مس صبا اور جائی یانہ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ جائی یانہ نے آخر کار وہ سوال پوچھ ہی لیا جس کی مس صبا نے فرمائش کی تھی۔
"میم آپ نے میری مدد کیوں کی؟"
مس صبا گردن جھکا کر ہنسیں۔ پھر جب انہوں نے چہرہ اٹھایا، تو جائی یانہ نے ان کے چہرے پر پھیلے کرب کو دیکھا۔
"کیونکہ اس کے پیچھے ایک بہت بڑی کہانی ہے۔ کیا تم سننا چاہو گی؟" مس صبا کے پوچھنے پر جائی یانہ نے گردن اثبات میں ہلا دی۔ مس صبا نے اپنی داستان سنانا شروع کر دی۔
"بہت سالوں پہلے کی بات ہے جب میں باہر ملک پڑھنے گئی تھی۔ میرے ساتھ میری بہن اور اس ادارے کی سربراہ، صائمہ بھی گئی تھی۔ ان دنوں ہمارے گھر کے حالات کچھ ٹھیک نہیں تھے۔ ہمارے ماں باپ کی ہم بس دو بیٹیاں تھیں۔ ماں باپ نے پیٹ کاٹ کاٹ کر ہمیں باہر ملک پڑھنے بھیجا۔ ہمارے ماں باپ کا خواب تھا کہ ہم دونوں بہنیں باہر ملک پڑھنے جائیں۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی بیٹیاں پڑھ لکھ کر اپنے لیے معاشرے میں با عزت مقام بنائیں۔ وہ ہماری زندگی سنوارنے کے لیے جو کرسکتے تھے، انہوں نے کیا۔ اب ہم بہنوں کی باری تھی۔ ہمیں اپنے ماں باپ کا خواب ہر حال، ہر قیمت، ہر صورت میں پورا کرنا تھا۔ ہم بہنوں کو لندن بھیج دیا گیا اور وہاں کی یونیورسٹی میں ہمارا داخلہ کروا دیا گیا۔ شروع کا ایک سال اچھا اور پر سکون گزرا۔ شاید صائمہ کے لیے آگے کے سال بھی ٹھیک گزرے ہوںگے مگر میرے لیے بس ایک سال ہی بہتر گزرا۔ اس کے بعد جو ہوا، اس نے میری شخصیت سے میرا اعتماد چھین لیا۔ میری ذات کو پیروں تلے روند دیا۔" جائی یانہ کے چہرے پر الجھے سے تاثرات چھائے، جو مس صبا سے چھپے نہ رہ سکے۔
"کیا ہوا سمجھ نہیں پا رہی ہو؟" مس صبا نے پوچھا۔ "جلد سمجھ جاؤ گی!"
مس صبا نے غمگین مسکراہٹ کے ساتھ بات کو دوبارہ جاری رکھا۔
"میں جس یونیورسٹی میں پڑھتی تھی اس میں ایک ٹام نام کے پروفیسر ہمیں پڑھایا کرتے تھے۔ ان کا مجھ پر شروع سے ہی بہت دھیان تھا۔ میں نے یہ توجہ ایک شاگرد کے طور پر خود پر سمجھی مگر ان کی توجہ ایک شاگردہ پر نہیں بلکہ ایک لڑکی پر تھی۔ حسین لڑکی پر!!"
"انہوں نے مجھے ہراس کرنا شروع کردیا۔ پہلے میں اسے اپنا وہم سمجھ کر نظر انداز کرتی رہی مگر آہستہ آہستہ جب پانی سر سے اونچا ہونے لگا، تو میں نے ہاتھ پاؤں ہلانا شروع کردیے۔ میں نے ٹام کو دھمکی دی کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائے ورنہ میں اس کی شکایت یونیورسٹی انتظامیہ سے لگاؤں گی، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ الٹا اس نے دھمکی دی کہ وہ مجھے اور میری بڑی بہن پر جھوٹے الزامات لگا کر ہمیں یونیورسٹی سے نکال دے گا۔ اس کے پاس اس وقت بہت طاقت تھی۔ اتنی ہی طاقت، جتنی آفتاب کے پاس تھی۔ میں دلدل میں پھنس چکی تھی۔ اب میں جتنا ہاتھ پاؤں ہلاتی، اتنا زمین میں دھنستی۔ ان حالات میں، میں نے یہ بات اپنی بہن کو بتائی۔ مجھے لگا کہ وہ میری مدد کرے گی، لیکن۔۔۔۔"
مس صبا کے آنکھوں کے سامنے وہ منظر ابھرا۔
(ہاسٹل کے ایک کمرے میں وہ دونوں بہنیں موجود تھیں۔ مس صبا بیڈ پر بیٹھی، اپنی نم آنکھوں کو رگڑ رہی تھیں جبکہ ان کے سامنے مس صائمہ کھڑی تھیں۔ مس صائمہ یقیناً خوبصورت تھیں مگر مس صبا کے حسن کا اس وقت کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ اس وقت مس صبا ہچکیاں لیتے ہوئے اپنی داستان سنا رہی تھی۔ سب بتا دینے کے بعد اب مس صبا نے آخر میں ٹام کی دی ہوئی دھمکی بھی بتائی۔
"اس نے کہا ہے کہ اگر یہ بات پھیلی تو وہ مجھے اور تمہیں نکال دے گا۔"
مس صبا نے اپنے گال پر گرتے آنسوؤں کو اپنے ہاتھ کی پشت سے صاف کیا، پھر اپنی بہن کو دیکھا جو سپاٹ انداز میں انہیں ہی دیکھ رہی تھیں۔)
"لیکن اس نے مجھے قصوروار سمجھا۔" مس صبا نے کھوئے ہوئے سے انداز میں کہا۔
("تمہیں کس نے کہا تھا سر ٹام سے اتنا بے تکلف ہونے کو؟" مس صبا کی آنکھیں اپنی بہن کی بات سن کر پھیل گئیں۔
"تمہاری وجہ سے دیکھو وہ ہمیں کیسی دھمکی دے رہا ہے۔ ہمارے ماں باپ نے ہم دونوں کو یہاں پڑھنے بھیجا تھا۔ اگر ہمیں یہاں سے نکالا گیا تو بتاؤ ہم کیا کریں گے؟ ہماری واپس پاکستان جا کر کتنی عزت افزائی ہوگی، اس کا تمہیں اندازہ ہے؟"
مس صبا نے کچھ کہنا چاہا، اپنی صفائی پیش کرنا چاہی لیکن الفاظ لبوں پر دم توڑ گئے۔)
"تم نے کبھی ایسی بے بسی کو جانا ہے، جب منہ میں زبان ہو مگر زبان پر اپنی صفائی دینے کے لیے الفاظ نہ ہوں۔"
("تم نے یہ سب کیا ہے۔ اگر تمہاری وجہ سے میں یونیورسٹی سے نکلی، تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔"
"اب میں کیا کروں؟ " یہ الفاظ جانے کیسے مس صبا کے لبوں سے ادا ہوئے۔
"اب تم کیا کر سکتی ہو؟ بس خاموش رہو۔ سر ٹام کو نظر انداز کرو۔ کچھ بھی کرو لیکن ایسا کچھ نہ کرنا کہ ہمیں اس یونیورسٹی سے نکلنا پڑے۔ ویسے بھی یہ ہراسمنٹ وغیرہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا ہے جتنا تم جیسی عورتیں بنا دیتی ہیں۔ ہر عورت کو تھوڑا بہت سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔" یہ کہہ کر مس صائمہ رکی نہیں بلکہ ہاسٹل کے کمرے سے باہر چلی گئیں جبکہ مس صبا وہی رہ گئیں۔ وہ اپنی بہن کو بہت کچھ بتانا چاہتی تھیں، مگر بتا نہیں پائیں۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا وہ خود کو نہ چاہتے ہوئے بھی سر ٹام کی گندی نظروں سے گزرنے کے لیے تیار کر رہی تھیں۔)
"پھر آگے آنے والے سال خاموشی سے گزرے۔ کسی نے پوچھا نہیں، میں نے کچھ بتایا نہیں۔ بڑی بزدلی سے میں نے وہ سب سہہ لیا۔" مس صبا کی آنکھیں بھر گئی تھیں۔ انہوں نے جائی یانہ کی طرف دیکھا۔
"آپ ضرور سوچ رہی ہونگی کہ ان سب باتوں سے آپ کا کیا تعلق ہے؟" جائی یانہ نے مس صبا کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ مس صبا تھوڑا سا جھکیں، پھر سرگوشی کی۔
"آپ کا تعلق ان سب میں یہ ہے کہ قدرت نے جو موقع آپ کو دیا تھا، اس کا استعمال میں نے کرلیا ہے۔"
جائی یانہ نے سر اٹھا کر مس صبا کو دیکھا۔
"آپ کا پلان آدھا بالکل ٹھیک تھا۔ آپ آفتاب کی باتوں کو ریکارڈ کرکے صائمہ کے سامنے ثبوت پیش کر سکتی تھیں۔ اس طرح آفتاب کے عتاب سے بہت سی لڑکیاں بچ جاتیں اور آپ کی یہ بہادری آپ کو اپنی نظروں میں معتبر بنا دیتی، لیکن افسوس آپ نے اپنا پلان میری جھولی میں ڈال دیا اور میں نے اپنا موقع استعمال کرلیا۔ میں نے صائمہ کو کال کرکے آفتاب کی ساری باتیں براہ راست سنا دی اور اس کے ساتھ اپنی حفاظت کے لیے دو گارڈز بھی ساتھ میں لے لیے۔ آفتاب پکڑا گیا اور اب سلاخوں کے پیچھے ہے۔"
"مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی ہے۔ سر آفتاب سے تو آپ کا کوئی لینا دینا نہیں تھا، پھر آپ نے میری مدد کرکے اپنا بدلہ کیسے لے لیا؟" جائی یانہ واقعی میں الجھی ہوئی تھی۔
"چلیں آسان الفاظ میں بیان کرتی ہوں ۔ میرے ساتھ میرے یونیورسٹی کے پروفیسر نے برا کیا، لیکن میری بہن نے مجھے چپ کروادیا یا شاید میں خود ہی بزدل تھی۔ مجھے ڈگری تو مل گئی لیکن افسوس! میرا اپنی ذات پر سے بھروسہ اٹھ گیا۔ میں سالوں اس گلٹ میں مبتلا رہی ہوں کہ میں نے اس شخص کا منہ کیوں نہیں توڑا؟ کیوں چپ چاپ بیٹھی رہی؟ چپ رہی تو اس کاغذ کے ٹکڑے کے لیے، جس کو ہاتھ میں پکڑ کر بندہ باعزت کہلاتا ہیں۔ کیا علم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے بندہ بزدل بن جائے، ظلم سے ڈرے اور خاموش رہے؟ نہیں! علم یہ نہیں سکھاتا۔ علم کہتا ہے باطل کے سامنے ایک سیسہ پلائی دیوار بن جاؤ۔ علم بہادری کا درس دیتا ہے۔ میں نے علم کے نام پر شو پیس تو حاصل کرلیا لیکن اپنے علم پر عمل نہ کر پائی۔ میرے ماں باپ کا مجھے باہر تعلیم دلوانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میں اپنے ماں باپ کی برسوں کی ریاضت کا صلہ بس ایک کاغذ کے ٹکڑے سے دے پائی۔ میرے ماں باپ کی محنت رائیگاں گئی۔"
مس صبا نے کچھ پل کا وقفہ لیا، پھر دوبارہ بات شروع کی۔
"اب میرا معاشرے میں باعزت مقام ہے مگر میرے دل میں میرے لیے کوئی خاص مقام نہیں تھی۔ میں چاہتی تھی کہ کسی طرح وہ وقت دوبارہ آئے، تو اس دفعہ میں ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہو جاؤں۔ جب آج آپ میرے پاس آئیں، تو مجھے لگا کہ اللّٰہ نے مجھے میرا موقع واپس دے دیا ہے۔ میں نے اسی وقت سوچ لیا تھا کہ اس بار یہ موقع ضائع نہیں کروں گی۔ جس وقت نائلہ اپنی کہانی سنا رہی تھی، تب میں یہ سوچ رہی تھی کہ یہ مسئلہ کس طرح حل کرنا ہے۔ پھر آپ نے اپنا پلان بتایا، جسے کچھ ردوبدل دے کر میں نے ترتیب دے دیا۔ آفتاب کو نہ صرف جیل پہنچا دیا بلکہ میرے ضمیر پر سے بوجھ اتر بھی گیا کہ میں نے اس ظلم کو خود اپنے ہاتھوں اکھاڑ کر پھینکا ہے۔ اب میں گلٹی نہیں ہوں۔ میرے خیال سے اب آپ کو سمجھ میں آگیا ہوگا۔"
ایک پل کے لیے دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ٹکرائی۔ اس کے بعد مس صبا نے اپنے سامنے رکھی فائل دوبارہ کھول لی۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ جائی یانہ اب ان کے آفس سے باہر نکل جائے۔ جائی یانہ خاموشی سے چلی گئی۔ اسے اب کچھ بھی سننے میں دلچسپی نہیں رہی تھی۔
********************
جائی یانہ باہر نکلی تو اس کے سامنے نائلہ کھڑی تھی۔ وہ جائی یانہ کے ہی باہر نکلنے کا انتظار کر رہی تھی۔ جائی یانہ کو آفس سے باہر نکلتا دیکھ کر وہ اس کی طرف دوڑی اور پوچھا۔
"مس صبا سے تمہاری کیا بات ہوئی ہے؟"
جائی یانہ نے اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے اسے کہیں بیٹھ کر بات کرنے کو کہا۔ کچھ لمحات بعد وہ دونوں یونیورسٹی کی کینٹین میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ دونوں کے ہاتھوں میں چائے کے کپ تھے۔ جائی یانہ نائلہ کو ساری بات بتا چکی تھی۔
"میری ویڈیوز ڈیلیٹ ہو جائیں گی نا؟" نائلہ نے ساری بات سن کر بس یہی پوچھا۔
"ہمم! امید تو ہے۔"
"اچھا!"
وہ دونوں ایک بار پھر خاموش ہوگئے۔
"کتنی خوش نصیب ہوتی ہیں وہ لڑکیاں، جن کے پاس بہنیں ہوتی ہیں۔ کم از کم وہ اپنی پریشانی ان سے شئیر کرلیتی ہیں۔" نائلہ کی بات سن کر جائی یانہ نے اس سے پوچھا۔
"کیوں تمہارے بہن بھائی نہیں ہیں؟"
"میری بہنیں نہیں ہیں، بس دو بھائی ہیں اور وہ بھی مجھ سے بڑے۔" نائلہ نے جائی یانہ کی معلومات میں اضافہ کیا۔ "جن لڑکیوں کے پاس بہنیں ہوتی ہیں، وہ کم ازکم اس طرح کی باتیں اپنی بہنوں سے شئیر کر لیتی ہیں۔ ہم جیسے لوگوں کو تو ایسی باتیں اپنے دل میں رکھنی پڑتی ہے۔ اب تم مس صبا کو دیکھ لو ان کے پاس کوئی ایسا شخص تو تھا، جس سے انہوں نے اپنا مسئلہ بیان کیا۔ ہم جیسوں کے پاس تو کوئی بھی نہیں ہوتا۔"
جائی یانہ اس کی بات سنتے ہوئے چپ چاپ چائے کے گھونٹ گلے میں اتار رہی تھی۔ جب اس کی بات ختم ہوئی تو جائی یانہ بولی۔
"میری دو بہنیں ہیں۔ دونوں مجھ سے بڑی ہیں لیکن میں انہیں اپنا مسئلہ نہیں بتا پائی۔ میں جب انہیں بتانے کا سوچتی ہوں تو ایک ساتھ بہت سے جذبات حملہ آور ہوتے ہیں۔ شرم کا، جھجک کا، خوف کا، غلط سمجھے جانے کا۔۔۔ جیسے تمہیں اپنے بھائیوں کو بتانے کا سوچ کر ان جذبات کا سامنا ہوتا ہے، بلکل ویسے ہی مجھے بھی ہوتا ہے۔ جہاں تک بات مس صبا کی بات ہے، تو شاید تم نے آگے والی باتوں پر غور نہیں کیا۔ انہوں نے مس صبا کو خاموش رہنے کا کہا اور ہراسمنٹ جیسے بڑے مسئلے کو ایک اوور ریٹڈ مسئلہ قرار دیا۔"
نائلہ خاموشی سے جائی یانہ کی بات سنے گئی۔ جائی یانہ نے دوبارہ چائے کا گھونٹ لیا۔
"مسئلہ یہ نہیں ہے کہ آپ کے پاس اگر بہن ہے، تو آپ یہ مسئلہ اس کے ساتھ ڈسکس کرسکتے ہیں یا اگر آپ کے پاس بھائی ہے، تو آپ اپنے مسائل کو کھل کر بیان نہیں کرسکتے۔ بات ایک اچھے ریلیشن شپ بانڈ کی ہے۔ اگر آپ کسی بھی شخص، جس کا تعلق کسی بھی جنس سے ہو، سے بات کرنے میں جھجھک، شرم اور ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے بلکہ آپ کو یقین ہے کہ سامنے والا آپ کے مسئلے کو سن کر آپ کو جج نہیں کرے گا اور شخص واقعی میں ایسا کرتا ہے، تو سمجھ جائیں آپ کا اس شخص کے ساتھ ایک اچھا ریلیشن شپ بانڈ ہے۔"
"بھلے وہ آپ کا بھائی ہو؟" نائلہ نے اس سے پوچھا۔
" بھلے وہ معاشرے کا بنایا ہوا کوئی سا بھی رشتہ ہو۔" جائی یانہ نے بولا۔ "ہراسمنٹ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو بہت سے شخص بتانے سے کتراتے ہیں۔ وہ خود ہی چپ چاپ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنے فیملی ممبر میں سے کسی کو بتاتے ہیں، تو بہت کم لوگ ان کو صحیح سمجھتے ہیں۔ باقی لوگ بالکل مس صائمہ کی طرح وکٹم کو الزام دیتے ہیں۔ اس لیے یہ مسئلہ لوگ اپنے فیملی ممبر کو نہیں بتاتے۔ انہیں یہی خوف رہتا ہے، کہیں وہ لوگ اپنے گھر والوں کی نظروں میں گر نہ جائے۔ افسوس کے ساتھ میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں، جو یہ جانتی ہے کہ اگر میں نے یہ بات اپنی بہنوں یا گھر کے کسی دوسرے شخص کو بتائی تو وہ مجھے صحیح نہیں سمجھے گا، اور اگر میں نے یہ بات اپنے ماں باپ کو بتائی تو وہ مجھے گھر سے باہر نکلنے نہیں دیں گے بلکہ گھر پر بٹھا دیں گے۔"
جائی یانہ نے اپنی بات مکمل کی اور کپ میں بچی ہوئی چائے کو ایک گھونٹ میں پی کر ختم کیا۔ نائلہ جائی یانہ کی باتوں پر غور کر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد جب چھٹی کا وقت ہوا، تو دونوں ایک ساتھ کھڑی ہوئیں اور یونیورسٹی سے باہر جانے لگیں۔ جائی یانہ اور نائلہ چلتے چلتے بس اسٹاپ تک پہنچ گئے۔ جائی یانہ کی بس آنے ہی والی تھی۔ آج اس کا ٹیکسی یا رکشہ سے جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
"ایک بات پوچھوں؟" نائلہ نے اس سے پوچھا۔
جائی یانہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
"تمہیں یہ باتیں کیسے پتہ چلیں؟"
"کتابوں سے! انسان کو کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کتابیں پڑھنے والے آہستہ آہستہ لوگوں کو پڑھنے کا فن سیکھ جاتے ہیں۔"
جائی یانہ کو اپنی بس دور سے آتی دکھائی دی۔
"اچھا تم اگر برا نہ مانو، تو میں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔" نائلہ نے قدرے ہچکچاہٹ سے کہا۔
"تم ہر سوال کرنے سے پہلے اجازت کیوں لیتی ہو؟" جائی یانہ نے بس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ بس، بس اسٹاپ کے قریب آ رہی تھی۔
"تم میری دوست بنو گی؟" نائلہ نے اس سے پوچھا۔
"مجھے لگا کہ ہم دونوں دوست بن چکے ہیں۔" جائی یانہ کی بات سن کر نائلہ کے چہرے پر مسکراہٹ کھل گئی۔
اسی وقت بس جائی یانہ اور نائلہ کے سامنے رک گئی۔ جائی یانہ جانے لگی تھی جب اچانک نائلہ اس کے گلے لگ گئی۔
"شکریہ!" نائلہ نے رندھی آواز میں کہا۔
"کس لیے؟" جائی یانہ نے پوچھا۔
"ان سب چیزوں کے لیے جو تم نے آج میرے لیے کیے ہیں۔"
جائی یانہ نے نائلہ کو خود سے الگ کیا۔
"پہلی بات دوستی کا سنہری اصول ہے کہ دوست کو نہ سوری کہا جاتا ہے اور نہ تھینک یو۔ دوسری بات، بس ڈرائیور میری خالہ کا بیٹا نہیں ہے جو بس کو روکے رکھے گا۔ اس لیے خدا حافظ!"
