"عزاہ وہ تمہاری بڑی بہن ہے اسی کا لحاظ کر لیا کرو!"
اماں نے اسے سمجھانا چاہا۔
"میں لحاظ کرتی ہوں اس لیے ابھی کچھ نہیں بولی، ورنہ میں اچھی خاصی سنا سکتی تھی۔ یہ خود ہی مجھ سے لڑنے کے بہانے ڈھونڈتی ہے۔"
"تم اس کی باتوں کو نظر انداز کر لیا کرو!"
"اکثر وہی کرتی ہوں لیکن ایک انسان کب تک نظر انداز کرتا رہے۔"
"تم مجھے بتاؤ آخر کیا مسئلہ ہے؟"
"اس کی عادت ہے اور کچھ بھی نہیں۔۔"
یہ کہہ کر عزاہ بھی لاؤنج سے باہر چلی گئی۔ نوال صوفے پر بیٹھی لاؤنج میں تنہا رہ گئیں۔
*************************
میت کو ایمبولینس کی مدد سے گھر پہنچایا گیا۔ احمد اور پروین کی میت گھر کے بر آمدے میں رکھوائی گئی۔ گھر رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے بھرنے لگا۔ کسی کو بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ احمد اور پروین اس طرح اچانک انہیں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ میت کے پاس بیٹھی عورتوں کے رونے کی آواز ہر سو گونج رہی تھی۔ مریم اس چارپائی سے سر ٹکائے بیٹھی تھیں، جس پر پروین کی میت کو لٹایا ہوا تھا۔ ان کی گود میں زینب تھی۔ زینب اتنے شور کے باوجود سکون سے سو رہی تھی۔ مریم دوسری عورتوں کی طرح بین نہیں کرہی تھیں بلکہ بے آواز آنسو بہا رہی تھیں۔
مردوں کے بیٹھنے کا انتظام گھر سے باہر گلی میں کیا گیا تھا۔ حسن کرسی پر بیٹھے رو رہے تھے۔ اپنے بھائی کی اچانک موت نے انہیں بری طرح توڑ دیا تھا۔ ماں باپ کی وفات کے بعد احمد نے ہی انہیں سنبھالا تھا۔ اب اپنے بھائی کے جانے کے بعد کوئی ایسا نہیں رہا تھا جو انہیں سنبھال سکے۔ تعزیت کے لیے جو کوئی بھی آتا انہیں حوصلہ دیتا اور صبر کی تلقین دیتا۔
حسن ان سب سے تنگ آگئے تھے۔ انہیں آج پوری دنیا زہر لگ رہی تھی۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ لوگوں کو بتائیں ان کے افسوس بھرے جملے ان کو حوصلہ دینے کی بجائے مزید دکھ پہنچا رہے تھے۔
جنازے کو لے جانے کا وقت آیا تو ان کے عزیز انہیں حوصلہ دیتے ہوئے، گھر کے اندر لے آۓ۔ مردوں کو جنازہ لے جانے کے لیے آتا دیکھ کر عورتیں مزید اونچی آواز میں رونے لگیں۔
حسن نے اپنے بھائی کا مردہ چہرہ دیکھا۔ ان کے دل کو کچھ ہونے لگا۔ انہوں نے اپنی نظریں ہٹا لی۔
نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند ہوئی۔ دونوں جنازے اٹھا لیے گئے۔ عورتوں کے بین کی آواز پس منظر میں مزید بلند ہوگئی۔ مریم گود میں زینب کو اٹھائے، جنازے کے پیچھے جانے لگیں۔ گھر کے صدر دروازے پر پہنچ کر وہ کھڑی ہوگئیں اور جنازے کو تب تک جاتا دیکھتی رہیں جب تک وہ ان کی نظروں سے اوجھل نہ ہوگیا۔
وہ دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھ گئیں۔ عورتیں ان کے پاس آکر جھک کر حوصلہ دینے لگیں۔ کوئی ان کے لبوں پر پانی کا گلاس لگا رہا، تھا تو کوئی انہیں کندھے سے سہارا دے کر اٹھا رہا تھا مگر وہ ان سب سے بیگانہ تھیں۔
********************************
جائی یانہ یونیورسٹی کی راہداریوں سے گزرتی اپنی مطلوبہ کلاس ڈھونڈ رہی تھی۔ اسکے سمیسٹر کا پہلا دن تھا۔ اس لیے اس کو یونیورسٹی کے متعلق کچھ زیادہ نہیں پتا تجا۔
آخر کار چوتھی دفع گھوم لینے کے بعد، وہ اپنی مطلوبہ کلاس میں پہنچ گئی۔ زیادہ تر سٹوڈنٹ بیٹھ گئے تھے اور کچھ اپنی جگہ بنا رہے تھے۔ جائی یانہ بھی اپنے بیٹھنے کے لیے جگہ تلاش کرہی تھی جب اس کی نظر اپنے سامنے تھوڑی دور رکھے ایک بینچ پر پڑی۔ اس پر ایک لڑکی بیٹھی ہوئی تھی جس نے کالے رنگ کی چادر سے خود کو مکمل طور پر ڈھکا ہوا تھا۔ وہ کسی کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی۔ اس نے اس بینچ کی طرف قدم بڑھائے یہاں تک کہ وہ اس چادر اوڑھے لڑکی کے بلکل سر پر کھڑی تھی۔
جائی یانہ نے لڑکی کو بلایا۔
"سنیں!"
لڑکی نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔
"جی؟"
"کیا میں ادھر بیٹھ سکتی ہوں؟"
جائی یانہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
"بیٹھ جائیں"
اس کے ساتھ لڑکی نے اپنا بیگ اپنی طرف کرکے جائی یانہ کے لیے جگہ بنائی۔ جائی یانہ نے اپنا بیگ بینچ پر رکھ دیا۔ وہ اس لڑکی سے بات کرنا چاہتی تھی مگر وہ دوبارہ کتاب کے مطالعہ میں مصروف ہوگئی۔
اتنے میں کلاس میں ایک ادھیڑ عمر پروفیسر داخل ہوئے۔انہوں نے ایک کالے رنگ کا گاؤن بھی پہنا تھا جو اکثر لیکچرار پہنتے ہیں۔ کلاس میں ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ اس کی پہلی کلاس شروع ہو چکی تھی۔
********************************
کالونی میں بنے ایک بنگلے کے کچن میں سے برتن بجنے کی آواز آ رہی تھیں۔ اس میں داخل ہوتے تو ایک لڑکی چولہے پر بپتیلی رکھے چائے بنا رہی تھی۔ پتیلی میں پتی، دودھ، چینی سب ڈالی جا چکی تھی۔ بس اس کے ابلنے کا انتظار کیا جارہا تھا۔
اس لڑکی کو دیکھتے تو اس کی رنگت صاف، خوبصورت نقوش اور آنکھیں کالی تھیں۔ وہ بلاشبہ بہت حسین تھی۔ اس نے پیلے رنگ کی شلوار قمیض پہنی تھی۔
اس کے شہد رنگ کے بال کیچر کی مدد سے ڈھیلے جوڑے میں بندھے تھے۔
چائے میں ابالا آگیا تھا۔ اس نے چولہے کی آنچ بجھا دی اور چائے کو دو لال رنگ کے مگ میں ڈال دیا۔ چائے ڈالنے کے بعد اس نے دونوں مگ ایک ٹرے میں رکھ دیے، جس میں پہلے ہی ڈبل روٹی، مکھن اور کھانے کے دیگر لوازمات پڑے ہوئے تھے۔
سیاہ آنکھوں والی لڑکی ٹرے اٹھا کر کچن سے نکلی اور سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کی منزل میں پہنچ گئی۔ چلتے چلتے راستہ ختم ہوگیا۔ اب اس کے سامنے بھورے رنگ کا ایک دروازہ تھا۔ وہ کچھ پل دروازے کو دیکھے گئی، پھر اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس کے چہرے پر فکرمندی واضح تھی۔ اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔ لڑکی کو یہی توقع تھی۔ وہ خود ہی دروازہ کھولتی اندر آگئی۔
کمرے کا منظر کچھ یوں تھا کہ پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ کھڑکیوں پر پردے لگے تھے جو باہر کی روشنی کو اندر آنے سے روک رہے تھے۔ کمرے میں رکھے صوفے کی گدیاں زمین پر گری ہوئی تھیں۔ سنگھار میز پر پڑا کاسمیٹک اور میک اَپ کا سامان بکھرا ہوا تھا۔ کمرے کی درمیان میں ایک بیڈ تھا جس پر ایک عورت بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنے گھٹنے سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنا سر، بیڈ کے تاج پر ٹکایا ہوا تھا۔ ان کی آنکھیں بند تھیں۔ سیاہ آنکھوں والی لڑکی اندر آئی اور صوفے کے سامنے رکھی میز پر ٹرے رکھی۔
پھر کھڑکیوں کی طرف بڑھی اور پردے پرے دھکیلے۔ سورج کی کرنیں چھن چھن کرتی بیڈ پر بیٹھی اس عورت پر پڑیں، تو انہوں نے چہرے پر ہاتھ رکھ دیا۔ ان کی آنکھیں چندھیا گئی تھیں۔
"کھڑکیوں پر پردے ڈالو، نمرہ!"
عورت نے تیز آواز میں حکم دیا۔ ان کے لہجے میں بیزاریت بھی شامل تھی۔ نمرہ زمین پر پڑی گدیاں اٹھا کر واپس صوفے پر رکھنے لگی۔
"تم نے سنی نہیں میری بات!!"
ایک دفعہ پھر اس کو بلایا گیا لیکن اس نے دوبارہ کان نہ دھرے اور اپنے کام میں لگی رہی۔ اب وہ سنگھار میز کا حلیہ سدھار رہی تھی۔ جب اس نے کمرہ ایک حد تک سدھار لیا تو صوفے پر بیٹھ گئی اور میز پر پڑی ڈبل روٹی کا ایک سلائس لے کر مصروف انداز میں پوچھا۔
"ماما بریڈ پر جیم لگاؤں یا مکھن ؟"
"مجھے نہیں کھانا۔ لے جاؤ یہ سب!"
عورت کی آنکھیں اب روشنی میں دیکھنے کی عادی ہوگئی تھیں۔
"آپ نے رات سے خود کو بند کیا ہوا ہے۔ پلیز کچھ کھا لیں۔"
نمرہ نے اب فکر مندی سے اس عورت کو دیکھا۔
سورج کی سنہری کرنوں میں عورت کے نقوش واضح تھے۔ ان کی رنگت سفید اور آنکھیں سیاہ تھیں۔ عمر کوئی تینتالیس برس ہوگی۔ بڑھتی عمر کے باوجود انہوں نے خود کو کافی فٹ رکھا ہوا تھا۔ وہ ابھی تک کافی سمارٹ تھیں۔ ان کی جلد پر بڑھتی عمر کے اثرات دوسری عورتوں کے مقابلے میں اتنے زیادہ نہیں تھے۔ وہ بلکل سامنے صوفے پر بیٹھی لڑکی سے ملتی تھیں۔ ایسا لگتا تھا وہ ماں بیٹی نہیں بلکہ بہنیں تھیں۔
وہ زینب عمر تھیں۔
وہ تھکی تھکی دکھائی دے رہی تھیں۔ انہوں نے بیزاری سے کہا۔
"مجھے بھوک نہیں لگی۔ جب لگے گی تو کھا لوں گی۔”
"ماما شایان بھائی اور میں نے رات سے کچھ نہیں کھایا۔ بھائی کچھ کھائے بغیر ہی آفس چلے گئے ہیں۔ ہم دونوں مل کر ناشتہ کرتے ہیں تا کہ بھائی بھی آفس میں کچھ کھا لیں۔"
نمرہ نے ان کو رضا مند کرنا چاہا۔
"تم دونوں نے مجھے بہت تنگ کیا ہوا ہے۔ کھانا رکھ کر چلی جاؤ۔ میں تھوڑی دیر میں کھاتی ہوں۔ شایان کو فون کرکے کہو وہ خود بھی کچھ کھا لے اور تم بھی کچھ کھا لینا۔"
زینب نے بڑی خشکی سے یہ بات بولی۔
نمرہ خاموشی سے اٹھ گئی۔ وہ جانتی تھی اس کی ماں اب ناشتہ کرلیں گی۔ جاتے جاتے اس نے ایک نظر سنگھار میز کے ساتھ لگی تصویر کو دیکھا۔ اس میں زینب اور ان کے ساتھ کرخت نقوش کا مرد کھڑا تھا۔ زینب نے لال رنگ کا عروسی لباس پہنا پوا تھا جبکہ مرد نے کالے رنگ کی شیروانی پہنی ہوئی تھی۔ دونوں تصویر میں مسکرا رہے تھے۔
نمرہ نے یاسیت سے تصویر میں کھڑے اس مرد کو دیکھا، پھر سوچا
"کاش! آپ اتنی جلدی ہم سب کو چھوڑ کر نہ جاتے۔"
اس کے بعد وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔
کاش یہ لفظ "کاش" صرف ایک لفظ ہوتا۔ ان تین حروف میں لوگوں کے احساسات نہ ہوتے۔ یہ بس ایک عام
الفاظ ہوتا اور عام باتوں میں استعمال ہوتا۔ کاش!!
