کیا مطلب ہے تمہارا؟"
سنہری آنکھوں نے الجھن سے سیاہ آنکھوں کو دیکھا
سیاہ آنکھوں والی لڑکی نے جب سنہری آنکھوں میں الجھن دیکھی تو قہقہہ لگا کر ہنس دی۔ ہنستے ہنستے اس کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔
"تم کچھ نہیں سمجھ سکتی ہو عزاہ! کچھ بھی نہیں!" نمرہ نے اب کچھ سنبھلتے ہوئے کہا۔ پھر چہرے پر چھایا تمسخر غائب ہوگیا۔ اس کی جگہ سفاکیت نے لے لی۔
"اور تمہارے لیے یہی بہتر ہے تم ان چیزوں کو نا سمجھو، ورنہ تمہارا وہ حشر کروں گی کہ کوئی تم پر تھوکے گا بھی نہیں!" نمرہ کا سرد لہجہ ریڑھ کی ہڈی سنسنا سکتا تھا مگر مقابل کو اس وقت ڈر نہیں لگ رہا تھا۔ وہ ابھی بھی بے یقینی کا شکار تھی۔
"تو اس کا مطلب ہے عالیہ اور میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ تمہاری چال تھی؟"
"تمہیں ابھی تو کہا ہے اپنی عقل اب استعمال نہ کرو لیکن تم بہنیں بھی عادت سے مجبور ہو۔ جس چیز سے منع کرو، اسی چیز میں گھستی ہو۔ ویسے تم نے نامکمل سوال کیا ہے۔" نمرہ اب عام لہجے میں بات کرنے لگی۔" تمہیں پوچھنا چاہیے تھا کہ کیا یہ تم ہی ہو جس نے اشفاق کی تینوں بیٹیوں عالیہ، عزاہ اور جائی یانہ کو برباد کر دیا ہے؟" جائی یانہ کا نام سن کر عزاہ نے چیخ کر پوچھا۔
"تم نے جائی یانہ کے ساتھ کیا کیا ہے؟"
"جو کیا ہے وہ تمہیں کل صبح تک پتہ چل جائے گا۔ ویسے تمہیں خود پتہ ہونا چاہیے تھا تمہاری بہن کے ساتھ آج کیا ہوا ہے۔ اپنے میکے سے اتنی بے خبری۔۔! چچچ سو بیڈ!" نمرہ کا مصنوعی ملامتی انداز عزاہ کو طیش جگا گیا۔
"تم نے اگر میری بہن کا بال بھی باکا کیا تو میں بتا رہی ہوں، میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی!" عزاہ کی دھمکی سن کر نمرہ ایک بار پھر تمسخر سے ہنس دی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی کھڑکی کے پاس جانے لگی۔
"اسے کہتے ہیں چونٹی کو پر لگ جانا۔ بھابھی جی ابھی اپنی بہنوں کو چھوڑ کر خود کی فکر کرو کیونکہ۔۔" نمرہ نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ " مجھے ابھی اپنے بھائی کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں۔"
نمرہ کی بات سن کر عزاہ نے پر اعتماد انداز میں جواب دیا۔ "ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ تم خود اپنے بھائی کے پاس جاکر اسے ساری اصلیت بتاؤ گی!"
نمرہ کا ایک ابرو اوپر کو اٹھا۔چہرے پر ایسے تاثرات چھائے جیسے وہ عزاہ کی بات سے محظوظ ہوئی ہو۔
"اوہ واقعی! مگر میں اپنے بھائی کو یہ سچ کیوں بتاؤں گی؟" نمرہ کے لیے یہ گفتگو خاصی دلچسپ ہوتی جا رہی تھی۔
"کیونکہ اگر تم نے خود نہیں بتایا تو میں بتاؤں گی اور پھر جو آگے تمہارے ساتھ ہوگا، کیا وہ مجھے بتانے کی ضرورت ہے؟" عزاہ نے اعتماد سے کہا۔
"تمہیں آگے بتانے کی ضرورت نہیں ہوگی مگر مجھے ہے۔ میں بتاتی ہوں پھر آگے کیا ہوگا! پہلی بات میرے بھائی کو تمہاری باتوں پر یقین نہیں آئے گا مگر ہاں! اسے شک ضرور ہوگا۔ اس شک کو دور کرنے کے لیے وہ میرے پاس آئے گا اور پھر میں اسے۔۔۔" اس نے اپنے قدم سنگھار میز کی جانب بڑھائے اور اس کی دراز میں ہاتھ مار کر کچھ تصاویر نکال کر عزاہ کی طرف بڑھائی۔
"یہ دکھا دوں گی!"
عزاہ نے جب ان تصاویر کو دیکھا تو اسے کے پاؤں سے زمین نکل گئی۔ وہ اس کی تصویریں تھیں۔ اس میں عزاہ نے نازیبا لباس پہنا ہوا تھا لیکن بات یہی پر ختم نہیں ہوتی تھی۔ ان تصویروں میں ایک مرد بھی دکھائی دے رہا تھا جس کا چہرہ واضح نہیں تھا۔ وہ دونوں خاصی بے تکلفی کے ساتھ کھڑے تھے۔ ان فوٹوز میں عزاہ اور اس مرد کی بے تکلفی، خود عزاہ کو شرم سے پانی پانی کر رہی تھی۔
نمرہ عزاہ کے تاثرات سے محظوظ ہوئی۔
"یہ ہوگی تابوت میں آخری کیل! بھائی یہ دیکھنے کے بعد تمہیں جان سے مار دیں گے اور اگر نہ بھی مارا تو طلاق تو تمہیں یقینی مل جائے گی اور یوں میرا پتہ کٹواتے ہوئے تمہارا اپنا پتہ اس گھر سے کٹ جائے گا۔"
"یہ جعلی ہیں!" عزاہ نے کھوکھلی آواز میں کہا۔
"اور اس پر کون یقین کرے گا؟" نمرہ سابقہ لہجے میں بولی۔
عزاہ نے ایک نظر نمرہ کے بے حس چہرے کو، پھر ان تصاویر کو دیکھا۔ ایک پل لگا اسے فیصلہ کرنے میں، اس نے اگلے ہی لمحے تصویریں پھاڑ دیں۔ نمرہ کے چہرے پر چھایا سکون ابھی تک غائب نہیں ہوا تھا۔ وہ بڑے آرام سے عزاہ کی کاروائی دیکھ رہی تھی۔ جب عزاہ نے تصویریں پھاڑ دیں، تو نمرہ نے پوچھا۔
"سکون مل گیا؟ اگر نہیں! تو کہو تو میں تمہاری اور بھی فوٹوز پکڑا دیتی ہوں۔ کیا پتہ تمہیں سکون مل جائے؟"
"تم آخر یہ سب کیوں کر رہی ہو؟" عزاہ کے لہجے میں نہ چاہتے ہوئے بھی بے بسی اتر آئی تھی۔
"اس بات کا جواب ابھی دے دیا تو کھیل میں مزا نہیں آئے گا۔" نمرہ نے چہرے پر آئے بالوں کو ہٹایا۔ "جہاں تک بات ان تصاویر کی ہے، تو فکر نہ کرو۔ تم جب تک بھائی کو میری اصلیت بتانے کی کوشش نہیں کرو گی تب تک، یہ فوٹوز کسی کی نظروں میں نہیں آئے گی۔ میں خود بھی تمہیں اتنی جلدی اس کھیل سے نکالنا نہیں چاہتی لیکن یہ ساری بساط جو ہم نے اتنی مشکل سے بچھائی ہے اسے کسی کو الٹنے نہیں دیں گے!"
"ہم سے تمہارا کیا مطلب ہے؟" عزاہ نے ایک اور سوال کیا۔
"میں نے کہا نا ابھی یہ سب بتانے کا صحیح وقت نہیں ہے۔ جب تک اشفاق کا خاندان پوری طرح سے برباد نہیں ہوگا ہم کسی سے کچھ نہیں کہہ سکتے!" نمرہ نے مڑ کر کھڑکی کی طرف دیکھا۔
"تمہیں اب چلے جانا چاہیے!" لیکن عزاہ نہیں گئی۔
"تم ہمارے خاندان کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کو بھی برباد کر رہی ہو!" عزاہ نے اسے یاد دلانا چاہا۔
"وہ برباد ہوتا ہے، تو ہوتا رہے۔ بدلہ بڑا اندھا ہوتا ہے۔ بدلہ لینے کے لیے انسان کو اپنا آپ فنا کرنا پڑتا ہے، تم بھائی کی بات کر رہی ہو!؟" عزاہ کو نمرہ کے لہجے میں نمی گھلتی محسوس ہوئی۔
"اب یہ نہ پوچھنا ہمیں تم لوگوں سے کونسا بدلہ لینا ہیں۔ میں تمہیں نہیں بتاؤں گی!" نمرہ یہ کہتے ہوئے واش روم میں چلی گئی۔ عزاہ کمرے میں تنہا رہ گئی۔
******************
"آپ آریان کی ماما ہیں؟"
عالیہ نے اب کی بار بہت غور سے اس عورت کو دیکھا۔ وہ عورت خوبصورت تھی مگر اس میں اور آریان میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ دونوں ہی ایک دوسرے سے بہت مختلف تھے۔
"ماما نہیں، آریان کی امی جان!"
اس عورت کے نرم لہجے میں کاٹ محسوس ہوتی تھی۔ عالیہ کچھ پل کے لیے خاموش رہی۔ اسے سمجھ نہیں آیا سامنے کھڑی عورت سے کیا بات کرے۔ اس کی یہ مشکل مسز جہانگیر نے آسان کردی۔
"تمہیں حیرت نہیں ہوئی؟ پہلے جس لڑکی کو میں اپنی بہو ماننے پر تیار نہیں تھی، اب میں نے اسی لڑکی کو اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے؟"
"نہیں!" اب کی دفعہ عالیہ کے چہرے پر سختی در آئی تھی۔ اسے بہت سی باتیں یاد آئیں۔ "میں نے آپ کے بیٹے اور اپنی کزن کی ساری باتیں ریستوران میں سن لی تھی۔ آپ شاید کسی وجہ سے میرے گھر والوں سے بدلہ لینا چاہتی ہیں۔"
عالیہ کی بات سن کر مسز جہانگیر نے سر اثبات میں ہلایا۔
"شاید نہیں، یقیناً!"
"لیکن کیوں؟ ہم نے آپ کے ساتھ کیا کیا ہے؟" عالیہ نے پوچھا۔
"تم لوگوں نے میرے ساتھ کچھ نہیں کیا لیکن تمہارے گھر کے ایک فرد نے مجھے دھوکا دیا ہے اور تم لوگوں کو وجہ بنا کر دیا ہے۔"
"آپ کھل کر نہیں بتا سکتیں؟" اب کی بار عالیہ ان ڈھکی چھپی باتوں سے بری طرح چڑ گئی۔
"کھل کر بتانے کا ابھی وقت نہیں ہے۔ اگر جاننا چاہتی ہو تو ان ہی باتوں میں اپنا مطلب ڈھونڈو" مسز جہانگیر یہ کہہ کر جانے لگی۔ عالیہ فوراً سے ہمت کرکے کھڑی ہوئی۔
"رکیں! مجھے یہاں نہیں رہنا۔ مجھے میرے گھر جانا ہے!" اس کی بات سن کر مسز جہانگر رکیں اور مڑ کر اپنی بہو کو دیکھا۔
"تم کہیں نہیں جا سکتی۔ تمہیں یہیں ساری عمر رہنا ہوگا یا پھر تب تک جب تک ہمارا مقصد پورا نہیں ہو جاتا۔"
یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئیں اور دروازہ بند کرنے لگ گئیں۔ عالیہ اس دروازے کو بند ہونے سے روکنا چاہتی تھی۔ وہ بھاگنا چاہتی تھی مگر ابھی اس کے جسم میں اتنی توانائی نہیں تھی۔ وہ جب تک دروازے تک پہنچی، دروازہ بند ہوگیا تھا۔ وہ مایوسی سے دروازے کے سامنے کھڑی تھی جب اسے باہر سے آوازیں سنائی دینے لگی آوازیں مبہم تھیں اس لیے وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اسے لگ رہا تھا باہر آریان مسز جہانگیر سے بات کر رہا تھا۔ وہ دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اسے بلانے لگی۔
"آریان! آریان! دروازہ کھولو! مجھے باہر جانا ہے۔ خدا کے لیے مجھے یہاں سے نکال دو۔" وہ بولتی جا رہی تھی لیکن باہر سے قدموں کی آہٹ کمرے سے دور جاتی سنائی دی۔ کچھ دیر بعد باہر مکمل خاموشی چھا گئی تھی مگر عالیہ چیختی چلّاتی رہی۔ اسے امید تھی آریان کو اس پر رحم آ جائے گا لیکن چیختے چلاتے اس کا اپنا گلا ہی بیٹھ گیا۔ دروازہ بدستور بند رہا۔
********************
اشفاق صاحب اپنے کمرے میں آئے تو انہیں نوال بیگم کمرے کے ایک کونے میں جائے نماز پر بیٹھی دکھائی دیں۔ ہاتھ میں تسبیح پکڑے وہ سامنے والی دیوار کو گھورے جا رہی تھیں۔
"آپ کو پتہ ہے آج آپ نے کیا کیا ہے؟" اشفاق نے نوال کو ان کی بدتمیزی کے بارے میں یاد دلانا چاہا۔
نوال یونہی چہرہ سامنے کیے بیٹھی رہیں۔
"ہماری سب سے پہلی اولاد عالیہ تھی!" نوال نے شاید اشفاق کی بات سنی ہی نہیں تھی۔ اشفاق نے ان کی پشت کو اچھنبے سے دیکھا۔
"وہ جب پیدا ہوئی تو آپ پریشان رہنے لگے۔ آپ کو ڈر تھا کہیں وہ میرے جیسی نہ بن جائے۔ آپ نے زبان سے یہ نہیں بولا تھا مگر آپ کا چہرہ اس وقت صاف صاف بتا رہا تھا۔ اولاد کو دیکھتے ہوئے آپ کے چہرے پر خوشی نہیں بس پریشانی ہی پریشانی دکھائی دیتی تھی!"
"ان سب باتوں کا مقصد؟" اشفاق کے پوچھنے پر نوال نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ آج اپنی ہی کہنا چاہتی تھیں۔
"اس کے بعد ہمارے گھر عزاہ آئی۔ ایک اور بیٹی! آپ کے نزدیک ایک اور بوجھ! عزاہ کے آنے کے بعد آپ مجھے کھلے اور صاف الفاظ میں کہنے لگ گئے آپ کو ایک اور بیٹی نہیں چاہیے تھی۔ عالیہ اور عزاہ سے بھی آپ کا تعلق اچھا نہیں تھا۔ دونوں بچیاں آپ سے خوف کھایا کرتی تھیں۔ آپ جیسے ہی گھر میں آتے، ہنسنا چہچہانا بند ہوجاتا۔ ایسا لگتا تھا گھر میں کوئی جلاد آگیا ہو جو ایک ہلکی سی غلطی پر ہم تینوں ماں بیٹیوں میں سے کسی کا بھی سر تن سے جدا کردے گا۔"
نوال کھوئے ہوئے لہجے میں کہہ رہی تھیں۔ اب اشفاق کافی غور سے نوال کی باتیں سننے لگ گئے تھے۔
"پھر میں تیسری دفعہ امید سے ہوئی۔ اس دفعہ آپ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی پریشان رہنے لگ گئے۔ آپ دل سے چاہتے تھے آپ کی تیسری بیٹی نہ ہو۔ اس دفعہ آپ نے پہلی دفعہ میری الٹرا ساؤنڈ کروائی۔ اس میں بچی کی پیش گوئی ہوئی۔ ڈاکٹر کے کلینک سے واپس گھر آنے تک آپ نے مجھ پر کتنا غصہ، کتنے طعنے دیے، مجھے سب یاد ہیں۔ آپ کو لگتا تھا ماں کے اختیار میں ہوتا ہے اپنی جس اولاد کو چاہے لڑکا بنا دے اور جس کو چاہے لڑکی بنا دے۔ آپ کے لیے میں مجرم تھی۔ خود مجھے بھی احساس جرم نے گھیرا ہوا تھا لیکن اس وقت میں آپ کی نہیں بلکہ اس بچی کی مجرم تھی۔"
نوال کی آنکھوں سے آنسو کا قطرہ گرا جو گال سے ہوکر نیچے زمین پر گر گیا۔
"میری ایک چھوٹی سی غلطی کی سزا میری اولاد پر آگئی تھی۔ آپ چاہتے تھے میں اس تیسری بیٹی کو پیدا ہونے سے پہلے مار دوں۔ میں خود بھی ایسا چاہتی تھی۔ اسے آپ جیسا باپ نہیں دینا چاہتی تھی جو پیدا ہونے سے پہلے اپنی اولاد سے نفرت کرنے لگ گیا تھا۔ میں اسے ختم کردینا چاہتی تھی مگر میں کیا کرتی؟ میرے پاس آپ جیسا جگرا تھوڑی تھا جو اولاد کو قتل کرنے سے بالکل نہ ڈرے۔"
اشفاق نوال کو دیکھے جا رہے تھے۔ زندگی میں پہلی دفعہ وہ ان کے سامنے یوں بولی تھیں۔
"پھر اس بچی کی پیدائش کا وقت بھی آگیا۔ آپ جانتے ہیں ایک نئی جان پیدا کرنے کے لیے ایک عورت کتنی اذیت سے گزرتی ہے۔ اس وقت عورت کے جسم کا ٹکڑا ٹکڑا اس درد سے نجات کی دعا مانگ رہا ہوتا ہے مگر میں نے اس اذیت میں ہوتے ہوئے بھی اس بچی کی عافیت مانگی۔"
"میں نے اللّٰہ سے آپ کے دل میں اس بچی کی محبت مانگی۔ اس وقت مجھے یہ سب بس ایک معجزہ لگ رہا تھا۔ ایسا کیسے ہوسکتا تھا انسان کسی کے وجود کو دنیا میں آنے سے پہلے اس سے اتنی نفرت کرے اور اس وجود کے دنیا میں آجانے سے اس سے محبت کرنے لگ جائے۔ مجھے اپنی دعا ناممکنات میں سے لگ رہی تھی مگر اس ذات کے لیے نہیں تھی جس سے میں مانگ رہی تھی۔ دلوں میں محبت تو بس اللّٰہ ہی ڈالتا ہے۔"
نوال اشفاق کو بھی ماضی میں لے گئی تھیں۔
"بچی کی پیدائش کے بعد جب میں نے ہوش سنبھالا تو میں نے اپنی بچی کو آپ کے ہاتھوں میں دیکھا۔ آپ کی نظروں میں میری بچی کے لیے کوئی نفرت نہیں تھی بلکہ آپ اسے محبت سے دیکھ رہے تھے۔ میری ماں میری بیٹی کو آپ کی مرحوم ماں سے ملا رہی تھی۔ یہ باتیں سنتے ہوئے، آپ کے چہرے پر محبت اور شفقت کے ساتھ ساتھ عقیدت کا جذبہ بھی جھلکنے لگا۔ اس وقت مجھے اللّٰہ کی قدرت پر یقین آگیا۔ وہ اگر چاہے تو کیا کچھ نہیں ہوسکتا۔ صرف تائی جان سے میری بچی کی مشابہت پر آپ کا سخت دل اس بچی کی محبت میں موم ہوگیا۔"
نوال کے آنسو بہے جا رہے تھے۔
"آپ نے اس بچی کا نام خود رکھا۔ اسے جائی یانہ کا نام دیا۔ اسے تینوں بیٹیوں میں سب سے زیادہ قریب کرلیا۔ اسے تینوں میں سب سے زیادہ فوقیت ملنے لگی۔ وہ آپ کی لاڈلی بیٹی بن گئی۔ اس کی شوخی، اس کا چنچل پن ہمارے گھر کی رونق بن گیا۔ پہلے آپ کے آنے پر بچے سہم کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ اسی بچی نے وہ ماحول ختم کروایا۔ مجھے لگا سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے۔ آپ کا دل اب اپنی اولاد کے لیے نرم پڑ گیا ہے مگر میں غلط تھی!"
نوال نے اب کی بار چہرہ موڑ کر اشفاق کو دیکھا جو ابھی بھی ان کے پیچھے کھڑے تھے۔
"آپ نے بغیر کسی تصدیق کے عالیہ کو اپنی زندگی سے دستبردار کردیا۔ عزاہ کو آپ نے نری جہنم میں دھکا دے دیا اور جائی یانہ!"
"جائی یانہ کو تو آپ نے ایک ایسے شخص کے ساتھ روانہ کردیا جو اس پوری محفل میں مشکوک تھا۔ آپ نے ایک بار بھی نہیں سوچا وہ انسان کیسا ہوگا اور میری بیٹی کا کیا کرے گا۔ آپ نے ان تینوں میں سے کسی کے بارے میں نہیں سوچا کیونکہ اس وقت اشفاق صاحب کی عزت، داؤ پر لگی تھی۔ آپ کو زندگی میں بس عزت پیاری ہے۔"
"تم کیا جانو عزت کیا ہوتی ہے؟ عزت کا عین بھی تم جیسی عورتوں کے لیے نہیں بنا!" اشفاق نے حقارت سے کہا۔
"بالکل میں اس عزت کے بارے میں کچھ نہیں جانتی اور نہ جاننا چاہتی ہوں جس کی آپ پوجا کرتے ہیں!" نوال نے تلخ لہجے میں جواب دیا۔ پھر وہ چہرہ موڑ کر سامنے دیکھنے لگیں۔
"اب میری بیٹیاں اللّٰہ کے سپرد ہیں۔ میں آج رات اپنی بیٹیوں کی حفاظت کی دعا مانگوں گی۔ بس دنیا میری بیٹیوں سے ان کے باپ جیسا سلوک نہ کرے!"