پہلی بات جائی یانہ نے نائلہ کے ساتھ کھڑے ہوکر جبکہ دوسری بات بس کی جانب بھاگتے ہوئے اونچی آواز میں بولی۔ نائلہ ہنس دی۔
جائی یانہ بس میں داخل ہوگئی اور بس اسی وقت تیز رفتاری سے آگے بڑھنے لگی۔ نائلہ نے بس کو دور تک جاتا دیکھا۔ پھر اس نے ایک رکشہ رکوایا اور اس پر سوار ہوگئی۔ دونوں کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ان دونوں کی مضبوط دوستی کا ستون آج ڈھل چکا تھا۔
**********************
فاطمہ جناح پارک میں شام کے چار بجے چہل پہل معمول کے مطابق تھی۔ فاطمہ جناح پارک اسلام آباد کا عوامی تفریحی پارک ہے۔ اس کو کیپیٹل پارک اور F-9 پارک بھی کہتے ہیں۔ یہ پاکستان کے سب سے بڑے پارکوں میں سے ایک ہے اور پورے سیکٹر F-9 پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ نیویارک کے سینٹرل پارک سے بس کچھ ہی چھوٹا ہے۔ اسے مائیکل جیپیرو نے ڈیزائن کیا تھا اور اس کا افتتاح 1992 میں ہوا تھا۔ اس کا نام بانی پاکستان محمد علی جناح کی چھوٹی بہن مادر ملت فاطمہ جناح کے نام پر رکھا گیا۔ پارک کا زیادہ تر حصہ ہریالی پر مشتمل ہے۔ اس میں زیادہ تر وائلڈ لائف کی رہائش ہے۔ بس کچھ حصہ ہی ترقی یافتہ ہے۔ اسی ترقی یافتہ علاقے میں مک ڈونلڈز کا ریستوران قائم ہے جو کہ ہماری کہانی کا اس وقت مرکز بنا ہوا تھا۔
اس کے آؤٹ ڈور سائیڈ پر عالیہ اور نمرہ برگر کھا رہی تھیں۔ ان دونوں کو یہاں پر آئے آدھا گھنٹہ گزر گیا تھا۔ سفید رنگ کی میزوں کو لال رنگ کی چھتری سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہ دونوں اسی کے سائے تلے بیٹھی ہوئی تھیں۔
"وہ ابھی تک آیا کیوں نہیں ہے؟" عالیہ نے گھڑی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
"پتہ نہیں، شاید راستے میں ہوگا!" نمرہ نے موبائل چلاتے ہوئے کہا۔
"اس نے میرے ساتھ کیا بات کرنی ہوگی۔؟"
"یہ تو تمہیں بات کرکے پتہ چلے گا۔" اس کی نظریں ابھی تک موبائل پر جمی ہوئی تھیں۔
"تم فون پر کیا کر رہی ہو؟" عالیہ نے اس سے پوچھا۔
"بس یونہی کچھ آرٹیکل پڑھ رہی ہوں۔" نمرہ نے اسے بتایا۔
"یہ آرٹیکل چھوڑو اور میری بات غور سے سنو۔ جب آریان آئے، تو تم میرے ساتھ رہنا۔ مجھے کچھ حوصلہ ملے گا۔"
"نہیں! آپ کو حوصلہ دینے کے چکر میں، میں کباب میں ہڈی بننے کا رول ہرگز پلے نہیں کروں گی۔" نمرہ نے صاف انکار کیا۔ "اور ویسے بھی آریان میرے بارے میں کیا سوچے گا؟" عالیہ اس کی بات کا جواب دینے لگی تھی جب اس کی نظر سامنے سے آتے شخص پر پڑی۔
"نمرہ! آریان آگیا"
عالیہ کی بات سن کر نمرہ نے بھی اپنے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ وہ واقعی میں آرہا تھا۔ اس نے ہلکے بھورے رنگ کی شرٹ پر گہرے بھورے رنگ کی جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔ بال اس وقت لاپرواہی سے بکھرے ہوئے تھے۔ عالیہ کو وہ واقعی میں وجیہہ لگا۔
"ہیلو!" وہ ان دونوں کی کرسی کے بلکل پاس آگیا، تو بولا۔ نمرہ نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اپنا بیگ پکڑے خاموشی سے کھڑی ہوگئی، پھر فوراً سے پیچھے کی جانب کہیں غائب ہوگئی۔ آریان نمرہ کی کرسی پر بیٹھ گیا، پھر آرام سے عالیہ سے بات کرنے لگا۔
"کل آپ نے جو کہنا تھا آپ نے کہہ دیا۔ آج میری باری ہے۔ آپ کو اپنا دل کا حال سنانے کی کیا میں شروع کروں؟" آریان نے اس سے اجازت مانگی۔
عالیہ نے سر اثبات میں ہلا دیا۔
ان دونوں کو چھوڑ کر اگر ہم اسلام آباد میں قائم ایک عمارت کے اندر داخل ہو تو وہ ایک آفس معلوم ہوتا تھا۔ اس عمارت میں تین منزلیں قائم تھیں۔ سب سے آخری منزل میں موجود میٹینگ روم میں جاؤ، تو وہاں پر ابھی میٹینگ ہو رہی تھی۔ ایک لڑکی، جس نے زنانہ تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا، ایک پروجیکٹ کے بارے میں بریفینگ دے رہی تھی جبکہ میٹینگ روم میں موجود باقی افراد اس کی باتیں غور سے سن رہے تھے۔ سربراہی کرسی پر سیاہ آنکھوں والا شخص بیٹھا تھا۔ وہ لڑکی کی باتوں کو سن تو رہا تھا مگر دھیان نہیں دے پا رہا تھا۔ اس کے دل پر بوجھ پڑ رہا تھا۔ حالانکہ جب میٹینگ شروع ہوئی تھی، تب تک ایسا کچھ نہیں تھا لیکن اب کچھ عجیب لگ رہا تھا۔ لڑکی نے جب اپنی بریفینگ دے دی، تو خاموش ہوگئی اور سوالیہ نظروں سے اپنے باس کو دیکھا لیکن اس کا باس ابھی کچھ بولنے کی حالت میں نہیں تھا۔
"ہم کل اس بارے میں بات کریں گے۔ آپ لوگ پلیز ابھی کے لیے جائیں۔" اس کی بات سن کر سب لوگ اپنا سامان سمیٹنے لگے اور کچھ دیر بعد میٹینگ روم خالی تھا۔ وہاں پر سیاہ آنکھوں والے مرد اور رضا کے علاؤہ کوئی نہیں تھا۔
"تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے شایان؟" وہ شخص سیاہ آنکھوں والے مرد کی طرف بڑھا۔
"ہاں رضا! بس کچھ عجیب سا لگ رہا ہے۔" شایان نے اپنی ٹائی کی گرہ ڈھیلی کی۔
"کیا مطلب؟" رضا کے پوچھنے پر شایان نے اسے بتانا شروع کیا۔
********************
"ایسا لگ رہا ہے، میرے دل پر ایک بوجھ ہے۔"
(ایک سحر سا تھا، جو پورے ماحول میں پھیلا ہوا تھا۔ صاف موسم میں ڈھلتی سورج کی شعاعیں، ریستوران کے باہری حصے پر ایک تابناک ماحول بنائے ہوئے تھی جبکہ دور تک پھیلا سبزا، آنکھوں کو ٹھنڈک اور راحت دینے کا سبب بنا ہوا تھا۔ ایسے میں سفید کرسی پر بیٹھا وجیہہ مرد، سنہری آنکھوں کو دیکھتے ہوئے اپنے دل کا حال سنا رہاتھا۔
"پہلی دفعہ میں نے آپ کو اس ریستوران میں دیکھا تھا، جب آپ اپنی دوستوں کے ساتھ ڈنر کرنے آئی تھیں۔")
"اور میرے دل کا بوجھ، کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے۔"
("جب میری پہلی نظر آپ پر پڑی تھی، اس وقت آپ کے ساتھ آپ کی دوست نمرہ بیٹھی تھی۔ آپ دونوں شاید اپنی دوسری دوستوں کا انتظار کر رہی تھیں۔ میری پہلی نظر نے میرے دل کو بے اختیار کردیا۔ مجھے آپ پسند آئی تھیں، بہت زیادہ!" سنہری آنکھوں میں ایک تاثر سا جھلکا۔)
"ایسا لگ رہا ہے کوئی انہونی ہونے والی ہے۔"
("میں ریستوران میں سارا وقت آپ کو دیکھتا رہا۔ اس کے بعد جب آپ جانے لگی، تو میرا دل چاہا تھا آپ کو روکوں اور اسی وقت ویٹر نے آپ پر کافی گرا دی۔ مجھے لگا کہ قدرت نے مجھے ایک بہترین موقع دیا ہے۔"
"پھر تم میرے لیے دوا لے کر آئے تھے۔" سنہری آنکھوں والی لڑکی نے پہلی دفعہ گفتگو میں مداخلت کی۔
"آپ کے زخم پر مرہم لگانا میرا فرض تھا۔" )
"جیسے کچھ چھننے والا ہو۔ کچھ بہت اپنا! کچھ بہت خاص!"
("آپ نے پچھلی تینوں ملاقاتوں میں میرے ساتھ تھوڑا سخت رویہ رکھا، جس سے میں ہرٹ ہوا تھا۔" سنہری آنکھیں یہ بات سن کر نیچے کو جھکیں لیکن سامنے موجود شخص کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
"لیکن ان سب کا مداوا آپ کی کل کی بات نے کردیا۔" سامنے بیٹھے شخص کے ہونٹوں پر مسکان ابھری۔)
"میرا دل مجھے کچھ بتانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے اس انہونی کو ہونے سے روکو، تم اسے ابھی روک لو، لیکن سمجھ نہیں آ رہی وہ انہونی کیا ہو سکتی ہے؟"
("کل آپ نے مجھ سے کہا تھا، آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں۔ میں بھی یہی کہوں گا۔ مجھے بھی آپ سے محبت ہے۔ میں پہلی نظر میں آپ کی محبت میں گرفتار ہوا تھا۔" دونوں کی نظریں ایک پل کے لیے ٹکرائی۔
آریان نے عالیہ کا ہاتھ تھاما۔ عالیہ نے کچھ نہیں کیا۔ بس خاموشی سے آریان کی کاروائی دیکھتی رہی۔ آریان نے عالیہ کے ہاتھ سے زینب کی پہنائی ہوئی انگوٹھی اتار دی، پھر اپنی پینٹ کی جیب میں سے ڈبی نکالی۔ اس ڈبی میں ایک انگوٹھی تھی۔ شایان نے عالیہ کی انگلی میں وہ انگوٹھی پہنا دی۔ ایک پل کے لیے ساری دنیا تھم گئی۔)
"مجھے تمہاری طبیعت خراب لگ رہی ہے۔ تم میرے ساتھ ہسپتال چلو۔" رضا نے شایان کو سہارا دیا اور اپنے ساتھ لے کر میٹنگ روم سے باہر چلا گیا۔
(عالیہ اپنی انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی۔ یہ وہی ڈائمنڈ کی انگوٹھی تھی جو عالیہ نے شاپنگ مال میں دیکھی تھی اور اسے دیکھنے کے بعد اس کی آریان سے دوسری دفعہ ملاقات ہوئی تھی۔
"یہ تو بہت قیمتی ہے۔" عالیہ سمجھ نہ پائی، اسے اس وقت کیا کہنا چاہیے۔
" یہ انگوٹھی مہنگی ہے، قیمتی نہیں۔ اس انگوٹھی کو پہننے والا ہاتھ قیمتی ہے۔ اس انگوٹھی کو بس اس پتھر نے مہنگا بنایا ہے۔ اس دنیا کی قیمتی شے محبت ہے، جو تمہارے اور میرے پاس موجود ہے۔" آریان نے دوبارہ اس کا ہاتھ تھام لیا۔ وہ دونوں ہر شے سے بے نیاز ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ میز کے بلکل درمیان میں زینب کی دی ہوئی انگوٹھی پڑی تھی، جو اس وقت ایک سوالیہ نشان بن گئی تھی۔)
********************
عالیہ آریان سے ملاقات کے بعد گھر واپس آگئی۔ اس نے گھر کے اندر قدم رکھا تو اسے نوال اپنے سامنے کھڑی ملیں۔
"یونیورسٹی کا وقت تو ختم ہوگیا ہے۔ اتنی دیر کہاں لگی؟" عالیہ کے دل کی دھڑکنیں کچھ پل کے لیے مدھم ہوگئیں۔ اگر اماں کو پتہ چلا کہ وہ کہاں سے آرہی ہے تو۔۔۔
"اماں آپ تو آتے ہی شروع ہو جاتی ہیں۔" عالیہ یہ کہتی ہوئی لاؤنج کی جانب جانے لگی۔ اس نے ایک طرح سے اپنی ماں کی نظروں سے بچنے کی کوشش کی تھی۔
"میں نے کچھ پوچھا ہے عالیہ؟" نوال کی بات سن کر عالیہ نے جواب دیا۔
"میں نمرہ کے ساتھ مک ڈولنڈز چلی گئی تھی۔ سوچا وہاں جا کر لنچ کروں۔"
"تم مک ڈونلڈز گئی تھی؟" نوال نے حیرت بھرے غصے سے پوچھا۔ "تمہیں پتہ نہیں ہے کہ وہ ریستوران کس طرح اسرائیل کی مدد کر رہا ہے اور اسرائیل کے فوجیوں کو مفت کھانا فراہم کر رہا ہے۔"
نوال کا اشارہ، اسرائیل اور حماس کی موجودہ جنگ پر تھا۔ آج کل بہت سے لوگ اس مسئلے پر سر چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ انٹرنیٹ پر مک ڈولنڈز کو کافی تنقید کا سامنا تھا کہ اس کا اسرائیلی آؤٹ لٹ، اسرائیلی فوجیوں کو مفت کھانا فراہم کر رہا تھا جبکہ عالیہ کو اس مسئلے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کے نزدیک یہ معاملہ بس اسرائیلی اور عربوں کا تھا، جس میں پاکستانی خواہ مخواہ اپنا حصہ ڈال رہے تھے۔
"اماں اگر مک ڈولنڈز والے واقعی میں یہ سب کر رہے ہیں، تو بھی ہمارا ان سب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ پاکستانیوں کا نہیں، عربوں کا مسئلہ ہیں۔ بہتر ہے جن ممالک کا معاملہ ہیں، وہ لوگ خود اسے حل کریں۔"
"یہ معاملہ عربوں یا کسی ملک کا نہیں بلکہ انسانیت کا معاملہ ہے۔ یہ مسجد اقصیٰ کا معاملہ ہے، ہمارے قبلے کا معاملہ! اور تم کہہ رہی ہو کہ یہ ہمارا معاملہ نہیں ہے۔" عالیہ کی بات سن کر نوال حیران ہوئی تھیں۔
" ہاں تو ٹھیک کہہ رہی ہوں۔ وہ لوگ اگر چاہیں، تو پر امن طریقے سے رہ سکتے ہیں لیکن اب اگر وہ لڑائی جھگڑا کر رہے ہیں، تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم لوگوں نے فلسطینیوں اور کشمیریوں کو بس اوور ریٹڈ کیا ہوا ہے۔" عالیہ یہ کہہ کر اوپر چلی گئی جبکہ نوال نے اپنی بیٹی کی ذہنیت پر ماتم کیا۔ عالیہ اپنے کمرے میں آگئی اور بیڈ پر لیٹ گئی۔ وہ آریان کے پرپوز کرنے پر کتنا خوش تھی، لیکن اماں نے اس کا سارا موڈ خراب کر دیا۔ پتہ نہیں پاکستان میں سب کو فلسطینی اور کشمیری کیوں مظلوم لگتے ہیں؟ اگر وہ چاہتے تو خاموشی سے معاہدہ کرکے رہ سکتے تھے لیکن انہیں ہیرو بننے کا شوق تھا۔ عالیہ کے نزدیک اس کی سوچ سہی تھی، جیسے ہر ایک شخص کو لگتی ہے۔ وہ اسی بارے میں سوچے چلے جا رہی تھی۔
********************
اگلے دن جائی یانہ اور نائلہ، یونیورسٹی کی راہداری میں ایک ساتھ چلتے ہوئے باتیں کر رہی تھیں۔ اسی وقت جائی یانہ نے زید کو اپنی جانب آتا دیکھا۔
"مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔ میرے ساتھ چلیں!" زید جائی یانہ کے پاس آکر فوراً بولا۔ نائلہ سمجھ گئی کہ ان دونوں نے کوئی ضروری بات کرنی ہے، اس لیے اس نے جائی یانہ کو کہا۔
"میں تمہارا میدان میں انتظار کر رہی ہوں۔ تم جب فارغ ہو جاؤ، تو وہی آجانا۔" یہ کہہ کر نائلہ آگے بڑھ گئی۔ اس کے چلے جانے کے باوجود جائی یانہ وہی کھڑی رہی۔
"تم نے جو بھی بات کرنی ہے، یہیں سب کے سامنے کرو۔" اس نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
"یہاں پر سب موجود ہیں۔" اس نے اپنے آس پاس لوگوں کی طرف دیکھ کر کہا۔
"اسی لیے تو کہہ رہی ہوں۔ تمہارے اور میرے درمیان ایسی کوئی بات نہیں ہے، جو سب سے چھپائی جائے۔ تمہارے اور میرے درمیان کوئی رشتہ بھی نہیں ہے، جو میں تمہارے ساتھ کہیں بھی چل دوں۔ اس لیے یہی سب کے سامنے بات کرو۔"
"آپ میری نیت پر شک کر رہی ہیں؟" زید نے اس سے پوچھا۔
"میں اپنی عزت کا دھیان رکھ رہی ہوں۔ اگر ایک ممکنہ حادثے کے خوف سے، حواس باختہ ہوکر کچھ دیر کے لیے تمہیں اپنا ہمدرد مان کر تم سے بات کی، تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ میں کسی بھی لڑکے پر اندھا اعتماد کر لیتی ہوں۔ اس لیے سب کے سامنے مجھ سے بات کرو۔" زید سمجھ گیا کہ جائی یانہ سے بحث کرنا فضول ہے۔ اس لیے وہ کام کی بات پر آیا۔
"کیا آفتاب والے معاملے میں آپ کا ہاتھ ہے؟"
"تمہیں کیا لگتا ہے؟" جائی یانہ نے سوال کے جواب میں سوال کیا۔
"مجھے پتہ ہے ان کے پیچھے آپ ہی ہیں۔"
"اگر پتہ ہے، تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو؟" جائی یانہ دو بدو جواب دے رہی تھی۔ اسے زید کے کل والے رویے پر ابھی تک تپ چڑھی ہوئی تھی۔
"میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے ان سب میں مس صبا کو کیسے شامل کیا؟ پوری یونیورسٹی میں یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ مس صبا نے سر آفتاب کو یونیورسٹی سے نکال دیا ہے مگر وجہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔"
" میں نے مس صبا کو شامل نہیں کیا بلکہ وہ خود ان سب میں شامل ہوئی تھیں۔ اس سے آگے میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہوں گی۔ کچھ باتیں راز ہی رہنی چاہیے۔"
اتنا کہہ کر جائی یانہ آگے بڑھ گئی جبکہ زید پیچھے کھڑا رہ گیا۔
*******************
کچھ ماہ بعد
فجر قضا ہوئے کچھ ساعتیں ہی گزری تھیں۔ سورج کی کرنیں ایک نئی امید کی طرح اپنے اردگرد پھیلے اندھیرے کو دور کر رہی تھی۔ ایسے میں اسلام آباد کے ایک پارک میں بنے جاگنگ ٹریک پر ہماری کہانی کا کردار جاگنگ کر رہا تھا۔ سرمئی ٹریک سوٹ میں ملبوس، اس کے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔ کانوں میں ائیر پوڈ لگا ہوا تھا۔ وہ اپنے آس پاس کے جہاں سے بالکل بے نیاز تھا۔ سیاہ رنگ کی آنکھوں میں اس وقت اطمینان ہی اطمینان تھا۔ اچانک اسے اپنے موبائل پر میسج موصول ہوا۔ اس نے موبائل کی اسکرین پر دیکھا تو اسے اس کی ماں نے میسج کیا تھا۔
"شایان! پارک سے آتے ہوئے کچھ سامان بھی لیتے ہوئے آنا۔ میں ابھی لسٹ سینڈ کرتی ہوں۔"
ایک مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر رینگ گئی۔ یہ مسکراہٹ کوئی خاص مسکراہٹ نہیں رہی تھی بلکہ یہ مسکراہٹ اب ایک معمول کی طرح شایان کے چہرے پر سج جایا کرتی تھی۔ اب موقع محل کے علاؤہ بھی شایان کے قریبی اس کی مسکراہٹ دیکھ سکتے تھے۔
شایان نے اچھا لکھ کر سینڈ کردیا، پھر دوبارہ جاگنگ میں مشغول ہوگیا۔ اس کا ذہن گزرے ہوئے مہینوں کو یاد کرنے میں مشغول تھا۔ جب کچھ مہینے پہلے اسے وہم اور وسوسے ہورہے تھے، تب رضا اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تھا۔ ڈاکٹر کے مطابق اس کی یہ حالت بس زیادہ اسٹریس لینے کی وجہ سے ہوئی تھی۔
اس نے پھر ان سب باتوں پر دھیان دینا چھوڑ دیا اور اپنے کام میں مشغول رہنے لگا۔ اسے وہ دن بھی اچھے سے یاد تھا جب عالیہ کے امتحانات ختم ہونے کے ایک دن بعد وہ لوگ اشفاق کے گھر گئے تھے۔ اس کی ماں نے اسی دن ماموں سے شادی کی تاریخ لے لی تھی۔ اب عالیہ اور اس کی شادی میں بس ایک ہفتہ رہ گیا تھا۔ ایک ہفتے بعد عالیہ کے نام کے ساتھ اس کا نام شامل ہوجائے گا۔ ایک ہفتہ۔۔۔۔!
