
انگریزی ترجمہ ابھی دستیاب نہیں ہے — اردو اصل دکھایا جا رہا ہے۔
☆ ☆ ☆
پیش لفظ
رات کا آخری پہر
کراچی کی بندرگاہ پر وردی میں ایک حیرت انگیز شخصیت دکھتی تھی۔ اس کی گہری آنکھیں سیاہ تھیں، خاموش شدت سے چمکتییں۔ اس کی پر اعتماد چال میں با اختیار ہونے کا احساس واضح تھا جبکہ اس کی حد درجہ مردانہ آواز نے آس پاس کے لوگوں کو سکون بخشا تھا۔ اس کی مسلط موجودگی کے باوجود، اس کی مہربان اور ہمدرد طبیعت چمکتی تھی جس میں سختی اور رعب کی آمیزش تھی۔ اسی رعب نے اس کو ایک قابل احترام اور محبوب شخصیت بنا دیا تھا۔ وہ حسین نہیں تھا بس پر کشش تھا۔
حر حیدر شاہ، ایک نوجوان اور پر جوش سی ایس ایس افسر، کراچی کی ہنگامہ خیز بندرگاہ پر کھڑا تھا، اس کی آنکھیں فخر اور مقصد کے حصول کے لیے ترس رہی تھیں۔ ڈاکوؤں کی تلاش میں جگہ کو سکین کر رہی تھیں۔ 29 سال کی عمر میں وہ پہلے ہی اپنی سر توڑ محنت سے وہ حاصل کر چکا تھا جس کے لئے لوگ ساری زندگی خواب دیکھتے تھے۔ محکمہ کسٹم میں اسسٹنٹ کلیکٹر بن جانا ایک دنیا کا خواب تھا۔ آج اسسٹنٹ کلیکٹر کے طور پر اس کا اب تک کا سب سے بڑا آپریشن تھا اور وہ اسے کامیاب بنانے کے لیے پر عزم تھا۔ انٹیلیجنس نے تجویز کیا کہ ممنوعہ اشیاء کی ایک بڑی کھیپ بندرگاہ پہنچنے والی تھی، جو کارگو کے درمیان چھپی ہوئی تھی۔حر کی ٹیم اس سراغ لگانے کےلیے انتھک محنت کر رہی تھی۔ سورج طلوع ہونے کو تھا اور آخر کار فتح کا لمحہ آپہنچا۔ حر کے ریڈیو سے ایک آواز گونجی۔
"سر ہمیں مل گیا!" اس کی ٹیم کے ایک رکن نے جوش سے کہا تھا
"کنٹینر نمبر 132-TK پر مشکوک نشانات ہیں۔ ہمیں معائنہ کرنا چاہیے۔" حر حیدر کا دل زور سے دھڑکا۔ یہ تھا اسسٹنٹ کلیکٹر کے طور پر اب تک کا سب سے بڑا امتحان اس نے سر ہلا کر ان کو اجازت دی اور کنٹینر کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ کنٹینر کے پاس پہنچا تو اس کی ٹیم پہلے ہی اسے گھیرے کھڑی تھی۔ ان کی نظریں حر کے ایک اشارے کی محتاج تھیں۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ سب ایک دم حرکت میں آگئے۔ ایک زور دار چیخ کے ساتھ کنٹینر کا دروازہ کھلا کچھ رکن کنٹینر میں گھس گئے۔ وہ اپنے ساتھ موجود ایک انٹیلیجنس افسر سے کچھ بات کر
رہا تھا جب ایک پکار اس کے کانوں میں پڑی۔
"سر، ہمیں مل گیا ہے!" اس نے اپنے اوپر فخر اور راحت کی ایک لہر محسوس کی۔ حر اور اس کی ٹیم نے ممنوعہ اشیاء کے ایک بڑے ذخیرے کا پردہ فاش کر دیا تھا، جس کی مالیت بلیک مارکیٹ میں کروڑوں میں تھی_ اس کی زندگی کا سب سے بڑا آپریشن، ایک شاندار کامیابی بن چکا تھا۔ اگلے چند گھنٹے اور بھی مصروف گزرے کیونکہ انہوں نے ممنوعہ اشیاء کو ضبط کیا، سمگلروں کو گرفتار کیا اور جائے وقوعہ کو محفوظ بنایا۔ جیسی ہی سورج بندرگاہ پر پوری طرح طلوع ہوا، حر صحافیوں اور کیمروں کے سمندر کے سامنے کھڑا تھا۔
"السلام علیکم!" اس نے بولنا شروع کیا، اس کی آواز پر اعتماد اور حسین تھی۔ ٹھہری نرم آواز جس میں رعب واضح تھا۔
"آج ہم نے مجرمانہ انڈرورلڈ کو ایک اہم دھچکا پہنچایا ہے۔ ہماری ٹیم نے اس آپریشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انتھک محنت کی ہے اور مجھے یہ کہتے ہوئے فخر ہے کہ ہم کامیاب ہوئے ہیں۔" اس کی سانولی جلد دھوپ کی تپیش سے سونے کی مانند مک رہی تھی۔ کیمرے فلکس اور سوالات کی بوچھاڑ اس پر کر دی گئی۔ہر جواب میں اس کا اعتماد اور شائستگی واضح تھی۔ جیسے ہی پری کانفرنس اختتام کو پہنچی، حر کا چہرہ فخر اور کامیابی کے احساس سے تمتما رہا تھا۔ یہ سب اس کے سفر کا آغاز تھا اور آگے جو کچھ تھا وہ اس کے لیے تیار تھا۔
*****
20 ستمبر کی حسیں فجر جب اس سبز پرچم والے خوبصورت بنگلے پر اتری تو اس کی دوسری منظر کی ایک کھڑکی سے روشنی باہر آ رہی تھی۔ اندر آ کر دیکھو تو ایک بھورے بالوں والی لڑکی سر کا مسح کر رہی تھی۔سیاہ آنکھیں سامنے آئینہ میں دیکھتے عکس پر جمی ہوئی تھیں۔ٹھوڑی سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔
نوروز جعفری حسین تھی، بہت حسین ٹھنڈے پانی نے ناک اور گالوں کو سرخ کر دیا تھا۔ لبوں پر مدہم سی مسکراہٹ لیے اس نے ایک نظر خود پر ڈالی۔وہ وضو کر کے باہر آئی تو سامنے پر یسہ بیٹھی نماز پڑھ رہی تھی۔ ان دونوں کی عمر تقریباً برابر لگتی تھی۔ اس کے ساتھ سیاہ جائے نماز پر ایک سولہ، سترہ سالہ بچی بیٹھی تھی۔ وہ سیاہ تسبیح انگلیوں میں گھماتی اونگھ رہی تھی۔ وہ ایک درمیانے سائز کا کمرہ تھا، ساری دیواریں سفید تھی ماسوائے ایک کہ جس پر اللہ کا بڑا سا فریم لگا تھا وہ دیوار ہلکی سرمئی رنگ کی تھی۔اس فریم سے سفید روشنی نکلتی تھی۔ کمرے میں فرنیچر کے نام پر تین ٹیبلز رکھی تھیں۔ جن پر ان کے ہم رنگ قرآن اور تسبیحات ان کو کسی ایک شخصیت سے سے منصوب کرتے تھے۔
بھوری میز پر بھورا قرآن رکھا تھا اور پر یسہ بھوری جائے نماز پر بیٹھی، اب بھوری تسبیح کے دانے گھما رہی تھی جبکہ حالہ کی ہر چیز سیاہ تھی کیونکہ وہ سمجھوتہ نہیں کرتی تھی اور تیسری میز خود بھی سفید تھی اور اس سے منصوب ہر چیز بھی مگر اس میز پر دو اضافی چیزیں بھی رکھی تھیں۔ایک ڈائری اور ایک سفید قلم جس پر ننھے سرخ حروف سے نوروز کندہ کیا گیا تھا۔رنگ انسان کی عکاسی کرتے ہیں اور یہ کمرہ اور اس میں رکھی اشیاء اسبات کا منہ بولتا ثبوت تھیں۔
