یہ بات ہے شایان اور عزاہ کے ولیمے کی رات کی۔ گھڑی کی سوئیاں بارہ بجا رہی تھیں۔ ایسے میں ہم اندھیرے میں ڈوبے ایک کمرے میں آؤ تو اس کمرے میں واحد روشنی بس کھڑکی سے آنے والی سٹریٹ پولز کی روشنی تھی۔ سانولی لڑکی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔ وہ کمبل سینے تک تانے اور دونوں ہاتھ سر کے نیچے کیے، اوپر چھت کو گھور رہی تھی۔ دن میں اتنی دیر سو جانے کے بعد جائی یانہ کو اب بالکل بھی نیند نہیں آ رہی تھی مگر اس کے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا۔ اس لیے وہ بیڈ پر لیٹی سونے کی ناکام کوشش ہی کر رہی تھی۔
نیند نہ آنے کی وجہ سے جائی یانہ کے ذہن میں لاکھوں خیالات گردش کر رہے تھے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا آخر ایک دم ان کے گھر میں یہ سب کچھ کیسے ہوگیا تھا۔
عالیہ کا یوں گھر چھوڑ کر چلے جانا، عزاہ کی شایان سے شادی، بابا کی سارے گھر سے لاتعلقی، شایان کا عزاہ سے برا برتاؤ اور سب سے بڑھ کر عزاہ کا شایان کو چاہنا یہ سب اس کی سمجھ سے بالاتر تھا۔
اگر عالیہ شایان کو ناپسند کرتی تھی، تو اس نے یہ بات بابا یا گھر کےدوسرے کسی فرد کو کیوں نہیں بتائی؟ جائی یانہ کو یاد تھا اس نے شادی سے شاید تین چار دن پہلے اپنے کمرے کی کھڑکی سے عالیہ کو شایان کی گاڑی سے اترتے دیکھا تھا۔ اگر عالیہ کو شایان اتنا ناپسند تھا تو وہ اس سے ملنے کیوں گئی تھی؟ کیا وہ شایان کو منع کرنے گئی تھی؟ اگر ہاں تو پھر شایان چپ کیوں تھا؟ ااس نے کسی کو بتایا کیوں نہیں؟
جائی یانہ کے ذہن میں اٹھتے سوالوں کا جواب فی الحال عالیہ کے سوا کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوچتے سوچتے اسے پیاس لگنے لگ گئی۔ جائی یانہ بیڈ پر سے اتری اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ کمرے کے باہر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے چلے گئے تھے۔ جائی یانہ ان ہی باتوں کو سوچتی ہوئی پانی پینے کے لیے کچن چلی گئی۔
پانی پی لینے کے بعد جائی یانہ کچن سے باہر نکل گئی اور واپس کمرے میں جانے لگی۔ راستے میں اسے کسی کے موبائل بجنے کی آواز سنائی دی۔ جائی یانہ نے آواز کا تعاقب کیا تو وہ لاؤنج میں سے آ رہی تھی۔ وہ لاؤنج میں آئی تو اسے صوفے پر رکھا اشفاق کا موبائل ملا جو اب خاموش ہوگیا تھا۔ جائی یانہ اشفاق کے موبائل کو یہاں پڑا دیکھ کر تھوڑا سا الجھی۔ بابا تو کل سے کمرے سے باہر نہیں نکلے تھے تو یہ یہاں کیسے آگیا۔ اس نے موبائل پکڑ لیا اور تھوڑی دیر دوبارہ کال آنے کا انتظار کرتی رہی لیکن جب موبائل پر کال نہ آئی تو وہ موبائل واپس صوفے پر رکھ کر جانے لگی۔ ابھی وہ ایک دو قدم صوفے سے پیچھے ہٹی تھی جب اسے کچھ یاد آیا۔
وہ مڑی اور اشفاق کا موبائل پکڑ لیا۔ اس نے موبائل کھولا اور واٹس ایپ پر گھس گئی۔ جائی یانہ موبائل کی اسکرین دیکھتے دیکھتے صوفے پر بیٹھ گئی۔
جس نمبر سے عالیہ کے نکاح نامہ کی تصویر موصول ہوئی تھی، وہ ابھی تک واٹس ایپ پر موجود تھا۔ جائی یانہ نے اس نمبر پر غور کیا۔ اس نے بارات والے دن بھی اس نمبر کو دیکھا تھا تو یہ اسے کچھ جانا پہچانا سا لگ رہا تھا اور آج بھی ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا۔ وہ بہت دیر تک نمبر کو تکتی رہی لیکن اس کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ تھک ہار کر فون کو اس کی جگہ پر رکھ کر وہ خاموشی سے واپس جانے لگ گئی لیکن اب اس کا ذہن اس نمبر کے معاملے میں الجھا ہوا تھا۔ پتہ نہیں کیوں وہ جب بھی اس نمبر کے بارے میں سوچ رہی تھی، اس کا ذہن بار بار عالیہ کے کمرے کا منظر دکھا رہا تھا۔ وہ یہی سوچتی سوچتی بیڈ پر لیٹ گئی اور کمبل کو اپنے چہرے تک اوڑھ لیا۔ اس نے مزید دھیان سے سوچنا شروع کیا۔ ایک بار پھر ذہن پر عالیہ کا کمرہ چھایا لیکن اس بار عالیہ کے موبائل کو پکڑا ہوا عکس بھی ابھرا تھا۔ اس نے عالیہ کا موبائل پکڑا ہوا تھا اور ایک شخص کی ڈی پی اسکرین پر جگمگا رہی تھی۔ یہ نمبر اشفاق کے موبائل پر موجود نمبر جیسا ہی تھا۔ شاید!!
اس نے تھوڑا اور غور کیا۔ اس شخص کے چہرے کا دھندلا سا سانچا اس کے ذہن میں ابھرا۔ اسی وقت اسے ایک شخص یاد آیا جو بالکل اسی عکس کی طرح اسے دکھائی دیتا تھا۔ جائی یانہ نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔
اس نے منٹ سے پہلے اپنا موبائل ہاتھ میں لیا اور فوراً واٹس ایپ پر بنے گروپ پر آئی جسے بی بی اے اسٹوڈنٹ لرننگ گروپ کا نام دیا گیا تھا۔ جائی یانہ عجلت میں اپنی انگلیاں اسکرین پر دبانے لگی اور اس جگہ پر آئی جہاں پر بتایا جا رہا تھا کہ کس کس نے یہ گروپ جوائن کیا ہے۔ جائی یانہ اپنی انگلی نیچے سے اوپر کرتی کچھ ڈھونڈنے میں مشغول تھی۔ اس کی نظر ایک شخص کی ڈی پی پر گئی۔ پھر نظر ڈی پی کے ساتھ موجود موبائل نمبر پر گئی۔ یہ نمبر اس نمبر سے بالکل مختلف تھا جو اس نے اشفاق کے موبائل میں دیکھا تھا لیکن اسے ابھی اسی نمبر کی تلاش تھی۔ اس نے فوراً اس پر کلک کیا اور میسج ٹائپ کرنا شروع کیا۔
"میں جائی یانہ بات کر رہی ہوں!" اس نے ساتھ ساتھ اپنا رول نمبر بھی بتایا۔
"میں نے تم سے ایک بات کرنی ہے اور وہ بھی بہت ضروری۔۔۔ تم مجھ سے کل مل سکتے ہو؟"
اس نے یہ پیغامات سینڈ کردیے اور پھر اضطرابی حالت میں اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگ گئی جو اس کے چہرے پر گر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد دوسری طرف سے میسج آیا۔
"میں آپ کو پہچان گیا ہوں۔ میں کل نہیں آ پاؤں گا۔ دو تین دن بعد میرا یونیورسٹی آنا ہوگا۔"
جائی یانہ کے چہرے پر تھوڑی سی مایوسی چھائی لیکن پھر وہ سوچ میں پڑ گئی۔
"ٹھیک ہے میں جمعہ والے دن یونیورسٹی آؤں گی۔ کیا تب تم مجھ سے بات کر سکو گے؟"
جائی یانہ نے میسج سینڈ کردیا۔ کچھ دیر بعد تھمبز اپ کا ایموجی موصول ہوا۔
جائی یانہ نے موبائل دوبارہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور کروٹ لے کر بیڈ پر لیٹ گئی۔ اب بس اسے جمعے کے دن کا انتظار تھا۔
*****************
صبح کے وقت سورج کی روشن کرنیں گرم اور پر سکون معلوم ہوتی تھی۔ سورج کی کرنوں نے زمانے پر چھائے اندھیروں کو ختم کردیا تھا مگر افسوس اس سورج میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ تاریک دلوں کو اپنی روشنی سے منور کرسکے۔
سورج کی کرنوں کا اگر تعاقب کرو، تو اس کی کرنیں زینب کے گھر کی عمارت پر پڑ کر اپنی آمد کا پیغام دے رہی تھیں۔ ہم گھر کے اندر داخل ہو تو سارا خاندان کھانے کی میز پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔
سربراہی کرسی پر زینب چائے کا کپ نزاکت سے پکڑے ہوئے تھیں۔ زینب کے ایک جانب شایان بیٹھا تھا جبکہ دوسری طرف عزاہ بیٹھی تھی۔ عزاہ اور شایان ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے تھے مگر دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے جانب نہیں دیکھ رہا تھا۔
شایان کا سارا دھیان اپنے موبائل پر تھا۔ موبائل پر نظر جمائے وہ وقفے وقفے سے چائے کے گھونٹ لے رہا تھا۔ سفید رنگ کی شرٹ پر کالا کوٹ پہنے، وہ آفس جانے کے لیے بالکل تیار تھا۔ اس کے سامنے بیٹھی عزاہ کی نظر اپنی پلیٹ پر تھی۔
عزاہ جانتی تھی شایان پھپھو کی موجودگی میں بدتمیزی نہیں کرے گا مگر پھر بھی اسے شایان سے ڈر لگنے لگ گیا تھا۔ عزاہ کے حلیے پر آؤ تو اس نے آج ہرے رنگ کا سادہ جوڑا پہن رکھا تھا۔ بالوں کو سختی سے جوڑے میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔
عزاہ بے رغبتی سے نوالے حلق سے اتار رہی تھی۔ چائے پیتی زینب کی نگاہ اچانک عزاہ کی پلیٹ پر گئی جس میں کھانا نہ ہونے کے برابر تھا۔
"عزاہ بیٹا اتنا کم کیوں کھا رہی ہو؟ اگر یہ کھانا پسند نہیں ہے تو ملازمہ سے کہہ دو وہ کچھ اور بنا دے گی۔"
شایان نے ناگواری سے عزاہ کو دیکھا اور سر جھٹک کر دوبارہ اپنے موبائل پر نگاہیں کر لیں۔ (اٹینشن سیکر!)
"نہیں پھپھو میں بس اتنا ہی کھاتی ہوں۔" عزاہ کی بات سن کر شایان جل کر رہ گیا۔ ( ڈرامے۔۔۔!)
"تمہیں اپنی خوراک بڑھانی چاہیے۔ تمہاری عمر کی لڑکیوں کی خوراک تو کافی اچھی ہوتی ہے۔" زینب نے گفتگو کو آگے بڑھانا چاہا۔
ابھی عزاہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی نمرہ بول پڑی۔
"عالیہ تو کھانے پینے کی بہت شوقین تھی۔ تم کس پر چلی گئی ہو؟" نمرہ نے یہ بات ہنستے ہوئے کہی۔ اس کی بات سن کر ہال میں موجود تمام نفوس کو سانپ سونگھ گیا۔ نمرہ نے جب سب کے چہروں پر ناگوار تاثرات دیکھے تو اس کی مسکراہٹ بھی پل بھر میں غائب ہوگئی۔ وہ سمجھ گئی اس نے غلط وقت پر غلط انسان کا حوالہ دے دیا ہے۔
زینب نے نمرہ کو تادیبی نگاہوں سے گھورا۔ عزاہ پلیٹ کی جانب جھک گئی اور شایان کے لب سختی سے بھینچ گئے۔ اس کی انگلی موبائل پر تیزی سے حرکت کرنے لگی۔ کچھ دیر بعد جب شایان نے اپنا ناشتہ مکمل کرلیا تو وہ ڈائننگ ہال سے باہر نکل گیا۔ زینب بھی ناشتہ ختم کرکے اپنی کرسی سے اٹھ گئیں۔ تبھی ان کی نظر شایان کی کرسی کے ساتھ والی کرسی پر گئی۔ اس کرسی پر جامنی رنگ کی فائل رکھی تھی۔ زینب نے آگے بڑھ کر فائل کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ یہ شایان کی فائل تھی جو وہ اپنے ساتھ ڈائننگ ہال میں لے کر آیا تھا۔
"عزاہ!! یہ شایان کی فائل ہے۔ اسے جلدی سے دے کر آجاؤ۔ ایسا نہ ہو وہ آفس کے لیے گھر سے نکل جائے۔"
عزاہ نے سر اثبات میں ہلایا اور زینب سے فائل پکڑ کر ڈائننگ ہال سے باہر نکل گئی۔ زینب جو باہر جانے والی تھیں، انہوں نے اپنا ارادہ ترک کردیا اور دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئیں۔ انہوں نے گہری نگاہوں سے نمرہ کو دیکھا جو کھانا کھانے میں مصروف دکھائی دیتی تھی۔ ماں کی نظروں کو محسوس کرکے نمرہ نے سر اٹھا کر ماں کو دیکھا۔ زینب نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے۔
"تم۔۔" اس سے پہلے زینب کچھ کہہ پاتیں نمرہ نے ان کی بات کاٹ دی۔
"میں جانتی ہوں آپ مجھے اس بات پر ڈانٹیں گی میں نے عالیہ کا ذکر بھائی اور عزاہ کے سامنے کیوں کیا۔" نمرہ تھوڑی دیر کے لیے رکی۔ " میں مانتی ہوں یہ میری غلطی ہے۔ مجھے عالیہ کا نام نہیں لینا چاہیے تھا مگر آپ یہ بھی تو دیکھیں عالیہ میری دوست ہے۔ اب اس کا نام زبان پر غلطی سے آ ہی سکتا ہے۔"
زینب نے کچھ بھی نہیں کہا۔ بس خاموش اور بے تاثر نگاہوں سے نمرہ کے چہرے کو ٹٹولتی رہی۔ نمرہ زینب کی ان نگاہوں سے گڑبڑا گئی۔
"مما آخر آپ کو ہو کیا گیا ہے؟"
زینب نے گہرا سانس لیا۔
"تم جانتی تھی نا عالیہ کسی اور کو پسند کرتی ہے؟"
الفاظ تھے یا صور، جو زینب نے نمرہ کے کانوں میں پھونکے تھے۔ اس کا چہرہ ایک پل میں فق ہوگیا۔
نہیں مجھے کیسے پتہ ہو گا۔ مما آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں؟ اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں اسے روک نہ لیتی۔" نمرہ نے ہڑبڑاہٹ کے عالم میں کمزور سی صفائی دی۔
زینب خاموشی سے نمرہ کو دیکھتی رہیں۔ ایسا لگ رہا تھا وہ نمرہ کو اندر سے باہر تک پڑھ رہی تھی۔ زینب نے پھر کوئی سوال نہ کیا۔ نمرہ نے جلدی سے اپنا ناشتہ منہ میں ٹھونسا اور ڈائننگ ہال سے باہر جانے لگی۔
زینب نے اسے پیچھے سے آواز دی۔
"نمرہ!" وہ رک گئی لیکن مڑی نہیں۔ "مجھے امید ہے تم مجھے اور اپنے بھائی کو دھوکہ نہیں دو گی۔"
نمرہ کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔ اسے ڈر تھا کہ زینب نے اب اسے دیکھا تو وہ سب کچھ جان جائیں گی۔ نمرہ کوئی جواب دیے بغیر تیز قدم اٹھا کر ہال سے باہر نکل گئی۔
نمرہ کے جانے کے بعد زینب نے سر کرسی کی پشت پر ٹکا دیا اور لمبی گہری سانسیں بھری۔
ڈائننگ ہال کو چھوڑ کر اگر پورچ میں جاتے تو شایان اپنی گاڑی کا دروازہ کھولتا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے اپنی گاڑی کا دروازہ جیسے ہی کھولا، گھر کا مرکزی دروازہ کھلا اور عزاہ بھاگتی ہوئی شایان کے پاس آئی۔ شایان کے دروازہ کھولتے ہاتھ ہوا میں معلق ہوگئے۔
"شایان آپ اپنی فائل چھوڑ گئے تھے۔" عزاہ نے ہانپتے ہوئے اپنی بات مکمل کی اور فائل والا ہاتھ شایان کی جانب بڑھایا۔
"توجہ حاصل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دینا!" شایان نے فائل پکڑتے ہوئے طنز کیا۔ عزاہ کی سنہری آنکھوں میں الجھن پھیل گئیں کیونکہ یہ بات موقع محل سے بالکل مختلف تھی۔
"جی؟" عزاہ نے نا سمجھی سے پوچھا۔
شایان عزاہ کو اب جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر پھیلی ناگواری گہری ہوتی جا رہی تھی۔
"تم کتنی بھی کوشش کرلو۔ کتنی ہی توجہ لینے کی جدوجہد کرلو، میرا دل اپنے لیے کبھی نرم نہیں کر پاؤ گی۔ اگر تم سمجھتی ہو کھانا کم کھا کر، آنکھوں میں ہر وقت آنسو لیے اور چہرے پر بارہ بجائے مجھے تم سے محبت ہو جائے گی تو یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے۔ تمہارا وجود کبھی بھی میرے لیے اہم نہیں ہو پائے گا۔۔" شایان سختی سے کہہ رہا تھا جبکہ سامنے کھڑی عزاہ کو شایان کا دماغ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔
"اپنے آپ کو اس بھول سے نکال لو کہ ماما کو اپنے ساتھ ملا کر تم مجھ پر کسی قسم کا پریشر ڈال سکتی ہو۔ میں ماما یا کسی اور کے پریشر میں آنے والا شخص نہیں ہوں۔"
یہ کہہ کر شایان گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی کو گھر کے گیٹ سے باہر نکال کر چلا ھیا۔ عزاہ بت بنی وہی کھڑی رہ گئی۔ وہ شایان کو بس فائل پکڑانے آئی تھی اور شایان نے اسے بے وجہ اتنی باتیں سنا ڈالی۔
کیا واقعی میں وہ شایان کے نزدیک اتنی کم تر تھی۔ اس کا دل ڈوبنے لگا۔ وہ بوجھل دل کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوگئی۔
**********************
"جی جی اوکے ماما!"