*********************
اشفاق کا گھر صبح کے مقابلے میں اب پر سکون تھا۔ صبح ہونے والی تفتیش اب ختم ہوچکی تھی۔ ان کے کچن میں داخل ہو تو تو سارا کچن سفید رنگ سے نہایا ہوا لگتا تھا۔ کچن کی دیواریں، کیبنیٹ، سلیب اور درازے سب سفید رنگ کی تھیں۔ کچن کے سامنے کی دیوار پرسلیب تھی جس کے درمیان میں چولھا نصب تھا۔ اس کے ساتھ ایک مائیکرویو اوون تھا جبکہ چولہے کے نیچے اوون فٹ تھا۔ کچن کے بلکل درمیان میں ایک میز اور پانچ کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ ان کا رنگ بھی سفید تھا۔ سفید رنگ کا یہ کچن آنکھوں کو بھلا محسوس ہوتا تھا۔ ان کرسیوں میں سے ایک پر عزاہ بیٹھی تھی۔ میز پر مختلف قسم کے پھل پڑے تھے۔ وہ پھل کاٹ رہی تھی۔ اس کے سامنے پیالہ تھا جس میں وہ کٹے ہوئے پھل ڈال رہی تھی۔
ابھی وہ سیب کاٹنے میں مصروف تھی جب نوال کچن میں آئیں۔
"عزاہ یہ پھل کیوں کاٹ رہی ہو؟"
"اماں میں نے سوچا ہے آج کسٹرڈ بناؤں۔ بابا کو بہت اچھا لگتا ہے۔ ڈنر میں سب مل کر کھا لیں گے۔"
اس نے مصروف انداز میں کہا۔
عزاہ کو کوکنگ کا شوق تھا۔ اس کا بس چلتا تو وہ ہر وقت کچن میں بیٹھی کچھ نا کچھ بناتی رہتی۔ ایک طرح سے وہ یہ کام کر بھی رہی تھی۔ جب بھی وہ امتحانات دے کر فارغ ہوتی، تو پھر وہ ہوتی اور اس کا کچن ہوتا۔
"تو تم یہ رات کو بھی تو پکا سکتی تھی۔ اس وقت پکانے کی کیا حاجت تھی؟"
"اماں ابھی کوئی کام نہیں تھا اور رات کو کھانا بھی پکانا تھا۔ سوچا فارغ ہوں، ابھی بنا لوں۔"
"پتہ نہیں تم کس طرح کی لڑکیاں ہو۔ ایک کو فیشن سے، دوسری کو کھانے پکانے سے اور تیسری کو کتابوں سے فرصت نہیں ملتی۔"
"تو ہم تینوں کے یہ شوق برے تو نہیں۔۔۔۔"
عزاہ کو برا لگا تھا۔
"شوق تم لوگوں کے ٹھیک ہیں۔ اکثر لڑکیوں کے ایسے ہی شوق ہوتے ہیں لیکن تم تینوں ںے اپنے شوق کو سر پر سوار کیا ہوا ہے۔ اس وجہ سے بعض اوقات یہ شوق تم لوگوں کے جنون لگتے ہیں۔"
عزاہ ان کی بات پر الجھ گئی۔
اس نے ناسمجھی سے اپنی ماں کو دیکھا۔
"جنون؟"
نوال نے سر اثبات میں ہلایا۔
"ہاں! جنون! عالیہ تمہارے سامنے ہے۔ تمہاری بڑی بہن ہر وقت اسی پریشانی میں رہتی کہ وہ، اس کے کپڑے، اس کا میک اَپ اور اس کی اوور آل ڈریسنگ ویسی ہو، جو اس وقت کا ٹرینڈ ہے۔ وہ اسی جنون میں گھنٹوں اپنا وقت انسٹا گرام اور یوٹیوب پر ضائع کر دیتی ہے۔ لڑکیوں کے فیشن کے میں خلاف نہیں ہوں لیکن اس کو اپنی زندگی کا محور نہیں بنایا جاسکتا۔"
"لیکن جائی یانہ تو بک ریڈر ہے۔ اس کا زیادہ کتابیں پڑھنے کا شوق برا تو نہیں ہے۔ یہ تو ایک اچھی عادت ہے۔"
عزاہ کی الجھن ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ مزید بڑھ گئی۔ اس کے ساتھ بیٹھی فربہہ عورت نے اپنا سر اثبات میں ہلایا۔
"تم ٹھیک کہتی ہو اس کا کتابوں کا شوق واقعی اچھا ہے۔"
انہوں نے بات جاری رکھی۔
"اپنے مطالعے کی عادت کی وجہ سے وہ ایک ہونہار طالب علم ہے، لیکن لوگوں کے میل ملاپ میں اتنی توجہ نہیں دیتی۔ وہ رشتے داروں اور دوستوں کی طرف بہت کم جاتی ہے۔ اسی طرح وہ اپنا خیال بھی نہیں رکھتی۔ وہ کتاب پڑھنے کے دوران اپنے کھانے پینے اور باقی دیگر چیزوں کا خیال نہیں رکھتی۔ اس کے لیے دن میں ایک پوری کتاب پڑھنی لازمی ہے، بھلے اس کے سر میں درد ہورہا ہو یا طوفان آرہا ہو۔"
نوال نے ایک گہری سانس لی اور عزاہ کو دیکھا۔
"جہاں تک تمہارا معاملہ ہے، تم ہر وقت کوکنگ کے لیے تیار رہتی ہو۔ اِدھر کسی نے تمہیں کھانا پکانے کا کہا، اُدھر تم کچن میں دکھائی دو گی۔ کھانا پکانا ایک اچھا مشغلہ ہے۔ آنے والی زندگی میں یہ ہنر تمہارے بہت کام آئے گا لیکن کھانا پکانے کے دوران تم اپنا بالکل بھی خیال نہیں رکھتی۔ اگر تمہیں چھڑی سے کٹ لگ جائے یا ہاتھ جل جائے، تب بھی چوٹ کو نظر انداز کرتی ہو۔ سخت سے سخت گرمی میں بھی تم چولہے کے آگے کھڑی ہو جاتی ہو۔ تم اکثر اپنی پڑھائی کو اپنے اس شوق کی وجہ سے نظر انداز کرتی ہو۔ اس وجہ سے تم ایک عام طالب علم ہو۔ پچھلے دنوں جب تمہارے امتحانات تھے، تب بھی تم کچن میں بیٹھی کھیر پکا رہی تھی۔"
"اماں کھانا پکانا میری عادت بھی بن چکی ہے۔ جب تک میں کھانا نہ پکاؤں، مجھے چین نہیں ملتا۔"
عزاہ نے اپنی طرف سے ایک مضبوط دلیل دی۔ نوال نے ایک گہرا سانس لیا اور کہا۔
"تم اپنی عادت کی غلام بن گئی ہو۔ عادت چاہے اچھی ہو یا بری، جب آپ اس کے غلام بن جائے، تو یہ آپ کو نقصان ضرور پہنچاتی ہے۔ انسان کے پاس اتنی will power تو ہونی چاہیے کہ وہ خود کو "ناں" کہہ سکے۔ اگر وہ کوئی کام نہیں کرنا چاہتا ہے اور اس وقت وہ اتنا ضروری بھی نہیں بلکہ اسے اس وقت نہ کرنا بہتر ہے، تو آپ اسے نہ کریں۔ خود پر جبر کرکے اس کام کو کرنے میں کوئی بھلائی نہیں بلکہ آپ خود کو ہی تکلیف دے رہے ہوتے ہیں۔"
ابھی نوال کچھ اور بھی کہتیں، عالیہ کال پر بات کرتی اندر آ گئی۔ اسے دیکھ کر عزاہ کا چہرہ سپاٹ ہو گیا۔ عالیہ دوسری طرف سے کسی کی بات سنتی فریج کی جانب بڑھی۔ اس نے فریج کا دروازہ کھول کر پانی کی بوتل نکالی۔ اس کے منہ سے صرف "اچھا" نکلا۔ اس کے بعد دوسری طرف سے پھر کوئی اپنی کہانی لے کر بیٹھ گیا۔
عالیہ بوتل منہ سے لگا کر پانی پینے لگی اور اس کی بات بھی سنے گئی۔ نوال اس کی اس حرکت پر تلملا گئیں۔
"ہاں ٹھیک ہے۔ میں آجاؤں گی۔ تم ایڈریس سینڈ کردو اور سب وقت پر پہنچ جانا۔"
دوسری طرف سے الوداعی کلمات ادا کیے گئے جس کا عالیہ نے جواب دیا
"اوکے اللّٰہ حافظ!"
اس نے کال کاٹی اور بوتل فریج میں رکھنے لگی۔ ماں نے اسے فوراً جھڑکا۔
"خبردار! جو تم نے منہ لگی بوتل فریج میں رکھی!"
عالیہ نے بڑے آرام سے بوتل سلیب پر رکھ دی۔ نوال کا غصہ مزید بڑھ گیا۔
"تمہیں شرم تو آتی ہی نہیں ہے!"
"کیوں؟ اب تو بوتل سلیب پر رکھ دی ہے۔ کیا سلیب پر چیز رکھنے کے بعد شرم بھی کرنی چاہیے؟"
آخری بات کہتے ہوئے اس نے آنکھیں پٹپٹائیں۔
نوال اسے گھور کر رہ گئیں۔ عالیہ کچن سے جانے لگی تو نوال کو کچھ یاد آیا۔ انہوں نے عالیہ کو روکا۔
"رکو ذرا! یہ تم کس سے بات کر رہی تھی؟"
ان کی آواز سن کر عالیہ مڑی اور بتایا۔
"فاطمہ کی کال تھی۔ وہ ریستوران میں ملنے کا کہہ رہی تھی۔ اتنے دن ہوگئے ہیں، ہم دوستوں نے ایک دوسرے کو دیکھا نہیں ہے۔ میں نے اسے ہاں کہہ دیا۔"
"میں کیا مر گئی ہوں جو تم نے میری اجازت نہیں لی؟"
نوال غصے سے بولیں۔
"نہیں آپ تو سامنے بیٹھی ہیں۔"
"چپ رہو! اپنی دوست سے معذرت کر لو۔ کہہ دو تم نہیں آ سکتی۔ کوئی صدیاں نہیں بیتی جو ایک دوسرے سے ملنے کے لیے تڑپ رہی ہو۔ "
"ایک ہفتہ تو ہوگیا ہے نا۔"
عالیہ نے معصومیت سے بولا۔ پھر جھک کر اپنی ماں کے کندھوں سے چپک گئی۔
"پلیز مان جائیں نا۔ اب تو میں نے اسے ہاں کہہ دی ہے۔"
"میرے اوپر سے ہٹو عالیہ؟” انہیں الجھن ہو رہی تھی۔
" پہلے ہاں کریں ورنہ میں نہیں ہٹوں گی۔"
عالیہ نے کسی ضدی بچے کی طرح بولا۔
"میری طرف سے بھاڑ میں جاؤ۔"
"شکریہ اماں!"
اس نے اپنی ماں کا گال چوما اور کچن سے باہر چلی گئی۔ نوال نے اپنا گال صاف کیا اور کرسی پر سے اٹھ گئ جبکہ عزاہ جو اس سارے معاملے سے لاتعلق بیٹھی تھی۔ وہ جلدی جلدی پھل کاٹ رہی تھی البتہ چہرے کے تاثرات ابھی تک سپاٹ تھے۔
**********************************
یونیورسٹی کے میدان میں اس وقت خوب رونق تھی۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، ٹولیوں کی صورت میں سایے میں بیٹھے تھے۔ میدان کے ایک طرف جائی یانہ خالی بینچ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی جس کی وہ ورق گردانی کر رہی تھی۔ سر پر دوپٹہ اچھے سے ٹکا تھا۔ اس کا بیگ اس کے ساتھ ہی بینچ پر رکھا تھا۔ جب وہ بینچ پر بیٹھی تھی، تب دھوپ نہیں تھی لیکن اب دھوپ اس طرف آنا شروع ہوگئی تھی۔ دھوپ سیدھی اس کے اوپر پڑ رہی تھی۔ ستمبر کی دھوپ اسلام آباد میں اگر اتنی تیز نہ تھی، تو اتنی ہلکی بھی نہ تھی کہ اس میں بیٹھا جا سکے۔ وہ کتاب کے مطالعے میں اتنی غرق تھی کہ اس نے دھوپ پر دھیان ہی نہیں دیا۔ اس کا دھیان تب بھٹکا، جب اچانک اس کے چہرے پر پڑتی دھوپ کے راستے کو کسی نے سامنے کھڑے ہو کر روکا۔
اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو اسے ایک لڑکا دکھائی دیا۔ وہ اس کے بلکل سامنے کھڑا تھا۔ اس پر پڑتی دھوپ کے راستے میں وہ حائل تھا۔ اب دھوپ اس لڑکے کمر پر پڑ رہی تھی۔ دیکھنے میں اس کی عمر کوئی انیس بیس سال ہی تھی۔ گندمی رنگت---بھوری آنکھیں---- گھنگھرالے بھورے بال اور صاف نقوش۔۔۔ اس نے جینز کی پینٹ پر سفید رنگ کی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ اس لڑکے کے گھنگھرالے بال اس کو وجیہہ دکھاتے تھے۔
جائی یانہ کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر اس نے اپنا سیدھا ہاتھ سامنے کیا۔ اس کے ہاتھ میں موبائل تھا۔ وہ جائی یانہ کا موبائل تھا۔
"آپ کا فون کلاس میں ہی رہ گیا تھا!"
