"گڈ ایوننگ، مس عالیہ!!"
ریستوران کی بھوری دیواروں نے وجیہہ شخص اور سنہری آنکھوں والی لڑکی کو آمنے سامنے کھڑا دیکھا۔ بھوری دیواریں پر تجسس انداز میں انہیں دیکھ رہی تھیں۔
آریان عالیہ کو گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ سجی ہوئی تھی۔ دوسری طرف عالیہ بھی آریان کو دیکھ رہی تھی مگر اس کے چہرے پر آریان جیسی مسکراہٹ نہیں تھی بلکہ بے حد سنجیدگی تھی۔
"آئیے بیٹھیں!" آریان نے اپنے سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ عالیہ بیٹھ گئی۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی برقرار تھی۔ آریان بھی دوبارہ بیٹھ گیا۔
"تو آپ کیا لیں گی؟ چائے یا کافی؟"
آریان نے اس سے پوچھا۔
"نہیں! میں یہاں آپ سے بات کرنے آئی ہوں۔ تو بہتر ہوگا آپ ان تکلفات میں نہ پڑیں اور کام کی بات پر آئیں!"
عالیہ نے اسے سنجیدگی سے منع کیا۔ آریان نے بڑی دلچسپی سے سامنے بیٹھی سنہری آنکھوں والی لڑکی کو دیکھا۔ عالیہ کی سنجیدگی بھی اسے اچھی لگی تھی۔
"اچھا! بولیں آپ نے مجھ سے کیا بات کرنی ہے؟"
" مسٹر آریان! آپ نے مجھے یہاں بلایا ہے، تو بات تو آپ کریں گے ناں؟"
عالیہ نے اس سے نظر ہٹائے بغیر اعتماد سے کہا۔ عالیہ کے چہرے پر اگر غور سے دیکھو، تو اس کے چہرے پر کچھ دیر پہلے والی گھبراہٹ نہیں تھی۔ وہ اب بلکل با اعتماد تھی۔
آریان نے عالیہ کی بات سن کر سر کو خم دیا۔ اس نے اپنی پینٹ کی جیب میں سے سفید ڈبیا نکالی اور میز کے درمیان میں رکھ دی۔ عالیہ نے ڈبیا کی طرف نہیں دیکھا۔ اس کی نظریں ابھی بھی آریان کی طرف تھی۔
"آپ کی امانت!" آریان نے آہستگی سے کہا۔
عالیہ نے سفید ڈبیا کو ہاتھ نہیں لگایا۔
"آپ نے کچھ اور کہنا ہے؟"
آریان نے سر نفی میں ہلایا۔ "نہیں!"
"ٹھیک ہے تو اب آپ میری بات سنیں۔"
عالیہ نے جیسے اعلان کیا۔
"اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں ان ائیر رنگز کے لیے آپ سے ملنے آئی ہوں، تو آپ غلط ہیں۔ میں یہ لینے نہیں بلکہ آپ سے ملنے آئی ہوں۔"
عالیہ ایک پل کے لیے رکی اور آریان کا چہرہ دیکھا۔ آریان کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی۔
" میں ادھر اس لیے آئی ہوں تاکہ اپ کو بتا سکوں مجھے اب آپ سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں رکھنا ہے۔ اب آپ مجھے اس طرح ریستوران نہیں بلائیں گے، کال نہیں کریں گے اور اگر کبھی اتفاق سے کہیں مل گئ ی تو ایک دوسرے کو نظر انداز کریں گے۔ میں آپ کو واضح الفاظ میں منع کر رہی ہوں۔ اگر آپ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے، تو مجھے جو مناسب لگے گا، میں وہ کروں گی۔"
آریان کی آنکھوں میں دلچسپی مزید بڑھی۔
"اوہ! تو صاف صاف کہیں آپ مجھے دھمکی دینے آئی ہیں۔"
"یہی سمجھ لیجیے!" عالیہ نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔ "مجھے یقین ہے یہ ہماری آخری ملاقات ہوگی۔"
یہ کہہ کر عالیہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ آریان بھی اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔ عالیہ جانے کے لیے مڑی تو اسے آریان نے پیچھے سے پکارا۔
"آپ اپنے ائیر رنگز دوبارہ بھول رہی ہیں!" آریان نے سفید ڈبیا پکڑ کر عالیہ کی طرف بڑھائی۔ عالیہ نے ایک نظر سفید ڈبیا کو دیکھا، پھر اسے پکڑ لیا۔ پھر وہ چلنے لگی۔ اب اب اس کے قدم بیرونی دروازے کی بجائے، کونے میں رکھے کوڑے دان کی طرف تھے۔ عالیہ نے بڑی نزاکت سے ڈبیا کو کوڑے دان میں پھینک دیا۔
پھر مڑ کر آریان کو دیکھا۔ وہ بھی عالیہ کو دیکھ رہا تھا۔
"میں نے کہا نا میں ائیر رنگز لینے نہیں آئی ہوں۔"
یہ کہہ کر وہ رکی نہیں بلکہ ریستوران کے داخلی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔ ریستوران کی بھوری دیواروں نے عالیہ کو نکلتا دیکھا اور پھر آریان کو دیکھا جو عالیہ کو جاتا دیکھ رہا تھا۔
********************
جائی یانہ نے برگد کے درخت کے پیچھے دیکھا تو اس کو وہاں پر کوئی اور نہیں، بلکہ وہی گھنگھرالے بالوں والا لڑکا ملا۔ اس کے سیدھے ہاتھ کی کلائی کٹی ہوئی تھی جبکہ اس کے پاس ایک چھڑی پڑی تھی۔ چھڑی خون سے لت پت تھی۔ آس پاس خون کے چھینٹے گرے ہوئے تھے۔
لڑکے نے برگد کے درخت سے ٹیک لگائی ہوئی تھی جبکہ پاؤں زمین پر پھیلائے ہوئے تھے۔ اس کی گردن ایک جانب ڈھلکی ہوئی تھی اور آنکھیں بار بار بند ہو رہی تھیں۔ دو تین منٹ کے وقفے کے بعد لڑکا درد کی شدت سے بلبلا اٹھتا۔
جائی یانہ کو سمجھ نہیں آئی وہ کیا کرے۔ اس نے اپنا موبائل نکالا اور ایمبولینس کو کال کی۔ اس نے فون کال پر ساری صورتحال سے انہیں آگاہ کیا اور کال کاٹ دی۔ کال ختم کرنے کے بعد اس نے لڑکے کو دیکھا جو نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا۔
"سنو آنکھیں بند مت کرو۔" جائی یانہ نے اونچی آواز میں بولا۔ لڑکے نے پٹ سے آنکھیں کھولیں لیکن پھر وہ دوبارہ بند ہونے لگیں۔
" تم سن نہیں رہے ہو، میں کیا کہہ رہی ہوں؟" جائی یانہ نے اب کے غصہ میں کہا۔
"آپ چلی جائیں۔" وہ بند ہوتی آنکھوں سے بمشکل کہہ پایا۔
"یہ تو آواز دینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔" جائی یانہ خود کو طنز سے باز نہ رکھ پائی۔
"اب تم دوبارہ کیوں آنکھیں بند کر رہے ہو!" لڑکے کو دوبارہ آنکھیں بند کرتا دیکھ کر جائی یانہ نے ایک بار پھر ٹوکا۔
جائی یانہ کی بات کا لڑکے پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا تھا۔ اس کی توجہ لڑکے کی کلائی پر گئی۔ لڑکے کی کلائی سے خون ابل ابل کر نکل رہا تھا۔ اس کو روکنا انتہائی ضروری تھا۔ جائی یانہ نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی لیکن اسے کچھ بھی ایسا نہیں ملا جسے وہ لڑکے کی زخمی کلائی پر باندھ سکے۔ پھر اس نے نے اپنا بیگ کھولا تو اس کی نظر اپنے رومال پر پڑی۔
جائی یانہ نے رومال نکالا اورخون کے چھینٹوں سے بچتی ہوئی اس کے پاس پہنچی۔ لڑکے کو اپنی کلائی پر کچھ بندھتا ہوا محسوس ہوا تو اس نے بمشکل اپنی آنکھیں کھولیں۔
"رہنے دیں۔"
جائی یانہ نے اس کی بات کو نظر انداز کر دیا۔ دور سے ایمبولینس کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
" دیکھو تم حوصلہ رکھو۔ جب تک ہم ہسپتال نہیں پہنچ جاتے، تم نے حوصلے سے کام لینا ہے۔ ویسے تمہارا نام کیا ہے؟"
جائی یانہ رومال باندھنے کے بعد پیچھے ہوگئی۔ اس نے لڑکے کو ہوش میں رکھنے کے لیے اس کا نام پوچھا۔ وہ ادھر ادھر کی باتیں کرکے ہی لڑکے کو ہوش میں رکھ سکتی تھی۔
" زید" اس نے بمشکل کہا۔ اسے بتاتے ہوئے بھی تکلیف ہو رہی تھی۔
"زید!" جائی یانہ نے دہراکر تصدیق کرنا چاہی۔ زید نے سر کو خم دیا۔
اس کے بعد جائی یانہ خاموش ہوگئی کیونکہ اسے اپنے سامنے ایمبولینس آتی دکھائی دے چکی تھی۔ ایمبولینس ان کے پاس رکی اور اس میں سے دو آدمیوں نے اسٹریچر باہر نکالا۔انہوں نے زید کو اٹھا کر اسٹریچر پر ڈالا اور اسٹریچر واپس ایمبولینس میں رکھ دیا۔
جائی یانہ بھی خاموشی سے ایمبولینس میں بیٹھ گئی۔
******************
ہسپتال پہنچ کر ویسا ہی ہوا، جیسا جائی یانہ نے سوچا تھا۔ ہسپتال انتظامیہ پولیس کے آئے بغیر زید کے علاج سے انکاری تھی، جبکہ جائی یانہ ان کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔
جائی یانہ ایک طرف کھڑی تھی جبکہ ایک دو ڈاکٹرز اس کے مقابل میں کھڑے تھے۔ ان کے درمیان میں زید کا اسٹریچر تھا۔ وہ بے ہوش ہوچکا تھا۔ اس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی تھی۔
"ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانا ہوتا ہے۔ یہ زندہ ہے۔ آپ اس کی مدد کریں۔ پولیس آنے تک پتہ نہیں کتنی دیر ہو جائے۔ آپ۔۔۔"
جائی یانہ اپنے سامنے کھڑے ڈاکٹروں کو انسانیت کا درس دے رہی تھی، جس کا سامنے کھڑے ڈاکٹروں پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا تھا۔ ان کے لیے یہ سب روز کی بات تھی۔ اتنے میں ان کے قریب سے لیب کوٹ پہنے ایک ادھیڑ عمر ڈاکٹر گزرے۔ انہوں نے چشمہ لگایا ہوا تھا اور گلے میں ستیتھوسکوپ ڈالا ہوا تھا۔ ان کے سر کے بال سفید تھے۔
انہوں نے ایک مصروف نظر دائیں جانب کھڑی سانولی رنگت والی لڑکی پر ڈالی جو سامنے کھڑے ڈاکٹروں کی بے پرواہی دیکھ کر اب غصے میں آگئی تھی۔ اب ایک سانس میں انہیں اللّٰہ کا خوف دلانے لگ گئی تھی۔
اس ادھیڑ عمر ڈاکٹر کو یہ سانولی لڑکی کچھ شناسا سی لگی۔ ابھی وہ کچھ آگے ہی گئے تھے، جب انہیں یاد آیا یہ کون تھی۔ وہ فوراً مڑے اور سانولی لڑکی کو دیکھا۔ اس کا چہرہ دیکھ کر انہیں جیسے تصدیق ہوگئی۔
"جائی یانہ بیٹا!"
ادھیڑ عمر ڈاکٹر نے اس کا نام لیا۔ جائی یانہ نے اپنا نام سنا تو اس کی نگاہیں ادھیڑ عمر آدمی پر مرکوز ہوئی۔
"حفیظ انکل!"
جائی یانہ کے منہ سے بے ساختہ ان کا نام نکلا۔
ڈاکٹر حفیظ، اشفاق کے کالج کے زمانے کے دوست تھے۔ ڈاکٹر حفیظ اکثر اشفاق کے مہمان ہوا کرتے تھے۔اس لیے وہ اشفاق کی تینوں بیٹیوں کو اچھے سے جانتے تھے۔
"آپ یہاں کیا کر رہی ہو؟ سب خیریت تو ہے؟" ڈاکٹر حفیظ فکرمندی سے اس کے پاس آئے۔ جائی یانہ نے انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے تحمل سے اس کی ساری بات سنی۔ پھر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ دیا۔
"تم فکر نہیں کرو! میں سب سنبھال لوں گا۔"
انہوں نے اسے یقین دلایا اور اسٹریچر پر بے ہوش پڑے زید کو لے کر ایمرجنسی میں چلے گئے۔
اس کے بعد جائی یانہ کو واقعی میں کچھ نہیں کرنا پڑا۔ ڈاکٹر حفیظ ہسپتال کے سب سے سنئیر اور با رسوخ ڈاکٹر تھے۔ ان کے ایک اشارے پر نا صرف زید کا علاج شروع ہوا بلکہ پولیس سے بھی انہوں نے خود بات کی۔ تفتیش میں جائی یانہ کو شامل نہیں کیا گیا۔
ڈیڑھ گھنٹے بعد اس نے ہسپتال کی سفید راہداریوں میں اشفاق کو اپنی طرف آتا دیکھا۔ وہ نیلے رنگ کی کرسی پر بیٹھی بابا کو اپنے پاس آتا دیکھ رہی تھی۔ وہ جان گئی تھی حفیظ انکل نے اشفاق کو اس سب کا بتایا ہوگا۔ جائی یانہ گھبرائی نہیں بلکہ پر سکون رہی۔ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا جس پر وہ ڈرتی یا پریشان ہوتی۔
"تم ٹھیک تو ہو؟" اشفاق نے اس کے پاس پہنچ کر سب سے پہلے یہی پوچھا۔ اشفاق ہانپ رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا ڈاکٹر حفیظ نے جیسے ہی انہیں اطلاع دی تھی، اوہ سب کام چھوڑ کر بھاگتے ہوئے ہسپتال پہنچیں تھے۔
جائی یانہ نے سر اثبات میں ہلا دیا۔
"ہوا کیا تھا؟!" اشفاق نے اس سے پوچھا۔
جائی یانہ نے ساتھ رکھی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ اشفاق بیٹھ گئے۔ جائی یانہ نے انہیں سب کچھ تفصیل سے بتایا۔
"تمہیں کس نے کہا تھا کہ تم یوں منہ اٹھا کر ہسپتال آ جاؤ؟" اشفاق نے اس کی ساری بات سن کر سخت لہجے میں پوچھا۔ وہ اکثر جب بھی غصے یا پریشانی میں ہوتے تھے، تو جائی یانہ کو تم سے مخاطب کرتے تھے ورنہ زیادہ تر ان کے منہ سے اس کے لیے بس آپ نکلتا تھا۔
"اس کو میری مدد کی ضرورت تھی!"
جائی یانہ نے آرام سے کہا۔ وہ عالیہ یا عزاہ نہیں تھی جو بابا کو غصے میں دیکھ کر ڈر جاتی یا خاموش ہو جاتی۔ وہ جائی یانہ تھی، اگر حق پر ہوتی تو کسی سے بھی نہیں ڈرتی تھی۔
"وہ خود اپنے آپ کو ختم کر دینا چاہتا تھا۔ تم نے بلا وجہ کسی دوسرے کے معاملے میں خود کو پھنسایا۔ اگر حفیظ نہیں ہوتا، تو تم جانتی ہو کتنا بڑا مسئلہ ہو سکتا تھا؟!"
اشفاق نے اسے ڈانٹا۔
"بابا مجھے فرق نہیں پڑتا وہ کیا کرنا چاہتا تھا اور کیا نہیں۔ اس نے مدد کے لیے مجھے بلایا۔ اس کی آواز میں اتنی تکلیف تھی کہ میں اسے چھوڑ کر آ نہیں پائی۔ اگر میں اس کی مدد کیے بغیر گھر چلی جاتی، تو مجھے ساری زندگی پچھتاؤا رہتا۔"
"مدد کرنے سے پہلے یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ آپ کی مدد کہیں آپ کے گلے تو نہیں پڑ جائے گی۔"
جائی یانہ، اشفاق کی بات سن کر اداسی مسکرائی۔
"بابا کتنے عجیب ہیں نا ہم بچپن سے، اپنے بڑوں سے یہی سنتے آئے ہیں کہ دوسروں کی مدد کرو۔ اللّٰہ تمہیں تمہاری مدد کا اجر دے گا لیکن، جب بچہ کسی کی مدد کرتا ہے تو سب سے پہلے ہمارے بڑے ہی منع کرتے ہیں کہ کیا ضرورت تھی پرائے مسئلہ میں ٹانگ اڑانے کی؟ کیا ملا دوسروں کی مدد کرکے؟ میں سمجھ نہیں پاتی۔ آخر بچے اپنے بڑوں کی کس بات کا یقین کریں؟!"
