جائی یانہ نے جب گھر کا بیرونی دروازہ کھولا، اسی وقت چوکیدار نے گیٹ کھولا۔ سرمئی رنگ کی گاڑی گھر میں داخل ہوئی۔ جائی یانہ کے بڑھتے قدم رک گئے۔ یہ گاڑی عالیہ کی نہیں تھی۔ یہ تو کسی اور کی گاڑی تھی۔ اشفاق بھی اس کے پیچھے باہر آ گئے تھے۔
سرمئی گاڑی پورچ میں رکی۔ نووارد گاڑی سے باہر نکلا اور گاڑی سے کچھ دور کھڑی سانولی لڑکی اور ادھیڑ عمر آدمی کو دیکھا۔ ان کو دیکھ کر وہ شخص ہلکا سا مسکرایا اور آگے بڑھا۔ پورچ میں لگے بلب کی روشنی میں اس کا سراپا واضح ہوا۔ اس کا قد دراز تھا، نقوش معمولی، رنگت صاف اور آنکھیں سبز تھیں۔
جائی یانہ کو اس شخص کی شکل کچھ جانی پہچانی لگی جبکہ اشفاق اسے پہچان چکے تھے۔ وہ اس شخص کے قریب آئے، تو اس شخص نے اپنا ہاتھ اشفاق کی جانب بڑھایا۔
"السلام علیکم انکل!"
اشفاق نے اس کا بڑھے ہاتھ کو تھام لیا۔
"وعلیکم السلام!"
"تم اچانک پاکستان آگئے عیسیٰ۔ سب خیریت تو ہے؟" اشفاق کے لہجے میں حیرانگی صاف واضح تھی۔ اشفاق کے منہ سے عیسیٰ نام سن کر جائی یانہ بھی اسے پہچان گئی۔
''جی انکل بس کاروبار کے سلسلے میں آنا پڑا۔" عیسیٰ نے ہلکے پھلکے لہجے میں بتایا۔
ایسے میں ایک اور گاڑی گھر میں داخل ہوئی۔ وہ گاڑی سرمئی گاڑی کے پیچھے کھڑی ہوئی اور اس میں سے ایک لڑکی باہر نکلی۔
وہ لڑکی پورچ میں کھڑے سب لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بن گئی۔ ننگے پاؤں، ایک ہاتھ جلا ہوا جبکہ دوسرے میں سینڈل پکڑے، وہ سب کو حیران کیے ہوئے تھی۔
عالیہ نے اشفاق کو دیکھا تو وہ ان کی طرف بڑھنے لگیں۔ اچانک اس کی نظر اشفاق کے ساتھ کھڑے سبز آنکھوں والے لڑکے پر گئی۔ وہ ٹھٹھک کر رکی۔ اشفاق نے اس کا جلا ہوا ہاتھ اور ننگے پاؤں دیکھے تو فوراً اس کی جانب بڑھیں۔
"تمہارا فون کیوں بند تھا؟ تمہاری سینڈل کو کیا ہوا ہے اور یہ ہاتھ کیسے جلا؟" اشفاق نے عالیہ کا جلا ہوا ہاتھ احتیاط سے پکڑا اور فکر مندی سے پوچھا۔
"وہ۔۔۔ میں۔۔۔۔وہ۔۔" عالیہ الفاظ جمع کرنے لگی۔
"اچھا اندر چلو!" اشفاق اس کا ہاتھ پکڑے، اسے اندر لے گئے۔ جائی یانہ نے پہلے ان کو جاتا دیکھا، پھر عیسیٰ کو دیکھا۔ عیسیٰ کے چہرے سے صاف پتہ چل رہا تھا وہ بری طرح کنفیوژ ہے۔ کسی نے اسے اندر آنے کو نہیں کہا اور اشفاق بھی اسے نظر انداز کرکے اندر چلے گئے تھے۔ جائی یانہ کو بے اختیار شرمندگی ہوئی۔
"تم کھڑے کیوں ہو؟ آؤ اندر آجاؤ۔" جائی یانہ نے مسکرا کر پچھلا تاثر زائل کرنے کی کوشش کی۔
"میں اپنا سامان نکال لوں۔ " یہ کہہ کر عیسیٰ گاڑی کی ڈگی کی طرف بڑھنے لگا۔ جائی یانہ نے اسے منع کیا۔
"تم رہنے دو، تم پہلے ہی تھکے ہوگے۔ میں کسی ملازم سے کہہ کر اٹھوا دیتی ہوں۔ تم اندر آ جاؤ۔ ویسے بھی تم اتنے لمبے سفر سے آئے ہو۔"
عیسیٰ نے کچھ نہ کہا بلکہ خاموشی سے اس کے پیچھے چل دیا۔ جائی یانہ نے جیسے ہی گھر کا دروازہ کھولا، نوال کی اونچی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
"گھر سے کوئی اتنی دیر باہر رہتا ہے۔ ہزار دفعہ کہا ہے گھر جلدی آیا کرو۔ اوپر سے محترمہ نے اپنا موبائل بھی بند کر لیا۔ میرے ۔۔۔۔۔۔"
جائی یانہ نے عیسیٰ کو دیکھا جو نا سمجھی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ جائی یانہ خفت چھپانے کے لیے زبردستی مسکرائی، پھر اونچی آواز میں بولا۔
"دیکھیں اماں آپ سے ملنے کون آیا ہے!"
نوال کی آواز تھم گئیں۔ وہ عیسیٰ کو لیے لاؤنج میں آئی، تو عزاہ اور نوال ایک طرف کھڑے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے جبکہ اشفاق صوفے پر بیٹھے فکرمندی سے عالیہ کا جلا ہاتھ دیکھ رہے تھے۔ عالیہ نے سر جھکایا ہوا تھا۔ اماں، عالیہ کے گھر آتے ساتھ ہی اس پر برس پڑی تھیں۔ عالیہ کو اپنی صفائی دینے کا کوئی موقع نہیں ملا۔ اسے سو فیصد یقین تھا عیسیٰ نے نوال کی ڈانٹ سن لی تھی۔ اس کا چہرہ شرمندگی سے لال ہو رہا تھا۔
نوال نے عیسیٰ کو دیکھا تو ان کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ وہ بالکل حیران رہ گئیں۔
"تم کب آئے عیسیٰ؟!" نوال خوشگوار حیرت کا شکار تھیں۔
"بس ابھی آیا تھا۔" اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"کھڑے کیوں ہو؟ چلو شاباش بیٹھو۔" یہ کہہ کر وہ دونوں صوفے پر بیٹھ گئے۔
"جاؤ عزاہ جا کر عیسیٰ کے لیے پانی لے کر آؤ۔" نوال نے عزاہ کو بولا تو وہ چپ چاپ چلی گئی۔
پھر نوال نے عیسیٰ کو دیکھ کر دوبارہ گفتگو کا آغاز کیا۔
"تمہاری ماں ساتھ نہیں آئی؟ اس نےتمہیں اکیلے بھیج دیا؟" آخری بات پر نوال نے اپنی خفگی کا اظہار کیا۔
"نہیں آنٹی! میں کاروباری سلسلے سے پاکستان آیا ہوں تو امی ساتھ نہیں آئیں۔"
"تمہاری ماں سے پرسوں تو میری بات ہوئی تھی، اس نے تو تمہارے آنے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔"
"میں نے انہیں منع کر دیا تھا۔ میں نے سوچا آپ کو سرپرائز دوں۔"
"تم نے صحیح کیا۔ ویسے بھی یہ تمہارا اپنا گھر ہے۔ جب تک دل چاہے، ادھر رکو۔ اشفاق میں صحیح کہہ رہی ہوں ناں۔" نوال نے اشفاق کی توجہ عیسیٰ کی جانب دلوائی۔
اشفاق نے بھی عیسیٰ کو دیکھ کر کہا۔ "بالکل تمہاری آنٹی صحیح کہہ رہی ہیں۔ جب تک تمہارا کام ختم نہیں ہو جاتا، تم یہی رہو گے۔"
عزاہ نے جوس لاکر عیسیٰ کو پیش کیا۔
"عزاہ اور جائی یانہ، جا کر کھانے کا انتظام کرو۔ عیسیٰ تم کھانا کھا لو، پھر آرام کرلینا۔ لمبے سفر سے آئے ہو۔ تھک گئے ہوگے۔" عزاہ اور جائی یانہ کو کھانا لگانے کا کہہ کر، نوال نے آخر میں عیسیٰ کو تاکید کی جس پر اس نے بڑی فرماں برداری سے سر اثبات میں ہلایا۔
*******************
وہ بڑے آرام سے گنگناتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔ سیڑھیاں چڑھ کر اس نے ایک نظر زینب کے کمرے کو دیکھا، جس کا دروازہ بند تھا۔ تھوڑی دیر وہ کمرے کے بند دروازے کو تکتی رہی، پھر اس کے پاس آئی۔
اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تو اسے زینب کا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا دکھائی دیا۔ کمرے کے باہر سے آتی روشنی، سیدھی بیڈ پر لیٹے نفوس کی نشاندھی کر رہی تھی۔ زینب کے چہرے کا رخ نمرہ کی طرف تھا۔ زینب کی آنکھیں بند تھیں اور چہرے پر سکون واضح تھا۔ نمرہ کو اطمینان ہوا۔ اس نے بڑے احتیاط سے دروازہ دوبارہ بند کیا تاکہ ماں کی نیند میں خلل نہ ہو۔
اب اس کا رخ اپنے کمرے کی جانب تھا۔ اس نے دروازے پر ہاتھ رکھا، تو اسے اپنے پیچھے سے شایان کی آواز آئی۔
"ماں کی یاد آگئی، نمرہ بی بی؟!" شایان کے طنز پر نمرہ مڑی۔ اس کا بھائی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔
"اگر آج دوستوں کو منع کر دیتی تو قیامت نہیں آ جاتی!"
"میں اپنی مرضی سے نہیں گئی تھی، ماما نے بھیجا تھا۔"
نمرہ نے شایان کے طنز کا آرام سے جواب دیا۔
"ماما کو الہام نہیں ہوا ہوگا۔ یقیناً تم نے ان کے سامنے بات کی ہوگی۔"
"میں نے ان سے کوئی بات نہیں کی۔ فاطمہ کی کال آئی تھی۔ وہ مجھے ریستوران ملنے کے لیے بلا رہی تھی۔ ماما میرے ساتھ بیٹھی تھیں۔ انہوں نے ہماری بات سنی تو موبائل میرے ہاتھ سے لے کر فاطمہ کو میرے آنے کا کہہ دیا۔"
"تو تم کسی طرح انکار بھی کر دیتی؟!" نمرہ نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے، تو شایان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش رہنے کا کہا اور اپنی بات جاری رکھی۔
"اب تم یہی کہو گی کہ میں نے کوشش کی لیکن وہ مانیں نہیں۔ تمہیں ہر حال میں ماما کو منانا تھا۔ میں نے تمہیں کچھ دن ماما کے ساتھ رہنے کی تاکید کی تھی۔ میری بات کی تمہارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ماما آج تھوڑا سا کیا سنبھلیں، تمہیں باہر جانے کا موقع مل گیا۔"
"بھائی آپ فضول کی بحث کر رہے ہیں۔ بات بہت چھوٹی سی ہے، جس کا آپ نے اتنا بڑا مسئلہ بنا لیا ہے۔ جب تک آپ گھر نہیں آئے، میں باہر نہیں گئی۔ آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے میں ماما کو گھر میں اکیلا چھوڑ کر چلی گئی تھی۔"
" تمہارے لیے کیا یہ بات چھوٹی سی ہے؟ کیا ماما کی صحت تمہارے لیے اہم نہیں ہے؟" شایان نے سخت لہجے میں پوچھا۔
"بھائی آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔" نمرہ اس بحث سے تنگ آگئی تھی۔
"ہمیشہ میں ہی غلط نہیں سمجھتا ہوں۔"
شایان ایک دم سے اس پر دھاڑا۔ نمرہ سہم کر دو قدم پیچھے ہوئی۔ شایان نے لمبی لمبی سانسیں لی۔ پھر نمرہ کی طرف دیکھے بغیر اپنے کمرے میں چلا گیا اور دروازہ زور سے بند کر دیا۔
نمرہ نے ایک نظر شایان کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا۔اس نے کچھ ایسا نہیں کہا تھا جس پر اس کا بھائی ایسا ردّعمل دے۔ وہ بھی کمرے میں چلی گئی۔ اس کا موڈ بہت بری طرح خراب ہوچکا تھا۔
***************
عیسیٰ نوال کی بہن ام ہانی کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ام ہانی کا خاندان امریکہ میں رہائش پذیر تھا۔ ان کا سالوں بعد پاکستان آنا ہوتا تھا۔ عیسیٰ عمر میں عزاہ سے بس ایک مہینے چھوٹا تھا۔ اس نے بہت کم عمری میں اپنے باپ کے کاروبار میں مدد کروانا شروع کردی تھی۔ وہ اکثر کاروباری سلسلے میں مختلف ملکوں میں گھومتا تھا۔ اپنے کاروبار کی غرض سے ہی وہ اسلام آباد آیا تھا۔
اپنے بھانجے کو اتنے سال بعد دیکھ کر، نوال کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ وہ ابھی کچھ دیر پہلے گھر میں ہونے والی تلخ کلامی اور غصہ بھلا چکی تھیں۔ اب نوال کے ذہن میں بس عیسیٰ اور اس کا پاکستان آنا تھا۔
عزاہ اور جائی یانہ نے ڈائننگ ٹیبل پر پڑے کھانے کو دوبارہ گرم کیا۔ کچھ دیر بعد عالیہ کے سوا سب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ عالیہ نے آرام کا کہہ کر کھانے سے منع کر دیا۔
ڈائننگ ٹیبل میں بیٹھی نوال عیسیٰ کی پلیٹ میں کبھی سالن، تو کبھی چاول ڈال رہی تھیں۔ عیسیٰ کے منع کرنے کا بھی وہ کوئی اثر نہیں لیتیں، الٹا اسے جھڑک دیتیں۔
"مجھے تو پتا ہی نہیں تھا تمہاری خوراک اتنی کم ہے۔ تمہاری ماں کی تو میں کل صبح کلاس لوں گی۔ ان گوروں کے سوکھے کھانے کھلا کھلا کر بچے کو اتنا کمزور کرلیا ہے۔ توانائی تو ہمارے دیسی کھانوں میں ہوتی ہے۔ اب جب تک تم یہاں ہو، میں خود اپنے ہاتھوں سے تمہارے لیے کھانا بناؤں گی۔ میں۔۔۔۔۔۔۔۔"
نوال عیسیٰ کی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہوئے رکے بغیر بولے جا رہی تھیں اور عیسیٰ مروتاً مسکراتا ہوا انہیں سن رہا تھا۔ جائی یانہ نے ایک نظر عیسیٰ کو دیکھا، پھر سوچا۔ "ویسے یہ اتنا بھی کمزور نہیں ہے، جتنا اماں نے اسے بول بول کر کردیا ہے۔"
وہ اپنے باپ کے پاس قدرے جھکی اور سرگوشی میں کہا۔
"آپ کی بیوی ایک سال میں ہونے کا خرچہ، ایک دن میں کرنے کی کر رہی ہیں۔"اشفاق نے اپنی مسکراہٹ دبائی اور مصنوعی سخت لہجے میں جائی یانہ کو ٹوکا۔
"بری بات!! وہ ہمارا مہمان ہے۔ ایسے نہیں کہتے۔۔۔"
جائی یانہ نے آنکھیں گھما کر کہا۔ "میں نے تو آپ کو خبر دار کیا ہے کیونکہ پیسے آپ کے جائیں گے، میرا کیا جا رہا ہے؟"
"مہمان اپنا رزق خود لے کر آتا ہے، اسی لیے آپ مجھے خبر دار نہ کریں اور اپنے کھانے پر دھیان دے۔"
اسی وقت نوال نے اسے بلایا۔۔
"جائی یانہ بیٹا!" جائی یانہ نے سر اٹھا کر حیرت سے اماں کو دیکھا۔
"جی اماں!"