ہاتھ سامنے بڑھا کر بس اتنی سی وضاحت دی گئی۔ اس کی بات پر جائی یانہ کا ہاتھ بے اختیار اپنے سر پر پڑا۔
ایک نظر لڑکے کو دیکھا پھر اپنا موبائل اس کے ہاتھ سے لے کر گرفت مضبوط کی۔
"!شکریہ"
اس نے اپنے موبائل کو دیکھتے ہوئے کہا۔ لڑکا کچھ بھی کہے بغیر واپس جانے کے لیے مڑ گیا۔ وہ جانے ہی لگا تھا جب اس نے ایک نظر دوبارہ جائی یانہ کو دیکھا۔ سورج کی دھوپ دوبارہ جائی یانہ پر پڑنے لگی تھی۔ وہ ابھی بھی دھوپ کو نظر انداز کیے اپنے موبائل کو دیکھ رہی تھی ۔
"آپ دھوپ میں کیوں بیٹھی ہیں؟"
اسے دھوپ میں بیٹھا دیکھ کر اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ اگلے ہی لمحے وہ اپنی اس حرکت پر پچھتایا۔
جائی یانہ نے اس کا سوال سن لیا تھا۔ اس کو غصہ آیا لیکن لحاظ کرتے ہوئے خاموش ہو گئی۔ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
"آپ مجھ سے بات کر رہے ہیں؟"
لڑکے نے نفی میں سر ہلایا اور چلا گیا۔ جائی یانہ اس لڑکے کو تب تک گھورتی رہی، جب تک وہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوگیا۔
"ایک موبائل دینے پر شکریہ کیا کہہ دیا، یہ تو فری ہو گیا۔"
اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
لڑکے کی دھوپ پر توجہ دلانے پر اسے بھی اب گرمی محسوس ہونے لگی۔ اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور یونیورسٹی کی عمارت کی طرف جانے لگی۔ اب اس کا یونیورسٹی کی لائبریری میں جاکر کتاب پڑھنے کا ارادہ تھا۔
****************************
مغرب کے وقت حسن اپنے گھر واپس آئے تھے۔ وہ اپنے آپ کو بہت زیادہ تھکا ہوا محسوس کر رہے تھے۔ پورے گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ حسن دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کل جس گھر میں زندگی آباد تھی، آج اس گھر میں قبرستان جیسا سناٹا چھایا ہوا تھا۔
وہ اپنے بوجھل قدم اٹھاتے برآمدے میں پہنچے، تو انہیں اشفاق اپنے سامنے کھڑا ملا۔ اشفاق اسی جگہ پر کھڑا تھا، جس جگہ تھوڑی دیر پہلے احمد کی میت رکھی تھی۔ اشفاق امید بھری نگاہوں سے حسن کو دیکھ رہے تھے۔
حسن کے دل کا بوجھ مزید بڑھ گیا۔ انہوں نے نظریں چرا لیں۔ اشفاق آہستہ آہستہ چلتا ہوا اپنے چچا کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
"میرے بابا آپ کے ساتھ گئے تھے نا؟"
معصومیت سے پوچھا گیا۔
"وہ آپ کے ساتھ واپس کیوں نہیں آئے؟"
"وہ آ جائیں گے۔"
حسن کو اپنی آواز کھوکھلی لگی۔ شاید دل میں کہیں خود کو بھی دلاسہ دیا گیا تھا۔ وہ ابھی بھی آٹھ سالہ اشفاق سے نظریں چرائے ہوئے تھے۔ ایک دم سے اشفاق کے چہرے کا تاثر بدلا۔ معصومیت کی جگہ غصے نے لے لی اور آنکھوں میں امید یک دم ختم ہوئیں۔
"نہیں آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ حارث نے کہا تھا کہ بابا جا چکے ہیں۔ حسن چاچو ان کو ہمیشہ کے لیے زمین کے اندر دفنا دیں گے۔ پھر وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ میں نے اسے بولا تھا آپ ایسے نہیں ہیں۔ آپ میرے بابا کو چھوڑ کر واپس نہیں آئیں گے لیکن آپ آگئے۔"
اشفاق کا یوں چلاتے ہوئے چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔
حسن کی آنکھوں میں ایک دفعہ پھر نمی آگئی۔ سامنے کا منظر دھندلا ہوگیا۔ وہ خاموشی سے اپنے آٹھ سالہ بھتیجے کے سامنے بیٹھ گئے، جو ابھی بھی روتے ہوئے چلّا رہا تھا۔ حسن کو اس کی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی۔ ان کو تو اپنے سامنے بس ایک بچہ دکھائی دے رہا تھا جو اپنے باپ کے پاس جانے کے لیے بے چین ہورہا تھا۔
حسن خالی نظروں سے اسے دیکھتے رہے، پھر اشفاق کے گرد اپنی باہیں حائل کردی۔ اشفاق جو رو رہا تھا، چلا رہا تھا، ساکت ہوگیا۔ اشفاق کو اپنی کمر پر آنسو گرتے محسوس ہوئے۔ ان کی قمیض بھیگ رہی تھی۔
حسن اشفاق کو گلے لگائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ ان کی سسکیاں بلند ہوتی جارہی تھی ۔ وہ روتے ہوئے اشفاق کو یہی کہہ رہے تھے۔
"میں ہی اب تمہارا باپ ہوں اشفاق! میں ہی تمہارا باپ ہوں۔"
اشفاق نے پہلی دفعہ اپنے چچا کو یوں روتا دیکھا تھا۔
*******************************
نمرہ اپنی الماری ٹھیک کر کے فارغ ہوئی، تو اس کے فون پر کسی کی کال آنے لگی۔ اس نے سکرین پر دیکھا اس پر فاطمہ کالنگ لکھا ہوا تھا۔
اس نے کال اٹھا لی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ ابھی دوسری طرف سے حال احوال پوچھا جا رہا تھا۔
نمرہ اس کی کال سنتی ہوئی سیڑھیاں اترنے لگی۔ سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کو نیچے لاؤنج میں سے اپنی ماں کی آواز آئی۔ اس نے سیڑھیاں اترتے ہوئے، فون کان پر لگائے لاؤنج میں جھانکا تو اسے زینب صوفے پر بیٹھی دکھائی دیں۔ وہ اپنے سامنے کھڑی ملازمہ کو ہدایات دے رہی تھیں۔
زینب صبح والے حلیے سے بلکل مختلف دکھائی دے رہی تھی۔ سیاہ آنکھوں میں چھائی اداسی اب دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ وہ بلکل ہشاش بشاش تھیں۔ انہوں نے لان کا برینڈڈ سوٹ پہنا ہوا تھا۔ انہیں دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا یہ عورت صبح کتنی بکھری ہوئی تھی۔ نمرہ نے اپنی ماں کو دیکھ کر سکھ کا سانس لیا۔
نمرہ بھی سیڑھیاں اتر کر لاؤنج میں آگئی اور سنگل صوفے پر بیٹھ گئی۔ فاطمہ اب اپنے کال کرنے کی وجہ پر آئی تھی۔
"اچھا باہر کا پلان ہے!"
نمرہ نے چہکتے ہوئے بولا۔
"کون کون آ رہا ہے؟"
دوسری طرف کی بات سن لینے کے بعد نمرہ نے پوچھا
"عالیہ بھی آ رہی ہے؟"
دوسری طرف سے کچھ ایسا پوچھا گیا، جس نے سیاہ آنکھوں میں فکر ڈال دی۔
"میں۔۔میں سوچ کر بتاتی ہوں!۔ مجھے آج ویسے بھی بہت سارے کام ہیں۔"
اس کا لہجہ ٹالنے والا تھا۔ اس نے غیر ارادی طور پر ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا جو سامنے صوفے پر بیٹھی، اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔ ملازمہ کو وہ بھیج چکی تھیں۔ اب ان کی ساری توجہ نمرہ پر ہی تھیں۔انہیں ساری بات سمجھ آگئی۔
زینب اپنی جگہ سے اٹھیں اور نمرہ کے قریب اگئیں۔ وہ تھوڑا سا جھکیں، پھر نرمی سے اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑ کر اپنے کان سے لگایا۔
"السلام علیکم بیٹا۔ میں نمرہ کی ماما زینب بات کرہی ہوں۔"
پھر وہ تھوری دیر ٹھہریں، شاید دوسری طرف سے سلام کا جواب دیا گیا تھا۔
اس کے بعد زینب بولیں ۔
"نمرہ آپ لوگوں کے ساتھ آ جائے گی۔ آپ لوگ فکر نہ کریں۔"
نمرہ ان کی باتیں سن کر کرنٹ کھا کر اٹھی۔
نمرہ نے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے مگر زینب نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
"اب میں فون رکھ دیتی ہو۔ مجھے نمرہ سے کچھ بات کرنی ہے۔ باقی باتیں آپ نمرہ کو بعد میں بتا دینا۔"
یہ کہہ کر انہوں نے کال کاٹ دی اور نمرہ کو فون تھما دیا۔ نمرہ غصے سے اپنی ماں کو گھور رہی تھی۔
زینب نے اس کے گھورنے کا کوئی اثر نہیں لیا۔ وہ آرام سے اپنی جگہ پر دوبارہ بیٹھ اور پاس پڑا میگزین اٹھایا۔ "آپ نے کس سے پوچھ کر میری طرف سے ہاں کہی ہے؟"
وہ دبے دبے غصے میں بولی۔
"میں بتانا ضروری نہیں سمجھتی۔"
دوسری طرف سے وہی بے نیازی تھی۔
"آپ جانتی ہیں نا پچھلے ایک ہفتے آپ کی طبیعت کتنی خراب تھی۔ میں اگر چلی گئی اور آپ کو پیچھے سے کچھ ہوگیا تو آپ کیا کریں گی؟ آپ جانتی۔۔۔"
زینب نے نمرہ کی بات کاٹی۔
"میری طبیعت کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب تک شایان نہیں آ جاتا، میں ملازمہ کو اپنے پاس رکھ لوں گی۔ ویسے بھی کچھ دیر پہلے میری شایان سے بات ہوئی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا آج وہ گھر جلدی آجائے گا۔ مجھے تو لگتا ہے ملازمہ کو روکنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔"
شایان کا نام سن کر نمرہ کو ایک اور فکر لاحق ہوئی۔
"شایان بھائی مجھ پر بہت غصہ کریں گے۔ اگر انہیں پتا چلا میں باہر جارہی ہوں، تو وہ فوراً انکار کردیں گے اور مجھ سے ناراض بھی ہو جائیں گے۔"
"شایان کو میں سمجھا دوں گی۔ تم اس کی فکر نہ کرو اور اپنے جانے کی تیاری کرو۔"
ڈرائیور بھی گھر پر نہیں ہے۔ اس نے بھی چھٹی لی ہے۔ میں کس طرح جاؤں گی؟"
نمرہ کے مسئلے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
"عالیہ جا رہی ہے؟"
زینب نے میگزین پر نظر جمائے پوچھا۔
"جی، فاطمہ نے بتایا تھا کہ وہ آرہی ہے۔"
"عالیہ کو کال کرکے کہہ دو وہ جاتے ہوئے تمہیں ساتھ لے جائے اور واپسی پر تمہیں چھوڑ بھی دے۔"
نمرہ ابھی بھی راضی نہی تھی۔ وہ کسی صورت جانا نہیں چاہتی تھی لیکن زینب کوئی بہانہ سننے کو تیار نہیں تھی۔
"نمرہ پلیز! اب کمرے میں چلی جاؤ۔ اپنا کوئی نیا مسئلہ نہ سنانے بیٹھ جانا۔"
نمرہ نے ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا اور لاؤئج میں سے باہر نکل گئی۔ وہ اپنی ماں سے بہت زیادہ خفا تھی۔ وہ جانتی تھی مزید بحث اب بے معنی ہے۔
************************
عالیہ آئنے کے سامنے کھڑی اپنے عکس کو تنقیدی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ وہ جانے کے لیے بلکل تیار تھی۔ اس نے نیوی بلو رنگ کی جارجٹ کی قمیض پہنی تھی۔ اس پر سفید رنگ کے پھولوں کے ڈیزائن کے بٹن درمیان میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر لگے ہوئے تھے۔ اس نے سفید رنگ کے فلیپرز پہنے ہوئے تھے۔ بھورے بال آبشار کی مانند کمر پر گر رہے تھے۔ ہلکا میک اَپ اس کو مزید حسین دکھا رہا تھا۔ وہ بلکل تیار تھی۔
وہ آئنے کے سامنے سے ہٹی اور الماری کے پاس آئی۔ اس نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر نیچے کے خانے کو کھولا، جہاں پر جوتیوں کے ڈبے سلیقے سے رکھے ہوئے تھے۔
اس نے ایک کالے رنگ کا ڈبہ نکالا اور خانے کو بند کیا۔ اس نے ڈبے کو زمین پر رکھ کر کھولا۔ ڈبے کے اندر نیلے رنگ کی پینسل ہیل کی خوبصورت سینڈل رکھی ہوئی تھی۔ اس نے سینڈل کو اس کے اسٹریپس سے پکڑا، پھر سنگل صوفے پر بیٹھ کر سینڈل پہننے لگی۔ سینڈل پہنتے ہوئے اسے پرانی بات یاد آئی۔ اسے اچھی طرح یاد تھا اس نے بلکل ایسی سینڈل شاپنگ مال میں بھی دیکھی تھی لیکن وہ بہت زیادہ مہنگی تھی، اس لیے اس نے خریدی نہیں۔ اگلے ہی مہینے اشفاق نے یہ سینڈل اسے اس کی سالگرہ میں تحفے کے طور پر دے دی۔ وہ مسکراتے ہوئے سینڈل پہننے لگی۔ سینڈل پہننے کے بعد اس نے اپنا سفید رنگ کا ہینڈ بیگ اٹھایا۔ اسی وقت بیڈ پر رکھا اس کا موبائل بجا۔ اس نے موبائل اٹھایا اور کال اٹینڈ کی۔
"ہیلو!"
