باب نمبر چھ
زینب بیڈ پر ترچھی لیٹی بند دروازے کو گھور رہی تھی۔ زینب کو لگتا تھا اسے بند دروازے کی چوکھٹ کو پار کیے ایک عرصہ ہو گیا تھا۔اسے کمرے میں بند کتنے دن گزر گئے تھے۔ اسے کوئی حساب نہیں تھا۔ وہ جانتی تھی اس کا فائدہ نہیں تھا۔ کمرے کا دروازہ دن میں چار دفعہ کھلتا تھا۔ دو دفعہ کھانا لانے کے لیے اور دو دفعہ واش روم جانے کے لیے۔ اس کے علاؤہ کمرے کا دروازہ بند رہتا تھا۔ اس کے کمرے کی گھڑی بھی خراب ہوچکی تھی۔ وہ وقت سے بالکل بے خبر ہوگئی تھی۔ گھر کے مکین کا شور شرابا اور چوکھٹ سے آتی ہلکی سی روشنی اسے دن اور رات کا فرق بتاتی تھی۔
زینب کو کھانا دینا اور باتھ روم لے جانا نوال کے ذمے تھا۔ زینب نے شروع میں نوال سے مدد مانگی مگر نوال خود مجبور تھی۔ نوال خاموشی سے اس کی بات سنتی اور کچھ کہے بغیر واپس چلی جاتی۔ زینب نے نوال سے مدد مانگنا چھوڑ دیا۔پھر زینب نے اپنا دھیان دوسری سرگرمیوں میں لگا دیا۔ وہ کمرے میں بیٹھی بیٹھی بہت سی ایسی سرگرمیاں کرنے لگ گئی جس کا اسے عام دنوں میں وقت نہیں ملتا تھا۔ وہ کمرے کی مختلف زاویوں سے تصویر کھینچنے لگ جاتی یا پھر اپنے کیمرے کے لینز اور دوسرے حصوں کو صاف کرنے لگتی۔
اس نے ان باتوں کو سوچنا چھوڑ دیا تھا جو اسے تکلیف دیتی تھیں۔ جیسے ہی زینب کو وہ باتیں یاد آتی وہ فوراً اپنا دھیان بٹا لیتی۔ آہستہ آہستہ اسے بند کمرے میں رہنے کی عادت ہونے لگ گئی۔ اسے گھر میں موجود کسی شخص کی یاد نہیں آتی تھی۔ اگر اسے کسی کی یاد آتی بھی، تو وہ بس نازنین تھی۔
زینب کی نازنین میں جان بسا کرتی تھی اور یہی حال نازنین کا تھا۔ نازنین ہمیشہ زینب کی مشکل وقتوں میں مدد کیا کرتی تھی۔ نازنین اور زینب کی جوڑی پورے کالج میں مشہور تھی۔ زینب اکثر سوچتی کاش اسے اشفاق جیسے بھائی کی بجائے نازنین جیسی ایک اچھی بہن مل جاتی۔
اچانک کمرے کا دروازہ کھلا۔ زینب فوراً بیڈ پر صحیح سے بیٹھ گئی اور ڈوپٹہ شانوں پر ڈالا۔ مریم سپاٹ تاثرات کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئیں اور زینب کو بے تاثر نظروں سے گھورا۔ ان کے ہاتھوں میں کپڑے اور زیورات کے ڈبے تھے۔
"آج رات تمہارا نکاح ہے۔"
***********************
جب انہیں پتہ چلا کہ عالیہ پارلر میں موجود نہیں ہے تو عزاہ اور جائی یانہ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے تھے۔ عالیہ کچھ دیر پہلے ان کے سامنے تھی۔ اِدھر ان دونوں کا دھیان عالیہ سے کچھ پل کے لیے ہٹا اور اُدھر عالیہ نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
اردگرد کے لوگوں سے پوچھنے پر ایک لڑکی نے بتایا کہ عالیہ واشروم گئی ہے مگر جب زیادہ دیر گزر گئی تو عزاہ اور عالیہ کو شک ہونے لگا۔ وہ دونوں عالیہ کو واشروم میں ڈھونڈنے گئے تو وہاں اس کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ اس کے بعد پارلر میں ایک واویلا مچ گیا۔
عزاہ پارلر کے عملے کے ساتھ عالیہ کو ڈھونڈنے لگی جبکہ جائی یانہ پارلر کی مالکن سے بحث شروع کر دی لیکن کسی چیز کا فائدہ نہیں ہوا۔
جب عزاہ اور جائی یانہ مایوس ہوگئے تو جائی یانہ نے اشفاق کو کال کردی اور تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ اشفاق صاحب کچھ دیر میں پارلر پہنچ گئے۔ انہوں نے پارلر کے عملے کو کھری کھری سنائی۔ اشفاق نے پارلر کے عملے پر الزام لگایا کہ انہوں نے ان کی بیٹی کو اغوا کیا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی اگر عالیہ نہ ملی، تو وہ اس پارلر کو ہمیشہ کے لیے بند کروا دیں گے۔
پارلر کی مالکن کو بھی غصہ آگیا۔ اشفاق صاحب اور ان کا زبردست جھگڑا ہوگیا۔ اشفاق نے غصے میں آکر تھانے کے ایس ایچ او ،جو اشفاق کے دوست بھی تھے، کو بلا لیا۔ معاملہ مزید پچیدہ ہو گیا تھا۔
کچھ دیر میں پولیس بھی آگئی۔ عزاہ شل کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی جبکہ جائی یانہ نے کال کرکے ماں کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا اور ساتھ میں انہیں حوصلہ دیا۔
نوال ہال میں موجود تھیں۔ جب جائی یانہ نے اشفاق کو کال کرکے عالیہ کی گمشدگی کا بتایا، اس وقت نوال بھی اشفاق کے پاس کھڑی تھیں۔ یہ بات سن کر وہ پریشان ہوگئیں۔ بارات اب بس پہنچنے والی تھی اور عالیہ کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ وہ چاہتی تھیں اشفاق انہیں بھی ساتھ لے کر جائیں مگر اشفاق نے انہیں ساتھ لے جانے سے منع کردیا۔ وہ کرسی پر سر پکڑے بیٹھی تھیں۔ ام ہانی ان کے ساتھ بیٹھی انہیں حوصلہ دے رہی تھیں۔
ہال میں موجود مہمان, سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ اکثر لوگ ان دونوں کی پریشانی کی وجہ پوچھ رہے تھے۔ ام ہانی جواب میں نوال کی خراب طبیعت کا بہانہ بنا دیتیں۔
پولیس نے جب عزاہ اور جائی یانہ سے تفتیش کرلی تو اشفاق نے ان دونوں کو ہال جانے کا کہا۔ جائی یانہ پورا راستہ دعائیں مانگتی رہی جبکہ ڈرائیونگ کرتی عزاہ کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو رہے تھے۔ اس کو رہ رہ کر عالیہ کا خیال آرہا تھا۔ اس کے اور عالیہ کے درمیان بھلے سو اختلافات ہوں لیکن آخر کو وہ اس کی بہن تھی۔ ایک وقت ایسا تھا جب وہ دونوں سہیلیاں بھی تھیں۔
عزاہ اور جائی یانہ ہال پہنچنے کے بعد اپنی ماں کے پاس آگئیں جن کا دل ان دونوں کو عالیہ کے بغیر آتا دیکھ کر مزید بوجھل ہوگیا تھا۔
*********************
شایان سنگھار میز کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھ کالی شیروانی پر لگے سنہری بٹن کو بند کرنے میں مصروف تھے۔ اگر شایان کی سیاہ آنکھوں میں جھانکو تو ان میں خمار سا تھا۔ اب بس کچھ لمحوں کی دیر تھی، پھر شایان سے عالیہ کو کوئی نہیں چھین سکتا تھا۔
شایان کا اگر بس چلتا تو وہ آج ساری دنیا عالیہ کے قدموں میں رکھ دیتا۔ آخر اتنے سالوں کے انتظار کے بعد اسے عالیہ مل رہی تھی۔ جب اس نے شیروانی کے بٹن بند کرلیے تو اپنا سر اٹھا کر آئنے میں دیکھا۔ آئنے میں دیکھتے ہوئے اس کی نظر کمرے کے دروازے سے اندر آتی زینب پر گئیں۔ شایان نے پیچھے مڑا۔ شایان نے انہیں مسکرا کر دیکھا۔ اس کی ماں نے آج لال رنگ کی ساڑھی پہنی ہوئی تھی۔ چہرہ پر میک اپ تھا جبکہ بالوں کو سیدھی مانگ نکال کر کرلز کیا ہوا تھا۔ زینب ہیل کی ٹک ٹک کرتی آواز کمرے میں پھیلاتی، اپنے بیٹے کے پاس گئیں اور محبت پاش نظروں سے شایان کو دیکھنے لگیں۔ ہر راویتی ماں کی طرح ان کا بھی خواب رہا تھا وہ اپنے بیٹے کو اپنی زندگی میں دولہا بنا دیکھیں جو آج پورا ہوگیا تھا۔
"ماشاءاللہ!"
شایان کو دیکھتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ پھر زینب نے اپنے پرس میں سے ہزار کے تین نوٹ نکال کر شایان کے اوپر واریں۔
“اللّٰہ میرے بچے کو نظر بد سے محفوظ رکھے۔"
اس کے بعد انہوں نے شایان کا ماتھا چوما۔ شایان کا قد زینب کے قد سے بڑا تھا۔ اس لیے شایان کو جھکنا پڑا تھا۔ پھر شایان سے الگ ہوتے ہوئے زینب بولیں۔
"تم جلدی سے تیار ہو جاؤ۔ میں اب بارات لے کر نکلنے والی ہوں۔"
زینب نے شایان کو ہدایت دینے کے بعد خود کلامی کی۔
"یہ پیسے میں کسی غریب کو دے دیتی ہوں۔ اللّٰہ بس میرے بچے کی خوشیوں کو نظر سے محفوظ رکھے۔"
کمرے سے باہر نکلتی زینب کو پتہ نہیں تھا، ان کے بیٹے کی خوشیوں کو نظر لگ چکی تھی۔
********************
سڑک پر ایک کار بہت تیزی سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ گاڑی کی فرنٹ سیٹ کی کھڑکی میں جھانکو، تو سنہری آنکھوں والی لڑکی دلہن بنے بیٹھی تھی۔ اس کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا آریان سپاٹ چہرے کے ساتھ سڑک پر نظر جمائے ہوئے تھا۔ عالیہ بظاہر کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی مگر اس کے سامنے کچھ دیر پہلے کے مناظر چل رہے تھے۔
اس نے پہلے پارلر میں کام کرتی لڑکی پر ظاہر کیا وہ واش روم جا رہی ہے مگر وہ واش روم نہیں گئی بلکہ آریان کی ہدایت کے مطابق پارلر میں بنے ایک چھوٹے سے اسٹور روم میں گھس گئی۔ یہاں پر بہت سا سامان پڑا تھا۔ اس کمرے کو بند رکھا جاتا تھا مگر آریان نے پارلر کے اسٹاف میں سے کسی کو پیسے دے کر اس کمرے کو فی الحال کھلوا لیا تھا۔ دروازے کے سامنے والی دیوار پر کھڑکی تھی۔ عالیہ اپنے بھاری جوڑے کو سنبھالتی اس کھڑکی کے پاس پہنچی۔ اس نے کھڑکی کھولی اور باہر جھانکا۔ سامنے موجود سڑک سنسنان تھی۔ عالیہ کو اسی کھڑکی سے پارلر سے باہر نکلنا تھا کیونکہ بیرونی دروازے پر سی سی ٹی وی کیمرہ نصب تھے جس سے عالیہ اور آریان پکڑے جا سکتے تھے۔ اس لیے آریان نے عالیہ کو یہاں سے نکلنے کا کہا تھا۔ اس کمرے کی کھڑکی عمارت کی پچھلی طرف کھلتی تھی جدھر بس ایک سنسنان سڑک تھی۔ اس لیے کھڑکی کے ذریعے پارلر سے نکلنا آسان تھا۔ عالیہ اپنی کپڑوں اور ہیل کو سنبھالتی مشکل سے باہر نکلی۔
پارلر سے باہر نکل جانے کے بعد عالیہ کچھ دیر تک سڑک پر کھڑی آریان کا انتظار کرتی رہی۔ جب اسے وہاں کھڑے کھڑے بیس منٹ گزر گئے تو اسے دور سے ایک گاڑی آتی دکھائی دی۔ گاڑی اس کے بالکل سامنے رکی۔
عالیہ گاڑی کا دروازہ کھول کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی اور آریان کو گھور کر دیکھا۔
"اتنی دیر سے کیوں آئے ہو؟ تم جانتے ہو میں کتنی دیر سے تمہارا انتظار کر رہی تھی۔"
"اب آ تو گیا ناں!"
آریان نے یہ کہا اور گاڑی آگے کی طرف بڑھا دی۔
اچانک گاڑی جھٹکے سے رکی اور عالیہ اپنے حال میں واپس آگئی۔ اس نے آریان کو دیکھا جو گاڑی سے باہر نکل رہا تھا۔ اس نے کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھا۔ وہ دونوں ایک متوسط علاقے میں موجود تھے۔ محلے میں موجود بچے ان کی گاڑی کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے۔ یقیناً ان کی گلی میں گاڑی آنا ان کے لیے تعجب کی بات تھی۔ آریان نے عالیہ کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔ عالیہ بھی گاڑی سے باہر نکل گئی اور آریان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی ایک گھر کے اندر گھس گئی۔
*******************
اشفاق اور ان کے دوست نے ہر طرح کا دباؤ ڈال کر دیکھ لیا مگر پارلر میں موجود کسی شخص کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ ہر ایک کی لاعلمی نے اشفاق کے غصے کو پریشانی میں بدل دیا تھا۔ عالیہ کی بارات کسی بھی پل ہال میں پہنچنے والی تھی اور عالیہ کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ نوال ان تمام معاملات کو اکیلے نہیں سنبھال سکتی تھیں۔ انہیں خود ہال جاکر وہاں کی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔ انہوں نے ایس ایچ او کے پاس آکر ااپنے ہال واپس جانے کی اطلاع دی۔ ان کے دوست نے سر ہلایا اور کسی کو کال ملانے لگے۔
جب اشفاق ہال واپس پہنچے تو بارات بھی عین اسی وقت ہال میں داخل ہوئی۔ اشفاق باراتیوں کی بھیڑ میں سے نکلتے ہوئے تیز قدموں کے ساتھ ہال کے اندر گھسے۔ وہ فوراً نوال کے پاس گئے جن کا چہرہ دور سے دیکھنے سے ہی زرد معلوم ہوتا تھا۔ نوال نے جیسے ہی اشفاق کو دیکھا، وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئیں اور اشفاق سے پوچھا۔
“آپ کو عالیہ مل گئی؟"
نوال کے سوال پر اشفاق نے گردن نفی میں ہلائی۔ نوال شکستہ سی، کرسی پر گرنے کے انداز میں دوبارہ بیٹھ گئیں۔ ان کے ساتھ کھڑی جائی یانہ نے اپنی ماں کا کندھا پکڑ لیا۔
نوال نے پیچ رنگ کا جوڑا پہنا ہوا تھا۔ جس پر سی گرین اور سنہرے رنگ کا کام دکھائی دیتا تھا اور ڈوپٹہ سر پر شان سے اوڑھا ہوا تھا۔ ان کے چہرے کا میک اپ اور جیولری نجانے کیوں نوال کے غمزدہ چہرے کو چھپا نہیں پارہے تھے۔
اشفاق نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پر لال واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ ان کے بال جنہیں انہوں نے اچھے سے سیٹ کیا تھا اب بری طرح بکھر گئے تھے۔
عزاہ نے سیاہ، بھورے اور سنہری رنگ کے امتزاج کی لمبی گھیرا دار فراک پہنی ہوئی تھی۔ اس کے پورے لباس پر کڑھائی کی گئی تھی۔ ڈوپٹہ اس نے کندھے کی ایک طرف کرکے لیا ہوا تھا۔ بالوں کو سیدھی مانگ نکال کر کھلا چھوڑے عزاہ پیاری لگ رہی تھی مگر اس وقت اس کو اپنے آپ سے زیادہ گھر والوں کی فکر ہو رہی تھی۔
جائی یانہ نے کاسنی رنگ کی قمیض پر کاسنی رنگ کا ہی غرارا پہنا ہوا تھا۔ اس نے سیدھی مانگ نکال کر اپنا ٹیکا ماتھے پرسیٹ کیا ہوا تھا۔ اس نے آج کے دن میں جتنی پلاننگ کی تھی وہ سب ایک پل میں رائیگاں ہوگئی تھیں۔
اشفاق کا سارا خاندان آج اس تقریب کے لیے خوب اچھے سے تیار ہوا تھا۔ تیار ہوتے وقت ان میں سے کسی کو یہ خیال نہیں آیا تھا کہ جس تقریب کے لیے وہ اتنا تیار ہو رہے ہیں، وہی تقریب ان کے خاندان پر ایک آفت بن کر نازل ہونے والی ہے۔
ہال کے اندر جب رش بڑھنے لگا تو اشفاق کے خاندان کی نظریں ایک ساتھ ہال کے دروازے پر پڑی۔ زینب، شایان اور نمرہ ہال میں داخل ہوچکے تھے۔ نمرہ اور شایان ایک ساتھ اسٹیج پر چلے گئے جبکہ زینب کی نظر کونے کی میز پر جمع اشفاق کے خاندان پر گئی تو وہ ان کی طرف بڑھ گئیں۔ نوال نے زینب کو اپنی طرف آتا دیکھا تو چہرے کا رخ موڑ لیا۔ ام ہانی کا موبائل بجا، تو وہ کال اٹینڈ کرنے باہر چلی گئیں۔
زینب جیسے ہی ان کے پاس آئیں تو، انہوں نے نوال سے پوچھا۔
"بھابھی کیا ہوا ہے؟ آپ لوگوں کے گھر کی شادی ہے اور آپ سب یوں کونے میں بیٹھے ہیں۔ مہمان طرح طرح کی باتیں بنائیں گے۔"
جب کسی نے بھی زینب کی بات کا جواب نہ دیا تو زینب سمجھ گئی کہ معاملہ کچھ ٹیڑھا ہے۔
"کیا ہوا ہے بھابھی؟"
زینب نے ٹٹولتی نظروں سے ان سب کے چہروں پر دیکھا۔ سب نے ان سے نظریں چرائیں۔
"وہ زینب دراصل عالیہ۔۔۔"
نوال کے منہ سے عالیہ کا نام سن کر زینب کا ماتھا ٹھنکا۔
"کیا ہوا ہے عالیہ کو؟ آپ کیا چھپا رہی ہیں؟"
اس دفعہ زینب کے لہجے میں بھی پریشانی تھی۔
"وہ عالیہ پارلر گئی تھی مگر اب وہ پارلر میں نہیں ہے۔"
پہلے تو زینب کو نوال کی بے ترتیب بات سمجھ نہیں آئی مگر جب سمجھ آئی تو وہ پھٹ پڑیں۔
"کیا مطلب ہے آپ کا؟ عالیہ اگر پارلر گئی تھی تو اسے پارلر میں ہی ہونا چاہیے نا۔ یہ بھی کوئی مذاق کا وقت ہے۔"
زینب کو اس وقت یہ لحاظ بھی نہیں رہا تھا اشفاق ان سے دو قدم دوری پر موجود تھے۔ اگر یہ کوئی عام موقع ہوتا تو اشفاق زینب کا ایسا لہجہ برداشت نہ کرتے مگر اس وقت وہ بے حد پریشان تھے، اس لیے نظر انداز کر گئے۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے موبائل کو پکڑے اپنے کانٹکیٹس میں سے ایسے لوگوں کو تلاش کر رہے تھے جو اس مشکل گھڑی میں ان کی مدد کر سکتے۔ اسی وقت اشفاق کو اپنے ایس ایچ او دوست کی کال آئی۔ اشفاق کال کو اٹینڈ کرنے کے لیے ہال سے باہر چلے گئے۔ جیسے ہی اشفاق ہال کے دروازے سے نکلے، زینب بھی ان کے پیچھے چل دیں۔ جائی یانہ زینب کو جاتا دیکھ رہی تھی جب عزاہ نے اسے کندھے سے ہلایا اور اسے بھی باہر جانے کا اشارہ کیا۔ جائی یانہ نے اپنی بہن کی مانی اور وہ بھی باہر چلی گئی۔
************
یہ منظر ایک چھوٹے سے صحن کا تھا جس کے وسط میں بچھی چارپائی پر عالیہ بیٹھی تھی۔ عالیہ نے اپنے پاؤں اوپر چارپائی پر بچھائے ہوئے تھے۔ اس کا ڈوپٹہ جو کچھ دیر پہلے سر پر اچھے سے سیٹ تھا، اب کچھ بگڑ سا گیا تھا۔ البتہ بال اور میک اپ ابھی تک جمے ہوئے تھے۔ صحن میں وہ تنہا بیٹھی تھی۔ رات کا اندھیرا آہستہ آہستہ ہر سو چھا گیا تھا۔ آریان چارپائی کے سامنے والے کمرے میں موجود تھا۔ اس کمرے سے دو تین مردوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
عالیہ کا چہرہ اکتاہٹ کا شکار تھا۔ وہ اپنی بوریت کو کچھ دور کرنے کے لیے صحن کا جائزہ لے رہی تھی۔ اس نے فرش کو اچھے سے دیکھ لیا تھا جس کا پلستر جگہ جگہ سے اکھڑا تھا ۔ دیواروں کا رنگ و روغن موسمی حالات کی وجہ سے خراب ہوگیا تھا۔ شاید کہیں سے پانی بھی لیک ہو رہا تھا کیونکہ پانی کی دھار فرش پر سے گزرتی ہوئی آگے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ عالیہ کو یہاں آنے سے پہلے لگ رہا تھا آریان اور وہ کورٹ میرج کریں گے مگر آریان نے اپنے دوست کے گھر نکاح کا انتظام کیا تھا۔
کمرے سے قدموں کی آہٹ قریب آنے کی آواز آئی۔ عالیہ سب کچھ بھلا کر کمرے کی جانب دیکھنے لگی۔ اس نے دیکھا کمرے سے سب سے پہلے آریان نکلا تھا اور اس کے پیچھے تین مرد اور بھی تھے۔
آریان سیدھا عالیہ کے پاس آیا۔
"مولوی صاحب پہنچتے ہی ہونگے۔ تم تو ٹھیک ہو؟"
آریان کے لہجے میں فکرمندی نمایاں تھی۔
"تمہارے ساتھ ہوں، تو ٹھیک ہی ہونگی۔"
عالیہ نے مسکرا کر جواب دیا۔ آریان بھی اس کی بات سن کر مسکرانے لگا۔ اسی وقت گھر کے بند دروازے پر کسی نے دستک دی۔
"شاید مولوی صاحب آگئے۔"
ان کے ساتھ موجود ایک شخص نے کہا اور دروازہ کھولنے کے لیے بڑھ گیا جبکہ دوسرا آدمی گھر کے اندر چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھولنے جانے والے شخص کے ہمراہ ایک اور شخص بھی ساتھ تھے، جو اپنے حلیے سے مولوی صاحب معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ ان کی داڑھی سفید تھی اور سر پر ایک جالی دار ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔
دوسرا شخص کرسی اٹھا کر واپس صحن میں آیا اور کرسی چارپائی کے سامنے رکھ دی۔ مولوی صاحب کرسی پر بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ میں موجود کاغذات کو ترتیب دینے لگے۔ کاغذات ترتیب میں دینے کے بعد مولوی صاحب نے سر اٹھایا اور سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا۔
"اجازت ہے؟"
"جی مولوی صاحب!"
