ہسپتال کی سفید راہداریوں میں ایک نرس گزر رہی تھی۔ اس وقت وہ ڈیوٹی پر تھی۔ باری باری مریضوں کو وقت پر دوا دینے اور دیکھ بھال کر لینے کے بعد جب وہ اپنے اگلے مریض کو دیکھنے کے لیے اس کے کمرے کی جانب بڑھی، تو اسی وقت ایک عورت اس کمرے سے باہر نکلی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی تھیں۔ نرس نے اس عورت کو گزرنے کے لیے راستہ دیا۔
وہ عورت خاصے صدمے کا شکار لگتی تھی اور اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ نرس نے نگاہیں ہٹا لیں۔ اس کے لیے ایسے مناظر عام سی بات تھی۔ روز اسی حال میں یا اس سے بھی کئی گنا بدتر حالت میں لاکھوں لوگ اپنے مریض کی عیادت کرنے آتے تھے۔
عورت کے جانے کے بعد نرس کمرے کے اندر آئی۔ اس نے اپنی مریض کو بیڈ پر بیٹھا دیکھا۔ اس نے دیوار سے ٹیک لگائہ تھی۔ اس کے پاؤں آرام سے پھیلے ہوئے تھے۔ اس کی رنگت زرد اور آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ہوگئے تھے۔
"آپ کی طبیعت اب کیسی ہے؟" نرس نے مشینی انداز میں پوچھا۔
"صحیح!" اس کی مریضہ نے بس ایک ہی لفظ پر اکتفا کیا۔ نرس اس کے پاس آگئی۔
"گڈ! آپ کی ڈیلیوری بھلے قبل از وقت تھی لیکن آپ کی بچی ماشاءاللہ سے صحت مند ہوئی ہے۔ وہ اس وقت نرسری میں ہے۔ کچھ دیر بعد ہم اسے آپ کے کمرے میں شفٹ کر دیں گے۔ آپ کے شوہر کی ڈیڈ باڈی کو ہم نے مردہ خانے میں شفٹ کیا ہے۔ آپ اپنے کسی رشتہ دار یا جاننے والے کو بلا لیں تاکہ آپ کے شوہر کی ڈیڈ باڈی ہم ان کے حوالے کردیں!"
"ہمم! میرے رشتہ دار اسلام آباد میں رہتے ہیں۔ ان کا فون نمبر میں آپ کو دے دیتی ہوں۔ آپ انہیں کال کردیں۔" انتہائی نحیف آواز مریضہ کے حلق سے بر آمد ہوئی۔
اس نے نرس کو نمبر بتا دیا۔ نرس واپس جانے لگی تو زینب نے اسے روکا۔
"مجھے یقین ہے آپ لوگوں نے میرے بیٹے کو سنبھال لیا ہوگا۔"
"جی وہ ہمارے پاس ہی ہے اور ابھی سو رہا ہے۔ جیسے ہی اٹھتا ہے میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گی۔" یہ کہہ کر نرس چلی گئی جب کہ مریضہ نے سر دیوار پر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں۔
جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا تھا مگر اب جو آگے ہونا تھا وہ اس سے بھی ڈراؤنا تھا مگر پتہ نہیں کیوں اب اسے آگے کی فکر نہیں تھی۔ وہ سوچ چکی تھی اس نے آگے کیا کرنا تھا۔ وہ ایک ماں تھی۔ بچوں کے سر سے باپ کا سایہ ہٹ گیا تھا لیکن اب ان کے سروں پر چھت قائم رکھنا اس کی ذمہ داری بن گئی تھی۔
************************
"عزاہ بجو! آپ یہاں؟ کیسے؟"
جائی یانہ حیران و پریشان کھڑی رہ گئی۔ اس نے عزاہ کو دیکھا جس کی دائیں آنکھ کی نیل اب کافی مندمل ہوگئی تھی اور ہونٹ پر زخم کا نشان رہ گیا تھا۔
"کیوں میں یہاں نہیں آ سکتی؟"
عزاہ کے سوال کا جائی یانہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اسے یاد تھا عزاہ اس کے نکاح کی تقریب میں نہیں آئی تھی اور شادی ہو جانے کے بعد بھی عزاہ کی طرف سے کوئی کال میسج نہیں آیا تھا۔ اب اس کا یوں آنا جائی یانہ کے لیے تعجب کی بات تھی۔
عزاہ نے اسے یوں حیران دیکھا تو مسکرانے لگی۔
"میں جانتی ہوں تمہیں مجھے یہاں دیکھ کر خاصا شاک لگا ہے لیکن میں تمہیں کچھ ایسا بتانے آئی ہوں جسے جاننا تمہارے لیے بہت ضروری ہے۔ میں ایک بہت بڑا کام کرنے جا رہی ہوں اور اس میں تمہارا ساتھ چاہتی ہوں۔"
"کیسا کام؟" جائی یانہ نے الجھن سے پوچھا۔
"بتاتی ہوں، سب بتاتی ہوں۔ تم ادھر بیٹھ جاؤ۔" عزاہ نے جائی یانہ کو اپنے ساتھ بیٹھنے کی دعوت دی اور خود بھی کرسی پر بیٹھ گئی۔ جائی یانہ خاموشی سے عزاہ کے ساتھ بیٹھ گئی۔
************************
ملاقات سے سات دن پہلے
شام ہر سو پھیل گئی تھی۔ گرمی کی یہ شام ہوا چلنے کی وجہ سے خاصی خوشگوار محسوس ہوتی تھی۔ نارنجی آسمان پر پرندے اپنے گھونسلوں کی جانب رواں دواں تھے۔ ایسے میں سانولی رنگت والی لڑکی ایک ٹیوشن سینٹر سے باہر نکل رہی تھی۔ اس کے چہرے پر مدھم سی مسکراہٹ تھی۔ اس مسکراہٹ کی وجہ اس کے انٹرویو کی کامیابی تھی۔
ٹیوشن سینٹر سے باہر نکل کر فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے وہ بس اسٹاپ پر پہنچ گئی۔ بس آنے میں ابھی کافی دیر تھی۔ وہ بس اسٹاپ میں موجود بینچ پر بیٹھ کر بس کا انتظار کرنے لگی۔
اسی وقت اس کے موبائل پر میسج آیا۔ جائی یانہ نے میسج دیکھا تو وہ زید کی طرف سے آیا ہوا تھا۔
"آپ کہاں ہیں؟ اگر ہاسٹل سے باہر ہیں، تو اپنی لوکیشن بتا دیں۔ میں آپ کو لینے آ رہا ہوں۔"
جائی یانہ نے میسج پڑھا تو پہلے سوچا منع کردے مگر پھر اس نے اپنی لوکیشن بھیج دی۔
تقریباً دس منٹ بعد وہ جائی یانہ کے سامنے بائیک پر بیٹھے حاضر تھا۔
"تمہارا مالک بڑا اچھا ہے، جو تمہارے بار بار دوکان سے باہر جانے پر اعتراض نہیں کرتا!" جائی یانہ نے طنزاً کہا اور زید کے پیچھے بیٹھنے لگی۔
"جی! کم از کم ایک ہفتے کے لیے میرا مالک مجھے کچھ نہیں کہے گا۔" زید کی بات سن کر جائی یانہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
"کیوں؟ ایک ہفتے کے لیے وہ کچھ کیوں نہیں کہے گا؟"
زید نے بائیک چلانی شروع کی۔
"کیونکہ ابھی دوپہر کو ہی میرے پیارے سے مالک کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوگیا ہے۔ ایک ہفتے کے لیے ہمیں چھٹی دے دی گئی ہے۔"
"اوہ اچھا!" جائی یانہ اس کی بات کو سمجھتے ہوئے بولی۔
"ویسے بڑی نیک عورت تھی۔ میں نے کل دل سے دعا مانگی تھی اللّٰہ مجھے کچھ دنوں کی چھٹی مل جائے اور دیکھو مجھے مل بھی گئیں۔" زید کے لہجے میں خوشی ہی خوشی تھی۔
"اللّٰہ کا خوف کرو۔ ایک انسان مر گیا ہے اور تم خوش ہو رہے ہو۔" جائی یانہ نے زید کو ٹوکا۔
"ایسے تو نہ بولیں، مجھے بھی دکھ ہے۔" حالانکہ اس کے لہجے سے کہیں بھی دکھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ "میں ان خاتون کے لیے روز فاتحہ پڑھوں گا۔ آخر انہوں نے میری اتنی بڑی خواہش جو پوری کی ہے۔"
"زید تم جانتے ہو مجھے ایک ٹیوشن سینٹر میں نوکری مل گئی ہے!" جائی یانہ کے بتاتے ہی بائیک جھٹکے سے رکی۔ زید نے پیچھے مڑ کر جائی یانہ کو دیکھا۔
"آپ نے کہا تھا آپ مجھے وہ جگہ دکھائیں گی پھر نوکری کنفرم ہوگی!" زید نے خفگی سے اسے اس کا وعدہ یاد دلایا۔
"ہاں تو منع کس نے کیا ہے؟ میں رمہیں ابھی ٹیوشن سینٹر دکھا دیتی ہوں۔ مجھے تو وہاں کا ماحول سمجھ میں آیا ہے۔ زیادہ تر عورتیں پڑھاتی ہیں۔ بس ایک دو مرد ہی ہیں۔" جائی یانہ کام کی نوعیت اور تنخواہ بھی زید کو تفصیلاً بتائی۔ تنخواہ سنتے ساتھ ہی زید بولا۔
"دیکھیں وہ آپ کو کتنی کم تنخواہ دے رہے ہیں۔ اس میں تو آپ کی ہاسٹل کے ڈیوز ہی کلئیر نہیں ہو پائیں گے۔ کیا فائدہ پھر اتنی خواری کرنے کا؟"
"کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے اور ویسے بھی میں یونیورسٹی کے بعد پہلے نائلہ کے گھر جا کر اس کے بھائی بھابھی کے بچوں کو پڑھایا کروں گی اس کے بعد ٹیوشن سینٹر کا وقت ہوجائے گا، وہاں پر اپنے تین گھنٹے دوں گی۔ اس کے بعد آدھا گھنٹے میں نویں جماعت کے طالب علم کو میتھ سمجھاؤں گی۔ یوں کل ملا کر میرا خرچہ نکل ہی آیا کرے گا۔" جائی یانہ نے سارا پلان بنایا ہوا تھا۔ زید اس کی منصوبہ بندی سے متاثر ہوا مگر جائی یانہ کی فکر بھی ہوئی۔
"اور آپ کی پڑھائی؟ اس کا کیا کریں گی؟"
"پڑھائی کے لیے مجھے یونیورسٹی میں اتنا وقت تو ملتا ہے اور جو صبح پڑھا ہوگا وہ رات کو ایک نظر دیکھ لیا کروں گی۔ پڑھائی اس طرح ہو ہی جایا کرے گی۔"
"آپ جانتی ہیں نا آپ اپنی زندگی کو کافی مشکل بنا رہی ہیں؟"
"ہاں میں جانتی ہوں مگر میرے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ مجھے میرے اخراجات خود ہی اٹھانے ہونگے۔" جائی یانہ کی بات سن کر زید نے فوراً کہا۔
"حالانکہ آپ کو اس کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔ میں آپ کو کہہ چکا ہوں میں آپ کے اخراجات اٹھا سکتا ہوں۔"
اس نے زید کو دیکھا۔ وہ اب جانتی تھی زید یہ سب ہمدردی میں نہیں بلکہ فرض سمجھ کر کر رہا تھا مگر وہ پہلے سے ہی بہت کام کرتا تھا، اس پر مزید بوجھ ڈالنا ٹھیک نہیں ہوگا۔
"تم نے کہا تھا اب ہم دونوں کے درمیان میں صرف "ہمارا" ہوگیا ہے تو پھر سارا کام تمہیں دے کر، آرام میری طرف کرنا نا انصافی ہوگی۔ تم صحیح کہتے ہو میں تمہاری ذمہ داری ہوں اور تم اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا رہے ہو۔ جب تک میری اور تمہاری پڑھائی چل رہی ہے تب تک مجھے جاب کرنے دو۔ پڑھائی کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے کا اچھے سے تجزیہ لیں گے اور سوچیں گے کیا ہم دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اگر جواب ہاں میں آیا تو پھر تم میری ذمہ داری اٹھا لینا۔ میں جاب چھوڑ دوں گی۔"
جائی یانہ کی بات سن کر زید کچھ نہیں بولا
"تو تم اب میرے ساتھ ٹیوشن سینٹر دیکھنے جاؤ گے؟" جائی یانہ کے پوچھنے پر زید نے سر ہلایا۔
جائی یانہ اسے راستہ بتانے لگ گئی۔
***********************
کھانے کی خوشبوؤں سے مہکتے کچن میں داخل ہو تو سنہری آنکھوں والی لڑکی ایپرن پہنے لب شیریں بنا رہی تھی۔ اس کے آنکھ کی طرف نیل اور پھٹا ہونٹ واضح دکھائی دے رہا تھا۔ اتنے دنوں بعد وہ اپنا پسندیدہ کام کر رہی تھی۔ وہ چھڑی سے بادام کو کاٹ کر ریزہ ریزہ کر رہی تھی۔ عزاہ کے نزدیک کھانا پکانا تھیراپی تھا۔
وہ بادام کاٹنے میں اتنا گم تھی کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا زینب کب کچن میں داخل ہوئیں۔
"ارے عزاہ یہ تمہارے چہرے پر کیا ہوا ہے؟" زینب کی آواز اچانک سن کر وہ سہم گئی۔ اس کے ہاتھ میں چھری نیچے گر گئی تھی۔ زینب فوراً اس کے پاس آئیں اور اس کے چہرے پر نرمی سے اپنی انگلیاں پھیرنے لگ گئیں۔
"وہ پھپھو میں سیڑھیوں سے گر گئی تھی۔" عزاہ نے یہ کہتے ہوئے نظریں چرائیں۔ اسے ڈر تھا پھپھو اس کی آنکھوں سے اس کا جھوٹ نہ پکڑ لے مگر وہ یہ جانتی نہیں تھی زینب کو چہرے پڑھنا بخوبی آتا تھا۔
"اچھا تو اس میں نظریں چرانے والی کونسی بات ہے؟" زینب نے تھوڑے سے سخت لہجے میں کہا۔ "سچ سچ بتاؤ یہ چوٹ خود لگی ہے یا کسی اور نے دی ہے؟"
اس بار عزاہ نے کچھ نہیں کہا۔ زینب اب ساری بات جان گئیں۔
"یہ سب شایان کے کام ہے نا! اس لڑکے کو بھی پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے۔ پاگل بن گیا ہے۔ آج اسے گھر آنے دو، اچھے سے اس کی کلاس لیتی ہوں۔" زینب اپنی رو میں بولے جا رہی تھیں۔
"نہیں پھپھو آپ شایان کو کچھ نہیں کہیں گی۔" عزاہ نے زینب کو منع کردیا۔
"کیوں؟ کیوں نہ کہوں؟ یوں تو اسے شہ مل جائے گی اور وہ یونہی اپنی من مانیاں کرتا پھرے گا۔" عزاہ کی بات سن کر زینب کو مزید غصہ آیا۔
"پھپھو یوں بھی تو آپ انہیں سمجھاتی رہتی ہیں مگر کیا کوئی نتیجہ نکل پایا ہے؟ الٹا وہ مجھ پر مزید غصہ کریں گے۔ آپ ان سے بحث کریں گی تو تماشا لگ جائے گا۔ آپ جانتی ہیں گھر کے نوکر ایسی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں اور فارغ وقت میں مذاق اڑاتے ہیں۔ ان سب میں مذاق بنے گا تو صرف میرا ہی بنے گا۔"
زینب خاموش ہوگئیں۔ وہ جانتی تھیں عزاہ جو کچھ بھی کہہ رہی تھی، وہ سچ تھا مگر شایان کو یونہی اس کے حال پر تو نہیں چھوڑا جا سکتا تھا۔
"بیٹا مگر مجھے تھوڑا بہت تو اسے سمجھانا ہوگا۔ تم میرے بھائی کی بیٹی ہو۔ میرا خون ہو۔ اپنی ہی بچی کو میں یوں پٹتے ہوئے تھوڑی دیکھ سکتی ہوں۔ تمہارے اوپر ان ظلم و ستم کو دیکھ کر میں اگر چپ رہی تو تمہارے ماں باپ کو کیا منہ دکھاؤں گی؟" زینب کی بات سن کر عزاہ کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ پھیل گئی۔
"فکر نہ کریں پھپھو! میرے ماں باپ آپ سے کوئی شکوہ نہیں کریں گے بلکہ وہ تو اسی بات پر خوش ہونگے کہ مار پیٹ کر ہی سہی، شایان نے مجھے اپنے گھر میں پناہ تو دی ہوئی ہے۔ آپ میری عجہ سے شایان سے کوئی بات مت کیجئیے گا۔ آپ اس معاملے کو بس ہم دونوں تک محدود رہنے دیں۔"
عزاہ کی بات سن کر زینب خاموش ہوگئیں۔ ان کی اپنی بہو انہیں اپنے بیٹے کو سمجھانے سے منع کر رہی تھیں اور انہیں اس معاملے سے باہر نکال رہی تھی۔ اب وہ اور کیا کر سکتی تھیں؟
************************
ملاقات سے چھ دن پہلے
صبح کے وقت کی ٹھنڈی ہوا ماحول کو خوشگوار کر رہی تھی۔ گرمیوں کے موسم کی یہ ایک خوشگوار صبح تھی۔ اسی صبح میں ہم اگر یونیورسٹی کی جانب بڑھو تو تمہیں گھنگھرالے بالوں والا لڑکا اور سانولی رنگت والی لڑکی ایک ساتھ یونیورسٹی میں داخل ہو رہے تھے۔
"جلدی چلو زید! کلاس شروع ہونے والی ہوگی۔" جائی یانہ کافی تیز چل رہی تھی۔
"چل تو رہا ہوں۔" وہ بھی اس کے قدموں کا ساتھ دیتے ہوئے بولا۔ دونوں جب کلاس میں پہنچیں، تو توقع کے عین مطابق لیکچر شروع ہوگیا تھا۔
دونوں نے پہلے پروفیسر سے کلاس میں آنے اجازت لی، پھر پیچھے کی جانب جگہ ڈھونڈنے لگ گئے۔ ایک خالی بینچ جیسے ہی جائی یانہ کو دکھائی دیا، وہ اس پر بیٹھ گئی۔ بیٹھنے کے بعد اپنا بیگ اپنے ساتھ رکھ کر جب اس نے مڑ کر دیکھا تو اسے جھٹکا لگا۔ زید اس کے ساتھ بیٹھ رہا تھا۔
"تم میرے ساتھ کیوں بیٹھ رہے ہو؟" جائی یانہ نے دھیمی آواز میں زید سے پوچھا۔
"شوہر ہوں آپ کا! اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھنے کا پورا حق رکھتا ہوں۔" زید نے آرام سے کہا۔
"یہ بات تمہیں، مجھے اور نائلہ کو پتا ہے۔ یونیورسٹی میں باقی سب اس بات سے بے خبر ہے۔ میں نہیں چاہتی یونیورسٹی میں ہم دونوں کو ساتھ دیکھ کر کوئی غلط فہمی ہو اور لوگ مجھے تمہاری گرل فرینڈ کا لقب دیں۔"
یہ بات سن کر زید ایک پل کے لیے سنجیدہ ہوا۔ پھر اگلے لمحے اس کی آنکھیں چمکی جیسے اس کے ذہن میں کوئی خیال آیا ہو۔ وہ اس کے ساتھ ہی بینچ پر بیٹھ گیا۔
جائی یانہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کر پائی۔
پورا لیکچر زید نے اس سے کوئی بات نہیں کی بلکہ اسے دیکھ کر تو لگتا تھا وہ لیکچر پر بھی توجہ نہیں دے رہا تھا۔ جب لیکچر ختم ہوا تو زید نے اٹھتے ہوئے بولا۔
"میں آپ سے کچھ دیر بعد ملتا ہوں۔" یہ کہہ کر وہ باہر چلا گیا۔
اگلے دونوں لیکچر میں زید اسے دکھائی نہیں دیا۔ وہ فارغ ہو کر جب لائبریری میں جانے لگی، تو ایک لڑکا اسے سلام کرتا گزرا۔
"السلام علیکم بھابھی!"
"وعلیکم السلام!"
جائی یانہ اس کے پاس سے گزر گئی۔ تھوڑی دور جانے کے بعد جائی یانہ نے لڑکے کی بات پر غور کیا۔ وہ وہی کھڑی ہوگئی اور گردن موڑ کر لڑکے کو دیکھا جو اس سے اب بہت دور جا چکا تھا۔
"بھابھی؟" اس نے الجھن سے یہ لفظ دوبارہ دہرایا۔
وہ اپنا سر جھٹک کر دوبارہ چلنے لگی۔ تبھی کچھ لڑکیاں، جو اس کی کلاس فیلوز تھیں، اس کے پاس آئیں اور اسے گلے لگایا
"مبارک ہو جائی یانہ!"
سب ایک ساتھ کہہ رہی تھیں جبکہ جائی یانہ حیران و پریشاں انہیں دیکھ رہی تھی۔
"کس بات کی مبارک باد؟" جائی یانہ ان لڑکیوں سے دو قدم پیچھے ہٹی۔ اس کے پوچھنے پر ان سب لڑکیوں نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر ایک ساتھ قہقہہ بلند ہوا۔
"اتنی بھولی مت بنو۔ ہم تمہیں تمہارے نکاح پر مبارک باد دے رہے ہیں۔" ایک لڑکی نے ہنستے ہوئے بتایا تو جائی یانہ کو زور دار جھٹکا لگا۔
"تمہیں یہ کس نے بتایا؟"
"زید نے!" دوسری لڑکی نے آرام سے بتایا۔ "ویسے بڑا کنجوس ہے تمہارا میاں! نکاح کی خوشی میں پورے ڈیپارٹمنٹ میں ٹافیاں بانٹ رہا ہے۔ ہم نے کہا مٹھائی سے منہ میٹھا کرواؤ تو کہنے لگا ہم جیسے ندیدے لوگ مٹھائی کے قابل نہیں ہیں۔ اس لیے ٹافیوں سے ہی منہ میٹھا کر لو۔"
لڑکی کی بات سن کر جائی یانہ کو سب سمجھ میں آگیا۔ جائی یانہ نے بڑی مشکل سے ان لڑکیوں سے جان چھڑائی اور زید کو ڈھونڈنے لگی۔ جائی یانہ کو اب محسوس ہو رہا تھا وہ جہاں سے بھی گزر رہی تھی، وہاں موجود لوگ اسے دیکھ کر دبی دبی آواز میں سرگوشیاں کر رہے تھے۔ اسے زید پر شدید غصہ آرہا تھا۔ اگر وہ اس کے سامنے ہوتا، تو وہ اس کا منہ یقیناً توڑ دیتی۔
چلتے چلتے زید اسے ایک راہداری کے اختتام پر سیڑھیوں پر بیٹھا ملا۔ وہ اس وقت اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کے دوست بھی اس کے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ سب لڑکے اسے مبارک باد دے رہے تھے اور ساتھ میں چھیڑ رہے تھے جب کہ زید مسکراتے ہوئے ان سب کی مبارک باد قبول کر رہا تھا۔
"زید! مجھے تم سے بات کرنی ہے۔" وہ اس کی آواز سن کر فوراً سے کھڑا ہوگیا۔ اس کے ساتھ بیٹھے لڑکے جائی یانہ کو دیکھ کر خوش اخلاقی سے بولیں۔
"مبارک ہو بھابھی!" جائی یانہ کا خون کھولنے لگ گیا۔
"زید تم آ رہے ہو میرے ساتھ یا نہیں؟" اس نے لڑکوں کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے رعب سے پوچھا۔
"میں آ رہا ہوں!"