نوروز نے سفید جائے نماز بچھائی تھی۔ حالہ جا چکی تھی اور پر یسہ اپنی جائے نماز تہہ کر رہی تھی۔ نوروز نے اپنی نماز مکمل کی اور پھر اٹھ کر اپنی ٹیبل پر آ بیٹھی۔اس پر رکھا قرآن اٹھایا اور اسے چوم کر سینے سے لگایا۔ اس کا دل آج معمول سے زیادہ بھاری تھا۔ اس نے نشان لگا کھلا اور بسم اللہ پڑھ کر آیات پڑھنا شروع کیں پھر ان کے نیچے لکھے ترجمے پر بھی نظر ڈالی۔
" اور آخر ہم کیوں اللہ پر بھروسہ نہ رکھیں؟ جبکہ اس نے ہمیں ان راستوں کی ہدایت دے دی ہے، جن پر ہمیں چلنا ہے_ اور تم نے ہمیں جو تکلیفیں پہنچائی ہیں، ان پر ہم یقیناً صبر کریں گے اور جن لوگوں کو بھروسہ رکھنا ہو، انہیں اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔" دل پہلے ہی بھاری تھا اور اب خدا نے دلاسہ بھی دے دیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے چند قطرے گالوں پر بہہ گئے۔ اس نے آستین میں آنسو بھر کر سامنے لگے اللہ کے فریم پر نظر ڈالی۔
"آپ کو سب معلوم ہوتا ہے۔آپ قرآن میں ہزار سال پہلے میرے آج کے دل اور دماغ کا حال کیسے لکھ سکتے ہیں؟ کوئی اتنا خوبصورت، اتنا شاندار نہیں ہو سکتا پر خدا، رب، جس نے مجھے پیدا کیا ہو وہی مجھے اس طرح سے جان سکتا ہے۔" اس نے قرآن کو چوم کر بند کیا اور پھر میز پر سر رکھے رونے لگی۔اس کو اپنا اپ خدا کے سامنے ہلکا کرنے کی عادت تھی۔"آپ نے بابا جان کو کیوں چھین لیا، اللہ تعالی؟ میں بہت اکیلی ہو گئی ہوں ۔مجھے اپنی بہنوں کی حفاظت کرنی ہے پر مجھ میں اب اتنی طاقت نہیں رہی۔ میں خود کو اور ان دونوں کو اس ظالم دنیا سے کیسے بچاؤں جو بابا کو کھا گئی۔میں کیا کروں، اللہ تعالی؟ نوروز بابا جان کے بعد بہادر نہیں رہی۔" اس کی آنکھیں بہارہی تھیں۔ اس نے آنکھیں رگڑ کر سامنے رکھے قلم کو دیکھا۔ وہ اسے حسرت سے دیکھ رہا تھا ڈائری بھی منت کرنے کو تھی۔ اس نے آنکھیں زور سے ملیں اور پھر مسکرادی۔
"سب ٹھیک ہے، کچھ غلط نہیں ہو گا۔میں عرش جعفری کی بیٹی ہوں۔ میں سب کر سکتی ہوں۔ " وہ خود کو دلاسہ دے کر اٹھی اور اپنے کمرے کا رخ کیا۔ وہاں آکر اس نے سر پر لپٹا اسکارف کھول کر ڈریسنگ کے ساتھ لٹکا دیا۔ فون اٹھا کر وہ ائیر پیس کانوں میں لگاتی کمرے سے باہر نکل گئی ۔سورج افق سے طلوع ہو چکا تھا۔ ہلکی روشنی پھیل رہی تھی۔ اس نے کچن میں آکر فون سلیب پر رکھا اور پہلے لسٹ آن کی، ساس پین نکال کر چائے رکھی اور کچن کی کھڑکی کھول دی_ کانوں میں نعت کی گونج رہی تھی۔
اے صبا مصطفی سے کہہ دینا
غم کے مارے سلام کہتے ہیں
یاد کرتے ہیں تم کو شام و سحر
دل ہمارے سلام کہتے ہیں
نوروز کے دل سے تمام وسوسے نکل چکے تھے_ دل پر سکون ہونے لگا تھا۔ چائے کو سفید مگ میں ڈال کر وہ کیبنٹ سے بسکٹ نکال رہی تھی۔ وہ ٹرے بنا کر لاؤنج میں لائی تو پر یسہ سامنے ہی نیوز لگا کر بیٹھی ہوئی تھی۔ نوروز اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور کان سے ائیر پیس نکال کر رکھ دیے۔ پھر کیچڑ سے اپنے بال آزاد کیے۔ وہ کچھ گیلے سے تھے۔ بھوری ریشم جو کمر سے کچھ نیچے تک آتی تھی، ہوا سے پیچھے کو اڑنے لگی۔اس کی دل ربا سی آنکھوں میں پیار تھا۔
"پری، یہ لو۔" وہ اس کو سینڈوچ پکڑارہی تھی، پر یسہ نے اس کے ہاتھ سے سینڈوچ پکڑا، نظریں اب بھی نیوز پرتھیں۔ اب اس کی نظر سکرین پر دیکھتے شخص پر گئی_ حر حیدر شاہ، پریس کانفرنس کر رہا تھا۔اس کی آنکھیں سکرین سے چمک سی گئی تھیں۔ بہت سال پہلے والا حر حیدر آیا تھا۔ پر یسہ اس کے ساتھ ہی بیٹھی، بہت توجہ سے اسے حر کو سن رہی تھی۔ رک رک کر سینڈوچ بھی کھاتی جاتی۔
"روز، یہ کتنا پر اعتماد اور باوقار ہے نا؟ یاد ہے جب بابا جان کے پاس آتا تھا کیسا سالکا تھا_ سر تک نہیں اٹھاتا تھا۔" پر یسہ ہنس کر بولی تو نوروز نے کوئی جواب نہیں دیا بس مسکرادی۔
"تم یہ دیکھو کہ اس نے سمگلنگ کا پردہ چاک کرنے کا اتنا بڑا کام کیا ہے ! آخر بابا جان کا سٹوڈنٹ ہے۔ یہ جنون تو بنتا ہے۔ " نوروز نے سر اثبات میں ہلا دیا۔آنکھیں رشک سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
"وہ پر اعتماد ہی نہیں، ایماندار بھی ہے اس کی آنکھوں
سے ایمان داری جھلکتی ہے۔جیسے یہ بات کرتا ہے، لہجے سے سچائی کی خوشبو آتی ہے۔ پتہ نہیں لوگ اسے غصے والا اور سر پھرا کیوں کہتے ہیں؟" نوروز کو اس کی تعریف کرتے دیکھ پر یسہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
"روز، تم اس سے متاثر ہو، کیا تم نہیں؟" نوروز قدرے شرمائی مگر نظریں اب بھی حر حیدر کے چہرے پر تھیں تو ظاہر نہیں ہوا۔
"میں ہوں متاثر، پری، ہر روز ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کسی کو اپنے کام کے بارے میں اتنا پر جوش دیکھیں۔ویسے یہ متاثر کن نہیں ہے۔" نوروز کے آخری جملے پر پر یسہ شرارت سے ہنس دی۔ "اگر وہ بہت ہینڈسم ہوتا تو میں کہتی کہ تم۔۔۔!" اس کی بات سن کر نوروز ہنس دی۔
"اچھا چلو وہ بھی مان لیا مگر۔۔۔" وہ ہنستی ہوئی ایک دم سنجیدہ ہوئی۔
"نہیں پری، یہ سب اس سے بڑھ کر ہے۔ شکل، صورت اور محبت سب کچھ نہیں ہوتا۔ وہ ایک عظیم انسان لگتا ہے جس میں دیانتداری اور اقدار ہیں۔ یہی چیز مجھے واقع پرکشش لگتی ہے۔" پریسا نے سمجھ کر سر ہلایا۔
"مطلب اس میں یہ سب ہے اور تمھیں وہ پرکشش لگتا ہے!" نوروز نے چونک کر اس کا چہرہ دیکھا جہاں صرف شرارت تھی۔
"ششش!" وہ ہنستی ہوئی ٹرے اٹھا کر چلی گئی۔ وہ مستقبل کے بارے میں بہت کم جانتی تھی کہ جلد ہی ان کے راستے ٹکرا جائیں گے اور ان دونوں کی زندگیاں ان طریقوں سے بدل جائیں گی جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ وہ ٹرے رکھ کر کمرے میں چلی گئی تھی ۔ آدھے گھنٹے بعد یونیورسٹی کے لیے نکلنا تھا۔
