نکاح سے تین دن پہلے
تپتی دوپہر گزر جانے کے بعد گرمی کا زور تھوڑا کم ہوا تھا۔ سنہرے اور ہلکے نارنجی آسمان پر پرندے اڑتے دکھائی دے رہے تھے۔ آسمان پر بادل نہ ہونے کے برابر تھے۔
ایسے میں اشفاق کے گھر کے گیٹ کے بالکل سامنے ایک سیاہ رنگ کی گاڑی رکی اور پچھلی طرف کا دروازہ کھلا۔ سنہرے رنگ کی سینڈل میں مقید پاؤں سڑک پر اترا۔ پھر نووارد کا پورا سراپا گاڑی سے نکلتا دکھائی دیا۔ اس نے ہلکے بھورے رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں سنہری اور رنگت گندمی تھی۔ وہ قدم قدم چلتی گیٹ کی جانب بڑھنے لگی۔ اس کے کندھوں پر لٹکا پرس اس کے چلنے کی وجہ سے لہرا رہا تھا۔
گیٹ پر کھڑے چوکیدار نے اسے آتا دیکھا تو فوراً گیٹ کھولا۔ وہ سنجیدہ انداز میں اندر آگئی۔ اس کی رفتار ابھی بھی ایسی ہی تھی۔ اس نے چلتے ہوئے اردگرد کا جائزہ لیا۔ اس کے گھر کا لان ابھی بھی اسی حالت میں تھا جس حالت میں وہ اسے چھوڑ کر گئی تھی۔ گھر کی عمارت بھی ویسی ہی دکھائی دے رہی تھی۔ اس گھر کے رہنے والوں کی زندگیوں کے علاؤہ کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔۔
اس نے گھر کا داخلی دروازہ کھولا اور اندر آگئی۔ دروازہ کھولتے ہی اس کی نگاہ سیڑھیوں پر سے اترتی جائی یانہ پر پڑی۔ جائی یانہ بھی دروازہ کھلنے کی وجہ سے آنے والے کی طرف متوجہ تھی۔ کچھ پل کے لیے جائی یانہ کی بھوری آنکھوں میں حیرت پھیلی، پھر وہ دوڑتی ہوئی آنے والے کے گلے لگ گئی۔
"آپ آگئی بجو!" جائی یانہ نے الگ ہوتے ہوئے عزاہ سے کہا۔
"ہاں میں آگئی۔" ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
عزاہ کے چہرے پر ہلکا میک اپ اسے ہشاش بشاش دکھا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر پھیلی رہنے والی سنجیدگی شادی کے بعد سے مزید واضح دکھائی دیتی تھی جبکہ دوسری طرف عزاہ کو جائی یانہ کا چہرہ ویران سا لگا۔ اس کی آنکھوں میں چھائی شوخی اب دکھائی نہیں دیتی تھی۔ وہ کافی کمزور دکھائی دے رہی تھی ایسا لگتا تھا اس نے کئی دنوں سے ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا تھا۔
"تمہیں کیا ہوا ہے؟" عزاہ نے جائی یانہ کی حالت کو دیکھتے ہوئے کہا۔
"مجھے کیا ہونا ہے؟" اس نے عام سے لہجے میں کہا۔
"تم مجھے۔۔۔" عزاہ کے الفاظ اس کے لبوں پر ہی رہ گئے کیونکہ اسے جائی یانہ کے پیچھے سے نوال آتی دکھائی دیں۔
"عزاہ تم کب آئی؟" نوال حیرانگی کا شکار تھیں۔ عزاہ شادی کے بعد پہلی دفعہ ان کے گھر آئی تھی۔
"بس ابھی ابھی!" عزاہ نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔
"خیر سے آئی ہو نا؟ شایان نے تمہارے یہاں آنے پر برا تو نہیں منایا؟" نوال نے اپنے خدشے کا اظہار کیا۔ انہیں ابھی بھی یاد تھا جب پچھلی دفعہ انہوں نے شایان سے عزاہ کو اپنے ساتھ گھر لے جانے کی اجازت مانگی تھی، تو اس نے کتنی بدتمیزی کی تھی۔
"جی خیر سے ہی آئی ہوں۔ مجھے پھپھو نے بھیجا ہے تاکہ آپ لوگوں سے پوچھ سکوں آپ کو ہماری مدد کی تو کوئی ضرورت نہیں ہے اور شایان سے بھی پوچھ لیا تھا۔ انہیں میرے یہاں آنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔" عزاہ نے وضاحت دے کر ماں کے خدشوں کو دور کیا۔
"اچھا!" نوال نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔ پھر انہیں اچانک کچھ یاد آیا۔
"تم ابھی تک یہاں کیوں کھڑی ہو؟ چلو اندر آؤ۔"
یہ کہہ کر وہ سب اندر کی جانب چل پڑے۔
******************
زینب لاؤنج میں بیٹھی تین سالہ شایان کو ناشتہ کھلانے میں مصروف تھی۔ اس وقت صبح کے دس بج رہے تھے۔ شایان ابھی ابھی جاگا تھا۔ اسی لیے وہ ناشتہ کرتے ہوئے خاصا چڑچڑا دکھائی دے رہا تھا۔
"چلو شایان اب بس یہ آخری نوالہ ہے۔ اسے جلدی سے ختم کرو۔" زینب نے شایان کو پچکارتے ہوئے کہا۔
شایان نے چڑچڑے تاثرات کے ساتھ خاموشی سے نوالہ منہ میں ڈال لیا۔ زینب نے شایان کے بالوں پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور اسے صوفے پر بیٹھا چھوڑ کر خالی پیالی کچن کے سنک میں رکھ آئی۔ پھر زینب اپنے کمرے میں گئی اور بیڈ کے ساتھ موجود دراز میں سے دوائیوں کا ڈبا نکالا۔ کچھ دیر ڈبے میں دوائیاں الٹ پلٹ کر لینے کے بعد زینب کو مطلوبہ گولیاں مل گئیں۔ اس نے گولیاں ہاتھ میں نکالی اور جگ سے پانی نکال کر گولیاں پھانک لی۔
اس کے بعد وہ بیڈ پر سے اٹھی اور آئنے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھنے لگ گئی۔ اس کا ہاتھ اپنے معدے کے نیچے چلا گیا تھا۔ اپنا عکس دیکھتے ہوئے ایک عجیب سی خوشی اس کے سراپے میں سرایت کرگئی۔ وہ دوسری دفعہ امید سے تھی۔ اس کی پریگننسی کو سات مہینے ہوگئے تھے۔ وہ اپنے آٹھویں مہینے پر تھی۔ اس دفعہ وہ اور عمر چاہتے تھے ان کے گھر بیٹی ہو۔
عمر کا نام ذہن میں آتے ہی اس کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی اور چہرے پر پریشانی چھا گئی۔ زینب پچھلے دو تین مہینوں سے عمر کے رویے پر خاصی پریشان تھی۔ رات کو وہ دیر سے گھر آتا تھا۔ چھٹی کا دن بھی وہ گھر سے باہر گزارتا تھا۔ عمر نے اس سے بات کرنا بھی بند کردیا تھا۔ گھر میں زیادہ تر وقت وہ اپنے موبائل پر کالز اٹینڈ کرتے ہوئے گزارتا تھا۔ زینب نے کئی بار عمر سے اس کے عجیب رویے کے بارے میں پوچھا مگر عمر ہر بار کام کی زیادتی کو وجہ بنا کر بات ٹال دیا کرتا تھا۔
وہ شکی بیویوں کی طرح عمر پر شک نہیں کر رہی تھی مگر دور کہیں وہ جانتی تھی عمر اس سے کچھ چھپا رہا تھا کیونکہ عمر پہلے بھی کئی بار کام کی زیادتی کا شکار ہوئے تھے لیکن اس نے کبھی بھی زینب اور شایان کو یوں نظر انداز نہیں کیا تھا، جس طرح اب کر رہا تھا۔ آج بھی عمر ناشتہ کیے بغیر آفس چلا گیا تھا۔ زینب نے عمر کو ناشتہ کھلانے کے لیے روکنے کی بہت کوشش کی مگر عمر یہ کہتا چلا گیا آج صبح اس کی بہت ضروری میٹنگ ہے اور وہ دیر نہیں کر سکتا تھا۔
وہ آئنے کے سامنے عکس کو یونہی بے مقصد گھور رہی تھی جب گھر کا لینڈ لائن نمبر بجا۔ وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی اور گھر کے چھوٹے سے برآمدے میں آگئی جس میں لکڑی کے چھوٹے سے شیلف پر نارنجی رنگ کا ٹیلی فون رکھا ہوا تھا۔ فون تیزی سے تھرتھرا رہا تھا۔
زینب نے ٹیلی فون کا رسیور کان پر لگایا۔ شایان بھی چھوٹے چھوٹے قدم لیتا برآمدے میں کھڑی اپنی ماں کو دیکھنے آگیا تھا۔
"ہیلو!"
شایان نے دیکھا یہ کہنے کے بعد اس کی ماں کے تاثرات بدل گئے تھے جو وہ اس عمر میں سمجھنے سے قاصر تھا۔
********************
اشفاق کے لاؤنج میں اس وقت عزاہ کی خاطر تواضع کی جا رہی تھی۔ اس کے سامنے میز پر نمکو، بسکٹ، چائے اور بھی دیگر لوازمات رکھے ہوئے تھے۔ عزاہ کے منع کرنے کے باوجود نوال نے میزبانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ان کی بیٹی اتنے دنوں بعد گھر آئی تھی۔ اتنا سب کچھ کرنا تو بنتا تھا۔
عزاہ جائی یانہ کو اپنے معمول کے بارے میں بتا رہی تھی۔ اسی وقت گھر کا بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ اگلے پل انہوں نے اشفاق کو لاؤنج میں داخل ہوتے دیکھا۔ ان کے ہاتھ میں آفس کا بیگ تھا اور وہ خاصا تھکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ آج وہ عام دنوں کی نسبت جلدی گھر آگئے تھے۔
انہوں نے سامنے صوفے پر بیٹھی عزاہ کو دیکھا تو ٹھٹھک کر رک گئے۔ ان کے چہرے پر چھائی تھکن اڑ گئی۔ اب چہرے پر سنجیدگی پھیل چکی تھی۔
"پندرہ منٹ بعد میرے کمرے میں آجانا۔" سنجیدگی سے کہتے ہوئے اشفاق واپس مڑ گئے۔
جائی یانہ اور عزاہ نے ناسمجھی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پندرہ منٹ گزرنے تک ان دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔
پندرہ منٹ بعد عزاہ اشفاق کے کمرے میں چلی گئی۔ اسے اشفاق سامنے بیڈ پر بیٹھے دکھائی دئیے۔ انہوں نے دفتری لباس اتار کر سادہ شلوار قمیض پہن لی تھی۔ اس وقت وہ کلائی میں بندھی اپنی گھڑی اتار رہے تھے۔
"دروازہ بند کرو اور ادھر بیٹھ جاؤ!" اشفاق نے عزاہ کی طرف دیکھے بنا تحکمانہ انداز میں کہا۔
عزاہ نے ویسا ہی کیا جیسا اشفاق نے اسے کہا تھا۔ وہ خاموشی سے اشفاق کے پہلو میں آکر بیٹھ گئی۔ اس کی نظریں اپنی گود پر تھیں۔
"تم شایان کی مرضی سے یہاں آئی ہو؟" بیٹی کی خیر خیریت پوچھنا اشفاق کو یاد نہیں رہا تھا۔
"جی!" عزاہ نے نظریں جھکائے جواب دیا۔
"شایان کو تم سے کوئی شکایت تو نہیں ہے نا؟" اشفاق عزاہ کو ٹٹولتی نگاہوں سے گھور رہے تھے۔
عزاہ سمجھ نہیں پائی اسے کیا کہنا چاہیے۔ اشفاق کے سامنے سچ وہ کہنا نہیں چاہتی تھی اور جھوٹ بولنے کا اس کا من نہیں تھا۔ اس کے جواب نہ دینے پر اشفاق کے چہرے پر مایوسی اتر آئی۔
"میں جانتا تھا تم نے ابھی تک اس رشتے کو قبول نہیں کیا ہے۔" اشفاق نے تاسف سے کہا جبکہ عزاہ نے حیرت سے سر اٹھا کر اشفاق کو دیکھا۔ یہ سچ نہیں تھا۔ وہ سچائی بتانے کے لیے لب کھولتی، اس سے پہلے ہی اشفاق نے ہاتھ اوپر اٹھا کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
"تم جانتی ہو روز میں جب لوگوں کی سوال کرتی نظریں، خود پر دیکھتا ہوں تو کیسا محسوس ہوتا ہوں۔ مجھے اپنے آپ سے نفرت ہونے لگ جاتی ہے۔ اس بدبخت کا نام دنیا والوں نے میرے لیے گالی بنا دی ہے۔ تم یہ چاہتی ہو تمہارا نام بھی میرے لیے گالی بن جائے۔" اشفاق نے ڈانٹتے ہوئے عزاہ سے پوچھا۔
"نہیں بابا آپ۔۔۔" عزاہ کی صفائی کو اشفاق نے دوبارہ سننے کے قابل نہ سمجھا۔
"بس مجھے کچھ نہیں سننا ہے۔ تمہارا گھر تمہارا سسرال ہے۔ وہیں رہا کرو۔ میرے گھر آنے اور یہاں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا شایان تمہارے ساتھ کیسا سلوک رکھتا ہے۔ وہ اگر تمہیں مارے پیٹے تو بھی اس گھر میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔" اشفاق کے چہرے پر سفاکیت پھیل گئی تھی۔ وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئے۔ عزاہ کے دل کا بوجھ مزید بھاری ہوگیا۔ اشفاق کچھ دیر بعد مدھم آواز میں بولیں۔
"کوشش کرنا شایان تمہیں طلاق نہ دے اور اگر اس نے تمہیں طلاق دے دی تو اس گھر میں قدم مت رکھنا۔ زینب سے ہمارے گھر کے راستے میں جو قبرستان آتا ہے وہاں جا کر تم خود کو دفن کرلینا۔" اشفاق نے اپنی بات مکمل کی اور عزاہ کو دیکھا۔
"اب تمہیں چلے جانا چاہیے۔" عزاہ کا چہرا پھیکا پڑ گیا تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور بوجھل قدم کے ساتھ کمرے سے جانے لگی۔ عزاہ کو جاتا دیکھ کر اشفاق کے تاثرات ڈھیلے ہوگئے۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں نے اپنی زندگی کی جمع پونجی ہار دی ہو۔ وہ اولاد کے لیے اتنا تلخ نہیں ہونا چاہتے تھے مگر وہ مجبور تھے لیکن کیا وہ واقعی میں مجبور تھے؟؟؟
*******************
"آپ کا کیا مطلب ہے؟ عمر آفس پہنچے ہی نہیں ہیں؟" زینب نے حیرت سے پوچھا۔ " لیکن وہ تو صبح سویرے آفس کے لیے نکل گئے تھے۔"
"وہ آفس نہیں پہنچے ہیں۔ اگر آپ کا ان سے رابطہ ہو تو انہیں بتا دیجیے گا ان کی ایک کلائنٹ سے میٹنگ ہے۔ اس لیے جلد از جلد آفس پہنچیں۔" دوسری طرف سے مردانہ آواز آئی۔ وہ آواز جذبات سے عاری تھی۔
"اچھا!" زینب نے غائب دماغی سے کہہ کر کال کاٹ دی۔
زینب کچھ دیر ٹیلیفون کو گھورتی رہی۔ پھر اس پر موجود بٹن دبانے لگ گئی۔ اس نے ریسیور دوبارہ کان پر لگا لیا۔ دوسری طرف سے کال نہیں اٹھائی گئی۔ زینب بار بار اسی فون نمبر پر کال کرتی رہی۔ آخر کار اس کی کال اٹھا لی گئی۔
عمر کی جھنجھلائی آواز اس کی سماعتوں میں گونجی۔
"یار کیا ہے؟ میں میٹنگ میں تھا۔ بولو کیا آفت ٹوٹ پڑی ہے؟"
"تم کہاں ہو؟" زینب نے کھوئی ہوئی آواز میں کہا۔
"میں نے کہاں ہونا ہے؟ آفس میں ہی ہونگا۔" عمر نے چڑچڑے اندر میں جواب دیا۔ پھر پوچھا۔ " صاف صاف بتاؤ کال کیوں کی ہے؟"
زینب کا سر گھومنے لگا۔
"آفس سے کال آئی تھی۔ وہ تمہیں بلا رہے رہیں۔" دوسری طرف موت کا سناٹا چھا گیا۔ یہ سناٹا زینب کے دل میں وہم اور وسوسوں کا طوفان جنم دینے لگ گیا۔
"زینب میری بات سنو تم جو سمجھ رہی ہو ایسا۔۔۔" زینب نے کال کاٹ دی اور زمیں پر بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھیں خشک تھیں مگر اسے اپنے انگ انگ میں خوف اترتا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے خود کو سمیٹ لیا۔ شایان آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتا ماں کے پاس آیا اور ماں کے پاوؤں سے لگ گیا۔ زینب نے شایان کو پکڑا اور سینے سے لگا لیا۔ اسے اس وقت اپنے مستقبل سے خوف آ رہا تھا۔
*******************
اشفاق کے کمرے سے نکل جانے کے بعد وہ گھر واپس چلی گئی۔ اماں اور جائی یانہ نے روکا مگر اس نے نہیں سنی۔ اس نے ڈرائیور کو بلایا اور اس کے ساتھ واپس زینب کے گھر چلی گئی۔
اس نے جیسے ہی گھر کا دروازہ کھولا، اس کا زینب سے سامنا ہوا۔ وہ اسے دیکھ کر حیران ہوئیں۔ عزاہ کا چہرہ ابھی تک اترا ہوا تھا۔
"تم اتنی جلدی کیوں آگئی؟" زینب نے حیرت سے پوچھا۔
"ان لوگوں کو شاپنگ پر جانا تھا۔ میری وجہ سے انہیں دیر ہو رہی تھی، اس لیے جلدی آگئی۔" عزاہ نے بہانہ بنایا۔
"اچھا!" زینب نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔ پھر پوچھا۔
"تم نے آج جو گھر میں ہوا اس کے بارے میں تو کسی کو کچھ نہیں بتایا ناں؟"
"نہیں!"