مسکراہٹ دوبارہ شایان کے چہرے پر سج گئی۔ وہ اسی بارے میں سوچتا سوچتا ٹریک پر سے بہت آگے نکل گیا پھر وہ نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔
ایک تیز ہوا کا ٹھنڈا سا جھونکا گزرا اور ہماری کہانی کا منظر بدل گیا۔ اب سامنے اشفاق صاحب کا گھر ایک رعب کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ گھر کے اندر داخل ہو کر سیدھا ایک کمرے کے اندر آؤ، تو اس وقت ایک نفوس کہیں جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ اس کی رنگت سانولی اور آنکھیں بھوری تھیں۔ اس کے بال جو کندھے تک آتے تھے، وہ اس وقت کھلے ہوئے تھے۔ شلوار قمیض میں ملبوس، جائی یانہ اپنی یونیورسٹی جانے کے لیے تیار تھی۔ اس نے اپنا بیگ بیڈ پر سے اٹھایا اور کتابیں چیک کرنے لگی۔ کتابیں چیک کرتے ہوئے اسے گزرے ہوئے مہینے، ایک خلاصے کی طرح ذہن پر سے گزرتے دکھائی دے رہے تھے۔
سر آفتاب کا معاملہ نپٹ جانے کے بعد اس کی زندگی نارمل ہوگئی تھی۔ وہ اب اپنے دوسرے سمیسٹر میں آگئی تھی۔ پچھلے سمیسٹر میں اس نے ٹاپ کیا تھا۔ زید سے اب اس کا سامنا بلکل نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔ اگر کبھی دونوں، ایک دوسرے کو دیکھ بھی لیتے تو نظر انداز کرکے آگے بڑھ جاتے۔ زید اور جائی یانہ نے اپنے بڑھتے قدم صحیح وقت پر روک لیے تھے۔
جائی یانہ کے فون پر اسی وقت میسج آیا۔ اس نے فون اٹھا کر دیکھا تو نائلہ کا میسج تھا۔ نائلہ نے اس سے کچھ پوچھا تھا۔ جائی یانہ میسج دیکھ کر مسکرائی۔ ان دونوں کی ان کچھ مہینوں میں کافی اچھی دوستی ہوگئی تھی۔
وہ نائلہ کو جواب دیتے ہوئے کمرے میں سے باہر نکل گئی۔ راہ داری سے گزرتے ہوئے اس کا گزر عالیہ کے کمرے کے دروازے سے بھی ہوا۔ جائی یانہ آگے بڑھ گئی مگر منظر اب کمرے کے بھورے دروازے پر ٹک گیا۔
ہم اس بند دروازے کو پار کرکے اندر کی طرف جائیں، تو اس وقت کمرے میں موجود عالیہ اپنا بستر ٹھیک کر رہی تھی۔ بستر ٹھیک کر لینے کے بعد وہ واشروم کے اندر گئی اور واش بیسن کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اس نے منہ پر چھینٹے مارے اور اپنا عکس دیکھا۔ ان چند مہینوں میں عالیہ کی ظاہری حالت ایک حد تک بدل گئی تھی۔ لمبے بال، اب اسٹیپس کی صورت میں کٹ گئے تھے۔ اس کے بالوں کا رنگ اوپر سے بھورا جبکہ نیچے سے لال مائل ہوگیا تھا۔ وہ پہلے سے زیادہ حسین ہوگئی تھی لیکن اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے بھی واضح دکھائی دینے لگے تھے۔
عالیہ کی نظریں اپنے حلقوں پر گئی تو اسے یکدم آریان یاد آیا۔ یہ حلقے اس کی اور آریان کی روزانہ رات کو گھنٹوں تک فون پر بات کرنے کا نتیجہ تھے۔ ان معمولات میں آریان سے بات کرنا، اس کے لیے لازم تھا۔ ہفتے میں ایک بار وہ دونوں ایک دوسرے سے ملتے بھی تھے۔ عالیہ کے مطابق ان دونوں کا رشتہ گزرے ہوئے مہینوں میں بہت مضبوط ہوگیا تھا۔ آریان ہی نے اس کو اپنے بال کٹوانے اور ڈائی کروانے کا کہا تھا۔ عالیہ نے بغیر بلاتامل کے اس کی بات مانی تھی۔ عالیہ کے لیے آریان بہت اہمیت کا حامل بن گیا تھا۔ وہ اس کی کسی بات پر انکار نہیں کرتی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ واش روم سے باہر نکل آئی اور اپنے بالوں کی پونی بنانے لگی۔ نچلی منزل سے آتی ناشتہ پکنے کی خوشبو، عالیہ کے کمرے کو مہکا رہی تھی۔ ان خوشبوؤں کا پیچھا کرتے ہوئے اب اگر ہم کچن میں جائیں، تو عزاہ کچن میں موجود سب کے لیے پراٹھے بناتی دکھائی دیتی۔
عزاہ کو ڈائننگ ہال سے اپنے ماں باپ کی باتوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ عزاہ کا چہرہ ان دونوں کی باتیں سنتے ہوئے اترا ہوا لگتا تھا۔ عزاہ کے ان گزرے ہوئے مہینوں میں بہت سے لوگ دیکھنے آئے مگر اس کے لیے یہ سب ایک بیروزگار کا جگہ جگہ نوکری کے لیے انٹرویو دینے جیسا تھا۔ اس کے کام کی نوعیت تھوڑی مختلف تھی۔ عزاہ کا انٹرویو آئے دن مختلف لوگ لینے آتے۔ وہ چائے کی ٹرے پکڑے ان کے سامنے پیش ہوتی۔ اپنی ڈگری اور اپنے بارے میں مختصر لیکن بامعنی انٹرویو دیتی۔ وہ لوگ اسے دیکھتے اور سوچ میں پڑ جاتے کہ آیا یہ لڑکی ہمارے گھر کی بہو بننے کے لائق ہے یا نہیں۔ جن لوگوں کے نزدیک عزاہ ان کے گھر کی بہو کے معیار پر پورا نہ اترتی تو وہ جلد جواب دینے کا کہہ کر چلے جاتے، پھر مڑ کر نہ دیکھتے تھے۔ جنہیں عزاہ پسند آجاتی تو انہیں بابا ریجیکٹ کر دیتے۔
نوال کی تمام تر کوششوں کے باوجود عزاہ کا رشتہ کہیں طے نہیں ہو پایا تھا۔ نوال چاہتی تھیں کہ دونوں بیٹیوں کی ایک ساتھ شادی کروا دیں لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا تھا کیونکہ عالیہ کی شادی میں اب بس ایک ہفتہ باقی رہ گیا تھا۔
نوال ابھی بھی اشفاق کو کل آنے والے ایک رشتے کے بارے میں بتا رہی تھیں۔ مہمانوں نے کل عالیہ کو دیکھ لیا تھا اور اب ان کی خواہش تھی کہ ان کے بیٹے کی بات عزاہ کی بجائے عالیہ سے پکی ہو جائے۔ عزاہ کو کبھی بھی کسی ریجیکشن پر اتنا دکھ نہیں ہوا تھا، جتنا اس بار ہوا تھا۔
اب ہم اگر ڈائننگ ہال میں آئیں، تو نوال کرسی پر بیٹھی یہی تفصیلات دے رہی تھیں۔ ایسے میں جائی یانہ بھی اپنی کرسی پر بیٹھی، ڈبل روٹی پر مکھن لگا رہی تھی۔
"عزاہ نے تو مجھے پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔" اماں کی آواز کچن تک پہنچی تھی، جس نے ایک مرجھائے ہوئے چہرے کو مزید مرجھا دیا تھا۔
"بجو پر نام نہ لگائیں۔ آپ خود ہی بے وجہ پریشان ہو رہی ہیں۔ بجو کی جب شادی ہونی ہوگی، ہوجائے گی۔" جائی یانہ فوراً بولی۔
"جائی یانہ آپ خاموشی سے کھانا کھاؤ۔ بڑوں کی باتوں میں نہیں بولتے ۔" اشفاق نے نرم مگر دو ٹوک لہجے میں جائی یانہ کو منع کیا۔ جائی یانہ خاموش ہوگئی۔
کچھ لمحات بعد جب سب ناشتہ کر رہے تھے تو نوال کو ایک بات یاد آئی۔
"میری ام ہانی سے بات ہوئی تھی۔ وہ بتا رہی تھی کہ وہ مہندی سے دو دن پہلے پہنچے گی۔"
اشفاق نے ان کی بات سن کر سر تھوڑا اوپر کیا۔
"وہ اتنی دیر سے کیوں آ رہی ہے؟"
"آپ جانتے تو ہیں، عیسیٰ مصروف آدمی ہے۔ اوپر سے فلائٹس کا بھی مسئلہ ہے۔"
عیسیٰ کا نام سن کر جائی یانہ نے پوچھا۔
"عیسیٰ بھی ساتھ آئے گا؟" عیسیٰ عالیہ کی منگنی کے کچھ دن بعد ہی امریکہ واپس چلا گیا تھا۔
"ہاں تو ظاہر سی بات ہے۔ ام ہانی اتنا لمبا سفر اکیلے کیسے کرے گی؟" نوال کی بات سن کر جائی یانہ کا منہ بن گیا۔ اسے عیسیٰ ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ ناشتہ ختم کرلینے کے بعد جائی یانہ یونیورسٹی جانے کے لیے کھڑی ہوگئی۔ نوال نے اسے یونیورسٹی جاتے دیکھ کر ٹوکا۔
"بہن کی شادی میں بس ہفتہ رہ گیا ہے اور تمہارے یونیورسٹی کے چکر ختم نہیں ہو رہے۔"
"اماں بس آج یونیورسٹی جا رہی ہوں۔ اس کے بعد میں آپی کی شادی کے بعد جاؤں گی۔" یہ کہہ کر جائی یانہ روانہ ہوگئی۔
********************
زینب لان میں ٹہلتی ہوئی فون پر درزی سے بات کر رہی تھیں۔ "برائیڈل ڈریس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں آنی چاہیے۔ اگر تم نے کوئی نقص چھوڑا تو میں تمہارے پیسے کاٹوں گی۔ "
زینب ابھی بات کر رہی تھیں کہ نمرہ بھی گھر سے باہر نکل کر ان کی جانب چل پڑی۔ ماں کو بات کرتا دیکھ کر نمرہ رک گئی اور لان میں رکھی کرسیوں پر بیٹھ کر ان کی کال ختم ہونے کا انتظار کرنے لگ گئی۔ جب زینب کی بات ختم ہوئی، تو وہ بھی نمرہ کی ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئیں۔
"کس سے بات کر رہی تھیں؟" نمرہ کے پوچھنے پر زینب نے جواب دیا۔
"درزی سے بات کر رہی تھی۔ شادی سر پر کھڑی ہے اور اس سے ابھی تک برائیڈل ڈریس ہی تیار نہیں ہوا۔"
زینب نے پھر نمرہ سے پوچھا۔
"تم نے اپنے کپڑے تیار کر لیے ہیں نا؟"
"جی ماما میرے سارے فنکشن کے کپڑے تیار ہیں۔ بس اب جیولری رہ گئی ہے۔ وہ بھی آج یا کل میں لے آؤں گی۔"
"ہمم گڈ آج یا کل میں لے آنا۔"
"آپ کو نہیں لگتا، آپ نے بھائی کی شادی میں کچھ جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے۔" نمرہ کی بات سن کر زینب مسکرائیں۔
"تم اسے جلد بازی کہہ رہی ہو؟ میرا تو دل تھا کہ جب ہم عالیہ کا رشتہ لے کر بھائی کے گھر گئے تھے، اسی دن ان دونوں کا نکاح کروا دوں۔ لیکن خیر!"
زینب اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئیں۔
"میں ایک دفعہ دوبارہ کہہ رہی ہوں۔ اپنی تیاری مکمل رکھنا۔ ایسا نہ ہو رات کو تمہارے بھائی کی برات جانی ہو اور دوپہر کو تم، بازار میں آوارہ گردی کرتی دکھائی دو۔"
یہ کہہ کر زینب چلی گئیں۔ نمرہ اپنی جگہ پر بیٹھی زینب کو جاتا دیکھتی رہی۔ اس کی نظروں کا ارتکاز فون کال نے توڑا۔ وہ میز پر پڑے موبائل کو کچھ دیر دیکھتی رہی، پھر اس نے کال ریسیو کر لی۔
*********************
اگر صبح کے گیارہ بجے ایک ریستوران میں آؤ، تو عالیہ اور آریان اس وقت بحث کر رہے تھے۔ یہ وہی ریستوران تھا جہاں ان دونوں کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ آریان کے پرپوز کرنے کے بعد سے وہ دونوں اسی ریستوران میں ملا کرتے تھے۔
"تم جانتے ہو میری شادی میں ایک ہفتہ رہ گیا کے لیکن پھر بھی تم اپنی ماما کو میرے لیے منا نہیں سکے۔" عالیہ کی دبی دبی غراہٹ اس وقت ریستوران میں گونج رہی تھی۔ صبح کے وقت یہاں پر لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔
"میں کیا کر سکتا ہوں یار؟ وہ ماننے کو ہی نہیں ہیں۔" آریان نے بے بسی سے کہا۔
"اگر وہ مان نہیں رہیں، تو تم نے مجھے کیوں بلایا ہے؟ انہیں جا کر مناؤ۔ کیا تم ابھی تک حالات سمجھ نہیں پائے؟ میری اگلے ہفتے شادی ہے۔ اگلے ہفتے! تمہیں کیا لگتا ہے یہ سب کوئی مذاق ہے۔"
"یار تم غصہ تو نہ کرو۔ میں پہلے ہی خاصا پریشان ہوں۔ تم کسی دن طعنے نہیں دو گی، تو مر نہیں جاؤ گی۔"
"میں بھی خوشی سے تم پر نہیں چلّا رہی ہوں۔ آج بھی میری اماں نے مجھ پر اتنا غصہ کیا ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں شادی سر پر ہے اور میرا باہر گھومنا پھرنا بند نہیں ہو رہا ہے۔ ایک دو دن بعد میرا گھر سے باہر نکلنا بالکل بند ہوجائے گا۔ تم مجھے بتاؤ پھر میں کیا کروں گی۔ مجھے یہ سوچ سوچ کر پریشانی ہو رہی ہے کہ اگر تم کچھ نہ کر پائے, تو مجھے شایان سے شادی کرنی پڑ۔۔۔۔" عالیہ کی بات کو آریان نے کاٹا۔
"تم اس شخص کا نام میرے سامنے مت لیا کرو۔ میں نے ہزار دفعہ کہا ہوا ہے۔" آریان کے لہجے میں کاٹ تھی۔
"اگر تم کچھ نہ کر پائے، تو کچھ دنوں بعد اس "شخص" کا نام میرے نام کے ساتھ ہوگا۔"
عالیہ نے بھی اسے اسی لہجے میں جواب دیا۔ آریان کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے۔ اس نے عالیہ کا ہاتھ تھاما اور اپنی گرفت میں لیا۔
"عالیہ کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے؟"
اس کے یوں کہنے پر وہ کچھ نرم پڑی۔
"مجھے تم پر بھروسہ ہے لیکن میں ڈرتی ہوں اگر ہماری شادی نہ ہو پائی تو؟"
"تم ڈرو نہیں۔ میں تمہارا ہوں اور تمہارا ہی رہوں گا۔ ہمیں کوئی الگ نہیں کر سکتا ہے۔"
عالیہ کا غصہ اب بالکل غائب ہوگیا تھا۔ وہ اس شخص کے لیے نرم پڑ جاتی تھی۔ آریان اب اسے تسلی دے رہا تھا اور عالیہ آنکھوں میں نرمی لیے اس کی باتیں سن رہی تھی۔ اس کی باتوں پر یقین کیے جا رہی تھی۔
*********************
مغرب کو قضا ہوئے بس کچھ لمحات ہی گزرے تھے۔ ایسے میں حسن صاحب کے گھر میں داخل ہو تو، زینب اپنے کمرے میں موجود شادی میں جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ اس کی تیاری تقریباً مکمل تھی۔ آنکھوں میں کاجل لگائے اور نفیس سا جوڑا پہنے، وہ تیار تھی۔ ان کے ہاں، کنواری لڑکیاں بس اتنا ہی تیار ہوا کرتی تھیں۔ سیاہ آنکھوں پر سیاہ کاجل بھلا سا لگتا تھا۔ زینب اچھی تو لگ رہی تھی مگر اس کا چہرہ لٹکا ہوا تھا۔ زبردستی جو جا رہی تھی۔
"زینب جلدی آ جاؤ!" کمرے کے باہر سے اس کی چچی کی آواز آئی۔ زینب نے اپنا پرس پکڑا اور باہر نکل گئی۔ برآمدے میں مریم چچی اور ام ہانی، دونوں تیار کھڑے تھے۔ زینب کو آتا دیکھ کر، وہ بھی باہر کی جانب بڑھ گئے۔
کچھ لمحات بعد وہ لوگ ایک گھر پر موجود تھے۔ رات کے بڑھتے اندھیرے میں وہ گھر روشنیوں سے نہایا ہوا لگ رہا تھا۔ آج وہاں ولیمے کی دعوت تھی۔ پورے گھر میں لوگ ادھر ادھر پھرتے دکھائی دے رہے تھے۔ گھر کے برآمدے میں رکھی مرکزی کرسی پر دلہن بیٹھی تھی۔ دلہن نے ہرے رنگ کی کڑھائی والی قمیض پر گھاگرا پہنا ہوا تھا۔ اس پر بھاری سونے کے زیور، دلہن نے پہنے ہوئے تھے۔ دلہن کا چہرہ گھونگھٹ میں چھپا ہوا تھا۔ وہ اس وقت ساری عورتوں کی توجہ کا مرکز تھی۔
کچھ بزرگ عورتیں اس کے پاس جا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دے رہی تھیں، تو کچھ عورتیں اسے سلامی دے رہیں تھیں۔ مریم بھی ان عورتوں میں شامل تھیں۔ انہیں دعوت ولیمہ کا کارڈ ہی موصول ہوا تھا۔ ام ہانی اپنی کزنوں کے ساتھ ادھر اُدھر گھوم رہی تھی۔ ایسے میں ہم اگر زینب کو ڈھونڈیں، تو وہ اس وقت ایک کرسی پر بیٹھی تھی جو مرکزی میز کا حصہ تھی۔ اس کے پیچھے والی میز پر بیٹھی چند عورتیں، اس کے بارے میں ہی باتیں کر رہی تھیں۔
"تمہیں پتہ ہے یہ احمد کی بیٹی ہے۔"
"اچھا انور بھائی کے بیٹے احمد کی بیٹی، جس کی پیدائش پر اس کے ماں باپ مر گئے تھے۔"
"ہاں ہاں وہی لڑکی!"