*****
جیسے ہی پریس کانفرنس ختم ہوئی، حر کا فون اس کے ساتھیوں اور اعلیٰ افسران کی مبارکباد سے گونج اٹھا۔ وہ اپنی محنت کی توثیق اور خوشی سے مسکرا دیا۔ چیف کلکٹر، مسکراہٹ کے ساتھ اس کے پاس آیا۔
"حر، واہ لڑکے! تم نے تو مجھے خوش کر دیا ۔ سلطان کو فخر ہوگا تم پر۔ تمھاری مہارت نے تو میرا سر فخر سے بلند کر دیا۔" وہ اس کا کندھا ٹھوک کر بولے تھے۔
"شکریہ جناب، مگر میں اپنی ٹیم کے تعاون کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ وہ بھی اس مبارکباد کے حقدار ہیں۔"رپورٹرز اب چیف کلکٹر کو دیکھ کر ان کی طرف دوڑ پڑے تھے۔ رپورٹرز کی دھکم پیل اور آگے بڑھ کر سوال پوچھنے کی جستجو میں دھکا پڑنے سے ایک چھوٹا لڑکا حر کے قریب آکر گر پڑا۔ حر نے ایک نظر ان سب پر ڈالی تو وہ ٹھم گئے۔ اس نے ہاتھ دے کر اس لڑکے کو اٹھایا اور پھر رپورٹرز کو واپس جانے کے لیے ہاتھ جھلا دیا۔ وہ سب واپس مڑ گئے تھے۔
"تم نے صحیح دہشت پھیلا رکھی ہے!" انہوں نے حر سے مسکرا کر کہا تھا۔ ان کی حر سے بہت بے تکلفی تھی۔
"دہشت کیا؟ ایک دو کے کان لال کر دو تو بندہ بدنام ہو جاتا ہے۔" حر نے کان کے پیچھے ناخن رگڑ کر مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
"میں تمھاری ترقی کے بارے میں سوچوں گا۔" چیف کلکٹر اس کی پیٹھ ٹھوک کر بولے اور دوسری جانب چلے گئے۔ مہینوں کی انتہک محنت کے بعد یہ پہچان اور تعریف کیک پر آئسنگ جیسی تھی۔
*****
نوروز جعفری یونیورسٹی میں کتابوں اور نوٹس کے ڈھیر میں گھری بیٹھی تھی۔ سیاہ عبایا اور سیاہ ہی نقاب جس سے جھلکتی آنکھیں بھی سیاہ تھیں، بے حد پرکشش۔ ہاتھوں میں زیور کے نام پر ایک انگوٹھی اور ہلکے بڑھے ناخن، جن کو نفاست سے تراشا گیا تھا۔ وہ اپنی پڑھائی میں مگن تھی۔ اس کا پرسکون انداز، آس پاس کی افرا تفری کے بالکل برعکس تھا۔ اچانک کسی آواز نے اس کے سکون میں خلل پیدا کیا۔
"ہیلو روز، کیا میں تم سے ایک منٹ کے لیے بات کر سکتا ہوں؟" وہ آہٹ سے پہچان چکی تھی تو وکس کر چہرہ اٹھایا۔ سامنے کھڑا لڑکا دراز قد تھا۔ کھلا گریبان، گلے میں لٹکتی چین اور دانتوں میں دبا کاغذ۔ نوروز نے ایک ٹھنڈی آہ بھری، اب علی اس کے سر پر سوار ہونے والا تھا۔
"کیا بات ہے علی؟" اس نے سکون سے پوچھا تھا۔ علی کرسی نکال کر بیٹھا اور اس کے قریب جھکا، اس کی آواز دھیمی تھی، قائل کرنے والی۔
"روز، میں۔۔۔" نوروز نے اس کی بات پہلے لفظ پر ہی کاٹ دی تھی۔
"نوروز!" اس کا لہجہ صبح کی شرمیلی لڑکی سے یکسر مختلف تھا۔
"نوروز میں جانتا ہوں کہ ہم دونوں میں بہت فرق ہے لیکن ہم ایک بہترین ٹیم بن سکتے ہیں۔ ہم مل کر پڑھائی کریں گے، نئے آئیڈیاز پر کام کریں گے، کافی پینے جائیں گے اور۔۔۔" وہ اسے پرامید نظروں سے دیکھ رہا تھا جب اس کی بات دوسری دفعہ کاٹی گئی۔
"علی میں تمھاری پیشکش کا احترام کرتی ہوں، لیکن مجھے اس میں دلچسپی نہیں ہے۔ میری ترجیحات مختلف ہیں۔ نہ کہ یہاں دیکھنے والے دوسرے شخص کی طرح عشق، محبت اور ڈیٹنگ۔" اس کی بات سن کر علی کا چہرہ بجھ گیا،لیکن اس نے ہار ماننے سے انکار کیا۔
"چلو پھر، صرف ایک کافی؟ میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمھاری حدود کا احترام کروں گا۔" نوروز کے پرسکون انداز میں جھنجھلاہٹ پیدا ہوئی تھی۔
"علی، تمھیں میرے فیصلے کا احترام کرنا ہے اور میں تمھیں انکار کر چکی ہوں۔ اب مجھے اکیلا چھوڑ دو۔" علی نے اس کا چہرہ دیکھا، ایک پل کو اس کے چہرے کے زاویے بگڑے مگر پھر وہ مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
"حسن ہو اور نخرہ نہ ہو۔" وہ ذرہ بلند آواز میں بولا تھا۔ دو چار لوگوں نے اسے مڑ کر دیکھا اور دو چار نے نوروز کو۔ وہ پرسکون ہو کر بیٹھی رہی۔ وہ خدا کی بنائی حدود کو پامال نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ خود کو جانتی تھی، خود کو نفس کی خواہشات کے پیچھے لگا کر بے وقار کر دینا دنیا کی سب سے بڑی بے وقوفی تھی اور نوروز جعفری اپنا ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی عادی تھی۔ اب اگر اس نقاب والی خودار لڑکی کو چھوڑ کر یونیورسٹی کے دوسرے حصے میں آؤ تو یہاں بھی ایک خودار لڑکی کھڑی تھی۔ نیلے رنگ کا عبایا پہنے وہ ہم رنگ سکارف ذرہ ڈھیلا سا لپیٹے کھڑی تھی۔ اس کی آنکھیں زرہ تیکھی تھیں۔ بدامی رنگ کے تیکھے نقوش، وہ ایک دراز قد لڑکے کے سامنے کھڑی تھی۔ وہ لڑکا اسے کچھ بتا رہا تھا اور وہ مگن سی اسے سن رہی جیسے اس کے سننے کے علاوہ دنیا میں کوئی دوسرا کام باقی نہ ہو۔۔۔
"اب ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں، تم بتاؤ، کافی پینے چلیں؟" پریسا نے ایک ابرو اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس کی نظرکچھ نہیں تھا۔ بس ایک سادہ سی نظر کا سادہ سا سوال۔ صالح ابراہیم زرہ سٹپٹا گیا۔
"میرا مطلب تھا کہ ہم ہیر اور روز کو بھی ساتھ لے چلتے ہیں۔" پریسا اس کو سن کر مسکرا دی۔
"چلو۔" اب وہ اس دراز قد لڑکے کے پیچھے چل رہی تھی۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور ایک لڑکی سے کچھ بات کی۔ وہ مشتعل لگتی تھی۔ اس نے صالح کو ہاتھ کے اشارے سے چلے جانے کا کہا۔ وہ چہرے سے مایوسی لیے واپس لوٹ آیا۔
"نہیں مانی نا؟ دیکھو صالح، میں نے پہلے بھی کہھی تمھیں کہا ہے کہ خودار بنو، اپنی ذات کو معزز رکھو کیوں اس کی نظر میں گرے جا رہے ہو؟ پریسا فکرمندی سے کہہ رہی تھی۔
"محبت سے دستبرداری دینا آسان نہیں ہوتا مگر تم نہیں سمجھ سکتے نہ۔" وہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔ پریسا کے چہرے پر ایک زخمی مسکراہٹ ابھری۔
