آج اشفاق کے سوا گھر میں سب موجود تھے۔ جائی یانہ نے آج یونیورسٹی نہیں جانا تھا جبکہ عالیہ اور عزاہ دونوں کا کہیں جانے کا دل نہیں تھا۔ اس لیے دونوں میں سے کوئی بھی یونیورسٹی نہیں گیا۔
صبح کے ناشتے کے بعد نوال نے زینب کو کال کی۔ نوال نے جب زینب کو کال کی، اس وقت وہ ناشتہ کر رہی تھیں۔ ان کے ساتھ شایان بھی بیٹھا تھا۔ نوال کی کال آتی دیکھ کر شایان بے چین ہوگیا۔ زینب نے ٹشو سے ہاتھ صاف کیا، پھر فون اٹھا کر کال اٹینڈ کر لی۔
"السلام علیکم!" نوال نے سلام کیا۔
"وعلیکم السلام!" زینب نے بھی ان پر سلامتی کی دعا بھیجی۔
"تم نے شایان سے بات کی؟"
نوال کے پوچھنے پر زینب نے شایان کو دیکھا جو بڑی بے چینی سے ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔
"جی، میں نے شایان سے بات کی ہے۔ اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔" زینب نے مسکراتے ہوئے کہا، پھر پوچھا۔ "آپ نے بھائی سے بات کرلی؟"
"ہاں میں نے ان سے بات کرلی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح فون کالز پر بات کرنے کی بجائے، تمہیں باقاعدہ گھر آکر اشفاق سے عالیہ کا رشتہ مانگنا چاہیے۔"
"اچھا!" زینب نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔ "تو آپ بتا دیں ہم لوگ کس دن آپ کے گھر عالیہ کا ہاتھ مانگنے آئیں؟"
"تمہارا اپنا گھر ہے۔ کسی بھی دن آجاؤ!" ان کی بات سن کر زینب سوچ میں پڑ گئیں۔
" یہ ہفتہ تو میرا بہت مصروف ہے۔" زینب نے سوچتے ہوئے خود کلامی کی۔
"بھابھی اگر آپ برا نہ مانیں، تو میں آج آجاؤں۔"
زینب کی بات سن کر جہاں نوال کو شاک لگا تھا وہیں شایان کو بھی کرنٹ لگا۔ ان دونوں کو یہ توقع نہیں تھی کہ زینب آج ہی آنے کا بول دیں گی۔
"آج؟" نوال نے تھوڑی بے یقینی سے پوچھا۔
"اگر آج نہیں آ سکتے، تو ٹھیک ہے۔ میں ہفتے کے درمیان میں کسی دن آ جاؤں گی۔"
"نہیں نہیں! کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تم آج ہی آجاؤ۔"
زینب کی بات سن کر وہ فوراً بولیں۔ انہیں ڈر لگا کہیں زینب اس بات کا برا نہ مان لے۔
"آپ ایک دفعہ بھائی سے پوچھ لیں۔ کہیں انہیں میرے آنے پر کوئی مسئلہ نہ ہو۔"
"تمہارے بھائی کو بھلا تمہارے آنے سے کیوں مسئلہ ہوگا؟ تم کیسی فضول باتیں کرتی ہو۔" نوال کی بات نے زینب کو کہیں بہت دور پہنچا دیا۔
"میں شام سات بجے بچوں کے ساتھ گھر آجاؤں گی۔ میں امید کرتی ہوں سب کچھ اچھا ہوگا!" اتنا کہہ کر زینب نے کال کاٹ دی۔ وہ اس سے زیادہ بات نہیں کر سکتی تھیں۔
"ہم آج ماموں کے گھر جائیں گے؟" شایان نے حیرت سے پوچھا۔
" ہاں!" زینب نے بس یہی کہا اور کرسی پر سے کھڑی ہوگئیں۔ ان کے ذہن میں تکلیف دہ لہر اٹھی۔ دوسری طرف شایان کے سوالات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
"ماموں کے گھر جانے کی اتنی تیاری کرنی ہے! کیا میں آج آفس جاؤں؟ اتنے سارے کام آج کیسے ہو پائے گے۔۔۔" شایان کی چلتی زبان زینب نے بند کروائی۔
"بس خاموش!"
شایان زینب کی آواز سن کر واقعی میں خاموش ہو گیا۔
"اگر تم نے مزید کوئی سوال کیا، تو میں اشفاق بھائی کے گھر نہیں جاؤں گی۔ میں نے آج کی تاریخ تمہارے لیے ہی رکھی ہے۔ میں چاہتی ہوں جلد از جلد یہ رشتہ طے ہو اور میرا تم سے کیا وعدہ پورا ہوجائے۔"
وہ کچھ لمحے کے لیے رکیں اور خود کو پر سکون کیا۔
"نمرہ کو بتا دینا ہم سب نے آج بھائی کے گھر جانا ہے اور تم خود بھی تیار رہنا۔ میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں۔ مجھے کوئی تنگ نہ کرے۔"
یہ کہہ کر زینب رکی نہیں بلکہ کمرے میں چلی گئیں۔
****************************
اشفاق کے گھر میں دوپہر کے وقت کچن میں معمول سے زیادہ چہل پہل تھی۔ ایک دعوت کا انتظام جو انہیں آج کی تاریخ میں کرنا تھا۔ نوال نے زینب سے بات کرنے کے بعد، اشفاق کو بھی کال کرکے زینب کے آج شام گھر آنے کا بتا دیا تھا اور ساتھ میں جلدی آنے کی تاکید بھی کی تھی۔ وہ ابھی سالن کی بھنائی کر رہی تھیں۔ جائی یانہ چاول چھان رہی تھی۔ اس کا موڈ اب بہت حد تک بہتر تھا۔ وہ سر آفتاب کے خوف سے نکل آئی تھی۔
چاول چھاننے کے بعد انہیں بھگونا تھا، پھر جائی یانہ کوملازمہ کے ساتھ مل کر ڈرائنگ روم اور ڈائننگ ہال کی صفائی بھی کروانی تھی۔ اس کے بعد جاکر اس کے حصے کے کام ختم ہونے تھے۔
عزاہ فروٹ ٹرائفل بنانے کے لیے پھل کاٹ رہی تھی۔ اس کی طبیعت اور دل دونوں خراب تھے مگر وہ پھر بھی یہ سب کر رہی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کسی کو کسی قسم کا کوئی شک پڑے۔ اس کی سنہری آنکھیں بری طرح سوجی ہوئی تھیں۔ اس کو بخار بھی ہو رہا تھا مگر نوال کی مدد کرنے کے لیے وہ ہر وقت تیار رہتی تھی۔
"عزاہ تم فروٹ ٹرائفل بنا کر تھوڑا آرام کر لینا! " نوال نے عزاہ کی حالت دیکھ کر کہا۔
"ہمممم!" عزاہ نے ہنکارا بھرا۔
نوال نے دیگچی میں چمچہ ہلاتے ہوئے ایک نظر جائی یانہ کو دیکھا، جو برتن میں رکھے چاولوں کو چھاننے کی بجائے ان پر انگلی پھیر کر J بنا رہی تھی۔
"یہ تم کیا کر رہی ہو؟!"
نوال کی بات سن کر جائی یانہ ایک دم سیدھی ہوئی اور جلدی جلدی چاول چھاننے لگی۔
"آپ نے جو کام کہا ہے، وہی کر رہی ہوں!"
"یہ کام جلدی ختم کرو۔ ابھی صفائی بھی کرنی ہے۔"
"نسرین نے صبح صفائی کر تو دی تھی، اب دوبارہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟" جائی یانہ نے منہ بنا کر کہا۔
"تمہاری پھپھو رشتہ لے کر آ رہی ہے۔ کم از کم ڈرائنگ روم اور ڈائننگ ہال کی صفائی تو دوبارہ ہونی چاہیے۔ تمہاری پھپھو نے اگر تھوڑی سی بھی مٹی دیکھی، تو کیا سوچیں گی؟ رشتے کے دوران ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑا غور کیا جاتا ہے۔"
نوال کی باتیں سن کر جائی یانہ بے اختیار بولی۔
"پھر تو ہمیں یقیناً گھر تیزاب سے دھونے کی ضرورت ہے۔" نوال اس کی بات کا مطلب نہیں سمجھ پائی لیکن اس کا یوں کام چھوڑ کر بات کرنا سمجھ میں آگیا۔
"جائی یانہ میں کہہ رہی ہوں اپنی قینچی جیسی زبان کو منہ میں ڈال لو۔ ایسا نہ ہو میرے ہاتھ میں پکڑا چمچہ تمہارے سر پر لگ رہا ہو۔" نوال نے اونچی آواز میں کہا تو جائی یانہ منہ بنا کر کام کرنے لگ گئی۔
"یہ سہی ہے چھوٹی بیٹی کا تو کام ہی نظر میں نہیں آتا۔" جائی یانہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔ اس کے بعد سب خاموشی سے اپنا اپنا کام کرتے رہے۔
جب جائی یانہ نے چاول کو چھان کر بھگو دیے تو وہ باہر جانے لگی۔ نوال نے جائی یانہ کو روک کر کہا۔
"اپنی بڑی بہن کو کہہ دو اگر وہ اپنا منہ پھلا کر سمجھتی ہے کہ میں مان جاؤں گی، تو ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ اس سے کہو کہ خاموشی سے شام تک تیار ہو جائے، ورنہ میں خود اسے تیار کروں گی۔"
جائی یانہ ان کی بات سن کر رکی۔
"آپ میک اپ کریں گی؟" جائی یانہ نے تصدیق کے لیے پوچھا۔
"ہاں میں کر لوں گی!" نوال نے ایک عزم سے کہا۔
"نہ کریں اماں! پھپھو لوگ ڈر کر واپس چلے جائیں گے۔" جائی یانہ نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔ اماں نے ایک تیز نظر جائی یانہ پر ڈالی۔ جائی یانہ نے اپنی زبان کو اس وقت بند کرکے نکلنے پر عافیت سمجھی۔
****************************
عالیہ اپنے کمرے میں بند تھی۔ نوال نے صبح اسے پھپھو کے آنے اور آنے کا مقصد بتا دیا تھا۔
"اماں میں ابھی شادی۔۔۔۔۔۔" عالیہ نے کچھ کہنا چاہا لیکن اماں نے اس کی بات کاٹ دی۔
"میں تم سے پوچھ نہیں بلکہ بتا رہی ہوں!" نوال نے دو ٹوک انداز میں کہا اور کچھ سنے بنا کمرے سے باہر نکل گئیں۔ اب عالیہ اسی بات پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہی تھی۔ عالیہ اچھے سے جانتی تھی اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا لیکن کوشش کرنے میں کیا حرج تھی۔
وہ بیڈ پر اوندھے منہ گری پوئی تھی جب کسی نے دروازے کو زور سے پیٹا۔ عالیہ جانتی تھی ان کے گھر کی کونسی مخلوق اس طرح دروازہ کھٹکھٹاتی تھی۔ اس لیے اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری جانب موجود شخص کو اجازت کی ضرورت تھی بھی نہیں۔ وہ فوراً سے اندر آئی اور عالیہ کے پاس بیٹھ گئی۔
" اتنا تو لڑکیاں رخصتی کے وقت نہیں روتی جتنا آپ رشتہ آنے پر رو رہی ہیں۔" جائی یانہ نے شوخ لہجے میں کہا۔
"اپنی بکواس بند رکھو اور میرے کمرے سے نکلؤ۔" عالیہ بہت زور سے دھاڑی لیکن جائی یانہ کے کانوں میں جوں بھی نہیں رینگی۔ وہ ڈھٹائی سے بیٹھی رہی۔
"اماں نے مجھے بھیجا ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں اگر آپ یہ سوچ رہی ہیں کہ آپ کے منہ بنا کر بیٹھنے سے اماں مان جائیں گی تو یہ آپ کی بھول ہے۔ چاہے دن رات ایک ہو جائے، سورج مغرب سے نکل آئے، گرمی کے موسم میں برفباری ہو جائے، یہاں تک کہ اماں اپنی بیٹیوں کی قدر کرنے لگ جائے تب بھی اس رشتے سے انکار نہیں ہوگا۔" جائی یانہ نے مبالغہ آرائی سے کام لیا۔ عالیہ نے کچھ نہیں کہا وہ یونہی منہ چھپائے بیٹھی رہی۔
"آپ کیا سیریس والا احتجاج کر رہی ہیں؟" جائی یانہ نے جھک کر عالیہ کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی۔ عالیہ نے ابھی بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
جائی یانہ نے آرام سے بستر پر لیٹی عالیہ کو اس طرح موڑا کہ وہ اس کا چہرہ دیکھ سکے۔ عالیہ نے اس دوران کوئی مزاحمت نہیں کی۔ عالیہ کے چہرے پر خشک آنسوؤں کے نشان دیکھ کر جائی یانہ فکر مند ہوگئی۔
"آپ رو کیوں رہی ہیں؟ کیا آپ سچ میں خوش نہیں ہے؟ مجھے بتائیں۔ کیا پتہ میں آپ کی مدد کر سکوں۔" جائی یانہ نے ایک ہی سانس میں تین سوال کر ڈالے۔
عالیہ نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے۔ پھر اچانک اسے یاد آیا کہ اس کے سامنے جائی یانہ بیٹھی تھی۔ وہ اپنی بہنوں سے مسئلہ ڈسکس نہیں کرسکتی تھی۔ عالیہ کے نزدیک گھر والوں کو مسئلے کے بارے میں بتانا، مسئلے کو مزید بڑھانے کے مترادف تھا۔
"نہیں کچھ نہیں ہوا ہے۔" وہ آنکھوں میں موجود نمی کو رگڑتی اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنے کھلے بالوں کو جوڑے کی شکل میں لپیٹنے لگی۔
"آپ ایک دفعہ مجھے بتائیں تو سہی میں۔۔۔۔۔۔۔" جائی یانہ کی بات کو عالیہ نے کاٹا۔
"میں نے کہا نہ کچھ نہیں ہوا ہے۔" جائی یانہ کا چہرہ ہتک سے سرخ ہوگیا۔ الفاظ میں جان انسان کا لہجہ ڈالتا ہے، جسے دوسرا انسان بہت اچھے سے محسوس کرجاتا ہے۔ عالیہ کا لہجہ جائی یانہ کو ہتک آمیز لگا تھا۔ وہ ایک دم اٹھی اور جانے لگی۔ ابھی وہ دروازے سے چند قدم دور تھی جب اسے نوال کی ہدایت یاد آئی۔
"اماں نے کہا تھا کہ پھپھو شام سات بجے آئیں گی۔ تب تک آپ تیار ہو جائیے گا۔" یہ کہہ کر وہ چلی گئی۔ اس نے جاتے ہوئے دروازہ زور دار آواز میں بند کیا۔
اب کمرے میں بس عالیہ موجود تھی اور اس کا دکھ!