نفی میں سر ہلانے کے بعد، پھپھو کو وہی کھڑا چھوڑ کر، عزاہ سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں پہنچ گئی۔ اس نے دروازہ بند کردیا اور صوفے پر اپنا پرس رکھ کر خود بھی وہی بیٹھ گئی۔
اس کی آنکھوں کے سامنے صبح کا منظر گھوما۔
(پورا گھر ڈائننگ ہال میں بیٹھا ناشتہ کرنے میں مصروف تھا۔ اسی وقت عزاہ کو کھانا کھاتے ہوئے کھانسی آگئی۔ زینب نے جلدی سے عزاہ کو پانی کا گلاس دیا۔ کچھ دیر میں عزاہ سنبھل گئی۔
"تمہاری طبیعت ٹھیک ہے عزاہ؟" زینب نے اسے متفکر نگاہوں سے دیکھا۔
"جی بس گلے میں خراش ہے۔" عزاہ نے گلے کو مسلتے ہوئے کہا۔
"امم ہمم اچھا!" زینب نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔
"بھائی آپ عزاہ کا خیال نہیں رکھتے۔" نمرہ کا ہاتھ عزاہ کے کندھے پر تھا۔
"اتنا آرام تو اسے دیا ہوا ہے۔ اب اسے خود ہی مظلوم بننے کی عادت ہے تو میں کیا کروں؟" شایان نے ناگواری سے کہا۔
"شایان تمیز سے بات کرو۔ بیوی ہے تمہاری!" زینب نے شایان کو ٹوکا۔
"جی سارے ادب و آداب کے لیکچر تو میرے لیے ہی لکھے ہیں۔ باقی سب تو یہاں بہت تمیز دار ہیں۔" شایان اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور ڈائننگ ہال سے باہر نکل گیا۔
"جا کر اسے روکو!" زینب نے عزاہ کو کہا۔ عزاہ یہ سن کر کشمکش کا شکار ہوگئی۔ وہ جانا نہیں چاہتی تھی لیکن پھپھو کو منع کیسے کرتی۔
آخرکار ہمت کرکے وہ اٹھئ اور شایان کو بلانے کے لیے چلی گئی۔ اس نے شایان کو سیڑھیوں پر سے اترتے دیکھا۔ وہ آفس کا بیگ اور فائلز اٹھانے کمرے میں گیا تھا۔
وہ شایان کے پاس گئی۔
"شایان پھپھو نے آپ کو بلایا۔۔" شایان نے عزاہ کی بات مکمل نہ ہونے دی۔
"اوہ پلیز اپنی ڈرامے بازی ماما کو دکھایا کرو۔ وہ ہی یہ سب برداشت کر سکتی ہیں۔ میرے پاس اتنا حوصلہ نہیں کہ تمہاری شکل بار بار دیکھوں۔" شایان کا چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا۔ "تم نے میری زندگی خراب کر دی ہے۔ پہلے میری زندگی کی خوشیاں تمہاری بدکردار بہن کھا گئی اور اب تم میرے گھر والوں کو مجھ سے بدگمان کرنے لگ گئی ہو۔ آخر میں نے تم لوگوں کا بگاڑا کیا تھا۔" شایان کی آواز اتنی اونچی تھی کہ زینب اور نمرہ بھی ڈائننگ ہال سے باہر نکل آئے۔
"کاش تم میری زندگی میں آئی ہی نہ ہوتی۔ پتہ نہیں کونسی منحوس گھڑی تھی جب تمہارے باپ نے تمہیں میرے سر پر مسلط کردیا تھا۔ اتنی ذلت سہنے کے بعد بھی تم اپنے گھر واپس نہیں جاتی۔ پتہ نہیں کیسی عورت ہو تم!"
آخری بات شایان نے حد درجہ حقارت سے کہی تھی۔ اس کے بعد وہ کسی کو دیکھے بنا گھر کے داخلی دروازے کی جانب بڑھ گیا۔ زینب نے شایان کو روکنے کے لیے لب کھولیں مگر پھر دوبارہ بند کردیے۔ نمرہ پریشانی اور کسی قدر خوف سے سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ شایان نے گھر کا بیرونی دروازہ زور سے بند کردیا۔ عزاہ کو اپنی بصارت دھندلی ہوتی دکھائی دی۔ کچھ دیر تک عزاہ دروازے کو تکتی رہی۔ اسے ہوش تب آیا جب کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکا۔ عزاہ کو کرنٹ لگا۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو اسے پھپھو اپنے پاس کھڑی ملیں جبکہ نمرہ ماں کے پیچھے کھڑی تھی۔ اسے ملازم بھی دکھائی دینے لگے جنہوں نے یہ تماشا کان لگا کر سنا تھا۔
عزاہ کو بے تحاشا ہتک محسوس ہوئی۔ اس نے زینب کا ہاتھ نرمی سے اپنے کندھے سے ہٹایا اور کسی کو دیکھے بغیر اپنے کمرے میں چلی گئی۔)
منظر ابھر کر معدوم ہوا اور عزاہ اپنے حال میں واپس آگئی۔ صبح ہوئے واقع کی وجہ سے اس کا دل کافی بوجھل تھا۔ اس نے سوچا تھا اپنی ماں یا بہن سے بات کرکے اپنا دل ہلکا کرلے گی مگر وہاں بھی اس کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
شوہر کے نزدیک باپ کا گھر اس کا گھر تھا اور باپ کے نزدیک شوہر کا گھر اس کا گھر تھا لیکن دونوں گھر ہی اس کے گھر نہیں تھے۔ دونوں مرد اس کے محرم تھے مگر دونوں اس کے محرم نہیں بن پائے۔ شوہر اور باپ دونوں کے دلوں پر وہ کبھی راج ہی نہیں کرپائی۔ دونوں میں سے وہ کسی کی ذمہ داری نہیں تھی۔
********************
نکاح کا دن
اشفاق کے گھر پر آج کا دن کافی حبس زدہ اترا تھا۔ جائی یانہ کا ذہنی تناؤ عروج پر تھا۔ اس نے ناشتہ اور دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ اس کا کمرہ اس وقت تاریکی کا شکار تھا۔ اس نے بیڈ کے اوپر موجود کھڑکی کے پردے نہیں ہٹائے تھے۔ وہ کچھ دیر کے لیے اس اندھیرے میں گم ہوجانا چاہتی تھی۔ اسے نچلی منزل کی گہما گہمی اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے ایک نظر دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھا جو دوپہر کے دو بجنے کا عندیہ اسے سنا رہی تھی۔ پانچ بجے میک اپ آرٹسٹ نے اسے تیار کرنے پہنچ جانا تھا۔ اس کے پاس اس تنہائی میں زندگی گزارنے کے صرف کچھ گھنٹے باقی تھے۔ اس کے بعد اس کی زندگی تہس نہس ہونے کی تیاریاں شروع ہو جائیں گی۔ اس کا دماغ سن ہوئے جا رہا تھا۔
اس نے نائلہ سے بھی کوئی بات نہیں کی تھی۔ نوال کی ہدایت کے مطابق اس نے سات دن زیادہ تر کمرے میں بند رہ کر کاٹے تھے۔ اس نے نوال اور اشفاق سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ بس چلتے ہوئے وہ لوگ سرسرے انداز میں اس کی طرف دیکھ لیتے تھے۔
وہ نوال کے تھپڑ مارنے پر اب غصہ نہیں تھی لیکن اسے ابھی بھی دکھ تھا کہ اس کی ماں نے ام ہانی کو اس پر ترجیح دی تھی۔ خالہ کی لالچ دیکھ کر بھی اس کی ماں نے ان کی طرف داری کی۔ اسے عالیہ کے بھاگنے پر اس طرح مجرم سمجھا جا رہا تھا جیسے جائی یانہ نے عالیہ کی بھاگنے میں مدد کی ہو۔ اس ایک ہفتے میں اس کا دل عالیہ کے نام تک سے نفرت کرنے لگ گیا تھا۔ عالیہ کی خود غرضی اس کی دونوں بہنوں پر عذاب بن گئی تھی۔ کیا ہوتا اگر وہ خاموشی سے شایان سے نکاح کر لیتی؟ ان دونوں کی جان تو یوں عذاب میں نہ آتی۔
***********
اب اگر ہم آپارٹمنٹ میں عالیہ کو دیکھنے آئیں، تو وہ اس وقت ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے کالے رنگ کی اسٹائلش فراک پر کالے رنگ کا پاجامہ پہنا ہوا تھا۔ اس نے لال رنگ کا ٹنٹ اپنے گالوں اور ہونٹوں پر بلینڈ کر لینے کے بعد اپنا چہرہ دیکھا۔ اس نے آج بہت ہلکا میک اپ کیا تھا۔ وہ جانے کے لیے بالکل تیار تھی۔
آج اسے اپنی دوست فاطمہ سے ملنا تھا۔ وہ اسے کل ہی شاپنگ مال میں ملی تھی جب آریان اور عالیہ شاپنگ کر رہے تھے۔ فاطمہ کو عالیہ کے گھر چھوڑ کر چلے جانے کا پتہ تھا اور اسی سلسلے میں وہ اس سے تفصیل پوچھنا چاہتی تھی۔ آریان اس وقت عالیہ کے پاس نہیں موجود نہیں تھا بلکہ کال پر بات کر رہا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا عالیہ فاطمہ سے بات کر رہی تھی۔ عالیہ نے آریان کو دیکھتے ہوئے اسے کل ریستوران میں ملنے کا کہہ دیا تھا۔ وہ اس سے اکیلے میں بات کرنا چاہتی تھی۔
جہاں تک معاملہ عالیہ اور آریان کی لڑائی کا تھا تو دونوں نے دو دن بعد ہی دوبارہ بات چیت کرنا شروع کر دی تھی۔ ان دونوں نے اس دفعہ ایک دوسرے سے معافی نہیں مانگی تھی بلکہ خاموشی سے ایک ساتھ پہلے کی طرح رہنے لگ گئے تھے۔
آریان اپنے کسی دفتری کام کے سلسلے میں آج کراچی گیا تھا۔ اس کی واپسی شام تک متوقع تھی۔ عالیہ کو یہ وقت باہر جانے کے لیے بہت اچھا لگا تھا۔ ویسے بھی اب اسے آریان کو بتانا نہیں پڑے گا وہ فاطمہ سے ملنے گئی تھی ورنہ وہ اسے پرانی دوستوں سے ملنے پر ضرور منع کرتا۔
عالیہ نے اپنا بیگ اٹھایا اور اپنے بالوں کو کمر پر گرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا۔ وہ جیسے ہی اپارٹمنٹ سے باہر نکلی، اسے تیز گرم لو اپنے انتظار میں کھڑی ملی۔ وہ گرمی کو برداشت کرتی اپنی دوست سے ملنے کے لیے جانے لگی۔
*******************
عزاہ اس وقت الماری کے سامنے کھڑی تھی۔ الماری میں کپڑے سلیقے سے رکھے ہوئے تھے۔ عزاہ مایوس نگاہوں سے کپڑوں کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے پاس کہنے کو تو بہت سے کپڑے تھے مگر آج جائی یانہ کے نکاح کی تقریب میں پہننے کے لیے کوئی بھی لباس اسے مناسب نہیں لگ رہا تھا۔ اسے خود پر غصہ بھی آ رہا تھا کہ کاش یہ کام وہ کل یا پرسوں کر لیتی تاکہ کوئی ڈھنگ کا جوڑا خرید لاتی۔
جب پوری الماری کا جائزہ کر لینے کے بعد کچھ بھی آج کی تقریب میں پہننے کے لیے موزوں نہ لگا تو اس نے بیزاری سے الماری کا پٹ بند کردیا۔
وہ بیڈ کے پاس آئی اور دھم سے بیٹھ گئی۔ دوپہر کے دو بج رہے تھے۔ پانچ بجے تک اسے اپنے ماں باپ کے گھر جانا تھا۔ آخر کو اس کی بہن کا نکاح تھا۔ اب اتنی سی دیر میں وہ اپنے ناپ کے کپڑے کہاں سے ڈھونڈیں گی۔
وہ کسی سے مانگ بھی نہیں سکتی تھی۔ ایک سیکنڈ۔۔۔!