جائی یانہ کی بات سن کر اشفاق کے تنے اعصاب تھوڑے ڈھیلے پڑے۔ اب کے جب وہ بولے تو ان کے لہجے میں پہلے والی سختی نہیں تھی۔
"دونوں باتیں بچوں کی بھلائی کے لیے بولی جاتی ہیں۔ ہم مدد کرنے کی بات اس لیے کرتے ہیں تاکہ بچہ ایک اچھا انسان بنے لیکن مدد سے باز اس لیے رکھتے ہیں تاکہ بچہ کسی بڑی مشکل میں نہ پھنس جائے۔ ماں باپ کو اپنا بچہ بہت عزیز ہوتا ہے۔ بچوں کی حفاظت کے لیے ماں باپ خود غرض ہو جاتے ہیں۔ بھلے ان کا بچہ مدد کرکے ایک عظیم انسان نہیں بن پاتا لیکن وہ ان مصائب سے محفوظ تو ہوتا ہے جو کسی کی مدد کرنے پر اس پر آسکتی تھیں۔"
اشفاق کی بات سن کر جائی یانہ خاموش ہوگئی۔ کچھ لمحات بعد ڈاکٹر حفیظ، اشفاق کے سامنے کھڑے تھے جبکہ جائی یانہ ابھی بھی کرسی پر بیٹھی تھی۔ اس کی نظریں بظاہر ہسپتال کے فرش پر تھی لیکن اس کے کان اشفاق اور حفیظ کی باتیں سننے میں مشغول تھے۔
"وہ اب خطرے سے باہر ہے۔ اسے کچھ گھنٹے بعد ہوش آجائے گا۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ویسے مجھے نہیں پتا تھا ہماری جائی یانہ اتنی ہمت والی ہوگی کہ ناصرف زخمی لوگوں کو ہسپتال لے کر آئے گی بلکہ ان کی خاطر ہسپتال کی انتظامیہ سے بھی الجھ پڑے گی۔"
جائی یانہ ان کی بات سن کر مسکرائی۔
"تمہارا بہت بہت شکریہ، حفیظ! تمہاری وجہ سے یہ سب معاملات اچھے سے ہینڈل ہوگئے۔ اگر تم نہیں ہوتے تو پولیس کیس بن جاتا اور جائی یانہ بھی اس کیس کا حصہ ہوتی۔ تم تو جانتے ہو تھانے کچہری میں کیسے کیسے لوگ ہوتے ہیں۔"
" اشفاق تم یہ کیسی باتیں کر رہے ہو؟ جائی یانہ میری بیٹی ہے۔ اس کی مدد کر کے میں نے کوئی احسان نہیں کیا۔" حفیظ نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
"اس لڑکے کے گھر والوں سے آپ کا رابطہ ہوا ہے؟"
جائی یانہ نے اس سب معاملے میں پہلی دفعہ دخل اندازی کی۔
"اس لڑکے کے فون سے اس کی بہن کا نمبر ملا ہے۔ ہم نے اس کی بہن کو اطلاع دے دی ہے۔ اب تو وہ آتی ہوگی۔"
"ہمیں بھی چلنا چاہیے!" اشفاق نے ہاتھ میں لگی گھڑی پر وقت دیکھا۔
جائی یانہ نے سر کو خم دیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ اشفاق نے حفیظ سے ہاتھ ملایا اور ایک بار پھر شکریہ ادا کیا۔ پھر وہ دونوں جانے کے لیے نکل پڑے۔ وہ گاڑی میں بیٹھے تو اشفاق کے موبائل پر نوال کی کال آئی۔
"ضرور آپ نے اپنی اماں کو اطلاع نہیں دی ہوگی۔"
جائی یانہ کچھ بولے بغیر ڈھٹائی سے مسکرائی۔ اشفاق کو اپنا جواب مل گیا۔
انہوں کال اٹینڈ کی۔
"اشفاق جائی یانہ ابھی تک گھر نہیں آئی!" نوال کی فکر مند آواز ابھری۔
"۔آپ فکر نہ کریں۔ وہ میرے ساتھ ہے۔ ہم دونوں گھر آ رہے ہیں۔"
"وہ آپ کے پاس ہے؟ سب خیریت تو ہے نا؟ یہ تو آپ کے آفس کا وقت ہے۔ آپ ہیں کہاں؟"
"میں گھر آجاؤں، پھر تفصیل سے بات ہوتی ہے۔"
یہ کہہ کر اشفاق نے کال کاٹ دی اور جائی یانہ کو دیکھا۔
"اماں کیا کہہ رہی تھیں؟" جائی یانہ نے پوچھا۔
" آپ کی گمشدگی کی اطلاع دے رہی تھیں؟" اشفاق نے گاڑی کا انجن چلایا۔
"اماں غصے میں تھیں؟" جائی یانہ نے اشفاق کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
"بہت!"
"گھر جا کر آپ سب کو کیا بتائیں گے؟"
جائی یانہ کے پوچھنے پر اشفاق نے مختصر سا جواب دیا۔
"وہی جو ہوا ہے!"
"یوں تو مجھے ڈانٹ پڑے گی!" جائی یانہ نے منہ بنا کر کہا۔
"جی آپ کو ڈانٹ پڑے گی اور پڑنی بھی چاہیے۔ آپ کی حرکتیں ہی ایسی ہیں کہ آپ کو اپنی اماں کی جوتیاں پڑیں۔"
"یہ کیا بات ہوئی۔ آپ میری سائیڈ نہیں لیں گے۔"
"میں کسی کی سائیڈ نہیں لوں گا اور آپ خاموشی سے اپنی ماں کی ڈانٹ سنیں گی ورنہ میں بھی آپ کو ڈانٹوں گا۔"
اشفاق کی بات سن کر جائی یانہ منہ بسور کر بیٹھ گئی۔
*********************
عالیہ جب گھر داخل ہوئی تو نوال کی گرج دار آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی۔ عالیہ نے لاؤنج میں جھانکا تو منظر کچھ یوں تھا نوال صوفے پر بیٹھیں، اپنے سامنے کھڑی جائی یانہ پر برس رہی تھی۔ اشفاق نوال کے ساتھ بیٹھے اپنے موبائل پر آئی کچھ ای میل چیک کر رہے تھے اور جائی یانہ سر جھکائے خاموشی سے ڈانٹ سن رہی تھی۔ ڈانٹ سننے کے ساتھ ساتھ وہ ایک مدد طلب نظر اشفاق پر بھی ڈال رہی تھی، جس کا اشفاق کوئی رسپانس نہیں دے رہے تھے۔
عالیہ ان کو ایسے ہی چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کر دیا۔ اس کے اعصاب تھکن کا شکار تھے۔ اس نے پرس بیڈ پر پھینکا اور خود بھی بیڈ پر گر گئی۔ ریستوران سے نکلنے سے گھر آنے تک عالیہ بس اپنی اور آریان کی ملاقات کے بارے میں سوچتی رہی تھی۔ یہ باتیں سوچتے سوچتے اب اس کا سر درد کرنے لگ گیا تھا لیکن وہ پھر بھی اپنے خیالات کو جھٹک نہیں پا رہی تھی۔
"کیا میں نے صحیح کیا؟ کہیں میں نے کچھ غلط تو نہیں کہہ دیا؟ میں نے اس کے سامنے ائیر رنگ کچرے میں پھینک کر اسے شرمندہ تو بہت کیا ہے۔"
اسی قسم کی ہزاروں سوچیں اس کے ذہن میں ابھر رہی تھی۔ اس نے اپنا موبائل پاس پڑے پرس سے نکالا اور کال لاگ پر آئی۔ اس کے سامنے آریان کا نمبر تھا۔ اس نے نمبر کو بلاک کر دیا۔ اس کے بعد اس نے نمرہ کو کال کی اور ساری بات بتائی۔
"تم نے ائیر رنگز کچرے میں پھینک دیے!" ساری بات سن کر نمرہ نے حیرانی سے کہا۔
"ہاں۔۔"
"اسے کتنا برا لگا ہوگا!"
"لگتا ہے تو لگتا رہے۔ میں کیا کر سکتی ہوں؟" عالیہ نے بے نیازی دکھانا چاہی لیکن دور کہیں اسے بھی آریان کے لیے برا لگ رہا تھا۔
"اور تم نے اسے دھمکی کیوں دی؟ تمہارا ارادہ کیا ہے؟"
" کچھ نہیں۔۔ وہ تو بس یونہی بول دیا جو مناسب لگے گا، وہ کروں گی۔ یہ کوئی دھمکی تو نہیں تھی۔"
"تم پاگل ہو!" نمرہ نے تاسف سے بولا۔
"بالکل!" عالیہ نے بغیر کسی جھجھک کے اعتراف کیا۔
"تو اب تم اس سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھو گی!"
"نہیں! میں نے اس کا نمبر بلاک کر دیا ہے اور اب کبھی کہیں مل بھی گیا تو نظر انداز کر دوں گی۔ اگر اس میں عزت نفس ہوگی، تو خود کبھی رابطہ قائم نہیں کرے گا اور تم بھی اب اس موضوع پر دوبارہ بات نہ کرنا۔"
"اچھا!"
کچھ دیر مزید بات کرنے کے بعد عالیہ نے کال کاٹ دی۔
*********************
زینب ایک ہاتھ سے دروازہ پکڑے جبکہ دوسرے ہاتھ سے گال پکڑے کھڑی تھی۔ اس کی سیاہ آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں۔ دروازے کی دوسری طرف مریم چچی کھڑی تھیں ان کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا۔
وہ دونوں ایک دوسرے کو چند پل دیکھے گئے۔ زینب کی نظروں میں حیرانی تھی جبکہ مریم چچی کی نظروں میں غصہ۔
"تم نے کیا کہا تھا؟ ام ہانی کس دوست کے گھر گئی تھی؟ ہاں بولو!" مریم نے زینب کو کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔
"سس۔۔سچ۔۔مم۔میں۔۔۔۔۔!" زینب سے کچھ بھی کہا نہ گیا۔ وہ حیران تھی اس کی چچی کو آخر ہوا کیا تھا.
مریم چچی نے اس کا کندھا بہت زور سے پکڑا ہوا تھا۔ زینب کو لگا اگر مریم چچی نے کچھ پل اور اس کا کندھا پکڑے رکھا، تو وہ ٹوٹ جائے گا۔ ایسے میں نوال اچانک سے آئی اور زینب کو مریم کی مضبوط گرفت سے چھڑوایا۔
"امی آپ کیا کر رہی ہیں؟ اپنے آپ کو سنبھالیں۔" نوال مریم کو پیچھے کرتے ہوئے بولی۔ اس نے بڑی مشکل سے ماں کو کرسی پر بٹھایا۔
مریم کے سامنے سے ہٹنے کے بعد منظر واضح ہوا۔ اس کو ام ہانی برآمدے میں کچھ دور کھڑی دکھائی دی۔ اس نے یونیفارم پہنی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔ وہ ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ ہوا کیا تھا وہ آگے کو ہوئی اور ہمت کرکے مریم سے پوچھا۔
"چچی آخر ہوا کیا ہے؟"
"نوال اس سے کہہ دو، میں اس کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی ہوں۔"
چچی نے کرسی پر بیٹھے ہوئے زینب سے چہرہ موڑ لیا۔ وہ بری طرح ہانپ رہی تھیں۔
"لیکن یہ تو بتائیں میرا قصور کیا ہے؟" زینب کے لہجے سے بے بسی صاف جھلکی۔
"تم نے پہلے ام ہانی کی الٹے سیدھے کاموں میں مدد کی اور اب ہم سے ایسے پوچھ رہی ہو، جیسے تم نے کچھ کیا ہی نہیں۔۔" زینب کے سوال کا جواب مریم کی بجائے نوال نے دیا۔
"میں نے کیا کیا؟!" زینب کو نوال کی بات سمجھ نہیں آئی۔ پہلے مریم اور اب نوال، دونوں ہی اشاروں کنایوں میں بات کر رہے تھے۔ کوئی کھل کر زینب کو بات نہیں بتا رہا تھا۔
"میں بتاتا ہوں تم نے کیا کیا ہے!"
اشفاق اچانک اپنے کمرے سے نکلے اور زینب کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ اشفاق کو گھر میں اس وقت موجود دیکھ کر زینب مزید الجھ گئی۔
"پہلے تم نے ایک لڑکے کو ام ہانی کے پیچھے لگایا۔ اس کے بعد تم نے ام ہانی کو غط راستوں کی طرف مائل کیا اور پھر سب سے جھوٹ بولا کہ ام ہانی ایک دوست سے ملنے گئی ہے۔ اب پتا چلا تم نے کیا کیا ہے؟"
زینب کی حالت کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کے مصداق تھی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ یہ کھیل کھیلا جائے گا۔
"میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔"
زینب نے اپنی صفائی دینا چاہی۔ زینب کی آواز کانپ رہی تھی۔ اشفاق اس کی بات پر طنزیہ مسکرائے۔
"اچھا اسی لیے جب میں نے ام ہانی اور اس لڑکے کو بازار میں رنگے ہاتھوں پکڑا تو وہ لڑکا چیخ چیخ کر تمہارا نام لے رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا ام ہانی کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ زینب نے ام ہانی کو اس کے پاس بھیجا ہے اور ام ہانی نے بھی مجھے فوراً ہر بات بتائی۔ اس کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ تم نے ہی اس لڑکے کو ام ہانی کے پیچھے لگایا تھا۔ زینب تم آخر کتنا جھوٹ بولو گی؟"
آخری بات اشفاق نے اس قدر حقارت سے کہی کہ زینب کا ڈوب مرنے کا دل چاہا۔
"اس لڑکے نے جب تمہارا نام لیا، تو میرا دل چاہا تمہارا گلا گھونٹ دوں لیکن اب لگ رہا ہے تمہیں ہاتھ لگاؤں گا، تو میرے اپنے ہاتھ ناپاک ہو جائیں گے۔"
زینب اس سے زیادہ نہیں سن سکتی تھی۔ اس کا وجود اتنی حقارت برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ اشفاق بھی شاید اپنے اندر کا سارا زہر الفاظ کے ذریعے زینب کے کانوں میں ڈال چکے تھے، اس لیے وہ چچی کی طرف مڑے۔
"آئیندہ کے بعد آپ ام ہانی کو اکیلے کالج نہیں بھیجیں گی۔ میں ام ہانی کو خود کالج چھوڑوں گا اور خود کالج سے لاؤں گا۔ جہاں تک اس کی بات ہے تو آپ اس کی حرکتیں چچا کو بتا دیں لیکن ام ہانی کا نام مت لیجیئے گا۔ میں نہیں چاہتا ام ہانی کسی اور کی سزا بھگتے۔"
اشفاق نے زینب کے متعلق بات کرتے ہوئے اس کا نام تک لینا گوارہ نہیں کیا۔
اشفاق مزید کچھ کہہ رہے تھے لیکن اب زینب کا دماغ بلکل بند ہو چکا تھا۔ وہ کچھ نہیں سن پائی۔ تھوڑی دیر بعد زینب نے اشفاق کو جاتا دیکھا، پھر مریم کو، پھر نوال اور پھر سب سے آخر میں ام ہانی کو۔ اب اس جگہ صرف زینب رہ گئی تھی۔ ہمیشہ کی طرح تنہا!
اس نے سوچنا چاہا آخر اسے کہاں جانا چاہیے۔ دماغ کی طرف سے اسے کوئی جواب نہیں ملا۔ اسے کچھ دیر پہلے کا تماشا ایک خواب لگنے لگا۔ ڈراؤنا خواب!
اگر یہ خواب تھا تو، اب تک اسے اٹھ جانا چاہیے تھا۔ ہاں اسے اب اٹھ جانا چاہیے تھا۔ وہ قدم قدم بڑھتی برآمدے میں لگے نل کے پاس پہنچی۔ زینب نے آہستہ سے نل کو گھمایا۔ پانی کی دھار نل سے سیدھی زمین پر گرنے لگی۔ اس نے ہاتھ میں پانی بھرا اور اپنے منہ پر چھینٹا مارا۔ اس کے بعد وہ یکے بعد دیگرے پانی کے چھینٹے اپنے چہرے پر مارتی چلی گئی لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔ جب زینب کو یقین آگیا یہ خواب نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے تو اس نے نل بند کردیا۔
اگر یہ حقیقت تھی تو حقیقت ہی سہی۔ وہ اپنی آنکھوں کی نمی بے دردی سے رگڑتی، اپنے کمرے کی جانب چل دی۔
******************
اگلی صبح جائی یانہ، نوال کا اچھا خاصا لیکچر سننے کے بعد، اشفاق کی گاڑی میں بیٹھی تھی۔ گاڑی یونیورسٹی کی طرف گامزن تھی۔ جب یونیورسٹی کچھ قریب پہنچی تو جائی یانہ نے بات کا آغاز کیا۔
"بابا! آپ سے ایک بات کرنی ہے۔"
"بولیں"
"کیا میں یونیورسٹی سے جلدی فارغ ہوکر، اس لڑکے سے ہسپتال ملنے جا سکتی ہوں؟"
"کیوں؟!"
"بابا ہم کل بھی جلدی چلے گئے تھے۔ اس کی خیریت بھی نہیں پوچھی تھی۔ اس لیے میں نے سوچا آج ہسپتال جا کر اس لڑکے سے مل آؤں!"