آریان نے کہا۔
مولوی صاحب نے نکاح پڑھوانا شروع کیا۔ عالیہ کے دل کو یکدم کچھ ہوا۔ ایک عجیب سی بے چینی اس کے جسم میں پھیل گئی۔ آنکھوں کے سامنے اپنے گھر والوں کے چہرے آنے لگے۔
مولوی صاحب کی آواز گونجی۔
"عالیہ بنت اشفاق آپ کا نکاح شایان ولد جہانگیر سے حق مہر پانچ لاکھ روپے سکہ راجیہ الوقت کیا جاتا ہے۔ کیا آپ کو قبول ہے؟؟"
مولوی صاحب عالیہ سے اس کی مرضی پوچھ رہے تھے لیکن عالیہ کچھ کہہ نہ پائی۔ اسے اپنے ماں باپ کی کمی اس وقت شدت سے محسوس ہوئی۔ اس کے اتنے اہم موقع پر اس کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ اس کے دل میں خدشات جنم لینے لگے۔ کہیں اس نے کچھ غلط تو نہیں کر دیا۔
آریان عالیہ کی جانب جھکا اور سرگوشی کی۔
"عالیہ مولوی صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں!"
عالیہ کا دل چاہا انکار کردیں مگر اب وہ کہاں یہ سب کرسکتی تھی۔ وہ تو اپنی کشتیاں جلا بیٹھی تھی۔
"قبول ہے!"
عالیہ نے آہستگی سے کہا۔
مولوی صاحب نے مزید دو بار عالیہ سے پوچھا جس پر عالیہ نے اپنی رضا مندی ظاہر کی۔ اس کے بعد آریان سے پوچھا گیا۔ اس کا بھی وہی جواب تھا۔ نکاح کے بعد سب لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دینے میں مصروف ہوگئے۔ ایسے میں اس نے دیکھا ان تین مردوں میں سے ایک نے موبائل سے اس کی تصویر کھینچی تھی۔ عالیہ نے اسکو گھورکردیکھا اور کچھ سمٹ کر بیٹھ گئی۔ اپنے پیچھے آہٹ محسوس ہونے پر عالیہ نے مڑ کر دیکھا۔ اسے اپنے پیچھے بنے کمرے کی چوکھٹ سے کوئی ہٹتا محسوس ہوا۔ عالیہ نے اس شخص کی ایک جھلک ہی دیکھی تھی اور جھلک میں ہی اس نے اندازہ لگایا وہ ایک عورت تھی۔ وہ جانے کب تک دیکھتی رہتی اگر اسے آریان آواز نہ دیتا۔ اس نے اپنا چہرہ آگے کیا تو آریان کچھ عجلت میں دکھائی دے رہا تھا۔
"چلیں عالیہ؟"
"ٹھیک ہے!"
عالیہ یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
********************
"کیا کہہ رہے ہو یار؟ میری بیٹی ایسا کر ہی نہیں سکتی ہے۔ وہ لوگ میری بیٹی پر جھوٹا الزام لگا رہے ہیں۔"
اشفاق ہال کے باہر کھڑے کال پر ایس ایچ او کو سنا رہے تھے۔ اشفاق بار بار اپنی مٹھی بھینچ رہے تھے۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اپنا موبائل دیوار پر پھینک دیں۔
"تم مجھے سی سی ٹی وی فوٹیج بھیجو۔ میں خود دیکھتا ہوں کہ آخر معاملہ کیا ہے۔"
یہ کہہ کر اشفاق نے کال کاٹ دی۔ دوسری طرف سے آتی آواز نے درمیان میں ہی دم توڑ دیا۔ وہ موبائل پر تیزی سے انگلیاں چلا رہے تھے جب انہیں اپنے پیچھے سے تیکھی سی آواز سنائی دی۔
“آخر یہ کیا تماشہ ہے بھائی؟"
اشفاق نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ انہیں زینب اپنے پیچھے کھڑی ملیں۔ وہ شدید آگ بگولہ دکھائی دے رہی تھیں۔ میک اپ بھی ان کا غصے سے لال ہوتا چہرہ چھپا نہیں پا رہا تھا۔
"مجھے یقین نہیں آ رہا ہے کہ آپ اس قدر گر جائیں گے! مجھے ذلیل کرنے کے آپ کے پاس اور بہت سے طریقے ہیں۔ اپنی بیٹی کو چھپا کر آپ اپنا ہی مذاق بنوا رہے ہیں۔"
اشفاق نے پھر حقارت سے نگاہیں پھیر لیں۔ جائی یانہ کو مخاطب کیا جو ابھی ان کے پاس پہنچی تھیں۔ تیز چلنے کی وجہ سے جائی یانہ کی سانس پھول گیا تھا۔
"جائی یانہ! اپنی پھپھو کو بول دو، میں ابھی اس کا منحوس چہرہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس لیے یہ اپنی بکواس بند کرکے یہاں سے چلی جائے۔"
اشفاق کی بات نے زینب کو مزید مشتعل کر دیا۔ زینب دو قدم مزید آگے بڑھیں اور غصے سے بولیں۔
"کیوں جاؤں میں؟ ساری عمر مجھے ذلیل کرتے ہوئے آپ کو چین نہیں ملا جو اب آپ میری اولاد کے بھی پیچھے پڑ گئے ہیں۔ میں بتا رہی۔۔۔۔"
اشفاق کے موبائل پر نوٹیفکیشن آیا۔ کسی نے واٹس ایپ پر میسج کیا تھا۔
اشفاق نے فوراً واٹس ایپ کھولا اور چیٹ میں آئے۔ انہیں ان کے دوست نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی ویڈیوز سینڈ کردی تھی۔ جیسے ہی ویڈیو ڈاؤنلوڈ ہوئی اشفاق نے فوراً اس پر کلک کیا۔ ویڈیو ابھر کر پوری اسکرین پر پھیل گئی۔ یہ اسی کمرے کی ویڈیو تھی جس کی کھڑکی سے عالیہ فرار ہوئی تھی۔ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا تھا عالیہ خود اپنی مرضی سے جا رہی تھی۔ وہ کھڑکی کو پھلانگ کر نکل رہی تھی۔ اشفاق بے یقینی سے ویڈیو دیکھتے رہے۔ زینب بھی یہ سب کچھ دیکھ رہی تھیں۔ ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئییں۔ وہ کبھی ویڈیو کو، تو کبھی اپنے بھائی کا چہرہ دیکھتیں۔ ویڈیو کے نیچے میسج پر اشفاق کے دوست نے لکھا تھا اس نے یہ ویڈیو پارلر کی مالکن سے حاصل کی تھی۔ یہاں پر پارلر کا بہت سا ضروری سامان رکھا ہوا تھا جسے کوئی بھی چوری کرسکتا تھا۔ اس لیے اس کمرے میں سی سی ٹی وی کیمرہ تھا۔ اسٹاف کو اس کیمرے کا علم نہیں ہے۔
زینب اور اشفاق کے پیچھے کھڑی جائی یانہ پاؤں کے پنجے کے بل کھڑی ہوکر موبائل کی اسکرین دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ جائی یانہ ویڈیو نہیں دیکھ پا رہی تھی مگر اسے زینب اور اشفاق کے تاثرات دکھائی دے رہے تھے جو بالکل بھی خوشگوار نہیں تھے۔ ویڈیو ختم ہونے کے با وجود، اشفاق بے یقینی سے موبائل کی اسکرین کو دیکھتے رہے۔
اسی وقت واٹس ایپ پر ایک اور میسج آیا۔ زینب تھوڑا سا پیچھے ہوئیں، تو جائی یانہ کو موبائل دیکھنے کا موقع ملا۔ اشفاق ایک انجان نمبر سے بھیجی ہوئی تصاویر ڈاؤنلوڈ کر رہے تھے۔ جائی یانہ نے نمبر پر غور کیا۔ اس نے یہ نمبر کہیں دیکھا تھا۔ اس کی پروفائل پکچر نہیں لگی ہوئی تھی مگر اسے اچھی طرح یاد تھا کہ یہ نمبر وہ پہلے کہیں دیکھ چکی تھی۔ وہ نمبرز کے بارے میں اچھی تھی۔ اسے لوگوں کے نمبر ایک دفعہ دیکھنے پر زبانی یاد ہو جاتے تھے۔
اشفاق جائی یانہ کی سوچوں سے بے نیاز تصویر ڈاؤن لوڈ ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ انہیں ایک عجیب سی بے چینی نے جکڑا ہوا تھا۔
جیسے ہی تصویر ڈاؤنلوڈ ہوئی اشفاق نے فوراً اس پر کلک کیا۔ تصویر کھل کر اسکرین پر پھیل گئی۔ وہ نکاح نامے کی فوٹو تھی۔ اس پر عالیہ کے دستخط تھے۔ فوٹو دیکھ کر اشفاق کا ہاتھ کانپ گیا۔ اشفاق کو لگا ان کا دماغ سن ہوچکا تھا۔ انہیں زبردست قسم کا چکر آیا۔ وہ زمین پر گرتے گرتے بچے۔ جائی یانہ نے انہیں سنبھالا اور زمین پر بٹھا دیا۔ اشفاق کا موبائل زمین پر گر چکا تھا۔
اشفاق کا گرا ہوا موبائل زینب نے جھک کر اٹھایا۔ انہوں نے ایک بار پھر تصویر پر دھیان دیا۔ اب ساری غلط فہمی اور امیدیں ختم ہوگئی تھیں۔ عالیہ اپنی مرضی سے باپ کی عزت کو روند کر جا چکی تھی۔ زینب نے دوسری تصویر لگائی تو ان کو یکدم سانپ سونگھ گیا۔ اس تصویر میں عالیہ ایک صحن میں پر بچھی چارپائی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ لیے کسی اور طرف دیکھ رہی تھی لیکن زینب کو عالیہ کے چہرے نے نہیں بلکہ عالیہ کے پیچھے کھڑی ایک عورت نے چونکایا تھا۔ وہ اس عورت کو جانتی تھی۔ وہ اسے کبھی
بھول نہیں سکتی تھی۔ یہ تو وہی تھی۔۔۔۔۔!
پچھلی تصویر نے تو انہیں بس شاک دیا تھا مگر اس تصویر کو دیکھنے کے بعد۔۔۔۔
فوراً پچھلی تصویر پر گئیں اور عالیہ کے نکاح نامے کو غور سے دیکھا۔ آریان کا نام انہیں صاف لکھا دکھائی دیا۔ زینب نے کڑیوں سے کڑیاں ملائی اور انہیں اپنا جواب مل گیا۔
زینب نے پیچھے مڑ کر اپنے بھائی کو دیکھا جسے ایک تصویر نے اتنا کمزور کردیا تھا کہ وہ کھڑے نہیں ہو پارہے تھے۔ پھر زینب نے دوبارہ اسکرین پر دیکھا۔ انہوں نے سوچ لیا انہوں نے کیا کرنا ہے۔ انہوں نے خاموشی سے تصویر ڈیلیٹ کردی۔ پھر چند گہرے سانس لے کر خود کو پر سکون کیا۔
جب انہیں اپنا آپ قدرے بہتر محسوس ہوا تو وہ مڑ گئیں اور آہستہ آہستہ قدم لیتی، اپنے بھائی کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں۔ اشفاق چہرہ جھکائے بیٹھے تھے۔ زندگی میں پہلی دفعہ وہ کسی سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہے تھے۔ ان کی اولاد نے انہیں کسی قابل نہیں چھوڑا تھا۔
"بھائی!"
زینب نے آہستگی سے اشفاق کو پکارا۔ اشفاق نے کوئی جواب نہیں دیا۔ زینب نے دوبارہ پکارا۔
"بھائی!"
زینب کی بات کا دوبارہ کوئی جواب نہ دیا گیا۔ اشفاق جب بہت دیر تک کچھ نہ بولیں، تو زینب تھک ہار کر اٹھنے لگیں۔ تب ہی اشفاق نے زینب کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھنے سے روکا۔ زینب کا دل کچھ پل کے لیے دھڑکنا بھول گیا۔
"میں لوگوں کا سامنا کیسے کروں گا۔ آج جب برات جائے گی تو میں تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔”
اشفاق نے اپنا منہ ہاتھوں مسے چھپا لیا۔ زینب کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔ ان کے دل میں احساس جرم سر اٹھانے لگا۔ وہ اپنے بھائی کو اندھیرے میں رکھ کر غلطی کر رہی تھیں لیکن اگر وہ اشفاق کو سب کچھ بتا دیتیں تو وہ ہمیشہ کی طرح ان ہی پر الزام لگاتے۔ زینب عجیب کشمکش کا شکار ہو گئی تھیں۔
"آپ عالیہ کے لیے فکر مند نہ ہو۔ وہ۔۔۔"
اشفاق نے فوراً ان کی بات کاٹی۔
"مجھے اس نافرمان کی کوئی فکر نہیں ہے۔ مجھے اپنی عزت کی فکر ہے۔ بیٹی کا شادی کے دن بھاگ جانا کتنا معیوب ہوتا ہے۔ تم جب شایان کو لے کر جاؤ گی تو تم نہیں جانتی ، میری کتنی بدنامی ہوگی۔ میں دنیا والوں کے سامنے رسوا ہو جاؤں گا۔"
زینب نے تاسف سے اپنے بھائی کو دیکھا۔ ان کے لیے آج بھی اپنی عزت خونی رشتوں سے بڑھ کر تھی۔ اشفاق ایک پل کے لیے ٹھٹھکے۔ ایسا لگا جیسے ان کے ذہن میں کوئی خیال آیا تھا۔ انہوں نے زینب کی طرف دیکھا۔ اشفاق کی آنکھوں میں ایک منت بھرا تاثر تھا۔
"تم ایسا کرو اپنے بیٹے کی شادی عزاہ سے کردو۔"
زینب کی سیاہ آنکھیں پھیل گئیں۔ اشفاق کی کمر پر جائی یانہ کا سہلاتے ہاتھ رک گیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر درمیان میں بیٹھے اس مرد کو دیکھا۔
"آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟"
زینب بدک کر کچھ پیچھے کو ہوئیں۔
"شایان عالیہ کو پسند کرتا ہے۔ ایسے میں ہم عزاہ کی شادی شایان سے کیسے کر سکتے ہیں؟"
"دیکھو تم یہ کر سکتی ہو!"