جائی یانہ اسے آتا دیکھ کر مڑ گئی اور وہاں سے کچھ دور جانے لگ گئی۔ زید کافی تابع داری سے جائی یانہ کے پیچھے جانے لگا۔
سب سے اوپر والے زینے پر بیٹھے لڑکے نے ان دونوں کو جاتے دیکھا تو اپنا تجزیہ پیش کیا۔
"یار ویسے بیوی کا بھی ایک الگ ہی رعب ہوتا ہے۔ بندہ لاکھ شیر ہو لیکن بیوی کے سامنے نہ کرنے کی ہمت کسی شوہر میں نہیں ہوتی۔"
اس کی بات سن کر سب قہقہہ لگ کر ہنس دیے۔
دوسری طرف جیسے ہی جائی یانہ اور زید کچھ دور آئے، وہ زید پر برس پڑی۔
"تم پاگل ہو؟ پورے ڈیپارٹمنٹ میں ٹافیاں بانٹتے تم کیا بکواس کر رہے ہو کہ میں تمہاری بیوی ہوں؟"
"تو کیا آپ نہیں ہیں؟" زید نے آرام سے اپنے جوتے فرش پر رگڑتے ہوئے پوچھا۔ اس کے سوال نے جائی یانہ کو مزید تپ چڑھا دی۔
"ہو بالکل ہو! لیکن تم جانتے ہو یونیورسٹی میں ایسی باتیں جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی ہیں۔ اب کچھ دنوں تک میں کہیں بھی جاؤں گی، سب مجھے معنی خیز نگاہوں سے دیکھیں گے اور جملے کسیں گے۔"
"پہلے آپ کو مسئلہ تھا لوگ آپ کو میرے ساتھ دیکھ کر آپ کو میری گرل فرینڈ سمجھیں گے اور اب جب میں نے سب کے سامنے اعلانیہ آپ کو اپنی حق حلال کی بیوی مان لیا ہے، تب بھی آپ کو مسئلہ ہے۔"
"میں یہ۔۔۔" اس سے پہلے جائی یانہ کچھ کہہ پاتی زید نے اس کی بات کاٹ دی۔
"آپ لوگوں سے اتنا ڈرتی کیوں ہیں؟ ان کا کام ہی باتیں کرنا ہے۔ ویسے بھی ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے جو ڈرتے پھرے۔ یونیورسٹی میں ہر جگہ کوئی نا کوئی کپل باہوں میں باہیں ڈالیں گھوم رہا ہوتا ہے۔ وہ تو، کوئی کیا کہہ رہا ہے؟ کیوں کہہ رہا ہے؟ اور کس لیے کہہ رہا ہے؟ سوچ کر اپنا خون ضائع نہیں کرتے کیونکہ ان دونوں کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ ہی کافی ہوتا ہے۔ ہم تو پھر حلال طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ لوگ اگر حرام اعلانیہ اور نڈر انداز سے کرتے ہیں تو ہم اپنے حلال کو کیوں چھپائیں؟"
زید کی بات سن کر جائی یانہ لاجواب ہوگئی۔ کچھ لمحات دونوں کے درمیان خاموشی سے گزرے، پھر زید نے بات بدلنے کے لیے جیب میں سے ٹافی نکالی اور جائی یانہ کی جانب بڑھائی۔
"یہ لے منہ میٹھا کریں۔ ہم دونوں کی شادی کی خوشی میں!"
"پوری یونیورسٹی میں ٹافیاں بانٹنے کے بعد میرا منہ میٹھا کروانا یاد آیا۔" جائی یانہ نے نڑوٹھے انداز میں ٹافی پکڑ لی۔ زید کی باتوں نے اس پر اثر کیا تھا۔
"آپ ہی غصے میں مجھے ڈانٹے جا رہی تھیں ورنہ میں تو کب سے آپ کو یہ دینے کی کوشش کر رہا تھا۔" زید نے بھی ایک ٹافی اپنی جیب میں سے نکالی۔
جائی یانہ نے ٹافی جیسے ہی منہ میں ڈالی، منہ میں مٹھاس گھول گئی۔
"ٹافی کہاں سے لی؟" جائی یانہ نے ٹافی چباتے ہوئے پوچھا۔ اب وہ دونوں ایک ساتھ چہل قدمی کرنے لگ گئے تھے۔ آس پاس جاتے لوگ ابھی بھی انہیں معنی خیز نظروں سے دیکھ رہے تھے مگر اب جائی یانہ کا ان پر دھیان ہی نہیں تھا۔
"کینٹین سے۔"
"کتنے کی؟"
"میں نے بس کینٹین والے سے ٹافی کا ڈبا مانگا اور اپنی شادی کا بتایا۔ کینٹین والا میرا دوست تھا۔ اس نے انتہائی عجیب فلیور والی ٹافیاں مجھے تحفے میں دے دیں۔ پورے تین مہینے سے بیچارے کی ٹافی کا ڈبہ نہیں بکا تھا۔"
"لیکن ہم نے جو ٹافی کھائی، وہ تو کیریمل فلیور کی تھی اور ان کا ذائقہ بھی اچھا تھا۔" جائی یانہ نے اس کی بات سن کر کہا اور ریپر دیکھ کر بھی تصدیق کرنا چاہی۔
"تو آپ کو کیا لگتا ہے اس یونیورسٹی کی بھکاری عوام نے ٹافیوں سے بھرا ڈبا ہمارے لیے چھوڑ دینا تھا۔ سب ایسے ٹافیاں اٹھا کر لے گئے جیسے ہماری ان سے سالوں کی رشتہ داری ہو۔ یہ والی تو میں نے بعد میں خاص طور پر میرے اور آپ کے لیے خریدی ہیں۔"
"اوہ اچھا!" جائی یانہ ساری بات بول کر بس اتنا کہہ پائی،پھر اچانک اسے کچھ یاد آیا۔ "میں نے تو لائبریری میں جانا تھا۔"
اس نے اپنے گھڑی پر وقت دیکھا تو اگلے لیکچر ہونے میں بس کچھ دیر باقی تھی۔
"سارا وقت ہی ختم ہوگیا ہے۔ اب تو اگلا لیکچر شروع ہونے والا ہے۔" جائی یانہ نے کہا۔ اس کے قدم اب کلاس کی جانب بڑھ رہے تھے۔
"بیگم صاحبہ! کیا اب آپ کا شوہر آپ کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے؟" زید نے خاصی تابع داری سے پوچھا۔
"بول تو ایسے رہے ہو جیسے سارے کام مجھ سے پوچھ کر کرتے ہو۔"
"ایک بات کہوں اب آپ سے دیسی بیوی والی وائبز آ رہی ہیں۔"
"تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا۔" جائی یانہ نے نفی میں سر ہلایا اور زید سے آگے چلنے لگ گئی۔
"جلدی سمجھ گئیں آپ!" زید شوخ مسکراہٹ کے ساتھ کہتا اس کے پیچھے چلنے لگ گیا۔ دونوں راہداری میں چلتے نظروں سے اوجھل ہوگئے تھے۔
*******************
عالیہ اس بند کمرے میں بیٹھے بیٹھے اکتا گئی تھی۔ اسی اکتاہٹ نے اسے چڑچڑا بنا دیا تھا۔ وہ کسی چیز پر توجہ نہیں دے پا رہی تھی۔ اس کا چہرہ مرجھا گیا تھا۔
اسے بعض اوقات اس قدر گھٹن ہوتی تھی کہ دل چاہتا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کہی بہت دور چلی جائے۔ اسی حالت میں ایک دن اس کی نگاہ کونے میں رکھے ٹی وی کی جانب گئی۔ پہلے تو وہ بہت دیر تک غائب دماغی سے اسے تکتی رہی۔ پھر اس نے سوچا کیوں نہ ٹی وی چلا ہی لیا جائے۔ اس طرح اس کا کچھ دماغ بھی بٹ جائے گا ورنہ اگر وہ یونہی بیٹھی سوچتی رہی تو اس کے دماغ کی رگ پھٹ جائے گی۔
ٹی وی آن کرنے کے بعد اس نے ٹی وی کا ریموٹ ڈھونڈنا چاہا مگر وک اسے کہیں نہیں ملا۔ ٹی وی کی روشن اسکرین اور آوازوں کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ کچھ دیر تک ریموٹ کو ڈھونڈتی رہی۔ جب اسے یقین آگیا کہ ریموٹ کمرے میں نہیں ہے تو وہ خاموشی سے ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئی۔ ریمورٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ بس ایک یہی چینل دیکھ سکتی تھی۔ یہ ایک ڈاکیومنٹری چینل تھا اور اس وقت کشمیر کی ایک ڈاکیومنٹری اس کے سامنے چل رہی تھی۔
عالیہ کو جیسے ہی ڈاکیومنٹری کا موضوع پتہ چلا اس کے چہرے پر ناگواری چھا گئی۔ اس کی قسمت کیا اتنی بری تھی کہ ٹی وی میسر ہوتے ہوئے بھی اسے اس موضوع پر ڈاکیومنٹری دیکھنی پڑے جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ بکواس تھا۔
پہلے پہلے وہ ناراض چہرے کے ساتھ ٹی وی دیکھتی رہی لیکن پھر اس کی توجہ بڑھتی چلہی گئی
اس وقت ڈاکیومنٹری میں بتایا جا رہا تھا کہ کس طرح تقسیم برصغیر کے موقع پر انگریزوں اور ہندوؤں نے عیاری سے کشمیر اور بہت سے علاقے جن میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، بھارت میں رہنے دیے۔ بنانے والے نے بڑے اچھے سے ڈاکیومنٹری بنائی تھی۔
بھارتی حکومت نے ان کشمیریوں کا جینا دوبھر کیا ہوا تھا۔ ایک منظر ایسا بھی آیا جس میں ان مظالم کے خلاف احتجاج کرتے لوگوں پر بھارتی فوج ٹوٹ پڑی۔ تشدد جو بس فلموں ڈراموں میں اس نے دیکھا تھا، وہ اس ڈاکیومنٹری میں بھرا پڑا تھا۔
ایک منظر میں ایک ماں اپنے جوان بیٹے کی لاش لیے اس سے باتیں کر رہی تھی۔ کسی منظر میں ایک بیوی اپنے شوہر کے مرنے پر ماتم کر رہی تھی۔ بچے اپنے ماں باپ سے بچھڑ کر تنہا رہ رہے تھے۔ ان کی سسکیاں، آہ و بکا پتھر کو بھی پگھلا سکتی تھی۔ عالیہ کے پاس تو پھر ایک دل تھا۔ اس کی آنکھوں میں پانی بھر گیا۔ ان بچوں کو اپنے خاندان کے لیے تڑپتا دیکھ کر اسے اپنا خاندان یاد آیا۔ وہ ماضی میں کھو گئی۔
اس نے اپنے آپ کو اشفاق کے گھر کے لاؤنج میں بیٹھا پایا۔ اس کا سارا خاندان آرام سے ایک ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ایسا بہت ہی کم ہوتا تھا۔ عالیہ اکتائی ہوئی بیٹھی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں جا کر اپنی ویب سیریز مکمل کرنا چاہتی تھی۔ اسے عزاہ کا چہرہ دیکھ کر غصہ آ رہا تھا۔ وہ جلد از جلد اس ماحول میں نکل جانا چاہتی تھی، اور اس کی قسمت دیکھو اس نے اپنے آپ کو ان سب سے نکال بھی لیا تھا۔
ٹی وی کی اسکرین پر ابھی بھی روتے ہوئے بچوں کو دکھایا جا رہا تھا۔ وہ روتے ہوئے مدد مانگ رہے تھے۔ عالیہ کا دل کہہ رہا تھا انہیں مدد ملنی چاہیے۔ وہ لوگ اس قابل تھے کہ ان کی مدد کی جائے۔ وہ لوگ ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے تھے۔ وہ لوگ ہماری طرح ضمیر بیچ کر اپنے بھائیوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ رہے تھے بلکہ وہ بھارتی فوج کے خلاف ڈٹ کر کھڑے تھے۔ ڈاکیومنٹری اب ختم ہوگئی تھی مگر عالیہ کے دلوں دماغ پر اپنے گہرے نقش چھوڑ گئی تھی۔ وہ اس وقت خود قید میں تھی اس لیے اپنے گھروں میں قید مسلمان بہن بھائیوں کا درد سمجھ پا رہی تھی۔ اگر یہ کوئی عام دن ہوتا اور عالیہ یونہی اسے دیکھ رہی ہوتی تو یقیناً یہ ڈاکیومنٹری اس کے دل پر اتنا گہرا اثر نہیں چھوڑ سکتی تھی۔
جب تک انسان کے اپنے اوپر ظلم نہیں ہوتا اسے ہر مظلوم کا درد بس دکھاوا لگتا ہے۔ قید ہونے کی اذیت، بھلا دیے جانے کا روگ، ظلم و ستم پر صبر کرنا اور اس سب کے بعد بھی دنیا میں بدنام ہونا کیا ہوتا ہے، وہ ان مسلمانوں سے اچھے سے سیکھا جا سکتا ہے۔
آج کے دن ایک غلط فہمی کا پردہ عالیہ کی آنکھوں پر سے اٹھ چکا تھا۔
*********************
شام کے وقت تھا۔ نمرہ لان میں کرسی پر بیٹھی آریان سے بات کر رہی تھی۔ زینب اس وقت گھر پر نہیں تھیں، اس لیے وہ یہاں بیٹھی آرام سے بات کر رہی تھی۔ اس کے کانوں میں ہینڈ فری لگی تھی۔
"میں نے کہا نا تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔ اسے مارنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ابھی اسے مار دیا تو امی جان کو بالکل بھی مزا نہیں آئے گا۔ وہ انہیں اذیت میں مبتلا دیکھنا چاہتی ہیں!"
"یار وہ ہر وقت دروازہ کھٹکھٹاتی رہتی ہے اور " مجھے نکالو!" کا کلمہ پڑھتی رہتی ہے۔" آریان بری طرح اکتا گیا تھا۔
"وہ بس شور ہی مچاتی ہے ناں، تو مچانے دو۔ آخر کب تک مچاتی رہے گی۔ کبھی نہ کبھی تو تھکے گی۔ ہم اسے بعد میں ماریں گے۔ جب اس کا باپ بستر پر پڑا اپنی بیٹی کی لاش دیکھے گا تو یہ منظر کتنا دلکش ہوگا۔ اگر اسے یونہی مار دیا تو مزا نہیں آئے گا۔"
وہ ابھی اور بات کرتی اسی وقت ایک مردانہ ہاتھ نے نمرہ کے کانوں میں لگی ہینڈ فری کو نکالا۔
"کس کی موت کی بات کر رہی ہو تم؟"
شایان کب اس کے سر پر کب کھڑا ہوا نمرہ کو پتہ ہی نہیں چلا۔ وہ تو اس کی آواز سن کر اچھل پڑی۔
"بھائی آپ کب آئے؟" اس نے کانپتے ہاتھوں سے انتہائی عجلت میں کال کاٹ دی۔ شایان نیلی شرٹ پر کالی پنٹ پہنے اور کوٹ کو بازو پر لٹکائے، اسے سوالیہ نظروں سے گھور رہا تھا۔
"میں نے جو پوچھا ہے، اس کا جواب دو۔ بتاؤ کس کی موت کے بارے میں بات کر رہی تھی؟" شایان سخت لہجے میں پوچھ رہا تھا۔ نمرہ کو لگا اس کے جسم سے خون نچڑ رہا تھا۔ اگر شایان بھائی کو سب سچ پتا چل گیا تو؟
"نمرہ تم نے یونیورسٹی کے اسٹیج ڈرامے کی تیاری کر لی ہے؟"
اسی وقت عزاہ پتہ نہیں کہاں سے نمودار ہوئی اور نمرہ کے پاس آکر کھڑی ہوگئی۔ اس کے چہرے کی نیل اور ہونٹ کے زخم کی تازگی اب ختم ہو رہی تھی۔ اس نے چونک کر شایان کو دیکھا۔
"آپ کب آئے؟" عزاہ کے پوچھنے پر شایان نے ناگواری سے کہا۔
"تم سے مسئلہ؟ اپنے کام سے کام رکھو اور تم ابھی کس اسٹیج ڈرامے کے بارے میں بات کر رہی تھی؟" اب شایان عزاہ سے پوچھنے لگا۔
"وہ ہماری یونیورسٹی میں ایک پارٹی ہے۔ اس میں اسٹیج ڈارمے کے لیے ان اسٹوڈنٹس کو بلایا ہے جو اپنی ڈگری مکمل کرکے چلے گئے ہیں۔ مجھے اور نمرہ کو بھی اسی لیے بلایا ہے۔ نمرہ ابھی اپنی لائینز ہی ڈرامے کے رائٹر سے ڈسکس کر رہی تھی، ہے نا؟"
عزاہ نے نمرہ کی جانب دیکھا۔ اس کی سنہری آنکھیں سیاہ آنکھوں کو کچھ بآور کروا رہی تھیں۔ نمرہ نے بے ساختہ گردن ہلا دی۔
"جی بھائی! یہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔ ہم دونوں اسی ڈرامے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔"
"ہمم! نمرہ اگر ماما تمہیں اجازت دیں، تو تم چلی جانا مگر عزاہ تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے کہیں جانے کی۔ چپ چاپ گھر میں بیٹھو۔" شایان نے اسی وقت اپنا فیصلہ صادر کردیا۔
"شایان لیکن۔۔!"
"بس میں نے جو کہہ دیا، وہ کہہ دیا۔ اب میں اس سے آگے کچھ نہیں سنوں گا۔" یہ کہہ کر شایان اندر چلا گیا۔
عزاہ نے جتاتی نظروں سے نمرہ کو دیکھا اور اندر چلی گئی۔ نمرہ حیران و پریشان کھڑی رہ گئی۔ کونسا اسٹیج ڈرامہ؟ کونسا رائیٹر؟
*******************
ملاقات سے پانچ دن پہلے
اشفاق کے گھر میں موت سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ وہ گھر جس میں قہقہوں کی آوازیں نہیں تھمتی تھیں، اب وہاں ہر بس ایک طویل خاموشی تھی۔
پورے گھر میں آدم زاد دکھائی نہیں دیتا تھا سوائے راہداری میں ٹہلتی ایک عورت کے!
راہداریوں میں بھٹکتی ہوئی وہ عورت جانے کس چیز کی متلاشی تھی۔ جو کان "اماں! اماں!" کی آوازیں سننے کے عادی تھے اب ان کانوں کو بس گھڑیال کی ٹک ٹک ہی سنائی دیتی تھیں۔ گھڑی کی آواز انتظار کی آواز معلوم ہوتی تھی۔ ایک نا ختم ہونے والے انتظار کی!
اس عورت کو دیکھو تو اب اس پر بڑھاپے کے اثرات نمایاں ہوگئے تھے۔ چہرہ نحیف ہوگیا تھا۔ فربہہ جسم پہلے کے مقابلے میں کافی کمزور دکھائی دیتا تھا۔
اشفاق آفس گئے ہوئے تھے اور ویسے بھی وہ گھر میں بہت کم رکا کرتے تھے۔ وہ بس رات گزارنے کے لیے گھر آتے تھے ورنہ اپنا سارا دن وہ باہر گزارتے تھے۔
ااشفاق صاحب نے اپنی زندگی کام کی الجھنوں میں مصروف کر لی تھی مگر نوال۔۔۔۔ان کی زندگی تو رک سی گئی تھی۔ کیا تھا ان کے پاس جس کے ذریعے وہ اپنی زندگی مصروف کر سکتی تھیں؟ کھانا بنا لیتیں مگر صرف دو لوگوں کے لیے وہ کتنا کھانا بنا سکتی تھیں؟ صفائی کرلیتیں مگر اس محل جیسے گھر کو وہ کس کے لیے اتنا صاف کرتیں؟ آخر بس ان کے علاوہ اس گھر میں رہتا ہی کون تھا؟ کوئی اور کام کر لیتیں، لیکن نہیں! کچھ کرنے کا دل نہیں چاہتا تھا؟
چلتے چلتے ان کا گزر لانڈری روم سے ہوا۔ وہاں ٹوکری میں کپڑوں کا ڈھیر پڑا دیکھ کر، دل انہیں ماضی کی ایک خوشگوار مگر تلخ یاد میں لے گیا۔
( پرانے محلے کے گھر کی چھت پر نوال سکھے ہوئے کپڑے، رسی پر سے اتار کر ٹوکری میں ڈال رہی تھی۔ اسی وقت اس کی نگاہ چھت کی دیوار کو پھلانگتے ایک نوجوان پر پڑی۔ وہ ایک پل کے لیے چونکی مگر دوسرے ہی پل اس نے آنکھیں سکیڑ لی۔ وہ ایک جھلک میں پہچان گئی۔ یہ وہی شخص تھا جسے اشفاق نے زینب کے ساتھ پکڑا تھا۔
اس لڑکے نے جیسے ہی اس کی طرف ہاتھ لہرایا نوال نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا اور سیڑھیوں کی طرف بھاگی۔
"رکو! بس یہ بتاتی جاؤ تمہاری کزن کہاں ہے؟ وہ اب باہر کیوں نہیں نکلتی ہے؟" اس لڑکے نے پوچھا۔
نوال رک گئی مگر اس نے مڑ کر دیکھا نہیں تھا۔
"اس کی شادی ہوگئی ہے۔ تمہیں نہیں پتہ کیا؟" آخری بات میں نوال کے لہجے میں طنز شامل تھا۔
"کیا؟" اس کے لہجے میں بے یقینی تھی۔ پھر بے یقینی، طیش میں بدلی۔
"تمہارے کزن نے مجھے تھانے میں بند کروایا ہی اس لیے تھا تاکہ وہ اسے مجھ سے دور کر دے۔" لڑکے نے اپنے ہاتھ کو مٹھی بنا کر دیوار پر زور سے مارا۔
نوال اس کی بات سن کر مڑی اور اس لڑکے کو دیکھا جس کے چہرے پر ملال اور طیش دونوں تھا۔ جانے کیوں اسے جو دیکھ کر نوال کا دل پسیج گیا۔
"تمہیں اشفاق نے جیل میں بند کروایا تھا؟" نوال نے اس بار نرم لہجے میں پوچھا۔
"ہاں یہ اسی کی کارستانی ہے۔ اسی نے اپنے کسی تھانے دار دوست سے مجھے بند کروا دیا تاکہ اپنی بہن کو مجھ سے دور کر دے۔" اب کی بار اس کے لہجے میں نمی گھل گئی تھی۔
وہ مڑ کر جانے لگا۔
"تم جا رہے ہو؟" وہ لڑکے کو اداس جاتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔
"جس کے لیے آیا تھا وہ تو اب یہاں ہے نہیں! تو اب یہاں آنے کا کیا مقصد؟" اس لڑکے کا لہجہ بلا کا دکھی تھا۔
وہ یہ کہہ کر چھت کی دیوار پر چڑھنے لگا۔ جب وہ دیوار کے اوپر چڑھ گیا اور دوسرے گھر کی چھت پر چھلانگ لگانے لگا تبھی نوال بولی۔
"تمہارا نام کیا ہے؟"
لڑکے نے چھلانگ لگا دی اور اپنا نام اونچی آواز میں بولا۔
"روفی!!!")