*****************************
زینب کالج کے میدان میں نازنین کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا۔ آنکھوں کے گرد حلقے واضح تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بہت دنوں سے ٹھیک سے سو نہیں پائی تھی۔
"مجھے سمجھ نہیں آ رہا اس لڑکے کا آخر مسئلہ کیا ہے۔" نازنین نے اس کی حالت دیکھ کر جھنجھلا کر کہا۔
زینب نے بہت دن اس پریشانی کو خود تک محدود رکھا تھا مگر آج اس سے برداشت نہیں ہو پایا اور اس نے یہ سب باتیں نازنین کو بتا دی۔
"میں خود بھی نہیں جانتی وہ مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ میری تو راتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ ہر وقت یہ سوچ کر ڈر لگا رہتا ہے اگر گھر میں کسی کو پتہ چل گیا تو کیا ہوگا؟"
"تم گھبراؤ نہیں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔" نازنین نے زینب کو تسلی دینا چاہی۔
"انشاء اللّٰہ!" زینب نے آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے یہ الفاظ ادا کیے۔
"میں اگر تمہاری جگہ ہوتی، تو اس کے منہ پر تھپڑ مار دیتی اور اتنا برا بھلا کہتی کہ آئیندہ کبھی میری طرف دیکھنے کی جرات نہ کرتا۔" نازنین نے بڑی دلیری سے کہا۔ دوسری طرف زینب نازنین کی شکل دیکھ کر رہ گئی۔ وہ اسے یہ نہیں بتا سکتی تھی کہ اگر نازنین اس کی جگہ ہوتی، تو وہ بھی یہ نڈر قدم نہیں اٹھا پاتی۔ گھر کے مرد، خود عورت کی شخصیت کو نکھارتے یا بگاڑتے ہیں اور زینب کے گھر کے مردوں نے اس کی شخصیت پر بزدلی کا عیب ڈال دیا تھا۔ تھوڑی دیر اس موضوع پر مزید بات کرنے کے بعد وہ دونوں اٹھ کر اپنی کلاس کی جانب چل دیے۔
****************************
زینب اپنے کمرے میں موجود تھی۔ کمرے میں چلتے اے سی کی خنکی محسوس کی جا سکتی تھی۔ فرش اتنا ٹھنڈا تھا کہ پاؤں زمین پر ٹکائے نہیں جا سکتے تھے مگر کمرے کی مالکن کو اتنی ٹھنڈ میں رہنے کی عادت تھی۔ کھڑکیوں پر پردے گرے ہوئے تھے۔ زیرو بلب کمرے میں چل رہا تھا۔ کمرہ مدھم سا روشن تھا۔ دیوار پر لگی گھڑی شام کے پونے سات بجنے کا عندیہ دے رہی تھی۔
سنگھار میز کے سامنے کھڑی وہ اس وقت ایک ہیولا لگ رہی تھیں۔ وہ آئینے میں اپنا عکس کو دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے بالوں کو دائیں کندھے پر ڈالا ہوا تھا۔ ان کے ہرے رنگ کی قمیض پر بڑی نفاست سے سنہری کام ہوا ہوا تھا۔ کانوں میں سنہری رنگ کے جھمکے تھے۔ میک اپ نے چہرے کو چمکایا ہوا تھا۔ ان کے بائیں کندھے پر نیٹ کا ڈوپٹہ تھا۔
زینب اپنے سراپے کو دیکھ رہی تھیں لیکن بار بار کچھ ایسے مناظر ان کے سامنے آ جاتے، جن کو دیکھ کر پرانے زخم دوبارہ ہرے ہو جاتے۔ ساری عمر محبت نہ ملنے کا دکھ، ماں باپ کے شفقت بھرے لمس سے محرومی، اپنوں کی بے رخی، غیروں کی منافقت۔۔۔ سب کچھ یاد تھا۔ یادیں عذاب ہوتی ہیں۔ حالات ٹھیک رہتے تو یقیناً وہ سب کچھ نہ ہوتا، جو ہوچکا تھا لیکن اب تو وہ ہوچکا تھا۔ گزرے ہوئے دن، جانے کب سالوں میں تبدیل ہوگئے اور زینب وہی کھڑی رہ گئی جہاں پہلے تھی۔
"زندگی میں کبھی نہیں سوچا تھا، کہ آپ سے کوئی دوسرا رشتہ بھی بناؤں گی۔" زینب ذہن میں اشفاق کو تصور کرکے ان سے بات کر رہی تھیں۔
"آپ نے ساری زندگی میرے ساتھ جو کیا، میرے پاس ان سب کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ میں آپ کی طرف کبھی مڑنا نہیں چاہتی تھی لیکن حالات میری سوچ کے مطابق کیسے ہو سکتے تھے؟" زینب کے چہرے پر زخمی سا تاثر تھا۔
"میرے بیٹے نے عرصہ پہلے مجھے اپنی پسند کا بتایا تھا۔ اسے عالیہ پسند تھی۔ اسے عالیہ چاہیے تھی۔ میں نے وعدہ کیا تھا میں اسے عالیہ دوں گی۔ عالیہ میرے شایان کی ہے۔" پھر کچھ سوچ کر زینب مسکرائیں۔
" آپ کبھی بھی یہ مت سوچیے گا میں عالیہ کو آپ سے بدلہ لینے کے لیے استعمال کروں گی۔ کسی بے گناہ کو سزا دینا آپ کا کام ہے، میرا نہیں! لیکن اپنے بیٹے کی خوشیوں کے راستے میں، میں آپ کو دیوار بھی نہیں بننے دوں گی۔ پہلے میں بس ایک بہن تھی، جس کے ساتھ آپ نے اپنا بے حس رویہ اختیار کیے رکھا لیکن اب میں ایک ماں ہوں اور ایک ماں اپنی اولاد کے لیے طوفان سے بھی ٹکرا سکتی ہے۔"
یہ کہنے کے بعد زینب بلا وجہ ہنس دی۔ یہ ہنسی ایک نارمل انسان کی ہنسی نہیں تھی۔ اس میں سالوں کا دکھ، اذیت اور تکلیف شامل تھی۔ اس میں ایک معصوم لڑکی کو نفسیاتی مسائل میں ڈالنے کا کرب بھی شامل تھا۔
ایسے میں کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی اور ایک مردانہ آواز کمرے کے اندر پہنچی۔
"ماما آپ تیار ہو گئی ہیں؟"
" ہاں میں بس تیار ہوں۔"اپنے لہجے کو نارمل بنا کر زینب نے جواب دیا۔ ایک دفعہ پھر آنکھوں کے سامنے ایک منظر چھایا جس نے سیاہ آنکھوں میں کرب ڈال دیا۔ زینب نے اسی حالت میں سنگھار میزپر رکھا گلدان پھینک دیا۔ گلدان ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگیا۔
زینب نے ان ٹکڑوں کو دیکھا اور پھر ان ہی ٹکڑوں میں سے ایک پر پاؤں رکھ دیا۔ ان کے سفید پاؤں سنہری سینڈل میں مقید تھے۔ اس لیے کانچ ان کے پاؤں کو نہیں چبھا۔ زینب کانچ کے ٹکڑے کو مسلنے لگی۔ جب کانچ مکمل طور پر ایک پاؤڈر کی شکل میں آگیا، تو زینب نے اپنا پاؤں ہٹا دیا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
********************************
اشفاق کے گھر میں دعوت کے انتظامات تقریباً مکمل ہوگئے تھے۔ گھر کا نچلا حصہ چمک رہا تھا۔ کھانا بھی تیار ہوگیا تھا۔ اب بس چائے کے ساتھ کچھ بیکری کا سامان چاہیے تھا، جو عیسیٰ لینے گیا تھا۔
عزاہ کا بخار تیز ہوگیا تھا۔ اس لیے وہ اپنے کمرے میں آرام کرنے چلی گئی تھی۔ ویسے بھی سارے کام ختم ہوگئے تھے۔ عالیہ ابھی تک کمرے میں بند تھی۔
ایسے میں جائی یانہ کے کمرے کے اندر جھانکو تو جائی یانہ اپنے کندھوں تک آتے بالوں کی پونی بنا رہی تھی۔ اس نے اپنی پونی بنائی اور ایک نظر اپنا چہرہ دیکھا۔ چہرے پر کسی قسم کا کوئی میک اپ نہیں چاہیے تھا۔ اسے عام روٹین میں میک اپ کرنا زہر لگتا تھا۔ اس نے جامنی رنگ کی فراک پہنی ہوئی تھی۔ اپنے اوپر تنقیدی نگاہ ڈال لینے کے بعد وہ نیچے چلی گئی۔ سات بج چکے تھے۔ اب پھپھو بس راستے میں ہونگی۔ وہ زینے اتر رہی تھی جب گھر کا بیرونی دروازہ کھلا اور عیسیٰ گھر میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں سامان تھا۔ جائی یانہ کو کھڑا دیکھ کر عیسیٰ نے سامان اس کی جانب بڑھایا۔ اس نے سامان پکڑ لیا۔
"آپ کا شکریہ!" جائی یانہ نے سنجیدہ لہجے میں شکریہ ادا کر دیا۔ وہ ابھی تک عیسیٰ کی باتیں نہیں بھولی تھی۔
"کوئی بات نہیں!" عیسیٰ نے مسکراتے ہوئے ہاتھ جھلایا۔
جائی یانہ کچھ بھی کہے بغیر کچن میں چلی گئی۔ وہاں نوال کرسی پر بیٹھی پریشان دکھائی دیتی تھیں۔ جائی یانہ نے ان کو دیکھا اور سامان میز پر رکھ دیا۔
"کیا ہوا اماں؟" جائی یانہ جانتی تھی وہ کس وجہ سے پریشان تھی، پھر بھی پوچھا۔
"عالیہ ابھی تک تیار نہیں ہوئی۔" نوال میز کو دیکھتے ہوئے بولیں۔ پھر انہوں نے چہرہ اٹھا کر جائی یانہ کو دیکھا۔
"تم ایک دفعہ اس سے بات کرو۔" جائی یانہ نے گہری سانس خارج کی اور بیٹھ گئی۔
"آپی میری کوئی بات نہیں سنیں گی۔ آپ خود ان سے بات کرلیں۔"
"مجھے ڈر ہے کہیں وہ تمہارے بابا یا مہمانوں کے آگے تماشہ نہ لگا دے۔" نوال نے اپنا خدشہ پیش کیا۔
"آپ فکر نہ کریں۔ دیکھ لیجیے گا پھپھو اور شایان بھائی جب آئیں گے تو آپی خود ہی تیار ہو کر آجائیں گی۔ آپی بابا کی موجودگی میں وہ کوئی تماشہ نہیں لگائیں گی۔"
"بس ہم تو امید ہی کر سکتے ہیں۔" اماں نے جائی یانہ کی بات پر بس یہی کہا۔ پھر ایک دم انہیں عزاہ کا خیال آیا۔
"عزاہ کی طبیعت کچھ ٹھیک ہوئی؟" نوال کے کہنے پر جائی یانہ نے سر نفی میں ہلایا۔
"بجو کو تیز بخار ہو رہا تھا۔ وہ ٹیبلیٹ لے کر سو گئی ہیں۔ سونے سے پہلے انہوں نے کہا تھا مجھے کوئی نہ اٹھائے۔"
"ہممم! بیچاری کب سے میرے ساتھ کام کروا رہی ہے۔ اب اسے آرام ہی کرنا چاہیے۔" نوال نے متفکر لہجے میں کہا۔ پھر اس پر حکم صادر کیا۔
" اب تم نے میری مدد کروانی ہے۔ مہمانوں کے آگے تم کھانا پیش کرو گی۔"
"کیا؟" جائی یانہ نے آنکھیں پھاڑ کر ماں کو دیکھا۔
"ہاں اور کان کھول کر سن لو۔ ذرا سی بھی گڑ بڑ نہیں ہونی چاہیے۔"
"عالیہ آپی سے کہہ دیں۔ کب سے منہ پھلا کر کمرے میں بیٹھی ہیں۔ آپ نے سارا کام ہم لوگوں سے کروایا ہے۔ اس سے تو اچھا تھا میرا رشتہ آ جاتا کہیں سے!" آخری بات جائی یانہ نے بس سوچی تھی کہی نہیں۔ وہ جانتی تھی یہ کہنے پر ماں کی چپل کا نشانہ اس کے منہ پر بنتا۔
اتنے میں گھر کے باہر ہارن بجا۔ نوال فوراً کھڑی ہوئیں اور جائی یانہ کو اوپر جانے کا کہا۔
"عالیہ سے کہو فوراً تیار ہو جائے، ورنہ میں اب کسی بات کا لحاظ نہیں کروں گی۔"
*****************************
کچھ لمحات بعد اشفاق کے ڈرائنگ روم میں جھانکو تو وہاں محفل جمی ہوئی تھی۔ زینب، شایان اور نمرہ ایک ساتھ صوفے پر براجمان تھے۔ ان کا صوفہ درمیان میں تھا۔ ان کے دائیں جانب والے صوفے پر نوال ور اشفاق بیٹھے تھے جبکہ بائیں جانب دو سنگل صوفے تھے، جن میں سے ایک پر عیسیٰ بیٹھا ہوا تھا جبکہ دوسرے پر جائی یانہ۔ ان سب صوفوں کے بلکل درمیان میں میز تھی، جس پر سموسے، چپس، نمکو اور دیگر لوازمات پڑے تھے۔
جائی یانہ عالیہ کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا کر پھپھو کے آنے کی اطلاع دے آئی تھی مگر اندر سے کوئی آواز نہیں آئی۔ ابھی زینب کام کی بات پر نہیں آئی تھیں بلکہ سب ابھی اِدھر اُدھر کی باتوں میں لگے ہوئے تھے۔
نوال بات کرنے کے دوران بار بار آنکھوں کے اشاروں سے جائی یانہ کو عالیہ کے پاس جانے کا کہہ رہی تھیں لیکن وہ ان کے اشاروں کو نظر انداز کرتی رہی۔ کچھ دیر بعد جب ملازمہ چائے کی ٹرے لے کر کمرے میں آئی، تو زینب مدعے پر آئیں۔۔
" بھائی! بھابھی نے تو آپ کو بتایا تو ہوگا کہ میں آج یہاں کیوں آئی ہوں۔"
"نوال نے تو بتا دیا ہے لیکن میں چاہتا ہوں تم خود مجھ سے بات کرو۔" اشفاق کی بات سن کر شایان نے پہلو بدلا۔ اسے اشفاق کے لہجے سے ڈر لگ رہا تھا لیکن زینب بالکل آرام سے بیٹھی تھیں۔ انہیں اپنے بھائی سے اسی بات کی امید تھی۔
"میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنی بیٹی عالیہ کی بات میرے بیٹے سے طے کر دیں۔" اشفاق زینب کو دیکھتے ہوئے سیدھے بیٹھ گئے۔ زینب بھی ان کی جانب متوجہ تھیں۔
"تم بتاؤ آخر میں اپنی بیٹی کی شادی تمہارے بیٹے سے ہی کیوں کروں؟" اشفاق کی بات سن کر زینب کے سوائے سب نے پہلو بدلا۔ ماحول میں تناؤ کا جھونکا گزرا تھا جسے ان دونوں بہن بھائی کے سوا سب نے محسوس کیا۔
"تو آپ شادی نہ کریں۔" زینب کی بات سن کر ساتھ بیٹھے شایان نے حیرت سے ماں کے چہرے کو دیکھا۔ اس نے زینب کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ لی تھی مگر اس کی وجہ نہیں جان پایا۔
"ویسے بھی رشتہ لانے میں پہل آپ لوگوں نے کی تھی۔ آپ لوگوں نے خود پیغام بھجوایا تھا "
"کیا مطلب؟" اشفاق نے ناسمجھی سے زینب کو دیکھا۔
"کیا آپ کو نہیں پتہ نوال بھابھی خود رشتہ لے کر میرے پاس آئی تھیں۔"
زینب کی بات سن کر اس دفعہ اشفاق نے حیرانگی سے اپنی بیگم کو دیکھا۔ ان کے چہرے کا رنگ اتر چکا تھا۔ انہوں نے نظریں چرائیں۔ اشفاق کو اپنا جواب مل گیا۔ شایان، نمرہ، عیسیٰ اور جائی یانہ ہونقوں کی طرح ڈرائنگ روم میں موجود اپنے تینوں بڑوں کو دیکھ رہے تھے۔ اب ماحول مکمل طور پر تناؤ کا شکار ہوچکا تھا۔
جائی یانہ دور سے بیٹھی اشفاق کے سختی سے بھنچے لب دیکھ چکی تھی۔
"بھابھی کل میرے پاس خود آئی تھیں اور انہوں نے خود مجھ سے شایان اور عالیہ کے رشتے کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ بھی راضی ہیں لیکن شاید بھابھی نے آپ کو بتانا ہی مناسب نہیں سمجھا۔"
زینب نے لوہا گرم دیکھ کر ضرب ماری۔ وہ کمال مہارت سے بات کو اپنی مرضی کا رنگ دے رہی تھیں۔ حالانکہ نوال نے صاف الفاظ میں زینب کو بتایا تھا کہ انہوں نے اشفاق کو یہ بات نہیں بتائی تھی اور تاکید بھی کی تھی کہ اس بات کا ذکر اشفاق کے سامنے مت کرنا لیکن اس وقت معاملہ اولاد کا تھا۔
"گھر میں سب سے زیادہ اہمیت گھر کے سربراہ کی ہوتی ہے اور آپ اس گھر کے سربراہ ہیں۔ سربراہ کے حکم کے بغیر تو گھر کے باقی افراد کوئی کام نہیں کرتے، لیکن آپ کو دیکھ کر تو ایسا لگ رہا ہے کہ آپ اپنے ہی گھر سے بے خبر ہیں۔"
"اپنی طرف سے غلط اندازے مت لگاؤ زینب! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ نوال سے میں نے خود کہا تھا کہ وہ تمہارے پاس عالیہ کا رشتہ لے کر جائے۔ شایان یتیم بچہ ہے اور اس کے بارے میں میں نے ہی سوچنا ہے۔ آخر کو میں اپنے خاندان کا بڑا ہوں۔ یہ سوال تو میں نے بس یہ جاننے کے لیے کیا تھا کہ تمہارا بیٹا، میری بیٹی کو کتنا خوش رکھے گا۔ تم پتہ نہیں بات کو کہاں سے کہاں لے گئی۔"
اشفاق نے اپنا بھرم قائم رکھنا چاہا۔ وہ اس وقت زینب کو جھڑک دینا چاہتے تھے مگر زینب کے ساتھ اب اس کا جوان بیٹا بیٹھا تھا۔ وہ کم از کم کوئی ایسی حرکت کرکے خود کو ذلیل نہیں کروانا چاہتے تھے۔
"اچھا! بہت اچھی بات ہے کہ میرے اندازے غلط ہیں۔ جہاں تک بات عالیہ کی خوشی کی ہے، تو یقین مانیں عالیہ کو میرے گھر میں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہو گی۔ ہم عالیہ کو ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھیں گے۔" زینب نے دل جلانے والی مسکراہٹ سے کہا۔ پھر بولیں۔
"آپ لوگوں کو تو رشتے سے کوئی انکار نہیں ہوگا کیونکہ رشتہ تو آپ لوگوں نے بھجوایا تھا۔ ہے نا؟" زینب نے رک کر اشفاق کا چہرہ دیکھا، جنہوں نے اپنے لب سختی سے بھینچے ہوئے تھے۔
"ہاں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔" اشفاق نے ضبط سے کہا۔
"تو ایسا کریں آپ عالیہ کو بلوا دیں۔ میں چاہتی ہوں میں آج ہی منگنی کی رسم کرلوں۔" ان کی بات سن کر کمرے میں بیٹھے تمام نفوس کو ایک دفعہ پھر جھٹکا لگا۔
"اتنی جلدی؟" اشفاق نے حیرت سے پوچھا۔
زینب نے سر کو خم دیا۔ " جب مجھے اور آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہے تو رسم کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ یاد ہے بھابھی! جب میری بات پکی ہوئی تھی تو لڑکے والوں نے بھی اسی وقت میری منگنی کردی تھی۔ مریم چچی نے تو انہیں منع نہیں کیا تھا بلکہ خوشی خوشی راضی ہوگئی تھیں۔"
زینب کی بات سن کر نوال نے اشفاق کی طرف دیکھ کر اجازت مانگی۔ اشفاق نے جواب میں رخ موڑ لیا جیسے کہہ رہے ہو۔ " ساری باتیں اپنی مرضی سے کرلی ہے، تو یہ بھی کرلیں۔"
انہوں نے پھر جائی یانہ کو دیکھا جو ان کے اشارے کی منتظر تھی۔
"جاؤ جائی یانہ! عالیہ کو لے کر آؤ۔" جائی یانہ اٹھ کھڑی ہوئی لیکن اسے یہ فکر بھی تھی کہ اگر عالیہ نے آنے سے انکار کردیا تو کیا ہوگا۔ بابا پہلے ہی اماں سے ناراض تھے، ایسا نہ ہو آپی کوئی بد مزگی کرکے بابا کو مزید غصہ دلا دیں۔
جائی یانہ جانے لگی تو نمرہ نے اسے روکا۔
"رکو جائی یانہ!" نمرہ اپنی جگہ کھڑی ہوگئی۔"میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں۔"
یہ کہہ کر وہ جائی یانہ کے ساتھ چل دی۔
******************************
جائی یانہ اور نمرہ عالیہ کے کمرے کے باہر کھڑی تھیں۔ جائی یانہ نے سامنے موجود بند دروازے کو کھٹکھٹایا لیکن اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔ جائی یانہ نے نمرہ کو دیکھا جس کی نظریں جائی یانہ پر ہی مرکوز تھیں۔
جائی یانہ کو اب موقع کی نزاکت معلوم ہوئی تھی۔ نمرہ عالیہ کی ہونے والی نند تھی۔ اس کے سامنے عالیہ کا ایسا ردعمل اچھا نہیں تھا۔
جائی یانہ نے دل ہی دل میں دعائیں مانگتے ہوئے دوبارہ دروازہ کھٹکھٹایا۔ جائی یانہ کے پاس کھڑی نمرہ نے اندر موجود عالیہ کو آواز دی۔
"عالیہ دروازہ کھولو!"
جائی یانہ نے کمرے کے اندر سے قدموں کی آہٹ سنی۔ پھر یکدم دروازہ کھلا۔ جائی یانہ نے جب اندر موجود نفوس کو دیکھا تو حیران رہ گئی۔
سنہری آنکھوں والی لڑکی نے سرمئی رنگ کا جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا۔ جوڑا تھوڑا سا کامدار تھا لیکن موقع کے لحاظ سے اچھا لگ رہا تھا۔ کندھے پر گلابی رنگ کا نیٹ کا ڈوپٹہ تھا۔ بھورے رنگ کے بالوں کو سیدھی مانگ نکال کر کان سے پیچھے کیا ہوا تھا۔ بال پیچھے ہونے کی وجہ سے کانوں میں سفید رنگ کے ٹاپس مزید نمایاں ہو رہے تھے۔ ہلکا سا میک اَپ چہرے کو مزید چمکا رہا تھا۔ وہ نیچے جانے کے لیے تیار تھی۔ عالیہ جو عام سے حلیے میں بھی خوبصورت لگتی تھی، آج قیامت ڈھا رہی تھی۔
جائی یانہ کو بلکل بھی امید نہیں تھی کہ عالیہ اتنا تیار ہو جائے گی۔ اسے تو لگ رہا تھا کہ وہ کوئی سادہ سا سوٹ پہن کر پھپھو کے سامنے جائے گی، لیکن عالیہ کی تیاری کہیں سے نہیں بتا رہی تھی کہ وہ اس رشتے سے نا خوش ہے۔ نمرہ اور جائی یانہ اسے دیکھتی ہی رہتیں، اگر عالیہ خود ان دونوں کا تسلسل نہ توڑتی۔
" تم دونوں نے اگر میرا ایکسرے کر لیا ہو، تو اب مجھے گزرنے کا راستہ دو گے!"