ایسا کرو تم عیسیٰ کے لیے آملیٹ بنا دو۔ مجھے لگ رہا ہے اسے سالن پسند نہیں آیا۔ کل میں خود اس کے لیے سالن پکاؤں گی۔" اپنی ماں کی بات سن کر جائی یانہ کا منہ کھلا رہ گیا۔
"جی!" اس نے بڑی مشکل سے کہا اور اٹھ کر کچن میں جانے لگی۔
"ارے آنٹی آپ کیوں تکلیف کر رہی ہیں؟ میں کھا رہا ہوں نا۔" عیسیٰ نے بڑے تکلف سے کہا لیکن نوال نے اس کا ہاتھ دبا کر اسے خاموش کروایا۔
عیسیٰ کی بات سن کر جائی یانہ تپ گئی۔
" آنٹی کیوں تکلیف کرنے لگی؟ ان کی بیٹی ہے نا جو کھانا کھاتے کھاتے تکلیف اٹھا لیتی ہے۔" وہ جل کر بڑبڑاتی ہوئی کچن میں غائب ہوگئی۔
****************
نو سالہ زینب گھر کے برآمدے میں رکھی چارپائی پر بیٹھی تھی۔ اس نے لال رنگ کی فراک پہنی ہوئی تھی اور بالوں کو پونی بنا کر باندھا ہوا تھا۔ اس کے اردگرد مختلف کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک کتاب اس کے سامنے کھلی ہوئی تھی۔ وہ کتاب پر دیکھتے ہوئے کاپی میں کچھ لکھ رہی تھی۔
وہ بار بار ریاضی کا سوال حل کرنے کی کوشش میں تھی مگر اس کا جواب نہیں نکل رہا تھا۔ اگر نوال گھر پر ہوتی تو وہ اس سے پوچھ لیتی لیکن وہ مریم کے ساتھ بازار گئی تھی۔ اشفاق گھر میں موجود تھا لیکن اس کے پاس جانا فضول تھا کیونکہ وہ زینب کو اپنے پاس آتا دیکھ جر اٹھ کر چلا جاتا۔ پھر اس کے ذہن میں ام ہانی کا خیال آیا۔ وہ جانتی تھی ام ہانی پڑھائی میں اتنی اچھی نہیں تھی لیکن اس کی کچھ مدد تو کر رہی سکتی تھی۔
اس نے اپنی کاپی اٹھائی اور ام ہانی کے کمرے میں چلی گئی۔ زینب کمرے میں آئی، تو اسے ام ہانی اپنے بیڈ پر بیٹھی دکھائی دی۔ ام ہانی کی زینب کی جانب پشت تھی اس لیے اسے زینب کے آنے کا پتہ نہیں چلا۔ زینب ام ہانی کے قریب آئی، تو اسے ام ہانی کے ہاتھ میں ڈائری دکھائی دی۔ ڈائری کے صفحے پر لال روشنائی سے کچھ لکھا ہوا تھا۔ اس نے غور سے دیکھا تو صفحے پر ام ہانی کی شکایت درج تھی۔ اس نے دو دن سے ہوم ورک نہیں کیا تھااور اب اس پر مریم کے دستخط درکار تھے تاکہ ٹیچر جان جائیں کہ ام ہانی کی شکایت، اس کی امی تک پہنچ گئی ہے۔
ام ہانی نے ہاتھ میں قلم پکڑے اس جگہ دستخط کیے، جہاں پر مریم چچی کے دستخط درکار تھے۔ زینب کی سیاہ آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
ام ہانی کو اسی پل محسوس ہوا اس کے پیچھے کوئی کھڑا ہے۔ اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔ زینب کو دیکھ کر وہ گھبرا کر اٹھ گئی۔ اس نے ڈائری بیڈ پر رکھی اور مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
"زینب تم یہاں کیا کر رہی ہو؟"
"یہ تم نے ابھی اپنی ڈائری پر چچی کے سائن کیے ہیں نا؟" اس نے بے یقینی سے پوچھا۔
"نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔" ام ہانی نے ہکلاتے ہوئے بات مکمل کی۔
"اچھا تو دکھاؤ۔" وہ بیڈ پر رکھی ڈائری کی جانب بڑھی، تو ام ہانی نے ڈائری پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لی۔
"تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ میں نےکہا نا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میرے معاملات سے دور رہو۔" ام ہانی نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پا لیا تھا۔
"میں یہ بات چچی کو بتاؤں گی۔" زینب نے اسے دھمکی دی۔
"تم ایسا کچھ نہیں کرو گی۔"ام ہانی چلائی۔
"اچھا تو پھر مجھے ڈائری دکھاؤ۔"
یہ کہہ کر زینب ڈائری پر جھپٹ گئی۔ ام ہانی کی ڈائری پر گرفت مزید سخت ہوگئی۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی پیچھے نہیں ہٹ رہا تھا۔
ان کی اس چھینا جھپٹی میں اچانک ام ہانی کو دھکا لگا، جس پر توازن قائم نہ رکھ سکی اور اس کا سر بیڈ کی پائنتی پر جا لگا۔ اس کے سر میں درد کی لہر اٹھی۔ اس نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ ام ہانی کو اپنے سر پر رکھا ہاتھ گیلا محسوس ہوا۔ اس نے ہاتھ نیچے کرکے دیکھا تو اس پر خون لگا تھا۔ خون دیکھ کر ام ہانی نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔
"زینب یہ تم نے کیا کیا؟! آہ میرے اللّٰہ!"ام ہانی روتے ہوئے چلا رہی تھی۔ زینب اس کے پاس کھڑی تھی۔ خون نکلتا دیکھ کر، وہ بھی گھبرا گئی۔
اشفاق اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا۔ ام ہانی کی آواز سن تو کر وہ تقریباً بھاگتا ہوا کمرے میں پہنچا۔ ام ہانی کے سر سے خون نکلتا دیکھ کر اس کے بھی اوسان خطا ہو گئے۔ وہ بھاگ کر ام ہانی کے پاس گیا۔
"کیا ہوا ہانی؟ تمہیں چوٹ کیسے لگی؟"
"وہ۔۔۔وہ اشفاق۔۔۔بھائی۔۔۔۔ زینب نے۔۔۔۔۔ دھکا دیا۔۔۔ تو۔۔۔۔گرگئی۔" ام ہانی نے روتے ہوئے اسے بتایا۔
"میں نے ایسا کچھ نہیں کیا بھائی وہ تو۔۔۔۔" زینب اپنی صفائی میں کچھ بولتی، تو اشفاق کی تیز آواز نے اس کی بات کاٹی۔
"بس بہت ہوگیا۔ تمہاری وجہ سے دیکھو کیا ہوگیا ہے؟ کب تک ہماری زندگیوں کو یونہی برباد کرتی رہو گی۔"
"میں نے برباد کی؟!" زینب نے ناسمجھی اور بے یقینی سے پوچھا۔
"ہاں تم نے! تم نے ہماری زندگی برباد کی ہے۔ جب سے تم پیدا ہوئی ہو، ہماری زندگی خراب ہوگئی ہے۔ امی ابو تمہاری وجہ سے مرے۔ اب تم آہستہ آہستہ ہم سب کو بھی مار دو گی۔ اگر ہانی کو کچھ ہوا، تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔" اشفاق اس پر پھنکارا۔ پھر ام ہانی کو اٹھا کر باہر لے گیا۔
پیچھے کھڑی زینب اپنے بھائی کے کہے الفاظ پر غور کر رہی تھی۔ وہ سکتے کے عالم میں تھی۔ کیا اس کا بھائی جو کچھ کہہ کر گیا تھا، وہ سچ تھا؟
********************
کھانا کھانے کے بعد عزاہ اور جائی یانہ نے اپنی زیر نگرانی گیسٹ روم ٹھیک کروایا۔ پھر بھی نوال نے ایک چکر لگاکر دیکھا کہ کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔
جب عیسیٰ سونے کے لیے گیا، تب جا کر عزاہ اور جائی یانہ کی جان چھوٹی۔ وہ دونوں اپنے اپنے کمروں میں جا کر سو گئیں۔ انہیں پتا تھا یہ مصروفیت تب تک جاری رہیں گی، جب تک عیسیٰ کا یہاں پر قیام ہے۔
اگلی صبح جائی یانہ جب کچن میں آئی تو کچن کی سلیب پر رکھے کھانوں کو دیکھ کر حیران ہوگئی۔ سلیب پر نان چنے، حلوہ پوری اور پراٹھے رکھے ہوئے تھے۔ اس نے پہلے حیرانگی سے کھانوں کو اور پھر اپنی ماں کو دیکھا جو ملازمہ کے ساتھ مل کر مزید ناشتہ بنا رہی تھیں۔ "اماں یہ کھانا کہاں سے آیا؟" اس نے حلوہ پوری اور نان چنے کی طرف اشارہ کیا۔
"کہاں سے آنا ہے؟ میں نے چوکیدار سے منگوائے ہیں۔" نوال نے مصروف انداز میں بتایا۔
"لیکن کیوں؟"
"کیوں کا کیا مطلب؟ عیسیٰ کے لیے منگوائے ہے۔ بچپن میں بڑے شوق سے کھاتا تھا۔"
"اب تو وہ یہ چیزیں نہیں کھاتا ہوگا۔" اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
"ایسے ہی نہیں کھاتا ہوگا۔ اسے بچپن سے ایسے کھانے پسند تھے۔ جب بھی آتا تھا حلوہ پوری سے ناشتہ کرتا تھا۔ دیکھنا ان کھانوں کو دیکھ کر کتنا خوش ہوگا۔" جائی یانہ نے اپنی ماں کو دیکھا اور سر نفی میں ہلایا۔ ان سے کچھ بھی کہنا فضول تھا، اس لیے وہ چپ چاپ باہر چلی گئی۔
وہ کچن سے باہر نکل کر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئی۔ ابھی ڈائننگ ہال میں اس کے علاؤہ کوئی موجود نہ تھا۔
کچھ دیر بعد عیسیٰ بھی آگیا۔ اس نے کالی جینز پر بھوری ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ جائی یانہ کی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا اور مسکرا کر جائی یانہ کے ساتھ گفتگو کا آغاز کیا۔
"گڈ مارننگ، کزن!"
"گڈ مارننگ!" جائی یانہ نے بھی مسکرا کر جواب دیا۔
"اور سناؤ کیا حال چال ہے؟ کل تو بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملا؟"
"میں تو ٹھیک ہوں۔ تم سناؤ کیسے ہو؟ ہانی خالہ ٹھیک ہے؟"
"میں بھی ٹھیک ہوں اور تمہاری ہانی خالہ بھی ٹھیک ہیں۔" عیسیٰ نے جواب دیا۔ عیسیٰ کی بے ساختہ نظر جائی یانہ کے پاس پڑی بزنس اسٹیٹس کی کتاب پر پڑی جو وہ کمرے سے نکلتے ہوئے اپنے ساتھ لے آئی تھی۔
"تم بزنس پڑھ رہی ہو؟" اس کو خوش گوار حیرت ہوئی۔
"ہاں میں بی بی اے کے فرسٹ سمیسٹر میں ہوں!"
"چلو اچھی بات ہے۔ ہمارے خاندان میں کسی عورت نے اس فیلڈ کی طرف بھی دھیان دیا ورنہ جس کو دیکھو یا تو لٹریچر پڑھ رہی ہے یا ڈاکٹر بن رہی ہے۔ "
"اچھا آپ کو خاندان کی لڑکیوں کے بارے میں بڑا پتہ ہے۔" جائی یانہ کی بات میں طنز جھلکا۔
"جی آپ کی ہانی خالہ کی بدولت!" عیسیٰ نے ہنستے ہوئے کہا۔ وہ جائی یانہ کے طنز سے خاصا محظوظ ہوا تھا۔ جائی یانہ اب اپنی پڑھائی کے متعلق تفصیلات دے رہی تھی، جسے عیسیٰ دلچسپی سے سن رہا تھا۔
کچھ لمحات بعد ڈائننگ ہال میں دوبارہ آؤ، تو ان دونوں کے ساتھ اشفاق اور عالیہ بھی دکھائی دیتے۔ اشفاق، عیسیٰ سے کاروباری باتوں میں مصروف تھے۔ جائی یانہ ان کی باتیں غور سے سن رہی تھی اور جہاں ضرورت سمجھتی اپنا تبصرہ دے دیتی جبکہ عالیہ ان سب سے الگ، ضرورت سے زیادہ خاموش تھی۔ اس نے ہرے رنگ کی شلوار قمیض پر بالوں کو جوڑے میں قید کیا ہوا تھا۔ وہ اپنے ہاتھ میں لگی پٹی کو دیکھ رہی تھی جو اشفاق نے رات کو باندھی تھی۔
وہ جب جب اپنے جلے ہاتھ کو دیکھتی، اسے کل کا واقعہ یاد آجاتا۔ ہاتھ پر کافی کا گرنا، اس کی سینڈل کی ہیل کا ٹوٹ جانا، بھرے ریسٹورنٹ میں گر جانا، ایک عجیب انسان کی اسکی مدد کرنا، ننگے پاؤں گھر آنا، گھر میں عیسیٰ کی آمد اور نوال کی ڈانٹ۔۔۔۔ بلاشبہ کل کا دن اس کے لیے بہت برا تھا۔ عزاہ نوال کے ساتھ ناشتہ میز پر لگا رہی تھی۔
جب عزاہ اور نوال کا کام ختم ہوگیا تو وہ اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئیں۔ عیسیٰ کے سوائے سب نے ناشتہ شروع کردیا۔ نوال نے عیسیٰ کی پلیٹ خالی دیکھی، تو پیار سے پوچھا۔
"کیا ہوا عیسیٰ؟ کھانا کیوں نہیں کھا رہے؟ شرماؤ نہیں اسے اپنا گھر سمجھو۔"
"نہیں آنٹی میں شرما نہیں رہا پر۔۔۔" عیسیٰ نے دانستہ بات کو ادھورا چھوڑا۔
"پر کیا؟" نوال نے پوچھا۔
"میں اتنا ہیوی کھانا نہیں کھاتا اور ناشتہ میں تو بلکل بھی نہیں۔۔۔ مجھے تو پاکستانی کھانوں کی عادت ہی نہیں ہے اور یہ تو بہت زیادہ آئلی ہے۔" اس نے ڈائننگ ٹیبل پر پڑے کھانوں کی طرف اشارہ کیا۔
جائی یانہ نے عیسیٰ کی بات سن کر اپنی مسکراہٹ دبائی۔
"میں نے تو پہلے ہی کہا تھا، آپ کا بھانجا اتنا ہیوی کھانا نہیں کھائے گا۔ کل سادہ سالن اس کے گلے سے نہیں اتر رہا تھا۔ اس کھانے کو تو دیکھ کر ہی منع کر دیا۔" جائی یانہ نے دل میں سوچا۔
نوال کی مسکراہٹ پھیکی پڑی۔
"اچھا بچپن میں تو تم یہ سب بڑے شوق سے کھاتے تھے۔"
" آنٹی بچپن میں تو کھا لیتا تھا لیکن اب اپنی صحت کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے۔"
نوال کا چہرہ مزید پھیکا ہوا۔عزاہ نے فوراً بات سنبھالی۔
"تم مجھے بتاؤ تم کیا کھاؤ گے۔ میں وہی بنا دوں گی۔"
"نہیں عزاہ آپ بس مجھے جیم اور بریڈ دے دیں۔ میں وہی کھالوں گا۔"
عزاہ نے سر اثبات میں ہلایا اور کچن میں چلی گئی۔
****************
ام ہانی کو ہسپتال لے جاتے ہوئے، اشفاق کو حسن چچا ملے۔ حسن ام ہانی کی چوٹ دیکھ کر پریشان ہوئے اور اشفاق سے وجہ پوچھی۔ اشفاق نے ان کو مختصر الفاظ میں بتایا کہ ام ہانی کو بیڈ کی پائنتی سے چوٹ لگی ہے۔
حسن نے اشفاق کے ساتھ ہسپتال جانا چاہا لیکن اشفاق نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ وہاں پر وقت لگ سکتا ہے اگر وہ دونوں چلے گئے تو دوکان کا کیا ہوگا۔ اس لیے حسن کا دوکان پر رہنا بہتر ہے۔
حسن کو چاروناچار رکنا پڑا۔ وہ دوکان پر بیٹھے خیر و عافیت کی دعائیں مانگ رہے تھے جب ان کی نظر ان کے سامنے سے گزرتی نوال اور مریم چچی پر گئیں۔ ان کے ہاتھوں میں تھیلے تھے، جو اس بات کی نشان دہی تھی کہ دونوں بازار سے واپس آ رہے تھے۔ حسن مریم کے پاس گئے اور انہیں ساری بات بتائی۔ جب حسن نے ام ہانی کی چوٹ کا بتایا، تو مریم بھی پریشان ہوگئیں۔
گھر پہنچ کر مریم چچی نے زینب سے اس متعلق پوچھنا چاہا لیکن زینب نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا بلکہ چپ چاپ بیٹھی رہی۔ شام کے قریب اشفاق ام ہانی کو گھر لے کر آیا، تو حسن بھی دکان بند کرکے ان کے پیچھے گھر پہنچ گئے۔ ام ہانی کے سر پر پٹی بندھی تھی۔
ام ہانی حسن کے پاس چارپائی پر بیٹھ کر، پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ حسن اس کے بالوں پر ہاتھ پھیر کر اسے سہلا رہے تھے۔ جب ام ہانی تھوڑا سنبھلی، تو مریم نے اس سے پوچھا۔
"ہانی بیٹا!! آپ کو چوٹ کیسے لگی؟"
"امی زینب مجھ سے جھگڑ رہی تھی۔ جھگڑے کے دوران زینب نے مجھے دھکا دیا تو، میرا سر بیڈ کی پائنتی سے لگ گیا۔" ام ہانی نے سب کے سامنے آدھا سچ رکھا۔
زینب پر اشفاق کے سوا سب کی نظریں اٹھیں۔
"چچی اس نے پوری بات نہیں بتائی۔ ہانی یہ بات بھی تو بتاؤ ہمارا جھگڑا کس بات پر ہوا تھا؟!"