"احمد اور پروین بھی اپنی بہت کم عمر لکھوا کر آئے تھے۔"
"ضرور یہ لڑکی منحوس ہے ورنہ احمد اور پروین کی عمر ہی کیا تھی۔"
"بس اللّٰہ ایسی منحوست سے سب کو دور رکھے!"
زینب اپنے پیچھے بیٹھی مختلف عورتوں کے خود پر ہوتے مختلف تبصرے سن رہی تھی۔ زینب کو اس لیے خاندان میں ہونے والی تقریبات بری لگتی تھی۔ کوئی بھی اس کے ساتھ بات نہیں کرتا تھا اور اس کے متعلق ایسی ہی چہ مگوئیاں ہوتی تھیں۔ کچھ لوگ اسے منحوس جان کر حقارت سے دیکھتے تھے، تو کچھ ہمدردی سے دیکھتی تھی۔ زینب کو ان دونوں قسم کی نظروں سے نفرت تھی۔
وہ ابھی ان عورتوں کی باتوں کو سن کر دل ہی دل میں کڑھ رہی تھی جب مریم چچی نے اسے اشارہ کرکے اپنے پاس بلایا۔ زینب اٹھ گئی اور ان کی جانب بڑھی۔ وہ جیسے ہی مریم کے پاس گئی، انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور ایک دوسری میز پر لے گئیں۔ وہاں پر ایک بزرگ عورت بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کے پاس ایک پان دان تھا جس پر سے وہ پان کا پتہ نکال کر کتھا لگا رہی تھی۔
"السلام علیکم پھپھو!" مریم نے انہیں مخاطب کیا۔
اس عورت کے پان پر کتھا لگاتے ہاتھ رک گئے۔ انہوں نے فوراً نظریں اٹھائیں۔ بزرگ عورت نے اپنے سامنے کھڑی بھتیجے کی بیوی کو دیکھا، پھر اس کے ساتھ کھڑی سیاہ آنکھوں والی لڑکی کو۔ انہوں نے سلام کے جواب میں اپنے سر کو خم دیا۔ مریم نے زینب کا ہاتھ دبا کر اسے بھی سلام کرنے کا اشارہ کیا۔
"السلام علیکم!" زینب کے سلام کے جواب پر سر کو خم نہیں دیا گیا بلکہ بیٹھنے کی اجازت دی گئی۔
"آؤ مریم بیٹھو!" مریم اور زینب بیٹھ گئیں۔
"کیسی ہیں پھپھو؟" مریم نے حال احوال پوچھا۔
"کیسے ہوسکتے ہیں؟ اب تو بس دن گن رہے ہیں۔" پھپھو نے نہایت عاجزی سے کام لیا۔
"پھپھو ایسی باتیں تو نہ کریں۔ اللّٰہ آپ کو ہماری عمر بھی لگا دے۔" مریم کی بات سن کر وہ مسکرا دیں۔ پھر ان کا دھیان سامنے بیٹھی لڑکی پر گیا۔
"یہ تمہاری بیٹی ہے مریم؟" پھپھو کی بات سن کر مریم چچی نے دھیمے سے سر کو نفی میں ہلایا۔
"نہیں پھپھو! ویسے کہنے کو تو یہ میری ہی بیٹی ہے لیکن اصل میں یہ پروین اور احمد بھائی کی بیٹی ہے۔" احمد کا نام سن کر بزرگ عورت کاچہرہ یکدم رنجیدہ ہوگیا۔
"کیا یاد دلا دیا تم نے مریم! بہت اچھا بچہ تھا احمد! میرے بھائی کی سب سے بڑی اولاد! بس اس کی عمر دھوکا دے گئی۔" اب وہ عورت اپنے ڈوپٹے کے پلو سے آنکھیں صاف کرنے لگ گئیں۔
"آپ صحیح کہہ رہی ہیں۔ بھائی اور باجی تو چلے گئے لیکن جاتے جاتے ایک بڑی زمہ داری ہمارے کندھوں پر چھوڑ گئے۔" مریم اب اپنی مطلب کی بات کہنے کا راستہ بنا رہی تھیں۔
"بس پھپھو آپ کا احمد تو چلا گیا ہے لیکن اس کی بیٹی تو زندہ ہے نا۔ آپ کے پاس اس لیے آئی ہوں تاکہ اپنی کچھ پریشانی بانٹ سکوں۔"
"ہمم بولو بیٹا میں سن رہی ہوں!" بزرگ عورت نے انہیں حوصلہ دیا۔
"اب آپ دیکھیں میں لاکھ اسے اپنی بچی کہہ دوں مگر اصل میں تو یہ میری بیٹی نہیں ہے۔ لڑکی کی ذمہ داری بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے، جو میں اور حسن کب سے اٹھا رہے ہیں۔ اگر اس کے ساتھ کوئی بھی اونچ نیچ ہوئی تو ہمارے اوپر ہی الزام آئے گا۔ اس لیے اب میں چاہتی ہوں کہ اس کی شادی کروا دوں۔ آپ کے پاس اس لیے آئی ہوں تاکہ آپ زینب کی بات ادھر ادھر چلائیں۔ میں جلد از جلد اس ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتی ہوں۔" وہ عورت کچھ دیر کے لیے سوچ میں پڑ گئیں۔
"ہمم دیکھیں گے۔ تم فکر نہ کرو میں جیسے ہی کوئی اچھا خاندان دیکھوں گی فوراً اس کی بات طے کر دوں گی۔" پھپھو نے پان کے پتے پر سونف اور چھالیہ ڈال کر منہ میں لیا۔ پھر قدرے تجسس سے پوچھا۔
"تم نے اپنی بیٹیوں کے بارے میں کیا سوچا ہے؟"
" نوال کی منگنی تو پروین باجی، اشفاق سے کر گئی تھیں اور ام ہانی کی شادی والی عمر نہیں ہوئی۔ بس آپ زینب کے لیے کوئی رشتہ تلاش کر لیں۔"
زینب کا دماغ مریم کی بات سن کر بھک سے اڑا۔ اس لیے اشفاق بھائی، مریم چچی کے اتنے چہیتے تھے کیونکہ وہ ان کے ہونے والے داماد جو تھے۔ نوالذ! نوال اس کی بھابھی بنے گی۔ ویسے یہ بات اتنی بھی برا نہیں تھی۔ اگر نوال کی جگہ ام ہانی اس کی بھابھی بنتی تو یہ زیادہ پریشانی کی بات تھی۔ پھر تو اسے یقین تھا وہ اپنے بھائی کا چہرہ دیکھنے کے لیے ترس جاتی۔ خیر چچی نے جس آنٹی کے سامنے یہ بات کی تھی، وہ بھی مریم کی شکل دیکھ رہی تھیں۔ شاید وہ بھی چچی کی منافقت سمجھ گئی تھیں۔ شادی کی تقریب میں آگے کچھ ایسا نہیں ہوا جو زینب کے لیے قابل ذکر ہو۔
********************
رات کے وقت ہر کوئی بستر میں دبکا ہوا تھا۔ عالیہ بھی اپنے بستر پر لیٹی نمرہ سے واٹس ایپ پر بات کر رہی تھی۔
"آریان ابھی تک اپنی ماں کو منا نہیں سکا! مطلب سیریسلی؟" نمرہ کا میسج عالیہ کو موصول ہوا تھا۔ عالیہ نے ابھی ابھی نمرہ کو آریان کی ماں کی ناراضگی کا بتایا تھا۔
"ہاں! آج میری اور آریان کی اسی وجہ سے لڑائی بھی ہوئی ہے۔" عالیہ نے میسج ٹائپ کرکے سینڈ کیا۔
"ہمم عالیہ تم اسے آرام سے پریشرائز کرتی رہو۔ اس وقت لڑائی جھگڑے میں نہ پڑو۔ ایسا نہ ہو وہ عین وقت پر تم سے شادی سے انکار کردے۔"
"تم میری حالت بھی تو دیکھو۔ گھر میں شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ شادی میں بس ایک ہفتہ رہ گیا ہے اور آریان ابھی تک اپنی ماما کو منا نہیں سکا۔ یہ سارے حالات مجھے مینٹلی طور پر ڈیپریسڈ کر رہے ہیں۔"
کچھ پل کے لیے نمرہ کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ جب بہت زیادہ دیر ہوگئی، تو عالیہ نے خود نمرہ سے پوچھا۔
"کیا ہوا؟ کہاں غائب ہوگئی ہو؟" عالیہ نے نمرہ سے پوچھا۔ اس کے میسج بھیجنے کے کچھ دیر بعد نمرہ نے جواب دیا۔
" کہیں نہیں! بس میں سوچ رہی تھی کہ اگر اللّٰہ نہ کرے کہ تمہاری شادی آریان کی بجئے شایان بھائی سے ہوگئی اور شایان بھائی کو پتہ چل گیا کہ شادی سے پہلے تم آریان کے ساتھ انوالو تھی، تو وہ تمہارا کیا حشر کریں گے؟"
"کیسی فضول باتیں کر رہی ہو؟ اللّٰہ نہ کرے ایسا کچھ ہو ورنہ پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔" عالیہ اس لمحے کو سوچ بھی نہیں پا رہی تھی۔
"عالیہ تم آریان پر دباؤ ڈالتی رہو۔ اسے بولو کہ وہ کسی طرح اپنی امی کو منائے۔ اگر تمہاری شایان بھائی سے شادی ہوگئی، تو ہمارے خاندان میں بہت بڑی تباہی آ جائے گی۔"
"ہمم! میں یہی کروں گی۔"
"ویسے آریان کی امی کا راضی ہونا اتنا ضروری بھی نہیں ہے۔ تم لوگ کورٹ میرج بھی تو کر سکتے ہو۔ اس کے بعد آریان کی ماما کو رضا مند کر لینا۔" نمرہ کا میسج پڑھ کر عالیہ اسے جواب دینے والی تھی جب نمرہ کا خود ہی دوبارہ میسج آیا۔
"میں اب سو رہی ہوں۔ کل بات کریں گے۔" اس نے بس اتنا لکھا اور فوراً آف لائن ہوگئی۔
عالیہ موبائل ایک طرف رکھ کر سوچنے لگی۔ نمرہ صحیح کہہ رہی تھی اگر عالیہ لڑکی ہوتے ہوئے اپنے ماں باپ کی چوکھٹ کو چوری چھپے پار کر سکتی ہے تو آریان کیوں نہیں؟ وہ تو ایک لڑکا ہے۔ اس کے لیے تو یہ سب بہت آسان ہے۔ ماں باپ لڑکیوں کی شکل بھلے ساری عمر نہ دیکھیں، مگر لڑکوں کو معاف کر ہی دیا جاتا ہے لیکن اگر آریان نہ مانا تو؟ اگر اس نے شادی سے منع کردیا تو؟ پھر کیا اسے واقعی میں شایان سے شادی کرنی پڑے گی؟
عالیہ جانے کس پہر یہ باتیں سوچتے سوچتے سو گئی۔
**********************
اگلے دن شام کو عالیہ گھر پر تنہا تھی۔ سب شاپنگ پر گئے ہوئے تھے۔ اس نے یہ وقت آریان سے بات کرنے کے لیے مناسب سمجھا۔ اس نے آریان کو کال کی۔ اگلی بیل جاتے ہی کال اٹھا لی گئی۔
"کام کر رہے ہو؟" عالیہ نے سب سے پہلے یہ سوال کیا۔
"نہیں تو!" آریان کے کہنے پر عالیہ نے سکھ کی سانس بھرا۔ کم از کم اب وہ آریان سے سکون سے بات کرسکتی تھی۔
"آریان اب میں تم سے کچھ ضروری سوالات پوچھوں گی اور میں چاہتی ہوں کہ تم مجھے ان کے سنجیدہ جوابات دو۔"
"ٹھیک ہے۔"
"تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟" عالیہ نے اپنا پہلا سوال کیا۔
"یہ کیسا سوال ہے؟" آریان نے کچھ تعجب سے پوچھا۔
"مجھے ہاں یا ناں میں جواب دو!" عالیہ نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
"ہاں!" آریان نے لمحے کی دیر نہیں کی۔
" تم مجھ سے شادی کرنے میں سنجیدہ ہو؟"
"ہاں!"
"تم میری خاطر لڑ سکتے ہو؟"
"ہاں!"
"تمہاری امی ابھی تک مانی ہے کہ نہیں؟"
" نہیں، وہ نہیں مانی ہیں۔"
" ہمم آریان میں نے کل رات اس بارے میں بہت کچھ سوچا اور مجھے ایک راستہ بھی ملا ہے۔ میں سوچ رہی ہوں کہ کیوں نہ ہم دونوں ابھی کورٹ میرج کر لیں اور شادی کے بعد تمہاری ماما کو منا لیں۔"
"تم ہوش میں تو ہو؟" آریان کی چلاتی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ اس کا لہجہ اتنی جلدی بدلا تھا کہ عالیہ کچھ پل کے لیے حیران رہ گئی۔ آریان نے کبھی بھی اس سے ایسے بات نہیں کی تھی۔ دوسری طرف آریان اسے سنائے جا رہا تھا۔
"مجھے لگتا ہے تم پاگل ہوگئی ہو۔ وہ میری ماں ہے۔ اگر وہ شادی کے لیے نہیں مانیں گی، تو میں تم سے شادی کیسے کر سکتا ہوں؟"
"میں تم سے شادی کرکے اپنے ماں باپ کو ناراض نہیں کروں گی؟"
"تم اپنے ماں باپ پر مینٹلی طور پر انحصار نہیں کرتی، پر میں اپنی ماما پر کرتا ہوں۔ یہ میری ایک بہت بڑی مجبوری ہے۔"
"مرد کبھی بھی مجبور نہیں ہوتا۔ تم بس اپنی ماں کی ناراضگی کا بہانہ بنا رہے ہو۔ اصل میں تو تم مجھ سے شادی کرنا ہی نہیں چاہتے۔" عالیہ کو اس دفعہ شدید اشتعال چڑھا تھا۔
"تمہیں لگ رہا ہے میں تمہارے ساتھ ٹائم پاس کر رہا ہوں؟" آریان نے تنک کر سوال کیا۔
"ہاں مجھے لگتا ہے بلکہ مجھے یقین ہے، تم میرے ساتھ ٹائم پاس کر رہے ہو۔ تم جیسے لوگ یہی بہانہ بناتے ہیں کہ گھر والے نہیں مان رہے، اصل میں تم جیسے لوگوں کے دلوں میں خود چور ہوتا ہے۔ آئندہ کے بعد مجھے کال مت کرنا۔"
یہ کہہ کر عالیہ نے فون رکھ دیا۔ اسے یہ امید تھی کہ شاید آریان کا فون دوبارہ آئے گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ یونہی اپنے کمرے میں بیٹھی، اس کی کال کا انتظار کرتی رہی۔
*********************
نوال، عزاہ اور جائی یانہ کے ساتھ شاپنگ پر گئی تھیں۔ وہ لوگ تقریباً دو گھنٹے تک شاپنگ کرتے رہے۔ جب ان لوگوں کی شاپنگ مکمل ہوگئی، تو وہ لوگ گھر جانے کے لیے شاپنگ مال سے نکل کر پارکنگ ایریا میں آگئے۔ پارکنگ ایریا میں مختلف قسم اور رنگوں کی گاڑیاں پارک کی گئی تھیں۔ پارکنگ ایریا میں چہل پہل بہت کم تھی۔ وہ لوگ اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گئے، جو کچھ دور کھڑی تھی۔
عزاہ جب گاڑی کے پاس پہنچی تو اس نے دروازہ کھولا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ کار کا انجن چلانے کے لیے اس نے چابی، کی ہول میں گھمائی مگر انجن نہیں چلا۔ عزاہ کو تعجب ہوا۔ اس نے ایک بار پھر کوشش کی لیکن انجن نہیں چلا۔
"گاڑی کو کیا ہوا ہے عزاہ؟" گاڑی کی پچھلی طرف بیٹھی اماں نے عزاہ سے پوچھا۔
عزاہ نے جھنجھلائے ہوئے انداز میں جواب دیا۔
"پتہ نہیں اماں! ابھی تو ٹھیک چل رہی تھی۔ اب پتہ نہیں انجن کیوں نہیں چل رہا۔"
عزاہ کے برابر والی سیٹ پر بیٹھی، جائی یانہ گاڑی کی کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی۔ اچانک اس کی نظر شایان پر پڑی۔ وہ پارکنگ ایریا میں ہی موجود تھا اور اپنی گاڑی کا دروازہ کھول رہا تھا۔ شایان نے بھی غیر ارادی طور پر گردن گھمائی، تو جائی یانہ کو گاڑی میں بیٹھا دیکھا۔ اس نے اپنی گاڑی کا دروازہ بند کیا اور ان کی جانب بڑھ گیا۔ شایان کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر جائی یانہ نے اونچی آواز میں اعلان کیا۔
"شایان بھائی آ رہے ہیں!" نوال نے جائی یانہ کی نظروں کا تعاقب کیا جبکہ عزاہ نے دھیان نہیں دیا۔ اسے لگا جائی یانہ مزاق کر رہی ہے۔ شایان ان کی گاڑی کے بلکل قریب آگیا اور جھک کر اندر کی جانب جھانکا۔ وہ جائی یانہ کے بلکل سامنے کھڑا تھا۔
"السلام علیکم!"