عالیہ کی بات سن کر جائی یانہ اور نمرہ پیچھے ہٹیں۔ وہ ان دونوں کو پیچھے چھوڑتی آگے چل دی۔
****************************
عزاہ کی آنکھ کھلی تو چند پل کے لیے وہ وقت کا تعین نہیں کر پائی۔ اسے اپنا جسم بھٹی میں سلگتا محسوس ہوا۔ وہ اپنے بستر پر سے اٹھنے لگی تو اس کے جسم سے درد کی ٹیسیں اٹھی۔ اس نے ایک نظر اپنے کمرے کو غور سے دیکھا۔ اس کا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس نے پاس رکھے لیمپ کو جلایا تو کمرہ کچھ دیکھنے کے قابل ہوا۔ اس نے سر اٹھا کر دیوار پر لگی گھڑی پر دیکھا تو ابھی بس آٹھ بج رہے تھے۔ وہ پانچ بجے بستر پر لیٹی تھی۔ اسے سوتے ہوئے تین گھنٹے گزر چکے تھے۔
عزاہ کا حلق سوکھ کر کانٹا ہو رہا تھا۔ اس نے پاس رکھے جگ کو اٹھایا، تو وہ اسے بہت ہلکا لگا۔ اس نے جب غور کیا تو اس میں پانی ختم ہو چکا تھا۔ عزاہ کو بے اختیار جھنجھلاہٹ ہوئی۔
وہ اٹھ کر کچن سے پانی لینے کے لیے جانے لگی۔ پھر اسے یاد آیا آج پھپھو نے آنا تھا۔ اس نے ایک بار پھر گھڑی پر دیکھا۔ پھپھو یقیناً ابھی موجود ہونگی۔
عزاہ تذبذب کا شکار ہوئی کہ آب اسے جانا چاہیے یا نہیں۔ نیچے جانے پر اسے پھپھو اور شایان کا سامنا کرنا پڑے گا مگر اسے ناقابل برداشت پیاس لگ رہی تھی۔ اسے جانا ہی پڑے گا۔ عزاہ بستر پر سے اٹھی اور آئینے کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔ اپنا حلیہ کچھ سہی کیا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
****************************
عالیہ نے جب اپنا پہلا قدم ڈرائنگ روم میں رکھا، تو سب سے پہلی نظر شایان کی اس پر گئی۔ شایان ابھی اشفاق کو کاروبار کے سلسلے میں کچھ بتا رہا تھا جسے اشفاق انتہائی بے دلی سے سن رہے تھے۔ جیسے ہی اس کی نظر عالیہ کے وجود پر پڑی، وہ یکدم چپ ہوگیا۔ اسے یاد ہی نہیں رہا کہ وہ ابھی کیا بول رہا تھا۔ شایان کے لیے اب سب کچھ بے معنی ہوگیا تھا۔
ڈرائنگ روم میں موجود باقی نفوس نے جب شایان کی نظروں کا تعاقب کیا، تو ان کی نظریں بھی عالیہ کی طرف رکی۔ عالیہ بآعتماد انداز میں چلتی آ رہی تھی۔ اس کے کچھ پیچھے جائی یانہ اور نمرہ بھی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئیں۔ عالیہ میز کے بلکل آگے کھڑی ہوگئی اور پھپھو کو سلام کیا۔
"السلام علیکم، پھپھو!"
زینب اس کا سلام سن کر مسکرائیں اور جواب دیا۔
"وعلیکم السلام، بیٹا۔" پھر زینب بالکل درمیان میں بیٹھ گئی اور اسے اپنے پاس بیٹھنے کو کہا۔
"عالیہ، ادھر آکر بیٹھو۔"
عالیہ آرام سے ان کے پاس بیٹھ گئی۔ وہ تینوں صوفے پر کچھ اس طرح بیٹھے تھے کہ اب ایک طرف عالیہ تھی اور دوسری طرف شایان اور ان دونوں کے درمیان میں زینب۔۔۔
شایان ابھی تک مبہوت تھا۔ کیا اس نے کبھی عالیہ سے زیادہ خوبصورت انسان دنیا میں دیکھا تھا؟ شاید نہیں!
شایان کے لیے عالیہ سے نظریں ہٹانا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ اس کے بہت پاس بیٹھی تھی۔ صد شکر کہ درمیان میں زینب تھی ورنہ آج اس کی موت یقینی تھی۔ عالیہ شایان کی نظروں کا ارتکاز محسوس کر رہی تھی مگر اس نے نظر انداز کیا۔
ان دونوں کے خیالوں کو چھوڑ کر زینب کی طرف آؤ تو انہوں نے اپنے ہاتھ میں پہنی ایک انگوٹھی نکالی۔ ان کی نظر بے ساختہ شایان کے چہرے پر گئی جو زینب کو اپنی طرف دیکھتا پا کر مسکرایا۔ شایان کو مسکراتا دیکھ کر زینب بھی مسکرا دیں۔ انہوں نے اپنی انگوٹھی عالیہ کے بائیں ہاتھ کی انگلی میں پہنا دی۔
شایان کی آنکھیں زینب کے ہاتھ میں موجود عالیہ کے ہاتھ پر گئی۔ روئی جیسے سفید ہاتھوں پر ہلکے گلابی رنگ کی نیل پالش لگی ہوئی تھی۔ اس پر سنہری رنگ کی انگوٹھی مزید دمک رہی تھی۔ شایان کے ذہن میں یہ حسین خوبصورت ہاتھ ہمیشہ کے لیے حفظ ہوگئے۔ ان حسین ہاتھوں کے صدقے شایان اپنی جان بھی وار سکتا تھا۔
تبھی اسے محسوس ہوا کوئی اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا مگر کوئی اس کی جانب متوجہ نہیں تھا۔ شایان اسے اپنا وہم سمجھ کر دوبارہ اس لمحے کو کھل کر جینے لگا۔
زینب نے عالیہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
"اب سے تم میرے شایان کی امانت ہو۔ انشاء اللّٰہ ہم بہت جلد اپنی امانت کو یہاں سے لے جائیں گے۔"
آخری بات انہوں نے اشفاق اور نوال کو دیکھ کر کی تھی۔
نوال نے مسکرانے کی کوشش کی جبکہ اشفاق نے اس کی بھی زحمت نہیں کی۔
زینب کے چہرے کا رخ اب جائی یانہ کی جانب مڑا۔
"جاؤ جائی یانہ! میں جو مٹھائی لے کر آئی تھی، وہ لے کر آؤ۔ میں خود سب کا منہ میٹھا کرواؤں گی۔" جائی یانہ نے سر کو خم دیا اور اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔
کچھ دیر بعد جب وہ آئی تو اس کے ہاتھ میں پلیٹ تھی جس میں مختلف قسم کی مٹھائیاں رکھی ہوئی تھی۔ زینب نے مٹھائی کی پلیٹ لینے کے لیے ہاتھ بڑھائے تو جائی یانہ نے پلیٹ ان کے سامنے کر دی۔ جیسے ہی زینب نے پلیٹ تھامی، جائی یانہ نے اپنا گلاب جامن اٹھا لیا۔ جائی یانہ کی یہ حرکت دیکھ کر نوال کا خون کھول گیا۔
دوسری طرف زینب اس کی یہ حرکت دیکھ کر مسکرائیں۔
جائی یانہ ماں کی قہر آلود نظریں دیکھ چکی تھی مگر اب وہ بھی کیا کرتی۔ جائی یانہ کے لیے مٹھائی محبت تھی اور گلاب جامن عشق تھا۔ جب سے مٹھائی کی ٹوکری کچن میں رکھی گئی تھی، تب سے وہ کچن میں کسی نہ کسی بہانے سے جا کر گلاب جامن کھا رہی تھی۔ یہ اس کا پانچواں گلاب جامن تھا جسے وہ محبت پاش نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
جائی یانہ اور اس کے گلاب جامن کی عاشقی سے نظریں ہٹا کر زینب کی طرف آؤ تو انہوں نے عالیہ کا منہ میٹھا کروایا۔ عالیہ نے جیسے ہی مٹھائی کا ٹکڑا منہ میں لیا، تو اسے میٹھائی بڑی کڑوی لگی۔ اسے مٹھائی اتنی کڑوی لگی کہ اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔
پھر زینب نے میٹھائی کا ٹکڑا شایان کے منہ میں ڈالا۔ اسے مٹھائی ضرورت سے زیادہ میٹھی لگی لیکن مٹھاس کی زیادتی اسے بری نہیں، اچھی لگی۔ بہت زیادہ اچھی۔۔۔
اس کے بعد زینب، اشفاق کے پاس آئیں۔ اشفاق نے بیٹھے ہوئے اپنے سامنے کھڑی زینب کو دیکھا۔ ماہ و سال کا فرق درمیان سے ہٹ گیا۔ ان دونوں بہن بھائیوں کا تعلق ویسا ہی تھا جیسا بچپن میں تھا۔ ایک سرد جنگ جیسا!
"بیٹی کی منگنی مبارک ہو بھائی!" زینب نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا۔
" تم اپنے فیصلے پر بہت پچھتاؤ گی!"
اشفاق نے دبے دبے غصے میں زینب کو تنبیہہ کی۔ ان کی آواز اس قدر پست تھی کہ خود ان کے کانوں میں بھی نہیں پڑی تھی لیکن زینب کو وہ آواز کمرے میں گونجتی محسوس ہوئی۔ وہ اشفاق کی طرف دیکھتے ہوئے زخمی سا مسکرائیں۔
"انسان اگر خود کچھ غلط کرکے پچھتائے، تو اس کی سزا کچھ کم لگتی ہے لیکن اگر انسان کچھ کیے بنا سالوں سزا جھیلے تو ہر دن ایک صدی کے برابر لگتا ہے۔ آپ کے معاملے میں، میں اس دفعہ کچھ کرکے پچھتا لینا چاہتی ہوں!"
یہ کہہ کر اس نے مٹھائی والا ہاتھ آگے بڑھایا۔ ایک پل کو اشفاق کا دل چاہا کہ اپنے انتقام اور بھرم کو ایک طرف رکھ کر، زینب کو ابھی اسی وقت رشتے سے انکار کردیں مگر ان کی انا کو یہ سب کہاں گوارہ تھا۔ انہوں نے خاموشی سے میٹھائی منہ میں ڈالی اور نظریں پھیر لیں۔ زینب سر جھٹک کر نوال کی طرف بڑھیں۔ نوال نے بھی میٹھائی خاموشی سے کھا لی۔
عیسیٰ اور نمرہ کو بھی میٹھائی کھلا دی گئی۔ ڈرائنگ روم میں چونکہ بیٹھنے کی جگہ نہیں رہی تھی تو جائی یانہ نے نمرہ کو اپنی جگہ پر بٹھا دیا تھا اور خود نمرہ کے صوفے کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔
زینب کو اچانک عزاہ کا خیال آیا۔ وہ لوگ جب سے آئے تھے انہوں نے عزاہ کو نہیں دیکھا تھا۔
"بھابھی! عزاہ کہاں ہے؟ ہم جب سے آئے ہیں، وہ ایک دفعہ بھی دکھائی نہیں دی۔"
"عزاہ کو بہت تیز بخار ہو رہا تھا۔ وہ دوائی لے کر سو رہی ہے۔" نوال کی بات سن کر زینب نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔
"ہممم! موسم بھی آج کل خراب ہے۔" اس کے بعد وہ لوگ دوسری باتوں میں مشغول ہوگئے۔
***************************
کچھ دیر بعد شایان کے فون پر کال آئی۔ کال اٹینڈ کرنے کے لیے اس نے سب سے معزرت کی اور باہر لان میں چلا گیا۔ لان میں کھڑے ہوکر اس نے کال اٹینڈ کی لیکن سامنے سے کوئی جواب نہیں آیا۔ تقریباً تیس سیکنڈ تک دوسری طرف سے کوئی جواب نہ ملنے پر شایان نے کال کاٹ دی۔ وہ دوبارہ گھر میں داخل ہوا تو جائی یانہ اس کے پاس آئی اور دھیمی آواز میں بولی۔
"شایان بھائی آپ میرے ساتھ اوپر چلیں گے؟"
"کیوں؟" شایان کی ایک ابرو اوپر کو اٹھی۔
"میں آپ کو راستے میں سب بتا دوں گی مگر ابھی آپ خاموشی سے میرے پیچھے آئیں!" جائی یانہ نے عجلت میں کہا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ شایان کو کھینچ کر اوپر لے جائے۔
دوسری طرف شایان اس کی جلد بازی پر حیران ہوا۔ جائی یانہ اسے کچھ بھی کہنے کا موقع دیے بغیر اوپر چل دی۔ شایان نے بھی اس کی تقلید کی۔ جیسے ہی شایان نے آخری زینے پر قدم رکھا، جائی یانہ جو اس سے کچھ آگے تھی، رک گئی۔
پھر گردن کو قدرے جھکایا اور اپنا سیدھا ہاتھ منہ کے پاس لگا کر بڑے رازدارانہ انداز میں شایان کو اطلاع دی۔
"شایان بھائی! میں نے اور نمرہ آپی نے آپ کی اور عالیہ آپی کی ملاقات ارینج کی ہے۔"
"کیا؟؟" جائی یانہ نے شایان پر بم پھوڑا۔
"ہاں! اب آپ آرام سے عالیہ آپی کے کمرے میں جائیں. میں ادھر کھڑی نگرانی کر رہی ہوں اور پلیز تھوڑا جلدی آ جائیے گا۔" شایان جائی یانہ کو بس دیکھتا رہا۔ جائی یانہ اسے یوں دیکھتا پا کر تھوڑے تیز لہجے میں بولی۔
"اب آپ جائیں گے یا ابھی آپ نے بابا کے آنے کا انتظار کرنا ہے؟"
"اچھا اچھا جا رہا ہوں!" شایان نے ہاتھ اٹھا کر کہا اور آگے بڑھ گیا۔ وہ عالیہ کے کمرے کے سامنے کھڑا ہوگیا، جو آدھا کھلا ہوا تھا۔ وہ نروس ہوا۔ زندگی میں پہلی بار اس کے ساتھ کچھ ایسا ہو رہا تھا۔ ماشاءاللہ سے وہ ایک شریف انسان تھا۔ اس طرح اپنی منگیتر کے کمرے میں جانے میں اسے جھجھک محسوس ہو رہی تھی۔ جائی یانہ نے اسے عجیب مخمصے میں ڈال دیا تھا۔
اسے دروازے کے سامنے کھڑا دیکھ کر جائی یانہ اس کے پاس آئی اور پوچھا۔
"آپ اندر کیوں نہیں جا رہے؟"
"میں اس سے کیا بات کروں گا۔"
"یہ بھی اب میں آپ کو بتاؤں گی۔"
جائی یانہ نے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کیا۔
"رہنے دیں آپ سے نہیں ہوگا۔ جائیں آپ نیچے جاکر بڑوں کی باتوں مستفید ہوں اور ان کی دعائیں لیں۔"
یہ کہہ کر جائی یانہ جانے لگی۔ شایان نے اسے روکا۔
"اوکے میں جا رہا ہوں" جائی یانہ مڑی اور تھمبز اپ کیا۔
"بیسٹ آف لک!"
شایان نے دوبارہ کمرے کا دروازہ دیکھا۔ اس نے ہمت کرکے اسے کھول لیا۔
*****************************
شایان نے دروازہ کھولا اور اندر آیا۔ اس کے سامنے نمرہ کھڑی تھی۔ کمرے میں عالیہ موجود نہیں تھی۔ نمرہ کی دروازے کی جانب پشت تھی۔ وہ کسی سے کال پر بات کر رہی تھی اور باتوں میں اتنا مگن تھی کہ شایان کی موجودگی کو محسوس نہیں کر پائی۔
شایان نمرہ کو آواز دینے لگا تھا جب اس کے کانوں میں نمرہ کی آواز گونجی۔
" شاہنواز! آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں!" نمرہ بڑی بے تکلفی سے کھلکھلا کر ہنسی۔ شایان کا دماغ نمرہ کے منہ سے ایک مردانہ نام سن کر گھوم گیا۔ اس کی بہن ایک غیر آدمی سے یوں بے تکلفی سے بات کر رہی تھی۔ شایان کے اندر غیرت کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا۔
شایان چیل کی طرح نمرہ پر جھپٹا۔ اس نے نمرہ کی کلائی پکڑی اور اس کے ہاتھ سے فون کھینچا۔ کال کٹ چکی تھی۔
شایان نے ایک ہاتھ سے نمرہ کی کلائی کو پکڑے رکھا اور دوسرے ہاتھ کو چلاتے ہوئے نمرہ کے فون کی کال ہسٹری پر آیا۔ کچھ دیر پہلے ایک نمبر پر کال کی گئی تھی جس کو ریما کے نام سے محفوظ کیا گیا تھا۔
شایان کا شک یقین میں بدل گیا۔
"یہ کون شاہنواز ہے جس کا نام تم نے ریما کے نام سے محفوظ کیا ہوا ہے؟" شایان کی نمرہ کی کلائی پر گرفت مضبوط ہوگئی۔ نمرہ کے درد کی شدت سے آنسو نکل پڑے۔
"میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں۔ بتاؤ کون ہے شاہنواز؟" شایان کی قہر برساتی آنکھیں، نمرہ کے چہرے کا رنگ سفید کیے جا رہی تھی۔
"میں بتاتی ہوں، شاہنواز کون ہے؟"
زوردار آواز سے باتھ روم کا دروازہ کھلا اور عالیہ غصے سے باہر نکل کر ان دونوں کی طرف بڑھی۔ اس نے نمرہ کی کلائی کو شایان کے مضبوط ہاتھوں سے چھڑایا اور اسے اپنے پاس لگا لیا۔
"شاہنواز اور ریما ہمارے کلاس فیلوز ہیں۔ ریما اور شاہنواز کزنز ہیں۔ پچھلے سمیسٹر میں ان دونوں کی شادی ہوگئی تھی۔ ریما میری اور نمرہ کی دوست ہے۔ اس لیے ہماری اکثر شاہنواز سے بھی بات ہو جاتی ہے۔ شاہنواز اور ہمارا تعلق بالکل بہن بھائیوں جیسا ہے بالکل بہن بھائیوں جیسا!" عالیہ نے " بہن بھائیوں" پر زور دیا۔ "ابھی بھی ریما اور شاہنواز مجھے نمرہ کے فون سے منگنی کی مبارک باد دے رہے تھے۔ میں نے جب ان دونوں سے بات کرلی، تو نمرہ کو فون واپس پکڑا دیا اور واش روم چلی گئی۔ اس دوران شاہنواز اور ریما، نمرہ سے باتیں کرتے رہے۔ اب میں نہیں جانتی آپ نے ایسی کونسی بات سن لی ہے، جس سے آپ کی سو کالڈ غیرت جوش میں آ گئی۔ کچھ اور سننا چاہتے ہے آپ؟"
عالیہ نے نمرہ کی کلائی کو سہلاتے ہوئے پوچھا جو سرخ ہو رہی تھی۔ دوسری طرف شایان کا غصہ جھاگ کی مانند بیٹھ گیا۔ اس کو بے اختیار خفت محسوس ہوئی۔ اس نے جذبات میں آ کر پتہ نہیں کیا کر ڈالا تھا۔ شایان ایک لفظ بولے بغیر باہر چلا گیا۔
جائی یانہ نے جب شایان کو دیکھا تو شرارتی مسکراہٹ لیے اس کے پاس پہنچی مگر شایان کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ جائی یانہ کو سیکنڈ میں معلوم ہوگیا کہ اندر کوئی خوشگوار گفتگو نہیں ہوئی ہے۔
"کیا ہوا شایان بھائی؟" جائی یانہ نے اس سے پوچھا مگر شایان نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ تیزی سے سیڑھیوں کے زینے اترنے لگا۔ جائی یانہ اپنی جگہ کھڑی رہ گئی۔ آخر اندر ایسا کیا ہوا تھا کہ شایان بھائی ایسے چلے گئے۔ عالیہ آپی کا موڈ صبح سے خراب تھا۔ کہیں انہوں نے تو منگنی توڑنے کا تو نہیں کہہ دیا تھا۔ جائی یانہ یہ سوچ کر گھبرا گئی۔ وہ تو اس ملاقات کے حق میں بھی نہیں تھی۔ اسے تو نمرہ نے اکسایا تھا۔ اب اگر کچھ بھی غلط ہوا تو سب لوگ جائی یانہ کے پیچھے پڑ جائیں گے کیونکہ شایان کو عالیہ کے کمرے میں بھیجنے والی بھی تو وہی تھی۔
****************************
عزاہ اپنے کمرے میں موجود تھی۔ اس کا چہرہ بخار کی شدت سے لال ہو رہا تھا لیکن اسے ابھی اپنے بخار کی پروا نہیں تھی۔ ابھی اسے کچھ دیر پہلے دیکھا جانے والا منظر، اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔
وقت کو کچھ دیر کے لیے روک کر ہم اس منظر میں جاتے ہیں جب عزاہ پانی پینے کے لیے کچن میں گئی تھی۔ پانی پی لینے کے بعد وہ واپس اوپر جانے لگی تو اس کی نگاہیں ڈرائنگ روم میں جا ٹھہریں۔
عزاہ کو تجسس سا ہوا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ وہ سلام کرنے کے بہانے سے ڈرائنگ روم کی جانب بڑھی لیکن سامنے موجود منظر کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔
زینب عالیہ کی انگلی میں انگوٹھی پہنا رہی تھین۔ عزاہ کی نظریں انگوٹھی پر ٹک گئیں۔ وہ اس کی انگوٹھی تھی جو کسی اور کے ہاتھ میں پہنائی جا رہی تھی۔ عزاہ ہونقوں کی طرح یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ اس سے وہ چھینا جا رہا تھا جس کی اس نے ہمیشہ خواہش کی تھی۔ عزاہ کی نظریں شایان پر گئیں، تو اس کے اعصاب شل پڑنے لگے۔
شایان عالیہ کو دیکھ رہا تھا اور دیکھے جا رہا تھا۔ بہت غور اور توجہ سے!