اشفاق آگے کو ہو کر بولیں۔
"تم میری عزت سنبھال سکتی ہو۔ مجھے آج اپنی عزت اور ساکھ ہر صورت سنبھالنی ہے۔"
زینب کے تاثرات ابھی بھی کشمکش کا شکار تھے۔ زینب کو یوں دیکھ کر اشفاق نے ان کے پاؤں پکڑ لیے۔
"دیکھو میں تمہارے پیر پکڑتا ہوں۔ اگر آج بارات چلی گئی تو میں سر اٹھا کر جی نہیں پاؤں گا۔"
زینب نے فوراً اپنے پاؤں چھڑوائیں۔
"بھائی آپ پاگل ہوگئے ہیں!"
زینب بری طرح جھنجھلائی تھیں۔
"ہاں میں پاگل ہوگیا ہوں۔"
اشفاق نے بغیر کسی جھجھک کے اعتراف کیا۔
"کوئی بھی شخص اس سب میں پاگل ہو جاتا ہے۔"
اس کے بعد اشفاق نے ہاتھ جوڑ لیے۔
"دیکھو مان جاؤ تمہیں خدا کا واسطہ ہے۔"
جائی یانہ نے باپ کے جڑے ہاتھ نیچے کرنے کی کوشش کی مگر اشفاق کسی صورت ہاتھ نیچے نہیں کر رہے تھے۔ وہ یک ٹک زینب کو منت بھری نگاہوں سے دیکھے جا رہے تھے۔ اشفاق کو دیکھ کر کہیں سے ایسا نہیں لگ رہا تھا یہ وہی شخص تھا جو اتنے سال اس غرور میں رہا تھا وہ اپنی بہن سے بہتر ہے۔ زینب کا دل پسیج گیا۔
زینب اسی حالت میں بیٹھی کچھ دیر سوچتی رہیں، پھر کچھ دیر بعد وہ کھڑی ہوگئیں۔ ان کو کھڑا ہوتا دیکھ کر اشفاق اور جائی یانہ کی نگاہیں بھی اٹھ گئیں۔
زینب کا چہرہ ہر جذبات سے عاری تھا۔ انہوں نے ایک نظر زمین پر بیٹھے بھائی اور بھتیجی کو دیکھا۔ پھر ہال کے دروازے کی جانب مڑ گئی۔
"اٹھ جائیں بھائی! شایان اگر مان گیا تو یہ نکاح آج اور ابھی ہوجائے گا۔"
یہ کہہ کر وہ رکی نہیں بلکہ آگے بڑھ گئیں۔ اشفاق کے دل میں اطمینان کی لہر گزری۔ کم از کم ان کی عزت کسی طرح بچ سکتی تھی۔
*********************
شایان اسٹیج پر کھڑا ہال کے عجیب ماحول پر حیران ہو رہا تھا۔ زینب اور اشفاق کو اس نے باہر جاتے دیکھ لیا تھا لیکن ان کے چہرے کے تاثرات کچھ عجیب سے تھے۔ نوال کونے کی میز پر بیٹھی پریشان تھیں اور عالیہ کو کوئی ابھی تک اسٹیج پر نہیں لایا تھا۔ مہمانوں میں چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔ وہ نمرہ سے ساری معلومات اکھٹی کرنا چاہتا تھا مگر نمرہ ابھی دور کسی آنٹی سے بات کرنے میں مصروف تھی۔ جب وقت بہت زیادہ گزر گیا تو شایان اسٹیج پر سے اتر گیا۔
"کیا ہوا ممانی؟ آپ اتنی پریشان کیوں ہیں؟"
شایان کا سوال سن کر نوال کی گردن جھک گئیں۔ ان کے پاس شایان کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ عزاہ نے جب اپنی ماں کا سر جھکا دیکھا تو اسے برا لگا۔ اس کی ماں ایسے ملزم کی طرح تھیں جس کے پاس اپنی صفائی کے لیے الفاظ نہ ہو۔ شایان نوال کو یوں کھڑا دیکھ کر مزید الجھا۔
"ممانی بتائیں کیا ہوا ہے؟ مجھے بتائیں آخر مسئلہ کیا ہے؟ مما اور ماموں ہال سے باہر کیا بات کر رہے ہیں؟ اور عالیہ ابھی تک اسٹیج پر کیوں نہیں آئی ہے؟ آپ کی خاموشی مجھے پریشان کر رہی ہے۔"
شایان نے انتہائی بے چینی سے پوچھا۔ وہ جلد از جلد مسئلہ جان لینا چاہتا تھا۔ نوال نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے مگر اسی وقت عزاہ کی آواز نے نوال اور شایان دونوں کو دوسری جانب متوجہ کردیا۔
"بابا اور پھپھو آگئے!"
ان تینوں نے مڑ دیکھا وہ لوگ آ رہے تھے۔ سب سے آگے اشفاق، ان کے پیچھے زینب اور سب سے آخر میں جائی یانہ تھی۔
ان تینوں کے چہرے نوال اور شایان کو عجیب سے لگے۔ اشفاق کے کندھے جھکے ہوئے تھے جیسے وہ سالوں سے جاری جنگ چند لمحوں میں ہار گئے ہو۔ زینب کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا جبکہ جائی یانہ کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ جائی یانہ کے قدم دور سے دیکھنے والے کو بھی بوجھل دکھائی دیتے تھے۔
وہ تینوں شایان کے پاس گئے۔ جائی یانہ کے اندر ہمت ختم ہوگئی تھی۔ وہ خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئی۔ اسے کچھ پل پہلے سنی باتوں اور ثبوتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
زینب نے شایان کو آنکھوں سے اشارہ کیا اور اسے لے کر ان لوگوں سے الگ ہوگئیں۔ اشفاق عزاہ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ عزاہ اپنے باپ کی آنکھوں میں بآسانی جھانک سکتی تھی۔ اس کے باپ کی آنکھیں افسردہ سی تھیں۔ ان میں منت کا تاثر تھا۔
"عزاہ!!"
اشفاق نے عزاہ کا نام لیا۔ عزاہ کو باپ کی آواز فریاد لگی۔
"میں آج تم سے کچھ مانگوں گا۔ مجھے یقین ہے تم منع نہیں کرو گی۔"
اشفاق کا لہجہ کچھ ایسا تھا کہ عزاہ کو اپنے اردگرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی سنائی دیں۔
دوسری طرف زینب شایان کو ہال کے دوسرے کونے میں لے گئیں۔ نمرہ بھی ان کے پاس آگئی تھی۔ نمرہ کب سے ان لوگوں سے الگ بیٹھی تھی۔ عالیہ کی ہال میں غیر موجودگی اس بات کا اشارہ تھی عالیہ آریان کے ساتھ جا چکی ہے ۔ نمرہ مطمئن ہوگئی مگر زینب کا انہیں گھر لے جانے کی بجائے یوں ایک کونے میں لے آنا نمرہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
“کیا ہوا ماما؟"
پوچھنے والی نمرہ تھی۔
"عالیہ کسی لڑکے کے ساتھ چلی گئی ہے۔ اسے یہ شادی نہیں کرنی تھی۔"
زینب نے بغیر کسی تمہید کے بولا۔ نمرہ کو تو کوئی حیرت نہیں ہوئی مگر شایان کو لگا اس نے کچھ غلط سن لیا ہے۔
“کیا کہہ رہی ہیں ماما؟ عالیہ کہاں چلی گئی؟"
شایان نے بے یقینی سے پوچھا۔
زینب نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
"میں نہیں جانتی عالیہ کہاں گئی ہے لیکن اس نے کسی اور سے نکاح کرلیا ہے۔ شاید وہ تمہارے ساتھ شادی پر خوش نہیں تھی۔"
"آپ کہہ رہی ہیں اس نے کسی اور سے شادی کر لی ہے؟"
شایان نے پوچھتے ہوئے ماں کا چہرہ دیکھا۔ زینب نے ہلکے سے سر کو خم دیا۔ شایان بالکل سن ہوگیا۔
"ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اس نے تو مجھ سے شادی کرنی تھی۔ وہ مجھے کیسے چھوڑ سکتی ہے۔ کہیں وہ کسی مشکل میں تو نہیں۔ آپ لوگوں نے اسے ڈھونڈا بھی نہیں ہے۔ مجھے اسے ڈھونڈنا ہوگا۔"
اس سے پہلے شایان عالیہ کو ڈھونڈنے جاتا، زینب نے اس کا بازو تھام لیا۔
"ہیرو بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اشفاق بھائی نے ہر طرح سے تفتیش کروا لی ہے۔ وہ کسی اور لڑکے کو چاہتی تھی۔ ایک نمبر سے اس کے نکاح نامہ کی تصویر موصول ہوئی ہے۔ وہ چلی گئی ہے شایان!"
زینب کی باتیں شایان کو سمجھ نہیں آرہی تھی۔
"آپ کیا کہے جا رہی ہیں؟ ہم تو یہاں پر عالیہ کو لینے آئے تھے۔ اب ہم آگئے ہیں تو آپ کہہ رہی ہیں۔۔۔"
شایان نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا وہ کرسی پر بیٹھ گیا اور بالوں پر اضطرب سے ہاتھ پھیرنے لگا۔
"میں سچ کہہ رہی ہوں۔ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر ہمارے پاس ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اگر ہمیں لگتا ان سب میں عالیہ کی مرضی نہیں تھی، تو ہم لوگ اس کو ڈھونڈنے میں زمین آسمان ایک کر دیتے مگر سارے ثبوت بتاتے ہیں عالیہ خود اپنی مرضی سے گئی ہے۔ اپنی مرضی سے جانے والوں کی تلاش میں خوار نہیں ہونا چاہیے۔"
زینب نے اب کی بار نرم لہجے میں شایان کو سمجھایا تھا۔
"مجھے گھر جانا ہے!"
شایان ایک دم اٹھ کھڑا ہوا۔
"مجھے ابھی کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا، آپ کیا کہہ رہی ہے۔ میں گھر جا رہا ہوں۔"
زینب نے اسے دوبارہ روکا اور زبردستی کرسی پر بٹھایا۔
“بیٹھو! ہم لوگ یوں نہیں جا سکتے۔"
زینب کی بات سن کر شایان بولا۔
"کیوں؟ آپ ہی کہہ رہی ہیں عالیہ چلی گئی ہے تو یہاں بیٹھنے کا فائدہ؟"
شایان کی بات سن کر زینب نے گہرا سانس لیا اور ہمت مجتمع کی۔
"عالیہ چلی گئی ہے تو کیا ہوا؟ میں تمہاری شادی عزاہ سے کروا رہی ہوں۔"
ایک اور دھماکہ شایان کے سر پر پھوڑا گیا تھا۔ نمرہ نے بے یقینی سے زینب کو دیکھا۔ شایان کے چہرے پر پہلے بے یقینی اور پھر غصے کا تاثر ابھرا۔ وہ بدک کر کھڑا ہوگیا۔
"ماما آپ ٹھیک تو ہیں؟ پہلے آپ کہہ رہی تھیں عالیہ کہیں چلی گئی ہے اور اب آپ کہہ رہی ہیں میری شادی عزاہ سے ہو رہی ہے۔ آپ کو یہ سب مزاق لگ رہا ہے۔"
شایان نے غصے سے کہا۔ زینب نے شایان کو کندھے سے پکڑ کر روکنا چاہا مگر شایان نے اپنی ماں کا ہاتھ جھڑک دیا اور غصے سے آگے بڑھ گیا۔ نمرہ شایان کے پیچھے بھاگی۔ زینب اپنے بچوں کو جاتا دیکھ کر شکستہ سی ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
منظر دوبارہ اشفاق اور عزاہ کی طرف گیا۔ ایک باپ اپنی بیٹی کے پاس عزت بچانے کی درخواست لے کر کھڑا تھا۔
"عزاہ! میری بیٹی! میں تم سے بھیک مانگتا ہوں۔ تم میری خاطر شایان سے شادی کرلو۔ اپنے بوڑھے باپ پر رحم کرو۔ تمہیں خدا کا واسطہ ہے۔"
اشفاق کی بات سن کر عزاہ کے دل کی دھڑکنیں تھم گئیں۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا اس کا باپ اس سے ایسی بات کر سکتا ہے جبکہ نوال نے یہ بات سنی تو تڑپ گئیں۔ انہوں نے اشفاق کا کندھا پکڑ کر اپنی طرف موڑا۔
"آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ عالیہ کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا اور آپ اسے ڈھونڈنے کی بجائے عزاہ کی شادی شایان سے کروا رہے ہیں۔"
نوال کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
اشفاق نے اپنے کندھے پر سے نوال کا ہاتھ ایک جھٹکے سے چھڑوایا اور نوال کے دونوں بازوؤں کو دبوچ لیا۔ ان کی آنکھیں ایک پل کے لیے خون آشام دکھائی دیں۔
"تمہاری بیٹی کو ڈھونڈا ہے لیکن وہ نہیں ملے گی۔ جانتی ہو کیوں؟ کیوں کہ وہ بھاگ کر نکاح کر بیٹھی ہے لیکن مجھے اس سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ میں نے ہی اس کے لیے ایک بدکردار عورت کو ماں بنانے کا سوچا تھا۔"
نوال کا چہرہ زرد ہوگیا۔ انہیں ایسا لگا انہیں بیچ بازار میں رسوا کر دیا تھا۔ جو بات اتنے سالوں میں اشفاق اور نوال کے درمیان تنہائی میں نہیں ہوئی تھی، وہ بات آج ان کی دونوں اولاد کے سامنے انکشاف کی طرح کھلی تھی۔ جائی یانہ اور عزاہ الجھن سے اپنے ماں باپ کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں اپنے باپ کی بات کا مطلب قطعاً سمجھ نہیں آیا تھا۔ اشفاق نے حقارت سے نوال کو جھٹکا دے کر چھوڑ دیا۔ اشفاق نے اپنا چہرہ دوبارہ عزاہ کی جانب موڑ لیا۔
"عزاہ اپنے باپ کی بات کی لاج رکھ لو اور شایان سے شادی کرلو۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔"
عزاہ اشفاق کی بات سن کی گڑبڑائی۔
"بابا میں کیسے؟"
اشفاق نے عزاہ کی بات مکمل نہیں ہونے دی۔ انہوں نے ہاتھ جوڑ لیے اور بولیں۔
"تمہیں اپنے باپ کے ان جڑے ہاتھوں کا واسطہ!"
عزاہ یہ دیکھ کر کانپ گئی۔ اس نے فوراً اشفاق کا ہاتھ نیچے کیا اور اپنی رضا مندی ظاہر کی۔
"بابا میں تیار ہوں۔ آپ یوں نہ کریں۔"
اشفاق کی آنکھوں میں چمک ابھری۔
انہوں نے عزاہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔
"اللّٰہ تمہیں خوش رکھے!"
یہ کہہ کر وہ آگے کی جانب بڑھ گئے۔ جبکہ عزاہ وہی کھڑی رہ گئی۔ قسمت نے بھی کیا عجیب کھیل کھیلا تھا۔ اسے وہ ملنے والا تھا جس کی اس نے بچپن سے دعا مانگی تھی۔ عزاہ کو لگتا تھا اسے جس دن شایان ملے گا وہ دن بہت حسین ہوگا مگر اسے آج کے دن سے خوف آیا تھا۔ اس دن نے اس کے خاندان کا شیرازہ بری طرح بکھیر دیا تھا۔ آج کے دن اس کا باپ کا سر لوگوں کے سامنے جھکا تھا۔ آج اس کی ماں یوں نظریں جھکائے بیٹھی تھیں۔
عزاہ نے نظریں اٹھا کر اطراف میں دیکھا تو اسے دور سے شایان اور نمرہ ایک ساتھ ہال کے اندر آتے دکھائی دیے۔ ان دونوں کا رخ کچھ دور بیٹھی زینب کی طرف تھا۔ عزاہ نے دیکھا شایان نے زینب کے پاس جا کر کچھ کہا تھا۔ اسے شایان کی آواز اتنی دور سے سنائی نہیں دی لیکن شایان کے چہرے پر چھائی ناگواری وہ دیکھ سکتی تھی۔ زینب نے شایان کی بات سن کر سر ہلایا اور اپنی کرسی پر سے اٹھ کر نوال کے پاس آئیں۔ نوال ابھی بھی سکتے کے عالم میں تھی۔ ان کو یقین نہیں آرہا تھا ان کی دونوں بیٹیوں کے سامنے ان کے ماضی کی ایک جھلک کھلی تھی۔
زینب نوال کے سامنے رکی اور سنجیدہ لہجے میں اطلاع دی۔
"شایان راضی ہے۔ ان دونوں کے نکاح کی تیاری شروع کردیں۔"
ان الفاظوں نے سب کچھ تھما دیا۔ ہال میں موجود لوگوں کی ہل چل، پس منظر میں گونجتی آوازیں اور قہقہے سب تھم گئے۔ عزاہ کے کانوں میں سناٹا سا چھا گیا۔ اس کے بعد ہونے والے مناظر آہستہ آہستہ ہوئے۔
عزاہ نے دیکھا جائی یانہ اور نوال اسے لے کر اسٹیج کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ عزاہ کو اسٹیج پر رکھے مرکزی صوفے پر بٹھا دیا گیا۔ نوال نے اس کے سر پر ڈوپٹہ اوڑھا دیا۔ عزاہ کو اپنے سامنے زینب، شایان اور نمرہ آتے دکھائی دیے۔ شایان کے چہرے کے تاثرات صاف بتا رہے تھے اس کے ساتھ زبردستی ہوئی تھی۔ زینب نے شایان کو عزاہ کے ساتھ بٹھا دیا۔ شایان عزاہ سے نامحسوس فاصلے پر بیٹھ گیا۔ عزاہ نے شایان کے چہرے کو دیکھا۔ اس کے تاثرات عزاہ کو ڈرا رہے تھے۔ عزاہ نے چہرہ موڑ لیا۔ اشفاق بھی مولوی صاحب کو لے کر اسٹیج پر آگئے۔ وہ عزاہ کی طرف رکھی کرسی پر بیٹھ گئے۔ نکاح شروع ہوگیا۔
"عزاہ بنت اشفاق آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"
عزاہ کو اپنا دل مٹھی میں بند ہوتا محسوس ہوا۔ اس سانس لینے دقت ہو رہی تھی۔
"جی قبول ہے!"