عالیہ کی آنکھ آریان کی آواز سے کھلی تھی۔ اس نے لیٹے ہوئے اپنا سر اوپر کیا اور آریان کو دیکھا جو سنگھار میز کے سامنے کھڑا تھا۔ کالے رنگ کی پینٹ پر نارنجی ٹی شرٹ پہنے، آریان کے دونوں ہاتھ گھڑی پہننے میں مصروف تھے۔ اس کا موبائل اس کے کندھے پر تھا جسے اس نے سر جھکا کر سنبھالا ہوا تھا۔ وہ یقیناً اپنی ماں سے بات کر رہا تھا۔
" اچھا ماما باقی باتیں آکر کروں گا۔"
آریان نے گھڑی پہن لی تو موبائل ہاتھوں میں لیا اور دوسری طرف موجود شخص کو خدا حافظ کہہ کر کال کاٹ دی۔
عالیہ اب اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔ اس کے پاؤں ابھی بھی کمبل میں چھپے تھے۔ آریان نے آئنے سے جب عالیہ کو اپنی طرف دیکھتا پایا، تو مڑے بغیر عالیہ کے عکس کو دیکھتا ہوا مسکرایا۔ آریان کچھ زیادہ ہی ہشاش بشاش دکھائی دے رہا تھا۔
عالیہ نے گلابی رنگ کا نائٹ سوٹ پہنا ہواتھا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھیں سونے کی وجہ سے سوجی ہوئی تھیں۔ وہ اس عجیب سے حلیے میں بھی پیاری لگ رہی تھی۔
"کہیں جا رہے ہو؟" عالیہ نے بھاری آواز میں کہا۔ ایسا لگتا تھا وہ بہت گہری نیند سے اٹھی تھی۔
"ہاں ماما کے پاس جا رہا ہوں۔ میں نے سوچ لیا ہے، میں آج ماما کو سب کچھ بتا دوں گا۔" آریان کی بات سن کر عالیہ کی آنکھیں کھل گئیں۔ کچھ دیر پہلے والی سستی اب ختم ہوچکی تھی۔
"تم آنٹی کو بتانے جا رہے ہو؟" عالیہ نے بات دوبارہ دہرائی۔
"ہمم اور آنٹی نہیں ماما بولو" آریان نے نرم سے انداز میں عالیہ کی تصیح کروائی۔ عالیہ نے ماتھے کو چھوا۔
"ہاں سوری!" آریان مسکرا کر رہ گیا۔ وہ اب آئنے کے سامنے کھڑا اپنے بال سیٹ کر رہا تھا۔
عالیہ کچھ دیر خالی نگاہوں سے کمبل کو گھورتی رہی۔ پھر اس نے سر اٹھا کر آریان کو دیکھا جس کے بال ابھی بھی سیٹ نہیں ہوئے تھے۔
"میں بھی تمہارے ساتھ ماما کے پاس جاؤں گی۔" عالیہ کا انداز فیصلہ کن تھا۔ آریان کے بال بناتے ہاتھ رک گئے۔
"تم بھی ساتھ چلو گی؟" آریان نے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا۔ اس نے بال سیٹ کرنا دوبارہ شروع کر دیے تھے۔
"ہاں! اگر نکاح ہم دونوں نے کیا ہے تو ناراضگی تم اکیلے کیوں برداشت کرو گے۔ میں تمہارے ساتھ جاؤں گی تاکہ ماما کو بتا سکوں ہمارا نکاح اتنی جلد بازی میں کیوں ہوا ہے۔" آریان نے برش ٹیبل پر رکھ دیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا عالیہ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ عالیہ نے آریان کے بیٹھنے کے لیے اپنے پاؤں سمیٹ لیے۔ آریان بیڈ پر بیٹھ گیا اور عالیہ کے ہاتھوں کو تھام لیا۔ اس نے سر اٹھا کر عالیہ کی سنہری آنکھوں کو دیکھا۔
"تم میرے ساتھ چلو گی یہ سن کر مجھے اچھا لگا لیکن آج میں تمہیں ساتھ لے کر نہیں جانا چاہتا۔ میں چاہتا ہوں میں ماما سے اکیلے بات کروں تاکہ ان کا رد عمل دیکھ سکوں۔ ویسے تو وہ غصہ ہی کریں گی مگر مجھے برا بھلا کہہ کر شاید ان کا غصہ جلدی اتر جائے گا لیکن اگر تم میرے ساتھ جاؤ گی تو معاملات مزید بگڑ جائیں گے۔ وہ میری بات سنے بغیر مجھے گھر سے باہر نکال دیں گی۔ آج مجھے ان سے بات کرکے دیکھنے دو۔"
عالیہ کو آریان کی بات سمجھ آگئی تھی۔ اس لیے اس نے سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دیا۔ آریان اسے دیکھ کر مسکرانے لگا۔ عالیہ کے ہاتھوں میں اس کی گرفت مزید مضبوط ہوگئی۔
"شکریہ مجھے سمجھنے کے لیے۔۔۔!"
عالیہ بھی اسے دیکھتے ہوئے مسکرا دی۔
********************
زینب کی زندگی میں شادی کے بعد ٹھہراؤ آگیا تھا۔ اس کی زندگی آرام سکون سے گزر رہی تھی۔ شادی سے پہلے وہ یہ نہیں جانتی تھی عمر کا کاروبار اسلام آباد کی بجائے کراچی میں ہے اور عمر کراچی میں ہی قیام پذیر ہے۔
شادی کے بعد زینب بھی کراچی منتقل ہوگئی۔ زینب کو اپنے سسرال والوں کی طرف سے کبھی کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں ہوا تھا۔ اس کی ساس نگینہ بیگم اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ اسلام آباد میں رہتی تھیں۔ انہوں نے روایتی ساسوں کی طرح زینب کو مشکل وقت نہیں دیا تھا۔ وہ طبیعت کی خاصی اچھی عورت تھیں۔ عمر کے باپ کا ان کی شادی سے ایک سال پہلے انتقال ہوگیا تھا۔
زینب اور عمر کراچی میں مڈل کلاس کالونی میں رہائش پذیر تھے۔ کراچی آجانے کے بعد زینب کا اپنے میکے سے رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ بس عید کے موقع پر زینب جب سسرال سے ملنے اسلام آباد آتی، تو حسن کے گھر کا چکر لگا آتی۔ اس کے چچا چچی کے گھر کا ماحول اس کے لیے پہلے جیسا ہی تھا۔ وہاں پر اس کا کافی ٹھنڈے انداز میں استقبال کیا جاتا تھا۔ پندرہ بیس منٹ کی مختصر سی ملاقات میں زینب کو اچھے سے بآور کروا دیا جاتا اسے اپنے سسرال والوں سے ہی بنا کر رکھنی ہے۔ اس کے میکے میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
عمر اس کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے۔ شادی کے چھ مہینے بعد زینب کی پریگننسی کی خوشخبری نے زینب کی زندگی میں مزید خوشیاں بھر دیں۔ عمر کی توجہ اور محبت زینب کے لیے مزید بڑھ گئی۔ اس کی ساس کو جب یہ خبر ملی تو وہ پھولے نہیں سما رہی تھیں۔ ان کا بس چلتا تو وہ اڑ کر زینب کے پاس پہنچ جاتی مگر جوڑوں کے درد کی وجہ سے کراچی کا سفر نہیں کر سکتی تھیں۔ اسی دوران زینب کو اپنے سسرال سے معلوم ہوا کہ ام ہانی کی منگنی ہوگئی ہے۔ اسے مریم یا حسن کی جانب سے ایسی کوئی خبر نہیں ملی تھی لیکن اپنے میکے کا بھرم رکھنے کے لیے سب کو یہی بتایا اسے پہلے سے معلوم تھا لیکن اپنی حالت کو دیکھتے ہوئے وہ اسلام آباد نہیں گئی۔
اس کا دل چاہا وہ فون کرکے مریم یا حسن سے شکوہ کرے لیکن پھر اس نے اپنا ارادہ ترک کردیا۔ اگر کوئی اسے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتا تھا تو اس میں اتنی عزت نفس تھی ان سے بات نہ کرے۔ زندگی اسی ڈگر پر رواں دواں تھی۔
********************
گھڑی نے دوپہر کے تین بجا دیے تھے۔ عالیہ لیونگ روم کے صوفے پر بیٹھی دیوار پر لگی ایل سی ڈی میں ڈرامے دیکھ رہی تھی۔ اس نے دونوں پاؤں صوفے کے اوپر کیے ہوئے تھے۔ وقفے وقفے سے وہ سامنے ٹیبل پر پڑے بسکٹ کو اٹھا کر کتر رہی تھی۔ ابھی ڈرامے میں کوئی اچھا سین چل رہا تھا۔ عالیہ بڑے انہماک سے ڈرامہ دیکھنے میں مگن تھی۔ اسی وقت اپارٹمنٹ کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ اس نے آگے جھک کر دروازے پر جھانکنا چاہا۔
اسے آریان لیونگ روم میں آتا دکھائی دیا۔ اس کے قدم بوجھل تھے اور چہرہ اترا ہوا تھا۔ جو مسکراہٹ عالیہ نے آریان کے گھر سے باہر نکلتے ہوئے دیکھی تھی، اب اس کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ عالیہ کچھ کچھ سمجھ گئی تھی مسئلہ کیا ہے۔ شاید اس نے خود کو اس بات کے لیے تیار کر لیا تھا۔
آریان لیونگ روم میں آیا اور عالیہ کے بالکل سامنے کھڑا ہوگیا۔ عالیہ نے آریان کی آنکھوں میں دیکھا تو اسے نمی جھلکتی ہوئی دکھائی دی۔ ایسا لگتا تھا اس نے خود کو رونے سے بمشکل روکا ہوا تھا۔
"ماما نہیں مانیں؟!" عالیہ نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔ وہ جانتی تھی اس بات کا کیا جواب ہوگا۔
آریان نے سر نفی میں ہلایا اور عالیہ کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں پر گرا کر چھپا لیا۔
"وہ مجھ سے بہت غصہ ہیں۔" آریان کی دبی ہوئی روہانسی آواز عالیہ کی سماعتوں سے گزری۔
عالیہ نے اپنے پاؤں نیچے زمین پر رکھے اور آریان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دینا چاہا۔
"تم فکر نہ کرو۔ یہ وقتی غصہ ہے۔"
آریان نے اپنا چہرہ ابھی بھی جھکایا ہوا تھا۔
"مجھے نہیں لگتا کہ یہ غصہ وقتی ہے۔ مجھے پتہ تھا ماما یہ جان کر بہت غصہ ہونگی مگر اتنا غصہ ہونگی یہ نہیں پتہ تھا۔ وہ مجھ سے سارے رشتے توڑ چکی ہیں۔"
" آخر ماما کو مجھ سے مسئلہ کیا ہے۔ کیا میں ان کے معیار پر پورا نہیں اترتی؟" عالیہ کو کبھی بھی یہ مسئلہ سمجھ نہیں آیا تھا۔
"انہیں تم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ سارا مسئلہ ان کی اپنی مرضی کی بہو لانے کی خواہش کا ہے۔ انہوں نے تو تمہارا نام بھی نہیں سنا ہے۔" آریان نے اپنا سر اٹھا کر عالیہ کو دیکھا۔ آریان کی آنکھیں اب سرخ ہو رہی تھیں اور آنکھوں کے اردگرد بھی نمی دکھائی دے رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا اس نے جھکے سر میں آنسو بہائے تھے۔
عالیہ فرش کو تکنے لگی۔ آخر گھر کے بڑوں میں اتنی انا کیوں ہوتی ہے؟ آخر کیوں ان کے نزدیک بچوں کی خوشی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے؟ جب گھر کے بڑے ضد اور انا پر آ جائیں، تو اکثر خاندان کے بٹوارے ہوتے ہیں۔
عالیہ نے ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھے رنجیدہ آریان کو دیکھا۔ اس مرد کو یوں بکھرا دیکھ کر عالیہ کے دل میں ہمیشہ ٹیسیں اٹھتی تھیں، لیکن اس وقت وہ آریان کے لیے کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
********************
جمعے کا دن
یونیورسٹی کے پر ہجوم میدان میں بیٹھی جائی یانہ لوگوں کی باتوں، خوش گپیوں اور قہقہوں کی آوازیں سن رہی تھی۔ اس کا دماغ اس وقت الجھا ہوا تھا۔ وہ یہاں پر آ تو گئی تھی مگر اب اپنا فیصلہ جلدبازی کا نتیجہ لگ رہا تھا۔ وہ بس خیال ہی خیال میں باتیں جوڑتے ہوئے کسی شخص کو یہاں کیسے بلا سکتی تھی۔
اتنے دنوں بعد یونیورسٹی آنے کے بعد اس پر پڑھائی کا بوجھ بھی بڑھ گیا تھا۔ نوال سے آج صبح یونیورسٹی جانے کی اجازت لیتے ہوئے جائی یانہ کو لگ رہا تھا نوال اس پر غصہ کریں گی مگر خلاف توقع نوال نے بالکل بھی غصہ نہیں کیا۔ ان کا پہلے جیسا غصہ اب بالکل ختم گیا تھا۔ انہوں نے بڑی آسانی سے جائی یانہ کو یونیورسٹی جانے کی اجازت دے دی۔ اشفاق کا حال ابھی تک ایسا ہی تھا۔ وہ ابھی تک آفس نہیں گئے تھے۔ اشفاق لوگوں کا سامنا کرنے سے کترا رہے تھے۔ جائی یانہ بھی آج یونیورسٹی نہ آتی اگر اسے کچھ معلومات اکھٹی نہ کرنی ہوتی۔
جائی یانہ یونیورسٹی کے آدھے وقت تک اس شخص کو ڈھونڈتی رہی لیکن اس نے تو شاید دکھائی نہ دینے کی قسم کھا لی تھی۔ جائی یانہ نے اسے کال مسیجز بھی کیے مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے جائی یانہ تھک ہار کر میدان میں آکر بیٹھ گئی۔ آج نائلہ بھی یونیورسٹی نہیں آئی تھی۔ وہ خوب بور ہو رہی تھی۔ جائی یانہ کو جب لگنے لگا وہ آج یونیورسٹی نہیں آیا ہے۔ تبھی وہ اسے دور سے آتا دکھائی دیا۔ جائی یانہ کی بھوری آنکھیں چمک اٹھیں۔
اگر جائی یانہ کی نظروں کا تعاقب کرو تو وہ قدم قدم چلتا جائی یانہ کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اس نے بھورے رنگ کی ٹی شرٹ پر نیلی پینٹ پہنی ہوئی تھی۔ اس نے ایک کندھے پر بیگ ڈالا ہوا تھا۔ اس کے بھورے گھنگھریالے بال دھوپ پڑنے کی وجہ سے سنہری دکھائی دے رہے تھے۔
وہ جائی یانہ کے سر پر کھڑا ہوگیا اور اسے ایسے دیکھنے لگا جیسے جائی یانہ سے بیٹھنے کی اجازت مانگ رہا ہو۔ جائی یانہ نے سر اٹھا کر اپنے سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھا۔ اس نے آنکھوں کو دھوپ سے بچانے کے لیے ماتھے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔
پھر جائی یانہ نے اپنا بیگ ایک سائیڈ پر رکھ دیا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ بیٹھ سکتا ہے۔
زید جائی یانہ کے بالکل سامنے بیٹھ گیا۔
"آپ نے کیوں بلایا؟" زید نے سیدھا کام کی بات پوچھی۔
"مجھے تم سے ایک شخص کے بارے میں پوچھنا ہے۔" جائی یانہ نے ہچکچاتے ہوئے اسے بتایا۔ زید نے سر کو خم دیا جیسے جائی یانہ کو آگے بتانے کا کہہ رہا ہو۔
"تمہیں یاد ہے جب ہمارے فرسٹ سمیمسٹر کا پہلا پیپر تھا۔"
"ہممم!" زید نے ہنکارا بھرا۔
"اس دن۔۔۔۔۔۔۔" زید کو اس دن کا بتاتے ہوئے جائی یانہ خود بھی اس منظر میں گم ہوگئی۔
اگر غور سے دیکھیں تو یہ یونیورسٹی کا میدان ہی تھا لیکن اس دن آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ کسی بھی وقت بارش ہو سکتی تھی۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکیں ماحول کو خوشگوار بنائے ہوئے تھے۔ ایسے میں جائی یانہ ہمیں درخت کے نیچے بیٹھی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے سامنے ایک بیگ تھا جس کے اوپر اس نے کتاب کھول کر رکھی تھی۔ وہ ابھی کچھ دیر پہلے اپنا پہلا پرچہ دے کر آئی تھی۔ اپنے ہاتھ میں سوالیہ پرچہ پکڑے وہ کتاب کھول کر دیکھ رہی تھی کہ اس کے کتنے جوابات درست اور کتنے غلط ہیں۔ وہ اپنے کام میں مصروف دکھائی دیتی تھی۔
اس کے ساتھ ایک اور لڑکی بھی بیٹھی تھی جس نے کالے رنگ کی چادر سے خود کو چھپایا ہوا تھا۔ وہ بیزاری سے جائی یانہ اور اس کے سوالیہ پرچے کو گھور رہی تھی۔
"یار مجھے پتہ ہے تمہارے سارے جواب ٹھیک ہیں پھر بلاوجہ خود کو کیوں تھکا رہی ہو؟"
"مجھے پھر بھی دیکھنا ہے کہیں میں نے کچھ غلط تو نہیں کر دیا ہے" جائی یانہ کی آنکھیں ہنوز کتاب پر تھی۔
"یوں دیکھنے سے تمہارے غلط جواب ٹھیک نہیں ہوجائیں گے۔ اس کتاب کو سائیڈ پر رکھو۔ اتنی مشکل سے تو جان چھوٹی ہے۔"
جائی یانہ نے نائلہ کو جواب دینے کے لیے سر اٹھایا مگر اس کی نظر نائلہ سے کچھ دور پیچھے کھڑے دو لوگوں پر پڑی۔ ایک شخص کی ان کی جانب پشت تھی جب کہ دوسرے کی شکل وہ بآسانی دیکھ سکتی تھی۔
ان کی جانب پشت کیے شخص کی شکل دیکھے بنا بھی جائی یانہ اسے پہچان گئی تھے۔ بھرے مجمعے میں بھی وہ اس شخص کو اس کے گھنگھریالے بالوں سے پہچان سکتی تھی۔ وہ زید تھا۔
زید کی اپنے سامنے کھڑے شخص سے خوب بحث ہو رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا سامنے والا شخص زید کو کسی بات کے لیے منا رہا تھا مگر زید سر بار بار نفی میں ہلا کر اسے منع کر رہا تھا۔ نائلہ نے جب جائی یانہ کو اپنے پیچھے دیکھتا پایا تو وہ بھی چہرہ موڑ کر پیچھے دیکھنے لگی۔ ان دونوں کی مبہم آوازیں ان تک پہنچ رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد زید غصے سے پیر پٹختا اس شخص کے سامنے سے گزر گیا۔ اس شخص نے زید کا ہاتھ پکڑ کر روکنا چاہا مگر زید نے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا اور تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ دوسرے شخص نے زید کو جاتے دیکھا۔ پھر وہ نائلہ اور جائی یانہ کے سامنے سے گزر گیا۔ اس نے ایک نظر بھی درخت کے نیچے بیٹھی لڑکیوں کو نہیں دیکھا تھا۔ جائی یانہ نے اس کے چہرے کو دیکھا۔ اس کا چہرہ کافی وجیہہ تھا۔ جائی یانہ نے کبھی اتنا حسین مرد نہیں دیکھا تھا۔ جائی یانہ کی یاداشت میں اس شخص کے چہرے کے نقش و نگار محفوظ ہوگئے تھے۔
منظر ابھر کر معدوم ہوا اور اس کے سامنے چھائی دھند ہٹ گئی۔ اب جائی یانہ کو اپنے سامنے زید بیٹھا دکھائی دے رہا تھا۔
"یہ بات بتانے کا آپ کا مقصد؟" زید نے ابرو اچکا کر پوچھا۔ جائی یانہ اپنا مقصد بتانے کے لیے موزوں الفاظ ڈھونڈنے لگ گئی۔