اس کی نظروں میں جو تاثر تھا۔ عزاہ کو معلوم تھا، وہ کیا تھا۔ اس تاثر کو دنیا نے محبت کا نام دیا ہوا تھا۔ عزاہ نے بھی اسے محبت کا نام دے دیا۔
عزاہ نے صوفے پر بیٹھی سرمئی لباس پہنے سراپے پر نظر ڈالی۔ اسے اس نفوس کا نام ذہن پر ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملا تھا۔ ذہن اسے شایان کی محبت کا لقب دے رہا تھا۔ وہ بس ایک نظر عالیہ کو دیکھ پائی۔ شایان کو دیکھ لینے کے بعد اس کے لیے سب بے معنی تھا۔ اس کی نظروں نے دوبارہ شایان کے گرد طواف کیا۔
اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ عزاہ شایان کو، شایان عالیہ کو اور عالیہ ان سب سے بے پروا اپنی انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظروں کا تسلسل جانے کب تک قائم رہتا اگر شایان کو عزاہ کی نظریں محسوس نہ ہوتی۔
شایان نے جیسے ہی گردن گھمائی، وہ فوراً سے پیچھے ہوئی۔ پھپھو نے جائی یانہ کو مٹھائی لانے کا کہا۔ پھپھو کی بات سن کر عزاہ لاؤنج کی طرف بھاگ گئی۔
لاؤنج اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ کسی کو لائٹ چلانے کا خیال نہیں آیا تھا۔ عزاہ دروازے کے پیچھے چھپ گئی۔ عزاہ نے قدموں کی آہٹ سے جائی یانہ کو کچن کی طرف جاتے سنا۔ پھر کچھ دیر بعد جائی یانہ کو واپس ڈرائنگ روم کی جانب جاتے سنا۔ جائی یانہ کے قدموں کی آہٹ جب بلکل مدھم ہوگئی، تو عزاہ لاؤنج کے دروازے سے نکلی۔ پھر آہستہ آہستہ سیڑھیوں کی جانب جانے لگی۔
پھپھو شاید اب سب کو مٹھائی کھلا رہی تھیں۔ وہ آہستہ آہستہ زینوں پر چڑھ رہی تھی جب اچانک ڈرائنگ روم سے پھپھو کی آواز آئی۔ وہ اس کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔
ان لوگوں کو آئے پتہ نہیں کتنا وقت گزر چکا تھا مگر انہیں ابھی تک عزاہ یاد نہیں آئی تھی۔ پھپھو کے لیے وہ اتنی غیر اہم تھی کہ اتنی دیر بعد اس کے بارے میں پوچھا تھا اور وہ بھی سرسری سا۔
عزاہ کا دل مزید خراب ہوا۔ جن لوگوں کو وہ اپنا سب کچھ مانتی تھی، ان کے نزدیک اس کی ذرا سی بھی اہمیت نہیں تھی۔ عزاہ کے قدم کچھ اور آہستہ ہو گئے۔
منظر ابھر کر ڈوب گیا اور عزاہ واپس اپنے حال میں آگئی۔ اس کے پاس اس کے علاؤہ اور کوئی نہیں تھا کیونکہ ابھی سب عالیہ کی خوشیوں کا جشن منا رہے تھے اور اسے اپنے دکھوں کا ماتم تنہا منانا تھا۔
******************************
نو بجے کے قریب زینب اور اس کے بچے اپنے گھر کی جانب روانہ ہوگئے۔ ان کی گاڑی خاموشی سے واپسی کا سفر طے کر رہی تھی۔ شایان گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔ زینب فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھیں جبکہ نمرہ پیچھے بیٹھی ہوئی تھی۔ زینب کو ان دونوں کا اترا ہوا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔
"تم دونوں کے درمیان کوئی بات ہوئی ہے؟" زینب نے ان دونوں کا چہرہ غور سے دیکھا۔
"نہیں!" شایان نے نفی میں جواب دیا اور نمرہ نے جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ وہ کھڑکی سے باہر کی جانب دیکھتی رہی۔
"اگر کچھ نہیں ہوا، تو تم دونوں کے چہرے خوشی کے موقع پر اتنے اداس کیوں ہیں؟" زینب نے سیدھا اپنے مطلب کا سوال کیا۔
"آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔" شایان نے زبردستی مسکراہٹ سجائی۔
"جی آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اور انسان کو اپنی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ اکثر بھول جاتے ہے کہ اس کے سامنے کون ہے اور اس کا مقابل سے رشتہ کیا ہے۔" زینب نمرہ کی بات سمجھ نہیں پائی مگر شایان نے اس کے طنز کو بخوبی محسوس کرلیا۔
"تمہاری اس بات کا کیا مطلب ہے؟" زینب نے ناسمجھی سے پوچھا۔
"رہنے دیں۔" یہ کہہ کر نمرہ دوبارہ خاموش ہوگئی۔
" ایک تو یہ بچے ہر وقت منہ بنائے رکھتے ہیں۔" زینب منہ ہی منہ میں بڑبڑائیں۔
****************************
جائی یانہ مہمانوں کے جانے کے بعد کچن میں موجود بچے ہوئے مال غنیمت پر اپنا ہاتھ صاف کررہی تھی۔ وہ کچن میں رکھی کرسی پر بے دھم بیٹھی تھی۔ اس کا دوپٹہ دوسری کرسی پر لٹک رہا تھا۔
اس نے بریانی کی ٹرے اٹھا لی اور اس کے اوپر سالن ڈال کر چمچ کی مدد سے مکس کرتے ہوئے کھانے لگی۔ نوال اس وقت اشفاق کی ڈانٹ سن رہی تھیں جو کہ ایک آدھ گھنٹے سے پہلے ختم نہیں ہونی تھی۔ اس لیے وہ جنگلیوں کی طرح کھا رہی تھی۔ اگر نوال اسے یوں کھاتا دیکھ لیتیں، تو اسے شک نہیں بلکہ یقین تھا کہ وہ آج کی رات فٹ پاتھ پر گزارتی۔ اب وہ اپنی ماں کو کیسے سمجھائے، جو مزہ یوں کھانے میں ہے، وہ تمیز اور ادب سے کھانے میں کہاں؟
وہ ابھی بریانی کھا رہی تھی جب عیسیٰ کچن کے دروازے سے نمودار ہوا۔ جائی یانہ اس کو دیکھ کر ٹھٹھکی۔ یہی حالت عیسیٰ کی تھی۔ وہ پانی پینے کی غرض سے کچن میں آیا تھا مگر جائی یانہ کو یوں کھاتا دیکھ کر آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگا۔ جائی یانہ کے منہ پر چاول کے چند دانے اور چکنائی لگی ہوئی تھی اور باقی کا حلیہ بھی ابتر تھا۔
عیسیٰ نے سر جھٹکا اور فریج سے بوتل نکال کر پانی پینے لگا۔ جائی یانہ نے عیسیٰ کی پشت کو گھورا، پھر کندھے اچکا کر دوبارہ کھانے میں مشغول ہوگئی، جیسے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ہو کہ سامنے والا اس کے بارے میں کیا سوچ رہا تھا۔
عیسیٰ پانی پینے کے بعد جانے لگا، تو ایک نظر جائی یانہ کو دوبارہ دیکھا۔ وہ چاہنے کے باوجود جائی یانہ کو ٹوکنے سے خود کو روک نہ پایا۔
"تم کھانا پلیٹ میں نکال کر آرام سے کھا سکتی ہو!"
جائی یانہ نے سر ہلایا۔
"کھا تو سکتی ہوں لیکن کیا آپ بھول گئے ہیں، آپ نے خود ہمیں پینڈو کہا تھا اور پینڈو لوگ تو ایسے ہی کھاتے ہیں۔ آپ کو کوئی مسئلہ؟!"
جائی یانہ نے مزے سے کہا اور چاولوں سے بھرا ہوا چمچہ منہ میں ڈالا۔ یکدم بریانی میں لذت بڑھ گئی تھی۔ آہ اتنے دنوں بعد تو اسے بدلہ لینے کا موقع ملا تھا۔
دوسری طرف عیسیٰ کی حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ جائی یانہ کو عیسیٰ کی، اس کے گھر والوں کے متعلق رائے کا پتہ تھا۔ وہ اسے کچھ دیر تک دیکھتا رہا، پھر جانے کی غرض سے مڑا تو جائی یانہ کی آواز دوبارہ بلند ہوئی۔
"اب پلیز! ہانی خالہ سے اس بات کی شکایت نہ لگا دیجیے گا کہ ہم لوگ آپ کی جاسوسی کرتے ہیں۔ ہمیں ایسا کوئی شوق نہیں ہے۔ جب عیسیٰ صاحب آپ اپنی چائے منگوا کر ہانی خالہ سے بات کر رہے تھے، تو آپ کی آواز میرے کانوں میں پڑ گئی تھی۔"
عیسیٰ کا چہرہ مزید سفید ہوگیا۔ عیسیٰ ام ہانی کو اسی بات کی شکایت لگانے جا رہا تھا کہ ان کی بہن کی بیٹیاں اس کی جاسوسی کر رہی ہیں۔
"پلیز! آئیندہ کے بعد ذرا دھیمی آواز میں ہماری شکایت لگائیے گا۔ وہ کیا ہے کہ میری نظروں میں تو آپ گر چکے ہیں، ایسا نہ ہو کہ گھر کے کسی اور فرد کے سامنے آپ کا مقام گر جائے۔"
جائی یانہ نے اپنی بات کہہ دینے کے بعد بریانی کی ٹرے رکھی اور نان قورمہ کھانے لگی۔ عیسیٰ منٹ سے پہلے غائب ہوگیا تھا۔
****************************
"آپ نے مجھ سے اتنی بڑی بات کیوں چھپائی؟"
اشفاق کی دھاڑتی آواز پورے کمرے میں گونجی۔ نوال جو ان کے سامنے کھڑی تھی، کچھ پیچھے ہوئیں اور ایک نظر بند دروازے پر ڈالی۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں ان کی آوازیں کمرے سے باہر نہ جا رہی ہو۔
"میں تو بس اپنی بچی کے مستقبل۔۔۔۔" اشفاق نے نوال کی بات کاٹی۔
"جی جی کہہ دیں کہ آپ اپنی بچی کی خوشیوں کی بھیک مانگنے گئی تھیں۔" اشفاق کی بات سن کر نوال نے گردن جھکا دی۔
اشفاق کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔ انہیں کسی پل چین نہیں مل رہا تھا۔
"آپ کو پتہ ہے آپ نے مجھے آج کتنا زیادہ ذلیل کروایا ہے؟" اشفاق نے ملامتی انداز میں کہا۔ نوال نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اشفاق کو جواب چاہیے بھی نہیں تھا۔
"وہ اشفاق جس کی گردن کسی کے سامنے جھکی نہیں تھی، وہ آج ایک ایسی منحوس عورت کے سامنے جھکی جو اپنے آس پاس رہنے والے ہر شخص کو نگل جاتی ہے۔" اشفاق کا چہرہ ہتک سے لال ہو رہا تھا۔ وہ بنا پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہے تھے۔
نوال نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے لیکن کچھ کہہ نہ پائیں۔ وہ کیا کہہ سکتی تھیں۔ ان دونوں بہن بھائی کے درمیان یہ کشیدگی ہمیشہ سے تھی۔ نوال ان دونوں بہن بھائی کے درمیان میں کیوں بولتیں؟ اشفاق بیڈ پر بیٹھ گئے۔
"آپ نے بالکل بھی اچھا نہیں کیا!" اشفاق نے سختی سے گدے کو جکڑ دیا۔
"اگر آپ اس رشتے سے خوش نہیں تھے، تو انکار کر دیتے۔" نوال نے دھیمی آواز میں کہا۔
"میں انکار کر دیتا تاکہ وہ سمجھتی، آپ مجھ سے پوچھیں بغیر اتنے بڑے فیصلے کر لیتی ہیں۔ میری اوقات سب کے نزدیک دو کوڑی کی ہوجاتی۔" اشفاق نے غصے سے کہا۔ پھر وہ ایک دم رکے اور نوال کی طرف آنکھیں سکیڑ کر دیکھا۔
"اب آپ نے اسے یہ تو نہیں بتا دیا کہ آپ مجھ سے پوچھے بغیر اتنا بڑا قدم اٹھا رہی ہیں۔"
"نہیں، میں نے یہ بات نہیں بتائی تھی!"
نوال نے چہرے کو نارمل رکھنا چاہا مگر ان کا جسم پسینے سے بھیگنے لگا۔۔ اگر اشفاق کو سچ پتہ چل جاتا تو ان سے کوئی بعید نہیں تھی کہ وہ نوال کو اس عمر میں تین لفظ ادا کرکے گھر سے باہر نکال دیتے۔
"آپ سچ کہہ رہی ہیں؟" اشفاق نے ابھی بھی بڑے غور سے نوال کا جائزہ لیا۔
"ہاں میں سچ کہہ رہی ہوں!"
اشفاق کو اندر کہیں معلوم تھا کہ نوال جھوٹ بول رہی تھیں مگر انہوں نے درگزر کردیا۔ نوال اب ان کا اعتبار توڑ چکی تھیں۔ اب اگر وہ سچ بھی بول رہی تھیں، تو بھی انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ کچھ دیر اشفاق خاموش رہے، تو نوال نے ہمت کرکے خود سوال کیا۔
"اب آپ کیا کریں گے؟"
"کس بارے میں؟" اشفاق نے ابرو اچکا کر سوال کیا۔
"عالیہ اور شایان کے بارے میں؟" نوال کی بات سن کر اشفاق نے ایک گہری سانس خارج کی۔
"ان دونوں کی منگنی ہوگئی ہے اور آپ اچھے سے جانتی ہیں ہمارے ہاں منگنی کا ٹوٹنا کتنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔"
"تو آپ یہ رشتہ نہیں توڑیں گے؟"
"نہیں!" اشفاق نے سر نفی میں ہلایا۔ نوال کو ان کا جواب سن کر کچھ اطمینان ہوا۔ کم از کم یہ رشتہ کسی طرح بچ گیا تھا۔
*************
"تم صحیح کہتی تھی۔ تمہارا بھائی واقعی میں ایک شکی انسان ہے۔"
عالیہ کے ہاتھ میں فون تھا اور وہ کمرے کے چکر کاٹ رہی تھی۔ عالیہ اس وقت نمرہ سے بات کر رہی تھی۔ شایان کے عالیہ کے کمرے سے جانے کے بعد، نمرہ جب تک عالیہ کے پاس تھی، بس روتی رہی تھی۔ ان دونوں کی اس متعلق کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ نمرہ نے گھر پہنچنے کے بعد عالیہ کو کال کر دی۔
"تم میرے بھائی کے بارے میں اتنا برا مت سوچو۔ انہیں بس ایک غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں نے سوچا تھا تم دونوں ملو گے تو انڈرسٹینڈنگ ہو جائے گی، مگر یہاں تو۔۔۔" نمرہ نے کمزور لہجے میں شایان کی طرف داری کی۔ عالیہ نے آنکھیں گھمائیں۔
"تم ابھی بھی اپنے بھائی کی طرف داری کر رہی ہو؟ آج میں نے اپنی آنکھوں سے تمہارے بھائی کا رویہ دیکھ لیا ہے۔ پتہ نہیں اپنے گھر میں وہ تمہارے ساتھ کس طرح کا سلوک رکھتا ہوگا؟!" دوسری طرف سے کوئی جواب نہ پا کر عالیہ اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
" مجھے تمہاری بات ماننی ہی نہیں چاہیے تھی۔ تمہاری بات مان کر میں نے منگنی تو کر لی ہے لیکن شادی نہیں کروں گی۔ تمہارے ساتھ اس نے آج جو کیا ہے، وہ اب میرے فیصلے پر مہر لگا چکا ہے۔"
"شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ میں نے تمہیں ایک غلط مشورہ دیا تھا۔" نمرہ کے لہجے میں پچھتاوا صاف ظاہر تھا۔
(شام کے ساڑھے چھ ہونے میں بس دو تین منٹ رہ گئے تھے۔ عالیہ کب سے بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی تھی۔ اب بس پھپھو کے آنے میں آدھا گھنٹہ رہ گیا تھا۔ عالیہ نے فون اٹھایا اور اپنا بوجھ ہلکا کرنے کی نیت سے نمرہ کو کال کی۔
"کیسی ہو عالیہ؟" نمرہ کی بات سن کر عالیہ کا موڈ کچھ اور خراب ہوا۔
"زبردستی کے رشتے والوں کے آنے پر ایک لڑکی کیسی ہوتی ہے؟"
نمرہ اس کی بات سن کر خاموش ہو گئی۔ پھر ہمت جتا کر اس نے دوبارہ پوچھا۔
"تم تیار ہو گئی ہو؟"
"کس خوشی میں؟" عالیہ نے تلخ لہجے میں پوچھا۔ نمرہ کو اس کا لہجہ ناگوار گزرا۔
"تم آرام سے بھی تو بات کر سکتی ہو۔ اتنی روڈ کیوں ہو رہی ہو؟ تم تو مجھ سے اس طرح بات کر رہی ہو جیسے میں نے ماموں ممانی سے شایان بھائی کے پرپوزل کی بات کی تھی۔" نمرہ کی آواز میں غصہ پا کر عالیہ کا لہجہ تھوڑا دھیما ہوا۔ نمرہ کا غصہ بجا تھا۔ وہ واقعی میں نمرہ سے بدتمیزی سے بات کر رہی تھی۔
"اچھا سوری! پلیز اب تم مجھ سے ناراض نہ ہو۔ پہلے ہی میں اتنی پریشان ہوں اور تمہاری ناراضگی مجھے مزید پریشان کردے گی۔" عالیہ نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا، تو نمرہ کا غصہ بھی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
"ہمم چلو ان باتوں کو چھوڑو۔ یہ بتاؤ ممانی نے تمہارے انکار پر کیسا ری ایکشن دیا؟"
"انہوں نے کوئی ری ایکشن ہی نہیں دیا۔ انہیں لگ رہا ہے میں مذاق کر رہی ہوں۔ بس اماں کمرے میں آئیں، اپنا حکم صادر کیا اور میری بات سنے بغیر کمرے سے چلی گئیں۔" عالیہ نے منہ بسور کر کہا۔
"یعنی ممانی سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔" نمرہ نے سوچتے ہوئے کہا۔ "تمہیں میں ماموں سے بات کرنے کا مشورہ بھی نہیں دے سکتی ہوں۔ ماموں کا مزاج بہت تیز ہے۔"
"ہاں! اسی لیے میں بھی بابا سے بات کرنے سے ڈر رہی ہوں۔ بابا پتہ نہیں میری بات کا کیا مطلب لے لیں گے۔"
"اب نہ ماموں مانیں گے نہ ممانی۔۔۔ تو تم ایسا کرو ابھی کے لیے ان دونوں کو خوش کر دو!"
