لامکاں کا پہلا زینہ 21 ستمبر کو سبز پرچم والے بنگلے میں کسی فرد نے فجر نہیں پڑھی تھی۔ الارم کی آواز پر نوروز نے دکھتا سر اٹھا کر وقت دیکھا۔ اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں، سر میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ اس نے اٹھنے کے لیے بیڈ سے پاؤں نیچے لٹکائے اور جیسے ہی کھڑی ہونے لگی اسے زبردست چکر آئے اور وہ واپس بیڈ پر بیٹھی۔ فون پر ایک مسج ٹائپ کیا اور اسے پریسا کے نام پر بھیجتی وہ دوبارہ لیٹ گئی تھی۔ بالکونی سے ہلکی روشنی باہر آتی تھی مگر اٹھ کر دروازہ بند کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس نے سر پر لگا کیچر اتارا اور آنکھیں بند کر لیں۔ اسے ایک پل کو حیرت ہوئی تھی کہ وہ رات کو اس قدر بے خبر سوئی کہ اپنے بال تک نہ بنا سکی تھی۔
*****
دوسری طرف ایک شخص کی سیاہ آنکھیں کھلیں۔ اس نے کروت بدل کر فون اٹھایا پھر وقت دیکھا تو بستر سے اترا۔ سیاہ آنکھوں میں چمک تھی، سرشاری تھی جیسے برسوں کے بعد اتنی پرسکون نیند ملی ہو ۔ وہ اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا۔ آدھے گھنٹے بعد وہ ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھا۔ سلطان شاہ اور باقر بھی بیٹھے تھے۔ وہ ان کو دیکھ کر چو نکا نہیں تھا اسے اندازہ تھا کہ وہ دونوں ضرور آئیں گے۔ "آج تو بہت فریش لگ رہا ہے، میرا بھائی۔ لگتا ہے کافی اچھی نیند آئی ہے۔" باقر بہت خوش دلی سے کہہ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں فخر جھلکتا تھا۔
"طاقت کا نشہ چڑھے تو گہری نیندیں ہی آتی ہیں، ڈی آئی جی صاحب ۔ ویسے بھی آپ تو عادی ہیں۔ ہمیں تو ابھی ذائقہ لگا ہے۔" حر مسکراتے ہوئے بولا۔
"وہ کیا کہتے ہیں
ابھی تو پہلا جام ہے۔ ابھی تو شام ہے۔" وہ دونوں ایک ساتھ ہنسے تھے۔ حر بہت کم ہنسنے کا عادی تھا جبکہ باقر خوش مزاج تھا۔
"اور پھر اگر جام طاقت کی بجائے صرف محنت سے حاصل کیا جائے تو نشہ اور بھی زیادہ چڑھتا ہے۔" اب کے وہ بولا تو سلطان کی رنگت پھیکی پڑی۔ باقر کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔
"سفارشات بھی انہی کی قبول ہوتی ہیں جن کی اوقات ہوتی ہے۔ ورنہ دو دن میں ذلیل ہو کر واپس لوٹ آتے ہیں۔" سلطان نے کچھ جتتا کر کہا تھا۔
"کیا ڈیڈ، ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے ۔ اس نے کسی کی مدد کے بغیر یہ سب کیا ہے اتنا غرور تو بنتا ہے۔" باقر کھلے دل سے مسکرا کر کہہ رہا تھا شاید اسے باتیں دل سے لگانے کی عادت نہیں تھی یا صرف حر حیدر کی باتیں ۔۔۔
"میں نے غرور نہیں کیا بس صاف گوئی کا مظاہرہ کیا ہے۔" حر، سلطان کو دیکھ کر کہہ رہا تھا۔ "تمھاری بات کچھ غلط بھی نہیں۔ دیکھو سیدھی سی بات ہے، حر۔ تمھیں جو چاہیے تم اسے حاصل کرنے کے لیے دماغ کا استعمال کرتے ہو اور مجھے جو چاہیے میں اسے حاصل کرنے کے لیے پیسے کا استعمال کرتا ہوں۔" پھر باقر نے ایک چائے کا گھونٹ بھر اور بولا۔
"ایک سرپرائز تھا تمھیں دینے کے لیے۔" باقر نے ایک کاغذ اس کی طرف بڑھایا تو حر نے فوراً اسے کھول کر دیکھا
"یہ کیا-" حر نے جوس کا گلاس رکھا اور اسے کھول کر دیکھا۔
"مگر میں یہاں خوش ہوں۔ مجھے نہیں جانا اسلام آباد۔" حر نے کاغذ دیکھتے ہی جواب دیا تھا۔
"مجھے تمھاری ضرورت ہے۔ تمھیں نہیں ہو گی مجھے تمھاری ضرورت ہے۔ کہو تو میں ریکوئست کرتا ہوں" باقر کے جملے پر حر نے چونک کر کاغذ سے نظر اٹھائی۔
"نہیں اس کی ضرورت نہیں۔ ہم چل رہے ہیں۔
ہم ابھی نکل رہے ہیں۔ تم شام تک آجانا۔"
حر کے دماغ کے پردے پر ایک کارڈ لہرا رہا تھا ۔شادی کا کارڈ۔ پھر وہ کاغذ رکھ کر کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا۔
*****
ہیراد اٹھی تو وہ کافی پر سکون محسوس کرتی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر فون ان کیا تو وقت دیکھ کر اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ اس نے الارم سسٹم آن کیا تو دونوں الارم بند تھے۔ وہ بے ساختہ مسکرا دی۔
تو یارق علی کا دن آج اس کے نام تھا۔
فریش ہو کر اس نے ایک سفید ٹاپ پہنا جس میں سے اس کے کندھے جھلک رہے تھے اور نیچے سیاہ جینز جو ٹخنوں سے نیچے تک آکر اس کی سرخ ہیلز کو آدھا ڈھانپ رہی تھی۔ گیلے بال پشت پر گر رہے تھے جس سے اس کا ٹاپ گیلا ہو کر کمر سے چپک گیا تھا۔
وہ اپنا فون دیکھتی سیڑھیوں اتر کر صوفے تک آئی جہاں یارق پہلے ہی موجود تھا۔ ہیراد نے فون سامنے میز پر سرکا دیا۔ یارق اسے ایک نظر دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا جو بالکل سامنے تھا۔ وہ اپنے کمرے سے تولیہ لایا۔ اس کے سرخ بال اٹھا کر تولیہ اس کی پشت پر پھیلا دیا اور ایک کونے سے اس کے بال رگڑنے لگا
"تم ویک ہو رہی ہو، ہیر۔۔۔ ایک سیکنڈ، کوئی ڈائٹ تو نہیں کر رہی ہو؟"
"نہیں بھئیا، میں کیوں کروں گی ڈائٹ، آپ نے کافی دنوں بعد دیکھا ہے اس لیے آپ کو ایسا لگ رہا ہے۔ ایک ہفتے میں میں کیسے کمزور ہو سکتی ہوں۔" وہ مسکرا کر بول रही تھی۔
"کل ناشتہ کیا کیا تھا؟" لو جی شروع ہوئی کلاس۔۔
"کچھ نہیں کھایا تھا-" وہ یہاں جھوٹ نہیں بولتی تھی یارق علی اس کا ویک پوائنٹ تھا تو سچ بتا دیا۔
"پرسوں؟" سنجیدگی سے پھر سوال ہوا۔ وہ ساتھ اس کے بالوں کو رگڑ کر خشک کر رہا تھا۔
"پری کے ساتھ ملک شیک پیا تھا۔"
"کل لنچ کیا کیا تھا-" ایک اور سوال، ہیراد نے ناک چڑھائی۔