شایان کو دیکھ کر نوال نے سلام کا جواب دیا جبکہ عزاہ کے چابی گھماتے ہاتھ رک گئے۔ اس نے آواز کی سمت دیکھنے کی غلطی بھی نہیں کی۔
"بیٹا تم یہاں کیا کر رہے تھے؟" نوال کے پوچھنے پر شایان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
"ممانی میں بس ایک کام کے سلسلے میں یہاں آیا تھا۔" بات کرتے ہوئے شایان کی نظریں، عزاہ پر گئی جو ابھی بھی گاڑی چلانے کی تگ ودو کر رہی تھی۔
" گاڑی کو کچھ ہوا ہے؟" شایان کے براہ راست سوال کرنے پر عزاہ کچھ گڑبڑا گئی۔ وہ شایان سے ابھی بات نہیں کرسکتی تھی۔ اس کے اندر مخاطب سے بات کرنے کی ہمت نہیں تھی۔
"جی شایان بھائی گاڑی اسٹارٹ نہیں ہو پارہی۔" عزاہ کی بجائے جائی یانہ نے جواب دیا۔ عزاہ نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔
"اچھا چلو میں دیکھتا ہوں۔" شایان نے اپنے شرٹ کی بازوؤں کو پیچھے موڑا اور آگے بڑھ گیا۔
شایان نے کار کے بونٹ کو اٹھایا اور انجن کی تاروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگا۔ عزاہ نے اپنا منہ کھڑکی کی طرف کیا ہوا تھا۔ اس نے ایک چور نگاہ وائنڈ اسکرین پر ڈالی، تو شایان سامنے کھڑا تھا۔ ایک ہاتھ سے بونٹ پکڑے، اپنی کمر جھکا کر دوسرے ہاتھ سے گاڑی کو ٹھیک کرتا، وہ اسے اچھا لگ رہا تھا۔ کاش اس کی قسمت عالیہ سے بدل جاتی۔ کتنا اچھا ہوتا! عزاہ نے نظریں دوبارہ موڑ لی۔ سامنے کا منظر دل جلانے والا تھا۔ کچھ دیر بعد شایان نے بونٹ بند کردیا اور دوبارہ جائی یانہ کی کھڑکی سے نمودار ہوا۔
"اب گاڑی چلاؤ!"
عزاہ نےاس کی بات سن کر چابی، کی ہول کی طرف بڑھائی۔ عزاہ نے واضح دیکھا کہ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ جیسے ہی اس نے چابی گھمائی، انجن چلنے کی آواز آگئی۔
"جیتے رہو بیٹا!" نوال نے شایان کو دعا دی جو کہ شایان نے مسکراہٹ کے ساتھ موصول کی۔
"شکریہ شایان بھائی!" جائی یانہ نے اس کا شکریہ ادا کیا۔
"ارے شکریہ کی کیا بات ہے۔" شایان نے جائی یانہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور چلا گیا۔
سب لوگوں نے اپنی واپسی کا سفر شروع کیا۔
*******************
کچھ لمحات بعد اگر اشفاق کے گھر کے لاؤنج میں آؤ تو وہ لوگ اپنی خریدی ہوئی چیزیں دیکھ رہے تھے۔ عالیہ اپنے کمرے میں موجود تھی۔ اس نے ابھی تک لاؤنج میں قدم نہیں رکھا تھا۔ جائی یانہ نے ایک ہاتھ سے بِندیا ماتھے پر لگائی ہوئی تھی جبکہ دوسرے ہاتھ میں اپنے موبائل کا فرنٹ کیمرہ کھولے وہ تنقیدی نگاہوں سے خود کو دیکھ رہی تھی۔ اس کو اپنی بِندیا اب کچھ بڑی لگ ری تھی۔ حالانکہ شاپنگ مال میں اسے بندیا کا سائز پرفیکٹ لگا تھا لیکن ہر لڑکی کی طرح اسے بھی چیز خرید لینے کے بعد، اس میں سو سو نقص دکھائی دے رہے تھے۔ اس نے عزاہ سے رائے مانگی لیکن وہ اس وقت اس دنیا میں موجود نہیں تھی۔ وہ ابھی تک اپنے آپ کو مال کے پارکنگ ایریا میں دیکھ رہی تھی۔ اس نے جائی یانہ کی بات کا کوئی ردعمل نہیں دیا۔
نوال سے پوچھنا فضول تھا۔ اس کی بات سن کر انہوں نے غصہ ہی کرنا تھا۔ اس نے سوچا کیوں نہ عالیہ کے پاس جا کر، ان کی رائے مانگے۔ وہ لاؤنج سے باہر نکلی اور عالیہ کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ وہ عالیہ کے کمرے میں پہنچی، وہ ابھی اپنے کمرے میں موجود نہیں تھی۔ پھر اس کی نظر واش روم کے بند دروازے پر پڑی۔ عالیہ یقیناً واشروم میں تھی۔
جائی یانہ بیڈ پر بیٹھ کر عالیہ کے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگی۔ بیڈ پر عالیہ کا فون بھی رکھا تھا۔ اس نے فون اٹھایا اور موبائل پر عالیہ کے کانٹیکٹس کے واٹس ایپ اسٹیٹس دیکھنے کی غرض سے واٹس ایپ کھولا۔ جائی یانہ کو سب سے اوپر ایک ایسا نمبر دکھائی دیا جو کسی بھی نمبر سے محفوظ نہیں تھا۔ اس کی پروفائل پر ایک آدمی کی تصویر تھی۔ وہ آدمی ایک کار کے سامنے کھڑا، اپنے بائیں ہاتھ کی کلائی پر لگی گھڑی کو دیکھنے میں مصروف تھا۔ جائی یانہ کو اس شخص کی شکل جانی پہچانی لگی۔ اس نے یہ شخص کہیں دیکھا تھا لیکن کہاں؟ یہ اسے یاد نہیں تھا۔ ابھی وہ اس شخص کی فوٹو کا تجزیہ کرتی، اچانک عالیہ آئی اور اس نے اس کے ہاتھوں سے موبائل چھینا۔
"میرا موبائل تم نے کیوں پکڑا ہے؟" عالیہ نے رعب سے پوچھا۔
"یہ کس کا نمبر ہے آپی؟" جائی یانہ واقعی میں اس شخص کو جاننا چاہتی تھی۔ جائی یانہ کو پتہ تھا اس نے اس شخص کو کہیں ضرور دیکھا ہے۔ عالیہ کے چہرے پر ایک سایہ گزرا۔
"تم سے مسئلہ؟" عالیہ نے نظریں چرائی۔
"نہیں بس یونہی پوچھ لیا۔" جائی یانہ نے کندھے اچکائے۔ اس نے ایک طرح سے بات گھمانا چاہی کیونکہ وہ جان گئی تھی کہ عالیہ اسے نہیں بتائے گی الٹا اس سے لڑنے لگ جائے گی۔
"اچھا آپی یہ بتائیں یہ بِندیا مجھ پر اچھی لگ رہی ہے."
"یہ ٹھیک ہے جائی یانہ! اب چلی جاؤ۔ مجھے سونا ہے۔" عالیہ نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا، پھر بیڈ پر دھم سے گر گئی۔ جائی یانہ کمرے سے نکل گئی۔ اس کے ذہن سے ہر چیز نکل گئی۔ اسے ابھی وہ شخص یاد تھا جس کی پروفائل پکچر اس نے عالیہ کے واٹس ایپ پر دیکھی تھی۔ جائی یانہ کے ذہن میں اس شخص کی تصویر حفظ ہوگئی تھی۔
******************
رات کے درمیانے پہر جب وہ جاگی، تو اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے گردن ادھر ادھر گھمائی تو اس نے اپنے آپ کو کمرے میں موجود پایا۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا، تو وہ بھی صاف تھے لیکن اسے تسلی نہیں ہوئی۔ وہ اٹھی اور کمرے کی بتیاں جلائیں۔ کمرہ روشنی سے نہا گیا۔ اس نے اب اپنا ہاتھ دوبارہ دیکھے تو وہ صاف ہی دکھائی دے رہےتھے۔ یقیناً اس نے کوئی بھیانک خواب دیکھا ہوگا۔
یہ خواب زینب کو کافی دنوں سے آ رہے تھے۔ زینب نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ یہ برے خواب اسے کب سے آ رہے تھے۔ کچھ دیر بعد اسے یاد آیا کہ یہ سلسلہ تب سے شروع ہوا تھا، جب سے وہ چچی کے ساتھ شادی میں گئی تھی۔ اس دن سے اسے روزانہ عجیب و غریب خواب آ رہے تھے۔ اس نے گلاس میں پانی نکالا اور پینے لگی۔
پانی پیتے ہوئے زینب سوچنے لگی، آخر وہ کون شخص تھا جو اسے خواب میں گرا ہوا ملا کرتا تھا۔ وہ جب بھی اس کو ہاتھ لگاتی، تو اس کے ہاتھوں پر خون لگ جاتا تھا۔ حالانکہ اس شخص کے کپڑوں اور جسم پر کہیں بھی خون نہیں تھا۔ کاش وہ جان جاتی کہ وہ شخص کون تھا۔ اللّٰہ پاک کاش اس شخص کا چہرہ تھوڑا سا واضح کر دیتے۔ پانی پی لینے کے بعد وہ اٹھی اور برآمدے میں جاکر وضو کرنے لگی۔ زینب نے ایک دفعہ حسن صاحب کو کہتے سنا تھا کہ اگر کسی نے برا خواب دیکھا ہو، تو دو نفل پڑھ کر اپنی عافیت اور خواب کے شر سے دور رہنے کی دعا مانگنی چاہیے۔
اس نے سوچا آج کیوں نا وہ بھی یہ کر لے۔ کیا پتہ یہ خواب بھی ایسا ہو جس کی تعبیر اس کے حق میں بری ہو۔
*********************
انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک دھندلکے میں چل رہی تھیں۔ وہ خواب میں جانتی تھی کہ یہ وہی خواب ہے جو وہ لڑکپن سے دیکھتی آ رہی تھیں۔ انہین اس دھند میں کوئی بھی دکھائی نہیں دیتا تھا، لیکن پھر آہستہ آہستہ دھند چھٹنا شروع ہوگئی تھی۔ اب انہیں کچھ کچھ واضح دکھائی دینے لگ گیا تھا۔ وہ کوئی ویرانہ تھا جہاں وہ اس وقت موجود تھی۔
وہ آگے کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ ان کی نظر راستے پر گرے شخص پر پڑی۔ یہ بھی خواب کا حصہ تھا۔ وہ اس گرے ہوئے شخص کے پاس گئیں اور اس کا چہرہ دیکھا۔ لڑکپن میں اسے اس شخص کا چہرہ دکھائی نہیں دیتا تھا مگر کچھ سالوں سے انہیں اس کا چہرہ دکھائی دینے لگ گیا تھا۔ وہ اس شخص کو اچھے سے جانتی تھیں۔ اس شخص کے ساتھ ان کا ایک بہت گہرا رشتہ گزرا تھا۔ وہ فوراً زمین پر بیٹھیں اور اس شخص کو اٹھانے کی کوشش کی مگر وہ نہیں اٹھا بلکہ ان کے ہاتھوں پر خون لگ گیا۔ خون بڑھتے ہوئے اب ان کے بازوؤں کو لال رنگ سے رنگنے لگا۔
شروع میں یہ خواب یہاں تک ختم ہو جاتا تھا، مگر پچھلے کچھ سالوں سے ایک اور منظر خواب میں دکھایا جاتا تھا اور وہ تھا بھیڑیوں کے حملے کا۔ ان کے پاس لیٹا ہوا شخص ایک دم غائب ہوگیا تھا۔ اسے اب بھیڑیے اپنے اردگرد دکھائی دینے لگ گئے۔ ان بھیڑیوں نے چاروں طرف سے انہیں گھیرا ہوا تھا۔ وہ بھاگ جانا چاہتی تھیں مگر اس کے پاؤں پتھر کے بن گئے تھے۔ بھیڑیوں نے چھلانگ لگائی اور اس پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے ان کے جسم کی بوٹی بوٹی الگ کردی۔
زینب خواب سے اٹھ گئیں۔ وہ تیز تیز سانسیں لیں رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا انہیں سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی۔ انہوں نے لائٹس نہیں چلائی۔ انہوں نے گلاس میں پانی ڈالا اور پانی پینے لگی۔
پانی پیتے ہوئے انہوں نے سوچا، کاش انہیں کبھی پتہ نہ چلتا کہ وہ شخص کون تھا۔ لاعلمی ایک نعمت ہے، جو انہوں نے ناشکری میں گنوا دی تھی۔ زینب نے گلاس واپس رکھ دیا۔ ان کا دل چاہا کہ وہ اٹھ کر وضو کریں اور دو نفل پڑھ کر دعا مانگیں۔ اپنی عافیت کی دعا مانگیں اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگیں۔ انہوں جو گناہ کیا تھا، اس کی سزا انہیں مل گئی تھی لیکن اگر وہ سزا ابھی تک ختم نہ ہوئی تو۔۔۔۔؟
اگر ابھی بھی ان سے اس گناہ کے بدلے کچھ لیا جانا تھا تو۔۔۔۔؟
کیا وہ اس قابل رہی تھیں کہ اب نماز پڑھ کر اپنے رب کو راضی کرسکیں۔ وہ کچھ بھی سوچ نہیں پا رہی تھیں۔ ان کا ذہنی انتشار بڑھنا شروع ہوا اور انہوں نے پاس پڑا گلاس پھینک دیا۔ اس کے بعد جگ اٹھا کر دیوار پر دے مارا۔
شایان اپنے کمرے میں موجود، اپنی ماں کے کمرے سے آتے شور کو سن کر اٹھ گیا تھا۔ وہ اپنی ماں کے پاس جانا چاہتا تھا مگر اس کی ماں اسے اندر نہ آنے دیتی اور وہ بھی اپنی ماں کو اس طرح ٹوٹا پھوٹا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ آخر اس حادثے میں وہ بھی کہیں گناہگار جو تھا۔
**********************
شادی میں بس اب تین دن رہ گئے تھے۔ ہال کی بکنگ بھی ہوچکی تھی۔ بازار کے چکر زور و شور سے لگائے جا رہے تھے۔ بس تین دن! اس کے بعد مہندی تھی۔
عالیہ بیڈ پر لیٹی، اپنے موبائل کی اسکرین پر نکلے کلینڈر کو دیکھتے ہوئے یہ سب سوچ رہی تھی۔ آریان سے جھگڑے کے بعد سے، اس کی ابھی تک اس سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ دونوں میں سے کسی نے بات کرنے میں پہل نہیں کی تھی۔ عالیہ کو یہ سوچ ستائے جا رہی تھی کہ اگر آریان نے اس سے ان حالات میں شادی سے انکار کر دیا، تو کیا اسے واقعی شایان سے شادی کرنی پڑے گی؟
قسمت ایک عجیب دوراہے پر کھڑی تھی۔ اس کے پاس بس دو راستے تھے۔ ایک راستے پر شایان کے نام کی تختی تھی، تو دوسری طرف آریان کا نام ایک شان سے سجا تھا۔ اسے ان دونوں میں سے ایک راستہ چننا تھا۔ عالیہ کو ایک بات بے حد عجیب لگتی تھی کہ شایان اور آریان، دونوں کے نام بہت ملتے جلتے تھے۔ بس شروع کے دو لفظ دونوں کے نام اور ان کا مطلب الگ کرتے تھے۔ اب جانے عالیہ کی قسمت میں ان دونوں میں سے کس کا نام لکھا تھا۔
کاش اس کی زندگی کچھ آسان ہوتی، کاش اس کا خاندان اس کی بات سمجھ پاتا، کاش یہ رشتہ آتا ہی نہیں!