"کیا مطلب؟" عالیہ نے نا سمجھی سے پوچھا۔
"مطلب یہ کہ جب ہم لوگ تمہارے گھر آئیں، تو تم بغیر کسی چوں چرا کے خاموشی سے ہمارے سامنے آ جانا۔"
"تم پاگل ہوگئی ہوں یوں تو اماں بابا کو لگے گا کہ میں اس رشتے کے لیے راضی ہوں۔" عالیہ کی حیرت سے آنکھیں پھیل گئی تھیں۔
نمرہ نے اسے سمجھانا چاہا۔ " دیکھو سمجھنے کی کوشش کرو۔ ہم لوگ اب بس گھر سے نکلنے والے ہیں۔ اس وقت اگر تم انکار کرو گی، تو تمہاری کوئی نہیں سنے گا۔ ماموں ممانی کسی نہ کسی طرح تمہیں پریشرائز کرکے منا لیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمہارا ان دونوں کے سامنے امپریشن بھی خراب ہوگا۔ اس لیے مصلحت اسی میں ہے کہ تم خاموشی سے تیار ہو جاؤ اور ہم سے اچھے سے مل لینا۔ بعد میں تم ماموں سے سکون سے بات کر لینا۔ ویسے مجھے لگ رہا ہے کہ ماما شاید آج تمہاری اور شایان بھائی کی منگنی بھی کردیں۔"
"اب منگنی کہاں سے آگئی؟" عالیہ کو جھنجھلاہٹ ہوئی۔
"مجھے ماما کی باتوں اور ارادوں سے تو یہی لگ رہا ہے۔ بظاہر انہوں نے مجھ سے ایسی کوئی بات نہیں کی ہے لیکن مجھے میری چھٹی حس اشارے دے رہی ہے اور تم جانتی ہو میری چھٹی حس کبھی غلط نہیں ہوتی۔ اس لیے تم اپنے آپ کو منگنی کے لیے تیار رکھنا۔"
عالیہ نے نمرہ کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ خاموشی سے اپنا نچلا لب کاٹتی رہی۔ اسے خاموش دیکھ کر نمرہ دوبارہ بولی۔
"تمہاری اپنی مرضی ہے۔ میری باتوں پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔ میں تمہاری مخلص ہوں، اس لیے تمہیں مشورے دے رہی ہوں اور حالات تم مجھ سے بہتر جانتی ہو۔" یہ کہہ کر نمرہ نے کال کاٹ دی۔ عالیہ اس کی باتوں کو سوچتی رہی۔ اسے نمرہ کی باتوں میں دم لگا۔ وہ برے دل کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کے پاس تیار ہونے کے لیے کچھ وقت موجود تھا اور وہ اب کھل کر تیار ہونا چاہتی تھی۔)
حال میں واپس آؤ تو دونوں دوستیں پریشان تھیں۔ عالیہ کو اچانک ایک بات یاد آئی۔
"نمرہ، مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے!" عالیہ نے کچھ جھجکتے ہوئے بولا۔
"ہاں،بولو!"
"میں نے آریان کا نمبر ان بلاک کردیا ہے۔" عالیہ کی بات سن کر نمرہ کو یکدم کرنٹ لگا۔
"واقعی میں؟؟" نمرہ کو لگا اسے سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے۔
"ہاں!"
"تم نے آریان کو کال کی؟"
نمرہ کے پوچھنے پر عالیہ نے نفی میں سر ہلایا۔
"نہیں! ابھی کال نہیں کی۔"
"ابھی کال نہیں کرو گی، تو کب کرو گی؟ جب ماموں ممانی تمہاری شادی شایان بھائی سے کروا دیں گے۔" نمرہ کو اس پر غصہ آیا۔
"یار مجھے شرم آ رہی ہے۔ پچھلی ملاقات میں، میں نے اس کے ساتھ اچھی خاصی بدتمیزی کی تھی۔ اب بے شرموں کی طرح اس سے بات کرتے ہوئے عجیب لگے گا۔"
"اگر تم شرم کے چکر میں پڑو گی، تو اچھا بھلا موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔" نمرہ نے غصے میں کہا۔
"اب تم غصہ تو نہ کرو۔ تھوڑا سا انتظار کرو۔ میں دیکھتی ہوں کہ۔۔۔" نمرہ نے اس کی بات کو کاٹا۔
"تم وقت کو جان بوجھ کر ضائع کر رہی ہو۔ میں اچھے سے جانتی ہوں تم پچھلی ملاقات کے تاثر سے نہیں بلکہ کسی اور بات سے ڈر رہی ہو!"
"اچھا تو بتاؤ میں کس بات سے ڈر رہی ہو مجھے بھی تو پتا چلے آخر میرا ایسا کون سا ڈر ہے جو میرے بجائے نمرہ بی بی کو پتہ ہے۔" عالیہ نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
"تم آریان سے محبت کرتی ہو۔" عالیہ نمرہ کی بات سن کر ساکت رہ گئی۔ عالیہ کچھ بھی کہہ نہ پائی۔ اس بات کا تو اس نے خود سے بھی اعتراف نہیں کیا تھا اور نمرہ نے یہ بات اتنے آرام سے کہہ ڈالی تھی۔
"تم اس سے محبت کرتی ہو۔ میں جانتی ہوں۔ تم بھی جانتی ہو لیکن تم اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہو۔ تم اس حقیقت سے ڈرتی ہو مگر عالیہ آج اور ابھی، تمہیں اس بات کو قبول کرنا ہوگا کہ تم اس سے محبت کرتی ہو۔" نمرہ کے الفاظ میں سحر تھا اور عالیہ واقعی میں سحر زدہ ہوگئی تھی لیکن وہ کچھ کہہ نہ پائی۔
"عالیہ بولو! اپنے آپ کو باور کرواؤ کہ تم کس سے محبت کرتی ہو۔۔" نمرہ کی آواز میں جانے ایسا کیا تھا کہ عالیہ نے گھٹنے ٹیک دیے۔
"ہاں میں اس سے محبت کرتی ہوں۔" عالیہ نے ایک ہار مانے شخص کی طرح اقرار کیا۔
"جب اس سے محبت کرتی ہو تو ڈرتی کیوں ہو؟ جاؤ آج خدا نے تمہیں موقع دیا ہے۔ ابھی اس کا نمبر ڈائل کرو اور اسے ساری صورتحال بتاؤ۔ اسے یہ بھی بتا دینا کہ تم اس سے محبت کرتی ہو۔" نمرہ کی بات سن کر عالیہ نے کھوئے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
"اس وقت کال کرنا ضروری ہے؟ کل بھی تو کال کرسکتی ہوں؟"
"اظہار میں کبھی بھی دیر نہیں کرنی چاہیے۔ بعض اوقات بس ایک لمحہ کی سستی، صدیوں کا پچھتاوا بن جاتی ہے۔ میں کال رکھ رہی ہوں تم ابھی اسے کال کرو۔ میں نے جو کہا ہے اسے بتا دینا۔ ایک لمحے کی دیر نہیں ہونی چاہیے۔"
نمرہ نے یہ کہہ کر کال کاٹ دی۔ عالیہ نے بالکل میکانکی انداز میں نمرہ کی دی گئی ہدایات پر عمل کیا۔ اس نے نمبر ڈائل کرکے فون کانوں پر لگا لیا۔ بیل جانے کی آواز آ رہی تھی۔ اگلے ہی لمحے کال ریسیو کر لی گئی۔
"زہے نصیب! آج تو قسمت مجھ پر بہت مہربان ہے۔" آریان کی شوخ آواز، جب عالیہ کی سماعتوں میں گزری تو اسے یکدم ہوش آیا لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس کا دل چاہا وہ کال کاٹ دے مگر وہ ایسا نہیں کرپائی۔
عالیہ کو پتہ بھی نہیں چلا کہ کب آنسو اس کی آنکھوں میں بھرے اور ٹپک کر گالوں سے پھسلنے لگے۔
"ایک سیکنڈ آپ رو رہی ہیں؟" آریان نجانے کیسے جان گیا تھا۔ عالیہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اسے پتہ نہیں کون سی بات رلا رہی تھی۔ شایان کے ساتھ زبردستی منگنی ہوجانا، نمرہ کے دل کا حال جاننا، اس کی اپنی بے بسی یا آریان سے اپنی مدد کی بھیک مانگنا۔۔۔
"آپ رو کیوں رہی ہیں؟ مجھے بتائیں؟ آپ ٹھیک تو ہیں؟ آپ کچھ بول کیوں نہیں رہی ہیں؟" آریان کے لہجے میں حد درجہ فکر تھی۔
"میں۔۔میں نے تمہیں کچھ بتانا تھا!" عالیہ نے روتے روتے کہا۔
"جی بولیں۔ میں سن رہا ہوں۔" آریان کی بات سن کر اس نے بولنا شروع کیا۔
"میں۔۔میرے ماں باپ نے میرا رشتہ میرے کزن سے طے کر دیا ہے۔" عالیہ نے بہتے آنسوؤں کے ساتھ اپنی بات کو جاری رکھی۔
"میری آج اس کے ساتھ منگنی ہوگئی ہے لیکن میں اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی۔" عالیہ نے اسے ساری بات بتا دی۔
"کیوں؟" آریان نے پوچھا۔
"کیوںکہ میں اس سے محبت نہیں کرتی۔ میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں۔" عالیہ چند پل کے لیے رکی۔
"اور وہ تم ہو۔"
یہ سن کر دوسری جانب سناٹا چھا گیا جیسے۔
"ککک۔۔" آریان کی آواز ابھی ابھری ہی تھی کہ عالیہ نے کال کاٹ دی تھی۔
اس نے بہت بڑی بات کہہ دی تھی۔ اب اس سے آگے وہ کچھ نہیں سننا چاہتی تھی۔ شایان کی کال دوبارہ آنے لگی تو عالیہ نے اپنا موبائل کچھ دیر کے لیے بند کر دیا۔
*****************************
دروازے پر دستک ہوئی تو مریم، جو کپڑے دھو رہی تھیں، انہوں نے زینب کو آواز دی۔
"زینب ذرا دیکھو دروازے پر کون ہے؟"
زینب برتن دھو کر ابھی فارغ ہوئی تھی۔ چچی کی بات سن کر اس نے اونچی آواز میں "اچھا چچی!" کہا اور اپنے گیلے ہاتھ ڈوپٹے سے رگڑتی ہوئی دروازے پر پہنچی۔
اس نے دروازہ کھولا تو سامنے موجود شخص نے اسے شادی کی دعوت کا کارڈ دیا اور چلا گیا۔ زینب کارڈ لے کر اندر آئی اور مریم کو دے دیا۔ مریم نے کارڈ کھول کر دیکھا تو پتہ چلا خاندان میں ان کے دور کے رشتے دار کے گھر شادی تھی اور انہیں بمع اہل و عیال مدعو کیا تھا۔
"کس کی شادی کا کارڈ ہے امی؟" نوال نے چھت کی سیڑھیاں اترتے ہوئے پوچھا۔ اس کے ہاتھ میں پیلے رنگ کی بالٹی تھی۔ وہ اوپر چھت پر کپڑے سکھانے گئی تھی۔
"خاندان میں شادی ہے!"
"اچھا تو ہم جائیں گے؟" نوال نے سوال کیا تو مریم مصروف انداز میں بولی۔
"تمہارے ابو سے پوچھوں گی۔ اگر انہوں نے اجازت دی تو میرے ساتھ زینب اور ام ہانی جائیں گی۔ تم گھر پر رہو گی۔" کیوں میں کیوں جاؤں گی؟
"کیوں میں کیوں نہیں جاؤں گی؟"
زینب اور نوال ایک ساتھ بولیں۔ مریم کے کپڑے دھوتے ہاتھ رکے۔ انہوں اپنے سامنے کھڑی دونوں لڑکیوں کو گھورا۔
"تمہیں میں اس لیے اپنے ساتھ لے کر نہیں جاؤں گی کیونکہ اگر سب چلے گئے تو گھر کا خیال کون رکھے گا اور تمہیں میں اس لیے ساتھ لے کر جاؤں گی کیوںکہ پچھلی دفعہ جب نوال شادی میں میرے ساتھ گئی تھی، تو تم گھر پر رکی تھی۔ اب تم میرے ساتھ جاؤ گی۔" مریم نے پہلی بات نوال سے اور دوسری بات زینب سے کی تھی۔
"لیکن ام ہانی بھی تو پچھلی دفعہ گئی تھی۔" نوال کے منمنانے پر مریم نے جواب دیا۔
"تو کیا ہوا؟ وہ چھوٹی ہے اور تم جانتی ہو اسے شادیوں میں جانے کا کتنا شوق ہے۔ تم اگر گھر پر رک جاؤ گی تو قیامت نہیں آ جائے گی۔"
" یہ سہی ہے!" نوال بڑبڑاتے ہوئے دوبارہ دھلے ہوئے کپڑے بالٹی میں ڈالنے لگی تاکہ انہیں چھت پر سکھانے کے لیے لے جائے۔
"چچی اگر نوال کا دل چاہ رہا ہے، تو آپ اسے اپنے ساتھ لے جائیں۔ میرا تو ویسے بھی ایسے فنکشنر میں جانے کا دل نہیں کرتا ہے۔" زینب کو فیملی فنکشنز سخت برے لگتے تھے۔ اس لیے وہ جانا نہیں چاہتی تھی۔
"تمہارا جانے کا دل نہیں کرتا مگر پھر بھی تمہیں جانا پڑے گا۔ شادی میں ہم جب جائیں گے، تو میں کچھ بڑوں کو تمہارے رشتے کی بات کرنے کا کہوں گی۔ اب ویسے بھی تمہاری عمر اتنی ہوگئی ہے کہ تمہاری شادی کروا دی جائے۔" مریم کی بات سن کر زینب بے ساختہ بول پڑی۔
"اس لحاظ سے تو نوال اور ام ہانی کی شادی کی عمر بھی ہوچکی ہے۔ آخر کو یہ دونوں مجھ سے بڑی ہیں۔" زینب نے یہ بات بول تو دی تھی لیکن پھر پچھتائی، کیونکہ وہ جانتی تھی مریم اب طیش میں آ جائیں گی اور وہی ہوا۔
"نوال اور ام ہانی میری اپنی بیٹیاں ہیں۔ ان کی شادی کی مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔ ان کے سر پر باپ کا سایہ سلامت ہے۔ مجھے بس تمہاری فکر ہے کیونکہ تم میری بیٹی نہیں ہو۔"
مریم نے واضح طور پر یہ لکیر کھینچی ہوئی تھی۔ وہ اکثر ایسی باتیں کہہ جاتی تھیں، جن کا مطلب صاف ہوتا تھا کہ مریم کے لیے زینب کبھی بھی نوال اور ام ہانی کے برابر نہیں آ سکتی تھی۔ حالانکہ مریم نے کبھی اس کے ساتھ برا سلوک نہیں رکھا تھا اور نہ اس پر روایتی چچیوں کی طرح ظلم ڈھائیں تھے مگر پھر بھی وہ ہمیشہ اس کی خالہ اور چچی رہی تھیں۔ وہ اس کے لیے ماں نہیں بن پائی تھیں۔
"تم میرے ساتھ شادی پر چلو گی اور یہ طے ہو گیا ہے۔ اب مجھے مزید کوئی بحث نہیں کرنی ہے۔"
یہ کہہ کر وہ اپنا کام کرنے لگی اور زینب بھی کچن میں چلی گئی۔ اسے اب آج شام کھانا بنانا تھا۔ ایسی لڑائیاں دیسی فیملی میں ہونا روز کا کام ہے۔ اب وہ ان باتوں کو دل پر لینا یا رونا چھوڑ چکی تھی۔
*****************************
اشفاق کے گھر کی صبح آج حبس زدہ تھی۔ ہر ایک کے دل میں ہزاروں وسوسے اور اندیشے جنم لے رہے تھے۔ بظاہر ہر کوئی ہنسی خوشی ایک دوسرے سے بات کرتا دکھائی دیتا تھا لیکن اپنے بھید ایک دوسرے پر کھلنے سے سب گھبرا رہے تھے۔
ناشتہ کر لینے کے بعد جائی یانہ یونیورسٹی کے لیے نکل گئی۔ آج وہ وقت سے کچھ پہلے آگئی تھی. اس لیے یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس بہت کم دکھائی دے رہے تھے۔ کلاسز تقریباً ساری ہی خالی تھیں۔ جائی یانہ راہ داری میں چل رہی تھی تو اسے کسی کے بات کرنے آواز آئی۔ آوازیں بہت مبھم تھیں۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
جائی یانہ نے آواز کا تعاقب کیا تو اسے پتہ چلا کہ یہ آوازیں ایک بند کلاس میں سے آ رہی تھیں۔ اس نے بند دروازے پر کان لگایا۔ کلاس کے اندر سے سر آفتاب کی اور کسی لڑکی کی آواز آ رہی تھی۔ جائی یانہ نے دروازے کی لکیر سے اندر جھانکنے کی کوشش کی۔
کلاس کا منظر کچھ یوں تھا کہ سر آفتاب ایک کرسی پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹانگ، دوسری پر رکھی ہوئی تھی۔ ان کے سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی۔ جائی یانہ نے ذرا غور سے دیکھا تو وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ وہی کالی چادر والی لڑکی تھی، جو جائی یانہ کو یونیورسٹی کے پہلے دن ملی تھی۔ اس لڑکی نے ایک دفعہ اسے اپنا نام بھی بتایا تھا۔ جائی یانہ نے ذہن پر ذرا زور دیا تو اسے نام یاد آیا۔ نائلہ!!
ہاں! اس لڑکی نے جائی یانہ کو یہی نام بتایا تھا۔
نائلہ ابھی سر آفتاب کے سامنے بے بسی سے کھڑی تھی۔ سر آفتاب نائلہ کی بے بسی دیکھ کر محظوظ ہو رہے تھے۔
"میں نے تمہیں ایک کام دیا تھا نائلہ، لیکن افسوس تم وہ کام نہ کرپائی!"