" جھگڑا چاہے کسی بھی بات پر ہوا ہو۔ اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے تم مار پیٹ پر اتر آؤ۔" ام ہانی کی بجائے مریم نے جواب دیا۔
"چچی میں نے ام ہانی کو جان بوجھ کر نہیں گرایا تھا۔" زینب نے صفائی دی۔
"لیکن ہانی کو تو چوٹ لگی ہے نا!" پیچھے سے نوال بھی بولی۔ اسے ام ہانی کے سر پر پٹی بندھے دیکھ کر زینب پر غصہ آ رہا تھا۔
"آپ لوگ میری بات تو سنیں۔ میں آپ کو سب بتاتی ہوں۔" زینب نے بھرائی آواز میں کہا۔ اس نے ایک مدد طلب نگاہ اپنے بھائی پر ڈالی جو اس کو نہیں بلکہ نیچے زمین کو دیکھ رہا تھا۔
"ہم تمہاری کیا بات سنیں؟ اپنی صفائی کے لیے کوئی سچی جھوٹی کہانی سنا دو گی۔" اس دفعہ بولنے والے حسن تھے۔
"چچا آپ میری بات تو سنیں۔ میں کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتی ہوں۔" اب کی دفعہ زینب کی آواز اونچی ہوئی تھی لیکن وہ ابھی بھی تمیز کے دائرے میں تھی۔ وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔ ہر کوئی اپنی کہے جا رہا تھا، کوئی اس سے بھی تو پوچھتا۔
اچانک اس نے اشفاق کو اٹھ کر اپنے پاس آتا دیکھا۔ اسے لگا اس کا بھائی اس کی طرف داری کرے گا لیکن اگلے ہی پل اس کی یہ خوش فہمی دور ہو گئی جب اشفاق نے اپنا بھاری ہاتھ زینب کے گال پر مارا۔ زینب نے بے یقینی سے اپنے بھائی کو دیکھا جو غصے سے اسے گھور رہا تھا۔
"تمہاری ہمت کیسے ہوئی چچا سے اونچی آواز میں بات کرنے کی؟! ایک تو تم اپنی غلطی نہیں مان رہی ہو، اوپر سے چچا چچی سے بحث کرتی ہو۔ پتا نہیں کونسی منحوس گھڑی تھی جب تم پیدا ہوئی تھی۔"
زینب کی سیاہ آنکھوں میں ڈھیر سارا پانی جمع ہوگیا۔ اس نے کسی کو بھی نہ دیکھا اور بھاگتی ہوئی چھت پر چلی گئی۔ چھت پر ایک اسٹور روم تھا۔ زینب اس کے اندر چلی گئی اور دروازہ بند کردیا۔ زینب دروازے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ اس کے سیاہ کٹوروں میں بھرے پانی میں سے پہلے ایک آنسو نکلا، پھر دوسرا اور پھر ان گنت آنسو بہتے گئے۔
پہلے اتنے زہریلے الفاظ اور اب تھپڑ۔۔۔۔۔۔۔! وہ چاہتی تھی اس کا بھائی اس سے بات کرے لیکن اس کو اگر پتا ہوتا کہ اس کے بھائی کی زبان میں اس کے لیے اتنا زہر بھرا ہے، تو شاید قیامت تک اس کی خاموشی کی دعائیں مانگتی۔
آہ! اس کے بھائی کے نزدیک تو اس کا پیدا ہونے کا وقت منحوس تھا۔ وہ اپنا اور اشفاق کا موازنہ کرنے لگی۔ پلڑا اشفاق کا بھاری تھا۔ اس کو تو اپنے ماں باپ کی شفقت بھری نگاہ بھی نہیں ملی تھی، اس کے بھائی نے تو ان کے ساتھ آٹھ سال گزارے تھے۔ اشفاق کے پاس سب موجود تھے۔ اشفاق سے اگر ماں باپ چھینے گئے تھے تو انہیں حسن اور مریم کی محبت عطا کی گئی لیکن زینب سے چھینا گیا تھا، تو اسے کوئی بھی نہیں ملا تھا۔ حسن اور مریم کے نزدیک وہ بس ایک زمہ داری تھی، اس سے زیادہ اس کا کوئی مقام نہ تھا۔
وہ صحیح معنوں میں جان گئی تھی کہ یتیم ہونا کسے کہتے ہیں؟ اس کے پاس اس کا باپ نہیں تھا جس کے سینے سے لگ کر وہ رو لیتی اور اس کا باپ اس کا دفاع کرتا۔ اس کے پاس اس کی ماں نہیں تھی جو اس کے درد اور تکلیف پر تڑپ اٹھتی۔ اس کا بھائی اس کے پاس ہوکر بھی، اس کے پاس نہیں تھا۔
نو سالہ زندگی میں اس نے یہ سبق بڑے اچھے طریقے سے سیکھ لیا تھا کہ وہ اس دنیا کے ہجوم میں تنہا تھی اور اسے اب اپنی بقاء کی جنگ تنہا لڑنی تھی لیکن وہ یہ جانتی نہیں تھی جو جنگیں اس کے لیے لکھی گئی تھی، اس میں اس کی روح تک زخمی ہوجائے گی۔
******************
کچھ دن یونہی مصروف گزرے۔ نوال اپنے بھانجے کی میزبانی میں لگی رہیں۔ جائی یانہ کے معمول میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ گھر سے یونیورسٹی اور یونیورسٹی سے گھر تک محدود رہی۔ عالیہ اور عزاہ کی کلاسز شروع ہوئیں تو وہ بھی پڑھائی میں مگن ہوگئیں۔ جائی یانہ، عزاہ اور عالیہ کی یونیورسٹی میں نہیں پڑھتی تھی۔ اس نے پڑھنے کے لیے دوسری یونیورسٹی کا انتخاب کیا تھا۔
جائی یانہ یونیورسٹی کی سیڑھیوں پر بیٹھی کسی کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی۔ وہ مطالعے میں مکمل طور پر گم تھی۔ کچھ دیر بعد اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ حیران ہوئی۔ راہداری بلکل سنسان تھی۔ اس نے موبائل سے وقت دیکھا تو معلوم ہوا چھٹی کا وقت ہوچکا تھا۔ اس نے جلدی سے کتاب اپنے بیگ میں رکھی اور جانے کے لیے کھڑی ہوگئی۔ راہداری میں چلتے ہوئے وہ ایک کلاس کے قریب سے گزری تو اسے کسی چیز کو زمین پر زور سے پٹخنے کی آواز سنائی دی۔
جائی یانہ ابھی یونیورسٹی کے پچھلے حصے میں تھی۔ چھٹی ہو جانے کی وجہ سے وہاں پر کوئی موجود نہ تھا اور اسٹاف روم یہاں سے دور تھا۔ اسٹوڈنٹ ہوتے بھی تو اس وقت آگے والے حصے میں موجود ہوتے۔ اس نے کچھ سوچ کر کلاس کے اندر جھانکا تو اسے ایک شخص بینچ، زمین پر مارتا دکھائی دیا۔ جائی یانہ کو وہ شخص ایسے کرتا ہوا وحشی لگ رہا تھا۔ اچھا خاصا غصہ بینچ پر نکال لینے کے بعد، اس نے بینچ کو چھوڑا اور لمبے لمبے سانس لینے لگا۔ اس شخص کی جائی یانہ کی جانب پشت تھی۔ اس لیے جائی یانہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہی تھی۔ اچانک اس شخص نے اپنا چہرہ موڑا۔ جائی یانہ اسے مڑتا دیکھ کر فوراً وہاں سے ہٹی اور تقریباً بھاگنے لگی۔ تیز چلنے کی وجہ سے اس کا ڈوپٹہ سر پر سے اتر گیا۔ وہ شخص جائی یانہ کو دیکھ چکا تھا۔ اس لیے کلاس سے نکل کر باہر آیا اور جائی یانہ کو پیچھے سے آواز دی۔
"رک جائیں!"
جائی یانہ کے قدم خوف سے تھم گئے۔ وہ آگے بڑھنا چاہتی تھی لیکن اس کی آواز سن کر ایک قدم تک نہیں اٹھا پائی۔ وہ یہاں پر تنہا تھی۔ اس کی مدد کے لیے کوئی بھی نہ آتا۔ اس نے چیخنے کی کوشش کی لیکن اس کی آواز خوف کی شدت سے نکل نہیں پا رہی تھی۔ اسے اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی تھی۔ جب قدموں کی آہٹ قریب آتی محسوس کوئی، تو اس نے خوف سے آنکھیں بند کرلیں۔ اب وہ جائی یانہ کے بلکل سامنے کھڑا تھا۔
"دیکھو مجھے جانے دو!" جائی یانہ نے انتہائی آہستہ آواز میں کہا اور ڈرتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔
اس کے سامنے وہی گھنگھرالے بالوں والا لڑکا کھڑا تھا جس نے جائی یانہ کو اس کا موبائل واپس کیا تھا۔ وہ انتہائی نرمی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ کلاس میں کھڑے انسان سے بلکل مختلف دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے پر سکون انداز میں جائی یانہ سے پوچھا۔
"آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟ کلاسز کا وقت تو ختم ہوچکا ہے۔" اس نے جائی یانہ سے ایسے پوچھا جیسے ان دونوں کے درمیان سالوں کی جان پہچان ہو۔ جائی یانہ کا خوف اب کم ہوچکا تھا۔ وہ واپس اپنے پرانے انداز میں آئی۔
"میں جو بھی کروں، آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ بلکہ آپ بتائیں آپ کو کس نے حق دیا ہے آپ بینچ کو زمین پر ماریں؟"
"آپ کا یوں یونیورسٹی میں اس وقت اکیلے پھرنا ٹھیک نہیں ہے اور اس حصے میں ویسے بھی اسٹوڈنٹ بہت کم آتے ہیں۔ آپ ادھر نہ آیا کریں۔" لڑکے نے جائی یانہ کی بات سنی ان سنی کر دی۔
"آپ ہوتے کون ہیں مجھے نصیحت کرنے والے؟" جائی یانہ نے کمر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔ اس کی ایک ابرو اوپر کو اٹھی تھی۔
"کوئی بھی نہیں۔۔" سینے پر ہاتھ باندھے اس نے آرام سے کہا۔ جائی یانہ کا دل چاہا کہ سامنے کھڑے شخص کا منہ نوچ لے لیکن کچھ دیر پہلے والا منظر یاد آیا تو خود کو باز رکھا۔
"میرے راستے سے ہٹیں۔" اس نے ضبط کرکے بس یہی بولا۔ لڑکا کچھ کہے بغیر ایک جانب ہوا۔ جائی یانہ آگے بڑھ گئی۔ ابھی وہ کچھ دور ہی گئی تھی جب اسے اس لڑکے کی آواز دوبارہ سنائی دی۔
" سنیں! آپ کا ڈوپٹہ؟"
اس نے اس کی بات سنی، تو ٹھہری۔
"میرا دوپٹہ!" اس کے صرف ہونٹ ہلے.
اپنے دوپٹے پر دھیان دیا تو پتا چلا وہ سر پر سے اتر گیا تھا۔ اس نے ڈوپٹہ سر پر لیا اورایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ وہ لڑکا ابھی بھی اسے دیکھ رہا تھا۔ چند پل کے لیے دونوں کی بھوری آنکھیں ایک دوسرے سے ٹکرائی۔ پھر لڑکا واپس مڑ گیا۔ جائی یانہ نے بھی جانے کے لیے قدم آگے بڑھائے۔
*****************
سورج اپنی روشنی کو ہر سو پھیلا کر اب اپنے غروب ہونے کی تیاری میں مصروف تھا۔ اشفاق صاحب کے گھر میں آج خوب رونق تھی۔ اتوار کا دن تھا۔ سب گھر پر موجود تھے۔ ایسے میں زینب بھی بچوں کے ساتھ ان کے گھر پہنچ گئی تھیں۔
زینب لاؤنج میں بیٹھی نوال کے ساتھ باتوں میں مصروف تھیں جبکہ اشفاق، شایان اور عیسیٰ کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ جائی یانہ بھی اشفاق کے ساتھ بیٹھی ان کی باتیں سن رہی تھیں۔ وہ سب کاروباری گفتگو کر رہے تھے۔ جائی یانہ اپنا پسندیدہ موضوع کیسے چھوڑ سکتی تھی۔
عالیہ نمرہ کو لے کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی جبکہ عزاہ مہمانوں کی خاظر مدارت میں مصروف تھی۔ نوال صوفے پر اپنے ساتھ بیٹھی زینب سے پوچھ رہی تھی۔
"تم اتنے دنوں سے آئی نہیں۔ خیریت تو تھی؟"
"بھابھی آپ تو جانتی ہیں سارا دن کاموں میں الجھا رہتا ہے۔ کسی دوسری چیز پر دھیان نہیں جاتا ہے۔" زینب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
"ان کاموں سے وقت نکال کر، کبھی اپنوں سے ملنے بھی آجانا چاہیے۔"
"بھابھی ساری بات وقت کی ہی ہے۔ کسی کام کو لے کر بیٹھو تو دن سے رات ہو جاتی ہے۔ وقت کا پتا ہی نہیں چلتا ہے۔ ایسے میں اب وقت نکالنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔"
"یہ بات تو تم نے بلکل ٹھیک کہی، زینب! ہمارے زمانے میں تو وقت میں بہت برکت تھی۔ گھر کے کام کر لینے کے باوجود بھی انسان کے پاس اتنا وقت بچ جایا کرتا تھا کہ اپنوں کے ساتھ گزار سکے لیکن اب تو ہم اس قدر مصروف ہو گئے ہیں گھر کے افراد کے لیے تو دور اپنے لیے وقت نکالنا ہی مشکل ہے۔ "
زینب ان کی بات پر فقط مسکرائیں۔ ایسے میں عزاہ لاؤنج میں داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں چائے اور بسکٹ رکھے تھے۔ عزاہ جھک کر بیٹھی اور ٹرے میز پر رکھ دی۔ اس نے پہلے زینب کو چائے کا کپ تھمایا، پھر نوال کو۔
وہ اٹھنے لگی تو اسے زینب نے اسے روکا۔
"عزاہ میں جب بھی آتی ہوں، تم کاموں میں ہی لگی رہتی ہو۔ کبھی فرصت نکال کر پھپھو کے ساتھ بھی بیٹھ جایا کرو۔"
زینب کا گلہ سن کر وہ مڑی اور مسکرا کر کہا۔
"نہیں پھپھو ایسی بات نہیں ہے۔ میں بس نسرین کو ڈرائنگ روم میں چائے دینے کا کہہ دوں۔ پھر آپ کے پاس آکر آرام سے بیٹھوں گی۔"
یہ کہہ کر وہ چلی گئی۔ کچھ دیر بعد وہ زینب کے پاس رکھے سنگل صوفے پر بیٹھی تھی۔
"اور سناؤ؟ کیسی چل رہی ہے پڑھائی؟"
"اچھی جا رہی ہے۔ اب تو بس لاسٹ سمیسٹر رہ گیا ہے۔" عزاہ نے مسکرا کر بتایا۔
"ہممم، تو مزید آگے پڑھو گی؟"
زینب کے سوال پر عزاہ نے ہاں کہنا چاہا مگر بیچ میں نوال بول پڑیں۔
"نہیں اب بس۔۔۔ اتنا پڑھا دیا ہے یہی بہت ہے۔ میں تو ان دونوں کے ایم اے کے ہی خلاف تھی۔ میں چاہتی تھی یہ دونوں اب گھر داری سیکھیں مگر تم تو اپنے بھائی کو جانتی ہو۔ میری ایک نہیں سنی اور ان کا ایڈمیشن کروا دیا۔"
"ہمم بھائی کو تو میں واقعی میں بہت اچھے سے جانتی ہوں۔" زینب یہ بات بس سوچ سکیں۔
"خیر عزاہ تو سگھڑ ہے۔ اس کو تو گھر داری بہت اچھے سے آتی ہے۔" زینب نے اپنی سوچوں سے دھیان ہٹا کر، عزاہ کی تعریف کی۔
"ہاں یہ تو ہے۔ گھر داری تو تھوڑی بہت عالیہ کو بھی آتی ہے۔ اسی لیے اب سوچ رہی ہوں ان کا ایم اے ختم ہوتے ہی، ان کی شادیاں کروا دوں۔"
"آپ نے صحیح سوچا ہے۔ آپ کی نظر میں عالیہ اور عزاہ کے لیے کوئی رشتہ ہے؟" زینب کے سوال پر نوال کی مسکراہٹ پھیکی ہوئی۔
"نہیں ابھی تو کوئی نہیں ہے۔" نوال نے بمشکل مسکراتے ہوئے کہا۔ عزاہ کو اپنا وہاں بیٹھنا مناسب نہیں لگا، اس لیے وہ اٹھ کر باہر چلی گئی۔
"میں نے بھی سوچ لیا ہے اس سال اپنے شایان کی شادی بھی کروا دوں گی۔ ماشاءاللہ سے اب وہ سیٹل ہو چکا ہے اور شادی جیسی زمہ داری کو نبھانے کے لیے بھی تیار ہے۔ میں نے تو ایک دو لڑکیاں دیکھ رکھی ہیں۔ بس شایان حامی بھر لے، پھر آپ اور میں رشتہ مانگنے چلیں گے۔"
نوال کی مسکراہٹ زینب کی بات سنتے بلکل غائب ہوگئی۔ زینب نے آخر میں ان کو ساتھ چلنے کی دعوت دی تو نوال نے زبردستی مسکرا کر جواب دیا۔
"بالکل، کیوں نہیں!"
زینب اب ان سے شادی کی تیاریوں کے متعلق بات کر رہی تھیں جبکہ نوال گم صُم سی ان کی باتیں سن رہی تھیں۔ اسی وقت اگر دوسری منزل میں جائیں، تو عالیہ اور نمرہ کمرے میں بیٹھے باتوں میں مشغول تھے۔
" تمہارا ہاتھ اب بہت حد تک ٹھیک ہوگیا ہے۔"
نمرہ نے اس کے جلے ہاتھ پر تبصرہ دیا۔ عالیہ نے بھی اپنا ہاتھ دیکھا۔ جلا ہوا نشان مندمل ہو رہا تھا۔
"ہاں! تم صحیح کہہ رہی ہو۔"
"ویسے سارا کریڈٹ اس شخص کو جاتا ہے۔ اسی کی وجہ سے تمہارے ہاتھ پر چھالے نہیں بنے۔ ویسے وہ تھا کتنا ہینڈ سم۔ اس نے اپنا کیا نام بتایا تھا؟!"