عزاہ کی زندگی کتنی اچھی تھی۔ اس کی شادی شایان کے ساتھ نہیں ہو رہی تھی۔ اس کی زندگی کتنی نارمل تھی۔ وہ جو چاہتی تھی، اس وقت کر سکتی تھی۔ کاش وہ ایک بار عزاہ جیسی زندگی جی پاتی۔
اچانک اس کے موبائل پر میسج آیا۔
"عالیہ تم مجھ سے شام میں ملنے آؤ۔ ایک ضروری بات کرنی ہے۔ اگر تم آج نہ آئی، تو میں سمجھ جاؤں گا کہ تمہارے نزدیک ہمارے رشتے کی کوئی وقعت نہیں ہے۔"
میسج آریان کی جانب سے آیا تھا۔ عالیہ نے میسج پڑھ کر سر پکڑ لیا۔ اس کے باہر آنے جانے پر اب مکمل پابندی تھی۔ اماں اسے کسی صورت جانے نہیں دیں گی مگر آریان سے ملنا بھی ضروری تھا۔ اسے اب کچھ نہ کچھ کرنا تھا۔
********************
آج حسن صاحب کے گھر کو اچھے سے چمکایا گیا تھا۔ کچن سے آتی کھانوں کی خوشبوؤں نے سارے گھر کو مہکایا ہوا تھا۔ ان سب انتظامات کی وجہ، زینب کے لیے رشتے والوں کا آنا تھا۔ یہ رشتہ احمد کی پھپھو کے ذریعے آیا تھا۔ ان سب سے بے نیاز، زینب اپنے کمرے میں اداس بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے سفید اور گلابی رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ بال اچھے سے چوٹی میں بندھے ہوئے تھے۔ اس کا دل ایک عجیب طرح سے اداس تھا۔ اسے خود اپنی اداسی کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
شاید یہ اداسی اس اچانک آجانے والے رشتے پر تھی یا پھر یہ اداسی کسی اپنے کے ساتھ نہ ہونے کی تھی یا پھر یہ اداسی اس گھر سے لگاؤ کی تھی کیونکہ اس نے یہاں اپنا بچپن گزارا تھا یا پھر شاید شاید۔۔
اس کی چلتی سوچوں پر نوال نے بریک لگایا۔
"زینب تم تیار ہوگئی۔۔۔" نوال بولتے ہوئے اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھی لیکن زینب کو دیکھ کر اس کی زبان رک گئی۔
"ماشاءاللہ سے تم پیاری لگ رہی ہو۔" نوال کو وہ واقعی میں پیاری لگ رہی تھی۔
"چلو امی نے بلایا ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ چائے تم بناؤ گی۔" یہ سن کر زینب کھڑی ہوگئی اور نوال کے پیچھے چل دی۔
ابھی اس نے چائے بنانے کے لیے پتیلی کو چولہے پر رکھا ہی تھا کہ گیٹ کھٹکھٹانے کی آواز سنائی دی۔ سب لوگ یکدم چوکنا ہوگئے۔ مریم اپنا ڈوپٹہ سر پر اچھے سے جماتے ہوئے گیٹ کی طرف بڑھ گئیں۔ کچھ دیر بعد اسے برآمدے میں سے آہٹیں اور زنانہ آوازیں سنائی دینے لگی۔ اب مریم سب کو اندر لے کر جا رہی تھیں۔ اس نے آواز سے اندازہ لگا لیا کہ لوگ زیادہ آئے ہیں۔ کچھ دیر میں چائے تیار ہوگئی تو اس نے چائے پتیلی سے کپ میں ڈال دی اور ڈوپٹہ صحیح سے سر پر اوڑھ لیا۔
دوسری طرف نوال بھی مریم کے کہنے پر اسے کچن سے لینے آگئی تھی۔ زینب نے چائے کی ٹرے کو تھام لیا اور آگے بڑھ گئی۔ نوال اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں پر بہت سی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کے ساتھ تین چار بچے بھی تھے۔ جیسے ہی زینب نے چائے میز پر رکھی مریم آگے کو ہوئیں اور میز کی دوسری طرف، صوفے پر بیٹھی عورتوں سے زینب کا تعارف کروایا۔
"یہ زینب ہے۔"
"السلام علیکم!" زینب نے دھیمے لہجے میں سب کو سلام کیا۔
"ماشاءاللہ سے بہت پیاری بچی ہے۔" عورتوں میں سے ایک نے اس پر تبصرہ کیا۔
"جی بس اللّٰہ اس کے نصیب بھی اچھے کرے۔" مریم کی بات پر سب نے آمین کہا۔ زینب ابھی تک میز کی دوسری طرف کھڑی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب اسے کیا کرنا ہے۔
"ارے بیٹا تم وہاں کیوں کھڑی ہو؟ آؤ یہاں میرے پاس بیٹھو۔" ایک فربہہ عورت نے اسے اپنے پاس بیٹھنے کی دعوت دی۔ زینب خاموشی سے ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔
"ماشاءاللہ سے آپ کی بیٹی بہت خوبصورت ہے۔ میرے بیٹے عمر اور آپ کی بیٹی زینب کی جوڑی خوب جچے گی۔"
"نگینہ اگر تمہیں لڑکی اچھی لگ گئی ہے، تو نیک کام میں دیری کیوں کر رہی ہو؟ بسم اللّٰہ کرو۔" یہ آواز احمد کی پھپھو کی تھی۔ وہ بھی ان عورتوں کے ساتھ شامل تھیں۔
"آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ تو مریم بہن ہمیں اجازت ہے؟" اس فربہہ عورت نے مریم چچی سے اجازت مانگی۔
"ارے جی جی نگینہ بہن! آپ کی اپنی بیٹی ہے۔"
یہ سن کر نگینہ آنٹی نے اپنے ہاتھوں سے انگوٹھی نکالی اور زینب کی انگلی میں پہنا دی۔ زینب دنیا جہاں کی حیرت سموئے، ان لوگوں کی کارستانی دیکھ رہی تھی۔ اسے تو لگ رہا تھا یہ لوگ اس کا رشتہ مانگنے آئے ہیں مگر یہاں تو اس کی منگنی ہوگئی تھی۔
منگنی کی انگوٹھی انگلی میں جاتے ہی، زینب کے دل میں پھانس چبھی۔ دوسری طرف اس کے ساتھ بیٹھی نگینہ آنٹی اس کی بلائیں اتار رہی تھیں۔
"اللّٰہ تمہیں میرے بیٹے کے ساتھ خوش رکھے۔ سدا سہاگن رہو۔" وہ اسی طرح کی نجانے کون کون سی دعائیں دیے جارہی تھیں۔
اتنے میں ام ہانی کمرے میں داخل ہوئی اور مٹھائی سے بھری پلیٹ سب کو پیش کی۔ نگینہ آنٹی نے مٹھائی پکڑی اور زینب کے منہ میں ڈال دی۔ زینب نے مٹھائی بمشکل چبا کر حلق سے اتاری۔
"میری بہو اب بس آپ لوگوں کے پاس ڈیڑھ دو مہینے کی امانت ہے۔ میں اسے بہت جلد لے جاؤں گی۔" ایک اور بم زینب پر پھوڑا گیا۔ اتنی جلدی شادی ہونے کا مطلب کیا تھا، وہ اچھے سے جانتی تھی۔ اسے اپنے خوابوں سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ اسے تو ابھی زندگی میں بہت کچھ کرنا تھا۔ اسے تو ابھی اپنے بھائی کو خود سے راضی کرنا تھا۔ یہ سب اس کے ساتھ کیا ہو رہا تھا؟ اس نے ادھر ادھر مدد طلب نگاہوں سے دیکھا۔ ابھی سب زینب کی خوشی میں خوش تھے لیکن زینب اپنی خوشی میں خوش نہیں ہو پا رہی تھی۔
رات کو جب یہ بات گھر کے مردوں کو بتائی گئی، تو زینب کی نظروں نے اشفاق کے چہرے کے تاثرات کو ٹٹولا مگر ان کے چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے ان کی بہن کی نہیں بلکہ کسی اور شخص کی شادی کی بات کی جا رہی ہو۔ البتہ حسن صاحب بہت خوش دکھائی دیں رہے تھے۔ انہوں نے زینب کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور خوب دعائیں دیں۔
زینب کو پتہ چل گیا تھا کہ اب اس گھر میں اس کے دن پورے ہوگئے ہیں۔ جانے اس کی زندگی میں آگے کیا لکھا تھا۔
********************
شام کا وقت تھا۔ اشفاق کے گھر میں اس وقت ان کے قریبی رشتہ دار، نوال کو بیٹی کی شادی کی مبارکباد دینے کے لیے آ رہے تھے۔ پورا گھر ابھی میزبانی میں مشغول تھا۔ عالیہ کو یہ سنہری موقع لگا۔ اس نے اپنے ہینڈ بیگ میں کچھ پیسے ڈالے اور آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترنے لگ گئی ۔ عالیہ سیڑھیوں کے آخری زینے پر رکی، پھر اپنے اطراف میں نظریں میں دوڑائیں۔
ڈرائنگ روم سے اٹھتا بچوں اور بڑوں کا شور پورے گھر میں گونج رہا تھا۔ عالیہ نے جب دیکھا کہ آس پاس کوئی نہیں ہے، تو بجلی کی سی تیزی سے بیرونی دروازے سے باہر نکل گئی۔ گھر سے باہر نکلنے کے بعد اس نے مین گیٹ کی طرف چپکے سے دیکھا۔ وہاں پر بھی کوئی نہیں تھا۔ شاید چوکیدار کو اماں نے کوئی سامان لینے بھیجا تھا۔ عالیہ نے مین گیٹ بھی عبور کرلیا۔ وہ تقریباً بھاگتے ہوئے چل رہی تھی۔ راستے میں اس نے ایک ٹیکسی پکڑی اور اس میں بیٹھ گئی۔
وہ اپنی گاڑی لے کر اس لیے نہیں گئی کیونکہ گاڑی کے شور سے سب کو پتہ چل جاتا وہ باہر جا رہی ہے، اور وہ ابھی چھپ کر جانا چاہتی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ ریستوران پہنچ گئی۔ عالیہ متلاشی نگاہوں سے آریان کو ڈھونڈنے لگی۔ اسے آریان کونے والی میز پر بیٹھا ملا۔ عالیہ نے خاموشی سے آریان کے سامنے رکھی کرسی کو کھینچا اور اس پر بیٹھ گئی۔
آریان نے عالیہ کی آمد کو محسوس کر لیا تھا، مگر اس نے اپنا سر اوپر نہیں اٹھایا۔ وہ بے مقصد میز کو تکتا رہا۔ عالیہ کی نظریں جب آریان کے چہرے پر گئی تو وہ حیران ہوئی۔ آریان کی حالت ایک دم بکھری ہوئی تھی۔ ڈھیلی ٹائی، بکھرے ہوئے بال اور ویران آنکھیں۔۔۔۔
"تم نے اپنا کیا حال بنا لیا ہے؟" عالیہ کوشش کے باوجود خود کو کہنے سے روک نہ پائی۔
"عالیہ میری ماما تمہارے لیے نہیں مان رہی ہیں اور تم ہو کہ مجھے ہی غلط سمجھ رہی ہو۔ تم مجھے بتاؤ میں کیا کروں؟ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا اور انہیں بھی ناراض نہیں کر سکتا۔ یار تم مجھے سمجھاؤ میں کیا کروں؟" آریان کے لہجے میں الگ ہی بے بسی تھی۔ اس نے شاید عالیہ کا سوال سنا ہی نہیں تھا۔ عالیہ کا دل پسیج گیا۔ اس نے آریان کے ہاتھ پر، اپنا ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دیا لیکن آج وہ بہت ٹوٹا ہوا تھا۔
"میں۔۔۔میں انہیں مناؤں گا۔ تمہاری شادی میں بس تین دن رہ گئے ہے۔ میں تب تک انہیں منانے کی پوری کوشش کروں گا، لیکن پلیز تم مجھ سے یوں لا تعلق نہ ہو۔"
"اگر وہ نہ مانیں تو؟" عالیہ نے اپنا خدشہ پیش کیا۔
"تو پھر میرے پاس کوئی راستہ نہیں بچے گا سوائے اس کے کہ میں تم سے، ان کی ناراضگی کے باوجود نکاح کرلوں۔" اس دفعہ آریان کچھ سرد لہجے میں بولا۔
"میں تم سے نکاح اس دن کروں گا، جس دن تمہاری بارات کا فنکشن ہوگا اور پھر تمہیں اپنے گھر لے جاؤں گا۔ ماما بھلے مجھ سے لاکھ ناراض ہوں لیکن وہ کسی نا کسی طرح راضی ہو جائیں گی۔"
آریان نے جیسے سب کچھ سوچ لیا تھا۔ پھر اس نے عالیہ کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور اس کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے؟"
"ہاں مجھے تم پر بھروسہ ہے۔" عالیہ نے فوراً بولا۔
عالیہ کی بات سن کر آریان مسکرایا۔ وہ بھی مسکرا دی لیکن ریستوران کی بھوری دیواریں نہ مسکرا سکی۔ وہ بالکل خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔
*********************
جب وہ دونوں ریستوران سے باہر نکلے، تو عالیہ کی نظر کچھ دور کھڑے شایان پر گئی۔ شایان اسے دیکھ چکا تھا اور اب اسی کی طرف آ رہا تھا۔ عالیہ اسے دیکھ کر خوفزدہ ہوگئی۔
"شایان!" عالیہ کے منہ سے بس یہ لفظ نکل پایا۔
"کیا؟!" آریان نے نا سمجھی سے اسے دیکھا، پھر اس کی نظروں کا تعاقب کرنے کی کوشش کی۔
"شایان ادھر ہی ہے اور ہماری طرف آ رہا ہے۔ پلیز تم ابھی یہاں سے چلے جاؤ۔ میں نہیں چاہتی کوئی مسئلہ پیدا ہو۔ پلیز!"
آریان کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ وہ جانا نہیں چاہتا ہے لیکن پھر بھی عالیہ کے کہنے پر چلا گیا۔ شایان تب تک عالیہ کے پاس پہنچ چکا تھا۔ شایان نے عالیہ کو آریان کے ساتھ دیکھ لیا تھا۔
"یہ کون تھا عالیہ؟" اس نے عالیہ سے پوچھا۔ عالیہ کی دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں لیکن اس نے چہرے کے تاثرات نارمل رکھے۔
"کیوں آپ کو اب یہ لگ رہا ہے کہ میرا اور اس کا کوئی افئیر ہے؟" عالیہ نے اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے، شایان سے سوال کیا۔ شایان اس کے اتنے کھلے انداز میں پوچھنے پر کچھ گڑبڑا گیا۔
"نہیں! میں تو بس یونہی پوچھ رہا تھا۔" شایان کی بات کا عالیہ نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ شایان کو وہيں چھوڑ کر خاموشی سے آگے کی طرف چل دی۔ سڑک پر کھڑے ہو کر، وہ کسی ٹیکسی کے گزرنے کا انتظار کر رہی تھی۔
"تم کار لے کر نہیں آئی؟" شایان نے جب عالیہ کو یوں کھڑا دیکھا، تو پوچھا۔
"نہیں!" عالیہ نے نفی میں سر ہلایا۔
"میرے ساتھ چلو۔ میں گھر جا رہا ہوں۔ راستے میں تمہیں بھی تمہارے گھر چھوڑ دوں گا۔"
"نہیں آپ کو زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود چلی جاؤں گی۔" عالیہ نے اس کی پیشکش فوراً رد کی۔
"ضد نہ کرو اور میرے ساتھ چلو۔ میں تمہیں یہاں پر کسی ٹیکسی ڈرائیور کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا۔ تم اچھے سے جانتی ہو ملک کے اس وقت کیا حالات ہیں۔" شایان کا لہجہ دو ٹوک تھا۔ عالیہ کو پتہ چل گیا کہ شایان اب اسے لے کر ہی یہاں سے جائے گا، اس لیے بحث کرنا بے کار تھی۔
"اچھا ٹھیک ہے۔" عالیہ نے آہستگی سے کہا۔ شایان آگے بڑھ گیا اور روڈ کراس کرکے اپنی گاڑی تک پہنچ گیا۔ عالیہ نے بھی اس کی تقلید کی۔
گاڑی میں بیٹھنے سے پورے سفر تک، دونوں نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کی۔ شایان خاموشی سے اپنی گاڑی چلاتا رہا اور عالیہ کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔
جیسے ہی اشفاق کا گھر آیا، عالیہ نے اپنا ہینڈ بیگ تھاما اور جانے کے لیے اٹھ گئی۔ جانے عالیہ کے ذہن میں ایسا کون سا خیال آیا کہ اس نے شایان سے ایک سوال پوچھا۔
"آپ وہاں کیا کر رہے تھے؟" عالیہ نے سوال کر تو لیا تھا لیکن پھر پچھتائی۔ اگر اب شایان نے اس سے یہی سوال پوچھ لیا، تو وہ کیا جواب دے گی۔
"ریستوران کے ساتھ جو کپڑوں کی دکان تھی، میں وہاں پر آیا تھا۔ نمرہ نے اپنا آرڈر کیا ہوا دوپٹہ وہاں سے اٹھوانا تھا مگر وہ دوپٹہ ابھی تک تیار نہیں ہوا ہے۔"
شایان کی بات سن کر عالیہ نے بس " اچھا" کہا اور گاڑی سے اتر گئی۔ شایان عالیہ کو اس کی منزل پر اتار کر اب اپنی منزل کی جانب سفر کرنے لگا۔ شایان نے بے اختیار سوچا کہ اب بس تین دن رہ گئے تھے، پھر ان کا راستہ اور منزل دونوں ایک ہو جائے گی۔
دوسری طرف عالیہ گھر میں داخل ہوئی، تو اسے چوکیدار اپنی کرسی پر بیٹھا ہوا دکھائی دیا مگر وہ غنودگی کی حالت میں تھا۔ عالیہ شور مچائے بغیر گھر میں داخل ہوگئی۔ گھر میں بھی راستہ صاف تھا۔ گھر میں ہر طرف اس وقت خاموشی تھی۔ شاید مہمان گھر چلے گئے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ سیڑھیاں چڑھ کر وہ اپنے کمرے تک آئی۔ اس نے ابھی اپنے کمرے کے دروازے کے ہینڈل کو پکڑا ہی تھا جب اسے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنائی دی۔
"کہاں گئی تھیں آپ؟" عالیہ کو ایک پل کے لیے یہ آواز موت کے فرشتے کی معلوم ہوئی۔ وہ کرنٹ کھا کر پیچھے مڑی۔ اس نے دیکھا کہ اس کے پیچھے موت کا فرشتہ نہیں بلکہ جائی یانہ کھڑی تھی۔
"تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ جاؤ یہاں سے!"
"اچھا، ٹھیک ہے۔ اماں!" جائی یانہ نے اونچی آواز میں اماں کو بلایا۔ عالیہ فوراً اس کے پاس گئی اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔
"اممم! امم!"