سر آفتاب کی آواز سن کر جائی یانہ کے کان کھڑے ہوگئے۔ آخر انہوں نے ایسا کونسا کام نائلہ کے ذمے لگایا تھا جو وہ کر نہیں پائی۔
"میں یہ سب نہیں کر سکتی ہوں۔ میں کسی لڑکی کو دوستی کا جھانسا دے کر آپ کے پاس نہیں لا سکتی۔" نائلہ کی آواز رندھی ہوئی تھی۔
" اچھا تو نائلہ بی بی کو اچھائی کا شوق چڑھا ہے۔ بول تو ایسے رہی ہو جیسے خود بڑی پارسا ہو۔ زندگی میں کبھی گناہ ہی نہ کیا ہو۔ بی بی! تم جانتی ہو نا کہ تمہاری چند ویڈیوز میرے پاس امانت رکھی ہیں اور میرا جب دل چاہے گا، میں اس امانت میں خیانت کر دوں گا۔"
"پلیز ایسا نہ کریں۔ آپ کو خدا کا واسطہ ہے!" نائلہ کانپ اٹھی تھی۔ جائی یانہ کو لمحے میں معاملہ پتہ چل گیا۔
"میں ایسا بالکل نہیں کروں گا، اگر تم کچھ پیاری پیاری سی لڑکیوں کو اپنی سہیلیاں بنا لو اور انہیں میرے آفس کی راہ دکھا دو۔ اس کے بعد میں جانوں اور میرا کام جانے۔"
"میں ایسا نہیں کروں گی۔ اس کے علاؤہ آپ جو کہیں گے، میں کروں گی مگر کسی اور لڑکی کو اس اذیت میں نہیں ڈالوں گی، جس سے میں خود گزری ہوں۔ آپ کی دی گئی ذہنی اذیت کی وجہ سے میں اپنے سمیسٹر کے فائنل میں کچھ نہیں کر پائی اور فیل ہوگئی۔ جب میں نے دوسری یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے کا فیصلہ کیا تو آپ مجھے بلیک میل کیا کہ اگر میں اس یونیورسٹی سے گئی تو آپ میری ان ویڈیوز کو لیک کردیں گے، جو آپ نے بنائی ہے۔ آپ بتائیں میں نے کہاں پر آپ کا کہنا نہیں مانا۔ میں بس یہ نہیں کر سکتی۔ یہ میرے بس میں نہیں ہے۔"
نائلہ نے بات شروع آرام سے کی تھی مگر آہستہ آہستہ اس کا لہجہ تیز ہوتا چلا گیا تھا۔ اس کی باتیں سن کر سر آفتاب نے کرسی پر سے کھڑے ہوئے اور اسے بالوں پکڑا۔ جائی یانہ نے جب یہ سب دیکھا، تو اس نے اپنا ڈوپٹہ منہ پر رکھا اور بھاری آواز میں بولی۔
"سر!"
اس کی آواز کچھ حد تک مردانہ ہوگئی تھی۔ یہ کہنے کے بعد وہ فوراً پیچھے ہوگئی اور ساتھ رکھے بینچ کے نیچے چھپ گئی۔
سر آفتاب یہ آواز سن کر ایک دم سیدھے ہوئے اور کھڑکی کے باہر دیکھا۔ وہاں کوئی نہیں تھا لیکن اب یونیورسٹی کا وقت ہوچکا تھا۔ کسی اسٹوڈنٹ نے کہیں انہیں۔۔۔ اوہ نہیں!
وہ فوراً کلاس روم سے باہر نکل گئے۔ نائلہ نے ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھیں رگڑیں۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ جو اذیت وہ جھیل چکے ہیں، ان کی وجہ سے کسی اور کو بھی جھیلنی پڑے۔ نائلہ ان ہی لوگوں میں سے ایک تھی۔
*****************************
یونیورسٹی آج معمول کی طرح تھی۔ سب کچھ نارمل روٹین کے مطابق جا رہا تھا۔ بہت سے اسٹوڈنٹس ابھی کمرہ امتحان میں بیٹھے امتحان دے رہے تھے۔ اس لیے راہداریاں اور میدان ویران تھے۔ ایسے میں ایک پروفیسر کے آفس میں آؤ تو سر آفتاب بھی وہاں موجود تھے۔ وہ لوگ آپس میں گفتگو کر رہے تھے جب سر آفتاب کا موبائل تھرتھرایا۔ انہوں نے اپنے کوٹ میں سے فون نکالا تو ایک انجان نمبر سے میسج آیا ہوا تھا۔
"آپ کا شکار آپ کے آفس میں ہے۔"
سر آفتاب کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ رینگ گئی۔ ضرور یہ میسج نائلہ نے بھیجا ہوگا۔ سر آفتاب نے پروفیسر سے معذرت کی اور اپنے آفس میں جانے لگے۔
آفس پہنچ کر انہوں نے دروازہ کھولا تو ان کی کرسی پر ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ وہ جو کوئی بھی تھی، اس کے بال سنہرے تھے۔ سنہرے بالوں پر اپنے ہاتھوں کو کنگے کی مانند پھیر رہی تھی۔ لڑکی کی سر آفتاب کی جانب پشت تھی۔ اس لیے سر آفتاب اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائے۔
"تمہیں نائلہ نے بھیجا ہے نا؟" سر آفتاب نے دروازہ لاک کرتے ہوئے پوچھا۔ لڑکی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی مگر مڑی نہیں۔
"افسوس کہ تمہاری دوست نے تمہیں دغا دے کر میرے پاس بھیجا دیا۔" سر آفتاب کی آواز میں مصنوعی تاسف تھا۔
"آپ کا کیا مطلب ہے؟" لڑکی نے گھبراتے ہوئے کہا۔ اس نے چہرہ ابھی تک نہیں موڑا تھا۔
لڑکی کی گھبراہٹ دیکھ کر سر آفتاب محظوظ ہوئے۔ اس کے پاس ایک اچھا شکار بھیجا گیا تھا۔ ویل ڈن نائلہ!
"مطلب یہ کہ نائلہ میرے ارادوں سے واقف تھی لیکن پھر بھی اس نے تمہیں میرے پاس بھیجا ہے۔"
"کککک۔۔کیسے ارادے؟" لڑکی گھبراہٹ میں ہکلا گئی۔
"ایک آدمی اگر آفس کا دروازہ بند کرکے لڑکی کو اپنے ارادوں کی طرف اشارہ کر رہا ہو، تو وہ کیسا ارادہ ہوگا؟" آفتاب شیطان کا روپ دھار چکا تھا۔ وہ قدم قدم بڑھتا ہوا لڑکی کے قریب آ رہا تھا۔
"نائلہ نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟" لڑکی نے جیسے خود کلامی کی تھی۔ آفتاب اس کی بات سن کر ہنسنے لگا۔ شیطانی ہنسی!
"اس کی بھی غلطی نہیں تھی۔ میں نے اس کی ایسی ویڈیوز بنائی تھی، جو اگر لیک ہوگی تو اس کی بڑی بدنامی ہوگی لیکن تم فکر نہ کرو۔ تمہاری ویڈیو میں اچھی کوالٹی کی بناؤں گا۔" وہ اس کے بے حد قریب آگیا تھا۔ اب بس ایک قدم کی دوری رہ گئی تھی۔ اچانک لڑکی نے کرسی گھمائی اور سامنے آ کھڑی ہوئی۔ مقابل کو دیکھ کر سر آفتاب کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئی۔
******************************
"مس۔۔مس ۔۔۔صبا!"
سر آفتاب کی حالت کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کے مصداق تھی۔ انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اتنی دیر سے وائس پرنسپل (جو کہ پرنسپل کی چھوٹی بہن بھی تھی۔) سے مخاطب تھا۔
ابھی سر آفتاب اپنی صفائی میں کچھ کہتے، مس صبا نے سر آفتاب کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ دے مارا۔
"میرا نام بھی مت لینا غلیظ انسان! ورنہ میں تمہارا وہ حشر کروں گی کہ دنیا تم پر تھوکے گی بھی نہییں۔۔۔۔۔"
یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ کر آفس سے باہر نکلنے لگیں مگر سر آفتاب نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور اپنے سامنے کیا۔
"تم باہر نہیں جاؤ گی۔ اب میری بات سنو۔ اگر تم نے۔۔۔۔۔۔۔" سر آفتاب ابھی کوئی دھمکی دینے لگے تھے مگر اچانک کسی نے آفس کا دروازہ کھولا۔ دو بآوردی سیکورٹی گارڈ آفس میں آئیں اور آفتاب کو دبوچ لیا۔ آفتاب چند لمحے کے لیے سمجھنے سے قاصر ہوگیا کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ پھر جب اسے کچھ سمجھ آیا، تو اس نے مزاحمت کرنا چاہی لیکن بے سود۔۔۔ سیکیورٹی گارڈز کی گرفت ضرورت سے زیادہ مضبوط تھی۔
پھر آفس کے دروازے سے ایک چالیس سال کی عورت اندر داخل ہوئی۔ انہوں نے لال رنگ کی شلور قمیض پر کالے رنگ کا گاؤن پہنا ہوا تھا۔ گاؤن کے کناروں پر سنہری رنگ کی پٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ سر پر لال ڈوپٹہ ایک شان کے ساتھ اوڑھا ہوا تھا۔ عورت کی گردن اٹھی ہوئی تھی اور چال میں ایک وقار تھا۔ انہوں نے اردگرد نظریں دوڑائی۔ وہ قدم قدم چلتی سر آفتاب کے بلکل سامنے کھڑی ہوگئی۔ اس عورت کو دیکھ کر آفتاب کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔
"پرنسپل صائمہ صاحبہ دیکھیں یہ میرے ساتھ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ مس صبا کو کوئی غلط فہمی ہو۔۔۔۔۔۔" چٹاخ۔
پورے آفس میں تھپڑ کی آواز گونج اٹھی۔
تھپڑ اس قدر تیز تھا کہ آفتاب کی ناک سے خون نکلنے لگا۔
"اپنی بکواس بند رکھو۔ تم جیسے گھٹیا لوگوں کی وجہ سے لوگ اپنی بچیوں کو تعلیمی اداروں سے دور رکھتے ہیں۔ مس صبا کی کال سے، میں تمہاری ساری باتیں سن چکی ہوں۔ تمہیں میں نہ صرف فائر کروں گی بلکہ پولیس کے حوالے بھی کروں گی۔ پولیس ہی اب تم سے اسٹوڈنٹس کی ویڈیوز نکلوائے گی۔ "
پرنسپل صاحبہ کے خاموش ہوتے ہی مس صبا دوبارہ بولیں.
"اور تم کس بچی کا نام بار بار لے رہے تھے؟ مجھے تو بس شک تھا تم لڑکیوں کو حراس کرتے ہو لیکن یہ وہڈیو والی بات سن کر لگ رہا ہے پانی سر سے بہت اوپر گیا ہوا ہے۔ تم سے مزید بات تو پولیس کرے گی۔"
یہ کہہ کر مس صبا پیچھے ہوگئیں۔ پرنسپل نے آنکھوں کے اشارے سے گارڈز کو، آفتاب کو باہر نکالنے کا حکم دیا۔ گارڈز نے ان کی بات کو سمجھ کر سر کو خم دیا اور آفتاب کو گھسیٹتے ہوئے لے جانے لگے۔ آفتاب معافی مانگ رہا تھا، دہائیاں دے رہا تھا مگر پرنسپل کا چہرہ سپاٹ تھا۔ جب آفتاب کی آوازوں نے دم توڑ دیا تو پرنسپل صاحبہ، نے مس صبا کے سامنے رخ کیا۔
"صبا یہ کیا بچپنا تھا؟ میسج کرکے تم نے مجھے دھمکی کیوں دی کہ اگر میں نے تمہاری اور آفتاب کی باتیں سن لینے کے بعد، آفتاب کو پولیس کے حوالے نہیں کیا، تو تم یہ معاملہ میڈیا تک پہنچا دو گی۔ معلوم بھی ہے ہمارے ادارے کی کتنی بدنامی ہوتی۔ اب تم نے جو آفتاب کو پولیس اسٹیشن بھجوا کر میس کیا ہے، اس کی بھنک بھی میڈیا کو نہیں جانی چاہیے، ورنہ تو تم جانتی ہو کہ میں تمہارے ساتھ کس طرح پیش آؤں گی۔"
پرنسپل کے چہرے پر دبا دبا غصہ تھا۔
"اگر میں یہ دھمکی نہیں دیتی تو کیا تم آفتاب کو پولیس کے حوالے کرتی؟ وہ شخص ہماری اسٹوڈنٹس کی غلط ویڈیوز بنا رہا تھا۔ تمہیں ادارے کی ساکھ ۔۔" مس صبا کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھیں مگر پرنسپل نے ہاتھ اٹھا کر انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
"ایسے حالات میں عورت کو خاموش رہنا چاہیے۔ تم بھی تو ایسے حالات سے گزری تھی۔ تم نے بھی تو خاموشی سے وہ سب کچھ برداشت کیا تھا۔ پھر ان لڑکیوں کے لیے دلیری دکھا کر تمہیں کیا ملا؟" پرنسپل صاحبہ کے یہ الفاظ مس صبا کے دل میں کھب گئے۔
"میں خاموش نہیں ہوئی تھی، تم نے کروایا تھا!" مس صبا نے زخمی نظروں سے اپنے سامنے کھڑی عورت کو دیکھا۔
"میں نے سہی کیا تھا ورنہ آج تم یہاں نہ ہوتی! خیر مجھے اس بورنگ ٹاپک پر ابھی بات نہیں کرنی۔ بہتر ہوگا کہ تم آفتاب والے مسئلے کو جلد از جلد نپٹاؤ۔"
یہ کہہ کر وہ جانے لگیں۔ پھر ایک دفعہ پھر رک کر کہا۔
"میں دوبارہ کہہ رہی ہوں، میرے ادارے کا نام خراب نہ ہو۔"
یہ کہہ کر وہ سر آفتاب کے آفس سے نکل گئی۔ پیچھے کھڑی مس صبا نے ایک گہری سانس خارج کی اور اپنی تعلیم یافتہ بہن کی سوچ پر ماتم کیا۔
******************************
یونیورسٹی کے میدان میں آؤ تو وہاں پر عالیہ اور نمرہ بیٹھی ہوئی تھیں۔ نمرہ کے چہرے پر جوش تھا جبکہ عالیہ کے چہرے پر بارہ بج رہے تھے۔ عالیہ نمرہ کو آریان اور اپنی فون کال کے بارے میں بتا رہی تھی۔
"اچھا جب تم نے اس سے اقرار محبت کیا، تو اس کا کیا ری ایکشن تھا۔" نمرہ نے ساری بات سن لینے کے بعد سب سے پہلے یہ سوال کیا۔
"میں نے اتنا کہہ کر کال کاٹ دی۔ اب میں نہیں جانتی دوسری طرف اس کا کیا ری ایکشن تھا۔۔۔" عالیہ کی بات سن کر نمرہ اس کی شکل دیکھتی رہ گئی۔
"تم نے کال کیوں کاٹی؟"
"تمہاری باتوں میں آ کر میں نے پتہ نہیں بے شرموں کی طرح کیا کچھ کہہ دیا تھا۔ اپنی باتوں پر مجھے بہت شرمندگی ہوئی تھی۔ شرمندگی کی وجہ سے میں مزید بات ہی نہیں کر پائی۔"
"اس کے بعد آریان نے تمہیں کال یا میسج کیا؟"
" ہاں اس نے فوراً کال کی تھی مگر میں نے فون بند کر دیا۔"
"تمہیں اس کی بات سن لینی چاہیے تھی۔"
عالیہ کے موبائل پر میسج آیا۔ اس نے موبائل پکڑ کر نوٹیفکیشن دیکھا، تو کرنٹ کھا کر اٹھی۔
"نمرہ اس نے مجھے میسج بھیجا ہے۔"
"کس نے؟" نمرہ نے پوچھا۔
"آریان نے۔" یہ بات سن کر نمرہ فوراً سے اس کے پاس ہوئی اور میسج پڑھنے لگی۔
"ہیلو عالیہ! میں آپ سے آج ملنا چاہتا ہوں۔ آپ مجھے لوکیشن اور ملنے کا وقت سینڈ کریں۔ میں آجاؤں گا۔"
عالیہ کے میسج پڑھ کر ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
"نمرہ وہ تو اب ملنے کا کہہ رہا ہے۔ یار میں کیا کروں؟ اب کیا مجھے جانا پڑے گا؟"
"مجھے دکھاؤ فون!" یہ کہہ کر نمرہ نے عالیہ کے ہاتھوں سے فون چھینا اور اپنی گرفت میں لے لیا۔
"السلام علیکم آریان! آپ شام چار بجے فاطمہ جناح پارک میں موجود مک ڈولنڈز ریستوران آجائیے گا۔ ہم دونوں وہی بات کریں گے۔"
یہ لکھ کر نمرہ نے میسج سینڈ کر دیا۔ عالیہ نے میسج مکمل پڑھا، تو نمرہ کی شکل پر دیکھتی رہ گئی۔
"تم نے میری طرف سے اسے آنے کا کیسے کہہ دیا؟"
"میں تمہاری دوست جو ہوں۔" عالیہ نمرہ کو دیکھتی رہ گئی۔ نمرہ کے لہجے میں کیا بے نیازی تھی۔ واہ کیا بات ہے!
"تم یہ سب کیوں کر رہی ہو نمرہ؟" عالیہ جاننا چاہتی تھی آخر ایسی کیا بات تھی کہ نمرہ اس کی مدد کر رہی تھی۔ یہ جانتے بوجھتے کہ شایان عالیہ کو پسند کرتا ہے۔
"میں یہ سب ہماری دوستی کے لیے کر رہی ہوں۔ میں نہیں چاہتی تم کسی ان چاہے رشتے میں بندھ جاؤ۔ یہ سب میں شایان بھائی کے لیے بھی کر رہی ہوں، کیونکہ مجھے یہ بات پتہ ہے زبردستی کے رشتے کبھی بھی پائیدار نہیں ہوتے۔ ایسے رشتے خوشی کا نہیں، بلکہ دکھ کا باعث بنتے ہیں۔ میں نہیں چاہتی کہ شایان بھائی کی زندگی میں کچھ ایسا ہو۔ ہماری زندگی نارمل نہیں رہی ہے۔ ہم دونوں بہن بھائی نے ایک ایب نارمل بچپن گزارا ہیں۔ ماں باپ کی شفقت سے دور، بالکل تنہا۔ تم میرے بھائی کو اتنا برا سمجھتی ہو حالانکہ وہ اتنا برے نہیں ہے۔ بس اسے غصے کے مسائل ہیں، جس کا سبب ماضی کا وہ تلخ حادثہ ہے۔ میں نے جب تمہیں شایان بھائی کی پسند کا بتایا تھا تو تم نے مجھے بولا تھا کہ انسان کسی کے لیے نہیں بدلتا۔ مجھے تمہاری بات سہی لگی۔ بھائی واقعی میں اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ بھائی کی شادی اگر تمہارے ساتھ ہوئی، تو وہ تمہاری کہانی کے ہیرو بننے کی بجائے ولن بن جائیں گے، جو میں ہرگز نہیں چاہتی۔"
نمرہ کی سیاہ آنکھوں میں کرب اتر گیا۔ عالیہ نمرہ کو دیکھتی رہ گئی۔ عالیہ نے سوچا کیا ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں، جو اپنے دوستوں اور عزیزوں کے لیے اتنے فکر مند رہتے ہیں۔ اس کے دل سے دعا نکلی کہ خدا ہر لڑکی کو ایسی دوست دے ۔
"تم انسان ہو یا زمین پر اترا ایک فرشتہ؟" عالیہ محویت سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"باقیوں کے لیے تو پتہ نہیں، پر تمہارے لیے تو میں ایک شیطان ہوں!"
نمرہ اور عالیہ نے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا۔ پھر ہنس دیے۔ کوئی بھی انہیں اس وقت ساتھ میں دیکھتا، تو اس کے ذہن میں ایک پرفیکٹ فرینڈ شپ کا خاکہ بن جاتا۔
****************************
مس صبا اپنے آفس میں بیٹھی فائلز کی ورق گردانی کر رہی تھیں جب ان کے آفس کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔
انہوں نے بغیر دیکھے اجازت دی۔
"آ جائیں!"