اس کے بعد ایک مکمل خاموشی چھا گئی۔ اشفاق کچھ دیر تک کھڑے رہے۔ پھر سر جھٹک کر کمرے سے باہر نکل گئے۔
*******************
سورج کی کرنیں کھڑکی سے گزرتی ہوئی کمرے کو منور کر رہی تھی۔ اس کمرے کے اگر اندر آؤ، تو وہ کمرا کاٹھ کباڑ سے بھرا ہوا تھا۔ ایسا لگتا تھا وہ کمرہ اسٹور روم کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اسٹور روم کے درمیان میں بمشکل تھوڑی سی جگہ بچی ہوئی تھی جس پر بوسیدہ چٹائی بچھائے وہ لیٹی ہوئی تھی۔ گرمی سے اس کا برا حال ہو رہا تھا۔ وہ بڑی حسرت سے چھت پر لگے پنکھے کو دیکھ رہی تھی جو بند تھا۔ بند ہونے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ بجلی گئی تھی بلکہ اسے چلانے سے سختی سے منع کر دیا گیا تھا۔ اے سی کے عادی جسم کو آج پنکھے کی ہوا نصیب نہیں تھی۔
سخت فرش پر زندگی میں پہلی دفعہ لیٹنے کی وجہ سے اس کا سارا جسم درد کر رہا تھا۔ ابھی وہ اپنے درد کرتے جسم پر کراہ رہی تھی، جب اسے چھینک آگئی۔ وہ رات سے وقتاً فوقتاً چھینک رہی تھی اور وجہ ڈسٹ الرجی تھی۔ کمرے کی سالوں سے جھاڑ پونچھ نہیں ہوئی تھی۔
اسے ان حالات میں نیند نہیں آئی تھی۔
اسے ابھی بھی یاد تھا جب وہ اس گھر میں زید کے ساتھ آئی تو اس گھر کا دروازہ عائشہ نے کھولا تھا۔ عائشہ کا چہرہ اسے دیکھتے ساتھ بگڑ گیا۔ اس نے دروازہ کھلا چھوڑ دیا اور واپس اندر چلی گئی۔ وہ زید کے ساتھ اندر آئی تو چھوٹے سے برآمدے میں قدم رکھ کر وہ حیران ہوئی۔ برآمدے میں کم از کم چھ سات بچے اکھٹے کھیل رہے تھے۔ برآمدے کی ایک طرف چولہا اور کچن کا سامان رکھا تھا جو یہ بتا رہا تھا برآمدے کا یہ حصہ کچن کے لیے مختص تھا۔ پورے گھر میں گھٹن اور حبس چھایا ہوا تھا۔ برآمدے کے ایک طرف دو کمروں کے دروازے تھے۔ شاید نچلی منزل یہی دو کمرے بنے تھے۔ جائی یانہ نے اپنی زندگی میں اتنا چھوٹا گھر نہیں دیکھا تھا۔ اسے ایک عورت چولہے کے سامنے بیٹھی روٹی بناتی دکھائی دی۔ اس عورت کی نظر جیسے ہی زید اور اس کے ساتھ کھڑی سانولی لڑکی پر پڑی تو وہ طنزاً بولی۔
"اوہ تو زید صاحب اپنی بیگم کو لے کر واپس آگئے!" یہ کہہ کر وہ عورت کھڑی ہوگئی۔ وہ عورت خاصی فربہہ تھی۔ اس کے چہرے کو دیکھو تو گندمی رنگت کے چہرے پر دور سے بھی کھلے مسام اور لٹکی جلد دکھائی دیتی تھی۔ عام سے نین نقش کی وہ عورت اپنی عمر سے کئی گنا بڑی دکھائی دیتی تھی۔ اس کے کپڑے گھسے ہوئے تھے۔ وہ قدم قدم چلتی جائی یانہ اور زید کے سامنے کھڑی ہوگئی۔
"کہہ کر تو ایسے گئے تھے کہ میں مر جاؤں گا مگر اس گھر میں واپس نہیں آؤں گا اور دیکھو کس طرح ڈھیٹوں کی طرح اپنی بیوی کے ساتھ میرے سامنے کھڑے ہو!"
عورت کے لہجے کے ساتھ اس کے لفظوں کی کڑواہٹ بھی جائی یانہ بآسانی محسوس کر سکتی تھی۔ زید کا چہرہ بے تاثر تھا۔
"بھائی جان کہاں ہیں بھابھی؟" زید شاید اپنی بھابھی سے بات ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
"اندر ہیں۔ اب انہوں نے کہاں جانا ہے؟ اپنے بچوں کے نوالے حلق سے کھینچ کھینچ کر تم دونوں بہن بھائی کو کھلانے کے بعد اب وہ اور کر ہی کیا سکتے ہیں؟" یہ کہہ کر وہ عورت چولہے کے جانب بڑھ گئی۔ زید گھر کے اندر ایک کمرے کی جانب بڑھا اور اسے بھی ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔
وہ دونوں جب اندر آئے تو اسے ایک فربہہ مرد سنگل صوفے پر ٹی وی دیکھتا دکھائی دیا۔ اس چھوٹے سے کمرے میں بیڈ، صوفے، سنگھار میز، الغرض ہر طرح کا فرنیچر گھسایا ہوا تھا۔ کمرے میں ہر چیز پھنسی ہوئی سی لگتی تھی۔
"بھائی جان!" زید کے بھائی جان بولنے پر اس مرد نے سر اٹھا کر زید اور جائی یانہ کی جانب دیکھا۔ پھر دوبارہ سے ٹی وی کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔
"بیٹھ جاؤ!"
زید اور جائی یانہ بیڈ پر بیٹھ گئے۔ زید کے بھائی نے ٹی وی بند کردیا اور ان دونوں کو دیکھا۔
"تم دونوں بہن بھائی نے آخر شادی بیاہ کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ پہلے بہن کسی انجان انسان سے عین وقت پر نکاح کا بتا کر نکاح کر لیتی ہے اور پھر آج ہی خلع کی خبر ہمیں سناتی ہے۔ اس کے ساتھ تمہارے نکاح کا بھی بتاتی ہے۔ تم لوگ آخر سمجھتے کیا ہو؟ یہ گھر ہے یا کوئی سرائے جہاں کوئی بھی آئے گا اور کسی کو بھی ٹھہرا دیا جائے گا۔ عائشہ میری چھوٹی بہن ہے۔ اس کی ہزاروں بدتمیزیوں اور غلطیوں کے باوجود بھی میں اسے گھر سے نہیں نکال سکتا مگر یہ لڑکی! میں اسے اپنے گھر میں کیوں رکھوں؟" بھائی جان کے ترش لہجے پر جائی یانہ کو یہاں سے بھاگ جانے کا دل چاہا۔
"بھائی جان پہلی بات تو یہ گھر صرف آپ کا نہیں، ہم تینوں بہن بھائیوں کا ہے۔ جس طرح بھابھی یہاں رہ سکتی ہیں، اسے بھی یہاں رہنے کا مکمل حق ہے مگر میں اسے یہاں نہیں رکھوں گا۔ کل صبح ہوتے ہی میں اسے ہاسٹل میں داخل کروا آؤں گا۔ یہ بس آج رات یہاں رہے گی۔"
اس سے پہلے کے سامنے موجود مرد کچھ کہہ پاتا، زید کی بھابھی نمودار ہوئی اور اونچی آواز میں بولی۔
" کیوں بھئی؟ یہ گھر اس لڑکی کے باپ نے دیا ہے جو آج رات یہ یہاں ٹھہرے گی؟" جائی یانہ کے کان تک اس بدتمیزی پر لال ہوگئے مگر وہ ابھی کچھ کہہ نہیں سکتی تھی۔ اسے آج کی رات ہر صورت یہی گزارنی تھی۔
"گھر تو خیر یہ آپ کے باپ کا بھی نہیں ہے بھابھی جو آپ حق جتا رہی ہیں!" زید نے بھی اس کی بھابھی سے اسی انداز میں بات کی۔ اس کی بھابھی اور بڑے بھائی کا پارہ ہائی ہوگیا۔
"اپنی حد میں رہو زید! بھابھی ہیں تمہاری۔۔۔" بھائی جان نے مشتعل انداز میں کہا۔
"اور یہ بھی بیوی ہے میری۔۔۔اس لیے بھابھی کو چاہیے اس سے تمیز سے بات کریں۔" زید نے کھڑے ہوکر کہا۔ پھر ایک نظر سب پر ڈال لینے کے بعد جائی یانہ کا ہاتھ پکڑا اور باہر برآمدے میں آگیا۔ وہ جائی یانہ کو ساتھ والے کمرے کے سامنے لے گیا جس کا دروازہ بند تھا۔ زید نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اگلے ہی لمحے دروازہ کھل گیا اور عائشہ باہر نکلی۔ اس کی آنکھیں لال اور نم تھیں۔ اس کے گال بھی گیلے تھے۔
"کیا ہے؟" عائشہ نے نخوت سے پوچھا۔
"آج تم انہیں اپنے ساتھ سلا لو گی؟" زید نے اب کی بار بہت نرم اور محتاط انداز میں عائشہ سے پوچھا۔
"میں آج کسی کو بھی اپنے کمرے کے پاس پھٹکنے نہیں دوں گی۔" یہ کہہ کر عائشہ نے دروازہ ان دونوں کے منہ پر بند کردیا۔
زید اور جائی یانہ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر زید جائی یانہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے سیڑھیوں کی طرف لے گیا۔ زینے چڑھ کر وہ دونوں گھر کی چھت پر پہنچ گئے۔ چھوٹی سی چھت پر ایک کمرہ تھا۔ زید نے اس کا دروازہ کھولا اور اندر آگیا۔ جائی یانہ جیسے ہی اندر آئی اسے فوراً سے چھینک آئی۔ اس نے غور سے دیکھا تو وہ اسٹور روم تھا۔ اس کے اندر موجود سارا سامان گرد آلود تھا۔ جائی یانہ کو کچھ دیر بعد دوبارہ چھینک آئی۔ زید اسے وہی چھوڑ کر کمرے کے اندر گھس گیا اور سامان ادھر ادھر کرنے لگ گیا۔ کچھ دیر بعد اس نے سامان کے ڈھیر سے ایک بوسیدہ چٹائی نکالی۔ اس نے چٹائی کو اسٹور روم کے درمیان میں خالی حصے پر بچھا دیا۔ جائی یانہ چوکھٹ پر کھڑی، اسے دیکھ رہی تھی۔ چٹائی بچھانے کے بعد جائی یانہ نے زید کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ زید اس کی طرف آتے ہوئے تھوڑا مڑا اور جائی یانہ کے بالکل پاس موجود سوئچ بورڈ سے پنکھا چلا دیا۔
پھر اس نے ایک نظر کمرے کو دیکھا۔ زید کو جائی یانہ کا چہرہ شرمندہ سا لگا۔
"میں جانتا ہوں آپ کو اس ماحول کی عادت نہیں ہے مگر میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا ہوں۔ میں صبح ہی آپ کا کسی ہاسٹل میں داخلہ کروا دوں گا۔"
یہ کہہ کر زید جانے لگا، پھر اسے یاد آیا
"آپ نے کھانا تو کھایا نہیں ہوگا۔ میں بازار۔۔۔!"
جائی یانہ نے فوراً منع کیا۔
"نہیں رہنے دو۔ اس وقت مجھ سے کچھ نہیں کھایا جائے گا۔" اس سب تماشے کے بعد جائی یانہ کو بالکل بھی بھوک نہیں تھی۔
"اچھا اگر رات کو آپ کو بھوک لگے یا کوئی بھی مسئلہ ہو تو مجھے فوراً کال کردینا۔ آپ کے پاس میرا موبائل نمبر تو ہے نا؟"
جائی یانہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
زید تھوڑا سا مطمئن ہو کر چلا گیا۔ جائی یانہ چٹائی پر بیٹھ گئی اور اپنے بیگ کے پاس پہنچ گئی جسے زید نے آتے ہی اسٹور روم کے کونے میں رکھ دیا تھا۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی جلد بازی میں وہ کتنا سامان لائی ہے۔ اسی وقت اسٹور روم کا دروازہ ایک بار پھر کھلا اور زید کی بھابھی تن فن کرتی اندر آئی۔ اس نے پہلے جائی یانہ کو اور پھر چھت پر چلتے پنکھے کو گھورا۔ اس کے بعد سوئچ بورڈ کے بٹن پر ہاتھ رکھ کر پنکھا بند کردیا۔
"بی بی! میرے شوہر کی حرام کی کمائی نہیں ہے جو تم یوں اڑا رہی ہو۔ خبر دار جو تم نے اب پنکھا چلایا۔ پتہ نہیں کیسے گھر والے ہیں تمہارے؟! کسی کے بھی ساتھ جوان لڑکی کو بھیج دیا مگر ہم خاندانی اور شریف لوگ ہیں۔ محلے میں ہماری عزت ہے۔ آج رات کے لیے برداشت کر لیا ہے مگر صبح ہوتے ہی یہاں سے نکل جانا۔"
یہ کہہ کر اس کی بھابھی رکی نہیں بلکہ باہر چلی گئی۔ جائی یانہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ تذلیل کا احساس اس پر حاوی ہوا۔
کاش زید آج وہاں نہ آتا اور اس کی شادی عیسیٰ سے ہوجاتی مگر عیسیٰ نے کونسی اسے عزت دینی تھی۔ وہاں پر بھی اسے یونہی ذلیل ہونا تھا۔ لیکن وہ اس طرح در بدر تو نہ ہوتی۔ اس کے آنسو زمین پر گرنے لگے۔
حال میں وہ یونہی چت لیٹے چھت کو گھور رہی تھی۔ دروازے پر دستک دی گئی، تو وہ فوراً سے اٹھ کر بیٹھی اور اپنا ڈوپٹہ صحیح سے لیا۔
"دروازہ کھلا ہے!" جائی یانہ کی بات سن کر زید اندر آگیا۔ اس کی حالت کافی ملجگی تھی۔ وہ جیسے ہی آیا فوراً بولا۔
"پنکھا کیوں بند ہے؟" اس نے پنکھا چلایا۔
" تمہاری بھابھی بند کرکے گئی تھیں!" جائی یانہ کے بتانے پر زید نے سختی سے لب بھینچے مگر کہا کچھ نہیں۔ وہ جائی یانہ کے بالکل سامنے بیٹھ گیا۔جائی یانہ کی نظر اس کے ہاتھ میں موجود تھیلے پر گئی۔
"میں ناشتہ لے آیا ہوں۔ آپ نیچے جا کر منہ ہاتھ دھو کر آجائیں" زید یہ کہہ کر تھیلے سے سامان باہر نکالنے لگ گیا۔
"لیکن میں۔۔" جائی یانہ تذبذب کا شکار ہوگئی۔
"فکر نہ کریں۔ بھابھی سو رہی ہیں۔ آپ کو کوئی کچھ نہیں کہے گا۔" جائی یانہ نے گردن اثبات میں ہلائی۔ بیگ سے اپنے کپڑے نکال کر نیچے چلی گئی۔ اس نے ابھی تک لہنگا ہی پہنا ہوا تھا۔
کچھ پل بعد جب وہ اوپر آئی تو اس نے نارنجی رنگ کی سادہ سی شلوار قمیض پہنی تھی۔ بالوں کو سلیقے سے پونی میں باندھے، وہ بالکل ہشاش بشاش تھی۔ وہ جیسے ہی کمرے میں آئی، اسے زید دیوار سے ٹیک لگا کر سویا ہوا ملا۔ جائی یانہ خاموشی سے اندر آئی اور چٹائی پر بیٹھ گئی۔ وہ بھی اپنے پیچھے پڑے صندوق سے سہارا لے کر بیٹھی تھی۔ وہ دونوں اس وقت ایک دوسرے کے بالکل آمنے سامنے تھے۔ ان کے درمیان میں زید کا لایا ہوا ناشتہ تھا۔ زید کو سوتا دیکھ کر جائی یانہ پر بھی غنودگی چھانے لگی۔ وہ بھی سونے کے بالکل قریب تھی لیکن تبھی زید کی بھابھی نے اپنے کسی بچے کو اونچی آواز میں ڈانٹا۔
زید کی نیند بھی ٹوٹ گئی تھی۔ اس نے ہڑبڑا کر اردگرد دیکھا۔ کچھ دیر میں وجہ سمجھ جانے کے بعد وہ بیزاری سے سر پیچھے کرکے بیٹھ گیا اور منہ پر ہاتھ پھیرا۔
"بھابھی نے تو زندگی کا سکون چھین لیا ہے۔" بیزاری سے بولتا ہوا اس نے جائی یانہ کو ناشتہ دیا۔
ناشتے کے طور پر وہ بسکٹ اور جوس کے ڈبے لایا تھا۔ اس نے ایک بسکٹ کا پیکٹ اور جوس کا ڈبہ جائی یانہ کی طرف بڑھایا جبکہ دوسرا بسکٹ کا پیکٹ اور جوس کا ڈبہ خود اپنے پاس رکھ لیا۔ دونوں خاموشی سے ناشتہ کرنے لگ گئے۔
جائی یانہ بسکٹ کھا لینے کے بعد جوس اسٹرا لگا کر پی رہی تھی جب زید بولا۔
"میں نے سوچا ہے آج آپ یونیورسٹی چلی جائیے گا۔ یونیورسٹی سے تین بجے فارغ ہو کر آپ نائلہ کی طرف چلی جائیے گا۔ میں نے نائلہ سے بات کرلی ہے۔ اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اتنی دیر میں آپ کے لیے کوئی اچھا ہاسٹل ڈھونڈ لوں گا۔"
اس کی بات سن کر جائی یانہ بولی۔
"تمہیں میرے لیے اتنا سب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم نے پہلے ہی جو کچھ کیا، تمہیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اب جو آگے کرنا ہے میں خود کر لوں گی۔"
جائی یانہ کی بات سن کر زید نے اسے دیکھا۔
"میں آپ پر کوئی احسان نہیں کر رہا ہوں۔ میں اچھے سے جانتا تھا آپ سے نکاح کے بعد یہ مشکلات مجھ پر آنی تھیں اور یہ میرا فرض ہے۔ ہم نے نکاح کیا ہے۔ نکاح کا مطلب سمجھتی ہیں آپ؟ یہ کوئی کاروباری معاملہ نہیں جو ایک مخصوص مدت کے لیے رہے یا اس میں نفع نقصان دیکھا جائے۔ نکاح ساری زندگی کا ساتھ ہے۔ اب ہم دونوں کے درمیان "تمہارا یا میرا" نہیں رہا بلکہ صرف "ہمارا" ہوگیا ہے۔"
زید کی بات سن کر جائی یانہ نے کہا۔
"دیکھو زید! تم اس نکاح کو لے کر کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہوگئے ہو مگر میں نہیں ہوں۔ میں تمہیں جانتی نہیں ہوں۔ ایسے کیسے تمہارے ساتھ زندگی گزار لوں گی؟"
جائی یانہ کی بات سن کر زید مسکرایا۔
"جانتی تو آپ عیسیٰ کو بھی اچھے سے نہیں تھیں؟"
"تم مجھے طعنہ دے رہے ہو؟" جائی یانہ کے ابرو اوپر کو اٹھے۔
"نہیں! بس یہ سمجھنا چاہ رہا ہوں اگر آپ عیسیٰ کو یہ موقع دے سکتی ہیں، تو مجھے کیوں نہیں؟ کیا میں اس لائق نہیں ہوں کہ مجھے موقع دیا جائے؟" زید کے سوال نے جائی یانہ کو واقعی میں لاجواب کر دیا تھا۔ اس نے تھوڑی دیر بعد بات بدل دی۔
"تمہیں کیسے پتہ چلا عیسیٰ میرا کزن ہے؟"
"میرے کزن نے بتایا!" عیسیٰ شاید سمجھ گیا تھا جائی یانہ اس موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
"وہی کزن جس کے بارے میں، میں نے تم سے پوچھا تھا؟" جائی یانہ کا تجسس اب بیدار ہوگیا تھا۔
"ہاں وہی!" زید نے تصدیق کی۔
"تمہارے اس کزن کو آخر ان سب کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟ مجھے اور تمہاری بہن کو بچا کر آخر اسے ملا کیا؟" جائی یانہ نے زید سے پوچھا۔ پہلے اسے بس اس شخص پر شک تھا مگر اب پورا یقین تھا یہ آدمی ٹھیک نہیں تھا۔ اس کا ان سب میں کوئی نہ کوئی ہاتھ ضرور تھا۔
"مجھے خود نہیں پتہ لیکن میں اسے جہاں تک جانتا ہوں وہ بہت مفاد پرست ہے۔ اپنے فائدے کے لیے وہ لوگوں کو استعمال کرتا ہے۔ میں آپ کو اور عائشہ کو اس تقریب سے پہلے ہی سب کچھ بتا دینا چاہتا تھا مگر میرے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔ میری بہن اور آپ کے گھر والے ثبوت کے بغیر میرا یقین نہ کرتے۔ میرے کزن کے پاس ثبوت کے طور پر عائشہ اور عیسیٰ کا نکاح نامہ موجود تھا مگر اس کی شرط تھی وہ نکاح نامہ مجھے تب ہی دے گا، اگر میں یہ راز تقریب میں سب کے سامنے فاش کروں۔"
زید نیچے نظریں کیے سب کچھ بتا رہا تھا اور جائی یانہ پلک جھپکے بغیر زید کو دیکھ رہی تھی۔
"میں جانتا ہوں آپ کو مجھ سے اس بات کا گلہ ضرور ہوگا مگر میں مجبور تھا۔"
جائی یانہ کچھ بھی نہ کہہ سکی۔ اس کے دل میں واقعی میں یہ بات تھی۔ اسے زید کا عین نکاح کے وقت آنا برا لگا تھا۔ اگر وہ آ ہی گیا تھا تو سب گھر والوں کو اندر لے جا کر بھی بات کر سکتا تھا مگر وہ شکوہ زید کے احسانوں تلے کہیں دب سا گیا تھا۔ زید اس کی کیفیت سے بے نیاز کہے جا رہا تھا۔
"میں بھی یہ سب نہیں چاہتا تھا۔ آپ کے ساتھ ساتھ میری بہن کا بھی بھرے مجمعے میں تماشا لگا مگر میں آپ دونوں کو ایک فراڈ شخص کے ہاتھوں برباد نہیں ہونے دے سکتا تھا۔ اس لیے مجھے اپنے کزن کی بات ماننی پڑی۔"
"تم چاہتے تو ثبوث کو لے کر کہیں اکیلے میں بات کرلیتے!" جائی یانہ نے نہ چاہتے ہوئے بھی شکایت کی۔
زید کے لبوں پر ایک سوگوار مسکراہٹ سج گئی۔
"میں یہ کر سکتا تھا مگر میرے کزن کی شرط تھی سب کے سامنے یہ تماشا ہو۔ آپ اسے نہیں جانتی لیکن میں جانتا ہوں۔ وہ آپ کی سوچ سے بھی کئی گنا خطرناک ہے۔ اس کی آپ سے یا پھر عیسیٰ سے کوئی دشمنی ضرور ہے۔ اگر میں اس کی بات نہ مانتا تو وہ عین وقت پر مجھے جھوٹا بنا سکتا تھا اور اگر میں جھوٹا ثابت ہو جاتا تو تین زندگیاں برباد ہوجاتیں!"