"وہ میری بڑی بہن اپنی شادی کے دن سے گمشدہ ہیں۔ میں ان ہی کو تلاش کر رہی ہوں۔" جائی یانہ جھجھکتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر بات بتا رہی تھی۔ اپنی بات بتاتے ہوئے وہ زید کی بجائے میدان کی گھاس کو دیکھ رہی تھی۔ "میں نے ان کے گمشدہ ہونے سے کچھ دنوں پہلے اپنی بہن کے واٹس ایپ پر ایک نمبر دیکھا تھا وہاں اسی شخص کی فوٹو ڈی پی پر لگی تھی جو تم سے بات کر رہا تھا۔" جائی یانہ نے نظریں ابھی بھی نہیں اٹھائی۔
"تو آپ کو اس پر شک ہے؟" زید نے سوچتے ہوئے کہا۔
"مجھے کسی پر شک نہیں ہے مگر مجھے اس پوری صورتحال میں اس شخص کے علاؤہ کوئی اور چیز مشکوک نہیں لگی۔" جائی یانہ نے بات سنبھالتے ہوئے کہا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اس شخص اور زید کا کیا تعلق تھا۔ اسے ڈر تھا کہیں وہ اس کا کوئی قریبی نہ نکل آئے۔
"آپ نے اپنی بہن سے پوچھا تھا اس شخص کے بارے میں؟" زید کے سوال پر جائی یانہ بولی۔
"میں نے پوچھا تھا مگر میری بہن نے بات ٹال دی۔" جائی یانہ نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔
"میں بس تم سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا وہ شخص صحیح انسان ہے۔ مطلب وہ کوئی۔۔۔" جائی یانہ نے موزوں لفظ ڈھونڈا۔ "کوئی برا انسان تو نہیں ہے نا؟"
"دیکھیں میں کچھ کہہ نہیں سکتا ہوں۔ وہ میرا کزن ہے لیکن ہم لوگوں کے درمیان عرصے سے بول چال بند ہے۔ اس دن بھی وہ اپنے ایک کام سے آیا تھا لیکن میں نے اسے منع کر دیا تھا۔"
"اچھا!" جائی یانہ نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔ "اگر یہ کچھ زیادہ ذاتی معاملہ نہیں ہے، تو کیا تم مجھے بتا سکتے ہو وہ تمہارے پاس کس کام سے آیا تھا؟"
زید نے سوچتے ہوئے جواب دیا۔
"جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے وہ کسی لڑکی کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔"
"کس لڑکی کے بارے میں؟" جائی یانہ نے فوراً پوچھا۔
"لڑکی کا نام تو اس نے مجھے نہیں بتایا لیکن وہ کہہ رہا تھا وہ لڑکی اسی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے اور وہ بی بی اے کی ہی اسٹوڈنٹ ہے۔ شاید اس نے مجھے اس لڑکی کے باپ کا نام بتایا تھا۔"
"کیا نام تھا وہ؟" جائی یانہ نے دوبارہ بے صبری سے پوچھا۔
"اب میری آپ کی طرح اتنی اچھی یاداشت نہیں ہے کہ اتنی پرانی بات یاد رکھوں لیکن ہاں اسے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا وہ اس لڑکی کے بارے میں فوراً جاننا چاہتا ہے۔"
اس کے بعد زید بولا۔
"اس سے زیادہ میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا ہوں۔ ویسے وہ ابھی تک کنوارا ہے۔ اس کی شادی نہیں ہوئی ہے۔"
"امم ہمم!" جائی یانہ نے سر اثبات میں ہلایا۔ زید اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور کچھ دیر بعد تیز جائی یانہ کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ جائی یانہ نے اپنے ہاتھ پر سر ٹکا دیا۔ زید سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ وہ زید سے ڈھیروں باتیں پوچھنا چاہتی تھی مگر پوچھ نہیں سکتی تھی۔ اس نے ڈھیر سارے مفروضے بنا لیے تھے۔ اگروہ سچے نہ ہوئے تو زید کے سامنے اس کی کیا عزت رہ جاتی؟ بس یہی سوچ کر خاموش ہوگئی۔
دوسری طرف زید اپنی کلاس لینے کے لیے یونیورسٹی کی عمارت میں داخل ہوگیا۔ لوگوں کے ہجوم سے گزرتے ہوئے اسے ایک گلٹ سا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے جائی یانہ کو ساری بات نہیں بتائی تھی۔ اس نے ایک بات جائی یانہ سے چھپا دی تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا یہی بات جاننا جائی یانہ کے لیے کتنا اہم تھا۔
*********************
عزاہ بیڈ پر پاؤں پھیلائے بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں میگزین تھا۔۔ کمرے کی کھڑکی سے نارنجی آسمان صاف دکھائی دیتا تھا۔ عزاہ کو کسی کے قدموں کی آہٹ اپنے کمرے کی طرف بڑھتی سنائی دی۔ جب دروازہ کھلا تو عزاہ نے سر اٹھایا۔ اسے زینب دروازے پر کھڑی دکھائی دیں۔ ان کے ہاتھوں میں بہت سے شاپنگ بیگز تھے۔
"میں اندر آ سکتی ہوں؟" زینب نے اجازت طلب کی۔
عزاہ نے اپنے پاؤں فوراً سمیٹے اور کھڑے ہوکر بولی۔
"جی پھپھو۔۔۔ مجھے بلا لیتیں۔"
زینب کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی بیڈ پر بیٹھ گئیں۔ انہوں نے شاپنگ بیگز بھی بیڈ پر رکھ دیے۔ ساتھ میں عزاہ کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ عزاہ ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔
"کام مجھے تھا تو سوچا خود ہی آ جاؤں۔ ویسے بھی پیاسا کنوئیں کے پاس آتا ہے۔ کنواں خود چل کر پیاسے کی پیاس بجھانے نہیں آتا۔" زینب کچھ دیر کے لیے رکی۔"میں یہاں ایک ضروری بات کرنے آئی ہوں۔ مجھے یقین ہے تم میری بات سنجیدگی سے سنو گی اور اس پر عمل کرو گی۔"
عزاہ کے چہرے پر الجھن پھیل گئی۔ ایسی کونسی بات تھی جس کے لیے پھپھو اتنی بڑی تمہید باندھ رہی تھیں۔
"میں یہاں پر آج پھپھو نہیں ساس بن کر آئی ہوں۔ میں جانتی ہوں تمہاری اور شایان کی شادی بہت عجیب حالات میں ہوئی ہے۔ تم دونوں ان سب کے لیے تیار نہیں تھے لیکن یہ سب ہوچکا ہے۔" زینب بات کرتے ہوئے اپنی نظریں فرش پر جمائے ہوئے تھیں جبکہ عزاہ ان کا چہرہ دیکھ رہی تھی جو اس وقت اسے بے تاثر دکھائی دے رہا تھا۔
"اب تم ان سب کو قبول کرلو اور ایک اچھی بیوی اور بہو کی طرح اپنی ذمہ داری سنبھال لو۔ میں جانتی ہوں تمہیں یہ سب سن کر عجیب لگ رہا ہوگا لیکن بیٹا یہی حقیقت ہے۔ اپنے اور شایان کے تعلقات کو بہتر بناؤ اور جب تک یہ بہتر نہ بن پائے، تب تک اسے ایک دوسرے کے درمیان میں رکھو۔ میاں بیوی کا رشتہ بہت نازک ہوتا ہے اور اس کو مزید نازک وہ لوگ بنا دیتے ہیں جو اس رشتے سے ناخوش ہو۔ تمہارے اور شایان کے درمیان چاہے جتنے بھی اختلافات ہو، اسے کبھی بھی دنیا کی نظروں میں نہ آنے دینا ورنہ مزاق صرف تمہارا بنے گا۔"
"میں بہت کوشش کرتی ہوں پھپھو مگر شایان کو میرے میں ذرا سی بھی دلچسپی نہیں ہے۔" عزاہ نے افسردہ لہجے میں کہا۔ زینب نے نظریں اٹھا کر اب عزاہ کو دیکھا۔ پھر اس کا کندھا تھپتھپایا۔
"شروع شروع میں ایسا ہوتا ہے بیٹا لیکن آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میرا بیٹا بہت اچھا ہے۔ بس اس کا مزاج کچھ تلخ ہے اور اس تلخی کی وجہ بچپن میں ہوئے کچھ واقعات ہیں۔"
"مجھے امید ہے تم میری باتوں پر غور کرو گی اور عمل کرو گی۔ ویسے بھی ایک عورت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ خود سے منسلک رشتوں کو آپس میں جوڑ کر رکھ سکے۔ اگر عورت چاہے تو مرد کو تھوڑی سی جدوجہد کے بعد راہ راست پر چلا دیتی ہے۔"
اس کے بعد زینب نے شاپنگ بیگز کی طرف اشارہ کیا۔
"یہ میں کچھ کپڑے تمہارے لیے خرید کر آئی ہوں۔" زینب نے ان میں سے ایک شاپنگ بیگ آگے کیا۔ " اس کو پہنو اور تیار ہو جاؤ۔ شوہروں کو سجی سنوری بیویاں اچھی لگتی ہیں۔"
اس کے بعد ان کی نظر بیڈ کی تاج کے اوپر موجود عالیہ کی تصویر پر گئی۔ ان کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔
"میں کل اسے اتروا دوں گی۔ اس کا اب یہاں کوئی کام نہیں ہے۔" زینب نے ناگوار لہجے میں کہا اور کمرے سے باہر چلی گئیں۔ پیچھے بیڈ پر بیٹھی عزاہ زینب کی باتوں کا مطلب ڈھونڈنے میں مگن تھی۔
********************
بچے کے رونے کی آواز جب کچن میں برتن دھوتی زینب کے کانوں میں پڑی، تو زینب اپنے گیلے ہاتھوں کو قمیض کے دامن سے صاف کرتی بیڈروم کی جانب بڑھی۔ بیڈروم میں داخل ہوکر زینب نے دیکھا چھ ماہ کا شایان بیڈ پر لیٹا رو رہا تھا۔ اس کی صاف رنگت رونے کی وجہ سرخ معلوم ہوتی تھی۔ اس کی سیاہ آنکھوں سے آنسو بھی نکل رہے تھے۔ زینب نے دیوار پر لگی گھڑی پر نظر دوڑائی۔ ابھی شایان کو سوئے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔ شایان کی نیند دوسرے بچوں کی نسبت کافی اچھی تھی۔ اس لیے زینب کو اس کے جلدی اٹھنے پر کچھ حیرت ہوئی۔
زینب نے شایان کو کندھے سے لگایا اور کمرے میں ٹہلنے لگ گئی۔ اگر ہم زینب اور عمر کے مشترکہ کمرے پر ایک نظر دوڑاؤ تو کمرے کی دیوایں سفید رنگ کی تھیں۔ کمرے کا فرنیچر گہرے بھورے رنگ کا تھا۔ بیڈ کے تاج کے عین اوپر عمر اور زینب کی شادی کی تصویر لگی ہوئی تھی جبکہ باقی دیواروں پر قدرتی مناظر کی تصاویر فریم میں لگی ہوئی تھیں۔ یہ ساری تصویریں زینب نے کھینچی تھیں۔ اس نے یہ تصاویر عمر کو دکھائیں عمر کو زینب کی کھینچی ہوئی تصاویر بہت پسند آئی تھیں۔ وہ یہ جان کر بڑا مرعوب ہوا کہ زینب کو اتنی اچھی فوٹوگرافی بغیر کسی تربیت کے آتی تھی۔ عمر کا ہی خیال تھا کہ زینب کو یہ تصاویر کمرے میں لگانی چاہیے۔
جب شایان چپ ہوگیا تو زینب اسے لے کر بیڈ پر بیٹھ گئی اور شایان کو اپنی گود میں لٹا دیا۔
اسی وقت بیڈ پر پڑا اس کا فون بجنا شروع ہوگیا۔ زینب نے فون اٹھا کر دیکھا۔ اس کی ساس نگینہ بیگم کال کر رہی تھیں۔
زینب نے کال اٹینڈ کی۔
"السلام علیکم امی!"
"وعلیکم السلام!" زینب کو اپنی ساس کی آواز میں خفگی جھلکتی محسوس ہوئی۔
"کیسی ہیں آپ؟" زینب نے گفتگو کو آگے بڑھانا چاہا۔
"بس ٹھیک ہوں۔ یہ بتاؤ شایان کیسا ہے؟" دوبارہ سرد لہجے میں کہا گیا۔ زینب کو حیرت ہونے لگی۔ آخر نگینہ بیگم اس کی باتوں کا اتنے اکھڑے ہوئے لہجے میں جواب کیوں دے رہی تھیں۔
"شایان ٹھیک ہے۔ ابھی سو کر جاگا ہے۔"
"اچھا!! میں نے تمہیں تمہارے بھائی کے نکاح کی مبارک باد دینے کے لیے کال کی تھی۔" اب کی بار خفگی کو چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی مگر زینب کو ان کے لہجے نے نہیں بلکہ ان کے الفاظ نے جھٹکا دیا تھا۔
"کس کا نکاح ہوا ہے؟" زینب نے اسی حیرت میں پوچھا۔
"لو بھئی تم تو انجان بن رہی ہو۔ تمہارے بھائی اشفاق کے نکاح کی بات کر رہی ہوں۔ تم تو ایسے چھپا رہی ہو جیسے پتہ نہیں ہمیں اس نکاح کا پتہ چل گیا تو ہم لوگ کیا کرلیں گے۔ ہم تمہارے سسرال والے لگتے ہیں۔ تمہارے گھر والوں کو اتنا دھیان تو رکھنا چاہیے تھا۔ نکاح میں بلائے بغیر مٹھائی دینے آگئے!" اشفاق کا نام سن کر زینب کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔
"اشفاق بھائی کا نکاح ہوگیا ہے؟" زینب بے یقینی سے چلائی۔
"کیا مطلب، تمہیں کچھ نہیں پتا ہے؟" اب کی دفعہ نگینہ بیگم بھی الجھی تھیں۔ انہوں نے تو زینب سے ابھی بہت سے گلے شکوے کرنے تھے مگر یہاں تو ان کی بہو خود اپنے میکے کی خبروں سے بے خبر تھی۔
'"امی میں سچ کہہ رہی ہوں مجھے تو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔" زینب نے اسی بے یقینی میں نگینہ بیگم کو یقین دلانا چاہا۔
"اچھا کل تمہارے چچا مٹھائی کا ڈبہ دینے آئے تھے۔ دروازے پر کھڑے کھڑے اپنی بیٹی اور تمہارے بھائی کے نکاح کی خبر سنا کر چلے گئے۔ میں نے تمہیں کال کی تاکہ پوچھوں تمہارے گھر والوں نے ہمیں کیوں نہیں بلایا مگر یہاں تو تم خود بے خبر ہو۔" زینب کا سر چکرانے لگا۔
"اچھا امی کوئی آیا ہے میں آپ سے بعد میں بات کروں گی۔" زینب نے بہانہ بنا کر کال کاٹ دی اور اپنا سر پکڑ لیا۔ زندگی میں کبھی بھی اس کے گھر والوں نے اسے نیچا دکھانے کا موقع ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔
کاش اسے یہ بات کسی اور سے پتہ چل جاتی کہ اس کے بھائی کا نکاح ہوا ہے۔ یہ سارا معاملہ اس کی ساس کے سامنے نہ کھلا ہوتا۔ نگینہ بیگم ویسے تو ایک اچھی اور سلجھی ہوئی عورت تھیں مگر رشتے میں زینب کی ساس لگتی تھیں۔ اب اس کے سسرال والے کیا سوچیں گے کہ اس کی اپنے میکے میں کیا اوقات ہے؟ بھائی کی شادی کا تو اسے ساس سے معلوم ہوا ہے۔
نگینہ بیگم اور عمر کو ہمیشہ یہی شکایت رہی تھی زینب کے گھر والے انہیں اہمیت نہیں دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ خاموشی سے یہ بات سن کر ٹال دیا کرتی تھی۔ وہ انہیں کیا بتاتی اس کا خود کا وجود اپنے گھر والوں کے لیے بے معنی ہے۔ مگر آج کہے بنا ہی سب کو معلوم ہوگیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ نگینہ بیگم یہ بات کچھ دیر میں عمر کو بھی بتا دیں گی اور پھر عمر کے آفس سے آنے کے بعد سوال جواب کا ایک نیا کٹھن مرحلہ شروع ہوگا۔
رات کے کھانے کے دوران وہی ہوا جو زینب نے سوچا تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے عمر نے اچانک اس سے پوچھا۔
"تمہارے بھائی کی شادی ہوگئی ہے؟" زینب کا دل ایک لمحے کے لیے زور سے دھڑکا۔ چاولوں سے بھرا چمچ ہوا میں معلق ہوگیا۔ زینب نے چمچ پلیٹ پر رکھ دی اور عام سے انداز میں بولی۔
"جی! آپ کو کس نے بتایا؟" زینب نے غور سے عمر کو دیکھتے ہوئے کہا۔
"امی نے بتایا تھا۔" عمر نے نوالہ چباتے ہوئے کہا۔
"اچھا!" زینب چمچ کو چاول سے بھری پلیٹ میں گھماتے کہا۔
"تمہارے چچا چچی نے ہمیں کیوں نہیں بلایا؟" عمر اب اصل موضوع پر آگیا تھا۔ زینب نے سر اٹھا کر اپنے سامنے بیٹھے مرد کو دیکھا۔ عمر کی نظریں بھی اس کی جانب تھی۔
"ان کی مرضی، وہ ہمیں بلائیں یا نہ بلائیں؟" زینب نے مضبوط لہجے میں کہا۔
"لیکن پھر بھی اشفاق کو تو تمہیں بلانا چاہیے تھا۔ آخر کو تم اس کی اکلوتی بہن ہو۔ تم دونوں کا تو خون کا رشتہ ہے۔" عمر نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پنسا لیں۔
"رشتے خون کے نہیں، دلوں کے ہوتے ہیں۔ اگر دل نہ ملے تو خون کی کوئی اوقات نہیں۔ ویسے کیا آپ اس بات پر ناراض ہیں انہوں نے آپ کو نہیں بلایا؟"
زینب نے سیدھا پوچھا ایک لمحے کے لیے عمر گڑبڑا گیا۔
"نہیں میں کیوں ناراض ہونگا۔ میں تو بس تمہارے لیے کہہ رہا تھا۔" عمر نے یہ کہہ کر دوبارہ کھانا کھانا شروع کردیا۔ زینب بھی کھانا کھانے لگ گئی۔ کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
جب زینب کو خاموشی کا وقفہ طویل ہوتا محسوس ہوا تو زینب نے عمر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
"میرے لیے آپ سے اور شایان سے بڑھ کر اور کوئی نہیں۔ آپ دونوں میرے لیے بہت اہم ہیں۔ مجھے کوئی تیسرا نہیں چاہیے۔ ہماری فیملی پرفیکٹ ہے۔" زینب کی بات سن کر عمر مسکرا دیا۔ زینب بھی مسکرا دی۔
*******************
سنگھار میز کے سامنے کھڑی عزاہ اپنے ہونٹوں پر کھلتے لال رنگ کی لپ اسٹک لگا رہی تھی۔ اگر ہم اس کا حلیہ دیکھتے تو اس نے پیلے رنگ کی فراک پہنی ہوئی تھی جو گھٹنے تک آتی تھی۔ اس کے نیچے کھلا پیلے رنگ کا ٹراؤزر پہنا ہوا تھا۔ لپ اسٹک لگانے کے بعد عزاہ نے اپنا چہرہ دیکھا جو میک اپ کرنے کے بعد ہشاش بشاش دکھائی دے رہا تھا۔ عزاہ نے اپنے بالوں کو دیکھا۔ آگے کی دو لٹوں کو چوٹی کی صورت میں باندھ کر پن کی مدد سے پیچھے کردیا تھا اور باقی کے بالوں کو کھلا چھوڑا تھا۔