"روفی!!"
نوال کے منہ سے برسوں بعد یہ نام نکلا تھا۔ اسی نام، اسی شخص اور اسی ماضی کی وجہ سے نوال آج یہاں تھیں۔ اسی نام، اسی شخص اور اسی ماضی کی وجہ سے وہ کبھی بھی اشفاق کی نہیں ہو پائی تھیں اور اسی نام، اسی شخص اور اسی ماضی کی وجہ سے اشفاق انہیں کبھی اپنا نہیں پائیں تھے۔
اب بس دل ماضی میں اٹک گیا تھا۔ وہ ماضی جو زندگی کی دوڑ میں کہیں پیچھے چھوٹ گیا تھا، وہ ایک بار پھر پورے استحقاق سے کھڑا ہوگیا تھا۔ جو محبت اس وقت محبت تھی دنیا والوں نے ان کے لیے وہ گناہ بن گئی۔ اس گناہ کی معافی انہوں نے کس کس سے نہیں مانگی؟ اللّٰہ سے، ماں باپ سے، اشفاق سے، خود اپنے آپ سے مگر کسی نے بھی معاف نہیں کیا۔ شاید اللّٰہ نے معاف کر دیا ہو مگر بندوں نے معاف نہیں کیا تھا۔ بندوں کو کیا الزام دیتیں انہوں نے تو خود اپنے آپ کو معاف نہیں کیا تھا۔
کچھ لمحات روفی اور اپنی پہلی ملاقات کو سوچنے کے بعد نوال راہداریوں میں دوبارہ بے مقصد چلنے لگ گئیں۔
**********************
صبح کو باسی ہوئے بہت وقت گزر گیا تھا۔ ایسے میں زینب کے گھر آؤ، تو عزاہ کمرے میں موجود اپنے اور شایان کے کپڑے سمیٹ رہی تھی۔ اسی وقت اسے اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی لیکن وہ مڑی نہیں اور اپنا کام کرتی رہی۔
"تم نے کل میری مدد کیوں کی؟" انتہائی روکھے اور خشک لہجے میں پوچھا گیا۔
عزاہ نے مڑ کر دیکھا تو توقع کے مطابق سیاہ آنکھوں والی لڑکی عزاہ کو مسلسل گھورے جا رہی تھی۔ اس نے ایک خاموش نظر نمرہ پر ڈال کر چہرہ آگے کر لیا۔
"میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے؟" نمرہ نے غصے میں کہا۔
وہ کل شام سے موقع کی تلاش میں تھی۔ وہ عزاہ سے یہ بات پوچھ لینا چاہتی تھی مگر اسے موقع نہیں مل پا رہا تھا۔ آخر عزاہ کونسی گیم کھیل رہی تھی۔
"میں نے تمہاری مدد اس لیے کی کیونکہ میری مدد تم ہی کرسکتی ہو، ہے ناں؟" عزاہ نے آرام سے کہا۔
"کیا مطلب؟" نمرہ مزید الجھی۔
"شایان چاہتا ہے وہ مجھے میرے ماں باپ کے گھر مستقل چھوڑ دے تاکہ میں اپنے ماں باپ کے لیے سزا کا نمونہ بن جاؤں۔ ضرور تم نے ہی اسے مشورہ دیا ہوگا۔" اب کی بار وہ پوری مڑ کر نمرہ کو دیکھنے لگ گئی۔ نمرہ کے چہرے پر ایک پل میں کئی رنگ بدلے۔
"ہاں یہ مشورہ دیا تو میں نے ہی ہے اور کون یہ مشورہ دے سکتا ہے؟ شایان کا دماغ تو بس اسی پر رہتا ہے کہ وہ کس موقع پر، کس طرح، کس پر اور کیسے غصہ کر سکتا ہے۔ اس نے تمہیں ویسے کب کہا؟ میں نے تو اسے بتانے سے منع کیا تھا۔" نمرہ نے ہڑبڑاتے ہوئے وضاحت کی۔
"میں اس کے ساتھ ایک کمرے میں رہتی ہوں نمرہ اور تم جانتی ہو تمہارا بھائی کیسا ہے؟ ہلکے سے غصے میں وہ تمام باتیں اگل دیتا ہے جو اس کے ذہن میں ہو یا ذہن میں ڈالی گئی ہو۔ آج کل تو اسے ویسے بھی بات بے بات غصہ آ جاتا ہے۔" عزاہ کی بات سن کر نمرہ بولی۔
"تو تم چاہتی ہو اس مدد کے بدلے میں میرا بھائی تمہیں نہ نکالے۔" اب کی بار نمرہ سب سمجھ گئی تھی۔
"بالکل! بدلے لینا اور دینا تو تم کبھی نہیں بھولتی ہو۔ اگر تباہ کرنا ہی ہے تو اپنی نظروں کے سامنے کرو۔ باقی سب کوتم براہ راست تڑپتا نہیں دیکھ سکتی لیکن مجھے کر سکتی ہو۔ کیا اپنا یہ موقع تم خود ضائع کرنا چاہتی ہو؟"
"میں ایسا کوئی موقع ضائع کیسے ہونے دے سکتی ہوں عزاہ؟ میں نے بس اپنے بھائی کو اس لیے کہا تاکہ وہ تمہیں پریشان کر سکے۔ جب تک تمہارا پورا خاندان ختم نہیں ہو جاتا، تمہیں کوئی اس گھر سے نہیں نکالے گا!"
یہ کہہ کر نمرہ کمرے سے نکل گئی۔ کمرے سے نکلتے ہی اس کے چہرے پر اضطراب پھیل گیا۔
"شایان کے دماغ میں عزاہ کو گھر بھیجنے کا آئیڈیا کہاں سے آیا؟" وہ یہی سوچتے ہوئے کمرے سے دور جانے لگی جبکہ کمرے میں موجود سنہری آنکھیں مسکراہٹ کا شکار تھیں۔ ایک تلخ مسکراہٹ کا!
"بیوقوف!" وہ زیر لب بڑبڑائی۔
تھوڑی دیر بعد عزاہ زینب کے کمرے میں ان کے سامنے کھڑی تھی۔
"پھپھو میں امی سے ملنے جانا چاہتی ہوں؟" اس کی پھپھو ٹانگ پر ٹانگ رکھے موبائل پر چلاتے ہوئے بولیں۔
"ٹھیک ہے بیٹا چلی جاؤ۔ اپنی امی کو میرا سلام بھی کہنا۔"
"مگر پھپھو۔۔۔بات یہ ہے شایان مجھے گھر جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔"
"شایان کا تو دماغ خراب ہے فکر نہ کرو میں اسے خود سمجھا دوں گی۔" زینب کی نظریں ابھی بھی موبائل پر سے ہٹی نہیں تھیں۔
"پھپھو کیا ایسا نہیں ہوسکتا آپ شایان کو یہ بتائے ہی نہیں کہ میں امی کے گھر جا رہی ہون۔ آپ جانتی ہے آپ انہیں لاکھ سمجھا لیں مگر وہ مجھے ڈانٹے بغیر نہیں رہیں گے۔"
اس گفتگو میں یہ پہلی بار تھا جب زینب نے موبائل پر سے نظریں ہٹا کر سامنے کھڑی اپنی بہو کو دیکھا تھا۔
"ادھر بیٹھو!" زینب نے موبائل میز پر رکھ دیا اور اسے پاس والے صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔ عزاہ چپ چاپ بیٹھ گئی۔
"تم جانتی ہو نا تم کیا کہہ رہی ہو؟ اگر شایان کے علم میں لائے بغیر کہیں جاؤ گی تو اسے بہت برا لگے گا۔"
"پھپھو میں نے آپ سے تو پوچھ لیا ہے ناں۔ ویسے بھی اتنے دن ہوگئے ہیں میں نے اپنی امی کو نہیں دیکھا۔ میں بس ایک دو گھنٹے میں واپس آجاؤں گی۔ آپ گھر میں نمرہ اور ملازم سب کے سامنے یہی کہنا میں شاپنگ پر گئی ہوں تاکہ یہ راز صرف ہم دونوں کے درمیان رہے۔"
"ہمم!" زینب سوچ میں پڑ گئی تھیں۔
"پلیز پھپھو!" عزاہ صوفے پر سے اٹھ کر فرش پر بیٹھ گئی اور زینب کے گھٹنے پکڑ لیے۔
"عزاہ یہ کیا کر رہی ہو تم؟" زینب نے عزاہ کو اٹھانا چاہا مگر عزاہ نہیں اٹھی۔
"نہیں پھپھو آپ کو ماننا ہی پڑے گا۔" عزاہ نے کسی ضدی بچے کی طرح کہا تھا۔
"ٹھیک ہے!" زینب نے ہار مان لی۔
عزاہ خوشی خوشی اٹھ گئی اور صوفے پر بیٹھی زینب کو اپنے ساتھ لگا لیا۔
"آپ کا بہت شکریہ پھپھو!" یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر چلی گئی۔
************************
ملاقات سے چار دن پہلے
اسلام آباد میں آج اتوار کی تعطیل تھی۔ دوپہر اب شام میں ڈھل رہی تھی۔ دوکانیں اور مارکیٹ بند تھیں مگر ایک مارکیٹ ابھی بھی کھلی تھی۔ یہاں سے متوسط طبقے کے لوگ خریداری کرتے دکھائی دیے رہے تھے۔
یہ اتوار بازار تھا۔ یہاں پر لوگوں کا ایک ہجوم تھا۔ کوئی اپنی فیملی کے ساتھ، تو کوئی اکیلے خریداری کرتا دکھائی دیتا تھا۔ ہر طرف چیزوں کی قیمت لگاتے دوکاندار اور ان سے بحث کرتے خریداروں کی آوازیں گونج رہی تھی۔ بھانت بھانت کی بولیاں پورے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی۔
سینکڑوں لوگوں کے درمیان میں ہمیں ایک گھنگھرالے بالوں والا لڑکا ملتا جو مردانہ جوتوں کے اسٹال کے سامنے کھڑا اپنے سائز کی جوتے پہن رہا تھا۔
"کتنے کا ہے؟" اس نے اپنے پاؤں میں پہنے نفیس سے جوتے کو دیکھا جو سفید رنگ کا تھا اور اس پر فیروزی رنگ کی دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔ وہ اسے فٹ آیا تھا۔
"ہزار روپے!" اسٹال کے مالک نے جب جوتوں کی قیمت بتائی تو زید کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔
"کیا؟ تمہارا دماغ تو درست ہے؟ ان جوتوں کے ہزار روپے۔۔" زید نے بے یقینی سے جوتوں کو دیکھا۔
"بھائی یہ تو ہم پھر سستے میں دے رہے ہیں، نارمل مارکیٹ میں ان جوتوں کی قیمت آسمان سے بات کر رہی ہیں۔"
"لیکن پھر بھی یار یہ بہت زیادہ ہے۔"
"آپ کی مرضی ہے بھائی! قیمت تو کم نہیں ہوسکتی۔ ہم پہلے ہی انہیں سستا بیچ رہے ہیں۔" یہ کہہ کر اسٹال کا مالک دوسرے گاہکوں سے بات کرنے لگ گیا۔
زید تاسف سے انہیں دیکھنے لگ گیا۔ اس نے ہزار روپے سیونگ کے نام پر بچائے ہوئے تھے۔ کیا وہ ان سب کو بس ان جوتوں پر خرچ کر سکتا تھا۔ اس کا دماغ اسے منع کر رہا تھا مگر وہ اسے پسند آئے تھے۔ ویسے بھی اتنی محنت کرنے کے بعد تھوڑی سی فضول خرچی تو کر ہی سکتا تھا۔ تھوڑی دیر اپنے بچت کی طرف راغب کرتے دماغ کو پچھاڑ کر اس نے جوتے خریدنے کے بارے میں سوچ لیا۔
اس سے پہلے وہ اسٹال والے کو یہ پیک کرنے کا کہتا، اسی وقت اس کے سامنے سے آرٹیفیشل اور لوکل جیولری کا ٹھیلا گزرا۔ ٹھیلے پر پڑی ان چیزوں کو دیکھ کر یک دم اسے جائی یانہ کا خیال آیا۔ پہلے اس نے ٹھیلے والے کو دیکھا پھر اسٹال کو۔ اگلے ہی لمحے خود کو کہتے سنا۔
"پانچ سو کی رینج کے جوتے دکھا سکتے ہو!"
***************
زندگی بالکل ساکن ہوگئی تھی۔ ایسا لگتا تھا عالیہ اپنی زندگی یادوں کے سہارے پر گزار رہی تھی۔ ہر اگلے پل اسے کچھ یاد آ جاتا۔ آج بھی ماضی کے جھروکوں میں نگاہیں دوڑا رہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا اور مسز جہانگیر اندر آئیں۔
"کیسی ہو تم؟" مسز جہانگیر نے بہت پیار سےپوچھا۔
عالیہ نے سوال کا جواب نہیں دیا بلکہ مسز جہانگیر کو دیکھتی رہی۔ عالیہ کے بال سلجھائے نہ جانے کی وجہ سے بری طرح الجھ چکے تھے۔ اس نے ابھی تک اپنی کالی فراک ہی پہنی ہوئی تھی جو اتنے دنوں پہننے کی وجہ سے میلی ہوگئی تھی۔ چہرہ بھی دن میں بمشکل ایک دفعہ دھوتی تھی۔
"چچ چچ! تم تو اپنا بالکل بھی دھیان نہیں رکھتی ہو۔ لگتا ہی نہیں ہے تم وہ پہلے والی عالیہ ہو جو اپنی ناک پر مکھی برداشت نہیں کرتی تھی!" مسز جہانگیر طنزیہ انداز میں کہتی، بیڈ پر بیٹھ گئیں۔
"نمرہ آپ کو امی جان کہتی ہے مگر وہ تو پھپھو کی بیٹی ہے۔ پھر آپ کو ماں کہنے کا مقصد؟" عالیہ نے مسز جہانگیر کے طنز کو بالکل نظر انداز کیا۔
"آریان صحیح کہتا ہے تم اپنا دماغ بہت غلط جگہ استعمال کرتی ہو۔ تم پوچھ بھی کس سے رہی ہو، جو تمہیں مر کر بھی نہیں بتائے گی۔" مسز جہانگیر کی بات سن کر عالیہ کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ سج گئی۔
"سمجھ گئی میں!" مسز جہانگیر کے ابرو اوپر کو اٹھیں۔
"کیا؟"
"آپ مجھ سے ڈرتی ہیں۔"
مسز جہانگیر کچھ دیر عالیہ کا چہرہ دیکھتی رہیں۔ پھر قہقہہ لگا کر پاگلوں کی طرح ہسنے لگ گئیں۔
"اف!!" زیادہ ہسنے کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا۔
"تم واقعی میں بہت بیوقوف ہو۔ بھلا میں تم سے کیوں ڈرنے لگ گئی؟ اب کیا ڈرنے کے لیے وہی لڑکی رہ گئی ہے جو ابھی میری قید میں ہے۔"
"آپ مجھ سے ڈرتی ہیں!" اس نے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا۔ وہ مسز جیانگیر کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ مسز جہانگیر نے سنہری آنکھوں میں اپنا عکس بنتا دیکھا۔
"تو میں تم سے کیوں ڈروں گی؟" مسز جہانگیر نے طنزاً پوچھا۔
"اپنے راز کی وجہ سے!"
"کیا مطلب؟" لہجے میں نا سمجھی اتر آئی۔
"انسان اپنے راز اسی سے چھپاتا ہے، جس سے وہ ڈرتا ہے۔ آپ بھی مجھ سے ڈرتی ہے۔ اس لیے تو اپنی قید میں رکھنے کے باجود آپ مجھ پر اپنا ماضی نہیں کھولنا چاہتیں۔ اگر میں بھاگ گئی تو آپ کے راز کھل جائیں گے؟" عالیہ جو کھیل کھیل رہی تھی، مسز جہانگیر منٹوں میں سمجھ گئیں۔ مسز جہانگیر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئیں۔
"میں جانتی ہوں تم مجھے اکسا رہی ہو۔" مسز جہانگیر یہ کہہ کر جانے لگیں۔ عالیہ نے مڑ کر مسز جہانگیر کو جاتا دیکھا۔
"دیکھا میں سچ بول رہی ہوں۔ اس لیے تو آپ ڈر کر بھاگ رہی ہیں۔" اس نے ہمت نہیں ہاری تھی۔ مسز جہانگیر کے کمرے سے باہر جاتے قدم رک گئے۔ "آپ دراصل میرا سامنا نہیں کر سکتیں۔ آپ جانتی ہیں میں بھاگ جاؤں گی اور اگر آپ نے مجھے اپنا راز بتا دیا تو باہر نکل کر میں وہ فاش کر دوں گی۔ آپ مجھ سے خوفزدہ ہیں۔"
"میں کسی سے خوفزدہ نہیں ہوں۔" اب کی بار مسز جہانگیر چڑ گئی تھیں۔ عالیہ کو اپنا پلان کامیاب ہوتا دکھائی دیا۔
"آپ ہیں اور اگر نہیں ہیں ثابت کریں!"
"میں پاگل نہیں ہوں جو تم جیسی بیوقوف لڑکی کو کچھ بتاؤں!"
"جی کیونکہ آپ تو مجھ سے ڈرتی ہے نا۔"
مسز جہانگیر مڑیں اور عالیہ کے سامنے کھڑی ہوگئیں۔
"میں نے کہا نا میں تم سے نہیں ڈرتی ہوں۔" مسز جہانگیر نے چبا چبا کر کہا۔
"میں نے بھی کہا نا ہمت ہے تو ثابت کرکے دکھائیں۔" عالیہ نے اسی لہجے میں کہا۔
"ٹھیک ہے سننا چاہتی ہو نا تو سنو!"
مسز جہانگیر نے اپنا ماضی عالیہ کے سامنے رکھ دیا۔ عالیہ خاموشی سے سب کچھ سنے گئی۔ جو انکشافات مسز جہانگیر نے کیے وہ کمرے کی دیواروں نے ان دونوں کے درمیان میں ہی رہنے دیے۔ ان دونوں کے علاؤہ ابھی کوئی بھی ان رازوں کا امین نہیں تھا۔
************************
جائی یانہ اپنے بیڈ پر کتابیں کھولے بیٹھی تھی۔ چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے اس نے اپنا سارا دن اپنی پڑھائی پر وقف کیا تھا۔ وہ صبح آٹھ بجے سے پڑھائی کر رہی تھی۔ دوپہر کے کھانے کے وقفے کے علاوہ وہ سارا وقت پڑھتی ہی رہی تھی۔ اب وہ بس ایک آخری دفعہ اپنا سبق دہرا رہی تھی۔ اس کے ساتھ والے بیڈ پر لیٹی جے ٹی سونے کے مزے لے رہی تھی۔ اس کے دھیمے دھیمے خراٹے ماحول میں سستی پھیلا رہے تھے مگر جائی یانہ پھر بھی پڑھ رہی تھی۔ شام کے چھے بجے جا کر اس کا کام مکمل ہوا۔ وہ اپنی کتابیں بیگ میں رکھ کر اپنا بیڈ ٹھیک کرنے لگ گئی۔ تبھی اسے زید کی کال آئی۔
"ہیلو!" بیڈ شیٹ ٹھیک کرتے ہوئے اس نے اپنا موبائل کان اور کندھے کے درمیان اٹکایا۔
"ہیلو! آپ باہر آ سکتی ہیں؟" زید نے عجلت سے پوچھا۔
"کوئی ضروری کام ہے؟" جائی یانہ نے پوچھا۔
"نہیں ضروری تو نہیں ہے۔ میں بس آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔"
"اچھا!" بیڈ شیٹ ٹھیک کرنے کے بعد اس نے فون ہاتھ میں لے لیا اور سیدھی کھڑی ہوگئی۔
"میں آتی ہوں مگر تمہیں پندرہ منٹ انتظار کرنا پڑے گا میں اپنا حلیہ درست کرکے کمرے سے باہر نکلوں گی۔"
"کوئی بات نہیں!
یوں تو صدیوں انتظار کر سکتے ہیں ہم
شرط یہ ہے منتظر ہم صرف تمہارے ہو!"
"ہوگیا؟! ایسا ٹھنڈا شعر سن کر تو غالب کی روح بھی تڑپ گئی ہوگی۔ میں اب فون رکھ رہی ہوں۔"
"اچھا!"