"جائی یانہ آپ اچھے سے جانتی ہیں، میں نے اپنی کسی بیٹی کو اتنی چھوٹ نہیں دی،جتنی آپ کو دی ہے۔ میں آپ کو کسی غیر مرد سے ملنے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا۔ میرے کچھ اصول ہیں اور میں کسی کو انہیں توڑنے نہیں دوں گا۔"
"بابا! میں نے آپ سے اجازت اسی لیے مانگی تھی کیونکہ مجھے پتہ تھا آپ بغیر بتائے جانے پر اعتراض کرتے۔ میں اگر چاہتی تو بغیر بتائے بھی ہسپتال جا سکتی تھی لیکن اب ہرگز نہیں جاؤں گی۔ جس کام سے آپ منع کر دیں، میں وہ ہرگز نہیں کرتی۔ ہہ بات آپ بھی جانتے ہیں۔"
اس کی آخری بات سن کر اشفاق مسکرائیں۔
"مجھے آپ سے یہی امید ہے۔"
کچھ لمحات بعد ان کی گاڑی یونیورسٹی کے سامنے کھڑی تھی۔ جائی یانہ نے باہر جانے کے لیے دروازہ کھولا تو اسے اپنے پیچھے سے اشفاق کی آواز سنائی دی۔
"وہ لڑکا رات کو ہسپتال سے ڈسچارج ہوگیا تھا۔"
جائی یانہ کا دروازہ کھولتا ہاتھ، ہوا میں معلق ہوگیا۔
اس نے مڑ کر اشفاق کو دیکھا، جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
" کیا سچ میں؟"
اشفاق نے سر کو اثبات میں ہلایا۔
"حفیظ سے کل رات میری بات ہوئی تھی۔ اس نے مجھے بتایا اس کی بہن کل رات ہی اسے ڈسچارج کروا کر چلی گئی۔ اس کی حالت بھی بہتر تھی۔ اس لیے حفیظ نے رکنے پر زیادہ زور نہیں دیا۔"
اشفاق کی بات سن کر جائی یانہ نے سکون کا سانس لیا۔
"یہ تو اچھی بات ہے۔"
یہ کہہ کر جائی یانہ گاڑی سے اتر گئی اور یونیورسٹی کے صدر دروازے تک پہنچ گئی۔ اس کو بس زید کی فکر تھی۔ اب اگر وہ ٹھیک ہوچکا تھا، تو اس سے ملنے کا جواز ہی نہیں رہا تھا۔
*********************
آدھی رات ہو رہی تھی۔ سب اپنے اپنے کمروں میں سو رہے تھے۔ بس ایک وہی تھی جو چھت پر بیٹھی بادلوں کی اوٹ میں چھپے چاند کو ڈھونڈ رہی تھی۔
زینب کا یہ معمول بن گیا تھا۔ جب بھی وہ اداس ہوتی تو رات کو جاگ کر چاند کو دیکھا کرتی تھی۔ کچھ پل چاند دیکھ لینے کے بعد، وہ اس کے خوبصورت مناظر اپنے کیمرے کی یاداشت میں قید کر لیتی۔
اس نے اشفاق کا کیمرہ استعمال کرنا چھوڑ دیا تھا۔ زینب نے پیسے جمع کرکے اپنے لیے خود کا ذاتی کیمرا خرید لیا تھا۔ یہ اشفاق کے کیمرے جتنا اچھا تو نہیں تھا لیکن زینب کو اس میں تصاویر لیتے ہوئے زیادہ مزا آتا تھا کیونکہ یہ اس کا اپنا تھا۔ چاند ابھی بادلوں کی اوٹ میں چھپا تھا۔ وہ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ گئی اور آج ہونے والے تماشے کو یاد کرنے لگی۔ اس کے ذہن کی اسکرین پر آج شام کے مناظر ابھرنے لگے۔
(زینب نے اپنے آپ کو گھر کے برآمدے میں کھڑا دیکھا بلکل ایسے جیسے کوئی مجرم کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے بلکل سامنے حسن چارپائی پر بیٹھے تھے۔ ان کی دائیں طرف مریم چچی کرسی پر جبکہ اشفاق مریم کی کرسی کے پیچھے کھڑا تھا۔
اشفاق حسن کو زینب کے "کارنامے" بتا رہے تھے۔ ایسے کارنامے جن کا خود زینب کو بھی نہیں پتا تھا اور یہ کارنامے بتائے بھی زینب کی ایک ایسی کلاس فیلو نے اشفاق کو تھے جس سے زینب خود کبھی مل نہیں پائی تھی۔
مریم بلکل خاموش بیٹھی تھیں۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ زینب یوں بد نام ہو، لیکن اپنی بیٹی کا نام بھی تو نہیں لے سکتی تھیں۔ یہ ان کی مجبوری تھی۔
اشفاق کی بات سن کر حسن صاحب نے ایک نظر سامنے کھڑی زینب کو دیکھا۔ ان کی نظر میں ایسا تاثر تھا کہ زینب کو اپنا آپ گرا ہوا محسوس ہوا۔ انہوں نے زینب کو ایک لفظ بھی نہیں کہا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ برآمدے میں موجود تمام نفوس حسن کے اچانک کھڑے ہو جانے پر حیران ہوئے۔
"آپ کچھ نہیں کہیں گے؟" اس تمام معاملے میں مریم پہلی دفعہ بولی تھیں۔
"میں کل اپنا فیصلہ سناؤں گا!" حسن کے انداز سے زینب جان گئی یہ فیصلہ اس کے حق میں نہیں ہوگا۔
زینب اپنے آنسو اندر اتارتے ہوئے چلی گئی۔ اس کی بات کسی نے نہیں ماننی تھی۔ حسن چچا کو بھی اس پر اعتبار نہیں تھا۔ اس نے اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیا۔ رات کو جب سب سو گئے، تو وہ چھت پر آگئی۔ تب سے اب تک وہ چھت پر ہی تھی۔)
زینب چھت پر بیٹھی یونہی سوچتی رہتی اگر نیچے برآمدے سے پانی کا نل چلنے کی آواز نہ آتی۔ نل کی آواز سن کر زینب کرنٹ کھا کر اٹھی۔ اس وقت کون اٹھ سکتا تھا لیکن پھر اسے یاد آیا حسن اکثر تہجد پڑھنے کے لیے رات کے اس پہر جاگتے تھے۔
اس نے منڈیر پر کھڑے ہوئے نیچے کی جانب خاموشی سے جھانکا، تو اسے حسن وضو کرتے دکھائی دیے۔
وہ خاموشی سے انہیں وضو کرتا دیکھتی رہی۔ وضو کرنے کے بعد حسن اندر کی طرف غائب ہوگئے۔ چند پل بعد حسن دوبارہ برآمدے میں آئے۔ اس بار ان کے ہاتھ میں جائے نماز بھی تھی۔ انہوں نے بر آمدے میں جائے نماز بچھائی اور نیت باندھ کر ہاتھ تکبیر کے لیے کان تک لے گئے۔
کچھ پل زینب انہیں دیکھتی رہی۔ پھر آرام سے سیڑھیاں اترنے لگی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی حسن کے پاس پہنچ گئی۔ حسن صاحب قدرے اونچی آواز میں درودِ ابراہیم پڑھ رہے تھے۔ زینب ان کے پاس بیٹھ گئی۔ حسن صاحب نے زینب کو اپنے پاس بیٹھتا محسوس کرلیا تھا مگر وہ اپنی نماز میں مگن رہے۔ کچھ دیر بعد حسن سلام پھیرنے کے بعد اذکار پڑھنے لگے۔ انہوں نے زینب کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کیا۔ زینب بھی انہیں نہیں دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظریں فرش پر جمی تھیں۔ زینب کی آواز یکدم ابھری۔ اس کے لہجے میں گلہ صاف واضح تھا۔
"آپ کو پتہ ہے چچا! چچی اکثر مجھے آپ کے اور بابا کی دوستی کے بارے میں بتاتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں آپ دونوں کو ایک دوسرے پر بڑا یقین تھا۔ آپ دونوں کی محبت مثالی تھی۔ لوگ اکثر آپ دونوں کے درمیان موجود محبت پر رشک بلکہ حسد کرتے تھے۔"
حسن کے چہرے کے تاثرات بدلے لیکن انہوں نے ابھی بھی زینب کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ زینب فرش پر بے مقصد انگلی سے لکیریں کھنچنے لگی۔
"میں سوچتی تھی آپ دونوں اگر ایک دوسرے سے اتنی محبت کرتے تھے تو ضرور بابا کے جانے کے بعد آپ نے خود کو بڑی مشکل سے سنبھالا ہو گا!"
احمد کی موت کا زخم حسن کے دل میں آج تک تازہ تھا اور اس وقت زینب ان ہی زخموں کو کھرچ رہی تھی۔ احمد کا ذکر سن کر حسن کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا جو ان کے گال سے بہتا ہوا قمیض کی دامن میں گر کر جذب ہوگیا۔
"جب آپ کو کوئی ایسا شخص چھوڑ کر جاتا ہے جس سے آپ بے پناہ پیار کرتے ہو، تو یہ تکلیف سہی نہیں جاتی۔ آپ کا وہ بھائی جس کے ساتھ بچپن اور جوانی گزاری ہو اسے بھلایا تو نہیں جا سکتا۔ ہے نا؟"
اس کے سوال کا حسن نے جواب نہیں دیا۔ زینب کو جواب چاہیے بھی نہیں تھا۔
"لیکن آپ تو انہیں بھول گئے!"
الفاظ تھے یا صور، جو زینب نے حسن کے کانوں میں پھونکے تھے۔ انہوں نے تڑپ کر پہلی بار زینب کو دیکھا، جو ابھی بھی انہیں نہیں دیکھ رہی تھی۔
"آپ انہیں بھول گئے ہیں۔ اس لیے تو آپ کے لیے احمد کی بیٹی کے کردار پر شک کرنا اتنا آسان ہوگیا ہے۔ آپ اپنے بھائی احمد کو بھول گئے ہیں، اس لئے تو مجھ سے کچھ پوچھے بغیر آپ نے فیصلہ لے لیا ہے۔ آپ سب کچھ بھول گئے ہیں، جو آپ کے بڑے بھائی نے آپ کے لیے کیا۔ یاد رہے تو بس اشفاق بھائی رہے، جنہوں نے میرے کردار پر، زینب احمد کے کردار پر، آپ کے مرحوم بھائی کی بیٹی پر الزام لگایا۔"
"میں احمد کو نہیں بھولا ہوں!" حسن کی آنکھوں سے آنسو بہے جا رہے تھے۔
"آپ بھول گئے ہے انہیں!" اب کی دفعہ فرش پر زینب کا آنسو گرا۔
"آپ انہیں بھول گئے ہیں۔ اس لیے تو آج آپ نے اشفاق بھائی کی بات سن کر، ان پر بھروسہ کرلیا۔ اگر آپ کو احمد یاد ہوتا، تو آپ مجھ پر بھروسہ کرتے۔"
"میں نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا!" حسن نے کی آواز زکام زدہ محسوس ہوئی۔
"آپ نے فیصلہ نہیں سنایا لیکن لے تو لیا ہے۔ کل آپ اس کا اعلان کردیں گے۔ آپ مجھے خود بتائیں اگر بابا ایسی بات سنتے تو کیا ایک لمحہ بھی ضائع کرتے میرے کردار کی گواہی دینے میں؟"
اس بات پر حسن نے سر شرمندگی سے جھکا لیا۔
"میرا یقین کریں چچا میرے کردار میں کوئی جھول نہیں ہے۔ ایک دفعہ چچی نے مجھے بتایا تھا بابا پر کسی نے کوئی جھوٹا الزام لگا یا تھا۔ انہوں نے بس ایک دفعہ اپنی صفائی دی اور پھر وہاں سے چلے گئے۔ بابا نے اپنے مخالفوں کو مزید کوئی صفائی پیش نہیں کی۔ آج میں بھی وہی کروں گی۔ اگر آپ نے مجھ پر اعتبار کرنا ہے تو کرلیں اور اگر نہیں کرنا چاہتے تو بھی آپ کی مرضی ہے۔ میں آپ پر کوئی دباؤ نہیں ڈالوں گی!"
وہ اٹھ کر جانے لگی تو حسن نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ "میں تمہاری اس ایک بات پر کیسے یقین کر لوں کہ تم بے قصور ہو؟"
زینب کے قدم رکے۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ اس کی سیاہ آنکھیں نم اور ان میں سرخ ڈوریاں پڑی ہوئی تھیں۔ اس کے لب ایک اداس مسکراہٹ میں ڈھلے۔
"یقین تو آپ نے اشفاق بھائی کی بھی اسی ایک بات پر کیا تھا کہ میں قصور وار ہوں۔ "
یہ کہہ کر زینب رکی نہیں بلکہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ پیچھے حسن اپنے اعمال کا احتساب کر رہے تھے۔
********************
" تم کیا کہہ رہی ہو؟!"
عالیہ کے چہرے پر بے یقینی تھی۔ اس کے سامنے بیٹھی نمرہ بڑے آرام سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اردگرد جھانکو تو وہ دونوں اس وقت ایک خالی کلاس روم میں بیٹھے تھے۔ عالیہ اور نمرہ ایک ساتھ بینچ پر بیٹھی تھیں۔
"اس میں اتنی بے یقینی کی کیا بات ہے؟ بھائی کو تم اچھی لگتی ہو۔" نمرہ نے اسے آرام سے جواب دیا۔
"مجھے یقین نہیں آ رہا ہے!" عالیہ ابھی بھی بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔
"ویسے پہلے تو مجھے بھی نہیں آرہا تھا۔"
"تم نے مجھے یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائی؟!" اب عالیہ نے غصے سے پوچھا۔
میں کیا بتاتی مجھے تو خود کچھ دنوں پہلے پتا چلا ہے کہ بھائی تم سے پیار کرتے ہیں، لیکن تب تم آریان والے مسئلے میں پھنسی ہوئی تھی۔ اس لیے میں نے بتانا مناسب نہیں سمجھا۔" نمرہ نے اسے وضاحت دی۔
"یا خدایا! میں اور شایان؟ نہیں، کبھی نہیں، ہرگز نہیں!" عالیہ سوچتے ہوئے خود ہی اپنے خیالوں کو جھٹک رہی تھی۔
"ویسے تم میری بھابھی بنتی تو مجھے بہت اچھا لگتا، لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ تم شایان بھائی کی بیوی بنو گی، شایان بھائی کی!"
"کیوں؟ اس میں کیا مسئلہ ہے؟" عالیہ نے نمرہ سے پوچھا۔ نمرہ کی چلتی زبان کو بریک لگا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا وہ بہت زیادہ بول چکی تھی۔ اس لیے فوراً خاموش ہوگئی۔
"تم خاموش کیوں ہوگئی ہو؟ کچھ تو بولو۔" عالیہ نمرہ کی خاموشی پر ٹھٹکی۔
"میں نے تو بس ایسے ہی کہہ دیا۔۔۔۔۔۔۔" نمرہ نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی لیکن وہ جان گئی تھی کہ تیر کمان سے نکل چکا ہے۔
"تم اب بات نہیں بدل سکتی ہو۔ مجھے سچ سچ بتاؤ تمہاری بات کا مطلب کیا تھا۔ تمہیں ہماری دوستی کی قسم!"
عالیہ نے انتہائی جذباتی پن سے کہا جبکہ نمرہ عالیہ کے قسم دینے پر بتانے پر مجبور ہوگئی۔
"دیکھو! میرا بھائی ہے تو اچھا لیکن۔۔۔!" نمرہ نے دوبارہ بات اُدھوری چھوڑ دی۔
"لیکن کیا؟" عالیہ کی سنہری آنکھوں میں الجھن بڑھ گئی۔
" لیکن وہ غصے کے تھوڑے تیز ہیں۔ جب وہ غصے میں ہوتے ہیں تو کسی کا لحاظ نہیں کرتے۔ ان کا غصہ بہت خطرناک ہے اور وہ۔۔۔۔۔" نمرہ نے دوبارہ بات کو ادھورا چھوڑا۔
"تم ایک دفعہ میں ساری بات کیوں نہیں بتا دیتی؟" عالیہ بری طرح جھنجھلائی۔
"اور بھائی تھوڑے سے شکی مزاج ہیں ۔ وہ ہر وقت اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔" نمرہ نے گردن جھکا کر انتہائی دھیمی آواز میں عالیہ کو سچائی بتائی۔ دوسری طرف عالیہ یہ سن کر مزید گھبرا گئی۔ شایان پہلے ہی ایک لائف پارٹنر کے طور پر، اس کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ نمرہ کی باتیں سن کر تو شایان اب عالیہ کو اپنے قابل ہی نہیں لگا۔
"دیکھو میرے بھائی میں لاکھ برائیاں سہی لیکن وہ تم سے بہت پیار کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے وہ اپنے آپ کو تمہارے لیے بدل لیں گے۔" عالیہ کے تاثرات دیکھ کر نمرہ نے اپنے بھائی کی وکالت کرنا چاہی۔
"کوئی کسی کے لیے نہیں بدلتا ہے۔ انسان جیسی فطرت کا ہوتا ہے، ہمیشہ ویسا ہی رہتا ہے۔ بس فرق اتنا ہوتا ہے وہ اپنے اصل کو کچھ وقت کے لیے لوگوں سے چھپا لیتا ہے لیکن وہ ہمیشہ ایسا نہیں کر سکتا ہے۔ کبھی نہ کبھی اس کا اصل لوگوں کے سامنے کھل ہی جاتا ہے۔" عالیہ نے اپنا فلسفہ نمرہ کے سامنے پیش کیا۔
"اچھا تم پریشان تو نہ ہو۔ تم تو ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو جیسے ماما تمہارے گھر بھائی کا رشتہ لے کر آگئی ہیں۔" نمرہ نے اسے تسلی دی۔
"اسی بات کی تو فکر ہے۔ اگر پھپھو میرے لیے شایان کا رشتہ لے کر آگئی تو بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا"
کچھ دیر کے لیے دونوں خاموش ہوگئے۔ اچانک عالیہ کے ذہن میں ایک بات آئی۔
"تمہیں کس نے بتایا کہ شایان مجھے پسند کرتا ہے؟" عالیہ نے وہ سوال اب پوچھا تھا جو اصولاً اسے سب سے پہلے پوچھنا چاہیے تھا۔
"میں بھائی کی الماری ٹھیک کر رہی تھی، تب ان کی دراز سے مجھے تمہاری فوٹوز ملی۔ اس پر لال مارکر سے دل کے نشان بنے ہوئے تھے۔" نمرہ کی بات سن کر عالیہ کی پریشانی کچھ کم ہوئی۔
"ہو سکتا ہے شایان نے یونہی میری فوٹوز دراز میں رکھ دی ہو اور تم نے اس کا غلط مطلب نکال لیا ہو۔"
"میرا بھائی لڑکیوں کی تصویریں اپنے پاس رکھنے والے لڑکوں میں سے نہیں ہے۔ کیا تم نے کبھی خود غور نہیں کیا، تم جب بھی ہمارے گھر آتی ہو تو بھائی تمہیں کتنا پروٹوکول دیتے ہیں۔ کوئی اندھا بھی دیکھے گا تو سمجھ جائے گا۔" نمرہ کا لہجہ تھوڑا سخت تھا۔
عالیہ نمرہ کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دے پائی۔ نمرہ کی بات صحیح تھی۔ عالیہ جب بھی زینب کے گھر جاتی تھی، شایان اس کا ہمیشہ گرمجوشی سے استقبال کرتا تھا۔ عالیہ کو چپ دیکھ کر نمرہ نے عالیہ کا چہرہ غور سے دیکھا۔
"آخر تمہیں میرا بھائی اتنا نا پسند کیوں ہے؟"
نمرہ کی بات سن کر عالیہ نے آیک ٹھنڈی آہ بھری۔
"کیوںکہ مجھے شایان میرے بابا جیسا لگتا ہے۔ بابا ایک آئیڈیل باپ ہیں مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ ایک اچھے شوہر نہیں ہیں۔ اگرچہ بابا اماں کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں اور ان کو مارتے نہیں ہیں، لیکن پھر بھی اماں ان کے سامنے ہر وقت جواب دہ رہتی ہے۔ مجھے بعض اوقات لگتا ہے کہ بابا اماں کے درمیان میاں بیوی کا نہیں بلکہ حاکم محکوم کا رشتہ ہے۔ شایان سے مجھے بلکل بابا جیسی وائبز آتی ہیں اور تم نے جتنا شایان کے بارے میں بتایا ہے، اس سے تو میرا شک یقین میں بدل چکا ہے کہ شایان اپنی بیوی کے ساتھ بلکل اسی طرح سلوک کرے گا، جس طرح بابا اماں کے ساتھ کرتے ہیں۔ تمہارا بھائی ایک اچھا انسان ہے لیکن میں ایک ایسا اچھا انسان اپنی زندگی میں نہیں چاہتی ہوں۔ میرے لائف پارٹنر کو لے کر کچھ اسٹینڈرڈ ہیں اور شایان ان اسٹینڈرڈ میں کہیں فٹ نہیں ہوتا ہے۔"
عالیہ کی باتیں سن کر نمرہ نے بے اختیار اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ عالیہ کے منہ سے اپنے بھائی کی برائیاں سن کر بھی نمرہ نے کچھ نہیں کہا بلکہ عالیہ کا کندھا تھپکایا۔ کچھ دیر قائم رہنے والا سکوت نمرہ کی آواز سے توڑا۔
"ویسے میرے پاس ایک حل ہے؟!" نمرہ کی بات سن کر عالیہ نے اس کی طرف دیکھا۔
اس کے بعد نمرہ نے عالیہ کے مسئلے کا حل بتایا جسے سن کر عالیہ کے چہرے کے تاثرات تن گئے۔
**********************
صبح زینب اپنی یونیفارم پہنے آئنے کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی سرخ آنکھیں رت جگے کا ثبوت دے رہی تھیں۔ وہ اپنا گلابی دوپٹہ شانوں پر ڈالتے ہوئے خود کو حوصلہ دے رہی تھی۔ اسے پتہ تھا اسے کالج جاتا دیکھ کر گھر میں تماشہ لگے گا۔
ڈوپٹہ سیٹ کرنے کے بعد اس نے چادر اوڑھی، کندھے پر بیگ ڈالا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ برآمدے سے گزرنے سے لے کر گھر کے صدر دروازے میں پہنچنے تک زینب کو کسی نے نہیں دیکھا۔
سب ابھی کچن یا اپنے کمروں میں موجود تھے۔ زینب کے دل کو اطمینان ملا لیکن جب اس نے دروازے کی چوکھٹ پر قدم رکھا تھا تبھی پیچھے سے آواز آئی۔ یہ وہی آواز تھی جسے زینب کے کان کمرے سے نکلنے کے دوران سننا چاہتے تھے اور یہ وہی آواز تھی جسے زینب کا دل سننا نہیں چاہتا تھا کیونکہ جب جب یہ آواز اس کے دل تک پہنچی تھی، تب تب اس کا دل کچھ نئے طرح سے زخمی ہوا تھا۔ ہیں
"تم کالج جا رہی ہو؟!" شدید غصے میں ڈوبی مردانہ آواز۔
"جی!" زینب نے مڑے بغیر جواب دیا۔ اس کا دل ڈر سے کانپ رہا تھا۔
"اب سے تم کالج نہیں جاؤ گی!" حکم صادر کرتی آواز۔
"آپ اس گھر کے بڑے نہیں ہیں جو مجھ پر ایسے حکم چلائیں۔ اگر اس گھر کے بڑے کو میرے کالج جانے پر اعتراض ہوا تو میں گھر سے باہر قدم نہیں نکالوں گی!" زینب نے مستحکم لہجے میں بات مکمل کی۔ وہ ابھی تک مڑی نہیں تھی۔
"ایک تو تم ہماری عزتوں کو یوں نیلام کر رہی ہو، اوپر سے۔۔۔"
اب آواز کے ساتھ قدموں کی آہٹ بھی شامل تھی۔ زینب کو پیچھے سے وہ اپنے پاس آتا محسوس ہوا۔ قدموں کی آہٹ جب قریب پہنچی تو زینب کو اپنے پیچھے سے ایک اور آواز سنائی دی۔ یہ آواز پچھلی آواز سے کچھ ضعیف تھی لیکن اس میں رعب تھا جیسے ایک گھر کے سربراہ کی آواز میں ہوتا ہے، اور ہونا بھی چاہیے۔
"اشفاق!!!"