جائی یانہ نے آواز نکالنے کی کوشش کی لیکن اس کا منہ عالیہ نے سختی سے بند کیا ہوا تھا۔ عالیہ اسے ایسے ہی پکڑ کر اپنے کمرے میں لے کر آگئی اور دروازہ بند کردیا۔ اس کے بعد جائی یانہ کے منہ پر سے اپنا ہاتھ ہٹایا۔
"یہ کیا حرکت ہے؟ مجھے اغواء کیوں کیا ہے؟" جائی یانہ کی بات سن کر عالیہ نے اسے سختی سے گھورا۔
" بکواس بند کرو اپنی! اور خبردار اماں کو کوئی بات بھی بتائی ورنہ تمہارا اس دنیا میں آخری دن ہوگا!" عالیہ کی تنبیہہ سن کر بھی جائی یانہ کے کان پر جوں نہیں رینگی۔
"اچھی بات ہے! میں اماں کو بتا دیتی ہوں۔ دونوں بہنیں ساتھ دنیا سے جانے کی ٹکٹیں کٹوائیں گی۔"
جائی یانہ یہ کہہ کر دروازے کی جانب لپکی مگر عالیہ نے اسے پکڑ کر دور کیا۔
"تم میرے ہاتھوں کیوں ضائع ہونا چاہتی ہو جائی یانہ؟"
"اچھا چلیں! ہم دونوں ایک ڈیل کر لیتے ہیں، یوں نہ میں ضائع ہونگی اور نہ آپ کو اماں سے ڈانٹ پڑے گی۔"
"کیسی ڈیل؟" عالیہ کی بھنویں سکڑ گئیں۔
"مجھے دو کتابیں خریدنی ہے۔ اگر آپ مجھے پیسے دے دیں گی، تو میں کتابیں خرید لوں گی۔"
"کتنے چاہیے؟" عالیہ نے فوراً پوچھا۔
"دو ہزار روپے۔۔۔۔" جائی یانہ کی بات سن کر عالیہ کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔
"کیا؟"
"دیکھیں بات بھی تو اتنی بڑی ہے۔ پہلے آپ اماں سے بغیر پوچھے گھر سے باہر چلی گئی اور ابھی آپ کو شایان بھائی چھوڑ کر گئے ہیں۔ سوچیں اگر۔۔۔۔۔" عالیہ نے جائی یانہ کی بات کاٹی۔
"تم میری جاسوسی کر رہی تھی؟"
"بلکل نہیں!" جائی یانہ نے سر نفی میں ہلایا۔ "میں آپ کی جاسوسی کیوں کروں گی؟ وہ تو بس میں نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے آپ کو شایان بھائی کی گاڑی سے اترتے دیکھا، تو بولا۔"
"ہمم!" عالیہ نے ہنکارا بھرا۔ "دیکھو جائی یانہ میرے پاس ابھی ہزار روپے ہیں۔ ابھی ان ہی سے گزارا کرلو۔"
جائی یانہ عالیہ بات سن کر سوچ میں پڑ گئی، پھر کچھ دیر بعد اس نے کہا۔
"چلیں ٹھیک ہے۔ ابھی کے لیے یہی کافی ہے۔ آپ بھی سوچیں گی کس سخی سے پالا پڑا ہے۔" عالیہ نے پرس سے ہزار کا نوٹ نکال کر، جائی یانہ کو تھما دیا۔ ساتھ میں تاکید بھی کردی۔
"یہ بات کسی کو پتہ نہیں چلنی چاہیے۔" جائی یانہ نے اپنے لبوں پر انگلی پھیر کر گویا زپ لگا دی۔
"اب چلو میرے کمرے سے باہر نکل جاؤ۔" عالیہ کی بات سننے سے پہلے ہی, جائی یانہ باہر جا رہی تھی۔ ہزار کا نوٹ تھامے اس کے ذہن میں یہی خیال تھا کہ وہ ان پیسوں سے کونسی کتاب خریدے گی۔ جیسے ہی جائی یانہ کمرے سے نکلی, عالیہ نے سکھ کا سانس لیا۔
*********************
زینب اب بالکل بھی کالج نہیں جا رہی تھی۔ مریم اور حسن اب اسے کالج نہیں جانے دیتے تھے۔ زینب نے حسن اور مریم کو منانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر وہ دونوں نہیں مانیں۔ ان دونوں کا کہنا تھا کہ اس کی شادی ہونے والی ہے، اس لیے اب اسے گھر سے باہر نہیں جانا چاہیے بلکہ اب گھر میں رہ کر گھر داری میں ہاتھ بٹانا چاہیے۔
زینب ابھی چھت پر کپڑے سکھا رہی تھی، جب اسے اپنے پیچھے آہٹ محسوس ہوئی۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک پل کے لیے اس کی دھڑکنیں تھم گئی۔
اس کے پیچھے وہی لڑکا کھڑا تھا، جو اکثر زینب کا پیچھا کیا کرتا تھا۔ لڑکے نے گہرے بھورے رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی، جس کے گریبان کے بٹن اس وقت کھلے تھے۔ گردن میں سلور رنگ کی چین واضح دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے زینب کی کلائی پکڑی اور اسے پیچھے کرتے ہوئے دیوار پر لگا دیا۔ زینب کے لیے یہ سب کچھ اتنا جلدی تھا کہ وہ چند پل کے لیے وہ کچھ سمجھ بھی نہیں پائی۔
"تم میرے علاؤہ کسی اور کی ہونے کا کیسے سوچ سکتی ہو؟" لڑکے نے غصے سے بولا۔ "میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں۔ پاگلوں کی طرح تمہارے پیچھے پڑا ہوا ہوں اور تم ہو کہ میری طرف دیکھتی ہی نہیں ہو۔"
زینب کو اپنے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوتی محسوس ہوئیں۔
"می۔۔میں نہی۔۔جانتی کہ تم۔۔ کس بارے ۔۔میں بببات کر رہے۔۔۔ہو۔" زینب نے بات کرنے کی کوشش کی۔
"تم نہیں جانتی ہو کہ میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں!" لڑکے نے اپنا دوسرا ہاتھ، دیوار پر زور سے مارا۔ "میں کہہ رہا ہوں کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں، شادی کرنا چاہتا ہوں اور تم! تم مجھے چھوڑ کر جا رہی ہو۔ میں نے اپنے محبت کے پیغامات تمہاری کزن کے ذریعے، تم تک بھجوائے مگر تم نے انہیں بھی پھاڑ دیا۔"
"کونسے پیغامات؟ کونسی کزن؟" زینب نے حیرت سے پوچھا۔
"اب یہ مت کہنا کہ تم کچھ جانتی نہیں ہو۔ تمہاری کزن ام ہانی کو میں نے خود سارے پیغامات دیے تھے اور اس نے تمہیں دے بھی دیے تھے۔"
زینب نے جیسے ہی ام ہانی کا نام سنا، اسے سب سمجھ آگئی۔ اسے پتہ چل گیا کہ یہ مصیبت جو اس کے پیچھے پڑی ہے، یہ ام ہانی کی لائی ہوئی ہے۔ آخر اس نے ام ہانی کا بگاڑا کیا تھا، جو وہ اس کی مشکل زندگی کو مزید مشکل بنا رہی تھی۔
"دیکھو نہ میں تمہیں جانتی ہوں اور نہ تمہارا کوئی پیغام مجھ تک موصول ہوا۔ بہتر ہوگا کہ تم میرا پیچھا چھوڑ دو اور جا کر اس سے بات کرو جس نے تمہیں میرے پیچھے لگایا ہے۔" زینب نے کچھ ہمت دکھائی اور اپنی کلائی چھڑوا کر لڑکے کو کچھ پیچھے کیا لیکن اس لڑکے نے دوبارہ اس کی کلائی تھام لی۔
"کیا کہا تم نے؟" لڑکے نے ابھی یہ بات بولی ہی تھی کہ ایک دم سے چھت پر ایک مردانہ آواز گونجی۔ زینب اور اور اس لڑکے نے آواز سن کر اپنی گردن گھمائی، تو دونوں کے چہرے تاریک پڑ گئے۔
********************
اگلا دن اشفاق کے گھر میں انتہائی مصروف گزرا، کیونکہ ام ہانی سالوں بعد پاکستان آ رہی تھیں صبح کے گیارہ بجے جیسے ہی ام ہانی اور عیسیٰ کی گاڑی اشفاق صاحب کے گھر کے پورچ میں رکی، تو سارا خاندان گھر سے باہر نکل کر ان کے استقبال کے لیے جمع ہوگیا۔ گاڑی کی پچھلی نشست سے سب سے پہلے عیسیٰ نکلا۔ عیسیٰ نے سفید رنگ کی ٹی شرٹ پر نیلی جینز پہنی ہوئی تھی۔ وہ گاڑی کی دوسری طرف مڑا اور پچھلی طرف کا دوسرا دروازہ کھل گیا۔ گاڑی کے دروازے سے سب سے پہلے کالے رنگ کی سینڈل نکلی۔ اس کے بعد پورا سراپا اشفاق کے خاندان کے سامنے پیش ہوا۔ ان کے سامنے ام ہانی کھڑی تھیں۔ ام ہانی سلیو لیس پیلی قمیض پر لال شلوار پہنے ہوئے تھیں۔ ان کے بال اسٹیپس کی صورت میں کٹے ہوئے تھے جبکہ سر پر کالا چشمہ لگا ہوا تھا۔ ہاتھ میں بھورے رنگ کا ہینڈ بیگ لٹکا ہوا تھا۔ام ہانی ابھی تک اسمارٹ تھیں۔ وہ اپنی عمر سے کافی چھوٹی لگتی تھیں۔
ام ہانی کو دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے باہر کی تہذیب کا خاصا اثر لیا ہے۔ نوال اور اشفاق کو ان کا لباس بہت نا مناسب لگا مگر انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ اتنے سالوں بعد آئے مہمان کو ٹوکنا اخلاقی طور پر غیر مناسب تھا۔
وہ قدم قدم چلتی نوال کے سامنے کھڑی ہوگئیں۔ دونوں بہنوں کے نقش و نگار ایک دوسرے سے خاصے ملتے تھے۔ دونوں بہنوں نے لمحے کے لیے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر گلے لگ گئیں۔ دونوں کو ایک دوسرے کے جسم سے نکلتی حدت، محسوس ہو رہی تھی۔ کچھ دیر بعد ام ہانی نوال سے الگ ہو گئیں اور اشفاق سے سلام کیا۔
"السلام علیکم!" اشفاق نے ان کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔
"وعلیکم السلام! نوال آپ ام ہانی کی اچھے سے میزبانی کریں۔ میں لنچ تک آجاؤں گا۔ " اشفاق یہ کہتے ہوئے اپنی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ اس کے بعد ام ہانی، عالیہ اور عزاہ سے ملنے لگیں۔ ان دونوں سے ملنے کے بعد وہ جائی یانہ کی طرف بڑھی اور اس کے گلے لگ گئیں۔
"لڑکی! میں نے تمہارے متعلق بہت سنا ہے۔ کیسی طبیعت ہے تمہاری؟" ام ہانی کا لہجہ ایسا تھا جیسے بہت جائی یانہ اور ان کی بہت پرانی یاری تھی جبکہ جائی یانہ حیرت کے مارے غش کھا رہی تھی۔ ہوش سنبھالنے کے بعد وہ پہلی دفعہ براہ راست ام ہانی سے مل رہی تھی۔ اس سے پہلے اگر ان دونوں کے درمیان رابطہ تھا بھی تو وہ، بس فون کے ذریعے ہوتا تھا اور وہ بھی رسمی سا۔
ام ہانی نے جائی یانہ کے کندھوں پر بازو رکھ دیا اور اندر کی جانب بڑھ گئیں۔ جائی یانہ کو جانے کیوں یہ دوستانہ انداز کھٹک رہا تھا۔
********************
کچھ لمحات بعد اگر اشفاق کے گھر کے اندر آؤ تو سب لوگ لاؤنج میں محفل جمائے بیٹھے تھے۔ عزاہ کے علاؤہ پورا گھر لاؤنج میں ہی موجود تھا۔ ان سب کو چھوڑ کر عزاہ کھانے کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ جائی یانہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ بھی کسی طرح عزاہ کی مدد کروانے کے بہانے سے یہاں سے کھڑی ہوجائے مگر ام ہانی اسے کچھ بھی کہنے کا موقع نہیں دے رہی تھی۔ وہ دونوں صوفے پر ساتھ بیٹھی تھیں۔ ام ہانی جائی یانہ سے ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھ رہی تھیں، جائی یانہ کے جوابات دینے پر اپنے تبصرے پیش کر رہی تھیں۔ جائی یانہ کو ام ہانی کے تبصرے بالکل بھی اچھے نہیں لگ رہے تھے۔
"تم کیا پڑھ رہی ہو جائی یانہ؟" ام ہانی اب پڑھائی کے موضوع کی جانب بڑھی تھیں۔
"بی بی اے!" جائی یانہ کا جواب سن کر ام ہانی بولیں۔
" بی بی اے؟ بی بی اے پڑھنے کا کیا فائدہ؟ کیا لڑکیاں آفس اور کاروباری کاموں میں حصہ لیتی اچھی لگتی ہیں؟ لڑکیاں تو گھر داری کرتی اچھی لگتی ہیں اور اگر پھر بھی پڑھائی کا شوق ہے، تو ڈاکٹر بن جائیں۔ ایسی مردانہ فیلڈز میں خود کو تھکانے کا کیا فائدہ؟" ام ہانی کی باتوں سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ اپنی زندگی کا طویل عرصہ امریکہ میں گزار کر آئی ہیں۔ بی بی اے پر اپنی طنزیہ رائے پیش کرنے کے بعد اب ام ہانی، جائی یانہ کی ظاہری صورت پر آئی۔
"کیا حلیہ بنایا ہوا ہے تم نے اپنا؟ کہیں سے بھی نہیں لگ رہا ہے کہ اس زمانے کی لڑکی ہو۔ بندہ خود کو تھوڑا سا گروم کرتا ہے۔ اب تو یوٹیوب میں ویڈیوز بڑھی ہوئی ہیں لڑکیوں کی ڈریسنگ سینس ٹھیک کرنے کے لیے۔۔۔"
"میں خود تھک گئی ہوں اس کو سمجھاتے سمجھاتے مگر مجال ہے کہ یہ لڑکی میری کوئی بات سن لے" نوال بھی ام ہانی کے ساتھ شروع ہوگئیں۔
"عالیہ کا فیشن سینس اتنا اچھا ہے۔ تم تھوڑا سا عالیہ سے سیکھ لو۔ اوپر سے تمہاری رنگت بھی بہت سانولی ہے۔" جائی یانہ کو ایسا لگ رہا تھا کہ بیچ بازار میں اسے درے مارے جا رہے ہو۔ اوپر سے کوئی بھی شخص اس کی طرف داری نہیں کر رہا تھا۔ اس کی سگی ماں اسے ذلیل کرنے والوں کے ساتھ مل گئی تھی۔ ماں باپ کو سمجھنا چاہیے، بعض اوقات بھری محفل میں ان کے رشتہ دار بچوں کی بھلائی کے لیے نہیں بلکہ بچوں کو ذلیل کرنے کے لیے ان کی کمزوریوں کا تذکرہ چھیڑتے ہیں۔
"اتنی ساری اسکن کئیر پروڈکٹس مارکیٹ میں موجود ہیں۔ تم اگر مجھ سے کہتی تو میں خود تمہارے لیے امریکہ سے اسکن کئیر پروڈکٹ لاتی۔" جائی یانہ نے جب اپنے سامنے سنگل صوفے پر بیٹھے عیسیٰ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ دیکھی، تو اس کی بس ہوگئی۔ وہ کچھ کہنے ہی والی تھی لیکن اچانک لاؤنج میں داخل ہوتے شخص نے جائی یانہ کی حمایت لی۔
"ان سب چیزوں کو ضرورت تمہیں ہوگی ام ہانی۔ ہماری بچی کو ایسی چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ماشاءاللہ سے اس کا چہرہ ہی اتنا پیارا ہے کہ دیکھنے والے کو ایک نظر میں بھا جاتا ہے۔ "
جائی یانہ کا چہرہ کھل گیا۔ زینب قدم قدم چلتی ہوئی لاؤنج میں داخل ہوئیں۔
"آئیندہ کے بعد ایسی بات کرتے ہوئے احتیاط کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ تمہیں خود ہی منہ کی کھانی پڑے۔" زینب نے نرم لہجے میں ام ہانی کو بآور کروایا۔
ام ہانی کی مسکراہٹ لمحے بھر کے لیے تھم گئی دوسری طرف نوال زینب کو دیکھ کر اس کے استقبال میں کھڑی ہوگئیں اور انہیں گلے لگایا۔
" زینب خیرت؟ کیسے آنا ہوا؟ " نوال نے ان سے الگ ہوتے ہوئے پوچھا۔
"بھابھی نمرہ نے مجھے بتایا تھا کہ آج ام ہانی آئے گی۔ تو سوچا کیوں نہ اس سے ملنے آجاؤں۔"
زینب بات کرتے کرتے اسی صوفے پر بیٹھ گئیں جس پر جائی یانہ اور ام ہانی بیٹھے تھے۔
"اور سناؤ ام ہانی کیا حال ہے؟"
"میں تو ٹھیک ہوں۔ تم اپنی سناؤ فوٹوگرافر صاحبہ؟ اتنے سالوں بعد میری یاد کیسے آئی؟ میں تو سمجھتی تھی کہ تم مجھے باکل بھول گئی ہو۔" ام ہانی نے اپنا لہجہ نارمل بنا کر طنز کرنے کی کوشش کی۔
"تم صحیح کہہ رہی ہو۔ زندگی میں اتنے ضروری کام ہیں کہ غیر ضروری لوگوں کی یاد ہی نہیں آتی لیکن اب میں آگئی ہوں، تو تمہارے شکوے دور کرکے ہی جاؤں گی۔"
عیسیٰ نے حیرت سے زینب کو دیکھا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی اس کی ماں کو بھی منہ توڑ جوابات دیں سکتا ہے۔ نوال نے ان دونوں کی گفتگو کو غلط سمت جاتے دیکھا، تو بات بدلنے کی کوشش کی۔
"تم لوگ کیا فضول باتیں کر رہے ہو؟ ان باتوں کو چھوڑو۔ ام ہانی! میں سوچ رہی تھی کہ عالیہ اور شایان کی شادی تو ہو ہی رہی ہے۔ تو کیوں نا تم اپنے عیسیٰ کے لیے بھی کوئی لڑکی پسند کرلو۔۔۔۔"
"جی باجی آپ صحیح کہہ رہی ہیں۔ میں بھی یہی سوچ رہی تھی مگر مجھے عیسیٰ کی ہم جوڑ لڑکی کو ڈھونڈنے میں خاصی دقت پیش آئے گی۔ گھر کی لڑکیاں تو اس کی عمر سے بڑی ہیں اور جو بچی ہوئی ہیں، وہ میرے عیسیٰ کے لائق کہاں؟" اس دفعہ نوال کا چہرہ بھی فق ہوا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ ام ہانی کا نشانہ کس پر تھا جبکہ زینب اس کی بات سن کر ہنس دی۔
"میں نے سنا تھا کہ امریکہ کے لوگ بڑے بلنٹ ہوتے ہیں، آج دیکھ بھی لیا۔ مجھے نہیں پتہ تھا ام ہانی کو امریکہ کا پانی اتنا راس آ جائے گا کہ اپنے سگے بیٹے کو خود اپنے منہ سے، ہماری لڑکیوں سے کم تر کہہ دے گی ویسے تمہارا بیٹا مجھے اتنا بھی کم تر نہیں لگا، کیوں جائی یانہ؟" آخر میں زینب نے جائی یانہ کی رائے مانگی۔
عیسیٰ نے بے اختیار پہلو بدلا۔ اس کا چہرہ خفت سے لال ہوگیا تھا۔ دوسری طرف ام ہانی کی بھی بس ہوگئی تھی۔ ابھی وہ زینب کو کھڑی کھڑی سنانے والی تھیں کہ اشفاق صاحب گھر میں داخل ہوکر سیدھا لاؤنج میں آگئے۔
"کس بارے میں بات کر رہے تھے آپ لوگ؟" اشفاق نے ام ہانی اور نوال کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ زینب کو انہوں نے ہمیشہ کی طرح نظر انداز کر دیا۔
"کوئی خاص بات نہیں ہو رہی تھی۔" نوال نے ان کے سوال کا ہلکے پھلکے لہجے میں جواب دیا۔ اسی وقت عزاہ لاؤنج میں آئی۔ اس کا ڈوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا۔
"کھانا لگ گیا ہے اماں!" یہ سن کر سب لوگ ڈائننگ ہال میں جانے کے لیے کھڑے ہوگئے۔
کچھ لمحات بعد ڈائننگ ہال میں آؤ، تو سب لوگ کھانا کھانے میں مشغول تھے۔ کھانے کے دوران اشفاق بار بار ام ہانی کو کھانے کے لیے ڈشیں پیش کر رہے تھے اور کھانا کھانے کی ترغیب بھی دے رہے تھے۔ ان کا زینب کی جانب کوئی دھیان نہیں تھا۔ ام ہانی اپنی کمینی گہری مسکراہٹ کے ساتھ زینب کو دیکھ رہی تھیں، جیسے کہنا چاہ رہی ہو کہ اس گھر میں آج بھی اس کی قدر زینب سے زیادہ ہے۔
زینب جواب میں بولیں۔
"آہ! آج تو مجھے مریم چچی کی بہت یاد آ رہی ہے۔" سب کے چہرے سوگوار ہوگئے۔
"یاد ہے نوال! جب جائی یانہ پیدا ہوئی تھی، تو مریم چچی کس طرح اس کے نین نقش کو ہماری ماں سے ملا رہی تھیں۔ مریم چچی کو جائی یانہ ہوبہو ماں کی شبیہہ لگی۔"
زینب کی بات سن کر اشفاق کے چہرے پر ایک سوگوار مسکراہٹ پھیل گئی۔ اشفاق نے دنیا میں بس دو عورتوں کو دل سے چاہا تھا۔ ایک اپنی ماں اور دوسری جائی یانہ۔
" جب ام ہانی تم ہماری جائی یانہ کو اس کے سانولے رنگ کی وجہ سے ٹوک رہی تھی، تو مجھے بہت برا لگا۔ مجھے ایسا لگا کہ تم میری امی جان کے نین نقش کا مزاق اڑا رہی ہو۔" یہ بات سن کر ام ہانی کا چہرہ فق ہو گیا۔ دوسری طرف اشفاق نے بھی ام ہانی کو گھورا۔
"میری بیٹی کا رنگ چاہے سانولا ہو یا گورا، کسی دوسرے کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔"
ام ہانی نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔
"اشفاق بھائی مجھے تو بس جائی یانہ کی فکر تھی، اس لیے کہہ دیا۔"
"آئیندہ خیال رکھنا۔" اشفاق نے دو ٹوک انداز میں اسے تنبیہ دے دی۔ دوسری طرف جائی یانہ اپنی رنگت کو موضوع بنتا دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھ رہی تھی۔
کھانا کھا لینے کے بعد زینب نے شایان کو کال کردی کہ وہ انہیں لینے آ جائے۔ آدھے گھنٹے بعد شایان کی گاڑی اشفاق کے پورچ میں موجود تھی۔ زینب، شایان کی آمد کی اطلاع سن کر سب کو خدا حافظ کہتی گھر سے باہر نکلنے لگیں۔ ایک دم انہیں کچھ یاد آیا۔ وہ رکیں اور عالیہ سے پوچھا۔
"عالیہ بیٹا تمہیں جوتی فٹ آگئی تھی نا جو تم نے نمرہ کے ساتھ خریدی تھی؟"
"جی۔۔۔" عالیہ نے زینب کی بات کا جواب دیا۔
"ہمم چلو ٹھیک ہے۔ پھر میں ولیمے کی سینڈل بھی اسی نمبر کی لے آؤں گی۔" زینب نے سوچتے ہوئے کہا۔
"ویسے تمہاری دوست تم سے ملنے کے لیے بہت مچل رہی تھی۔۔"
عالیہ ان کی بات سن کر ہنس دی۔
"تو آپ اسے لے آتیں!"