"میں نے؟؟؟ پری کے ساتھ ملک شیک ۔" وہ زرہ محتاط انداز میں بولی۔ اونٹنی پہاڑ کے نیچے آچکی تھی۔
"کھانے کا پوچھا ہے۔۔ پینے کا نہیں۔ کھایا کیا تھا؟" اس بار یارق زرہ سختی سے بولا۔
"پری نے۔"
"ایک تو یہ پری، پری، پری، نہیں ختم ہوتا۔ ہیر، میں کھانے کا پوچھ رہا ہوں؟" وہ زرہ چڑ کر بولا
"پری کے گھر پر لنچ کرنا تھا میں نے۔" ہیراد نے مڑ کر اس کا چہرہ دیکھا جیسے ناراضگی ظاہر کر رہی ہو۔
"تو پھر کیا کیوں نہیں؟" وہ اس وقت صحیح باپ والی فام میں تھا۔
"میں نے اس کے گھر کے باہر صالح کی گاڑی دیکھ لی تھی ۔ میں اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی تو میں لوٹ آئی اور راستے میں گاڑی کا مسئلہ ہو گیا۔۔" وہ اب خفگی سے ناخن کترنے لگی تھی۔
"صالح سے کیا اشو ہے؟"
"وہ پری کا کزن ہے۔ اس نے مجھے پروپوز کیا تھا اور میں نے ریجیکٹ کر دیا اور اب اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی۔" وہ آنکھیں گھما کر بولی تھی۔
"تم اگلے ایک ہفتے تک گھر میں ہی ہو ۔ نو فاسٹ فوڈ، نو انرجی ڈرنکس۔ نو پری۔" وہ تولیہ لے کر مڑ گیا تھا ہیراد کے بال اب خشک ہو چکے تھے۔
"بھئیاااا--- ایسے نا کریں ۔ میں کھاؤں گی کیا؟" وہ یارق کی پشت دیکھ کر اسے پکارنے لگی۔
"وہی جو میں کھاؤں گا۔" یارق پر تو بے نیازی چھائی ہوئی تھی۔۔
"نہیں نا، میں اتنی چھٹیاں نہیں کر سکتی اور پری۔۔۔" ہیراد اب روہانسی ہو رہی تھی مگر یارق اس کی اداکاریوں سے واقف تھا۔
"یونی کو میں دیکھ لوں گا۔ پری نہیں مر جائے گی چار دن میں۔"
"ایسے مت بولیں، بھئیا میں تیار ہو کر آتی ہوں۔ اچھا ابھی تو ہم بریک فاسٹ باہر کر رہے ہیں نا"
"بلکل نہیں" وہ کمرے میں داخل ہو گیا۔
"بھئیا پلیز۔۔۔۔" وہ تولیہ رکھ کر باہر آیا تو ہیراد اس کے بازو سے چپک گئی۔
"دور ہٹو مجھ سے، ساری پریس خراب کروگی۔۔"
"میرے بابا ہوتے نا۔۔۔" اب اس نے نیا حربہ آزمایا تو آنکھوں سے نا دیدہ آنسو صاف کرتے بولی۔
"مجھے ایموشنل بلیک میل مت کرو، ہیر۔۔ تمھارا باپ بھی تمھیں اتنے اچھے سے نہیں جان سکتا جتنا میں جانتا ہوں۔" وہ اس کی بات کاٹ کر بولا تو وہ جل اٹھی۔ "تو ہو جائیں نا بلیک میل۔" وہ اونچے لہجے میں بولی پھر اس کی شکل دیکھتے ساتھ ہی دھیمی پڑی۔
"ایک بار نا بس پھر میں پورا ویک کچھ بھی نہیں کہوں گی۔ بھئیا، میں ایک ہفتے سے آپ کا انتظار کر رہی تھی، اب آپ ایسا کریں گے؟" وہ معصومیت کی اعلیٰ مثال بنتی بول رہی تھی۔ یارق نے مسکراہٹ ضبط کی اور سادگی سے بولا۔
"اچھا چلو۔۔۔" (وہ دوڑ کر باہر کی طرف لپکی) رو۔۔۔ واپس آؤ۔" ہیراد دوڑ کر جو آگے گئی تھی واپس اس تک آئی۔ یارق نے اس کے ٹاپ کے بازو کو اوپر کھینچ کر اس کے کندھے ڈھکے، پھر دونوں طرف سے بال آگے کو ڈالے۔
"باؤنڈری کا خیال رکھا کرو۔" وہ مسکراتا ہوا بولا تو وہ جھٹ سر ہلا گئی پھر وہ دونوں آگے بڑھے۔ بال آگے ہونے کی وجہ سے اب اس کا گیلا ٹاپ کر کو عیاں کر رہا تھا۔
"ہیر، جاؤ چینج کر کے آؤ۔ سارا ڈریس گیلا کر دیا ہے۔"
"وہ اسے گاڑی میں بیٹھنے کا بول کر واپس اپنے کمرے میں آئی۔ اس کو یاد تھا کہ پری کا تحفہ اس نے یہاں پر ہی رکھا تھا۔
اس نے اپنی لاک لگی الماری کھولی جہاں صرف قیمتی اور نایاب اشیاء تھیں اسے وہاں پری کا تحفہ ایک ڈبے میں نظر آیا۔ اس نے ڈبہ کھولا۔ یارق گاڑی میں بیٹھ کر اس کا منتظر تھا۔ جب وہ سامنے سے آتی نظر آئی۔ یارق علی کی نظر تھم گئی۔ اسے ہیراد آج سے پہلے اتنی حسین کبھی نہیں لگی تھی۔ وہ بے اختیار گاڑی سے باہر آگیا۔ ہیراد قدم قدم چلتی سست رفتاری سے اس تک آئی۔ وہ دم سادھے اسے دیکھ رہا تھا۔
"یہ مجھے پری نے دیا تھا۔" ہیراد نے اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے گھوم کر اس عبایا کی نمائش کی۔ ہیراد اب اس سے داد چاہتی تھی۔ وہ گہرے سبز رنگ کا عبایا تھا جس کی دو تہیں تھیں۔ نیچے والی سفید تھی اور کمر پر سبز پٹی بندھی تھی اور دوسری سبز تھی جس کا گھیر وسیع تھا اور سبز رنگ کا اسکارف جو سلک کا ہونے کی وجہ سے بار بار اس کے کندھوں سے گر رہا تھا۔ وہ گھومی تو اسکارف سے نکلتے اس کے سرخ بالوں پر یارق کی نظر پڑی۔ اسے آج ہیراد مکمل لگ رہی تھی۔
"کیسی لگ رہی ہوں؟" اس کے پوچھنے پر یارق علی کے منہ سے بس ایک لفظ نکلا۔
"پری۔" ہیراد سمجھ نہیں سکی کہ اس نے پریسا کی بات کی تھی یا اسے کسی حور پری سے تشبیہ دی تھی۔ یارق نے آگے بڑھ کر اس کا سر چوما پھر اس کا اسکارف کا پلو پکڑے اسے چوما۔ بولا تو اس کے لہجے میں خوشی تھی۔
"آج تم اتنی اچھی لگ رہی ہو کہ میں الفاظ نہیں ڈھونڈ پا رہا ہوں۔ حسین، خوبصورت، مکمل۔ کیا نہیں لگ رہی تم آج۔"
"تمھاری پری سے زرہ تفصیل سے ملنا پڑے گا۔" ہیراد کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ "ویسے وہ آپ کی موجودگی میں نہیں آتی پر میں اسے منا لوں گی۔ ہم کل کا ڈنر اس کے ساتھ کریں گے، کیسا؟" وہ چالاکی سے بولی۔
"ایک ہفتے کے بعد سوچیں گے۔" یارق بہت سکون سے اسے یاد دہانی کروایا۔ ہیراد نے کلس کر اسے دیکھا۔
"چھوڑیں یہ بتائیں کہ آپ کو میں عبایا میں اچھی لگتی ہوں؟"
"حیا عورت کا زیور اور دین کا حسن ہے۔ حیا کی کشش حسن سے کئی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر یہ چھوٹی چیز ہوتی تو اتنی بڑی کتاب میں اس کا ذکر نہ آتا۔ تم مجھے کبھی بری نہیں لگیں، ہیر۔ مگر جتنی اچھی آج لگی ہو پہلے کبھی نہیں لگی۔" اس نے جملہ مکمل کرتے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