زید کی وضاحت پر جائی یانہ خاموش رہی۔ پھر چپ چاپ اپنے بیگ کے پاس آئی اور اپنی ضروری کتابیں باہر نکالنے لگی۔ وہ اس کام میں مصروف تھی جب ایک بار پھر زید نے خاموشی توڑی۔
"میں نے آپ سے غلط بیانی بھی کی تھی!" زید نے جیسے اس پر انکشاف کرنا چاہا مگر وہ اپنے کام میں مگن رہی۔ زید نے بات جاری رکھی۔
"میرا کزن ہمارے پہلے سمیسٹر کے پییر میں آپ کا پتہ لگانے آیا تھا۔ اسے آپ کے بارے میں معلومات نکالنی تھی۔ اسے یہ کام جلدی کرنا تھا۔ اس نے آپ کو دیکھا نہیں تھا۔ وہ بس نام اور تھوڑی سی معلومات کے ذریعے آپ کا پتہ نکالنا چاہتا تھا۔ اس نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا وہ آپ کو کیوں ڈھونڈنا چاہتا ہے۔ شاید وہ بتا بھی دیتا اگر میں شروع میں ہی اس کی امیدوں پر پانی نہ پھیرتا۔ اس نے سوچا تھا میں آپ کے بارے میں ضرور پتہ لگا لوں گا مگر میرے شروع میں انکار کرنے پر وہ مجھے اس کام کے لیے رضا مند کرتا رہا۔ اس کی وجہ نہیں بتا سکا۔"
زید چپ ہوگیا۔ ایک دفعہ پھر ان دونوں کے درمیان سناٹا چھا گیا تھا۔
"تمہارے کزن کا کیا نام ہے؟" جائی یانہ نے پوچھا۔
"آریان!" زید نے آرام سے کہا لیکن جائی یانہ نے حیرانگی سے زید کو دیکھا۔
"آریان؟" جائی یانہ نے نام دوبارہ دہرایا۔
"جی اس کا نام آریان ہی ہے۔ کیا آپ اسے جانتی ہیں؟" زید کچھ آگے کو ہوا۔
"آریان نام تو میں نے عالیہ آپی کے نکاح نامے میں بھی دیکھا تھا۔ اوہ اللّٰہ میں نے اسی دن زید سے نام کیوں نہیں پوچھا۔ اس کی تصویر۔۔۔" جائی یانہ نے سوچا۔ جائی یانہ کڑیوں سے کڑیاں ملانے لگی۔ کچھ دیر بعد اسے جب اپنی بات پر پورا یقین ہوگیا تو زید کو دیکھا۔ کیا وہ زید پر اعتبار کر سکتی تھی؟ زید نے اس کی مدد کی تھی تو کیا اسے بھی اس پر اعتبار کرنا چاہیے۔ نہیں ابھی نہیں!
"آپ اسے جانتی ہیں؟" زید کے دوبارہ پوچھنے پر اس نے کہا۔
"زید میں پورے یقین سے نہیں کہہ سکتی ہوں کہ وہ وہی آریان ہے جسے میں جانتی ہوں۔ اس لیے ابھی کچھ بھی کہنا بے معنی ہے۔" جائی یانہ کو پورا یقین تھا کہ یہ وہی آریان ہے مگر وہ اس سے بہتر انداز میں زید کو انکار نہیں کر سکتی تھی۔
"آپ کہیں تو میں آپ کو آریان سے ملا دوں؟" زید نے اسے پیشکش کی جس کو اس نے فوراً ٹھکرا دیا۔
"نہیں نہیں ابھی نہیں!" وہ ہاتھ ہلاتے ہوئے منع کرنے لگ گئی۔ یہ بات پکی تھی آریان جائی یانہ کے خاندان کا دشمن تھا۔ اگر اسے پتہ چلا جائی یانہ اس کے بارے میں بہت کچھ جانتی ہے تو پتہ نہیں کیا ہوگا؟
اس سے پہلے زید کچھ اور کہہ پاتا جائی یانہ کتابیں پکڑ کر کھڑی ہوگئی اور بولی۔
"ہمیں یونیورسٹی چلنا چاہیے۔" جائی یانہ کو کھڑا ہوتا دیکھ کر زید بھی کھڑا ہوگیا۔ اس نے موبائل سے وقت دیکھا۔
"ہمم وقت تو ہوگیا ہے!" یہ کہہ کر وہ باہر جانے لگا جب جائی یانہ نے اس سے پوچھا۔
"میں یہ بیگ یونیورسٹی تو ساتھ لے کر نہیں جا سکتی۔ اسے کہاں رکھیں؟" جائی یانہ کی بات سن کر زید نے بھی اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔
"میرا تو بوائز ہاسٹل ہے اور اس بیگ میں زنانہ کپڑے اور چیزیں ہیں۔ میں اگر اسے اپنے ساتھ لے کر گیا تو خاصا بدنام ہو جاؤں گا۔" زید سوچتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ "یہاں پر رکھا تو بھابھی اسے پھینک دیں گی۔ میں اسے کہاں چھوڑوں؟" وہ یہی سوچ رہا تھا جب اسے خیال آیا۔
"آپ نائلہ کو کال کرکےپوچھیں؟"
جائی یانہ نے سر ہلایا اور نائلہ کو کال کرنے لگی۔
**********************
عزاہ کو لگا کل کی رات بہت لمبی تھی۔ وہ بیڈ پر لیٹی تھی۔ شایان اس کے ساتھ ہی سویا ہوا تھا۔ شایان نے نیند کی گولیاں کھائی تھیں، اس لیے اسے کمرے میں عزاہ کی موجودگی کا احساس نہیں ہوا۔ رات کو جب تک شایان واپس اپنے کمرے میں نہیں آیا، عزاہ کمرے میں نہیں گئی۔ شایان کے کمرے میں جانے کے بہت دیر بعد وہ کمرے میں گئی تو شایان سو چکا تھا۔
عزاہ ساری رات سو نہیں سکی۔ شایان کی ناراضگی، عزاہ کے لیے اب ثانوی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔ ابھی اسے اپنی دونوں بہنوں کی فکر تھی۔ ساڑھے سات بجے عزاہ فوراً سے اٹھی اور منہ ہاتھ دھو کر نیچے چلی گئی۔۔ کچھ دیر بعد زینب بھی اپنے کمرے سے نکل کر نیچے آگئیں۔ عزاہ کو دیکھ کر زینب کا چہرہ سنجیدہ ہوگیا۔
وہ اتر کر ڈائننگ ہال کی جانب بڑھ گئیں۔ عزاہ بھی ان کے پیچھے پیچھے ڈائننگ ہال آگئی۔ کرسی پر بیٹھتے ہی زینب نے عزاہ سے کہا۔
"مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے۔" اسی پل نمرہ بھی ڈائننگ ہال میں آئی اور کرسی کھینچ کر عزاہ کے ساتھ بیٹھ گئی۔ عزا کو آج تک کسی سے بھی نفرت نہیں ہوئی تھی جتنی اس وقت اپنے ساتھ بیٹھی اس لڑکی سے ہو رہی تھی۔
زینب نے اسے کل کا سارا واقعہ سنایا عزاہ کو سمجھ نہیں آیا وہ کیسا رد عمل دے۔ اس وقت ان تینوں بہنوں کی کشتیاں بھنور میں پھنسی تھیں۔
"مجھے تو ویسے بہت برا لگا۔ پتہ نہیں وہ شخص کیسا ہوگا اور جائی یانہ کے ساتھ کیا سلوک کرے ہوگا؟" یہ تبصرہ دینے والی نمرہ تھی۔ اس کے لہجے میں ایسا دکھ تھا جیسے واقعی میں وہ ساری رات جائی یانہ کے لیے پریشان رہی ہو۔ عزاہ کا نمرہ کی منافقت پر خون کھول گیا۔
"فکر تو مجھے بھی ہے مگر اب ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اب تو بس دعا ہے اللّٰہ اسے ہر بلا سے محفوظ رکھے۔" زینب نے ٹی پاٹ سے چائے کے کپ میں ڈالتے ہوئے بولا۔
"آمین!" نمرہ نے جتاتی نگاہوں سے عزاہ کو دیکھا۔ اسی وقت شایان بھی ڈائننگ ہال میں آگیا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ ملجگا لباس پہنے وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گیا۔ زینب اسے دیکھ کر فکر مند ہوئیں۔
"تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟"
"ہاں بس بخار ہو رہا ہے!" شایان نے بھاری آواز میں کہا۔
"دوائی لے لینا اور آج آفس نہ جانا۔ مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔"
"آفس مجھے جانا ہی ہے، میں گھر نہیں بیٹھ سکتا ہوں۔" یہ کہہ کر شایان ناشتہ کرنے لگ گیا۔ اسی وقت نمرہ بولی۔
"بھائی آپ کو پتہ ہے کل کیا ہوا؟"
عزاہ کا دل چاہا وہ نمرہ کی زبان نکال دے۔ ایک تو وہ اس کے اتنے پاس بیٹھی تھی کہ عزاہ سے خود پر قابو نہیں پایا جا رہا تھا۔ نمرہ نے کل کی ساری باتیں شایان کو بتا دی۔ شایان نے یہ بات سن کر کچھ نہیں کہا بلکہ خاموشی سے کھانا کھاتا رہا۔
"آپ کو حیرت نہیں ہوئی؟ ماموں نے جائی یانہ کی شادی کسی اجنبی سے کر کیسے دی؟ مجھے تو یہی سمجھ نہیں آ رہا۔"
"ماموں جانتے ہیں ان کی بیٹیوں کے کیا کرتوت ہیں، اس لیے وہ انہیں کسی پر بھی تھوپ دیتے ہیں۔ ویسے بھی ماموں نے یہ پہلی دفعہ تو نہیں کیا۔ میری مثال تو تمہارے سامنے ہی ہے۔"
شایان کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ سج گئی۔ زینب ضرور اسے ٹوکتیں اگر وہ ابھی بیمار نہ ہوتا۔ عزاہ کو اپنا آپ بے بس لگا۔ وہ کیا کرے کہ وہ شایان کی بدگمانی ختم ہو جائے۔
*********************
عالیہ اسی حالت میں بیڈ پر بیٹھی تھی۔ کمرے میں کوئی بھی کھڑکی یا گھڑی نہیں تھی جو اسے بتا سکتی کہ ابھی دن ہو رہا ہے یا رات۔ وہ یونہی بیٹھی دیوار پر نظریں جمائے بیٹھی تھی جب ملازمہ کمرے کے اندر آئی۔ اس کے ہاتھوں میں کھانے کی ٹرے تھی۔ اس نے عالیہ کو دیکھے بنا ٹرے میز پر رکھ دی اور واپس جانے لگی۔ تبھی عالیہ نے اسے پیچھے سے آواز دی۔
" مجھے آریان سے ملنا ہے۔ مسز جہانگیر تک میرا پیغام پہنچا دینا!"عالیہ کی بات سن کر وہ واپس چلی گئی۔ عالیہ بیڈ پر سے اٹھی اور میز کے پاس رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔
عالیہ نے کھانے کی ٹرے کو دیکھا۔ ٹرے میں انڈے، ٹوسٹ اور جیم رکھا ہوا تھا۔ یہ ساری لوازمات ناشتے کے لیے استعمال ہوتے تھے یعنی ابھی صبح کا وقت تھا۔ وہ کھانے کو دیکھتی رہی۔ اسے بہت تیز بھوک لگ رہی تھی مگر اسے اس کی انا کچھ کھانے نہیں دے رہی تھی۔ بلآخر اپنی انا پر پاؤں رکھ کر کھانا کھانے کے لیے ہاتھ بڑھائے اسی وقت کمرے کی طرف قدموں کی آہٹ بڑھتی محسوس ہوئی۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور واپس بیڈ پر بیٹھ گئی۔
دروازہ کھلا اور نووادر اندر آیا۔ عالیہ نے اسے دیکھا۔ کبھی وہ اسے اپنا کہتی تھی مگر آج تو وہ غیروں سے بھی بدتر دکھائی دے رہا تھا۔
"کیوں بلایا ہے؟" آریان نے بیزاری سے کہا۔
عالیہ نے کچھ نہیں کہا بس اسے دیکھتی رہی۔ آریان چڑ گیا۔
"کیا دیکھ رہی ہو تم؟ میرے پاس اور بھی کام ہے۔" آریان کی بات سن کر بھی عالیہ کچھ نہ بولی۔ آریان چڑ کر جانے لگا جب عالیہ کی آواز اسے سنائی دی۔
"تم نے یہ سب کیوں کیا؟" وہ ایک ایسی جواری تھی جس نے اپنا سب کچھ اس بازی میں لگا دیا تھا مگر ہار ہی اس کے نصیب میں آئی تھی۔
"میں نے تمہیں مجبور نہیں کیا تھا۔ تم نے خود مجھے بھاگ کر شادی کرنے کا کہا تھا!" آریان مڑا اور استہزایہ تاثرات سے اسے دیکھنے لگ گیا۔
"ڈالا تو وہ خیال تمہاری بہن ہی نے تھا!" عالیہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔
"تم دودھ پیتی بچی تو تھی نہیں، جو اس کی باتوں میں آگئی۔ ایک عقل و شعور رکھنے والی لڑکی تھی۔ تمہیں کس نے کہا تھا یوں سب کچھ لٹا کر میرے پاس آجاؤ؟"
عالیہ چلتی ہوئی اس کے سامنے آگئی۔
اپنی سنہری آنکھوں سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جس کا چہرہ بہت خوبصورت تھا لیکن اس کا اندر بہت ڈراؤنا تھا۔
"میں نے تم سے پیار کیا تھا!" کیا کچھ نہیں تھا لہجے میں۔۔۔
"میں نہیں کر پایا!" بے رخی کی انتہا تھی اس لہجے میں۔۔۔
" ایک طرح سے اگر دیکھا جائے تو پیار تو تم نے بھی نہیں کیا تھا۔ تمہیں تو بس اپنے منگیتر سے ضد تھی۔"تم اسے پسند نہیں کرتی تھی۔ ایسے میں میرا آجانا تمہیں گولڈن چانس لگا اور تم نے اس چانس کا فائدہ اٹھایا مگر افسوس وہ گولڈن چانس تو تمہارے لیے گڑھا نکلا جس میں تم آنکھیں بند کرکے گر گئی۔"
عالیہ نے اسے دیکھا۔ کیا واقعی میں وہ اس سب کو بس ضد سمجھتا تھا۔ کیا اسے پتہ نہیں تھا عورت کسی کی ضد میں اپنی عزت نہیں روندتی۔ اس نے جب جب اپنی عزت خود مٹی میں ملائی ہے تو اس کی وجہ بس محبت ہوتی ہے۔ وہ آریان کو یہ بات نہیں سمجھا سکتی تھی۔ اس لیے اس نے موضوع بدل ڈالا۔
"ٹھیک ہے۔ تم مجھ سے پیار نہیں کرتے تو نہ کرو لیکن بیوی تو ہوں نا میں تمہاری؟ اسی بات کا لحاظ کرلو۔" عالیہ نے اسے یاد دلانا چاہا۔
"اشفاق بھی تو تمہارا باپ تھا۔ باپ کی دہلیز پار کرتے ہوئے اسی بات کا لحاظ کرلیتی۔ جب تم نے کسی کا لحاظ نہیں کیا، تو کوئی تمہارا لحاظ کیوں کرے گا۔" عالیہ کی بات اس پر ہی الٹ دی گئی۔ اس کے الفاظ عالیہ کو خنجر کی طرح چبھے تھے۔
"تم مجھ سے آخر چاہتے کیا ہو؟ میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟" عالیہ نے بے بسی سے پوچھا۔
"تم نے میرا کچھ نہیں بگاڑا لیکن تمہارے گھر والوں نے میری ماں کا بہت کچھ بگاڑا ہے۔ ہم لوگ اس کا بدلہ لے رہے ہیں۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں۔" یہ کہہ کر آریان واپس چلا گیا اور عالیہ خالی ہاتھ وہی بیٹھی رہ گئی۔
********************
ناشتے کے بعد جب عزاہ اپنے کمرے میں آئی، تو اسے شایان آفس کے لیے تیار ہوتا دکھائی دیا۔ شایان نے رات والے واقعے کے بعد سے اب تک اس سے کوئی بات نہیں کی تھی یہاں تک کہ اسے دیکھا بھی نہیں تھا۔
"شایان آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں!" عزاہ اس کے پاس آئی اور اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا۔ شایان نے اس کی طرف دیکھا۔ آج شایان کی آنکھوں میں کچھ بھی نہیں تھا۔ نفرت بھی نہیں! اس کی آنکھوں میں بس اجنبیت کا تاثر تھا۔
"نہیں! میں نے صحیح سوچا تھا اور تم نے مجھے صحیح ثابت کیا ہے۔" اس کی آنکھیں ہی نہیں اس کا لہجہ بھی اجنبی تھا۔ شایان نے دوبارہ نظریں آئنے پر جما دی۔
"شایان آپ میری بات تو سنیں!" عزاہ نے بے بسی سے کہا۔
"مجھے کسی کی بات نہیں سننی۔ مجھے پتہ چل گیا ہے میری زندگی میں باکردار عورت کا ساتھ لکھا ہی نہیں تھا۔ اگر تم نہ ہوتی تو عالیہ کی صورت میں مجھے بدچلن عورت مل جاتی۔" عالیہ کا نام لیتے ہی شایان کے دل میں کچھ ہوا۔ اس کی نظریں ابھی بھی آئنے پر تھیں۔ "تم دونوں ایک جیسی ہو۔ میں نے کبھی کسی عورت کو گندی نظروں سے نہیں دیکھا۔ جب بھی کسی عورت سے بات کی تو ہمیشہ عزت کی نگاہوں سے دیکھا، پھر مجھے بدکردار عورت کیوں ملی؟"