"روز تو دونوں بات کرتی ہو۔ آخر اتنی باتیں لاتی کہاں سے ہو؟"
"دوستوں کے درمیان ہزاروں باتیں ہوتی ہیں جو وہ ایک دوسرے سے شئیر کرتی ہیں۔ آپ بھی اپنے دور میں اپنی دوستوں کے ساتھ یوں ہی اٹیچ ہونگی۔" عالیہ کی بات سن کر زینب کو سانپ سونگھ گیا۔
(تم نے میرے ساتھ کیا کردیا زینب!)
زینب کو یہ آواز بہت دور سے آتی محسوس ہوئی۔ انہوں نے سر جھٹکا اور نوال کی جانب متوجہ ہوگئی۔
"اچھا بھابھی، تو اب اجازت دے دیں۔" زینب ، نوال اور ام ہانی بات کرتے ہوئے پورچ میں آگئے۔
"تم کچھ دیر اور رک جاتی تو اچھا لگتا!" نوال کی بات پر زینب مسکرائیں۔
"نہیں بھابھی آپ تو جانتی ہیں شادی کا گھر ہے، سو انتظام ہیں، جو مجھے سنبھالنے ہیں۔ یہ تو آج میں خصوصی ام ہانی سے ملنے آگئی۔" آخر میں انہوں نے ام ہانی کو دیکھا، جس کے ہونٹ اس وقت غصے سے بھینچے ہوئے تھے۔
"ہمم چلو! اسی بہانے تمہیں اپنے بھائی کے گھر آنے کا موقع تو ملا۔" ام ہانی کا طنز زینب نے اچھے سے محسوس کر لیا تھا لیکن اس وقت نظر انداز کردیا۔
وہ آگے بڑھیں اور گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ شایان نے گاڑی گیٹ سے باہر نکال لی اور اپنے گھر کے راستے پر دوڑا دی۔
"جہاں تک مجھے معلوم ہے آپ کو تو ام ہانی آنٹی کچھ زیادہ اچھی نہیں لگتیں، پھر آپ ان سے ملنے کیوں گئیں؟" شایان نے نظریں سامنے سڑک پر ہی جمائے رکھی۔
"دیکھنا چاہتی تھی کہ اس کے اندر کا شر ختم ہوا ہے یا نہیں۔" زینب نے بھی سامنے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
"تو کیا پتہ چلا آپ کو؟"
زینب سیٹ پر کچھ پیچھے کو ہوئیں اور آنکھیں موند لیں۔
"یہی کہ فطرت کبھی نہیں بدلتی۔"
دوسری طرف ام ہانی پورچ میں کھڑی نوال پر غصے سے چلا رہی تھیں۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا زینب کا منہ توڑ دے۔
"اس کی زبان دیکھی تھی۔ قینچی جیسی زبان سنبھال نہیں سکتی۔ جو لڑکی کل تک ہمارے ٹکڑوں پر پلتی تھی، وہ آج ہمارے منہ پر آ رہی ہے۔ پتہ نہیں کیا سوچ کر آپ نے عالیہ کی شادی اس منحوس کے بیٹے سے کروانے کا سوچا۔"
نوال نے جب ام ہانی کو اتنے غصے میں دیکھا تو پرسکون کروانے کی کوشش کی۔
"آرام سے بولو۔ تمہارے بھائی نے سن لیا تو کیا سوچیں گے؟"
"میں تو یونہی بولوں گی، کوئی سنتا ہے تو سن لے۔" یہ کہہ کر ام ہانی اندر چلی گئی۔ نوال نے ایک گہرا سانس باہر کو نکالا، پھر اندر چلی گئی۔ وہ جانتی تھی کہ جب تک ام ہانی یہاں پر ہے، اس کا زینب کے ساتھ جھگڑا ضرور رہے گا۔
**********************
"یہ سب کیا چل رہا ہے؟" اشفاق کی آواز سن کر جہاں زینب کو دھچکا لگا تھا، وہیں وہ لڑکا بھی حیران ہوا تھا۔
اشفاق برق رفتاری سے ان دونوں کے پاس آیا اور زینب کا ہاتھ اس لڑکے کے ہاتھ سے چھڑوایا۔
"کمینے انسان! ہماری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی تیری ہمت کیسے ہوئی؟" اشفاق نے لڑکے کا گریبان پکڑ لیا تھا اور اسے پیچھے کی طرف دھکیلنے لگا۔
"میرا گریبان چھوڑ!" لڑکے نے اپنا گریبان چھڑوانا چاہا۔
"تو مجھے بتا تیری ہمت کیسے ہوئی ہمارے گھر کی چھت پر یوں دندنانے کی؟" اشفاق کی گرفت اس شخص کے گریبان پر مزید مضبوط ہوگئی۔
"تیری بہن کو پسند کرتا ہوں اور اسے بتانے آیا ہوں کہ شادی کروں گا، تو اسی سے کروں گا۔" لڑکے کی بات سن کر اشفاق مزید آگ بگولہ ہوگیا۔
"تیری تو!" اشفاق نے اس کی ناک پر مکا مار دیا، پھر اسے ساتھ چھت کی دیوار کے پاس دھکا دے دیا۔
"تو ابھی یہاں سے نکل جا، ورنہ تیرا میرے ہاتھوں قتل ہو جائے گا۔" اشفاق نے کہا۔ " اور یہ مت سمجھی کہ میں خاموش بیٹھ گیا ہوں۔ تیرا تو میں بندوبست کرتا ہوں۔"
لڑکا دیوار پھلانگ کر چلا گیا۔ دوسری طرف شور سن کر حسن صاحب اور ان کا پورا خاندان چھت پر جمع ہوگیا تھا۔ ام ہانی کے سوا سب حیرت سے ایک دوسرے کے چہرے دیکھ رہے تھے۔ ام ہانی مسکرا کر یہ سارا ڈرامہ دیکھ رہی تھی۔
لڑکے کے جانے کے بعد، اشفاق کا قہر زینب پر گرا۔ وہ زینب کے پاس گیا اور اس کے بالوں کو سختی سے اپنی مٹھی میں بھینچ لیا۔ وہ زینب کو ایسے ہی پکڑے نیچے لے جانے لگا۔
"بھائی۔۔بھائی۔۔۔میں نے۔۔۔" زینب کی آوازیں بلند تھی۔ اشفاق کا چہرہ شدتِ جذبات سے لال ہو رہا تھا۔ اس کو اس قدر غصہ آ رہا تھا کہ وہ زینب کو کچھ کہنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ اشفاق نے زینب کو جھٹکے سے، اس کے کمرے کے اندر پھینکا اور دروازہ بند کرکے کنڈی لگا دی۔ زینب فوراً دروازے کے پاس لپکی اور کھٹکھٹانے لگی۔
"بھائی بھائی دروازہ کھولیں! بھائی دروازہ کھولیں!" وہ مسلسل کھٹکھٹاتے ہوئے بول رہی تھی۔ دوسری طرف اشفاق اونچی آواز میں بولا۔
"چچی اس کے کمرے کا دروازہ نہیں کھلنا چاہیے۔ اس کے سسرال والوں کو کہہ دیں کہ اسے اسی ہفتے بیاہ کر لے جائیں۔ ایسے گند کو اپنے گھر میں رکھنا میری توہین ہے۔" مریم نے کچھ نہیں کہا۔ شاید وہ ساری صورتحال کو سمجھ چکی تھیں۔ کچھ دیر کی مزید لعنت و ملامت سن لینے کے بعد، زینب کو قدموں کی آہٹ اپنے کمرے سے دور جاتی سنائی دی۔ اسے باہر سے اب کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ زینب کے دروازہ پیٹتے ہاتھ رک گئے۔ دروازہ اس کے شور مچانے سے نہیں کھلنا تھا، الٹا اس کی بے بسی کا مذاق بن رہا تھا۔ اس نے دروازے سے ٹیک لگا لی اور آنکھیں موند لی۔ اسے ام ہانی سے ایک عجیب سی نفرت دل میں پنپتی محسوس ہوئی۔
********************
رات کے وقت اگر اشفاق کے گھر میں آؤ، تو کھانا تیار کرکے ڈائننگ ٹیبل پر لگایا جا رہا تھا۔ سب لوگ اسی کام میں جتے ہوئے تھے۔ جائی یانہ نے جیسے ہی سلاد ڈائننگ ٹیبل پر رکھا، تو اسے نوال کی آواز آئی۔
"جاؤ جائی یانہ اپنی خالہ کو بلا آؤ۔"
"امی آپ ہی چلی جائیں۔ میرے سے تو خالہ کو اللّٰہ واسطے کا بیر ہے۔"
"بری بات! وہ خالہ ہیں تمہاری، دشمن تھوڑی ہیں۔ وہ تمہارے بھلے کے لیے ہی تمہیں سمجھا رہی تھیں۔ چلو شاباش خالہ کو بلانے جاؤ۔" نوال کی بات سن کر جائی یانہ کو جانا پڑا۔ جب وہ ام ہانی کے کمرے کے پاس پہنچی، تو ام ہانی کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔
"میں نے تو لڑکی کو ذلیل کرنے کی پوری کوشش کی تھی۔ اب عین وقت پر زینب اس کی حمایت لینے آگئی، تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟" جائی یانہ فوراً سمجھ گئی کہ خالہ کی باتوں کا اشارہ کس کی طرف تھا۔
"مجھے نہیں پتہ! آپ کو کسی بھی طرح اسے سبق سکھانا ہوگا۔ اتنی بدتمیز بھانجی ہے آپ کی کہ بس! میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ۔۔۔" عیسیٰ کی بات کو ام ہانی نے کاٹا۔
"اچھا اب تم کچھ مت کرنا۔ میں ہوں نا! میں خود تمہاری بے عزتی کا بدلہ لوں گی۔" جائی یانہ کو اب سب سمجھ میں آگئی کہ صبح والی تذلیل کس خوشی میں کی گئی تھی۔ اس نے ایک نظر اپنے سامنے موجود کمرے کے دروازے کو دیکھا، پھر باہر سے اونچی آواز میں ام ہانی کو آواز لگائی۔
"ہانی خالہ!"
کمرے سے آتی اوازیں یکدم بند ہوگئیں۔ جائی یانہ قدم قدم چلتی کمرے کی چوکھٹ تک پہنچی اور ان دونوں کی شکلوں کو دیکھا۔ دونوں کے چہروں کے رنگ اڑے ہوئے تھے۔
"کھانا لگ گیا ہے۔" جائی یانہ نے یہ کہا اور جانے کے لیے مڑ گئی۔ اسی وقت ام ہانی نے اسے روکا۔
"جائی یانہ ہم لوگ تو بس اپنی باتیں کر رہے تھے۔" جائی یانہ مڑی اور خالہ کو دیکھ کر پوچھا۔
"آپ کیا کہہ رہی ہیں خالہ؟"
"ہم بس آتے ہیں جائی یانہ!" عیسیٰ نے بات سنبھالی۔ جائی یانہ نے سر ہلایا اور آگے چل دی۔ ام ہانی اور عیسیٰ نے جائی یانہ کو جاتا دیکھ کر سکون کا سانس لیا۔
********************
شایان کے نکاح کا دن
شام کے سایے میں اسلام آباد کی سڑک پر سفید گاڑی رینگتی معلوم ہوتی تھی۔ اگر ونڈو اسکرین سے اندر کی جانب جھانکو، تو ڈرائیونگ سیٹ پر ایک جانا پہچانا شخص، بیٹھا دکھائی دے رہا تھا۔
("میرا نام آریان جہانگیر ہے۔ میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں۔ میرے ڈیڈ کا بہت عرصے پہلے انتقال ہو گیا تھا۔" آریان اپنے سامنے بیٹھی عالیہ کو اپنی زندگی کے بارے میں بتا رہا تھا۔ یہ اسی دن کی بات ہے، جب آریان نے عالیہ کو مک ڈونلڈز ریستوران میں پرپوز کیا تھا۔ پرپوز کرنے کے بعد آریان اب اپنا تفصیلی تعارف عالیہ کو پیش کر رہا تھا۔ عالیہ چپس کھاتے ہوئے اس کی بات خاموشی سے سن رہی تھی۔)
وہ بڑی عمدگی سے کار چلا رہا تھا۔ اس نے کالے رنگ کی پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور سر کو ہری پی کیپ سے ڈھکا ہوا تھا۔
("میرے ڈیڈ کے جانے کے بعد، میری ماما نے ہمارا کاروبار سنبھالا۔ انہوں نے مارکیٹ میں کمپنی کا نام بنایا۔ پڑھائی کے بعد جب میں نے کاروبار سنبھالا، تب تک ماما نے بزنس اچھے سے سیٹل کر لیا تھا۔ " آریان کی بات سن کر عالیہ نے پوچھا۔
"کس طرح کا کاروبار ہے تمہارا؟" عالیہ کی بات سن کر آریان نے جواب دیا۔
"ہماری اپنی Pharmaceutical company (ایسی کمپنی جو دوائیاں بناتی ہے۔) ہے" عالیہ نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔ آسمان پر اڑتی چیل کی آوازیں اور ڈھلتا سورج ماحول کو تابناک بنائے ہوئے تھا۔)
ڈرائیونگ کے دوران اس کے نمبر پر ایک میسج آیا۔ اس نے میسج پڑھا اور بس اتنا لکھ کر سینڈ کر دیا۔
" فکر نہ کریں۔ میں سب کچھ سنبھال لوں گا۔"
("میری زندگی اتار چڑھاؤ سے بھری ہوئ ہے اب جا کر کچھ ٹھہراؤ آیا ہے۔ میں نے ایسے حالات دیکھے ہیں کہ بعض اوقات مجھے لگتا تھا میں کسی سے شادی تو دور، محبت بھی نہیں کر پاؤں گا، مگر پھر تم مل گئی۔ تم سے محبت بھی ہوگئی اور اب بہت جلد شادی بھی ہوجائے گی۔ میں جیسے ہی گھر جاؤں گا، فوراً ماما سے تمہارے بارے میں بات کروں گا اور انہیں کچھ دن میں تمہارے گھر بھیجوں گا۔"
"تمہاری ماما کا مزاج کیسا ہے؟" عالیہ نے اس سے پوچھا۔ ہر عام لڑکی کی طرح وہ بھی اپنی ہونے والی ساس کے مزاج اور رویے کے بارے میں کچھ پریشان تھی۔
"دیکھو میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ ماما مزاج کی کچھ گرم ہیں۔ ان کے لیے اس دنیا میں سب سے زیادہ اہم میں ہوں۔ میرے بارے میں وہ بہت پوسیسو ہیں۔" عالیہ، آریان کی باتیں سن کر اب مکمل طور پر پریشان ہوگئی تھی۔)
میسج سینڈ کر دینے کے بعد، اس نے اپنا موبائل جیب میں ڈال لیا اور نظریں دوبارہ سڑک پر جما لی۔ اس کے چہرے کے تاثرات سپاٹ تھے۔ اس کے چہرے اور آنکھوں سے کوئی بھی جذبہ اخذ نہیں کیا جا سکتا تھا۔
(" تمہیں کیا ہوگیا ہے؟"
آریان اپنی رو میں بات کیے جا ر رہا تھا جب اس کی نظر عالیہ کے چہرے پر گئی۔
"تم کہیں ماما کے رویے کی وجہ سے تو پریشان نہیں ہو۔" عالیہ نے کچھ نہیں کہا۔ اس کی خاموشی نے آریان کے اندازے کو درست قرار دے دیا تھا۔ آریان کا بے اختیار قہقہہ بلند ہوا۔ وہ عالیہ کے تاثرات سے خاصا محظوظ ہوا تھا۔ )
سڑک پر رینگتی گاڑی نے ایک موڑ کاٹا۔ موڑ مڑنے کے بعد اس کی نظر دور لگے بورڈ پر گئی۔ وہ ایک پارلر کا بورڈ تھا۔
("تم ماما کی وجہ سے پریشان ہو رہی ہو؟ اوہ گاڈ!" آریان نے ہنستے ہوئے اپنا جملہ مکمل کیا۔ جب وہ ہنستے ہنستے تھک گیا، تو کچھ سنجیدگی سے گویا ہوا۔
"میری ماما بہت اچھی ہیں۔ میں انہیں جیسے ہی تمہارے بارے میں بتاؤں گا، وہ بہت خوش ہونگی۔ وہ میری کوئی بات نہیں ٹالتیں۔ دیکھ لینا اِدھر میں بات ختم ہی کروں گا، اُدھر وہ تمہارے گھر جانے کی تیاریوں میں مصروف ہو جائیں گی، اور بالفرض وہ نہ بھی مانیں، تو بھی میں انہیں منا لوں گا")
گاڑی عین بیوٹی پارلر کے سامنے رکی تھی۔ اس نے اپنے سامنے کھڑی عمارت کو دیکھا جو اپنے پورے قد اور رعب سے کھڑی تھی۔ اس عمارت کے اندر ایک لڑکی تھی، جو اس کا انتطار کر رہی تھی۔ اسے اسی لڑکی کو باہر نکالنا تھا۔ اس نے اپنا موبائل جیب سے نکالا اور ایک نمبر ڈائل کرنے لگا۔
*******************
عالیہ لال رنگ کا عروسی لباس پہنے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ رہی تھی۔ لال رنگ کے لباس پر سنہرے رنگ کی پچیدہ کڑہائی کروائی گئی تھی۔ گردن کو سنہری رنگ کے نیکلس سے چھپانے کی کوشش کی گئی تھی۔ نیکلس اور کانوں میں موجود جھمکوں پر ہرے رنگ کے پتھر جڑے ہوئے تھے۔ اس کا منہ ہیوی میک اپ سے اٹا ہوا تھا، مگر اس پر ہیوی میک اپ اچھا لگ رہا تھا۔ بالوں کا جوڑا کرکے ماتھا پٹی لگائی گئی تھی اور سامنے سے دو لٹیں نکال دی گئی تھیں۔ عالیہ اس وقت پارلر کے اندر موجود تھی۔ بیوٹی پارلر سفید اور سیاہ رنگ کی ٹائلوں سے مزین تھا۔ بیوٹی پارلر میں اے سی کی خنکی محسوس کی جا سکتی تھی۔ عالیہ نے اپنے سیٹ دوپٹہ کو کچھ ٹھیک کیا۔ وہ بالکل تیار تھی۔ اس کی دونوں بہنیں تیار ہو رہی تھیں۔ وہ دونوں ہی اندر کمرے میں موجود تھے۔
عالیہ نے اپنے ہاتھوں میں لگی مہندی کو دیکھا جس پر شایان کا نام لکھا تھا۔ مہندی کو دیکھتے دیکھتے، اس نے سوچا کہ ہاتھوں پر مہندی سے نام لکھنے سے کیا ہو جاتا ہے؟ مہندی کا رنگ کبھی نہ کبھی مٹ جاتا ہے لیکن نکاح نامے پر لکھے نام تاقیامت ساتھ رہتے ہیں۔ شایان کا نام ہاتھوں کی مہندی پر تھا جبکہ آریان کا نام نکاح نامے کے کاغذات میں لکھا جائے گا۔ بس کچھ لمحوں کا کھیل تھا، پھر یہ مہندی بے مول ہوجائے گی۔
عالیہ کی سوچوں کا تسلسل فون کال نے توڑا۔ اس نے اپنا موبائل اٹھایا، جو اس نے بے دھیانی میں صوفے پر رکھ دیا تھا۔ اس نے کال ریسیو کی اور کچھ دیر تک سامنے والے کی بات سنتی رہی۔ جب اس نے بات کرلی تو کال کاٹ دی اور ایک لڑکی کو روک کر پوچھا۔
"واش روم کہاں ہے؟" عالیہ نے پوچھا۔
" یہاں سے چھوڑ کر دائیں طرف!" عالیہ نے سر ہلایا اور آگے بڑھ گئی۔ عالیہ دائیں طرف جانے کی بجائے بائیں طرف گئی اور ایک کمرے میں گھس گئی۔ اسے کال پر یہی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اب اس کے بعد جو ہونا تھا، باہر کھڑے شخص نے خود کرنا تھا۔
*********************