"سمجھ تو تم نہیں سکے، صالح ابراہیم!" وہ اس کے پیچھے قدم اٹھاتی اب لائبریری کی جانب بڑھی۔ اسے دور بیٹھی نوروز نظر آئی تو وہ تیزی سے اس کے پاس آئی، صالح بھی اس کے پیچھے ہی تھا۔
"روز، کافی پینے چلو گی؟ پلیز۔۔۔" پریسا اس کے ساتھ بیٹھتی اس کے کندھے پر سر رکھتی بولی۔ اس نے ایک نظر اپنی بہن پر ڈالی دوسری ماموں زاد پر۔ اس کی آنکھوں میں نرمی تھی، فکر بھی تھی۔ وہ کچھ لمحے پریسا کو دیکھتی رہی۔ "چلو!" پریسا پرجوش سی اٹھ کر کھڑی ہوئی۔ نوروز اپنے نوٹس فائل میں لگا رہی تھی۔ آج صالح ان کو ایک نئے ریسٹورنٹ لے آیا تھا ۔ نوروز اپنے فون پر ایک پریس کانفرنس کے بعد کے مناظر دیکھ رہی تھی۔ ان دونوں کی کافی آچکی تھی، نوروز نے اپنے لیے ملک شیک آرڈر کیا تھا۔ اس نے نقاب زرہ سا اٹھا کر سٹر سے ایک سپ لیا۔ پھر آنکھیں بند کر کے مزہ لیا اور کہنے لگی۔
"یہاں ہم پہلے کیوں نہیں آئے؟ کیا کمال ذائقہ ہے!" پریسا جو اپنی کافی کی تصویر انسٹاگرام پر اپلوڈ کر رہی تھی۔
اس کو دیکھ کر مسکرائی۔
"ہم یہاں بابا جان کے ساتھ آئے تھے، روز۔ تمھیں کہاں یاد ہوگا۔" ایک اس کی میموری! ! !
پریسا کہہ کر اپنے موبائل پر مصروف ہو گئی۔ صالح نے نقاب میں سے جھلکتی آنکھوں کی جوت بجھتے دیکھی۔
"روز، اب تم اداس پنچھی مت بن جانا ویسے ہی زمانہ بہت خراب ہے، کسی محبت کی قدر نہیں۔" وہ مصنوعی دکھ سے بولا تو نوروز برس پڑی۔
"صالح، زمانے کو خراب نہیں کہتے۔ اب کیا فارسی میں سمجھاؤں۔ خدا زمانے کی قسم کھاتا ہے اور جس چیز کی قسم خدا اٹھائے وہ خراب کیسے ہو سکتی ہے؟" پھر ایک گھونٹ بھر کر بولی
"تم ہیر کی بات کر رہے ہو؟ تم نے اسے پروپوز کیا؟ کب؟ کیا کہا ہے اس نے؟" وہ جیسے صالح کی آنکھیں پڑھتی سوال پر سوال کیے گئی۔
"کل کیا اور ہیر نے صاف انکار کر دیا۔۔ آف کورس روز! یہ وہ نہیں ہے جو ہیر جیسی لڑکی کی چوائس بنے۔ وہ ایک شاندار اور قابل رشک انسان سے شادی کرے گی۔۔" پریسا کی بات سن کر وہ اداسی سے بولنے لگا۔ "وہ صحیح سے بات بھی نہیں کر رہی، اب تو ہمارے درمیان کی دوستی بھی نہیں رہی۔"
"جب انسان کو معلوم ہو کہ محبت کے اظہار سے اسے نہ تو محبت ملے گی اور نہ ہی دوستی قائم رہے گی تو خاموش رہنا چاہیے۔ خود کو اپنی اور دوسرے کی نظروں میں گرانا نہیں چاہیے۔" پریسا کا لہجہ زرہ بے لچک سا تھا۔
"Pari, be nice to him."
نوروز ہنسی دبائے بولی۔
"اس کا دل ٹوٹا ہے یار۔ صالح تمھیں اس وقت نصرت فتح علی خان کو سننا چاہیے۔ رکو میں کچھ پلے کرتی ہوں، کیا لگاؤں؟" وہ دانستہ اپنا فون اٹھا کر بولی۔
"دل پہ زخم کھاتے ہیں اور مسکراتے ہیں!" آخر میں اس کی ہنسی نکلی تو پریسا نے اس کے ہاتھ پر تالی ماری۔ وہ دونوں ہنس رہی تھی اور صالح انہیں دیکھ کر کلس کر رہ گیا۔
"آج تو میں پھوپھو کو بتاؤں گا۔ تم دونوں دیکھو زرہ۔" صالح نے تپ کر کہا تو پریسا نے اس کا چہرہ دیکھا جو سرخ ہو رہا تھا۔
"کیا بتاؤ گے؟ کہ تم نے ہیر کو پروپوز کیا تھا؟" نوروز نے ایک ابرو اٹھا کر پوچھا۔
"نہیں، یہ بتاؤں گا کہ علی نے تمھیں پروپوز کیا ہے۔" صالح کی بات سن کر وہ دونوں چونک کر اس کا چہرہ دیکھنے لگیں، پھر نظر گھما کر ایک دوسرے کو دیکھا۔ ایک سیاہ لمحہ گزرا اور وہ دونوں ہنس پڑیں۔
"جاؤ بتاؤ ممی کو، ویسے کیا بتاؤ گے کہ علی نے مجھے پروپوز کیا؟ یہ تو میں ان کو بتا چکی!" نوروز نے معصومیت سے کہا تھا۔"اور یہ بھی بتا دیا کہ اس نے علی کا پروپوزل ریجیکٹ کر دیا ہے۔ اب تم کیا بتاؤ گے؟" پریسا نے بھی اس کی بات کی تقلید کرتے کہا تھا۔ ان دونوں بہنوں کی نگاہ ملی، وہ فکر کی نگاہ تھی۔
"میں دیکھ لوں گا تم دونوں کو۔" صالح نے دانت پسیے کافی کا کپ اٹھایا۔
"پری کو تم دیکھتے رہتے ہو، لیکن اگر میری طرف دیکھنے کا ارادہ ہے تو پہلے سوچ لینا۔" نوروز نے اپنا فون نکال کر چہرے کے سامنے کیا۔
"اٹھو کلاس شروع ہونے میں دس منٹ باقی ہیں۔" وہ پریسا کو کہہ رہی تھی۔ کافی ختم کر کے وہ وہ تینوں واپس یونیورسٹی پہنچے تھے۔ کلاس شروع ہو چکی تھی۔
*****
وہ اسٹر کو اس میں گول گول گھماتی ایک شانِ بے نیازی سے بیٹھی، ذرہ سوچوں میں گم دکھتی تھی۔ کالج کے نیلے اور سفید یونیفارم پر، کندھوں تک آتے بھورے بال اور سیاہ آنکھیں، جن میں بھر بھر کر کاجل لگا رکھا تھا۔ گوری رنگت پر ہلکے گلابی گال اور لپسٹک اسے حسین بناتی تھی۔ اس کو دیکھ کر با آسانی پہچانا جا سکتا تھا کہ یہ عرش جعفری کی چھوٹی بیٹی ہے۔ سامنے سے ایک لڑکی چلتی ہوئی آئی۔ اس کی نظر ہالہ پر پڑی تو وہ اس سے مخاطب ہوئی۔
"کل تمھارے بابا کی برسی تھی نا، ہالہ۔ مجھے لگا تم آج نہیں آؤ گی۔۔" وہ ہالہ کی کلاس فیلو تھی جو دل میں جلن کا کانٹا چھبوئے رکھتی تھی۔
"ہمارے ہاں تو برسی ایک دن کی ہوتی ہے، تم لوگ کیا پورا ہفتہ مناتے ہو؟" اس کے لہجے میں معصومیت تھی، نہ ہی لچک۔ وہ ایک شان سے بال کان کے پیچھے ہٹا کر اور آگے بڑھ گئی۔۔ اس لڑکی نے مڑ کر ہالہ جعفری کو دیکھا تھا۔ جس پر کالج کا ہر وجود مہربان تھا۔ ہر لڑکی کو اس سے انسپائر ہونا تھا تو ہر لڑکے کو اس پر کرش تھا۔ وہ ہر چیز میں پرفیکٹ ہونے کے ساتھ ساتھ بلا کی حسین بھی تھی۔ گریڈز اس کے ایسے تھے کہ ہر ٹیچر کو اس سے محبت تھی۔ وہ چلتی تھی تو محسوس ہوتا تھا کہ جگہ عرش جعفری کے نام سے منسوب ہے۔ اس لڑکی نے سر جھٹکا۔
"اتنا بھی کیا غرور!" اس نے جل کر کہا تو پیچھے سے ہالہ کی آواز آئی۔
"یہ غرور نہیں خودداری ہے،"
And you can also call it boundaries, sweetie."