"آپ اور پری ایک جیسے ہیں۔ پتا ہے وہ بھی ایسی ہی باتیں کرتی ہے۔ آپ دونوں کی شادی نہ کرا دی جائے۔" وہ اپنے فائدے کا سودا کر رہی تھی۔
"کہاں جانا ہے؟" یارق نے بات پلٹی۔
"آپ پری کو جانتے ہوں گے۔ وہ عرش جعفری کی بیٹی ہے، بہت عرصے پہلے ملے تھے آپ اس سے۔ آپ کو یاد ہوگی۔"
"عرش جعفری ۔۔ بير سٹر عرش جعفری۔ جو ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے تھے؟"
"جی وہی، آپ ان کی ڈیتھ پر گئے تھے۔ مجھے ممی نے بتایا تھا کہ آپ ڈی آئی جی صاحب کے ساتھ گئے تھے۔"
هیراد کے چہرے پر ایک مدھم سی مسکراہٹ ابھری۔ جسے یارق نے محسوس نہیں کیا تھا۔
"ممی نے؟ کون ممی؟" یارق نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔
"پری کی ممی، میری ممی۔ اس کی بہن میری بہن۔" وہ مزے سے بتا رہی تھی۔ اس کا فون بجا تو اس کے چہرہ پر خوشی امڈ آئی۔
"ہاں پری، کیسی ہو؟ ابھی ہم تمھاری بات ہی کر رہے تھے" ہیراد جوش سے بولی
"سلام تو کرنا ہی نہ تم، آج آئیں کیوں نہیں؟ کھانا کھایا ہے؟ طبیعت ٹھیک ہے؟" اس نے ایک ہی سانس میں سوالات کا انبار لگایا تو ہیراد نے یارق کو دیکھا۔ وہ جانتی تھی وہ بھی فون سے نکلتی اس کی آواز سن سکتا ہے۔
"میں بھئیا کے ساتھ ہوں، ریسٹوران جا رہے ہیں۔ آج بھئیا کے ساتھ تھی اس لیے نہیں آئی اور طبیعت ٹھیک ہے میری۔" وہ یارق کو دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی جو ایک خوشگوار حیرت سے اسے یا شاید فون کو دیکھ رہا تھا۔
"اچھاا۔"
"کیا اچھا؟ تم بتاؤ روز کا موڈ ٹھیک ہوا ہے۔ وہ ڈسٹرب تھی نا؟"
"روز کا وہی اشو ہے۔ اس کی چھٹی حس ۔۔۔تمھیں پتا ہیر کل ہالہ کا صالح سے جھگڑا ہو گیا وہ بھی بہت ڈسٹرب ہے۔ اسے تو میں نے کالج بھیجا زبردستی۔ روز نہیں آئی آج اور صالح بھی نہیں آیا اور تمھارے بھائی کو بھی آج ہی آنا تھا۔ اب میں بلکل اکیلی ہوں۔"
"میں تمھیں اگر یہ بتاؤں کہ کل کیا ہوا ہے تو تم اور پریشان ہو جاؤ گی ۔ ابھی گھر جاؤ ہم بعد میں بات کریں گے۔" ہیراد نے بات ختم کرنا چاہی۔
"یا اللہ ! روز کیا ہوا ہے؟ روز تم رو کیوں رہی ہو؟" نوروز جو بھاگتی ہوئی اس کے پاس پہنچی تھی رو رہی تھی۔
"کیا ہوا ہے پری؟ روز ٹھیک ہے؟ کیا ہوا ہے؟" ہیراد فون کے دوسری طرف سے ابھرتی آوازیں سن کر پریشانی سے پوچھ رہی تھی۔
"میں۔۔۔ میں پری۔۔۔ میں ہالہ کو کالج لینے گئی تھی۔۔۔ پر وہ تو آج کالج پہنچی ہی نہیں۔ پری اس کے ڈرائیور کی کار خراب تھی اس نے مجھے مسج کیا تھا۔۔۔ پری میں سو رہی تھی ۔ ہالہ کسی اور کی گاڑی میں بیٹھ گئی ہے - پری۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔" نوروز ہربیانی انداز میں سب کچھ پریسا کو بتا رہی تھی اور گاڑی میں موجود دو اور وجود بھی اس کی آواز سن سکتے تھے۔ یارق نے گاڑی یونیورسٹی کی طرف موڑی ساتھ ہی وہ کسی کو کال ملا رہا تھا ۔ فون پربیل جارہی تھی اور اوپر ڈی آئی جی باقر سلطان کا نام جگمگا رہا تھا۔ ہیراد اب نوروز سے بات کر رہی تھی، اسے انتظار کرنے کا کہہ رہی تھی۔
جب وہ دونوں یونیورسٹی پہنچے نوروز کچھ دیر پہلے والی بلک بلک کر روتی لڑکی کہیں سے نہیں لگ رہی تھی جبکہ پریسا کی سوجی آنکھیں کچھ اور احوال سناتی تھیں۔ ہیراد کو دیکھ کر وہ اس کے گلے لگ گئی تھی جبکہ یارق، نوروز سے واقع کی تفصیلات لے رہا تھا۔ اس کے بعد وہ فون لے کر کچھ دیر کے لیے ان سب سے دور آگیا تھا۔ باقر سے بات کرتے وہ اسے کالج اور گھر کی تفصیلات بتا رہا تھا۔ پھر وہ فون رکھ کر واپس ان تک آیا۔
اب اس نے پریسا کو دیکھا ہیراد جیسے گہرے سبز رنگ کا عبایا پہنے وہ سر پر سلیقے سے اسکارف لیے ہوئے تھی۔ رونے سے سرخ پڑتا اس کا چہرہ حسین تھا ۔۔ بے حد حسین یارق علی کی نظر آج کے دن میں دوسری دفعہ سہم گئی۔تھی۔۔ اس نے نظر اٹھا کر کسی اور شہ کو دیکھنا چاہا مگر نظر ملنے سے انکاری تھی۔ پریسا کی نظر اس پر پڑی تو وہ لپک کر یارق کے پاس پہنچی۔
"کیا ہوا، کہاں ہے ہالہ کچھ پتا چلا؟ یارق بھائی بولیں نا" وہ روتے ہوئے اس کو بدمزہ کر گئی تھی۔
"یارق علی نام ہے میرا، ہیر کے علاوہ مجھے کوئی بھائی نہیں کہہ سکتا۔" پریسا نے بے بس سی نظر اٹھا کر اسے دیکھا
"مسٹر یارق علی، ہالہ کا کچھ پتا چلا؟" ایک ایک لفظ پر زور دیتی وہ اسے گھور کر دیکھ رہی تھی۔۔ آنسو ایک دم تہم گئے تھے۔ یارق نے اسے دیکھا پھر نظر چرا کر کہنے لگا۔
"آپ کے گھر جارہے ہیں ہم، باقی انفارمیشن وہیں سے ملے گی۔۔ جہاں سے وہ اس جعلی گاڑی میں بیٹھی تھی۔"
پھر اس نے ہیراد کو بلایا۔
اب وہ تینوں یارق کی گاڑی میں تھے۔ یارق نوروز سے مختلف سوالات کر رہا تھا۔ پریسا بس خاموش بیٹھی تھی۔ اسے چپ سی لگ گئی تھی۔ دل وسوسوں کا شکار تھا۔ اسے یاد آرہا تھا صبح ہالہ کالج جانے سے انکار کر رہی تھی، اسے کہہ رہی تھی کہ وہ نہیں جاننا چاہتی مگر اس نے زبردستی ہالہ کو بھیجا تھا۔ وہ جاتے ہوئے جس طرح نوروز کا سر چوم کر گئی تھی، آیا معلوم ہوتا تھا کہ وہ آخری دفعہ مل رہی ہو، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے عرش جعفری کے قتل کے دن محسوس ہوا تھا۔