پھر عزاہ نے ایک نظر دیوار پر لگی گھڑی پر ڈالی۔ شایان کے آنے کا وقت ہوچکا تھا۔ اب شایان کسی بھی وقت آ سکتا تھا۔ عزاہ کو ڈر بھی لگ رہا تھا کیونکہ پچھلی بار جب وہ تیار ہوئی تھی تو شایان نے اسے بے عزت کرکے کمرے سے باہر نکال دیا تھا لیکن وہ پھپھو کو انکار بھی نہیں کر سکتی تھی۔ وہ اس گھر میں پھپھو کی اسپورٹ کی وجہ سے ہی ٹکی ہوئی تھی۔ اگر پھپھو اس سے ناراض ہوگئی تو اس کا یہاں رہنا ناممکن ہو جائے گا۔
عزاہ پیچھے مڑی اور سنگھار میز کی ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی۔ یکدم اس کی نظر بیڈ پر رکھے شاپنگ بیگز پر گئیں جو زینب کے رکھنے کے بعد سے اب تک اسی حالت میں تھے۔ شایان نے اگر بیڈ کو یوں بکھرا دیکھا تو وہ یقیناً عزاہ سے ناخوش ہوگا۔ وہ بیڈ کی طرف بڑھی اور شاپنگ بیگز اٹھانے لگی۔ ابھی وہ شاپنگ بیگز بیڈ پر سے اٹھا رہی تھی جب اسے پورچ سے گاڑی کا ہارن بجنے کی آواز سنائی دی۔ اس کا مطلب شایان گھر پہنچ گیا تھا۔ عزاہ نے جلدی سے سارا سامان اٹھایا اوراسے کونے میں رکھی الماری میں رکھنے لگی۔ کمرے میں کسی کے داخل ہونے کی آواز سنائی دی۔ اب عزاہ نے سامان تقریباً الماری میں ٹھوسنا شروع کردیا تھا۔ سامان رکھنے کے بعد وہ سیدھی کھڑی ہوئی اور اپنے بالوں کو سیٹ کیا۔ پھر مڑ کر دیکھا۔
اس کی شایان پر نگاہ پڑی۔ وہ کچھ پل کے لیے پتھر کی بن گئی۔ اس سے کچھ دور کھڑا شایان اس کی موجودگی سے بے خبر تھا۔ اس کی نظریں اس وقت عالیہ کی تصویر پر ٹکی تھیں۔ وہ اسے کافی محویت سے گھورے جا رہا تھا۔
عزاہ نے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے گلا کھنکھارا مگر شایان ابھی بھی ساری دنیا مافیا سے بے خبر تھا۔ جانے وہ دونوں اسی حالت میں کب تک کھڑے رہتے اگر ملازمہ کمرے کا دروازہ نہ کھٹکھٹاتی۔ شایان کا دھیان فوراً تصویر پر سے ہٹا۔ اس نے ملازمہ کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
"بیگم صاحبہ آپ لوگوں کو کھانے کے لیے بلا رہی ہیں۔"
"انہیں کہو میں پانچ منٹ میں آ رہا ہوں۔"
شایان نے عام سے انداز میں کہا۔ ملازمہ نے سر ہلایا اور واپس چلی گئی۔ شایان نے ایک نظر دوبارہ عالیہ کی تصویر کو دیکھا۔ اس دفعہ تصویر کو دیکھتے ہوئے اس کی نظروں میں ملال اور حسرت شامل تھیں۔ پھر اس نے سر جھٹکا اور آگے بڑھ گیا۔
شایان نے عزاہ کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک نظر عزاہ پر ڈالی۔ عزاہ کو اس کی نظروں میں اپنے لیے اس وقت کچھ بھی محسوس نہیں ہوا۔ نہ حقارت، نہ نفرت، محبت تو بہت دور کی چیز تھی۔ شایان باتھ روم میں گھس گیا اور پیچھے کھڑی عزاہ اسے دیکھتی رہ گئی۔ پھر عزاہ کا رخ تصویر کی جانب ہوا۔ عزاہ تصویر کے بالکل سامنے کھڑی ہوگئی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ مسکراتی ہوئی عالیہ کے چہرے پر تیزاب پھینک ڈالے۔ اس کی وجہ سے شایان اس سے اتنا دور تھا۔ وہ سب کچھ تہس نہس کردینا چاہتی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جھلکے۔ شایان جیسے ہی واش روم سے نکلا عزاہ نے چہرے کا رخ موڑ لیا۔ شایان اسے نظر انداز کرتا باہر چلا گیا۔ وہ شایان کے لیے اتنا تیار ہوئی تھی مگر شایان کو تو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ کچھ دیر کی جدوجہد کے بعد جب اس نے خود پر قابو پالیا تو وہ بھی کمرے سے باہر نکل گئی۔
وہ بے دلی سے ڈائننگ ہال کی جانب بڑھی تو اسے ڈائننگ ہال کے باہر سے شایان اور زینب کی بحث کرنے کی آواز سنائی دی۔ عزاہ کے قدم خودبخود رک گئے اور اسے کے کان ان کی بحث سننے میں مبذول ہوگئے۔
"آخر تم اس لڑکی کی تصویر کمرے سے ہٹا کیوں نہیں سکتے؟" زینب کی غصے سے بھری آواز باہر سنائی دی۔
"میں کیوں اس کی تصویر کو باہر نکالوں؟" شایان بھی تنک کر بولا۔
"تمہاری شادی عزاہ سے ہوگئی ہے۔ کمرے میں عزاہ کی بجائے اس کی بہن کی تصویر دیکھ کر کوئی کیا سمجھے گا۔" زینب کو شایان پر مزید غصہ آیا۔
"کسی کو کیا مطلب کہ میرے بیڈ روم میں کیا لگا ہے؟"
"اور تمہاری بیوی! اسے اچھا لگتا ہوگا اپنے کمرے میں شوہر کی سابقہ منگیتر کی تصویر دیکھ کر، اور منگیتر بھی وہ جو اس کی سگی بہن ہے۔"
اس سے پہلے شایان کچھ بول پاتا، عزاہ تیزی سے اندر آئی اور ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھتے ہوئے بولی۔
"رہنے دیں پھپھو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔"
دونوں ماں بیٹے کی نگاہیں سنہری آنکھوں والی لڑکی پر پڑی جو اپنی کرسی کھینچ کر بیٹھ رہی تھی۔ زینب اس کی بات سن کر اسے گھورنے لگیں جبکہ شایان نے تلخی سے سر جھٹکا۔ آخر یہ لڑکی اپنے آپ کو اعلیٰ ظرف دکھا کر ثابت کیا کرنا چاہتی تھی؟
عزاہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اسے زینب کی تیز نظریں اور شایان کی تلخی محسوس ہو رہی تھی۔
اس نے سر اٹھا کر زینب اور شایان کو دیکھا۔
"دیواروں سے تصویریں کو ہٹا کر دلوں میں نقش چہروں کو نہیں مٹایا جا سکتا۔ اس لیے شایان کو جیسا اچھا لگتا ہے ویسا ہی سہی ہے۔" اس کے بعد عزاہ ان دونوں کو نظر انداز کرکے اپنی پلیٹ میں سالن ڈالنے لگ گئی۔ زینب اور شایان نے ایک نظر سامنے بیٹھی عزاہ کو دیکھا، پھر حیرانی سے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے رہ گئے۔ کچھ پل کے لیے ان کے پاس الفاظ ختم ہوگئے تھے۔ زینب اور شایان کو عزاہ کے الفاظ سے زیادہ اس کی سنہری آنکھوں میں موجود تاثرات نے مسحور کردیا تھا۔ وہ دونوں ہی اس تاثر کو سمجھنے سے عاری تھے۔
زینب نے اسی حالت میں کھانا کھانا شروع کردیا جبکہ شایان کے چہرے پر دوبارہ ناگواری چھا گئی۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے اس کا دل کبھی بھی عزاہ کے لیے نرم نہیں پڑ سکتا تھا۔ اس نے پہلے عزاہ کو دیکھا، پھر اس کی نظر عزاہ کے ساتھ بیٹھی نمرہ پر گئی جو ان سب سے بے پروا کھانا کھانے میں مگن تھی۔ شایان بھی پلیٹ پر دھیان دے کر خاموشی سے کھانا کھانے لگ گیا۔ اب ڈائننگ ہال سے بس چمچوں اور پلیٹوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھی۔
********************
اگلے دن شام کو جائی یانہ جب باہر سے اپنا کچھ ضروری سامان خرید کر گھر واپس آئی تو اسے نوال، ام ہانی اور عیسیٰ لان میں ساتھ بیٹھے دکھائی دئیے۔ جائی یانہ نے اپنا سامان کمرے میں رکھا اور ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گئی۔
وہ لان میں آکر واحد خالی کرسی پر بیٹھ گئی۔
چاروں کرسیوں کے درمیان میں میز پڑی ہوئی تھی جس پر تین کپ چائے اور درمیان میں بسکٹ پڑے ہوئے تھے۔ میز کی ایک طرف ام ہانی اور عیسیٰ جبکہ دوسری طرف نوال اور جائی یانہ بیٹھے تھے۔
"میں نے رضوان کو بول دیا ہے جتنا جلدی ہوسکے پاکستان آجائیں۔ میں نے انہیں بتا دیا ہے اگلے مہینے کی نو تاریخ طے پائی ہے۔ پھر نکاح کے اگلے دن ہماری واپسی ہے۔" ام ہانی نے اپنا پورا شیڈیول بتایا۔
جائی یانہ نے میز پر بسکٹ اٹھاتے ہوئے تجسس سے پوچھا۔
"کس کا نکاح ہونا ہے؟"
یہ بات سن کر جائی یانہ کے ساتھ بیٹھی نوال نے بے چینی سے پہلو بدلا جبکہ ام ہانی نے حیرت سے نوال کا چہرہ دیکھا۔ البتہ عیسیٰ پر سکون رہا۔
"آپ نے جائی یانہ کو بتایا نہیں۔۔" ام ہانی نے حیرت سے اپنی بڑی بہن کو دیکھا۔ نوال نے آنکھوں سے نفی کا اشارہ کیا۔ ام ہانی نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور جائی یانہ کو دیکھا۔
"ہم لوگوں نے تمہاری اور عیسیٰ کی بات پکی کردی ہے۔ نو تاریخ کو تم دونوں کا نکاح ہے۔"
"اوہ اچھا!" جائی یانہ نے بسکٹ کھاتے ہوئے بے دھیانی میں بولا لیکن جیسے ہی اسے ام ہانی کی بات کا مطلب سمجھ آیا اس کے گلے میں بسکٹ پھنس گیا۔ وہ کچھ دیر کے لیے کھانستی رہی۔ پھر بے یقینی سے ام ہانی کو دیکھا۔
"کیا؟ میرا اور عیسیٰ کا نکاح؟" جائی یانہ نے اپنے سینے پر انگلی رکھ کر ام ہانی سے تصدیق کروانا چاہی۔ ہو سکتا ہے اس نے کچھ غلط سن لیا ہو!
ام ہانی نے سنجیدہ تاثرات کے ساتھ سر اثبات میں ہلایا۔
جائی یانہ کو اپنا سر گھومتا محسوس ہوا۔ آخر یہ سب کیسے ہو سکتا تھا۔ اس نے نوال کو دیکھا جو اس سے نگاہیں چرا رہی تھیں۔ پھر اس نے عیسیٰ کو دیکھا جس کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔ اس نے نوال کو انکار کرنے کے لیے لب کھولے لیکن پھر کچھ کہے بغیر بند کر دیے۔ یہ وقت نا مناسب تھا۔ اسے کسی اور سے بات کرنا تھی۔
جائی یانہ کسی کو بھی دیکھے بغیر میز پر سے اٹھی اور گھر کے اندر چلی گئی۔ گھر کے اندر پہنچ کر اس کے قدم تیز ہوگئے۔ وہ جانتی تھی اسے کس سے بات کرنی تھی۔ وہ جلد از جلد اپنی منزل پر پہنچ جانا چاہتی تھی لیکن راستہ کچھ زیادہ ہی لمبا ہوگیا تھا۔ آخر کار وہ اپنی منزل تک پہنچ گئی۔ اس کے سامنے ایک دروازہ تھا جو ابھی بند تھا۔ جائی یانہ نے اسے کھولنے کی کوشش کی مگر وہ اندر سے بند تھا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا مگر اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔ اس نے ایک بار پھر دروازہ کھٹکھٹایا اور نم آواز میں اندر موجود شخص کو بلایا۔
"بابا!"
کچھ دیر تک سکون قائم رہا اور پھر اندر سے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس کے بعد دروازہ کھل گیا اور اشفاق دکھائی دئیے۔
ان کا حلیہ دیکھ کر کہیں سے نہیں لگتا تھا یہ وہی اشفاق تھے جو اپنی ناک پر بیٹھی مکھی کو برداشت نہیں کر پاتے تھے۔ ان کی رنگت زرد پڑی تھی۔ وہ اتنے کمزور دکھائی دے رہے تھے جیسے بہت بڑی بیماری کے بعد صحتیاب ہوئے ہو۔
اشفاق نے جائی یانہ کو اندر آنے کا راستہ دیا۔ وہ اپنے بابا کو غور سے دیکھتی اندر آگئی۔ اس نے اپنے بابا کو اتنے دنوں بعد دیکھا تھا۔ شادی کے بعد سے اشفاق اپنے کمرے میں بند تھے اور نوال نے بھی اسے اشفاق کے کمرے میں جانے سے سختی سے منع کیا تھا۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی تو اسے کمرہ بکھرا ہوا ملا۔ وہ خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اشفاق بھی دروازہ بند کرکے جائی یانہ کے ساتھ بیٹھ گئے۔ کچھ دیر خاموشی قائم رہی پھر جائی یانہ کی آواز کمرے میں گونجی۔
"بابا مجھے خالہ نے بتایا کہ اماں اور انہوں نے میری اور عیسیٰ کی۔۔۔" جائی یانہ نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
اشفاق نے جائی یانہ کو دیکھا اور کہا۔
"تمہاری خالہ نے ٹھیک کہا ہے۔ میں نے ہی ان سے بات کی تھی۔"
"وہ بابا۔۔۔!" جائی یانہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اشفاق نے اسے سنا ہی نہیں۔
"میں جانتا تھا تم جیسے ہی یہ بات سنو گی تو فوراً میرے پاس آؤ گی اور کہو گی مجھے آپ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔" جائی یانہ کے الفاظ لبوں پر دم توڑ گئے۔ اشفاق کے لہجے کا مان جائی یانہ کی زبان کو بند کروا گیا۔
"تم میری طرح حالات کی نزاکت کو سمجھو گی اور اپنے بابا کا کہنا مانو گی۔ تم اس نا فرمان کی طرح میرے فیصلے پر باغی نہیں ہوگی بلکہ کھلے دل کے ساتھ میرا کہنا مانو گی۔ تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے۔" اشفاق نے عام سے لہجے میں یہ بات کہی پھر جائی یانہ کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
"تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے نا؟"
جائی یانہ کے حلق میں آنسو کے پھندے لگنے لگے۔ یہاں آکر اس نے جو بات کہنی تھی وہ تو اب بالکل بھی نہیں کہہ سکتی تھی۔ اس لیے سر جھکا دیا۔
"مجھے بھروسہ ہے۔"
جائی یانہ نے آواز میں نمی کو چھپانے کی ناکام کوشش کی لیکن اشفاق کا اس وقت جائی یانہ کی آواز پر دھیان نہیں تھا۔ وہ تو اس وقت جائی یانہ کے الفاظ سے خوش تھے۔ اشفاق کے چہرے پر مسکراہٹ سج گئی۔ انہوں نے جائی یانہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔
"جیتی رہو۔ مجھے تم سے یہی امید تھی۔" جائی یانہ خاموشی سے کھڑی ہوگئی اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ اس نے تو سوچا تھا اس کا مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن یہاں آکر اس کا مسئلہ مزید پچیدہ ہوگیا تھا۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اپنے کمرے میں پہنچ گئی اور دروازہ بند کردیا۔ وہ بند دروازے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور سر دروازے سے لگا کر آنکھیں موند لیں۔ اس نے آنکھوں کی نمی پر جو بند باندھا تھا آنسوؤں کے ریلے نے اسے توڑ دیا تھا۔ وہ آنکھیں بند کیے آنسو بہاتی رہی۔ ساتھ ساتھ دبی دبی سسکیاں بھی کمرے میں گونج رہی تھی۔
وہ اپنے باپ کو منع کر دینا چاہتی تھی مگر اشفاق کے لہجے کا مان اس سے انکار نہیں کروا سکا۔
وہ عیسیٰ سے شادی کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی مگر حقیقت میں اکثر وہی ہوتا ہے جس کے بارے میں انسان کبھی سوچتا نہیں ہے۔ آنسو بہاتے ہوئے جائی یانہ نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ اس نے عیسیٰ سے شادی کرنی ہے یا نہیں مگر یہ بات طے تھی وہ اپنے باپ کا مان نہیں توڑے گی۔
*******************
رات کے اندھیرے میں ہم اگر اپارٹمنٹ کا کچن میں آئیں، تو اس وقت وہ روشن تھا۔ ایک لڑکی چولہے کے سامنے کھڑی چائے بنانے میں مصروف تھی۔ اس کے حلیے پر غور کریں تو اس کی آنکھیں سنہری اور رنگت اجلی تھی۔ اس نے مسٹرڈ رنگ کی شلوار قمیض پہنی تھی جس پر سیاہ دھاریاں تھیں۔ چائے پکانے کے بعد سنہری آنکھوں والی لڑکی نے چائے کپ میں ڈالی اور کپ کو تھامے کچن سے باہر چلی گئی۔ وہ چائے لے کر بیڈروم میں داخل ہوئی اور بیڈ پر بیٹھے شخص کی جانب بڑھ گئی۔ بیڈ پر بیٹھے شخص نے لڑکی پر تھکی تھکی مسکراہٹ اچھالی۔ اس شخص کے سامنے لیپ ٹاپ کھلا ہوا تھا اور اردگرد کئی فائلز بکھری تھیں۔
عالیہ نے چائے کا کپ بیڈ کے ساتھ رکھی میز پر رکھا۔ پھر اس نے آرام سے لیپ ٹاپ کی اسکرین نیچے کی جانب جھکا دی اور آریان کے ہاتھ میں موجود فائل کو بند کرکے ایک طرف رکھ دیا۔ آریان خاموشی سے عالیہ کی کاروائی دیکھ رہا تھا۔
اپنا کام کرلینے کے بعد اب عالیہ آریان کو متفکر نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ بظاہر آریان ٹھیک تھا مگر عالیہ جانتی تھی آریان اپنی ماں سے ملاقات کے بعد سے ذہنی طور پر الجھا ہوا تھا۔ وہ دونوں یوں تو معمول کے مطابق بات چیت کتے تھےمگر پہلے والا آریان کہیں کھو گیا تھا۔ آریان نے اسے کچھ دن بعد یہ بھی بتایا کہ اس کی ماں اسے عاق کرنا چاہتی تھیں مگر قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سےابھی تک کر نہیں پائی تھیں۔ وہ اس وجہ سے خاصا پریشان تھا۔
اس دن کے بعد سے ان دونوں کے درمیان آریان کی ماں کا ذکر کبھی نہیں ہوا مگر آج عالیہ نے سوچ لیا تھا وہ آریان کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا حل ضرور تلاش کرے گی۔
"تمہاری ماما سے کوئی بات ہوئی؟" اس نے بغیر کسی تمہید کے بات شروع کی۔ عالیہ نے جیسے ہی یہ بات پوچھی آریان کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ اس کے اعصاب تن سے گئے۔
"نہیں ابھی تک تو نہیں!"