تقریباً بیس منٹ بعد جائی یانہ ویٹنگ روم میں داخل ہوئی۔
"جلدی نہیں آگئیں آپ؟ پندرہ منٹ کا کہہ کر کال رکھی تھی ویسے!" وہ کرسی پر سے کھڑا ہوتا جل کر بولا۔
"یوں تو صدیوں انتظار کرنے کی باتیں کر رہے تھے اور اب پانچ منٹ کی دیری پر عورتوں کی طرح طعنے دینے لگ گئے ہو۔" جائی یانہ بھی اپنے نام کی ایک تھی۔
"دیکھ لیں اب آپ خود اپنے جینڈر کو طعنے باز کہہ رہی ہیں۔ میں نے کچھ نہیں کہا۔" زید نے دونوں ہاتھ اٹھاتے کہا۔
"تم۔۔۔!" اس سے پہلے جائی یانہ کوئی کرارا جواب دیتی، زید نے اس کی بات کاٹ دی۔
"اچھا اچھا لڑائی جھگڑا چھوڑیں۔ دیکھیں میں آپ کے لیے کیا لایا ہوں!"
اس کے بعد وہ مڑا اور ایک بھرا ہوا تھیلا جائی یانہ کی طرف بڑھایا۔
"یہ کیا ہے؟" جائی یانہ نے کھولتے ہوئے پوچھا۔
"خود ہی دیکھ لیں!" اس نے آرام سے کہا۔
جائی یانہ کرسی پر بیٹھ گئی اور تھیلے سے سامان باہر نکالنے لگ گئی۔ اس نے دیکھا تھیلے میں پونیاں، کیچڑ، کلپ، پنز، ہئیر بینڈ الغرض بالوں کی آرائش کے لیے طرح طرح کا سامان تھا۔ وہ چیزیں تھیں تو پیاری مگر بچوں کے اوپر زیادہ اچھی لگتی تھی۔ جائی یانہ جتنی عمر کی لڑکیوں کے لیے یہ چیزیں بچکانہ تھی۔
"کیسی لگیں؟" زید نے اشتیاق سے پوچھا۔
جائی یانہ نے پہلے سامان کو دیکھا اور پھر زید کو۔
وہ چیزیں اس کی عمر جتنی لڑکیوں کے لیے حالانکہ نہیں تھی مگر وہ زید کو یہ بات بتا کر اداس نہیں کر سکتی تھی۔
"امم۔۔۔اچھی ہے! یہ بہت کلر فل ہے۔" واقعی میں ساری چیزیں ہی مختلف رنگوں میں رنگی تھی۔
"اچھا مجھے لگا تھا آپ کو اچھی نہیں لگیں گی، اتوار بازار سے جو خریدی تھی۔ آپ تو شاپنگ مال سے خریداری کرتی ہونگی۔ میں جوتے خرید رہا تھا تب مجھے یہ ٹھیلے سے ملیں۔ مجھے یہ بہت پیاری لگ رہی تھیں۔ اس لیے میں نے انہیں خرید لایا۔ مجھے لڑکیوں کے فیشن کے بارے میں پتہ نہیں ہے اس لیے مجھے نہیں پتہ یہ کیسی ہیں!"
"نہیں یہ بہت پیاری ہے۔ بہت کیوٹ!" اس دفعہ جائی یانہ نے دل سے تعریف کی تھی۔ بچوں جیسی ہی سہی مگر تھی تو بہت پیاری!
یہ بات سن کر زید کے لبوں پر مسکراہٹ ڈھل گئی۔ جائی یانہ کو وہ یوں مسکراتا ہوا بہت اچھا لگا تھا۔
"ہم لوگ باہر چلیں؟" زید کے پوچھنے پر جائی یانہ بولی۔
"ایک دن میں اتنی فضول خرچی اچھی بات نہیں ہے!"
"اچھا ناں! اب آپ ایسی باتیں کرکے میرا دل دکھا رہی ہیں!" زید نے نروٹھے انداز میں کہا۔
"اچھا ٹھیک ہے۔ لیکن صرف ساڑھے سات بجے تک!"
"اوکے!" یہ کہہ کر زید اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے جانے لگا۔
"ایک سیکنڈ رکو زید! مجھے یہ سامان تو کمرے میں رکھنے دو۔" جائی یانہ اس کی عجلت دیکھ کر بولی۔
"اچھا ٹھیک ہے!"
جائی یانہ وہ تھیلا لے کر چلی گئی۔
************************
کمرے کی دیواروں اور سنہری آنکھوں نے اس ادھیڑ عمر عورت کا ماضی سنا۔ وہ عورت اب بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھیں جبکہ عالیہ اس کے سامنے کھڑی تھی۔
"اب جان گئی میں کیوں تمہارے گھر والوں کی دشمن ہوں؟" اس عورت نے چہرہ اٹھا کر اپنے سامنے کھڑی لڑکی سے پوچھا۔
"آپ کے ساتھ جو بھی ہوا غلط ہوا مگر ان سب میں ہمارا کوئی قصور نہیں تھا۔" عالیہ نے اپنے گھر والوں کا دفاع کیا۔
"تو تمہارے گھر کے فرد کو کیا ضرورت تھی میرے راستے میں آنے کی؟ اس نے سالوں پہلے میری بچھائی بساط مجھ پر کیوں الٹ دی؟"
مسز جہانگیر زخمی تاثر کے ساتھ عالیہ سے سوال کر رہی تھیں۔ عالیہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس نے تو خواب میں بھی نہیں سوچا تھا مسز جہانگیر سے اس کا اس قسم کا بھی کوئی رشتہ نکل سکتا ہے۔ سب کچھ واضح ہوتے ہوئے بھی پیچیدہ تھا۔
"نہیں ہے نا تمہارے پاس کوئی جواب!" مسز جہانگیر نے اسے یوں سوچ میں ڈوبا دیکھ کر کہا۔ " میں اس پورے قصے میں وکٹم تھی۔"
"مسز جہانگیر! میں آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتی کیونکہ میرے سمجھانے پر بھی آپ نہیں سمجھیں گی۔ آپ کے لیے اپنا آپ وکٹم ہے اور ساری دنیا ولن! آپ اپنی خود ترسی سے باہر نکلیں، تو آپ کو پتہ چلے گا آپ کیا کچھ کر چکی ہیں!"
عالیہ نے تاسف سے کہا۔ مسز جہانگیر نفی میں سر ہلاتے ہوئے کھڑی ہوگئیں۔
"تم سمجھ ہی نہیں سکتی ہو۔ تمہارے خاندان جیسے ظالم لوگوں کو کیا پتہ کسی دوسرے کا درد کیا ہوتا ہے؟!'' یہ کہہ کر مسز جہانگیر کمرے سے باہر چلی گئیں جبکہ عالیہ اپنی جگہ کھڑی رہ گئی۔
************************
غروب ہوتے سورج کا منظر، ہریالی سے بھرے اس پارک میں خاصا دلفریب لگ رہا تھا۔ پارک میں لوگوں کا رش معمول کے مطابق تھا۔ ایسے میں وہ دونوں سبز گھاس پر چل رہے تھے۔ ان دونوں کا رخ ڈوبتے سورج کی جانب تھا۔
گھنگھرالے بالوں والا لڑکا بار بار اپنے ساتھ چلتی سانولی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔ وہ کچھ کہنے کے لیے لب کھولتا مگر دوبارہ بند کرکے آگے کی جانب بڑھ جاتا۔
سانولی رنگت والی لڑکی نے جامنی رنگ کی قمیض پر اسکن رنگ کی شلوار اور ڈوپٹہ پہنا ہوا تھا۔ اس پر اس نے بالوں کو کھلا چھوڑ کر اسکن رنگ کا ہئیر بینڈ پہنا ہوا تھا۔ جب لڑکی نے لڑکے کی حرکت محسوس کی تو پوچھا۔
"تم کچھ کہنا چاہتے ہو؟" اس کی نگاہیں ابھی بھی ڈھلتے سورج پر تھی۔ سورج کی ڈھلتی کرنیں ان دونوں کی بھوری آنکھوں میں چمک ڈال رہی تھی۔
"جی؟! ہاں وہ میں نے کہنا تھا۔" زید نے جھجھکتے ہوئے بولنا شروع کیا۔ " آپ پر یہ بینڈ بہت پیارا لگ رہا ہے۔"
جائی یانہ نے جیسے ہی زید کی تعریف سنی، اس کی طرف دیکھا۔ زید نے چہرہ دوسری جانب کر لیا۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
"تم شرما رہے ہو؟" جائی یانہ نے جھک کر ذید کی طرف دیکھا۔ زید نے کچھ نہیں کہا۔ اس کا لال چہرہ مزید لال ہونے لگا۔ زید کی یہ حرکت دیکھ کر وہ بے اختیار ہنس دی۔
"سیریسلی! تعریف بھی تم نے کی ہے اور شرما بھی تم ہی رہے ہو۔ حالانکہ شرمانا تو مجھے چاہیے۔"
"اچھا بس کریں! آپ تو بات کو کھینچ ہی لیتی ہیں۔" زید کے چہرے سے سرخی آہستہ آہستہ ہٹنے لگ گئی۔ اس کے بعد دونوں خاموشی سے چلتے رہے۔ جب وہ کچھ آگے پہنچ گئے تو جائی یانہ بولی۔
"تمہارا ان ہیئر اکسیسریز کے لیے شکریہ!"
" میں یہ شکریہ اسی وقت قبول کروں گا جب آپ روز انہیں اپنے بالوں پر لگایا کریں گی۔" زید کے کہنے پر جائی یانہ نے اسے دیکھا۔
"ٹھیک ہے!" جائی یانہ کے لہجے سے صاف پتہ چلتا تھا اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
"وعدہ کریں مجھ سے آپ روز انہیں اپنے بالوں پر لگائیں گی۔" زید نے اپنا ہاتھ جائی یانہ کی طرف بڑھایا۔
جائی یانہ کو بے اختیار ہنسی آگئی۔
"ٹھیک ہے وعدہ!" جائی یانہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
دونوں نے ایک ساتھ بندھے ہوئے ہاتھوں کو ہلایا۔ اس کے بعد جائی یانہ نے نرمی سے اپنا ہاتھ زید کے ہاتھ سے ہٹایا۔
وہ دونوں دوبارہ چلنے لگ گئے۔ جب سورج مکمل غروب ہوگیا اور اندھیرا چھانے لگا تو دونوں پارک سے باہر نکل گئے۔
پارک کے گیٹ کے بالکل ساتھ ایک شخص آئسکریم کی سائیکل لیے کھڑا تھا۔ زید نے جائی یانہ کو ایک منٹ کے لیے وہی رکنے کو کہا اور آئسکریم والے کے پاس چلا گیا۔ جائی یانہ ناگواری سے زید کو دیکھتی رہی۔ کچھ دیر بعد زید دونوں ہاتھوں میں آئسکریم پکڑے اسی کی جانب بڑھا۔
"زید تم پاگل ہوگئے ہو۔" جب زید نے اسے آئسکریم پکڑائی تو جائی یانہ نے ڈانٹا۔ "مجھے لگ رہا ہے اگلے کچھ دن تم نے فاقے کرنے ہیں۔"
"ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میرے پاس ہزار روپے پڑے تھے جو میری بچت کے تھے۔ پانچ سو روپے کے میں نے اپنے جوتے خریدے، تین سو پچاس کی آپ کی جیولری اور باقی کے ڈیڑھ سو کی یہ آئسکریم! اس میں میرے روزانہ خرچ کے کوئی پیسے نہیں لگے۔"
زید کی وضاحت پر جائی یانہ کا دل چاہا کچھ بولے مگر پھر خاموش ہوگئی۔
ان دونوں نے آئسکریم کھائی اور پھر بائیک پر بیٹھ کر جائی یانہ کے ہاسٹل کے جانب بڑھ گئے۔ کچھ لمحات بعد زید ہاسٹل کے گیٹ کے باہر بائیک پر بیٹھا تھا جبکہ جائی یانہ بائیک پر سے اتر رہی تھی۔
"گڈ بائے!" زید نے کہا۔
"بائے بائے!" جائی یانہ نے جواب دیا اور جانے لگی۔ اسی پل اسے زید کی آواز سنائی دی۔
"ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا۔ زید رحیم کے لیے جائی یانہ اشفاق بہت خاص ہے۔ زید رحیم کے بس میں ہو تو وہ لاکھوں کروڑوں روپے جائی یانہ اشفاق پر لٹا سکتا ہے۔ وہ جیولری تو بس میری محبت کا چھوٹا سا نذرانہ تھی اگر دنیا جہاں کے خزانے میرے پاس ہو تو انہیں بھی میں آپ پر وار دوں۔"
جائی یانہ نے مڑ کر زید کو دیکھا۔ زید یونہی مسکرا رہا تھا۔ اس نے جائی یانہ کو دیکھتے ہوئے بائیک اسٹارٹ کی۔ پھر چلا گیا۔
جائی یانہ زید کو دور جاتا دیکھتی رہی۔ کیا زید ابھی کچھ دیر پہلے اظہارِ محبت کرکے گیا تھا؟
*****************
رات کے بارہ بجنے والے تھے مگر جائی یانہ کروٹیں بدلتے بدلتے نہیں تھک رہی تھی۔ اس کے ساتھ والا بیڈ ابھی خالی تھا۔ جے ٹی اس وقت کسی پارٹی میں گئی تھی۔ وہ سب کی نگاہوں سے بچ کر نکل جایا کرتی تھی۔ جائی یانہ اکثر سوچتی وہ ایسا کیسے کرتی تھی۔
مگر اس وقت اسے جے ٹی کی کوئی پروا نہیں تھی۔ ابھی تو اسے زید کی باتوں نے بے چین کیا ہوا تھا۔ اس کی یہ غلط فہمی کہ زید اس پر ترس کھا کر یہ سب کر رہا تھا وہ تو بہت پہلے ختم ہوگئی تھی مگر آج اس نے کچھ ایسی باتیں کی تھیں جو اسے بہت سی خوش فہمیوں میں ڈال سکتی تھیں۔ وہ اس وقت کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہتی تھی۔
"زید کیسا انسان ہے؟ کیا اس کے ساتھ رہا جا سکتا ہے؟" اس کے دماغ نے یہ سوال اٹھائے۔
جواب جاننے کے لیے اس نے ایک ایک کرکے زید کی خوبیاں گننا شروع کی۔ زید ایک اچھا لڑکا تھا، وہ اس کی عزت کرتا تھا، اس کی ہر ضرورت کا دھیان رکھتا تھا، وہ اسے ہر وقت پروٹیکیٹ کرنا چاہتا تھا، وہ۔۔وہ!
جائی یانہ کے ذہن میں لاکھوں باتیں گردش کرنے لگی۔ اس میں کچھ خامیاں بھی تھیں۔ جیسے وہ چاہتا تھا ہر چیز میں اس کی چلے، اسے غریب ہونے پر تھوڑی بہت احساسِ کمتری تھی، وہ اس پر کبھی کبھار رعب جماتا تھا، اور بھی چند ایک خامیاں تھیں مگر انہیں نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔
اس نے کروٹ بدلی۔ اگر زید واقعی میں اس سے محبت کرتا تھا تو کیا وہ اس سے محبت کرتی تھی؟ اس کا جواب اسے معلوم نہیں تھا۔ اسے زید اچھا لگتا تھا، اسے زید کی فکر بھی ہوتی تھی، زید کے ساتھ اسے وقت کا اندازہ نہیں ہوتا تھا لیکن کیا یہ سب چیزیں ایسی تھی جن سے پتہ چلتا ہو اسے زید سے محبت تھی؟
اس نے ڈراموں فلموں میں جب بھی دیکھا تھا تو ان میں جب لڑکیوں کو محبت ہوتی تھی تو ان کی نیندیں اڑ جایا کرتی تھیں، وہ ہر وقت اپنے محبوب کے نام کی تسبیح پڑھتی تھیں اور اگر ان کا محبوب رات کو دن کہہ دیتا تو وہ اپنے محبوب کو صحیح ثابت کرنے لگ جاتیں۔ یہ سب کچھ اس کے ساتھ تو نہیں ہوا تھا۔ زید کی یادیں اسے بے چین نہیں کرتی تھی بلکہ سکون دیتی تھیں۔
وہ کچھ دیر مزید اس بات کو سوچتی رہی پھر اس نے یہ سوال ملتوی کر دیا۔ وہ دوبارہ زید کے بارے میں سوچنے لگ گئی۔
کچھ دنوں پہلے اسے عیسیٰ جیسا شخص ملنے جا رہا تھا لیکن لمحوں میں اللّٰہ نے اسے زید سے نواز دیا جو اس کی قدر اور عزت دونوں کرتا تھا، جو شاید اس سے محبت کرتا تھا۔
بھلے وہ زید سے محبت کرتی ہو یا نہیں مگر اس نے کچھ دیر بعد سوچ لیا اگر اس کے نصیب میں زید کے ساتھ ہوا تو وہ اس کی محبت اور عزت کی قدر ضرور کرے گی۔
**********************
ملاقات سے تین دن پہلے
عالیہ کا دماغ کل سے سن تھا۔ کیا کیا ہوگیا تھا اس کے خاندان میں جس کی اسے کبھی خبر ہی نہیں ہوئی۔ وہ ہمیشہ سوچتی تھی اس کے بابا زینب پھپھو سے کیوں اتنے اکھڑے رہتے ہیں؟ پہلے تو وہ مزاجاً یہ سب سمجھتی تھی مگر کہانی تو کچھ اور تھی۔ زینب پھپھو شادی سے پہلے ایک لڑکے کے ساتھ چھت پر پکڑی گئی تھی۔ یہ اسے ناممکن سا لگتا تھا اور کہانی یہی پر ختم نہیں ہو رہی تھی۔ مسز جہانگیر کے مطابق زینب پھپھو کا ماضی سیاہ تھا۔
پورے خاندان میں عمر انکل کی موت بھی پر اسرار تھی۔ اس نے پہلے کبھی ان باتوں پر غور نہیں کیا مگر مسز جہانگیر کا سچ جان کر اسے سب سمجھ آ رہا تھا اور یہ بات تو کبھی کسی نے بتائی ہی نہیں کہ عمر انکل نے دو شادیاں کی تھیں۔ شاید زینب پھپھو اور عمر انکل نے یہ بات کسی کو نہ بتائی ہو مگر زینب پھپھو نے یہ بات کیوں چھپائی؟ عورتیں تو جب بھی شوہروں کی بے وفائی کا انکشاف سنتی ہیں، آپے سے باہر ہو جاتی ہیں اور میکے آکر بیٹھ جاتی ہیں مگر زینب پھپھو نے تو کسی کو کانوں کان خبر نہ لگنے دی۔ اس کے بڑوں کے ماضی میں بہت کچھ عجیب تھا۔ بہت کچھ!
عالیہ نے مسز جہانگیر سے راز اسی لیے اگلوایا تھا تاکہ اس کے ذہن میں موجود تمام الجھنیں ختم ہوجائے مگر یہ الجھنیں ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئی تھیں۔
وہ کس الجھن کو ختم کرے، جس الجھن کو ختم کرنے لیے چنتی، وہی دوسری پہیلیاں لیے سامنے کھڑی ہو جاتی تھیں!
عالیہ غائب دماغی سے کچھ دیر پہلے کمرے میں لائے گئے ناشتے کو کھاتے ہوئے یہ سب سوچ رہی تھی۔
******************
آج سورج پورے آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ صبح کے دس بجے یونیورسٹی میں طلبہ کی تعداد معمول کے مطابق تھی۔ ساری کلاسز معمول کے مطابق ہو رہی تھیں۔ ایسے میں یونیورسٹی کے میدان میں آؤ، تو سانولی رنگت والی لڑکی میدان میں آکر گھنگھریالے بالوں والے لڑکے کو ڈھونڈ رہی تھی۔ اس نے آج بھی کل والے کپڑے پہنے ہوئے تھے البتہ اس نے سیدھی مانگ نکال کر جامنی رنگ پنز دونوں طرف لگائی تھیں۔ کچھ دیر ڈھونڈنے کے بعد اس کی تلاش میدان کے ایک کونے میں ختم ہوئی۔ اسے دور سے ہی زید کے گھنگھریالے بال دکھائی دیے۔ وہ میدان کے کونے میں لگے درخت کے سایے میں بیٹھا تھا۔
جائی یانہ اسی سمت میں چلنے لگی۔ کچھ قریب آنے پر اسے زید کے ساتھ ایک لڑکی بیٹھی دکھائی دی۔ جائی یانہ ٹھٹھک کر رکی۔ زید اور وہ لڑکی باتیں کر رہے تھے۔
جائی یانہ کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ پورے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔ وہ پاؤں پٹختے ہوئے وہاں پہنچی۔ وہ دونوں نوٹس پکڑے ایک دوسرے سے بات کرنے میں مگن تھے۔ اس نے زید کے ساتھ بیٹھی لڑکی کو غور سے دیکھا۔ وہ ایک دبلی پتلی، گندمی رنگت اور صاف نقوش والی لڑکی تھی۔ دور سے بھی اس کا میک اپ دکھائی دیتا تھا۔ اس نے اپنے لمبے کالے بالوں کو اچھے سے تراشا ہوا تھا۔ اس کا لباس بھی تراش خراش والا تھا۔ وہ اس دور کی ماڈرن لڑکی کے اصولوں پر پورا اتر رہی تھی۔
جیسے ہی جائی یانہ ان دونوں کے سروں کے اوپر پہنچی، زید نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ جائی یانہ کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
"نور! دیکھو یہ میری بیوی جائی یانہ ہے اور جائی یانہ یہ ہماری کلاس فیلو نور ہے۔" زید نے دونوں کا تعارف کروایا۔
"اسلام علیکم!" لڑکی نے چہرہ اٹھا کر جائی یانہ کو خوشدلی سے سلام کیا۔
"وعلیکم السلام!" جائی یانہ نے قدرے ناگواری سے جواب دیا۔ زید نے چونک کر جائی یانہ کو دیکھا۔ جائی یانہ کے لہجے نے اسے چونکا دیا تھا۔
"کیا کر رہے ہو تم؟" وہ زید کے ساتھ بیٹھ گئی۔
"وہ نور کو مجھ سے کچھ سمجھنا تھا، بس اسے کچھ پوائنٹس سمجھا رہا ہوں۔" زید نے اسے وضاحت دی۔ پھر نور کو سمجھانے میں مصروف ہوگیا۔
جائی یانہ خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظروں میں نور نامی اس مخلوق کے لیے صرف کاٹ تھی۔ دوسری طرف زید نور کو سمجھا رہا تھا۔ سمجھاتے ہوئے وہ لاشعوری طور پر اپنے ہاتھوں کے اشاروں کا استعمال بھی کر رہا تھا جبکہ نور غور سے صرف زید کو دیکھ رہی تھی۔ صاف ظاہر تھا اس لڑکی کا پڑھائی کی طرف کوئی دھیان نہیں تھا۔ وہ بس زید کو ہی دیکھے جا رہی تھی۔ جائی یانہ گھور کر اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔ اسے شرم نہیں آ رہی تھی کسی شادی شدہ مرد کو اس کی بیوی کے سامنے ایسے دیکھتے ہوئے۔ اگر زید یہاں نہ ہوتا تو جائی یانہ اس لڑکی سے نپٹ بھی لیتی۔ اسے یہ لڑکی پہلی ہی ملاقات میں بری لگنے لگ گئی تھی۔
کچھ لمحات بعد جیسے ہی کلاس کا وقت ہوا جائی یانہ کھڑی ہوگئی اور زید سے بولی۔
"کلاس کا وقت ہوگیا ہے۔ چلنا نہیں ہے تم نے؟" جائی یانہ کے کہنے پر زید نے بھی موبائل پر وقت دیکھا اور اپنی کتابیں سمیٹتا کھڑا ہوگیا۔
"زید تم مجھے کچھ اور نوٹس بھی کلاس کے بعد دکھا دینا۔"
اس سے پہلے زید کچھ بول پاتا، جائی یانہ فوراً سے زید سے بولی۔
"زید تمہیں یاد ہے نا کلاس کے بعد ہم دونوں نے کینٹین میں جا کر چائے پینی ہے۔"
"کیا؟؟" زید نے حیرت سے جائی یانہ کو دیکھا۔ جائی یانہ نے گھورتے ہوئے زید کو آنکھوں کے اشاروں سے کچھ سمجھانا چاہا، وہ سمجھے بغیر بھی بولنے لگا۔ "اوہ ہاں ہاں! میں بھول گیا تھا۔"
"یعنی تم بعد میں فارغ نہیں ہوگے۔" نور نے تاسف سے کہا۔
"ہاں میں تم سے معذرت کرتی ہوں مگر میرا شوہر تمہیں پڑھانے کے لیے کلاس کے بعد فارغ نہیں ہوگا۔"
زید نے جائی یانہ کو غور سے دیکھا۔
وہ تینوں یونہی باتیں کرتے ہوئے کلاس میں پہنچ گئے تھے۔ زید ایک بنچ پر بیٹھ گیا۔ جائی یانہ بھی اس کے ساتھ بیٹھنے لگی تو نور دوبارہ بولی۔
"سنیں آپ کیا پلیز کسی اور بینچ پر بیٹھ سکتی ہیں؟ میں سوچ رہی ہوں کلاس کے بعد تو زید مصروف ہوگا، اس لیے کلاس کے دوران ہی ان سے کچھ ضروری پوائنٹس سمجھ لوں!"