وہ لوگ جب گھر پہنچے تو وہاں پر صالح، ابراہیم، بریرہ اور ایک ہجوم موجود تھا۔ کچھ پولیس کے جوان باقر کے کہنے پر اب پولیس موبائل میں واپس ہو رہے تھے۔ باقر کے ساتھ کھڑا نوجوان اسے سی سی ٹی وی کی فوئیج دکھا رہا تھا۔ گاڑی سے سب سے پہلے ہیراد اور یارق اترے ۔ پریسا نے ماں کو سامنے دیکھا تو نوروز کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا۔۔ نوروز نے اسے تسلی دیتی نظروں سے دیکھا پھر وہ دونوں نیچے اتریں ۔ پریسا اور ہیراد اب بریرہ کے ساتھ کھڑی تھیں۔ بریرہ کچھ برہم اور کچھ پریشان دکھتی تھیں ۔ نوروز، باقر اور یارق کے ساتھ کھڑی تھی۔ ان کے ساتھ ڈرائیور کھڑا تھا۔ یارق کے پوچھنے پر اس نے بتایا
"جب میں صبح پٹرول بھروا کر گاڑی واپس لا رہا تھا مجھے رستہ سے چائے پینے کی عادت ہے میں روز اس وقت وہیں پر ہوتا ہوں۔ پر آج جب میں چائے پی کر باہر آیا تو میری گاڑی کے تینوں ٹائروں کی ہوا نہیں تھی۔ مجھے اس کے لیے بہت دیر لگتی اور واپس گھر آنے میں بیگم صاحبہ لیٹ ہو جاتیں۔ اس لیے میں نے بڑی بی بی کو بتا دیا تھا-" نوروز کو آج اپنی نیند سے سخت نفرت محسوس ہوئی۔ باقر اب اس کی طرف گھوما۔
"اگر اس نے آپ کو بتا دیا تھا تو آپ نے ہالہ کو کالج بھیجنے کا کیا انتظام کیا؟"
"میں آج سو گئی تھی، فون سائلنٹ پر تھا ۔ میں نے یہ مسج پڑھا تو سوچا کہ شاید پری نے اسے ڈراپ کیا ہوگا - سوچا اسے میں پک کر لیتی ہوں اور پھر کچھ کھا لیں گے ۔ وہ ڈسٹرب تھی بابا کی برسی کی وجہ سے۔ جب میں کالج گئی تو وہاں سے پتہ لگا کہ وہ نہیں آئی۔ میں نے گھر کال کی تو مجھے پتہ لگا کہ وہ تو اپنے ڈرائیور کے ساتھ گئی ہے۔ میں نے سی سی ٹی وی کی فوئیج دیکھی تو گاڑی بلکل ویسی ہی تھی مگر وہ گاڑی نہیں تھی۔" وہ سانس لینے کو رکی۔
"اسے اندازہ ہو گیا کہ ہالہ کی گاڑی ایسے ہی خراب نہیں ہوئی اسے خراب کیا گیا تھا۔ یہ پلاننگ تھی۔ میں اور کچھ نہیں جانتی۔" باقر اس کی بات سن کر ایک کال ڈائل کرتا آگے بڑھ گیا۔۔ "تم پریشان ہو روز، ہم ہالہ کو ڈھونڈ لیں گے۔" یارق نے نوروز کے کندھے پر تھپکی دینی چاہی۔ - وہ بدک کر دور ہٹی پھر زخمی نظروں سے اسے دیکھا۔ سیاہ نقاب سے جھلکتی آنکھوں میں غصہ تھا، قہر تھا اور برہی بھی۔
"حدیں پار کرنے کے لیے نہیں ہوتیں۔" وہ بولی تو اس کا لہجہ ایسا تھا کہ سرد موسم میں کسی پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا جائے۔ یارق کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
"My bad"
وہ دونوں ہاتھ اٹھائے بولا اور آگے بڑھ گیا۔
*****
حر حیدر آج کچھ مختلف دکھتا تھا۔ وی گلے والی سیاہ ٹی شرٹ پر سیاہ اور سرخ چیک شرٹ پہنے سیاہ جینز اور سیاہ ہی جوگر پہنے ہوئے تھا۔ بازووں کو کہنیوں تک موڑ رکھا تھا جس سے جھلکتی بھوری جلد کے کَسرت بازو اس کے باقاعدہ جم جانے کی کتھا سناتے تھے۔ بالوں کو معمول سے ہٹ کر آج کچھ بکھیر رکھا تھا۔ وہ ایک ریسٹوران۔۔
کی کرسی پر بیٹھا کسی کا انتظار کر رہا تھا۔ سامنے والا آتا نظر آیا تو وہ اٹھ کر اس سے بغلگیر ہو ہوا پھر مصافحہ کر کے اپنی جگہ سنبھالی۔
"کیسے ہو شاہ؟" سامنے والا مسکرا کر پوچھ رہا تھا۔
"میں جا رہا ہوں، زمان" اس نے جیسے تھکے ہوئے انداز میں اطلاع کی۔
"کہاں جا رہے ہو؟ کیا بات کر رہا ہے بھائی؟" زمان نے زرہ غور سے اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھا۔
"اسلام آباد، پوسٹنگ کروالی ہے، میں یہاں رہا تو میرا دل مردہ ہو جائے گا۔" اس نے ویٹر کو بلایا۔ اب وہ آرڈر لکھوا رہا تھا۔
"حر یہ سب ثانیہ کی وجہ سے کہہ رہا ہے نا؟ وہ تیرے قابل ہی نہیں تھی۔ تو اس کے پیچھے خود کو ضائع کر رہا ہے۔"
"میں خود کو ضائع ہونے سے بچا رہا ہوں ۔ میں یہاں سے چلا جاؤں گا تو اسے بھول جاؤں گا۔ ہمیں ان لوگوں سے دور ہو جانا چاہیے جن کی وجہ سے دل بیمار پڑتا ہے۔ان سے دور ہو جانا، ان سے فاصلہ رکھنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ محبت کرنا غلط نہیں ہوتا۔ اس کو حاصل کرنے کی ضد غلط ہوتی ہے۔" آرڈر آگیا تھا۔ اس نے ایک پلیٹ زمان کے سامنے رکھی۔
"اور ویسے بھی اس کی شادی کی شہنائیاں سننے نہیں رک سکتا۔"
"درست" زمان نے لقمہ کھایا اور تعریف میں سر ہلایا۔
"یہ مزیدار ہے، کھانے کا شکریہ۔" حر طنزیہ انداز میں مسکرایا وہ جانتا تھا کہ ابھی وہ اس کا مزہ کر کرہ کرنے والا ہے۔
"کوئی بات نہیں، میں جانے سے پہلے تمھارے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتا تھا-" زمان نے تشویش سے اسے دیکھا۔
"شاہ تم واقعی اسلام آباد جا رہے ہو؟ ہمیشہ کے لیے؟"میرے لیے اب یہاں رہنا مشکل ہے۔ میرا دم گھٹ رہا ہے۔" زمان نے کانٹا نیچے کرتے ہوئے حر کی طرف غور سے دیکھا۔
"کیا یہ ثانیہ کی وجہ سے ہے؟ تم اس سے اب بھی اتنی شدت سے محبت کرتے ہو، کیا تم؟"حر نے آہ بھری اور اپنے کنپٹی کو رگڑا۔
"نہیں، زمان، محبت تو اسی لمحے دم توڑ گئی تھی جب اس نے مجھے قبول کرنے سے انکار کیا تھا، اب صرف یادیں ہیں جو تکلیف دے رہی ہیں۔ میں نے سوچا کہ میں ٹھیک کر رہا ہوں، لیکن اس کے آس پاس رہنا صرف ایک یاد دہانی ہے کہ میں اسے حاصل نہیں کر سکتا۔ اس سے پہلے کہ میں اپنے آپ کو مکمل طور پر کھو دوں مجھے یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ ویسے بھی ٹائنگر کی موت نے میرا دل توڑ دیا ہے۔ میں اتنا دکھی ہوں کہ دنیا کے سارے غم آج ہی یاد آ رہے ہیں۔" زمان نے سمجھ کر سر ہلایا۔
"مجھ کوسمجھ آگئی ہے۔ بعض اوقات فاصلہ بہترین دوا ہوتا ہے لیکن مجھ سے وعدہ کرو کہ تم رابطے میں رہو گے اور مکمل طور پر غائب نہیں ہوگے۔ جب بھی ضرورت پڑے ایک آواز دینا زمان حاضر رہے گا۔" وہ مسکرایا، اپنے دوست کے لیے تشکر کا احساس کیا۔ کم صحیح مگر دوست نسلی اور اصلی تھے۔