اس نے عزاہ کو دیکھا۔ وہ جواب نہیں مانگ رہا تھا۔ اس کے لہجے میں اس قدر کرب تھا کہ عزاہ کچھ کہہ نہ سکی۔
"پہلے عالیہ مجھے یوں بیچ راستے میں چھوڑ گئی۔ مجھے اس سے اب شکوہ نہیں ہے کیونکہ وہ میری بیوی نہیں تھی۔ لیکن تم! تم تو میری بیوی تھی۔ تم نے کیوں غیر مردوں سے تعلقات بنائے؟"
"میں نے کوئی تعلق نہیں بنایا۔" عزاہ نے چلا کر کہا۔
"اونچا بولنے سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔ تم آخر کو اشفاق کی بیٹی ہو۔ اس اشفاق کی جس نے ساری عمر میری ماں کو کمتر سمجھا۔ ہم لوگ تم لوگوں کو اپنا سمجھتے تھے مگر تم لوگ تو غیروں سے بدتر نکلے۔" شایان کی بات سن کر عزاہ کا پارہ ہائی ہوگیا۔ وہ کہنا چاہتی تھی اس کی اصل خوشیوں کی دشمن عزاہ کا خاندان نہیں بلکہ اس کی سگی بہن ہے۔
"تم یہ مت سمجھنا میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔ تم اسے میری ضد سمجھو یا انا، مگر میں تمہیں کبھی طلاق نہیں دوں گا۔ ساری عمر میں تمہیں اپنے پاس رکھوں گا۔ ابھی تک تو میں نے اپنا کوئی حق استعمال نہیں کیا لیکن!" شایان ایک دم ٹھٹھکا۔ ایسے جیسے اسے ابھی ہی کوئی بات یاد آئی ہو۔ "اب میں اپنا ہر حق استعمال کروں گا۔"
وہ عزاہ کی جانب مڑا۔
"اور مرد پر یہ فرض ہے جب اس کی عورت غیر مردوں سے تعلقات بنائے تو اس کو سیدھی راہ دکھائے۔ اس پر مار پیٹ کا حکم تو ہمیں ہمارے دین نے بھی دیا ہے۔" شایان اب بھول چکا تھا کہ اسے آفس جانا ہے۔ عزاہ خوف کے ساتھ اسے اپنے جانب بڑھتا دیکھ رہی تھی۔ آج کا دن عزاہ کی زندگی کے سیاہ دنوں میں سے ایک دن تھا۔
********************
نائلہ سے بات کرکے ان دونوں نے جائی یانہ کا بیگ نائلہ کے گھر میں رکھوا دیا۔ وہ نائلہ ہی کے ساتھ یونیورسٹی چلی گئی کیونکہ زید نے آج یونیورسٹی جانے کے بجائے اپنی نوکری پر جانا تھا۔
جائی یانہ کو آج پتہ چلا تھا زید اپنی پڑھائی اور دیگر اخراجات کو پورا کرنے کے لیے نوکری کرتا تھا۔ اسی لیے وہ روزانہ یونیورسٹی نہیں آیا کرتا تھا۔ آج کا دن جائی یانہ کے لیے خاصا مصروف تھا۔ عزاہ کی شادی کے بعد شاید وہ ایک دو دن ہی وہ یونیورسٹی گئی تھی۔ اتنی زیادہ غیر حاضری کی وجہ سے وہ اپنی کلاس سے بہت پیچھے رہ گئی تھی۔ اب اسے اپنے روازنہ کے کام کے ساتھ ساتھ پچھلا کام بھی پورا کرنا تھا۔
زید کی ہدایت کے مطابق وہ یونیورسٹی کے بعد نائلہ کے گھر ہی آگئی تھی۔ نائلہ کے گھر والوں نے اس کا پر جوشی سے استقبال کیا۔ نائلہ نے تو اسے یہ تک کہہ دیا تھا اگر وہ چاہے تو ایک ہفتے تک اس کے گھر رہ سکتی تھی مگر اسے یوں کسی کے گھر ٹھہرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے نائلہ کے ساتھ بیٹھ کر سارا دن پڑھائی میں گزارا۔
شام کو وعدے کے مطابق زید اسے نائلہ کے گھر سے لینے آگیا۔ جائی یانہ اپنا بیگ اٹھائے باہر نکلی تو اسے زید بائیک پر بیٹھا دکھائی دیا۔ زید کافی تھکا ہوا تھا۔ ظاہر سی بات تھی بیچارا نوکری کے ساتھ، آج اس کے رہنے کا انتظام بھی کر رہا تھا۔ جائی یانہ کو شرمندگی نے گھیر لیا۔ زید نے بلا وجہ اس کی ذمہ داریاں اپنے اوپر لے لی تھی۔
وہ جیسے ہی اس کے پاس پہنچی فوراً بولی۔" ہاسٹل مل گیا؟"
"جی مل گیا۔" اس نے مختصر سا جواب دیا۔
جائی یانہ اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں ایک بھورے رنگ کی عمارت کے سامنے کھڑے تھے۔ اس کے گیٹ کے اوپر گرلز ہاسٹل کی تختی لگی تھی۔ وہ دونوں اندر آگئے اور سب سے پہلے ہاسٹل کے دفتر میں گئے۔ جائی یانہ کا ہاسٹل میں داخلہ ہوگیا۔ کچھ دیر بعد ایک عورت کے ساتھ جا کر جائی یانہ نے اپنا کمرہ دیکھا۔ سب کچھ بالکل ٹھیک تھا۔ جائی یانہ جانتی تھی وہ ایک اچھا ہاسٹل تھا اور اس ہاسٹل میں داخلے کی فیس اور اس کے اخراجات بہت زیادہ تھے۔
سب چیزیں دیکھ لینے کے بعد جائی یانہ وزیٹنگ روم میں آئی۔ اسے زید کرسی پر بیٹھا ملا۔ زید کی نظریں اس وقت فرش پر تھی۔
"آپ کو ہاسٹل صحیح لگا؟" زید نے اسے آتا دیکھا تو اٹھتے ہوئے پوچھا۔
" تمہیں اتنا مہنگا ہاسٹل چننے کیا ضرورت تھی؟" جائی یانہ نے اسے گھرکا۔
"یہ ہاسٹل ہماری یونیورسٹی کے بالکل پاس ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے، یہاں کا ماحول محفوظ ہے۔ میں پیسوں کے چکر میں آپ کو کسی گھٹیا ہاسٹل میں تو ٹھہرا نہیں سکتا تھا۔" زید نےآخری بات غصے میں کہی۔
"اور وہ جو اس پر اخراجات ہونگے، اس کا کیا؟ تم نے ضرور اس مہینے کی فیس دے دی ہوگی۔" جائی یانہ نے اسے باریک بینی سے دیکھا۔
"ایک نہیں، دو مہینے کی!" زید نے بہت آرام سے اس کی تصیح کی۔ جائی یانہ کا دماغ بھک سے اڑا۔
"زید تم پاگل ہوگئے ہو؟ تم نے اپنی ساری جمع پونجی ان سب میں خرچ کردی ہے۔ میں جتنا چاہتی ہوں تمہارا احسان مجھ پر سے کم ہو، تم اتنا مجھے احسانوں تلے دبا رہے ہو۔"
زید سینے پر ہاتھ باندھے اس کی بات سنتا رہا، پھر آرام سے بولا۔
"ہوگیا یا اور بولنا ہے؟" زید کی بات سن کر جائی یانہ نے کاٹ دار نظروں سے اسے دیکھا۔ زید جائی یانہ کی نظروں سے خاصا محظوظ ہوا۔
"میں نے آپ کے لیے کچھ نہیں کیا ہے۔ میں جو کچھ کر رہا ہوں اپنے محسن کے لیے کر رہا ہوں، جس نے میری زندگی بچائی تھی۔ "
جائی یانہ نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے مگر زید نے ہاتھ اٹھا کر جائی یانہ کو خاموش رہنے کا اشارہ دیا۔
"میں جانتا ہوں آپ یہی کہیں گی یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی لیکن یہ صرف آپ کے نزدیک ہے۔ میرے نزدیک آپ نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ آپ نے میری زندگی بچائی ہے۔ اگر زندگی نہ ہو تو انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ میں نے ابھی تک ایسا کوئی کام نہیں کیا کہ آپ کا احسان اتار سکوں۔ میں نے آپ سے نکاح کیا، بھائی کے گھر رات کے لیے رکوانا یا ہاسٹل ڈھونڈنا اور اس کے واجبات دینا، یہ سب بہت چھوٹی بات ہیں۔ آپ کا احسان ابھی بھی اوپر ہے اور جہاں تک بات اس ہاسٹل کے واجبات ادا کرنے کی ہے تو!" زید نے رک کر اسے دیکھا۔ جائی یانہ اسے ہی غور سے دیکھ رہی تھی۔
"تو وہ سب آپ کے خود کے مطابق میری سیونگز تھیں۔ انسان ہمیشہ اپنی سیونگز فیملی کے لیے ہی رکھتا ہے تاکہ اپنی فیملی کے لیے صحیح وقت پر خرچ کر سکے اور آپ کل رات میری فیملی میں شامل ہوئی تھیں۔" زید کیا کہہ رہا تھا، جائی یانہ کو اچھے سے سمجھ آ رہا تھا۔ "میں جا رہا ہوں اگر آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو یا کوئی بھی پریشانی ہو تو مجھے کال کر دینا۔ "
وہ یہ کہہ کر جانے لگا۔ جائی یانہ نے اسے روک کر پوچھا۔
"زید تم نے اپنے بھائی کے گھر کہا تھا اگر عیسیٰ سے میری شادی ہو جاتی تو تین لوگوں کی زندگی خراب ہو جاتی۔ ایک تو میں ہوں اور دوسری عائشہ لیکن تیسرا کون تھا؟" وہ کب سے اسی الجھن کا شکار تھی۔
زید نے پیچھے مڑ کر جائی یانہ کو دیکھا۔ اس نے کہا کچھ بھی نہیں مگر اس کے چہرے پر پھیلتی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک نے جائی یانہ کو مزید الجھا دیا۔ وہ جائی یانہ کو یونہی دیکھتا رہا، پھر چلا گیا۔ جائی یانہ وہیں کھڑی رہ گئی۔
********************
زینب کو یاد نہیں پڑتا تھا عمر کے اس انکشاف کو کتنے دن بیت گئے تھے۔ اس کی طبیعت اس دن کے بعد سے کافی نڈھال رہنے لگی تھی۔ عمر جو آدھی رات سے پہلے آجایا کرتا تھا، اب آدھی رات کے بعد آیا کرتا تھا۔ اس کی زندگی ایک عجیب دوراہے پر کھڑی تھی۔ یہ باتیں کسی کو بتا کر وہ اپنا دل بھی ہلکا نہیں کر سکتی تھی کیونکہ اس کا تھا ہی کون؟
اپنے میکے میں بتانا خود اپنا مذاق اڑانے کے مترادف تھا۔ سسرال میں یہ بات کسی سے کر بھی لیتی لیکن عمر نے اسے اس دن صاف بتا دیا تھا اگر اس نے یہ بات عمر کے گھر والوں کو بتائی، تو وہ اسے کھڑے کھڑے طلاق دے دے گا۔
عمر نے کہا تھا وہ اس کے ساتھ کبھی زیادتی نہیں کرے گا مگر اس نے سب سے بڑی زیادتی کسی تیسرے کو ان دونوں کے درمیاں لاکر کر دی تھی۔
عمر پر قابو پا لینا اس تیسرے کے لیے کافی آسان تھا کیونکہ وہ تیسرا زینب اور عمر کو کافی اچھے سے جانتا تھا یا پھر شاید وہی ان دونوں کو جانتا تھا۔ زینب کو اب اس تیسرے سے بے تحاشا نفرت ہوگئی تھی۔
اب زینب کو خود اپنے گھر کو بچانے کے لیے کچھ کرنا تھا۔ وہ فوراً سے اٹھی اور کچن میں چلی گئی۔ اس نے عمر کے پسندیدہ کھانے بنائے۔ کھانا بنا لینے کے بعد وہ کمرے میں گئی اور تیار ہونے لگ گئی۔ اس نے اپنے فون سے عمر کو میسج کیا کہ وہ آج جلدی سے گھر واپس آجائے۔
زینب کو لگ رہا تھا کہ وہ تیسرا یہیں آکر بس کردے گا مگر زینب اس بات سے انجان تھی وہ تیسرا جتنا اچھا زینب کو جانتا تھا، زینب اتنا اسے کبھی بھی جان نہیں سکتی تھی۔
****************
جائی یانہ نے اپنا کمرہ ایک دفعہ پھر غور سے دیکھا۔ کمرے میں دو سنگل بیڈ تھے۔ کمرے کے ایک کونے میں رائٹنگ ٹیبل تھی۔ کمرے کی سفید دیواروں پر بہت سے اداکاروں اور موسیقاروں کے پوسٹر لگے ہوئے تھے جو یقیناً اس کی روم میٹ نے لگائے ہونگے۔ کمرہ کافی صاف ستھرا تھا۔ بے شک وہ رہنے کے لیے کافی اچھا تھا۔
جائی یانہ نے اپنا بیگ اٹھایا اور الماری میں اپنا سامان سیٹ کرنے لگی۔ جب اس نے اپنا سامان سیٹ کرلیا تو کمرے کا دروازہ کھلا۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک لڑکی کمرے میں آ رہی تھی۔ اس نے شوخ جامنی رنگ پر کالے رنگ کی پینٹ پہنی ہوئی تھی۔ اس نے باب کٹنگ کروائی تھی۔ کانوں میں ہیڈ فونز لگائے جب وہ رائٹنگ ٹیبل پر اپنا کوئی سامان اٹھانے آئی تو اس کی نظر جائی یانہ پر پڑی۔ اس نے اپنے ہیڈ فونز کان سے ہٹا کر گلے میں ڈالے اور اس سے پوچھا۔
"تم میری نئی روم میٹ ہو نا؟"
جائی یانہ کی گردن اثبات میں ہلی۔
"اوہ ہیلو! میں جے ٹی ہوں۔ میرا نام سن کر تم نے ضرور سوچا ہوگا یہ کیسا نام ہے؟ دراصل میں پنجاب سے آئی ہوں اور ہماری ذات جٹ ہے۔ میرا اصلی نام مجھے اچھا نہیں لگتا۔ اس لیے میں نے اپنا نام اپنی ذات سے لے کر "جے ٹی" رکھ لیا۔ میں اپنا اصلی نام کسی کو بھی نہیں بتاتی، تو تم بھی مت پوچھنا۔ ویسے تمہارا نام کیا ہے؟"
اپنے نام کی اتنی لمبی وضاحت دے دینے کے بعد اسے جائی یانہ کا نام پوچھنا یاد آگیا۔
"میں جائی یانہ ہوں!" جائی یانہ کا نام سن کر جے ٹی نے ستائش سے کہا۔
"اچھا نام ہے۔ امید کرتی ہوں تم مجھے میری پچھلی روم میٹس کی طرح تنگ نہیں کرو گی۔ ویسے تم ہاسٹل رہنے کیوں آئی ہو؟ تمہیں دیکھ کر لگتا ہے تم ابھی اسٹوڈنٹ ہی ہو۔ کیا تم یہاں پڑھنے آئی ہو؟" یہ ایک ہی سانس میں کتنی باتیں بول جاتی ہے۔ جائی یانہ نے دل میں سوچا۔
"ہاں ایسا ہی سمجھ لو۔" جائی یانہ نے مبہم سا جواب دیا۔ جائی یانہ اپنے پاس والے بیڈ پر جبکہ جے ٹی دوسرے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
"چلو اچھی بات ہے۔ یہ رائٹنگ ٹیبل تمہارے کام آجائے گی کیونکہ میری پڑھائی کو تو ختم ہوئے عرصہ ہوگیا ہے۔" اس کی عمر اتنی نہیں لگتی تھی کہ اس نے اپنی پڑھائی مکمل کرلی ہو۔
"آپ نے کتنا پڑھا ہوا ہے؟" جائی یانہ نے اسی تجسس میں پوچھا۔
"انٹر کیا تھا۔ وہ بھی رو دھو کر!" جے ٹی نے ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے کہا۔ "اب ایک ڈی جے کے طور پر پارٹیز وغیرہ اٹینڈز کرتی ہوں ورنہ زیادہ تر کلبز میں اپنی ڈی جے سروسز سے لوگوں کو انجوائے کرواتی ہوں۔ اگر تمہارے ہاں کبھی کوئی پارٹی وغیرہ ہو تو مجھے بھولنا مت!"
"اچھا!" جائی یانہ بس اتنا ہی کہہ سکی۔
اسی وقت جائی یانہ کے موبائل پر زید کی کال آئی۔ جائی یانہ نے موبائل اٹھایا اور کال اٹینڈ کی۔
"ہیلو!" جائی یانہ کے بولنے پر زید نے کہا۔
"ہاسٹل میں سب ٹھیک ہے نا؟" زید کے پوچھنے پر جائی یانہ بولی۔
"ہاں یہاں سب ٹھیک ہے۔ تم پریشان نہ ہو۔ اگر کچھ ہوا تو تمہیں کال کر دوں گی۔"
" اچھا چلو بس یہی پوچھنا تھا!" پھر زید نے کال کاٹ دی۔ جے ٹی نے فون پر زید کا نام دیکھ لیا تھا۔ جب جائی یانہ نے فون رکھا تو جے ٹی بولی۔
"یہ زید کون ہے، تمہارا بوائے فرینڈ؟"
"نہیں تو!"