آریان اب بیڈ شیٹ کو گھور کر دیکھنے لگا۔
"تمہیں نہیں لگتا ہم دونوں کو ان سے مل کر بات کرنی چاہیے؟" عالیہ نے آریان کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے کہا۔
"میں نے تمہیں ان کے غصے کے بارے میں پہلے ہی بتا دیا ہے۔ اگر تم اس وقت ان کے سامنے جاؤ گئی تو معاملات مزید خراب ہو جائیں گے۔" آریان نے یہ بات تھوڑے چڑچڑے انداز میں کی۔ شاید آریان عالیہ سے اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔
"میں پھر بھی کہوں گی آریان یوں ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھنے سے مسئلہ نہیں سلجھے گا۔ ہم دونوں کو مل کر کوئی حل تلاش کرنا چاہیے۔ آخر کو وہ تمہاری ماما۔۔۔" عالیہ کی بات آریان کی غصے سے بھری آواز نے کاٹی۔
"تمہیں کیا لگتا ہے میں نے اتنے دنوں سے کوئی حل نہیں نکالا؟" آریان بیڈ پر سے کھڑا ہوگیا اور غصے سے بولنے لگا۔ "میں نے اس بارے میں بہت سوچا ہے۔ مجھے یاد ہے وہ میری ماں ہے اور مجھے انہیں منانا ہے۔ میں تمہاری طرح اپنے ماں باپ سے لاتعلق نہیں ہوسکتا۔ میں اپنی ماں کو تمہاری طرح کسی کے پیار میں نہیں چھوڑ سکتا ہوں۔"
عالیہ کی سنہری آنکھوں میں بے یقینی در آئی مگر آریان اس وقت ہوش میں نہیں تھا۔ اس کے منہ میں جو آیا وہ بولتا چلا گیا۔
"مجھے اپنی ماں کی تم سے زیادہ فکر ہے اور میں جب بہتر سمجھوں گا، اس بارے میں ان سے بات کر لوں گا۔ تمہیں اس بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم کبھی بھی نہیں سمجھ پاؤ گی ناراض ماں باپ کی ملامتی نظروں کو جھیلنا کتنا مشکل ہے کیونکہ تم تو آرام سے میری دی ہوئی چھت کے نیچے بیٹھی ہو۔" شایان اسے سنا کر کمرے سے نکل گیا۔ جاتے جاتے وہ دروازہ زور سے بند کرنا نہیں بھولا تھا۔
بیڈ پر بیٹھی عالیہ کا وجود زلزلوں کی زد میں آگیا تھا۔ عالیہ جس کی خاطر وہ اپنا سب کچھ چھوڑ آئی تھی، وہی اتنی آسانی سے اسے گھر سے بھاگنے کا طعنہ دے کر چلا گیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ گھر سے بھاگنے کے بعد ایک عورت کو معاشرے کی حقارت بھری نگاہوں اور طعنوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے مگر وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ ان لوگوں میں وہ شخص بھی شامل ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ بھاگ کر آئی ہوتی ہے۔
عالیہ بے یقینی سے دروازے کو تکتی رہی۔ کچھ باتوں کو سن لینے لے بعد بھی آپ اسے اپنا وہم و خیال ماننا چاہتے ہیں۔ آپ اسے حقیقت تصور ہی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ بات آپ کو اس شخص نے کہی جس کے لیے آپ ساری دنیا سے لڑتے پھر رہے تھے۔ ابھی عالیہ بھی آریان کی باتوں کے سبب اسی حالت کا شکار تھی۔
****************
فجر کا وقت قضا ہوئے کافی لمحات گزر چکے تھے۔ آسمان پر صبح کی سفیدی اتر آئی تھی۔ ایسے میں ہم اگر اشفاق صاحب کے گھر میں داخل ہوکر سیدھا جائی یانہ کے کمرے میں گھسے، تو اس کا بستر سلیقے سے سمٹا ہوا تھا۔ سنگل بیڈ کے بالکل ساتھ جائے نماز بچھی ہوئی تھی۔ اس پر بیٹھی جائی یانہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھی۔ ڈوپٹہ چہرے کے چاروں گرد لپٹا ہوا تھا۔ وہ خالی الذہن اپنے اٹھے ہاتھوں کو گھورے جا رہی تھی۔ اس کی زندگی اس وقت ایک بھنور کی زد میں تھی مگر اس کا ذہن بالکل خالی تھا۔ رات سے وہ اتنا سوچ چکی تھی کہ اب مزید کچھ سوچنے کی سکت نہیں تھی۔
نماز پڑھ کر وہ کب کی فارغ ہوگئی تھی مگر اسے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا اسے دعا کیا مانگنی چاہیے۔ بعض اوقات حالات اتنے پچیدہ ہو جاتے ہیں کہ انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے اس کے حق میں اس وقت کونسی دعا بہتر ہوگی؟ وہ عیسیٰ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اپنے باپ کا دل بھی نہیں توڑ سکتی تھی۔ وہ کچھ ایسا چاہ رہی تھی کہ اس کی عیسیٰ سے شادی بھی نہ ہو اور اشفاق بھی اس سے راضی رہیں مگر ایسا ہونا اسے ایک معجزے جیسا لگ رہا تھا۔ بلآخر اس کے ہونٹ دعا مانگنے کے لیے پھرپھرائے۔
"اے اللّٰہ میں نہیں جانتی آگے کیا ہوگا، کس طرح ہوگا اور کیوں ہوگا مگر میں چاہتی ہوں جو بھی ہو سب سہی ہو۔ میں نہیں جانتی عیسیٰ کے ساتھ میرا مستقبل کیسا ہوگا مگر آپ کو سب پتہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا ہم دونوں ایک ساتھ زندگی گزار پائیں گے لیکن اگر میری شادی عیسیٰ سے نہ ہو پائی تو میرے بابا کا دل بری طرح ٹوٹ جائے گا۔ میں بس چاہتی ہوں آگے جو بھی ہو اچھے کے لیے ہو۔"
جائی یانہ نے دعا مانگنے کے بعد اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور جائے نماز اٹھا کر سمیٹنے لگی۔ پھر اس نے ڈوپٹہ اتار دیا اور یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہونے لگ گئی۔
کچھ لمحات بعد اب اگر ہم ڈائننگ ہال میں آئیں، تو وہاں پر ام ہانی، عیسیٰ اور اشفاق بیٹھے ہوئے تھے۔ آخر کار اشفاق نے خود کو کمرے سے باہر نکال لیا تھا۔ وہ آفس جانے کے لیے تیار تھے۔ نوال کچن میں موجود سب لوگوں کے لیے کھانا پکانے میں مصروف تھیں۔
ایسے میں جائی یانہ ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی۔ اس نے آج کھٹے پیلے رنگ کی قمیض پہنی ہوئی تھی جس پر نیلے رنگ کا شلوار تھی۔ بالوں کو کھلا چھوڑے اس کا نیلا ڈوپٹہ گلے میں لٹکا ہوا تھا۔
جائی یانہ نے اپنی کرسی کھینچی اور اس پر بیٹھ گئی۔ عیسیٰ نے اسے بیٹھتا دیکھ کر معنی خیز نگاہوں سے ام ہانی کو دیکھا جس پر انہوں نے گردن ہلا کر عیسیٰ کو جیسے تسلی دی تھی۔ پھر انہوں نے اپنا چہرہ اشفاق کی جانب موڑ لیا۔
"اشفاق بھائی!!"
ام ہانی کے بلانے پر اشفاق کی توجہ اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل کی بجائے ام ہانی پر مبذول ہوگئی۔ ام ہانی نے بولنا شروع کیا۔
"مجھے لگتا ہے اب جائی یانہ کو یونیورسٹی نہیں جانا چاہیے۔" جائی یانہ جو اپنی ڈبل روٹی پر جیم لگانے میں مصروف تھی، یہ بات سن کر آنکھیں پھاڑے ام ہانی کو دیکھے گئی مگر ام ہانی نے اپنی بات جاری رکھی۔ "میں نہیں چاہتی وہی کچھ دوبارہ ہو جو عالیہ کی شادی کے دوران ہو۔ ویسے بھی اب ہمارا گھر لوگوں کی نظروں میں آیا ہوا ہے۔ ایسا نہ ہو لوگوں کو مزید باتیں بنانے کا موقع ملے۔"
جائی یانہ نے جس ہاتھ سے چھری پکڑی تھی، وہ ہاتھ اتنا نیچے ہوگیا تھا کہ چھڑی پر لگی جیم میز کو گندہ کرنے لگی مگر جائی یانہ کا اس وقت سارا دھیان اشفاق کے چہرے پر تھا
اشفاق کے چہرے کے تاثرات جائی یانہ کو اپنے حق میں بہتر دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ آخر کار اشفاق نے موبائل ایک طرف رکھا اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں جوڑتے ہوئے کہا۔
"ٹھیک ہے جائی یانہ نکاح ہونے تک یونیورسٹی نہیں جائے گی!" یہ بات سن کر جائی یانہ نے احتجاج کرنے کے لیے لب کھولے لیکن عیسیٰ نے جائی یانہ کو بات کرنے کا موقع نہ دیا۔
"انکل میں چاہتا ہوں جائی یانہ اب کبھی یونیورسٹی نہ جائے۔" یہ بات سن کر جائی یانہ کا خون کھول گیا۔ اب یہ کیا بکواس ہوئی۔ "وہ پڑھ لکھ کر آخر کرے گی کیا؟ میرا بزنس اچھا ہے۔ گھر کے حالات بھی اچھے ہیں۔ مجھے ویسے بھی پڑھی لکھی لڑکیاں اچھی نہیں لگتی۔"
عیسیٰ جیسے ہی چپ ہوا ام ہانی بول پڑیں۔ جائی یانہ کو بات کرنے کا موقع جو نہیں دینا تھا۔
"صحیح کہہ رہا ہے عیسیٰ! آخر پڑھ لکھ کر عالیہ نے کیا کیا؟ جاہل لڑکیوں جیسی حرکت کی۔ پڑھائی لکھائی آج کل کی لڑکیوں کا دماغ خراب کر رہی ہے اور ہم نے کونسا اپنی بچی سے نوکری کروانی ہے۔"
"بابا! آپ مجھے جانتے ہیں میں ایسا کچھ نہیں کروں گی۔ میں اپنی حدوں کو جانتی ہوں۔ مجھے پتہ ہے۔۔۔۔"
جائی یانہ ان دونوں ماں بیٹے کو نظر انداز کرکے اپنے بابا سے بات کرنے لگ گئی۔ وہ بات کرتے ہوئے کسی قدر جھنجھلائی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ اگر اس کا بس چلتا تو وہ جس چھری سے جیم لگا رہی تھی اسی چھری سے عیسیٰ کا گلہ کاٹ دیتی۔ اشفاق نے جائی یانہ کی بات کاٹی جس کا چہرہ بولتے بولتے سرخ پڑ گیا تھا۔
"جائی یانہ مجھے عیسیٰ کی بات سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔" جائی یانہ کو لگا اس کے باپ نے اس کے چہرے پر طمانچہ مار دیا ہو۔ اس کی آنکھوں میں چھائے خوابوں کو ٹوٹنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگا۔
جائی یانہ اپنے باپ کا چہرہ دیکھتی رہی پھر اس نے عیسیٰ اور ام ہانی کا چہرہ دیکھا جن کی گردن پر سریا لگ گیا تھا۔ ان دونوں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں نے قلعہ فتح کرلیا تھا۔ جائی یانہ نے بریڈ اور جیم لگی چھری پلیٹ پر رکھ دی اور بیگ اور کتابیں لے کر پیر پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
اوپر آکر اس نے اپنا سامان غصے سے بیڈ پر پھینکا، پھر خود بھی بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گئی۔ اسے ایک کامیاب بزنس وومین بن کر بزنس کی دنیا میں چمکنا تھا اور اس کا یہ خواب عیسیٰ کی کمینگی کے ہاتھوں ٹوٹ گیا تھا۔
آخر ان سب میں اس کا قصور کیا تھا؟ بس یہی کہ وہ عالیہ کی چھوٹی بہن تھی؟ اگر جائی یانہ کو پتہ ہوتا عالیہ کی چھوٹی بہن ہونے کی اتنی بڑی سزا ملے گی تو جائی یانہ شاید اسی رات مرنا پسند کرتی جس رات عالیہ گھر چھوڑ کر گئی تھی۔ عالیہ کی اتنی سی خود غرضی نے اس کی زندگی جلا کر راکھ کر دی تھی۔ وہ باپ جو اس کے منہ سے نکلنے سے پہلے اس کی خواہش پوری کرتا تھا، اسی باپ نے آج اسے ساری دنیا کے سامنے ناقابل یقین بنا دیا تھا۔
جائی یانہ کی آنکھوں سے آنسو نکلا جو اس نے بے دردی سے رگڑا۔ جائی یانہ کو اپنا دماغ پھٹتا محسوس ہو رہا تھا۔ اسے لگا اگر اس نے اپنا مسئلہ کسی کے سامنے بیان نہ کیا تو یقیناً اس کا سر پھٹ جائے گا۔ جائی یانہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنے بیگ میں سے موبائل نکالا۔
جائی یانہ کانٹیکٹ اسکرین اسکرول کرنے لگی۔ اس کی انگلی عزاہ کا نام دیکھ کر رک گئی۔ اس نے سوچے سمجھے بنا عزاہ کو کال کردی۔
********************
عزاہ بیڈ پر بچھی بیڈ شیٹ کو ٹھیک کر رہی تھی جبکہ شایان سنگھار میز کے سامنے کھڑا، دفتر جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ دونوں کا دھیان موبائل بجنے پر ٹوٹا۔ شایان نے ایک نظر موبائل کو دیکھا اور بیزاری سے سر جھٹکا۔ شایان اپنے کوٹ کے بٹن بند کرتا باہر چلا گیا۔ عزاہ نے تاسف سے شایان کو جاتے دیکھا، پھر آگے بڑھ کر موبائل اٹھالیا۔موبائل پر جائی یانہ کا نام جگمگا رہا تھا۔ عزاہ نے کال اٹینڈ کی اور موبائل اپنے کانوں سے لگایا۔
"اتنی صبح کال کی خیریت؟" عزاہ نے سلام کے بعد سیدھا یہی سوال کیا۔
"وہ بجو۔۔" جائی یانہ کا ضبط ٹوٹ گیا اور وہ ہچکیاں لے کر رونے لگی۔
"کیا ہوا جائی یانہ تم رو کیوں رہی ہو؟" عزاہ نے پریشانی سے پوچھا۔ اس کے ذہن میں فوراً اشفاق کا خیال آیا۔ کہیں بابا کو تو کچھ۔۔۔۔ نہیں نہیں!
"وہ بابا نے میری منگنی۔۔۔عیسیٰ۔۔۔۔سے کروا دی ہے!" جائی یانہ نے ہچکیاں لیتے ہوئے عزاہ کو بتایا۔
"تو مسئلہ کیا ہے؟" عزاہ کی بات سن کر جائی یانہ نے ایک پل کے لیے رونا بند کیا۔
"میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے وہ اچھا نہیں لگتا ہے۔" جائی یانہ روہانسی آواز میں بولی۔
"تم اس لیے رو رہی ہو۔"
عزاہ سر پکڑ کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ یہاں پر مسائل کیا کم تھے جو جائی یانہ اپنا مسئلہ لے آئی تھی۔ آخر اس کا بچپنا کب ختم ہوگا!!
"جائی یانہ گھر کے حالات تمہارے سامنے ہیں اور تم ابھی بھی یہی بات لیے بیٹھی ہو کہ تمہیں کون پسند ہے اور کون نہیں۔" جائی یانہ کی آنکھوں سے نکلتے آنسو اپنی جگہ رک ہوگئے۔ آخر بجو اس کی بات سمجھ کیوں نہیں رہی تھی لیکن اس نے ہمت نہی ہاری۔
"بجو آپ نہیں جانتی عیسیٰ ایک نمبر کا گھٹیا انسان اور بد تمیز ہے۔ وہ بس مجھے نیچا دکھانا چاہتا ہے اور ہانی خالہ۔۔" جائی یانہ کی بات عزاہ نے کاٹی۔
"میں جانتی ہوں ہانی خالہ زیادہ اچھی نہیں ہیں۔ وہ ہر چیز میں نقص نکالتی ہیں۔ ساتھ ساتھ ان کے طنز بھی ختم نہیں ہوتے لیکن دیکھو اس مشکل گھڑی میں وہ تم لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور جہاں تک تم عیسیٰ کے بارے میں بتا رہی ہو، تو مجھے وہ ایسا نہیں لگتا اور اگر وہ واقعی میں ایسا لڑکا ہے تو بھی تمہیں برداشت کرنا ہوگا۔" عزاہ نے اسے سمجھانا چاہا۔ "ہمارے گھر میں جو کچھ ہوا ہے، ان سب کے بعد عیسیٰ کا رشتہ آنا نعمت سے کم نہیں ہے۔ تم نے مجھے نہیں دیکھا تھا میں کس طرح لوگوں کے سامنے پیش ہوتی تھی اور لوگوں کے تنقیدی نگاہوں سے گزرتی تھی۔ ہمارے حالات بہتر ہونے کے باوجود مجھے رد کر دیا جاتا تھا۔ مجھے تو لگتا تھا عالیہ کے جانے کے بعد تمہارے لیے رشتے آنا ناممکن ہے اور اگر کوئی آ بھی گیا تو وہ بھی نامناسب ہوگا۔ عالیہ کا گھر سے بھاگنا ہمارے لیے سب سے بڑا دھبہ ہے اور اگر کوئی اچھا رشتہ اسے نظر انداز کر بھی دے تو بھی اور بہت سے مسائل ہیں۔ اگر ہم نے عالیہ کے گھر چھوڑ کر جانے کی بات تمہارے لیے رشتے والوں سے رشتہ جوڑتے وقت چھپائی تو پھر بھی یہ بات کسی نا کسی طرح ان لوگوں تک پہنچ جائے گی اور سوچو اگر یہ باتیں تمہاری شادی کے بعد کھلی تو کیا ہوگا؟ وہ لوگ تمہارا جینا دوبھر کردیں گے۔ تمہیں اٹھتے بیٹھتے عالیہ کے نام پر طعنے دیں گے۔ تمہاری سسرال میں عزت نہ ہونے کے برابر ہو گی۔ اس لیے عیسیٰ ایک بہتر آپشن ہے۔ اس کو سب پتہ ہے گھر میں کیا ہوا تھا۔ ویسے بھی تم اپنوں میں جاؤ گی۔ اپنے اگر مارتے ہیں تو مرہم بھی لگاتے ہیں۔ اور تم نے کہا ہے نا کہ عیسیٰ تمہیں جھکانا چاہتا ہے تو جھک جاؤ۔ مردوں کو جھکی ہوئی عورت ہی تسکین دیتی ہے۔ اماں بابا کی شادی بھی اسی لیے کامیاب چلی کیونکہ اماں نے خود سے زیادہ بابا کو ترجیح دی اور ان کی ساری باتیں مانتی چلی گئیں۔ تم بھی یہی کرو۔" اسی وقت عزاہ کو کمرے کی طرف قدموں کی آہٹ بڑھتی سنائی دی۔
"اچھا میں اب بعد میں بات کرتی ہوں۔" عزاہ نے عجلت میں کہہ کر فون رکھ دیا۔ اسی وقت شایان کمرے کے اندر آیا۔
"کس سے اتنی دیر سے بات کر رہی تھی؟" عزاہ کو فون رکھتا دیکھ کر شایان نے شکی نگاہوں سے عزاہ کو دیکھا۔
"جائی یانہ سے۔ آپ خود دیکھ لیں۔" عزاہ نے اپنا فون شایان کی جانب بڑھایا۔
"کیوں کی تھی کال؟" شایان نے عزاہ کا موبائل نہیں پکڑا۔
"بس یونہی!" عزاہ نے موبائل ایک طرف رکھ دیا۔
"اچھا!" یہ کہہ کر شایان صوفے پر رکھی اپنی ضروری فائل اٹھا کر باہر چلا گیا اور عزاہ نے سکون کا سانس لیا۔
"جائی یانہ بھی نا! اتنی چھوٹی سی بات پر پریشان ہوگئی۔ عیسیٰ تو کافی اچھا انسان ہے جائی یانہ ہی کسی چھوٹی سی بات کو پکڑے ہوئے ہوگی۔"
یہ سوچ کر عزاہ بھی کمرے سے باہر چلی گئی۔
دوسری طرف جائی یانہ اپنے کمرے میں سکتے میں بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھوں میں موبائل ابھی بھی تھا لیکن اس پر گرفت کافی ہلکی ہوگئی تھی۔ عزاہ کی باتوں نے اسے بہت بری طرح سے ہلا دیا تھا۔ اس نے عزاہ سے تسلی بخش الفاظ سننے تھے مگر عزاہ نے تو۔۔۔۔۔!