جائی یانہ کے ابرو اوپر کو اٹھے۔
"معذرت مگر یہ میری جگہ ہے۔ میں اپنی جگہ کسی کے لیے نہیں چھوڑتی ہوں۔" جائی یانہ نے ایک ادا سے کہا۔
زید منہ پھاڑے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ جائی یانہ کو آخر ہو کیا گیا تھا۔ زید نے گردن موڑ کر اپنے پیچھے بیٹھی نائلہ کی طرف دیکھا جو اسی کو منہ کھولے دیکھ رہی تھی۔ زید نے آنکھوں کے اشارے سے نائلہ سے مدد مانگی۔
"سنیں آپ میرے ساتھ بیٹھ جائیں۔ میں آپ کو سمجھا دوں گی جو آپ نے سمجھنا ہے۔" نائلہ نے نور سے کہا۔
"لو مسئلہ ہی حل ہوگیا۔ تمہارا شکریہ نائلہ!" نائلہ کی بات سنتے ہی جائی یانہ دھرام سے بینچ پر بیٹھ گئی۔ نور ابھی بھی اپنی جگہ کھڑی تھی اور جائی یانہ کو غصے سے گھور رہی تھی۔
"آپ کی مدد کا شکریہ مگر میں زید سے ہی سمجھوں گی۔" نور نے چبا چبا کر جائی یانہ کو بآور کروایا۔
"میرے خیال سے انسان کو اپنا موضوع سمجھنے سے غرض ہونی چاہیے، سمجھانے والے سے نہیں!"
لڑکی اب کی بار غصے میں کوئی جواب دینے ہی لگی تھی جب پروفیسر کلاس میں داخل ہوگئے۔ نور نے کاٹ دار نظروں سے جائی یانہ کو دیکھا، پھر پیچھے کسی بینچ پر بیٹھنے کے لیے چلی گئی۔
زید ابھی بھی حیرت سے جائی یانہ کو دیکھ رہا تھا جو زید کی طرف کوئی توجہ کیے بغیر پروفیسر کی باتیں غور سے سن رہی تھی یا غور سے سننے کی کوشش کر رہی تھی۔
****************
"کیا؟ امی جان کی طبیعت خراب ہے؟"
زینب کے گھر آکر نمرہ کے کمرے میں داخل ہو، تو وہ کال پر بات کرتے ہوئے خاصی مضطرب دکھائی دے رہی تھی۔
"انہیں کیا ہوا ہے؟"
"پتہ نہیں کل تک تو ٹھیک تھیں مگر جب سے عالیہ کے کمرے سے نکلی ہیں، عجیب سی کیفیت میں ہے۔ مجھے اور ملازموں کو کمرے میں آنے سے بھی منع کر دیا ہے۔" دوسری طرف سے مردانہ آواز گونجی۔
"اوہ نہیں! تم کہو تو میں ان سے ملنے آؤں؟" نمرہ نے فکر مندی سے پوچھا۔
"نہیں تمہیں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم جس علاقے میں رہتے ہیں وہ خاصا پسماندہ ہے۔ اگر تم یہاں آؤ گی اور کسی جاننے والے نے تمہیں دیکھ لیا تو تمہارے لیے مسئلہ ہو جائے گا۔" آریان کی بات میں وزن تھا۔
"تم لوگوں نے اس کچی اور غربت زدہ بستی میں مکان ہی کیوں لیا ہوا ہے۔ کسی ایلیٹ کلاس علاقے میں شفٹ ہو جاؤ، تاکہ اگر پکڑی جاؤں تو میرے پاس بہانے بھی ہوں۔۔"
"میرا بھی یہی خیال ہے مگر امی جان کو تو تم جانتی ہو۔ وہ کہاں مانتی ہیں؟"
"تم صحیح کہہ رہے ہو۔ پتہ نہیں امی جان اس جگہ میں کیوں چھپی بیٹھی ہیں؟ مانا وہ گھر ان کے مرحوم شوہر نے ان کے لیے بنایا تھا مگر یہ بھی تو دیکھیں وہاں کتنی گندگی ہے۔ ان جھونپڑیوں اور جھگیوں میں رہنے والے لوگوں خاص طور پر ان کے بچے، جو تقریباً بے لباس ہوتے ہے، کو دیکھ کر میرا تو دل خراب ہوتا ہے۔ جہاں گند کا ڈھیر دیکھا، وہاں یہ بچے بیٹھ کر کھانا کھانے بیٹھ جاتے ہیں۔"
نمرہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
"اب ایسی بھی بات نہیں ہے۔ تم اچھے علاقے میں پلی بڑھی ہو اس لیے تمہیں ایسا لگتا ہے۔ میرا سارا بچپن اسی گھر میں گزرا ہے اس لیے مجھے اس ماحول سے اتنی کراہیت نہیں ہوتی۔"
"خیر جو بھی ہے، تم امی جان کا خیال رکھنا اور عالیہ کا بھی! امی جان تو ابھی بیمار ہیں، اب تمہیں اس پر ڈبل نگرانی رکھنی ہوگی۔" نمرہ نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔
"تم بھول رہی ہو امی جان بھلے بیمار ہوں مگر ان کی نظر گھر کے کونے کونے پر ہوتی ہے۔" آریان نے اسے جتایا۔
"ہمم! میں جانتی ہوں امی جان کے ہوتے ہوئے وہ اس کمرے سے قدم بھی نہیں نکال سکتی ہے مگر پھر بھی، تم خیال رکھنا!"
کچھ دیر اور بات کرکے نمرہ نے کال رکھ دی۔ نمرہ کے کال رکھتے ہی عزاہ اندر آئی۔
"کیا ہے اب تمہیں؟" نمرہ نے اکتاہٹ سے پوچھا۔
"وہ شایان کو جس ڈرامے کے بارے میں بتایا تھا، وہ اسی کا پوچھ رہے تھے۔"
"کیا پوچھ رہا تھا اب میرا بھائی؟" نمرہ کے لہجے میں بیزاری ہی بیزاری تھی۔ وہ اب بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔
"وہ پوچھ رہے تھے تم جاؤ گی یا نہیں؟"
نمرہ نے اپنی آنکھیں ناگواری سے گھمائیں۔
"ایک تو میرا بھائی! شوق ہے اسے میرے معاملات میں دخل دینے کا۔ اسے کہہ دینا میں نے بھی منع کر دیا ہے کیونکہ تم نہیں جا رہی ہو۔"
عزاہ نے سر ہلایا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ جاتے جاتے اس کی آنکھوں میں تاثر ابھرا، جو ابھی سمجھا نہیں جا سکتا تھا۔
********************
جائی یانہ کینٹین میں بیٹھی خاموشی سے چائے کے گھونٹ بھر رہی تھی جبکہ زید ابھی بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ جائی یانہ کچھ دیر تک برداشت کرتی رہی، پھر اس نے تنگ آکر پوچھ ہی لیا۔
"تم مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟"
جائی یانہ کے پوچھنے پر زید بولا۔
"دیکھ رہا ہوں کیا یہ کچھ دیر پہلے والی جائی یانہ ہے!"
"کیوں کچھ دیر پہلے میرے سر پر سینگ نکلے ہوئے تھے؟"
جائی یانہ جانتی تھی زید کا اشارہ کس طرف تھا مگر اب وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ نور سے اتنی بدتمیزی کرنے کے بعد اب اسے پچھتاوا ہو رہا تھا۔
"سینگ کا تو پتہ نہیں مگر آپ کسی اور روپ میں تھیں۔ میں نے پہلی دفعہ آپ کو ایسے دیکھا ہے۔" زید نے تبصرہ کیا۔ جائی یانہ نے زید کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے چائے پیتی رہی۔
"کیا آپ پہلے بھی نور سے کہیں مل چکی ہیں؟" زید نے کچھ دیر بعد اس سے سوال کیا۔
"نہیں تو! میں تو اس سے پہلی بار ملی ہوں اور یاد کرو تم ہی نے ہم دونوں کا تعارف کروایا تھا۔"
"اچھا!" زید سر کھجانے لگ گیا۔ "تو پھر آپ اس سے اتنا ااکھڑی ہوئی کیوں تھیں؟" جائی یانہ کو ایک دم سے آگ لگی۔ نور سے بدتمیزی کرنے کا پچھتاوا یک دم دب گیا۔
"اگر میں نے تمہاری سہیلی کو کچھ کہہ دیا، تو تمہیں برا لگ گیا؟"
"نہیں نہیں!" زید جائی یانہ کو بھڑکتا دیکھ کر وہ اسے ٹھنڈا کروانے لگ گیا۔ "مجھے کیا آپ کسی لڑکی سے بدتمیزی کریں یا اس کے بال نوچ لیں۔ ویسے وہ میری سہیلی نہیں، بلکہ عام سی کلاس فیلو ہے۔"
"گڈ تم دونوں کے درمیان یہی تعلق رہنا چاہیے۔"
جائی یانہ اس کے بعد سکون سے چائے کے گھونٹ پینے لگ گئی جبکہ زید جائی یانہ کے رویے کا تجزیہ نکالنے بیٹھ گیا، کچھ دیر بعد جو نتیجہ اس کے سامنے آیا وہ بہت چونکا دینے والا تھا۔
"ایک سیکنڈ کہیں آپ نور سے جیلس تو نہیں ہیں!" یہ کہہ کر اس نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری تھی۔
"میں اس چھوئی موئی سے کیوں جیلس ہونے لگی؟" جائی یانہ نے تنک کر کہا۔
"اس لیے کیونکہ وہ مجھ سے بات کر رہی تھی۔" اب کی دفعہ زید نے کلہاڑی پر دوسرا پاؤں مارا تھا۔ جائی یانہ بھڑک گئی۔
"تمہارا مطلب کیا ہے؟ تمہیں لگتا ہے میں اس دو ٹکے کی فیشن کی دوکان سے اس لیے جیلس ہونگی کیونکہ وہ میرے شوہر سے بات کر رہی ہے۔ تمہیں میں پاگل دکھائی دیتی ہوں۔ میں ایسی لڑکیوں کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ ایسی لڑکیاں بس دوسروں کے شوہروں کو پھنسانا جانتی ہیں ۔ جیلس تو اسے مجھ سے ہونا چاہیے کیونکہ میں تمہاری بیوی ہوں۔ تم سے لاکھوں عورتیں بات کریں گی مگر سب جانتے ہیں قانونی اور شرعی طور پر تم میرے ہو۔"
جائی یانہ نے گرم گرم چائے اپنے حلق میں انڈیل دی، پھر سامان اٹھاتے ہوئے اونچی آواز میں بولی۔
"اگر اتنا ہی اس فیشن کے ہینگر سے ملنے کا شوق ہے تو جاؤ اس سے ملو مگر آئیندہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔ ورنہ میں تم پر اور اس لو کلاس کے فیشن پر تیزاب پھینک دوں گی۔"
یہ کہہ کر جائی یانہ پیر پٹختی کینٹین سے چلی گئی۔ کینٹین میں موجود سب اسٹوڈنٹس نے پہلے غصے سے جاتی جائی یانہ کو دیکھا، پھر کرسی پر بیٹھے زید کو۔۔۔۔ اس کے بعد سب لوگ سرگوشیوں میں بات کرنے لگے۔ یونیورسٹی میں کپلز کی لڑائی معمول کی بات تھی مگر نوبیاہتا جوڑے کو یوں لڑتا دیکھنا ان سب کے لیے نیا تھا۔ زید نے گردن نیچے کرلی۔ اس کا چہرہ خفت کے مارے لال ہو رہا تھا۔
***************
ایک بیڈ روم میں اگر داخل ہو، تو اس کی دیواریں تصویروں سے بھری ہوئی تھیں۔ ہر طرف کسی نہ کسی کا چہرہ دکھائی دیتا تھا۔ کمرے کے درمیان میں ایک وسیع بیڈ تھا اور سجاوٹ کے لیے آرائشی سامان بھی موجود تھا۔ ان تصاویر میں سے ایک تصویر میں اشفاق، نوال اور ان کی تینوں بیٹیاں تھیں۔ ان لوگوں کے پیچھے پیچھے غروب آفتاب کا منظر تھا اور ہر طرف ہریالی کا راج تھا۔ صاف پتہ چلتا تھا یہ تصویر کسی پکنک کی تھی۔ اس تصویر میں اشفاق کا خاندان ہنستا مسکراتا دکھائی دیتا تھا۔ مسز جہانگیر اس تصویر کو بے تاثر چہرے سے دیکھ رہی تھیں۔
"ایک وقت تھا اشفاق جب تم نے مجھ سے میری دوست چھینی تھی، اب دیکھو میں نے تم سے تمہاری جان سے پیاری چیز، تمہاری عزت چھینی ہے مگر!"
مسز جہانگیر بولتے ہوئے لمحے بھر کے لیے رکیں۔
"معاملہ یہیں پر نہیں رکا ہے۔ ابھی تو تم اپنی بیٹیوں کی وجہ سے بے عزت ہوئے ہو۔ خود اپنی وجہ سے بدنام ہونا ابھی باقی ہے۔"
ان کی نظریں اشفاق کے چہرے پر ٹھہری ہوئی تھیں۔ دروازے پر کسی نے دستک دے کر مسز جہانگیر کی نظریں اس تصویر سے ہٹائی۔
"آجاؤ!" مسز جہانگیر نے بند دروازے کی طرف مڑ کر کہا۔ باہر کھڑا شخص اجازت ملتے ہی اندر آگیا۔ انہوں نے اپنے سامنے کھڑے اپنے اس بیٹے کو دیکھا جو ان کا خاصا فرمان بردار تھا۔ وہ بالکل اپنے باپ پر گیا تھا دونوں باپ بیٹا مردانہ حسن کی منہ بولتی تصویر تھے۔ مسز جہانگیر چلتی ہوئے کمرے میں رکھے صوفے پر بیٹھ گئیں۔
"امی جان آپ نے بلایا؟" آریان نے پوچھا۔
"ہاں میں نے تمہیں بلایا تھا۔ میں نے پوچھنا تھا جو منصوبہ ہم نے بنایا تھا، اس کی تیاری مکمل ہے؟"
"جی امی جان! کل کا دن اشفاق پر بہت بھاری گزرے گا۔ مجھےتو لگتا ہے اتنی ذلت وہ سہہ ہی نہیں پائے گا۔"
"نہیں نہیں آریان!" مسز جہانگیر کی انگلی نفی میں ہلائی۔ "میں نہیں چاہتی اشفاق اتنی آسانی سے مر جائے۔ اسے بھی تو ذلت محسوس ہونی چاہیے۔ وہ سمجھتا ہے وہ عزتوں کا خدا ہے، میں چاہتی ہوں اس کا غرور ٹوٹ جائے اور ایسا ٹوٹے کہ وہ موت مانگے مگر اسے موت نصیب نہ ہو۔"
اپنی ماں کی بات سن کر آریان نے جھجھکتے ہوئے کہا۔ "ویسے امی جان اشفاق کا اتنا بھی قصور نہیں تھا، جتنا آپ کی اپنی دوست کا تھا۔ آپ۔۔"
"آج جانے کیوں مجھے تمہارے باپ جہانگیرکی بہت یاد آ رہی ہے ۔" مسز جہانگیر نے نرمی سے آریان کی بات کاٹی۔ یہ بات سننے میں موقع محل سے الگ لگتی تھی مگر آریان کے لیے بالکل بھی نہیں تھی۔ پل بھر میں اس کا چہرہ تاریک ہوا تھا۔
"کتنا اچھا، سلجھا ہوا انسان تھا۔ میری زندگی میں آکر اس نے کیا کیا نہیں کیا۔ میرا پیارا شوہر!"