"ہمم میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔ تم کہیں سے بھی گرل فرینڈ میٹیریل نہیں ہو۔" جے ٹی نے آرام سے اس کے اوپر تبصرہ کیا۔ جائی یانہ کو اس کی یہ بے ہودہ بات ایک آنکھ نہیں بھائی۔
"وہ میرا شوہر ہے!" جائی یانہ نے جتاتے ہوئے کہا تو جے ٹی نے آنکھیں پھاڑ کر جائی یانہ کی طرف دیکھا۔
"کیا کہا تم نے؟ تمہارا شوہر؟" وہ اب گھور کر جائی یانہ کو ایسے دیکھنے لگی جیسے وہ کوئی اور مخلوق ہو۔
"تم اس عمر میں شادی شدہ ہو۔ کیا پاکستان میں ابھی بھی چھوٹی عمر کی شادیاں رائج ہیں؟ پلیز یہ نا کہنا تمہارا شوہر تم سے بڑی عمر کا ہے یا تمہارے سات آٹھ بچے بھی ہیں۔" جے ٹی دوبارہ شروع ہوچکی تھی۔
"میری عمر اٹھارہ سال ہے اور میرا پرسوں ہی نکاح ہوا ہے۔ میرے شوہر کی عمر بھی لگ بھگ میرے جتنی ہے۔ ہماری کوئی چھوٹی عمر میں شادی نہیں ہوئی۔" جائی یانہ نے چڑ کر کہا اور وہاں سے کھڑے ہوکر دوسرے کام کرنے لگ گئی۔ اس نے سوچ لیا تھا اب وہ جے ٹی نامی اس مخلوق کو مکمل طور پر نظر انداز کرے گی۔ ایسا کرنے سے شاید وہ باز آ جائے۔ جے ٹی نے جائی یانہ سے اس موضوع پرمزید بات کرنا چاہی مگر جائی یانہ نے مختصر اور مبہم جواب دے کر اس کی حوصلہ شکنی کی۔ رات کے کھانے پر جب ڈائننگ ہال میں سب لڑکیاں کھانے کے لیے اکھٹا ہوئیں تو اس کی ہاسٹل کی سربراہ نے جائی یانہ کا تعارف کروایا تو جے ٹی نے بیچ میں لقمہ دینا ضرور سمجھا۔
"ساتھ ساتھ اس کا ایک عدد شوہر بھی ہے جو ہر گھنٹے بعد اس کی خیریت پوچھ رہا ہے۔ مجھے تو خاصا loyal بندہ لگتا ہے۔" سب نے جائی یانہ کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا۔
"امم ہمم جے ٹی!" ہاسٹل کی سربراہ نے اس کی سر زنش کی۔
"کیا میں نے کیا کیا ہے؟" جے ٹی نے معصوم بن کر پوچھا۔
اس کے بعد سب نے خاموشی سے کھانا کھایا۔ ہاسٹل کا یہ اصول بھی تھا کہ کھانا سب ایک ساتھ ڈائننگ ہال میں کھاتے تھے۔ کسی کے لیے الگ سے کھانا کمرے میں نہیں جاتا تھا۔ ہاسٹل میں کوئی بھی رات کے گیارہ بجے کے بعد باہر نہیں جا سکتا تھا اور جتنے بھی قواعد و ضوابط تھے، ہاسٹل کی انتظامیہ سختی سے ان پر عمل کرواتی تھی۔
*******************
اگر ہم بوائز ہاسٹل کی تیسری منزل میں آکر ایک کمرے میں داخل ہوں تو اس کا کمرا بکھرہ ہوا تھا۔ کمرے کی حالت دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے یہاں پر کوئی طوفان آیا ہو مگر یہ حالت صرف کمرے کے آدھے حصے تک محدود تھی۔ باقی کا آدھا حصہ سمٹا اور سنوار کر رکھا ہوا تھا۔ ایسا لگتا تھا کمرہ بٹا ہوا تھا۔ بکھرے ہوئے حصے میں رکھے سنگل بیڈ پر بس کپڑے اور جوتے رکھے ہوئے تھے جبکہ صاف ستھرے حصے میں رکھے سنگل بیڈ پر لیٹا گھنگھریالے بالوں والا لڑکا چھت کو تک رہا تھا۔
زید تھکا ہوا تھا ۔ پرسوں سے وہ بے سکون تھا۔ اس کے اوپر اس وقت قرض کا انبار لگا ہوا تھا۔ جائی یانہ کو لگ رہا تھا زید کے پاس سیونگز تھی جس کی وجہ سے اس نے ہاسٹل کے دو مہینے کی فیس ادا کی تھی جبکہ حقیقت مختلف تھی۔ اس نے وہ ہاسٹل کی فیس قرض لے کر ادا کی تھی۔ اس کی آمدنی تو اتنی تھوڑی تھی کہ بچانے کی نوبت ہی نہیں آ پاتی تھی۔ زید یہ بات جانتا تھا اب اسے اور زیادہ محنت کرکے اپنے ساتھ ساتھ جائی یانہ کے اخرجات اٹھانے تھے۔ یہ بات نہیں تھی وہ جائی یانہ کو اپنی زندگی میں شامل کرکے پچھتا رہا تھا۔ اس کے لیے اپنا یہ فیصلہ زندگی کا سب سے اچھا فیصلہ لگتا تھا۔ اسے پریشانی اخرجات کی تھی۔ اگر زید کے ماضی پر نظر ڈالیں، تو وہ بالکل کھلی کتاب کی طرح تھا۔
ماں باپ کا انتقال ایک عرصہ پہلے ہوگیا تھا۔ زاہد سب سے بڑا تھا، عائشہ دوسرے نمبر پر جبکہ زید سب سے چھوٹا تھا۔ زاہد نے ہی باپ بن کر اپنے بہن بھائی کو پالا تھا۔ ان تینوں بہن بھائیوں میں بہت پیار تھا۔ عائشہ اور زید اپنے بڑے بھائی کے احسانوں اور قربانیوں کا تہہ دل سے شکر گزار تھے۔ حالات تب خراب ہوئے جب زید نویں جماعت میں پہنچا۔ ان ہی دنوں زاہد کی شادی ان کے محلے داروں نے ایک یتیم لڑکی سے کرا دی جس کے آگے پیچھے کوئی نہیں تھا اور وہ اسی محلے میں اپنے دور کے رشتے داروں کے پاس رہا کرتی تھی۔
شروع شروع میں اس کی بھابھی ان سے کافی اچھے سے پیش آتی تھیں مگر پھر آہستہ آہستہ زید کو محسوس ہونے لگا زاہد کی توجہ اپنے بہن بھائی سے ہٹتی جا رہی ہے مگر اس نے نظر انداز کیا۔ وہ جانتا تھا اب اس کے بڑے بھائی کی توجہ کی حقدار ان سے زیادہ ان کی بھابھی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ گھر کا ماحول بدلنے لگا۔ جیسے ہی بھائی جان کی پہلی اولاد ہوئی، عائشہ اور زید کے لیے زندگی دوبھر ہوگئی۔ بھابھی خود کو اس گھر کی مالکن سمجھ کر اپنے اصول لاگو کرنے لگ گئیں۔ زاہد نے بھی اپنی بیوی پر اس معاملے میں کوئی روک ٹوک نہیں کی۔ جس پر ان کی بھابھی کو اور شہہ مل گئی۔ اب وہ گھر، زید کے لیے گھر نہیں بلکہ اکھاڑا بن گیا تھا۔ بھابھی اور عائشہ کے جھگڑے روز کا معمول بن گئے کیونکہ عائشہ اپنی بھابھی کی کسی غلط بات کو برداشت نہیں کرتی تھی اور اس کی بھابھی ان دونوں بہن بھائی پر اپنا احسان جتائے بغیر رہتی نہیں تھیں۔ دوسری طرف زید بھابھی کی کڑوی کسیلی باتوں کو نظر انداز کرنے کی بھرپور کوشش کرتا تھا۔
شروع میں تو بھائی جان نے ان لڑائیوں میں کھل کر کسی کی حمایت نہیں کی مگر آہستہ آہستہ وہ بھابھی کی طرف داری کرنے لگے۔ وہ عائشہ اور زید کو گنوانے لگے ان کی خاطر انہوں نے کتنی قربانیاں دی ہیں، اس لیے انہیں چاہیے کہ اپنی حد میں رہیں۔ جو باتیں پہلے بس بھابھی کی زبان پر ہوتی تھی، وہ اب ان کے بڑے بھائی نے بھی کہنا شروع کر دی۔
ایک دن عائشہ اور بھابھی کی لڑائی ہمیشہ کی طرح جاری تھی۔ زید ان کی لڑائی میں نہ بولتا، اگر بھابھی اس کے مرے ہوئے ماں باپ کو برا بھلا نہ کہتیں۔
"بھابھی پلیز لڑائی آپ کی اور عائشہ کی ہے، اماں ابا کو بیچ میں نہ لائیں!" زید نے چلاتے ہوئے کہا۔
"کیوں نہ لاؤں میں ان کو؟ ان ہی کی وجہ سے تو تم دونوں بہن بھائی ہمارے سر پر بیٹھے ناچ رہے ہو۔"
یوں زید اور اس کی بھابھی کی تلخ کلامی بڑھنے لگی۔ اسی وقت زاہد بھی گھر آگیا۔ وہ دیور بھابھی کو لڑتا دیکھ کر گھر کی چوکھٹ پر کھڑا حیران رہ گیا۔ اپنے بڑے بھائی کو دیکھ کر زید نے بھابھی کی شکایت لگائی۔
"دیکھیں بھائی جان، بھابھی کیسی باتی۔۔" اس سے پہلے بات مکمل ہو پاتی، زاہد نے زید کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔
"بے شرم! بے غیرت! تمہیں شرم نہیں آتی اپنی بھابھی سے بدتمیزی کرتے ہوئے۔ تمہاری بھابھی بولتی تھی تم اس سے بدتمیزی کرتے ہو مگر میں نے اس کا کبھی یقین نہیں کیا۔ ہمیشہ اپنی بیوی کو جھوٹا مان کر تمہارا یقین کیا۔ مجھے ساری زندگی کی ریاضتوں کا یہ صلہ ملا ہے۔" زاہد طیش کے عالم میں کانپ رہا تھا۔
"میں تو پہلے سے بولتی تھی آپ نے آستین کے سانپ پالے ہوئے ہیں۔ آپ نے ہی یقین نہیں کیا۔ اب دیکھیں انہیں!" بھابھی نے جلے پر نمک چھڑکا۔ "میں تو کہتی ہوں اسے نکال باہر کریں۔ ایسے ہی ہمارے گھر میں پڑا ہوا ہے۔"
"آپ کا گھر؟ یہ گھر آپ کا گھر کیسے ہوگیا؟" عائشہ نے تنک کر کہا۔ "یہ ہم تینوں بہن بھائیوں کا گھر ہے۔ یہ ہم سب کا گھر ہے۔ اکیلی آپ ہی اس گھر کی مالکن نہیں ہیں۔"
"بس عائشہ!" زاہد نے چلاتے ہوئے کہا۔ "آج مجھے یقین ہوگیا ہے میرے بہن بھائی مجھے بس نوچ نوچ کر کھانا چاہتے ہیں۔ اب تم یہیں کھڑی ہوکر میرے سامنے میرے گھر کا بٹوارہ کر رہی ہو۔ صحیح کہتی ہے تمہاری بھابھی! اگر مجھے کچھ ہوگیا تو تم دونوں تو اسے اور میرے بچوں کو نکال باہر کرو گے۔"
یہ کہہ کر زاہد بھائی، بھابھی کو لے کر کمرے کے اندر چلے گئے۔ زید پوری رات روتا رہا اور عائشہ اسے چپ کروانے میں لگی رہی۔
کچھ دنوں بعد عائشہ کے منہ سے اسے خبر ملی کہ اس کے بھائی جان نے یہ گھر اپنے نام کروا لیا ہے۔ اس دن زندگی میں پہلی دفعہ زید کو اپنا آپ لاوارث لگا۔ اب بس ایک غلطی پر اس کی بھابھی اسے گھر سے باہر نکال سکتی تھی۔ بھائی نے اس کی پڑھائی کے اخراجات دینا بند کر دیے تھے۔ پیسوں کی خاطر، وہ ریستوران میں ویٹر کی جاب کرنے لگ گیا۔ انٹر میں بمشکل پاس ہو جانے کے بعد اس نے بی بی اے کا سوچا۔
اس نے بڑی مشکل سے پیسے اکٹھا کیے اور یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ زاہد اور عائشہ نے بارہ جماعتیں پڑھنے کے بعد پڑھائی ختم کر دی تھی۔ زید کو آگے پڑھتا دیکھ کر بھابھی نے واویلا مچا دیا۔
یونیورسٹی کا پہلا دن اسے بہت خوشگوار لگا حالانکہ اس خوشگوار دن کی صبح بہت بری تھی۔ وجہ ہمیشہ کی طرح بھابھی تھی۔
بھابھی کے طعنوں اور بدتمیزی سے تنگ آیا زید، جب یونیورسٹی میں آیا اور اپنا پہلے لیکچر سننے کے لیے کلاس میں آیا، تو اسے دور سے ایک سانولی لڑکی آتی دکھائی دی۔ بھابھی کی باتیں، جو کب سے اس کے دماغ میں گردش کر رہی تھیں، اس کے ذہن سے غائب ہوگئی۔ اس کی نظریں اس لڑکی پر جم گئی تھی۔ اس لڑکی کو شاید کہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔ حالانکہ بہت سے بینچ ایسے تھے جس میں لڑکے اکیلے بیٹھے تھے مگر اس لڑکی نے ان میں سے کسی بھی بینچ کا انتخاب نہیں کیا۔
آخرکار اس لڑکی کو ایک بینچ مل گئی۔ اس پر سیاہ چادر والی لڑکی بیٹھی تھی۔ وہ اس پر بیٹھ گئی۔ لیکچر کب شروع ہوا اور کب ختم ہوا زید کو پتہ ہی نہیں چلا۔ اس کو پروفیسر کے جانے کی خبر تب ہوئی، جب وہ لڑکی بینچ پر سے اٹھی۔ زید نے اسے جاتا دیکھا پھر واپس اس کے بینچ پر دیکھا۔ اس کے بینچ پر موبائل پڑا تھا۔ وہ فوراً سے کھڑا ہوا اور موبائل اٹھایا۔ وہ یقیناً اسی لڑکی کا تھا۔ اس لڑکی کی بے پرواہی پر زید کو غصہ آیا۔ بھلا کوئی موبائل بھی یوں رکھ کر بھولتا ہے۔
اس نے لڑکی کو پوری یونیورسٹی میں ڈھونڈا۔ بہت دیر بعد وہ اسے میدان میں دھوپ میں بیٹھی دکھائی دی۔ گرمی ابھی گئی نہیں تھی مگر وہ لڑکی آرام سے گرم دھوپ میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی۔ اس نے لڑکی کا موبائل اسے واپس دیا اور جاتے جاتے اس کا دھیان دھوپ اور گرمی پر دلایا۔
اس دن وہ اس لڑکی کے بارے میں لاشعوری طور پر سوچتا رہا۔ وہ دن زید کو کافی اچھا لگا تھا لیکن اس اچھے دن کی رات زید کے لیے کافی بری ثابت ہوئی کیونکہ زید جس ریستوران میں کام کرتا تھا اسی رات اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔ اس کی وجہ چار بگڑی ہوئی امیر زادیاں تھیں۔ وہ کافی کے کپ کی ٹرے اٹھائے ایک میز پر لے کر جا رہا تھا، تبھی ایک لڑکی اس کے پاس سے گزری۔ اس لڑکی نے اپنا پاؤں زید کے سامنے کر دیا۔ زید اس کے پاؤں کو دیکھ نہیں پایا اور پاؤں سے الجھ کر گرنے لگا۔ اس کے ہاتھ میں موجود کافی سامنے سے آتی لڑکی پر گر گئی۔ وہ لڑکی موبائل پر لگی ہوئی تھی۔ گرم مائع ہاتھ پر گرنے سے بد حواس ہوگئی۔ اس کے بعد کیا ہونا تھا؟
اس لڑکی کی تینوں دوستوں، اس میں پاؤں آگے کرنے والی لڑکی بھی شامل تھی، نے کہرام برپا کردیا۔ کسی نے زید کی صفائی نہیں سنی اور اسے ریستوران سے نکال دیا گیا۔ گھر میں جب یہ خبر پہنچی تو گھر میں اس کی قدر دوبارہ بھکاری جیسی ہوگئی۔ اس نے نئی ملازمت ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر ہر جگہ ناکامی کا سامنا ہوا۔ ان دنوں وہ کافی پریشان رہنے لگ گیا تھا۔ یونیورسٹی روزانہ جانے کے باوجود وہ اپنی پڑھائی پر دھیان نہیں دے پا رہا تھا۔
********************
ان دنوں وہ اس لڑکی کو بالکل بھول گیا تھا، جب ایک بار پھر وہ اس سے ملی۔ یہ وہ دن تھا جب اس کا ذہنی تناؤ عروج پر تھا۔ وہ نوکری کے حصول میں خوار ہو رہا تھا۔ گھر کا ماحول اب اسے مزید برا لگنے لگ گیا تھا۔ بھابھی اسے بے روزگار اور بھکاری جیسے القابات سے پکارتی تھیں۔ یونیورسٹی کی چھٹی ہوگئی تھی مگر اس کا گھر جانے کا دل نہیں تھا۔ اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔
اسی ذہنی تناؤ میں وہ خالی کلاس میں آیا اور بینچ کو زمین پر زور سے پٹکنے لگا۔ بس یہی ایک چیز تھی جس پر وہ اپنا غصہ نکال سکتا تھا۔ اچانک اسے محسوس ہوا کوئی کلاس کے باہر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے جیسے ہی مڑ کر دیکھا دروازے سامنے کھڑا وجود ہٹ گیا۔ اگر وہ کوئی مرد ہوتا تو اس کے ہاتھوں بہت پٹتا۔ وہ باہر نکلا تو اسے ایک لڑکی وہاں سے بھاگتی دکھائی دی۔ لڑکی کی اس کی طرف پشت تھی۔ اسے لڑکی کو روکنا تھا۔ ایسا نہ ہو وہ اس کی یونیورسٹی انتظامیہ سے شکایت لگا دے۔
اس نے لڑکی کو روکا تو خلاف توقع وہ رک گئی۔ وہ لڑکی کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ وہ چونک گیا۔ یہ تو وہی لڑکی تھی۔ اگر کوئی اور لڑکی ہوتی تو وہ شاید اس سے سختی سے بات کرلیتا مگر اب شاید یہ ممکن نہیں تھا۔ اس لڑکی نے ڈرتے ہوئے جب آنکھیں کھولیں تو اسے دیکھ کر چونک گئی۔ شاید وہ اسے پہچان گئی تھی۔
زید نے بڑی بے تکلفی سے پوچھا وہ یہاں کیا کر رہی ہے۔ سوال پوچھنے کے بعد اس نےخود سوچا یہ اس کا مسئلہ تھوڑی تھا؟ لڑکی کا جواب بھی یہی تھا۔ وہ بڑے تیکھے انداز میں اس سے بات کرنے لگی۔ اس نے گفتگو کے دوران کسی بڑے کی طرح لڑکی کو نصیحت کی کہ اسے یہاں نہیں آنا چاہیے۔ یہ حصہ تھوڑا سا سنسان تھا۔
لڑکی اس کی نصیحت کا برا مان گئی اور زید کو اس کے راستے سے ہٹنے کا کہا۔ زید بغیر کچھ کہے ہٹ گیا۔ اس نے لڑکی کا اس کے دوپٹے پر دھیان دلایا جو اس کے سر پر سے اتر گیا تھا۔ وہ دن اسے اچھا لگا۔ اس دن بھابھی کے طعنے بھی اسے برے نہیں لگے۔
تین چار ہفتے گزر گئے مگر زید کو کوئی نوکری نہیں ملی۔ وہ اپنے اخراجات کے پیسے عائشہ سے لے رہا تھا جو اسکول اور ٹیوشن میں پڑھایا کرتی تھی۔ اس کی زندگی کی گاڑی بہت مشکل سے رواں دواں تھی۔
*********************
ایک دن جب وہ نوکری کی تلاش میں خاصا ذلیل ہوکر گھر واپس آیا تو گھر میں طوفان مچا ہوا تھا۔ بھابھی، بھائی اور عائشہ تینوں لڑ رہے تھے۔ زید نے جب ان لوگوں سے لڑنے کی وجہ پوچھی تو پتہ چلا عائشہ ایک لڑکے کو پسند کرتی تھی اور اس سے شادی کرنا چاہتی تھی جبکہ بھائی بھابھی عائشہ کی خودسری پر ملامت کر رہے تھے۔ عائشہ نے سر عام اعلان کیا وہ اس لڑکے سے اسی ہفتے نکاح کرے گی۔ پھر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ زید کو عائشہ کی یہ بات بری لگی۔ عائشہ کو کم از کم اپنے بھائیوں کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ اس نے خود سے ہی اتنا بڑا فیصلہ لے لیا۔ آخر اتنی جلدی کس بات کی تھی۔ رات کو جب اس نے عائشہ کو تھوڑا صبر رکھنے کا کہا، تو وہ جواب میں بولی۔
"میں بھائی کی اجازت ملنے کا انتظار نہیں کر سکتی زید! عیسیٰ باہر ملک سے آیا ہے۔ وہ کچھ دنوں میں واپس چلا جائے گا۔ میرے پاس بالکل بھی وقت نہیں ہے۔"
"لیکن پھر بھی یہ بہت جلدی ہے۔ تم اتنی جلدی کسی پر کیسے بھروسہ کر سکتی ہو؟"
زید نے عائشہ کو منانے کی کوشش کی مگر اس کی بہن کسی صورت ماننے کو تیار نہیں تھی۔ تھک ہار کر زید نے عائشہ کو بول دیا وہ ان دونوں کی شادی سے پہلے عیسیٰ سے ملنا چاہتا ہے۔ عائشہ یہ بات سن کر بہت خوش ہوئی۔ وہ اگلے دن زید کو لے کر ایک ریستوران میں چلی گئی۔ وہاں پر زید عیسیٰ سے ملا۔
اسے پہلی نظر میں عیسیٰ صحیح نہیں لگا۔ اس سے باتیں کرکے اور اس کے نظریات جان کر زید کی مایوسی مزید بڑھ گئی۔ گھر پہنچتے ساتھ ہی زید نےاپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دیا اور اسے عیسیٰ سے شادی کرنے پر منع کیا۔ عائشہ عیسیٰ کے خلاف ایک لفظ نہیں سن سکتی تھی۔ یوں ان دونوں میں بحث چھڑ گئی۔ کچھ دیر بعد بحث نے لڑائی کا روپ لے لیا۔ اب عیسیٰ سے شادی کرنا عائشہ کی ضد تھی جبکہ عائشہ کو عیسیٰ سے شادی کرنے سے روکنا زید کی ضد تھی۔ عائشہ نے سب کو اطلاع دے دی کل اس کا نکاح ہے، جس نے آنا ہو شوق سے آئے۔
زید نے یہ بات سنی تو عائشہ کو دھمکی دی۔
"اگر تم نے عیسیٰ سے شادی کی تو میں خودکشی کرلوں گا۔"
عائشہ کا چہرہ بے تاثر رہا۔
"تو کر لو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"
یہ سن کر زید کو دھچکا لگا۔ کیا اس کی بہن کو اس کا اتنا سا بھی احساس نہیں تھا؟ اس سے بہتر تو موت تھی۔
جس دن عیسیٰ اور عائشہ کا نکاح تھا، زید نے اسی دن بلیڈ سے اپنی کلائی کاٹ لی۔ اسے لگتا تھا مرنا بہت آسان ہے مگر کلائی کٹتے ہی وہ تڑپ اٹھا۔ درد کی شدت اس کی رگ رگ سے سرایت کرنے لگی۔ وہ کراہنے لگا، درد سے سسکیاں بھرنے لگا۔ اس نے مدد کے لیے کسی کو بلایا۔ اس کے جسم کی جان نکلنے لگی۔ اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔ اسے قدموں کی آہٹ اپنے قریب آتی سنائی دی۔ اسے کوئی اپنے پاس کھڑا محسوس ہوا۔ زید نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو اسے وہی لڑکی دکھائی دی۔
اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تو لڑکی نے اسے ڈانٹا۔ زید نے اسے واپس جانے کو بولا تو اس نے جواب میں اسے کچھ کہا۔ کیا کہا وہ ٹھیک سن نہیں پایا۔ اس لڑکی نے اپنا رومال بھی اس کی کلائی پر باندھ دیا تھا۔ اس نے اسے منع بھی کیا مگر وہ نہیں مانی۔ پھر لڑکی نے اس سے، اس کا نام پوچھا۔ زید نے بڑی مشکل سے اپنا نام بتایا۔ کچھ دیر بعد ایمبولینس آگئی جس نے اسے ہسپتال پہنچا دیا۔ کوئی ڈاکٹر اس کا علاج کرنے پر راضی نہیں تھا مگر لڑکی نے لڑ جھگڑ کر وہاں کے ڈاکٹروں کو اس کے علاج پر رضا مند کیا۔
*****************
ہسپتال میں جب اس کی آنکھ کھلی، تو اس نے عائشہ کو اپنے پاس روتے ہوئے دیکھا۔ اس نے زید کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا۔ زید نے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا مگر درد کی ایک لہر اس کے جسم سے گزری۔
"تم نے ایسا کیوں کیا زید؟" عائشہ نے روتے ہوئے پوچھا۔
"تم ہی نے تو کہا تھا میں مر جاؤں!" زید نے نقاہت بھری آواز میں کہا۔
"میں نے اس وقت جو بھی کہا، غصے میں کہا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھوڑی تھا تم خودکشی ہی کرلو۔"
"تم نے اس سے شادی کرلی؟" زید نے پوچھا۔
"میں ڈاکٹر سے پوچھ کر آتی ہوں تمہیں کھانا دے سکتے ہیں یا نہیں!" وہ اس کی بات کا جواب دیے بغیر چلی گئی مگر زید کو اپنا جواب مل گیا تھا۔
وہ آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔ کچھ دیر بعد عائشہ ادھیڑ عمر ڈاکٹر کو اپنے ساتھ لائی۔ زید نے ان سے پوچھا۔
"مجھے جو لے کر آئی تھیں، وہ چلی گئیں؟" زید کے پوچھنے پر ڈاکٹر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
"ہاں وہ چلی گئی ہے۔ میرے دوست کی بیٹی آپ کو یہاں لے کر آئی تھی۔ آپ کو اس کا احسان مند ہونا چاہیے۔ اگر ابھی آپ جی رہے ہیں تو یہ سب اس کی کرم نوازی ہے۔ اگر وہ ہسپتال انتظامیہ سے آپ کے لیے نہ لڑتی تو آپ یہاں نہ ہوتے۔"
ڈاکٹر یہ کہہ کر چلا گیا جبکہ زید کافی دیر تک اس لڑکی کے بارے میں سوچتا رہا۔ اس نے بے ہوشی میں اس لڑکی کی تھوڑی بہت بحث سنی تھی۔ آخر وہ لڑکی کیا تھی؟ کیوں اس کے لیے اتنا سب کرکے گئی تھی؟ اس کے دل میں اس لڑکی کے لیے بنا نرم گوشہ، مزید گہرا ہوگیا۔
رات کو ہی وہ ڈسچارج ہوکر گھر آگیا۔ کچھ دنوں کے لیے وہ گھر پر ہی رہا۔ عائشہ نکاح کے بعد بھی ان کے گھر میں تھی۔ زاہد بھائی کے پوچھنے پر اس نے بتایا عیسیٰ غیر ملکی تھا۔ اس سے نکاح کرنے کے بعد وہ واپس اپنے ملک چلا گیا تھا۔ اب وہ کچھ مہینے بعد اپنے ماں باپ کے ساتھ اسے گھر سے رخصت کرکے لے جائے گا۔ بھابھی نے تو عائشہ کو کافی سنائی لیکن بھائی جان کچھ نہ بولیں۔ زید کو لگا شاید وہ عائشہ کو بہن ہونے کی وجہ سے برداشت کر رہے تھے۔ ویسے بھی اگر وہ اپنی بہن کو گھر سے نکال بھی دیتے تو ان کی اپنی ہی بدنامی ہوتی۔ نکاح کی بات جو ابھی سب سے چھپی ہوئی تھی، عائشہ کو نکال دینے سے جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی۔البتہ عائشہ اور زید کے رشتے کے درمیان ایک دیوار حائل ہوگئی تھی۔ دونوں کے درمیان پہلے جیسا کچھ نہیں رہا تھا۔
******************
کچھ دنوں بعد زید کے مڈ ٹرمز شروع ہوگئے۔ مڈ ٹرمز میں شرکت کرنے کے لیے اسے یونیورسٹی جانا ہی تھا۔ ویسے بھی اس کی طبیعت کافی سنبھل گئی تھی۔
یونیورسٹی پہنچ کر اس نے اپنا پیپر دیا اور پیپر ختم کرنے کے بعد یونہی پوری یونیورسٹی میں گھومنے لگ گیا۔ وہ سر آفتاب کے آفس کے باہر سے گزر رہا تھا جب سر آفتاب کی بات سن کر چونک گیا۔
سر آفتاب کسی لڑکی کو دھمکی دے رہے تھے۔ لڑکی کی آواز تو نہیں آ رہی تھی مگر وہ پھر بھی اس کی بے بسی محسوس کر سکتا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے عائشہ کا چہرہ آیا۔ اگر کوئی اس کی بہن کے ساتھ یوں کرتا تو؟
اسے فیصلہ لینے میں ایک منٹ لگا۔ وہ فوراً سے اندر آیا۔ وہ اندر آیا تو اپنے سامنے اس لڑکی کو دیکھ کر حیران ہوا۔ دوبارہ سے وہ لڑکی اس کے سامنے کھڑی تھی۔
زید کو آفتاب کی گندی نظریں اس لڑکی پر دیکھ کر غصہ آنے لگا۔ اس نے خود کو بہت مشکل سے سنبھالا ہوا تھا۔ اس نے آفتاب سےجھوٹ بولا کہ اسے پرنسپل میم بلا رہی ہیں۔ آفتاب جانا نہیں چاہتا تھا مگر اسے مجبوراً جانا پڑا۔ جاتے جاتے وہ لڑکی کو دھمکی دینا نہیں بھولا تھا۔
وہ لڑکی آفتاب کے جانے کے بعد ایک پل کے لیے بھی نہیں رکی اور باہر چلی گئی۔ وہ آفتاب کے آفس سے دور جانا چاہتی تھی۔ زید نے بھی اس کا پیچھا کیا۔ آخرکار وہ سیڑھیوں کے زینوں پر بیٹھ گئی۔ زید اس کے پاس کھڑا ہوگیا۔
وہ بار بار آفتاب کو لڑکی کی موجودگی میں گالی دینے سے روک رہا تھا۔ زید نے اس سے پوچھا یہ سلسلہ کب سے چل رہا تھا تو اس نے بتایا ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ زید نے اسے تسلی دی لیکن لڑکی نے فیصلہ کرلیا تھا اب وہ یونیورسٹی نہیں آئے گی۔ اس کے بعد دونوں خاموش ہوگئے۔ چھٹی کے وقت تک زید یونہی اس لڑکی کے پاس کھڑا رہا، جس کی وجہ سے اس کی ٹانگیں بھی درد کرنے لگ گئیں۔ اس نے لڑکی کو وقت کا احساس دلایا تو وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔
دونوں ایک ساتھ یونیورسٹی سے باہر گئے۔ چلتے ہوئے لڑکی نے اس کی طبیعت پوچھی۔ اس کے ساتھ خودکشی کی وجہ پوچھی۔ اس نے مختصر الفاظ میں اسے بآور کروا دیا کہ وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس کے بعد زید اس لڑکی کا حوصلہ بڑھانے لگ گیا۔ وہ چاہتا تھا یہ لڑکی اپنا فیصلہ بدل لے اور فرار کی بجائے ڈٹ کر اپنی جنگ لڑے لیکن اس کی اتنی حوصلہ افزا باتوں کے جواب میں وہ لڑکا لڑکی کا فرق درمیان میں لے آئی۔
زید رک گیا۔ اس کے ذہن میں وہ ہزاروں باتیں آئیں، جن سب سے وہ گزرا تھا۔ اس کے ماں باپ کا چلے جانا، بھائی کی بے رخی، بھابھی کے طعنے، کما نہ پانے کی وجہ سے خود کو نکما ماننا، بہن کا اس پر ایک دوسرے مرد کو ترجیح دینا مگر وہ یہ سب کسی کو نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ وہ ایک لڑکا تھا۔ اس کی زبان میں تلخی گھل گئی اور اسی تلخی میں اس لڑکی کو جواب دیا۔
کچھ دیر کے لیے وہ خاموش ہوا۔ پھر دوبارہ لڑکی کا حوصلہ بڑھانے لگا۔ اس سے باتیں کرتے ہوئے اس نے لڑکی کا نام بھی پوچھا۔ پہلی دفعہ سننے پر اسے وہ نام سمجھ نہیں آیا۔ اس نے یونہی لڑکی کے سامنے وہ نام لے لیا جو اس نے سمجھا تھا مگر وہ غلط تھا۔ لڑکی نے غصے میں دوبارہ دہرایا۔
"جائی یانہ!"