عزاہ کا نظریہ بالکل صحیح تھا لیکن عزاہ یہ کیوں نہ سمجھ پائی کہ عیسیٰ بھی تو شادی کے بعد ایسا ہی کرے گا۔ بس ہانی خالہ کا "اپنا ہونا" ان کے "اچھے ہونے" کی ضمانت نہیں تھی۔ جائی یانہ نے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ وہ اس وقت ہر چیز سے منہ موڑ لینا چاہتی تھی۔
*********************
صبح سے شام ہوگئی مگر عالیہ بستر سے نہیں اٹھی۔ وہ کمبل میں منہ پر ڈال رات سے وقفے وقفے سے روئے جا رہی تھی۔ اس نے نہ ناشتہ کیا اور نہ ہی دوپہر کا کھانا کھایا۔ آریان کی باتوں نے اسے بہت برا صدمہ دیا تھا۔ وہ اس کی خاطر ہی تو سب کچھ چھوڑ کر آئی تھی اور وہ اس سے اکتا گیا تھا۔ ان چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اسے اپنا فیصلہ غلط لگنے لگ گیا تھا۔ اب اس کے نزدیک آریان پر بھروسہ کرنا اس کی سب سے بڑی حماقت تھی۔
مغرب کی اذان کی صدائیں جب ہر سو پھیلنے لگی، تو اسے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی لیکن عالیہ نے نظر انداز کردیا۔ اس نے کمبل اپنے منہ پر سے نہیں ہٹائی۔
قدموں کی آہٹ بیڈ کے قریب بڑھتی چلی گئی۔ پھر اچانک آواز آنا بند ہوگئی ۔ اگلے ہی پل کسی نے عالیہ کے اوپر سے کمبل کھینچ لی تھی۔ کمرے کی روشنی ایک دم آنکھوں میں پڑنے پر اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ اس نے کمبل کھینچنے والے کے ہاتھوں سے اپنی کمبل جارحانہ انداز میں واپس لینا چاہی اور چلائی۔
"کیا مسئلہ ہے تمہیں؟ کیوں آئے ہو میرے پاس؟ مجھے تو تمہاری یا کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے نا، جا کر ان لوگوں سے بات کرو جن کو سب کی پرواہ ہے۔"
عالیہ کے پاس جیسے ہی کمبل آئی۔ اس نے کمبل کو اپنے اوپر اوڑھنا چاہا مگر آریان نے ایک بار پھر کمبل پکڑ لی تھی۔ اب کی بار عالیہ نے کمبل کھنچی نہیں بلکہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور منہ دوسری طرف موڑ لیا۔ اس کے بال بری طرح سے بکھرے ہوئے تھے اور آنکھیں رونے کی وجہ سے سوجی ہوئی تھیں۔
آریان نے کمبل ہٹائی اور بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اس نے عالیہ کو دیکھا اور اسے غور سے دیکھتا ہوا بس اتنا کہہ پایا۔
"سوری!"
عالیہ کا پارہ تیزی سے اوپر چلا گیا۔ اس نے آریان کو دیکھا اور تیکھے انداز میں جواب دیا۔
"تم کیوں معافی مانگ رہے ہو؟ معافی تو مجھے مانگنی چاہیے۔ آخر میری وجہ سے تمہاری ماں تم سے ناراض ہوگئی۔ میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ میں تو اپنے ماں باپ کو ناراض کرکے یہاں بڑی خوشی سے تمہارے گھر میں بیٹھی ہوں۔"
عالیہ نے دوبارہ دوسری سمت دیکھنا شروع کردیا۔ آریان نے عالیہ کے ہاتھ پکڑ لیے۔ اس نے ہاتھ چھڑوانے چاہے مگر آریان نے ایسا ہونے نہ دیا۔
"میں جانتا ہوں مجھے تم سے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ میں ماما کی ناراضگی کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ سے گزر رہا تھا اور تمہاری باتوں نے مجھے مزید پریشان کردیا۔ تم اس بارے میں بات کرنا بند نہیں کر سکتی ہو؟"
عالیہ کے ماتھے پر شکنیں بڑھ گئیں۔
"تمہاری ماما کی ناراضگی کا ذکر کرکے مجھے خوشی نہیں ملتی مگر تم یہ جانتے ہو میرے ماں باپ مجھ سے ناراض ہیں اور تم نے ہی شادی سے پہلے مجھے صاف الفاظ میں بتایا تھا جب تک تمہاری ماما نہیں مانیں گی، ہم دونوں میں سے کوئی بھی میرے ماں باپ کے گھر نہیں جائے گا۔ میں اگر اپنے ماں باپ کا ذکر نہیں کرتی، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے مجھے ان کی یاد نہیں آتی ہے۔ تم تو لڑکے ہو۔ تمہاری ماں کو تمہیں معاف کرنا ہی ہوگا مگر میرے ماں باپ!؟ میرے ماں باپ مجھے زندگی بھر معاف نہیں کریں گے۔ ان کے لیے میں مرچکی ہوں مگر پھر بھی ان سے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔ میں گلٹ سے نکل جانا چاہتی ہوں۔"
عالیہ ایک دم سے پھٹ پڑی تھی۔ جو بات وہ کھل کر خود سے بھی نہیں کر پا رہی تھی، وہ بات آج وہ آریان کو سمجھا رہی تھی۔ عالیہ اسے سمجھانا چاہتی تھی ماں باپ پر محبت کو ترجیح دینا آسان نہیں ہوتا۔ وہ مجبور تھی لیکن کیا واقعی ایسے لوگ مجبور ہوتے ہیں؟؟
آریان اسے دیکھتا رہ گیا۔ پھر اس کی نظریں ندامت سے جھک گئیں۔
"مجھے اس کا احساس نہیں ہوا۔" آریان کی شرمندہ سی آواز کمرے میں گونجی۔
"تمہیں احساس ہو بھی نہیں سکتا۔ تم اپنی ماما کو کسی نہ کسی بہانے سے بار بار دیکھ سکتے ہو۔ میں ایسا نہیں کر سکتی۔ ایسا لگتا ہےان کا چہرہ دیکھے ہوئے صدیاں بیت گئے۔"
عالیہ کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا۔ اس نے آریان سے ہاتھ چھڑا لیا اور منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگ گئی۔ وہ خود کو اس وقت کے لیے کوس رہی تھی جب اس نے آریان کے ساتھ بھاگنے کا فیصلہ کیا تھا۔
آریان نے شرمندگی سے کہا۔
"میں بہت جلد ہم دونوں کے لیے ماں باپ کے گھروں کے دروازے کھول دوں گا۔ مجھے بس کچھ وقت دے دو۔" آریان اٹھ کر باہر چلا گیا جبکہ عالیہ اندر کمرے میں بیٹھی دوبارہ رونے لگ گئی۔
جلد بازی کے فیصلے بعض اوقات پچھتاوے کا باعث بن جاتے ہیں لیکن عالیہ اس وقت اتنا نہیں پچھتا رہی تھی جتنا آگے آنے والے دنوں میں پچھتانے والی تھی۔
***********************
کچھ دنوں بعد
اشفاق کے گھر میں نکاح کی تقریب کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں۔ ام ہانی نوال کو ساتھ لے کر روزانہ بازار چلی جاتیں اور ڈھیر ساری شاپنگ کرکے آتیں۔ ام ہانی اپنے اکلوتے بیٹے کے نکاح میں کسی قسم کی کمی چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں۔
آج بھی معمول کے مطابق نوال اور ام ہانی شاپنگ پر گئی تھیں۔ شاپنگ کے بعد ان دونوں کا زینب کے گھر جانے کا ارادہ تھا۔ جائی یانہ دونوں بہنوں کا منصوبہ اچھے سے جانتی تھی۔ اس لیے اسے اندازہ تھا آج ان دونوں کو آنے میں دیر ہو جائے گی۔
مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد جائی یانہ رات کے کھانے کے لیے روٹیاں پکانے لگ گئیں۔ وہ دوسری روٹی بیل رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے عیسیٰ کچن میں موجود کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر تمسخرانہ تاثرات تھے۔ جائی یانہ کے ماتھے پر شکنوں کا جال بچھ گیا۔ اس نے اپنا چہرہ آگے کی جانب موڑ لیا اور پورا دھیان روٹیاں پکانے میں لگا دیا۔
"ویسے تمہیں ابھی تک تمیز نہیں آئی ہے۔" عیسیٰ نے خود ہی گفتگو کا آغاز کیا۔ جائی یانہ نے کچھ نہیں کہا۔ عزاہ کی شادی کے بعد سے وہ دونوں پہلی دفعہ اکیلے میں بات کر رہے تھے۔
"تمہارا غرور ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔"
جائی یانہ نے عیسیٰ کی باتوں کو نظر انداز کرنا چاہا۔ وہ خاموشی سے چمٹے کی مدد سے توے پر رکھی روٹی پلٹنے لگی۔
"تمہیں کچھ اپنے بابا سے سیکھنا چاہیے۔ دیکھو اتنا سب کچھ ہونے کے بعد ان کا غرور کیسے مٹی میں ملا ہے۔ اپنی بیٹی کا رشتہ انہوں نے خود اپنے منہ سے مانگا ہے۔ جانتی ہو وہ میری ماں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کیا کہہ رہے تھے۔"عیسی کے چہرے کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا وہ اس منظر کو سوچ کر ہی خوب لطف اٹھا رہا تھا۔ "انہوں نے کہا خدا کے لیے میری جائی یانہ کی شادی اپنے بیٹے سے کروا دو۔ ہم پہلے ہی بہت مصیبتوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ میں اپنے سر پر سے یہ بوجھ بھی اتارنا چاہتا ہوں، ام ہانی!" عیسیٰ نے ہاتھ جوڑ کر اشفاق کی نقل اتاری۔ پھر خود ہی قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔۔
جائی یانہ کے لب بھینچ گئے۔ اس نے پیچھے مڑ کر عیسیٰ کو نہیں دیکھا۔ وہ جانتی تھی اگر اس نے عیسیٰ کو دیکھا تو اس کی براداشت ختم ہوجائے گی۔
دوسری طرف عیسیٰ اس قدر ہنس رہا تھا کہ اس کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا۔ اس نے اپنی انگلی سے آنکھوں کے کنارے صاف کیے اور اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے موضوع بدل دیا۔
"ویسے تمہاری بہن نے کتنے عاشق بنائے ہوئے تھے۔" وہ جائی یانہ کو چڑا رہا تھا۔ "یہ بات تو سب جانتے ہیں شایان عالیہ سے محبت کرتا تھا لیکن عالیہ کے ارادے تو کچھ اور ہی نکلے۔ شاید وہ جان گئی تھی شایان سے شادی کے بعد وہ اپنے دوسرے عاشقوں سے نہیں مل پائے گی۔ شاید اس کے عاشقوں کی جیب بھی کافی کھلی ہوگی۔" جائی یانہ کی اب بس ہوگئی۔ اس نے چمٹے کو زور سے رکھا اور پیچھے مڑ کر عیسیٰ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔ اس کا چہرہ غصے سے لال ہو چکا تھا۔
"اپنا منہ بند رکھو!" جائی یانہ زور سے چلائی۔
عیسیٰ جائی یانہ کی حالت دیکھ کر کافی محظوظ ہوا۔ اس نے دونوں ہاتھ اوپر کی طرف اٹھا لیے۔
"ٹھیک ہے! ٹھیک ہے! لگتا ہے میں نے کسی کی دم پر پاؤں رکھ دیا ہے۔ ان سب لوگوں کو چھوڑ کر اب ہم اپنی باتیں کرتے ہیں۔"
عیسیٰ کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور جائی یانہ کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
"اب ہم دونوں کا کچھ دنوں بعد نکاح ہو جائے گا اور ہم دونوں ایک مقدس رشتے میں بندھ جائیں گے لیکن کزنز ہونے کے باوجود ہم دونوں میں کوئی انڈرسٹینڈنگ نہیں ہے۔ آج میں اس لیے وقت نکال کر آیا ہوں تاکہ تم سے کھل کر باتیں کر سکوں۔" عیسیٰ کے لہجے میں چاشنی گھل گئی تھی۔
جائی یانہ سمجھ گئی عیسیٰ ایک لا علاج جانور ہے۔ وہ تیزی سے مڑی اور اپنا کام سمیٹنے لگ گئی۔ وہ عیسیٰ کی منحوس شکل سے جلد چھٹکارا چاہتی تھی۔
"ویسے اگر تم چاہو تو میں تمہاری پڑھائی دوبارہ شروع کروا سکتا ہوں۔" عیسیٰ نے جائی یانہ کو خاموش دیکھ کر بولا۔ جائی یانہ کے روٹی بیلتے ہاتھ ایک پل کے لیے رکے لیکن اگلے ہی پل وہ سر جھٹک دوبارہ کام میں مصروف ہوگئی۔
"اب اپنی پیاری سی ہونے والی بیوی کے لیے میں ایسا کر ہی سکتا ہوں۔ میں جانتا ہوں تمہیں اپنی پڑھائی کتنی عزیز ہے۔" عیسیٰ نے آخری جملے کو کافی کھینچ کر ادا کیا تھا۔ "میں تمہیں کھلے دل سے پڑھائی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دوں گا بس میری ایک شرط ہے؟ تم جاننا چاہو گی وہ کیا ہے؟"
جائی یانہ مڑی اور عیسیٰ کو دیکھا۔ اس کی سبز آنکھوں میں ابھی بھی تمسخر چھایا ہوا تھا۔ جائی یانہ نے مضبوط لہجے میں جواب دیا۔
"یہ بات تم اپنے ذہن میں اچھے سے بٹھا لو، مجھے اس وقت تمہاری اجازت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے نہ پڑھانے کا فیصلہ میرے باپ کا تھا اور اگر مجھے کسی سے اجازت مانگنی ہوگی تو ان ہی سے مانگوں گی۔ تمہاری گھٹیا شرطیں سننے میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اگر زندگی میں کبھی مجھے تمہاری شرطوں پر عمل کرنا پڑا تو سمجھ جانا وہ دن، زندگی کا آخری دن ہوگا۔"
جائی یانہ مڑ کر دوبار کام کرنے لگ گئی۔ آخر یہ روٹیاں پکنے کا نام کیوں نہیں لے رہی تھیں!!
"چچ چچ! پھر تو شادی کے بعد تمہارا ہر دن، آخری دن ہوگا۔ تمہیں تو روز مر کر جینا پڑے گا۔" عیسیٰ نے مصنوعی تاسف سے کہا۔
"کس نے کہا کہ جس دن میں نے تمہاری شرطوں کو مانا وہ دن "میری زندگی" کا آخری دن ہوگا؟" جائی یانہ نے گردن موڑ کر عیسیٰ کو دیکھا۔ اس نے "میری زندگی" پر کافی زور ڈالا تھا۔
عیسیٰ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔
جائی یانہ اسے یوں دیکھ کر مسکرائی۔ "عیسیٰ صاحب میرا ماننا ہے، جو آپ کی زندگی کو قابو کرنا چاہے، آپ اس شخص سے اسکی زندگی چھین لو۔"
عیسیٰ ایک قدم آگے بڑھا۔ اس کی آنکھوں میں چھایا تمسخر اب ختم ہوگیا تھا۔ اس کے لب اب سختی سے بھینچ چکے تھے۔
"یہی چیز! یہی چیز مجھے تمہاری بری لگتی ہے۔ آخر تمہیں کس بات کا گھمنڈ ہے؟"
عیسیٰ کی بات سن کر جائی یانہ دھیرے سے مسکرائی۔ اس دفعہ وہ مڑے بغیر کام کرتے ہوئے بولی۔
"میرے پاس لوگوں کی طرح سیاہ دل نہیں ہیں اور اپنے احسان کرنے والوں کو میں ساری عمر یاد رکھتی ہوں۔ بس اسی بات کا گھمنڈ ہے۔"
"تمہاری ساری اکڑ شادی کے بعد میں نکال دوں گا۔ یاد رکھنا!"