عزاہ کے دماغ کی سوئی اس پر اٹک گئی۔ وہ ایک شخص سے مانگ سکتی تھی۔ وہ فوراً سے بیڈ پر سے اٹھی۔ کچھ دیر پہلے والی بیزاری غائب ہوگئی تھی۔ وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی۔ کمرے کے باہر راہداری میں ملازمہ اس کی مخالف سمت سے آ رہی تھی۔
"سنو! نمرہ کہاں پر ہے؟" عزاہ رک گئی اور ملازمہ سے پوچھا۔ ملازمہ بھی بات کا جواب دینے کے لیے رک گئی۔
"بی بی جی! نمرہ بی بی تو صبح سے باہر گئی ہوئی ہیں!" عزاہ کا چہرہ تھوڑا سا اتر گیا۔
"اس نے بتایا تھا وہ کتنی دیر میں آئے گی؟" عزاہ نے پوچھا۔
" نہیں بی بی جی! یہ تو نہیں بتایا۔" ملازمہ کا نفی میں ہلتا سر دیکھ کر عزاہ کا چہرہ مزید اتر گیا۔
"اچھا تم جاؤ، اپنا کام کرو اور نمرہ جیسے ہی گھر آئے مجھے فوراً بتانا۔" ملازمہ سر ہلاتے ہوئے اس کے پاس سے ہو کر آگے چلی گئی جبکہ عزاہ منہ بناتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
********************
عالیہ اسی ریستوران کے سامنے کھڑی تھی جہاں آریان اور عالیہ شادی سے پہلے ایک دوسرے سے ملا کرتے تھے۔ اس نے فاطمہ کو بھی اسی ریستوران میں آنے کا کہا تھا۔ عالیہ جیسے ہی ریستوران میں داخل ہوئی بھوری دیواروں والے ریستوران نے اے سی کی ٹھنڈی ہوا سے اس کا استقبال کیا۔ ریستوران میں آج ضرورت سے زیادہ رش تھا۔ وہ آگے بڑھ کر اپنے لیے ایک خالی میز تلاش کرنے لگ گئی۔ آخر کار اسے بالکل آخر میں ایک میز مل گئی۔ اس کے پیچھے والی میز بھی اس وقت خالی تھی۔ عالیہ کونے والی میز پر بیٹھ گئی اور ادھر ادھر جھانکا۔ عالیہ جس میز پر بیٹھی تھی یہاں سے ریستوران میں آتا ہوا کوئی بھی شخص اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔ یہاں تک کہ قریب والی میز پر بھی جب تک کوئی اس پر غور نہیں کرتا, اسے دیکھ نہیں سکتا تھا مگر وہ یہاں پر آرام سے سب کو دیکھ سکتی تھی۔ کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد عالیہ کے موبائل پر میسج آیا جسے دیکھ کر عالیہ کا منہ بن گیا۔
"عالیہ مجھے ایک ضروری کام ہے۔ میں آج نہیں آ پاؤں گی۔"
اس کا اتنی گرمی میں یہاں آنے کا کیا فائدہ ہوا۔ عالیہ نے بیزاری سے فون پرس میں ڈالا اور جانے لگی۔ تبھی اس کی پچھلی میز کی کرسیاں پیچھے کھسکتی سنائی دیں اور شناسا آوازیں کانوں میں گونجی۔ عالیہ کی اس میز کی جانب پشت تھی۔ اس لیے وہ انہیں دیکھ نہیں سکتی تھی لیکن یہ دونوں آوازیں شناسا تھیں۔
"اسے کیا بول کر آئے ہو تم؟" زنانہ آواز اس کی سماعت میں گونجی۔
"اسے بتایا ہے میں کام سے کراچی گیا ہوں۔" مردانہ آواز سن کر عالیہ کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔
"تم نے صحیح کیا۔ اس طرح تم آج امی جان کے ساتھ رہو گے۔" زنانہ آواز نے امی جان کافی تعظیم سے کہا تھا۔
"شام کو واپس اس مصیبت کے پاس جانا ہے۔" مردانہ آواز میں اب بیزاری پھیل گئی تھی۔"ویسے اس کی دوسری بہن کا تم کیا کرو گی؟"
"ہاں اس کو میں دوسرے نمبر سے کچھ ایسے میسجز کروں گی جس سے اس کے شوہر کو لگے گا، اس کا کسی لڑکے کے ساتھ افئیر ہے۔ میں پوری کوشش کروں گی میرے میسجز اس کے شوہر کی موجودگی میں اس تک پہنچیں اور اس کا شوہر دیکھ پائے لیکن اگر وہ نہ بھی دیکھ پایا تو بھی اس کے شوہر کو میسجز دکھانے کا موقع میں کسی طرح ڈھونڈ ہی لوں گی۔" زنانہ آواز میں اب ایک عزم تھا۔ "اب تم بتاؤ، تم نے اپنے اس کزن کو شیشے میں اتار لیا ہے؟وہ ہمارا کام تو کر دے گا ناں؟"
"ہاں وہ کردے گا۔ تم بے فکر ہوجاؤ۔" اس دفعہ مرد نے سامنے موجود لڑکی کو تسلی دی۔
"تمہیں یقین تو ہے نا؟ ایسا نہ ہو وہ اپنی بہن کو سب پہلے سے بتا دے اور تقریب میں جائے بغیر ہی اس کی بہن اس کی باتوں پر یقین کر بیٹھے۔"
"فکر نہ کرو۔ اس کی بہن پیار میں اندھی اور اول درجے کی بیوقوف ہے۔ وہ اس سے ثبوت ضرور مانگے گی اور میں نے اسے بول دیا ہے ثبوت اسے تب ہی ملیں گے جب وہ ہماری بات مانے گا۔" اس کا لہجہ پر اعتماد تھا۔
"اچھا!" زنانہ آواز ابھی بھی تذبذب کا شکار تھی۔ پھر اس نے موضوع بدل دیا۔
"اور تمہاری بیوی؟ اس کا بتاؤ۔ اسے تو شک نہیں ہوا نا؟ ایسا نہ ہو وہ ہمارا بنا بنایا کھیل بگاڑ دے۔" عورت کی بات سن کر مرد نے تیز آواز میں قہقہہ لگایا۔ اس قہقہے میں موجود تضحیک کسی بھی سننے والے کو محسوس ہو سکتی تھی۔ عالیہ کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگے۔
"اس پاگل عورت کو کبھی مجھ پر شک نہیں ہو سکتا۔ اس کی سوئی تو بس اسی پر اٹکی رہتی ہے ماما کو منا لو! ماما کو منا لو!" اس آدمی نے ایک زنانہ آواز کی نقل اتاری۔
"اس کی سوئی اس پر سے ہٹے گی تو وہ اپنی ناک کے نیچے ہوتے تماشے دیکھ پائے گی؟"
"چلو اچھی بات ہے۔ اسے اسی بات پر الجھا رہنے دو۔ وہ ویسے بھی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو لے کر زیادہ پریشان ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے یہی بہتر ہے۔" لڑکی کی آواز بھی اب بے فکر تھی۔
"ویسے کام ہونے کے بعد تم اسے اپنے ساتھ رکھو گے؟"
"بس رہنے دو۔ اتنا عرصہ رہ لیا یہی بہت ہے۔" اس دفعہ آدمی نے کچھ اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔
"تم تو کہتے تھے تمہیں اس سے محبت ہے۔ تم نے تو اس کے حسن پر غزلیں پڑھی ہیں۔" اس دفعہ لڑکی کی آواز میں شوخی تھی۔ صاف ظاہر تھا وہ سامنے موجود شخص کو چڑا رہی تھی۔
"میں نے بس لفظوں کے ذریعے اسے شیشے میں اتارا ہے۔ عورتیں بہت بیوقوف ہوتی ہیں۔ وہ زبانی وعدوں اور تھوڑی سی توجہ کو محبت مان بیٹھتی ہیں۔ ایسی عورتوں کو پگھلانے کے لیے بس مرد کے پاس اچھے اور خوبصورت الفاظ ہونے چاہیے۔ مرد کے پاس جتنے اچھے الفاظ، عورت کے نزدیک اتنی سچی محبت!" لہجے میں تضحیک ہی تضحیک تھی۔ "میں ایسی عورت سے کیوں محبت کروں جو محبت کو گھر والوں کی عزت پر ترجیح دیتی ہو؟"
عالیہ کا دماغ گھوم گیا۔ اب پچھلی میز پر سے کیا آوازیں آ رہی تھی۔ وہ لوگ کیا باتیں کر رہے تھے۔ اسے کچھ سنائی نہیں دے پا رہا تھا۔ اس کا دماغ الٹ رہا تھا۔
"امی جان ہم دونوں سے بہت خوش ہیں۔ اشفاق کا خاندان تباہ کرکے ہی ان کا بدلہ پورا ہوگا۔"
"ویسے یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا میری کوئی بہن ہوگی اور وہ اتنی چالاک ہوگی۔"
ایک سیکنڈ کیا اس مرد نے اپنے ساتھ موجود لڑکی کو بہن کہا تھا۔ عالیہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ اسے لگا شاید یہ سب اس کے کانوں کا دھوکا ہو۔ اسے اپنے پیچھے وہ دونوں دکھائی دئیے۔ ایک وجیہہ مرد اور اس کے سامنے بیٹھی لڑکی جو لڑکے کو بھائی پکار کر کوئی بات کر رہی تھی۔
یہ سب کیا تھا۔ مطلب یہ سب کیسے ہو سکتا تھا۔ وہ میز پر سے کھڑی ہوگئی مگر دماغ ابھی تک سن تھا۔
اس کے دماغ میں بس بیوقوف لفظ گونج رہا تھا۔ وہ غائب دماغی سے چلنے لگی۔ وہ کب ریستوران سے نکلی، کب اس نے سڑک پار کی، کس طرح وہ پارک میں پہنچی اور کب اس نے بنچ پر بیٹھنے کا سوچا اسے کچھ معلوم نہیں تھا۔
گرم دوپہر اب کہیں بھی نہیں تھی۔ بینچ پر چاروں طرف دھوپ کی روشنی تھی مگر اسے ہر طرف اندھیرا چھاتا دکھائی دے رہا تھا۔ اپنے ہاتھ میں جگمگاتی انگوٹھی کو دیکھ کر اس کے دل میں ضربیں لگنا شروع ہوگئیں۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا یہ سب اس کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ اس نے ایسا تو کبھی بھی نہیں سوچا تھا۔ اس مرد تک تو یہ بات ٹھیک تھی مگر وہ لڑکی!
وہ لڑکی۔۔۔۔!
*********************
حبس زدہ دن کی حبس زدہ شام آسمان پر اتر آئی تھی۔ پورا ماحول گھٹن کا شکار تھا۔ ہر ذی روح کی جان نڈھال ہو رہی تھی۔
تقریب گھر کے لان میں ہونی تھی۔ دولہا دلہن کے لیے اسٹیج بھی بنایا گیا تھا جسے لال رنگ کے قالین نے ڈھانپ دیا تھا۔ اسٹیج کے پچھلی طرف لکڑی کے ایک بڑے تختے سے دیوار بنا دی گئی تھی اور اس کے کناروں کو لال اور سنہری پھولوں سے بھر دیا تھا۔ اس کے بالکل درمیان میں "نکاح مبارک" کے الفاظ سنہرے رنگ میں لکھے گئے تھے۔ سفید شلوار قمیض پہنے اشفاق اور بلیک تھری پیس سوٹ پہنے رضوان اپنی زیر نگرانی ملازمین سے کام کروا رہے تھے۔ مہمان اب بس آنے ہی والے تھے۔
گھر کے اندر آتے جائی یانہ اپنے کمرے میں بند، میک اپ آرٹسٹ سے تیار ہو رہی تھی بلکہ اب تو ہو بھی چکی تھی۔ اس نے اسکن رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا جس پر مختلف رنگوں سے کڑاہی ہوئی تھی۔ میک اپ عام دنوں کے لحاظ سے کچھ زیادہ تھا۔ بالوں کو عجیب طرح سے اسٹائل دے کر کھلا چھوڑا ہوا تھا۔ میک اپ آرٹسٹ اس کے سر پر دوپٹہ سیٹ کر رہی تھی۔ سر پر دوپٹہ سیٹ کرنے کے بعد، میک اپ آرٹسٹ اپنا سامان سمیٹنے لگ گئی۔ اسی وقت اماں کمرے میں آئیں۔ انہوں نے لان کا برینڈڈ تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا۔ لباس کا رنگ سفید تھا۔ سر پر دوپٹہ اچھے سے جما تھا اور چہرا بے تاثر تھا۔ انہوں نے پہلے جائی یانہ کو، پھر سامان سمیٹتی میک اپ آرٹسٹ کو دیکھا۔ پھر وہ کچھ دیر کے لیے خاموش رہیں اور میک اپ آرٹسٹ کے جانے کا انتظار کرنے لگیں۔
جیسے ہی میک اپ آرٹسٹ کمرے سے باہر گئی، جائی یانہ کھڑی ہوگئی۔ ہیل پہننے کی وجہ سے وہ کافی دراز قد دکھائی دیتی تھی۔ وہ قدم قدم بڑھی اور ماں کے سامنے کھڑی ہوگئی۔
نوال اپنی سنہری آنکھوں سے سانولی رنگت والی لڑکی کو دیکھے گئیں۔
"اب تمہاری شادی عیسیٰ سے ہوجائے گی رخصتی بھلے ابھی نہیں ہو رہی ہے مگر اب وہ تمہارا شوہر ہے۔ تم نے اس کی ہر۔۔۔"
جائی یانہ نے سپاٹ انداز میں ماں کی بات کاٹی۔
"جانتی ہوں! اس کی ہر بات ماننی ہے۔ وہ اگر مارے تو اسے اس کا احسان سمجھوں۔ اپنی خواہشات، اپنے خواب قبول ہے کہہ کر دفن کردوں۔ عیسیٰ کو اپنا سب کچھ تسلیم کرلوں۔ جانتی ہوں!"
نوال نے تاسف سے بیٹی کو دیکھا۔
"تم بلا وجہ بیچارے بچے سے بدگمان ہو۔"
جائی یانہ یہ بات سن کر طنزیہ مسکرائی۔
"خدا کرے آپ کو کبھی پتہ چلے اس سب صورتحال میں بیچارا کون تھا۔"
اس کے بعد جائی یانہ دوبارہ سنگھار میز کے سامنے رکھے اسٹول پر بیٹھ گئی۔ نوال کچھ دیر تک اسے دیکھتی رہیں۔ پھر کمرے سے چلی گئیں۔
جائی یانہ نے دیکھا چھ بج رہے تھے۔ بس اب شاید ایک گھنٹے کی مہلت باقی تھی۔ اس کے بعد سب کچھ بدل جائے گا۔ جائی یانہ بالکل صحیح تھی کیونکہ اس کی زندگی واقعی میں بدلنے والی تھی۔
********************
سنہرے رنگ کی بندیا ماتھے پر سجاتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو دیکھا۔ سنہری آنکھوں پر لگے لائنر اور مسکارے نے آنکھوں کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیا تھا۔ ہونٹوں پر لگے شوخ لال رنگ کی لپ اسٹک، گالوں پر لگا بلش آن اپنی جگہ پر جما ہوا تھا۔ سیاہ رنگ کے بال بیچ کی مانگ نکال کر کھلے چھوڑے تھے۔ عزاہ اپنا چہرہ دیکھ لینے کے بعد میز پر رکھی اپنی چوڑیاں پہننے لگ گئی۔
اس نے لال رنگ کی انارکلی فراک پہنی ہوئی تھی۔ وہ بالکل تیار تھی۔ اس نے گردن موڑ کر وقت دیکھا۔ چھ بچ چکے تھے۔ اب اسے نکل جانا چاہیے تھا مگر شایان ابھی تک گھر نہیں پہنچا تھا۔ آفس سے آنے کے بعد شایان تیار ہونے میں بھی دیر لگائے گا۔ یوں تو وہ بہت دیر ہو جائے گی۔ اس کا موڈ خراب ہونے لگا تھا۔ اسی وقت نمرہ کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے نیلے رنگ کی ریشمی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ اس نے آڑھی مانگ نکال کر کرلز کیے ہوئے تھے اور چہرے پر ہلکا میک اپ کیا تھا۔
"تمہیں فراک فٹ آگئی؟" نمرہ نے عزاہ کی فراک کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"ہاں تمہارا شکریہ!" عزاہ کی بات سن کر نمرہ مسکرائی۔
"کوئی بات نہیں!" اس کے بعد نمرہ بولی۔" ماما اور میں تو جا رہے ہیں۔ ہم تمہیں بھی ساتھ لے کر جانا چاہتے تھے مگر بھائی کی ابھی ابھی کال آئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے انہیں دیر ہو جائے گی مگر تم ان ہی کے ساتھ جاؤ گی۔ ماما نے تو انہیں بہت سمجھایا مگر انہوں نے ایک نہیں سنی اور کال کاٹ دی۔"
عزاہ کا چہرہ یہ سن کر اتر گیا۔ نمرہ نے اس کے تاثرات دیکھے تو بولی۔
"اگر تم چاہو تو ماما تمہیں ساتھ لے جائیں گی۔ بعد میں ہم لوگ شایان بھائی سے خود بات کرلیں گے۔"
عزاہ نے نمرہ کی پیشکش ٹھکرا دی۔
"نہیں تم لوگ چلے جاؤ۔ شایان بہت غصہ ہونگے اور ویسے بھی اگر میں شایان کے بغیر گئی تو سب باتیں بنائیں گے۔"
"اچھا ٹھیک ہے۔" نمرہ یہ کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئی۔ عزاہ اپنی جگہ پر گم سم کھڑی رہی۔
کچھ دیر بعد وہ کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑی نمرہ اور زینب کی گاڑی کو پورچ میں سے باہر جاتا دیکھ رہی تھی۔ اس کا دل بہت بھاری ہونے لگا۔ وہ جتنا جلدی جانا چاہتی تھی، اتنی ہی اسے پہنچنے میں دیر ہو رہی تھی۔