عزاہ نے اپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کی۔ عزاہ کے ساتھ بیٹھے شایان کے ماتھے کی شکنیں مزید گہری ہوگئیں۔ عزاہ کے بعد مولوی صاحب نے شایان سے پوچھا۔
"کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"
شایان کا دل چاہا منع کر دے۔
"قبول ہے!"
شایان کی آواز، عزاہ کو آگ سے دہکتی محسوس ہوئی۔
"آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"
"قبول ہے!"
شایان نے اپنی گردن پر سے پھولوں کا ہار نکالا۔
"آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"
"قبول ہے۔"
اس کے بعد شایان نے فوراً نکاح نامے پر دستخط کیے اور اپنے ہاتھ میں پکڑا ہار ایک طرف پھینک کر سٹیج پر سے اٹھ گیا۔ زینب شایان کو روکنے کے لیے بڑھیں مگر انہیں میز سے ٹھوکر لگ گئی۔ نمرہ نے زینب کو سنبھال لیا۔ شایان کو اپنے پیچھے کئی چہ مگوئیاں سنائی دیں مگر اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ وہ اپنی گردن سیدھی رکھے باہر کی جانب بڑھ رہا تھا۔ وہ یہاں عالیہ کو جیتنے آیا تھا مگر اسے بری طرح شکست سے دو چار کردیا گیا۔ اشفاق کے خاندان نے اسے دھوکا دیا تھا۔
اسٹیج پر بیٹھی عزاہ پورے ہال کے سامنے ایک سوالیہ نشان بن گئی۔ اس کی گردن لوگوں کی نظروں سے مزید جھک گئی۔ خوابوں کی دنیا میں ہم کچھ لمحات کو کتنا قیمتی سمجھتے ہیں لیکن حقیقت انہیں کتنا بے مول کر جاتی ہے۔ عزاہ شاید یہ نہیں جانتی تھی آج بس یہ لمحہ ہی بے مول نہیں ہوا تھا بلکہ اس کی اپنی ذات بھی بے مول ہوچکی تھی ۔
*********************
حسن کا گھر اس وقت روشنیوں سے نہایا ہوا تھا۔ سنہری رنگ کی لائٹوں نے گھر کی سجاوٹ میں چارچاند لگا دی تھی۔ مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ لوگوں کی باتوں اور قہقہوں نے گھر میں خوب رونق لگائی ہوئی تھی۔ اشفاق اِدھر سے اُدھر دوڑ لگاتے تقریب کے سارے انتظامات سنبھال رہے تھے۔ مریم چچی اور ام ہانی مہمانوں کی خاطر تواضع میں مگن تھیں۔
مردوں کے بیٹھنے کا انتظام گھر کے صحن میں تھا جبکہ عورتیں کمروں کے اندر بیٹھ رہی تھیں۔ پورا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ بس ایک کمرے میں کوئی مہمان نہیں آیا تھا اور وہی کمرہ ہماری کہانی کا مرکز تھا۔
اس کمرے میں سیاہ آنکھوں والی لڑکی بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی تیاری مکمل تھی۔ مہرون رنگ کا عروسی جوڑا لڑکی کی سفید رنگت کو مزید نمایاں کر رہا تھا۔ گلے میں خالص سونے کا ہار پہنا تھا جو اس وقت لڑکی کو خوب چبھ رہا تھا۔ کانوں میں پہنے بڑے سائز کے جھمکے لڑکی کی گردن گھمانے پر چھن چھن کی آوازیں بیدا کرتے تھے۔ لڑکی کا چہرہ میک اپ سے لدا تھا۔ لڑکی کے بالوں کو جوڑے میں مقید کیا ہوا تھا۔ اس کی سیاہ آنکھیں اس اداس تھیں۔ اس کے ساتھ ایک سنہری آنکھوں والی لڑکی بھی تھی جو اس کے سر پر اچھے سے ڈوپٹہ سیٹ کر رہی تھی۔
"زینب اپنی گردن سیدھی کرنا!"
نوال نے زینب کو ہدایت دی۔ زینب نے بے دلی سے ہدایت پر عمل کیا۔ نکاح ہونے میں بس کچھ دیر باقی تھی۔ ابھی زینب کا ڈوپٹہ سیٹ ہوا ہی تھا جب مریم کمرے میں داخل ہوئیں۔
"نوال تم نے پانی کے جگ کہاں رکھے ہیں جو صبح تمہارے ابو لے کر آئے تھے؟"
مریم نے عجلت میں پوچھا
"میں نے تو کچن میں ہی رکھے تھے۔"
نوال نے کچھ حیرت سے جواب دیا۔
"میں نے سار کچن کھنگال لیا ہے مجھے تو نہیں مل رہے۔ میرے ساتھ کچن میں چلو اور خود نکال کر دو۔"
مریم نے تھوڑے سے سخت لہجے میں کہا۔ نوال فوراً بیڈ پر سے اتری اور باہر چلی گئی۔ مریم بھی اس کے پیچھے جا رہی تھیں جب زینب کی آواز نے انہیں روکا۔
"چچی آپ نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟"
مریم مڑی اور اپنے سامنے بیٹھی دلہن کو دیکھا۔
"میں نے تمہارے ساتھ کچھ نہیں کیا۔ جو ہوا ہے وہ تمہارے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔"
مریم کے لہجے میں چٹان جیسی سختی تھی۔
زینب نے نم آنکھوں سے اس عورت کو دیکھا جس سے اس کے دو رشتے تھے۔
"آپ تو کہتی تھیں کہ میری ماں آپ کو بہت عزیز تھی۔ آپ نے خود میرا نام رکھا تھا تو پھر اتنی بے اعتنائی کیوں؟ ماں نہ سہی، یہی سمجھ لیتی کہ میں آپ کی بہن کی بیٹی ہوں۔"
"وہ بیٹی جس نے دنیا میں آتے ہی میری بہن کو کھا لیا۔"
مریم پھنکاریں۔
"تمہاری شکل ہمیشہ میرے زخموں کو ہرا کر دیتی ہے۔ میں ابھی تک اپنی بہن کی موت نہیں بھلا پائی۔ اتنے سال میں نے تمہیں اسی رشتے کی وجہ سے برداشت کیا ہے۔ تمہیں پالنا میری زندگی کا سب سے ازیت ناک مرحلہ تھا۔ میری بہن کچھ دیر اور جی جاتی اگر اس پر تمہارا منحوس سایہ نہ چھاتا۔"
ان کی آنکھوں میں واضح نمی آگئی تھی۔ انہوں نے اپنی انگلی کی پوروں سے نم آنکھوں کو صاف کیا اور جانے کے لیے مڑ گئیں۔ ان کے بڑھتے قدم دروازے کی چوکھٹ پر رکے۔
"تمہارا نام میں نے نہیں بلکہ تمہاری ماں نے ہی رکھا تھا۔"
زینب نے حیرت سے گردن اٹھا کر مریم کو دیکھا جن کی نظریں کمرے کے باہر تھیں۔
"جب سے اسے پتہ چلا تھا کہ وہ امید سے ہے، وہ بہت خوش رہنے لگی تھی ۔ میں نے اس کو اتنا خوش اشفاق کی پیدائش پر بھی نہیں دیکھا۔ اسے پہلے سے پتہ تھا اس کی بیٹی پیدا ہوگی اور وہ اس کا نام زینب رکھے گی۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اس کے منہ پر زینب نام ہی سوار رہتا تھا۔ اسے کیا پتہ تھا یہی بیٹی اس کی موت کا سبب بنے گی۔"
مریم یہ کہہ کر کمرے سے چلی گئیں۔ پیچھے زینب سکتے کے عالم میں تھی۔ اس کی ماں اس کے دنیا میں آنے پر خوش تھی۔ ساری زندگی اس کو لوگوں نے اس کے پیدا ہونے پر سزا دی تھی اور اس کی ماں اس کے پیدا ہونے کی دعائیں مانگا کرتی تھی۔ ماں نے اپنی بیٹی کا نام پیدائش سے پہلے ہی رکھ لیا تھا۔ کیا وہ جانتی تھی کہ وقت نے انہیں مہلت نہیں دینی۔ زینب کو اپنا دل پھٹتا ہوا محسوس ہوا۔ ماں باپ کی کمی کو وہ ساری زندگی محسوس کرتی آئی تھی مگر آج تو وہ اپنے ماں باپ کا پیار دیکھنے کے لیے تڑپ رہی تھی۔ وہ منہ جھکائے بیٹھی تھی جب اسے محسوس ہوا کوئی کمرے میں آیا ہے۔ اس نے سوچا ضرور نوال ہوگی، اس لیے سر جھکائے خود کو پر سکون کرنے کی کوشش کرنے لگ گئی۔ جب اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھا تو اسے جھٹکا لگا۔ اس کے سامنے نوال نہیں نازنین کھڑی تھی۔ اس کے چہرے کے تاثرات گھمبیر دکھائی دیتے تھے مگر زینب نے اس کے تاثرات پر دھیان نہیں دیا۔ وہ فوراً سے اٹھی اور نازنین کے گلے لگ گئی۔
"نازنین تم نہیں جانتی میں نے تمہیں کتنا یاد کیا؟ تمہیں پتہ ہے میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔ یہ لوگ میری زبردستی شادی کروا رہے ہیں۔ اشفاق بھائی مجھ سے مزید بدگمان ہوگئے ہیں انہیں لگتا ہے۔۔۔۔۔"
نازنین نے جب اسے خود سے الگ کیا تو اس کی چلتی زبان رک گئی۔ زینب نے آنکھوں میں حیرت لیے نازنین کا چہرہ دیکھا، جس کے چہرے پر ملال صاف ظاہر تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی تھیں۔ زینب نے نازنین کے حلیے پر غور کیا۔ اس کا حلیہ کہیں سے نہیں بتا رہا تھا وہ اس کی شادی میں شرکت کرنے آئی ہے۔
"کیا ہوا نازنین؟"
زینب نے پریشانی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ نازنین نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
"زینب آج میں تمہارا امتحان لینے آئی ہوں۔ تمہارے پاس بس دو راستے ہیں، تمہیں ایک چننا ہے۔"
نازنین نے سپاٹ انداز میں کہا۔ نازنین بولتی رہی۔ اس کی بات سن کر زینب کا چہرہ فق ہوگیا۔
*********************
پھولوں سے لدی گاڑی، زینب کے گھر کے پورچ میں رکی۔ سب سے پہلے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر سے نمرہ اتری۔ گاڑی سے اتر کر وہ تیزی سے اندر چلی گئی۔ اس کے بعد زینب اتریں اور گاڑی کی دوسری جانب جا کر دروازہ کھولا۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھی عزاہ گاڑی سے باہر نکلی اور زینب کے ہمراہ آگے بڑھ گئی۔
اشفاق کو شایان کے تیور صحیح نہیں لگے تھے۔ اسی لیے اشفاق نے آج ہی عزاہ کی رخصتی کروا دی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کسی قسم کی کوئی تاخیر ہو۔ ہال میں موجود سب لوگ یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ اشفاق نے بیٹی کی رخصتی دولہا کے بغیر کردی ہے۔ عزاہ لوگوں کے سامنے سوالیہ نشان بن گئی تھی۔ اس کے دل میں ایک دفعہ پھر عالیہ کے لیے نفرت جاگی۔ عالیہ گھر سے بھاگ جانے کے باوجود لوگوں کی باتوں سے بچی ہوئی تھی اور وہ بے گناہ ہوکر بھی بھرے مجمعے میں مجرم بنی کھڑی تھی۔
جب عزاہ گھر کے اندر آئی، تو اس نے دیکھا گھر کے تمام ملازمین قطار سے کھڑے تھے۔ ملازموں کے ہاتھوں میں پھولوں سے بھری پلیٹیں تھیں، جو انہوں نے دلہن کے استقبال کے لیے پکڑی تھیں۔ جب ملازمین اسے مہمان سمجھ کر نظر انداز کر گئے اور گردن اٹھا اٹھا کر دلہن کو پیچھے سے ڈھونڈنے لگے تو عزاہ کو کچھ ہوا۔ ان کو معلوم نہیں تھا شایان کی دلہن گھر میں آچکی ہے۔ زینب نے آگے بڑھ کر ملازموں کو حکم دیا۔
"تم لوگ یہ پلیٹیں کچن میں رکھ دو اور اپنے اپنے کوارٹر میں چلے جاؤ۔"
ملازمین تذبذب کا شکار ہوگئے۔ یہ لوگ تو شایان صاحب کی دلہن لینے گئے تھے اور بغیر دلہن لیے ہی واپس آگئے۔ زینب انہیں یوں دیکھتا پاکر تھوڑے غصے میں بولیں۔
"میری شکل کیا دیکھ رہے ہو؟ سنائی نہیں دیا تم لوگوں کو؟"
ایک لمحے بعد تمام ملازمین وہاں سے غائب تھے۔ زینب عزاہ کو لے کر شایان کے کمرے میں چلی گئیں۔
عزاہ نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا تو ایک پل کے لیے سب کچھ بھول گئی۔ کمرے کو اتنے حسین طرح سے سجایا گیا تھا کہ عزاہ پلک تک نہ جھپک پائی۔ پورا کمرہ پھولوں سے بھرا ہوا تھا۔ ان پھولوں کو بہت مہارت سے سجایا گیا تھا۔ اس کمرے کو اس وجہ سے بھی ممتاز حیثیت حاصل تھی کیونکہ یہ کمرہ شایان کا تھا۔ زینب کمرے سے باہر چلی گئیں مگر عزاہ نے دھیان نہں دیا۔ وہ کھوئے ہوئے سے انداز میں گردن گھما گھما کر کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ جیسے عزاہ کی نظریں جب بیڈ کے تاج پر گئی تو وہ فورا کمرے میں پھیلے اس سحر سے باہر نکلی۔
بیڈ کے تاج کے عین اوپر ایک تصویر لگی تھی۔ وہ تصویر عالیہ کی تھی جو ایک بڑے فریم میں لگی تھی۔ کمرے کی سجاوٹ یکدم ماند پڑ گئی۔ عزاہ کو اس تصویر نے کچھ کہے بغیر بتا دیا کہ عزاہ کی یہاں پر کیا حیثیت ہے۔ یہ سجاوٹیں عزاہ کے استقبال کے لیے نہیں بلکہ تصویر میں کھڑی سنہری آنکھوں کے لیے تھی۔ عزاہ چلتی چلتی تصویر کے بالکل پاس آگئی۔ اس میں عالیہ کا مسکراتا چہرہ واضح تھا جو عزاہ کو زہر لگ رہا تھا۔
اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور شایان کمرے میں داخل ہوگیا۔ وہ شدید غصے میں تھے۔ اس کی کن پٹی کی رگیں غصے کی شدت سے ابھری تھیں۔ اپنے کمرے میں عزاہ کو دیکھ کر وہ آگ بگولا ہوگیا۔ شایان عزاہ کی جانب بڑھا اور اس کی کہنی پکڑ کر پوچھا۔
”تمہیں میرے گھر میں گھسنے کس نے دیا؟"
شایان اس قدر غصے میں تھا اس کے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے۔
"وہ پھپھو۔۔۔"
ابھی عزاہ کا جملہ مکمل ہوا نہیں تھا جب شایان دوبارہ بولا۔
"تمہیں ماما لے کر آئی ہیں! مجھے یقین نہیں ہوتا ہے۔"
شایان نے اپنا چہرہ نیچے کیا اور ماتھے کو چھوا، پھر چہرہ اٹھایا۔ اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
"تمہارے باپ نے تمہیں یوں رخصت کر دیا۔ ویسے تو انہیں بہت غرور تھا اور اب دیکھو بغیر دولہا کے اپنی بیٹی کی رخصتی کردی۔"
شایان کے ہونٹوں سے مسکراہٹ سمٹی۔
"لیکن میں تمہیں اس گھر میں نہیں رہنے دوں گا۔ تم ابھی اور اسی وقت اپنے گھر واپس جاؤ گی۔ تم سے نکاح کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے میں تمہیں اپنے ساتھ رکھوں گا۔ تمہیں اپنی ساری زندگی اپنے گھمنڈی باپ کے گھر گزارنی ہوگی۔ چلو نکلو!"