"عالیہ تم نے میرا میسج پڑھ لیا تھا نا؟! "
نمرہ نے سیدھا یہی پوچھا۔
"ہاں میں نے پڑھ لیا تھا۔ فکر نہ کرو جاتے ہوئے تمہیں لے کر جاؤں گی۔۔"
عالیہ نے اسے تسلی دی۔
"اچھا! تو کب لینے آؤ گی؟"
"میں تو گھر سے نکلنے والی ہوں۔ تمہاری تیاری مکمل ہے؟"
"تم بے فکر رہو۔ جب تک تم آؤ گی میں تمہیں تیار ملوں گی۔"
"اچھا ٹھیک ہے۔ میں کال رکھتی ہوں۔ تم جلدی سے تیار ہو جاؤ۔"
یہ کہہ کر عالیہ نے کال کاٹ دی۔
عالیہ کمرے سے نکل کر سیڑھیاں اتر کر نچلی منزل چلی گئی۔ وہ پورچ کی طرف بڑھنے لگی تو پیچھے سے اماں کی آواز سنائی دی۔
"تم کہاں جا رہی ہو؟"
اس نے مڑ کر اپنی ماں کو دیکھا۔ سر پر دوپٹہ اوڑھے اور ہاتھ میں تسبیح لیے وہ درود شریف پڑھ رہی تھیں۔
"آپ کو صبح بتایا تو تھا دوستوں کے ساتھ ریستوران میں جانا ہے۔ وہیں جا رہی ہوں۔"
نوال کے چہرے پر ایک دم ناگواری پھیل گئیں۔
"اس حلیے میں۔۔۔۔دوپٹہ کہاں ہے تمہارا؟"
"اس قمیض پر دوپٹہ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اس لیے میں نے نہیں پہنا۔"
عالیہ نے صفائی پیش کی۔
"تو کس نے کہا تھا یہ قمیض لینے کو؟ کوئی اور لے لیتی۔"
عالیہ کی بات سن کر نوال مزید غصے میں آگئیں۔
"اب دوپٹے کے چکر میں میں اتنی پیاری قمیض تھوڑی نہ چھوڑ سکتی تھی۔"
عالیہ روہانسی ہوکر بولی۔
"عورت کے لباس کی خوبصورتی، اس کا دوپٹہ ہوتا ہے۔ لباس جتنا حیا دار ہوگا، عورت اتنی ہی پیاری لگے گی لیکن تم آج کل کی لڑکیاں ایسی باتیں کہاں سمجھتی ہو۔ "
"اماں آپ کا لیکچر میں بعد میں آکر سن لوں گی۔ ابھی مجھے نمرہ کو بھی اس کے گھر سے لینا ہے۔"
عالیہ نے عجلت میں کہا۔
"آئندہ تم یہ قمیض مت پہننا، ورنہ میں تمہیں اور اس قیض کو آگ لگا دوں گی۔"
نوال نے عالیہ کو دھمکی دی۔عالیہ ان کی دھمکی کو خاطر میں نہیں لائی اور پورچ میں اپنی گاڑی کی جانب بڑھنے لگی۔
"عالیہ اپنی پھپھو کی میری طرف سے طبیعت پوچھ لینا۔ ان سے پوچھنا وہ اتنے دنوں سے گھر کیوں نہیں آئیں۔"
اماں نے پیچھے سے آواز لگائی
"اچھا۔ ٹھیک ہے۔ پوچھ لوں گی۔"
عالیہ نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے جواب دیا۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی اور گاڑی مین گیٹ سے باہر نکال کر باہر جانے لگی۔
***************************
عالیہ کی گاڑی ایک بنگلے کے باہر رکی۔ وہ اس گھر کے پورچ سے ہوتے ہوئے بنگلے کے اندر جا ہی رہی تھی جب لان میں کسی نے اسے پکارا۔
اس نے چہرے کا رخ آواز کی سمت پر کیا تو اسے کچھ دور ایک عورت کھڑی دکھائی دی۔ صاف رنگت۔۔۔ وجیہہ نقش۔۔۔۔۔۔ سیاہ آنکھیں۔۔۔۔ برینڈڈ لان کی شلواز قمیض میں ملبوس وہ بہت باوقار لگتتی تھیں۔
عالیہ ان کو دیکھ کر مسکرائی اور ان کے پاس چلی گئی۔ سیاہ آنکھوں والی عورت وہی پر کھڑی اسے اپنے پاس آتا دیکھتی رہیں۔۔
“السلام علیکم، زینب پھپھو!"
"وعلیکم اسلام، پھپھو کی جان!"
زینب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
"چلو اندر چلتے ہیں۔ شام کی چائے آج ہمارے ساتھ پیو۔ "
"نہیں پھپھو میں تو نمرہ کو لینے آئی ہوں۔ پھر جانا بھی ہے۔۔"
عالیہ نے انہیں بڑی خوش اخلاقی سے منع کیا۔
وہ دونوں لان میں ٹہلنے لگ گئیں۔ سورج کی مدھم پڑتی دھوپ ان دونوں کے بائیں جانب پڑ رہی تھی۔
“آپ اتنے دنوں ہمارے گھر کیوں نہیں آئیں؟ اماں بھی آپ کا پوچھ رہی تھیں۔"
ان کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی۔
"بس کچھ طبیعت خراب تھی، اس لیے آنا نہیں ہوا۔ انشاء اللہ ایک دو دن میں گھر کا چکر لگاتی ہوں۔"
"کیا ہوا ہے آپ کو؟ آپ نے ہمیں بتایا کیوں نہیں؟"
زینب نے بولنے کے لیے لب کھولے مگر عالیہ کی بات کا جواب پیچھے سے آتی نمرہ نے دیا۔
"ہونا کیا ہے؟ تمہاری پھپھو پر ایک بار پھر ڈیپریشن حاوی ہوگیا تھا۔"
زینب اور عالیہ نے مڑ کر اسے دیکھا۔ اس نے جینز کی پینٹ پر گلابی رنگ کی فراک پہنی تھی۔ بیگ کا اسٹریپ کندھے پر لٹکائے ہوئے وہ کچھ قریب آئی، تو اس کی سیاہ آنکھوں پر لگا کاجل واضح ہوا۔ وہ اپنی ماں کے برابر میں کھڑی ہوگئی اور زینب کی طرف دیکھتے دوبارہ بولی۔
"تمہاری پھپھو کو پتا نہیں کیوں پرانی باتوں کو دل سے لگائے رکھنے کا شوق ہے۔ خود تو پریشان ہوتی ہیں لیکن کسی دوسرے کو اپنے لیے پریشان ہوتا دیکھ نہیں سکتیں۔"
ماحول میں تناؤ پیدا ہوگیا۔ زینب نے نمرہ کا ہاتھ دبا کر گھورا تو وہ خاموش ہو گئی مگر اس کی نظریں ابھی بھی ماں پر تھیں۔ زینب نے بے اختیار نگاہیں چرائی۔ وہ تینوں ماحول کے تناؤ کو محسوس کر رہی تھیں جب گیٹ کے باہر ہارن بجنے کی آواز سنائی دی۔ چوکیدار نے گیٹ کھولا تو سیاہ رنگ کی گاڑی گھر کے اندر آئی اور پورچ میں رک گئی۔ ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھلا اور نووارد باہر آیا۔ اس کی نظر لان پر گئی جہاں وہ تینوں اسی کو دیکھ رہی تھیں۔ پھر گاڑی کا دروازہ بند کرتا وہ بھی ان کی جانب بڑھ گیا۔ ٹو پیس سوٹ پہنے۔۔۔۔معمولی نقوش۔۔۔۔ چہرے پر مسکراہٹ سجائے، وہ مرد ان کے پاس آگیا۔ عالیہ کو دیکھ کر اس نے براہ راست عالیہ کی جانب رخ کیا۔ اس نے گہری مسکراہٹ سے عالیہ کو خوش آمدید کہا۔
"شایان بھائی آج آپ اتنی جلدی؟"
نمرہ نے بے اختیا پوچھا۔
"ہاں مما نے کہا تھا کہ آج گھر جلدی آجانا، تو میں آگیا۔ ویسے بھی آج آفس میں اتنا کام نہیں تھا۔"
شایان نے بتانے پر نمرہ کو دوپہر والی بات یاد آئئی۔
"ویسے آپ تینوں عورتیں لان میں کھڑی ایسی کون سی راز و نیاز کی باتیں کر رہی ہیں۔ کیا میں جان سکتا ہوں؟"
شایان نے ان تینوں سے پوچھا۔
"کچھ نہیں بیٹا۔ عالیہ اور نمرہ اپنی دوستوں سے ملنے جا رہی ہیں۔۔"
زینب کی بات سن کر شایان کے تاثرات لمحے بھر کو تبدیل ہوئے لیکن وہ مسکرا کر چھپا گیا۔
"ہم تو اسی آس میں رہ جائیں گے کہ عالیہ کبھی ہمارے گھر آئے اور ہمارے ساتھ کچھ دیر وقت گزارے۔"
شایان نے "ہمارے” پر زور دیا۔
عالیہ اس طرح پوچھے جانے پر سٹپٹا گئی۔
"نہیں! ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔ آپ ہی مصروف رہتے ہیں۔ میں تو اکثر گھر آتی ہوں، آپ ہی گھر میں موجود نہیں ہوتے۔"
شایان عالیہ کا جواب سن کر مسکرایا۔ وہ عالیہ کو کچھ لمحے دیکھتا رہا، تو وہ الجھ گئی۔ اس نے نمرہ کو دیکھ کر بولا۔
"چلیں!"
نمرہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
“ہاں چلو!"