********************
تقریب کا آغاز ہوگیا تھا۔ گھر میں مہمانوں کی آمد شروع ہوگئی۔ مہمانوں کو بٹھانے کے لیے لان میں میز اور کرسیاں لگائی گئی تھیں۔ ام ہانی کے اصرار کے باوجود اشفاق نے زیادہ لوگوں کو مدعو نہیں کیا تھا۔
اسی پل زینب اور نمرہ بھی دور سے آتی دکھائی دیں۔ نوال زینب کو آتا دیکھ کر ان کے پاس گئیں اور سلام کیا۔ حال احوال پوچھ لینے کے بعد نوال نے زینب کے پیچھے جھانکتے ہوئے پوچھا۔
"عزاہ نہیں آئی؟"
"نہیں بھابھی وہ شایان کے ساتھ آئے گی۔" زینب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "شایان تو پتہ نہیں کب آتا، اس لیے ہم لوگ جلدی نکل گئے۔"
"تم نے اچھا کیا۔" نوال یہ کہہ کر دوسرے مہمانوں کی جانب متوجہ ہوگئیں۔
********************
سات بج گئے تھے اور شایان ابھی تک نہیں آیا تھا۔ عام دنوں میں شایان سات بجے سے پہلے آ جایا کرتا تھا مگر شاید آج وہ جان بوجھ کر دیر کر رہا تھا۔ عزاہ کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی۔
بیڈ پر رکھا اس کا موبائل تھرتھرایا۔ وہ فوراً سے موبائل کی جانب لپکی۔ شایان اسے کال کر رہا تھا۔ اس کے دل کو تسلی ہوئی۔
اس نے کال اٹھائی اور "آپ کہاں ہیں؟" بولنا چاہا لیکن اس سے پہلے شایان درشتگی سے بولا۔
"اپنے کپڑے تبدیل کرلو۔"
عزاہ نے نا سمجھی سے موبائل کو دیکھا پھر اسے دوبارہ کانوں میں لگایا۔
"جی؟؟"
"میں نے کہا اپنے کپڑے تبدیل کرلو، جیولری اتارو اور میک اپ صاف کرو۔" شایان نے چبا چبا کر کہا۔
"آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ ہمیں پہلے ہی دیر ہو رہی ہے، اب میں کپڑے تبدیل کیوں کروں؟" عزاہ کے لہجے میں ہلکا سا غصہ جھلکا۔
"پہلی بات تو یہ ہے تم مجھ سے ایسے میں بات نہیں کر سکتی اور دوسری بات ہم کہیں نہیں جا رہے۔"
"کیا مطلب؟" عزاہ کا چہرہ اس وقت دیکھنے لائق تھا۔
"مطلب صاف ہے ہم دونوں میں سے کوئی بھی تمہاری بہن کے نکاح پر نہیں جا رہا۔ میں دس منٹ میں گھر آجاؤں گا۔ میں گھر آؤں تو تم مجھے عام حلیے میں دکھائی دو اور اگر تم نے میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم بھی رکھا، تو پھر میرے گھر دوبارہ آنے کی غلطی نہ کرنا۔" شایان نے سرد لہجے میں کہا۔
عزاہ نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے مگر شایان کال کاٹ چکا تھا۔ عزاہ نے موبائل بیڈ پر پھینک دیا۔ اس کو شدید غصہ آ رہا تھا۔ اس کا چہرہ لال تھا اور آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ وہ سنگھار کے سامنے کھڑی ہوئی اور اپنی جیولری اتار کر اس پر پٹکنے لگی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلا جس نے اس کے مسکارے کو پھیلا دیا تھا لیکن عزاہ کو اب کوئی پروا نہیں تھی۔ اس کی زندگی سہی برباد ہوئی تھی۔ وہ جائی یانہ کے نکاح میں جانے کے لیے اتنا پرجوش تھی مگر شایان نے اس کی ساری خوشی خراب کر دی۔ جیولری اتار دینے کے بعد وہ پیر پٹختی ہوئی واش روم میں چلی گئی۔ آج وہ شایان سے دو ٹوک بات کرکے ہی رہے گی۔
*******************
عالیہ عمارت کی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپارٹمنٹ کے دروازے تک پہنچی۔ اس نے غائب دماغی سے اپارٹمنٹ کی چابیاں اپنے پرس سے نکالی مگر جیسے ہی اس نے کی ہول میں چابی ڈالی، دروازہ خود آگے کی طرف بڑھ گیا۔ عالیہ نے سپاٹ چہرے سے دروازہ کھولا اور اندر پہنچی۔ اندر آکر وہ سیدھا چلتی ہوئی کمرے کی جانب بڑھی۔ کمرے میں اسے اپنا شوہر ادھر ادھر اضطراب سے چلتا دکھائی دیا۔ اسے دیکھ کر وہ پہلے چونکا اور پھر غصے سے بولا۔
"یار حد ہوتی ہے۔ بندہ کہیں جاتا ہے تو کال تو اٹھاتا ہے۔ ایک گھنٹے سے میں یہاں پر تمہارا انتظار کر رہا ہوں مگر تمہارا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں ہے۔"
آریان ابھی بھی اسے بہت کچھ کہہ رہا تھا مگر عالیہ سن نہیں پا رہی تھی۔ عالیہ نے آریان کو غور سے دیکھا۔ عالیہ کو لگا اس نے پہلی بار اس شخص کو دیکھا تھا۔ اس شخص کے وجیہہ نقوش جو بہت سی عورتوں کو اپنی جانب کھینچتے تھے، آج عالیہ کو بھیانک لگ رہے تھے۔
"تم کہاں تھے؟" عالیہ نے سپاٹ انداز میں پوچھا۔
آریان جو اسے ڈانٹ رہا تھا، ایک دم چونکا۔ عالیہ کے سوال سے زیادہ اس کے انداز نے آریان کو ٹھٹھکایا تھا۔
"کیا مطلب ہے؟ میں کراچی گیا تھا تمہیں بتایا تو تھا۔" آریان نے گڑبڑا کر کہا۔
ساری امیدیں اب ختم ہوگئی تھی۔ سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ آریان کے جھوٹ نے ان سب باتوں پر مہر لگا دی تھی جو وہ سن کر آئی تھی۔
عالیہ تلخی سے مسکرائی۔
"اچھا مگر میں نے تو تمہیں ریستوران میں تمہاری بہن سے باتیں کرتے سنا ہے۔" عالیہ کی بات سن کر آریان کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔ اس نے عالیہ کو ایسے دیکھا جیسے اس کے سامنے موجود لڑکی کوئی بھی ہو سکتی ہے مگرعالیہ نہیں۔
"تم تم یہ کیسے۔۔۔" آریان نے فوراً اپنی بات بدلی۔ یوں تو وہ کھلے عام تصدیق کر رہا تھا مگر عالیہ اس کا سوال پورا ہونے سے پہلے سمجھ چکی تھی۔
"تم یہ کیسی باتیں کر رہی ہو؟" اس نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔ عالیہ نے اس کے چہرے کو دیکھا جس پر چوری پکڑے جانے کا صاف صاف اعلان تھا۔
عالیہ خاموشی سے اس کے سامنے سے ہٹی اور الماری کے اوپر رکھے بیگ کو بمشکل اٹھایا۔ بیگ کو اس نے بیڈ پر رکھا اور زپ کھولی۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھی اور الماری سے کپڑے نکالنے لگی۔ آریان نے عالیہ کو یوں بیگ میں کپڑے ڈالتے دیکھا تو بوکھلا گیا۔
"عالیہ! عالیہ! تم یہ سب کیا کر رہی ہو؟ یار تم نے پتہ نہیں کس کی باتیں سن لی ہے اور اسے مجھ سے ملا لیا ہے۔"
"میں وہی کر رہی ہوں جو مجھے بہت پہلے کرنا چاہیے تھا۔ میں جان چکی ہوں تم نے مجھے اپنے لفظوں سے بہت بیوقوف بنایا ہے مگر اب میں تمہیں کوئی موقع نہیں دوں گی۔" عالیہ اپنے کپڑے، بیگ میں بغیر کسی سلیقے کے ڈال رہی تھی۔
"عالیہ تم کہیں نہیں جاؤ گی۔" آریان نے عالیہ کا بازو زور سے پکڑا۔ عالیہ نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑوایا۔
"میرے جو دل میں آئے گا میں وہی کروں گی۔ میں تمہاری غلام نہیں ہوں۔" یہ کہہ کر عالیہ نے ایک فائل پکڑی جس میں اس کے ضروری ڈاکیومنٹس تھے۔ اسے بیگ میں ڈال کر بیگ کی زپ بند کری۔ آریان کو دیکھے بنا اس نے بیگ پکڑا اور جانے لگی۔
آریان نے پیچھے سے آواز دی۔
"تم کیا سمجھتی ہو تمہارا باپ تمہیں گھر میں گھسنے دے گا؟ وہ تمہیں جان سے مار دے گا۔"
عالیہ رکی اور مڑ کر آریان کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر تمسخرانہ تاثرات چھائے ہوئے تھے۔
"تمہیں کس نے کہا میں اپنے باپ کے گھر جاؤں گی؟ میری وجہ سے پہلے ہی ان کی بہت بدنامی ہوگئی ہے۔ میں اب ان لوگوں کے ساتھ رہنے کے قابل نہیں ہوں مگر اپنے گھر والوں کو تم لوگوں کی اصلیت ضرور بتاؤں گی۔ میں سب کے سامنے تم لوگوں کے چہرے بے نقاب کروں گی۔" عالیہ کے انداز میں عزم تھا۔
وہ یہ کہہ کر اپارٹمنٹ سے باہر نکلنے لگی۔ آریان کسی صورت اسے باہر جانے نہیں دے سکتا تھا۔ عالیہ کے نکلنے کا مطلب سارا کھیل چوپٹ ہوجانا تھا۔ آریان الماری کی طرف بڑھا اور الماری کی دراز میں اپنا ہاتھ مارا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چیز آئی۔ اس نے اسے فوراً پکڑا اور باہر بھاگا۔
وہ باہر نکلا تو اسے عالیہ گھر کا داخلی دروازہ کھولتی دکھائی دی۔ آریان بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا اور عالیہ کے بالوں کو پکڑا۔ عالیہ اس اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس کا توازن بگڑ گیا۔ عین اسی وقت اسے اپنی گردن پر سوئی چبھتی محسوس ہوئی۔ اسے سامنے کا منظر دھندلاتا دکھائی دیا۔ اس کی پلکیں بوجھل ہونے لگیں۔ ایک دو لمحے بعد کر طرف اندھیرا تھا۔
*********************
"شایان یہ کیا بکواس ہے؟ اس کی بہن کا نکاح ہے۔ ابھی اسی وقت اسے لے کر آؤ۔" زینب لان کے کونے میں کھڑی غصے سے غرائیں۔
"شایان! شایان!" اور کال دوسری طرف سے کٹ چکی تھی۔ زینب کا دل چاہا موبائل زمین پر پھینک کر مارے۔
"کیا ہوا زینب؟" نوال کی آواز سن کر وہ جھٹکے سے مڑیں اور مسکرانے کی کوشش کی۔
"کچھ نہیں ہوا۔" زینب نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔
"اچھا!" نوال کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا ان کی ابھی بھی تسلی نہیں ہوئی تھی مگر انہوں نے زیادہ اصرار نہیں کیا۔
"زینب تم نے شایان کو کال کی۔ وہ دونوں کب تک پہنچ رہے ہیں؟ ام ہانی اور رضوان بھائی بار بار نکاح کا بول رہے ہیں۔"
زینب کے اندر دبا غصہ اب پریشانی میں بدل گیا۔
"اممم بھابھی مجھے لگتا ہے ہمیں نکاح ان دونوں کے بغیر ہی شروع کروا دینا چاہیے۔"
"کیا مطلب؟" نوال کے پوچھنے پر زینب نے ہمت اکھٹا کی۔
"بھابھی شایان کہہ رہا ہے وہ اور عزاہ تقریب میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔" زینب نے کسی ہارے ہوئے شخص کی طرح کہا۔
"کیا مطلب ہے زینب؟ مہمان اکھٹے ہیں ۔ وہ لوگ کیا سوچیں گے؟"
"بھابھی میں خود بھی مجبور ہوں۔ مجھے تو اب شایان اور عزاہ کا نکاح غلطی لگنے لگا ہے۔"
اس سے پہلے نوال کچھ کہہ پاتیں ام ہانی آگئیں۔
"زینب رضوان اب بہت غصہ ہو رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں بہت لیٹ ہوگیا ہے۔ مولوی صاحب بھی بار بار پوچھ رہے ہیں۔"
زینب نے نوال کو ایک نظر دیکھ کر ام ہانی کو جواب دیا۔
"اگر رضوان بھائی غصہ کر رہے ہیں، تو مجھے لگتا ہے ہمیں نکاح شروع کروا دینا چاہیے۔ ویسے بھی پتہ نہیں عزاہ اور شایان کو آنے میں کتنی دیر لگے گی۔اور انتظار نہیں کر سکتے ہیں۔"
ام ہانی کو تو جیسے اسی جواب کی امید تھی، وہ فوراً ان کے درمیان میں سے نکلیں اور لان میں لوگوں کے ہجوم میں غائب ہوگئی۔ سامنے کھڑی نوال نے زینب کو عجیب نگاہوں سے دیکھا، تو زینب نظریں چرا کر وہاں سے چلی گئیں۔
نوال نے دور جاتی زینب کو دیکھا اور پھر اسٹیج کے پاس کھڑے اشفاق صاحب کو دیکھا۔
"زینب صرف تم نے عزاہ اور شایان کی شادی کروا کر غلطی نہیں کی۔ میرے ماں باپ نے بھی میری اور اشفاق کی شادی کروا کر یہ غلطی کی تھی اور اس غلطی کی قیمت میں نے ساری عمر چکائی ہے۔"
("ابو یوں نہ کریں۔ میں مر جاؤں گی۔" سنہری آنکھوں والی لڑکی صحن کی زمین پر بیٹھی، چارپائی پر بیٹھے اپنے باپ سے بھیک مانگ رہی تھی۔ اس کا باپ اسے یوں روتا دیکھ کر بھی پتھر کا بنا تھا۔
"نوال! شکر ادا کرو اشفاق تمہیں اس داغ سمیت قبول کر رہا ہے ورنہ کوئی اور ہوتا تو اسی وقت اپنی منگیتر کو زندہ درگور کردیتا!" چارپائی پر بیٹھے اس کے باپ کی آنکھیں خشک تھیں، جیسے انہیں اپنے سامنے بیٹی کے رونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
سنہری آنکھوں والی لڑکی نے گردن موڑ کر اپنی ماں کو دیکھا جو گردن جھکائے کھڑی تھیں۔
"امی آپ ہی سمجھائیں نہ ابو کو۔۔"
" بس بہت ہوگیا۔ اگر تم خاموش نہ ہوئی تو میں تمہارا گلا گھونٹ دوں گی۔" چارپائی پر بیٹھا مرد کھڑا ہوا اور گھر کے اندر چلا گیا۔
نوال بمشکل کھڑی ہوئی اور ماں کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔
"امی میں اس سے پیار کر۔۔" اس کی ماں نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑوایا۔
"بے شرم کہیں ڈوب مر! اللّٰہ تجھ جیسی اولاد کسی کو نہ دے!"
وہ عورت خود بھی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ نوال اپنی ماں کو روتا دیکھتی رہی۔)
نوال کی سوچیں ان پر حاوی ہوگئی تھیں۔ اسی پل انہیں کسی مہمان نے بلایا۔ انہوں نے چہرے پر چھائے تاثرات کو چھپایا اور مصنوعی مسکراہٹ سجا کر مہمان کی جانب بڑھ گئیں۔
*********************
شایان جب اپنے کمرے کے دروازے تک پہنچا، تو اسے کمرہ خالی ملا۔ پھر اس نے باتھ روم کے دروازے کی جانب دیکھا جو بند تھا یقیناً عزاہ باتھ روم میں ہوگی۔ اتنے دن ساتھ رہنے کے بعد، شایان یہ تو اچھے سے جانتا تھا اس کے منع کرنے کے بعد عزاہ اشفاق کے گھر نہیں جائے گی۔ وہ کمرے کے اندر آیا اور گلے میں لپٹی ٹائی کو ڈھیلا کیا۔ اپنے آفس کا بیگ اور فائلز جگہ پر رکھ کر وہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اس نے ٹائی اتار دی اور اسے اپنے ہاتھ پر لپیٹنے لگ گیا۔
بیڈ پر پڑے موبائل پر نوٹیفکیشن آیا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو عزاہ کا موبائل اس سے کچھ دور پڑا تھا۔ شایان نے نظر انداز کرکے آگے دیکھنا چاہا۔ اسی وقت تین چار بار میسجز آنے کے نوٹیفکیشن سنائی دیے۔ شایان نے بھنویں سکیڑ کر موبائل کو دیکھا اور تھوڑا سا پیچھے کی جانب جھک کر موبائل اٹھا لیا۔ اس نے موبائل چلایا تو اسکرین جگمگا گئی۔ اس پر میسج آنے کا نوٹیفکیشن تھا۔ شایان نے نوٹیفکیشن سے میسج پڑھنا شروع کیے۔
"ہیلو!"