اس دفعہ زید نام سمجھ گیا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں سڑک تک پہنچ گئے۔ لڑکی نے ٹیکسی لی اور اپنے گھر چلی گئی جبکہ وہ وہی کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔
******************
اپنے اگلے پیپر کے دن وہ صبح جلدی ہی یونیورسٹی کے لیے نکل گیا تھا۔ یونیورسٹی پہنچ کر اسے دور سے ہی سر آفتاب دکھائی دئیے۔ وہ لب بھینچ کر اس کی طرف دیکھے بغیر آگے چل دیا۔ کچھ دور جانے کے بعد وہ جس سے ٹکرایا تو اسے حیرت اور غصہ دونوں آیا۔ اس نے اسی غصے میں جائی یانہ کو ڈانٹ بھی دیا۔ وہ اس وقت آخر یونیورسٹی میں کر کیا رہی تھی۔ اس کے لہجے میں پتہ نہیں کیوں رعب بھی تھا جو جائی یانہ پر ناگوار گزرا اور وہ ایک طرح سے ٹھیک تھی؟ آخر وہ ہوتا کون تھا جو اس پر رعب جھاڑے۔ زید سر جھٹک کر جانے لگا جب جائی یانہ نے اسے دوبارہ روکا اور بتایا وہ آفتاب کو سبق سیکھانے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔ زید کو اندازہ نہیں تھا جائی یانہ اتنی جلدی منصوبہ بنا سکتی ہے۔ جب اس نے جائی یانہ کا منصوبہ سنا تو اسے سخت مایوسی ہوئی۔
وہ اپنی اور آفتاب کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ میں وائرل کرنا چاہتی تھی۔ زید جائی یانہ کی عقل پر ماتم کرنے لگا۔ کیا اسے یہ پتہ نہیں تھا کہ آفتاب کی ویڈیو ڈال کر سب سے پہلے وہ خود کو بدنام کرے گی۔ زید نے اس منصوبے کے نقائص جائی یانہ کو بتا دیے اور اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔
کچھ دیر بعد اسے جائی یانہ تب دکھائی دی جب وہ اپنے کچھ دوستوں سے بات کر رہا تھا۔ جائی یانہ نے اسے دور سے آواز دی۔
اس کے دوستوں نے پہلے اسے اور جائی یانہ کو معنی خیز نگاہوں سے دیکھا۔ زید کا دل چاہا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔ جائی یانہ بھی سمجھ گئی تھی اس نے کافی بے تکلفی سے سب کے سامنے اس کا نام لے لیا ہے۔ اس لیے کسی پروفیسر کے بلانے کا بہانہ بنا کر اسے اپنے ساتھ لے گئی
جیسے ہی وہ کچھ دور پہنچے تو زید نے جائی یانہ کو اس کی غلطی کا احساس دلایا مگر جائی یانہ کو اس کا سمجھانا برا لگ گیا۔ زید نے جائی یانہ کو مزید اس بارے میں سمجھانا چاہا مگر وہ بات بدل کر اپنا وہی پلان سنانے کی کوشش کرنے لگ گئی۔ زید نے چڑ کر اس کی بات کاٹ دی جس پر جائی یانہ نے اسے جانے کا کہہ دیا۔ وہ جائی یانہ کے کہنے پر واپس چلا گیا تھا۔
اس نے غائب دماغی سے پیپر دیا اور جلدی گھر چلا گیا۔ اس رات اس نے جائی یانہ کے بارے میں بہت سوچا۔ اس نے خود سے پوچھا۔
جائی یانہ کے لیے فکر مند کیوں ہوتا تھا؟ پتہ نہیں۔۔
کیا وہ اسےاچھی لگتی تھی؟ بہت!
کیا وہ اس سے محبت کرتا تھا؟ شاید
اگر اسے جائی یانہ سے محبت تھی تو کیا وہ یہ محبت نبھا سکتا تھا؟ اس کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔
اس نے غیر جانبدار ہو کرحالات کا جائزہ لیا۔ جائی یانہ کو دیکھ کر لگتا تھا وہ کسی اچھے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔
اگر کبھی اس کے جذبات جائی یانہ کے لیے واضح ہوگئے اور اس نے جائی یانے کے سامنے ان کا اظہار بھی کر دیا اور کسی معجزے سے جائی یانہ نے بھی مثبت جواب دے دیا تو آگے کیا ہوگا؟ زید ذہن میں ایک نقشہ کھینچنے لگ گیا۔
جائی یانہ کی فیملی یقیناً کسی ایسے لڑکے سے اپنی بیٹی کی شادی نہیں کریں گے جو بے روزگار ہو۔ زید کا مستقبل بہت مبہم تھا۔ پڑھائی کرلینے کے بعد بھی وہ اچھے سے جانتا تھا بغیر کسی سفارش کے اسے کوئی اچھی نوکری نہیں مل سکتی تھی اور کاروبار کرنے کے لیے اس کے پاس سرمایہ اور تجربہ دونوں ہی نہیں تھا۔ جائی یانہ کے گھر والے کبھی نہیں مانیں گے اور اگر جائی یانہ کی اس سے شادی ہو بھی گئی، تو بھی اس کی ساری زندگی اس غربت کی جہنم میں گزر جائے گی۔ وہ کم از کم جائی یانہ کو اس جہنم میں نہیں جھونک سکتا تھا۔ وہ اس سے پیار کرتا تھا۔ وہ اسے کبھی بھی اس ذہنی اذیت سے نہیں گزارے گا جس سے وہ روز گزرتا تھا۔ اس دن اس نے ٹھان لیا وہ اب جائی یانہ کے آس پاس بھی نہیں بھٹکے گا لیکن اگلے ہی دن اس کا ارادہ متزلزل ہوگیا جب پوری یونیورسٹی میں زیر گردش خبر اس کے کانوں میں پہنچی۔ پوری یونیورسٹی آفتاب کے یونیورسٹی سے نکال دیے جانے سے واقف تھی۔ سب یہ کہہ رہے تھے مس صبا نے سر آفتاب کو نکالا تھا لیکن وجہ کسی کو معلوم نہیں تھی۔ زید سمجھ گیا ان سب کے پیچھے جائی یانہ کا ہاتھ تھا۔
وہ جائی یانہ کے پاس گیا اور اس سے کہیں الگ بات کرنے کا کہا مگر وہ نہیں مانی۔ زید کو یہ سن کر دھچکا لگا کہ اسے زید پر شک تھا۔ زید نے پھر بھی ہمت نہ ہاری اور اس سے اپنی بات پوچھی جس کا جائی یانہ نے مبہم جواب دیا۔ جب جائی یانہ نے صاف انداز میں بات نہ کی تو زید ہار مان کر چلا گیا۔ اس کے بعد ایک عرصے تک دونوں نے ایک دوسرے کو نظر انداز کیا۔
*****************
اپنی یونیورسٹی میں اپنے کزن آریان کو دیکھ کر زید کو بہت بڑا جھٹکا لگا۔ وہ اس کا تایا زاد کزن تھا۔ اس کے تایا اور ان کے درمیان تب سے بول چال بند تھی، جب زید کے ماں باپ زندہ تھے۔ زید کے باپ رحیم اور اس کے تایا جہانگیر دونوں کے درمیان وراثت کا تنازعہ تھا۔ جہانگیر نے اپنے باپ کی ساری جائیداد اپنے نام کروا کر اپنے بھائی کو گھر سے باہر نکال دیا تھا۔ زید کے والد رحیم اس بات پر خاصے دل برداشتہ ہوئے۔
انہون نے اپنے بھائی کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی مگر ان سے سارے رشتے ناطے بھی توڑ لیے۔ رحیم صاحب نے اس کے بعد بہت مشکل وقت دیکھا۔ اس نے اپنی جمع پونجی سے بہت مشکل سے ایک چھوٹے سے علاقے میں گھر خریدا۔ وہ رحیم صاحب جنہوں نے ساری زندگی عیش و آرام سے گزاری تھی، ان پر اب یہ حالات آگئے تھے کہ گدھے گھوڑے کی طرح کام کرکے بمشکل دو وقت کی روٹی اپنے لیے اور اپنے بیوی بچوں کے لیے لا پاتے تھے۔ زندگی اتنی مشکل چل رہی تھی جب ایک حادثے میں رحیم اور ان کی بیوی دنیا سے چل بسے۔
ماں باپ کے مرجانے کے بعد جہانگیر اپنے بیٹے آریان کے ساتھ اکثر ان کی مدد کرنے کی پیشکش کرنے گھر آیا کرتا تھا، جس کو زاہد منع کر دیتا۔ زاہد کو اپنے تایا سے حد درجہ نفرت تھی۔ جہانگیر کے دھوکے کے بعد رحیم پر گزرے دنوں کا زاہد خود عینی شاہد تھا کیونکہ عائشہ اور زید کے مقابلے میں وہ بڑا تھا اور بہت کچھ سمجھنے لگا تھا۔ اس نے اکثر زید اور عائشہ کو وہ زیادتیاں بتائی تھیں جو اس کے تایا نے ان کے باپ پر کی تھی۔ زید کے دل میں بھی اپنے باپ کے دشمن کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔
کچھ عرصے بعد جہانگیر تایا نے آنا چھوڑ دیا۔ وہ شاید میٹرک میں تھا جب اسے یہ خبر ملی اس کے تایا کا انتقال ہوگیا ہے۔ ان کے گھر سے کوئی بھی تعزیت کے لیے نہیں گیا بلکہ سب کے دلوں میں ان کے مرنے کی خوشی تھی۔ اس نے آریان کی تصاویر فیس بک پر اسکرول کرتے ہوئے دیکھی ہوئی تھیں ۔ اس لیے اسےآریان کو پہچاننے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔
اب اتنے عرصے غائب رہنے کے بعد آریان کا یوں اچانک یونیورسٹی آجانا اس کے لیے تعجب کی بات تھی۔
وہ اس کے پاس آیا اور اس سے پوچھا۔
"
اور سناؤ زید کیا حال چال ہے؟" آریان اس سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے ان کے درمیان کافی خوشگوار تعلقات تھے۔
"ٹھیک ہوں!" زید نے مروتاً کہا۔
"پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟" اس نے ہلکے پھلکے لہجے میں پوچھا۔
"اچھی!" ایک بار پھر اسے جواب دینا پڑا۔ آخر یہ آیا کیوں تھا؟
"یار مجھے تم سے ایک کام تھا!" آریان نے اپنا بازو زید کے کندھوں پر رکھ کر بے تکلفی سے کہا۔ زید نے سکھ کا سانس لیا۔ شکر وہ مدعے پر تو آیا۔
"بولو!" زید نے بہت آرام سے کہا۔
"مجھے ناں ایک لڑکی کے بارے میں معلومات نکلوانی تھی۔ تمہاری طرح بی بی اے کی ہی اسٹوڈنٹ ہے۔ تصویر تو میرے پاس نہیں ہے لیکن اس کا نام مجھے پتہ ہے۔ اس کا نام جائی یانہ اشفاق نام ہے۔ تم میرے لیے تھوڑی بہت معلومات نکلوا سکتے ہو۔" زید جائی یانہ کا نام سنتے ہی جان گیا کس کی بات کی جا رہی تھی۔ اس نے اسکا بازو اپنے کندھے سے ہٹایا۔
"میں فارغ نہیں ہوں کہ تمہارے لیے کسی لڑکی کی معلومات نکلواتا پھروں۔" اس نے سہولت سے کہا اور جانے لگا، جب ایک بار پھر اسے روکا گیا۔
"یار! تم سمجھے نہیں۔ میں جانتا ہوں تم ان دنوں کافی مشکل میں ہو۔ میں تو تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔ تم میرا کام کرو میں تمہارا مسئلہ حل کر دوں گا۔ تمہیں جتنے بھی فائینینشنل ایشو ہیں میں سب حل کر دوں گا۔" زید اس کی بات سن کر آپے سے باہر ہو گیا۔
"کیا مطلب ہے تمہارا؟ تم مجھے بھکاری سمجھتے ہو؟" زید نے غصے سے اس سے پوچھا۔
"یار تم غلط سمجھ رہے ہو۔ میری بات کا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا۔" آریان نے اسے ٹھنڈا کروانا چاہا مگر زید اب اس کی ایک نہیں سن رہا تھا۔
"اگر تمہیں لگتا ہے مجھے تمہارے پیسوں کی ضرورت ہے تو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ تمہارا تو ایمان ہی بس پیسہ ہے لیکن جس پیسے پر تم اتنا اتراتے ہو، سب جانتے ہیں وہ صرف تمہارا نہیں ہے۔ اس میں میرے باپ کا بھی حصہ ہے۔ اگر ہم بھائی خاموش ہیں تو اسے ہماری کمزوری نہ سمجھو۔ ہم اپنے باپ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ اس لیے تمہارے لیے بہتر ہوگا ہمارے سامنے کم آیا کرو ورنہ ہم سب لحاظ بھول جائیں گے۔"
یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا۔
******************
وقت گزرتا گیا اور اس کی زندگی روٹین پر آگئی تھی۔ اسے ایک اچھی نوکری مل گئی تھی۔ ہفتے کے پانچ دن بشمول اتوار اسے صبح نو بجے سے رات آٹھ بجے تک ایک دوکان میں سیلز مین کے طور پر کام کرنا ہوتا تھا۔ جمعہ اور ہفتہ وہ دوکان بند رہتی تھی۔ اس دوکان کا اتنا عجیب شیڈول کیوں تھا اسے خود نہیں پتہ تھا مگر اس کے لیے اچھا تھا۔ اس طرح وہ ہفتے میں دو دفعہ یونیورسٹی جا سکتا تھا۔ اس کی یونیورسٹی ہفتے والے دن بھی کھلی ہوتی تھی۔ اس کا پہلا سمیسٹر کلئیر ہوگیا تھا۔ بھابھی کی روز کی جھک جھک سے تنگ آکر وہ بوائز ہاسٹل شفٹ ہوگیا تھا۔
زید کو اپنی زندگی خاصی مشینی لگنے لگتی تھی مگر وہ اسی پر خوش تھا۔ اس کی زندگی میں دوبارہ تبدیلیاں آنا تب شروع ہوئی جب ایک رات جائی یانہ نے اسے میسج کیا۔ وہ اس سے ملنا چاہتی تھی۔ زید نے اسے جمعے کے دن ملنے کا وعدہ کرلیا۔
یونیورسٹی پہنچ کر وہ اپنی کلاسز لینے میں مصروف رہا۔ اس نے سوچا ہوا تھا فارغ ہو کر جائی یانہ سے ملے گا۔ اپنے لیکچر لینے کے بعد وہ یونیورسٹی کے میدان میں آیا تو اسے جائی یانہ دور سے بیٹھی دکھائی دی۔
زید اس کے پاس آکر بیٹھ گیا اور اس سے باتیں کرنے لگا۔ جائی یانہ اس سے آریان کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ زید نے جب وجہ پوچھی تو جائی یانہ نے ہچکچاتے ہوئے بتایا اس کی بہن اپنی شادی کے دن سے گم ہے اور وہ اسے تلاش کر رہی تھی۔ اسے آریان پر شک تھا۔
زید کو جو کچھ پتہ تھا، اس نے بتا دیا سوائے اس کے کہ اس دن آریان جائی یانہ کا پتہ لگانے یونیورسٹی آیا تھا۔ زید نے جان کر یہ بات گھمائی تھی۔ اسے ڈر تھا کہیں جائی یانہ یہ نہ سمجھے وہ بھی آریان کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ مختصر سی ملاقات کے بعد وہ اٹھ کر چلا گیا۔
*******************
وہ آرام سے اپنے ہاسٹل کے کمرے میں سو رہا تھا جب اس کا فون بجا۔ اس نے تکیے کے پاس ادھر ادھر ہاتھ مار کر اپنا فون پکڑا۔ کچھ دیر بعد اس نے کال اٹھائی۔
"ہیلو!" اس کی آواز گہری نیند سے اٹھنے کی وجہ سے بھاری تھی۔
"کیسے ہو زید؟" دوسری طرف سے شناسا سی آواز گونجی۔
"کون بات کر رہا ہے؟"
"میں آریان بات کر رہا ہوں۔" یہ نام سنتے ہی زید کی آنکھیں پٹ سے کھل گئیں۔
"کیوں کال کی ہے؟" زید نے سختی سے پوچھا۔
"ارے یار تمہارے بھلے کے لیے کال کی ہے بلکہ تمہاری بہن کے بھلے کے لیے۔۔۔" زید اٹھ کر بیٹھ گیا۔ عائشہ کو موضوع کا حصہ بنتا دیکھ کر اسے غصہ آنے لگا۔
"میری بہن کا اس میں کہاں سے ذکر آیا؟" زید نے غصے سے پوچھا۔
" تمہاری بہن ہی کا تو سارا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ اس کے شوہر کا! کیا نام ہے اس کا؟" آریان نے سوچنے کی اداکاری کی۔
"عیسیٰ!" زید نے اسے بتایا۔
"ارے ہاں عیسیٰ!" آریان نے عیسیٰ کا نام کافی کھینچ کر بولا۔ "تم جانتے ہو تمہارا بہنوئی ایک بار پھر شادی کر رہا ہے؟"
یہ بات سن کر زید کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔
"کیا بکواس کر رہے ہو تم؟" زید نے دبی دبی غراہٹ سے کہا۔
"صحیح کہہ رہا ہوں۔ یقین نہیں آتا تو اپنی کلاس فیلو جائی یانہ سے خود پوچھ لینا۔ ویسے بھی عیسیٰ اس کا کزن ہے اور عیسیٰ سے ہی تو اس کی شادی ہو رہی ہے۔" آریان خاصے محظوظ انداز میں بول رہا تھا۔
"میں دیکھتا ہوں اور اگر یہ جھوٹ نکلا تو تمہاری خیر نہیں ہوگی۔" زید نے یہ کہہ کر کال بند کردی۔