اس لڑکی نے زبان دانتوں تلے دبائی۔ زبان کے ساتھ ساتھ کان بھی تیز ہیں، دل میں سوچ کر وہ آگے بڑھی۔
ہالہ جعفری سے کچھ چھپا رہے ممکن ہی نہیں۔
*****
کلاس کے بعد پریسا ان دونوں کو چھوڑ کر ہیراد کو ڈھونڈنے لگی تھی۔ جب اس کی نظر دور کھڑی ہیر پر پڑی۔
سفید شرٹ کے ساتھ گہرے نیلے رنگ کی اسکرٹ پہنے، وہ آنکھوں پر کالا چشمہ لگا رکھا تھا۔ سفید اونچی ہیلز اور گہری لپسٹک لگائے، گردن اکڑا کر کھڑی تھی۔ سرخی مائل بال رول کر کے کندھوں پر کھلے چھوڑے رکھے تھے۔ وہ حسین تھی بہت حسین مگر اس کی آنکھوں میں غرور بھی تھا۔ پریسا پر نظر پڑی تو اس نے چشمہ اتارا۔ پریسا اسے اشارہ کر کے وہاں سے گاڑی کی جانب بڑھی تو وہ اس کے پیچھے آئی۔
"ہیر، تم نے اس کا دل بہت بری طرح توڑ دیا۔" پریسا نے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا۔
"وہ مجھے ایک دوست سے زرہ بھی زیادہ پسند تھا اور اب تو اتنا بھی نہیں ہے۔ میں نے اس کے دل کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔" ہیراد نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
"وہ اچھا انسان ہے۔ یوں کہو کہ تم اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہتی ہو۔" پریسا نے نظر پھیری۔
"پری، مجھے ایسے مرد نہیں پسند جو ہر دوسری لڑکی سے باتیں کرتے، ہنستے، مذاق کرتے، لڑکیوں میں شہرت رکھتے ہیں۔ مجھے پسند ہیں تھوڑے الگ مرد جو صرف ایک عورت کے بن کر رہنا جانتے ہوں۔ جس کی دنیا مجھ سے شروع ہو کر مجھ پر ہی مکمل ہو جائے۔ جو ایک لڑکی کے ساتھ رہنا چاہے اور باقی دنیا کی لڑکیاں اس کے لیے بے معنی ہوں۔ جو مجھے اس دنیا کی واحد لڑکی سمجھ کر چاہے یایوں کہوں کہ جس سے مجھے محبت ہو جائے۔"
"ہیر، تم محبت کی بات کر رہی ہو؟ تم محبت پر یقین رکھتی ہو؟ تم نے مجھ سے کہا تھا کہ۔۔۔" پریسا تو اس کی بات سن کر حیران ہی رہ گئی۔
"میں نے کہا تھا کہ 'میں یکطرفہ محبت پر یقین نہیں رکھتی پری، تم جو بے وقوفی کر چکی ہو، وہ میں بالکل نہیں کرنے والی۔" ہیراد آج اسے آئینہ دکھانے میں لگی تھی۔ وہ خاموش ہو گئی۔ اس موضوع پر وہ خاموش ہی ہوا کرتی تھی۔
*****
کالج کی چھٹی ہوئی تو وہ اپنے بیگ کی چھوٹی زپ میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔ ہاتھ میں پکڑا سیاہ نفیس بیگ پھسل رہا تھا۔ بھورے بال پنسل سے جوڑے میں باندھ رکھے تھے۔ اس کے چہرے کی تشویش ایک دم ہنسی میں بدلی۔۔ بالوں تک جاتا اس کا دایاں ہاتھ، جھٹکے سے کندھوں پر بکھرتے بال اور ہاتھ سے بیگ میں منتقل ہوتی پنسل۔۔
یہ حسین منظر دور گاڑی میں بیٹھے ایک وجود نے بھی دیکھا تھا۔
آج ہالہ جعفری کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس کی نظر میں آئی تھی۔ اندازہ تو اس وقت آپ کو بھی نہیں ہے۔
*****
یونیورسٹی کے بعد نوروز، صالح کے ساتھ گھر آئی تھی۔ اس کا ڈرائیور کام چھوڑ گیا تھا اور ابھی کسی دوسرے کا انتظام نہیں ہوا تھا۔ پریسر ہیراد کے ساتھ مال گئی تھی۔
"السلام علیکم!" وہ گھر میں داخل ہوئی تو سامنے کوئی نظر نہیں آیا۔ عائشہ جھاڑو لگا رہی تھی۔
"آپی، تم اکیلی ہو؟ پری کہاں ہے؟ تم پھر مصالحے کے ساتھ آئی ہو؟" ہالہ پیچھے سے آکر اسے چونکاتی ہنستے ہوئے بولی تھی۔
"ہالہ تم اپنی زبان بند رکھا کرو۔۔ کسی دن کاٹ کر پھینک دوں گا۔" صالح جو پیچھے سے آ رہا تھا اس کی بات سن کر آگ بگولا ہوا۔
"میرا باپ ضرور مر گیا ہے مگر اس بات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی بھی آتا جاتا میری زبان کاٹتا پھرے۔"
So, watch your tone."