"تم ابھی تک آئی کیوں نہیں ہو؟"
"کیا تمہارے شوہر نے تمہیں آنے سے منع کردیا ہے؟"
"پتہ نہیں تمہارے باپ نے اس سائیکو سے تمہاری شادی کیوں کروا دی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو کتنا چاہتے تھے مگر تمہارا باپ اس منحوس آدمی کو لے آیا۔"
"اگر تم نہیں آ رہی تو اپنی تصویر سینڈ کردو۔ میں تمہیں دیکھنے کے لیے بے تاب ہوں۔"
شایان کے کان تک لال ہونے لگے۔ اس نے دیکھنا چاہا کہ کس نے یہ میسجز عزاہ کو بھیج تھے۔ اس نمبر کو "Unlimited love" کے نام سے سیو کیا ہوا دکھائی دیا۔ شایان کا پارہ ہائی ہوگیا۔ اس نے میسج بھیجنے والے کو کال کی مگر اس نے کال نہیں اٹھائی۔ وہ بار بار کال کرنے لگ گیا۔ مشینی نسوانی آواز بار بار دوسری طرف کے صارف کو مصروف کہہ کر تھوڑی دیر بعد کال کرنے کا کہہ رہی تھی۔
اسی وقت عزاہ باتھ روم سے باہر نکلی۔ اس نے کپڑے تبدیل کرکے گلابی رنگ کی عام سی شلوار قمیض پہن لی تھی۔ چہرہ میک اپ سے صاف تھا اور سیاہ بال آبشار کی مانند کمر پر گر رہے تھے۔ اس نے شایان کو نظر انداز کیا اور سنگھار میز کے سامنے کھڑے ہوکر بالوں پر کنگا پھیرنے لگی۔
شایان نے عزاہ کو دیکھا تو اس کا خون کھول گیا۔ وہ تیزی سے اس کی جانب بڑھا اور اسے کندھے سے پکڑ کر اپنی جانب کیا۔ عزاہ نے آنکھیں پھاڑ کر شایان کو دیکھا۔ وہ اس سب کے لیے تیار نہیں تھی۔ شایان کے چہرے پر چڑھی تیوریاں اسے الجھن میں ڈال رہی تھی۔
"آپ کو۔۔۔!" اس سے پہلے وہ کچھ کہتی، شایان تیز آواز میں بول اٹھا۔
"تمہیں شرم نہیں آتی شادی شدہ ہوکر دوسرے مردوں سے تعلقات قائم رکھتے ہوئے؟"
شایان کی بات سن کر عزاہ کا دماغ بھک سے اڑا۔
"کیا؟؟؟" عزاہ نے ناسمجھی سے شایان کو دیکھا۔
"بھولی بننے کی اداکاری بند کرو۔ میں اچھے سے جانتا ہوں تم میرے پیٹھ پیچھے کیا گل کھلا رہی ہو۔" شایان نے اس کے بازو پر گرفت بڑھا دی۔
"کیا کہے جا رہے ہیں آپ؟" عزاہ نے اپنے بازو چھڑانے کی جدوجہد کی۔
"میں کیا کہہ رہا ہوں؟! سمجھ نہیں آ رہی تمہیں!" شایان نے اس کا بازو چھوڑا اور دوسرے ہاتھ سے موبائل پر کھلے میسجز عزاہ کے سامنے کیے۔
"اب سمجھ میں آیا؟" شایان نے طنزاً کہا۔
عزاہ نے جب یہ سارے میسجز دیکھے، تو اس کے چہرے پر چھائی نا سمجھی مزید بڑھ گئی۔ شایان نے جب اس کے چہرے کے تاثرات دیکھے تو طنز کرتے ہوئے بولا۔
"کہہ دو تمہارا تمہارا اس ان لمیٹڈ لو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" عزاہ نے شایان کی گرفت سے موبائل نکالا اور تیزی سے سیو کنٹیکٹ کی جانب بڑھی۔ اس نے ان لمیٹڈ لو کے نام سے سیو اس نمبر پر انگلی دبائی۔ اس کا نمبر اس کے سامنے کھلا۔ اس نے یہ نمبر پہلے کبھی بھی اپنے موبائل پر نہیں دیکھا تھا۔ اس نے فون نمبر کی ڈیٹیلز پر انگلی رکھی تو اس کے فون پر ساری معلومات کھل گئی۔ اس پر لکھا تھا اس فون نمبر سے آخری دفعہ کال 3:43pm پر کی گئی تھی۔
وہ اس بارے میں کچھ سوچ پاتی، اس سے پہلے ہی شایان نے اس کے ہاتھوں سے موبائل چھینا اور عزاہ کے دونوں بازوؤں کو دبوچ لیا۔
"یہ ڈرامے بازی میرے سامنے نہیں چلے گی۔ سچ سچ بتاؤ کون ہے یہ شخص؟ میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔"
" میں نہیں جانتی یہ شخص کون ہے۔ میں نے تو آج پہلی دفعہ اس فون نمبر کو اپنی کانٹیکٹ لسٹ میں دیکھا ہے۔" عزاہ روہانسی آواز میں بولی۔
"جھوٹ بولنا بند کرو۔ میں آخری دفعہ پوچھ رہا ہوں۔ مجھے سچ سچ بتا دو ورنہ میں تمہارے ساتھ بہت برا سلوک۔۔۔" عزاہ نے شایان کی بات کاٹی۔
"میں عالیہ نہیں ہوں جو ایسی حرکتیں کروں گی۔"
شایان کے چہرے کی رنگت متغیر ہوئی۔ اسے عالیہ کا نام گالی لگا تھا۔ پھر اگلے ہی لمحے طیش نے دوبارہ سر اٹھایا۔ اس نے لڑکی کو جھٹکے سے چھوڑا اور اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔
لڑکی کا چہرہ دوسری جانب مڑ گیا۔ اس کا ہاتھ اپنے گال پر لگا ہوا تھا۔ کچھ دیر بعد اسے ناک گیلی ہوتی محسوس ہوئی۔ اس نے ہاتھ لگا کر دیکھا تو اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ اس نے شایان کو بے یقینی سے دیکھا۔ شایان ابھی بھی اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے بعد شایان نے ایک نظر اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو دیکھا۔ پھر اسے زور سے دیوار پر دے مارا۔
موبائل کی کرچیاں فرش پر گر گئیں۔ شایان نے غصے سے ہانپتے ہوئے موبائل کو دیکھا اور پھر سامنے کھڑی عزاہ کو دیکھا۔ وہ غصے سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
عزاہ نے شایان کو جاتے دیکھا اور پھر فرش پر پڑی موبائل کی کرچیوں کو دیکھا۔
یہ سب آخر کیا تھا؟!
********************
جائی یانہ کو اس کے کمرے سے لا کر اسٹیج پر بٹھا دیا گیا تھا۔ اسے دور سے عیسیٰ آتا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ وہ بھی اسٹیج پر چڑھ گیا اور جائی یانہ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ جائی یانہ نے اسے اپنے ساتھ بیٹھا دیکھ کر نا محسوس انداز میں خود کو سمیٹا۔
جائی یانہ کا دل چاہا آنکھیں بند کرکے اور کانوں میں انگلیاں ڈال کر بھاگ جائے۔ وہ ہر کسی کی نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ جائی یانہ نے اشفاق اور رضوان کے درمیان میں ایک شخص کو اسٹیج کی طرف آتے دیکھا۔ وہ شخص حلیے سے مولوی معلوم ہوتا تھا۔ اس شخص کے بائیں ہاتھ میں کچھ کاغذات بھی تھے جو نکاح نامہ معلوم ہوتے تھے۔
جائی یانہ نے کراہ کر آنکھیں میچ لیں۔ اسے بہت خوف آ رہا تھا۔اس نے خواب میں بھی یہ سب نہیں سوچا تھا۔ کاش کچھ ایسا ہوتا یہ سب ختم ہو جائے۔ کاش!!
اشفاق، رضوان اور مولوی صاحب اسٹیج پر چڑھ چکے تھے۔ اشفاق نے مولوی صاحب کو دولہا دلہن کے صوفے کے ساتھ رکھے سنگل صوفے پر بٹھا دیا۔ مولوی صاحب صوفے پر بیٹھ کر کاغذات ترتیب دینے لگ گئے۔ جب کاغذات ترتیب دے دیے گئے تو مولوی صاحب نے چہرہ اٹھا کر ساتھ کھڑے اشفاق کو دیکھا۔
"اشفاق صاحب اجازت ہے؟!" جائی یانہ نے دعا کی کاش اس کے بابا انکار کردے مگر ایسا کیسے ہوسکتا تھا۔
"جی مولوی صاحب بسمہ اللّٰہ کریں۔"
نکاح شروع ہوچکا تھا۔ جائی یانہ کو سب کچھ تھمتا محسوس ہوا۔
"کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"
مولوی صاحب اب اس سے پوچھ رہے تھے مگر وہ کیا بولتی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں مگر وہ پھر بھی سب کی نگاہیں خود پر محسوس کر سکتی تھی۔
"کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟"
ایک دفعہ دوبارہ دولہے کا پورا نام اور حق مہر بتا کر مولوی صاحب نے اس سے پوچھا۔ اس کی نگاہوں کے سامنے وہ منظر دوڑ رہے تھے جس میں اشفاق نوال پر اپنی حاکمیت جتا رہے تھے، ان کی غلطی پر بچوں کے سامنے انہیں ڈانٹ رہے تھے۔ اس کی ماں کو ایک نوکرانی سے بڑھ کر کوئی درجہ نہیں ملا تھا، شاید آنے والی زندگی اس کی بھی نوال جیسی ہوگی، شاید وہ بھی اپنی ماں کی طرح کمزور ہوگی۔
اشفاق جائی یانہ کے پاس آئے اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولیں۔
"گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے بیٹا۔ قبول ہے بولو!" جائی یانہ نے آنکھیں کھولیں اور نم آنکھوں سے اشفاق کا چہرہ دیکھا جن کے چہرے پر اس وقت باپ جیسی شفقت دکھائی دے رہی تھی۔ جائی یانہ نے ہمیشہ اپنے لیے اپنے باپ کے چہرے پر ایسی ہی محبت دیکھی تھی مگر آج اس محبت میں خود غرضی بھی جھلک رہی تھی۔ جائی یانہ نے اشفاق کے چہرے سے نظر ہٹائی اور ایک گہری سانس لی۔ اس نے اقرار کرنے کے لیے لب کھولے، اسی وقت اس کی کانوں میں تیکھی زنانہ آواز گونجی۔
"یہ کیا ہے عیسیٰ؟"
ہر شخص کی توجہ اسٹیج کے سامنے کھڑی اس عورت پر گئی جس کی تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں۔
اس کی رنگت صاف تھی، بال ہلکے بھورے اور جسم کسی قدر فربہہ تھا۔ اس نے ہلکے ہرے رنگ کا سادہ لباس پہنا ہوا تھا۔ وہ عیسیٰ کو گھور رہی تھی۔
جائی یانہ نے عیسیٰ کو دیکھا تو اسے پتہ چلا وہ کب کا کھڑا ہوچکا تھا۔ اس کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ چکا تھا۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا، اس کی چوری صاف پکڑی گئی ہو۔
"جھوٹے! دھوکے باز! فریبی انسان!" وہ عورت اسٹیج پر چڑھی اور عیسیٰ کا گریبان پکڑ لیا۔ عیسیٰ نے کوئی بھی مزاحمت نہیں کی۔ وہ ابھی تک صدمے کا شکار دکھائی دیتا تھا۔
"یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ تم کون ہو اور میرے بیٹے کے ساتھ کیا کر رہی ہو؟"
ام ہانی نے ان سب سے پہلے ہوش سنبھالا تھا۔ وہ عیسیٰ کو بچانے کے لیے آگے بڑھیں
"میں تمہارے بیٹے کے ساتھ کیا کر رہی ہوں؟" اس دفعہ اس عورت نے عیسیٰ کو جھٹکے سے چھوڑا۔ عیسیٰ گرتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد عورت نے انگلی اپنے سینے پر رکھی۔
"تمہارا بیٹا مجھے دھوکا دے رہا ہے۔ پہلے اس نے مجھ سے نکاح کیا اور اب اپنی کزن سے نکاح کر رہا ہے۔" اس نے جائی یانہ کی طرف اشارہ کیا۔ پھر جائی یانہ کی طرف مڑی۔
"میں جانتی ہوں لڑکی تم بھی میری طرح بے خبر ہو۔ یہ شخص جس سے تم نکاح کرنے جا رہی تھی،" اس عورت نے شعلہ بار نگاہوں سے سامنے بیٹھے عیسیٰ کو دیکھا۔ " یہ پہلے سے ہی میرا شوہر ہے۔ اس نے کچھ مہینوں پہلے مجھ سے نکاح کیا تھا۔ پھر سارے رابطے توڑ کر دوسرے ملک چلا گیا۔ مجھے آج میرے بھائی نے بتایا یہ کمینہ انسان پاکستان میں ہی ہے اور نکاح کر رہا ہے۔ شاید میں اپنے بھائی کی بات کا یقین نہ کرتی، اگر میں یہاں خود موجود نہ ہوتی۔ اس گھٹیا انسان نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔"
اس کے بعد عورت نے اس کا ہاتھ نرمی سے پکڑا اور اسے ملال سے دیکھا۔
"تم بہت خوش قسمت ہو جو اس فریبی انسان سے بچ گئی۔" جائی یانہ منہ کھول کر سامنے کھڑی اس عورت کو دیکھ رہی تھی۔ یہ سب یہاں پر کیا ہو رہا تھا؟ یہ تو کسی فلم کا سین لگ رہا تھا۔ عیسیٰ اب سنبھل چکا تھا۔ وہ کھڑا ہوا اور عورت کو کہنی سے پکڑ کر اپنی جانب موڑا۔
"ابھی اسی وقت یہاں سے نکل جاؤ ورنہ میں تمہیں سب کے سامنے طلاق دے دوں گا۔" عیسیٰ نے سرگوشی کے انداز میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا جسے صرف پاس کھڑی جائی یانہ ہی سن پائی تھی۔ حالانکہ جائی یانہ کو اس عورت کی بات پر یقین تھا مگر عیسیٰ کے منہ سے خود اقرار سن کر اسے تھوڑا بہت جھٹکا لگا تھا۔
وہ عورت جو پہلے عیسیٰ سے اپنی کہنی چھڑوا رہی تھی، اس کی بات سن کر کچھ پل کے لیے ساکت ہوئی۔ پھر عیسیٰ کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔ تھپڑ اس قدر زور کا تھا کہ عیسیٰ کو سنبھلنے کے لیے صوفہ پکڑنا پڑا۔
"گھٹیا انسان تم مجھے سب کے سامنے طلاق دو گے۔ تمہاری اتنی اوقات نہیں ہے تم سب کے سامنے مجھ جیسی عورت سے رشتے کا اظہار کرو۔ تمہیں کل تک خلع کے کاغذات مل جائیں گے۔"
"کتیا۔۔۔" عیسیٰ نے گردن موڑی اور عورت کو نقصان پہچانے کی غرض سے اس پر جھپٹا۔ اسی وقت کوئی اور شخص عورت کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا۔
جائی یانہ کا منہ حیرت سے مزید کھلا رہ گیا تھا کیونکہ سامنے کھڑا شخص کوئی اور نہیں زید تھا۔ اگلے لمحے وہ اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ دیکھ کر چونکی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو نائلہ کھڑی تھی۔ نائلہ نے جائی یانہ کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔ اسے ڈر تھا کہیں جائی یانہ اس سب تماشے میں غش کھا کر بے ہوش نہ ہوجائے۔ دوسری طرف زید نے عیسیٰ کا ہاتھ پکڑ کر اس کی کمر پر لگایا اور پیچھے لے جا کر اسے اس دیوار پر لگا دیا جہاں پر نکاح مبارک لکھا ہوا تھا۔ زید کی آنکھیں اس وقت خون آشام دکھائی دے رہی تھیں۔
"خبر دار جو میری بہن پر اپنا گندا ہاتھ اٹھایا۔ میں قسم کھا رہا ہوں تمہیں اسی وقت قبر میں گاڑ دوں گا۔"
اسی وقت اشفاق آگے بڑھے اور دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا۔
"یہ آخر کیا ہو رہا ہے عیسیٰ؟ یہ لوگ کون ہیں؟"
اس سے پہلے عیسیٰ کچھ کہہ پاتا زید بول پڑا۔
"یہ عورت جس نے ابھی عیسیٰ کو تھپڑ مارا ہے، یہ اس کی بیوی ہے اور میں اس عورت کا بھائی ہوں۔ کچھ مہینے پہلے آپ کے بھانجے نے پاکستان آکر میری بہن سے نکاح کیا اور واپس باہر ملک چلا گیا تھا۔ اس نے ہم سے رابطہ بالکل ختم کر دیا۔ مجھے تو اب جا کر پتہ چلا ہے یہ موصوف اپنی کزن کے ساتھ شادی کرنے میں مصروف تھے۔"
زید جیسے ہی رکا، عیسیٰ کے ذہن میں فوراً خیال آٹپکا۔
"اگر تم اتنے ہی سچے ہو تو نکاح نامہ دکھاؤ۔"
"ہاں لڑکے میرے بیٹے پر الزام لگانے سے پہلے کوئی ثبوت تو دکھاؤ۔" ام ہانی نے بھی عیسیٰ کی حمایت کی۔ نوال ام ہانی کے بالکل پیچھے کھڑی تھیں۔ انہیں ابھی تک سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ دونوں میں سے کس کا ساتھ دیں۔
زید یہ بات سن کر تلخی سے مسکرایا۔
"میں جانتا تھا آپ میں سے کسی کو مجھ پر یقین نہیں آئے گا۔ اسی لیے۔۔۔" زید نے اپنا ہاتھ جائی یانہ کے ساتھ کھڑی نائلہ کی جانب بڑھایا۔ نائلہ نے سر اثبات میں ہلایا۔ جائی یانہ نے اس کے لال رنگ کے ہینڈ بیگ پر اب غور کیا تھا۔ نائلہ نے اس میں ہاتھ مارتے ہوئے خاکی کاغذ میں موجود دستاویزات نکالے اور زید کو دے دیے۔
زید نے دستاویزات کو نکالا اور اشفاق کے ہاتھ میں تھما دیے۔ اشفاق غور سے اسے پڑھنے لگے۔ کچھ دیر بعد ان کے ہاتھ کانپ گئے۔ انہوں نے طیش سے عیسیٰ کی جانب دیکھا۔
"یہ لڑکا سچ کہہ رہا ہے۔ عیسیٰ پہلے سے شادی شدہ ہے۔" اشفاق نے اسٹیج پر موجود سب لوگوں کو جیسے اعلانیہ بتایا تھا۔
"نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟" عیسیٰ نے لپک کر اشفاق کے ہاتھ سے کاغذات کھنچیں۔ "یہ اسے کیسے مل گئے؟ میں نے تو اسے اپنے دوست کے پاس رکھوایا تھا۔" عیسیٰ ہڑبڑاہٹ میں کیا کچھ کہہ گیا تھا، اسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔
ام ہانی اور رضوان عیسیٰ کا چہرہ بے یقینی سے دیکھنے لگے۔ عیسیٰ نے نادانستہ طور پر نکاح کی تصدیق کر دی تھی۔
"عیسیٰ تمہارا کیا مطلب ہے تم نے یہ اپنے دوست کے پاس رکھوائے تھے؟" ام ہانی نے تیز آواز میں کہا۔
عیسیٰ کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے بات کو گھمانا چاہا مگر اب بہت دیر ہوچکی تھی۔
"نہیں نہیں آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔ یہ میرے دوست کا نکاح نامہ۔۔۔" اس سے پہلے وہ کچھ اور کہہ پاتا جائی یانہ عیسیٰ کے سامنے آئی اور اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔
"گھٹیا انسان! میں پہلے سے جانتی تھی تم ایک نمبر کے غلیظ انسان ہو مگر مجھے امید نہیں تھی کہ تم اتنے گرے ہوئے ہوگے۔"
جائی یانہ نے جیسے ہی عیسیٰ کو تھپڑ مارا، رضوان صاحب عیسیٰ کی حمایت کے لیے سامنے آگئے۔
"ہاتھ سنبھال کر رکھو لڑکی! یہ مت بھولو تم لوگ خود کیا ہو۔" جائی یانہ نے رضوان کو گھورا مگر بولا کچھ نہیں۔ "تمہاری بہن گھر سے بھاگی ہے۔ تمہارا اپنا کردار بھی مشکوک لگتا ہے۔ کہیں یہ تماشا تم نے تو نہیں رچایا ہے۔"
جائی یانہ رضوان صاحب کو دیکھتی رہ گئی۔
"کیا مطلب ہے آپ کا؟ اپنے بیٹے کے کرتوت مجھ پر کیوں تھوپ رہے ہیں؟"
رضوان صاحب دھیرے سے مسکرائین۔
"میرے بیٹے نے اگر نکاح کیا ہے تو بھی کوئی گناہ نہیں کیا۔ وہ مرد ہے۔ وہ چار شادیاں کر سکتا ہے۔ اس کی اپنی مرضی ہے۔ اسے یہ حق اللّٰہ نے دیا ہے لیکن تم!!"