اس نے پھپھو کو اللّٰہ حافظ کہا اور گیٹ کی جانب بڑھ گئی۔ نمرہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چل دی۔ ان کے جانے کے بعد زینب گھر کے اندر چلی گئی جبکہ شایان گیٹ کی طرف ہی دیکھتا رہا۔
***********************
"تمہیں پھپھو سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔"
عالیہ نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے گفتگو کا آغاز کیا۔
"میں خود بھی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن وہ ہمیشہ مجبور کرتی ہیں۔ میں آج جانا نہیں چاہتی تھی لیکن انہوں نے مجھے زبردستی بھیجا ہے۔ میرے منع کرنے پر بھی وہ نہیں مانیں۔ "
نمرہ نے سامنے سڑک پر نظر جمائے جواب دیا۔ پھر اس نے عالیہ کو دیکھا۔
"وہ ہر بات میں اپنی منواتی ہیں۔ تم ہی بتا دو میں کیا کروں؟ وہ کوئی ایک بات تو ہماری مان ہی سکتی ہیں۔ پچھلے ہفتے ان کی طبیعت خراب تھی۔ وہ اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھیں۔ رات کو ان کے کمرے سے چیزیں ٹوٹنے کی زور دار آوازیں آتی۔ میں اور شایان بھائی ساری ساری رات جاگتے ہوئے گزارتے۔ انہیں تکلیف میں دیکھ کر ہمیں تکلیف ہوتی ہیں۔ تم بتاؤ ہم کیا کریں؟"
نمرہ کی آواز بولتے بولتے بہت بلند ہوگئی تھی۔ روانی سے بولنے کی وجہ سے اس کا سانس پھول گیا۔ وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئی۔ پھر پیسنجر سیٹ پر سر لگائے اپنی بات کا دوبارہ آغاز کیا۔ اب کی دفعہ اس ما لہجہ شکست خوردہ تھا۔
"ماما کو اب یہ بات مان لینی چاہیے کہ سالوں پہلے جو طوفان آیا تھا، اب وہ گزر چکا ہے۔ کہتے ہیں نا کہ غم کی پانچ مراحل ہوتے ہیں۔ انکار، غصہ، سودا بازی، ڈیپریشن اور قبولیت۔ لوگ آہستہ آہستہ ان مراحل کو پار کرتے ہیں۔ ماما نے شروع کے تین مراحل پار کر لیے ہیں مگر ڈیپریشن میں وہ پھنس گئی ہیں اور اس میں پھنسے رہنا چاہتی ہیں۔ ہم دنوں بہن بھائی انہیں اتنا سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ سائکاٹرسٹ کے پاس جا کر اپنا چیک اپ کروائے مگر انہیں لگتا ہے کہ ہم انہیں پاگل کہہ رہے ہیں۔ وہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتیں۔ میں، شایان بھائی اور ماما، ہم تینوں ایک عام زندگی گزار سکتے ہیں۔ اگر وہ کوشش کریں تو۔۔۔۔"
نمرہ کے سامنے منظر دھندلانے لگا۔ اس کی آنکھوں میں نمی اترنے لگیں۔ عالیہ کو اسے یوں دیکھ ہمدردی ہوئی۔ کچھ دیر بعد عالیہ نے پوچھا۔
"تم پھپھو کو قبول کرنے کا کہتی ہو لیکن کیا تم خود وہ سب قبول کر چکی ہو؟"
سیاہ آنکھوں میں مزید کرب اترا۔ اس نے آنکھیں میچ لیں۔ پھر آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔ جب اس نے جواب دیا تو اس کی آواز میں تکلیف واضح تھی۔
"ہاں میں وہ سب قبول کر چکی ہوں۔ جو ہوا، وہ نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن وہ "ہوچکا" ہے۔ قبول کرنے کے سوا میرے پاس کوئی اور آپشن نہیں تھا۔"
اس کے بعد وہ بس اتنا بولی۔
"پلیز! میں کچھ دیر خاموش رہنا چاہتی ہوں۔"
عالیہ نے سر اثبات میں ہلایا اور ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہوگئی۔
****************************
"آپ نے نمرہ کو باہر جانے کی اجازت کیوں دی؟"
شایان لاؤنج میں اپنی ماں کے سامنے کھڑا تھا۔ زینب اپنے مخصوص صوفے پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ اپنے بیٹے کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھیں، جو غصے سے ان سے جواب مانگ رہا تھا۔
"پہلی بات تو یہ اس نے مجھ سے اجازت نہیں مانگی، میں نے خود اسے بھیجا ہے۔ دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ تم کون ہوتے ہو مجھ سے پوچھ گچھ کرنے والے؟ نمرہ میری بیٹی ہے۔ اس کو کہاں بھیجنا ہے اور کب بھیجنا ہے یہ مجھے تم نہیں بتاؤ گے۔"
زینب نے متوازن مگر دو ٹوک لہجے میں اپنی بات باور کروا دی۔
شایان نے اپنے بالوں پر انگلیاں پھیر کر گہرے سانس لیتے ہوئے خود کو پرسکون کیا۔ اب جب وہ بولا تو اس کا لہجہ تھوڑا دھیما ہوا تھا۔
"میں آپ ہی کی وجہ سے کہہ رہا ہوں۔ پچھلے ایک ہفتے سے آپ کمرے میں خود کو بند کیے بیٹھی تھیں۔ اتنے دنوں بعد آپ کمرے سے نکلی تھیں۔ اس لیے نمرہ کے یوں جانے پر تھوڑا غصہ آگیا۔"
شایان بات کرتا ہوا سنگل صوفے پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں ملازمہ چائے کے دو کپ رکھ کر چلی گئی۔ زینب نے اپنا چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑا اور اسے دیکھتی کسی گہری سوچ میں گم ہوگئیں۔
شایان اپنی ماں کو دیکھتا رہا۔ وہ اپنی ماں سے کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ ان کے ردعمل سے بھی بخوبی واقف تھا۔ آخرکار اس نے اپنی ساری ہمت مجمع کی اور بات شروع کی۔
"وہ ماما مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔"
زینب نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ سمجھ چکی تھیں ان کا بیٹا، ان سے کیا بات کرنے جا رہا ہے۔
"میں نے شہر کی سب سے اچھی سائکاٹرسٹ سے وقت لیا ہے۔ وہ بہت اچھی ہے۔ آپ اس سے اپنا چیک اَپ کروائیں۔ دیکھ لیجیے گا شروع کے دو تین سیشن میں آپ کا ڈیپریشن ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گا۔ میں نے بدھ کا وقت۔۔"
انہوں نے شایان کی بات کاٹی۔
"تمہارا مطلب کیا ہے؟ مجھے دنیا کے سامنے پاگل کہلوانا چاہتے ہو۔ کیوں تم لوگوں کے سامنے میرا مذاق بنا رہے ہو؟ تم چاہتے ہو لوگ تمہاری ماں کو پاگل سمجھیں۔ یہی چاہتے ہو نا تم!"
زینب حلق کے بل چلّائی۔
"میں یہ نہیں چاہتا ہوں۔ میں بس آپ کا علاج کروانا چاہتا ہوں۔ میں بس۔۔۔۔۔"
"مجھے علاج کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے کچھ بھی سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں جانتی ہوں مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ بہتر ہوگا تم اپنے کام سے کام رکھو۔"
یہ کہہ کر وہ اٹھ کر چلی گئیں جبکہ شایان تاسف سے انہیں جاتا ہوا دیکھتا رہا۔
**********************
مغرب کی اذان کو ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔ مسجد سے نمازی اپنے مالک حقیقی کی بارگاہ میں حاضری دے کر اب اپنے گھروں اور دنیاوی کاموں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ ایسے میں اشفاق صاحب کے گھر میں آئیں، تو کھانا پکنے کی خوشبو نے نچلی منزل کو مہکایا ہوا تھا۔
عزاہ چولھے کے سامنے کھڑی ہانڈی میں رکھے سالن کی بھنائی کر رہی تھی۔ اس کا چہرہ پر سکون دکھائی دے رہا تھا جبکہ جائی یانہ کرسی پر بیٹھی تھی۔ وہ سلاد بنانے میں مصروف تھی۔میز پر کھیرے، گاجر ،بند گوبھی، ٹماٹر اور سلاد میں استعمال ہونے والی سبزیاں پڑی تھی۔ جائی یانہ کے ہاتھ مشینی انداز میں حرکت کر رہے تھے۔
عزاہ نے ہانڈی میں چمچہ ہلاتے ہوئے جائی یانہ کو بولا۔
“جلدی گاجر کاٹو۔ ابھی اور سبزیاں بھی پڑی ہیں۔"
"ہاں تو کاٹ ہی تو رہی ہوں۔"
جائی یانہ نے اس کی بات کا برا منایا۔
ایسے میں نوال کچن میں آئیں۔ انہوں نے چہرے کی چاروں طرف ڈوپٹہ اوڑھا ہوا تھا۔ ہاتھوں میں تسبیح لیے وہ کوئی ورد پڑھ رہی تھیں۔ انہوں پہلے جائی جانہ پر پھونک ماری، پھر عزاہ پر۔
پھر وہ جائی یانہ کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئیں اور ان دونوں سے پوچھا۔
"تم دونوں نے مغرب کی نماز پڑھ لی؟"
جائی یانہ اور عزاہ ایک ساتھ جواب دیا
“جی!"
ان کی بیٹیاں جانتی تھیں نماز اور دیگر دینی معاملات میں ان کی ماں ان کی ایک نہیں سنتی تھیں۔ وہ دین کے معاملے میں انتہائی سختی برتتی تھیں۔
جائی یانہ کٹی ہوئی سبزیاں پیالے میں ڈال رہی تھی۔ نوال ان کٹی سبزیوں گاجر کے ٹکرے کو اٹھایا۔ وہ کچھ اس طرح کٹا تھا کہ ایک طرف موٹائی زیادہ تھی جبکہ دوسری طرف کم تھی۔ نوال نے جائی یانہ کے منہ کے سامنے گاجر کا ٹکڑا کیا اور پوچھا۔
"یہ کیا ہے؟"
"گاجر ہے۔"
جائی یانہ نے سبزی کاٹتے ہوئے بڑے آرام سے کہا۔
اس کی یہ بات نوال کو مزید اشتعال دلا گئی۔
"یہ مجھے بھی پتہ ہے۔ میں کہہ رہی ہوں انسان کی طرح سبزیاں کاٹو!"
"اماں صرف ایک ہی ٹکڑا ایسے ہوا ہے۔ باقی دیکھیں بالکل ٹھیک ہیں۔ آپ تو یونہی غصہ کرتی ہیں۔"
نوال جائی یانہ کی بات پر جل کر بولیں۔
"ہاں میرا ہی قصور ہے۔ میں ہی بلا وجہ غصہ کرتی ہوں۔ تم تو کچھ کرتی ہی نہیں ہو۔۔"
"دیکھیں امی آپ خود ہی سچ بول رہی ہیں۔ یہی بات میں بولتی، تو آپ ابھی تک مجھے جہنمی ڈیکلیئر کر چکی ہوتیں۔"
نوال نے جائی یانہ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
"مجھ سے باتوں کی بجائے، اپنے کام پر دھیان دو۔ اب اگر تمہاری آواز آئی تو تمہارے سر، پر بیلن پڑے گا۔۔"
عزاہ نے بھی ہانڈی پر ڈھکن رکھتے ہوئے جائی یانہ کو تنبیہہ دی۔
"جائی یانہ میں روٹیاں پکا رہی ہوں۔ جب تک میں روٹیاں پکاؤں، ساری سبزیاں کٹ کر پلیٹ میں اچھی طرح سج جانی چاہیے۔ اور اب تم نے سبزیاں کاٹتے ہوئے اپنی لمبی زبان میں قابو نہیں رکھا، تو اماں کو بیلن میں خود دوں گی۔"
جائی یانہ نے یہ بات سن کر پہلے اپنی ماں اور بہن کا چہرہ دیکھا۔ پھر منہ بنا کر خاموشی سے سبزیاں کاٹنے لگی۔ کچن میں کچھ دیر خاموشی رہی۔ عزاہ نے روٹیاں پکاتے ہوئے محسوس کیا اس کی ماں کسی سوچ میں گم تھین۔ اس نے چوتھی روٹی بیلتے ہوئے ماں سے پوچھا۔
"کیا ہوا امی! کیا سوچ رہی ہیں؟"
"ایک کام کا کہنے آئی تھی لیکن اب میں بھول گئی ہوں۔ یہ ہے نا تمہاری بہن! الٹی سیدھی باتوں میں لگا کر ضروری بات بھلوا دیتی ہے۔"
نوال نے سارا الزام اپنے سامنے بیٹھی جائی یانہ پر لگا دیا۔ جائی یانہ پر جب خاموش رہنے اور اپنا کام کرنے کے باوجود الزام لگایا گیا تو اس کامنہ کھلا رہ گیا۔ اس نے روٹی پکاتی عزاہ سے ماں کی شکایت کی۔
"بجو اب میں نے کیا کیا ہے، جو اماں مجھ پر الزام لگا رہی ہیں۔ بھئی بات تو آپ بھولی ہیں۔ میں تھوڑی نا بھولی ہوں۔"
"چپ چاپ کام کرو ورنہ بیلن یاد ہے نا!"
عزاہ نے بیلی ہوئی روٹی کو توے پر ڈالتے ہوئے اپنی دھمکی یاد دلائی۔ جائی یانہ کڑھ کر رہ گئی۔
اماں جائی یانہ کو کچھ سخت سناتیں، انہیں اپنی بھولی بات یاد آئی۔ وہ عزاہ کی طرف دیکھ کر بولیں۔
"عزاہ! عالیہ کو تو کال کرو اور پوچھو کہاں ہے وہ؟ اس سے بولو جہاں کہیں بھی ہے، فوراً گھر پہنچے۔ مغرب بھی ہو گئی ہے۔ تمہارے ابو گھر آئے اور اسے نہیں دیکھا، تو تم جانتی ہو کتنا غصہ ہونگے۔"
عزاہ کا روٹی بیلتا ہاتھ سست پڑا۔ چہرے کے تاثرات تن گئے۔
"جائی یانہ!! جب یہ سبزیاں کاٹ لو، تو اماں کی بات اپنے فون سے کروا دینا۔"
"میں نے تمہیں کہا ہے، جائی یانہ کو نہیں!"