"آریان!" اس کو سوچ میں پڑا دیکھ عالیہ نے جواب دیا۔
"ہاں! آریان!" نمرہ کو بھی یاد آگیا۔ پھر اس نے آنکھیں سکیڑ کر عالیہ کو دیکھا۔
"تمہیں اس کا نام بڑا یاد ہے۔"
" اس کی بات تم کر رہی ہو یا میں؟" اس نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔
"ہائے لیکن ایک بات تو ہے وہ تھا بڑا ہینڈ سم!"
"کتنی دفعہ اسے ہینڈسم کہو گی!" عالیہ چڑ گئی۔
" وہ ہے ہی اتنا ہینڈسم کہ اسے بار بار کہنے کو دل چاہتا ہے۔" نمرہ بیڈ پر لیٹ گئی اور ڈوپٹہ سے منہ چھپا لیا۔
"اپنے بھائی کے سامنے اسے ہینڈسم کہو۔ اگلے لمحے میں ہی تمہاری زبان ہاتھ میں پکڑا دے گا۔"
شایان کا ذکر سن کر اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔
"تم تو جی بھر کر خوش بھی نہیں ہونے دیتی ہو۔" نمرہ نے منہ بنا کر کہا اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔ عالیہ نے اس کے منہ بنانے پر مسکراہٹ دبائی۔
***********************
اس کے سامنے کفن میں لپٹے دو وجود، چارپائی پر لیٹے تھے۔ وہ ان سے قدرے دور کھڑی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ جنازے قبر میں تبدیل ہوگئے۔ اس نے اردگرد دیکھا تو اسے اپنا آپ کو قبرستان کے عین وسط میں کھڑا پایا۔ وہ خوف سے دو قدم پیچھے ہوئی، تو کسی وجود سے ٹکرائی۔ وہ دیکھے بنا جان چکی تھی کہ پیچھے اشفاق کھڑا تھا۔
"یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔ تم ان سب کی ذمّہ دار ہو۔ وہ میرے ماں باپ کی قبریں ہے۔ تم نے انہیں یہاں تک پہنچایا ہے۔" اشفاق کی دل دہلا دینے والی آواز اس کی سماعت میں اتری۔
"نہیں، میں نے ک۔۔۔کچھ ننن۔۔۔۔نہیں کیا۔" خوف سے بمشکل اس نے اپنا جملہ مکمل کیا۔ اسے دوبارہ اشفاق کی آواز سنائی دینے لگی۔ وہ اسے کسی بات کا الزام دے رہا تھا لیکن اس نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا۔ اس نے آنکھیں سختی سے بند کرلیں اور اندھا دھند بھاگنے لگی۔ اسے دور جانا تھا، بہت دور۔ اسے اس قبرستان سے نکلنا تھا لیکن اس کو راستہ نہیں مل رہا تھا۔
وہ ہانپنے لگ گئی تھی لیکن رکی نہیں۔ اچانک اسے ٹھوکر لگی، تو وہ گر گئی۔ اس نے آنکھیں کھولیں، تو اس کے سامنے ام ہانی بیٹھی تھی۔ اس کے سر سے خون نکل رہا تھا۔ وہ درد سے بلبلا رہی تھی۔ اس نے ام ہانی کے قریب جانا چاہا تو کسی نے اسے دھکا دے کر ام ہانی سے دور کیا۔ اس نے دوبارہ اس شخص کو نہ دیکھا۔ وہ جانتی تھی وہ کون ہے۔
"تم ایک عذاب ہو جو ہم پر نازل ہوئی ہو۔ پتا نہیں کونسی منحوس گھڑی تھی جب تم ہماری زندگیوں میں آئی تھی۔"
اشفاق کی باتیں ابھی تک پس منظر میں ابھر رہی تھی۔ وہ رو رہی تھی، اپنی بات کا یقین دلا رہی تھی کہ اس نے کچھ نہیں کیا لیکن اس کو آواز، اشفاق کی آواز کے سامنے دب رہی تھی۔
زینب کرنٹ کھا کر اٹھی۔ وہ پسینے سے نہا چکی تھی۔ اس کا جسم ڈر سے ابھی تک کانپ رہا تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا تو اس کا کمرہ اندھیرے میں نہایا ہوا تھا۔
اس نے اپنےپاؤں بیڈ سے نیچے اتارے اور کھڑی ہوگئی۔ اس کا جسم ابھی تک کپکپا رہا تھا۔ وہ تیز تیز قدم لیتی اپنے کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے کی جانب بڑھی۔ وہ حسن اور مریم کا کمرہ تھا۔ دروازہ بند تھا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اسے ہوش آیا۔ اس کا ہاتھ ہوا میں معلق ہوگیا تھا۔
اسے ایسے خواب تب سے آرہے تھے جب سے اشفاق نے زینب پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ وہ یوںہی ڈرتے ہوئے مریم چچی کے کمرے کی جانب بڑھ جاتی، لیکن کبھی بھی دروازہ کھٹکھٹانے کی ہمت نہیں کر پاتی تھی بلکہ دوبارہ اپنے کمرے میں چلی جاتی تھی لیکن آج اسے گھٹن ہو رہی تھی۔ وہ اپنے اندھیرے میں ڈوبے کمرے میں واپس نہیں جانا چاہتی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ چلتی برآمدے کی جانب بڑھنے لگی۔ اس نے ایک نگاہ ام ہانی اور نوال کے مشترکہ کمرے کو دیکھا۔ ان کے کمرے کا دروازہ بند تھا لیکن کمرے کے اندر موجود خاموشی بتاتی تھی کہ دونوں سو رہی تھیں۔
زینب نے اس واقعے کے بعد کسی سے بات نہ کی تھی۔ وہ اپنی ناراضی کا اظہار کرنا چاہتی تھی لیکن یہ دیکھ کر اسے دکھ ہوا کہ کسی کو اس کے بولنے یا نا بولنے سے فرق نہیں پڑتا تھا اور پڑتا بھی کیوں؟
آخر کو وہ زینب احمد تھی، اشفاق احمد نہیں جس کے آگے پیچھے سب لاڈ اٹھاتے پھرتے۔ اس نے سر جھٹکا اور بر آمدے کی جانب قدم بڑھائے۔
وہ اشفاق کے کمرے کے قریب سے گزری تو اس کی نگاہیں غیر ارادی طور پر اندر گئی۔ ان کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ صحن کے بلب کی مدھم روشنی اس کمرے کے اندر جا رہی تھی۔ اشفاق زینب کی طرف پشت کیے لیٹے ہوئے تھے۔ اسے پتا ہی نہیں چلا کہ وہ کب رک گئی تھی۔ اس نے اپنے بھائی کو بڑے غور سے دیکھا۔
"کیا کسی کے اندر اپنی بہن کے لیے اتنا زہر بھرا ہوا ہوسکتا ہے؟"
اس کے ذہن میں یہی سوال آیا تھا۔ وہ تھوڑی دیر کے لیے اپنے بھائی کو لیٹے دیکھے گئی۔ جب اشفاق نے کروٹ بدلی، تو وہ گھبرا کر سامنے سے ہٹ گئی۔
وہ قدم قدم چلتی بر آمدے میں آئی اور چارپائی پر گرنے والے انداز میں لیٹ گئی۔ اس کو آسمان صاف دکھائی دے رہا تھا۔ آج چاند اپنے جوبن پر تھا۔ اس کے اردگرد ستارے چمک رہے تھے۔ وہ بے شک ایک خوبصورت چاندنی رات تھی۔
چاند نے اسے اپنے حسن سے سحر زدہ کردیا۔ اس کی سیاہ آنکھیں چاند کی چاندنی دیکھ کر چمک اٹھیں۔ وہ بنا پلک جھپکے آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ اسے ڈر تھا کہیں پلک جھپکنے سے یہ منظر غائب نہ ہو جائے۔
اس کے اندربڑی شدت سے یہ خواہش جاگی کہ وہ ایک اس منظر کو قید کر لے۔ وہ اسی سوچ میں مگن تھی جب اسے ایک خیال آیا۔ وہ اوپر چھت پر گئی اور اسٹور روم میں گھس گئی۔ اسٹور روم میں ٹوٹی ہوئی الماری پڑی تھی۔ زینب نے اس الماری کا پٹ کھولا تو اس میں لگا گرد و غبار اڑ کر اس کے کپڑوں پر لگ گیا مگر وہ اس کی پروا کیے بغیر کچھ ڈھونڈنے لگی۔
کچھ دیر کی محنت کے بعد آخر اسے ایک ڈبہ مل گیا۔ زینب نے ڈبہ نکالا اور اسے زمین پر رکھ کر کھولا۔ اس میں بہت سی چیزیں پڑی تھیں لیکن زینب کی نظر اس میں موجود کیمرہ پر پڑی۔ یہ کیمرہ اشفاق کو حسن نے تحفے میں دیا تھا لیکن اس کو تصویریں کھینچنے کا شوق نہیں تھا۔ اسی لیے دو تین بار استعمال کرنے کے بعد اسے الماری میں رکھ دیا گیا تھا۔ زینب نے کیمرہ نکالا۔
جب اشفاق نے اس کے سامنے ایک دفعہ کیمرہ استعمال کیا تھا، تب اس نے بڑے غور سے ان کی ایک ایک حرکت کو دیکھا تھا۔ اسی لیے اسے کیمرہ استعمال کرنے کے بارے میں کچھ کچھ پتہ تھا
وہ کیمرہ لیے باہر آگئی۔ چاند اپنا سحر ابھی بھی قائم کیے ہوئے تھا۔ زینب کیمرے سے چاند کی تصویریں کھنچنے لگی۔ وہ بار بار تصویر کھنچنے کے لیے بٹن کلک کرتی رہی۔ کچھ دیر بعد وہ مسکرا کر اپنی کھنچی فوٹو دیکھ رہی تھی۔ اس کا چہرہ، کپڑے اور بال مٹی سے اٹے تھے لیکن اس کو کسی چیز کی پروا نہ تھی۔ اس کو تو بس اپنی تصویر سے مطلب تھا جو اس کی توقع کے عین مطابق تھی۔ حسین اور خوبصورت چاند!!!!
***************
"اچھا، اللہ حافظ!"
عالیہ، نوال کے کمرے میں داخل ہوئی تو بس یہ بات سن سکی۔ نوال کے کان کے ساتھ لگا فون اب نیچے ہوچکا تھا۔ نوال بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھیں۔ عالیہ ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
"کس کی کال تھی؟" عالیہ نے اپنے پاؤں بیڈ پر کرلیے اور نوال کے بالکل سامنے اپنا رخ کر لیا۔ اس کو اپنی ماں کا چہرہ اترا ہوا لگ رہا تھا۔
"ہانی نے کال کی تھی۔" نوال نے فون ایک طرف رکھ دیا۔
"اچھا! کیوں کال کی تھی؟"
"بس خیریت پوچھنے کے لیے۔۔۔۔" نوال نے تھکے تھکے لہجے میں کہا۔
"آپ پریشان لگ رہی ہیں۔ کیا آپ کے اور خالہ کے درمیان کوئی بات ہوئی ہے؟"
"میرے اور تمہاری خالہ کے درمیان میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ بس آج تمہاری پھپھو کی باتوں نے مجھے پریشان کر دیا ہے۔"
"کیوں؟ انہوں نے ایسا کیا کہا؟"
اماں اس کو بتاتے ہوئے ہچکچانے لگیں۔ عالیہ نے یہ بات محسوس کر لی۔ اس لیےاٹھ کر جانے لگی۔
"اگر آپ مجھے اپنا مسئلہ نہیں بتانا چاہتیں، تو ٹھیک ہے۔ کوئی بات نہیں۔"
وہ جانے لگی تو اسے اپنی ماں کی آواز سنائی دی۔
" ایسی بات نہیں ہے۔ دراصل میں چاہتی ہوں تمہاری شادی شایان سے ہو جائے لیکن آج تمہاری پھپھو کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوگیا ہے ان کا تمہیں بہو بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں ہانی سے اسی بارے میں بات کر رہی تھی۔"
عالیہ یہ سن کر ہکا بکا رہ گئی۔ اس کی ماں اس کے بارے میں کیا سوچ رہی تھی۔ وہ اور شایان؟ کبھی نہیں، ہرگز نہیں۔
اس نے تو کبھی شایان کو ایسی نظر سے دیکھا ہی نہیں تھا۔ اس کو تو وہ ایک کزن کی حد تک بھی بس نارمل لگتا تھا۔ اس کے لیے شایان کبھی بھی اہم نہیں رہا تھا۔
عالیہ نے لمحے کے ہزارویں حصے میں شکر ادا کیا کہ پھپھو نے اماں کی امید توڑ دی، ورنہ پتہ نہیں کیا ہو جاتا۔
"اس میں اداس ہونے کی کیا بات ہے۔ اللّٰہ نے میرے نصیب میں جو لکھا ہوگا، مجھے مل جائے گا۔" اس نے نوال کو تسلی دینا چاہی۔
"نصیب میں جو لکھا ہوتا ہے، وہ تو مل کر رہتا ہے لیکن اس کے لیے بھی ہاتھ پاؤں چلانے پڑتے ہیں۔ ایسے ہی بیٹھ کر سوچنے سے کچھ نہیں ملتا۔" نوال نے اس کی تصیح کی۔
"تم سب سے بڑی ہو۔ تمہارے بعد دو اور ہیں۔ ان کی شادیاں بھی کرنی ہے۔"
عالیہ کے پاس بولنے کو ہزاروں الفاظ تھے لیکن اس کی ماں ابھی کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھیں۔ اس لیے وہ خاموشی سے اٹھ کر کمرے میں چلی گئی۔ اپنے کمرے میں آکر اس نے شایان کے بارے میں سوچا۔ اسے شایان کے بارے میں سوچ کر ہی عجیب لگ رہا تھا۔ اس نے اللہ کا دوبارہ شکر ادا کیا۔ پھر سونے کے لیے لیٹ گئی۔
******************
"آپ نے کل ماموں ممانی سے میرے اور عالیہ کے بارے میں بات کیوں نہیں کی؟"
ناشتے کے وقت زینب نے بڑے غور سے اپنے سامنے بیٹھے بیٹے کو دیکھا۔ ڈائننگ ہال میں اس وقت زینب اور شایان موجود تھے جبکہ نمرہ اپنے کمرے میں یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ ڈائننگ ہال میں تناؤ پھیلا ہوا تھا۔
"تھوڑا صبر رکھو۔ تمہیں جلدی کس بات کی ہے؟"
زینب نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
"آپ چاہتی ہی نہیں ہیں میری اور عالیہ کی شادی ہو۔"
" میں اگر یہی چاہتی ہوتی تو کل تمہارے ساتھ نہیں جاتی بلکہ اسی وقت منع کر دیتی جب تم نے عالیہ سے شادی کرنے کی خواہش کی تھی۔"
"پھر آپ نے ماموں سے ہمارے رشتے کی بات کیوں نہیں کی؟" شایان کچھ نرم پڑا۔
"تم اشفاق بھائی کو جانتے نہیں ہو۔ میں اگر اس وقت تمہارے رشتے کی بات کرتی تو انہوں نے عالیہ کی پڑھائی کا کہہ کر انکار کر دینا تھا۔"
"تو پھر کل ہم ان کے گھر کیوں گئے؟"
"میں بھابھی کو یہ بتانے گئی تھی کہ میں شایان کے لیے لڑکی تلاش کر رہی ہوں اور جلد از جلد اس کی شادی کنا چاہتی ہوں۔ میں نے ان کی یہ امید توڑ دی کہ میں شایان کی شادی ان کی بیٹیوں میں سے کسی ایک سے کرواؤں گی۔"
"آپ نے یہ کیا کیا؟!" شایان نے بے یقینی سے اپنی ماں کو دیکھا۔ "اگر انہوں نے عالیہ کے لیے دوسرے رشتے دیکھنے شروع کر دیے، تو کیا ہوگا؟"