ہالہ انتہائی بے لچک لہجے میں کہہ کر مڑ گئی تھی۔ نوروز نے اسے جاتا دیکھا پھر صالح کو، جس کی رنگت پھیکی پڑ گئی تھی۔
"اس نے مذاق میں کہا تھا، صالح۔۔ تمھیں لحاظ رکھنا چاہیے۔"
"ہاں، شاید، ہیر کا غصہ اس پر اتار دیا۔۔" وہ زرہ شرمندگی سے بولا۔
"تم جانتے ہو کہ وہ کتنی حساس ہے۔ اچھا بیٹھو میں کھانا لگواتی ہوں۔" نوروز نے بیگ رکھا اور کچن کی جانب بڑھی۔
"نہیں، میرا اپلین ماما کے ساتھ ہے۔ پھوپھو کو سلام کہنا۔۔" وہ واپس مڑ گیا تو نوروز نے اسے جاتا دیکھا پھر ہالہ کےکمرے کا رخ کیا۔ دروازے پر دستک دی تو ہالہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ نوروز نے دو دفعہ دستک دی اور اندر داخل ہو گئی۔
"ہالہ، کیا وجہ ہے کہ آج کل الجھی رہتی ہو؟ صالح سے بھی تلخ کلامی کی اور کمرے سے باہر آنا جانا بھی چھوڑ رکھا ہے۔ ممی روز ڈنر پر تمھارا پوچھتی ہیں۔" نوروز چلتی ہوئی اس کے پاس جا بیٹھی۔
"میں اب کسی سے مذاق نہیں کروں گی۔ آپی، صالح سے ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں۔۔ میری زندگی میں کوئی مرد نہیں ہے، بابا جان بھی چلے گئے ہیں۔" وہ بولی تو کہیں سے بھی مضبوط نہیں دکھتی تھی۔
"صالح کی بات نہیں ہے، کچھ اور ہے جو تمھیں پریشان کر رہا ہے۔ بتاؤ مجھے۔" نوروز نے جیسے اس کی آنکھیں پڑھتے کہا تھا۔
"آپی، تم میری ماں مت بنا کرو۔" وہ خفگی سے بولی تو نوروز مسکرا دی۔ یہ جملہ وہ ہالہ سے دن رات سنتی تھی۔ کبھی ہنس کر، کبھی رو کر، کبھی غصے سے کبھی پیار سے مگر اس کا یہ جملہ بولنا فرض تھا۔۔ نوروز نے زرہ ساتھ کھسکتے اسے گلے سے لگایا۔
"بابا جان کو مس کرتی ہو تم میں جانتی ہوں۔ مگر میرا بچہ آپی کی بھی تو جان بستی ہے نام میں۔ میں مرد نہیں ہوں مگر میں تمھاری حفاظت کر سکتی ہوں۔" وہ ابھی اور بھی کچھ کہتے جب ہالہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔- پھر زرہ گہرا سانس کے کر اس سے دور ہوئی۔
"آپی، تم مجھے پروٹیکشن دو گی؟"
"ہاں، آپی کی جان۔۔" وہ مان سے کہہ رہی تھی۔
"پھر کل کیوں نہیں دی؟ جب سب مجھ سے بابا کے قاتل کے بارے میں سوال کر رہے تھے۔ آپی مجھے کل کیوں نہیں بچایا ان کی گندی اور معنی خیز نظروں سے۔۔ آپی تم مجھے کیا پروٹیکٹ کرو گی، تم تو خود صدمے سے مر جاؤ گی۔۔ ایک بات میری یاد رکھنا، میرے علاوہ تم سے کوئی اتنا پیار نہیں کرتا، کوئی تمھارا نہیں ہے، صرف ہالہ تم سے پیار کرتی ہے۔ صرف ہالہ تمھاری ہے۔" نوروز کی آنکھیں بھی بھیگنے لگی تھیں۔
"تمھیں کیا ہوا ہے ہالہ، مجھے کھل کر سب کچھ بتاو۔" وہ اسے تھپکتی ہوئی بول رہی تھی۔
"مجھے کچھ وقت چاہیے، بس ایک دن یا دو۔۔ میں سب بتاؤں گی۔۔ میں اب اس بوجھ تلے اور نہیں دب سکتی۔۔ میرا سانس گھٹتا ہے۔" وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی تو نوروز نے بھی اپنی آنکھیں مسل دیں۔
ٹھیک ہے، اب بتاؤ میری جان نے کچھ کھایا ہے یا میرے ساتھ کھانا ہے؟" نوروز اس سے پوچھ رہی تھی جب پریسا کمرے میں داخل ہوئی۔۔ اس کے ہاتھ میں بیگے تھے اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ہالہ کی آنکھیں دیکھ کر اس کے پاس آئی۔
"روز، اسے کیا ہوا ہے؟ کیا ہوا ہے، ہالہ؟ رو کیوں رہی ہو؟" پریسا تیزی سے اس کے پاس آئی تھی۔۔ ظاہر ہوتا تھا کہ ان تینوں میں روایتی بہنوں والی چھیڑ اور جھگڑے بہت کم تھے۔ عرش جعفری کی بہترین تربیت ان تینوں میں جھلکتی تھی۔
"کچھ نہیں بس کل بابا سے متعلق ہونے والے سوال جواب سے پریشان ہے۔" نوروز نے اس کی جگہ جواب دیاتھا۔
"ہالہ، یہ کچھ وقت تک زندگی کا حصہ رہے گا۔۔۔ کچھ وقت تک۔۔ پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اور تم تو سٹرانگ اور بریو گرل ہو۔۔ ایسے رو رہی ہو، یار۔۔ میرا تو دل حلق میں آگ لگا رہا تھا۔" ہالہ نے نظریں پھیریں اور نوروز کو دیکھا۔
"ہالہ، ابھی دنیا کو بتانا ہے کہ عرش جعفری کا خون اتنا سستا نہیں تھا۔ بس ایک بار ہمیں سٹیبل ہونے دو۔۔ تم دیکھنا ایک ایک خون کے آنسو رلاؤں گی۔" نوروز کے لہجے میں یک دم سردپن در آیا تھا۔
"آپی، تم لوگ سٹیبل ہونے کا انتظار کرو اور دشمن اسے سے پہلے ہی ہمیں مار گرائے گا۔ جو کرنا ہے ابھی کرو ورنہ دیر ہو جائے گی۔" وہ اٹھ کر نوروز کے بالکل سامنے کھڑی تھی۔ نوروز نے اس کی آنکھوں میں کچھ دیکھا تھا مگر وہ سمجھ نہیں سکی کہ وہ خوف ہے، جنون ہے، انتقام ہے، درد ہے یا اجل۔کیونکہ نوروز جعفری کو چہرے پڑھنے نہیں آتے تھے۔ اس نے ان دونوں کو تازہ دم ہونے کا بولا اور کچن کی طرف قدم بڑھادیے۔
"کیا پک رہا ہے بھئی؟ خوشبو تو پلاؤ کی آ رہی ہے۔" نوروز کچن میں داخل ہوئی اور عائشہ سے پوچھتے خود کی ڈھکن اٹھا لیا۔۔ سامنے حقیقتاً پلاؤ تھا ۔ اس کے چہرے کی بجھی جوت واپس لوٹ آئی۔
"زبردست !" وہ اپنی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔۔ عائشہ نے کھانا لگا دیا تھا۔ ہالہ اور پھر پریسا بھی اس کے قریب آ بیٹھیں۔
"صالح چھوڑ کر گیا ہے تمھیں؟ میں نے کال کی تھی تو کچھ پتا ہو الگ رہا تھا۔" پریسا نے اپنی پلیٹ میں چاول نکالتے کہا۔
"يار وہ پہلے ہی فرسٹریٹڈ تھا اور ہالہ نے اسے مصالحہ بول دیا۔ وہ تپ کر اسے ڈانٹنے لگا اور پھر ہالہ نے بھی۔۔۔ یو نو، تو بس وہ تپ کر چلا گیا۔" نوروز نے اسے اپنی پلیٹ سے آخری لقمہ لیتے بتایا۔ کھانے کی رفتار بتاتی تھی کہ نوروز کو پلاؤ بہت پسند تھا۔ اس سے پہلے کہ پریسا کچھ بولتی ہالہ نے پانی کا گھونٹ بھرتے کہنا شروع کیا۔
"پری، میں جان میں ہوں تمھیں برا لگا ہوگا میرا صالح کے ساتھ مذاق کرنا یا چلو تم بدتمیزی کہہ لو مگر۔۔۔" ہالہ بے نیازی سے بول رہی تھی جب پریسا نے اس کی بات کاٹی۔
"ہالہ میں اس سے جتنی مرضی محبت کروں میں یہ بات اچھے سے جانتی ہوں کہ وہ کتنا بڑا اور اوور ایکٹر اور غصے پر قابو رکھنے والا انسان ہے۔ تم نے جو کیا صحیح کیا۔ ہم ایک خون ہیں یار مجھے تم اس ڈر سے زیادہ عزیز ہو۔۔" پریسا نے بہت پیار سے کہا تھا۔
"اب یہ زیادہ ہو رہا ہے۔ تم میرے لیے ان کو ڈفر نہیں کہہ سکتی۔ بہت بری ایکٹنگ تھی۔" ہالہ نے اپنی خالی پلیٹ بڑے استحقاق سے نوروز کے سامنے کی، اس نے پلیٹ میں چاول ڈال دیے۔"ویسے پری ہمارا خون بھی مختلف ہے۔ آپی اور میرا ایک سا ہو سکتا ہے، دیکھو ہماری آنکھیں ملتی ہیں۔ بال بھی۔۔۔" ہالہ شرارت سے کہہ رہی تھی مگر اس کے لہجے میں سنجیدگی سی تھی۔ پریسا اس کے جملوں سے اب باہر آئی تو کہنے لگی۔
"ہالہ تم بھول رہی ہو کہ میں عرش جعفری کی بیٹی ہوں جس کے باپ نے اسے جھکنا نہیں سکھایا۔۔" پریسا نے ہاتھ میں پکڑا لقمہ منہ میں رکھا۔