شایان نے ہاتھ بڑھا کر دروازے کی جانب اشارہ کیا مگر عزاہ ہٹی نہیں۔ وہ یونہی شایان کے سامنے کھڑی رہی۔
"تم نے سنا نہیں!" اس نے اتنی اونچی آواز میں بولا کہ عزاہ سہم کر دو قدم پیچھے ہٹی۔
"شایان آپ۔۔۔۔"
ایک دفعہ دوبارہ عزاہ کی بات درمیان میں رہ گئی۔ شایان نے عزاہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے کمرے سے باہر لے جانے لگے۔ شایان کی رفتار اس قدر تیز تھی کہ عزاہ سے قدم بھی نہیں اٹھائے جا رہے تھے۔ شایان اسے یونہی پکڑے گھر کے دروازے تک پہنچ گیا۔ اس نے عزاہ کو دھکا دے کر گھر سے باہر نکال دیا۔
"تم اب جا سکتی ہو۔"
یہ کہہ وہ دروازہ بند کرنے لگا۔ عزاہ تیزی سے دروازے کے پاس آئی اور اسے پکڑ لیا۔
"پلیز شایان ایسا نہ کرو۔ میں کیسے جاؤں گی؟"
عزاہ کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے لیکن اس کی بھری ہوئی آواز شایان کے دل کو پگھلا نہ سکی۔ ہاں اگر یہی آنسو عالیہ کی آنکھوں سے نکل رہے ہوتے تو شایان اس وقت تڑپ رہا ہوتا۔
"یہ بات تمہارے باپ کو تمہاری شادی مجھ سے کروانے سے پہلے سوچنی چاہیے تھی۔"
یہ کہہ کر شایان نے دوبارہ دروازہ بند کرنے کی کوشش کی۔
"تم بتاؤ اتنی رات کو میں کہاں جاؤں گی۔ تم جانتے ہو رات کے وقت میرا یوں جانا محفوظ نہیں ہے۔ خدا کے لیے مجھے یوں نہ نکالو۔ مجھے اگر بھیجنا ہی ہے تو ڈرائیور کے ساتھ بھیج دو۔"
شایان کے دروازہ بند کرتے ہاتھ ایک پل کے لیے رک گئے۔ اس کے سامنے اس کے ماضی کی سب سے تلخ رات کا منظر گھوم گیا۔
اس کی گرفت دروازے پر سے ہلکی ہوئی۔ اس نے دروازہ کھول دیا اور عزاہ کو اندر آنے کا راستہ دیا۔
عزاہ جیسے ہی اندر آئی، شایان کی کھوئی ہوئی نم سی آواز اس کی سماعتوں میں گونجی۔
"کمرے میں چلی جاؤ اور باہر نکلنے کی ہمت نہ کرنا۔"
اس کے بعد شایان رکا نہیں بلکہ لان کی جانب چل دیا۔
عزاہ بھی کچھ کہے بغیر کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
**********************
اشفاق کے گھر میں موت کا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ جس گھر میں شادی کی رونقیں سنبھالنے سے نہیں سنبھل رہی تھی، اب اس گھر میں ماتم کا سماں تھا۔
گھر کے اندر آؤ تو گھر کے مکین اس وقت افسردہ تھے۔ اشفاق جیسے ہی گھر آئے، انہوں نے خود کو کمرے میں بند کردیا۔ نوال کمرے میں نہیں گئیں۔ ان کے اندر ہمت نہیں تھی وہ اشفاق کی ملامتی نگاہوں کا سامنا کر پاتیں۔
نوال کچن میں بیٹھی تھیں۔ انہوں نے ایک ہاتھ چہرے پر رکھا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے میز پر اندیکھی لکیریں کھینچ رہی تھیں۔ انہوں نے ابھی تک کپڑے بھی تبدیل نہیں کیے تھے۔ وہ ابھی تک اسی حلیے میں بیٹھی تھیں۔ ام ہانی ابھی کچھ دیر پہلے انہیں تسلیاں دیں کر گئی تھیں۔ ام ہانی کا طنزیہ لہجہ اس پریشانی میں تھوڑا بدل گیا تھا۔ وہ بھی اپنی بہن کو پریشان دیکھ کر پریشان ہوگئی تھیں۔
نوال کو ام ہانی کے دلاسوں سے تسلی نہیں ہوئی تھی۔ انہیں لوگوں کے طنز و طعنوں کا خوف ابھی تک بری طرح کھائے جا رہا تھا۔ ان کا دل مامتا کے ہاتھوں بے چین تھا۔ آخر عالیہ نے کچھ بھی کیا ہو، وہ ان کی اولاد تھی۔ انہیں عالیہ کی فکر ہو رہی تھی۔ جانے اس کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔
اچانک کچن میں آہٹ ہوئی۔ نوال نے سر اٹھا کر دیکھا تو انہیں جائی یانہ دکھائی دی۔ اس نے اپنے کپڑے تبدیل کر لیے تھے۔ بالوں کی پونی بنا کر اور سارا میک اپ صاف کرکے، وہ اپنے عام حلیے میں تھی۔ وہ نوال کے سامنے والی کرسی کو کھینچ کر بیٹھ گئی اور اپنی اماں کو دیکھنے لگی۔ کچھ لمحے خاموشی کے نذر ہوگئے۔ پھر جائی یانہ کی جذبات سے عاری آواز پورے کچن میں گونجی۔
"اب کیا ہوگا؟"
نوال نے اس کے سوال پر کندھے اچکا دیے۔
"معلوم نہیں۔۔۔"
"عالیہ آپی کا کیا حال ہوگا؟"
"ماں باپ کے گلے میں ذلت کا طوق ڈال کر وہ خود بھی کبھی خوش نہیں رہے گی۔"
نوال نے جیسے موسم کی پیشنگوئی کی۔ جائی یانہ خاموش ہوگئی۔ کچھ دیر بعد جب جائی یانہ دوبارہ بولی تو اس کے لہجے میں جھجھک واضح تھی۔
"اماں کیا آپی نے کبھی آپ کو کہا تھا کہ وہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتی ہے؟"
نوال نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ وہ ماضی کے ایک لمحے میں کھوگئی۔
(یہ اس دن کی بات تھی جب زینب شادی کی تاریخ طے
کرکے گئی تھی۔ جب زینب چلی گئیں، تو نوال نے اپنے سارے کام نپٹانے کے بعد آرام کی غرض سے اپنے بیڈ روم آگئیں۔ اشفاق کسی ضروری کام سے باہر گئے تھے۔ ابھی نوال لیٹی ہی تھیں جب دروازے پر دستک ہوئی۔ انہوں نے اندر آنے کی اجازت دی تو انہیں عالیہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی کمرے میں اندر آتی دکھائی دی۔ اس نے اسکن رنگ کا عام جوڑا پہنا ہوا تھا۔ بالوں کو ایک ڈھیلے جوڑے میں باندھا ہوا تھا۔ وہ خاموشی سے بیڈ کے کونے پر بیٹھ گئی۔ نوال بھی اٹھ کر بیٹھ گئیں۔
"وہ اماں۔۔"
عالیہ نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
"ہاں بولو!"
"وہ کیا آپ شایان والے رشتے سے انکار نہیں کر سکتیں۔"
عالیہ نے اپنی ساری ہمت جمع کرکے بات کہہ ڈالی۔ وہ جانتی تھی سامنے والے کا یہ بات سن کر کیا رد عمل ہوگا۔
نوال کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اگلے ہی لمحے حیرت کی جگہ طیش نے لے لی۔
"کیا بکواس ہے یہ عالیہ؟ چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی جاؤ۔"
نوال یہ کہہ کر لیٹ گئیں۔
"مگر اماں۔۔"
نوال نے عالیہ کی بات کاٹ دی۔
"بس مجھے اور کچھ نہیں سننا ہے۔"
عالیہ کچھ دیر تک بیڈ پر بیٹھی رہی۔ نوال نے کروٹ لے کر اپنا منہ چھپا لیا۔ جب عالیہ سمجھ گئی اماں اب کچھ نہیں سنیں گی تو وہ بوجھل دل کے ساتھ کمرے سے نکل گئی۔
وہ لمحہ ختم ہوا اور نوال اپنے حال میں واپس آگئیں۔)
"وہ کچھ کہنے کے لیے آئی تھی مگر میں نے اس کی بات نہیں سنی۔"
جائی یانہ نے کچھ نہیں کہا بس خاموشی سے میز پر انگلی گھماتی رہی۔ بہت دیر بعد جائی یانہ نے ماحول میں قائم سکوت کو دوبارہ توڑا۔
"اماں آپ کو نہیں لگتا بعض اوقات اولاد کی بھی سن لینی چاہیے۔ کیا پتہ اس کو وہ پتہ ہو جو بڑوں کو نہیں پتہ۔۔۔"
"میں نے جو بھی کیا اس کی بھلائی کے لیے کیا۔ اس نے خود اپنے ساتھ ظلم کیا ہے۔"
نوال نے نم آواز سے کہا۔
"آپ نے بھی آپی سے نہ پوچھ کر ظلم کیا ہے۔ جو حق خدا نے انہیں دیا تھا اسے آپ نے کیوں چھین لیا؟"
جائی یانہ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ جو بھی تھا عالیہ اس کی بہن تھی۔ سالوں کا ساتھ اس طرح کیسے ٹوٹ گیا۔
"اسے نہیں پتہ تھا اس کے لیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔۔۔۔ ہاں خدا نے عورت کو حق دیا ہے مگر یہاں پر کون عورت سے پوچھتا ہے؟ ہمارے بڑوں نے کبھی بھی بیٹیوں سے نہیں پوچھا۔ ہمارے خاندان میں یہی اصول ہے۔ میرے ماں باپ نے بھی مجھ سے نہیں پوچھا تھا اور دیکھو تمہارے بابا اور میں نے اتنے سال ساتھ گزار دیے۔"
نوال کی آنکھوں سے ایک آنسو نکلا جسے انہوں نے ہاتھ کی پشت سے رگڑ دیا۔ جائی یانہ کچھ دیر تک نوال کو دیکھتی رہی۔
"کیا اس ساتھ میں خوشیاں شامل تھیں؟"
اس بات نے نوال کو لاجواب کردیا۔ کچھ دیر تک وہ جواب تلاش کرتی رہیں۔
"خوش رہنا ہی سب کچھ نہیں ہوتا ہے۔ بس سر پر چھت ہو اور دو وقت کی روٹی مل جائے۔ یہی بہت ہوتا ہے۔”
نوال نے نظریں چرا کر جواب دیا۔
"عالیہ آپی۔۔۔"
جائی یانہ کچھ کہنے والی تھی جب اسے اپنے پیچھے اشفاق کی گرج دار آواز سنائی دی۔
"بس بہت ہوگیا!"
نوال اور جائی یانہ نے آواز کا تعاقب کیا تو انہیں اشفاق صاحب کچن کے دروازے پر کھڑے تھے۔ انہوں نے بھی ابھی تک کپڑے تبدیل نہیں کیے تھے۔ ان کے بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ وہ دو قدم آگے آئے اور کاٹ دار آواز میں بولیں۔
"اب اگر کسی نے اس گھر میں عالیہ کا نام بھی لیا تو اس کی زبان کاٹ دوں گا۔ ہمارا اب اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب میں اس بارے میں کوئی بات نہ سنوں۔"
اشفاق اپنی بات کہہ کر کچن سے باہر چلے گئے۔ پیچھے جائی یانہ اور نوال بے بسی کی تصویر بنی کھڑی رہ گئیں۔
**********************
ایک گھنٹے بعد شایان دوبارہ کمرے میں آیا۔ جب وہ واپس آیا تو اسے عزاہ بیڈ پر بیٹھی دکھائی دی۔ عزاہ اپنے گھٹنوں کو سینے سے لگائے، غیر مرئی نقظے کو دیکھ رہی تھی۔ وہ خاموشی سے آگے بڑھا۔ شایان کی آنکھوں میں ایک سرد سا تاثر تھا۔ شایان عزاہ کے سر پر پہنچ گیا۔
"میں نے آج تمہیں جانے کا موقع دیا تھا لیکن تم نہیں گئی۔"
شایان بھی بیڈ پر عزاہ کی جانب رخ کرکے بیٹھ گیا۔ عزاہ اور شایان دونوں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ سکتے تھے۔
"تم نہیں گئی اور اب ساری زندگی اسی بات پر افسوس کرو گی۔"
شایان کا چہرہ سفاک دکھائی دیا۔
"تم میری مرضی سے میری زندگی میں نہیں آئی ہو لیکن یہاں تم میری مرضی کے مطابق رہو گی۔"
اس کے بعد شایان نے اپنا چہرہ کچھ آگے کو کیا۔
"اب جانے کے تمام راستے بند ہوچکے ہیں۔ تم یہی میرے ساتھ رہو گی۔ میری غلام بن کر!"
آخری الفاظ شایان نے توڑ توڑ کر ادا کیے۔ شایان اتنا کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا اور بستر کی دوسری جانب چلا گیا۔ وہ بیڈ پر عزاہ کی جانب پشت کرکے لیٹ گیا۔
عزاہ شایان کی پشت تکتی رہ گئی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا آخر شایان اس سے چاہتا کیا تھا۔ کچھ دیر پہلے شایان اسے گھر سے نکال دینا چاہتا تھا اور اب شایان اسے ساری زندگی اسے قید رکھنا چاہتا تھا۔ آخر یہ سب تھا کیا؟؟
*********************
مریم مہمانوں کی میزبانی میں مگن تھیں جب اشفاق ان کے پاس آیا۔ اس نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پہنی تھی۔ اس نے ہلکی آواز میں مریم سے پوچھا۔
“چچی مولوی صاحب آگئے ہیں۔ انہیں اندر بھیجوں؟"
"نہیں دس منٹ کے لیے رک جاؤ۔ میں ذرا زینب کو دیکھ لوں وہ تیار ہوئی ہے کہ نہیں؟"
مریم کی بات سن کر اشفاق نے سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور باہر چلا گیا۔ مریم زینب کے کمرے میں جانے والی تھی جب ان کی نظر دور کھڑی نوال پر پڑی۔ مریم نے نوال کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور ہلکی آواز میں ساری بات سمجھا کر زینب کے کمرے میں بھیج دیا۔
نوال مہمانوں کے رش سے نکلتی ہوئی زینب کے کمرے میں پہنچ گئی۔ ابھی اس نے زینب کے کمرے کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا جب کسی نے کمرے کا دروازہ اندر سے کھول دیا۔ نوال کچھ پیچھے ہوئی۔ اس نے نازنین کو کمرے سے باہر نکلتا دیکھا۔ نازنین زینب سے ملنے دو تین دفعہ گھر آئی تھی۔ اس لیے نوال نازنین کو اچھے سے جانتی تھی۔ نازنین تنے ہوئے چہرے کے ساتھ کمرے سے باہر نکلی اور نوال سے بات کیے بغیر آگے کی جانب بڑھ گئی۔ نوال نے نازنین کو روکنا چاہا مگر اس کے چہرے کے تاثرات نوال کو کچھ صحیح نہیں لگے۔ نوال کمرے کے اندر گئی تو اس نے زینب کو سکتے کے عالم میں کھڑا دیکھا۔ اس کی نظریں ابھی تک دروازے کی طرف تھی۔
نوال سیدھا زینب کے پاس آئی اور پوچھا۔
"تمہاری دوست اتنے غصے میں کیوں گئی ہے؟"
زینب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ایسا لگتا تھا اس نے یہ بات سنی ہی نہیں تھی۔ وہ ابھی بھی دروازے کو تک رہی تھی۔
نوال نے اسے یوں دیکھ کر کندھے سے جھنجھوڑا۔ زینب ایک دم حال میں آئی اور نوال کو دیکھا۔
"تمہیں کیا ہوا ہے؟"
زینب نے فوراً خود کو سنبھالا۔
"کچھ نہیں بس۔ تم کسی کام سے آئی ہو؟"
نوال نے فوراً ماتھے کو چھوا۔
"ہاں امی پوچھ رہی ہیں تم تیار ہو؟ اگر تم تیار ہو تو مولوی صاحب کو نکاح پڑھوانے کے لیے اندر بھیج دیں؟"
"نکاح؟ مولوی صاحب؟"
زینب نے حیرت سے یہ الفاظ ادا کیے۔ ایسا لگ رہا تھا وہ بھول گئی تھی آج اس کا نکاح تھا۔
ابھی وہ نوال کو کچھ کہتی مریم اندر آگئیں اور عجلت میں پوچھا۔
"سب ٹھیک ہے نا نوال؟"
"جی امی مجھے تو زینب تیار لگ رہی ہے آپ بھی دیکھ لیں۔ کوئی کمی تو نہیں ہے؟"
"ہاں ہاں بس صحیح ہے۔ ایسا کرو ایک چادر لا کر اسے اوڑھا دو اور اس کا چہرہ بھی چھپا دینا۔"
مریم جتنی عجلت میں آئی تھیں، اتنی عجلت میں چلی گئیں۔ زینب تھک کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ نوال اس کی الماری میں چادر ڈھونڈنے لگی۔ آخر کار نوال کو زینب کی چادر مل گئی۔
زینب نے نوال کو اس کے اوپر چادر اوڑھاتے دیکھا۔ اسی وقت مریم چچی اور نگینہ آنٹی کمرے کے اندر آئیں۔ نگینہ آنٹی اس پر صدقے واری جا رہی تھیں مگر اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ کچھ دیر بعد مرد حضرات مولوی صاحب کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوگئے۔ مولوی صاحب کے بیٹھنے کے لیے باہر سے کرسی منگوائی گئی۔ کرسی آنے کے بعد مولوی صاحب کرسی پر بیٹھ گئے۔ نکاح کی رسم شروع ہوگئی۔ کمرے میں ایک مقدس خاموشی چھا گئی۔ بس مولوی صاحب کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔
ان سب کو چھوڑ کر اگر زینب کو غور سے دیکھو، تو وہ ذہنی طور پر کہیں اور گم تھی۔ اس کی سننے کی صلاحیت اسے حال کی بجائے ماضی کی آوازیں سنوا رہی تھی۔
("زینب میں جانتی ہوں تم مجھے انکار نہیں کرو گی۔"
نازنین کی آواز گونجی۔)
"کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"
مولوی صاحب زینب سے اس کی رضا مندی پوچھ رہے تھے۔ یہ سب کچھ کرنے سے پہلے کسی نے زینب کی رضا مندی نہیں پوچھی اور اب عین وقت پر اس کی رضا مندی اتنی اہم بن گئی تھی کہ سب لوگ کان لگائے کھڑے تھے۔
(“میں تم سے آج بہت بڑی چیز مانگ رہی ہوں۔")
"کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"
مولوی صاحب نےاس کو کوئی جواب نہ دیتا دیکھ کر دوبارہ پوچھا۔
زینب انکار کر دینا چاہتی تھی۔ جو کچھ نازنین نے کہا تھا اس کے بعد تو وہ بالکل بھی تیار نہیں تھی۔ اس نے انکار کرنے کے لیے لب کھولے تو مردوں میں سے ایک مرد اس کی طرف بڑھا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
"بولو زینب تمہیں قبول ہے۔"
زینب سر اٹھا کر اس شخص کو دیکھا۔ وہ مرد کوئی اور نہیں بلکہ اس کا اپنا بھائی تھا۔ زینب نے اپنے بھائی کی آنکھوں میں جھانکا تو اسے صرف اپنائیت دکھائی دی۔ اشفاق کے ہاتھوں میں زندہ رکھنے والی گرمائش تھی۔ زینب کو اپنے سر پر رکھا یہ ہاتھ ایک ڈھال معلوم ہوا۔ شاید اسے زینب کی بے گناہی کا پتہ چل گیا تھا۔ شاید اس لڑکے نے اسے سب کچھ بتا دیا تھا۔ وہ انکار کرنے والی تھی مگر اب وہ منع کیسے کرسکتی تھی۔ اس دنیا میں موجود اس کے سب سے عزیز مرد نے اس سے کچھ مانگا تھا۔ وہ اس مرد کی خاطر اپنی جان قربان کرسکتی تھی۔ دوست کی دوستی قربان کرنا تو انتہائی معمولی کام تھا۔
"قبول ہے!"