عیسیٰ نے الفاظ چبا چبا کر ادا کیے۔ جائی یانہ نے اپنی آخری روٹی توے سے اٹھا کر ہاٹ پاٹ میں رکھی اور چولہے کی آنچ کو بجھا دی۔ اس نے مڑ کر اپنے سامنے کھڑے عیسیٰ کو پر سکون انداز میں دیکھا۔
"چلو ٹھیک ہے تو اس معاملے پر شادی کے بعد ہی دیکھیں گے۔ تب تک اپنی گھمنڈی کزن کو برداشت کرو۔" جائی یانہ نے "شادی کے بعد" کے الفاظ پر کافی زور دیا تھا اور عیسیٰ کو وہی چھوڑ کر کچن سے باہر نکل گئی۔
عیسیٰ جائی یانہ کو تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی۔ پھر اس نے غصے سے کرسی کو لات مار کر گرا دیا۔
"بس کچھ دن اور، پھر دیکھنا میں تمہارا کیا حال کروں گا۔" عیسیٰ نے یہ سوچ کر خود کو تسلی دی جبکہ جائی یانہ اپنے کمرے میں پہنچ چکی تھی۔ اس نے دروازے کو کنڈی لگ دی اور کمرے کا چکر کاٹنے لگی۔ کچن میں کھڑی پرسکون جائی یانہ کے مقابلے میں یہ جائی یانہ کافی بے چین تھی۔ اس نے عیسیٰ سے یہ سب کہہ تو دیا تھا لیکن اب اسے ڈر لگ رہا تھا۔ اگر عیسیٰ نے اشفاق یا نوال کو جائی یانہ کی شکایت لگا دی تو وہ دونوں جائی یانہ کو عیسیٰ سے معافی مانگنے کا کہیں گے۔ ویسے بھی آج کل عیسیٰ ان دونوں کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا تھا۔ اب اتنا بول کر معافی مانگنے کا خیال اسے گڑھوں پانی میں ڈبو رہا تھا۔
********************
زینب کے گھر میں آج خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ گھر میں باتوں اور قہقہوں کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ ڈرائنگ روم میں اگر جھانکو، تو وہاں پر ام ہانی، نوال اور زینب محفل جمائے بیٹھی تھیں۔ میز پر بہت سے شاپنگ بیگز رکھے ہوئے تھے۔ نوال اور ام ہانی اپنی چیزیں نکال کر زینب کو دکھا رہی تھیں۔ زینب ان کی شاپنگ کو دیکھتیں اور اس پر تبصرہ کر دیتیں۔ آج زینب کی روایتی حریف ام ہانی کافی اچھے سے زینب سے بات کر رہی تھی لیکن یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ اسے آپ رشتے داروں کا معمول کا رویہ سمجھ سکتے ہیں۔ کبھی کبھار اتنے اچھے کے ان سے اچھا کوئی نہیں اور کبھی اتنے برے کے ان سے برا کوئی نہیں۔۔۔
اسی پل عزاہ ملازمہ کے ساتھ چائے اور دوسرے لوازمات کی ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے نیلے اور نارنجی رنگ کے ملاپ کی قمیض پہنی ہوئی تھی۔ اس پر ہلکی سی کڑاہی بھی کی گئی تھی۔ اس نے نارنجی رنگ کی شلوار اور نیلے رنگ کا دوپٹہ پہنا ہوا تھا۔
کھانے کی ٹرے رکھ کر عزاہ بھی ان لوگوں کے ساتھ مل کر شاپنگ دیکھنے لگ گئی۔ کچھ دیر بعد شایان بھی گھر آگیا۔ ڈرائنگ روم سے آتی آوازوں اور گھر میں چہل پہل دیکھ کر شایان سمجھ گیا کوئی مہمان آیا ہوا ہے۔ وہ سیدھا ڈارئنگ روم میں آگیا۔
اس نے نوال اور ام ہانی کو دیکھ کر اونچی آواز میں سلام کیا۔
"السلام وعلیکم!"
نوال اور ام ہانی نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ شایان ان لوگوں سے کچھ دور رکھے صوفے پر بیٹھ گیا اور موبائل استعمال کرنے لگ گیا۔
نوال نے شایان کو خوشخبری سنانا چاہی۔
"شایان بیٹا ہم نے جائی یانہ اور عیسیٰ کی بات پکی کردی ہے۔ اگلے مہینے کی نو تاریخ کو عیسیٰ اور جائی یانہ کا نکاح ہے۔"
" آپ کو مبارک ہو" شایان موبائل کی اسکرین کو دیکھتے ہوئے ٹھنڈے انداز میں مبارک باد دی۔ اسے جائی یانہ اور عیسیٰ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
"خیر مبارک!" نوال نے جواب دیا۔
"گھر میں تقریب ہے، تو اس لیے کام بھی بڑھ گیا ہے۔ کوئی مدد کروانے والا بھی نہیں ہے۔ اس لیے ہم لوگ چاہتے تھے اگر عزاہ کچھ دنوں کے لیے ہمارے گھر رہنے آ جائے۔" شایان نے اب اپنی نظریں موبائل سے ہٹا کر اپنی ممانی کے چہرے پر جما دی۔ نوال بولتء چلی گئیں۔
"ہم نے زینب سے بات کرلی ہے۔ اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بس اب تمہاری اجازت کی ضرورت ہے۔ اگر عزاہ ہمارے گھر آجائے گی تو ہمارا بوجھ کم ہو جائے گا۔"
نوال امید بھری نگاہوں سے شایان کو دیکھ رہی تھیں۔ شایان نے موبائل جیب میں رکھا اور سیدھا بیٹھ گیا۔
"دیکھیں ممانی مجھے نہیں لگتا عزاہ کو آپ کے ساتھ جانا چاہیے۔" شایان نے یہ بات چبا چبا کر کہی۔ کمرے میں ایک دم سے تناؤ چھا گیا۔ سب نے اپنے بدلے۔ نوال کا چہرہ فق ہوگیا۔ زینب نے شایان کو تادیبی نظروں سے گھورا مگر شایان ابھی اپنی ماں کی طرف متوجہ نہ تھا۔
ام ہانی نے بات سنبھالنا چاہی۔
"لیکن بیٹا ہم لوگوں نے تو بس اسی لیے کہا کہ ہماری کچھ سہولت ہو جائے گی۔ ویسے بھی عزاہ شادی کے بعد ہمارے گھر رکنے نہیں آئی۔"
شایان اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
"عزاہ کو اگر آپ اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتے ہیں تو شوق سے لے جائیں لیکن پھر اسے دوبارہ یہاں بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ اگر آپ اسے دو تین گھنٹوں کے لیے لے کر جانا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے اور جہاں تک بات مدد کروانے کی ہے، تو مجھے لگتا ہے جائی یانہ کی عزاہ کے علاؤہ بھی ایک بڑی بہن ہے۔ آپ لوگوں کو اسے ڈھونڈ کر کام کرانے کے لیے لے آنا چاہیے۔"
شایان یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ اس کی بات سن کر سب کو سانپ سونگھ گیا۔ عزاہ کو اپنی ماں اور خالہ کا اترا ہوا چہرہ بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا لیکن وہ شایان کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔ شایان اس سے مزید ناراض ہوجاتا۔ اس وقت شایان کی ناراضگی اپنے گھر والوں کی بے عزتی سے زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔
********************
جائی یانہ کی توقع کے بر عکس اس کی ماں اور خالہ کچھ جلدی آگئے تھے۔ نوال کا چہرہ پیلا دکھائی دیتا تھا جبکہ ام ہانی معمول سے زیادہ چڑچڑی دکھائی دے رہی تھیں۔
جب جائی یانہ ان لوگوں کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھی تو اسے معلوم ہوا کہ شایان نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی تھی اور ساتھ ساتھ عالیہ کے گھر چھوڑ کے جانے کا طعنہ بھی دیا تھا۔ اس لیے دونوں بہنیں خاصی اداس تھیں۔
ام ہانی اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھی ۔
"آخر اس کی ہمت کیسے ہوئی ہم سے بدتمیزی کرنے کی؟ آپ کو اسی وقت اس کے منہ پر تھپڑ رسید کردینا چاہیے تھا۔ ابھی تو اس نے ہمارے سامنے اتنی بدتمیزی کی ہے، پتہ نہیں ہمارے پیچھے سے وہ عزاہ کے ساتھ کیا کیا کرتا ہوگا۔"
نوال خاموشی سے اس کی باتیں سن رہی تھیں۔ ان کی نگاہیں فرش پر موجود قالین پر ٹکی تھیں۔ جائی یانہ کو پس منظر سے اشفاق کی گاڑی کا ہارن بجتا محسوس ہوا مگر ہانی خالہ نے بات ختم کرنے کی بجائے مزید اونچی آواز میں کہنا شروع کر دی۔
"اور آپ نے زینب کو دیکھا تھا کس طرح میسنی بن کر ہماری بے عزتی ہوتی دیکھ رہی تھی۔ اس کو تو چاہیے تھا اپنے بیٹے کو اسی وقت ڈانٹ کر چپ کروا دے لیکن نہیں وہ کیوں کچھ بولتی۔ مجھے تو لگتا ہے شایان نے اس کی شہ پر ہم سے بدتمیزی کی ہے۔ اگر اس کی جگہ میں ہوتی تو اپنے عیسیٰ کا منہ تھپڑوں سے لال کردیتی۔ آخر اس کی ہمت کیسے ہوئی اپنی خالہ سے ایسے بات کرنے کی لیکن میرا عیسیٰ ماشاءاللہ سے خود ہی سمجھدار ہے۔" جائی یانہ نے یہ سن کر اپنی آنکھیں گھمائیں۔ اسی وقت اشفاق بھی آگئے۔ وہ ام ہانی کی اونچی آواز سن کر خاصے پریشان دکھائی دے رہے تھے۔
"کیا ہوا ام ہانی؟ تم اتنے غصے میں دکھائی کیوں دے رہی ہو؟" اشفاق نے سنگل صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ ان کے سوال نے ام ہانی کو یہ بات بتانے کا بہترین موقع دے دیا۔ ام ہانی شروع ہوگئیں اور شایان کی باتوں کو خوب نمک مرچ لگا کر اشفاق کے سامنے پیش کردیا۔ ساری باتیں بتانے کے بعد وہ بولیں۔
"اشفاق بھائی میں تو کہتی ہوں ابھی چل کر اپنی بیٹی کو گھر لے آتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں عزاہ کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ آخر شایان کو بھی تو پتہ چلے ہماری بیٹی لاوارث نہیں ہے۔ وہ سوچتا کیا ہے ہم لوگ اتنے گرے پڑے ہیں جو اپنی بیٹی کا بوجھ اٹھا نہیں پائیں گے؟"
ام ہانی کی بات سن کر اشفاق نے دھیمی مگر اٹل آواز میں جواب دیا۔
"نہیں ام ہانی میں عزاہ کو واپس نہیں لاؤں گا۔" ام ہانی نے یہ سن کر اشفاق کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھا جبکہ نوال نے سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی دونوں آنکھوں کے کناروں پر رکھ دی اور چہرہ جھکا دیا۔
"عزاہ کو وہی رہنا ہے۔ آپ لوگ بھی وہاں زیادہ نہ جایا کریں۔ وہ اس کا گھر ہے۔ وہ خود ہی ان تمام معاملات کو سنبھال لے گی اور جہاں تک بیٹیوں کا معاملہ ہے تو بیٹیاں بوجھ ہی ہوتی ہیں اور طلاق یافتہ بیٹی بوجھ ہونے کے ساتھ ساتھ دھبہ بن جاتی ہے۔" یہ کہہ کر اشفاق کھڑے ہوگئے اور باہر چلے گئے۔
جائی یانہ نے باپ کو جاتے دیکھا۔ آخر بابا کو اپنی عزت اتنی پیاری کیوں تھی۔ وہ کیوں ہر دفعہ عزت کو خونی رشتوں پر ترجیح دیتے تھے۔ انہیں اپنی بیٹی کا دکھ کیوں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ شایان بھائی بجو کی کس طرح بے عزتی کرتے تھے، وہ جائی یانہ ان کی شادی کے پہلے دن ہی دیکھ چکی تھی۔ اس لیے اسے زینب اور نوال کی باتوں نے دھچکا نہیں دیا تھا۔
جائی یانہ کی سوچ کا تسلسل نوال کی سسکیوں نے توڑا۔ اس نے دروازے سے نگاہ ہٹا کر ماں کو دیکھا تو وہ سسکیاں لے لے کر رو رہی تھیں۔ ام ہانی اپنی جگہ سے کھڑی ہوکر نوال کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں حوصلہ دینے لگ گئی۔ ان کی آنکھوں میں بھی نمی اتر آئی تھی۔
"جائی یانہ جا کر ماں کے لیے پانی لے کر آؤ۔" ام ہانی نے نم آواز میں جائی یانہ کو حکم دیا۔ جائی یانہ نے گردن اثبات میں ہلائی اور پانی لینے کے لیے چل دی۔
********************
"شایان اب تمہیں گھر آئے مہمانوں سے بات کرنے کی تمیز بھی بھول گئی ہے۔"
زینب اپنے کمرے میں موجود، اپنے سامنے کھڑے شایان پر چلا رہی تھیں جو کوئی اثر لیے بنا ڈھٹائی سے کھڑا تھا۔
"تم نے دیکھا تھا بھابھی کا چہرہ کتنا اتر گیا تھا۔ کیا سوچتی ہوگی وہ میں نے تمہاری ایسی تربیت کی ہے؟" زینب نے تیز چلاتی آواز میں کہا۔
"مجھے لگتا ہے شاید اب وہ سمجھ گئی ہونگی اپنی بیٹی کسی پر زبردستی تھوپنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔" شایان نے کان کھجاتے ہوئے کہا۔ اس کے چہرے پر ندامت کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے تھے۔
شایان کی ہٹ دھرمی دیکھ کر زینب کا غصہ پریشانی میں بدل گیا۔ وہ اپنے کمرے میں رکھے صوفے پر بیٹھ گئیں اور سر پکڑ لیا۔
"شایان تم عالیہ کو بھول کیوں نہیں جاتے ہو؟" زینب کے لہجے میں اب تھکن اتر چکی تھی۔ وہ شایان کو ہر صورت عالیہ سے دور رکھنا چاہتی تھی مگر شایان کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا عالیہ کی محبت اس کے دل میں مزید بڑھ چکی تھی۔ شایان کے چہرے پر چھائی لاپرواہی یک دم ہوا ہوگئی۔ اس کے اعصاب اب تن گئے۔
"عالیہ کا تو یہاں پر کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔" اس نے تھوڑے سے غصے میں جواب دیا۔
"اس کا ذکر ہو یا نہ ہو لیکن وہ تمہارے دماغ پر ہر وقت چھائی رہتی ہے۔ اسی کی وجہ سے تم اتنے تلخ ہوگئے ہو۔ اس کے پیار نے تمہیں غلط اور صحیح کی تمیز بھلا دی ہے۔ اس کی وجہ سے تم نے آج بھابھی سے اتنی بدتمیزی کی۔ اسی کی وجہ سے تم اپنے اور عزاہ کے رشتے کو قبول نہیں کر پا رہے۔" زینب نے درشتگی سے کہا۔ پھر انہوں نے شایان کو سمجھانا چاہا۔ " بیٹا وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکی ہے۔ تم اس کے پیچھے کیوں خوار ہو رہے ہو؟ تمہیں عزاہ پر دھیان دینا چاہیے۔ دیکھو تو صحیح وہ کتنی پیاری ہے۔ وہ عالیہ سے کئی گنا سگھڑ ہے۔ وہ کسی کے لیے بھی آئیڈیل بیوی ثابت ہو سکتی ہے۔ وہ اب تک تمہاری تمام بدتمیزی برداشت کر رہی ہے۔"
زینب کی بات پر شایان نے غصے میں جواب دیا۔
"مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ کتنی پیاری ہے اور کیسی بیوی ہے۔ آپ نے صحیح کہا میں واقعی میں عالیہ کو دل سے نکال نہیں پایا ہوں۔ عزاہ عالیہ نہیں ہے اور نہ میرے لیے کبھی بن سکتی ہے۔ اگر عالیہ ایک اچھی بیوی نہ بھی بنتی پھر بھی مجھے وہی چاہیے تھی، اور عزاہ اگر میری بدتمیزی برداشت کر رہی ہے تو یہ اس کے باپ کا قصور ہے۔ اگر اس کا باپ اس کو میرے پلے نہ باندھتا، تو اسے یہ سب برداشت نہیں کرنا پڑتا۔ وہ میری محبت میں نہیں بلکہ طلاق کے ڈر سے یہ سب برداشت کر رہی ہے۔" شایان نے دو ٹوک لہجے میں اپنا نکتہ پیش کردیا۔ زینب نے تاسف سے سر نفی میں ہلایا۔
"تمہیں واقعی میں ایسا لگتا ہے۔ تم ایک بے وفا کے لیے باوفا انسان کو ٹھکرا رہے ہو۔ دنیا ترستی ہے وفا کے لیے اور خدا نے بن مانگے تمہاری جھولی میں وفادار انسان ڈال دیا۔ اس کی قدر کرو شایان!" زینب کی آنکھیں اب سرخ اور نم پڑ چکی تھیں۔ ایک بار پھر ماضی کی ایک جھلک ان کی آنکھوں سے گزری۔ زینب نے فوراً سر کو جھٹکا۔ اس وقت شایان کو سمجھانا زیادہ ضروری تھا۔ انہوں نے شایان کو دیکھا جس کے چہرے پر ناگواری کے بادل چھائے ہوئے تھے۔
"اگر عزاہ دودھ سے نہا کر بھی میرے سامنے کھڑی ہو جائے، تب بھی وہ میرے دل کو نہیں بھائے گی۔ مجھے اس سے اتنی ہی نفرت ہے، جتنی عالیہ سے محبت ہے۔" شایان کا لہجہ دو ٹوک تھا۔
"سنو تم نے جو عزاہ پر میکے آنے جانے کی پابندی لگائی ہے اسے فوری طور پر ہٹاؤ۔" زینب نے بات بدل دی تھی۔
"میرے خیال سے آپ نے سنا نہیں۔ میں نے عزاہ کو وہاں رکنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اپنے گھر والوں سے ملنے وہ جا سکتی ہے مگر ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں!"