انہوں نے ہاتھ اٹھا کر جائی یانہ کی طرف اشارہ کیا۔
"تم عورت ہو۔ ایک عورت کا کسی غیر مرد سے تعلق ہونا گناہ ہے بلکہ گناہ کبیرہ ہے۔ کیا تم یہ نہیں جانتی؟"
"آپ مجھ پر بہتان لگا رہے ہیں۔" جائی یانہ نے چیخ کر کہا۔
"یہ بہتان نہیں حقیقت ہے۔ تمہارا اس لڑکے کے ساتھ چکر ہے۔" رضوان نے زید کی طرف اشارہ کیا۔ جائی یانہ پر ایک ساتھ سب کی نظریں اٹھیں مگر جائی یانہ رضوان صاحب کا مکار چہرہ ہی دیکھتی رہی۔
"ثبوت کے طور پر تم سب یہ تصویر دیکھو۔ دیکھو اشفاق تمہاری بیٹی یونیورسٹی کے میدان میں غیر مرد کے ساتھ بیٹھی ہے۔" رضوان نے موبائل اشفاق کو دیا۔ اشفاق کی آنکھیں تصویر دیکھ کر سرخ ہوگئیں۔ انہوں نے موبائل کی اسکرین جائی یانہ کی طرف کر دی اور غصے میں پوچھا۔
"یہ سب کیا ہے جائی یانہ؟" جائی یانہ نے تصویر پر غور کیا۔ یہ تب کی تصویر تھی، جب اس نے زید کو اس مشکوک آدمی کے متلعق پوچھنے کے لیے بلایا تھا۔ کسی نے ان دونوں کی دور سے تصویر کھینچی تھی۔ اس نے مڑ کر زید کو دیکھا۔ اس کے چہرے کے تاثر بھی جائی یانہ سے الگ نہیں تھے۔
"بابا یہ سب جھوٹ ہے۔ زید میرا بس کلاس فیلو ہے۔ اسے بس نوٹس کے بارے میں پوچھنا تھا۔ اگر آپ کو یقین نہیں ہے تو آپ میری دوست نائلہ سے بھی پوچھ سکتے ہیں۔" جائی یانہ نے نائلہ کی طرف اشارہ کیا۔ نائلہ جائی یانہ کی حمایت میں کچھ کہہ پاتی اس سے پہلے ہی رضوان نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش کروا دیا۔
"بس! ہمیں کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارے اور اس لڑکے کے بارے میں ہم سب اچھے سے جانتے ہیں۔ تم دونوں کا کوئی تعلق تو ضرور ہے۔ لگتا ہے اس لڑکی کو بھی تم دونوں نے خریدا ہے تاکہ یہ میرے عیسیٰ پر الزام لگا دیں۔ ورنہ اتنے سارے اتفاقات تھوڑی ہوجاتے ہیں کہ وہ لڑکا جو تمہارا " صرف" کلاس فیلو ہے، وہ تمہاری شادی والے دن اپنی بہن کو لے کر آ جائے اور اپنی بہن کو میرے بیٹے کی بیوی بنا کر تماشہ لگائے۔" اس کے بعد انہوں نے اشفاق کو دیکھا۔ "میں اپنے بیٹے کی شادی ایسی لڑکی سے نہیں کروں گا جس کا کردار مشکوک ہو۔ "
اس کے بعد وہ مڑے اور عیسیٰ اور ام ہانی کی جانب دیکھا۔ عیسیٰ کا چہرہ ایسا تھا جیسے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل گیا ہو جبکہ ام ہانی کا چہرہ ابھی بھی سفید پڑا تھا۔
"چلو یہاں سے۔۔۔" رضوان جیسے ہی اسٹیج پر سے اترے ام ہانی اور عیسیٰ بھی ان کے پیچھے چل دیے۔
اشفاق سر پکڑ کر اسٹیج پر رکھے صوفے پر بیٹھ گئے۔ مولوی صاحب اشفاق کے پاس آکر کھڑے ہوئے اور انہیں حوصلہ دیا۔ زینب نوال کو سہارا دیے کھڑی تھیں جبکہ نائلہ، زید اور عیسیٰ کی بیوی وہیں تماشائی بنے کھڑے تھے۔ جائی یانہ نے اپنے باپ کے پاس آنا چاہا مگر انہوں نے اسے روک دیا۔
"میرے پاس مت آنا!" جائی یانہ کے قدم اسی وقت رک گئے۔ " تمہاری وجہ سے آج میں اتنا ذلیل ہوا ہوں۔"
"بابا آپ میرا یقین کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ آپ کو رضوان انکل کی سیاست سمجھ نہیں آئی۔ وہ تو بس اپنے بیٹے کو بری الذمہ کروا کر یہاں سے چلے گئے ہیں۔" جائی یانہ نے روہانسی آواز میں کہا۔
"میں رضوان کو جانتا ہوں۔ بچہ نہیں ہوں جو یہ سب سمجھ نہ سکوں مگر اسے اس بات کا موقع بھی تم نے دیا ہے۔ کیا ضرورت تھی اس لڑکے سے بات کرنے کی؟" اشفاق نے زید کی طرف انگلی اٹھا کر کہا۔
"بابا۔۔" اس سے پہلے جائی یانہ کچھ کہہ پاتی زید بولا۔
"انکل میری یا آپ کی بیٹی کا ان سب میں کوئی قصور نہیں ہے۔ میں بس آپ کی بیٹی سے نوٹس کا پوچھنے آیا تھا۔ میں نہیں جانتا کس نے میری اور ان کی تصویر کھینچی۔ ہم دونوں کے درمیان ایسا کچھ نہیں ہے۔ آپ کی بیٹی کا کردار صاف ہے۔ میں ان کے کردار کی گواہی دیتا ہوں۔"
"مجھے بس ایک شرط پر تم دونوں پر یقین آئے گا۔" اشفاق نے حتمی انداز میں کہا۔ زید اور جائی یانہ ان کی بات سننے کے لبے بے قرار ہوئے۔
"تم دونوں کو نکاح کرنا ہوگا۔ ابھی اسی وقت!"
یہ بات سن کر سب کو سانپ سونگھ گیا۔ وہاں کھڑے ہر شخص کو اشفاق کا ذہنی توازن بگڑتا محسوس ہوا۔
"بھائی یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ہم تو انہیں جانتے ہی نہیں ہیں۔ ایسے کیسے ہم اپنی بیٹی انہیں دے دیں؟" زینب نے سمجھانے کی کوشش کی۔
"یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میرا بھائی کیوں اس فراڈ گھرانے میں شادی کرے گا؟" زید کی بہن نے تنک کر کہا۔
"میں نے تم میں سے کسی سے نہیں پوچھا۔ مجھے زید اور جائی یانہ کے منہ سے سننا ہے۔ کیا یہ دونوں تیار ہیں؟" زید اور جائی یانہ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ جائی یانہ نے اشفاق کو سمجھانے کی کوشش کی۔
"بابا آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں؟ آخر آپ کو ملے گا کیا یہ سب کروا کر؟ ہم لوگ ان کی فیملی کو نہیں جانتے، یہ لوگ ہماری فیملی کو نہیں جانتے۔ یہ سب ایسے کیسے ہو سکتا ہے۔ کیا پتہ زید کو کوئی اور۔۔۔" اس سے پہلے وہ اپنی بات جاری رکھ پاتی زید فوراً بولا۔
"مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔" جائی یانہ نے بے یقینی سے زید کو دیکھا۔ زید کا چہرہ سنجیدہ تھا۔ اس کے ساتھ کھڑی اس کی بہن نے اسے کھینچ کر اپنی جانب متوجہ کیا۔
"تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ جذباتی مت بنو۔ ساری زندگی کا معاملہ ہے۔ تم۔۔" اس سے پہلے وہ اور کچھ کہہ پاتی، زید نے سپاٹ انداز میں اس کی بات کاٹی۔
"میں جذباتی نہیں بن رہا ہوں عائشہ! مجھے اپنے فیصلے لینے کا پورا حق ہے۔ جب میں تمہاری عیسیٰ سے شادی کی مخالفت کر رہا تھا تب تو تمہیں میری کوئی پروا نہیں تھی۔ پھر اب تمہیں کیا مسئلہ ہے؟"
عائشہ نامی وہ لڑکی خاموشی سے پیچھے ہٹ گئی۔ اشفاق نے جائی یانہ کی جانب دیکھا۔ جائی یانہ نے منت کرتے ہوئے کہا۔
"بابا یہ مت کریں۔"
"جائی یانہ تمہیں یہ شادی قبول ہے یا نہیں؟ اور اگر تمہیں یہ قبول نہیں ہے تو کچھ نہیں ہوتا۔ یہ شادی نہیں ہوگی۔ تمہیں بس اپنے باپ کا مرا ہوا منہ دیکھنا ہوگا۔"
جائی یانہ ان کی یہ بات سن کر تڑپ گئی۔ اس نے اپنا چہرہ نیچے جھکا لیا اور بے آواز آنسو بہانے لگی۔ اشفاق نے مولوی صاحب کو کہا۔
"مولوی صاحب نکاح کی تیاری کریں۔"
پھر آگے جو ہوا جائی یانہ کو وہ سب بھیانک خواب لگا۔ وہ صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ مولوی صاحب اس سے کچھ پوچھ رہے تھے۔ اسے اپنے لب ہلتے ہوئے محسوس ہوئے لیکن وہ یہ نہ سن پائی کہ اس نے ابھی کیا کہا۔ اس کے بعد اس کے سامنے قلم اور کاغذات رکھے گئے تھے۔ اس نے کاغذات پر دستخط کیا۔ پھر خاموشی سے کسی کو دیکھے بغیر کھڑی ہوگئی۔ گھر کے اندر جا کر اس کی رفتار تیز ہوگئی تھی۔ وہ بھاگتے ہوئے کمرے میں گئی اور دروازہ بند کردیا۔ اس نے جوتیاں اتار کر پھینک دی۔ پھر بیڈ پر دھرم سے گر گئی۔ اس نے اپنی آنکھوں پر بازو رکھ دیے۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے رو لینا چاہتی تھی۔
*********************
عمر آج دیر سے گھر پہنچا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر لاؤنج کے صوفے پر بیٹھی زینب اور اس کی گود میں سوئے ہوئے شایان پر پڑی۔ زینب کا چہرہ بے تاثر تھا۔ وہ عمر کو دیکھنے کی بجائے خلا میں گھورے جا رہی تھی۔
عمر سر جھکائے لاؤنج میں داخل ہوا۔ وہ اسی لیے دیر سے آیا تھا تاکہ زینب اس کا انتظار کرتے ہوئے سو جائے اور وہ دونوں اس بارے میں کل بات کریں مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ زینب اس بات کو اس قدر سنجیدہ لے لیں گی۔
"تم سوئی نہیں؟" عمر نے اپنا لہجہ ہلکا پھلکا رکھنا چاہا۔
"تم کہاں تھے؟" زینب نے عمر کا سوال نظر انداز کیا۔
"کھانے میں کیا پکا ہے۔ بہت بھوک لگ رہی ہے۔" عمر نے بات بدلنے کی کوشش کی۔ اس نے ابھی تک زینب سے نظریں نہیں ملائی تھیں۔
"میں نے پوچھا ہے تم کہاں تھے؟" زینب نے شایان کو احتیاط سے گود سے صوفے پر لٹایا اور عمر کے عین سامنے کھڑی ہوگئی۔
عمر نے گہری سانس خارج کی۔
"زینب میں جانتا ہوں تم نے کھانا نہیں کھایا ہے اور نہ ہی اپنی دوائیاں لی ہیں۔ اس لیے پہلے تم کھانا اور دوائیاں کھاؤ۔ اس کے بعد ہم اس موضوع پر کھل کر بات کریں گے۔"
زینب اس بات پر راضی نہیں تھی مگر خاموش ہوگئی۔ وہ جانتی تھی مزید بحث کرنے کا مطلب لڑائی تھی اور لڑائی کرکے وہ کبھی بھی عمر سے مدعے پر بات نہیں کر پائے گی۔ عمر اسے وہی چھوڑ کر کچن میں گیا اور اس کے لیے کھانا گرم کرنے لگ گیا۔ کچھ لمحات بعد اگر ہم ڈائننگ ٹیبل میں آؤ، تو زینب کے سامنے پلیٹیں پڑی ہوئی تھیں جس پر چکنائی لگی تھی۔ اس کے ہاتھ میں گولیاں تھی جسے اس نے منہ میں ڈالا اور پھر پانی کا گھونٹ بھر کر نگل لیا۔
اس کے سامنے بیٹھا عمر متفکر نگاہوں سے زینب کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے کھانا نہیں کھایا تھا۔ زینب نے اصرار بھی نہیں کیا۔ وہ جلد از جلد عمر سے بات کر لینا چاہتی تھی۔
دوائیاں لے لینے کے بعد زینب نے سوالیہ نظروں سے عمر کو دیکھا۔ عمر نے چہرہ جھکایا جیسے فیصلہ کر رہا ہو زینب کو ابھی بتانا چاہیے یا نہیں۔ کچھ دیر بعد جب اس نے فیصلہ لے لیا تو چہرہ اٹھایا۔ اس نے زینب کے ہاتھوں کو پکڑ لیا۔
"زینب پلیز جو بات میں تم سے کرنے جا رہا ہوں۔ اسے پرسکون ہوکر سننا۔"
زینب کے چہرے کا رنگ اڑتا جا رہا تھا۔ وہ جانتی تھی عمر کچھ ایسا کہنے جا رہا تھا جو اسے نہیں سننا چاہیے۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔ عمر نے کہنے کے لیے لب کھولے۔ زینب کا دل چاہا وہ عمر کو چپ کروا دے۔
"میں نے دوسری شادی کرلی ہے زینب!" عمر نے نظریں جھکا کر تیزی سے اپنی بات کہی۔ اس نے تمہید نہیں باندھی تھی۔ وہ جانتا تھا تہمید باندھنے سے بات لمبی ہوگی اور اس کا ارادہ بھی بدل جائے گا۔
زینب کو لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے۔ عمر ضرور مذاق کر رہا ہوگا مگر یہ مذاق نہیں لگ رہا تھا۔ زینب نے اپنے ہاتھ عمر کے ہاتھوں سے کھینچ لیے۔
عمر نے اسے یوں ہاتھ چھڑاتے دیکھا تو دوبارہ اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ کر کہنے لگا۔
"زینب دیکھو میں جانتا ہوں تمہیں بہت برا لگا ہوگا لیکن میں کچھ نہیں کر سکتا۔ میں اسے بچپن سے چاہتا تھا۔ اتنے سالوں بعد وہ خود میرے پاس چل کر آئی اور اس نے مجھ سے نکاح کرنے کا کہا۔ میں اسے کیسے منع کر سکتا تھا لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ تم، شایان اور یہ بچہ تینوں میری ذمہ داری ہیں۔ اسے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تم اب زیادہ ناراض نہ ہو۔ یہ بس۔۔۔"
عمر بولے جا رہا تھا۔ زینب اسے دیکھتی جا رہی تھی۔ اسے لگا تھا شاید عمر اس کی یہ حالت دیکھ کر ہنس دے گا اور کہے گا میں مذاق کر رہا ہوں مگر یہاں پر زینب کو خود اپنا آپ، عمر اور اس تیسرے کے درمیان مزاق لگ رہا تھا۔ وہ دونوں بھی کیا سوچتے ہونگے زینب کتنی بیوقوف تھی کہ سمجھ نہیں پائی۔ وہ تیسرا۔۔۔!