زینب کو اپنی طرف بڑھتے قدم رکتے محسوس ہوئے۔
"تم کس حق سے گھر میں اپنی من مانی چلا رہے ہو؟!" زینب کے کانوں میں اب اس ضعیف آواز کا جھڑکنا صاف سنائی دے رہا تھا۔
"اور تم!"
زینب مڑے بغیر بھی جانتی تھی کہ اسے مخاطب کیا گیا ہے۔
"تم کالج جاؤ، تمہیں دیر ہو رہی ہے۔"
زینب کے چہرے پر مسکراہٹ سج گئی۔ وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر گھر سے باہر نکل گئی۔ پھر تقریباً بھاگتے ہوئے اس نے گلی پار کی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں حسن صاحب اپنا رادہ نہ بدل لیں۔
زینب کو چھوڑ کر اگر دوبارہ حسن صاحب کے گھر میں جاؤ تو اشفاق، حسن صاحب کو حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔
"آپ نے اسے بھیج دیا؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کیا کرتی پھر رہی ہے؟"
"وہ کیا کرتی پھر رہی ہے، وہ سب تم نے کسی اور سے صرف "سنا" تھا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھا نہیں تھا اور نہ تم میرے پاس کوئی ثبوت لے کر آئے ہو۔"
حسن صاحب کی بات سن کر اشفاق کو لگا جیسے اسے سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے۔
"آپ کو میری بات پر یقین نہیں ہے؟!" اشفاق نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بے یقینی سے پوچھا۔
"تم نے مجھے کہا کہ اس کی کلاس فیلو کے بقول، وہ غلط سرگرمیوں میں ملوث ہو گئی ہے اور زینب نے مجھے کہا اس کے کردار میں کوئی جھول نہیں ہے۔ تم دونوں نے بس بات کی تھی۔ پھر میں تمہاری بات پر یقین کرکے زینب کو سزا کیسے سنا دیتا؟"
"آپ کو اب اس کی بات پر بھروسہ ہے؟"
"نہیں! مجھے کسی کی بات پر بھروسہ نہیں ہے!" حسن بس اتنا کہہ کر اندر چلے گئے۔
اشفاق نے بے یقینی سے انہیں جاتا دیکھا۔ زندگی میں پہلی مرتبہ حسن نے اس کی بات کو رد کیا تھا۔ اشفاق نے ایک نظر اس دروازے کو دیکھا جس سے زینب باہر نکلی تھی۔ اشفاق کے دل میں زینب کے لیے نفرت نے مزید جڑ پکڑ لی۔
**********************
زید خود کشی کرنے کے کئی ہفتوں بعد تک، جائی یانہ کو یونیورسٹی میں دکھائی نہیں دیا۔ شروع کے کچھ دن جائی یانہ پریشان ہوئی، لیکن پھر اس کا دھیان بٹ گیا اور وہ پڑھائی میں مشغول ہو گئی۔ اس کے مڈ ٹرم شروع ہو چکے تھے۔
اس کا آج پہلا مڈ ٹرم کا پیپر تھا۔ وہ پیپر دے کر نکلی تو اسے راستے میں سر آفتاب ٹکرا گئے۔ سر آفتاب سائنس کے ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ تھے۔ جائی یانہ کو وہ بلکل بھی اچھے نہیں لگتے تھے۔ وجہ ان کی حد سے زیادہ بے تکلفی تھی۔ حالانکہ جائی یانہ کا سر آفتاب اور سائنس کے ڈیپارٹمنٹ سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا، پھر بھی سر آفتاب کسی نہ کسی بہانے سے اس سے بات کرنے لگ جاتے۔ جائی یانہ کو سر آفتاب کی نگاہیں کھٹکتی تھیں۔
آج سر آفتاب نے جائی یانہ کو اپنے آفس میں آنے کا کہا۔ سر آفتاب کا جائی یانہ کو اپنے آفس میں بلانا تعجب کی بات تھی۔ وہ ان کی اسٹوڈنٹ بھی نہیں تھی، تو پھر اس کو بلانے کا مقصد کیا تھا؟
جائی یانہ کی چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹی بجائی لیکن سر آفتاب اس کی کوئی بات سنے بغیر آگے کی جانب چل دیے۔ جائی یانہ کو چاروناچار قدم بڑھانے پڑے۔
سر آفتاب آفس میں آکر اپنی راکنگ چئیر پر بیٹھ گئے۔ جائی یانہ سر آفتاب کے پیچھے پیچھے آئی تھی لیکن وہ بیٹھی نہیں بلکہ کھڑی رہی۔
"مس جائی یانہ، بیٹھ جائیں!"
سر آفتاب نے بڑی گرمجوشی سے اسے میز کی دوسری طرف رکھی دو کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھنے کا کہا۔ ان کے چہرے پر موجود مسکراہٹ جائی یانہ کو عجیب لگ رہی تھی۔ اسے اپنا کھڑا رہنا ہی مناسب لگا۔ جائی یانہ کو بات مانتا نہ دیکھ کر، سر آفتاب کے چہرے پر یکدم ناگواری پھیلی۔
"مجھے لگ رہا ہے آپ نے میری بات نہیں سنی۔ شاید آپ کا پرنسپل آفس جانے کا دل کر رہا ہے۔"
جائی یانہ کو سر آفتاب کی بات سن کر مجبوراً بیٹھنا پڑا۔ جائی یانہ کو اپنے سامنے بیٹھا دیکھ کر سر آفتاب کے مکروہ چہرے پر دوبارہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
"جی تو آج پہلا پیپر تھا۔ آپ کا پیپر کیسا ہوا!؟"
"اچھا!" جائی یانہ نے انتہائی خشک لہجے میں جواب دیا۔
"اچھا تو ہونا تھا۔ آپ ایک ذہین اسٹوڈنٹ ہیں ۔" سر آفتاب نے مسکراتے ہوئے جائی یانہ کے ہاتھ دیکھے جو میز پر تھے۔ جائی یانہ کے ہاتھ میں کسی قسم کی کوئی جیولری نہیں تھی۔ اس کے بے داغ سانولے ہاتھ آنکھوں کو بھلے محسوس ہوتے تھے۔
"اور ایک بات بتاؤں؟؟ مجھے وہ لڑکیاں بہت اچھی لگتی ہیں، جو اتنی اچھی اور قابل ہوتی ہیں۔"
یہ کہہ کر سر آفتاب نے اپنا ہاتھ جائی یانہ کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ جائی یانہ نے جب سر آفتاب کے ہاتھ کا لمس محسوس کیا، تو کرنٹ کھا کر ہاتھ پیچھے کیا۔ سر آفتاب بدمزہ ہوئے۔
"میں آپ سے بات کر رہا ہوں اور آپ بدتمیزی کر رہی ہیں۔ آپ ابھی بزنس میتھ کا پیپر دے کر آرہی ہیں۔ مجھے مجبور مت کریں کہ میں اس مضمون کے ٹیچر کے پاس جا کر آپ کے نقل کرنے کی شکایت کروں۔ اس کے ساتھ آپ کو پرنسپل آفس بھی لے کر جاؤں اور میم کو بتا سکوں کہ میں نے آپ کو کس طرح بند کلاس میں ایک لڑکے کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھا ہے۔"
جائی یانہ کا دماغ سر آفتاب کی دھمکیاں سن کر بھک سے اڑا۔
"میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔" جائی یانہ چلّائی۔
"جی میں بہت اچھے سے جانتا ہوں آپ نے کچھ نہیں کیا، لیکن اگر میں یہ بات بولوں گا تو سب میرا یقین کریں گے۔ آخر کو میں یونیورسٹی کا ایک قابل پروفیسر اور سائنس کے ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ ہوں۔" آفتاب کے لہجے میں غرور تھا۔
سر آفتاب کے آفس میں گھٹن پھیل گئی۔ جائی یانہ کو سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔ اس کی ہتھیلیوں اور پیشانی سے پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔ اس نے تو خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اسے ایسے پھنسایا جائے گا۔
"آخر آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟!" جائی یانہ کے حلق میں آنسوؤں کے پھندے لگنے لگے۔ اس کی آواز رندھی ہوئی تھی۔
"کیونکہ آپ نے ابھی مجھے ناراض کیا ہے۔ میں آپ سے اتنی خوش اخلاقی سے بات کر رہا تھا لیکن آپ کا رویہ انتہائی روکھا ہے۔ اگر آپ مجھ سے اچھے سے بات کریں اور مجھے "خوش" کریں، تو میں ایسا کچھ نہیں کروں گا بلکہ اگر آپ کہیں گی تو آپ کو یونیورسٹی کی سب سے ہونہار اسٹوڈنٹ بنا دوں گا۔"
سر آفتاب نے یہ کہہ کر بے باکی سے دوبارہ جائی یانہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔
"تو کیا اب میں آپ کی خاموشی کو ہاں سمجھوں؟" سر آفتاب کا چہرہ اس وقت غیر انسانی محسوس ہوا۔
سر آفتاب کی بات سن کر جائی یانہ کا دل حلق میں آگیا۔ اس کے اندر اتنی ہمت بھی نہیں رہی تھی کہ اپنا ہاتھ چھڑا سکے۔ سر آفتاب اپنی کرسی سے اٹھ کر جائی یانہ کی جانب جھک رہے تھے۔
جائی یانہ نے آنکھیں بند کرلی اور دل ہی دل میں دعائیں مانگنے لگی۔ سر آفتاب اور جائی یانہ کے درمیان بس کچھ فاصلہ رہ گیا تھا جب آفس کا دروازہ دھماکے کی آواز میں کھلا۔ سر آفتاب نے ہڑبڑا کر جائی یانہ کا ہاتھ چھوڑا اور سیدھے کھڑے ہوگئے۔ جائی یانہ بھی اپنی کرسی پر سے کھڑی ہوئی اور بے اختیار پیچھے ہوگئی۔
جائی یانہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے اپنے سامنے وہ دکھائی دیا۔ وہی جس کے بال گھنگھریالے اور آنکھیں بھوری تھیں۔ وہ پہلے سے کچھ کمزور ہوگیا تھا۔ اس کی رنگت زرد تھی۔ اسے دیکھ کر لگ رہا تھا وہ ابھی بھی مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوا تھا۔
جائی یانہ کو اس وقت زید ایک فرشتہ لگا جسے اللّٰہ نے اس کی مدد کے لیے بھیجا تھا۔ اس نے اللّٰہ کا دل میں شکر ادا کیا۔ دوسری طرف زید کی نظریں جائی یانہ کی طرف نہیں تھی بلکہ وہ سر آفتاب کو گھور رہا تھا۔
" آپ کو کسی نے سکھایا نہیں کہ کسی کے آفس میں آنے سے پہلے دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔"
سر آفتاب اب سنبھل چکے تھے، اس لیے اس نے زید کے اوپر سے آنا چاہا۔
"پرنسپل نے آپ کو بلایا ہے!" زید نے بس اتنا ہی کہا۔
"پرنسپل سے کہو میں ایک اسٹوڈنٹ کو ٹاپک سمجھا کر آتا ہوں!" سر آفتاب کی نگاہیں دوبارہ جائی یانہ پر ٹک گئیں۔ زید نے جب سر آفتاب کی ناپاک نظریں جائی یانہ پر دیکھیں، تو اس نے سختی سے لب بھینچے۔ پھر وہ آگے آگیا۔ جائی یانہ زید کے پیچھے چھپ گئی۔ سر آفتاب اب جائی یانہ کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔
"میں نے کہا نا میں آ رہا ہوں!" سر آفتاب نے سخت لہجے میں کہا۔
"انہوں نے آپ کو فوراً بلایا ہے۔" زید نے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا۔
سر آفتاب نے سر جھٹک دیا۔ ان کا بنا بنایا پروگرام خراب جو ہوگیا تھا۔ انہوں نے میز پر پڑا اپنا موبائل اٹھایا اور آفس سے نکلنے لگے۔ آفس سے نکلتے ہوئے انہوں نے ایک نظر جائی یانہ کو دیکھا۔ جائی یانہ کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھی۔
"میں کسی اور دن آپ کو ٹاپک سمجھاؤں گا۔ آپ چاہیں تو آفس میں میرا انتظار کر سکتی ہیں۔" سر آفتاب کی بات سن کر جائی یانہ کا دل کانپ اٹھا۔ وہ اس کے تاثرات سے محظوظ ہوتے آفس سے نکل گئے۔
سر آفتاب کے جانے کے بعد جائی یانہ نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا اور آفس سے باہر نکل گئی۔ آفس سے نکل کر اس نے لمبے لمبے سانس لیے۔ جائی یانہ کے نکلنے کے بعد زید بھی باہر آگیا۔
پھر جائی یانہ آفس سے دور بھاگنے لگی۔ جب آفس کافی دور ہوگیا تو وہ رک گئی۔ وہ خاموشی سے سامنے موجود سیڑھیوں کے زینے پر بیٹھ گئ ۔
زید بھی جائی یانہ کے پیچھے آ گیا۔ وہ اس کے پاس کھڑا ہوگیا۔
" یہ ذلیل۔۔۔" زید آفتاب کو گالی دیتے ہوئے رکا۔
" یہ گھٹیا شخص آپ کو کب سے پریشان کر رہا ہے؟"
"یہ پہلی بار تھا۔" جائی یانہ کے چہرے سے خون نچڑ چکا تھا۔
" ہہنہ! گھٹیا انسان۔۔۔۔!" وہ زیر لب بڑبڑایا۔
پھر اس کی نظریں بے اختیار جائی یانہ پر گئی۔ اس کی بھوری آنکھوں میں یکدم فکر مندی اتر آئی۔
"آپ پریشان نہ ہو۔ سب بہتر ہو جائے گا۔" زید کی بات سن کر جائی یانہ نے نفی میں سر ہلایا۔
"نہیں اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ اب سب خراب رہے گا۔ اگر میں نے اس کی بات نہیں مانی، تو وہ مجھے بد نام کر دے گا اور اگر مان لی۔۔۔۔۔۔۔۔" جائی یانہ کے پاس الفاظ ختم ہوگئے۔ اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں کے کٹورے میں چھپا لیا۔ اب کی دفعہ زید نے کچھ نہیں کہا۔ وہ جائی یانہ کو یونہی دیکھتا رہا۔ کچھ دیر بعد اس نے جائی یانہ کو اپنا چہرہ اٹھاتے دیکھا۔
"میں نے سوچ لیا ہے، میں اب یونیورسٹی نہیں آؤں گی۔"
اس نے جیسے اعلان کیا تھا۔ زید نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ دونوں یونہی خاموش رہے۔ جائی یانہ بیٹھی کسی اور دنیا میں گم تھی۔ اس کے چہرے کے تاثرات چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ وہ سر آفتاب کی باتوں سے خوفزدہ تھی جبکہ زید اس کے تاثرات خاموشی سے پڑھ رہا تھا۔
*********************
آج عزاہ کی کوئی خاص کلاس نہیں تھی۔ اس لیے اس نے آیونیورسٹی سے چھٹی کرلی۔ لاؤنج میں رکھے فلور کشن پر بیٹھی وہ آرام سے ایک کوکنگ میگزین کی ورق گردانی کر رہی تھی جب اس نے نوال کو لاؤنج کے دروازے کے سامنے سے گزرتا دیکھا۔ عزاہ نے ایک جھلک میں ماں کی سفید چادر اور پرس دیکھ لی تھی۔ وہ یقیناً کہیں باہر جا رہی تھیں۔ عزاہ ہاتھ میں میگزین پکڑ کر فوراً اٹھی اور اپنی ماں کے پیچھے دوڑی۔
"آپ کہیں جا رہی ہیں؟" عزاہ نے نوال کو پیچھے سے آواز دی۔
"ہاں تمہاری پھپھو کے گھر جا رہی ہوں۔ مجھے تھوڑی دیر ہو جائے گی۔ گھر کا خیال رکھنا۔"
"آپ کس کے ساتھ جائیں گی؟"
"میں رکشے یا ٹیکسی سے چلی جاؤں گی۔"
نوال نے عجلت میں کہا، پھر عزاہ کی اگلی بات سنے بغیر چلی گئیں۔ عزاہ ماں کی عجلت پر ٹھٹکی۔ وہ کچھ دیر بیرونی دروازے کو تکتی رہی، پھر کندھے اچکا کر دوبارہ لاؤنج کے اندر چلی گئی۔
کچھ لمحات بعد زینب کے گھر کے لاؤنج میں آؤ تو وہاں پر نوال اور زینب دونوں بیٹھی تھیں۔ زینب نے اسکن رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ اسکن رنگ ان کی سفید رنگت پر خوب جچ رہا تھا۔ زینب نے خود کو اچھے سے سنوارا ہوا تھا۔ بڑھتی عمر نے بھی ان کی خوبصورتی پر گہن نہیں لگایا تھا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس حسین چہرہ کے دل میں کتنے بھیانک راز چھپےتھے۔ ان کے بالکل ساتھ صوفے پر نوال بیٹھی تھیں۔ انہوں نے اپنی چادر سمیٹ کر ایک طرف رکھ دی تھی۔ سلام دعا کے بعد نوال اب زینب سے حال احوال پوچھ رہی تھیں۔
"اور سناؤ زینب؟ گھر میں سب ٹھیک ہے؟"
"جی الحمدللہ! آپ سنائیں بچیاں کیسی ہیں؟"
"انہیں کیا ہونا ہے؟ اللہ کے فضل سے ٹھیک ہی ہیں۔" نوال نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا۔ ملازمہ چائے اور دیگر لوازمات کی ٹرے اٹھائے اندر آئی، تو زینب نے اسے روکا۔
" سنو تم آج دوپہر کے کھانے کا اچھا سے اہتمام کرو۔ کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے۔ آج بھابھی ہمارے گھر کھانا کھائیں گی!" آخری بات زینب نے نوال کو دیکھتے ہوئے بولی تھی۔
"ارے نہیں زینب! تم کن تکلفات میں پڑ رہی ہو۔ میں تو تم سے ملنے آئی تھی۔ " نوال نے انہیں منع کرنا چاہا لیکن زینب نے ان کی ایک نہیں چلنے دی اور ملازمہ کو کھانے کا کہہ کر بھیج دیا۔
"میں تو تم سے ملنے آئی تھی لیکن تم تو یوں شرمندہ کر رہی ہو!" نوال نے خفگی سے کہا۔
" بھابھی آپ کا اپنا گھر ہے۔ شرمندگی کس بات کی؟"
اس کے بعد دونوں ادھر ادھر کی باتوں میں مشغول ہوگئیں۔ ایک گھنٹہ غیر ضروری باتیں بات کر لینے کے بعد نوال اصل موضوع پر آئیں۔
"زینب! مجھے تم سے ایک بات کرنی تھی۔"
"جی، بھابھی بولیں!"