"آہ! لیکن بیچارہ چھوٹی عمر لے کر آیا یا پھر اس کی عمر۔۔۔"
اس سے پہلے مسز جہانگیر کچھ اور کہہ پاتیں آریان عجلت میں بولا۔
"امی جان آپ کا کام ہو جائے گا۔" یہ کہہ کر وہ جلدی سے کمرے سے باہر چلا آیا۔ مسز جہانگیر صوفے کی پشت پر سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ بہت سے راز اس گھر کی دیواروں میں پوشیدہ تھے۔
*******************
ملاقات سے دو دن پہلے
اسلام آباد کے اس علاقے میں ہر طرف بلند اور پروقار عمارتیں کھڑی دکھائی دیتی تھیں۔ اس جگہ ٹریفک کا رش زیادہ رہتا تھا۔ یہاں پر بڑے بڑے کاروباری افراد اپنے دفاتر کھولے بیٹھے تھے۔ ان ہی عمارت میں سے ایک عمارت جس کی سامنے کی دیوار کھڑکیوں سے ڈھکی ہوئی تھی، ہماری کہانی کا حصہ بننے جا رہی تھی۔
اس عمارت میں داخل ہو کر سیدھا اس کمپنی کے باس کے آفس میں جاؤ، تو اس وقت آپ کو راکنگ چئیر پر ایک تھکا ہارا ادھیڑ عمرمرد دکھائی دیتا۔ آفس کا مختصر سا دورہ کرواؤں، تو اس کی دیواریں اور فرش سفید رنگ سے رنگے تھے۔ اس کی ایک جانب شیشے کی دیوار تھی جو عمارت سے باہر کا منظر پیش کرتی تھی۔ اس آفس میں استعمال کیے ہلکے رنگ اور پرتعیش سامان اسے پرکشش بناتا تھا۔ اس آدمی کا کوٹ اس کی کرسی کے پیچھے لٹکا ہوا تھا۔ وہ اپنا سر پکڑے افسوس بیٹھا تھا۔ اس کی ٹائی کی ناٹ بھی ڈھیلی ہوگئی تھی۔ وہ اشفاق صاحب تھے۔ وہ اس وقت حال میں نہیں بلکہ اپنے ماضی میں کھوئے ہوئے تھے
(یہ عزاہ کی شادی سے بھی پہلے کی بات ہے۔ اشفاق اسی راکنگ چئیر پر بیٹھے اپنے ایک کلائنٹ سے فون پر بات کر رہے تھے۔ ان کے چہرے پر غیر آرام دہ تاثر تھا۔
"آپ اس طرح کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ کا آرڈر بالکل تیار ہے۔ اب آپ آرڈر کینسل کر رہے ہیں۔ ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟" اشفاق بار بار اپنا ضبط کھو رہے تھے۔
"پلیز سر میرے باس نے یہی حکم دیا ہے آپ کو بتا دوں ہم اپنا آرڈر کینسل کروا رے ہیں۔ معاہدے سے بھی یہی طے پایا تھا ہمیں مکمل آزادی ہوگی ہم جب چاہیں گے اپنا آرڈر کینسل کروا سکتے ہیں۔" زنانہ مشینی آواز اشفاق کے کانوں سے ٹکرائی اور اگلے ہی لمحے کال کاٹ دی گئی۔
اشفاق سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ یہ بہت بڑا نقصان تھا مگر ناقابلِ تلافی نہیں تھا۔ )
اب ایک اور منظر اشفاق کے سامنے لہرایا۔
(اس دن کے بعد سے آرڈرز لگاتار کینسل ہو رہے تھے۔ مال بنانے میں جتنا سرمایہ خرچ ہو رہا تھا، اس کی وصولی ملنے کا کہیں سے کوئی امکان نہیں تھا۔ کلائنٹس آنے کی بجائے جا رہے تھے۔ اشفاق کو یہی فکر کھائے جا رہی تھی۔ اسی وقت ان کا ایک امپلائی ہاتھ میں فائلز لیے آیا۔ اشفاق نے اپنا سر اٹھایا۔
"سر یہ اکاؤنٹس کی فائلز ہیں جو آپ نے مجھے لانے کو کہی تھیں۔" گلابی رنگ کی شرٹ پر پر کالی پینٹ پہنا وہ شخص مؤدب انداز میں اشفاق کی میز کی دوسری جانب کھڑا تھا۔
"اچھا جاؤ!" اشفاق نے بے چینی سے فائل پکڑی۔
فائلز میں نمبرز اور ان کی ڈیٹیلز دیکھ کر اشفاق سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
"اوہ گاڈ یعنی اب مجھے قرضہ لینا ہی پڑے گا۔" اشفاق کو بینک سے قرضہ لینا بالکل بھی اچھا نہیں لگتا تھا مگر کمپنی کے حالات بتا رہے تھے انہیں ایک بہت بڑے اور اچھے قرضے کی ضرورت تھی۔ ایمپلائز کی سیلری بھی رکی ہوئی تھی۔ اگر تھوڑی سی بھی تاخیر کی تو ان کے ماتحت ان کے منہ کو آجاتے۔ اشفاق نے بے بسی سے فائل کو دیکھا پھر ساتھ پڑے سفید انٹرکام کو اٹھا کر بولیں۔
"فائنینس ڈیپارٹمنٹ کے تمام ممبران کو بلاؤ۔ یہ ایک ارجنٹ میٹینگ ہے۔" خاصے پروفیشنل اور رعب دار لہجے میں اشفاق بولیں۔
اتنا کہہ کر انہوں نے انٹرکام کا رسیور رکھ دیا اور پریشانی سے دوبارہ سر پکڑ لیا۔ اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا)
حال میں واپس آؤ تو اشفاق ابھی بھی پریشان ہی تھے۔ انہوں نے لون لے تو لیا تھا مگر کمپنی ابھی بھی سنبھل نہیں پائی تھی۔ مارکیٹ میں ان کی کمپنی کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے انہیں پتہ چلا تھا کارخانے میں موجود مشینیں خراب ہوگئی ہیں اور مرمت مانگ رہی ہیں۔ اس نئے خرچے کو برداشت کرنا اشفاق کی استطاعت سے باہر تھا۔
جانے کیا ہوگیا تھا کہ جو کمپنی سالوں سے اچھے سے کام کر رہی تھی، اس پر اب زوال آگیا تھا۔ ابھی بھی وہ مشینوں کی مرمت کے لیے کمپنی کے اخراجات اور آمدنی کا جائزہ کر رہے تھے۔
ایک دم سے کوئی بھاگتا ہوا اندر آیا۔
"سر! سر! بینک والے آئے ہیں۔ ساتھ پولیس والوں کو بھی لے کر آئے ہیں۔" اس شخص نے ہانپتے ہوئے کہا۔
پولیس کا نام سن کر اشفاق کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔
"کیا کہہ رہے ہو؟ وہ لوگ کیوں آئے ہی؟ اس مہینے کا منافع ہم نے انہیں ادا کر دیا تھا"
وہ کھڑے ہوگئے اور تیز تیز قدم اٹھاتے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے نچلی منزل جانے لگے۔ ان کے ذہن میں ہر برا خیال گھر بنا رہا تھا۔
نچلی منزل پر انہیں بینک کے چند نمائیندے اور تین چار وردی میں ملبوس پولیس والے دکھائی دیے۔
"آپ پولیس کیوں لے کر آئے ہیں؟ معاہدے کے مطابق ہم نے آپ کو انٹرسٹ پے کر تو دیا تھا ناں!" اشفاق نے ایک اکھڑے خشک مرد سے کہا جس کی ناک خاصی خمدار تھی۔
"ہم معذرت خواہ ہیں لیکن ہمیں آپ کی طرف سے کوئی پیمنٹ نہیں ملی، اشفاق صاحب!" اس آدمی نے مشینی انداز میں کہا۔
"کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ ہماری کمپنی نے خود آپ کو منافع ادا کیا ہے!" اشفاق نے خاصے تندہی لہجے میں کہا۔
اسی وقت فائنینس ڈیپارٹمنٹ کے ایک ملازم نے ان کے کان میں کہا۔
"سر یہ صحیح کہہ رہے ہیں۔ ہم نے واقعی میں انہیں انٹرسٹ نہیں ادا کیا۔"
"کیا مطلب؟ کیوں نہیں ادا کیا؟۔ میں نے تو خود ارشد کو کہا تھا وہ ہر مہینے انٹرسٹ پے کرتا رہے۔" اشفاق نے اسی ملازم کو آڑے ہاتھوں لیا۔ وہ اپنے مینیجر ارشد کو اس بارے میں بہت پہلے ہی آرڈر دے چکے تھے۔
"سر مجھے آپ کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا مگر ارشد صاحب نے منع کیا تھا۔ جو رقم آپ بینک میں جمع کروانے کے لیے انہیں دیتے تھے، وہ رقم وہ اپنے کاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا دیتے اور جعلی رسید بنا کر آپ کو دکھا دیتے حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔"
اشفاق کو آج پہلی بار پتہ چلا تھا پیروں تلے زمین کھینچنا کیسا ہوتا ہے۔ انہیں سچ پتہ چلا بھی تو کب جب بینک کے نمائندے ان کے سامنے کھڑے رقم کا مطالبہ کر رہے تھے۔
"ارشد ہے کہاں؟"
"سر ارشد صاحب تو ابھی کچھ دیر پہلے نکلے ہیں۔" ریسپشن پر کھڑی لڑکی نے انہیں بتایا۔ بینک کے نمائندے بغیر کسی تاثر کے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ یہ سب ان کے لیے معمولات کا ہی حصہ تھا۔ خمدار ناک والا وہ شخص بولا۔
"سر! کیونکہ آپ کی کمپنی کے حالات جب آپ نے ہم سے قرض لیا تھا اس وقت خراب تھے۔ اس لیے ہم نے اپنی پالیسی کے تحت آپ کے قرضے پر سخت شرائط رکھی تھیں۔ آپ نے ہمارے قرضے کا پرافٹ صحیح طرح سے نہیں دیا تو ہم نے آپ کو وارننگ لیٹر بھی بھیجا لیکن شاید آپ نے اسے سنجیدہ نہیں لیا۔ اس لیے اب معاہدے کے مطابق ہم آپ کی کمپنی ضبط کر رہے ہیں۔ اس کے علاؤہ قانونی کارروائی بھی ہوگی۔"
یہ کہنے کے بعد بینک کے لوگوں نے پولیس والوں کی مدد سے کمپنی کو عارضی طور پر بند کرنے لگ گئے۔ اشفاق کو زمین آسمان ہلتا محسوس ہوا۔ آج انہیں پتہ چلا تھا بیچ چوراہے میں ذلیل ہونا کسے کہتے ہیں۔ جو شخص ہمیشہ دوسروں کا تماشا بناتا آیا تھا، آج خود اپنی برسوں سےبنائی کمپنی سے دھکے کھانے جا رہا تھا۔
ایک دم سے اشفاق کے بائیں جانب شدید درد کی لہر گزری۔ اس ایک لہر نے ہی اشفاق کے جسم کی جان نکال دی۔ اشفاق کو اپنا آپ گھٹنوں کے بل نیچے گرتا محسوس ہوا۔انہوں دایاں ہاتھ، بائیں جانب سینے پر زور سے لگا لیا۔ لوگ بھاگتے ہوئے ان کے پاس آ رہے تھے اور ان سے کچھ پوچھ رہے تھے۔ وہ آوازیں اشفاق کو گڈمڈ ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔ اشفاق کی آنکھوں پر اندھیرا چھا رہا تھا۔ سامنے کا منظر دھندلا ہوا مکمل تاریک ہو گیا۔
****************
سورج غروب ہونے کے قریب تھا۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ کچھ بھی نہیں بدلا تھا مگر ٹیوشن سینٹر سے باہر نکلتی جائی یانہ کو آج کا دن معمولی نہیں لگ رہا تھا حالانکہ آج جو کچھ بھی ہوا وہ غیر معمولی نہیں تھا۔ بس آج صبح اٹھتے ساتھ ہی جائی کے سر میں درد ہونے لگا تھا۔ اسی سر درد کی وجہ سے وہ یونیورسٹی نہیں گئی اور ہاسٹل کے بیڈ پر لیٹی آرام کرتی رہی۔
دوپہر کو وہ اپنا دل بہلانے کے لیے ٹیوشن سینٹر میں آگئی اور اب وہ پڑھا کر واپس ہاسٹل جا رہی تھی۔ سارے دن میں کوئی ایسی خاص بات نہیں تھی مگر پھر بھی جائی یانہ کو گھبراہٹ ہو رہی تھی۔ جانے کیوں اندیشے جنم لے رہے تھے۔ جیسے کچھ بہت غلط ہونے والا تھا یا ہوچکا تھا۔
وہ فٹ پاتھ پر چل رہی تھی جب بائیک سوار نے بائیک اس کے پاس روکی۔ وہ سوچوں میں اتنا گم تھی کہ بائیک کو اپنے پاس رکتا دیکھ کر ڈر گئی اور دو قدم پیچھے کو ہوئی۔ اس کی نگاہ جیسے ہی بائیک سوار کے چہرے پر گئی وہ سنبھل گئی۔ زید اس کی طرف دیکھے بغیر سے پریشانی سے بولا۔
"آپ صبح یونیورسٹی کیوں نہیں آئیں؟ میں بہت دیر تک ہاسٹل کے باہر آپ کا انتظار کرتا رہا۔ جب آپ نہیں آئیں تو مجھے لگا آپ کل والی بات پر ناراض ہیں اور خود ہی یونیورسٹی چلی گئی ہیں۔ یونیورسٹی جا کر میں نے آپ کو بہت ڈھونڈا لیکن آپ مجھے وہاں بھی نہیں ملی۔ میں نے اور نائلہ نے آپ کو کال بھی کی لیکن آپ نے ہماری کال کا جواب نہیں دیا۔ آپ نائلہ کے گھر اس کے بھائی کے بچوں کو پڑھانے بھی نہیں گئیں۔ یونیورسٹی کے بعد ہاسٹل گیا تو پتہ چلا آپ کچھ دیر پہلے ٹیوشن سینٹر کے لیے نکل گئی ہیں۔ میں وہاں سے سیدھا ٹیوشن سینٹر پہنچا اور تب سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ ابھی کچھ دیر پہلے آپ جیسے ہی نکلیں میں نے آپ کی طرف ہاتھ لہرایا مگر آپ میری طرف دیکھے بغیر آگے چلتی رہیں۔ کیا کسی لڑکی سے بات کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اب آپ مجھے اس طرح انظر انداز کریں گی۔" زید جائی یانہ کے چہرے کے تاثرات کو جانچے بغیر اپنی رو میں بولے جا رہا تھا۔
"زید!" جائی یانہ نے اسے روکنا چاہا۔
"نہیں آپ مجھے صفائی دینے کا موقع تو دیں۔ قسم سے میں اسے اپنی بہن سمجھا تھا، ابھی بھی سمجھتا ہوں اور آئیندہ بھی سمجھتا رہو گا بلکہ۔۔"
"زید!"
"میرے لیے اس دنیا میں آپ کے سوا تمام لڑکیاں میری بہنیں ہیں۔ آپ کے علاوہ کسی کو سوچنا بھی میرے لیے گناہ ہے۔ میں اب لڑکیوں سے سو فٹ کے فاصلوں پر رہوں گا۔ اگر آپ کہیں تو۔۔۔"
"زید!!" اس دفعہ جائی یانہ نے اونچی آواز میں کہا تو زید کی چلتی زبان رکی۔
"میں تم سے ناراض ہوکر تمہیں اگنور نہیں کر رہی ہوں۔ میں نے واقعی میں تمہیں ٹیوشن سینٹر کے باہر نہیں دیکھا اور صبح بھی میرے سر میں درد تھا اس لیے میں یونیورسٹی اور نائلہ کے گھر نہیں گئی۔ میرے دل میں واقعی میں نور والی کوئی بات نہیں ہے بلکہ میں اپنے کل کے رد عمل پر خاصی شرمندہ ہوں۔"
جائی یانہ نے خاصی شرمندگی سے اعتراف کیا مگر زید نے وہ آخری بات غور سے سنی ہی نہیں تھی۔
"کیا ہوا ہے آپ کو؟ مجھے کیوں نہیں بتایا؟ ایک سیکنڈ مجھے دیکھ لینے دیں۔" زید نے اپنا ہاتھ جائی یانہ کے ماتھے پر رکھا۔ اس کے چہرے پر اب فکر مندی ہی فکر مندی تھی۔
"آپ کو تو بخار ہو رہا ہے۔" اس نے پریشانی سے کہا۔
"اتنا تیز نہیں ہو رہا ہے۔ میں ہاسٹل جاکر دوائی لے لوں گی اور سو جاؤں گی۔ کل تک سب صحیح ہو جائے گا۔" جائی یانہ نے کہا۔
"لیکن!" زید دوبارہ کچھ کہتا جائی یانہ نے اکتاتے ہوئے اس کی بات کاٹ دی۔
"پلیز زید میں پہلے ہی بہت ڈسٹرب ہوں مجھے مزید تنگ نہ کرو۔"
"آخر ہوا کیا ہے؟ آپ کھل کر کچھ بتا کیوں نہیں رہی ہیں؟" زید نے بے چینی سے پوچھا۔
"مجھے خود نہیں پتہ کیا ہوا ہے۔" جائی یانہ یہ کہتے ہوئے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔ زید نے جائی یانہ کو یوں بیٹھا دیکھا تو اپنی بائیک پر اسٹینڈ لگا کر خود بھی جائی یانہ کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔
کچھ لمحات ان کے درمیان خاموشی سے گزرے۔ زید نے اس سے کچھ نہیں پوچھا بس فکرمندی سے جائی یانہ کے چہرے کو تکتا رہا جو خاصا پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ جائی یانہ نے تھوڑی دیر بعد بولنا شروع کیا۔
"مجھے خود نہیں پتہ مجھے کیا ہوا ہے۔ عجیب و غریب وہم و اندیشے دل میں سر اٹھا رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کچھ غلط ہوگیا ہے۔ کچھ ایسا جو نا قابل تلافی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے میرے گھر والے کسی مشکل میں ہیں۔ میں ان سے بات کرنا چاہتی ہوں مگر کیا وہ لوگ مجھ سے رابطہ رکھنا چاہتے ہیں؟ تم بتاؤ زید میں کیا کروں؟" آخری بات پر اس نے اپنی آنکھیں ہاتھوں سے چھپا لیں۔ وہ اپنی آنکھوں کی نمی زید کو نہیں دکھا سکتی تھی۔
"آپ زیادہ سوچ رہی ہیں۔" زید نے اپنی جیب میں ہاتھ مارا اور کچھ ڈھونڈنے لگا۔
"ہاں میں بھی خود کو یہی کہہ کر تسلی دے رہی ہوں مگر اب یہ بھی کام نہیں کر رہا۔ کچھ کام نہیں کر رہا، کچھ کام کر ہی نہیں سکتا ہے۔ میرا دل ہمیشہ مجھے سچ بتاتا ہے۔" اس نے رندھی آواز میں کہا۔
زید کچھ دیر تک جائی یانہ کو منہ چھپائے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے نرمی سے جائی یانہ کی آنکھوں پر سے اس کے ہاتھ ہٹائے اور دوسرا ہاتھ بڑھا کر اسے ٹشو دیا۔
جائی یانہ کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ جائی یانہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ٹشو تھام لیا اور نمی صاف کرنے لگ گئی۔
"آپ نے خود کہا وہ چیز ہونی ہی ہے۔ اگر اس چیز کو ہونا ہے اور آپ اسے روک نہیں سکتی ہیں، تو خود کو اس کے لیے تیار کریں۔ ایسے رو دھو کر پریشان ہو کر کچھ نہیں ہوگا بلکہ آپ خود کو حالات کا سامنا کرنےکے لیے مزید کمزور کرلیں گی۔"
زید اسے سمجھا رہا تھا اور وہ پلک جھپکے بغیر اسے دیکھ رہی تھی۔ ایک فسوں سا ماحول میں طاری ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔
"آپ اب تک حالات سے اچھی طرح نپٹتی آئی ہیں۔ آپ کو اتنی محنت کی عادت نہیں تھی مگر دیکھیں آپ کس طرح اپنے لیے یہ سب کر رہی ہیں۔ آپ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا چاہتیں، میرے سامنے بھی نہیں۔۔۔۔ آپ کی خود داری، عزت نفس، مضبوط کردار، بہادری یہ سب آپ کی خوبیاں ہے۔ یہ آپ کی طاقت ہیں۔ میں نے زندگی میں آپ جیسی عورت نہیں دیکھی۔ آپ کی یہ خوبیاں آپ کو تمام عورتوں سے ممتاز بناتی ہے۔"
"میرا دل مت بہلاؤ! اگر میں اتنی اچھی ہوتی تو ہانی خالہ اور عیسیٰ، مجھے بات بات پر ذلیل نہ کرتے۔ مجھے میری خامی کا بار بار احساس نہ دلاتے۔" جائی یانہ نے نم آواز میں کہا اور گیلی سانس کھینچی۔ اس کی نظریں اب سڑک پر تھی۔ اس وقت اسے کیا یاد آیا تھا! زید اس کو دیکھتے ہوئے مسکرایا۔
"عیسیٰ کبھی آپ کی قدر نہیں کر پایا اس لیے تو اسے آپ نہیں ملی۔ عیسیٰ جیسے انسان کے ہاتھ میں اگر سونا بھی آ جائے، تو وہ اپنی ناقدری سے اسے مٹی بنا سکتا ہے۔ آپ کو تو کوئی بہت پیار اور کوئی بہت قدر کرنے والا ہی ڈیزرو کرتا ہے۔ شاید صرف میں ہی آپ کو ڈیزرو کرتا ہوں کیونکہ مجھے آپ کی قیمت معلوم ہے۔ میں جانتا ہوں آپ انمول ہیں۔ جب آپ میری زندگی میں نہیں تھیں تو مجھے میری قسمت اچھی نہیں لگتی تھی مگر جب سے آپ ملی ہیں میں شکر ادا کرتا ہوں کہ میری تقدیر ایسی ہے۔ بھلا جس کی قسمت میں جائی یانہ لکھی گئی ہو وہ بدقسمت ہو سکتا ہے؟"
جائی یانہ نے سر اٹھا کر زید کو دیکھا۔ دونوں کی بھوری آنکھیں ایک دوسرے سے جا ملی تھیں۔
"آپ نعمت ہیں۔ کوئی آپ کو رو رو کر بھی مانگتا تو آپ اسے نہیں مل سکتی تھیں۔ مجھے تو آپ پھر بن مانگے ملی ہیں۔ میرا بخت واقعی میں بہت بلند ہے۔"
اس پل میں جانے ایسا کیا تھا دونوں مسحور ہو گئے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ کچھ دیر بعد جب دونوں کو ہوش آیا تو ایک ساتھ فٹ پاتھ پر سے اٹھے۔
"آئیں اپ کو ہاسٹل چھوڑ آؤں۔" دونوں نے اس کے بعد کچھ نہیں بولا۔ بائیک سڑک پر خاموشی سے چلنے لگ گئی۔
********************
رات کے اندھیرے میں اشفاق کا گھر کچھ زیادہ ہی ڈراؤنا لگتا تھا۔ نوال گھر کے لاؤنج کے چکر کاٹ رہی تھیں اور وقفے وقفے سے گھڑی پر وقت دیکھ رہی تھیں۔
"آج اتنی دیر ہوگئی۔ اشفاق ابھی تک گھر کیوں نہیں آئیں؟" نوال نے خود کلامی کی۔
"انہیں ہمیشہ مجھے تنگ کرنا ضروری ہے۔ جانے کیوں آج اتنا انتظار کروا رہے ہیں؟" نوال اپنی بات پر خود ہی ٹھٹھکیں۔
"انتظار کروا رہے ہیں!" نوال رک کر دوبارہ الفاظ دہرانے لگ گئیں۔ یہ الفاظ انہیں ماضی کی سیر کروانے لگے۔
("جانے کیوں وہ مجھے انتظار کروا رہا ہے؟"
اندھیری رات میں چھت کی منڈیر پر بیٹھی نوال نے کہا۔ وہ بار بار چھت کی دیواروں کو جھانک رہی تھی۔
کچھ دیر بعد ایک وجود چھت کی دیوار سے چھلانگ لگا کر چھت پر اترا۔ نوال جو کچھ دور تھی، آنے والے وجود کو دیکھ کر مسکرائی اور اس کے پاس آ گئی۔
"تم آگئے! مجھے لگا تھا تم نہیں آؤ گے۔" نوال نے مسکراتے ہوئے اپنے سامنے کھڑے روفی کو دیکھا۔
"یہ چھوڑو تم نے مجھے اس خط میں کیوں بلایا تھا؟ اور محلے میں سب کے سامنے خط پھینکنا ضروری تھا؟
اگر کسی نے دیکھا ہوگا، تو ابھی کیا سوچ رہا ہوگا؟"
روفی کی بات سن کر نوال نے جواب دیا۔
"میں نے یہ بہت احتیاط سے کیا ہے۔ کسی کو شک بھی نہیں گزرا ہوگا میں نے جان بوجھ کر ایک خط، جو بظاہر کٹا پھٹا کاغذ دکھائی دیتا تھا، تمہارے سامنے پھینکا ہے۔"
"اچھا تو پھر تم نے مجھے کیوں بلایا؟" روفی نے تنک کر پوچھا۔
نوال یہ بات سن کر تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہی۔ وہ الفاظ ڈھونڈنے لگ گئی کہ کس طرح وہ روفی کو بتائے۔
"وہ میں نے تمہیں اکثر اداس دیکھا ہے۔ مجھے تمہارا یوں اداس ہونا اچھا نہیں لگتا۔ مجھے لگتا ہے میں بھی تمہاری مجرم ہوں۔ تم یوں اداس نہ رہا کرو۔"
"تو سیدھا سیدھا زینب کا پتہ بتا دو۔ میں یوں اداس نہیں رہا کروں گا۔" نوال کے کہنے پر روفی بے تاثر سا بولا۔ روفی کی اس بات پر نوال کے دل کو کچھ ہوا۔
"وہ شادی شدہ ہے اور اس شہر سے باہر چلی گئی ہے۔ ویسے بھی وہ تمہاری اداسی کو سمجھ نہیں سکتی ہے۔ اگر اسے تمہاری فکر ہوتی تو تمہیں چھوڑ کر نہ جاتی۔ پچھلی دفعہ جب تم یوں مایوس گئے تھے نا تو تم جانتے نہیں ہو مجھے کتنا برا لگا تھا۔ زینب کو تو یہ جان کر ذرا برابر فرق نہیں پڑے گا۔"
"نہ پڑنے دو۔ مجھے تو بس وہ میرے پاس چاہیے۔" روفی نے اسی لہجے میں کہا۔ پھر نوال سے پوچھا۔ " اگر تم نے یہی کہنا تھا تو اب میں جاؤں؟"
"وہ میں نے۔۔۔۔" نوال ان الفاظ کو بار بار دہرانے لگ گئی۔ وہ کوئی بات بنا کر روفی کو روکنا چاہتی تھی مگر روفی سمجھ گیا نوال کے پاس اب کہنے کو کچھ نہیں ہے۔
"یعنی کوئی بات نہیں ہے۔ میں چلتا ہوں۔" روفی دیوار کی جانب بڑھنے لگا۔
"رکو! کیا تم نہیں چاہتے کوئی ایسا ہو جس سے تم دل کی باتیں کر سکو؟ جس سے تم زینب کی باتیں کر سکو؟" نوال نے روفی کو روکنے کے لیے بہانہ ڈھونڈا۔ حالانکہ یہ کہنے کے بعد وہ پچھتائی بھی تھی مگر اسے خبر نہیں تھی یہ تیر سیدھا نشانے پر لگا ہے۔
"ہر شخص کو اپنا درد سنانے کے لیے کوئی نہ کوئی چاہیے ہوتا ہے۔" روفی نے درد سے کہا۔
"تو پھر تم مجھے سنایا کرو۔ زینب نے اپنی آدھی زندگی ہمارے ساتھ گزاری ہے۔ مجھ سے بہتر کون اس کے بارے میں تمہارے ساتھ باتیں کر سکتا ہے؟"
روفی نے مڑ کر نوال کو دیکھا۔
"تم واقعی میں سچ کہہ رہی ہو؟ کہیں یہ تمہارے کزن کا تو کوئی منصوبہ تو نہیں ہے، مجھے دوبارہ کسی معاملے میں پھنسانے کا؟" روفی کے انداز میں شک بھرا ہوا تھا۔
"میرا یقین مانو۔ میں بس تمہاری ہمدردی میں کہہ رہی ہوں کیونکہ مجھے تمہارا دکھ دکھائی دیتا ہے۔ میں جانتی ہوں تم ابھی اذیت سے گزر رہے ہو۔ میں تمہارا دکھ تو کم نہیں کر سکتی ہوں مگر اسے بانٹ تو سکتی ہوں۔"
روفی دیوار کو پکڑے ہوئے نوال کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے کہا۔
"ٹھیک ہے۔ میں روز اسی وقت تمہارے پاس آیا کروں گا۔ میرا انتظار کرنا!"