زینب نے بھری ہوئی آواز میں کہا۔ بالآخر ان سب چیزوں کے ہونے کے بعد اسے اپنا بھائی مل گیا۔ وہ ساری زندگی تپتی دھوپ میں دوڑی تھی۔ اس کے بھائی کا ہاتھ اسے چھاؤں جیسا لگ رہا تھا۔
کمرے میں موجود سب لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ مولوی صاحب نے دو بار مزید پوچھا جس کا زینب نے مثبت جواب دیا۔ نکاح کے بعد لوگوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ اس کے بعد کمرے سے رش ہٹتا چلا گیا۔ اچانک اشفاق نے بھی زینب کے سر پر سے ہاتھ اٹھا لیا۔ زینب یک دم چونک گئی کیونکہ اشفاق نے جتنی شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا، اٹھاتے ہوئے اسے وہ شفقت محسوس نہیں ہو پائی تھی۔ اس نے گردن اٹھا کر اپنے بھائی کو دیکھا۔ اس کے بھائی کی آنکھیں اس اپنائیت سے بالکل خالی تھیں جو کچھ پہلے جھلک رہی تھی۔ اب اس کی جگہ حقارت نے لے لی تھی۔
"کبھی ہمیں ذلیل کروانے کا موقع نہ چھوڑنا۔"
اشفاق اپنے لہجے کا زہر زینب کے کانوں میں ڈال کر چلا گیا۔ زینب نے دیکھا جاتے جاتے اشفاق اپنے ہاتھ کو اس طرح جھٹک رہا تھا جیسے انہوں نے کسی ناپاک شے کو پکڑا ہو۔ زینب کا دل کسی نے مٹھی میں قید کرلیا۔ تو کیا وہ سب کچھ فریب تھا؟
زینب نے جتنی جلدی خوابوں کا محل تعمیر کیا تھا۔ وہ تو پل میں زمین بوس ہوگیا تھا۔ اشفاق کی جھوٹی محبت کو اپنا مان کر اس نے اپنی سب سے بہترین دوست گنوا دی تھی۔ اسے اتنی مشکل سے مخلص شخص ملا تھا جسے زینب نے لالچی بن کر گنوا دیا تھا۔
اس نے اپنی نازنین کو گنوا دیا تھا۔
***********************
اگلی صبح جب عزاہ کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو شایان کے بیڈ پر پایا۔ کچھ پل کے لیے اس کا دماغ بالکل خالی رہا۔ پھر آہستہ آہستہ رات میں ہوئے تماشے اس کے ذہن میں ابھرنے لگے۔ عزاہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ رات کے نجانے کس پہر اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ پھر اس نے چاروں طرف نظریں دوڑا کر شایان کو ڈھونڈا۔ شایان کمرے میں موجود نہیں تھا۔ جب اس کی نگاہ باتھ روم پر گئی تو سمجھ گئی شایان باتھ روم میں ہوگا۔
عزاہ نے اپنا سر ہاتھوں پر گرا لیا۔ اس نے ابھی تک رات والا لباس پہنا ہوا تھا۔ اس کے بال جو رات تک سلیقے سے سیٹ تھے اب بری طرح الجھ گئے تھے۔ منہ پر میک اپ ابھی تک لگا تھا۔ عزاہ کو اپنا سر دکھتا محسوس ہوا۔ کل کی رات کتنی بڑی تھی۔ عزاہ کو یقین نہیں آ رہا تھا ایک رات میں اتنی تبدیلیاں کیسے آ سکتی تھیں۔ وہ سوچتی تھی کہ اس کا اور شایان کا ساتھ ناممکن ہے لیکن اللہ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں۔۔۔ اس کے بس کن کہنے کی دیر ہوتی ہے اور دنیا کے نظام پلٹ جاتے ہیں۔
وہ یونہی بیٹھے ہوئے سب کچھ سوچ رہی تھی۔ باتھ روم کا دروازہ کھلا اور شایان اندر آیا۔ اس نے سرمئی رنگ کی شرٹ پر کالی پینٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ اپنے گیلے بالوں کو سفید رنگ کے تولیے سے سکھا رہا تھا۔ عزاہ بھی بیڈ پر سے کھڑی ہوگئی اور باتھ روم کی جانب جانے لگی۔ شایان باتھ روم کے دروازے کے ساتھ رکھی ڈریسنگ ٹیبل پر کھڑا ہوگیا اور کنگھا نکالنے لگا۔ اس نے تولیے کو صوفے پر پھینک دیا تھا۔ عزاہ نے باتھ روم کے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا اور ایک نظر سنگھار میز کے سامنے کھڑے شایان کو دیکھا۔ اسی وقت شایان نے بھی عزاہ کو دیکھا۔ دونوں کی نظریں ایک پل کے لیے ٹکرائیں۔ پھر شایان نے اپنی نگاہیں موڑ لی۔ شایان کی نظریں عزاہ کو دیکھتے ہوئے بالکل خالی تھی۔ ان میں کوئی بھی تاثر نہیں تھا۔ عزاہ نے اپنا سر جھٹکا اور باتھ روم میں چلی گئی۔ دوسری طرف شایان نے کنگھا بہت زور سے ڈریسنگ ٹیبل پر پٹک دیا۔ جانے کیوں عزاہ کی آنکھوں نے اسے ایک بار پھر عالیہ کی یاد دلا دی تھی۔ دونوں کی آنکھیں کتنی ملتی تھیں۔
آہ اس نے آج کے دن کے بارے میں کیا سوچا تھا اور کیا ہوگیا تھا۔ اسے لگا تھا آج کی صبح اس کی زندگی کی حسین ترین صبح ہوگی مگر اس کو آج کی صبح اپنی زندگی کی بدترین صبح لگ رہی تھی۔ قسمت آخر اس پر مہربان کیوں نہیں تھی۔
*********************
آج کی صبح عالیہ کی زندگی کی حسین ترین صبح تھی۔
وہ بیڈروم کی کھڑکی سے جھانکتی ہوئی یہ بات سوچ رہی تھی۔ اس نے کھلتے ہوئے لال رنگ کی فراک پہنی ہوئی تھی جو اس کے پیروں کو چھو رہی تھی۔ چہرے پر میک اپ کہا تھا اور بالوں کو کرل کرکے کھلا چھوڑ دیا تھا۔ اس کی ہونٹوں کی مسکراہٹ اسے مزید حسین بنا رہی تھی۔ عالیہ کا دل چاہ رہا تھا وہ خوشی کے نشے میں جھوم اٹھے تاکہ سب کو پتہ چل جائے اسے آریان جیسا ہمسفر ملا تھا۔ اسے اپنے کمرے میں کھانا پکنے کی خوشبو آ رہی تھی۔ آریان اپنے اور عالیہ کے لیے ناشتہ بنا رہا تھا۔
عالیہ نے ہاتھ تھوڑا اوپر کرکے انگلی میں میں موجود انگوٹھی کو دیکھا۔ کیا قسمت اتنی اچھی بھی ہو سکتی ہے۔ کیا ایک رات کسی کی زندگی بدل سکتی ہے۔ ہاں اس کے سارے خونی رشتے اس سے چھن گئے تھے مگر ان کے عوض اسے آریان ملا تھا۔ جو عالیہ کے نزدیک کسی انعام سے کم نہیں تھا۔
آریان نکاح کرنے کے بعد عالیہ کو اپنے آپارٹمنٹ میں لے آیا تھا۔ عالیہ کو تھوڑی حیرت ہوئی کیونکہ پہلے آریان نے عالیہ کو کہا تھا وہ دونوں نکاح کے بعد آریان کی امی کے پاس ان کے گھر جائیں گے مگر ان کی گاڑی تو ایک عمارت کے پارکنگ ایریا میں رکی تھی۔
عالیہ کی حیرانگی آریان سے چھپی نہ رہ سکی۔ اس نے عالیہ کے پوچھنے سے پہلے ہی اسے بتا دیا۔
"ابھی ہم میرے اپارٹمنٹ میں آئے ہیں۔ میں تمہیں گھر لے تو جاؤں مگر ابھی میرے اندر ماما کا غصہ سہنے کی ہمت نہیں ہے۔ جب میں حالات کو کچھ بہتر سمجھوں گا تو خود ہی انہیں بتا دوں گا۔"
آریان یہ کہہ کر گاڑی سے باہر نکل گیا لیکن عالیہ ابھی بھی تذبذب کا شکار تھی۔ پارکنگ ایریا سے اپارٹمنٹ کے بیڈروم میں آنے تک وہ اسی پریشانی میں مبتلا رہی تھی۔ آریان نے دوبارہ اس کی پریشانی بوجھ لی۔ اس نے پہلے عالیہ کو بیڈ پر بٹھایا اور پھر خود بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد اس نے عالیہ کے دونوں ہاتھ نرمی سے پکڑ لیے اور عالیہ کی سنہری آنکھوں میں دیکھا۔
"کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے؟ اگر ہے تو اتنی پریشان کیوں ہو؟"
آریان کی آواز میں بلا کی نرمی تھی۔
"نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ مجھے بس ڈر ہے اگر تمہاری ماما کو تمہارے بتانے سے پہلے پتہ چل گیا تو کیا ہوگا؟ وہ کہیں غلط نہ سمجھ لیں۔"
عالیہ نے ہلکی آواز میں اپنی پریشانی بتائی۔
"چاہے کچھ بھی ہو جائے میں تمہیں یقین دلاتا ہوں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ تمہیں ہمیشہ اپنی قید میں رکھوں گا۔"
آخری بات آریان نے عجیب لہجے میں کہی تھی لیکن عالیہ نے اتنا غور نہیں کیا۔ آریان کی باتوں نے اس کی پریشانی کو ہوا کردیا تھا۔
عالیہ کھڑکی سے باہر دیکھتی جانے کتنی دیر تک اپنی سوچوں میں گم رہتی اگر اسے اپنے پیچھے سے دروازہ کھلنے کی آواز نہ آتی۔
عالیہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو آریان کھڑا تھا۔ اس نے فیروزی رنگ کی شرٹ پر سفید رنگ کی پینٹ پہنی ہوئی تھی۔ اس نے سفید رنگ کا ایپرن پہنا ہوا تھا جس پر لال رنگ کی دھاریاں بنی ہوئی تھی۔ وہ ہاتھ میں کھانے کی ٹرے لیے کمرے کے اندر آیا اور ٹرے کو بیڈ پر رکھ دیا۔ عالیہ آریان کی جانب بڑھ گئی۔ آریان عالیہ کو دیکھ کر مسکرایا اور اور ایک طرف ہوکر عالیہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
"میڈم!"
عالیہ کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔ وہ مسکراتی ہوئی بیڈ پر بیٹھ گئی۔
"اب کھا کر بتائیں اس شیف نے کیسا آملیٹ بنایا ہے؟"
آریان نے مصنوعی انکساری سے کہا۔
عالیہ نے چھری کانٹا پکڑا اور آملیٹ کی پلیٹ کو اپنے پاس کرکے پہلا نوالہ منہ میں ڈالا۔
"زبردست!"
عالیہ نے نوالہ چباتے ہوئے کہا۔ آریان نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر کو خم دیا۔ پھر وہ عالیہ کے لیے ٹی پاٹ میں سے چائے نکالنے لگا۔ عالیہ آریان کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی کیا شایان اس کے اتنے نخرے اٹھا سکتا تھا جتنے آریان اٹھا رہا تھا۔ نہیں! وہ تو شاید کسی نہ کسی بات پر ابھی اسے بری طرح جھڑک رہا ہوتا۔
*********************
شایان صوفے پر بیٹھا اپنے موبائل سے کسی کو ای میل سینڈ کر رہا تھا۔ تبھی اس کی نظر عزاہ پر پڑی جو نہا دھو کر کپڑے تبدیل کرکے باتھ روم سے باہر نکلی تھی۔ شایان نے سر جھٹک کر اپنی نظریں دوبارہ موبائل کی اسکرین پر مرکوز کرنا چاہی۔ اسی وقت اس کے ذہن میں کچھ کلک ہوا۔ اس نے دوبارہ عزاہ کی طرف دیکھا جو اب ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی کنگے سے اپنے گیلے بالوں کو سلجھا رہی تھی۔ اس کی نظریں عزاہ کے جوڑے پر گئی جو نیوی بلو رنگ کی شلوار قمیض تھی۔ اس پر مختلف رنگوں سے اچھا سا پرنٹ کیا ہوا تھا۔ وہ فوراً اٹھا اور عزاہ کے کندھوں کو پکڑ کر جارحیت سے اپنی طرف کیا۔ عزاہ اس اچانک آنے والی مصیبت پر بوکھلا گئی اور آنکھیں حیرت سے پھاڑے شایان کو دیکھنے لگی۔
"تمہیں کس نے اجازت دی تم یہ پہنو؟"
شایان نے انتہائی غصے میں پوچھا۔
"یہ الماری میں رکھا تھا تو میں نے سوچا اسے پہن لوں۔"
عزاہ نے ڈرتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔
" یہ تمہارے لیے نہیں ہے۔" شایان غرایا۔
"ابھی جاکر تبدیل کرو اور اس کی جگہ کچھ اور پہنو اور آئندہ کے بعد میں تمہیں یہ پہنے نہ دیکھوں۔"
شایان یہ کہہ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔ عزاہ نے آئنے کے سامنے کھڑے ہوکر پہلے اپنی نم آنکھوں کو اور پھر اپنے کپڑوں کو دیکھا۔ یہ وہ فیری ٹیل نہیں تھی جو اس نے ساری عمر اپنے ذہن میں بنائی تھی۔ اس نے پیچھے مڑ کر عالیہ کی لگی تصویر کو دیکھا جو اس وقت عزاہ کی حالت کا مزاق اڑاتی محسوس ہو رہی تھی۔
*********************
اشفاق کے گھر کی طرف اگر ہم بڑھیں، تو ان کی صبح اس قدر خاموش تھی کہ ایسا لگتا تھا گھر میں کوئی موجود نہیں ہے۔ ہر طرف بس سناٹوں کا راج تھا۔ کچن سے آتی برتن رکھنے اور اٹھانے کی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی۔
اگر کچن کی جانب بڑھیں، تو نوال اپنے تیار کیے ناشتے کو ٹرے اور ٹوکری میں رکھ رہی تھیں۔ ناشتے میں انڈہ، پراٹھے، حلوہ پوری اور نان چنے شامل تھے۔ اسی وقت جائی یانہ بھی کچن میں آگئی۔ اس کی آنکھیں سونے کی وجہ سے سوجی ہوئی تھیں اور بال بکھرے ہوئے تھے۔ وہ کچن کی سلپ کے پاس آئی اور جگ میں سے پانی نکال کر پینے لگ گئی۔ اگر کوئی اور دن ہوتا تو نوال جائی یانہ کو اس کے حلیے پر ضرور ٹوکتی مگر ان کا دل اتنا اداس تھا کہ انہوں نے جائی یانہ کے حلیے پر دھیان نہ دیا۔ انہوں نے بے تاثر انداز میں کہا۔
”تم نے آج ناشتہ لے کر جانا ہے۔"
جائی یانہ کے حلق میں پانی اٹک گیا۔
"کیا؟؟"
جائی یانہ نے سنبھلنے کے بعد حیرت سے نوال کو دیکھا۔
”کہاں ناشتہ لے کر جانا ہے؟"
"تمہاری پھپھو کی طرف۔ تم اکیلی چلی جانا میرا من نہیں ہے اور تمہارے ابو کمرے سے باہر نہیں نکل رہے۔ تمہاری ہانی خالہ کے سر میں درد ہے تو انہوں نے بھی جانے سے منع کردیا ہے۔"
"لیکن میں اکیلی کس طرح جاؤں گی مجھے تو ڈرائیونگ بھی نہیں آتی ہے اور آپ خود بتائیں میں اکیلی جاتی اچھی لگوں گی؟"
جائی یانہ نے مزاحمتی انداز میں کہا۔
"تم کیب میں چلی جانا اور اب خدا کے لیے کوئی بحث نہ کرنا۔ میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں۔"
نوال نے تھکے تھکے سے انداز میں کہا۔
جائی یانہ خاموش ہوگئی مگر وہ تیار ہونے کے لیے کچن سے جانے لگی۔ اس کے ذہن کیں یکدم خیال آیا۔
"اماں میں اپنی دوست نائلہ کو بھی لے کر چلی جاؤں؟”
جائی یانہ نے مڑ کر پوچھا
"ہمم! جس کو لے کر جانا ہے، چلی جاؤ۔"
نوال کی اجازت ملتے ہی جائی یانہ فوراً کمرے کی جانب بھاگی۔ نائلہ کل شادی پر بھی نہیں آئی تھی۔ اسے نائلہ کو ہر حال میں منانا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ناشتہ لے کر پھپھو کے گھر جائے۔ حالانکہ یہ ایک بہت مشکل کام تھا لیکن ناممکن تو نہیں تھا۔
*********************
سورج کی کرنیں جب کھڑکی کے شیشوں کو پار کرکے بیڈ پر سوئی زینب کے چہرے سے ٹکرائی تو اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ بیڈ پر کسمساتے ہوئے اٹھی۔ اس نے لال رنگ کی کمبل اوڑھ رکھی تھی۔ اس نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا اور دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھا۔ صبح کے سات بج چکے تھے۔ پھر زینب نے اپنے بیڈ کے اردگرد لگے پھولوں پر نظر دوڑائی۔ سب پھولوں کے رنگ ایک دوسرے سے جدا تھے۔ پورے کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے زینب کی نگاہ اپنے ساتھ لیٹے شخص پر پڑی جو دوسری طرف منہ کرکے سو رہا تھا۔ زینب کو بس اس شخص کی پشت دکھائی دے رہی تھی۔ زینب اس شخص کی پشت کو تکتی رہی۔ اس شخص کے ساتھ کل رات کو زینب کا ایک مضبوط رشتہ بندھ گیا تھا۔
یہ شخص عمر تھا۔ زینب کا شوہر!!