آفس کا دروازہ کھلا اور سانولی لڑکی آفس کے اندر آگئی۔ مس صبا نے گردن نہیں اٹھائی۔ شاید وہ بھی اس لڑکی کی آمد کی توقع کر رہی تھیں۔
"وہ میم۔۔۔مجھے آپ کا شکریہ ادا کرنا تھا۔" لڑکی کی آواز سن کر انہوں نے مصروف انداز میں پوچھا۔
"کس بات کا شکریہ؟"
"وہ آپ نے سر آفتاب کے ساتھ جو کیا، اس کے لیے۔۔۔"
مس صبا نے فائل ایک طرف رکھی اور ریوالونگ چئیر پر بیٹھے ہوئے کچھ پیچھے کو ہوئیں۔ پھر بڑی فرصت سے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کا چہرہ دیکھنے لگیں۔
سانولی رنگت۔۔۔تیکھے نین نقش۔۔۔بھوری آنکھیں۔۔۔کندھوں تک آتے بال جن کو سر پر ڈوپٹہ سے چھپایا ہوا تھا۔
"بیٹھیں!" مس صبا نے ہاتھ کے اشارے سے لڑکی کو بیٹھنے کا کہا۔ لڑکی بھی چپ چاپ بیٹھ گئی۔
وقت کو ابھی روک کر اگر ہم پیچھے جائیں، تو ہم اس وقت میں پہنچیں گے جب جائی یانہ نے آفتاب اور نائلہ کی باتیں سن لی تھیں۔
*****************************
جائی یانہ بینچ میں سے نکل کر باہر جانے لگی تھیں۔ اسے سر آفتاب کا پیچھا کرنا تھا اور دیکھنا تھا کہ اب وہ کس کے پاس جائے گا۔ وہ بلی کی طرح آہستہ قدم لیتی جارہی تھی، جب کسی نفوس سے ٹکرائی۔ وہ گرتے گرتے بچی تھی۔ وہ اپنے سامنے موجود شخص کو کچھ اچھا خاصا سنانا چاہتی تھی جب اس کی نظر اس شخص کے چہرے پر گئی۔ یہ وہی شخص تھا جس کے بال گھنگھرالے تھے اور جس کو زید کے نام سے بلایا جاتا تھا۔ زید نے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ہوئے تھے اور کچھ خفا سی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
"صبح اس وقت یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس نہ ہونے کے برابر ہیں اور آپ کی اطلاع کے لیے بتا دوں کہ سر آفتاب بھی اس وقت یونیورسٹی میں موجود ہیں۔ آپ اس کی موجودگی میں یوں دندناتی ہوئی کیوں پھر رہی ہیں؟"
"میں تمہیں جواب دہ نہیں ہوں۔" ایک تو یہ شخص نجانے کس حیثیت سے اس سے سوالات پوچھتا رہتا تھا۔ جائی یانہ کو اس کی ایسی باتیں سن کر غصہ آیا کرتا تھا۔ آخر کو وہ بچی تھوڑی تھی کہ وہ ہر بات پر اس سے پوچھ گچھ کرتا رہے۔ زید نے سر جھٹکا اور سامنے سے ہٹنے لگا تھا جب جائی یانہ کو یاد آیا کہ اس نے زید کو کچھ بتانا ہے۔
"زید رکو! میرے پاس آفتاب کو مزا چکھانے کا ایک حل ہے۔"
زید رک گیا اور زید نے جائی یانہ کو حیرت سے دیکھا۔
" آپ سچ کہہ رہی ہیں؟"
جائی یانہ نے سر اثبات میں ہلایا۔ زید نے اس سے پوچھا۔
"بتائیں آپ نے کیا حل سوچا ہے؟"
جائی یانہ کے اندر جوش بڑھ گیا۔
"میں نے سوچا ہے کہ میں آفتاب کے آفس میں جاؤں گی اور اس کی بلیک میل کرتی باتوں کو ریکارڈ کرکے انٹرنیٹ میں ڈال دوں گی۔ اس طرح وہ بدنام ہو جائے گا، اور ہمارا کام بن جائے گا۔"
جائی یانہ کی بات سن کر زید کا دل چاہا تالیاں بجائے۔ آخر ایسے عقل سے خالی بہادر پلان جائی یانہ کے علاوہ کون بنا سکتا تھا۔
"آپ نے دو دن لگا کر یہ منصوبہ تشکیل کیا ہے؟"
"ہاں، کیوں کوئی مسئلہ ہے؟" جائی یانہ زید کے چہرے کے تاثرات پڑھ لیے تھے۔
"انتہائی فلاپ پلان ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ اپنی اور آفتاب کی ویڈیو بنائیں گی تو آپ کے جاننے والے آفتاب کی بجائے آپ کی کردار کشی کریں گے۔ آپ بدنام ہو جائیں گی اور اگر آفتاب نے پرنسپل میم کو اپنی صفائی دیتے ہوئے کوئی ایسا پوائنٹ دے دیا جسے پرنسپل میم نے سچ سمجھ لیا، تو آفتاب صاحب کی نوکری تو بچ جائے گی البتہ آپ کو یونیورسٹی سے سسپینڈ کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ آفتاب آپ کا جانی دشمن بن جائے گا۔ اگر ان مسائل کے علاؤہ باقی مسائل کو بھی میں نظر انداز کر دوں، تو پلان واقعی بہت اچھا ہے"
جائی یانہ کا چہرہ اتر گیا۔ اسے تو لگا تھا کہ یہ ایک بہترین پلان ہے۔
"آپ کوئی اچھا پلان لے کر آئیں گی، تو میں آپ کا ساتھ ضرور دوں گا لیکن ایسے لاجک لیس پلان میں، میں آپ کا ساتھ نہیں دوں گا۔"
یہ کہہ کر زید چلا گیا اور جائی یانہ اکیلی رہ گئی۔ اس نے دو دن مسلسل اس بارے میں سوچا تھا۔ اس کے بعد بھی یہ پلان زید نے سنتے ہی فلاپ قرار دے دیا۔ اس کو یہ باریکیاں پہلے دکھائی کیوں نہیں دی، جو زید نے سنتے ہی دیکھ لی تھیں۔ اس کے پاس تو اب کچھ بھی نہیں رہا تھا۔ اس میں واقعی میں عقل کی کمی تھی۔
جائی یانہ مایوس ہوچکی تھی اور مایوسی کی حالت میں اسے نائلہ کا خیال آیا۔ جائی یانہ کو اس وقت نائلہ کے پاس جانا چاہیے تھا۔ وہ واپس اس کلاس میں گئی۔ وہ کلاس کے اندر داخل ہوئی تو وہاں نائلہ سب سے آخری بینچ میں سر نیچے کیے بیٹھی ہوئی تھی۔ نائلہ کا چہرہ چھپا ہونے کے باوجود جائی یانہ جانتی تھی، وہ اس وقت رو رہی تھی۔
نائلہ کو یوں دیکھ کر جائی یانہ کے دل کو کچھ ہوا۔ جائی یانہ کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا جیسا نائلہ کے ساتھ ہوچکا تھا۔ نائلہ تو پتہ نہیں کب سے سر آفتاب کے عتاب کو برداشت کر رہی تھی۔
جائی یانہ قدم قدم چلتی اس بینچ پر بیٹھ گئی، جس پر نائلہ بیٹھی ہوئی تھی۔ نائلہ محسوس کر چکی تھی کہ اس کے ساتھ کوئی آ کر بیٹھا ہے۔
"تم جو بھی ہو، چلی جاؤ ورنہ میری طرح تمہیں بھی رونا پڑے گا!" نائلہ کی زکام زدہ آواز تھی۔
"نہیں مجھے یقین ہے کہ مجھے تمہاری طرح رونا نہیں پڑے گا۔ میں جو بھی ہوں، تم سے وعدہ کرتی ہوں ہم دونوں اس شخص کو اسی طرح رلائیں گے جس طرح وہ ہمیں اذیت دے کر رلانا چاہتا ہے۔"
جائی یانہ کی پر عزم بات سن کر نائلہ نے گردن اٹھا کر سامنے موجود اس لڑکی کو دیکھا۔ نائلہ اس کو دیکھ کر پہچان گئی تھی۔ یہ لڑکی اکثر اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے کی کوشش کرتی تھی۔
"تم کون ہو؟" نائلہ نے پوچھا۔
"جائی یانہ!" جائی یانہ کا نام ہی اس کی پہچان تھی۔
"تم اس سب کے بارے میں کیا جانتی ہو؟" نائلہ نے محتاط انداز میں پوچھا۔
"میں وہ سب جانتی ہوں جو تمہارے ساتھ ہوا ہے، جو میرے ساتھ ہونے والا تھا اور اگر ہم نے آواز نہ اٹھائی تو پتہ نہیں کتنی اور لڑکیوں کے ساتھ ہوگا۔ ہم دونوں کو ہمت کرنی ہوگی اور اس شخص کو سبق سکھانا ہوگا۔ " جائی یانہ کی بات سن کر نائلہ نے سر دوبارہ ڈیسک پر رکھ دیا۔
"یہ بس کتابی باتیں ہیں۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔"
"جب حقیقی باتیں کتابوں میں لکھی جا سکتی ہے، تو کتابی باتیں حقیقت میں کیوں نہیں ڈال سکتے؟"
"تم کیا چاہتی ہو؟ میں ہر جگہ اپنی بدنامی کرواؤں؟ اس آدمی کواس بات کی بھنک بھی پڑی تو وہ میری ویڈیوز لیک کر دے گا۔۔"
"تو تم خود بتاؤ تم کیا کرنا چاہتی ہو؟ بلکہ تم مجھے یہ بتاؤ تم ابھی کیا کر رہی ہو؟" جائی یانہ نے اسی کے انداز میں بات لوٹائی۔
"میں صبر کر رہی ہوں اور اللّٰہ میرے صبر پر میرا ساتھ دے گا۔" جائی یانہ نے نائلہ کی طرف تاسف سے دیکھا۔
"یہ صبر نہیں، بزدلی ہے۔ میں نے پڑھا تھا صبر غم پر کرتے ہے، ظلم پر نہیں۔ صبر اس جگہ پر کیا جاتا ہے جہاں آپ کے پاس کرنے کو کچھ نہ بچا ہو۔ صبر ایک بند گلی میں کرتے ہیں، جہاں آپ نہ آگے جا سکو اور نہ پیچھے۔ تم بند گلی میں نہیں کھڑی ہو۔ تمہارے پاس راستے ہیں، ڈھیر سارے راستے لیکن تم خوفزدہ ہو۔ تم بزدلی دکھا رہی ہو۔"
نائلہ اس کی باتیں سن کر کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئی۔ اس نے دھیرے سے اپنا سر اٹھایا اور آنسو صاف کرنے لگی۔
"تم صحیح کہہ رہی ہو۔ میں واقعی میں بزدل ہوں۔ میں وہ سب نہیں کر سکتی ہوں، جو تم مجھ سے کروانا چاہتی ہو۔ مجھے معاف کر دو اور چلی جاؤ بلکہ میں خود ہی جا رہی ہوں۔"یہ کہہ کر نائلہ اٹھ کھڑی ہوگئی۔ جائی یانہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
"پلیز کچھ دیر بیٹھ جاؤ۔ بھلے میری باتوں پر عمل نہ کرو لیکن ایک دفعہ بات تو سن لو۔ مجھے نہیں لگتا کہ میری باتیں سننے میں کوئی حرج ہے۔"
نائلہ جائی یانہ کا ہاتھ جھڑک دینا چاہتی تھی۔ آخر وہ اتنا نڈر قدم کیسے اٹھا سکتی تھی مگر پتہ نہیں کیوں وہ دوبارہ بیٹھ گئی۔ نائلہ کے بیٹھنے پر جائی یانہ خوش ہوئی، مگر اس نے اپنی خوشی کا اظہار نہیں کیا بلکہ پہلے والے سنجیدہ لہجے میں بات دوبارہ شروع کی۔
"تم جانتی ہو، پرسوں آفتاب نے مجھے بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہا تھا مگر عین وقت پر ایک شخص آگیا اور میں بچ گئی لیکن اس نے مجھے وارننگ دی ہے کہ وہ دوبارہ مجھ پر وار کرے گا۔ میں دو دن اس کی باتوں پر ذہنی دباؤ کا شکار رہی ہوں۔ میں نے اس مسئلے پر سوچا، بہت سوچا، بہت زیادہ سوچا۔ میں نے ایک پلان بھی بنایا لیکن جب میں نے کسی سے مشورہ کیا، تو اس نے میرے پلان کو سن کر ہی فلاپ قرار دے دیا۔"
"تم نے کس طرح کا پلان بنایا تھا؟" نائلہ نے ابرو اٹھا کر پوچھا۔
"میں نے سوچا تھا کہ جب آفتاب مجھے بلیک میل کرے گا، تو میں اس کی ویڈیو بناؤں گی اور انٹرنیٹ پر اپلوڈ کر دوں گی، لیکن جس شخص کو میں نے یہ پلان بتایا اس نے مجھے میرے پلان میں موجود اتنے سارے نقص بتائے کہ میرا دل خراب ہوگیا۔" جائی یانہ نے آخری بات پر بچوں کی طرح منہ بنایا۔ نائلہ اس کی بات سن کر سوچ میں پڑ گئی۔
"تم پلان نہ بھی بناؤ تو، تمہارے پاس حل ہے۔ اگر تم چاہو تو یونیورسٹی کے کسی با رسوخ اور با رعب شخص کو بتا کر اپنی جان چھڑا سکتی ہو۔ کیا پتہ وہ تمہاری شکایت کو سنجیدہ لے کر ایکشن لے لیں۔"
"تم نے یہ کوشش کیوں نہیں کی؟"
" کیونکہ میں تمہاری طرح خوش قسمت نہیں تھی۔ میری باری میں آفتاب پہلی باری میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اپنا مقصد حاصل کر لینے کے بعد اس نے مجھے دھمکی دی کہ اگر یہ بات میں نے کسی کو بتائی، تو وہ میری ویڈیوز ڈارک ویب سائٹس پر اپلوڈ کردے گا۔ میں نے بہت دفعہ کوشش کی کہ کسی کو بتا دوں لیکن ہر دفعہ میرا خوف، میرے ارادے پر حاوی ہو جاتا تھا۔"
اس نے اداس لہجے میں کہا۔ پھر مسکرا کر جائی یانہ کی طرف دیکھا۔ "تم مجھے چھوڑو، خود کو بچاؤ۔ میں نہیں چاہتی تم بھی میری طرح زندگی گزارو۔"
جائی یانہ سوچ میں پڑ گئی۔ آخر یونیورسٹی میں ایسا کون سا انسان ہے جس کا سب پر رعب ہو؟ یونیورسٹی میں اساتذہ کے معاملے میں سب سے زیادہ عزت، سر آفتاب کی تھی کیونکہ ان کے اوپر یونیورسٹی کے انتظامی معاملات کی بھی بہت سی ذمہ داری تھی۔ اس کے بعد یا تو پرنسپل آتی تھیں یا پھر وائس پرنسپل۔۔۔
جائی یانہ کے دماغ کی سوئی وائس پرنسپل پر اٹکی۔
مس صبا، اس کی یونیورسٹی کی وائس پرنسپل۔۔۔۔
وہ اکثر عورتوں کے حقوق اور ہراسمنٹ پر سمینار ارینج کرواتی تھیں۔ اس کے علاؤہ بھی عام موقعوں پر وہ عورتوں کے حقوق کے بارے میں بہت بولتی تھیں۔ یہ آپشن کچھ کچھ اچھا لگ رہا تھا۔ جائی یانہ جلدی سے اٹھی اور کلاس روم سے باہر چلی گئی۔ پیچھے نائلہ تنہا رہ گئی۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ جائی یانہ کے دماغ میں کوئی آئیڈیا آیا ہے۔
وہ زید کو ڈھونڈ رہی تھی۔ اچانک اس کی نظر زید پر پڑی۔ وہ تین لڑکوں کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ جائی کچھ بغیر سوچے سمجھے اس کے پاس آئی اور اونچی آواز میں بولی۔
"زید!!"
زید کے ساتھ ان تین لڑکوں کی نگاہیں بھی اس لڑکی پر پڑی۔ پہلے انہوں نے لڑکی کو دیکھا، پھر اپنے سامنے موجود زید کو دیکھنے لگے۔ اس لڑکی اور زید کا کیا سین تھا۔
جائی یانہ کو بے اختیار اپنی اس غلطی پر شرمندگی ہوئی۔
"وہ تمہیں ایک پروفیسر نے بلایا ہے۔" جائی یانہ جتنے مہذب انداز میں بات کر سکتی تھی، اس نے کی۔ زید نے سر کو خم دیا اور اپنے ساتھ کھڑے لڑکوں کی نظروں کو نظر انداز کرتے ہوئے، جائی یانہ کے ساتھ چل دیا۔ جب وہ دونوں لڑکوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئے، تو زید رک گیا۔
"آپ خدا کے لیے سب کے سامنے بات کرنے سے احتیاط برتا کریں۔ میں نہیں چاہتا آپ کو اور مجھے لے کر یونیورسٹی میں کوئی جھوٹی بات پھیلے۔"
جائی یانہ کا منہ کھلا رہ گیا۔
"یہ تم ہر بات میں مجھے نصیحت کیوں کرتے ہو؟ تم جب بھی ملو گے، کوئی نہ کوئی نصیحت کرنی ضروری ہے۔"
"میں آپ کو آپ کے بھلے کے لیے ہی کہہ رہا ہوں۔"
"اچھا ان سب باتوں کو چھوڑو۔ میں نے ایک اور بات سوچی۔۔۔۔" زید نے جائی یانہ کی بات کاٹ دی۔
"دیکھیں آپ مجھے اپنی پوری کہانی مت سنائیں بلکہ میرے حصے کا کام بتائیں۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ آپ کا پرانا پلان ایک نئے انداز میں سنوں۔" زید اس دفعہ کچھ اکھڑے ہوئے لہجے میں بولا۔ شاید اسے جائی یانہ کا اس کی بات بدل کر اپنی بات کہنا برا لگا تھا۔ جائی یانہ نے تیز نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
"اس میں اتنے روڈ ہونے کی کیا بات ہے۔ مجھے تمہاری یا تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے تمہیں بلانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ میں نے تھوڑا سا فری کیا کیا، تم تو سر پر ناچ رہے ہو۔" آخری بات جائی یانہ نے بس سوچی تھی۔ جائی یانہ ایسا لہجہ کسی کا برداشت نہیں کرتی تھی۔ وہ زید کو چھوڑ کر آگے کی طرف جانے لگی۔
کچھ دیر کے لیے خاموشی قائم ہوگئی۔ جائی یانہ کو لگا کہ زید اب اس کے پیچھے آ کر اس سے لڑے گا یا اپنے رویے کی وضاحت دے گا۔ جب بہت دیر تک اسے زید کی آواز سنائی نہ دی، تو جائی یانہ نے اپنی انا ایک طرف رکھ کر گردن موڑ کر پیچھے دیکھا۔ زید پیچھے نہیں تھا۔ وہ تو کہیں بھی نہیں تھا۔ جائی یانہ اس سے غلط امیدیں باندھ رہی تھی۔
"اچھا ہوا چلا گیا، ورنہ میں خود اسے بھیج دیتی۔ جب اس کا دل کرے گا، مجھے نصیحت کرنے لگ جائے گا. جب اس کا دل کرے گا، بدتمیزی کرنے لگ جائے گا۔ اسے لگتا ہے کہ میں اس کے بغیر کچھ کر نہیں سکتی۔ اب دیکھنا میں کرتی کیا ہوں."