"وہ دراصل۔۔۔۔۔" نوال جھجھک رہی تھیں۔
"آپ کھل کر بات کریں، بھابھی!" زینب نوال کی جھجھک جان گئی تھیں۔ شاید انہوں نے بات بھی بوجھ لی تھی۔
"تم نے مجھے کچھ دنوں پہلے بتایا تھا کہ تم شایان کی شادی کے لیے لڑکیاں ڈھونڈ رہی ہو۔"
نوال انتہائی سنجیدگی سے بات کی شروعات کی۔
"جی!" زینب نے سر اثبات میں ہلایا۔
"تمہیں عالیہ کا خیال نہیں آیا۔ وہ تو تمہاری اپنی بھتیجی ہے۔ تمہارا اپنا خون ہے۔" نوال نے گلہ کیا۔
ان کا گلہ سن کر زینب کو اطمینان ہوا۔
"مجھے عالیہ بہو کے طور پر بہت اچھی لگتی ہے۔ میری خود کی یہ خواہش ہے کہ عالیہ میرے شایان کی بیوی بنے مگر آپ تو جانتی ہیں بھائی کے نزدیک میری اور میرے بچوں کی کیا اہمیت ہے۔ میں بلا وجہ اپنے آپ کو اور بچوں کو شرمندہ نہیں کروا سکتی۔" زینب اپنے تاثرات کو سنجیدہ بنائے بولیں۔
"تم فکر نہیں کرو۔ تمہارے بھائی کو میں منا لوں گی۔ تم بس اپنا اور شایان کا بتاؤ!" نوال جھٹ سے بولیں۔
" مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ میں تو بہت خوش ہونگی کہ میری بہو گھر کی بچی ہے۔ باہر سے کسی کو نہیں لانا پڑا۔"
زینب کی بات سن کر نوال حد درجہ خوش ہوئیں لیکن زینب کی بات مکمل نہیں ہوئی تھیں۔
"البتہ شایان سے مجھے پوچھنا پڑے گا۔ ہو سکتا ہے شایان کو کوئی اور پسند ہو یا اسے عالیہ پسند نہ ہو؟!"
"تم آرام سے شایان سے اس کی رضا مندی پوچھ لو اور مجھے ایک دو دن میں بتا دینا۔"
"آپ فکر نہ کریں۔ میں آج رات ہی شایان سے عالیہ کی بات کروں گی اور کل صبح میں آپ کو شایان کا جواب سنا دوں گی۔" زینب نے انہیں تسلی دی۔
"زینب تم سے ایک اور بات بھی کرنی تھی۔ تمہارے بھائی کو بالکل بھی پتہ نہیں چلنا چاہیے کہ رشتے والی بات میں نے خود اپنے منہ سے کی ہے۔ تم ان کے مزاج کو تو جانتی ہو۔ وہ خواہ مخواہ مجھ سے ناراض ہونگے۔" نوال کی بات سن کر زینب نے سمجھتے ہوئے گردن ہلائی۔
"آپ بے فکر رہیں بھابھی! یہ بات آپ کے اور میرے درمیان میں رہے گی۔" زینب نے ان کی یقین دہانی کروائی۔ اب وہ دونوں آرام سے ایک دوسرے سے شادی کے انتظامات کی اور شادی کے ہی متعلق بات کر رہی تھیں۔
**********************
چھٹی کا وقت ہوگیا تھا لیکن جائی یانہ کا اس طرف کوئی دھیان نہیں تھا۔ اس کے ذہن میں ابھی بس سر آفتاب کی دھمکیاں گھوم رہی تھیں۔ اس کے پاس کھڑے زید نے اسے وقت کا احساس دلایا۔
"چھٹی کا وقت ہوگیا ہے۔۔۔"
زید کی آواز پر وہ حقیقی دنیا میں واپس آئی۔ اس نے موبائل پر وقت دیکھا۔ واقعی چھٹی کا وقت ہوچکا تھا۔ اسے حیرت ہوئی۔ جائی یانہ اور زید، دو گھنٹے سے ادھر موجود تھے۔
جائی یانہ خاموشی سے اٹھ گئی اور چھوٹے چھوٹے قدم لیتی چلنے لگی۔ زید بھی اس کے ساتھ چلنے لگا۔ زید دو گھنٹے سے مسلسل کھڑا تھا۔ اب اس کے پاؤں دُکھ رہے تھے۔
"تمہارا ہاتھ کیسا ہے؟" جائی یانہ کی نظر چلتے ہوئے اس کی کلائی پر لگے کٹ پر گئی۔
"ٹھیک ہے!" زید نے آرام سے کہا۔ " آپ کا اس دن میری مدد کرنے کا شکریہ!"
"تم نے خود کشی کیوں کی تھی؟" جائی یانہ نے پوچھا۔
"دل چاہ رہا تھا!"
اس کے لہجے سے صاف واضح تھا کہ وہ جائی یانہ سے اس متعلق بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے جائی یانہ خاموش ہوگئی۔ جب وہ دونوں یونیورسٹی کی عمارت سے باہر نکل گئے تو زید نے بولنا شروع کیا۔
"میں بے ہوشی میں بھی آپ کی کچھ باتیں سن پا رہا تھا۔ آپ میرے لیے ڈاکٹروں سے لڑ رہی تھیں۔ اس وقت آپ کی آواز میں ذرا سا بھی خوف اور ڈر نہیں تھا۔ آپ بہادری سے ہسپتال انتظامیہ کی ہر نا جائز بات کا منہ توڑ جواب دے رہی تھیں، حالانکہ یہ سب آپ کی زمہ داری نہیں تھی۔ آپ اگر چاہتیں تو مجھے وہی چھوڑ کر جا سکتی تھیں لیکن آپ نے میرا ساتھ دیا۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ ایک پولیس کیس ہے۔ جب مجھے ہسپتال میں ہوش آیا تو میں نے آپ کے بارے میں بہت سوچا۔ آپ جانتی ہیں میرے ذہن میں آپ کا کیسا امیج بنا؟"
زید نے اپنے سوال کا خود ہی جواب دیا۔
" میرے ذہن میں ایک ایسی عورت کا خاکہ بنا جو ہر کسی کو اپنی حد میں رکھنا جانتی ہے، وہ سمجھدار ہو یا نہیں لیکن وہ بہت بہادر ہوتی ہے۔ وہ حق کے لیے آواز اٹھاتی ہے۔ مجھے لگتا تھا آپ اپنی آزادی پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گی لیکن آپ کی باتوں نے مجھےکافی مایوس کیا ہے۔ "
جائی یانہ نے زید کی طرف دیکھا جبکہ زید اپنے سامنے موجود سڑک کو دیکھ رہا تھا۔ دونوں پر سورج کی روشنی پڑ رہی تھی۔
"آپ کی بات نے مجھے مایوس کیا کہ اب آپ یونیورسٹی نہیں آئیں گی۔ مجھے نہیں لگتا تھا آپ آفتاب یا کسی بھی شخص سے ڈر کر گھر میں چھپ جائیں گی، لیکن آپ نے ویسا ہی کیا، جیسے سب کرتے ہیں۔ آپ ڈر گئی ہیں اور اپنے ڈر کی غلام بن رہی ہیں۔" زید نے تاسف سے کہا۔
"تمہارے لیے کہنا آسان ہے۔ تم ایک لڑکے ہو۔ لڑکوں کو ان سب سے نہیں گزرنا پڑتا، جن سب سے ہم لڑکیاں گزرتی ہیں۔" جائی یانہ کی بات پر زید رک گیا اور مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔
"آپ نے ٹھیک کہا۔ میں ایک لڑکا ہوں اور مجھے واقعی میں ان چیزوں سے نہیں گزرنا پڑتا ہے جن سب سے آپ لڑکیاں گزرتی ہیں لیکن آپ کو ایک بات بتاؤں؟ لڑکوں کو ان سے کئی گنا بڑے مسئلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ لڑکوں کو ساری عمر یہی سکھایا جاتا ہے کہ تم نے بڑے ہوکر اپنے خاندان کو سنبھالنا ہے۔ تمہیں کمزور نہیں بننا۔ تمہیں اپنے خاندان کے ساتھ اعتدال پسند رہنا ہے۔ ایک لڑکے کے کندھوں پر بہت جلدی بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ عورت رو دھو کر، ناراض ہو کر، سوشل میڈیا میں فیمنزم تحریک چلا کر اپنے مسائل بیان کر سکتی ہے لیکن مردوں کو خاموش رہنا ہوتا ہے۔ ہمیں مضبوط ہونا پڑتا ہے۔ بھلے دل پر پتھر پڑ رہے ہوں یا ایک قیامت گزر رہی ہو مگر چہرے پر کوئی آثار نہیں آنے چاہیے کیونکہ آپ مرد ہیں ۔ اگر مرد کمزور پڑ گیا تو اس کے گھر کے دوسرے افراد غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ لڑکا ہونا بھی اتنا آسان نہیں ہوتا۔"
زید نہ چاہتے ہوئے بھی تلخ ہوا۔ اس نے دوبارہ چلنا شروع کر دیا۔ کچھ دیر خاموشی سے چلنے کے بعد زید نے اپنی بات دوبارہ شروع کی۔ اس کا لہجہ اب تھوڑا نرم پڑ چکا تھا۔
"آپ اس بارے میں مت سوچیں کہ میں لڑکی ہوں اور لڑکی کمزور ہوتی ہے۔ اس بارے میں سوچیں کہ آپ اس مسئلے کو کس طرح حل کرسکتی ہیں۔ آپ کے پاس اگر مسئلہ ہے تو یقین کریں، کہیں نا کہیں حل بھی ہوگا۔ آپ کو بس اسے ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔"
"مجھے حل نہیں مل رہا۔ میں کب سے یہی سوچ رہی ہوں۔" جائی یانہ بھی چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے برابر میں چل رہی تھی۔
"آپ مسئلے کا حل غلط طریقے سے ڈھونڈ رہی ہیں۔ آپ حل کی بجائے، اس شخص کے بارے میں سوچ رہی ہیں، جس نے مسئلہ پیدا کیا ہے۔ آپ کو آفتاب کے بارے میں ابھی نہیں سوچنا ہے۔ آپ کو ابھی یہ سوچنا چاہیے کہ آپ اپنے طریقے سے۔۔۔۔۔۔۔! ویسے آپ کا نام کیا ہے؟"
زید نے بات کرتے ہوئے اچانک اس کا نام پوچھا۔
"جائی یانہ!" اس نے آرام سے بتایا۔
"کیا جیئ نا؟" زید نے اس کا نام بگاڑا۔
"جائی یانہ!" جائی یانہ نے زید کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔ جب کوئی اس کا نام بگاڑتا تھا تو وہ تمام مروت اور لحاظ بھول جاتی تھی۔
"اچھا اچھا جائی یانہ!" زید نے دونوں ہاتھ اٹھا کر جائی یانہ کو ٹھنڈا کرنا چاہا۔
"میں آپ کو کہہ رہا تھا آپ نے جائی یانہ بن کر اس مسئلے کا حل نکالنا ہے۔ یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ آپ ایک لڑکی ہیں بلکہ یہ سوچیں کہ آپ جائی یانہ ہیں اور سوچیں جائی یانہ اپنے زندگی کے مسئلوں کو کس طرح حل کرتی ہے۔"
زید نے اپنی بات مکمل کی۔ چلتے چلتے جائی یانہ اور زید مین روڈ تک پہنچ گئے۔ جائی یانہ زید کی باتیں سن چکی تھی لیکن ابھی سمجھ نہیں پائی تھی۔ اس لئے اس نے زید کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
جائی یانہ نے ایک ٹیکسی روکی اور اس میں بیٹھ گئی۔ ٹیکسی اسلام آباد کی ایک مصروف سڑک پر رینگنے لگی۔ دوسری طرف زید ابھی بھی وہی کھڑا تھا جہاں سے جائی یانہ ٹیکسی پر سوار ہوئی تھی۔ اس کی نظریں اس زرد اور کالی رنگ کی ٹیکسی پر مرکوز تھی۔ ٹیکسی کو دیکھتے ہوئے زید کی بھوری آنکھوں میں بہت سے جذبات تھے۔
*********************
جائی یانہ مرے مرے قدموں سے گھر میں داخل ہوئی۔ کچن سے نکلتی عزاہ نے اسے دیکھا تو اس کے پاس آگئی۔
"تم آگئی؟! امی تو پھپھو کے گھر گئی ہوئی ہیں۔ گیارہ بجے کی گئی ہوئی ہیں، ابھی تک واپس نہیں آئیں۔ مجھے لگ رہا ہے پھپھو نے انہیں کھانے کے لیے روک لیا ہے۔ میں نے سالن اور روٹی پکا لی ہے۔ اب تمہیں بھوک لگ رہی ہے، تو کچن میں جا کر اپنے لیے کھانا خود نکال لو۔"
جائی یانہ نے عزاہ کی باتوں کو سن کر سر کو خم دیا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھی اور زینے پر پہلا قدم رکھ دیا۔ پھر وہ آہستہ آہستہ اوپر کی جانب جانے لگی۔ عزاہ کو جائی یانہ کا کھانا کھائے بغیر اپنے کمرے میں جانے پر حیرانگی ہوئی۔
"تم کھانا نہیں کھاؤ گی؟" عزاہ نے جائی یانہ سے پوچھا۔
اس بار جائی یانہ نے سر نفی میں ہلایا اور سیڑھیوں کے زینے چڑھتی اوپر کی جانب گم ہوگئی۔
"اب اسے کیا ہوگیا؟!" عزاہ نے حیرت سے خود کلامی کی۔ وہ کچھ دیر کھڑی رہی، پھر کندھے اچکا کر جانے لگی تبھی دوبارہ گھر کا بیرونی دروازہ کھلا۔
عزاہ نے مڑ کر دیکھا تو اس بار نوال آئی تھیں۔ ان کا چہرہ کِھلا ہوا تھا۔ وہ عزاہ کو دیکھ کر مسکرائیں۔ عزاہ کو سمجھ نہیں آئی آج گھر کے افراد اسے اتنے عجیب ردعمل کیوں دے رہے ہیں؟ نوال لاؤنج میں چلی گئیں تو وہ ان کے لیے پانی لے آئی۔
"آپ کی پھپھو سے ملاقات ہوگئی؟"
عزاہ نے گلاس پکڑاتے ہوئے پوچھا۔
" ہممم!" نوال نے ہنکارا بھرا اور پانی کا گلاس لے کر ایک سانس میں پی لیا۔ انہیں بہت پیاس لگ رہی تھی۔
"آپ اتنی خوش کیوں دکھائی دے رہی ہیں؟!" عزاہ نے نوال کو پر تجسس انداز میں دیکھا۔
"کیوں کہ میں ہوں ہی اتنی خوش!" اماں نے اس کا تجسس کچھ مزید بڑھایا۔
اسی لمحے گھر کا بیرونی دروازہ ایک بار پھر کھلا۔ اس بار آنے والی عالیہ تھی۔ لاؤنج میں سے نوال کی آواز سن کر وہ لاؤنج کی طرف بڑھنے لگی۔
"آپ تو پھپھو کے گھر گئی تھیں، وہاں ایسی کونسی بات ہوئی جس نے آپ کو اتنا خوش کر دیا؟!" عزاہ کی آواز عالیہ کے کانوں میں پڑی، تو وہ ایک دم رک گئی۔
"بات ہے ہی خوشی کی۔ تم سنو گی تو تم بھی بہت خوش ہو جاؤ گی۔" اماں کی بات سن کر جہاں عزاہ کا خبر سننے کے لیے اشتیاق بڑھا، وہی کہیں دور سے عالیہ کی چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹی بجائی۔
"میں تمہاری پھپھو سے شایان اور عالیہ کے رشتے کی بات کرکے آئی ہوں۔"
نوال کی بات نے ہر طرف بمباری کردی۔ دونوں سنہری آنکھوں میں یک دم کچھ ٹوٹا۔ جی ہاں دونوں سنہری آنکھوں میں!