"میں نے آپ کے کہنے پر ایک دفعہ کال کی تھی، جس پر مجھے سامنے سے جواب ملا میں اس کی ماں نہ بنوں اور نہ اس کی سگی ماں کو اس کے خلاف کروں۔"
عزاہ نے آخری روٹی، چولہے پر ڈالتے ہوئے تھوڑے سخت لہجے میں اپنی بات جاری رکھی۔
"اسی طرح ایک دن آپ کو عالیہ کو گھر بلانا تھا۔ آپ نے میرے موبائل سے کچھ سخت کہہ کر اس کو گھر بلا لیا۔ گھر آکر اس نے مجھ سے کہا کہ میں خود کال نہیں کرتی، تو آپ کو بھڑکا کر کال کروا دیتی ہوں۔ اس لیے آپ کو عالیہ سے کال کرنی ہو تو جائی یانہ یا گھر کے فون سے کال کرلیا کریں۔"
روٹی پک گئی۔ عزاہ روٹی کو ہاٹ پاٹ میں ڈالا اور کچن سے باہر چلی گئی۔ اماں نے تاسف سے اسے جاتا ہوا دیکھا۔
جائی یانہ ساری سبزیاں کاٹ چکی تھی۔ اس نے پلیٹ پر سلاد کو سجاتے ہوئے اپنی ماں سے سوال کیا۔
"یہ ہر وقت ایک دوسرے سے لڑتی کیوں رہتی ہیں؟"
"ایک وقت تھا جب دونوں ایک دوسرے پر جان چھڑکتی تھی۔ پتا نہیں اب ایسا کیا ہوگیا ہے دونوں ایک دوسرے سے اتنی متنفر ہوگئی ہیں؟!"
"کیا!! آپ سچ کہہ رہی ہے؟"
جائی یانہ واقعی حیران تھی کیونکہ اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا، اپنی دونوں بہنوں کو یوںہی لڑتے جھگڑتے دیکھا تھا۔
"ہاں میں سچ کہہ رہی ہوں۔ جب تم چھوٹی تھی تب تک سب ٹھیک تھا۔"
"تو آپ نے ان لڑائیوں کی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کی؟"
نوال نے اس کے ہاتھ سے سلاد کی پلیٹ لے کر جواب دیا۔
"شروع میں تو میں نے نظر انداز کیا۔ مجھے لگتا تھا بہنوں میں لڑائیاں اکثر رہتی ہیں مگر ان دونوں کی لڑائیاں بڑھتی ہی چلی گئیں۔ میں نے وجہ جاننے کی کوشش کی مگر سب بے کار رہا۔ دونوں نے بات ٹال دی۔"
" میں آپی کو کال کروں یا آپ بات کرو گی؟"
جائی یانہ نے کرسی پر سے اٹھتے ہوئے پوچھا۔
"بس میسج کردو اور لکھنا اماں کہہ رہی ہیں فوراً گھر پہنچو!"
"اچھا!"
جائی یانہ کا رخ اب اپنے کمرے کی جانب تھا۔
***********************
عالیہ اور نمرہ بقیہ تمام راستے خاموش رہے۔ وہ دونوں کچھ دیر بعد فاطمہ کے سینڈ کیے ایڈریس پر پہنچ گئے۔ گاڑی پارک کرنے کے بعد وہ دونوں ریستوران کے اندر آگئیں۔ پورا ریستوران اسکن اور بھورے رنگ کے امتزاج سے بنا تھا۔
دیواریں اسکن رنگ کی تھی، جس پر بھورے رنگ کا دلفریب ڈیزائن بنا ہوا تھا۔ دائیں طرف کی دیوار شیشے کی بنی تھی۔ فرش پر اسکن رنگ کی ٹائلز جبکہ کرسیاں اور میز بھورے رنگ کی تھیں۔۔
فاطمہ اور صوفیہ ابھی تک نہیں آئی تھیں۔ وہ دونوں ایک خالی میز پر بیٹھ کر، ان کا انتظار کرنے لگے۔ اس دوران عالیہ کو محسوس ہوا کوئی اسے دیکھ رہا ہے مگر جب بھی وہ ادھر اھدر دیکھتی تو کوئی بھی اس کی جانب متوجہ نہیں تھا۔ انہیں انتظار کرتے ہوئے گھنٹہ گزر گیا۔
"ہمیں بلا کر خود پہنچ نہیں رہیں!"
عالیہ نے اکتاہٹ سے کہا۔
"میں دونوں کو کال کرکے پوچھتی ہوں!"
نمرہ نے ان کا نمبر ڈائل کرنے کے لیے موبائل اٹھایا مگر کال کرنے سے پہلے ہی وہ دو ریستوان میں آگئیں۔
دونوں ٹاپس اور جینز میں ملبوس تھیں۔ ان کے ہاتھ میں برینڈڈ بیگ لٹک رہے تھے۔
"وہ دونوں آگئیں!"
نمرہ نے عالیہ کو بتایا۔ عالیہ کی ان کی جانب پشت تھی۔ اس نے گردن موڑ کر نمرہ کی نگاہوں کا تعاقب کیا تو وہ دونوں اسے اپنے پاس آتی دکھائی دیں۔
"ہیلو عالیہ!"
"ہیلو نمرہ!"
فاطمہ اور صوفیہ نے اپنی کرسیاں کھینچی۔
"کیا میں پوچھ سکتی ہوں چھ بجے کا وقت دے کر ساڑھے سات بجے کون آتا ہے؟"
عالیہ نے آتے ہی ان پر چڑھائی کی۔
"اوہ پلیز عالیہ! ہم دونوں کو آرام سے بیٹھنے تو دو۔"
صوفیہ نے اس کو ٹوکا۔
"نہیں مجھے ابھی بتاؤ!"
عالیہ نے کسی ضدی بچے کی طرح بولا۔
"میری کار خراب ہوگئی تھی۔ ڈرائیور میکینک کے پاس گیا تھا جس کی وجہ لیٹ ہوگئی۔"
صوفیہ نے اپنی وجہ بتا کر اپنی جان چھڑوائی۔
"اور آپ محترمہ؟!"
عالیہ نے اب فاطمہ سے پوچھا۔
"مجھے تیار ہونے کے بعد میرا ڈریس اچھا نہیں لگا تو چینج کر لیا۔ اس لیے دیر ہوئی۔"
اس سے پہلے عالیہ کچھ اور کہتی نمرہ نے مداخلت کی۔
"اب اس تفتیش کو بند کرو اور ویٹر سے مینیو منگواؤ۔ ایک گھنٹے سے بیٹھے ہیں اور ابھی تک کچھ آرڈر نہیں کیا۔ اب ویٹر گھور کر جا رہے ہیں!"
"تمہاری کزن کے سوالات ختم نہیں ہوتے۔"
صوفیہ نے طنز کیا جس پر عالیہ نے آنکھیں گھمائیں۔
ویٹر نے آکر ان چاروں کے آگے مینیو رکھا۔ عالیہ نے اپنا آرڈر جلدی دے دیا جبکہ وہ تینوں اپنا آرڈر دے رہی تھیں۔ اتنے میں اس کے موبائل پر میسج آیا۔ اس نے نوٹیفکیشن دیکھا تو جائی یانہ کے نمبر سے میسج آیا تھا۔ اس نے میسج پڑھا۔
“اماں غصے میں ہیں۔ آپ کو فوراً گھر بلا رہی ہیں۔"
عالیہ نے میسج ٹائپ کیا۔
"اماں کو بولو ابھی ہم آرڈر دے رہے ہیں۔ کھانا کھانا ابھی باقی ہے۔"
"یہ بات سن کر امی کا بی پی شوٹ کر جائے گا۔"
"جائی یانہ! جتنا کہا ہے، اتنا کرو۔"
یہ لکھ کر اس نے میسج سینڈ کردیا اور موبائل ہینڈ بیگ میں ڈال دیا۔ ان تینوں نے اپنا آرڈر لکھوا لیا تو ویٹر ان کا آرڈر لے کر چلا گیا۔
***********************
ایک گھنٹے بعد اگر دوبارہ ان کی میز پر آؤ، تو ان کی میز پر پلیٹیں بکھری ہوئی تھیں۔ پلیٹوں پر چکنائی اور کھانے کے بچے ہوئے ذرات تھے۔ وہ چاروں اپنا کھانا ختم کر چکی تھیں اور اب جانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ عالیہ اپنا موبائل ہینڈ بیگ سے نکالتی کھڑی ہوئی، تو فاطمہ کی نظر اس کی سینڈل پر گئی۔
"سینڈل تو تمہاری بہت پیاری ہے۔"
اپنی سینڈل کی تعریف سن کر عالیہ کھل کر مسکرائی۔ اس نے فاطمہ کو بتایا۔
“بابا نے میری سالگرہ پر یہ دیے تھے۔"
"لیکن ماموں نے عزاہ کو جو بریسلٹ دیا تھا۔ وہ بھی بہت پیارا تھا۔"
نمرہ نے انتہائی ہلکے پھلکے لہجے میں اپنا تبصرہ دیا۔
نمرہ کی بات سن کر عالیہ کی مسکراہٹ پھیکی پڑی۔ وہ جو اپنی سینڈل کی تعریف پر خوش ہوئی تھی، عزاہ کا نام سن کر اس کا سارا موڈ خراب ہوگیا۔
"عزاہ کا ذکر کرنا ضروری تھا کیا نمرہ؟!"
وہ کہنا تو یہی چاہتی تھی مگر جب بولی تو بس اتنا ہی کہا۔
"چليں نو بجے سے پہلے گھر پہنچنا ہے۔"
نمرہ نے سر ہلایا۔ وہ چاروں صدر دروازے کی جانب بڑھنے لگے۔ فاطمہ اور صوفیہ آگے چل رہی تھیں۔ وہ دونوں کسی بات پر بحث کر رہی تھیں۔ نمرہ درمیان میں چلتی کسی گہری سوچ میں گم تھی۔ جبکہ عالیہ ان سب سے پیچھے موبائل پر لگی تھی۔ ایسے میں ایک گھنگھرالے بالوں والا ویٹر ان کی مخالف سمت سے آیا۔ اس نے ٹرے پکڑی ہوئی تھی جس میں تین کافی کے کپ تھے۔ وہ بڑے آرام سے ان کی دائیں جانب سے گزر رہا تھا جب اچانک اس ویٹر کا توازن بگڑا اور ٹرے اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی۔ کافی عالیہ کے ہاتھوں پر گر گئی۔ عالیہ اچانک اپنے ہاتھ پر گرم مائع گرنے پر بلبلا اٹھی۔ اس نے بد حواسی میں پیچھے ہوئی تو اس کی سینڈل کی ہیل ٹوٹ گئی۔ وہ توازن قائم نہ رکھتے ہوئے گر پڑی۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ عالیہ کو سمجھ ہی نہیں آئی۔
نمرہ نے عالیہ کو گرا دیکھا تو اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور اس کا جلا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا۔
“یہ کیا بدتمیزی تھی؟"
"دکھائی نہیں دیتا؟ اندھے ہو؟"
فاطمہ اور صوفیہ نے ویٹر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ پورے ہوٹل میں بد مزگی پھیل گئی۔ عالیہ خالی الذہن سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ اس کے حواس اس وقت بیدار ہوئے، جب ایک شخص اس کے پاس بیٹھا اور نمرہ سے اس کا ہاتھ چھڑا کر اپنی گرفت میں لیا۔ اس نے اس شخص کو دیکھا تو وہ اسے کافی وجیہہ لگا۔ ٹو پیس سوٹ میں ملبوس، عالیہ کے ہاتھ کو فکر مندی سے دیکھ رہا تھا۔ عالیہ نے ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھی نمرہ کو دیکھا۔ وہ بھی الجھن سے سامنے بیٹھے آدمی کو دیکھ رہی تھی۔ جب اسکو احساس ہوا اس کا ہاتھ اس شخص نے پکڑا ہوا ہے، تو اس نے فوراً ہاتھ کھینچا۔
اس شخص کے تاثرات بدلے، جو بتائے نہیں جا سکتے۔
"آپ کا ہاتھ بری طرح جلا ہے۔ میرے پاس مرہم ہے۔ آپ کہیں تو لا دوں؟"
مردانہ گھمبیر آواز عالیہ کے کانوں میں ٹکرائی۔
"نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے"
عالیہ نے خشک لہجے میں جواب دیا۔ وہ اپنی ہیل دیکھ رہی تھی جو ٹوٹ چکی تھی۔ اب وہ بالکل بھی پہنی نہیں جا سکتی تھی۔
"کچھ دیر بعد آپ کے ہاتھوں پر چھالے بن جائیں گے۔ میں تو آپ کے لیے ہی کہہ رہا تھا لیکن اگر آپ کو نہیں چاہیے، تو ٹھیک ہے۔"
وہ یہ کہہ کر اٹھ گیا اور جانے کے لیے مڑ گیا۔
عالیہ اس شخص کو نظر انداز کیے اپنے سینڈل کے اسٹریپ اتار رہی تھی جب اسے اپنے ساتھ بیٹھی نمرہ کی آواز سنائی دی۔
"آپ ایسا کریں دوائی لا دیں۔"
اس آدمی نے مڑ کر نمرہ کو دیکھا جبکہ عالیہ نمرہ کو گھور رہی تھی۔
"اوکے میں لا دیتا ہوں۔"
یہ کہہ کر وہ شخص رکا نہیں بلکہ آگے چل دیا۔ نمرہ نےاسے جاتا ہوا دیکھا۔ جب عالیہ نے اس کا کندھے جھنجھوڑ کر اپنی جانب متوجہ کیا۔
"کیا ضرورت تھی کسی راہ چلتے سے مدد مانگنے کی؟"
"میں نے تو تمہارا ہی سوچا تھا!"