"عرش جعفری کی دو بیٹیاں۔۔۔" ہالہ نے زیر لب دہرایا۔
"محبت معلوم ہے کیا ہوتی ہے؟
ہالہ محبت۔۔۔
محبت کسی کو اپنی تباہی کا حق دینے کا نام ہے اور پھر آنکھیں بند کر کے یقین کرنا کہ وہ تمھاری زندگی کی ڈور میں آگ نہیں لگائے گا۔۔" اس کا لہجہ ایک دم زرہ دب گیا تھا۔ کچھ لمحے تینوں کے درمیان خاموشی رہی۔
"جلدی یا بدیر میں یہ حق اس سے چھین لوں گی۔ میں اپنے لیے آگ نہیں جن سکتی۔ محبت ہو جانا نہیں ہوتا، اس کے بعد اٹھائے جانے والے اقدامات برے ہوتے ہیں۔ مجھ میں ابھی اتنا وقار اور خودداری باقی ہے کہ میں کم از کم صالح جیسے مرد کے پیچھے نہیں بھاگوں گی۔" نوروز نے اس کی آنکھوں میں کرب دیکھا تو اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر دبایا۔
"میں ایک دن اسے اپنے دل سے نوچ پھینکوں گی، روز۔ میں اپنے آپ کو اس بے کار لڑکے کے لیے بے مول نہیں کروں گی۔" اس نے بے بسی سے نظر اٹھا کر نوروز کو دیکھا تو چونک گئی۔ اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔
"تمھیں کیا ہوا ہے، روز؟ تم رو کیوں رہی ہو؟ میری باتیں اتنی رلانے والی تو نہیں تھیں۔ ہیں ہالہ؟" آخر میں اس نے ہالہ سے پوچھا تو وہ نفی کرتی اٹھ کر نوروز کے پاس گئی۔
"آپی، تم ابھی اندر بھی روپڑی تھیں۔ کیا ہوا ہے؟ ممی نے کچھ کہا ہے؟ تم ایسے رونے کی عادی نہیں ہو؟" ہالہ آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھ کر پوچھ رہی تھی۔
"میں تمھارا دکھ سمجھتی ہوں، پری۔۔ مجھے معلوم ہے یہ محبت تمھیں بہت تکلیف دیتی ہے۔۔۔" نوروز پریسا کی طرف متوجه تھی جب ہالہ نے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا۔
"آپی تم بھی بری ایکٹر ہو۔ صحیح سے بتاؤ۔"
"پتا نہیں میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔ ہالہ، مجھے ایسا لگتا ہے جیسے کچھ برا ہونے والا ہے۔ میری چھٹی حس مجھے ریڈ زون دکھا رہی ہے۔ مجھے راتوں کی نیند نہیں آ رہی۔" وہ روتی تھی تو اس کی آنکھیں شیشہ کی طرح چمکتی تھیں البتہ آنسو بہت کم بہہ رہے تھے ٹھہر ٹھہر کر، ایک ایک کر کے، انہیں با آسانی گنا جا سکتا تھا۔
"کچھ نہیں ہوتا، یار۔۔ تم صدقہ دے دیں۔" پریسا نے ہاتھ جھلا کر غیر سنجیدگی سے کہا۔
"بابا جان کہتے تھے کہ عورت کی چھٹی حس کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔۔ آپی، تم۔۔۔" ہالہ کی بات ابھی ادھوری ہی تھی جب وہ بھاگ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔
"نیند تو مجھے بھی نہیں آتی، آپی۔"
ان دونوں نے ایک آہ بھری اور پھر اپنی اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ وہ اپنے دل کا بوجھ اتار کر کچھ وقت اکیلے میں گزارے گی اور پھر پریسا اسے کچھ میٹھا کھلا کر راضی کر لے گی۔ اگر تو علی اس وقت نوروز کو ایسے دیکھ لے تو اس کی آنکھیں باہر آکیں ۔ جس لڑکی نے اسے انگلیوں پر نچا رکھا تھا اور جس کے سامنے وہ بات کرنے سے پہلے کوئی دس دفعہ سوچتا تھا وہ اصل میں ایسی ہے۔ ہالہ کھانے کی پلیٹ میں چمچ چلاتی تی گہری سوچ میں ڈوبی تھی۔
*****
ہیراد، پریسا کو چھوڑ کر گھر جا رہی تھی ۔ جب اس کی گاڑی پنکچر ہو گئی۔۔ وہ ایک سنسان روڑ پر موجود تھی۔ اس نے باہر نکل کر دیکھا پھر ایک کال ملائی۔ کال پک نہیں ہوئی۔۔ اس نے پھر کال ملائی اور پھر کال ندارد وہ آخر کار گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی۔۔ اس نے ایک نمبر ڈائل کیا اور خوش قسمتی سے تیسری بیل پر کال پک ہوئی۔
"کیا مجھے مسٹر طارق علی سومرو سے بات کرنے کا شرف مل سکتا ہے؟" وہ شرارت سے مسکرا رہی تھی۔
"جی ہیراد صاحب، فرمائیں کیا ضرورت پڑی اس ناچیز کی آپ کو؟" دوسری طرف بھی اسی کا انداز اپنایا گیا تھا۔
"میری گاڑی پنکچر ہو گئی ہے۔ یہ علاقہ اتنا سنسان ہے کہ اس پاس کوئی نہیں دکھ رہا اور طیب بابا بھی کال نہیں پک کر رہے۔۔" وہ لاچاری سے اسے منانے کی کوشش کر رہی تھی۔
"آگے؟"
"آگے کیا، لینے آ جاؤ۔۔۔" وہ اپنی بات مکمل کرتی مگر پہلے ہی کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔وہ کرنٹ کھا کر پلٹی تھی۔
"کون ہو تم؟" وہ سخت لہجے میں بولی تھی۔ سامنے کھڑا لڑکا مدکی آفر کر رہا تھا۔ اس کی آواز بھی ہیراد کے کان میں لگے آلے کی مدد سے دوسری جانب منتقل ہو رہی تھی۔ اور سننے والے کے اعصاب تن چکے تھے۔ وہ تیس، بتیس سالہ وجیہہ مرد ایک دم اٹھا اور اس پر تعیش کمرے سے باہر نکلا فون ہنوز کان پر لگا رکھا تھا۔ آنکھیں سکڑ رہی تھیں اور کچھ دیر پہلے والی نرمی کہیں نہیں تھی۔
"دفع ہو جاؤ یہاں سے، اس سے پہلے کہ میں تمھارا چہرہ بگاڑ دوں۔" وہ ایک اور دفعہ غرانی تھی۔ سامنے والے کا قہقہہ بھی دوسری جانب منتقل ہوا تھا۔ فون کان سے لگائے اس کی گاڑی سگنل توڑتی تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔
"ان دو انچ کی نازک کلائیوں سے میرا چہرہ بگڑے گا؟" وہ لڑکا ہنستے ہوئے بولتا تھا۔ ایک لمحے کی بات تھی پھر اس کی درد سے کراہنے کی آواز آلے کی دوسری جانب منتقل ہوئی تو طارق کے لبوں پر اطمینان بھری مسکراہٹ ابھری، تنے اعصاب زرہ ڈھیلے پڑے تھے۔ گاڑی اب بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔
یہاں منظر کچھ یوں تھا کہ جس ہاتھ سے اس نے ہیراد کی کلائی پکڑی تھی وہ ہیراد نے موڑ کر اس کی کمر پر لگا رکھا تھا اور مک پڑنے سے اس لڑکے کی ناک سے خون بہتا تھا۔
"تمھاری اتنی اوقات ہے کہ تم مجھے ہاتھ لگاؤ، مجھے۔۔۔ ہیراد علی کو؟" اس نے ایک جھٹکے سے لڑکے کو دھکیل کر چھوڑا۔ اس کے ایک نظر پلٹ کر ہیراد کو دیکھا پھر ایک سیٹی بجائی۔ وہ کسی کو اس طرف بلا رہا تھا۔ ہیراد کو گاڑی کی وجہ سے نظر نہیں آیا۔ وہ گھوم کر دوسری طرف گئی اور پھر اس نے لڑکوں کے ایک ہجوم کو سڑک عبور کرتے دیکھا۔ اس کے منہ سے بس ایک ہی لفظ نکلا "شٹ" پھر اس نے تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور بیٹھتے ہی گاڑی لاک کر لی۔ وہ پیسنجر سیٹ کی طرف کھڑے لڑکے کو دیکھ سکتی تھی۔ وہ طنز سے اپنی ناک سے نکالتا خون پونچھتا، ہنس رہا تھا ۔ خونخوار دستک پر اس نے ایک نظر اپنی طرف کے شیشے پر ڈالی وہاں موجود لڑکے کے دروازے کو زور سے پیٹ رہے تھے۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور سر سیٹ سے ٹیک دیا۔ آس پاس کی تمام آوازوں کو اگنور کرتے اس نے صرف ایک آواز پر فوکس کیا جو اس کے ائیر پیس سے نکل کر اس تک پہنچ رہی تھی۔ گاڑی چلانے والے کا تیز تنفس...