"زینب کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے البتہ اس نے کل صبح تک کا وقت مانگا ہے تاکہ شایان سے اس کی مرضی پوچھ سکے۔ میں بھی تب تک تمہارے بابا کو اس رشتے کے بارے میں بتا دوں گی۔۔۔۔۔۔" نوال بولے جا رہی تھیں جبکہ ان کے سامنے بیٹھی عزاہ سکتے میں تھی۔
جہاں عالیہ کا بد ترین خدشہ درست ثابت ہوا تھا، وہی پر عزاہ کے سینے پر ایک بھاری بوجھ لدا تھا۔ عالیہ اور عزاہ دونوں اگلی بات نہیں سن سکی تھیں۔ وہ دونوں سن ہی نہیں سکتی تھیں۔
عالیہ کا ایک پل کو دل چاہا کہ اندر جا کر تماشہ کرے ، چیخے، چلائے لیکن اس کے قدم لاؤنج کے اندر جانے کی بجائے پیچھے کے جانب گئے۔ پہلے ایک قدم، پھر دوسرا، اس کے بعد وہ مڑی اور اوپر جانے لگی۔ وہ تقریباً بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں جاکر بند ہوگئی۔ دوسری طرف عزاہ بھی صوفے پر سے یک دم اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ اس وقت کچھ سننے اور بولنے کی حالت میں نہیں تھی۔ اس کے اس طرح اٹھنے پر نوال نے تعجب سے اسے دیکھا۔
"میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔ میں تھوڑی دیر سونے جا رہی ہوں۔"
وہ اتنا کہہ کر لاؤنج میں سے باہر نکل گئی۔
آج کا دن شاید ان تینوں بہنوں کے لیے ایک برا دن تھا لیکن عزاہ کے لیے کیوں؟!
**********************
عالیہ اپنے کمرے کے چکر کاٹ رہی تھی۔ اس کا بیگ بیڈ پر، جوتے زمین پر اور دوپٹہ صوفے پر گرا پڑا تھا۔ عالیہ کو جس بات سے سب سے زیادہ ڈر لگ رہا تھا، وہ بات ہوچکی تھی۔ سونے پر سہاگا یہ بات خود نوال نے کی تھی۔ وہ جانتی تھی اماں اپنی بات سے اب پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
اس کا دماغ خراب ہو رہا تھا۔ اگر عالیہ کو پتہ ہوتا، نوال کے ارادے اتنے خطرناک ہیں، تو وہ اماں کو گھر سے نکلنے ہی نہیں دیتی۔ عالیہ کو شایان پہلے ہی پسند نہیں تھا لیکن نمرہ کی شایان کے متعلق باتیں سن کر اس کی ناپسندیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔ اب تو وہ بلکل بھی شایان سے شادی کے لیے راضی نہیں تھی۔
اس کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں۔ اس کو اچانک سے نمرہ کی بات یاد آئی۔ اس نے اسے ایک حل دیا تھا لیکن نہیں! اس نے اپنے آپ کو ڈپٹا۔ وہ تو بس نمرہ کا ایک بیوقوفانہ مشورہ تھا۔ نمرہ تو یونہی کچھ بھی کہہ جاتی ہے۔ اس نے اپنا دماغ کسی دوسرے حل کی جانب لگانا چاہا مگر جانے کیوں ذہن میں بار بار نمرہ کی باتیں گردش کرنے لگ جاتیں۔ شاید وہ خود بھی وجہ جانتی تھی۔
********************
عزاہ اپنے کمرے کی الماری میں کچھ تلاش کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھ چیزیں الٹ پلٹ کرنے میں مشغول تھے۔ اس کا چہرہ سپاٹ اور آنکھیں نم تھیں۔ کچھ دیر کی تلاش کرنے کے بعد اسے وہ چیز مل گئی، جسے وہ کب سے تلاش کر رہی تھی۔ عزاہ نے اسے اپنی مٹھی میں بند کرکے باہر نکالا۔ پھر مٹھی نکالی۔ وہ ایک چھوٹی سی گاڑی تھی۔ گاڑی کا رنگ بہت سی جگہوں سے اتر گیا تھا۔ اس کی حالت بھی کافی خستہ ہوگئی تھی۔ عزاہ ٹکٹی باندھے اسے دیکھے گئی۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے ماضی کی سب سے خوشگوار یاد میں کھو گئی۔
(وہ کوئی آٹھ نو سال کی ہوگی۔ اس نے گلابی رنگ کی فراک پہنی ہوئی تھی۔ اس کے سیاہ بال دو پونی کی صورت میں بندھے ہوئے تھے۔ بالوں پر مختلف رنگوں کی ہیئر پن بھی لگی تھیں۔ وہ اس وقت گھر کے لان میں موجود تھی۔
وہ آرام سے اپنی گڑیا کے ساتھ کھیل رہی تھی جب اسے ایک تتلی ہوا میں اڑتی دکھائی دی۔ تتلی کے پروں کا رنگ نیلا تھا جس پر کالے رنگ کے چھوٹے چھوٹے دھبے تھے۔ فضا میں اڑتی یہ تتلی آنکھوں کو بھلی محسوس ہوتی تھی۔ عزاہ نے اپنی گڑیا وہیں چھوڑی اور تتلی کے پیچھے بھاگنے لگی۔ وہ ہاتھ اوپر کی طرف اٹھا کر تتلی کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسی کوشش میں اس کا ایک پاؤں دوسرے سے الجھا اور وہ گر پڑی۔ اس کے گھٹنے پر خراش آ گئی۔ زمین پر گرتے ہی اس کی آنکھوں میں بھر گیا۔ پھر وہ رونے لگی اور روتی چلی گئی۔ عزاہ نے سیاہ آنکھوں والے لڑکے کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ لڑکا اس وقت پورچ میں تھا، جب اس نے عزاہ کو گرتے دیکھا تھا۔
سیاہ آنکھوں والا وہ لڑکا شایان تھا۔
وہ اپنی ماں کے ساتھ ماموں ممانی سے ملنے آیا تھا۔ اس نے خاکی رنگ کی پینٹ پر ہرے رنگ کی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی جس کے درمیان میں کارٹون بنے ہوئے تھے۔
اس نے عزاہ کو کھڑا کیا۔ پھر اسے مختلف طریقوں سے بہلانے لگا مگر عزاہ چپ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
شایان کو ڈر تھا کہ کوئی یہ سمجھے کہ اس نے عزاہ کو گرایا تھا۔ اس خدشے نے اسے پریشان کر دیا۔ شایان نے اپنی جان چھڑانے کے لیے اسے اپنی کار دے دی۔ اس وقت وہ کار بلکل نئی تھی۔ مسٹرڈ رنگ کی کار پر سفید رنگ کی دھاریوں بنی تھیں۔
"یہ لو عزاہ! تم یہ لے لو لیکن پلیز رونا بند کر دو!"
شایان نے عزاہ کے سامنے گاڑی رکھ دی۔ عزاہ ایک دم چپ ہوگئی اور غور سے اس گاڑی کو دیکھنے لگی۔ شایان نے عزاہ کو چپ ہوتا دیکھا، تو سکون کا سانس لیا۔
"میں واقعی میں یہ لے لوں؟!"
عزاہ نے اپنے گال پر سے آنسو صاف کرتے ہوئے سیاہ آنکھوں والے لڑکے کو دیکھا۔ شایان نے سر اثبات میں ہلایا۔ عزاہ نے خوشی خوشی اسے لے لیا اور اس سے کھیلنے لگی۔ اس کو اپنی چوٹ یاد ہی نہیں رہی۔)
منظر دھندلا گیا اور عزاہ اپنے حال میں واپس آگئی۔ اس کے سامنے وہی گاڑی تھی لیکن گاڑی کی حالت بدل چکی تھی، جس طرح حالات بدل گئے تھے۔
"کاش میں تم سے یہ نہ لیتی!"
اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کار کو اپنے سینے سے لگا لیا جیسے ایک بچہ اپنی محبوب شے کو کھونے کے ڈر سے چپکا لیتا ہے۔ اس کے پاس آج غم منانے کے لیے بہت کچھ تھا۔ اس دنیا میں جس کو سب سے زیادہ چاہو، وہی آپ کے لیے آزمائش بنتا ہے جیسے شایان عزاہ کے لیے ایک آزمائش بن گیا تھا۔
***********************
رات کا کھانا کھانے کا ان تینوں میں سے کسی کا دل نہیں تھا لیکن ان کی مجبوری تھی۔ اگر وہ کھانا کھانے نہیں جاتیں، تو ان سے وجہ پوچھی جاتی اور تینوں کے پاس ایسی وجوہات تھیں جو وہ کسی کو نہیں بتا سکتی تھیں، اپنے ماں باپ کو تو بلکل بھی نہیں۔ اس لیے تینوں بہنیں ڈائننگ ٹیبل پر دل مار کر بیٹھی ہوئی تھیں۔
اشفاق صاحب اپنی تینوں بیٹیوں کو خاموش دیکھ کر حیران تھے مگر انہوں نے وجہ نہیں پوچھی۔ دوسری طرف نوال کو لگا کہ ان تینوں کے درمیان کوئی لڑائی ہوئی تھی۔جہاں تک بات ان تینوں کی تھی، تو وہ اپنے مسئلوں میں اس قدر گم تھیں کہ دوسرے کی خاموشی کو محسوس ہی نہیں کر پائیں۔
عالیہ نے ایک نظر اشفاق اور نوال کو دیکھا۔ کیا وہ انہیں بتا سکتی تھی کہ اس نے شایان سے شادی نہیں کرنی۔ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ اس کے ماں باپ انکار کی وجہ پوچھتے اور اگر وہ انہیں بتاتی اسے شایان نہیں پسند، تو یقیناً اس کی بات کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ اماں خود پھپھو سے بات کرکے، اب اس بات پر تو انکار نہیں کر سکتی تھیں کہ عالیہ کو شایان پسند نہیں ہے۔ اس نے اپنے باپ کو دیکھا۔ اشفاق صاحب نے بھی اس کا ساتھ نہیں دینا تھا۔ اس نے اپنے خیالات جھٹک کر خود کو کھانے کی طرف متوجہ کیا۔
عزاہ کی نگاہیں اپنی ماں پر گئیں۔ وہ اچھے سے جانتی تھی اگر اس کی ماں کو بھنک بھی پڑی کہ اس کے دل میں کیا ہے، تو وہ یقیناً اپنی ماں کی نگاہوں سے گر جاتی۔ عزاہ نے اشفاق کو دیکھا۔ اشفاق کو اگر اس بارے میں پتہ چلا تو کیا ہوگا؟ عزاہ کے تو سوچ کر رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس نے بے اختیار نگاہیں چرائی۔
اب ان سب کو چھوڑ کر جائی یانہ کی طرف آؤ، تو جائی یانہ نوالہ چباتے ہوئے اماں کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی ماں کو اگر پتہ چلتا کہ یونیورسٹی کا ایک پروفیسر اسے بلیک میل کر رہا ہے، تو وہ اسے ہی قصوروار ٹھہراتیں۔ اس کی نظریں اشفاق پر گئیں ، تو اس کی مایوسی مزید بڑھی۔
وہ چاہے اشفاق کی کتنی ہی لاڈلی ہو، کوئی بھی باپ یہ برداشت نہیں کرے گا کہ اس کی بیٹی پر کسی مرد کی گندی نظریں ہیں ۔ اشفاق کو یہ بات بتانا اپنے لیے بربادی کا سامان خود اکھٹا کرنے کے مترادف تھا۔
اس نے بے دلی سے نوالہ حلق سے اتارا۔ گھر میں ایک عجیب تناؤ تھا جو ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے محسوس کر رہا تھا۔
********************
رات کے کھانے کے بعد عالیہ کے سوا سب کمرے میں چلے گئے۔ وہ، نوال اور اشفاق کے کمرے کے باہر کان لگا کر کھڑی تھی۔ وہ جانتی تھی یہ اخلاق سے گری ہوئی حرکت تھی، مگر اپنے فائدے کے لیے ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا۔
اگر کمرے کے اندر جھانکو تو اس وقت اشفاق صوفے پر بیٹھے تھے۔ ان کے ہاتھ میں ایک فائل تھی جس کو وہ بڑے غور سے پڑھ رہے تھے جبکہ نوال بیڈ پر بیٹھی تھیں۔ ان کا رخ اشفاق کی جانب تھا۔ وہ ان سے بات کرنے کے لیے الفاظ ترتیب دے رہی تھیں۔ اشفاق صاحب نے ان کی یہ مشکل بڑی آسانی سے حل کردی۔ انہوں نے مصروف انداز میں پوچھا۔
"آپ کوئی بات کرنا چاہتی ہیں؟!"
نوال بری طرح ٹھٹھکیں۔ اشفاق، نوال کو اچھے سے جانتے تھے۔ وہ جان گئے نوال ان سے کوئی بات کرنا چاہتی ہیں۔ نوال نے کچھ ہمت کی اور بالآخر اپنے الفاظ ترتیب دیے۔
"جی! ایک ضروری بات کرنی تھی۔ آپ کام کر لیں، پھر بات کریں گے۔" اشفاق نے ان کی بات سن کر فائل ساتھ پڑی میز پر رکھ دی، پھر نوال کو دیکھا۔
"بتائیں!"
"وہ میں آج زینب کے گھر گئی تھی۔"
نوال ایک لمحے کے لیے رکی اور اشفاق کے تاثرات دیکھے۔ وہ بالکل نارمل تھے۔
"ہم دونوں کے درمیان کچھ باتیں ہوئیں۔ باتوں ہی باتوں میں زینب نے مجھ سے اپنی ایک خواہش کا اظہار کیا۔"
"کیسی خواہش؟!"
اشفاق تھوڑے آگے کو ہوئے۔ نوال کے چہرے کے تاثرات اور لہجے سے ان کو بات کافی سنجیدہ لگی۔
"زینب چاہتی ہے شایان کی شادی عالیہ سے ہو جائے۔" نوال نے جھوٹ بولا۔ ان کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
"آپ نے کیا جواب دیا؟" کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد انہوں نے سنجیدگی سے پوچھا۔
"میں نے کہہ دیا مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ شایان ہمارے گھر کا بچہ ہے، لیکن پھر بھی میں نے زینب سے آپ سے پوچھنے کے لیے وقت مانگ لیا۔"
نوال کی بات سن کر اشفاق گہری سوچ میں پڑ گئے۔
"ویسے مجھے شایان بہت اچھا لگتا ہے۔ وہ چھوٹی سی عمر میں ماں اور بہن کا سہارا بنا ہے۔ اس نے اپنا سارا کرئیر خود بنایا ہے۔ آج کل کے لڑکوں کے مقابلے میں وہ کافی سنجیدہ ہے اور سب سے بڑی بات، وہ ہمارے خاندان کا ہے۔ اپنے مار کر بھی چھاؤں میں ڈالتے ہیں۔ مجھے تو یہ رشتہ عالیہ کے لیے بہت موزوں لگا ہے۔ اب آپ عالیہ کی پڑھائی کا کہہ کر انکار نہ کر دیجیے گا۔ یہ عالیہ کا آخری سال ہے۔ میں چاہتی ہوں پڑھائی کے بعد اس کی فوراً شادی کروا دوں۔"
ان کے نزدیک شایان ایک بہترین لڑکا تھا جسے وہ پڑھائی کے چکر میں گنوا نہیں سکتی تھیں۔
"یہ تو آپ صحیح کہہ رہی ہیں۔ شایان واقعی میں ایک سلجھا ہوا لڑکا ہے!" اشفاق نے سوچتے ہوئے شایان کی تعریف کی۔ ان کی یہ بات سن کر باہر کھڑی عالیہ کی امید ٹوٹنے لگی جبکہ نوال پرجوش ہوگئیں۔
"اچھا تو اب میں زینب کو کیا جواب دوں؟"
"ابھی مجھے سوچنے تو دیں۔ اتنی جلدی کس بات کی ہے؟" اشفاق، نوال کی جلد بازی پر حیران ہوئے۔
"آپ سوچتے ہی رہ جائیں گے اور زینب اپنے بیٹے کی بات کسی اور سے طے کر دے گی۔ اس نے صاف صاف کہا ہے، وہ جلد از جلد شایان کی شادی کرنا چاہتی ہے۔"
" آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں، جیسے عالیہ میں خدا نخواستہ کوئی کمی ہے اور عالیہ کا اس کے علاؤہ کوئی رشتہ ہی نہیں آئے گا۔"
"لیکن اس سے اچھا رشتہ تو پھر بھی نہیں آئے گا۔"
نوال نے ان ہی کے انداز میں جواب دیا۔
"عالیہ کے بعد دو بیٹیاں اور ہیں۔ ہمیں ان کا بھی سوچنا ہے۔ ایک بیٹی کی زمہ داری سے فارغ ہونگے تو دوسری بیٹوں کی طرف جا پائیں گے۔!"