یہ کہہ کر روفی چلا گیا اور انتظار کی گھڑی ابھی سے نوال کے لیے شروع ہوگئی تھی۔)
نوال نے بمشکل خود کو ماضی سے نکالا۔ جانے کیوں موقع محل دیکھے بغیر آج کل ماضی ان کے سامنے آنے لگا تھا۔ شوہر کی فرماں برداری کرتے ہوئے اور ان کی بے اعتنائی سہتے ہوئے نوال کو پتہ ہی نہ چل سکا جس محبت کو وہ بھلا چکی تھیں، وہ تو ابھی بھی دل میں موجود تھی۔ اسی وقت لاؤنج کی میز پر رکھے موبائل کی گھنٹی بجی۔ نوال نے آگے بڑھ کر فون اٹھایا۔
"ہیلو کون؟" نوال نے کال اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
دوسری طرف سے جو باتیں کہیں گئیں انہوں نے نوال کے اوسان خطا کردیے۔
"کیا؟؟ میں ابھی آ رہی ہوں۔ کون سا ہسپتال ہے؟"
*******************
"عزاہ! عزاہ!"
رات کے اندھیرے میں اگر زینب کے گھر میں آؤ تو زینب شایان کے کمرے کی جانب بھاگتی ہوئی آئیں اور دروازہ کھٹکھٹانے لگ گئیں۔
عزاہ، جو کمرے کے فرش پر بیٹھی اپنے پاؤں پر ویزلین لگا رہی تھی، پھپھو کی آواز سن کر اٹھی اور دروازہ کھولا۔ زینب ہڑبڑاتی ہوئی اندر آئیں۔
"عزاہ! بھائی کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ہے۔ بھابھی کی ابھی ابھی کال آئی ہے۔ وہ خود بھی ہسپتال جا رہی ہیں اور ہمیں بھی بلایا ہے۔"
زینب کی بات سن کر عزاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
"کیا؟؟"
"ہاں عزاہ! ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ ہمیں جلدی نکلنا ہوگا۔"
پھر انہوں نے مڑ کر بیڈ پر لیپ ٹاپ پر کام کرتے شایان کی جانب دیکھا جو اپنے آپ کو خاصا مصروف دکھا رہا تھا۔
"شایان! تمہیں الگ سے پیغام دینا ہوگا؟ جلدی سے گاڑی باہر نکالو۔ ہمیں جانا ہے۔" زینب نے شایان سے کچھ سخت لہجے میں کہا۔
"ماما آپ ڈرائیور کو ساتھ لے جائیں۔ مجھے یہ کام ختم کرنا ہے۔" شایان نے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر دیکھتے ہوئے اکتا کر کہا۔
"شایان! تم کھڑے ہو رہے ہو یا نہیں؟" زینب نے اب مزید سختی سے پوچھا۔ شایان نے اپنی ماں کو بے بسی سے، پھر ان کے ساتھ کھڑی عزاہ کو غصے سے دیکھا۔ پھر مجبور ہو کر بیڈ پر سے کھڑا ہوا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
"میں اپنا بیگ کمرے سے لے کر آتی ہوں۔" زینب بھی کمرے سے باہر چلی گئیں۔
عزاہ بھی اپنے کمرے سے باہر نکل کر سیڑھیاں اترنے لگ گئی۔ تبھی اسے سیڑھیوں کے عین نیچے نمرہ کھڑی دکھائی دی۔ عزاہ کے سیڑھیاں اترتے قدم رک گئے۔ نمرہ نے اپنے دونوں ہاتھ سینے سے باندھے ہوئے تھے اور چہرے پر استہزایہ مسکراہٹ تھی۔
"کیا ہوا میرے پیارے ماموں جان کو؟" نمرہ کے لہجے میں مٹھاس تھی۔ عزاہ آہستہ آہستہ زینے اترنے لگ گئی اور نمرہ کے عین سامنے کھڑی ہوگئی۔
"ہارٹ اٹیک ہوا ہے تمہارے پیارے ماموں جان کو!" عزاہ نے الفاظ چبا چبا کر ادا کیے۔
"اوہ! بہت افسوس ہوا۔" نمرہ نے مصنوعی تاسف سے کہا۔
عزاہ کچھ سخت بول پاتی، اس سے پہلے ہی زینب تیزی سے سیڑھیاں اترتی نیچے آنے لگیں
عزاہ اور نمرہ نے بیک وقت سیڑھیوں کی جانب دیکھا۔
"ماموں جان کو کیا ہوا ہے ماما؟" نمرہ کے لہجے میں زمانے بھر کی فکر مندی تھی۔
"انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے!" زینب عجلت سے کہتے ہوئے ان دونوں کے درمیان سے گزری۔
"میں بھی چلوں آپ لوگوں کے ساتھ ماموں جان کو دیکھنے؟" نمرہ نے پوچھا۔
"نہیں تم گھر پر رکو!" زینب یہ کہتی ہوئی گھر سے باہر نکل گئی۔
عزاہ اور نمرہ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ عزاہ کی نظروں میں کاٹ تھی جبکہ نمرہ کی نظروں میں تمسخر۔
عزاہ نمرہ کو یونہی دیکھتی ہوئی گھر سے باہر نکل گئی۔ گھر سے نکلتے ہوئے اسے نمرہ کا تمسخر بھرا قہقہہ بھی سننے کو ملا تھا۔
*******************
عالیہ اپنے کمرے میں غنودگی کی حالت میں لیٹی تھی جب اسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ اس کی آنکھیں پٹ سے کھولیں۔ آریان کمرے کے اندر آ رہا تھا۔ عالیہ نے اسے دیکھ کر کروٹ بدل لی اور چہرہ دوسری جانب موڑ لیا۔
"اوہ! تو محترمہ کو نیند آ رہی ہے۔" آریان نے تمسخر سے کہا۔ عالیہ نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔ وہ آریان کو نظر انداز کرنا چاہتی تھی۔
"اچھا تو نظر انداز بھی کیا جا رہا ہے۔ ویسے میرے پاس تمہارے لیے ایسی خبر ہے جسے سن کر تم یقیناً خوش ہوگی۔" عالیہ نے ابھی بھی مڑ کر نہیں دیکھا۔
آریان قدم قدم چلتا بیڈ کی اس طرف پہنچ گیا جہاں عالیہ کا چہرہ تھا۔ عالیہ آنکھیں بند کیے لیٹی رہی۔ اس نے ایک نظر مسکرا کر عالیہ کو دیکھا۔ پھر وہ تھوڑا سا نیچے جھکا اور سرگوشی جیسی آواز میں بولا۔
"بہت بہت مبارک ہو! تمہارے باپ کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ہے۔"
آریان کی بات سن کر عالیہ فوراً اٹھ کر بیٹھی۔
"کیا بکواس کر رہے ہو تم؟!" عالیہ غصے سے بولی۔
آریان عالیہ کو یوں دیکھ کر استہزایہ مسکرایا۔
"وہی جو سچ ہے۔"
"لیکن۔۔۔" اس سے پہلے عالیہ کچھ کہہ پاتی۔
آریان یہ کہتے ہوئے باہر چلا گیا۔
"ہیپی سلیپنگ!"
پیچھے عالیہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھی تھی۔ یہ سب کیا ہو رہا تھا آخر؟؟؟
******************
نویں جماعت کے اسٹوڈنٹ کو ریاضی کی مشق سمجھا دینے کے بعد اس نے اپنے سامنے رکھے لیپ ٹاپ کی اسکرین ڈھا دی اور بیڈ کے ایک طرف رکھ دیا۔
جو وہم صبح سے اسے تنگ کر رہے تھے ایک بار پھر سر اٹھا چکے تھے۔ اس کے دل کی گھبراہٹ بڑھتی جا رہی تھی۔ کچھ ہوچکا تھا؟ لیکن وہ تھا کیا؟
وہ اسی سوچ میں ڈوبی تھی جب اس نے جے ٹی کو باتھ روم سے باہر نکلتے دیکھا۔ اس کا حلیہ خاصا شوخ تھا۔ اس کی تیاری صاف صاف بتاتی تھی وہ کسی پارٹی میں جانے والی تھی۔
جائی یانہ نے گھڑی پر وقت دیکھا۔ اس وقت رات کے نو بج رہے تھے۔ پارٹی یقیناً رات کو دیر تک جاری رہنی تھی اور ہاسٹل میں گیارہ بجے تک پہنچنا لازمی تھا۔ جے ٹی اتنا وقت باہر گزار کر آتی تھی تو کوئی اسے پوچھتا کیوں نہیں تھا۔
"سنو جے ٹی!" جائی یانہ نے اسے مخاطب کیا۔
"ہاں بولو!" اس نے خاصے مصروف انداز میں کہا۔ جے ٹی میک اپ کے ڈبے پر جھکی اپنی پسندیدہ لپ اسٹک تلاش کر رہی تھی۔
"تم اتنی دیر باہر گزار کر آتی ہو لیکن رات گیارہ بجے تک تو ہاسٹل پہنچنا ہوتا ہے، تمہیں اتنی چھوٹ کیوں ہے؟"
جے ٹی مسکرائی۔ اسے وہ لپ اسٹک مل گئی تھی جس کے لیے اس نے اپنے میک اپ کا پورا ڈبہ کھنگال لیا تھا۔
"وہ اس لیے سوئیٹ ہارٹ، میں نے اس ہاسٹل کے بڑے اچھے بندے سے بنا کر رکھی ہے۔ میں اسے فیورز دیتی ہوں اور وہ مجھے فیورز دیتا ہے۔"
"اچھا کس سے؟" جائی یانہ کچھ آگے کو ہوئی۔ اس کے ذہن میں ہاسٹل انتظامیہ کے ہر اہم شخص کا نام آیا مگر جے ٹی کا جواب جائی یانہ کی سوچ سے بہت مختلف تھا۔
"ہاسٹل کے چوکیدار سے!"
جائی یانہ کا دماغ بھک سے اڑا۔
"کیا؟"
"ہاں!" جے ٹی نے لپ اسٹک کا ڈھکن کھولا۔ شوخ لال رنگ کی لپ اسٹک اب اس کے سامنے تھی۔ "چھوٹے چھوٹے عہدوں کے لوگوں سے ہمیشہ بنا کر رکھنی چاہیے کیونکہ ان کے پاس با اختیار لوگوں سے زیادہ اختیار ہوتے ہیں۔ میں چوکیدار کو ہمیشہ کچھ پیسے قرض کے طور پر دے دیتی ہوں اور وہ اس قرض کے بوجھ تلے مجھے ہاسٹل اپنے مرضی کے وقت پر آنے جانے دیتا ہے۔ اگر کبھی مجھے کوئی پکڑ بھی لے تو چوکیدار ہمیشہ کوئی نا کوئی جھوٹ بول کر مجھے بچا لیتا ہے کیونکہ اگر میں پکڑی گئی تو نوکری سے تو وہ بھی جائے گا۔"
اب لال رنگ کی لپ اسٹک وہ اپنے ہونٹوں پر لگانے لگی تھی۔
"ویسے تمہارا تمہارے بوائے۔۔۔میرا مطلب ہے شوہر سے کوئی جھگڑا ہوا ہے، اس نے آج تمہیں کال نہیں کی۔" لپ اسٹک لگانے کے بعد اس نے پوچھا۔
"تمہیں میرے شوہر میں بڑا انٹرسٹ ہے؟" جائی یانہ نے تنک کر پوچھا۔
"مجھے اس میں یا تم میں نہیں بلکہ تمہارے اس کیوٹ سے کپل میں انٹرسٹ ہے۔ تم دونوں ایک ساتھ خاصے کیوٹ لگتے ہو۔"
جائی یانہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ لیٹ گئی اور چادر سر تک اوڑھ لی۔ اسے پھر سے گھبراہٹ محسوس ہونے لگ گئی۔ ایسا لگتا تھا سانس بند ہو جائے گی۔
"جے ٹی!" اس نے چادر سر پر اوڑھے ہوئے جے ٹی کو بلایا۔
"ہمم!" جے ٹی اب اپنے بیڈ پر بیٹھی سینڈل پہن رہی تھی۔ اس نے سینڈل کی اسٹریپ بند کرتے ہوئے ہنکارا بھرا۔
"مجھے بے چینی ہو رہی ہے۔ عجیب عجیب طرح کے خیالات آ رہے ہیں۔ کیا تمہارے پاس کوئی حل ہے؟"
جے ٹی نے ایک نظر بیڈ پر لیٹی اپنی روم میٹ کو دیکھنا چاہا مگر اس نے اپنا پورا وجود چادر سے چھپایا ہوا تھا۔
"مجھے پتہ ہے تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے؟!" جے ٹی نے دونوں پاؤوں میں سینڈلز پہن لیے تھے۔ اس لیے جب وہ اپنے بیڈ پر سے اٹھ کر جائی یانہ کے بیڈ پر بیٹھنے کے لیے آئی، تو ہیل کی ٹک ٹک کی آواز پورے کمرے میں گونجی۔
"کیا؟" جائی یانہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس کے چہرے پر بے بسی صاف ظاہر تھی۔ اس نے جے ٹی کے بیٹھنے کے لیے اپنے پاؤں سمیٹ لیے تھے۔ جے ٹی جائی یانہ کے بالکل سامنے بیٹھ گئی اور جائی یانہ کے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے ہاتھ میں لیا۔
"تم نے اپنے شوہر کو ناراض کیا ہے ناں۔ اس لیے تم اتنی بے چین ہو۔ میری ماں کہتی تھی شوہر کی نافرمان عورت کو مرتے دم تک چین نہیں ملتا ۔"
"کیا؟؟؟" جائی یانہ نے منہ پھاڑ کر جے ٹی کو دیکھا۔ جے ٹی کی سوئی ابھی تک زید پر اٹکی ہوئی تھی۔
"ہاں نا! تم بھلے نہ بتاؤ مگر میں جانتی ہوں تم دونوں کے درمیان لڑائی ہوئی ہے۔ اس لیے تو آج اس کی ایک بھی کال نہیں آئی۔ میں تو کہتی ہوں ابھی اسے کال کرو اور منا لو۔"
جائی یانہ جے ٹی کی بات سن کر اپنے ہاتھ چھڑائے اور دھم سے لیٹ گئی۔
"جے ٹی مجھے لگ رہا ہے تمہیں پارٹی میں جانے میں دیر ہو رہی ہے۔" جائی یانہ نے چادر منہ پر اوڑھ لی۔
"بس دیکھا! یعنی میں صحیح سوچ رہی تھی۔ تمہیں شادی نہیں کرنی چاہیے تھی اور اب اگر کر لی ہے تو اپنے شوہر کو خوش رکھو۔ مجھے دیکھو میری عمر کی لڑکیاں شادی تو کیا میری ماں کے مطابق چار بچوں کی ماں بھی بن جاتی ہیں مگر میں نے نہیں کی، پوچھو کیوں؟ کیونکہ مجھے پتہ ہے میں اپنے شوہر کا حق پورا نہیں کر پاؤں گی۔ اس لیے میں ابھی اپنی زندگی سنگل ہی انجوائے کر رہی ہوں۔"
"تمہارے مشورے کا بے حد شکریہ جے ٹی! میں تمہارے دیے ہوئے مشورے پر ضرور عمل کروں گی۔" جائی یانہ نے جل کر کہا۔
"شکریہ کی کیا بات؟ انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔" جے ٹی نے خاصی عاجزی سے کہا اور اپنا بیگ پکڑ کر کمرے سے باہر چلی گئی۔
جیسے ہی جائی یانہ کو کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔ اس نے چہرے پر سے چادر اٹھائی اور خود کلامی کی۔
"اس عورت سے مشورہ لینے سے بہتر ہے میں اپنا سر دیوار پر مار لوں۔"
******************
ہسپتال کی راہداریوں میں چلتے ہوئے جیسے ہی زینب کی نظر راہداری میں رکھی کرسی پر بیٹھی نوال پر پڑی تو زینب بھاگ کر ان کے پاس چلی گئیں۔ نوال بھی زینب کو اپنے پاس آتا دیکھ کر کھڑی ہوئیں اور زینب کے گلے لگ گئیں۔
"بھابھی یہ کیا ہوگیا؟" زینب نے رندھی آواز میں کہا۔
"پتہ نہیں کس منحوس کی نظر کھا گئی ہمارے گھر کو!" نوال کی آواز جب زینب کے پیچھے کھڑی عزاہ کے کانوں میں گئیں تو اس کے ذہن میں ایک دم نمرہ کا چہرہ بنا۔ وہ بے بسی سے اپنی ماں کو روتا ہوا دیکھ رہی تھی۔
"ہسپتال والے تو بتا رہے ہیں اشفاق ماموں شام کے وقت ایڈمٹ ہوئے تھے۔ آپ نے ہمیں کچھ جلدی نہیں بلا لیا۔" شایان نے اس وقت بھی طنز کرنا نہیں چھوڑا۔
"بیٹا مجھے تو خود ابھی کچھ دیر پہلے پتا چلا ہے۔ اشفاق کا موبائل نہیں مل رہا تھا۔ اس لیے اتنی دیری ہوگئی۔ یہ کال بھی مجھے اشفاق کے دوست ڈاکٹر حفیظ نے کی ہے جو اسی ہسپتال میں کام کرتے ہیں۔"
"اچھا!" شایان نے اتنی لمبی وضاحت پر ایک لفظی جواب دیا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ جانتا تھا اب ان خواتین کے رونے دھونے اور ایک دوسرے کو تسلی دینے کا پروگرام تھا اور اسے ان سب سے سخت قسم کی چڑ تھی۔
زینب نے نوال کو بھی کرسی پر بٹھایا اور خود بھی ان کے بیٹھ کر اپنی بھابھی کو حوصلہ دینے لگ گئیں۔ عزاہ فرش کو گھور رہی تھی۔ وہ انگلی میں موجود اپنی ویزلین کو مسل رہی تھی۔ اس کا دماغ حال کی بجائے مستقبل میں لگا ہوا تھا۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ آگے کیا ہونا تھا اور اس نے کیا کرنا تھا۔۔۔
*******************
ملاقات سے ایک دن پہلے
عالیہ کی پوری رات کانٹوں پر گزری تھی۔ آریان کے کمرے سے جانے کے بعد وہ ایک ہی حالت میں بیڈ پر بیٹھی رہی۔ وہ ساری رات یہ سوچتی رہی تھی کہ آریان نے جو کہا تھا، کیا وہ سچ ہے اور اگر یہ واقعی میں سچ تھا تو اب آگے کیا ہوگا؟
اس کا باپ ٹھیک ہوگا یا پھر ابھی بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں گھرا ہوگا؟ اگر اشفاق اس جنگ میں ہار گئے تو؟
اس سے آگے عالیہ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔ اسے بے اختیار اپنی دونوں بہنوں کی زندگیوں پر رشک آیا۔ بھلے ہی نمرہ اور مسز جہانگیر نے ان کی زندگیاں خراب کر دی ہونگی مگر وہ پھر بھی اپنے باپ سے ملنے تو جا سکتی تھیں۔ وہ اپنی ماں کا حوصلہ بڑھا رہی ہونگی لیکن اس میں کسی کا قصور نہیں تھا۔ عالیہ نے تو خود ان رشتوں کو دور کیا تھا۔ اب وہ شکوہ کر سکتی تھی نہ شکایت۔ اب بس جو اس کے پاس رہ گیا تھا وہ پچھتاوا تھا جو وہ بہت اچھے سے کر رہی تھی۔ بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ اس نے بیڈ کے تاج سے سر ٹکایا اور دعا مانگی۔
"یا اللّٰہ میرے باپ کو صحت دے۔ ان کا سایہ ہمارے سر پر سلامت رکھنا۔ یا اللّٰہ مجھے اتنی مہلت دے دینا میں اپنے باپ سے اپنے کیے گناہوں کی معافی مانگ سکوں۔"
دعا مانگنے کے بعد اس نے آنکھیں موند لیں۔ اس کی بند آنکھوں سے آنسوں کا قطرہ نکلا جو اس کے گال سے لڑھکتا ہوا نیچے گر گیا۔ اسی وقت ملازمہ ناشتے کی ٹرے لیے اندر آئی اور ناشتہ میز پر رکھ دیا۔ عالیہ نے آنکھیں پٹ سے کھولیں اور ملازمہ کی جانب رخ کیا۔
"سنو!! مسز جہانگیر یا آریان کو تو بلا دو۔" عالیہ کے لہجے میں التجا تھی۔
"ان لوگوں نے کہا ہے وہ ابھی آپ سے ملنے نہیں آسکتے۔" یہ کہہ کر ملازمہ واپس چلی گئی۔ عالیہ نے سر پکڑ لیا۔
****************
"آپ کے پیشنٹ اب خطرے سے باہر ہیں۔ ہم کچھ دیر بعد انہیں کمرے میں شفٹ کر دیں گے۔ پھر آپ لوگ ان سے مل سکتے ہیں۔"
پوری رات آنکھوں پر کاٹنے کے بعد انہیں یہ خوشخبری ملی تھی۔ ڈاکٹر حفیظ شایان کو بتا رہے تھے جوسینے پر ہاتھ باندھے بڑے غور سے ان کی بات سن رہا تھا۔
شایان کے پیچھے کھڑی نوال اور زینب نے ایک ساتھ رب کا شکر ادا کیا لیکن عزاہ کا چہرہ ابھی تک سنجیدہ تھا۔ ڈاکٹر کے جاتے ساتھ ہی شایان مڑا اور اپنی ماں کو بتایا۔
"میں آفس جا رہا ہوں۔ اگر ضرورت ہو، تو بلائیے گا۔ خدا حافظ!" یہ کہہ کر شایان زینب کو کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر چلا گیا۔
"میں ذرا شکرانے کے نوافل ادا کر آؤں۔" نوال زینب سے علیحدہ ہوتے ہوئے بولیں اور راہداری میں لوگوں کے ہجوم میں گم ہوگئیں جبکہ عزاہ ابھی تک فرش کو یونہی گھور رہی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک غیر آرام دہ تاثر تھا۔
زینب نے اپنی بہو کو دیکھا اور پھر اس کے کندھے پر پاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دینا چاہا۔
"تم فکر نہ کرو ڈاکٹر کہہ کر گئے ہیں خطرے کی کوئی بات نہیں رہی ہے۔"
زینب کی بات سن کر عزاہ تھکی تھکی سی مسکرائی۔
"میں تو کہتی ہوں تم گھر چلی جاؤ۔ کچھ دیر کے لیے سو آؤ، تم فریش ہو جاؤ گی۔"
"نہیں پھپھو میں ابھی یہی پر ہوں۔ میں تو کہتی ہوں آپ گھر جا کر آرام کر آئیں۔ پھر رات کو آپ ہسپتال رک جایے گا اور میں گھر چلی جاؤں گی۔"
"ہمم! چلو ٹھیک ہے۔"
زینب کو اس کی تجویز کافی اچھی لگی تھی۔ اس لیے انہوں نے اس کی بات مان لی۔ زینب کے جانے کے بعد عزاہ کرسی پر بیٹھ گئی اور سر ہاتھوں میں رکھ دیا۔ آج رات اسے گھر پر رکنا ہی رکنا تھا۔
*****************
حال
"ایک سیکنڈ! ایک سیکنڈ!"