جائی یانہ خود کلامی کرتے ہوئے چل رہی تھی۔ بہت سے اسٹوڈنٹس نے راستے میں گزرتے ہوئے اسے عجیب نظروں سے دیکھا لیکن ابھی جائی یانہ بری طرح تپی ہوئی تھی۔ اس کا لوگوں کی عجیب نظروں پر کوئی دھیان نہیں تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود وائس پرنسپل کے آفس میں جائے گی۔ اسے ویسے بھی زید کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ غصے میں بغیر کچھ سوچے سمجھے، وائس پرنسپل کے آفس پہنچ گئی۔ مس صبا آفس میں آ چکی تھیں۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو اندر آنے کی اجازت مل گئی۔
جائی یانہ نے دروازہ کھولا تو اس کے عین سامنے ایک خاتون اپنی ریوالونگ چئیر پر بیٹھی تھیں۔ ان کی تمام توجہ کا مرکز اس وقت جائی یانہ تھی۔ مس صبا کو یونیورسٹی آئے بمشکل پانچ منٹ ہوئے تھے۔ اس لیے ابھی انہوں نے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ ان کے بال سنہری تھے۔ سفید رنگت اور صاف نقش۔۔۔وہ بلا شبہ بہت خوبصورت تھیں۔
"بولیں؟" جائی یانہ جانے کب تک ان کا تجزیہ کرتی رہتی، اگر مس صبا خود سے بات شروع نہ کرتیں۔ جائی یانہ جلد بازی میں یہاں آ تو گئی تھی مگر اب وہ ان سے کیا کہتی۔ اسے کچھ نہیں پتہ تھا۔
"وہ میں نے آ۔۔آپ کو ایک بات بتان۔۔نی تھی۔" جائی یانہ کنفیوژ ہو رہی تھی۔
"بیٹھیں!" انہوں نے آرام سے کہا۔
جائی یانہ بیٹھ گئی۔
"آپ نے جو بات کرنی ہے، کھل کر کریں۔ بلکل بھی مت گھبرائیں۔" مس صبا کے دوستانہ انداز نے جائی یانہ کو کچھ ہمت دی۔
"وہ دراصل مس مجھے سر آفتاب کے بارے میں کچھ بتانا تھا۔" جائی یانہ اپنے گود میں رکھے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو مروڑنے لگی۔
"وہ بات یہ تھی کہ سر آفتاب نے مجھے ہراس کیا ہے اور کچھ غلط کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔" جائی یانہ کی بات سن کر مس صبا سیدھی ہوگئیں۔ اب ان کے چہرے پر سنجیدگی طاری ہوگئی تھی۔ پہلے والا دوستانہ انداز بلکل غائب تھا۔
"نام کیا ہے آپ کا؟" مس صبا نے جائی یانہ اس سے سوال کیا۔
" جائی یانہ!" جائی یانہ نے اپنا اعتماد بڑھایا۔
"ہمم تو جائی یانہ! آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے جس پر میں یقین کر لوں۔"
"میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن میں ایک لڑکی کو جانتی ہوں۔ اس کا نام نائلہ ہے۔ سر آفتاب نے اس کی کچھ نازیبا ویڈیوز بنائی ہے۔ سر آفتاب اب اسے ان ہی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کر رہے ہیں۔"
"اچھا!" مس صبا نے سر ہلایا۔ " آپ اس لڑکی کو بھی آفس میں بلا لیں، آگے کی گفتگو اب اس کے ساتھ ہوگی۔" مس صبا کی بات سن کر جائی یانہ اٹھ کھڑی ہوئی اور بھاگتی ہوئی نائلہ کو ڈھونڈنے لگی۔
وہ سب سے پہلے اسی کلاس میں گئی، جہاں اس نے نائلہ سے بات کرنی تھی۔ اس کے اندازے کے مطابق نائلہ اسی کلاس میں موجود تھی۔ جائی یانہ نے نائلہ کو بس اتنا بتایا تھا کہ مس صبا نے نائلہ کو بلایا ہے۔ نائلہ اس کے ساتھ چل پڑی۔ راستے میں نائلہ نے مس صبا کے بلانے کی وجہ پوچھنا چاہی مگر جائی یانہ نے اسے کچھ نہیں بتایا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں نائلہ وجہ جان لینے کے بعد مس صبا کے آفس جانے سے انکار نہ کردے۔ جب وہ دوبارہ آفس پہنچی تو مس صبا ان دونوں کی منتظر تھیں۔
"دروازہ بند کردیں اور میرے سامنے بیٹھ جائیں۔" جائی یانہ نے سر کو خم دیا اور آفس کا دروازہ بند کردیا۔ وہ دونوں مس صبا کے سامنے رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئیں۔
"میم آپ نے مجھے کیوں بلایا؟" نائلہ کے سوال پر مس صبا نے جائی یانہ کی طرف دیکھا۔
"آپ نے اپنی دوست کو میرے بلانے کی وجہ نہیں بتائی؟" ان کے پوچھنے پر اس نے سر نفی میں ہلایا۔
"نو میم!"
"کیوں؟"
"میم مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے وجہ بتا دی، تو یہ آپ کے پاس نہیں آئے گی۔"
"ہمم!" جائی یانہ کی بات سن کر انہوں نے ہنکارا بھرا۔
"جائی یانہ نے مجھے ایک بات بتائی ہے۔ بس اس کی تفتیش کے لیے میں نے آپ کو اپنے آفس میں طلب کیا ہے۔" مس صبا اب مکمل طور پر نائلہ کی جانب متوجہ تھی۔
"آپ کی دوست نے مجھے بتایا ہے کہ سر آفتاب نے آپ کی قابل اعتراض ویڈیوز بنائی ہیں۔ کیا یہ سچ ہے؟"
نائلہ نے جیسے ہی بات سنی اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ اسے بہت کچھ یاد آیا۔ اس کو اپنا دم اس آفس میں گھٹتا محسوس ہوا۔ نائلہ سے کچھ بھی نہیں کہا جا رہا تھا۔ اس کو اپنا سانس اکھڑتا محسوس ہونے لگا۔ مس صبا اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ بخوبی دیکھ رہی تھیں۔ جائی یانہ بھی اس کو دیکھ رہی تھی۔ وہ اس کی حالت سمجھ سکتی تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ نائلہ کے کندھے پر رکھ کر اسے حوصلہ دیا۔
"آپ گھبرائیں نہیں، جو کہنا چاہتی ہیں کھل کر کہہ دیں۔" مس صبا نے اس کا حوصلہ بڑھایا۔
"نائلہ بتاؤ۔ تم ہی تو چاہتی ہو کہ کوئی تمہاری جگہ نہ لے۔ دیکھو خدا نے تمہیں موقع دیا ہے۔ تم لوگوں کی مدد کر سکتی ہو۔ پلیز بولو، اپنے لیے نہ سہی تو ہر اس لڑکی کے لیے جو سر آفتاب کا نشانہ بن سکتی ہے۔" جائی یانہ نے بڑی امید سے نائلہ کو کہا۔ نائلہ کو جائی یانہ کی آواز اپنے ضمیر کی آواز لگی۔ اس کا دل بھی اسے اکسانے لگا۔
"میں نے۔۔" نائلہ بتاتے ہوئے دوبارہ خاموش ہوگئی۔ جائی یانہ نے بغیر آواز کے لب ہلائے۔ "تم کرسکتی ہو نائلہ۔۔۔۔"
نائلہ نے ہمت باندھی اور بولنا شروع کیا۔
*****************************
آفس میں موجود دونوں افراد تیسرے فرد کی کہانی سننے میں مشغول تھے۔ نائلہ نظریں جھکائے، آہستہ آہستہ اپنی کہانی بیان کر رہی تھی۔
"میں نے پچھلے سال بی بی اے کے لیے اس یونیورسٹی میں اپلائے کیا تھا۔ مجھے یونیورسٹی میں آئے تیسرا دن ہوا تھا جب سر آفتاب سے میری ملاقات ہوئی۔"
(راہ داری میں چلتے ہوئے، کالے رنگ کی چادر میں خود کو مکمل طور پر چھپائے نائلہ اپنا لیکچر لینے جا رہی تھی۔ اس کی چادر اس قدر بڑی تھی کہ اس کا لباس بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ راہداری کے آخر میں سر آفتاب کھڑے تھے۔ وہ نائلہ کو ہی دیکھ رہے تھے۔)
"ہم دونوں کے درمیان مختصر سی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بس مجھ سے میرے سبجیکٹس پوچھیں اور یونہی ادھر ادھر کی باتیں پوچھیں۔ انہوں نے اس دن مجھ سے بہت مہذب اور تمیز سے بات کی۔"
("آپ بی بی اے کیوں کر رہی ہیں؟ آپ نے تو پری انجینئرنگ کی ہے اور آپ کے مارکس بھی اتنے اچھے ہیں۔ آپ کو تو کیمسٹری میں بی ایس کرنا چاہیے تھا۔" سر آفتاب نے سلام دعا کے بعد، اس کے انٹر کے مارکس اور ڈیپارٹمنٹ کے بارے میں پوچھا تھا۔ نائلہ کے مارکس اچھے تھے۔ اس لیے وہ حیران تھے۔
"سر مجھے سائنس سے زیادہ بزنس کا شوق تھا۔ اسی لیے میں نے بی بی اے سلیکٹ کیا۔" نائلہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
"اچھا!! انسان کو جس چیز میں انٹرسٹ ہو۔ اسے وہی کرنا چاہیے۔" سر آفتاب نے پھر گھڑی کو دیکھا۔ "ابھی تو مجھے ایک کام ہے اور آپ کی بھی کلاس کا وقت ہو رہا ہوگا۔ ایسا کرتے ہیں کل چھٹی ٹائم آپ میرے آفس آجائیے گا۔ میں آپ کا انتظار کروں گا۔ آخر کو اتنی اچھی اسٹوڈنٹ سے بات کرنے کا موقع بار بار تو نہیں ملتا۔"
نائلہ نے حامی بھر لی۔ سر آفتاب نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور چلے گئے۔ نائلہ کے ذہن میں سر آفتاب کا کردار ایک شفیق استاد جیسا بن گیا تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے اپنے لیکچر لینے کے لیے جانے لگی۔)
"میں کسی بھی مرد سے یوں اکیلی نہیں ملتی لیکن سر آفتاب نے پہلی ملاقات میں ایسا تاثر دیا کہ میں خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی، اس شخص کی اصلیت اتنی ڈراؤنی ہوگی۔"
(نائلہ سر آفتاب کے آفس کا دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی۔ یونیورسٹی میں چھٹی ہو چکی تھی۔ یونیورسٹی میں چند ایک لوگ ہی موجود تھے۔
سر آفتاب نے آفس کا دروازہ خود کھولا اور اسے اندر آنے کی اجازت دی۔ اس نے جیسے ہی اندر قدم رکھے اس کے پیچھے موجود دروازہ ایک دھاڑ سے بند ہوا۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو اسے سر آفتاب نہیں دکھائی دیے بلکہ ایک شیطان دکھائی دیا۔)
"میں بہت چلّائی، بہت آوازیں دیں مگر اس وقت کوئی نہیں آیا۔ میں عزازیل سے ملنے گئی تھی مگر میری ملاقات ابلیس سے ہوگئی اور ابلیس انسانوں کا کھلا دشمن ہے۔"
(آفس کی حالت کچھ لمحات بعد بالکل بدل گئی تھی۔ کوئی بھی شے اپنی جگہ پر موجود نہیں تھی۔ ہر چیز بکھری ہوئی تھی۔ وہ آفس کے فرش پر لیٹی ہوئی تھی۔ اس کا چہرہ فرش پر ڈھلکا ہوا تھا۔ اس کی چادر سر آفتاب نے ایک طرف پھینک دی تھی۔ اس کا چہرہ کھنڈر پڑا ہوا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا اب اس کھنڈر پر کبھی بہار نہیں گزرے گی۔
اس کے سامنے سر آفتاب کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے ہاتھ میں موبائل تھا۔ وہ اپنے کیے ہوئے گناہ کو بار بار ویڈیو کے ذریعے دہرا کر دیکھ رہے تھے۔ وہ بار بار اسے دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ غرور سے!)
"تمہیں میرے پاس آنا چاہیے تھا!" مس صبا اس کی بات سن کر بس اتنا بول پائیں۔
"میں اس وقت یہ بات کسی کو بھی نہیں بتا سکتی تھی۔ آج صبح اگر آپ مجھ سے پوچھتیں، تو بھی میں آپ کو نہیں بتاتی لیکن ابھی آپ نے پوچھا تو بتا دیا۔ شاید وقت بھی صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا کہ وقت کے ابلیس کو سہی وقت پر مار سکے۔" نائلہ بس اتنا کہہ پائی۔
("یہ بات کسی کو بھی پتہ نہیں چلنی چاہیے ورنہ، میں تمہیں بدنام کر دوں گا۔ اگر تمہارے منہ سے ایک لفظ بھی نکلا ، تو اگلے لمحے تمہاری ویڈیوز ہر ویب سائٹس پر موجود ہونگی۔" سر آفتاب اس کے پاس کھڑا کہہ رہا تھا۔
"اپنا حلیہ درست کرو اور اپنے گھر چلی جاؤ۔ گھر والوں کو بتا دینا کہ اپنی دوست کے گھر گئی تھی۔ میرا شکریہ ادا کرو کہ میں تمہارے راز کو راز رکھ رہا ہوں، ورنہ میری جگہ کوئی اور ہوتا تو تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ کر چلا جاتا۔ " سر آفتاب نے کالی چادر نائلہ کی جانب بڑھائی۔ نائلہ کو اپنی چادر منہ چڑاتی دکھائی دی۔ )
"گھر میں کسی نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا، نہ میں نے کسی کو بتایا۔ بس خاموشی سے اپنے کمرے میں چار پانچ دنوں کے لیے بند ہوگئی۔ یہ سب کچھ میرے لیے ٹراما بن گیا تھا۔ "
(کمرے کی دیواروں نے اپنی سوئی ہوئی مالکن کو ڈر کر اٹھتے دیکھا۔
کمرے کی دیواروں نے اپنی مالکن کو کتابیں پکڑے روتے دیکھا۔
کمرے کی دیواروں نے کمرے کی مالکن کو چیختے چلاتے دیکھا لیکن یہ آوازیں حدود سے باہر نکلنے نہیں دی۔)
"میں سمیسٹر کلئیر نہیں کر پائی۔ میں نے یونیورسٹی بدلنے کا سوچا مگر سر آفتاب نے مجھے دھمکی دے دی تھی۔"
"اس کے بعد آفتاب نے آپ کو تنگ کرنے کی کوشش کی؟"
"جی اس کا مطالبہ تھا کہ میں کسی لڑکی کو اس کے آفس بھیجوں، تاکہ وہ اس کے ساتھ بھی وہی سب کرے جو میرے ساتھ کیا تھا۔"
"ہمم آپ نے اس سلسلے میں اس کی کوئی مدد کی؟" مس صبا کے پوچھنے پر نائلہ نے گردن نفی میں ہلائی۔
" میرے اندر اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ مظلوم ہونے کے ساتھ ساتھ اب ظالم بھی بنتی۔ یاداشت کا بوجھ اٹھایا نہیں جا رہا، دل اور ضمیر کا بوجھ بھی اگر اٹھا لیا تو زمین میں دھنس جاؤں گی۔ "
*****************************
ساری باتیں کھل کر سامنے آ چکی تھی۔ اب آفس میں سکوت کا راج تھا۔ اس سکوت کو مس صبا کی آواز نے توڑا۔
"تم دونوں نے کچھ سوچا کہ اب کیا کرنا ہے۔"
"میم میں نے سوچا تھا کہ آفتاب کی بلیک میل کرتی ویڈیوز انٹرنیٹ پر ڈال دوں گی مگر مجھے کسی نے منع کردیا اور کہا کہ اس سے میری ہی بدنامی ہوگی۔" جائی یانہ کو ابھی بھی اپنا آئیڈیا اچھا لگ رہا تھا۔ کیا پتہ مس صبا کو بھی اچھا لگ جائے۔ زید جیسے شخص پر کیا بھروسہ کرنا۔ مس صبا نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
"مجھے ثبوت تو چاہیے ہونگے ورنہ میں تمہاری پرنسپل صاحبہ کو راضی نہیں کر پاؤں گی۔" مس صبا نے سوچتے ہوئے کہا۔
"میم آپ تو ان کی بہن ہیں۔ وہ تو آپ کی بات مان جائیں گی۔" جائی یانہ نے بے ساختہ بات کہہ دی۔
مس صبا کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ جائی یانہ کو پتہ چل گیا اس نے کچھ غلط کہہ دیا ہے۔ اس نے معذرت کرنا چاہی لیکن اس سے پہلے ہی مس صبا نے بات بدل دی۔
"آپ دونوں اب جائیں۔ میں اس مسئلے کو اپنے طریقے سے ہینڈل کرلوں گی۔"
وہ دونوں کھڑی ہوئیں۔ اچانک جائی یانہ کو یاد آیا کہ ان کا پیپر تو شروع ہوگیا ہوگا۔
"میم ہمارا پیپر تو اب تک شروع ہوگیا ہوگا۔"
جائی یانہ کی بات سن کر مس صبا نے انہیں تسلی دی۔
"آپ دونوں پریشان نہ ہو۔ آپ دونوں کو پیپر حل کرنے کا پورا وقت دیا جائے گا۔ میں آپ کے سر سے بات کر لوں گی۔"
ان دونوں کو کچھ تسلی ہوئی اور دونوں باہر چلی گئیں۔ پیچھے مس صبا اپنے حال اور ماضی میں ایک ساتھ جینے لگی۔
********************************
جہاں سے ہم نے وقت کو روکا تھا اسی وقت میں ایک دفعہ دوبارہ آتے ہیں۔ مس صبا اور جائی یانہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
"آپ مجھ سے کوئی سوال کرنا چاہتی ہیں؟" مس صبا کے پوچھنے پر جائی یانہ نے گردن اثبات میں ہلائی۔
"جی میں نے پوچھنا تھا کہ آپ نے یہ سب کس طرح کیا؟"
جائی یانہ کی بات پر مس صبا تمسخر سے ہنس دیں۔ جائی یانہ سمجھ نہیں پائی کہ اس نے آخر ایسا کیا پوچھ لیا تھا، جو مس صبا اس پر ہنس رہی تھیں۔
"مجھے لگا تھا کہ آپ سمجھدار ہیں اور ضرور وہی سوال کریں گی جو میں نے سوچا ہے۔"
"کیسا سوال؟" جائی یانہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
"آپ کو مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ میں نے آپ کی مدد کیوں کی؟"
"مدد کرنا آپ کا فرض تھا اس لیے۔۔۔۔" جائی یانہ نے خود سے سوچی وجہ بتا دی۔
"میری پیاری شاگردہ! یہ دنیا ہے۔ یہاں پر کوئی بھی کسی کی غیر مشروط مدد نہیں کرتا اور اگر ہم سب اپنا فرض سمجھ کر دوسروں کی مدد کرنے لگ جائے، تو یہ دنیا جنت بن جائے گی۔ یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لو کوئی کسی کی مدد فرض سمجھ کر نہیں کرتا۔ میں نے بھی نہیں کی۔"
جائی یانہ ان کی باتیں سن کر سوچ میں پڑ گئی۔ "اب کس طرح مدد کی" کا سوال ثانوی حیثیت اختیار کرگیا تھا۔ اب سب سے اہم سوال یہ بن گیا تھا کہ "اس کی مدد کیوں کی گئی؟"
*****************