وہ جانتی تھی کہ کچھ لمحوں میں ہی یارق اس کے پاس ہوگا۔ ایک دم اسے ایک گاڑی کی چہرچراہٹ سنائی دی تو اس نے آنکھیں کھول دیں ۔ سامنے موجود سیاہ پورش سے وہ اتر رہا تھا۔ اس کے ماتھے کی کچھ رگیں ابھری ہوئی تھیں، آنکھیں سرخی مائل دیکھتی تھیں۔ اس نے اترتے ہی اپنے کوٹ میں سے گن نکالی۔ لڑکوں کے دروازہ بجاتے ہاتھ اس کی گاڑی دیکھ کر رک گئے تھے۔ یارق نے اپنی کمر کی طرف سے دوسری گن نکالی۔ ہیراد اسے دیکھتی پلکیں جھپکانا بھول چکی تھی۔ وہ اسے یک ٹک دیکھنے لگی۔ وہ ہیراد کی گاڑی کے قریب آرہا تھا۔
اس نے گاڑی کا دروازہ کھولنا چاہتا تو وہ لاک تھا پھر اس نے ہیراد کو دیکھتے دو انگلیاں اٹھائیں اور ان کی پشت سے کھڑکی کے شیشے پر دستک دی۔وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی تو اس نے لاک کھولا، نظر گھما کر ادھر ادھر دیکھا وہاں صرف وہ دونوں تھے ۔ وہ محطاط سی نیچے اتری پھر نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ بھوری آنکھوں میں صرف محبت تھی، خلوص اور فکر۔۔ ہیراد زور سے اس کے سینے سے لگنے سے لگ گئی۔۔ اسے رونا کیوں آیا تھا وہ خود بھی نہیں جانتی مگر وہ روپڑی۔۔ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اس نے یارق کی گرفت خود پر محسوس کی ۔ یارق نے اس کا سر چوما پھر کہنے لگا۔
"سب ٹھیک ہے، ہیر۔ اب تم بس اپنا مسکارا میری شرٹ پر لگا رہی ہو۔۔" وہ ایسی سنجیدگی سے کہہ رہا تھا الامن! ہیراد نے خفگی سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
"میں ابھی ڈری ہوئی ہوں، ابھی تو ایسا مت کریں۔"
"میری ہیر نے ڈرنا کب سیکھ لیا؟ میں نے تو بہت بہادر بنایا ہے تمھیں۔۔"
"وہ مجھے نقصان بھی پہنچا سکتے تھے۔ دیکھا نہیں کتنے سارے تھے۔ اگر شیشہ توڑ دیتے تو؟" وہ خفگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
"میری بہن کو کوئی ہاتھ تو لگاتا۔ اس کی لاش کو کتے نوچتے، قبر تک نصیب نہ ہوتی، وہ حشر کرتا میں۔" اس کی بھوری آنکھیں ہیراد پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ بہت وجیہہ تھا۔ گوری رنگت کے تیکھے نقوش، اسٹائلش داڑھی اور ہلکی موچھیں ۔۔ گہرے رنگ کاپینٹ کوٹ پہنے وہ کسی کو بھی اپنا دیوانہ بنانے کا ہنر رکھتا تھا اور اس کے پرفیوم کی محسور کن بو تو اچھے اچھےلوں کے ہوش ٹھکانے لگا دیتی تھی۔۔ اس کے ہر انداز سے امارات جھلک رہی تھی۔ ہیراد اب ہلکا محسوس کر رہی تھی تو اس سے الگ ہوئی۔
"بھئیا، اب مجھے بھوک لگ رہی ہے۔"
"میرا اتنا خون چوس کریڈٹ نہیں بھرا ابھی؟" یارق اسے لیے گاڑی کی طرف بڑھتا تھا۔
"منال لے کر جائیں گے آپ مجھے۔۔"
"اس منہ پر تو بالکل بھی نہیں !" اس نے جیسے ہری جھنڈی دکھائی۔۔
"آپ گاڑی اسٹارٹ کریں میں میک اپ کر لیتی ہوں۔۔" وہ ہنسی دبائے سنجیدگی سے بولی تو یارق ہنس دیا۔
"ہیر! ایسے رویا مت کرو۔۔ میری جان نکل جاتی ہے۔"
"میرے رونے سے آپ کی جان کیوں نکلتی ہے؟" وہ واقعی جاننا چاہتی تھی۔۔
"مجھے تم سے اتنا پیار ہے جتنا ایک باپ کو اپنی منتوں سے مانگی بیٹی سے ہوتا ہے۔ - بے شک میں نے تمھیں سٹرانگ بنایا ہے مگر میں پھر بھی ڈرتا ہوں، ہیر۔ تمھارے معاملات میں یارق علی ڈر جاتا ہے۔"
"بس کریں اب حضور ہلائیں گے کیا۔۔" وہ ایسے بولی تھی کہ یارق کی ساری کلفت دور ہو گئی۔ وہ پورے دل سے ہنسا تھا۔ یارق ایک بزنس ٹرمپ کے بعد کل رات کو ہی پاکستان واپس آیا تھا۔ یہ ایک ہفتہ ہیراد نے کڑی نگرانی میں گزارا تھا۔ گھر پر اکیلی ہونے کی وجہ سے اسے سات گرل گارڈز رکھ کر دی گئی تھیں جن سے وہ بہت تنگ آچکی تھی۔ آج ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خوشی کو ان لڑکوں نے تباہ کر دیا تھا۔
"آپ رات کو کب آئے، میں انتظار کر کر کے سو گئی تھی۔۔"
"ایک بجے آیا تھا ۔ انتظار والا منہ ہے تمھارا، مجھے بتایا تھا طیب بابا نے کہ تم دس بجے ہی سو گئی تھی۔" اس کی بات سن کر زور سے ہنسی، چوری پکڑی گئی تھی۔
سائن ان کریں بات چیت میں شامل ہونے کے لیے۔
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنی رائے دینے والے پہلے فرد بنیں۔