جائی یانہ نے عزاہ کی بات سنتے ہوئے اسے ٹوکا۔
"آپ کہہ رہی ہیں نمرہ ہم لوگوں سے بدلہ لینا چاہتی ہے مگر کس بات کا؟ ہم نے اس کے ساتھ کیا کیا ہے؟"
جائی یانہ کے سوال پر عزاہ تھوڑی سی دیر کے لیے رکی۔
"یہ میں خود بھی نہیں جانتی لیکن میرا یقین کرو میں سچ کہہ رہی ہوں۔ ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس میں نمرہ کا ہاتھ ہے۔ اسی نے عالیہ کو ایک لڑکے کے ساتھ بھاگنے پر اکسایا تھا، اسی نے شایان کو مجھ سے شادی پر رضا مند کیا تھا اور اسی کی وجہ سے تمہارے نکاح والے دن اتنا تماشا لگا۔"
"مجھے یقین نہیں آ رہا!" جائی یانہ نے بے یقینی سے نفی میں گردن ہلائی۔ "کہیں زید بھی تو ان سب میں شامل نہیں ہے؟"
"نہیں مجھے نہیں لگتا تمہارا شوہر ان سب میں شامل ہے۔" عزاہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
"آپ کو کیسے پتہ؟" جائی یانہ نے ابرو اٹھا کر عزاہ سے سوال کیا۔
"کیونکہ جس دن تمہاری شادی زید کے ساتھ ہوئی تھی اسی دن میں نے نمرہ کو عالیہ کے شوہر سے بات کرتے سنا تھا۔ عالیہ کا شوہر تمہارے شوہر کا کزن ہے۔ نمرہ کو پچھتاوا تھا تمہاری شادی زید سے کیوں ہوئی۔ وہ اپنے کسی بندے سے تمہاری شادی کروانا چاہتی تھی۔"
"اوہ!"
"اور آپ کو کیسے پتہ چلا میں یہاں پر ہوں؟"
عزاہ یہ بات سن کر مسکرائی۔
"کیونکہ میری پیاری بہن میں پانچ دن پہلے تمہاری یونیورسٹی آئی تھی اور تمہاری دوست نائلہ سے ملی تھی۔"
"کیا؟؟" آج کا دن جائی یانہ کو انکشافات کا دن لگ رہا تھا۔ "آپ نائلہ سے ملی تھیں تو اس نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟"
"میں نے ہی اسے منع کیا تھا۔ میں نہیں چاہتی تھی اس وقت تمہیں یا کسی اور کو پتہ چلے۔ ویسے میں نے تمہیں ایک لڑکے کے ساتھ بیٹھے دیکھا تھا۔ نائلہ سے پوچھا تو اس نے بتایا یہ لڑکا تمہارا شوہر ہے تم دونوں دور بیٹھے ہوئے، کسی بات پر ہنس رہے تھے۔ خاصے کیوٹ لگتے ہو تم دونوں!"
یہ بات سن کر جائی یانہ کے گال ایک دم سے لال ہوگئے۔
"آپ مجھ سے ملنے یونیورسٹی آئیں اور کسی کو شک بھی نہیں ہوا؟" جائی یانہ نے موضوع جلدی سے بدلا۔
"نہیں میں نے پھپھو کو بتایا تھا میں امی کے گھر جا رہی ہوں۔" عزاہ نے اسے آرام سے بتایا۔
"اور آپ اس وقت یہاں کیسے پہنچ گئیں؟اگر نمرہ واقعی میں اتنی چالاک ہے تو اسے ڈبل کراس کرنا تو کافی مشکل ہوگا!"
"یہ ایک لمبی کہانی ہے!" عزاہ کی نظروں کے سامنے منظر ابھرا۔
( صبح کے اجالے میں سنہری آنکھوں والی لڑکی پورچ میں کھڑی گاڑی کو گھور رہی تھی۔ اس کی نظریں گاڑی کے اوپری دھڑ سے ہوتی ہوئی ٹائر تک پہنچ گئیں ۔ لڑکی کی آنکھیں جگمگا گئیں۔
کچھ دیر کے لیے وہ اندر گئی اور پھر دوبارہ پورچ میں واپس آگئی۔ اس کے ہاتھ میں اس دفعہ کیل تھی۔ اس نے گاڑی کی پچھلی طرف کے دونوں ٹائروں میں کیل چبھا دی۔ دونوں ٹائر پنکچر ہوگئے۔
اس کے بعد وہ اندر آئی اور ملازمہ سے نمرہ کا پوچھا۔ اس نے بتایا نمرہ صبح گئی تھی اور ابھی تک واپس نہیں آئی۔ سنہری آنکھوں والی لڑکی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ اس کا پلان کافی اچھے سے آگے بڑھ رہا تھا۔ پھر وہ دبے پاؤں اپنے کمرے میں گئی۔ اس کے کمرے کا دروازہ ڈھلا ہوا تھا۔ لڑکی نے باہر سے ہی ڈھلے ہوئے دروازے سے جھانکا۔ ایک مرد بستر پر لیٹا آرام سے سو رہا تھا۔ وہ جانتی تھی وہ مرد رات دیر سے گھر آیا تھا تو ابھی اس کا اٹھنا تھوڑا مشکل ہے۔ وہ دبے پاؤں کمرے سے واپس چلی گئی۔
کچھ دیر بعد اس نے ڈرائیور کو بلایا اور گاڑی ٹھیک کروانے کے لیے مکینک کے پاس بھیج دیا۔ پھر وہ خود ملازمہ کو ہسپتال جانے کا بتا کر ٹیکسی لی اور نائلہ کے بتائے ہوئے ایڈریس پر ہاسٹل پہنچ گئی۔)
"پھر کسی دن بتاؤں گی، ابھی میرے پاس بالکل بھی وقت نہیں ہے۔ اس وقت میں تمہیں ایک اہم کام بتانے جا رہی ہوں۔" عزاہ کے چہرے سے اب مسکراہٹ جا چکی تھی اس کی جگہ سنجیدگی نے لے لی تھی۔
"میں نے پورے ایک ہفتے نمرہ کے سامنے بے بسی کا ناٹک رچایا ہے۔ اس کا فائدہ مجھے یہ ہوا میں پورا ہفتہ اس پر نظر رکھ پائی ہوں۔ تمہاری شادی کے دن مجھے پتہ چل گیا تھا عالیہ کو نمرہ، اور عالیہ کے شوہر نے قید میں رکھا ہوا ہے۔ اگر مجھے یہ پتہ نہ ہوتا کہ عالیہ ان کی قید میں ہے، تو میں شاید اسی دن پھپھو کا گھر چھوڑ کر بھاگ جاتی۔ وہاں رہنا پہلے ہی میرے لیے مشکل تھا اور نمرہ کی اصلیت جان کر تو ایک پل کے لیے ناممکن لگا مگر عالیہ کے بارے میں سن کر۔۔۔۔!"
اس سے آگے عزاہ کچھ بول نہ پائی۔ اس کی سنہری آنکھوں میں نمی بھر آئی۔ جائی یانہ کو اس بار بھی نہ چاہتے ہوئے بھی حیرت کا اور جھٹکا لگا تھا۔
****************
آریان واقعی میں اپنی بات کا سچا تھا۔ وہ اور مسز جہانگیر اس کے کمرے میں نہیں آئے تھے۔ پرسوں رات سے اب تک وہ دعائیں مانگ رہی تھی۔
کھانے کی ٹرے ان چھوئی میز پر پڑی تھی۔ حلق سے ایک نوالہ بھی اترنا اس کے لیے مشکل ہوگیا تھا۔
اسے بس ایک ہی فکر لگی تھی اگر اس کے باپ کو کچھ ہوگیا تو پھر اس کا کیا ہوگا؟ وہ تو ایک بار بھی اپنے بابا سے معافی نہیں مانگ پائی تھی۔ اگر اس کے بابا اس سے ناراض ہی دنیا سے چلے گئے، تو وہ شاید کبھی بھی خود کو معاف نہیں کر پائے گی۔ وہ آخر کرے کیا؟!
اسی وقت کمرہ کھلنے کی آواز آئی۔ وہ کب سے اسی آواز کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ فوراً سے بیڈ پر سے اتری اور نووارد کو دیکھنا چاہا۔
آنے والے کو دیکھ کر اس کی سنہری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
******************
"مجھے سمجھ نہیں آ رہا آخر تم ہمارے ساتھ کیوں نہیں آ رہی؟"
نگینہ آنٹی سر پر ڈوپٹہ اوڑھے، صوفے پر بیٹھی تھیں۔ ان کے پاس ہی شایان بیٹھا ہوا تھا جس کی کمر نگینہ بیگم وقفے وقفے سے سہلا رہی تھیں جبکہ زینب سر تانے کھڑی تھی۔ اس نے کندھے سے اپنی بیٹی کو لگایا ہوا تھا۔ اس نے سفید رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا۔ نیٹ کا سفید ڈوپٹہ اس کے بالوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ نگینہ بیگم اپنی بہو کو تیکھی نگاہوں سے گھور رہی تھیں۔
"تم چاہتی تھی تم عدت اسی گھر میں گزارو۔ ہم نے یہ بات مان لی مگر تم ابھی بھی یہاں رہنے پر بضد ہو۔ جب میرا بڑا بیٹا تم لوگوں کا کفیل بننا چاہتا ہے، تو تم اس بات کی کیوں مخالفت کر رہی ہو؟" نگینہ بیگم آج بہت تلخ لہجے میں تھیں۔
"ان دونوں کو دیکھ رہی ہیں آپ؟" زینب ان ہی کے انداز میں بولی۔ "یہ جو کچھ بھی کر رہی ہوں، اپنے ان ہی دونوں بچوں کے لیے کر رہی ہوں۔ ان کا باپ ضرور مرا ہے مگر ان کی ماں ابھی زندہ ہے اور اس میں اتنی طاقت ہے وہ اپنے بچوں کی روٹی خود کما سکے اور کسی دوسرے پر انحصار نا کرے۔"
"وہ کوئی دوسرا نہیں ہے ان بچوں کا تایا ہے۔ وہ ان کا اپنا ہے۔" نگینہ بیگم نے غصے سے زینب کو بآور کروایا۔
"جی میں اچھے سے جانتی ہوں وہ بچوں کا تایا ہے مگر وہ میرے بچوں کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔" زینب نے آج کسی قسم کا لحاظ نہیں رکھا تھا۔
"زبان سنبھال کر بات کرو لڑکی!" نگینہ بیگم طیش میں اس قدر اونچا بولیں کہ ان کے پاس بیٹھا ننھا شایان, سہم کر ان کے پاس سے اٹھ کر اپنی ماں کی ٹانگوں سے لگ گیا۔
"جی میں زبان سنبھالی رکھوں اور آپ کا بیٹا! وہ میرے شوہر کا پورا کاروبار سنبھال چکا ہے۔ اس نے میرے اور عمر کے سارے شیئرز اپنے نام کروا لیے ہیں اور آپ کہتی ہیں میں اپنے بچوں کا مستقبل ایسے دھوکے باز شخص کو دوں!"
"تو بی بی تم نے عدت میں بھی اپنے شوہر کے دفتر میں جانا تھا۔ ایک تو میرے بیٹے نے تمہارا لحاظ کرتے ہوئے اپنی نوکری چھوڑ کر بھائی کا کاروبار سنبھالا اور تم ہو میرے بیٹے کو ہی برا بھلا کہے جا رہی ہو۔ یہ مت بھولو تم ابھی کھڑی میرے مرے بیٹے کے گھر میں کھڑی ہو اور اگر میں چاہوں تو دھکے دے کر نکال سکتی ہوں!"
نگینہ بیگم نے گردن اکڑا کر کہا۔ زینب نے اگلے ہی پل ان کی یہ خوش فہمی دور کردی۔
"کس بیٹے کا مکان؟ یہ گھر میرے نام ہے۔"
یہ بات سن کر نگینہ بیگم کو جھٹکا لگا۔
"تمہارا دماغ تو درست ہے؟"
"جی میرا دماغ بالکل ٹھیک ہے۔ کیا آپ کے بیٹے نے آپ کو بتایا نہں وہ یہ گھر کب کا میرے نام کر چکا ہے؟" زینب نے اس بار ابرو اٹھا کر تیکھی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔
"ناممکن! ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ میرا بیٹا ایسا کچھ بھی کرنے سے پہلے مجھ سے ضرور پوچھتا۔" نگینہ بیگم نے بے یقینی سے کہا۔
"آپ کے بیٹے نے تو اور بھی بہت کچھ آپ سے پوچھے بغیر کیا ہے۔ لیکن خیر!" زینب نے سنسنی انداز میں بات ادھوری چھوڑی۔ " اب آپ مجھے اس گھر سے نہیں نکال سکتیں۔"
نگینہ بیگم کچھ پل کے گنگ ہوگئیں۔ ان کی نظر زینب کے ساتھ کھڑے شایان پر گئی۔
"تم میرے ساتھ نہیں جا سکتی تو ٹھیک ہے لیکن میں اپنے بیٹے کی نشانی کو تمہارے پاس نہیں چھوڑوں گی۔" نگینہ بیگم نے اب کی بار بازی پلٹی اور اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر شایان کو پکڑنا چاہا۔
شایان اپنی دادی کے ارادے بھانپ گیا تھا، اسی لیے اپنی ماں کی ٹانگوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ زینب نے اپنا ایک ہاتھ شایان کی کمر پر رکھا اور غرا کر بولی۔
"خبر دار جو آپ نے میرے بچے کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا، میں بتا رہی ہوں میں آپ کی عمر کا لحاظ نہیں کروں گی۔"
"تو تم کیا سوچتی ہو میں اپنے خون کو تمہارے اور تمہاری منحوس بیٹی کے پاس چھوڑوں گی جو آتے ساتھ ہی اپنے باپ کو کھا گئی!"
اب زینب کی بس ہوگئی تھی۔ وہ قدم قدم چلتی نگینہ بیگم کے پاس آئی اور ان کی آنکھوں میں دیکھا۔ زینب کی سیاہ آنکھوں میں اس قدر سفاکیت دکھائی دے رہی تھی کہ نگینہ بیگم ایک قدم پیچھے ہوئیں۔
"میری بیٹی کو منحوس مت بولیں۔ میں نے کہا نا میں بس آپ کی عمر کا لحاظ کر رہی ہوں۔ بہتر ہوگا آپ خود میرے گھر سے باہر نکل جائیے کیونکہ اس عمر میں آپ کو دھکے دیتے ہوئے مجھے اچھا نہیں لگے گا۔"
"میرا بیٹا ہی دیکھے گا اب تمہیں!" نگینہ بیگم کو اس سے خوف آرہا تھا۔ نگینہ بیگم اس کے سامنے سے ہٹتی ہوئیں، اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔ وہ اپنا سامان سمیٹنے جا رہی تھیں۔
"آپ کا بیٹا مجھے دیکھنے نہ ہی آئے تو بہتر ہے۔ اس کے خلاف فراڈ کا تگڑا کیس تیار ہے۔ میرے پاس ثبوت اور گواہ دونوں ہیں۔ اور قانون یہی دونوں چیزیں مانگتا ہیں۔"
زینب کی آواز نگینہ بیگم کے کمرے تک پہنچ گئی تھی۔
*****************
"کیسی ہو پیاری دوست؟"
نمرہ کے چہرے پر تپا دینے والی مسکراہٹ تھی۔ وہ قدم قدم چلتی عالیہ کے بالکل سامنے کھڑی ہوگئی۔ عالیہ کے چہرے پر اس وقت بس حیرانگی تھی۔
کیا کوئی شخص دوست کو اس قدر دھوکا دے دینے کے بعد بھی یوں ڈھٹائی سے کھڑا ہوسکتا تھا؟ وہ جانتی تھی نمرہ نے اسے دھوکا دیا تھا مگر اپنا دھوکا کھل جانے کے بعد بھی دھوکے باز کو شرم نہیں آتی ہے؟ نمرہ کو کیا بالکل بھی احساس نہیں تھا وہ دوستی جیسے رشتے کو کس طرح استعمال کر چکی تھی۔
"نمرہ!"
عالیہ نے اسے پکارا۔ آج یہ نام کسی اجنبی کا نام لگتا تھا۔
"ہاں!"
"کیا ہم دونوں کے درمیان اتنے سالوں سے کبھی کچھ نہیں تھا؟" عالیہ کی آنکھوں میں نمی بھرنے لگ گئی۔ وہ دوست جو اس کے نزدیک بہت بیوقوف تھی، آج پتہ چلا تھا وہ کتنی سمجھدار تھی۔ اگر ان سب میں کوئی بیوقوف تھا، تو وہ بس عالیہ ہی تھی۔
"نہیں تو، ہمارے درمیان ایک بہت انوکھا رشتہ تھا عالیہ!" سیاہ آنکھیں سرد تھیں، جو سنہری آنکھوں کی نمی کو بھی جما رہی تھیں۔ " ہم دونوں نے یک طرفہ جذبات سے ایک انوکھا رشتہ بنایا ہے۔"
سنہری آنکھیں اب اپنی جگہ جامد تھیں۔
"تم نے اس جذبے میں یک طرفہ محبت ڈالی اور میں نے یک طرفہ نفرت! میں تم سے شروع سے ہی نفرت کرتی آئی ہوں۔"
"تم جب کراچی سے اسلام آباد آئی تھی؟" عالیہ نے پوچھا۔
"ہاں! جب میں نے تمہارے گھر میں پہلا قدم رکھا تھا اور تمہیں دیکھا تھا تب سے مجھے تم بری لگنے لگی تھی۔"
"اس کا مطلب ہے عزاہ...!"
"ہاں تم بالکل ٹھیک سوچ رہی ہو۔ وہ ہمیشہ سے صحیح تھی۔ اگر کوئی بیوقوف تھا تو وہ تم تھی۔" نمرہ نے عالیہ کی بات کاٹی۔ اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔
"واقعی میں ان سب میں اگر کوئی بیوقوف تھا تو وہ میں ہی تھی!"
عالیہ نے دھیمے لہجے میں کھلے عام اعتراف کیا تھا۔
*********************
"آپ دونوں کے درمیان تو کبھی بنتی نہیں تھی ناں!" جائی یانہ کا اشارہ عزاہ اور عالیہ کے گزشتہ تعلقات پر تھا۔ اس کے بولنے پر عزاہ تلخی سے مسکرائی۔
" ایک دوسرے کو ناپسند کرنے کا یہ مطلب تھوڑی ہے میں اس سے نفرت کرتی ہوں۔ ہم لوگوں نے ایک لمبا عرصہ ساتھ گزارا ہے۔ ہم دونوں کے درمیان ایک وقت میں بہت محبت تھی۔ بس ایک لڑائی نے ہم دونوں کو دور کردیا۔ وہ لڑائی جو ہم دونوں کے درمیان ہوئی تھی یا پھر اب اگر دیکھوں تو ایسا لگتا ہے یہ لڑائی ہم دونوں کے درمیان کروائی گئی تھی۔"
جائی یانہ عزاہ کو غور سے دیکھنے لگ گئی۔ آج پہلی بار وہ یہ بات کسی کو بتانے جا رہی تھی۔
کیا تم اس کے لیے تیار ہو؟
*****************