"نہیں نوال بھابھی ایسا کچھ نہیں کریں گی، بلکہ اب وہ خود مجھ سے تمہارے اور عالیہ کے رشتے کے متعلق بات کریں گی۔ میں نے جب ان سے تمہاری شادی سے متعلق بات کی، تو ان کے چہرے پر کئی رنگ آکر گزرے تھے۔ صاف ظاہر تھا انہیں مجھ سے بہت امیدیں تھیں۔"
"اور اگر آپ کی حکمت عملی غلط ہوگئی تو؟" شایان نے اپنا خدشہ پیش کیا۔
" اوّل تو جیسا میں نے کہا ہے، وہی ہوگا لیکن اگر ایسا نہیں بھی ہوا، تو میں خود مناسب وقت میں بات کروں گی۔"
"اور وہ مناسب وقت کب آئے گا؟" شایان نے کسی بچے کی طرح سوال کیا۔
"جب وہ وقت آئے گا۔ اپنے دل سے سارے خدشات نکال دو اور مجھ پر یقین رکھو۔ میں تمہاری شادی عالیہ سے کروا کر رہوں گی۔ مجھے بھی عالیہ بہو کے روپ میں پسند ہے۔ اب تم چپ چاپ ناشتے پر دھیان دو۔"
زینب نے اتنا کہہ کر بات ختم کر دی۔ شایان خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا لیکن وہ ابھی بھی مطمئن نہیں ہوا تھا۔ پتا نہیں کیوں لیکن اسے لگ رہا تھا، اگر اس نے مزید دیر کی تو کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔
******************
یونیورسٹی میں آج معمول کے مطابق چہل پہل تھی۔ سب اپنی اپنی سرگرمیوں میں مگن تھے۔ جائی یانہ کلاس میں بیٹھی لیکچر اٹینڈ کر رہی تھی۔ وہ پروفیسر کی ایک ایک بات کو غور اور توجہ سے سن رہی تھی۔ اسے جو بات ضروری لگتی، اسے اپنے رجسٹر پر لکھ لیتی۔ لیکچر ختم ہوا تو سب طالب علم اٹھ کر جانے لگے۔ جائی یانہ بھی اپنا سامان سمیٹنے لگی۔ وہ اپنا سارا سامان بیگ میں ڈال کر کھڑی ہوئی تو اسے پیچھے کے بینچ پر ایک لڑکی بیٹھی دکھائی دی۔ یہ وہی کالی چادر والی لڑکی جس کے ساتھ جائی یانہ پہلے دن بیٹھی تھی۔ کسی خیال کے تحت جائی یانہ اس کے پاس گئی۔
"یہاں کیا کر رہی ہو؟" جائی یانہ مسکرا کر پوچھا۔ وہ لڑکی اپنے نوٹس دیکھ رہی تھی۔ اس نے آج بھی اپنے آپ کو کالی چادر سے چھپایا ہوا تھا۔ جائی یانہ کی آواز پر اس نے چونک کر دیکھا۔ ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ دوبارہ نوٹس پڑھنے لگی۔
"پڑھائی کر رہی تھی بس!" اس نے مصروف انداز میں کہا۔
"اچھا!" جائی یانہ اس کے پاس رکھے بینچ پر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر کے لیے ایک طویل خاموشی چھائی۔
" تمہارا کیا نام ہے؟" جائی یانہ نے دوبارہ پوچھا۔
" نائلہ! "اب کی دفعہ اکتائی آواز سے کہا گیا۔ جائی یانہ جان گئی نائلہ اس سے بات نہیں کرنا چاہتی۔ اسی لیے وہ مزید کوئی بھی بات کیے بغیر کلاس سے نکل گئی۔ اس کو سمجھ نہیں آیا آخر نائلہ اس سے یوں روکھے انداز میں بات کیوں کر رہی تھی؟ پہلے دن بھی نائلہ نے اس سے بات نہیں کی تھی اور آج بھی مروتاً بات کر رہی تھی جبکہ وہ تو اس سے بڑی خوش اخلاقی سے ملتی تھی۔
وہ اسی متعلق سوچتے ہوئے کینٹین میں رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنے لیے کافی منگوائی اور اپنے اردگرد دیکھنے لگی۔ اس کو یونیورسٹی کا میدان صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ یونہی اسٹوڈنٹ کو آتا جاتا دیکھ رہی تھی جب اس کی نظر درخت سے ٹیک لگائے گھنگھرالے بالوں والے لڑکے پر گئی۔
جائی یانہ کو دور بیٹھے بھی اس کے چہرے پر پریشانی دکھائی دیتی تھی۔ وہ کسی غیر مرئی نقطے کو َتک رہا تھا۔ جائی یانہ کو اس کا بینچ زمین پر مارنا اچھے سے یاد تھا۔ اس وقت وہ غصے میں بینچ کو زمین پر مار رہا تھا۔ شاید وہ اس دن بھی پریشان تھا اور اسی لیے غصے میں آکر بینچ توڑ رہا تھا۔ اس وقت بھی وہ پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ جائی یانہ کو اس پر ترس آیا۔
" اللّٰہ اس کی پریشانی دور کرے۔"
اس کو دیکھتے ہوئے اس کے دل سے دعا نکلی۔ اچانک لڑکے نے گردن گھما کر ادھر ادھر دیکھا۔ جائی یانہ نے فوراً نظریں پھیری۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اسے دیکھتے ہوئے دوبارہ پکڑی جائے۔ اتنے میں اس کی آرڈر کی کافی بھی آ گئی۔ جائی یانہ نے نوٹس نکالے اور اپنا دھیان بٹانے لگی۔
*******************
اسلام آباد کا ایک شاپنگ مال شام کے وقت روشنی سے نہایا ہوا تھا۔ ایسے میں اس کے اندر داخل ہو، تو وہاں لوگوں کے ہجوم میں عالیہ اور نمرہ بھی خریداری کر رہی تھیں۔
ان دونوں کے ہاتھ میں شاپنگ بیگز تھے۔ نمرہ کو کچھ سامان خریدنا تھا اسی لیے وہ عالیہ کو ساتھ لائی تھی۔ وہ دونوں ساتھ شاپنگ کرنے جایا کرتی تھیں۔
نمرہ کی نظر لسٹ پر تھی جس میں اس نے اپنے خریدنے کا سامان لکھا ہوا تھا جبکہ عالیہ اپنے آس پاس نگاہیں دوڑا رہی تھی۔ اچانک عالیہ کی نظر ایک انگوٹھی پر پڑی، تو وہ رک گئی اور اس کے قریب پہنچ گئی۔ اس کے درمیان میں ایک بڑا ہیرا جڑا تھا جبکہ اس کے آس پاس چھوٹے چھوٹے ہیروں سے ڈیزائن کیا ہوا تھا۔ وہ اتنی حسین تھی کہ پل بھر کو کوئی بھی ٹھہر سکتا تھا۔ اس کے اور انگھوٹھی کے درمیان شیشے کی دیوار حائل تھی۔ اس کی نظریں انگوٹھی کے ساتھ درج قیمت پر گئیں تو وہ انگوٹھی کے سحر سے ایک دم باہر نکلی۔ اس کی قیمت اتنی زیادہ تھی کہ عالیہ اسے خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔
عالیہ نے دوبارہ انگوٹھی کو دیکھا تو اب کی بار سنہری آنکھوں میں حسرت صاف ظاہر تھی۔
"اوہ! آپ یہاں؟"
وہ انگوٹھی کو تکتی رہتی اگر اسے مردانہ آواز اپنے اتنے پاس سے نہ سنائی دیتی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو اس کے عین سامنے آریان کھڑا تھا۔ اس نے بیش قیمتی تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا، اس کی کلائی میں برانڈڈ گھڑی بندھی ہوئی تھی اور اس کے مہنگے پرفیوم کی خوشبو ہر جگہ پھیل رہی تھی۔ یہ بات تو طے تھی اس کا تعلق کسی بہت امیر گھرانے سے تھا۔
"اوہ! آپ بھی یہاں؟!"
عالیہ نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔ آریان اس کی بات سن کر محظوظ ہوا۔
"آپ کا ہاتھ اب کیسا ہے؟" آریان نے اس کے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
"ٹھیک ہے۔"
عالیہ نے اردگرد دیکھا تو اسے نمرہ کہیں دکھائی نہیں دی۔ عالیہ جب اس انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی، تب نمرہ آگے نکل گئی ہوگی۔ اب یقیناً وہ اسے ڈھونڈ رہی ہوگی۔
"لگتا ہے کسی کو ڈھونڈ رہی ہیں؟!" عالیہ کو اردگرد متلاشی نظروں سے دیکھتا پا کر آریان بولا۔
"جی، میری دوست میرے ساتھ آئی تھی لیکن اب پتا نہیں کہاں چلی گئی ہے؟"
عالیہ چھوٹی سی بات پرگھبرا جاتی تھی۔ وہ کافی کمزور اعصاب کی مالک تھی۔
"آپ اپنی اس دوست کے ساتھ تو نہیں آئی، جو آپ کے ہاتھ پر دوائی لگا رہی تھی۔ کیا نام تھا ان کا؟" آریان سوچتے ہوئے بولا۔
" نمرہ! نمرہ ہی نام تھا نا ان کا؟" آریان کو ایک دم سے نام یاد آیا۔
"آپ کو میری دوست کا نام کیسے پتا چلا؟" عالیہ نے اپنی سنہری آنکھیں سکیڑ کر آریان کو دیکھا۔
"مجھے تو آپ کا نام بھی پتا ہے، مس عالیہ۔ آپ دونوں ریستوران میں ایک دوسرے کا نام لے رہے تھے تو میں نے اندازہ لگایا۔" آریان نے کندھے اچکائے۔
"پتا نہیں وہ کہاں ہوگی؟ میں اتنے بڑے مال میں اسے کہاں ڈھونڈوں گی؟" عالیہ اس کی وضاحت سن کر دوبارہ پریشان ہوگئی۔
" آپ ان کو کال کرلیں!" آریان نے اسے مشورہ دیا۔
عالیہ کو اس کا مشورہ سمجھ آیا۔ اس نے اپنے پرس میں سے موبائل نکالنا چاہا لیکن تبھی اسے یاد آیا اس کا پرس تو نمرہ کے پاس تھا۔ اس کے ہاتھ میں زیادہ سامان تھا۔ اسی لیے اس نے پرس نمرہ کو پکڑا دیا تھا۔ اس کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے۔
"کیا ہوا؟ اب آپ یہ نہ کہیے گا آپ نے اپنا موبائل بھی گم کردیا ہے؟" عالیہ کے چہرے کے تاثرات سے آریان بھانپ گیا تھا۔
"نہیں موبائل گم نہیں ہوا۔ میرا موبائل دراصل نمرہ کے پاس رہ گیا ہے۔" اس نے پریشانی سے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔
"شاباش!" آریان نے بنا آواز کیے تالی بجائی۔
" آپ کو اپنی دوست کا نمبر تو یاد ہوگا؟"
"نہیں مجھے تو صرف اپنا نمبر یاد ہے۔" عالیہ نے پریشانی سے کہا۔
تو اپنے نمبر پر کال کرلیں!" آریان کے اس مشورے پر عالیہ نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہنا چاہ رہی ہو کہ آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے۔
"میرا موبائل میرے پاس نہیں ہے، تو میں کال کیسے کروں؟" ایک تو وہ اتنی پریشان تھی، اوپر سے آریان اسے پتہ نہیں کیسے مشورے دے رہا تھا۔
"میرے موبائل سے کر لیجیے!" آریان نے اسے پیشکش کی تو وہ جھجھکی۔
"اب آپ کو اپنا نمبر یاد نہیں ہوگا۔" آریان نے اس کو سوچتے دیکھا، تو دوبارہ طنز کیا۔ آخر یہ شخص اتنے طنز کیوں کرتا تھا؟
"ایسی کوئی بات نہیں ہے۔"
"اگر ایسی بات نہیں ہے تو پھر سوچ کیوں رہی ہیں؟ مجھ سے موبائل مانگیں۔" آریان نے جیسے عالیہ کو چیلنج کیا۔
"اپنا موبائل دو!" عالیہ نے اس کی بات سن کر فوراً موبائل مانگا۔ آریان نے اپنا موبائل فون کچھ بھی کہے بنا اس کے سامنے کیا۔
اس نے موبائل اپنی گرفت میں لیا، پھر اپنے نمبر پر کال کی۔ پہلی دو کالز کا کوئی جواب نہ دیا گیا۔ تیسری دفعہ میں اٹینڈ کر لی گئی۔
"نمرہ تم کہاں ہو؟" عالیہ نے کال اٹینڈ ہوتے ہی فوراً پوچھا۔
"میں تو دوسری منزل پر ہوں۔ کب سے تمہیں ہی ڈھونڈ رہی ہوں۔" نمرہ عالیہ کی آواز پہچان گئی تھی، اسی لیے اس نے سیدھا جواب دیا۔
"جلدی پہلی منزل پر آؤ۔ میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔"
"تم کس جگہ کھڑی ہو؟"
نمرہ کے سوال پر عالیہ نے اپنے اردگرد کا بتایا۔
"میں سمجھ گئی ہوں۔ تم اپنی جگہ سے ہلنا مت! میں بس آ رہی ہوں۔۔" یہ کہہ کر نمرہ نے کال کاٹ دی۔
عالیہ نے آریان کو اس کا فون دیا۔
"موبائل دینے کا شکریہ!"
"آپ کی دوست کہاں ہیں؟" موبائل لیتے ہوئے آریان نے پوچھا۔
"وہ دوسری منزل پر تھی لیکن اب اسے بتایا ہے، تو آتی ہوگی۔"
"اچھا!" اس نے یہ کہہ کر موبائل اپنی کوٹ کی جیب میں ڈالا۔
"نمرہ!" عالیہ کو دور سے نمرہ آتی دکھائی دی، تو وہ آریان کو چھوڑ کر نمرہ کی جانب بڑھ گئی۔ عالیہ کے پکڑے شاپنگ بیگ میں سے ایک ڈبیا گری لیکن عالیہ کو پتہ نہیں چل پایا۔ آریان نے ڈبیا کو گرتا دیکھا تو فوراً آگے بڑھ کر اٹھا لیا۔ آریان نے ایک نظر عالیہ کو دیکھا، پھر ڈبیہ کو۔ اس نے ڈبیا کو کھول کر دیکھا تو اس کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ ابھری۔
"امید کرتا ہوں ہماری اگلی ملاقات اچھی گزرے گی، مس عالیہ!" اس نے ہلکی آواز میں کہا اور واپسی کے لیے مڑ گیا۔ اس نے ڈبیا کو اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال لیا۔
دوسری طرف نمرہ نے آریان کو جاتا دیکھ لیا تھا۔ وہ بھی لپک کر عالیہ کی جانب بڑھی۔
"یہ تو آریان تھا نا؟!" اس نے انگلی کے اشارے سے کہا۔
"ہاں!" عالیہ نے آرام سے کہا۔
"یہ مت کہنا تم نے اس سے موبائل لے کر کال کی تھی۔"
نمرہ کا سانس پھولا ہوا تھا جو اس بات کا ثبوت تھا وہ عالیہ کی کال پر دوری چلی آئی تھی۔
"میں نے اس کے موبائل سے ہی کال کی تھی۔" عالیہ نے آرام سے کہا اور آگے بڑھنے لگی۔
"کیا!" اس نے اتنا اونچا بولا تھا کہ تین چار لوگوں نے مڑ کر اسے دیکھا تھا۔ وہ فوراً عالیہ کے پاس پہنچی اور اس کے ساتھ چلنے لگی۔
"تم نے اس کے نمبر سے کال کی تھی یعنی تم نے آریان سے بات بھی کی ہوگی!"