"میں وعدہ کرتا ہوں، زمان۔ سمجھنے کا شکریہ! میں جانتا ہوں تم ہمیشہ میری ایک آواز پر حاضر رہو گے۔" جیسے ہی انہوں نے کھانا ختم کیا اور الگ ہونے کی تیاری کی، حر نے خود پر راحت محسوس کی۔
"ویسے ٹائنگر کیسے مرا؟"
"کسی نے اسے گولی مار دی۔ وہاں کوئی کیمرہ بھی نہیں تھا اور کوئی ثبوت بھی نہیں ملا۔ اب اس گھر میں مجھے ہر جگہ ٹائنگر نظر آتا ہے۔ مجھے اب یہاں رہنا اور مشکل لگنے لگا ہے۔" وہ جانتا تھا کہ وہ صحیح فیصلہ کر رہا ہے، چاہے یہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ وہ اپنی زندگی کا کنٹرول سنبھال رہا تھا اور یہ شفا یابی کی طرف پہلا قدم تھا۔ اب اسے ایئرپورٹ کی طرف نکلنا تھا۔
*****
ہالہ کے اہل خانہ اور دوستوں سے تفتیش کے بعد، باقر اور اس کی ٹیم نے علاقے کی چھان بین شروع کر دی، کسی ایسے نگران کیمرے کی تلاش شروع کر دی۔ جس نے ہالہ کے اغوا کی فوئیج حاصل کی۔ انہوں نے مقامی کاروباری اداروں، ٹریفک کیمروں، اور رہائشی سیکورٹی کے نظام کو چیک کیا، لیکن ابتدائی طور پر وہ خالی ہاتھ آئے۔
شام کے چھے بج چکے تھے۔ نوروز جائے نماز پر بیٹھی خود کے سونے پر ملامت کر رہی تھی۔ کبھی دعائیں تو کبھی وظیفہ پھونک رہی تھی ۔ اسے اچانک موت کی خبروں سے خوف آتا تھا ۔ ایک بار پہلے بھی کسی کی موت ایسے ہیہوئی تھی ۔ وہ ایک دفعہ پھر گھر کو شہ سرخیوں کی زینت بنتے دیکھ نہیں سکتی تھی۔ اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔
"اللہ تعالیٰ، میں تجھ سے تیری خدائی کا واسطہ دیتی ہوں ۔ مجھے ہالہ واپس لوٹا دے۔ وہ جیسے گئی ہے ویسے ہی واپس آئے ۔ اس کو ہر شر سے محفوظ رکھنا ۔ اللہ وہ مجھے بہت عزیز ہے۔ میرے پاس چند ہی رشتے بچے ہیں۔ پلیز اللہ مجھے ہالہ واپس لادے۔" وہ اب سجدے میں سر رکھے خدا کی منت کر رہی تھی۔ سجدے سے اٹھ کر اس نے آنسو صاف کیے اور باقر کو کال ملائی ۔ فون کاٹ دیا گیا تھا۔ اس کے رونے میں شدت آگئی تھی۔ اس نے جائے نماز تہ کی پھر باتھ روم میں داخل ہوئی۔ دس منٹ بعد جب وہ واپس نکلی تو آنکھیں خشک تھیں ۔ دھلا دھلایا چہرہ اور زرد رنگ ، وہ اپنا سیاہ عبایا پہنے ہوئے تھی۔ اب وہ آئینہ کے سامنے کھڑی نقاب پہن رہی تھی۔
جب پریسا کمرے میں داخل ہوئی۔
"روز کہاں جا رہی ہو؟" اس کے ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا۔
"باقر بھائی کے پاس۔" اس کا لہجہ اب سپاٹ تھا۔
پریسا نے ساتھ جانے کی ضد نہیں کی وہ بریرہ کو سنبھال رہی تھی۔ اس نے صالح کو نوروز کے ساتھ بھیج دیا تھا۔ وہ دونوں اب مطلوبہ منزل پر پہنچے تھے۔ یارق سے رابطہ کرنے پر اس نے بھی وہیں ملنے کا وعدہ کیا تھا۔
*****
حر کو باقر نے صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا، وہ ابھی ہی اسلام آباد پہنچا تھا۔ حر کے مشورے پر باقر نے تلاش کے دائرے کو بڑھانے کا فیصلہ کیا، قریبی موٹر وے حکام اور ٹول بوتھ سے رابطہ کرنے کا آرڈر دیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کے کیمروں نے کچھ دیکھا یا نہیں ۔
یارق انویسٹیگیشن آفس پہنچا تو باقر ابھی آرڈرز جاری کر رہا تھا۔ یارق کو دیکھ کر اس نے کال مکمل کی۔ حر اس سے مل رہا تھا، پھر باقر اسے صورتحال سے آگاہ کرنے لگا جب نوروز اور صالح بھی پہنچے تھے۔
وہ لوگ کافی دیر بیٹھے مختلف تفصیلات پر باتیں کرتے رہے۔ آخرکار، گھنٹوں تلاش کے بعد، انہیں ایک ہٹ ملا تھا ۔ باریک بینی سے چھان بین اور تکنیکی مہارت کے ذریعے، باقر اور اس کی ٹیم ہالہ کے اغواه سے متعلق واقعات کو یکجا کرنے میں کامیاب ہو گئے اور بالآخر وہ اہم سی سی ٹی وی فوئیج ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جس نے انہیں سچائی تک پہنچایا۔ موٹر وے پر ایک ٹول بوتھ کیمرے نے اغوا میں استعمال ہونے والی کار کی تفصیل سے مماثل ایک تصویر کھینچ لی تھی ۔ باقر اور اس کی ٹیم نے فوری طور پر کار کی لوکیشن کا پتہ لگا کر قریبی سروس سٹیشن تک پہنچایا، جہاں انہیں ایک سی سی ٹی وی کیمرہ ملا جس نے ہالہ کے موٹر وے پر موجود ہونے کی واضح فوئیج حاصل کی تھی۔ فوئیج میں کار کی لائسنس پلیٹ دکھائی گئی، جس کی وجہ سے وہ ڈرائیور کی شناخت کر سکتے تھے مگر پہلے ہالہ تک پہنچنا زیادہ ضروری تھا۔ وہ لوگ فوراً اٹھ کر موٹر وے کی جانب نکلے تھے۔
"مس جعفری، آپ کو ہمارے ساتھ چلنا چاہیے۔"
باقر، حر، نوروز، صالح اور یارق ایک ہی گاڑی میں تھے جبکہ باقر کی ٹیم دوسری گاڑی میں ۔ باقر اور نوروز آگے بیٹھے تھے جبکہ یارق، حر اور صالح پیچھے تھے۔ صالح کو نوروز کا آگے بیٹھنا برا لگا مگر وہ اس وقت خاموش تھا۔
اور آخر کار ہالہ کی قسمت کا چونکا دینے والا انکشاف ہوا۔ باقر کا چہرہ کھولا جا رہا تھا۔ جو کیفیات اس وقت حر اور یارق کے چہرے کی تھیں ۔ نوروز ان کو سمجھنے سے قاصر تھی۔ وہ ہالہ سے ملنے کو بے چین تھی۔ اس کی آنکھوں میں امید کی کرن دکھتی تھی۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے موٹر وے روشنیوں میں نہائی ہوئی تھی۔ ایک مقام پر سے وہ گزر رہے تھے جب صالح کی آواز گونجی۔