اس رات اسے بالکل بھی نیند نہیں آئی۔ اس کی اور جائی یانہ کی ملاقات کو کافی دن گزر گئے تھے۔ اسے اس دن کے بعد سے جائی یانہ یونیورسٹی میں دکھائی نہیں دی تھی۔ جیسے ہی فجر کی اذانوں کی صدائیں پھیلی زید نے مسجد میں جاکر با جماعت نماز ادا کی اور دعا مانگ کر ان دونوں عورتوں کی بہتری مانگی۔ مسجد سے واپس ہاسٹل آکر اس نے عائشہ کو کال کردی۔ کچھ دیر بعد کال اٹھا لی گئی۔
"خیریت؟" عائشہ کی آواز میں بھی نیند کا خمار چھایا ہوا تھا۔
"تمہاری عیسیٰ سے کوئی بات ہوئی ہے۔" اس نے سیدھا کام کی بات کی۔
"نہیں! جب سے وہ واپس اپنے ملک گیا ہے، بس ایک بار بات ہوئی ہے۔ میں خود پریشان ہوں مگر تم اس وقت اس کا کیوں پوچھ رہے ہو؟"
"اس نے آخری بار کب بات کی تھی؟" زید نے اس کے سوال کو نظر انداز کیا۔
"جب وہ اپنے گھر پہنچا تھا۔" زید نے اس کی بات سن کر کوئی جواب نہ دیا اور کال کاٹ دی۔
صبح اس نے دوکان سے تین گھنٹے کی چھٹی لی اور یونیورسٹی پہنچ گیا۔ یونیورسٹی پہنچ کر اس نے جائی یانہ کو بہت تلاش کیا مگر وہ کہیں نہیں ملی۔ تبھی اس کی نظر کالی چادر والی لڑکی پر گئی۔ یہ لڑکی اکثر جائی یانہ کے ساتھ رہا کرتی تھی۔ یہ ضرور جائی یانہ کے متعلق کچھ بتا سکتی تھی۔
زید اس کے پاس گیا اور اسے بلایا۔
"سنو؟"
"جی!" لڑکی نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔
"تمہاری دوست جائی یانہ کہاں ہے؟" زید کے پوچھنے پر لڑکی نے بتایا۔
"وہ آج نہیں آئی بلکہ وہ تو بہت دنوں سے نہیں آ رہی۔ میں بھی پریشان ہوں مگر!" لڑکی نے آنکھیں سکیڑ لیں۔" تم کیوں پوچھ رہے ہو؟"
"دیکھو میرا ان سے بات کرنا بہت ضروری ہے۔ کیا تم کسی طرح ان سے رابطہ کر سکتی ہو۔ تم بس یہ سمجھ لو یہ بات جاننا تمہاری دوست کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے، جتنا میرے لیے ہے۔" زید کے لہجے اور چہرے پر پریشانی دیکھ کر شاید سامنے کھڑی لڑکی کو اس پر یقین آگیا تھا۔
"لیکن آخر بات کیا ہے؟" لڑکی بولی۔ "تم اگر مجھے بتا دو، تو میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں۔"
"دیکھو مجھے پکا نہیں پتہ مگر کسی نے مجھے بتایا ہے کہ میری بہن کا شوہر عیسیٰ، جائی یانہ سے شادی کرنے جا رہا ہے۔ میں اسی وجہ سے پریشان ہوں۔ اگر ایسا ہوگیا تو تمہاری دوست اور میری بہن دونوں کی زندگی خراب ہو جائے گی۔" اس کی بات سن کر اس لڑکی نے بے یقینی سے کہا۔
"ایسا نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا کچھ ہوتا تو جائی یانہ مجھے خود بتاتی!" لڑکی کی بات سن کر زید نے پوچھا۔
"تم نے ان سے آخری دفعہ بات کب کی تھی؟" اس کی یہ بات سن کر نائلہ سوچ میں پڑ گئی۔
"مجھے یاد نہیں ہے۔ بہت دن ہوگئے ہیں۔ میں اسے کال بھی کر رہی ہوں مگر کوئی ریسپانس نہیں آ رہا۔"
"یعنی کوئی نا کوئی بات ضرور ہے جس کی وجہ سے تمہاری دوست کا تم سے رابطہ کٹ گیا ہے۔ تم پلیز کسی طرح اسے کال کرکے معلومات نکالنے کی کوشش کرو اور اگر وہ کہے اس کی شادی کسی سے ہو رہی ہے تو اس کا نام اور تصویر ضرور لے لینا۔ ویسے تمہارا نام کیا ہے؟"
زید نے بات کرتے ہوئے اس کا نام پوچھا۔
"میں نائلہ ہوں۔ تم فکر نہ کرو۔ اگر تم واقعی میں سچے ہو تو میں تمہاری مدد ضرور کروں گی!" زید نے نائلہ کو اپنا فون نمبر دے دیا۔
"شکریہ!" یہ کہہ کر زید چلا گیا۔
*******************
وہ یونیورسٹی میں بیٹھا نائلہ کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے نائلہ کو جو کام دیا تھا وہ اس نے کر لیا تھا۔ نائلہ نے میسج کرکے اسے بتا دیا تھا مگر دوکان کا مالک اسے کسی بھی صورت چھٹی دینے پر آمادہ نہیں تھا۔ اس لیے وہ اسی دن اس کے پاس نہیں پہنچ سکا۔ اس بات کو کوئی چار پانچ دن گزر گئے تھے۔ ابھی وہ آرام سے نائلہ کا انتظار کر رہا تھا جب آریان کی کال آئی۔
"یار میں تمہاری منت کرتا ہوں۔ تم پلیز مجھے وہ ثبوت ابھی دے دو!" زید نے کال اٹھاتے ساتھ ہی منت کی۔
"زید میں نے تمہیں بتایا ہے، میں تمہیں وہ ثبوت کل دوں گا اور وہ بھی تب، جب تم تقریب میں جا کر ہنگامہ کرو گے۔" دوسری طرف سے آریان کی سرد آواز گونجی۔
"لیکن!" اس سے پہلے زید کچھ کہہ پاتا آریان فون بند کر چکا تھا۔ وہ آریان کی کئی دفعہ منت کر چکا تھا۔ اس کے مطابق اس کے پاس ثبوت تھے جو وہ تب ہی دکھائے گا جب زید، عیسیٰ اور جائی یانہ کے نکاح میں تماشا لگائے گا۔ زید جانتا تھا اس طرح وہ صرف عائشہ اور جائی یانہ کا ہی تماشا دنیا کے سامنے لگائے گا اور وہ ایسا قطعاً نہیں کرنا چاہتا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد اسے دور سے نائلہ آتی دکھائی دی۔ اس نے نائلہ سے تصدیق کے لیے جوتصویر منگوائی تھی اسے دیکھ کر یقین ہوگیا یہ وہی عیسیٰ تھا۔ اب شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی تھی۔ اس نے ساتھ ساتھ نائلہ سے یہ تصدیق بھی کروائی کہ جائی یانہ کا نکاح کل ہے جس کے جواب میں نائلہ نے سر اثبات میں ہلا دیا۔ اب کل ہر حالت میں اسے جائی یانہ اور عائشہ کو عیسیٰ کا مکروہ چہرہ دکھانا تھا۔
******************
"زید آخر تم مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو؟"
عائشہ نے جھنجھلا کر زید سے پوچھا، جو شام کو گھر آکر عائشہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا۔
"تم بس چلو!" اس نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
"لیکن زید۔۔!" اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہہ پاتی، زید نے اسے دیکھا۔ پھر بلیک میل کیا۔
"عائشہ اب تم میرے ساتھ کہیں جاتے ہوئے سو سوال کرو گی؟ تمہیں تو مجھ پر بھروسہ ہی نہیں ہے۔" اس کی یہ ترکیب کام آگئی۔ عائشہ منع کرتے ہوئے بولی۔
"توبہ ہے زید! تم پتہ نہیں کیا کیا سمجھ لیتے ہو؟ میں نے تو بس ایسے ہی پوچھا۔" یہ کہنے کے بعد زید عائشہ کو بائیک پر بٹھا کر اسے آریان کی بتائی ہوئی جگہ یعنی اشفاق کے گھر کے باہر لے آیا۔ وہ گھر کے بالکل سامنے کھڑے تھے۔ عائشہ نے گھر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
"شاید اس گھر میں کوئی تقریب ہے۔ کیا ہم یہاں آئے ہیں؟"
زید خاموشی سے بائیک پر سے اترا۔ اسی وقت ایک کیب بھی ان کے پاس رکی اور نائلہ باہر نکلی۔
"چلیں؟" نائلہ کے پوچھنے پر اس نے انکار کیا۔
"نہیں ابھی ثبوت نہیں ملا۔" اسی وقت زید کا موبائل بجا۔
زید نے فوراً کال اٹھائی۔
"زید! کچرے کے ڈرم کے پاس خاکی رنگ کے لفافے میں کاغذات پڑے ہیں۔ وہ عائشہ اور عیسیٰ کا نکاح نامہ ہے۔ اس کے ذریعے تم محفل میں اپنی بات منوا سکتے ہو۔ اب آگے جو ہونا ہے، وہ تم پر ہے مگر یہ ساری بات محفل میں ہونی چاہیے!"
یہ کہہ کر کال کاٹ دی گئی۔ زید نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو اسے ایک کچرے کا ڈرم ملا۔ زید ان دونوں کو چھوڑتا ہوا بھاگ کر اس کے پاس گیا اور اس کے اردگرد جھانکنے لگا۔ اسے ڈرم کے پیچھے سے خاکی رنگ کا لفافہ ملا۔ اس نے لفافے میں سے کاغذات نکالے اور پڑھا۔ وہ واقعی میں نکاح نامہ تھا۔
جب وہ واپس آیا اس وقت نائلہ، عائشہ کو اپنے بارے میں بتا رہی تھی جبکہ عائشہ عجیب نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
اس نے عائشہ کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
"عائشہ میں تمہیں یہاں کچھ دکھانے آیا ہوں؟"
"کیا؟" عائشہ نے پوچھا۔
زید نے ہمت اکھٹا کی اور بولنے لگا۔
"یہ گھر، جس میں تقریب ہو رہی ہے، تمہارے شوہر عیسیٰ کی کزن کا گھر ہے۔ عیسیٰ وہاں بیٹھا اپنی کزن سے شادی کر رہا ہے۔ تمہیں یقین نہیں آتا تو تم خود دیکھ لو۔"
عائشہ نے بے یقینی سے زید کو دیکھا۔
"ناممکن!"
پھر عائشہ اندر چلی گئی۔ زید اور نائلہ نے ایک دوسرے کو دیکھا اور اندر چلے گئے۔ وہ دونوں اندر پہنچ کر عائشہ کو ڈھونڈ رہے تھے جب دور اسٹیج پر سے عائشہ کی آواز آئی۔ عائشہ وہیں پر شروع ہوچکی تھی۔
زید نے کاغذات نائلہ کو پکڑائے تاکہ وہ اسے اپنے بیگ میں سنبھال لے۔ نائلہ نے لال بیگ کے اندر کاغذات رکھ لیے۔
پھر وہ دونوں اسٹیج کی جانب بڑھے۔ وہ اسٹیج کے قریب تب پہنچے، جب عیسیٰ عائشہ کو نقصان پہنچانے کی غرض سے اس کے قریب آ رہا تھا۔ وہ فوراً عائشہ کے دفاع کے لیے آگےبڑھا۔ اگر ایک صاحب ان کے درمیان میں نہ آتے تو وہ یقیناً عیسیٰ کا سر پھاڑ دیتا۔ اس نے سب کو ساری حقیقت بتا دی۔
جب وہاں موجود لوگوں نے اس سے ثبوت مانگا تو جائی یانہ کے ساتھ کھڑی نائلہ سے کاغذات لے کر اس نے انہی صاحب کے ہاتھ میں پکڑا دیے جنہوں نے عیسیٰ اور اسے علیحدہ کیا تھا۔
جب انہوں نے پڑھ لیا تو انہوں نے اعلانیہ زید کی سچائی کی تصدیق کی۔ جائی یانہ کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ وہ عیسیٰ کے پاس آئی اور زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا اور برا بھلا کہنے لگ گئی۔ زید کو اپنے اندر تک سکون اترتا محسوس ہوا لیکن تبھی ایک ادھیڑ عمر شخص جو عیسیٰ کا باپ تھا، اس نے ساری بساط پلٹ دی۔
اس نے اپنے بچے کو بچانے کے لیے جائی یانہ اور زید پر الزام لگا دیا اور جانے کہاں سے اس کی اور جائی یانہ کی تصویر اپنے موبائل سے نکال کر ان ہی کو دکھا دی جنہوں نے عیسیٰ اور عائشہ کا نکاح نامہ پڑھا تھا۔ اسے تب پتہ چلا کہ یہ صاحب، جائی یانہ کے باپ تھے۔
انہوں نے بھی اس تصویر پر یقین کرلیا۔ جائی یانہ نے صفائی دینا چاہی مگر رضوان صاحب نے جائی یانہ کو آگے نہ آنے دیا اور عیسیٰ کو لے کر وہاں سے چلے گئے۔
جائی یانہ نے اپنے باپ کو وضاحت دینا چاہی مگر وہ اس کی ایک بات نہ مانے۔ زید نے بھی اپنی اور جائی یانہ کی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے ایک شرط رکھ دی۔
وہ ان دونوں کا نکاح کروانا چاہتے تھے۔ وہ جائی یانہ سے اس کا نکاح کروانا چاہتے تھے۔ اس جائی یانہ سے جس کے بارے میں وہ خواب میں بھی سوچنے سے ڈرتا تھا۔
جائی یانہ نے اس شرط پر اعتراض کیا اور اپنے بابا کو سمجھاتے ہوئے اس نے اپنا یہ گمان بھی ظاہر کیا شاید زید کسی اور میں انٹرسٹڈ ہو مگر زید نے مثبت جواب دے کر اس کی غلط فہمی دور کر دی۔
عائشہ نے اسے روکنا چاہا مگر اس نے اسے اپنے طریقے ہینڈل کرلیا۔ دوسری طرف جائی یانہ کے باپ نے بھی جائی یانہ کو ایموشنلی بلیک میل کرکے نکاح کے لیے تیار کر لیا تھا۔
آگے جو کچھ بھی ہوا وہ زید کے لیے ایک خواب تھا! حسین ترین خواب! جس لڑکی کو اس نے دل سے چاہا تھا، وہ اسے مل رہی تھی۔ جائی یانہ نے جب مولوی صاحب کو اپنی رضا مندی بتا دی تو وہ اٹھ کر چلی گئی۔ اس وقت زید کو پریشانی ہوئی کہیں اس نے کوئی غلط فیصلہ تو نہیں کرلیا۔ اگر وہ جائی یانہ کی قدر نہ کر پایا جیسی کرنی چاہیے تو؟
لیکن اب یہ سب بعد کی باتیں تھی۔ ابھی اسے ان سب لوگوں کے سامنے اسے جائی یانہ کو اپنانا تھا۔
********************
نکاح اور رخصتی کے بعد جو سب سے بڑی مشکل تھی وہ جائی یانہ کو آج رات بھائی بھابھی کے گھر ٹھہرانا تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے جائی یانہ کو اسٹور روم میں رات ٹھہرانے کا فیصلہ کیا۔
جائی یانہ کو اسٹور روم میں ٹھہرا دینے کے بعد وہ واپس ہاسٹل نہیں گیا بلکہ گھر کے باہر بائیک پر بیٹھ کر رات گزاری۔ اسے ڈر تھا بھابھی کہیں جائی یانہ کو اس کے جانے کے بعد گھر سے باہر نہ نکال دیں مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔
صبح ناشتے کے بعد وہ، جائی یانہ کو نائلہ کے گھر چھوڑ کر جاب پر چلا گیا۔ جلدی چھٹی لے کر اس نے یونیورسٹی سے قریب پڑتے دو تین ہاسٹل دیکھے اور جس ہاسٹل میں سختی زیادہ تھی وہاں پر جائی یانہ کو داخل کروانے کا سوچا۔
اس نے دوکان کے مالک سے کچھ رقم ادھار لی اور جائی یانہ کی دو مہینے کی فیس جمع کروا دی۔
اب حال میں واپس آئیں تو زید لیٹا ہوا ابھی جائی یانہ کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ کیا وہ اس کے ساتھ رہنا چاہے گی؟ ابھی تک تو جو حالات جا رہے تھے اور جس طرح کی باتیں جائی یانہ کر رہی تھی، اس سے تو صاف ظاہر تھا وہ اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ اگر جائی یانہ نے اس سے طلاق کا مطالبہ کر لیا تو وہ کیا کرے گا؟
کیا وہ اسے چھوڑ دے گا؟ کیا وہ اسے چھوڑ سکتا تھا؟ یہ سوالات اسے اندر تک ہلا رہے تھے۔
*********************
جب دوپہر اپنے عروج پر پہنچی تو عزاہ کو کمرے کی طرف قدم بڑھتے سنائی دیے۔ وہ اسی طرح سر جھکائے آنسو بہاتی رہی۔ دروازہ کھول کر کوئی اندر آیا۔ کوئی آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ پھر عزاہ کو کوئی اپنے بالکل سامنے کھڑا محسوس ہوا۔
"چچ چچچچ! میرے بھائی نے تمہارے ساتھ کیا کردیا!" آواز میں مصنوعی تاسف تھا۔
عزاہ جو گھٹنوں سے سر لگائے رو رہی تھی، یہ آواز سن کر اس کی آنکھوں سے آنسو رک گئے۔ اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ عزاہ کا چہرہ ویسا ہی تھا۔ بس دائیں آنکھ پر نیل بندھی ہوئی تھی جبکہ اس کا نچلا ہونٹ پھٹا ہوا تھا۔ وہ بیڈ پر سے اٹھ گئی اور نمرہ کے سامنے کھڑی ہوگئی۔
"کیوں آئی ہو تم؟ میرا تماشہ دیکھنے؟" عزاہ نے غصے سے پوچھا۔
"بالکل!" نمرہ آرام سے بیڈ پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئی۔ "اسی لیے تو تمہاری شایان بھائی سے شادی کروائی ہے۔ میرے کہنے پر ہی تو میرا بھائی تم سے شادی پر مانا تھا ورنہ میں پاگل تھوڑی تھی جو یونہی تمہیں گھر میں گھسا لیتی!"