" تم اتنا اوور ری ایکٹ کیوں کر رہی ہو؟!" عالیہ نے چڑ کر کہا۔
" میں تو بس اوور ری ایکٹ کر رہی ہوں لیکن تم تو پتہ نہیں کیا کر رہی ہو۔ پہلے ریستوران اور اب مال۔۔۔آخر چل کیا رہا ہے؟!" آخر میں نمرہ کے لب شیطانی مسکراہٹ میں ڈھلے۔
"بکواس بند کرو اپنی!" عالیہ نے اسے جھڑکا۔
"ویسے ایک بات بتاؤ اب تو وہ تمہیں ہینڈسم لگا ہوگا۔" نمرہ نے آنکھیں ٹپٹپائیں۔ عالیہ نے سر آہستہ سے نفی میں ہلایا جیسے کہنا چاہ رہی ہو تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا اور آگے بڑھ گئی۔ نمرہ مسکراتی ہوئی اس کے پیچھے گئی۔ یہ بات طے تھی نمرہ نے ایک ہفتے تک اس کہ جان نہیں چھوڑنی تھی۔
**********************
رات ہر سو پھیلی تھی۔ اشفاق کے گھر میں رات کا کھانا کھا لیا گیا تھا۔ اب سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔ ایسے میں عالیہ کچن میں کھڑی چائے بنا رہی تھی۔ چائے پکنے کے بعد اس نے چائے کو مگ میں ڈالا۔ اسی وقت جائی یانہ کچن میں آئی۔ اس کو پیاس لگی تھی۔ اس نے پانی پینے کے لیے کچن کا رخ کیا تھا۔ اس نے پانی کی بوتل نکالی اور ایک نظر عالیہ کو دیکھا۔
"آپی آپ رات کے وقت چائے کیوں بنا رہی ہیں؟" جائی یانہ نے پوچھا۔
"عیسیٰ کے لیے بنا رہی ہوں۔ اس نے کہا تھا سر میں درد ہو رہا ہے، تو چائے بنا دو۔" جائی یانہ نے اس کی بات سن کر سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔
"سنو جائی یانہ! تم اوپر جارہی ہو تو یہ چائے کا مگ بھی ساتھ لیتی جانا۔ عیسیٰ کمرے میں ہوگا۔ تم اسے دے دینا۔"
"اچھا! دے دیں۔" جائی یانہ نے احسان جتاتے کہا۔
عالیہ نے اسے مگ تھمایا اور کچن صاف کرنے میں لگ گئی۔ جائی یانہ آرام سے عیسیٰ کے کمرے کے پاس پہنچ گئی۔ عیسیٰ کے کمرے کا دروازہ آدھا بند تھا۔ وہ کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔ کمرے کے باہر اس کی آواز صاف سنائی دے رہی تھیں۔
جائی یانہ دروازے کو دستک دینے لگی تھی لیکن عیسیٰ کی بات سن کر ٹھٹھک گئی۔
"امی آپ نے مجھے اتنے بیک ورڈ لوگوں میں کیوں بھیج دیا ہے؟"
جائی یانہ کا ہاتھ ہوا میں معلق ہوگیا۔
"کیا عیسیٰ ہماری بات کر رہا ہے؟" جائی یانہ کے ذہن میں یہ بات آئی۔ عیسیٰ ابھی بھی بول رہا تھا۔
"اشفاق انکل فجر کی نماز میں اٹھانے آ جاتے ہیں۔ میں سارا دن کام کرکے اس وقت سوتا ہوں لیکن ان کے سر پر تو تبلیغ دین کا بھوت سوار ہے۔ اوپر سے وہ گھر میں نماز نہیں پڑھتے بلکہ اپنے ساتھ مسجد لے جاتے ہیں۔ مجھے ہر وقت نماز، روزے کی پابندی کا درس دیتے رہتے ہیں۔"
کچھ دیر کے لیے وہ خاموش ہوا اور دوسری طرف کی بات سننے لگا۔
"اوہ پلیز آپ ان کی طرف داری تو مت کریں۔"
دوبارہ خاموشی چھائی۔
" نوال آنٹی!!" نوال کا نام سن کر وہ تمسخر سے ہنسا۔
"نوال آنٹی کی تو بات ہی نا کریں۔ مجھ سے ایسے بات کرتی ہیں جیسے کسی پانچ سالہ بچے سے بات کر رہی ہو۔ اس گھر میں کوئی پرائویسی نہیں ہے۔ ہر وقت آنٹی یا ان کی بیٹیاں کمرے میں آ کر پوچھتی ہیں کہ یہ کھایا؟ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ یہ تو نہیں چاہیے؟ وہ تو نہیں چاہیے؟ ان لوگوں نے تنگ کرکے رکھا ہوا ہے۔"
"اوپر سے نوال آنٹی پتا نہیں کیسے اور کس طرح کے کھانے کھلاتی رہتی ہیں۔ کھانا کھانے کے بعد میری طبیعت اس قدر خراب ہو جاتی ہے کہ آپ مت پوچھیں۔ اتنے آئلی کھانے! یہاں آکر تو میری ساری ڈائٹ خراب ہوگئی ہے۔ ایک دفعہ میں نے نوال آنٹی کو اپنی ڈائٹ کا بتایا تو کہنے لگیں یہ ڈائٹ صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہوتی اور پتا نہیں کون کون سی تقریریں جھاڑنے لگیں۔ "
جائی یانہ کی چائے کے مگ پر گرفت مضبوط تھی۔ جائی یانہ کو اپنا آپ ان دیکھی آگ میں جلتا محسوس ہوا۔ عیسیٰ کی باتوں سے کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ ایک پڑھا لکھا مہذب انسان تھا۔
"جی اچھا مجھے کچھ کام ہے۔ بعد میں بات کرتا ہوں۔" یہ کہہ کر کال کاٹ دی۔
جائی یانہ کا دل چاہا کہ عیسیٰ کو جا کر کھری کھری سنائے لیکن وہ اتنی کم ظرف نہیں تھی کہ گھر آئے مہمان کی بے عزتی کریں۔ اس لیے خود کو پر سکون کیا، پھر دروازہ کھٹکھٹایا۔
" آجائیں!"
جائی یانہ اجازت ملنے پر کمرے میں آگئی۔ عیسیٰ سامنے بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے لیپ ٹاپ کھلا ہوا تھا اور لیپ ٹاپ کے آس پاس مختلف رنگوں کی فائلز بکھری ہوئی تھیں۔ جائی یانہ کا چہرہ سپاٹ تھا اس نے ایک نظر عیسیٰ پر ڈالی۔ عیسیٰ نے سرمئی رنگ کی ٹی شرٹ اور سفید رنگ کا ٹراؤزر پہنا ہوا تھا۔ سبز آنکھوں پر عینک لگا تھا۔ اس کےبکھرے بال ماتھے پر آرہے تھے۔ عیسیٰ اس کو دیکھ کر تھکا تھکا سا مسکرایا۔ جائی یانہ نے مسکرانے کی بھی زحمت نہیں کی۔
"آجاؤ جائی یانہ، بیٹھ جاؤ!"عیسیٰ نے بڑی خوش اخلاقی سے کہا۔
"نہیں رہنے دیں۔ آپ اپنا کام کرلیں۔ کہیں ہماری وجہ سے آپ کے کام میں حرج نہ پڑ جائے۔" جائی یانہ نے انتہائی روکھے لہجے میں کہا۔ اس نے ضبط کیا ہوا تھا ورنہ اس کا بس نہیں چل رہا تھا عیسیٰ کی منافقت پر اس کا سر پھاڑ دے۔
"ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔ تم بیٹھو گی تو مجھے اچھا لگے گا۔" عیسیٰ اپنے کام میں الجھا ہوا تھا، اسی لیے اس نے جائی یانہ کا روکھا لہجہ محسوس نہیں کیا۔
جائی یانہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور چپ چاپ کمرے سے نکل گئی۔ عیسیٰ کو اس کا یوں خاموش چلے جانا ٹھٹھکا۔
"اس نے میری اور امی کی باتیں تو نہیں سن لی؟" اس کے دل میں یہ خیال آیا لیکن اگلے ہی لمحے جھٹک دیا۔ دوسری طرف جائی یانہ تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی۔ اس کا رخ کچن کی جانب تھا۔ وہ کچن کے پاس پہنچی تو اس نے عالیہ کو کچن سے نکلتا دیکھا۔ اس نے برتن دھوئے تھے، اس لیے اس کے ہاتھ گیلے تھے۔ وہ ہاتھوں کو اپنے ڈوپٹے سے رگڑ رہی تھی۔
"عیسیٰ کو چائے دے کر آ گئی، جائی یانہ؟" اس نے بے دھیانی میں پوچھا۔ پھر جب سر اٹھا کر جائی یانہ کا چہرہ دیکھا تو رکی۔
کیا ہوا ہے؟" اس نے بڑے غور سے جائی یانہ کا چہرہ دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
جائی یانہ کو تو بات بتانے کا موقع چاہیے تھا۔ وہ ایک دم پھٹ پڑی تھی۔ اس نے عیسیٰ اور ام ہانی کی ساری گفتگو عالیہ کو ایک سانس میں سنا دی ۔ وہ جوں جوں عالیہ کو بتا رہی تھی، عالیہ کے تاثرات سخت ہوتے جارہے تھے۔ تیز بولنے کی وجہ سے اس کی اپنی سانس پھول گئی۔
جائی یانہ دوسری طرف رخ کرکے سانس لینے لگی۔ اس کو پتہ تھا عالیہ آپی کو بھی اتنا ہی غصہ آیا ہوگا، جتنا اسے یہ بات سن کر غصہ آیا تھا۔
"تمہیں ایک کام کرنے کو کیا دے دو، تم تو کام سے جان چھڑانے کے لیے اپنی طرف سے کہانیاں بنانے لگ جاتی ہو۔"
جائی یانہ نے حیرت سے عالیہ کو دیکھا۔ اسے لگا کہ اسے سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے۔
"آپ نے ابھی کیا کہا؟"
"وہی جو تم نے سنا! اب پلیز مجھے اس طرح مت دیکھو۔ میں بچی نہیں ہوں۔ مجھے اچھے سے معلوم ہے کون کیسا ہے اور کون کیسا؟"
"آپ کا مطلب ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں؟"جائی یانہ نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
"پہلی بات تو یہ ہے میں عیسیٰ کو اچھے سے جانتی ہوں۔ وہ ایسا کہہ ہی نہیں سکتا ہے اور اگر اس نے ایسی کوئی بات کہی بھی ہے، تو بھی وہ ایسی نہیں ہوگی جیسی تم سنا رہی ہو۔ تمہاری رائی کا پہاڑ بنانے کی عادت سے سب واقف ہے۔"
"اچھا تو آپ کو عیسیٰ پر یقین ہے، مجھ پر نہیں؟" اب کی دفعہ جائی یانہ نے بھی غصے سے کہا۔
" ہاں مجھے عیسیٰ پر یقین ہے۔ وہ میرا چھوٹا بھائی ہے۔ میں اسے اچھے سے جانتی ہوں۔ میں تمہیں بھی جانتی ہوں۔ تمہاری عادتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔"
عالیہ اس کو باتیں سنا کر اوپر چلی گئی۔ پیچھے جائی یانہ ابھی تک حیران تھی۔ عالیہ کو اس کی بات سے زیادہ عیسیٰ پر اعتبار تھا۔ اس کی کوئی غلطی بھی نہیں تھی، مگر اسے ڈانٹ سننی پڑی۔ وہ پیر پٹختی ہوئی اپنے کمرے میں گئی اور دروازہ زور سے بند کردیا۔ بیڈ پر لیٹ کر، اس نے چادر سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ اس رات وہ بس کروٹیں بدلتی رہی۔
********************
کالج کی راہداریوں سے گزرتی ہوئی وہ کلاس لینے جا رہی تھی۔ اس نے سفید وردی پر گلابی رنگ کا دوپٹہ لیا ہوا تھا۔ اس نے بالوں کو پونی میں باندھا ہوا تھا جبکہ بیگ کندھے پر لٹکایا ہوا تھا۔ وہ ایک کلاس کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اس نے دروازہ کھولا اور ٹیچر سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔
لیکچر کچھ منٹ پہلے شروع ہوچکا تھا لیکن ٹیچر نے اس کو ڈانٹے بغیر اندر آنے کی اجازت دے دی۔ وہ جیسے ہی اندر آئی، نازنین نے اپنا ہاتھ ہلایا اور اسے اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ زینب نازنین کے ساتھ بیٹھ گئی۔
"تم لیٹ کیوں ہوئی؟" نازنین نے سامنے بیٹھی ٹیچر پر نظر جمائے سرگوشی کی۔
"میم آصفہ کو کام تھا، انہوں نے مدد کے لیے روک لیا۔" زینب نے بھی آہستگی سے کہا۔
"یہ کسی بھی ٹیچر کو کام ہوتا ہے، وہ ہمیں ہی کیوں روکتی ہیں۔ کالج لڑکیوں سے بھرا ہوا ہے لیکن سب ٹیچروں کو بس ہم ہی فارغ لگتے ہیں۔" نازنین نے اکتا کرکہا زینب نے بمشکل اپنی ہنسی دبائی۔ وہ دونوں اچھی طالبات تھیں۔ اسی لیے ٹیچرز کی پسندیدہ تھیں۔ جب بھی انہیں کوئی کام ہوتا، وہ زیادہ تر ان دونوں کو ہی کرنے کا کہتی تھیں۔ زینب کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں البتہ نازنین کام کر کرکے تنگ آگئی تھی۔۔
"دوسری لڑکیاں اس بات پر جلتی ہیں۔" زینب نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔ وہ جانتی تھی نازنین اس بات پر مزید تپ جائے گی۔
"اگر ایک دن کے لیے بھی ان کو اتنے کام کرنے پڑے، جتنے ہم کرتے ہیں، تو پھر ساری زندگی کسی سے نہیں جلیں گی!" زینب کھل کر مسکرائی۔ دوسری طرف ٹیچر نے زینب کو یوں مسکراتے دیکھا تو فوراً کھڑا کیا۔
"کھڑی ہو جائیں۔" زینب فوراً کھڑی ہوگئی۔ تھوڑی دیر پہلے والی مسکراہٹ ہونٹوں سے غائب ہوچکی تھی۔
"بتائیں یہ جو شعر میں نے پڑھا ہے یہ کس شاعر کا شعر ہے؟"
اس وقت اُردو کا لیکچر ہو رہا تھا اور ٹیچر نظم کی تشریح کر رہی تھی۔
"احمد ندیم قاسمی!" زینب نے فوراً نام بتایا۔
"شاباش!"
اس کے بعد ٹیچر نے ایک شعر پڑھا اور زینب کو تشریح کرنے کا کہا۔ زینب نے بغیر رکے، متوازن لہجے سے شعر کی تشریح کی۔ ٹیچر سمیت سب کو اس کی تشریح پسند آئی۔ پوری کلاس نے اس کے لیے تالیاں بجائی۔ نازنین فخریہ انداز میں مسکرائی۔ آخر وہ زینب کی دوست تھی۔ فخر کرنا تو بنتا تھا۔ کلاس ختم ہوئی تو وہ دونوں باہر نکل گئے۔ ان دونوں کا رخ اب میدان کی جانب تھا۔
"شاباش، میری شیرنی!" نازنین نے اس کی تعریف کی۔
"تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے میں نے جنگ جیت لی ہو!"
"اتنی اچھی تشریح پر تعریف کرنا تو بنتا ہے۔"
زینب نے مسکرا کر سر نفی میں ہلایا اور آگے چل دی۔ میدان میں آکر وہ دونوں گھاس پر بیٹھ گئے۔ زینب اور نازنین ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگیں۔ کچھ دیر بعد نازنین کی نظر کچھ دور کھڑی ام ہانی پر گئی۔ اس نے بھی ان دونوں کی طرح سفید شلور قمیض پہنی ہوئی تھی مگر اس کا دوپٹہ نیلے رنگ کا تھا۔ وہ سیکنڈ ائیر میں تھی۔ اس کے ساتھ تین چار لڑکیاں بھی کھڑی تھیں۔ وہ سب کسی بات پر قہقہے لگا رہی تھیں۔ ان کے قہقہے پورے میدان میں گونج رہے تھے۔
ام ہانی اور اس کے ساتھ کھڑی لڑکیوں کی کالج میں اچھی شہرت نہیں تھیں۔ ان لوگوں کی سرگرمیاں بہت حد تک مشکوک تھیں۔ یہ لوگ سارا سارا دن کلاسز بنک کرکے کالج میں آوارہ گھومتی تھیں۔ نازنین کو یہ لوگ ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی۔
"تم اپنی چچی کو بتاتی کیوں نہیں ان کی بیٹی کی کیسی لڑکیوں سے دوستیاں ہے؟" نازنین نے ام ہانی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اب ام ہانی کسی فرسٹ ائیر کی لڑکی سے الجھ رہی تھی۔
" ام ہانی کا ذکر یہاں کہاں سے آگیا؟" وہ دونوں کسی اور موضوع پربات کر رہے تھے۔ اچانک ام ہانی کے ذکر پر زینب کا حیران ہونا بنتا تھا۔ نازنین نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا بلکہ ام ہانی کو دیکھتی رہی۔ زینب نے نازنین کی نظروں کا تعاقب کیا۔
ام ہانی اونچی آواز میں چلّا رہی تھی۔ سامنے کھڑی لڑکی بھی اسے خوب سنا رہی تھی۔ میدان میں موجود دوسری لڑکیوں نے بھی شور سن کر ان کی طرف دیکھا لیکن ام ہانی کو دیکھ کر سب دوبارہ اپنے کاموں میں مشغول ہوگئے۔ ان کے لیے یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ سب جانتے تھے ام ہانی کی عادت تھی، پہلے خود سب کو تنگ کرنا اور جب سامنے سے کوئی کچھ کہہ دیتا تو تماشہ لگانا۔
"تم جانتی ہو میری بات پر کوئی اعتبار نہیں کرے گا بلکہ آخر میں ام ہانی مجھے کسی نا کسی طرح ان سب میں پھنسا دے گی۔ اس لیے میرا اس کے معاملوں میں نہ بولنا ہی بہتر ہے۔"
زینب نے ام ہانی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
"وہ آخر تمہارے ساتھ ایسا کیوں کرتی ہے؟" نازنین نے پوچھا۔
"وہ یہ بات اچھے سے جانتی ہے میرے پیچھے کھڑے ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ چچا، چچی، نوال اور یہاں تک کہ میرا اپنا سگا بھائی میرا ساتھ نہیں دے گا۔"
"میرا بعض اوقات دل چاہتا ہے تمہارے گھر آؤں اور تمہارے گھر والوں سے بات کروں۔" نازنین کی ہمدردی پر زینب اداس سا مسکرائی۔ اس کی سیاہ آنکھیں میں اداسی بھری ہوئی تھی۔
"جب میں اپنے لیے لڑنا نہیں چاہتی، تو تم میرے لیے کیوں لڑو گی؟ میں نے اسے نصیب کا لکھا سمجھ لیا ہے۔ میرے نصیب میں محبت لکھی ہی نہیں ہے۔ ایسے لڑ جھگڑ کر کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ چچا اور چچی کے لیے میں زمہ داری ہوں، نوال کے لیے ایک کزن، ام ہانی کے لیے قربانی کا بکرا اور بھائی۔۔۔!" اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔
"بھائی کے لیے قابل نفرت ہوں اور دیکھنا ساری زندگی قابل نفرت رہوں گی۔"
زینب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ نازنین نے اس کو تسلی دینے کے لیے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"تم نے جھوٹ کیوں بولا؟" نازنین نے نروٹھے پن سے کہا۔
تم نے کہا تم سے کوئی محبت نہیں کرتا۔ کیا میں تم سے بہت زیادہ محبت کرتی ہوں؟ کیا تمہارے نزدیک میری کوئی اہمیت نہیں ہے؟ جاؤ اب تم مجھ سے بات نہیں کرنا!"