ایک منٹ! زینب کی آنکھوں میں الجھن سی آئی۔ وہ تیسرا۔۔۔وہ تیسرا کہیں!
عمر ابھی بھی بہت کچھ بولے جا رہا تھا لیکن اسے اس سب سے کوئی مطلب نہیں تھا۔
"عمر تمہاری دوسری بیوی کا کیا نام ہے؟"
عمر چونک گیا۔ اس نے زینب کے چہرے کو دیکھا۔ اسے لگا تھا زینب طیش میں آجائے گی اور پتہ نہیں کیا کچھ کرے گی مگر زینب کا ردعمل بالکل مختلف تھا۔
"زینب میں۔۔" عمر کی بات کو زینب نے کاٹا۔
"عمر، اس کا کیا نام ہے؟" زینب نے سپاٹ انداز میں کہا۔
عمر تھوڑی دیر کے لیے جھجھکا، پھر اس نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے۔
زینب کو اپنے دل کے خدشات پورے ہوتے دکھائی دئیے۔ وہ اندر ہی اندر دعا مانگنے لگی یہ وہ شخص نہ ہو جس کے بارے میں وہ سوچ رہی تھی۔
"اس کا نام۔۔۔"
*****************
زید نے بھی مولوی صاحب کے پوچھنے پر مثبت جواب دیا۔ نکاح کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے گئے۔ دعا مانگ لینے کے بعد سب لوگ اشفاق کا چہرہ دیکھنے لگ گئے۔ ان کا چہرہ اس وقت سپاٹ تھا۔ اشفاق نے زید کو دیکھا جو ان ہی کو دیکھ رہا تھا۔
"میں آج ہی رخصتی چاہتا ہوں۔" اشفاق کے اٹل لہجے پر زید نے جواب دیا۔
"مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔" زید کے ساتھ بیٹھی عائشہ نے پہلو بدلا۔ وہ جانتی تھی زید اس وقت اس کی کوئی بات نہیں سنے گا مگر جو کچھ زید کر رہا تھا وہ اسے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
"جاؤ نوال! جائی یانہ کو بلا لاؤ۔" سب کی نظریں اب نوال کے گیلے چہرے پر گئی۔ اشفاق کی بات سن کر وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئیں اور غصے سے بولیں۔
"جیسے کسی بھی راہ چلتے سے میری بیٹی کا نکاح کروا دیا ہے۔ اسی طرح اس کے ساتھ رخصت بھی آپ خود ہی کروا دیں۔"
نوال یہ کہہ کر پیر پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔ اشفاق کو نوال کی بات ناگوار گزری تھی مگر ابھی ان سب کا وقت نہیں تھا۔ ان کی نظر نائلہ کی طرف گئی۔ وہ جانتے تھے نائلہ جائی یانہ کی دوست ہے۔ اس لیے انہوں نے نائلہ کو انگلی سے اشارہ کرکے بلایا۔
"سنو بیٹا!"
"جی؟" نائلہ محتاط ہوگئی تھی۔
"تم جا کر اپنی دوست کو لے آؤ۔ اس کا کمرہ تو تم جانتی ہو نا؟"
"جی!" یہ کہہ کر نائلہ گھر کے اندر چلی گئی۔ وہ ایک دفعہ جائی یانہ کے گھر آئی تھی۔ اس نے جائی یانہ کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ اس نے تین چار بار تیزی سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ پھر کہیں جا کر دروازہ کھلا۔ نائلہ نے جب جائی یانہ کو دیکھا تو چونک گئی۔
جائی یانہ کا سارا میک اپ خراب ہوچکا تھا۔ اس کے بال بھی الجھے ہوئے تھے۔ اس کا حلیہ بے حد خراب تھا۔ نائلہ جائی یانہ کو اس حلیے میں باہر لے کر نہیں جا سکتی تھی۔ وہ اسے فوراً اندر لے کر گئی اور اس کے کمرے کے واش روم کے بیسن پر کھڑے ہوکر اس کا منہ دھلانے لگ گئی۔ جب اس کا چہرہ میک اپ سے صاف ہوگیا تو نائلہ نے کنگھے سے اس کے بالوں کو سلجھا کر پونی میں باندھ دیا۔ پھر اس نے جائی یانہ کو بیڈ پر بٹھا دیا اور جگ میں سے پانی نکال کر دیا۔
جائی یانہ خاموشی سے پانی پینے لگ گئی۔ اس سب کاروائی میں جائی یانہ نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی۔
"جائی یانہ!" نائلہ نے اسے پکارا تو وہ چونک گئی جیسے اسے نائلہ کی موجودگی کا علم ہی نہ ہو۔
"انکل تمہاری رخصتی کروانا چاہتے ہیں۔" نائلہ کی بات سن کر اسے کچھ ہوش آیا۔ اس نے اردگرد دیکھا۔ پھر وہ اپنی الماری کے پاس گئی اور اپنا بیگ نکال کر اس میں سامان ڈالنے لگ گئی۔
"جائی یانہ یہ کام تم کل آکر کر لینا۔ وہ لوگ تمہارا نیچے انتظار کر رہے ہی ۔" نائلہ کی بات سن کر جائی یانہ نے سپاٹ انداز میں کہا۔
"میں دوبارہ اس گھر میں نہیں آنا چاہتی۔ میں آج ہی اپنا ضروری سامان لے جاؤں گی تاکہ مجھے دوبارہ نہ آنا پڑے۔"
جائی یانہ نے اپنا سارا ضروری سامان جمع کرلیا۔ پھر وہ بیگ اٹھا کر باہر نکل گئی۔ نیچے لان میں سب اسے آتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ وہ سپاٹ انداز میں چل رہی تھی۔
جیسے ہی وہ ان سب کے قریب آئی، اشفاق اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور جائی یانہ کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ جائی یانہ انہیں دیکھنے کی بجائے سامنے دیکھ رہی تھی۔
"اپنا خیال رکھنا اور۔۔"
"واپس کبھی نہ آنا، ہے نا؟" جائی یانہ نے اشفاق کی طرف دیکھ کر ان کی بات کو مکمل کیا۔ اس کے ہر انداز میں تلخی تھی۔ اشفاق کا جائی یانہ کے سر پر سے ہاتھ اٹھ گیا۔
"فکر نہ کریں۔ اب میں کبھی بھی آپ کے پاس نہیں آؤں گی۔" اس کے بعد اس نے اپنی نظریں زید کی جانب کی جیسے پوچھ رہی ہو "چلیں؟"
زید نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا اور آگے بڑھ کر جائی یانہ کا بیگ اٹھانا چاہا۔ جائی یانہ نے بیگ پیچھے کی طرف کیا۔ زید نے ایک نظر جائی یانہ کو دیکھا۔
"مجھے دے دیں۔"
"نہیں میں اٹھا لوں گی۔" جائی یانہ نے منع کیا۔
زید نے اس کا بیگ اس کے ہاتھوں سے کھینچا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
"میں اٹھا سکتا ہوں۔" اس کے بعد زید جائی یانہ کو وہی چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔
جائی یانہ سر جھٹک کر اس کے پیچھے چل دی۔ ان دونوں کے پیچھے پیچھے عائشہ اور نائلہ بھی آنے لگیں۔
وہ دونوں جب گھر کا گیٹ پار کرکے باہر نکلیں تو زید بائیک کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے مڑ کر اپنے پیچھے آتی تینوں عورتوں کو دیکھا۔
"اس بائیک پر تین لوگ بیٹھ سکتے ہیں اور ہم لوگ چار ہیں۔" زید نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔
"تم فکر نہ کرو میں جس طرح کیب سے آئی تھی، ویسے ہی چلی جاؤں گی۔" نائلہ نے آرام سے کہا۔
"نہیں رات بہت ہوچکی ہے۔ تمہارا اس طرح اکیلے جانا ٹھیک نہیں ہے۔" زید نے اس کی بات پر اختلاف کیا۔
"میں کوئی چھوٹی بچی۔۔" اس سے پہلے نائلہ کچھ کہہ پاتی عائشہ نے کہا۔
"میں اس کے ساتھ چلی جاؤں گی۔" پھر زید سے طنزیہ پوچھا۔
"مجھے امید ہے تم نے ہیرو بننے سے پہلے یہ سوچا ہوگا، اسے کہاں رکھنا ہے کیونکہ یہ تمہارے ساتھ بوائز ہاسٹل میں تو رہ نہیں سکتی۔" عائشہ کا اشارہ جائی یانہ کی طرف تھا۔
زید اس کی بات سن کر پریشان ہوگیا۔ جائی یانہ سمجھ گئی زید نے جذبات میں آکر یہ فیصلہ لیا تھا۔
"ایسا کرو تم انہیں اپنے ساتھ بھائی جان کے گھر رکھ لو۔ تین چار دن میں، میں کوئی کرائے کا گھر ڈھونڈ لوں گا۔ پھر انہیں اپنے ساتھ رکھوں گا۔"
عائشہ کے چہرے پر ناگواری چھا گئی۔
"تم جانتے ہو بھابھی کیسی ہیں؟ وہ اسے بالکل بھی۔۔۔"
اس سے پہلے عائشہ مزید کچھ کہتی، جائی یانہ نے اس کی بات کاٹی۔
"بس مجھے آج کی رات آپ کے گھر گزارنی ہے۔ کل صبح میں چلی جاؤں گی۔"
عائشہ کے چہرے پر ناگواری ابھی تک قائم تھی مگر اس نے کچھ نہیں کہا۔ وہ خاموشی سے دوسری طرف دیکھنے لگ گئی۔
"تو کیا انہیں میں تمہارے ساتھ کیب میں بھیجوں؟" زید نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔
"تم اسے خود بھائی بھابھی کے گھر چھوڑ دینا اور انہیں سب بتا دینا۔ میں ان دونوں کو اس متعلق خود کچھ نہیں بتاؤں گی۔"
اسی اثناء میں انہیں ایک گاڑی دور سے آتی دکھائی دی۔ نائلہ نے عائشہ کی طرف دیکھ کر کہا۔
"ہماری رائیڈ آ چکی ہے۔" وہ اپنے ہاتھ میں موجود موبائل کو دیکھنے لگی۔ جب وہ دونوں بہن بھائی باتوں میں مصروف تھے، تب اس نے وقت ضائع کیے بغیر کیب بک کروا لی تھی۔ جیسے ہی کیب ان کے سامنے رکی، نائلہ اور عائشہ دونوں کیب میں بیٹھ گئے اور دروازہ بند کردیا۔
گاڑی تیز رفتاری سے چلنا شروع ہوگئی۔ جائی یانہ گاڑی کو تب تک جاتا دیکھتی رہی جب تک وہ اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوگئی۔
"ہم بھی چلیں؟" زید کی آواز پر وہ فوراً مڑی۔ زید بائیک پر بیٹھ چکا تھا۔ اس نے جائی یانہ کا بیگ بائیک کی پیٹرول کی ٹینکی پر رکھ دیا تھا۔ جائی یانہ بائیک کے سامنے آکر رکی اور پریشان سے انداز میں اسے دیکھنے لگ گئی۔ اس نے زندگی میں کبھی بھی بائیک پر سفر نہیں کیا تھا۔ اس نے لہنگا پہنا ہوا تھا۔ اسے ڈر لگا کہیں اس کا لہنگا بائیک کے ٹائر میں پھنس نہ جائے۔ اب جائی یانہ کو افسوس ہو رہا تھا کاش وہ اپنے کپڑے بھی تبدیل کر لیتی۔
"کیا ہوا؟" زید نے جب جائی یانہ کو یوں پریشانی سے بائیک کو دیکھتا پایا، تو پوچھ لیا۔ لمحے بعد اسے سمجھ آگیا آخر معاملہ کیا ہے۔
"آپ کبھی بائیک پر نہیں بیٹھیں؟" زید نے اس سے پوچھا۔
جائی یانہ کا سر نفی میں ہلا۔ اس کے بعد زید جائی یانہ کو بائیک پر بیٹھنے کی ہدایات دینے لگ گیا۔ کچھ دیر بعد جب جائی یانہ بیٹھ گئی، تو زید بولا۔
"آپ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ لیں۔" زید کی بات سن کر جائی یانہ کو عجیب سا لگا۔ اس نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا تھا۔ مانا زید سے اس کا نکاح ہوچکا تھا مگر ابھی وہ اس سے اتنی بے تکلف نہیں ہوئی تھی۔
زید نے اسے دوبارہ کچھ نہیں کہا۔ اس نے خاموشی سے بائیک چلانی شروع کردی۔ حالانکہ زید کم رفتار میں بائیک چلا رہا تھا مگر جائی یانہ کو پھر بھی گرنے سے ڈر لگ رہا تھا۔ اس نے بائیک کے پیچھے موجود اسٹینڈ پر ایک ہاتھ جما کر رکھ دیا جبکہ دوسرے ہاتھ سے لہنگا سنبھالا۔
تقریباً پندرہ منٹ بعد جائی یانہ اور زید کی بائیک ایک گھر کے سامنے رکی۔ جائی یانہ نے اردگرد جھانکا۔ یہ متوسط طبقے کا علاقہ تھا۔ زید نے جس گھر کے سامنے بائیک روکی تھی، وہ کچھ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ گھر کو دیکھ کر لگتا تھا اسے بنے ہوئے کافی سال گزر گئے تھے۔
زید نے جائی یانہ کا بیگ پکڑا اور آگے چل دیا۔ اس سے پہلے زید دروازہ کھٹکھٹا پاتا جائی یانہ نے اسے فوراً کہا۔
" سنو مجھے بس آج کی رات یہاں رکنا ہے۔ کل میں یونیورسٹی کے پاس موجود ہاسٹل میں شفٹ ہو جاؤں گی۔"
زید نے اختلاف کے لیے لب کھولے مگر پھر دوبارہ بند کردیے۔ اس نے سامنے موجود لکڑی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
کچھ دیر بعد دروازہ کھل گیا۔
**********************
اگر اسلام آباد کے مہنگے ہوٹل میں ہم داخل ہوکر اس کے ایک پر تعیش کمرے کے اندر آئیں تو رضوان صاحب کمرے میں رکھے آرام دہ صوفے پر بیٹھے دکھائی دیتے۔ وہ ابھی تک تقریب والے حلیے میں تھے۔ ان کے ہاتھوں میں موبائل تھا۔ وہ بار بار ایک نمبر پر کال ملا رہے تھے مگر دوسری طرف سے کوئی کال اٹھا نہیں رہا تھا۔ تقریباً اٹھارویں کوشش میں ان کی کال اٹھائی گئی۔
"کیا مسئلہ ہے؟" ایک مردانہ بیزار آواز گونجی۔
"تم کون ہو اور تم نے میری بھانجی کی تصویر مجھے کیوں بھیجی تھی؟" رضوان فوراً سے بولے۔ انہیں ڈر تھا کہیں کال کاٹ نہ دی جائے۔
"میں نے تمہیں شاید تصویر کے ساتھ میسج بھی کیا تھا کہ۔۔۔"
"اپنی عزت کو اس تصویر سے سنبھال لو اور سارے کا سارا ملبہ اشفاق کی بیٹی پر ڈال دو۔" رضوان نے اس کی بات مکمل کی۔ "لیکن تم نے میری مدد کی کیوں؟"
"میں تمہاری مدد کیوں کروں گا؟" دوبارہ سے مردانہ بیزار آواز گونجی۔
"کیا مطلب؟" رضوان نے نا سمجھی سے پوچھا۔
"رضوان! تمہیں میرے مطلب سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے۔ اب بالکل خاموش ہو جاؤ اور واپس جانے کی تیاری کرو۔ مجھے بالکل بھول جاؤ، ورنہ جس طرح میں نے تمہاری عزت بچائی ہے اسی طرح تمہیں بیچ بازار میں رسوا بھی کر سکتا ہوں۔"
اس کے بعد کال کٹ گئی مگر رضوان کان پر موبائل لگائے بیٹھے رہے۔ کچھ دیر بعد کمرے میں موجود باتھ روم کا دروازہ کھلا اور ام ہانی کمرے کے اندر داخل ہوئیں۔ انہوں نے سادہ سا جوڑا پہنا ہوا تھا اور تقریب میں پہنا ان کا لباس ہاتھ میں تھا۔ وہ چلتے چلتے لباس کو سمیٹ رہی تھی۔
"رضوان! اب بتا بھی دیں آپ کے پاس وہ تصویر کہاں سے آئی؟" ام ہانی، اشفاق کے گھر سے نکلنے سے یہاں آنے تک یہ سوال ہزار بار پوچھ چکی تھی۔
"تم تصویر کو چھوڑو اور اپنے بیٹے کو سنبھالو۔ اس سے کہو جلد از جلد اس لڑکی سے اپنا پیچھا چھڑوائے۔" رضوان خلا میں گھورتے ہوئے بولیں۔
"آپ کو لگتا ہے وہ لڑکی سچ بول رہی ہے۔" ام ہانی نے بے یقینی سے رضوان کو دیکھا۔ رضوان صوفے پر تھوڑے پیچھے کو ہوئے اور سکون سے ام ہانی کا چہرہ دیکھا۔
"میں بیٹے کی محبت میں تمہاری طرح اندھا نہیں ہوں اور اپنی اولاد کو اچھے سے جانتا ہوں۔ تم شاید بھول گئی ہو عیسیٰ نے خود کہا تھا یہ نکاح نامہ اس نے اپنے دوست کے پاس رکھوایا تھا۔"
وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیاں باہم ملاتے ہوئے بولیں۔
"کل ہم لوگ جا رہے ہیں۔ اپنے بیٹے سے کہو کل ہی اس مصیبت سے جان چھڑوا لے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔"
ام ہانی پریشانی سے بیڈ پر بیٹھ گئی ۔ یہ عجیب مصیبت گلے پڑ گئی تھی۔ ان کے ساتھ والے کمرے میں آؤ تو وہاں عیسیٰ اضطراب سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔ وہ بار بار ایک نمبر پر کال کیے جا رہا تھا مگر دوسری طرف سے کوئی کال اٹھانے کے لیے تیار ہی نہیں تھا۔
"میری کال اٹھاؤ! میری کال اٹھاؤ!" وہ بار بار اس جملے کو دہرا رہا تھا۔ وہ ایک پل کے لیے رکا اور گہرا سانس لے کر دوبار نمبر ملایا۔ اس نے جیسے ہی فون کان سے لگایا، دوسری طرف سے نسوانی آواز آئی۔
"آپ کا ملایا ہوا نمبر اس وقت بند ہے۔" عیسیٰ نے لب سختی سے بھینچے اور پھر موبائل بیڈ پر پھینک دیا۔
پھر خود بھی بیڈ پر بیٹھ گیا اور اپنے بالوں پر اضطراب سے ہاتھ پھیرنے لگ گیا۔
"تم نے زید کو نکاح نامہ دے کر اچھا نہیں کیا۔ میں نے تمہیں اپنا دوست سمجھا تھا لیکن تم۔۔۔!"