"تم نے شایان کو منایا مگر کیسے؟" عزاہ ایک پل کے لیے رک کر سامنے بیٹھی اس لڑکی کو دیکھا۔ وہ لڑکی آخر تھی کیا چیز؟ نمرہ نے بھی عزاہ کی سنہری آنکھوں میں دیکھا۔
"وہ ایسے جب میرا پیارا بھائی اپنی شادی کے دن عالیہ کی بے وفائی پر دلبرداشتہ ہوکر واپس جانے لگا، تو میں نے اسے روکا۔" وہ بیڈ پر سے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔ "میں نے اسے روک کر تم سے شادی پر اکسایا، اسے بتایا کہ تم سے شادی کے بعد وہ کس طرح اشفاق اور اس کے گھر والوں سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لے سکتا ہے۔" نمرہ عزاہ کے تاثرات جانچتے ہوئے کہتی گئی۔ "ویسے ایک بات بتاؤں تم ہمارے منصوبے میں اس وقت شامل نہیں تھی۔ ہم نے سوچا تھا تمہارا بندوبست بعد میں کریں گے، ہمیں پہلے عالیہ کو ٹھکانے لگانا تھا لیکن قسمت ہم پر بڑی مہربان تھی۔ اشفاق نے شاید خود اپنے دشمنوں کی مشکل کو آسان کرنے کا سوچا تھا۔ قسمت نا صرف عالیہ کو ہمارے پاس لائی بلکہ شایان کے ذریعے تمہیں بھی ان سب میں گھسا دیا۔ اشفاق واقعی میں بہت بے وقوف ہے۔"
نمرہ کے چہرے پر اب سرد مسکراہٹ تھی۔
"تمہیں آخر میرے خاندان سے مسئلہ کیا ہے؟" عزاہ نے بے بسی سے کہا۔
"میں نے کہا ہے نا میں نہیں بتاؤں گی!" وہ یونہی چل رہی تھی۔
"ویسے مجھے تم سے سمجھداری کی امید نہیں تھی۔" نمرہ نے سنگھار میز پر پڑی پرفیوم کی بوتلیں چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے کہا۔ "مجھے تو لگا تھا تم سب کو بتا دو گی اور ہمیں تمہیں اس کھیل سے باہر کرنا پڑے گا مگر تم تو کھلاڑی بن کر شاید مقابلہ کرنا چاہتی ہو۔" اس نے سر اٹھا کر عزاہ کو دیکھا۔ اس کی سرد مسکراہٹ اب گہری ہوتی چلی جا رہی تھی۔ "لیکن میں یہ بات ابھی سے بتا دوں، خود کو میرے مقابل سمجھنا تمہاری بیوقوفی ہے۔"
"میں تمہاری مقابل نہیں ہوں نمرہ!" عزاہ نے شکستہ لہجے میں کہا۔ نمرہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ عزاہ تھکی ہوئی سی بیڈ پر بیٹھ رہی تھی۔ "مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تمہیں کس کے ساتھ کیا کرنا ہے؟ مجھے اگر ابھی فکر ہے تو بس اپنی ہی ہے۔ میرے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ شایان کو سب سچ بتانا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ شایان مجھے گھر سے باہر نکال دے گا اور میرا باپ مجھے اپنے گھر میں گھسنے نہیں دے گا۔ یوں میں بے آسرا پتہ نہیں کہاں جاؤں گی؟ ایسے میں تم سے دشمنی مول لے کر مجھے ملے گا کیا؟ کچھ بھی نہیں!"
عزاہ کی آنکھوں سے آنسو گرا جو اس کی قمیض کے دامن میں جذب ہوگیا۔
"میں بس تم سے ڈیل کرنا چاہتی ہوں۔ جب تک تمہارا بدلہ ختم نہیں ہو جاتا تم مجھے یہیں رہنے دو۔ بدلے میں، میں تمہارے راستے میں ٹانگ نہیں اڑاؤں گی۔ ویسے بھی اب تم مجھ سے اور کیا لو گی؟ سب کچھ تو ختم ہوگیا ہے۔"
نمرہ آہستہ آہستہ قدم لیتی عزاہ کے پاس آئی۔ عزاہ کے پورے جسم پر تھکاوٹ اتری محسوس ہوتی تھی۔ ایسا لگتا تھا اس نے میلوں سفر پیدل طے کر لیا ہو۔
"مجھے ڈیل منظور ہے۔ تمہارے لیے بہتر بھی یہی ہوگا۔ میرے کام میں دخل دینے کی بجائے اگر تم خاموشی سے یہ سب دیکھتی رہو گی تو شاید امی جان تمہیں بخش بھی دیں!"
عزاہ نے چہرہ نیچے کیے رکھا۔
"تم پوچھو گی نہیں امی جان کون ہے؟" نمرہ نے اکساتے ہوئے پوچھا۔
"تم نے پہلے ہی بتا دیا ہے تم نہیں بتاؤ گی۔" عزاہ نے سابقہ لہجے میں جواب دیا۔
"گڈ! میری باتوں پر عمل کرو۔ یہی اس وقت سب سے بیسٹ آپشن ہے۔" یہ کہتے ہوئے نمرہ کمرے سے باہر
جانے لگی۔ دروازے کی چوکھٹ پر پہنچ کر اس نے ایک بار عزاہ کو مڑ کر دیکھا جو یونہی بیٹھی ہوئی تھی۔
"بیوقوف!" نمرہ زیر لب بڑبڑاتی وہاں سے چلی گئی۔
نمرہ کے جانے کے بعد عزاہ کھڑی ہوگئی اور آئنے کے پاس جا کر خود کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر نشانات اور آنکھوں میں نمی تھیں۔ عزاہ نے اپنی آنکھوں کی نمی کو ہاتھوں سے صاف کیا۔ اب اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ عزاہ اب فیصلہ کر چکی تھی۔
******************
صبح کے آٹھ بجے ہاسٹل کے باہر موجود سڑک پر سانولی رنگت کی لڑکی کندھے پر بیگ ڈالے اور ہاتھ میں کتابیں لیے یونیورسٹی جا رہی تھی۔ اسے دور سے ایک بائیک اپنی طرف آتی دکھائی دی۔ بائیک والے کو دیکھ کر اس کی بھنویں سکڑ گئیں۔ وہ اپنی جگہ پر رک گئی۔ بائیک سوار نے بائیک اس کے سامنے روک دی۔
"بیٹھ جائیں!" گھنگھرالے بالوں والے لڑکے نے اس سے کہا۔
"تمہیں مجھے پک اینڈ ڈراپ سروس دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارے اپنے بھی بہت سے کام ہیں۔ تم انہیں کرو۔ میری فکر مت کرو۔" جائی یانہ نے تیکھے لہجے میں کہا۔
"باقی باتیں آپ بائیک پر بیٹھ کر بھی کرسکتی ہیں۔ اگر آپ نے تھوڑی دیر اور بحث کی تو آس پاس کے مرد مجھے کوئی لفنگا سمجھ کر مارنے آ جائیں گے۔" زید کی بات سن کر جائی یانہ منہ بنا کر بائیک پر اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔ زید نے خاموشی سے بائیک چلا دی۔ کچھ دیر بعد جائی یانہ دوبارہ شروع ہوگئی۔
"دیکھو میں جانتی ہوں پٹرول کتنا مہنگا ہے اور تم جاب کرتے ہو۔ میری وجہ سے تمہارا وقت اور پیسہ دونوں خراب ہو رہا ہے۔ تم خود پر ترس کھاؤ۔ میری ہمدردی میں آخر تم کیا کیا کرو گے اور کتنا کرو گے؟ خدا کے لیے میری بات سمجھو۔۔۔!"
"پہلی دفعہ آپ کو اتنا بولتے ہوئے سنا ہے۔ ناشتے میں کوے تو کھا کر نہیں آئیں۔" زید نے بات دوبارہ مزاق میں اڑانا چاہی۔
"زید میں سنجیدہ ہوں۔ میری باتوں پر غور کرو!"
"ٹھیک ہے اگر آپ سنجیدہ جواب سننا چاہتی ہیں تو سنیں! مجھے آپ کی یہ باتیں ہرٹ کر رہی ہیں۔" پہلے والی شوخی اب زید کے لہجے سے خارج ہوگئی تھی۔
"آپ میری حیثیت اور اوقات یاد دلا رہی ہیں۔ اگر آپ کو لگ رہا ہے میں آپ پر ترس کھا کر یہ سب کر رہا ہوں اور اس ہمدردی میں اپنے پیسے اور وقت جھونک رہا ہوں تو آپ غلط ہیں۔ یہ سب میں اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ یہ میرا فرض ہے۔ میں تو اور بھی بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر میں مجبور ہوں۔ میں آپ کو وہ سب نہیں دے پا رہا ہوں جس کی آپ حقدار ہیں۔ آپ جانتی نہیں ہے آپ کتنا کچھ ڈیزرو کرتی ہے مگر میری یہ منحوس غربت اور خالی جیب آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔ آپ جانتی نہیں مجھے اپنا آپ کتنا بے کار لگ رہا ہے۔ میری وجہ سے آپ یوں دربدر کے دھکے کھا رہی ہیں۔ " جائی یانہ کو اس کی آواز بھرائی ہوئی محسوس ہوئی۔ "اگر میں یہ چھوٹے چھوٹے کام کرکے خود کو اس گلٹ سے نکالنے کی تھوڑی سی کوشش کر رہا ہوں تو پلیز مجھے کرنے دیں!"
اس کی بات سن کر جائی یانہ بالکل خاموش ہوگئی تھی۔ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ زید اس رشتے کو قبول کر چکا تھا۔ بس وہ ہی ابھی تک نہیں کر پائی تھی۔ کیا اسے بھی یہ رشتہ قبول کر لینا چاہیے تھا؟
باقی کا سارا راستہ اسی بات کو سوچتے گزرا۔ جب بائیک یونیورسٹی کے سامنے رکی تو زید نے اس سے پوچھا۔
"آپ یونیورسٹی کے بعد ہاسٹل جائیں گی یا نائلہ کے گھر؟ اگر ہاسٹل جائیں گی تو مجھے کال کرلیجیے گا۔ میں آجاؤں گا!"
"نہیں تم نہ آنا۔ میں نے ایک دو جگہ نوکری کے سلسلے میں جانا ہے۔ یونیورسٹی کے بعد وہی جاؤں گی۔" جائی یانہ یہ بات کہہ کر بائیک سے اتری تو زید نے گردن گھما کر اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر غصہ ظاہر تھا۔
"آپ کہاں جائیں گی؟" زید شاید تصدیق چاہتا تھا جو کچھ اس نے جائی یانہ کے منہ سے سنا تھا۔ کیا وہ سچ تھا؟
"نوکری کی تلاش میں!" جائی یانہ نے ابھی بھی آرام سے کہا۔
"لیکن کیوں؟" زید نے اس دفعہ بے بسی سے پوچھا۔
"کیوں کا کیا مطلب؟ نوکری اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔"
"میں ہوں نا! میں کروں گا تمام ضروریات پوری۔۔"
"تمہارے اوپر پہلے ہی پڑھائی اور نوکری کا بوجھ ہے۔ ایسے میں تم میری ضروریات کیسے پوری کرو گے؟ اور اگر کرو گے بھی تو کتنا کرو گے؟ کرتے کرتے تم تھک جاؤ گے۔"
"میں کر لوں گا!"
"نہیں کر پاؤ گے!" جائی یانہ نے جیسے پیش گوئی کی۔
"اچھا پھر میں پڑھائی چھوڑ دیتا ہوں۔ تب تو یہ سب آسان ہوگا نا!" زید کا حل سن کر جائی یانہ کو جھٹکا لگا۔ وہ غصے سے بولی۔
"خبر دار جو تم نے ایسا کیا۔ اگر تم نے پڑھائی چھوڑی تو میں صاف بتا رہی ہوں میں ابھی کورٹ میں جاکر خلع کا کیس دائر کر دوں گی۔" اس کی بات سن کر زید نے بے بسی سے کہا۔
"تو میں کیا کروں؟"
"کچھ بھی نہ کرو۔ آرام سے جا کر کام کرو۔" جائی یانہ اب جانے لگی تو زید نے ایک اور بات پر اختلاف کرنا چاہا۔
"آپ اچھے سے جانتی ہیں حالات کیسے ہیں؟ ایسے میں، میں کیسے آرام سے اپنا کام کر لوں اور آپ کو جاب پر جانے دوں۔ اگر وہاں آپ کو خدا نخواستہ کوئی آفتاب جیسا شخص مل گیا تو؟ نہیں بالکل نہیں! میں زندہ ہوں اور اپنی بیوی کا بوجھ اٹھا سکتا ہوں۔"
جائی یانہ کو اس کا "اپنی بیوی" کہنا خاصا عجیب لگا۔
"تم پرانی فلموں کے ہیرو مت بنو۔ میں ٹیوشن سینٹر میں پڑھاؤں گی۔ وہاں کا ماحول میں خود اچھے سے دیکھوں گی۔ اگر میں مطمئن ہوئی تو جاب کروں گی۔ تم پریشان مت ہو۔"
"اچھا!" زید ابھی بھی تذبذب کا شکار تھا۔ "مجھ سے وعدہ کریں آپ جس جگہ نوکری کریں گی مجھے بھی وہ جگہ ایک بار دکھائیں گی۔ اگر مجھے وہ جگہ اچھی لگی تو پھر وہاں جائیں گی۔ وعدہ کریں!" اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر وعدہ لینا چاہا۔
زید اس وقت اسے ایک چھوٹا بچہ لگ رہا تھا۔ جائی یانہ کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
"ٹھیک ہے، وعدہ!" اس نے اس کا بڑھا ہاتھ تھام لیا۔ دونوں نے ایک ساتھ اپنے بندھے ہاتھ ہلائیں۔
دور سے کوئی بھی انہیں دیکھتا تو پرفیکٹ کپل کہنا نا بھولتا۔
"اب میں جاؤں؟" جائی یانہ نے زید سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے پوچھا۔
"جی!" اس نے اجازت دے دی۔
وہ مسکراتی ہوئی اندر چلی گئی جبکہ زید فکرمندی سے اسے جاتا دیکھتا رہا۔
******************
وسیع رقبے میں پھیلا یہ عظیم اور پر تعیش بنگلہ آنے جانے والوں کی نگاہوں کا مرکز تھا۔ یہ بنگلہ کچی بستی میں بنا تھا۔ جھونپڑیوں اور کچے مکانوں کی بستی میں یہ بنگلہ محل لگتا تھا۔
اس بنگلے کے اندر آکر اس کے لیونگ روم میں آؤ، تو ایک پل کے لیے آنکھیں چندھیا جاتی تھیں۔ ہلکے اسکن رنگ سے رنگی دیواروں پر نامور مصوروں کی تصویریں ٹنگی ہوئی تھیں۔ ڈیکوریشن کے نام پر ایک سے بڑھ کر ایک چیز یہاں رکھی ہوئی تھی۔ ایسے میں ہم اس کے آرام دہ صوفوں پر بیٹھے مرد اور عورت کو دیکھیں، تو وہ ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے۔
"اشفاق کی چھوٹی بیٹی ہاسٹل میں داخل ہوئی ہے۔ زید کے پاس اس کو رکھنے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ بیچاری در بدر کے دھکے کھاتی پھر رہی ہے۔" آریان عام سے لہجے میں بتا رہا تھا۔ پھر اس نے پوچھا۔ "اب آگے اس کے ساتھ کیا کرنا ہے؟"
"ابھی اسے یونہی رہنے دو۔ ابھی اسے سیٹل ہونے میں وقت لگے گا۔ کچھ دیر بعد جب وہ سیٹل ہوجائے گی تو ہم اسے دوبارہ دربدر کریں گے۔ اسے ہاسٹل یا یونیورسٹی سے نکال دیں گے لیکن میں نے کہا نا یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔ ابھی ہمیں اشفاق کی بڑی بیٹیوں پر دھیان دینا ہے۔ ان دونوں کو ہمارے منصوبوں کے بارے میں پتہ چلتا جا رہا ہے۔" مسز جہانگیر نے کہا۔
"ایک تو ہمارے پاس ہی قید میں ہے۔ دوسری کا نمرہ خود کوئی بند و بست کر لے گی۔"
"مجھے اس کا کوئی بندوبست کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔" لیونگ روم کے اندر آتی نمرہ نے کہا۔ جینز پر آتشی رنگ کی فراک پہنے اور بیگ اپنے کندھے پر لٹکائے وہ مسز جہانگیر کے ساتھ بیٹھ گئی۔
مسز جہانگیر نے اسے پیار سے اپنے ساتھ لگایا۔
"ابھی تم نے کیا کہا نمرہ؟" آریان کو نمرہ کی بات سمجھ نہیں آئی تھی۔
"میں نے ابھی کہا آریان، ہمیں عزاہ کا بندو بست کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ خود ہی ہار مان گئی۔" نمرہ نے ہلکے پھلکے لہجے میں ان دونوں کو خبر دی۔
مسز جہانگیر اور آریان ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے رہ گئے۔
"تمہیں کیسے پتہ؟" آریان نے پوچھا۔
"وہ خود مجھ سے منت کر رہی تھی۔ میرے پاس رہنے کو ٹھکانہ نہیں ہے۔ میں کہاں جاؤں گی۔ مجھ سے ڈیل کرلو۔ تم اپنا کام کرنا بس مجھے یہاں رہنے دینا۔ تم ویسے بھی مجھ سے کونسا بدلہ لو گی؟" نمرہ نے عزاہ کی تقل اتاری
"بڑی بیوقوف لڑکی ہے۔ ابھی تک نہیں سمجھ پائی۔ ہمیں اشفاق اور اس کے پورے خاندان سے بدلہ لینا ہے اور اس کے پاس ابھی بھی بہت کچھ ہے۔ اس کے گھر والے ابھی زندہ ہیں ، مرے تھوڑی نا ہیں۔" آریان کو واقعی میں عزاہ کی عقل پر افسوس ہوا۔
نمرہ نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی لیکن مسز جہانگیر خاموش رہیں۔ نمرہ نے ان کی خاموشی کو جب محسوس کیا تو پوچھا۔
"کیا ہوا امی جان؟ آپ کسی بات کو لے کر پریشان ہیں؟" نمرہ کے بلانے پر مسز جہانگیر چونک گئیں۔
"ہاں! مجھے لگتا ہے ہم اس لڑکی کو ہلکا سمجھ کر غلطی کر رہے ہیں۔ ہو سکتا وہ لڑکی ہم سب پر بھاری ہو۔" مسز جہانگیر نے الجھن سے کہا۔
نمرہ نے ان کی بات پر زور دار قہقہہ لگایا۔
"امی جان! آپ اسے نہیں جانتی مگر میں اسے اچھے سے جانتی ہوں۔ وہ ایک نمبر کی پاگل لڑکی ہے۔ وہ ہمارے سامنے بس ایک چیونٹی ہے جسے ہم جب چاہیں مسل سکتے ہیں۔"
"لیکن پھر بھی۔۔۔" اس سے پہلے مسز جہانگیر کچھ اور کہہ پاتیں، نمرہ نے ان کی بات کاٹی۔
"آپ اس عزاہ کو چھوڑیں اور اشفاق پر دھیان دیں۔ آپ کا سب سے بڑا ٹارگٹ اب بالکل اکیلا ہے۔ مجھے لگتا ہے اسے اس کے برے وقت کی جھلک دکھانے کا یہ سب سے صحیح وقت ہے۔"
"تم صحیح کہہ رہی ہو۔ اب وقت آگیا ہے اشفاق کو برباد کرنے کا!"
اب پورے ماحول میں سفاکیت چھا گئی تھی۔
******************
ایک ہفتے بعد
گھڑی میں جیسے ہی صبح کے آٹھ بجے، جائی یانہ اپنے کمرے سے تیار ہوکر یونیورسٹی جانے کے لیے نکل گئی۔ وہ دن ابھی اسے معمول کے مطابق ہی لگ رہا تھا لیکن تبھی راہداری سے گزرتے ہوئے ملازمہ نے اسے اطلاع دی۔
"بی بی جی! آپ سے ملنے کوئی آیا ہے۔" یہ کہہ کر ملازمہ چلی گئی مگر جائی یانہ الجھ گئی۔ آخر اس سے ملنے کون آیا تھا۔
اس کے ذہن میں پہلے زید آیا لیکن نہیں وہ تو ہمیشہ اسے ہاسٹل سے باہر پک کرنے آتا تھا۔ پھر آخر کون آیا تھا اس سے ملنے؟
وہ اسی الجھن میں وزیٹنگ روم پہنچی۔ اس نے جیسے ہی ادھر موجود شخص کو دیکھا تو اس کی آنکھیں حیرت کے مارے پھیل گئیں۔
"بجو آپ!" اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
عزاہ جو کرسی پربیثھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اسے وہاں دیکھ کر کھڑی ہوگئی۔
*****************
ہاسپٹل اس وقت کافی سرد معلوم ہوتا تھا۔ ایسے میں دو نرسیں آپریشن ٹھیتر سے باہر نکلیں۔
"اس عورت کی بچی کتنی پیاری ہوئی ہے۔ بالکل اسی پر گئی ہے۔" ایک نرس نے تبصرہ کیا۔
"ہاں مگر بچاری بچی کی قسمت تو دیکھو۔ کل رات ہی اس کا باپ مر گیا۔" دوسری نرس کے لہجے میں افسوس تھا۔
"آپریشن کرتے ہوئے مجھے نہیں لگ رہا تھا کہ بچی صحت مند ہوگی۔ قبل از وقت جو پیدائش ہوئی ہے لیکن ماشاءاللہ سے بچی صحت مند ہے۔ یہ سب اللّٰہ کے کام ہے۔" پہلی نرس ابھی بھی بچی کے سحر میں مبتلا تھی۔
"اس کی ماں بیچاری کا بھی رات کو کتنا برا حال تھا۔ اپنے شوہر کو زخمی حالت میں لے کر آئی تھی مگر ہسپتال پہنچ کر ہی اس کا شوہر مر گیا۔ " دوسری نرس کا ابھی بس بچی اور اس کی ماں کی بد قسمتی پر غور تھا۔
"اس کا شوہر مرا کیسے؟" پہلی نرس نے تجسس سے پوچھا۔
"سر کی پچھلی طرف گہری چوٹیں لگی تھی۔ عورت کا کہنا تھا سیڑھیوں پر سے گرا ہے، اس لیے زخمی ہوا۔ خون زیادہ بہہ گیا تھا اور بروقت علاج نہ ہونے پر مرگیا۔" دوسری نرس نے وضاحت کی۔
"ہمم! بیچاری کو صدمہ بہت برا لگا ہے۔" پہلی نرس نے تاسف سے کہا۔ پھر وہ بولی۔
"ویسے تم نے دیکھا تھا وہ عورت بے ہوشی میں بھی بار بار عمر عمر کا نام لے رہی تھی۔ اللّٰہ جانے یہ عمر کون ہے؟"
"اس کے مرے ہوئے شوہر کا نام ہے عمر!" دوسری نرس نے اسے بتایا۔
وہ دونوں باتیں کرتی ہوئی ہسپتال کی راہ داریوں سے چلتی ہوئی نگاہوں سے اوجھل ہوگئیں۔
*****************