"وہ رہی ہالہ۔۔۔" وہ حلق پھاڑ کر چیخا تھا۔ مخالف سڑک کے کنارے پر ایک گاڑی کے آگے کھڑی ہالہ نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا تھا۔ نوروز نے بھی اس کی طرف دیکھا تھا۔ ان کو یوٹرن لے کر اس کے پاس آنا تھا۔ مگر اس سے پہلے وہ لوگ آگے بڑھتے ہالہ کے جسم پر بہت سے سرخ نشانات دکھائی دینے لگے۔ باقر نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی تھی ۔ نوروز کا سر آگے شیشے سے ٹکرا گیا تھا۔یارق ، حر اور باقر گاڑی سے اتر کر دوسری جانب بھاگے تھے۔ مگر اسی لمحے ان تمام نشانات سے خون بہنے لگا تھا ۔ گولیوں کی آواز سے فضا گونج اٹھی تھی۔ وہ ایک لمحہ میں زمین پر گری تھی اور اس ایک لمحہ کو وہاں موجود ہر آنکھ نے بھرپور طریقے سے دیکھا تھا۔ پولیس والوں نے سڑک پر آتی گاڑیوں کا راستہ روکا۔ نوروز گاڑی سے اتر کر بھاگی، صالح اس کے پیچھے بھاگا۔ اس کا پاؤں برقعے میں پھنسا وہ بری طرح گری پھر اٹھ کر اس کی جانب بھاگی۔
ہالہ خون میں لت پت سڑک پر پڑی تھی ۔ لباس جگہ جگہ سے پھٹ جانے پر اس کا جسم دکھنے لگا تھا ۔ نوروز نے ان سب کے بعد اسے دیکھا تھا۔ اس نے ایک لمحے کی جست میں اپنا اسکارف کھینچ کر اتارا پھر اس کو اس خون آلود بہن پر ڈال کر اسے خود میں بھینچ لیا ۔ لمحوں میں وہ پوری خون میں بھیگ چکی تھی ۔ وہ تینوں مرد اسے ہی دیکھ رہے تھے ۔ نوروز نے سڑک پر بیٹھے کسی کے جوتے آتے دیکھے تو سر اٹھایا، وہ باقر تھا۔ اس کی آنکھوں میں سرخی تھی۔ وہ چاروں اس کے سامنے کسی ڈھال کی طرح کھڑے تھے۔ پیچھے موجود پولیس کی نفری اسے دیکھ نہیں سکتی تھی۔ اس کے سر اٹھانے پر سب متوجہ ہوئے ۔ یارق نے چونک کر نوروز کو دیکھا پھر اپنی نظر پھیر لی تھی۔
باقر کو لگا تھا وہ روئے گی، چلائے گی مگر وہاں اس کی آنکھیں خشک تھیں۔ نوروز نے باقر کو مخاطب کیا تو لہجہ مضبوط تھا کسی بھی جزبے سے عاری۔ "ایمبولینس کب تک آئے گی؟" حر نے ایک نظر نوروز پر ڈالی۔ اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ وہ واقعی اتنی مضبوط تھی یا بس اپنی ٹوٹی ہوئی روح کے اوپر فولاد کا خول چڑھائے بیٹھی تھی؟
"پانچ منٹ تک۔" باقر نے کہا تو نوروز نے سر ہلايا پھر ہالہ کو سر جھکائے دیکھنے لگی۔
"صالح ! ابراہیم ماموں کو بتاو، وہ ممی اور پریسا کو سنبھال لیں گے ۔ ہمیں ابھی ہاسپٹل میں وقت لگے گا-"
حر کی نظر اس کے چہرے پر گئی۔
"پریسا ؟ مطلب یہ نوروز ہے؟"
اس کے کانوں میں ارد گرد کی آوازیں مدہم ہو گئیں، صرف نوروز اور اس کی آغوش میں پڑی لاش رہ گئی۔
یہ۔۔۔ یہ نوروز جعفری تھی؟
وہی جس کا سایہ بھی عرش جعفری کسی کو چھونے نہیں دیتا تھا؟
اس کے لباس پر جمی گرد، خون کے دھبے، اور اس کی گرفت کی شدت نے حر کو لمحہ بھر کے لیے ساکت کر دیا ۔ وہ یقین ہی نہ سکا کہ یہ وہی لڑکی ہے جس کے گرد ہمیشہ ایک ناقابلِ عبور دیوار ہوتی تھی، اور آج وہ سب کے پیچ۔۔۔
اس طرح؟ اسے یقین نہیں آیا۔
اس کی نظر لاش پر گئی۔سڑک پر پھیلتا سرخ سیلاب جیسے ہر سوچ کو بہا گیا ہو۔ عرش جعفری کا خون۔۔۔
حر حیدر کے لیے نوروز جعفری اس دنیا کی معتبر ترین ہستی تھی کیونکہ وہ عرش جعفری کے لیے معتبر تھی اور حر کے نزدیک عرش جعفری اس دنیا کا سب سے نیک فطرٹ آدمی تھا۔
حر نے شدت سے آنکھیں میچ لیں، ایک چھپتا ہوا غصہ اور بے چینی اس کے اندر اٹھ رہی تھی، مگر وہ جانتا تھا کہ یہ لمحہ بس دیکھنے کا نہیں، یاد رکھنے کا بھی ہے۔
وہ وہاں مردوں کے ہجوم میں واحد عورت زات تھی ۔ جس کی آغوش میں اس وقت بہن کی لاش پڑی تھی ۔ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا یہ بتانے کی ضرورت وہاں کسی کو نہیں تھی ۔ وہ سب جانتے تھے وہ بھی باپ کی طرح ٹارگٹ کلرز کے ہاتھ لگی تھی ۔ یارق ہیراد کو سب بتا رہا تھا اسے پریسا کے پاس جانے کا کہہ رہا تھا۔
صالح کی کال پہلی رنگ پر اٹھائی گئی تھی ۔ ابراہیم کی آواز بہت متوازن تھی ۔ انہوں نے پرسکون سا ہیلو بولا تو صالح کی بھیگی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔ "بابا، اسے مار دیا ۔ بابا ہالہ مر گئی ۔" وہ آنسوؤں کے ساتھ اپنے باپ کو بتا رہا تھا۔ "لاش کہاں ہے؟" ابراہیم کو شاید اندازہ تھا اسی لیے ان کو کوئی شاک نہیں لگا تھا ۔ مگر پیچھے سے پریسا کے فون پر جھپٹنے کی آواز سنائی دی تھی۔
"کس کی لاش ؟ صالح ، ہالہ ٹھیک ہے نا ؟ صالح بولو نا ہالہ کہاں ہے؟" وہ روتی چلاتی اس سے پوچھ رہی تھی ۔ صالح سے کچھ کہا نہیں جا رہا تھا۔ مگر اس نے گلہ کھنکار کر کہا
"ہالہ کو مار دیا ، پری وہ مر گئی ۔" صالح نے یہ جملہ بہت تکلیف سے ادا کیا تھا مگر ابراہیم اور بریرہ کی فون سے ابھرتی آوازیں اسے پریشان کر گئی تھیں ۔ پھر ابراہیم نے فون اٹھایا
"پری بے ہوش ہو گئی ہے ۔ تم ڈاکٹر کو لے کر گھر پہنچو ۔" پیچھے سے بریرہ کے رونے کی آواز آ رہی تھی ۔ وہ پری کو اٹھا رہے تھے۔
صالح نے ایک نظر مڑ کر پیچھے دیکھا نوروز ہالہ کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھ رہی تھی ۔ اس نے خود گھر کا رخ کر لیا ۔
*****
وہ لوگ ابھی ہسپتال پہنچے تھے ۔ نوروز کا عبایا خون میں ڈوبا ہوا تھا ہاتھوں اور چہرے پر بھی دھبے تھے ۔ اس کے اسکارف میں لپٹی ہالہ کی لاش کو سٹریچر پر ڈال کر پوسٹمارٹم کے لیے بھجوایا گیا تھا ۔ وہ باقر سے کچھ بات کر رہی تھی ۔ اس کا لہجہ متوازن اور آنکھیں خشک تھیں ۔ جب حر، باقر کے پاس پہنچا ۔ اس نے باقر سے کچھ کہنا چاہا جب وہ ایک لمحہ کے لیے رک گیا ۔ اس کی نظر نوروز کے خون میں ڈوبے وجود پر پڑی مگر اس کا چہرہ کچھ اور کہتا تھا۔ حر نے اس کا چہرہ دیکھا، وہ حسین تھی۔
نوروز نے اپنی بات مکمل کی اور ساتھ موجود بینچ پر بیٹھ گئی۔