اسی پل عمر نے کروٹ بدلی اور اپنا رخ زینب کی جانب کیا۔ عمر کے نقوش کرخت اور شخصیت معمولی سی تھی۔ اس نے آنکھ لمحے بھر کے لیے کھولی تو اس نے زینب کو اپنی طرف دیکھتا پایا۔ اس نے آنکھ دوبارہ بند کرتے ہوئے نیند میں ڈوبی آواز میں پوچھا۔
"آپ اتنی جلدی کیوں جاگ گئیں؟"
عمر کی بات سن کر زینب نے جواب دیا۔
"ہمارے گھر میں ہم لوگ جلدی اٹھ جایا کرتے تھے۔"
"اچھا لیکن ہم لوگ اتنی جلدی نہیں اٹھتے۔ ابھی ایک گھنٹہ باقی ہے۔ میری مانیں تو آپ دوبارہ سو جائیں۔ ویسے بھی آج ولیمہ ہے۔ اپنی کل کی تھکن اتار لیں۔"
یہ کہنے کے بعد وہ دوبارہ سو گیا۔ زینب نے بھی سوچا کہ وہ اتنی جلدی تیار ہو کر کیا کرے گی۔ اس لیے دوبارہ لیٹ گئی۔ اگرچہ نیند اس کی آنکھوں سے غائب ہوگئی تھی۔
زینب نے نکاح کے بعد اشفاق کو اپنے اردگرد کہیں نہیں دیکھا تھا۔ یہاں تک کہ رخصتی کے وقت بھی اسے اپنا بھائی کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ نکاح سے لے کر عمر کے گھر پہچنے تک سارا راستہ پریشان رہی تھی۔ اس نے اپنی دوست کی بات نہیں مانی تھی۔ اس کی دوست ایک امید لے کر اس کے پاس آئی تھی اور اس نے اپنی دوست کی امید توڑ دی۔ وہ بھی بس اپنے بھائی کی جھوٹی محبت کے دھوکے میں۔۔۔
اسے یہ خوف بھی تھا اپنی بہترین دوست کو گنوا کر اس نے جس شخص کا ہاتھ تھاما ہے، کیا وہ شخص اس لائق بھی ہے کہ اس کے ساتھ زندگی گزاری جاسکے لیکن عمر کا رویہ رات سے لے کر اب تک زینب کے ساتھ اچھا تھا۔ وہ شکل سے جتنے سخت مزاج معلوم ہوتے تھے اتنے تھے نہیں! وہ ایک عام انسان کی طرح زینب سے اچھے سے بات کر رہے تھے۔ اگر زینب کے پاس کوئی کہانیوں کا شہزادہ نہیں آیا تھا تو بھی ٹھیک تھا۔ کم از کم اس کے نصیب میں بدتمیز یا آوارہ انسان نہیں تھا۔ زینب، عمر کے رویے سے ہی جان گئی تھی کہ عمر ایک تمیز دار انسان ہے۔ عمر کو دیکھ کر جانے کیوں اسے نازنین کا خیال آ رہا تھا۔ کاش اسے نازنین اور عمر دونوں مل جاتے۔ اس سے نازنین کو چھینا نہ جاتا۔
**********************
جائی یانہ نے آخر کار نائلہ کو منا ہی لیا۔ نائلہ کے گھر میں یوں دوستوں کے گھر جانا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ شادی میں شرکت نہیں کرپائی تھی۔ نائلہ آج بھی بس جائی یانہ کے اتنے اصرار پر آ رہی تھی۔
جیسے ہی نائلہ نے اس کے ساتھ جانے کی حامی بھری، جائی یانہ جلدی سے تیار ہوگئی۔ جائی یانہ نے کیب منگوا کر پہلے نائلہ کو اس کے گھر سے لیا۔ نائلہ کو ساتھ لے لینے کے بعد جائی یانہ نے کیب کا رخ زینب کے گھر کی طرف کروایا۔ جائی یانہ نے نائلہ کو راستے میں کل رات ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔ نائلہ یہ باتیں سن کر کچھ شرمندہ ہوئی کیونکہ جب جائی یانہ نائلہ کو کال پر اپنے ساتھ چلنے پر اصرار کر رہی تھی تو نائلہ منع کرتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ جائی یانہ اس کی بجائے اپنی بہن عزاہ کو ساتھ لے جائے۔ نائلہ کو ذرا سا بھی اندازہ نہیں تھا جائی یانہ کے گھر کے حالات اتنے خراب تھے۔
آخرکار وہ دونوں زینب کے گھر پہنچ گئیں۔ دونوں نے ناشتے کا سامان کیب میں سے نکالا اور اسے پکڑ کر گھر کے اندر گھس گئیں۔ وہ دونوں ابھی گھر کے اندر داخل ہی ہوئے تھے کہ انہوں نے شایان کی چلاتی آواز سنائی دی۔
"تم اپنا چہرہ لے کر کچھ دیر کے لیے گم نہیں ہوسکتی۔ آخر اتنا تیار ہوکر ثابت کیا کرنا چاہتی ہو کہ تم کوئی حسن زادی ہو اور میں تم پر فدا ہوگیا ہوں۔"
یہ آواز اوپر کی منزل سے آ رہی تھی۔ ایک دم سے دروازے کھلنے کی زور دار آواز آئی اور شایان کی دھاڑتی آواز گونجی۔
"اب کچھ دیر باہر ہی رہنا۔"
اور پھر زور دار آواز سے دروازہ بند ہوگیا۔ کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ جائی یانہ اور نائلہ نے کشمکش کے عالم میں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا۔ وہ سوچنے لگیں اب انہیں جانا چاہیے کہ نہیں۔
جائی یانہ نے جب سیڑھیوں کی جانب دیکھا تو اسے عزاہ نیچے اترتی دکھائی دی۔ عزاہ ان دونوں کی موجودگی سے بے خبر نیچے اتری اور دوسری جانب مڑنے لگی۔ اچانک اس کی نظر جائی یانہ اور نائلہ پر گئی جو ہاتھوں میں سامان پکڑے ہونقوں کی طرح عزاہ کا حلیہ دیکھ رہیں تھیں۔
عزاہ نے کھلتے نارنجی رنگ کا جوڑا پہنا ہوا تھا۔ عزاہ کے چہرے پر ادھورا میک اپ ہوا ہوا تھا۔ لال رنگ کی لپ اسٹک چہرے پر بری طرح پھیل گئی تھی۔ عزاہ کے بال جن کو اسٹائل دے کر پیچھے سے کھلا چھوڑ دیا تھا وہ اب اڑے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کسی نے بہت زور سے عزاہ کے بالوں کو اپنی سخت گرفت میں جکڑا تھا۔ اس کی حالت مضحکہ خیز معلوم ہوتی تھی مگر اگر کوئی اسے اپنے سامنے یوں دیکھتا تو اسے ہنسی نہیں بلکہ ترس آتا۔ عزاہ کے قدم جائی یانہ کو سامنے کھڑا دیکھ کر جم گئے۔ نہ کوئی آگے بڑھا نہ کسی نے پیچھے کی طرف قدم لیے۔ ایسا لگتا تھا۔ سب کچھ تھم سا گیا ہو۔
پھر عزاہ نے ہمت لی اور آگے بڑھی۔
"تم آگئی ہو۔ میں نمرہ کے کمرے میں جا رہی تھی۔ میرا میک اپ میرے پاس ہے نہیں اور ویسے بھی میرا سارا میک اپ خراب ہوگیا ہے۔ شایان نے مجھے کہا کہ میں نمرہ سے میک اپ ٹھیک کروا لوں تو میں اس کے پاس جا رہی ہوں۔"
عزاہ غیر ضروری تفصیل بتا کر اوپر کی جانب چل دی۔ جائی یانہ کو عزاہ کی بے ترتیب باتیں بالکل بھی سمجھ نہیں آئیں۔
اب نائلہ اور جائی یانہ ایک بار پھر وہی کھڑے رہ گئے تھے۔ جائی یانہ نے کچھ ہمت کی اور اندر کی جانب بڑھ گئی۔ اسی پل ان دونوں کو ملازمہ دکھائی دی۔ دونوں نے ناشتے کا سامان ملازمہ کو دیا اور جائی یانہ نے زینب کو بلانے کا کہا۔ ملازمہ سر اثبات میں ہلا کر چلی گئی۔
جائی یانہ نائلہ کو لے کر لاؤنج میں آگئی اور صوفے پر براجمان ہوگئیں۔ کچھ دیر بعد زینب لاؤنج میں داخل ہوگئی۔ جائی یانہ اور نائلہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے۔ زینب نے سنگل صوفے کی جانب بڑھتے ہوئے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ نائلہ اور جائی یانہ دوبارہ بیٹھ گئیں۔
زینب کے پوچھنے سے پہلے ہی جائی یانہ نے نائلہ اور زینب کا تعارف کروا دیا۔
"پھپھو یہ میری دوست نائلہ ہے اور نائلہ یہ میری پھپھو ہے۔"
زینب نے سر کو خم دیا۔ پھر جائی یانہ سے پوچھا۔
"خیریت اس وقت تم لوگ کیوں آئے؟"
"وہ پھپھو ہم دونوں ناشتہ لے کر آئیں ہیں۔"
"اچھا اچھا!" زینب نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔
"نوال بھابھی تمہارے ساتھ نہیں آئیں۔ تم لوگوں کو اکیلے بھیج دیا؟"
"جی وہ دراصل اماں کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔"
"ہمم!"
زینب نے بس ہنکارا بھرا۔ اسی وقت عزاہ بھی کمرے سے لاؤنج میں آگئی۔ اس کا چہرہ اب میک اپ سے بالکل پاک تھا۔ اس کے چہرے پر موجود پانی کے قطرے اس کے منہ دھونے کی چغلی کر رہے تھے۔ اس نے بالوں کو پونی میں جکڑ لیا تھا۔ اسے آتا دیکھ کر زینب اٹھ کھڑی ہوگئیں۔
"عزاہ تمہاری بہن ناشتہ لے کر آئی ہے۔ ان لوگوں کی اچھے سے خاطر تواضع کرنا۔ مجھے ابھی ضروری کام سے جانا ہے ورنہ تم لوگوں کے ساتھ ضرور بیٹھتی۔ تم لوگ خوب مزے کرنا۔ خدا حافظ!"
یہ کہہ کر زینب کمرے سے باہر چلی گئیں۔ لاؤنج میں دوبارہ خاموشی نے بسیرا کرلیا۔ کسی نے کسی سے کوئی بات نہ کی۔ سب ایک دوسرے سے نظریں چرانے کی تگ ودو میں لگے رہے۔ کچھ دیر بعد ملازمہ آئی اور ڈائننگ پر ناشتہ لگنے کی اطلاع دیے کر اپنے دوسرے کام نپٹانے چلی گئی۔ عزاہ اٹھ کھڑی ہوئی اور ان دونوں کو لے کر ڈائننگ ہال چلی گئی۔
ڈائننگ ٹیبل پر وہ تینوں بیٹھی تھیں۔ سب نے پلیٹوں میں بس برائے نام کھانا ڈالا اور ایک دو لقمے لینے کے بعد ہاتھ کھینچ لیے۔ جائی یانہ نے کیب بلوا لی حالانکہ عزاہ نے اسے بہت منع کیا کہ ڈرائیور انہیں چھوڑ دے گا مگر جائی یانہ گھر کا ماحول دیکھ کر خاصی محتاط ہوگئی تھی۔ تقریباً بیس منٹ بعد کیب گھر کے باہر کھڑی تھی۔ عزاہ ان دونوں کو چھوڑنے کے لیے باہر گئی۔ عزاہ نے جیسے ہی دیکھا کہ نائلہ کیب میں بیٹھ گئی ہے تو وہ کیب میں بیٹھتی جائی یانہ کا ہاتھ پکڑ کر کچھ دور لے گئی اور آہستہ آواز میں بولی۔
"تم نے جو کچھ دیکھا ہے۔ اس کے بارے میں اماں بابا کو نہ بتانا۔"
"کیوں؟ ان کو بھی تو پتہ ہونا چاہیے آپ کے ساتھ یہاں کیا ہو رہا ہے۔"
جائی یانہ نے دبے دبے غصے میں کہا۔
"دیکھو میرے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ میرا نصیب ہے۔ تم یہ بھی تو دیکھو مجھے شایان مل گیا ہے۔ مجھے شایان کے ساتھ اب اپنا گھر بنانا ہے۔ تم خدا کے لیے میری زندگی کو دوبارہ اندھیروں میں نہ لے کر جاؤ۔"
جائی یانہ کو لگا اس کی بہن اپنا دماغی توازن کھو بیٹھی ہے۔ وہ اس شایان کے ملنے پر خوشی منا رہی تھی جس نے کچھ دیر پہلے اسے اتنا ذلیل کرکے کمرے سے نکالا تھا۔
وہ اس سے پہلے کچھ کہتی کیب ڈائیور نے گاڑی کا ہارن بجا دیا۔ جائی یانہ نے عزاہ کو اس کے حال میں چھوڑ دیا اور گاڑی میں سوار ہوگئی۔ دونوں واپسی کا سفر طے کرنے لگ گئی ۔ جب ان دونوں نے آدھا راستہ پار کرلیا تو جائی یانہ نے نائلہ سے کہا۔
"آج جو بھی ہوا پلیز وہ کسی کے سامنے مت کہنا!"
"میرے خیال سے دوستی کا یہ بھی سنہری اصول ہے کہ اپنے دوست کی پرسنل باتیں کسی سے شئیر نہ کی جائیں۔"
نائلہ نے بڑے آرام سے کہا۔ جائی یانہ اس کی بات سن کر ہنس دی۔ چند پل کے لیے اس کے ذہن میں چھایا تناؤ دور ہوگیا تھا۔
**********************
گھر پہنچ کر جائی یانہ کمرے میں بند ہوگئی۔ اس نے نوال یا اشفاق کو کچھ بھی نہیں بتایا اور نہ ہی اس کے ماں باپ نے کوئی سوال کیا۔ وہ کمرے میں جیسے ہی آئی بیڈ پر دھرام سے گر گئی۔ اس نے کپڑے بھی تبدیل نہیں کیے تھے۔ اس کا موڈ بہت خراب تھا۔
ایک طرف اگر وہ شایان کے رویے سے پریشان تھی تو دوسری طرف عزاہ کی بیوقوفانہ سوچ پر اسے رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا۔ آخر یہ سب کون کرتا ہے؟ شایان بھائی اور بجو کی تو شادی بھی نہیں ہو رہی تھی تو بجو کو ایک ہی دن میں شایان بھائی سے اتنی محبت کیسے ہوگئی اور وہ بھی شایان بھائی کے اس قدر برے رویے کے باوجود؟
جائی یانہ عزاہ کے جذبات سے بے خبر تھی۔ اگر وہ جانتی ہوتی کہ عزاہ شایان کو کب سے پسند کرتی ہے تو یقیناً اسے یہ سب اتنا عجیب نہ لگ رہا ہوتا۔ شایان اور عزاہ کے بارے میں سوچتے سوچتے کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے معلوم بھی نہ ہوسکا۔
جائی یانہ کی جب آنکھ کھلی تو کھڑکی سے اب روشنی تھوڑی کم آ رہی تھی۔ اپنی آنکھ کو رگڑتے ہوئے وہ اٹھی اور گھڑی پر دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ چھوٹی سوئی پانچ پر اور بڑی سوئی بارہ پر ہے مگر اسے کچھ سمجھ نہیں آئی۔ اس کا دماغ اتنی گہری نیند لینے کے بعد ابھی تک سن تھا۔ اس نے دماغ پر تھوڑا زور دیا تو اسے پتہ چلا کہ شام کے پانچ بج رہے تھے۔ پھر اس نے باہر کھڑکی میں دیکھا تو اجالا ابھی تک تھا۔
"میں اتنی دیر تک سوتی رہی ہوں؟"
اس نے خودکلامی کی۔ ابھی وہ اسی بارے میں سوچ رہی تھی۔ اسے یاد آیا آج تو شایان اور عزاہ کا ولیمہ تھا۔ وہ فوراً سے اٹھی اور باہر چلی گئی۔ وہ اپنی ماں کو تلاش کرتے ہوئے نیچے لاؤنج میں پہنچی۔ وہ صوفے پر بیٹھی ہوئی تھیں اور کسی بارے میں سوچ رہی تھیں۔
" اماں آج بجو کا ولیمہ کنفرم ہے نا؟"
"ہاں میں نے زینب سے کال کرکے پوچھ لیا تھا۔ اس نے کہا ہے وہ آج ہی ولیمہ کر رہی ہے۔"
جائی یانہ نے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔
"میں نے تو کپڑے بھی استری نہیں کیے ہیں؟"
"جاؤ جلدی سے کپڑے استری کرو اور تیار ہونا شروع ہوجاؤ۔ ساڑھے سات بجے ہمیں ہال کے لیے نکل جانا ہے۔"
نوال نے کہا پھر اچانک انہیں یاد آیا۔
"جائی یانہ! ایسا کرو اپنی خالہ اور عیسیٰ کے بھی کپڑے استری کردو۔"
ام ہانی اور عیسیٰ کا نام سن کر جائی یانہ کا موڈ خراب ہوگیا مگر اس نے کچھ نہیں کہا۔ وہ لاؤنج سے باہر نکل گئی۔ ابھی اسے بہت سے کام کرنے تھے اور وقت مختصر تھا۔
*********************
سورج کو غروب ہوئے ابھی بس کچھ ہی لمحات گزرے تھے۔ پھر بھی اندھیرا کافی حد تک پھیل گیا تھا۔ ایسے میں اگر ہم ایک بڑی سی بلڈنگ میں بنے اپارٹمنٹ میں آؤ تو وہاں پر ایک لڑکی اپنی سنہری آنکھوں میں کاجل لگا رہی تھی۔ کاجل لگا کر اس نے اپنے پورے چہرے کو تنقیدی نگاہوں سے دیکھا۔ کہیں بھی کوئی کمی نہیں تھی۔ اس کا میک اپ مکمل ہوچکا تھا۔ عالیہ سنگھار میز کے سامنے سے ہٹ گئی اور الماری کی طرف بڑھ گئی۔ اس کی ساڑھی کا پلو زمین پر گر رہا تھا۔ عالیہ نے گہرے سبز رنگ کی ستاروں سے بھری ساڑھی پہنی ہتھی۔ اس رنگ میں اس کی رنگت مزید نکھر گئی تھی۔ اس نے الماری کے دونوں پٹ کھول دیے اور جھک کر لال رنگ کے زیور کا ڈبہ نکالا۔ اس نے الماری کے پٹ دوبارہ بند کردیے اور دوبارہ سنگھار میز کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اس نے ڈبہ کھولا۔ ڈبے کے اندر ڈائمینڈ کا حسین نیکلس موجود تھا۔ اس کے ساتھ دو ڈائمنڈ کے آویزے بھی تھے جن پر نیکلس جیسا کام ہوا تھا۔
عالیہ نے پہلے آویزے نکال کر اپنے کانوں میں ڈالے۔ پھر نیکلس پکڑا۔ ٹھیک اسی وقت آریان بھی کمرے میں آگیا۔ اس نے سفید رنگ کا ٹو پیس سوٹ پہنا ہوا تھا۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتا عالیہ کے پاس آیا اور اس کے ہاتھوں سے نیکلس پکڑ لیا۔ عالیہ نے مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھا پھر وہ آئنے کی جانب مڑ گئی۔ وہ دیکھ سکتی تھی آریان اس کے گلے میں نیکلس ڈال رہا ہے۔ پھر آریان نے اس کے بال، جو ابھی اس نے آڑھی مانگ نکال کر کرلز کیے تھے، کو نیکلس کی ڈوری سے نکال کر باہر کیے۔ جب آریان نے چہرہ اٹھا کر آئنے پر دیکھا تو عالیہ کو یہ منظر مکمل لگا۔ عالیہ کو اس وقت لگا اسے آریان سے بہتر انسان کبھی مل ہی نہیں سکتا تھا۔ آریان نے عالیہ کا ہاتھ تھاما اور اسے لے کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ وہ دونوں باہر ڈنر کے لیے جا رہے تھے۔
**********************
عزاہ پارلر میں بے چینی سے ادھر ادھر ٹہل رہی تھی۔ اس نے سرمئی رنگ کی میکسی پہنی ہوئی جو اوپر سے نیچے تک کام سے بھری ہوئی تھی۔ اس کے اوپر اس نے سرمئی رنگ کا دوپٹہ سر پر اوڑھا تھا۔ اس نے سیدھی مانگ نکال کر جوڑا کیا تھا۔ اس کا میک اپ اور اسٹائلنگ سب کام ہوچکے تھے۔ اب بس اسے شایان کا انتظار تھا جو ابھی تک گاڑی لے کر نہیں آیا تھا۔ اس نے زینب کو اتنی بار کال کی تھی مگر وہ ہر بار یہی کہہ رہی تھی میں نے شایان کو تمہیں لینے بھجوا دیا ہے، اب وہ بس آتا ہی ہوگا۔ اسے آخری کال کیے آدھا گھنٹہ ہوگیا تھا مگر شایان کا کچھ پتہ نہیں تھا۔
وہ پارلر میں اکیلی تھی۔ اس کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ نمرہ اس کے ساتھ چل بھی لیتی مگر اسے صبح سے بخار تھا۔ اس لیے اس نے گھر پر ٹھہرنا ہی مناسب سمجھا۔ اس کا دل تھا جائی یانہ کو اپنے ساتھ لے آئے مگر زینب نے اتنی عجلت میں اسے ڈرائیور کے ساتھ بھیجا کہ اسے موقع ہی نہ ملا۔ ابھی وہ اس بارے میں سوچ رہی تھی جب پارلر میں کام کرنے والی لڑکی اس کے پاس آئی اور اسے بتایا۔
"آپ کو لینے کے لیے آگئے ہیں۔"
اتنا کہہ کر وہ لڑکی آگے بڑھ گئی جبکہ عزاہ اپنی میکسی اٹھا کر باہر جانے لگی۔ وہ جیسے ہی باہر آئی اسے شایان کی گاڑی پارلر کے گیٹ کے سامنے کھڑی ملی۔
وہ اپنی میکسی کو اٹھا کر بمشکل آگے بڑھی اور اپنے لیے بیک سیٹ کا دروازہ کھولا۔ ابھی وہ گاڑی میں بیٹھی ہی تھی کہ شایان نے گاڑی تیز رفتار میں آگے بڑھا دی۔ عزاہ آگے کی جانب کو جھکی۔ اگر اس کا ہاتھ بروقت فرنٹ سیٹ پر نہ آتا، تو اسے سر پر چوٹ لگ سکتی تھی۔ شایان کچھ بھی دیکھے بغیر ڈرائیو کیے جا رہا تھا۔ اسے بس جلد از جلد ہال پہنچنا تھا۔ اسے پیچھے بیٹھی عورت سخت زہر لگ رہی تھی۔ اگر اس کا بس چلتا تو وہ اس کا گلا دبا دیتا۔ پندرہ منٹ کا راستہ ان دونوں نے پانچ منٹ میں عبور کیا تھا۔ شایان نے ایک دم سے گاڑی روکی۔ عزاہ کو دوبارہ جھٹکا لگا۔
"گاڑی سے اترو!"