"میرے لیے سوچنے کے لیے ابھی میں موجود ہوں۔"
"اب تو میں نے کہہ دیا۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔"
نمرہ نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔ عالیہ کلس کر رہ گئی۔ عالیہ اپنے دوسرے ہاتھ سے سینڈل کی اسٹریپ
پکڑے کھڑی ہوئی، تو اس کے بائیں پاؤں میں درد کی لہر اٹھی مگر درد اتنا زیادہ نہیں تھا کہ وہ چل نہ پاتی۔ اس لیے برداشت کر گئی۔
ان دونوں نے فاطمہ اور صوفیہ کو دیکھا جو ویٹر پر برس رہی تھی۔ وہ ویٹر کو صفائی دینے کا موقع تک نہ دے رہی تھی۔ ان کے ساتھ ریستوران کا مینیجر بھی کھڑا تھا۔ وہ فاطمہ اور صوفیہ کو ٹھنڈا کرنے کی بھر پور کوشش کرہا تھا لیکن وہ دونوں چپ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
"آپ کا اسٹاف بہت غیر ذمے دار ہے۔ آپ کے ویٹر نے ایک تو میری دوست پر گرم کافی گرا دی اور اب اپنی غلطی ماننے کی بجائے یہ جھوٹے بہانے بنا رہا ہے۔"
صوفیہ نے مینیجر کو دیکھتے ہوئے بولا۔
"دیکھیں میں جھوٹے بہانے نہیں بنا رہا ہوں وہ تو۔۔”
ویٹر نے بولنے کی کوشش کی تو فاطمہ نے اس کی
بات دوبارہ کاٹ دی۔
"ہم بہت اچھے سے جانتے ہیں تم کیا کر رہے ہو اور کیا نہیں۔ اس لیے ہم پر تمہاری جھوٹی سچی کہانیوں کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔"
ویٹر بولنے لب کھولے تو اس بار مینجر نے اسے چپ کروا دیا۔
“تم اندر جاؤ۔ تم سے تو میں، بعد میں بات کروں گا۔"
وہٹر یہ سن کر خاموشی سے چلا گیا۔ مینجر ان دونوں کو سمجھانے لگا۔
***************************
اشفاق کے گھر کی طرف واپس آؤ، تو جائی یانہ اپنے سنگل بیڈ کے تاج سے ٹیک لگائے آرام سے کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی۔ اس کے مطالعہ میں خلل اشفاق کی گاڑی کا ہارن بجنے سے ہوا۔ جائی یانہ ایک دم سے سیدھی ہوئی اور بیڈ کے ساتھ رکھی چھوٹی میز سے اپنا موبائل اٹھایا۔ کوئی میسج نہیں آیا ہوا تھا۔
"بابا گھر آ چکے ہیں، جتنی جلدی ہوسکے گھر پہنچو۔"
جائی یانہ نے عالیہ کو میسج کیا اور کتاب بیڈ پر رکھ کر کھڑی ہوگئی۔ اپنے کمرے سے نکل کر وہ تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگی۔ ابھی دو تین زینے باقی تھے، جب جائی یانہ نے اشفاق صاحب کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا۔ ان کو دیکھ کر اس نے اپنی رفتار کم کی اور سلام کیا۔
"السلام علیکم!"
"وعلیکم اسلام!"
وہ زینے اتر کر اشفاق کے ساتھ چلنے لگی۔ ان دونوں کا رخ لاؤنج کی جانب تھا۔
"کیسا گزرا آپ کا دن؟"
جائی یانہ نے سوال کیا۔
"مصروف!" اشفاق نے جواب دیا۔ "آپ کا کیسا گزرا؟"
"میرا بھی بہت زیادہ مصروف تھا۔"
جائی یانہ نے بتایا۔
وہ دونوں لاؤنج میں آکر صوفے پر بیٹھ گئے۔ عزاہ کچن سے پانی کا گلاس لے کر لاؤنج میں آئی اور اشفاق صاحب کو دیا۔عزاہ نے جاتے ہوئے جائی یانہ کو دیکھ کر طنز کیا۔
" آپ بھی کبھی کھانا لگانے میں مدد کر دیا کریں۔"
"ہاں تو سلاد بنا کر تو دیا ہے۔"
“مجھ پر احسان کیا۔"
تھوڑی دیر بعد نوال نے ڈائننگ ہال میں سب کو بلایا تو، اشفاق اور جائی یانہ ڈائننگ ہال میں چلے گئے۔ ڈائننگ ہال میں آتے ہی اشفاق نے عالیہ کا پوچھا۔
"عالیہ کہاں ہے؟"
ان کی یہ بات سن کر ان تینوں کو سانپ سونگھ گیا۔
نوال نے بات بنانے کی کوشش کی مگر ان سے پہلے ہی عزاہ نے سچ بتا دیا۔
"بابا وہ دوستوں کے ساتھ کسی ریستوران گئی ہے۔ اب تو آتی ہی ہوگی۔"
عزاہ کی بات سن کر اشفاق کی آنکھوں نے پہلے حیرت اور پھر غصہ سے سب کو دیکھا۔ انہوں نے پہلے ڈائننگ ہال کی دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھا جو پونے نو ہونے کا بتا رہی تھی۔ پھر نوال کو دیکھا جو گھبرائی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔
"رات کے پونے نو ہو رہے ہیں اور بڑی بیٹی گھر سے باہر ہے۔ یہ بات بھی مجھے تب پتا چلی، جب میں نے خود پوچھا ورنہ کسی نے بتانے کی زحمت نہیں کرنی تھی۔"
اشفاق صاحب نے نوال کی طرف دیکھتے ہوئے برہمی سے کہا۔
"وہ کب گئی تھی؟"
“پانچ، ساڑھے پانچ بجے!" عزاہ نے بتایا۔
"کسی نے اسے کال کی ہے یا یہ زحمت بھی نہیں ہوئی؟"
اشفاق نے طنزاً بولا۔
"میں نے میسج کیا تھا بابا۔ آپی کی دوست کچھ لیٹ پہنچی تھی ورنہ آپی جلدی آ جاتیں۔ اب تک تو وہ نکل بھی گئیں ہونگی۔"
جائی یانہ نے ان کو تفصیل سے بتایا۔
"اتنی دیر ہوگئی اور آپ کو کوئی فکر نہیں ہے۔ کیسی ماں ہیں آپ؟ میں نے آپ کو بلکہ بچوں کو بھی بتایا ہے مغرب کے بعد مجھے سارے بچے گھر پر ملیں، لیکن میری بات کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتا۔"
اشفاق نوال کو ڈانٹ رہے تھے جبکہ نوال سر جھکائے خاموشی سے سن رہی تھیں۔
"اتنی بھی دیر نہیں ہوئی۔ کھانا بھی ٹھنڈا ہورہا ہے۔ ایسا کرتے ہیں، پہلے ہم کھانا کھا لیتے ہیں۔"
جائی یانہ نے ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ سب نے اسے گھورا۔ جائی یانہ نے خاموش رہنے میں عافیت سمجھی۔
اشفاق نے ایک سخت نظر نوال پر ڈالی اور ڈائننگ ہال سے باہر نکل گئے۔ ان کو باہر جاتا دیکھ کر جائی یانہ بھی ان کے پیچھے چل دی۔ نوال سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔
"کوئی موقع نہیں چھوڑتے، تم تینوں مجھے ذلیل کروانے کا۔"
عزاہ نے ان کے کندھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
ڈائننگ ٹیبل پر رکھا کھانا ٹھنڈا ہوچکا تھا۔ ایک بات تو یقینی تھی جب تک عالیہ گھر واپس نہیں پہنچے گی، تب تک کوئی کھانا نہیں کھائے گا۔
*********************
اشفاق کے گھر کی طرف واپس آؤ، تو جائی یانہ اپنے سنگل بیڈ کے تاج سے ٹیک لگائے آرام سے کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی۔ اس کے مطالعہ میں خلل اشفاق کی گاڑی کا ہارن بجنے سے ہوا۔ جائی یانہ ایک دم سے سیدھی ہوئی اور بیڈ کے ساتھ رکھی چھوٹی میز سے اپنا موبائل اٹھایا۔ کوئی میسج نہیں آیا ہوا تھا۔
"بابا گھر آ چکے ہیں، جتنی جلدی ہوسکے گھر پہنچو۔"
جائی یانہ نے عالیہ کو میسج کیا اور کتاب بیڈ پر رکھ کر کھڑی ہوگئی۔ اپنے کمرے سے نکل کر وہ تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگی۔ ابھی دو تین زینے باقی تھے، جب جائی یانہ نے اشفاق صاحب کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا۔ ان کو دیکھ کر اس نے اپنی رفتار کم کی اور سلام کیا۔
"السلام علیکم!"
"وعلیکم اسلام!"
وہ زینے اتر کر اشفاق کے ساتھ چلنے لگی۔ ان دونوں کا رخ لاؤنج کی جانب تھا۔
"کیسا گزرا آپ کا دن؟"
جائی یانہ نے سوال کیا۔
"مصروف!" اشفاق نے جواب دیا۔ "آپ کا کیسا گزرا؟"
"میرا بھی بہت زیادہ مصروف تھا۔"
جائی یانہ نے بتایا۔
وہ دونوں لاؤنج میں آکر صوفے پر بیٹھ گئے۔ عزاہ کچن سے پانی کا گلاس لے کر لاؤنج میں آئی اور اشفاق صاحب کو دیا۔عزاہ نے جاتے ہوئے جائی یانہ کو دیکھ کر طنز کیا۔
" آپ بھی کبھی کھانا لگانے میں مدد کر دیا کریں۔"
"ہاں تو سلاد بنا کر تو دیا ہے۔"
“مجھ پر احسان کیا۔"
تھوڑی دیر بعد نوال نے ڈائننگ ہال میں سب کو بلایا تو، اشفاق اور جائی یانہ ڈائننگ ہال میں چلے گئے۔ ڈائننگ ہال میں آتے ہی اشفاق نے عالیہ کا پوچھا۔
"عالیہ کہاں ہے؟"
ان کی یہ بات سن کر ان تینوں کو سانپ سونگھ گیا۔
نوال نے بات بنانے کی کوشش کی مگر ان سے پہلے ہی عزاہ نے سچ بتا دیا۔
"بابا وہ دوستوں کے ساتھ کسی ریستوران گئی ہے۔ اب تو آتی ہی ہوگی۔"
عزاہ کی بات سن کر اشفاق کی آنکھوں نے پہلے حیرت اور پھر غصہ سے سب کو دیکھا۔ انہوں نے پہلے ڈائننگ ہال کی دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھا جو پونے نو ہونے کا بتا رہی تھی۔ پھر نوال کو دیکھا جو گھبرائی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔
"رات کے پونے نو ہو رہے ہیں اور بڑی بیٹی گھر سے باہر ہے۔ یہ بات بھی مجھے تب پتا چلی، جب میں نے خود پوچھا ورنہ کسی نے بتانے کی زحمت نہیں کرنی تھی۔"
اشفاق صاحب نے نوال کی طرف دیکھتے ہوئے برہمی سے کہا۔
"وہ کب گئی تھی؟"
“پانچ، ساڑھے پانچ بجے!" عزاہ نے بتایا۔
"کسی نے اسے کال کی ہے یا یہ زحمت بھی نہیں ہوئی؟"
اشفاق نے طنزاً بولا۔
"میں نے میسج کیا تھا بابا۔ آپی کی دوست کچھ لیٹ پہنچی تھی ورنہ آپی جلدی آ جاتیں۔ اب تک تو وہ نکل بھی گئیں ہونگی۔"
جائی یانہ نے ان کو تفصیل سے بتایا۔
"اتنی دیر ہوگئی اور آپ کو کوئی فکر نہیں ہے۔ کیسی ماں ہیں آپ؟ میں نے آپ کو بلکہ بچوں کو بھی بتایا ہے مغرب کے بعد مجھے سارے بچے گھر پر ملیں، لیکن میری بات کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتا۔"
اشفاق نوال کو ڈانٹ رہے تھے جبکہ نوال سر جھکائے خاموشی سے سن رہی تھیں۔
"اتنی بھی دیر نہیں ہوئی۔ کھانا بھی ٹھنڈا ہورہا ہے۔ ایسا کرتے ہیں، پہلے ہم کھانا کھا لیتے ہیں۔"
جائی یانہ نے ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ سب نے اسے گھورا۔ جائی یانہ نے خاموش رہنے میں عافیت سمجھی۔ اشفاق نے ایک سخت نظر نوال پر ڈالی اور ڈائننگ ہال سے باہر نکل گئے۔ ان کو باہر جاتا دیکھ کر جائی یانہ بھی ان کے پیچھے چل دی۔ نوال سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔
"کوئی موقع نہیں چھوڑتے، تم تینوں مجھے ذلیل کروانے کا۔"
عزاہ نے ان کے کندھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
ڈائننگ ٹیبل پر رکھا کھانا ٹھنڈا ہوچکا تھا۔ ایک بات تو یقینی تھی جب تک عالیہ گھر واپس نہیں پہنچے گی، تب تک کوئی کھانا نہیں کھائے گا۔
**************
ریستوران میں دوبارہ سکون قائم ہوچکا تھا۔ کچھ دیر پہلے والا شور اب ختم ہوگیا تھا۔ فرش پر گری کافی صاف ہوگئی تھی۔ ایسے میں عالیہ کونے کی میز میں کرسی پر بیٹھی، اپنا ہاتھ نمرہ کے سامنے کیے ہوئے تھی۔ نمرہ کے ہاتھ میں ٹیوب تھی جس میں سے وہ کریم نکال کرعالیہ کے جلے ہاتھ پر لگا رہی تھی۔ فاطمہ اور صوفیہ ان کے پیچھے کھڑی، ان کو دیکھ رہی تھیں۔ مینیجر ان کے دائیں طرف کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر پریشانی صاف ظاہر تھی۔ اس نے فاطمہ اور صوفیہ کو قابو کیا تھا۔ اسے یہی ڈر تھا وہ دونوں دوبارہ ہنگامہ نہ شروع کردیں۔
عالیہ کے بلکل سامنے وہ کھڑا تھا۔ وہ عالیہ کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ عالیہ کو پہلے ہی جلن ہو رہی تھی، اوپر سے اس شخص کا یوں اسے دیکھنا اسے زہر لگ رہا تھا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا اس شخص کا منہ توڑ دے لیکن بمشکل ضبط کیے وہ بیٹھی رہی۔ نمرہ نے جب دوائی لگا لی، تو سامنے کھڑے شخص نے اسے مسکرا کر دیکھا۔
“آپ کا بہت بہت شکریہ!"