"نوروز، آپ یہاں حر کے ساتھ میرا انتظار کریں۔ آپ اکیلی کہیں نہیں جائیں گی۔ حر کے ساتھ رہیں ۔ میں آتا ہوں-"
وہ اسے ہدایت دیتا چلا گیا ۔ باقر کے منہ سے اب اس کا نام سن کر شک کی گنجائش نہیں بچی تھی ۔ حر اس سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گیا ۔ کافی دیر خاموشی رہی ۔ وہ اپنے خون آلود ہاتھوں کو دیکھتی رہی ۔ پھر حر کی آواز پر چونک کر اسے دیکھا۔
"آپ عرش صاحب کی بڑی بیٹی ہیں نا جس نے ان کی موت پریان دیا تھا-" اس نے نظر اٹھا کر حر کی بات سنی۔
"قتل پر !" اس کا لہجہ سخت نہیں تھا بس زرہ بے لچک تھا۔ حر نے سر ہلا دیا ۔ سامنے سے گزرتے مردوں کی نظر خود پر کر وہ شرمندہ ہو رہی تھی۔
حر نے اسے دیکھا پھر نظر زمین پر گاڑھ دی۔ وہ جان گیا تھا کہ وہ ایک باپردہ لڑکی تھی۔ رخ دوسری پھیر کر وہ اسے نظر انداز کرنا چاہتا تھا ۔ وہ اس حد تک خوبصورت تھی کہ اسے گھٹنوں دیکھا جا سکتا تھا مگر وہ اسے نہیں دیکھ سکتا تھا، اس کے دل میں اپنے استاد کی بیٹی کے لیے بہت احترام تھا۔
سامنے سے گزرتے مرد اس کو دیکھ رہے تھے۔ وہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا رہی تھی۔ چہرے پر خون کے دھبے لگ گئے تھے۔ گردن جھکی ہونے کی وجہ سے اس کے بال چہرے کو مزید چھپا رہے تھے مگر مسئلہ ہی تو اس کے بال تھے جو کوشش پیدا کر رہے تھے۔ سامنے موجود ایک لڑکے نے سیٹی بجائی تو حر نے اس طرف دیکھا پھر اٹھ کر اپنی سیاہ اور سرخ چیک شرٹ اتار کر نوروز کے سر پر ڈال دی اور آگے کھڑے لڑکے کو کالر سے پکڑ کر گھسیطتا ہوا دروازے سے باہر لے گیا۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آیا تو دائیں ہاتھ زرہ سرخ دکھتا تھا۔ نوروز ابھی تک اسی طرح ساکت بیٹھی تھی۔ شرٹ سر پر پڑی تھی اور اس میں سے اس کے بال نکل نکل کر پنکھوں کی ہوا سے جھول رہے تھے۔ حر کا دل چاہا کہ ساری دنیا اندھیرا کر دے۔ ہر آنکھ سے روشنی کھینچ لے کہ کوئی اسے دیکھ نہ سکے۔
پتا نہیں کیا تھا مگر جس شخص نے اسے عورت کی عزت کرنا سکھایا تھا، اس کی بیٹی کو ایسے دیکھنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ ابھی اس نے یہ سوچا ہی تھا کہ سامنے سے باقر کو آتے دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک شاپرنگ بیگ تھا۔ وہ اسے قریب لایا۔ نوروز کے پاس رکھا پھر اس میں سے ایک پیکیٹ نکال کر اس میں سے ایک چادر نکالی، پھر اس نے وہ کھول کر اس کے جھکتے سر سے شرٹ اتاری اور اس پر چادر ڈال دی۔ نوروز نے چادر دیکھی تو چونک کر سر اٹھایا پھر وہ باقر کو دیکھنے لگی۔ باقر نے اس کی نظریں دیکھیں تو کہنے لگا۔
"میں اُس بچی کی طرف سے معذرت چاہتا ہوں - نہ میں عرش صاحب کو بچا سکا نہ اسے۔ میں ان کا ایک احسان بھی نہیں اتار پایا، تم بس یہ اوڑھ لو، انکار مت کرنا۔ تمھیں ایسے دیکھنا بہت مشکل ہے۔" حر ان دونوں کو دم سادھے دیکھ رہا تھا۔ نوروز نے فوراً چادر اپنے سر کے گرد لپیٹ لی پھر اسی انداز میں چہرہ ڈھک لیا۔۔۔
"شکریہ۔" اس کی دھیمی سی آواز آئی تھی۔
"تعجب خیز ہو تم، نوروز۔" باقر نے اس کے حوصلے کو داد دی۔
"کیا زندگی میں اتنا ہی صبر کرنا ہوتا ہے یا پھر اس سے بھی آگے کی کوئی حد ہے؟" نقابت سے جھلکتی آنکھیں پوچھ رہی تھیں۔
"یہ حد سے زیادہ تھا۔ کیسے ابھی تک بند باندھے بیٹھی ہو؟" وہ سچ میں حیران تھا کیونکہ ہر دوسرے دن وہ عورتوں کے رونے سنتا تھا۔
"اپنوں کے لیے ایسا کرنا پڑتا ہے۔" اس نے چادر کے کنارے سے ہاتھ صاف کیے مگر خون جم چکا تھا۔
"یہ کس نے کہا تم سے؟" باقر کو اس کی بات پر حیرت سی ہوئی تھی۔
"عرش جعفری نے۔ جن سے آپ بہت انسپائیر ہوا کرتے تھے۔" نوروز کی یہ بات سن کر باقر خاموش ہو گیا تھا کیونکہ وہ خود عرش سے بہت متاثر تھا وہ جانتا تھا کہ عرش ہی اسے ایسی تربیت اور صبر سے نواز سکتے تھے۔
"میں تم سے بھی بہت انسپائیر ہوں۔" باقر نے جملہ کہا اور آگے بڑھ گیا۔ حر وہیں بیٹھا نوروز کے ہاتھ میں موجود سرخ انگوٹھی دیکھ رہا تھا۔ اسے ایک دم اس لڑکی سے بہت رعب محسوس ہوا، وہی رعب جو کبھی عرش سے محسوس کرتا تھا۔ وہ عرش کی بڑی بیٹی تھی، یہ سوچ ہی مرعوب کرتی تھی۔۔ ایک عرصے تک عرش کا شاگرد رہنے کے باوجود اس نے ان کی بیٹی کو صرف ایک بار دیکھا تھا۔ اس وقت شاید وہ دسویں میں تھی۔ نقاب سے جھلکتی آنکھیں تب بھی حسین تھیں۔ عرش اس کو گاڑی سے اتار کر باری باری اس کے دونوں ہاتھ چوم رہے تھے، کسی شہزادی کی طرح اور حر دور کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا، کسی غلام کی طرح۔ آج وہی شہزادیوں جیسی لڑکی عرش کی موت کے بعد سڑکوں کی خاک چھانتے، بے پردہ بیٹھی تھی۔ اسے ایک دم افسوس ہونے لگا تھا۔ اس نے لب بھینچ کر گہرا سانس لیا۔
******
22 ستمبر کی صبح، سبز پرچم والے، اس وسیع و عریض بنگلے کے نیچے ایک جوان میت پڑی تھی۔ اس میت کے ساتھ سفید لباس میں لڑکی دکھتی تھی ۔ وہ ہچکیوں سے روتی تھی ۔ اس کے ساتھ ایک سرخ بالوں والی لڑکی بیٹھی تھی جو اسے سنبھالنے کی کوشش کرتی خود بھی رو رہی تھی۔ پریسا چارپائی پر سر ٹکائے روتی جا رہی تھی۔ کسی نے پانی لا کر دیا تھا۔ ہیراد اب اسے پانی پلا رہی تھی۔ ان سے کچھ دور دیوار سے ٹیک لگائے بے حال سی پڑی بریرہ کو کچھ نہیں سمجھ رہی تھی۔ وہ کسی کو نہیں سن رہی تھی۔ رات سے اب تک کسی نے نوروز کو نہیں دیکھا تھا۔ وہ کہاں تھی پریسا سب سے پوچھ چکی تھی مگر کوئی نہیں جانتا تھا۔