شایان کی بات سن کر زینب نے مزید کچھ بولنا چاہا مگر شایان نے یہ کہہ کر زینب کو چپ کروا دیا۔
"ماما عزاہ میری بیوی ہے۔ میں اسے یہاں اپنی مرضی کے مطابق رکھوں گا۔ اگر آپ نے کوئی اعتراض کیا، تو میں آپ کی چہیتی بھتیجی کو طلاق نامہ دے کر ہمیشہ کے لیے میکے چھوڑ آؤں گا۔"
زینب نے بے بسی سے اپنے لب کاٹے۔ وہ شایان کو جانتی تھیں۔ اگر وہ یہ کہہ رہا تھا تو کر بھی سکتا تھا۔ شایان کمرے سے نکلنے لگا۔ شایان کو کمرے سے نکلتا دیکھ کر سنہری آنکھوں والی لڑکی جو کمرے کے باہر ہی کھڑی تھی دروازے کی اوٹ میں چھپ گئی اور شایان کے جانے کا انتظار کرنے لگ گئی۔
شایان تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا اور راہداری میں گم ہوگیا۔ عزاہ باہر نکلی اور زینب کو دیکھا جو اب کافی تھکی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔
عزاہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی وہاں سے جانے لگ گئی۔ عالیہ میں آخر ایسا کیا تھا کہ اس کی بے وفائی بھی اسے شایان کے دل سے بے دخل نہیں کر پائی تھی۔ اس کی محبت میں آخر اتنا دم کیوں نہیں تھا؟ شایان سوچتا تھا عزاہ طلاق کے ڈر سے یہ سب کر رہی تھی۔ کیا واقعی میں اسے یہ کوششیں طلاق کے ڈر کا سبب لگتی تھیں؟ کیا وہ عالیہ کی محبت میں اس قدر اندھا ہو چکا تھا؟
چلتے چلتے وہ اپنے کمرے کے سامنے رک گئی۔ کمرے میں اندھیرا پھیل گیا تھا یعنی شایان سونے کے لیے لیٹ گیا تھا۔
اس نے اندر جاتے ہوئے ٹھان لیا تھا وہ کسی نہ کسی دن شایان پر ثابت کرکے دکھائے گی وہ یہ سب کسی کے ڈر سے نہیں بلکہ اپنی محبت کی وجہ سے برداشت کر رہی تھی۔ عزاہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ دن اس کی زندگی کا سب سے تاریک دن ہوگا۔
******************
گرمیوں کی آمد ہوچکی تھی۔ موسم اب گرم رہنے لگا تھا۔ جائی یانہ اور عیسیٰ کے نکاح میں اب بس ایک ہفتہ رہ گیا تھا۔ بازاروں کے چکر ابھی تک ختم نہیں ہوئے تھے۔ ام ہانی اپنے بیٹے کا نکاح کافی دھوم دھام سے کرنا چاہتی تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ نکاح میں وہ پورے خاندان کو جمع کریں مگر اشفاق نے انہیں ایسا کرنے سے سختی سے منع کردیا۔ انہوں نے یہ بات صاف الفاظ میں ام ہانی کو بتا دی کہ شادی پر صرف قریبی رشتے دار ہونگے۔ ان کے علاؤہ کوئی غیر ضروری شخص نہیں ہوگا۔ ام ہانی کو یہ بات بہت بری لگی۔ انہون نے اکثر ڈھکے چھپے لہجے میں نوال گلہ کیا تھا۔ عیسیٰ کے ابو رضوان صاحب بھی آگئے تھے۔ اب بس ایک ہفتے کی بات رہ گئی تھی۔
دوسری طرف نکاح کی تاریخ جتنی قریب آتی جا رہی تھی، جائی یانہ کے ذہنی تناؤ میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اسی ذہنی دباؤ نے اس کی معمول کی زندگی کو بہت بری طرح سے متاثر کردیا تھا۔ وہ زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں رہنے لگی تھی۔ اس کے کھانا کھانے کا معمول بھی بگڑ ہوچکا تھا۔ وہ کھانا تب ہی کھاتی تھی جب اسے شدید بھوک لگ رہی ہوتی تھی ورنہ یونہی بھوکی پیاسی بیٹھی رہتی۔ اس وجہ سے اس کا وزن بھی کافی گر گیا تھا۔ سب لوگ تقریب کے لیے اتنے پر جوش تھے کہ کسی نے جائی یانہ کی طرف دھیان نہیں دیا۔
اس وقت جائی یانہ اپنے کمرے میں موجود، کال پر نائلہ کو ساری داستان سنا رہی تھی۔ اتنے دنوں سے خود تک یہ بات رکھ کر وہ تھک چکی تھی۔ وہ جانتی تھی نائلہ عزاہ کے مقابلے میں اس کی بات اچھے سے سمجھے گی۔ وہ بیڈ پر ترچھی لیٹی تھی اور چہرے پر زمانے بھر کی بیزاری چھائی تھی۔ نائلہ کو سب کچھ بات کر جائی یانہ اپنا آپ کافی ہلکا محسوس ہو رہا تھا۔
نائلہ ساری بات سن کر بس اتنا بولی۔ "اچھا اسی لیے تم اتنے دنوں سے یونیورسٹی نہیں آئی۔"
"ہممم!" جائی یانہ نے ہنکارا بھرا۔
"ویسے تمہیں مجھے پہلے بتانا چاہیے تھا۔ میں اتنے دنوں سے پریشان تھی۔ تمہیں کالز بھی کی مگر تم نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔" نائلہ نے شکوہ کیا۔
"اب بتا دیا نا۔" جائی یانہ نے بیزاری سے کہا۔
"تو کیا سوچا ہے اس مصیبت سے کیسے نپٹو گی؟" نائلہ کے سوال پر جائی یانہ نے جواب دیا۔
"پتہ نہیں۔۔ مجھے تو کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔" جائی یانہ نے آنکھیں موند لی۔
"پلیز یہ مت کہنا تم اس عیسیٰ سے شادی کر لو گی۔" نائلہ کی آواز اب تیکھی ہوگئی تھی۔
"تو اس ساری صورتحال میں تمہیں اس کے علاؤہ کوئی اور آپشن دکھائی دیتا ہے؟" جائی یانہ نے تلخی سے پوچھا۔
"تم پہلے اس دنیا ؤمافیہا سے بیزار موڈ سے باہر نکلو۔" نائلہ نے اس دفعہ اسے غصے سے جھڑکا۔ پھر وہ کچھ دیر سوچتی رہی۔ پھر نائلہ پر جوش انداز میں بولی۔
"ایسا کرو تم اپنے بابا کو عیسیٰ کی ساری حقیقت بتا دو۔"
"میرے خیال سے میں تمہیں یہ بتا چکی ہوں کہ سب سے پہلے میں ان ہی کے پاس گئی تھی۔" جائی یانہ اس کی تجویز سن کر دانت پیستے بولی۔
"ہاں تم انکل کے پاس گئی تھی مگر انہیں کچھ بتایا تو نہیں تھا نا!" نائلہ ابھی بھی اسی قدر پرجوش تھی۔
جائی یانہ اب اٹھ کر بیٹھ گئی اور موبائل دوسرے کان سے لگا لیا۔
"تمہارا مشورا ہے تو صحیح مگر بابا اب کسی صورت نہیں مانیں گے۔ انہیں اپنی عزت بہت پیاری ہے۔ انہیں جب بھی خونی رشتوں اور عزت میں سے کسی ایک کو چننا ہوتا ہے، وہ ہمیشہ عزت کو چنتے ہیں۔" جائی یانہ نے تلخی سے کہا۔ اس کی بات سن کر نائلہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگئی۔ پھر اس نے موضوع ہی بدل ڈالا۔
"اچھا ان سب کو چھوڑو۔ مجھے ذرا اپنے کزن عیسیٰ کی تصویر تو بھیجو۔"
"کیوں؟" جائی یانہ کی بھنویں سکڑ گئیں۔
"میں دیکھنا چاہتی ہوں مصیبتیں انسانی صورت میں کیسی دکھائی دیتی ہیں۔" جائی یانہ کو محسوس ہوا تھا نائلہ شروع میں گڑبڑائی تھی۔
"اچھا!!"
"تو پھر تم کب بھیجو گی؟" نائلہ کی عجلت دیکھ کر جائی یانہ نے غصے میں کہا۔
"تم فون رکھو گی تو ہی تصویر بھیجوں گی ناں!" جائی یانہ کی بات سن کر نائلہ شرمندہ ہوکر بولی۔
"اوہ سوری سوری! میں فون رکھ رہی ہوں۔ تم مجھے جلدی سے تصویر بھیجو۔ پھر ہم دونوں رات کو بات کریں گے۔" یہ کہہ کر نائلہ نے کال کاٹ دی۔ جائی یانہ نے اپنے موبائل میں موجود عیسیٰ کی واحد تصویر نائلہ کو سینڈ کردی۔ یہ تصویر اسے واٹس ایپ پر ان کے فیملی گروپ سے موصول ہوئی تھی ورنہ جائی یانہ عیسیٰ کی منحوس شکل کبھی بھی اپنے موبائل میں نہ رکھتی۔
تصویر بھیجنے کے بعد اس نے اپنا موبائل بیڈ پر رکھ دیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ اپنا دوپٹہ شانوں پر اچھے سے پھیلائے وہ نیچےچلی گئی۔ جب جائی یانہ نیچے پہنچی تو اسے ڈارئنگ روم سے آوازیں آتی سنائی دی۔
جائی یانہ نے ڈرائنگ روم میں جھانکا تو اسے سب وہی بیٹھے دکھائی دیے۔ اس نے دیکھا کہ عیسیٰ، ام ہانی اور رضوان ایک ہی صوفے بیٹھے ہوئے تھےجبکہ ان کے سامنے نوال اور اشفاق ایک ساتھ صوفے پر بیٹھے تھے۔ کمرے کے تناؤ اچھے سے محسوس کیا جا سکتا تھا۔ کسی نے بھی اسے نہیں دیکھا تھا۔ سب کے چہروں پر سنجیدگی نمایاں تھی۔
"ہمارا مطالبہ اتنا بھی غلط نہیں ہے اشفاق؟" یہ بات رضوان صاحب نے کہی تھی۔ جائی یانہ نے ان کے چہرے پر نظر ڈالی۔ ان کے مغربی نقوش اور گندمی رنگت والے چہرے پر تیوریاں چڑھی ہوئی تھی۔ ان کی سبز آنکھیں بالکل عیسیٰ جیسی تھی۔ ام ہانی نے انہیں بتایا تھا رضوان انکل کی ماں امریکی تھی۔ انہوں نے اپنی سبز آنکھیں اور مغربی نقوش ان ہی سے لیے تھے۔ ان کے منہ سے صاف اردو سن کر جائی یانہ کو شروع میں خوب ہنسی آتی تھی۔ اس وقت رضوان اشفاق کو اپنی سبز آنکھوں سے گھور رہے تھے۔
"دیکھو ہم تمہاری بیٹی کو اس وقت لے رہے ہیں جب تمہارے گھر پر ہر کوئی انگلیاں اٹھا رہا ہے۔ مجھے تو میرا یہ مطالبہ کہیں سے غلط نہیں لگ رہا ہے۔" رضوان کی بات کی ام ہانی نے بھی تائید کی۔
"اشفاق بھائی مجھے بھی رضوان کی باتیں صحیح لگ رہی ہیں۔" اس کی نظر عیسیٰ پر گئی جو ان سب سے بیگانہ موبائل پر مصروف تھا۔ جائی یانہ نے ناگواری سے اپنا چہرہ اپنے ماں باپ کی جانب کر لیا۔ آخر خالہ خالو اس کے ماں باپ سے کس بات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اشفاق گہری سوچ میں گم تھے جبکہ نوال بے چین دکھائی دے رہی تھیں۔
"لیکن ام ہانی ہمارے باقی بچے بھی تو ہیں۔ اگر ہم نے یہ گھر عیسیٰ کے نام کردیا تو ہم اپنے باقی بچوں کو کیا دیں گے۔" نوال نے ان کو سمجھانا چاہا مگر رضوان اور ام ہانی کے چہروں پر ناگواری چھا گئیں۔ جائی یانہ کا دماغ الٹ گیا۔ تو سارا چکر اس گھر کا تھا۔
"کیا آپ لوگ عالیہ کو بھی حصہ دیں گے۔ جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے بعد تو آپ لوگوں کو اسے اپنی جائیداد سے بے دخل کردینا چاہیے۔" رضوان نے عالیہ کا نام اتنی حقارت سے لیا کہ جائی یانہ کو تپ چڑھ گئی۔ ہانی خالہ نے بات آگے بڑھائی۔ "اور جہاں تک عزاہ کا تعلق ہے تو آپ اسے کاروبار میں سے کچھ حصہ دے دینا۔ اس کا حق پورا ہوجائے گا۔"
"ام ہانی تم بات کو سمجھو۔۔۔" نوال نے سمجھانا چاہا مگر اشفاق نے انہیں چپ کروا دیا۔
"اگر تم لوگوں کو ضمانت کے لیے یہ گھر چاہیے تو ٹھیک ہے یہ گھر میں جائی یانہ کے نام کر دیتا ہوں۔" اشفاق حتمی انداز میں بولے۔
رضوان صاحب نے اعتراض کرنے کے لیے لب کھولے مگر ام ہانی نے ان کا ہاتھ دبا کر انہیں خاموش کروا دیا۔
"ٹھیک ہے آپ یہ گھر جائی یانہ کے نام کردیں۔ ویسے بھی میاں بیوی کی چیز تو ایک ہی ہوتی ہے۔ ہمیں تو بس ضمانت ہی چاہیے تھی۔" ام ہانی نے میاں بیوی کے الفاظ چبا چبا کر ادا کیے تھے۔ جائی یانہ نے ان کی بات کا مطلب اگلے ہی پل نکال لیا تھا۔ اب ان کا منصوبہ نکاح کے بعد گھر عیسیٰ کے نام کروانا ہوگا۔
جائی یانہ اپنے باپ کی بات پر خوب مشتعل ہوئی۔ آخر وہ ایسے مطالبے کو کیسے مان سکتے تھے۔ غصے کی زیادتی کی وجہ سے اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ ٹھیک اسی وقت نوال کی نظر چوکھٹ پر کھڑی جائی یانہ پر پڑی۔ وہ جائی یانہ کو دیکھ کر سمجھ گئیں اس کے ارادے صحیح نہیں ہے۔ اس لیے پہلے انہوں نے جائی یانہ کو گھورا۔ پھر فوراً سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
"میں دیکھ کر آتی ہوں چائے ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئی؟" سب کو یہ تاثر دے کر نوال کمرے سے باہر نکل گئیں۔ انہوں نے جائی یانہ کا ہاتھ تھاما اور ڈرائنگ روم سے دور لے آئیں۔۔ دور آتے ہی نوال کی جائی یانہ کے ہاتھ پر گرفت ہلکی ہوئی۔ جائی یانہ نے اپنا ہاتھ چھڑوایا۔
"یہ کیا بکواس کر رہے تھے رضوان انکل؟ آپ لوگ تو میرا سودا کر رہے ہیں!" جائی یانہ تیز آواز میں چلائی۔
نوال نے جائی یانہ کا بازو دبایا۔
"دھیمی آواز میں بات کرو۔ یہ بات اگر کمرے میں بیٹھے کسی شخص کے کان میں پہنچی، تو تمہارے لیے مزید مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔" نوال دھیمی آواز میں جائی یانہ پر غرائیں۔
جائی یانہ نے اپنا بازو ماں کے ہاتھ سے چھڑوایا۔
"جاتی ہے، تو جاتی رہے۔ جب انہیں یوں سودا کرتے ہوئے شرم نہیں آتی، تو میں کیوں شرم کروں۔ اتنے نیچ لوگ میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھے ہیں۔"
نوال نے جائی یانہ کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔ تھپڑ اس قدر زور کا تھا کہ جائی یانہ کا چہرہ ایک طرف جھک گیا۔
"اپنی حد میں رہا کرو۔ وہ لوگ تمہارے خالہ اور خالو ہیں۔ ان کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ جو داغ تم لڑکیوں نے ہمارے اوپر لگایا ہے اس کے بعد لوگ شیر بن کر ہی ہم سے بات کریں گے۔"
جائی یانہ نے چہرہ اٹھا کر اپنی ماں کو دیکھا۔ جائی یانہ کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔ دوسری طرف نوال بھی ہانپ رہی تھیں۔
"اپنے کمرے میں جاؤ جائی یانہ!" نوال نے تحکمانہ انداز میں کہا۔ "اور جب تک تمہارا نکاح نہیں ہو جاتا اپنا زیادہ وقت کمرے میں ہی گزارنا۔ مجھے تم گھر میں گھومتی دکھائی نہ دو۔"
جائی یانہ اپنی جگہ پر کھڑی رہی۔ اس کا ہاتھ ابھی بھی گال پر تھا۔ اب اس کی بھوری آنکھوں میں پانی آنسو بن کر پلکوں پر لڑکھتا دکھائی دیے۔
"تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا ہے۔" نوال نے غصے سے کہا۔ " میں نے کہا جاؤ۔"
نوال کی دھتکار سن کر جائی یانہ تیزی سے زینے چڑھنے لگی۔ نیچے کھڑی نوال تاسف سے اپنی بیٹی کو جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔ وہ اپنی اولاد پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہتی تھی مگر اس وقت انہیں جو صحیح لگا انہوں نے کیا۔ وہ نہیں چاہتی تھیں ام ہانی یہ باتیں سن کر ان کی بیٹی کو مزید تکلیف دے۔
دوسری طرف جائی یانہ نے دروازہ زور سے بند کیا اور بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گئی۔
********************
نکاح سے ایک دن پہلے
یونیورسٹی کی راہداریوں میں اس وقت خوب چہل پہل تھی۔ سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے۔ ایسے میں گھنگھریالے بالوں والا لڑکا سیڑھیوں کے زینے پر بیٹھا تھا۔ وہ اپنا دایاں پاؤں اضطراب سے ہلا رہا تھا اور بار بار گھڑی پر نظر ڈال رہا تھا۔ شاید اسے کسی کے آنے کا انتظار تھا۔ کچھ دیر بعد اسے راہداری سے سیاہ چادر اوڑھے لڑکی آتی دکھائی دی۔ اس نے اپنی چادر سے اپنا جسم ڈھانپا ہوا تھا۔ وہ گھنگھرالے بالوں والے لڑکے کی جانب جا رہی تھی۔ وہ لڑکے کے پاس آکر رکی۔
"تم نے اتنی رش والی جگہ کیوں منتخب کی؟" لڑکے نے ادرگرد کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
"کیونکہ میں کسی بھی لڑکے سے تنہا نہیں ملتی ہوں۔ " لڑکی نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
"ایک تو پتہ نہیں ہر عورت کو میں ہی مشکوک کیوں لگتا ہوں؟" لڑکے نے چڑ کر کہا۔ پھر وہ کام کی بات پر آیا۔
"تم نے ان سے تصویر مانگی؟"
"ہاں میں نے اس سے اسی دن مانگ لی تھی۔ تم ہی آج آئے ہو ورنہ میں کب کی دکھا دیتی۔" لڑکی نے اکڑے ہوئے لہجے میں کہا۔
"اچھا دکھاؤ مجھے تصویر!" لڑکے نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔
لڑکی نے اپنے موبائل میں تصویر نکال کر لڑکے کو دکھائی۔ تصویر دیکھ کر لڑکے کے لب سختی سے بھینچ گئے۔
"یعنی میرا شک صحیح تھا۔" لڑکے نے دبی دبی غراہٹ سے کہا۔
"اس کا مطلب وہ واقعی میں وہی ہے جس کا تم نے مجھے بتایا تھا۔" لڑکی نے پریشان لہجے میں کہا۔ پھر اس نے لڑکے سے پوچھا۔
"تمہیں ویسے کس نے بتایا اس لڑکے کی منگنی اس سے ہو۔رہی ہے؟"
"میرے کزن نے بتایا تھا کہ اس کی منگنی ہوگئی ہے۔ اس نے اس کی منگیتر کا نام بھی مجھے بتا دیا تھا جس سے یہ کمینہ شادی کرنے والا ہے۔ اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ وہ لڑکی اسی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے اور بی بی اے کی اسٹوڈنٹ ہے۔ تم جانتی ہو ان کا نام کتنا یونیک ہے اور ایسے نام کی ہمارے یونیورسٹی میں بہت کم لڑکیاں ہیں یا شاید ہیں ہی نہیں۔ اس لیے مجھے سب سے پہلے ان ہی پر شک ہوا تھا۔"
"پھر تو مجھے یہ بات اسے ابھی بتانی ہوگی" لڑکی پہلے سے زیادہ پریشان ہوگئی تھی ۔
"نہیں ابھی نہیں۔" لڑکے نے دو ٹوک انداز میں لڑکی کو انکار کیا۔ پھر لڑکی سے پوچھا۔ "اس کا نکاح کل ہے نا!!"
لڑکی نے سر اثبات میں گھمایا۔ لڑکے نے فیصلہ کر لیا۔ "تو ہمیں کل جاکر اس کی اصلیت سب کے سامنے کھولنی ہے۔"
"لیکن کل ہی کیوں؟" کالی چادر والی لڑکی نے سوال کیا۔
"کیوں کے کچھ ثبوت مجھے کل ہی ملیں گے۔"
لیکن لڑکی کے دل میں خدشات جنم لینے لگ گئے تھے۔
"مگر تم یہ بھی تو سوچو اگر ہمیں دیر ہوگئی تو کیا ہوگا؟ ایسا نہ ہو ہماری دیری سے میری دوست کا نکاح اس سے ہوجائے۔"
لڑکی کے خدشات پر لڑکے کے چہرے پر سایہ چھایا۔
"میں جانتا ہوں اس کام میں بہت رسک ہے مگر ہمیں یہ جوا کھیلنا ہی ہوگا۔" دونوں کے چہروں پر پریشانی عیاں تھیں۔
ایسا کیا تھا جو ابھی صرف ان دونوں کو ہی معلوم تھا۔
*******************