"!شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں"
اس نے بھی مسکراتے ہوئے کہا لیکن لہجہ سنجیدہ تھا۔
نمرہ نے ٹیوب کو اس کو دے دی۔ وہ آدمی واپس جانے لگا تو نمرہ نے پوچھا۔
“آپ کا نام کیا ہے؟"
اس شخص نے ایک نظر اپنے سامنے بیٹھی دونوں لڑکیوں کو دیکھا۔ سنہری آنکھوں والی لڑکی، سارے جہاں کی بیزاری اپنے اندر سموئے کسی اور جانب دیکھ رہی تھی جبکہ سیاہ آنکھوں والی لڑکی اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔
"میرا نام آریان جہانگیر ہے۔"
یہ کہہ کر وہ رکا نہیں، چلا گیا۔
"تم اس کا انٹرویو لے رہی تھی، جو نام پوچھا؟"
عالیہ نے طنزیہ پوچھا۔
"میں نے تو بس یونہی پوچھ لیا، تم تو پیچھے ہی پڑ جاتی ہو۔"
یہ کہہ کر وہ اٹھ گئی۔ عالیہ بھی کھڑی ہوگئی۔ اس کے ہاتھ میں اپنے ٹوٹے جوتے تھے۔ وہ ننگے پیر گھر جانے کا سوچ کر شرمندہ ہونے لگی، مگر اب کوئی چارہ نہیں تھا۔ اسے یونہی گھر جانا تھا۔
صوفیہ اور فاطمہ نے ان دونوں کو جاتا دیکھا تو ان کے پیچھے چل دی۔ مینیجر اپنی جگہ پر کھڑا ان کو جاتا دیکھتا تھا۔ جب وہ نکل گئیں تو اللّٰہ کا شکر ادا کیا اور اپنے آفس میں چلا گیا۔
*******************
اشفاق اپنے گھر کے پورچ میں کھڑے بار بار ایک نمبر ملا رہے تھے لیکن دوسری طرف سے ایک ہی بات کہی جا رہی تھی۔
"آپ کا ملایا ہوا نمبر اس وقت بند ہے۔ برائے مہربانی کچھ دیر بعد کال کیجئے گا۔"
جائی یانہ بیرونی دروازے کی چوکھٹ پر کھڑی تھی۔ وہ ان کو پریشان دیکھ کر خود بھی پریشان ہوگئی۔
"اس لڑکی کا فون کیوں بند ہے؟!"
اشفاق صاحب جھنجھلا گئے۔
"انشاء اللہ آپی جہاں بھی ہونگی، ٹھیک ہونگی۔۔"
"اللّٰہ کرے جو تم کہہ رہی ہو، وہی ہو۔"
اتنے میں عزاہ پورچ میں آئی اور اشفاق کو بتایا۔
"بابا نمرہ بھی عالیہ کے ساتھ گئی تھی۔ میں نمرہ کو کال کر رہی ہوں لیکن وہ اٹھا نہیں رہی۔"
"ایک کال نہیں اٹھا رہی تو دوسری نے موبائل بند کیا ہوا ہے۔" پھر عزاہ کو دیکھ کر بولیں۔
"تم نمرہ کو کال کرتی رہو۔"
یہ کہہ کر وہ دوبارہ عالیہ کو کال کرنے لگے۔ عزاہ گھر کے اندر چلی گئی۔ جائی یانہ دل ہی دل میں دعائیں مانگنے لگی۔
*******************
"یار گاڑی تو آہستہ چلاؤ!"
نمرہ نے اس کو تیز رفتار میں ڈرائیو کرنے پر ٹوکا۔
"مجھے جلد از جلد گھر پہنچنا ہے۔ بابا بہت غصہ ہونگے۔ مجھے تو سوچتے ہوئے بھی ڈر لگ رہا ہے۔ آج تو اماں اور بابا میں سے کوئی بھی نہیں بخشے گا۔"
عالیہ اپنے ایک ہاتھ سے ڈرائیو کرتے ہوئے بولی۔
"پھر بھی تم پہلے ہی ایک ہاتھ سے ڈرائیو کر رہی ہو۔ میں تو تمہارے لیے بول رہی ہوں۔"
"اس وقت میری فکر نہ کرو اور یہ دعا کرو کسی طرح معاملہ سنبھل جائے۔"
"یار ابھی تو نو بجے ہیں۔ تم تو یوں کہہ رہی ہو جیسے آدھی رات گزر گئی ہو۔"
نمرہ اس کی پریشانی کو بے وجہ سمجھ رہی تھی۔
“یہ بات تم مجھے نہیں اپنے، ماموں ممانی کو سمجھاؤ۔ وہ تو مغرب کے بعد جانے کو ہی اچھا نہیں سمجھتے۔ آج تو عشاء کا وقت ہوچکا ہے۔"
ان کی گاڑی اس کالونی میں آگئی تھی جہاں نمرہ کا گھر تھا۔ نمرہ کو اچانک یاد آیا۔
"عالیہ جب تم گری تھی تو تمہارا موبائل بھی گر گیا تھا۔ میں نے تمہارا موبائل اٹھا لیا تھا۔ یہ لو پکڑو۔"
اس نے اپنے پرس میں سے عالیہ کا موبائل نکال کر اس کی جانب بڑھایا۔
موبائل کے ذکر پر اسے یاد آیا وہ اپنے آنے کی اطلاع گھر والوں کو بھی تو دے سکتی تھی۔ اس نے نمرہ کو کہا۔
"میرے موبائل سے گھر پر میسج کردو میں آ رہی ہوں۔"
"تمہارا موبائل بند ہے۔"
"یا اللّٰہ! آج ہی سب کچھ ہونا ہے۔"
عالیہ نے بے بسی سے کہا۔
"ایسا کرو تم اپنے فون سے کال کر دو۔"
عالیہ کے دماغ میں آئیڈیا آیا۔
"میرا بیلنس نہیں ہے۔ میں گھر پہنچ کر ماموں کو کال کر کے بتا دوں گی۔ ویسے بھی اب تو تم دس منٹ میں گھر پہنچ جاؤ گی۔ "
نمرہ نے اس کا مسئلہ حل کردیا۔ عالیہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ گاڑی نمرہ کے گھر کے گیٹ کے سامنے رکی۔ گاڑی سے اترنے سے پہلے، نمرہ نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا۔
"رات ہو رہی ہے۔ اگر تم کہو تو میں شایان بھائی کو تمہارے ساتھ بھیج دوں؟"
"نہیں رہنے دو۔ تم نے خود ہی تو کہا ہے میں دس منٹ میں گھر پہنچ جاؤں گی، تو اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلا وجہ اپنے بھائی کو بھی تکلیف دو گی۔"
دونوں نے الوادعی کلمات کا تبادلہ کیا۔ نمرہ اپنے گھر کے گیٹ کی جانب بڑھ گئی جبکہ عالیہ نے اپنی گاڑی گھر کی طرف بڑھا دی۔
*********************
احمد اور پروین کے انتقال کے بعد حسن صاحب بہت خاموش ہو گئے۔ وہ بس اپنے کام سے کام رکھنے لگے۔ ان کا دنیاداری میں بلکل دل نہیں لگتا تھا۔ ان کا معمول تھا صبح گھر سے دکان آنا اور رات کو دکان سے گھر جانا۔ انہوں نے اپنے دوستوں میں اٹھنا بیٹھنا ختم کر دیا۔
دوسری طرف مریم کچھ عرصے میں سنبھل گئی تھیں۔ وہ جانتی تھیں اب ان پر دو نہیں بلکہ چار بچوں کی ذمّہ داری تھی۔
اشفاق پر اپنے ماں باپ کی موت کا بہت اثر پڑا تھا۔ آٹھ سال کی عمر میں ہی اس کی طبیعت میں سنجیدگی اور خاموشی آ گئی تھی۔ وہ اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ نہیں کھیلتا تھا بلکہ اپنا زیادہ تر وقت پڑھائی میں ہی صرف کرتا۔ پڑھائی سے فارغ ہوکر وہ شام کو حسن کی دوکان میں جا کر ان کی مدد کرواتا۔ ان سب میں سب زیادہ عجیب چیز یہ تھی کہ وہ زینب کے ساتھ نہیں بیٹھتا تھا۔ شروع میں تو کسی نے دھیان نہیں دیا لیکن پھر زینب نے یہ بات محسوس کی۔ وہ جب بھی اپنے بھائی کے پاس جاتی، تو وہ اٹھ کر چلا جاتا۔
زینب نے یہ بات مریم چچی کو بتائی، تو انہوں نے بولا یہ اس کا وہم ہے۔ اس کا تو سب کے ساتھ یہی رویہ ہے لیکن زینب یہ دیکھ کر حیران ہوتی کہ ام ہانی اور نوال کے ساتھ اس کے بھائی کا رویہ بلکل نارمل تھا۔ اس کا بھائی اپنی کزنز سے باتیں بھی کرتا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کبھار مسکرا بھی دیتا۔
ان سب میں اسے بہت کچھ عجیب لگتا۔ بہت کچھ عجیب!
**********************
"میں عالیہ کو ڈھونڈنے جا رہا ہوں۔"
اشفاق نے لاؤنج میں آکر گاڑی کی چابی پکڑتے ہوئے اعلان کیا۔
"آپ اسے کہاں ڈھونڈیں گے؟ ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ وہ کس ریستوران میں گئی ہے۔"
نوال ان کی بات سن کر ان کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ ان کا لہجہ بھرا ہوا تھا۔
"میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر انتظار نہیں کر سکتا۔"
اشفاق، نوال کو اپنے سامنے سے ہٹاتے ہوئے بولیں۔
"بابا اتنا وقت تو نہیں ہوا۔ ابھی تو ساڑھے نو ہی ہوئے ہیں۔"
جائی یانہ نے بولا۔
"جی!! آپ کی خاطر میں آدھی رات تک لاونج کے چکر لگاؤں۔"
اچانک گھر کے باہر گاڑی کا ہارن بجا۔ جائی یانہ بھاگتی ہوئی بیرونی دروازے کی جانب بڑھی۔ اسے یقین تھا کہ عالیہ آئی ہوگی۔
***********************