یہ کہہ کر نازنین نے اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔ زینب مسکرا دی۔
"اوہ ہو نازو! تم تو میری اتنی اچھی دوست ہو۔ یہ تو ان کی فہرست تھی جن کے نزدیک میری کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس میں میں تمہیں کیسے شامل کر سکتی تھی۔م؟"
"بس اب باتیں کم گھماؤ۔ میں جان گئی ہوں تمہارے نزدیک میری کیا اہمیت ہے۔"
"سچ میں! میں بات نہیں گھما رہی ہوں۔ اچھا اگر تم ناراض ہو تو ٹھیک ہے، یہ لو میں نے کان پکڑ لیے ہیں۔ آئیندہ ایسی کوئی بات نہیں کروں گی جس سے میری پیاری سی دوست کو تکلیف پہنچیں۔" زینب نے کان پکڑ کر اس سے معافی مانگی تو نازنین مانی۔
"تم ایک نمبر کی ڈرامے باز ہو۔"
"صحبت کا اثر ہے!" زینب نے نازنین کے انداز میں جواب دیا۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کودیکھا۔ دونوں پھر کھل کر ہنسیں۔
کالج کی چھٹی ہوئی تو زینب گھر جانے لگی۔ اس کے ساتھ ام ہانی بھی موجود تھی۔ وہ دونوں ساتھ ہی گھر جاتی تھی۔ گھر پہنچ کر زینب نے اپنے کپڑے تبدیل کیے، پھر کچن میں چلی گئی۔ وہ ہانڈی میں سے اپنے لیے سالن نکال رہی تھی جب بر آمدے سے آواز سنائی دی۔
"چچی! چچی!"
اشفاق مریم چچی کو آواز دے رہا تھا۔ وہ انہیں ڈھونڈتا ہوا کچن میں آگیا۔ زینب نے اپنے بھائی کو دیکھا۔
اشفاق نے سفید رنگ کی شرٹ اور نیلے رنگ کی پینٹ پہنی ہوئی تھی۔ ان کے ہاتھ میں ایک نیلے رنگ کی فائل تھی۔ اشفاق اپنا ایم بی اے مکمل کرکے اب ایک فرم میں جاب کرنے لگا تھا۔ اشفاق کی یہ آفس کے اوقات تھے۔ ابھی وہ اپنی ایک ضروری فائل لینے آیا تھا۔
"چچی کہاں ہے؟" اشفاق نے انتہائی روکھے لہجے میں پوچھا۔
" بھائی مجھے نہیں پت۔۔" اس کی بات پوری ہونے سے پہلے وہ باہر چلا گیا۔ زینب نے آسودگی سے سر جھٹکا اور اپنا کھانا لے کر کمرے میں بند ہوگئی۔
*********************
جائی یانہ نے عیسیٰ کی بات گھر میں کسی کو نہیں بتائی۔ اس کا موڈ بہت خراب تھا۔ وہ ناشتے کے دوران بھی بہت خاموش تھی۔ اشفاق نے جب یہ محسوس کیا تو پوچھا۔
"جائی یانہ بیٹا! طبیعت تو ٹھیک ہے؟ آج آپ اتنی خاموش کیوں ہو؟"
"بابا بس سر میں درد ہو رہا ہے۔"جائی یانہ نے سنجیدہ لہجے میں بہانہ بنایا۔
"اگر طبیعت خراب ہے تو آج یونیورسٹی مت جاؤ۔"اشفاق فکر مندی سے بولیں۔
"نہیں بابا آج ایک اہم کلاس ہے۔ میں اسے چھوڑ نہیں سکتی ہوں۔ ویسے بھی میں نے سر درد کی گولی لے لی ہے۔ کچھ دیر میں آرام آجائے گا۔ "
"اچھا چلو جیسے آپ کی مرضی! لیکن اگر طبیعت زیادہ خراب ہو تو گھر جلدی آجانا۔" اشفاق نے اس کو تاکید کی۔
جائی یانہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ ناشتہ ختم کر لینے کے بعد جائی یانہ اپنی کتابیں لینے کمرے میں گئی، تو عالیہ بھی اس کے پیچھے آگئی۔
"تمہارا مسئلہ کیا ہے آخر؟ ایسے منہ بنا کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو کہ میں غلط ہوں اور تم صحیح؟! میں اگر تمہاری کل والی بات اماں کو بتا دوں تو وہ تمہاری کھال ادھیڑ دیں گی۔ میں بڑی بن کر تمہاری بات پر پردہ ڈال رہی ہوں لیکن تمہیں اپنی غلطی کا احساس بھی نہیں ہے۔" جائی یانہ کی کتابوں پر گرفت مضبوط ہوئی۔ وہ عالیہ کو کچھ کہے بغیر جانے لگی، تو عالیہ نے کندھا پکڑ کر اسے روکا۔
"خاموش کیوں ہو؟ بولنے کے لیے کچھ نہیں ہے؟" عالیہ طنزیہ مسکرائی۔
" میرے پاس کہنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن اس کا کیا فائدہ؟ جو لوگ آپ پر اعتبار کرنا چاہتے ہیں، وہ آپ کے ایک لفظ پر ایمان لے آتے ہیں اور جنہوں نے آپ کا اعتبار نہیں کرنا ہوتا، ان کے سامنے اگر آپ سو دلیلیں بھی رکھ دیں، تو وہ ایک اور دلیل مانگیں گے۔ انسان جس پر بھروسہ کرنا چاہتا، اس پر کرتا ہے۔"
یہ کہہ کر جائی یانہ نے اس سے کندھا چھڑوایا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
عالیہ نے اس کو جاتا دیکھ کر سر جھٹکا۔
"یہ لڑکی اور اس کی کتابی باتیں!"
**********************
شام کو اشفاق کے گھر میں سکون تھا۔ اشفاق کے ساتھ والے گھر میں محفل میلاد تھی۔ نوال اور عزاہ وہاں گئی تھیں۔ عیسیٰ اپنے دفتری کاموں سے باہر گیا تھا جبکہ جائی یانہ اپنے کسی ٹیسٹ کی تیاری کر رہی تھی۔
عالیہ لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ کسی بھی ٹی وی چینل پر اس کے پسند کا شو نہیں آرہا تھا۔ وہ بے دلی سے بار بار چینل تبدیل کر رہی تھی۔
اسی دوران اس کے پاس رکھا موبائل بجا۔ اس نے ریمورٹ ایک طرف رکھ کر موبائل اٹھایا۔ اسے کسی انجان نمبر سے کال آرہی تھی۔ وہ انجان نمبر کی کالز اٹینڈ نہیں کرتی تھی۔ اسی لیے اس نے کال نہیں اٹھائی۔ موبائل بجتے بجتے بند ہوگیا۔ اس نے موبائل رکھ دیا اور ایک دفعہ دوبارہ ریموٹ پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو اسی وقت موبائل دوبارہ بجا۔ کال دوبارہ اسی نمبر سے آرہی تھی۔ اس نے کچھ دیر سوچا، پھر کال اٹھالی۔
"ہیلو!" مردانہ گھمبیر آواز اس کی کانوں میں گونجی۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ پہچان گئی کہ کون بات کر رہا تھا۔
"آریان!؟" وہ ایک دم سیدھی بیٹھ گئی اور غیر ارادی طور پر دروازے کی جانب دیکھا۔
"شکر آپ نے مجھے پہچان لیا ورنہ میں کب سے یہی سوچ رہا تھا آپ سے اپنا تعارف کیسے کرواؤں۔۔۔" آریان اس قدر بے تکلف ہو رہا تھا جیسے عالیہ اور اس کے درمیان سالوں کی دوستی ہو۔
"آپ کے پاس میرا نمبر کیسے آیا؟" اس نے حیرانگی اور غصے دونوں کے ملے جلے انداز میں پوچھا۔
"آپ کی یاداشت بڑی کمزور ہے۔ آپ نے مال میں خود تو میرے موبائل سے اپنے نمبر پر کال کی تھی۔"
عالیہ اس کی بات سمجھ گئی۔ اس کو اپنی کم عقلی پر غصہ آیا اس نے اپنا نمبر آریان کے موبائل سے ڈیلیٹ کیوں نہیں کیا۔
"آپ نے کال کیوں کی؟" اس نے غصے سے پوچھا۔
"آپ کی امانت میرے پاس رکھی تھی۔ سوچا آپ کو بتا دوں۔"
"کیا! کونسی امانت؟" عالیہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
"آپ کے ائیر رنگز میرے پاس رکھے ہیں۔"
آریان کی بات پر سنہری آنکھیں مزید الجھیں۔
" میرے ائیر رنگز؟" اس نے جیسے خود کلامی کی۔
"رکیں میں آپ کو تصویر سینڈ کرتا ہوں۔"
یہ کہہ کر آریان نے کال کاٹ دی۔ کچھ دیر بعد عالیہ کو آریان کے نمبر سے ائیر رنگز کی فوٹو موصول ہوئی۔ ائیر رنگز سفید رنگ کی ڈبیا میں رکھے ہوئے تھے۔ ائیر رنگز آنسو کی شکل کے تھے۔ ائیر رنگز کے درمیان میں سبز رنگ کا نگینہ لگا تھا جبکہ اطراف میں سفید نگینے جڑے ہوئے تھے۔
یہ عالیہ کے ہی ائیر رنگز تھے۔ یہ اس نے اس دن خریدے تھے، جس دن اس کی آریان سے ملاقات ہوئی تھی۔ گھر آکر اس نے اپنے سامان میں انہیں بہت ڈھونڈا لیکن اس کو یہ نہیں ملے۔ اس نے نمرہ سے بھی پوچھا لیکن ائیر رنگز اس کے پاس بھی نہیں تھے۔
فوٹو بھیجنے کے دو منٹ بعد دوبارہ اسی نمبر سے کال آنے لگی۔ عالیہ نے کال ریسیو کی۔
"اب تو آپ کو پتا چل گیا ہو گا میں کس امانت کی بات کر رہا ہوں۔" آریان نرم لہجے میں گویا ہوا۔
"آپ کے پاس یہ کہاں سے آئے؟" عالیہ کے سوال پر وہ ہنسا۔
"جب آپ اپنی دوست جا رہی تھیں، تب یہ آپ کے شاپنگ بیگ سے نکل گیا تھا۔ میں نے انہیں اٹھا لیا۔ میں آپ کو یہ دینا چاہتا تھا لیکن دے نہ سکا بلکہ شاید میں دینا ہی نہیں چاہتا تھا۔"
عالیہ نے اس کی عجیب بات سن کر پوچھا۔
"آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟!"
"میں وہی کہنا چاہ رہا ہوں جو آپ سمجھ رہی ہیں۔"
عالیہ سے کوئی جواب نہ بن پایا۔ آریان خاموشی سے اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ عالیہ نے اپنی خاموشی برقرار رکھی، تو آریان نے موضوع بدل لیا۔
"آپ مجھ سے یہ لینے کب آئیں گی؟"
"میں اسے لینے نہیں آؤں گی۔ آپ اسے پھینک دیں۔" یہ اتنا کہہ کر وہ کال کاٹنے لگی مگر آریان اسی وقت بولا۔
"پرسوں شام پانچ بجے میں آپ کا اسی ریستوران میں انتظار کروں گا جس ریستوران میں ہم پہلی دفعہ ملے تھے۔ آپ ادھر آجائیے گا اور اپنی امانت لے جائیے گا۔"
عالیہ اسے منع کرنا چاہتی تھی لیکن آریان نے اسے موقع دیے بغیر کال کاٹ دی۔ عالیہ نے موبائل کان پر سے ہٹایا۔ وہ ایک عجیب سی کشمکش کا شکار ہوگئی تھی۔
اتنے میں گھر کا بیرونی دروازہ کھلا اور نوال اور عزاہ گھر میں داخل ہوئے۔ نوال سیدھا لاؤنج میں آئیں جبکہ عزاہ کپڑے تبدیل کرنے کے لیے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ نوال عالیہ کو میلاد کی تفصیلات بتانے لگیں۔ وہ غائب دماغی سے ان کی باتیں سن رہی تھی۔
******************
شایان آرام سے اپنی گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔ اس کے ساتھ اس کے بچپن کا دوست رضا بیٹھا تھا۔ وہ دونوں اس وقت ریستوران میں اپنی دوست کی دعوت پر ساتھ جا رہے تھے۔
"تم کہہ رہے تھے تم نے اپنی امی کو اپنے رشتے کے لیے ماموں کے گھر بھیجا تھا۔ پھر کیا بنا؟"
" ماما نے ماموں سے بات نہیں کی۔" شایان نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
"کیوں؟ کیا آنٹی اس رشتے پر راضی نہیں ہیں؟" رضا نے حیرانگی سے پوچھا۔
"ماما راضی ہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ اگر ہم ابھی رشتہ لے کر جائیں گے تو ماموں انکار کر دیں گے۔ اسی لیے ماما صحیح وقت کا انتظار کر رہی ہیں۔ یو نو فیملی پولیٹکس!"
"تم فکر نہ کرو، آنٹی بڑی ہیں۔ وہ جانتی ہیں ایسے معاملات کو کیسے ہینڈل کرنا ہے۔ آنٹی پر بھروسہ رکھو۔" رضا نے اسے حوصلہ دیا۔
"مجھے ماما پر بھروسہ ہے لیکن مجھے ڈر ہے کہیں صحیح موقع کی تلاش میں دیر نہ ہوجائے۔ اگر ایسا ہوا، مین تو مر جاؤں گا۔" شایان کے چہرے پر بہت سے خدشات رقم تھے۔
"اوہ پلیز یار ایک تو تم جیسے لوگ محبت کو اتنا سیریس لے لیتے ہو؟ محبوب مل گیا، تو اسے آسمان پر چڑھا دو گے اور اگر نہیں ملا، تو خود پر جینا حرام کر دو گے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر انسان کو محبوب مل گیا سو مل گیا اور اگر نہیں ملا تو موو آن کرو۔ یہ میں مر جا۔۔۔۔۔ " رضا کی چلتی زبان شایان کے گھورنے پر رکی۔
"تم کہہ سکتے ہو کیونکہ تم نے کبھی کسی سے محبت نہیں کی۔ میں عالیہ سے بچپن سے محبت کرتا ہوں۔ اس کے اندر ہر وہ خوبی ہے جو کسی کو بھی اپنے لائف پارٹنر میں چاہیے ہوتی ہے۔ "
عالیہ کے ذکر پر شایان کے چہرے پر اپنے آپ مسکراہٹ سج گئی تھی۔ پھر اچانک اس کا چہرہ مرجھایا۔ رضا اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کا بڑے غور سے مشاہدہ کر رہا تھا۔
"مجھے اس بات کا ڈر ہے اگر ماموں نے اس کا رشتہ کسی اور جگہ کردیا، تو میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پاؤں گا۔ میرے ماموں ایک ضدی انسان ہیں۔ ایک دفعہ اگر وہ کوئی فیصلہ کر لیں، پھر پتھر پر لکیر ہوتا ہے۔ ان کے سامنے کسی کی ایک نہیں چلتی۔۔"
"جو نصیب میں ہوگا، وہی ملے گا۔ ویسے بھی تمہارے ماموں کی بیٹی دنیا کی آخری لڑکی نہیں ہے۔"
"میرے لیے تو وہ آخری ہی ہے۔ میں تمہیں بتا نہیں سکتا میرے لیے عالیہ کیا ہے؟ اس کا بولنا، مسکرانا، چہچہانا اور ہنسنا۔۔۔ مجھے ان سب سے محبت ہے۔ بس یہ ایک خیال کہ اس کی شادی میرے سے نہیں ہوگی، مجھے اندر ہی اندر مار دیتا ہے۔ اگر یہ حقیقت میں ہوا تو میں تو جیتے جی مر جاؤں گا۔"
شایان کے لہجے میں بے بسی تھی۔
"مجھے نہیں پتا تھا کہ تم اتنا سیریس ہو۔" رضا نے آنکھوں میں فکر مندی لیے شایان کو دیکھا۔
"انشاء اللہ تم جو چاہتے ہو، تمہیں وہی ملے گا۔" رضا نے جیسے دلاسہ دینا چاہا۔
"اللّٰہ کرے ایسا ہی ہو جیسا تم کہہ رہے ہو۔" شایان کے چہرے پر آسودہ مسکراہٹ تھی۔
باقی کا سفر خاموشی سے طے پایا۔
**********************
"کیا!!!!!!!!"