تھوڑی دیر کے لیے خاموشی ہوگئی۔ عالیہ کو انتظار رہا کہ اشفاق انکار کریں گے لیکن ان میں سے کوئی بھی نہیں بولا۔ اشفاق کچھ نہ بولیں، تو نوال نے اپنے فیصلے کا اعلان کردیا۔
"میں کل زینب کو کال کروں گی اور ہاں کہہ دوں گی۔ اگر آپ عالیہ کے باپ ہیں، تو میں بھی اس کی ماں ہوں۔ عالیہ کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق میرے پاس بھی ہے۔"
نوال نے اٹل لہجے میں کہا۔ اشفاق کچھ پل انہیں دیکھتے رہے پھر انہوں میز پر پڑی اپنی فائل دوبارہ اٹھا لی۔
"اگر آپ نے فیصلہ کر ہی لیا ہے، تو میری ایک بات مان لیں۔ زینب کو کال کرکے جواب دینے کی بجائے اسے کہیں وہ کل یا پرسوں گھر آئے اور عالیہ کا باقاعدہ ہاتھ مانگے۔"
"آپ راضی ہیں؟!" نوال نے خوشگوار حیرت سے پوچھا۔
" شایان میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن میں پھر بھی اپنی بیٹی کی بات یوں کال پر پکی کرکے زینب کے سامنے اس کی قدر نہیں گھٹاؤں گا۔ جب تک زینب گھر آکر رشتہ نہیں مانگے گی، آپ کوئی جواب نہیں دیں گی۔"
اشفاق نے آخری بات انتہائی اٹل انداز میں کہی۔ نوال نے ان کی بات پر کوئی اختلاف نہیں کیا۔ ان کے لیے اشفاق کا راضی ہو جانا ہی کافی تھا جبکہ باہر عالیہ کی ایسی حالت تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ وہ مایوس ہو کر واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔
***********************
زینب نے آرام سے اپنی پڑھائی جاری رکھی۔ اشفاق خود ام ہانی کو کالج لینے اور چھوڑنے جاتا تھا۔ زینب کے معاملے میں اب وہ بلکل بے نیاز ہو گیا تھا۔ پہلے پھر اشفاق کچھ ضروری باتیں زینب سے پوچھ لیا کرتا تھا لیکن اب وہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔ اس کی بلا سے زینب جیے یا مرے، اسے کوئی سروکار نہیں تھا۔ پہلے وہ زینب کو دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھ جایا کرتا۔تھا لیکن اب تو اسے یوں نظر انداز کرتا جیسے دیکھا ہی نہ ہو۔
اتنے سال اپنے بھائی کی بے رخی سہتے ہوئے بھی زینب خود کو اس کا عادی نہیں بنا پائی تھی۔ اسے اپنے بھائی کی بے رخی بری طرح زخمی کرتی۔ اس نے دو سال دن رات ایک کرکے انٹر پاس کرنے میں لگا دیے۔ اس کی محنت کا پھل اسے فیڈرل بورڈ میں ٹاپ کرکے ملا۔ ام ہانی تین سال سیکینڈ ائیر میں فیل ہونے کے بعد دوبارہ فیل ہوگئی۔ اس دفعہ فیل ہونے پر اس نے اپنی پڑھائی کو خیر باد کردیا اور گھر بیٹھ گئی۔ زینب اتنی بڑی کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب بی اے کرنا چاہتی تھی لیکن مریم نے اس کے اس مطالبے کو رد کر دیا۔
"اتنا پڑھ کر کیا کر لو گی؟ بعد میں یہی چولہا ہانڈی سنبھالنا ہوتا ہے۔ تم بھی اب ان کتابوں کو چھوڑ کر گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاؤ۔" مریم چچی نے کھانا پکاتے ہوئے اسے سمجھایا۔
ان کی باتیں سن کر وہ وقتی طور پر خاموش ہوگئی۔ دوسری طرف چچی کو لگا زینب اس کی بات سمجھ گئی ہے۔ ان کی خوش فہمی تب ختم ہوئی، جب رات کو بر آمدے میں حسن صاحب کی موجودگی میں زینب نے اپنا یہ مطالبہ ان کے سامنے دہرایا۔
"اتنا پڑھ لکھ کر تم نے کیا کر لینا ہے؟" انہوں نے بھی زینب سے وہی بات پوچھی۔
"وہی جو پڑھ لکھ کر ہر انسان کرتا ہے۔"
زینب نے دھیمے مگر متوازن لہجے میں کہا۔
"تمہارے سامنے میں نے نوال کو انٹر کروا کر گھر میں بٹھا دیا ہے۔ کیا تمہیں نہیں لگتا تمہیں خاموشی سے میری بات مان لینی چاہیے؟!" انہوں نے بظاہر اس سے سوال کیا تھا مگر زینب جانتی تھی وہ جواب نہیں مانگ رہے تھے۔
"میں بس آپ سے آگے پڑھنے کا ایک مطالبہ کر رہی ہوں۔ میں نے ٹاپ کیا ہے اور میں ایک اچھی اسٹوڈنٹ ہوں۔ مجھے نہیں لگتا مجھے اپنے آپ کو گھر میں بیٹھ کر ضائع کرنا چاہیے۔" زینب آنکھیں نیچے کیے اپنا نظریہ سمجھانے کی کوشش کرنے لگی۔
"میں تمہیں یونیورسٹی نہیں بھیجوں گا!" زینب کو سمجھ آگئی کہ انہیں کس بات پر اعتراض تھا۔
"آپ فکر نہ کریں۔ میں اپنے کالج سے بی اے کر لوں گی۔" وہ یونیورسٹی جا کر پڑھنا چاہتی تھی لیکن اس نے اپنے آپ کو تھوڑا کم لینے پر راضی کر لیا۔
"اور فیس؟ وہ تو بہت مہنگی ہوگی۔" اس بار اعتراض مریم نے کیا تھا۔ انہیں پہلے ہی یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ انہیں تینوں لڑکیوں کا جہیز خود بنانا تھا۔ اس پر زینب کا یہ نیا خرچہ آگیا تھا۔
"نہیں چچی فیس نہیں دینی پڑے گی بلکہ وہ لوگ مجھے اسکالر شپ دیں گے۔" زینب نے کچھ چہکتے ہوئے بتایا۔
"ہمممم! اگر تم اپنی ان باتوں پر قائم رہو گی، تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔" حسن نے سوچتے ہوئے کہا۔ زینب کا چہرہ کِھل اٹھا۔
اس ساری گفتگو میں پہلی بار اشفاق نے حسن کو حیرت سے دیکھا۔ آخر وہ زینب کو آگے پڑھنے کی اجازت کیسے دے سکتے تھے۔ انہوں نے پہلے حسن کو دیکھا اور پھر ان کے سامنے کھڑی زینب کو۔ زینب کا چہرہ کھلے ہوئے گلاب کی طرح لگ رہا تھا۔ لیکن اشفاق کو اس کی مسکراہٹ بہت بری لگی۔
اشفاق ایک حرف بھی بولے بنا اٹھ کر چلا گیا۔ زینب نے اسے جاتے ہوئے دیکھا۔ اس نے ایک جھلک میں اشفاق کے چہرے پر ناگواری دیکھ لی تھی۔ زینب نے نظر انداز کریا۔
زینب کو اس رات بلکل بھی نیند نہیں آئی۔ وہ پوری رات چہکتے ہوئے چاند اور جگمگاتے ستاروں کی تصویریں کھنچنے میں مگن رہی۔ اپنے کیمرے کے لینز کو صاف کرنے سے مختلف زاویوں سے تصاویر لینے تک وہ بس اپنے بی اے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ ان دو سالوں میں یہ کرے گی؟ کیا کیا ہوگا؟ کتنا مزا آئے گا! جس دن اسے بی اے کی ڈگری ملے گی وہ اتنا خوش ہوگی!!
وہ اپنی رو میں سوچے جا رہی لیکن قسمت نے کچھ اور سوچا ہوا تھا، اور ہوتا وہی ہے جو قسمت نے سوچا ہوتا ہے۔
*******************
"آپ سچ کہہ رہی ہیں؟"
یہ آواز زینب کے کمرے میں موجود شایان کی تھی۔ وہ سنگل صوفے پر بیٹھا تھا جبکہ زینب اس کے ساتھ رکھے ڈبل صوفے پر بیٹھی تھیں۔ ان دونوں کے ہاتھ میں لال رنگ کے مگ تھے جس میں گرم گرم چائے تھی۔ شایان رات کے وقت اکثر اپنی ماں کے پاس بیٹھ کر چائے پیتا تھا اور دونوں ایک دوسرے سے باتیں کیا کرتے تھے۔
ابھی کچھ دیر پہلے زینب نے اسے نوال کی آمد اور آنے کا مقصد بیان کیا تھا ۔ شایان زینب کی باتیں سن کر پھولے نہیں سما رہا تھا۔ پہلے تو اسے زینب کی باتیں مذاق لگی لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ماما مذاق نہیں کرتی تھیں۔
"آپ کہنا چاہ رہی ہیں کہ نوال ممانی، خود آپ سے میری اور عالیہ کے رشتہ کی بات کرکے گئیں ہیں!؟"
ساری باتیں سننے کے بعد بھی شایان نے ایک دفعہ دوبارہ تصدیق کروانا چاہی۔ زینب نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔ شایان کے چہرے پر خوشی کے مارے ایک رنگ آ رہا تھا، تو دوسرا جا رہا تھا۔
"یا اللّٰہ!"
شایان نے اپنی چائے سامنے پڑی میز پر رکھ دی۔ اسے یقین آنے کے لیے کچھ وقت درکار تھا۔ شایان خوشی سے اپنے ہاتھ کبھی چہرے پر پھیر رہا تھا تو کبھی بالوں پر۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی۔
ایسے میں نمرہ کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ کسی کام سے اپنی ماں کے پاس آئی تھی، پر شایان کو یوں مسکراتا ہوا دیکھ کر رک گئی۔
" کیا ہوا بھائی؟ آپ اتنا خوش کیوں ہیں؟" نمرہ نے اپنے بھائی کے چہرے کو دیکھا جو فرط جذبات سے لال ہو رہا ہے۔
"بات ہی خوشی کی ہے!" شایان کی بجائے زینب نے جواب دیا۔
" یہ آپ لوگ سسپینس کیوں ڈال رہے ہیں؟ صاف صاف بتائین آخر ہوا کیا ہے؟"
نمرہ نے باری باری ان دونوں کے چہرے کو دیکھا۔
"آج نوال بھابھی آئی تھیں۔ انہوں نے شایان اور عالیہ کے رشتے کی بات کی ہے۔" زینب نے اسے مختصر الفاظ میں بتایا۔
نمرہ حیران ہوئی۔ اس نے باری باری سب کو دیکھا۔
"اچھا!" نمرہ زبردستی مسکرائی۔ پھر کچھ کہے بغیر کمرے سے باہر چلی گئی۔ شایان تو ابھی ساتویں آسمان پر تھا، اس نے نمرہ کے جانے پر غور نہیں کیا لیکن زینب نے غور کیا تھا لیکن ابھی اس بارے میں بات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
شایان صوفے پر سے اٹھا اور اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ اس نے زینب کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا۔
"آپ نہیں جانتیں، آپ نے میرے لیے کیا کیا ہے! میں ساری عمر آپ کا احسان مند رہوں گا۔ آپ صبح انہیں کال کرکے میری طرف سے ہاں کہہ دیجیے گا۔"
زینب کو اپنے بیٹے پر پیار آیا۔ انہوں نے شفقت سے شایان کے بالوں پر ہاتھ پھیرا ۔
"اللّٰہ تم دونوں کے نصیب اچھے کرے!" زینب نے دعا دی۔ شایان نے اپنی ماں کے ہاتھوں کو چوما اور عقیدت سے اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔ اسے آج تک اپنی ماں پر اتنا پیار نہیں آیا تھا۔ دوسری طرف نمرہ اپنے کمرے میں چکر کاٹنے لگی۔ اسے بے اختیار عالیہ کا خیال آیا۔ اس نے فوراً اپنا موبائل پکڑا اور عالیہ کا نمبر ڈائل کیا۔ پہلی دو دفعہ تو کال کا جواب نہیں دیا گیا مگر تیسری دفعہ میں کال اٹھا لی گئی۔
*******************
عالیہ، اشفاق اور نوال کی بات سن لینے کے بعد واپسی کا راستہ طے کر رہی تھی۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی شکستہ حالت میں جب اپنے کمرے میں پہنچی، تو اسے اپنا موبائل بجتا سنائی دیا۔
اس نے اپنا موبائل پکڑا لیکن تب تک کال آنا بند ہو چکی تھی۔ نمرہ کی دو مسڈ کال آئی تھی۔ عالیہ نے نمرہ کو کال کرنا چاہی لیکن اس سے پہلے نمرہ نے خود کال کردی۔
"یہ ابھی مجھے ماما نے کیا بتایا ہے؟ نوال ممانی ہمارے گھر اتنی بڑی بات کرکے گئیں اور تم نے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا؟!"
اس نے سیدھا کام کی بات کی۔ نمرہ کا لہجہ تیکھا تھا۔
" مجھے خود یہ بات گھر آکر پتا چلی ہے۔"
"اب تم کیا کرو گی؟" نمرہ نے فوراً پوچھا۔
"میں کیا کر سکتی ہوں؟" عالیہ نے تھکے ہوئے لہجے میں اس سے پوچھا۔
"ماموں ممانی سے بات کرو۔ انہیں بتاؤ تم اس رشتے سے راضی نہیں ہو!"
عالیہ اس کی بات سن کر تھکا تھکا سا مسکرائی۔
"تم اچھے سے جانتی ہو اماں بابا کس مزاج کے ہیں۔ انہیں ہر بات پر اپنا کنٹرول چاہیے۔ اماں بابا کی سوچ پرانی ہے۔ وہ لڑکیوں کا یوں اپنی شادی کی بات اپنے منہ سے کرنے کو اچھا نہیں سمجھتے۔ اگر میں نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی، تو اماں بابا ضد میں آجائیں گے۔ میرے بات کرنے سے معاملات سلجھنے کی بجائے مزید الجھ جائیں گے۔ میں ان کے سامنے آواز نہیں اٹھا سکتی ہوں۔ مجھ میں کم از کم اتنا حوصلہ نہین ہے۔"
"اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ تم اپنی ساری زندگی ایک ایسے شخص کے ساتھ گزار لو جسے تم پسند ہی نہیں کرتی ہو!" نمرہ بری طرح جھنجھلائی۔ "تم ایک دفعہ ممانی سے بات تو کرو۔ اس طرح ہار مت مانو"
عالیہ جانتی تھی کہ نمرہ کو اس کی کتنی فکر تھی۔ اس کی خاطر وہ اپنے بھائی کی خوشی میں خوش بھی نہیں ہو پا رہی تھی۔
"اماں سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وہ کسی صورت نہیں مانیں گی اور بابا کو تو تم جانتی ہو۔ انہیں پتہ چلا میں شایان سے شادی نہیں کرنا چاہتی، تو وہ اگلے دن ہی شایان سے میرا نکاح کروا دیں گے!"