عیسیٰ نے غصے سے کہا۔ اسے اس وقت ہر چیز پر غصہ آ رہا تھا۔ کاش زید اور عائشہ کچھ دیر بعد آتے، تب تک جائی یانہ اور اس کا نکاح ہو جاتا لیکن عائشہ نے وہاں آکر بنا بنایا کھیل خراب کر دیا تھا۔ سب کو ساری حقیقت پتہ چل گئی تھی۔ اب عائشہ اس کے ساتھ نہیں رہے گی۔ اسے بہت زیادہ دکھ تھا۔
********************
عزاہ کو جب تھوڑا بہت ہوش آیا تو اس نے خود کو کمرے کے واش روم میں پایا۔ اس کے ہاتھ میں ٹوٹے ہوئے موبائل کا ٹکڑا موجود تھا۔ اس نے موبائل کا ٹکڑا وہی پھینک دیا اور بیسن کے پاس آکر نلکے کا پانی چلا دیا۔ اس نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ کچھ دیر بعد وہ نلکا بند کرکے باہر نکل گئی۔ اس کے چہرے سے ابھی تک پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ اس نے اپنا چہرہ تولیے سے صاف کیا۔
کچھ لمحات بعد وہ بیڈ کے تاج سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا شایان کو اسے تھپڑ مارے کافی وقت گزر گیا تھا۔ اب وہ صدمے سے باہر نکل آئی تھی اور ان سب باتوں پر غور کر رہی تھی جو اس وقت ہوئی تھا۔ ان لمیٹڈ لو سے محفوظ نمبر آخر اس کے فون میں آیا کہاں سے؟
اس نے کبھی بھی فون نمبر کو اس طرح ذو معنی ناموں سے محفوظ نہیں کیا تھا۔ وہ ہمیشہ فون نمبر کے مالک کے نام سے، فون نمبر اپنے موبائل میں محفوظ کرتی تھی۔
پھر اسے یاد آیا اس نے فون نمبر کی ہسٹری بھی دیکھی تھی جس میں اس نمبر پر ساڑھے تین بجے سے چار بجے کے درمیان میں کہیں کال کی تھی۔ اس وقت وہ موبائل پر کیا کر رہی تھی۔
پھر ایک دم اسے کچھ یاد آیا۔ وہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا مگر پھر؟
اس کا دماغ مخمصے کا شکار ہوگیا تھا۔ پھر اس نے جیسے ٹھان لیا۔ وہ بیڈ پر سے کھڑی ہوئی اور اپنے کمرے سے باہر نکل گئی۔ شایان کا ابھی تک کوئی اتہ پتہ نہیں تھا مگر اسے شایان کی فکر نہیں تھی۔ کمرے سے باہر نکل کر وہ راہداری میں چلنے لگی۔
(دوپہر کے تین بجے ملازمہ نے عزاہ کو نمرہ کے آنے کی اطلاع دی۔ عزاہ یہ سنتے ہی نمرہ کے کمرے میں چلی گئی۔)
اس کے پاؤں چل رہے تھے. وہ اس وقت ماضی کی یادوں میں کھوئی ہوئی تھی۔
(وہ نمرہ کے کمرے میں موجود تھی۔ نمرہ اس کے سامنے کھڑی تھی۔ وہ اس سے پہننے کے لیے لباس مانگ رہی تھی اور نمرہ نے خوش اخلاقی سے اسے اپنے کپڑے دینے کی حامی بھر لی۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں نمرہ کی الماری میں جھکیں، کپڑے دیکھ رہی تھیں۔)
اس کے پاؤں اپنے آپ مڑے۔ اسے کچھ دور سے کمرے کا بند دروازہ دکھائی دینے لگ گیا۔
("تمہارا شکریہ!" عزاہ نے خوش دلی سے شکریہ ادا کیا۔ اس کے ہاتھ میں فراک موجود تھی۔
"کوئی بات نہیں!" نمرہ مسکرا دی۔ عزاہ جانے لگی تو نمرہ نے اسے پیچھے سے روکا۔
"عزاہ!"
عزاہ نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔ "یار تم مجھے اپنا موبائل دو گی۔ مجھے ایک کال کرنی ہے مگر میرا بیلنس ختم ہوگیا ہے۔"
عزاہ نے بغیر سوچے سمجھے اپنا موبائل اس کے حوالے کردیا۔)
اب عزاہ کمرے کے بند دروازے کے آگے کھڑی تھی۔
( گھڑی کی سوئیوں نے جیسے ہی پانچ بجایا، عزاہ کپڑے تبدیل کرنے واش روم چلی گئی۔ جب وہ واپس آئی تو اسے اپنا موبائل بیڈ پر پڑا ملا۔ ضرور نمرہ نے رکھا ہوگا۔ اس کے ذہن میں یہی خیال آیا۔ موبائل کو ہاتھ لگائے بغیر اس نے میک اپ کرنا شروع کردیا۔)
******************
وہ نمرہ کے کمرے کے بالکل سامنے کھڑی تھی۔ اسے یہ تک ہوش نہیں تھا کہ آدھی رات ہو رہی تھی۔ ابھی اسے بس شایان کی نظروں میں سرخرو ہونا تھا۔ اس کو نمرہ کے کردار پر کوئی شک نہیں تھا مگر ہو سکتا تھا نمرہ نے ان لمیٹڈ لو نام سے اپنی کسی دوست کا نمبر محفوظ کیا ہو۔ ویسے بھی عالیہ اور نمرہ کی یونیورسٹی میں بہت سی دوستیں تھیں۔
اس نے کمرے کے دروازے پر ہاتھ رکھا تو وہ کھلتا چلا گیا۔ عزاہ نے کمرے کے باہر سے اندر جھانکا تو اسے نمرہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑی دکھائی دی۔ اس کے ہاتھ میں موبائل تھا اور وہ بہت آہستہ آواز میں بات کر رہی تھی۔ عزاہ آہٹ کیے بغیر کمرے کے اندر آگئی اور آہستہ آہستہ قدم لیتی نمرہ کے پاس جانے لگی۔ جیسے ہی اس کی کانوں میں نمرہ کی آواز گئی، اس کے قدم تھم سے گئے۔
"تم نے بالکل ٹھیک کیا جو عالیہ کو بے ہوش کردیا۔ وہ سب کچھ جان چکی ہے۔ اسے اب کمرے میں بند رکھنا ہی ٹھیک ہے۔"
عزاہ سکتے میں آگئی۔ کیا نمرہ اس کی بہن عالیہ کے بارے میں بات کر رہی تھی۔
"بالکل! ویسے آج اشفاق کے خاندان پر بڑی بھاری رات گزر رہی ہے۔" نمرہ نے کھلکھلاتے ہوئے کہا۔ "عالیہ پر سچائی کھل گئی ہے اور اب وہ بے وفائی کا روگ لیے ہوئے ہے۔ شایان گھر پر نہیں ہے یقیناً اس نے عزاہ کے میسجز پڑھ لیے ہونگے۔ عزاہ کی یقیناً خوب شامت آئی ہوگی اور جہاں تک بات جائی یانہ کی ہے، تو وہ دربدر ہوچکی ہے۔ بیچاری کے پاس رہنے کو چھت بھی نہیں ہے۔"
پھر نمرہ کی آواز میں دکھ اتر آیا۔
"لیکن مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا اس کی شادی ہمارے کسی بندے سے نہیں ہوئی مگر جتنا تم مجھے اپنے کزن کے بارے میں بتا چکے ہو، مجھے یقین ہے جائی یانہ کا اس گھر میں رہنا مشکل ہے۔ جائی یانہ نے ساری زندگی عیش و آرام دیکھا ہے۔ یہ مفلسی اسے مار ڈالے گی۔"
"اچھا مجھے شایان آتا دکھائی دے رہا ہے۔"اس نے کھڑکی سے دیکھا۔
"اس کی شکل تو اتنی دور سے بھی اتری ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ہائے کاش میں اس وقت موجود ہوتی جب اسے پتہ چلا تھا اس کی بیوی کا کسی اور کے ساتھ چکر ہے۔ خیر میں تمہیں اور امی جان کو بھی میسجز کے اسکرین شاٹ سینڈ کروں گی۔ ان میسجز نے تو شایان کو ایک بار پھر ناکام عاشق بنا دیا ہے۔"
بات کرتے ہوئے وہ جیسے ہی مڑی، اسے اپنے پیچھے عزاہ دکھائی دی جو ہونقوں کی طرح نمرہ کو دیکھ رہی تھی۔
نمرہ کے چہرے پر موجود مسکراہٹ ایک دم سے غائب ہوئی لیکن پھر اگلے لمحے دوبارہ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ چھا گئی۔ اسے اسی پل کا تو انتظار تھا۔
"سنو، میں تم سے بعد میں بات کروں گی!" اس کی نظریں ابھی بھی عزاہ پر تھیں۔ موبائل والا ہاتھ اس کے پہلو میں آگیا۔ کچھ پل کے لیے سناٹا چھا گیا۔ اس خاموشی میں ماتم شامل تھا۔
******************
اس نے اپنے اردگرد کے ماحول کو جانچا۔ اس نے غور کیا تو معلوم ہوا وہ ایک اندھیر کمرے میں تھی اور اس وقت بیڈ پر لیٹی تھی۔ اس نے اٹھنے کی ہمت کی مگر ایسا لگا اس کی ساری توانائی چوس لی گئی تھی۔ اس نے بڑی مشکل سے ہاتھوں کا سہارا لے کر خود کو بیڈ پر بٹھایا۔ اسے اپنا سر بھاری محسوس ہو رہا تھا اور آنکھیں اپنے آپ بند ہو رہی تھیں۔ وہ اس کمرے میں آخر آئی کیسے تھی۔ اسے اپنا دماغ سن ہوتا محسوس ہوا۔ اس نے تھوڑا زور لگایا تو اس کے سامنے منظر چھایا۔
وہ شاید کسی ریستوران میں بیٹھی تھی۔۔۔ اسے ایک میز دکھائی دی۔ ایک کرسی پر اس کا شوہر بیٹھا تھا جبکہ دوسری پر اس کی کزن اور بہترین دوست بیٹھی تھی۔
وہ نمرہ تھی!!!
لیکن ان کی آوازیں مبہم تھیں۔ اس نے دماغ پر ذرا زور دیا تو اسے کچھ کچھ یاد آنے لگا۔
بہن بھائی۔۔۔۔۔عزاہ۔۔۔۔۔ اس کا شوہر اس کا مذاق اڑا رہا تھا۔۔۔۔ نمرہ کچھ بول رہی تھی۔
یہ ساری باتیں اس کے ذہن میں گھومنے لگیں۔ کمرے کا دروازہ کھلا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو کمرے کے باہر آنکھ چندھیا دینے والا اجالا تھا۔ اندر آنے والا نفوس تاریکی میں ڈوبا ہیولا دکھائی دیتا تھا۔ وہ نفوس چلتا ہوا اس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
اس نے غور کیا تو وہ ایک ادھیڑ عمر عورت تھی۔ اس عورت کی چال ڈھال اور حلیہ خاصا امیروں جیسا تھا۔ اس کی نظریں عالیہ پر تھیں۔ اس کے چہرے کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے وہ عالیہ کے حلیے پر خاصا محظوظ ہو رہی ہو۔
وہ تھوڑا سا جھکی اور عالیہ سے رازداری سے پوچھا۔
"تم مجھے جانتی ہو؟" عالیہ نے سر نفی میں ہلا دیا۔
عورت واپس سیدھی ہوئی اور قہقہہ لگا کر ہنسنے لگ گئی۔ عالیہ نے سوچا آخر اس میں ہنسنے والی کونسی بات تھی۔ کچھ دیر بعد جب وہ سنبھلیں، تو تمسخرانہ لہجے میں بولیں۔
"تم مجھے نہیں جان سکتی مگر میں!" انہوں نے انگلی سے سینے پر دستک دی۔
"میں تمہیں بہت اچھے سے جانتی ہوں۔ تمہارے خاندان میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کے راز مجھے معلوم نہ ہوں۔ میں تمہارے خاندان پر عتاب ہوں۔"
عالیہ نے ان کی ساری بات غور سے سنی، پھر پوچھا۔
"مگر آپ ہیں کون؟"
اس عورت نے کچھ دیر کے لیے اپنی انگلی چہرے سے لگا کر سوچنے کی اداکاری کی۔
"میرے پاس لاکھوں تعارف ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کس تعارف کو اس وقت استعمال کروں؟"
پھر ایک دم انہوں نے چٹکی بجائی۔
"مل گیا تعارف! میں تمہارے شوہر کی ماں ہوں۔ تم مجھے اب سے مسز جہانگیر بلاؤ گی۔"
عالیہ نے آنکھیں پھاڑ کر اس عورت کو دیکھا۔
********************
"تم کون ہو نمرہ؟"
عزاہ واقعی اس لڑکی کو نہیں جانتی تھی یا پھر وہ پہلی دفعہ اس لڑکی کو جان پائی تھی۔
"میں نمرہ ہوں!"
نمرہ نے اس کی جانب قدم بڑھائیں۔
"زینب اور عمر کی بیٹی!"
وہ قدم قدم چلتی عزاہ کے بالکل سامنے کھڑی ہوئی۔
"شایان کی بہن، تمہاری نند اور۔۔!" سنہری آنکھوں نے سیاہ آنکھوں کو دیکھا۔ سیاہ آنکھیں شر سے بھری دکھائی دے رہی تھیں۔ ان سیاہ آنکھوں سے عزاہ کو ایک سحر نکلتا دکھائی دیا۔
"اور؟" عزاہ کو اپنا آپ خواب میں کھویا دکھائی دیا۔
"اور تمہاری بہن عالیہ کی جان سے پیاری دوست اور نند!"
عزاہ کی آنکھیں نا سمجھی سے پھیل گئیں۔
*******************