نمرہ اتنے زور سے چلائی کہ عالیہ کو اپنے کانوں پر ہاتھ رکھنے پڑے۔
"تم سچ کہہ رہی ہو؟" نمرہ نے عالیہ سے بے یقینی سے پوچھا۔ اس کی آواز ابھی بھی اونچی تھی۔
"بے وقوف لڑکی، آہستہ بولو! تم نے پورے شہر میں بات پھیلانی ہے؟" عالیہ نے اس کو ٹوکا۔
عالیہ کل سے اپنے اور آریان کے درمیان ہوئی گفتگو پر پریشان تھی۔ وہ اس معاملے کو نمرہ کے ساتھ ڈسکس کرنا چاہتی تھی لیکن آج صبح نمرہ یونیورسٹی نہیں آئی تھی، اس لیے عالیہ شام کو نمرہ کے گھر پہنچ گئی۔ عالیہ نے اسے ساری بات بتا دی تھی۔
"اس کا مطلب ہے کہ تم کل اس سے ملنے جاؤ گی!" نمرہ بچوں کی طرح ایکسائٹڈ ہو رہی تھی۔
"بالکل نہیں! میں ہرگز اس شخص سے ملنے نہیں جاؤں گی" عالیہ نے دو ٹوک انکار کیا۔ نمرہ کا سارا جوش جھاگ کی مانند بیٹھ گیا۔
" کیوں؟ تم اس سے ملنے کیوں نہیں جاؤ گی؟" نمرہ نے اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے۔
"میرے خیال سے تم بھول رہی ہو اگر گھر میں کسی کو بھی پتا چلا کہ میں، عالیہ اشفاق، کسی غیر مرد سے ملنے ریستوران گئی ہوں تو بابا اور اماں میری ٹانگیں توڑ دیں گے۔"
"تو تم اپنی ٹانگیں ٹوٹنے کے ڈر سے آریان سے ملنے نہیں جاؤ گی!؟"
"میں ڈر نہیں رہی ہوں۔ تم خود بتاؤ ایسے کسی لڑکے سے ریستوران میں ملنا اچھا لگتا ہے۔ اگر کسی رشتہ دار نے دیکھا تو وہ میرے بارے میں کیا سوچے گا؟ "عالیہ نے اسے سمجھانا چاہا۔
"اگر اس سے ملنے نہیں جاؤ گی تو اپنے ائیر رنگز کیسے واپس لو گی؟"
" بھاڑ میں گئے ائیر رنگز! چند ہزار کے ائیر رنگز کے پیچھے میں اتنا بڑا رسک تو نہیں لے سکتی۔"
"قدرت تم دونوں کو بار بار ملانے کے موقع دے رہی ہے اور تم خود اس موقع کو ضائع کر رہی ہو۔ اگر وہ مجھے ملنے کے لیے بلاتا تو میں سوچنے میں ایک منٹ نہیں لگاتی اور اس کے ساتھ جانے کے لیے راضی ہوجاتی۔" آخری بات نمرہ نے سوچتے ہوئے بولی۔
"اگر تمہارا اس سے ملنے کا اتنا دل چاہ رہا ہے تو تم چلی جاؤ۔"
"بیوقوف! میں کس خوشی میں جاؤں؟ تمہارے ائیر رنگز ہیں۔ ۔ اس نے تمہیں ملنے بلایا ہے۔ میں جاتی ہوئی اچھی لگوں گی؟ یہ تو مان نہ مان میں تیرا مہمان والی کہانی ہو جائے گی۔" نمرہ نے منہ بنا کر کہا۔
پھر وہ کچھ دیر کے لیے چپ رہی، اس کے بعد جب وہ بولی تو اس کا لہجہ سنجیدہ تھا۔ تھوڑی دیر پہلے والی شوخی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تھی۔
"دیکھو عالیہ! تمہیں اس سے ملنے جانا پڑے گا۔ وہ اب جب تک تم سے نہیں ملے گا، یونہی ملنے کے بہانے تلاش کرے گا۔ کل اس سے ملنے جاؤ اور دو ٹوک بات کرو۔ اگر گھر میں کسی کو پتا چلا کہ ایک لڑکا تم سے ملنا چاہتا ہے، تو تم خود جانتی ہو کیا ہوگا۔"
"میرے خیال سے وہ تم سے محبت کرتا ہے، اسی لیے تم سے ملنا چاہتا ہے۔ اس سے ملو اور بات کرو۔ اس سے پوچھو وہ تم سے چاہتا کیا ہے؟ جن باتوں کو تم سمجھ نہیں پا رہی ہو، کیا پتہ اس ملاقات کے بعد تم سمجھ جاؤ گی۔ تم جو بھی کرنا چاہتی ہو، تمہاری اپنی مرضی ہے۔ میں تمہیں مجبور نہیں کروں گی۔ تم نے مجھ سےمشورہ مانگا اور میرا مشورہ ہے تمہیں ملنے جانا چاہیے۔ "
نمرہ کی باتوں نے اسے مزید الجھا دیا۔ اس کا فیصلہ لینا مزید کٹھن ہوگیا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ اپنے گھر چلی گئی۔
***********************
زینب میدان میں اکیلی بیٹھی سبق یاد کر رہی تھی۔ آج نازنین نے چھٹی کی تھی۔ اسی لیے وہ بہت زیادہ بور ہو رہی تھی۔
ایسے میں ام ہانی اس کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ زینب نے اس کو اپنے ساتھ بیٹھتے دیکھ لیا تھا مگر نظر انداز کیا۔
"زینب آج نازنین نہیں آئی؟" ام ہانی نے بڑی خوش اخلاقی سے کہا۔
"نہیں!" اس نے کتاب کے صفحات کو الٹتے ہوئے مصروف انداز میں کہا۔
"اچھا وہ میں تمہیں یہ بتانے آئی تھی میں کالج کے بعد اپنی دوست کے گھر جاؤں گی۔ تم آج اکیلے گھر چلی جانا۔"
"اچھا!" زینب نے ساری گفتگو میں پہلی بار ام ہانی کو دیکھا۔ اس کی سیاہ آنکھوں میں طنز صاف تھا۔ ام ہانی گڑبڑا گئی۔
"ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟ میں سچ کہہ رہی ہوں۔"
زینب اسی طرح مسکراتی رہی۔
"ام ہانی میں نے تو صرف اچھا کہا ہے۔ تم تو مجھے صفائیاں ہی دینے لگی۔"
ام ہانی اٹھ کھڑی ہوئی۔
"امی کو بتا دینا۔ وہ بلا وجہ پریشان ہونگی۔" ام ہانی نے بے نیاز انداز اپنانے کی بھرپور کوشش کی۔ زینب نے اسے طنزیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔ ام ہانی اپنی دوستوں کے پاس واپس چلی گئی۔
زینب نے ایک نظر ام ہانی کو جاتے دیکھا اور پھر سر جھٹک کر دوبارہ اپنے کاموں میں مشغول ہو گئی۔ چھٹی کے وقت زینب جانے لگی تو اسے ام ہانی کہیں نظر نہیں آئی۔ وہ چپ چاپ گھر چلی گئی۔ گھر آکر اس نے مریم چچی کو ام ہانی کی بات بتائی تو وہ آگ بگولہ ہوگئیں۔
"ایسے کیسے وہ بغیر اجازت کے جا سکتی ہے؟ تم نے اسے روکا کیوں نہیں؟!" مریم نے آخر میں اس سے پوچھا۔
"چچی اس نے مجھے بس یہی کہا تھا کہ آپ کو اس کے جانے کا بتا دوں۔"
پھر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کردیا۔ مریم چچی کی ام ہانی کو ملامت کرتی آواز اسے دروازہ بند ہونے کے باوجود بآسانی سنائی دے رہی تھی۔
وہ کپڑے تبدیل کیے بغیر دھم سے اپنے بیڈ پر لیٹ گئی۔ اس کو نیند آ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں بند ہورہی تھیں۔ اس کے اندر اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ اٹھ کر کھانا کھا سکے۔ کچھ لمحات بعد وہ گہری نیند سو گئی۔
دو گھنٹے بعد دروازہ کھٹکھٹانے پر اس کی آنکھ کھلی۔ کوئی اس کے دروازے کو بری طرح پیٹ رہا تھا۔ اسے لگا اگر اس نے دروازہ نہیں کھولا تو آنے والا دروازہ توڑ کر اندر آ جائے گا۔
اس نے آنکھیں رگڑتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔ اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا، کسی نے اس کے منہ پر زور دار تھپڑ مار دیا۔ اس کا سر دوسری جانب مڑ گیا اور چہرے کو بالوں نے چھپا لیا۔
اس نے چہرا آگے کرکے دیکھا۔ اس کی سیاہ آنکھوں میں بے تحاشا حیرت تھی۔
***********************
رات کے بارہ بج رہے تھے۔ عالیہ کے کمرے میں روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ ایسے میں عالیہ بیڈ پر چت لیٹی ہوئی تھی۔ اس کی نظریں خلا کو گھور رہی تھیں۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے۔ اس کے کانوں میں بار بار نمرہ کی باتیں گونج رہی تھی۔
"وہ اب جب تک تم سے نہیں ملے گا، یونہی ملنے کے بہانے تلاش کرے گا۔"
عالیہ نے سیدھے ہاتھ کی کروٹ لی۔
"کل اس سے ملنے جاؤ اور دو ٹوک بات کرو۔"
"میرے خیال سے وہ تم سے محبت کرتا ہے، اسی لیے تم سے ملنا چاہتا ہے۔"
اس نے دوسری طرف کروٹ لی۔
"میں تمہیں مجبور نہیں کروں گی۔ تم نے مجھ سےمشورہ مانگا اور میرا مشورہ ہے تمہیں ملنے جانا چاہیے۔"
اس نے تکیہ اٹھا کر اپنے سر پر رکھا۔
"پرسوں شام پانچ بجے میں آپ کا اسی ریستوران میں انتظار کروں گا جس ریستوران میں ہم پہلی دفعہ ملے تھے۔ آپ ادھر آجائیے گا اور اپنی امانت لے جائیے گا۔"
عالیہ نے تکیہ نوچ کر خود سے دور پھینکا اور بیٹھ گئی۔ اس نے اپنے بالوں پر انگلیاں پھیریں، پھر سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھایا۔ وہ ایک نمبر پر میسج ٹائپ کرنے لگی۔ اس نے میسج لکھا اور سینڈ کے بٹن کی طرف انگلی بڑھانے لگی۔
اس کا دل اسے روک رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کا ہاتھ کانپا لیکن اس نے اپنے دل کی آواز کا گلا گھونٹ دیا اور میسج سینڈ کردیا۔
اس نے موبائل واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا، پھر سونے کے لیے لیٹ گئی۔ وہ اس متعلق اب کچھ نہیں سوچنا چاہتی تھی۔
اس کے موبائل کی اسکرین روشن تھی اور ٹائپ کیا ہوا میسج صاف دکھائی دیتا تھا۔ اگر غور سے دیکھتے تو اس میسج میں یہ لکھا ہوا تھا۔
"آریان میرا کل انتظار کرنا۔ میں تم سے ملنے آؤں گی۔"
گھڑی کی آواز پس منظر میں ابھی تک سنائی دے رہی تھی۔
"ٹک ٹک ٹک ٹک ٹک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
***********************
صبح ویسی ہی تھی جیسی ہونی چاہیے تھی۔ جائی یانہ کچھ دن کی ناراضگی دکھا کر واپس نارمل ہو چکی تھی۔ وہ سب سے آرام سے بات کر رہی تھی۔
عالیہ کی سنہری آنکھیں سرخ تھیں جو اس کی ساری رات جاگنے کی گواہی دے رہی تھی۔ وہ بے دلی سے نوالہ حلق میں اتار رہی تھی۔ عیسیٰ اور اشفاق ہمیشہ کی طرح کاروباری گفتگو میں مگن تھے۔ نوال اور عزاہ سب کو ناشتہ دے کر اب اپنا ناشتہ کھانے میں مگن تھیں۔ ناشتے کے بعد جائی یانہ ڈائننگ ہال سے جانے لگی تو اچانک اسے ایک بات یاد آئی۔
"اماں آج ایکسٹرا کلاس ہے تو دیر ہو جائے گی۔"
"اچھا، ٹھیک ہے." نوال نے اس کی بات سن کر سر اثبات میں ہلایا۔ جائی یانہ نے پورچ کی طرف قدم بڑھائے۔
یونیورسٹی آکر جائی یانہ کا سارا دن کلاسز لینے میں گزرا۔ ان کے مڈ ٹرمز کچھ ہفتوں میں شروع ہونے والے تھے، اسی لیے اب پڑھائی کا بوجھ بڑھ گیا تھا۔
اس کی کلاسز تین بجے جا کر ختم ہوئی۔ ساڑھے تین بجے وہ یونیورسٹی سے نکل گئی۔ جائی یانہ کو یونیورسٹی چھوڑنے اشفاق آتے تھے لیکن گھر وہ بس سے جاتی تھی۔ دوسری گاڑی عالیہ اور عزاہ کے زیر استعمال تھی۔ ویسے بھی جائی یانہ کو ڈرائیونگ نہیں آتی تھی۔ بس اسٹاپ مین روڈ مین تھا۔ اسی لیے اسے مین روڈ تک پیدل چلنا ہوتا تھا۔
وہ یونیورسٹی کی روڈ سے پیدل جا رہی تھی جب اسے کسی کے کراہنے کی آواز سنائی دی۔ وہ رک گئی۔ اس وقت مین روڈ دور تھی اور جس سڑک پر وہ کھڑی تھی وہاں دور دور تک کوئی انسان دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اردگرد درخت لگے ہوئے تھے۔
اس کی اپنے بیگ پر گرفت مضبوط ہوگئی۔ اس نے اسے اپنا وہم کو سمجھا اور آگے جانے لگی۔ ایک اور دفعہ کراہنے کی آواز آئی۔ اس نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا اور تقریباً بھاگنے لگی۔
"مدد کرو!" وہ جو کوئی بھی تھا، اس کی آواز میں اتنی ازیت تھی کہ جائی یانہ کے قدم نہ چاہتے ہوئے بھی رک گئے۔ آواز مردانہ تھی۔ اس نے اب اپنے اردگرد کا اچھے سے جائزہ لیا۔
اسے کوئی بھی دکھائی نہ دیا۔ ایک دم سے دوبارہ کراہنے کی آواز سنائی دی۔ جائی یانہ نے اس جانب رخ کیا جہاں سے آواز آئی تھی۔ اس کے سامنے برگد کا درخت اپنی شاخیں پھیلائے کھڑا تھا۔ آواز اس کے پیچھے سے آ رہی تھی۔
اس نے آہستہ آہستہ قدم آگے بڑھائے۔ جب فاصلہ بس چند قدم کا رہ گیا تو اسے خوف نے جکڑ لیا۔
"اگر میں کسی مسئلہ میں پھنس گئی تو؟ پتہ نہیں وہ کون ہے اور اس کے ساتھ کیا ہوا؟ اس کی مدد کہیں میرے گلے نہ پڑ جائے؟"
لمحے بھر کو اس کا ارادہ کمزور ہوا تھا مگر تبھی سڑک پر دوبارہ کراہنے کی آواز ابھری۔ اس کی آواز میں اتنا درد تھا کہ جائی یانہ کو اپنی سوچ پر شرمندگی ہوئی۔ وہ کسی انسان کو اس طرح چھوڑ کر نہیں جا سکتی تھی۔ اس نے ہمت کی اور چند قدم کا یہ فاصلہ عبور کیا۔
درخت کے پیچھے کا منظر دیکھ کر اس کی بھوری آنکھیں خوف اور حیرانگی سے پھیل گئیں۔
*****************
عالیہ نے گھڑی پر دیکھا۔ ساڑھے چار بج چکے تھے۔ وہ جانے کے لیے تیار تھی۔ اس نے ایک سادہ پیلے رنگ کا جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ میک اپ سے عاری تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی، آریان سمجھے کہ وہ اس کے لیے تیار ہو کر آئی ہے۔ اس نے بھورے رنگ کے پرس میں اپنا موبائل ڈالا۔
اسے نمرہ کو ساتھ لے جانے کا خیال آیا لیکن پھر اس نے خود ہی اپنے خیال کو جھٹک دیا۔ وہ بس ایک شخص سے مختصر سی ملاقات کے لیے جا رہی تھی، جنگ لڑنے نہیں کہ ہر کسی کو ساتھ لے جاتی۔
وہ اپنا پرس لیے نیچے اتری تو اسے سیڑھیوں کی دائیں طرف نوال اور عزاہ بات کرتی دکھائی دیں۔
"اماں میں نے جائی یانہ کو کال کی ہے۔ وہ کال اٹینڈ نہیں کر رہی۔"
"یہ لڑکی ابھی تک کیوں نہیں آئی ہے۔ اسے اتنی دیر تو کبھی نہیں ہوئی۔"
"اس کی ایکسٹرا کلاس ہے، اماں۔ اس لیے دیر ہوگئی ہوگی۔ ویسے بھی ابھی وہ پڑھ رہی ہوگی اور پڑھتے وقت آپ خود کہتی ہیں وہ اپنے آس پاس سے بالکل بے خبر ہوجاتی ہے۔ ہم چھ بجے تک انتظار کرلیتے ہیں۔ اگر وہ چھ بجے نہیں آئی، تو میں بابا کو کال کر دوں گی۔"
عزاہ کی بات سن کر نوال نیم راضی ہوگئیں لیکن ان کی بے چینی ابھی تک ختم نہیں ہوئی تھی۔ عالیہ نے باہر جانے کے لیے دروازہ کھولا تو نوال نے پوچھا۔
"کہاں جا رہی ہو؟"
"کام سے جا رہی ہوں۔"
"جلدی آجانا۔"
نوال جائی یانہ کی وجہ سے پریشان تھیں، اسی لیے اس کی طرف زیادہ دھیان نہیں دیا۔ عالیہ نے سر اثبات میں ہلایا اور باہر چلی گئی۔
********************
سوا پانچ بجے عالیہ کی گاڑی ریستوران کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے سارے راستے گاڑی آہستہ چلائی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں دعائیں مانگی تھی کہ آریان کسی طرح نہ آئے لیکن ریستوران میں داخل ہوتے ہی اس کی پہلی نظر آریان پر گئی۔اس نے ٹو پیس سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا۔ بالوں کو جیل سے ٹکائے، وہ ہمیشہ کی طرح وجیہہ لگ رہا تھا۔ وہ کرسی پر بیٹھا پانی کے گلاس پر انگلی پھیر رپا تھا۔
عالیہ نے گہرا سانس لے کر خود کو پرسکون کیا، پھر اس کی طرف قدم بڑھائے۔ اپنی طرف کسی کو آتا دیکھ کر آریان نے چہرہ اٹھایا۔ عالیہ کو دیکھ کر اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔ آریان اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا۔ عالیہ بھی بلکل اس کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ دونوں کی آنکھیں ایک پل کے لیے ٹکرائی۔
***********************