اس کی باتیں سن کر نمرہ خاموش ہوگئی۔ وہ جانتی تھی عالیہ کی باتیں بلکل درست تھیں۔ نوال اور اشفاق کی پرانی سوچ کے بارے میں پورا خاندان جانتا تھا۔
"تو اب تم کیا کرو گی؟" نمرہ نے دوبارہ وہی سوال کیا لیکن اس دفعہ لہجہ دھیما تھا۔
"میں کیا کر سکتی ہوں!" عالیہ نے بھی وہی جواب دیا۔ اس دفعہ بے بسی صاف جھلکی۔
"کر تو تم بہت کچھ سکتی ہو!" نمرہ نے معنی خیز لہجے میں کہا۔
"میں ایسا کچھ نہیں کروں گی!" عالیہ نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
"تمہاری مرضی ہے لیکن یہ یاد رکھنا اس زبردستی کی شادی میں تمہارے ساتھ ساتھ میرے بھائی کی زندگی بھی خراب ہوگی۔" یہ کہہ کر نمرہ نے کال کاٹ دی۔
*******************
کچن میں عزاہ چائے پکا رہی تھی۔ عیسیٰ نے کچھ دیر پہلے اس کے کمرے میں آکر چائے کا مطالبہ کیا تھا۔ چائے پکنے کے بعد وہ کپ لے کر اوپر جانے لگی، لیکن تبھی اس کے کانوں میں نوال کی آواز آئی۔
آواز ڈرائنگ روم سے آ رہی تھی۔ عزاہ نے کسی خیال کے تحت ڈرائنگ روم میں جھانکا تو اسے نوال صوفے پر بیٹھی دکھائی دیں۔ نوال کی عزاہ کی جانب پشت تھی۔ ان کے ہاتھ میں موبائل تھا۔ عزاہ لمحے میں جان گئی، اس کی ماں خالہ سے بات کر رہی تھی۔
دوسری طرف نوال اشفاق کی نیم رضا مندی پر بہت خوش تھیں۔ نوال کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اشفاق اتنی جلدی مان جائیں گے۔ اشفاق کی بات سن لینے کے بعد ان کا دل چاہا کہ وہ اسی وقت کسی کو یہ بات بتائے اور ام ہانی ایک بہترین آپشن تھا۔
"میں نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ تمہارے بھائی اتنی جلدی شایان کے لیے رضا مند ہو جائیں گے۔ مجھے تو الٹا ڈر تھا کہ میں نے جلد بازی میں کہیں کچھ غلط تو نہیں کردیا۔"
نوال کچھ دیر کے لیے رکی اور دوسری طرف کی بات سننے لگی۔
"نہیں! میں نہیں جانتی کہ وہ یہ سن کر کس طرح کا ردعمل دیں گے لیکن اگر انہیں پتہ چلا میں نے خود زینب سے بات کی ہے تو شاید ناراض ہی ہونگے۔۔"
وہ کچھ دیر کے لیے دوبارہ خاموش ہوئیں۔
"تم فکر نہ کرو۔ میں نے زینب سے بات کر لی ہے۔ وہ یہ بات اشفاق کے سامنے نہیں کرے گی۔"
"بس میں تو اب شکرانے کے نفل پڑھوں گی۔ عالیہ کے فرض سے تو میں سبکدوش ہوئی۔"
نوال ابھی بھی بہت کچھ کہہ رہی تھیں لیکن عزاہ کی دلچسپی ختم ہوگئی تھی۔ اس کو جو جاننا تھا، وہ جان گئی تھی۔ شایان کو عزاہ سے چھین لیا گیا تھا۔ نوال کی باتوں سے اس نے یہی اخذ کیا اور یہی بات اس کے لیے تکلیف دہ تھی۔
***********************
رات گہری ہوچکی تھی لیکن نیند سب کی آنکھوں سے غائب تھی۔ سب اپنے مستقبل کا لائحہ عمل طے کر رہے تھے۔ نوال اوراشفاق ایک بیڈ پر لیٹے تھے۔ دونوں کی ایک دوسرے کی جانب پشت تھی۔ اشفاق ان لمحات کے بارے میں سوچ رہے تھے جب نوال نے شایان کے رشتے کے بارے میں بتایا تھا۔ اشفاق شایان سے بہت متاثر تھے۔ وہ بڑی مہارت سے کاروباری معاملات کو سنبھالتا تھا۔ اس نے تھوڑے عرصے میں اپنی کمپنی کی اچھی شہرت کما لی تھی۔ اس کی تعریفیں بہت سی بڑی فرم کے مالکان بھی کرتے تھے۔ وہ واقعی میں سلجھا ہوا اور ایک اچھا انسان تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ زینب کا بیٹا تھا۔ اس زینب کا بیٹا جس سے اشفاق ساری عمر نفرت کرتے آئے تھے۔ وہ زینب کو اپن اپنی بیٹی دے کر، اسے سر پر نہیں چڑھا سکتے تھے۔ انہوں نے نوال کو منع کرنے کا سوچا تھا مگر تب انہیں خیال آیا۔
وہ شایان کو شیشے پر اتار کر اسے کسی طرح زینب سے متنفر کر سکتے تھے۔ وہ ایسا کرسکتے تھے۔ شادی کے بعد اشفاق کے پاس ہزاروں طریقے تھے جس سے وہ زینب کو سبق سیکھا سکتے تھے۔ اشفاق کی نفرت نے ان سے فیصلہ کروا لیا۔ شفاق نے ڈھکے چھپے الفاظ میں نوال کو ہاں کہہ دی لیکن اس کے ساتھ شرط بھی رکھی کہ زینب ان کے گھر آکر رشتہ مانگے۔ اس کے بعد ہاں کا جواب دیں گے۔ اس طرح ان کی انا کی تسکین ہوگی۔
اشفاق برسوں اس نفرت کی آگ میں جلتے آئے تھے۔ اتنے سال گزر جانے کے باوجود اشفاق ابھی تک وہی چھوٹے سے بچے تھے، جو ماں باپ کے مرنے کا الزام زینب پر لگاتے تھے۔ ان کو اپنا فیصلہ اس وقت بہت اچھا لگا۔
دوسری طرف نوال، زینب اور اس کے بچوں کی دو تین دن میں دعوت کرنے کا سوچ رہی تھیں۔ دعوت کے انتظامات کے وہ ابھی سے منصوبے بنا رہی تھیں۔ ان کو شادی کے اخراجات کی بھی پریشانی لاحق تھی۔ شادی کے سو خرچے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس کچھ پیسے موجود تھے، جو زیادہ نہیں تو ایک حد تک کام آ سکتے تھے۔ کچھ رقم اشفاق کے پاس بھی محفوظ ہوگی لیکن پھر بھی یہ سب ملا کر اتنی رقم نہیں تھی کہ شادی ہو پائے۔ انہیں کہیں سے ادھار بھی لینا پڑے گا۔ ان کی رات مستقبل کی فکر کرتے گزر گئی ۔
**********************
عالیہ اپنے کمرے میں چت لیٹی تھی۔ ٹیبل لیمپ کے علاؤہ تمام بتیاں بجھی ہوئی تھیں۔ ٹیبل لیمپ، کمرے میں پھیلے اندھیرے کو کم کرنے کی پر زور کوشش کر رہا تھا۔
عالیہ اوپر کی جانب دیکھتی ہوئی اپنے آگے کا مستقبل سوچ رہی تھی۔ اگر اس کی شایان سے شادی ہوتی تو کیا ہوتا؟اس نے تصور کرنا چاہا۔
اس نے ہر اس جگہ اپنے آپ کو کھڑا پایا جہاں وہ نوال کو دیکھتی آئی تھی۔ وہ محکوم تھی اور شایان حاکم تھا۔ وہ جو کہتا، اس کو بات ماننی پڑتی۔ وہ اس پر غصہ کرتا، تو وہ خاموشی سے سنتی۔ اس کی ماں نے اپنی زندگی میں جو کچھ کیا، عالیہ مستقبل میں خود کو کرتے دیکھ رہی تھی۔ شایان سے شادی کرنے کا مطلب اپنی مرضی ختم کر دینا تھا۔
عالیہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس نے دوبارہ حل تلاش کرنا چاہا لیکن کچھ نہ ملا۔ اس کی سنہری آنکھوں میں ایک منظر چھایا جو وہ حل کی تلاش میں آج بار بار دیکھ رہی تھی۔
(وہ بیڈ پر سے بینچ پر بیٹھ چکی تھی اور اس کے کمرے کی درودیوار، کلاس روم کی دیواروں میں تبدیل ہوگئی تھیں۔ اس کے سامنے نمرہ بیٹھی تھی۔
"میرے پاس ویسے ایک حل ہے!" نمرہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
عالیہ نے اس کی طرف دیکھا۔
"اگر ماموں ممانی تمہاری شادی زبردستی شایان بھائی سے کروائیں ، تو تم آریان کو ساری صورتحال بتا کر اس سے مدد لے لینا!"
عالیہ کو اس سے کسی اچھے مشورے کی توقع تھی لیکن یہ بے تکی بات سن کر اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔
"کیا بکواس کر رہی ہو تم؟"
عالیہ کو ایک دم طیش آیا۔ اسے طیش میں آتا دیکھ کر نمرہ گڑبڑا گئی۔
"دیکھو! میں تو مشورہ دے رہی ہوں۔ ویسے بھی ابھی کون سی تمہاری شایان بھائی کے ساتھ شادی ہو رہی ہے۔" نمرہ کی بات سن کر بھی عالیہ اسے گھورتی رہی۔
"اب تم مجھے اس طرح نہ دیکھو۔ میرا مشورہ اتنا بھی برا نہیں ہے جتنا تم سمجھ رہی ہو۔ آریان مجھے اچھا انسان لگتا ہے۔ وہ تمہاری مدد کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔"
نمرہ کی بات عالیہ نے کاٹی۔
"تم دوبارہ یہی بات کر رہی ہو!"
"اچھا نہیں کرتی یہ بات، اب خوش؟!" نمرہ چپ ہوگئی۔
"ہاں! بہت زیادہ! آئیندہ کے بعد تمہارے منہ سے آریان کا نام نہ سنوں۔ کبھی سوچ سمجھ کر بھی انسان بول سکتا ہے۔۔۔۔۔۔" اس کے بعد عالیہ بہت دیر تک نمرہ کو سناتی رہی۔)
منظر آنکھوں سے تحلیل ہوا اور عالیہ اپنے حال میں واپس آگئی۔ اس کو کیا کرنا چاہیے تھا۔ وہ کچھ بھی سوچ نہیں پا رہی تھی۔
بالآخر عالیہ نے نمرہ کے بے تکے مشورے پر توجہ دے دی۔ آریان واقعی میں اچھا انسان تھا۔ اس نے اس کی دو دفعہ مدد کی تھی۔ وہ اس سے کسی بھی طرح کی مدد مانگتی تو وہ شاید اس کی مدد کر دیتا لیکن اس نے آریان اور اپنی آخری ملاقات میں اسے دوبارہ ملنے سے صاف صاف انکار کیا تھا ۔
اب وہ اس طرح آریان سے مدد مانگتی ہوئی اچھی نہیں لگتی۔ اسے سوچ سوچ کر بے چینی ہونے لگی۔
اس نے اسی حالت میں ایک فیصلہ لیا۔ وہ نہیں جانتی تھی اس کا نتیجہ کیا نکلے گا لیکن اس کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ وہ شایان کی غلامی میں اپنی زندگی برباد نہیں کر سکتی تھی۔
اس نے موبائل اٹھایا اور اس کی اسکرین پر تیزی رفتاری سے انگلیاں دبانے لگی۔ وہ کال لاگ پر آئی اور اس نے آریان کے نمبر کے ساتھ موجود تین ڈاٹس پر انگلی رکھی۔ موبائل کی آسکرین پر ایک مینیو کھلا۔ اس میں بہت سے آپشنز تھے جن میں سے ایک unblock کا تھا۔ اس نے آپشن پر کلک کر دیا۔ آریان کا نمبر ان بلاک ہوچکا تھا۔
اس نے موبائل واپس رکھ دیا۔ وہ ابھی آریان کو کال نہیں کر سکتی تھی ۔ ابھی اسے اپنے ایک مخلص انسان سے مشورہ کرنا تھا۔ اس کے بعد وہ کوئی اگلا فیصلہ لے گی۔
عالیہ بیڈ پر لیٹ گئی۔ اسے اپنا فیصلہ کچھ جلد بازی کا لگا لیکن اس کے علاؤہ وہ اور کیا کرسکتی تھی؟
*******
عزاہ کے کمرے کی تمام بتیاں جل رہی تھی لیکن عزاہ خود کمرے میں نہیں تھی۔ اس کے کمرے کے واش روم سے شاور چلنے کی آواز آ رہی تھی۔ واش روم کا دروازہ کھلا تھا۔ اگر اس کے اندر آؤ تو سنہری آنکھوں والی لڑکی لباس پہنے شاور میں بھیگتی دکھائی دیتی۔ اس کے سیاہ بال جو جوڑے کی شکل میں بندھے ہوئے تھے، اب لٹوں کی صورت میں کمر، چہرے اور گردن سے چپک گئے تھے۔ اس کے کپڑے بری طرح بھیگ گئے تھے۔
عزاہ اس سب سے بے پروا بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے جو پانی کی بوندوں میں گم ہو رہے تھے۔ کبھی کبھی حلق سے گھٹی گھٹی سسکی بھی بر آمد ہو جاتی تھی۔
عزاہ نے جب سے نوال کی بات سنی تھی، اسے اپنا آپ کسی اندیکھی آگ میں جلتا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کو گھٹن ہو رہی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں آئی تو اسے کسی پل چین نہیں ملا۔
وہ اسی بے چینی کے عالم میں وہ واش روم کی جانب بڑھی اور شاور کے نیچے آکھڑی ہوگئی۔ اس نے شاور کا نل ایک دم چلا دیا۔ شاور سے پانی فوار کی صورت میں برسنے لگا۔ اس کو اپنا وجود آہستہ آہستہ گیلا ہوتا محسوس ہوا لیکن اندر کی آگ ہنوز جل رہی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے واش روم کے فرش پر بیٹھ گئی۔
عزاہ نے کم عمری میں محبت کی تھی۔ اس کو شایان سے محبت تھی لیکن اس نے اس محبت کا اقرار کسی سے نہیں کیا تھا، شایان کے سامنے بھی نہیں۔۔۔ اس نے سب سے چھپا کر اپنی محبت کو دل میں پروان چڑھایا تھا اور اب یہی محبت اس کے لیے ناسور بن گئی تھی۔
عزاہ کو اس وقت ہر چیز سے نفرت ہو رہی تھی۔ اسے اپنی ماں پر بھی غصہ آیا۔ وہ کیسے اس کے حصے کی خوشیاں عالیہ کی جھولی میں ڈال سکتی تھیں۔ اس کی ماں کو صرف عالیہ سے پیار تھا۔ اس لیے عالیہ کو بن مانگے شایان دے دیا گیا تھا اور عزاہ کو کیا دیا گیا؟ کچھ بھی نہیں۔۔
اس نے تو شایان کو ہر وقت مانگا تھا نمازوں میں، عبادت میں، جب جب اسے کہا جاتا کہ دعا مانگو تو وہ شایان کو مانگتی تھی۔ اس نے جب جب ہاتھ اٹھائے تو اپنے لیے شایان کا ساتھ مانگا تھا، جیسے یہ دعا اس کی دعاؤں کا لازم جزو ہو۔ عزاہ نے ایک دفعہ پھر دعا مانگنا چاہی۔ کیا پتہ یہی وقت قبولیت کا ہو۔
"پلیز اللّٰہ مجھے وہ دے دے! وہ جیسا بھی ہے، مجھے ہر حال میں قبول ہے۔ اگر وہ میرے حق میں بہتر نہیں ہے تو بھی مجھے وہ دے دے۔" عزاہ نے ایک ضدی بچے کی طرح دعا مانگی اور دوبارہ آنسو بہانے لگی۔
جب اسے کچھ ہوش آیا تو اس نے شاور بند کر دیا اور خالی الذہن کپڑے تبدیل کر کے باہر آگئی۔ سنہری آنکھوں میں تیرتا پانی اب بہتے بہتے خشک ہوچکا تھا۔ عزاہ نے اپنے بالوں میں سفید رنگ کا تولیہ باندھا ہوا تھا جس پر گلابی رنگ کی دھاریاں تھی۔ اس نے بالوں سے سارا پانی نچوڑا۔ پھر تولیے کو صوفے پر پھینک دیا۔ اس کے بعد کنگھے سے بال سلجھانے لگی۔
عزاہ کا چہرہ کھنڈر کی طرح ویران تھا۔ اس کے اندر طوفان آ جانے کے بعد کا ایک طویل سناٹا پھیل چکا تھا۔ عزاہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔ وہ کرتی بھی کیا؟
کسی سے اس متعلق بات نہیں کر سکتی تھی۔ اس کے پاس صرف اور صرف ایک راستہ تھا۔
اور وہ تھا خاموشی کا۔
جو اس نے خاموشی سے اختیار کرلیا۔
******************
جائی یانہ اپنے کمرے میں موجود کھڑکی سے باہر کی جانب دیکھ رہی تھی۔ گلی بلکل سنسان تھی۔ سب لوگ سو چکے تھے۔ اسلام آباد اپنے جلدی سونے اور جلدی اٹھنے کی وجہ سے نوجوانوں کو خاصا بور لگتا ہے۔
جائی یانہ بظاہر گلی کو دیکھ رہی تھی مگر اس کے ذہن میں زید کی باتیں گردش کر رہی تھی۔ وہ اس وقت زید کی باتوں کو سمجھ نہیں پائی تھی مگر اب ان باتوں پر غور کر رہی تھی۔
"آپ کی بات نے مجھے مایوس کیا کہ اب آپ یونیورسٹی نہیں آئیں گی۔ مجھے نہیں لگتا تھا آپ آفتاب یا کسی بھی شخص سے ڈر کر گھر میں چھپ جائیں گی، لیکن آپ نے ویسا ہی کیا، جیسے سب کرتے ہیں۔ آپ ڈر گئی ہیں اور اپنے ڈر کی غلام بن رہی ہیں۔"
جائی یانہ مزید اداس ہوئی۔
"آپ مسئلے کا حل غلط طریقے سے ڈھونڈ رہی ہیں۔ آپ حل کی بجائے، اس شخص کے بارے میں سوچ رہی ہے جس نے مسئلہ پیدا کیا ہے۔ آپ کو آفتاب کے بارے میں ابھی نہیں سوچنا ہے۔"
اس نے سوچنا چاہا لیکن جائی یانہ کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔ وہ آخر کیا کرتی؟ اس کے مسئلے میں تو بس مسئلے ہی مسئلے تھا۔ حل تو دور دور تک دکھائی نہیں دیتا تھا۔
"آپ نے جائی یانہ بن کر اس مسئلے کا حل نکالنا ہے۔ یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ آپ ایک لڑکی ہیں بلکہ یہ سوچیں کہ آپ جائی یانہ ہے اور سوچیں جائی یانہ اپنے زندگی کے مسئلوں کو کس طرح حل کرتی ہے۔"
جائی یانہ سوچنے لگی آخر جائی یانہ ہوتی تو کیا کرتی۔ اب کی بار اس نے اپنا دھیان اس بات پر نہیں لگایا کہ وہ کیا کرتی بلکہ اس پر لگایا کہ جائی یانہ کیا کرتی۔
کچھ دیر کی طویل سوچ کے بعد جائی یانہ کو کچھ سوجھا۔ اس کی بھوری آنکھیں چمک اٹھیں اس کا دماغ اب انتہائی تیزی سے کام کرنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں اس کا خیال پورے پلان کی صورت میں تبدیل ہوگیا۔
اس نے پورا پلان بنانے کے بعد ایک آخری دفعہ اس پر نظریں ثانی کی۔ پھر اس نے یہ فیصلہ کیا وہ اسی پلان پر عمل کریں گی۔ اس کا پیپر پرسوں تھا۔ کل اس کی چھٹی تھی۔ اپنے پلان پر اسے پرسوں کام کرنا تھا۔
وہ بیڈ پر لیٹ گئی۔ اسے خدشات بھی تھے کہ اگر یہ پلان بگڑا تو بہت کچھ خراب ہو جائے گا لیکن اب اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ اب وقت آگیا تھا کہ ان درندوں کو سبق سکھایا جائے جو انسانی بھیس میں معاشرے میں معزز بنے ہوئے ہیں۔
****************
زینب کالج سے گھر جا رہی تھی۔ اس کے بی اے کی کلاسز کو شروع ہوئے تقریباً ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ اب زینب اکیلے جایا کرتی تھی۔ ام ہانی اور محلے کی دوسری لڑکیوں نے پڑھائی چھوڑ دی تھی۔
زینب اپنے چہرے کو چادر سے چھپائے جارہی تھی جب اسے سامنے سے ایک لڑکا آتا دکھائی دیا۔
زینب اس لڑکے کو جانتی تھی۔ یہ لڑکا ان کے پڑوس میں رہتا تھا۔ ان کے گھر اور اس لڑکے کے گھر کی دیواریں ملی ہوئی تھیں۔ وہ زینب کو دیکھ کر مسکرایا۔ زینب لڑکے کو نظر انداز کرکے چلتی رہی۔
وہ جلد از جلد اپنی گلی میں پہنچنا چاہتی تھی کیونکہ گلی میں وہ لڑکا اس کے ساتھ کچھ نہیں کر پاتا۔ وہ لڑکا کچھ دنوں سے اسے دیکھ کر یونہی معنی خیز انداز میں مسکرا رہا تھا۔ زینب خاموشی سے گردن جھکائے چلی جاتی لیکن آج محلے میں آ جانے کے باوجود اس نے زینب کا پیچھا نہیں چھوڑا بلکہ یونہی مسکراتا ہوا اس کے پیچھے آتا رہا۔ زینب کے صحیح معنوں میں پسینے چھوٹ گئے۔ اگر حسن یا اشفاق نے اس لڑکے کو زینب کا پیچھا کرتے دیکھا تو آج قیامت برپا ہو جاتی۔
وہ پہلے سے تیز قدم اٹھاتی اپنے گھر پہنچی۔ پھر دروازہ بند کر دیا۔ اس کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا تھا۔ تیز چلنے کی وجہ سے اس کا سانس پھول چکا تھا۔ تبھی اسے ام ہانی کی آواز سنائی دی۔
"راستے میں کسی جن بھوت کو دیکھ لیا تھا؟!"
ام ہانی نے برآمدے میں کھڑے ہوکر بڑے معنی خیز انداز میں سوال کیا۔ اس کی مسکراہٹ زینب کو بری طرح چبھی۔
"تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ اپنے کام سے کام رکھا کرو۔"
اتنا کہہ کر زینب وہاں سے چلی گئی۔ ام ہانی کے چہرے پر ایک کمینی مسکراہٹ سج گئی۔
***************