شایان نے نہایت سرد آواز میں کہا۔
عزاہ خاموشی سے اترنے لگی۔ تبھی اس کی میکسی گاڑی کے دروازے کے ہینڈل پر اٹک گئی۔ وہ میکسی چھڑوانے کے لیے دوبارہ مڑی۔
"تمہیں کہا ہے نا جلدی جاؤ۔ پتہ نہیں اس طرح کی حرکتیں کرکے تم عورتوں کو ملتا کیا ہے۔ ایسی اوچھی حرکتیں میرے ساتھ نہ کیا کرو۔"
عزاہ کے میکسی نکالتے ہاتھ رک سے گئے۔ وہ کہنا چاہتی تھی میکسی کا دروازے کے ہینڈل میں پھنسنا کونسی اوچھی حرکت تھا؟
عزاہ کچھ کہہ بھی دیتی اگر شایان کی ناراضگی کا خوف اس کے ذہن پر سوار نہ ہوتا۔ اس نے خود کو تسلی دی۔ یہ باتیں بس عالیہ کی وجہ سے کہی جا رہی ہے۔ کچھ دنوں بعد اس کا رویہ صحیح ہو جائے گا۔
عزاہ نے اس کمزور دلیل پر پورے صدق دل کے ساتھ یقین کیا اور میکسی چھڑا کر ایک طرف کھڑی ہوگئی۔ شایان گاڑی پارک کرکے اتر گیا اور سیدھا ہال کی جانب جانے لگا۔ اسے اب عزاہ کی بالکل بھی فکر نہیں تھی۔ عزاہ شایان کے برابر آنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی لیکن شایان کے قدم اس قدر تیز تھے کہ عزاہ اس کا ساتھ نہیں دیے پا رہی تھی۔ آخرکار وہ دونوں ہال پہنچ گئے۔ اب شایان کی چال نارمل ہوچکی تھی۔ عزاہ کی سانسیں بے ترتیب ہوگئی تھیں لیکن وہ ابھی ہانپ نہیں سکتی تھی کیونکہ اردگرد بہت سے لوگ بیٹھے تھے۔
وہ دونوں چلتے ہوئے سیدھا اسٹیج پر پہنچ گئے۔ زینب جو اسٹیج پر کھڑی تھیں۔ کچھ قدم آگے بڑھی اور عزاہ کے کندھے کو پکڑ کر اسے اسٹیج پر رکھے مرکزی صوفے پر بٹھا دیا۔
شایان اسٹیج پر نہیں چڑھ سکا کیونکہ اسے اس کے دوستوں نے روک لیا تھا۔ زینب کو بھی کسی عورت نے بلا لیا۔ وہ اسٹیج پر سے اتر کر اس عورت کی بات سننے لگی۔
عزاہ اسٹیج پر بالکل تنہا رہ گئی۔ اس نے اسٹیج کے سامنے کھڑے شایان کو دیکھا۔ شایان تین چار لڑکوں سے بات کرنے میں مصروف تھا۔ عزاہ کو شایان کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی مگر وہ یہاں سے شایان کی مسکراہٹ دیکھ سکتی تھی۔ وہ کافی خوش مزاجی سے بات کرتا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ کچھ دیر پہلے والے شایان سے بالکل مختلف تھا۔ کیا اسے ایسا ہی ہنستا مسکراتا انسان نہیں مل سکتا تھا؟ اللّٰہ نے آخر اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟
اس کے دل میں لاکھوں شکوے اٹھنے لگے۔ اسی وقت عزاہ نے نوال، جائی یانہ، ام ہانی اور عیسیٰ کو ہال میں داخل ہوتے دیکھا۔ اسے اشفاق کہیں بھی دکھائی نہیں دیے۔ زینب نے نوال اور ام ہانی کا بہت ٹھنڈے انداز میں استقبال دیا۔ جائی یانہ سیدھا عزاہ کے پاس اسٹیج پر گئی اور اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔
"آپ ٹھیک ہو؟"
جائی یانہ نے عزاہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"ہاں میں خوش ہوں۔ مجھے شایان مل گیا ہے۔ یہ کیا کم ہے؟"
عزاہ نے اپنے تمام شکووں کو اس وقت پس منظر میں ڈال دیا تھا۔ دل میں ایک بار پھر شایان کا بنا ہوا شاندار بت اپنے پورے رعب کے ساتھ کھڑا ہوگیا تھا۔
"میں نے آپ سے پوچھا تھا آپ ٹھیک ہو۔ خوش ناخوش ہونے کی تو بات ہی نہیں ہوئی۔"
جائی یانہ کی بات سن کر عزاہ ٹھہر سی گئی۔ کچھ پل کے لیے خاموشی قائم رہی۔ پھر عزاہ نے بات بدلتے ہوئے پوچھا۔
"بابا نہیں آئے؟"
"نہیں! ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔"
جائی یانہ نے اپنے پاؤں دیکھتے ہوئے کہا۔
"اچھا!"
عزاہ نے آہستہ سے کہا۔ وہ جانتی تھی اشفاق کو کیا بات کھائے جا رہی تھی۔ اس کے بعد عزاہ اور جائی یانہ دوبارہ خاموش ہوگئے۔
تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد جائی یانہ اسٹیج سے نیچے اتر کر اس میز پر چلی گئی، جہاں اس کی اماں بیٹھی تھیں۔
******************
رات کے سناٹے میں سڑک پر گاڑی راوں دواں تھی۔ اگر گاڑی کے اندر جھانکو، تو عالیہ اور آریان گاڑی میں بیٹھے دکھائی دے رہے تھے۔ آریان کی توجہ اس وقت سامنے سڑک پر مرکوز تھی جبکہ دوسری طرف عالیہ گاڑی کی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی۔ وہ دونوں رات کا کھانا کھا کر واپس گھر جا رہے تھے۔
اچانک موڑ کاٹتے ہوئے ان کے راستے میں میرج ہال آیا۔ عالیہ نے جب میرج ہال کی طرف دیکھا تو وہ حیران رہ گئی کیونکہ اس نے عزاہ کو دلہن کے روپ میں گاڑی میں بیٹھتے دیکھا۔ اس سے زیادہ حیرانگی اس بات پر ہوئی کہ شایان اس کے ساتھ کھڑا تھا۔ عالیہ کی گاڑی آگے چلی گئی مگر وہ گردن موڑ کر پیچھے کا منظر دیکھ رہی تھی۔ شایان بھی گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔ عالیہ کو سمجھ آگئی اس کا کیا مطلب ہے۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا عزاہ اور شایان کی شادی ہو سکتی ہے۔ اسے اس بارے میں نمرہ نے کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔ اس کا اور نمرہ کا کل صبح سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ عالیہ سارا راستہ اسی بارے میں سوچتی رہی۔ آخر شایان اور عزاہ کی شادی کیسے ہوسکتی تھی۔
گھر پہنچنے کے بعد جب آریان کپڑے تبدیل کرنے گیا تو عالیہ نے اسی وقت نمرہ کو کال ملائی۔
اگلے ہی لمحے کال اٹھا لی گئی۔
"ہیلو عالیہ! سب کچھ ٹھیک ہے نا؟"
نمرہ نے کال اٹھاتے ساتھ پوچھا۔
"تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں عزاہ اور شایان کی شادی ہوگئی ہے؟"
عالیہ نے غصے میں پوچھا۔ کچھ پل کے لیے دوسری طرف خاموشی چھائی رہی۔ پھر جذبات سے عاری آواز عالیہ کی سماعت میں گونجی۔
"تم نے بس یہی پوچھنا تھا؟"
"ہاں میں نے تم سے یہی پوچھنا ہے۔ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں عزاہ کی شادی شایان سے ہوگئی ہے۔ تم جانتی بھی ہو تمہارا بھائی کس قسم کا ہے، پھر بھی تم نے کچھ نہیں کیا۔ شایان میری بہن کا جینا دوبھر کر دے گا۔ وہ اسے طعنے دے دے کر مار دے گا۔"
عالیہ نے جذبات میں کہا۔
"کیا یہ وہی بہن نہیں ہے جس سے تم بات کرنا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔"
نمرہ کی بات سن کر عالیہ ایک پل کے لیے رک گئی۔ وہ تو عزاہ سے نفرت کرتی تھی، پھر اسے عزاہ کی اتنی فکر کیوں تھی۔
"نہیں وہ میں۔۔۔"
عالیہ نے بے ترتیب انداز میں بات کو ادھورا چھوڑ دیا۔ اب کی دفعہ نمرہ بولی تو اس کا لہجہ نرم تھا۔
"میں نے تمہیں اس لیے نہیں بتایا کہیں میری فون کال کی وجہ سے تم پکڑی نہ جاؤ اور تم بھی اپنا فون کچھ عرصے کے لیے بند رکھو بلکہ میری مانو تو نئی سم خرید لو۔ ایسا نہ ہو تمہاری غلطی کی وجہ سے تم دونوں مشکل میں پڑ جاؤ۔ اور جہاں تک عزاہ کی بات ہے تو اس سے یہ سب پوچھ کر ہوا ہے۔ وہ چاہتی تو منع کر سکتی تھی۔ تم اس کی وجہ سے خود کو الزام نہ دو۔ ویسے تمہیں بھائی اور عزاہ کی شادی کا پتہ کیسے چلا؟"
نمرہ کے پوچھنے پر عالیہ نے بتایا۔
"میں آریان کے ساتھ ڈنر کرکے واپس آ رہی تھی، تب میں نے عزاہ کو میرج ہال کے باہر شایان کی گاڑی میں بیٹھتا دیکھا۔ اس کا حلیہ بالکل دلہن جیسا تھا۔"
"!اچھا"
نمرہ نے “اچھا” کو کچھ کھینچا۔
"کسی نے تمہیں دیکھا تو نہیں نا؟"
"نہیں مجھے تو نہیں لگتا۔"
"ہمم!" نمرہ نے ہنکارا بھرا۔
"اچھا اب میں کال رکھتی ہوں۔ کہیں کوئی سن نہ لے۔"
یہ کہہ کر نمرہ نے کال کاٹ دی۔
عالیہ نے فون بند کردیا اور سنگھار میز کے پاس جاکر اپنے زیور اتارنے لگی۔
"اچھی بات ہے عزاہ کو شایان ہی سوٹ کرتا ہے۔ دونوں ایک جیسے ہی ہیں۔ میں بھی پاگل ہوں جو عزاہ کے چکروں میں نمرہ سے لڑ پڑی۔ نمرہ کو کتنا برا لگا ہوگا۔'’
عالیہ اپنے آپ کو ان سوچوں سے مطمئن کرنے لگی مگر دور کہیں اسے عزاہ کی فکر بھی ہو رہی تھی۔
****************
گھڑی کی سوئیاں رات کے ڈھائی بجا رہی تھیں۔ ایسے میں اگر عالیہ کے بیڈروم میں آؤ تو وہ اس وقت آرام سے بیڈ پر لیٹی خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔ اس نے کروٹ بدلی تو اسے محسوس ہوا کہ آریان بیڈ پر موجود نہیں ہے۔ نیند سے بھری آنکھوں سے اس نے ادھر ادھر دیکھا تو آریان اسے کہیں بھی دکھائی نہیں دیا۔ وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ ہر جانب رات کی مقدس خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کمرے سے باہر نکل کر اسے آریان کی آواز سنائی دی۔ اس نے آواز کا تعاقب کیا تو وہ آواز کچن میں سے آ رہی تھی۔
آریان کسی سے بہت غصے میں بات کر رہا تھا مگر اس کے باوجود اس کی آواز دھیمی تھی۔
عالیہ کچن کے جانب بڑھنے لگی۔ آریان کی عالیہ کی جانب پشت تھی اس لیے وہ عالیہ کی آمد سے بالکل بے خبر تھا۔ اس نے غصے میں کہا۔
”اگر اس نے یہ دیکھ لیا تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟"
تھوڑی دیر کے لیے وہ خاموش ہوگیا۔
"تم میری بات کو۔۔۔"
آریان یہ کہتے ہوئے مڑا تو اسے اپنے سامنے عالیہ دکھائی دی۔ عالیہ کو محسوس ہوا کہ آریان کے چہرے پر سے ایک سایہ ہو کر گزرا تھا۔ اس نے فوراً کال کاٹ دی۔
"تم اٹھ کیوں گئی؟"
آریان نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا۔
"اتنی رات کو کس کی کال آئی تھی؟"
عالیہ نے آریان کے سوال کو نظر انداز کر دیا۔
آریان اس کے پاس آیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے واپس بیڈ روم لے جانے لگا۔
"میرا ایک دوست ہے۔ مجھ سے ایک بات پر ناراض ہے۔ اسی بات پر ابھی میری اور اس کی لڑائی ہو رہی تھی۔"
آریان آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہا تھا۔
"اس وقت؟"
عالیہ نے آریان کا چہرہ دیکھا۔
"وہ باہر ملک رہتا ہے اس لیے ٹائمنگ کا مسئلہ ہوگیا۔"
آریان نے وضاحت دی پھر خاصے شوخ انداز میں کہا۔
"ویسے اب مجھے لگنے لگا ہے میری شادی ہوگئی ہے۔ اب تم بالکل روایتی بیوی لگ رہی ہو۔ یو نو شکی ٹائپ!"
آریان عالیہ کو لے کر کمرے کے اندر چلا گیا۔
***********************
یہ اس صبح کی بات ہے جب جائی یانہ اور نائلہ عزاہ کا ناشتہ لے کر گئی تھیں اور زینب ان دونوں سے مل لینے کے بعد باہر چلی گئی تھیں۔
زینب اپنی سیاہ آنکھوں پر کالا چشمہ لگائے اور بالوں کو ایک شال کی مدد سے چھپائے گاڑی کی پچھلی طرف بیٹھی تھیں۔ انہوں نے جاتے ہوئے شال، عینک اور پرس کمرے سے لے لیے تھے۔ ڈرائیور گاڑی کو زینب کی بتائی گئی منزل پر پہنچا رہا تھا۔
زینب کے تاثرات بالکل سپاٹ تھے۔ ان کے چہرے کا رخ کھڑکی کی جانب تھا۔ کچھ دیر بعد گاڑی رک گئی۔ زینب نے فوراً دروازہ کھولا اور تھوڑی دیر کے لیے اردگرد کا جائزہ لیا۔ ان کے سامنے ایک بڑا قبرستان تھا۔ زینب نے گردن ہلا کر ادھر ادھر دیکھا تو ان کی نگاہ ایک دوکان پر گئی جہاں بہت سے پھول رکھے ہوئے تھے۔ زینب قدم قدم چلتی دوکان کے پاس آئی اور پھولوں کی پتیوں کا تھیلا خرید کر اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
ان کے پیچھے کھڑا ڈرائیور اپنی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔ زینب نے قبرستان کا دروازہ پار کیا اور درمیان میں بنے راستے سے گزرتی ہوئی ایک قبر تک پہنچ گئی۔ زینب نے پھولوں کی پتیاں اس قبر پر ڈالیں۔ اس کے بعد دعا کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لیے۔ دعا مانگنے کے بعد وہ کچھ دیر تک یونہی کھڑی رہی۔ تھوڑی دیر بعد قبرستان کی خاموش فضاؤں میں زینب کی نم آواز گونجی۔
"جس کا ڈر تھا، وہی ہوا۔ میری سزا ختم نہیں ہوئی۔"
زینب کی آنکھوں کو کالے چشمے نے چھپایا ہوا تھا مگر چہرے کے تاثرات ایسے تھے کہ کسی بھی پل رو دیتیں۔
زینب کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ ابھری۔
"مزے کی بات بتاؤں جو آفت میرے لیے سزا ہے، وہ میرے خاندان پر آزمائش بن کر اتری ہے۔ میں پوری کوشش کروں گی اپنے خاندان کو کسی طرح اس آفت سے بچا لوں لیکن شاید دور کہیں میں جانتی ہوں یہ آفت دوبارہ نازل ہوئی ہے، تو سب کچھ برباد کرکے ہی جائے گی۔"
قبرستان میں دوبارہ خاموشی چھا گئی۔ زینب بہت دیر تک اس قبر کو تکتی رہیں۔ جب زیادہ وقت گزر گیا تو زینب نے واپسی کی راہ لی۔ قبرستان آکر ان کا دل مزید بوجھل ہو جایا کرتا تھا۔ اس مٹی میں ان کے بہت سے پیارے سوئے ہوئے تھے۔ ایک پل کے لیے وہ رکیں اور مڑ کر واپس اسی قبر کو دیکھا۔ ان کی نگاہیں قبر پر لگی تختی پر گئی۔
وہاں ایک شان سے قبر کے مالک کا نام لکھا گیا تھا۔ زینب کی نظر تین حروف سے لکھے لفظ " عمر" پر ٹھہری تھیں۔
**************