یارق، صالح اور باقر، ابراہیم کے ساتھ کھڑے اب جنازے کے جانے کی تیاریوں میں تھے۔ حر، سلطان شاہ کے ساتھ آکھڑا ہوا تھا۔
"تم کل ہسپتال سے کہاں چلے گئے تھے؟" حر نے جواب نہیں دیا۔ پھر وہ دونوں ان کی طرف آئے۔
ابراہیم نے صالح سے نوروز کے بارے میں پوچھا تو ان سب کی توجہ بھی اس کی جانب گئی۔ باقر نے ابراہیم کی بات سن کر اب نوٹ کیا تھا کہ نوروز غائب تھی۔ ابھی وہ سب اس بارے میں بات کر رہے تھے جب سلطان نے پکارا۔
"یہ کون ہے؟" وہاں موجود سب کی نظر دور کھڑی نوروز پر گئی۔
"وہ نوروز ہے، ڈیڈ۔" باقر نے باپ کو بتایا تو سلطان کی آنکھیں ایک دم پتھر آگئیں۔ انہوں نے نظر گھما کر دور کھڑی ایک چادر میں لپٹی عورت کو دیکھا تھا مگر وہ ان کی طرف متوجہ نہیں تھی۔
نوروز سامنے سے اسی خون آلود لباس میں چلی آ رہی تھی۔ اسے جنازے کے پہنچنے کے لیے ان سب کے آگے سے گزرنا تھا۔ وہ ان کے سامنے سے سر جھکائے گزر رہی تھی۔ باقر نے اسے راستہ دیا تھا۔ جب ابراہیم نے اسے پکارا
"روز، تم ٹھیک ہو؟" نوروز نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا وہاں موجود ہر ایک ٹھٹھک گیا تھا۔ اس کی آنکھیں اتنی سرخ تھیں کہ ابھی خون رو دے گی مگر وہاں آنسوؤں کے ساتھ برہی اور غضب بھی تھا۔
"جس نے یہ کیا ہے نا، میں اسے بھی ایسی ہی موت ماروں گی، ماموں۔" وہ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر پچھتائے گا۔ مجھے میرے باپ کے نیک خون کی قسم۔" وہ بولی تو اس کا لہجہ کاٹ دار تھا جس میں ہلکی سی نمی تھی البتہ گلہ بیٹھا ہوا تھا ۔ حر نے کچھ کہنا چاہا جب باقر بول پڑا۔
"میں آپ کے ساتھ ہوں ۔ جب بھی آپ کو ضرورت ہو۔۔ بھائی کو یاد کرنا۔"
یک ایک نظر باقر پر ڈال کر آگے بڑھ گئی، جیسے اس کی بات کو ہوا میں اڑایا ہو ۔ سلطان شاہ نے اس کی حرکت بہت غور سے دیکھی تھی۔ اس کی چال میں ہلکی سی لرزش تھی۔ لوگ اسے ہٹ ہٹ کر راستہ دے رہے تھے۔ وہ پریسا کے پاس آئی تو پریسا اس کے گلے لگ پڑی۔ وہ رو رہی تھی، چیخ رہی تھی، ہالہ کو واپس مانگ رہی تھی۔ نوروز خاموش تھی۔ وہ اسے سینے سے لگائے اس کی فریادیں سنتی رہی۔ وہاں سب اسے دیکھ کر رو پڑے تھے۔ کافی دیر بعد وہ اس سے الگ ہوئی تو اس نے نظر اٹھا کر نوروز کو دیکھا۔"روز؟ تم چپ کیوں ہو؟ تم رو کیوں نہیں رہی روز؟ تم ٹھیک ہو؟ تم کہاں تھیں؟" وہ پوچھے جا رہی تھی اور نوروز خاموش تھی۔
"روز بولو نا کہاں تھیں؟ روز تمھیں میری قسم لگے، بولو نا" پریسا اب رو نہیں رہی تھی ۔ وہ اس کے لیے پریشان ہوئی تھی۔ نوروز بولی تو آواز ہلکی تھی۔
"بابا کے پاس گئی تھی ۔ کچھ وعدے کرنے تھے، کچھ ندامتیں بیان کرنی تھی۔ پری میں نوروز ہوں نا۔ میں نہیں سکتی، میں کمزور پڑ گئی نا تو کوئی تمھیں بھی کھا جائے گا۔ میں اب تمھیں نہیں کھو سکتی۔ مجھے اب عرش جعفری بننا ہے۔" وہ پیار سے اس کے آنسو پونچھ رہی تھی پھر وہ اس سے دور ہوئی اور میت تک آئی۔ حر حیدر پتھر بنا اسے دیکھ رہا تھا پھر اپنے گھٹنوں پر لگی مٹی جھاڑی۔
کا فی دیر بیٹھنے کے بعد میت کے جانے کا وقت ہوا تھا۔ اجازت نوروز سے لی گئی تھی۔ بریرہ بے ہوش ہو گئی تھی۔ نوروز نے پریسا کو سنبھالا تھا۔ پریسا نے نوروز سے خود کو چھڑوا کر میت کے پیچھے جانا چاہا تو نوروز نے اسے گلے سے لگایا پھر اس کے کان میں بولی
"پریسا جعفری۔ سید زادیاں صابر ہوتی ہیں۔" اس نے اپنی آنسوؤں سے ڈوبی آنکھوں سے نوروز کو دیکھا۔ نوروز کا دل چاہا وہ وہاں بیٹھ کر خوب رو دے، اپنا سارا غم بہادے مگر خاموش پتھر بنی کھڑی رہی۔۔ بریرہ کو دیکھنے کی فرصت نہیں تھی پریسا کو سنبھالنا زیادہ ضروری تھا۔ بریرہ کو سنبھالنے کے لیے بہت لوگ تھے۔ جنازہ جا چکا تھا۔
بہت دیر بعد کھانا کھا کر لوگ چھٹنے لگے تھے۔ وہ پریسا کو لے کر بریرہ کے کمرے میں آئی تھی۔ بریرہ سو رہی تھی۔
اس نے انہیں نہیں جگایا۔ وہ پریسا کو لیے اپنے کمرے میں آگئی۔ پریسا کافی بہتر دکھ رہی تھی۔ وہ اسے لیے صوفے پر بیٹھ گئی۔ اس نے نوروز کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھا پھر صوفے سے نیچے اتر کر اس کے پاؤں میں بیٹھ گئی۔
"روز تم نے اسے دیکھا تھا ۔ مجھے بتاؤ روز تم نے کیا دیکھا تھا؟ روز تمھیں میری قسم کچھ بولو۔ مجھے سب بتاؤ!"
وہ اس کا دایاں ہاتھ اپنے سر پر رکھے کہہ رہی تھی۔
نوروز نے اس کی طرف دیکھا اس کی نظروں میں التجا تھی۔
"بولو نوروز۔" آنسو خاموشی سے بہتے جا رہے تھے ۔ پریسا اسے سننے کو بے تاب تھی۔
"تین سیکنڈ میں گولیاں لگیں اسے میری آنکھوں کے سامنے۔" ایک جملہ ادا کر کے وہ خاموش ہو گئی ۔ یہ ایک جملہ اس کے حلق سے کیسے ادا ہوا تھا یہ کوئی نوروز سے پوچھتا۔ پریسا اسے دیکھنے گئی تھی۔ وہ گہرے سانس لے رہی تھی ۔ دل اب بند ہونے کو تھا۔
"پری ! میں نے اسے اپنی آنکھوں کے سامنے، اپنی آغوش میں دم توڑتے دیکھا، میں نے اس کے وجود کو سرد پڑتے دیکھا۔ میں نے اس پر ظلم محسوس کیا۔ میں نے کل وعدہ کیا تھا کہ میں اس کی محافظ بنوں گی ۔ میں نہیں بن سکی۔" وہ صوفے سے نیچے اتر کر پریسا کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔
"پری، بابا جان کہتے تھے کہ کسی اپنے کی موت ہو جائے تو انسان ذہنی مریض بن جاتا ہے۔ وہ صحیح کہتے تھے۔ میں محسوس کر سکتی ہوں، اب محسوس کر سکتی ہوں۔" پریسا نے زور سے اسے خود سے لپیٹ لیا۔
شاید عرش جعفری کا بھی کوئی اپنا اس کے سامنے دم توڑ گیا تھا ۔
******
ان دونوں کو یہاں چھوڑ کر اگر ایک اور سرخ گیٹ والے چھوٹے سے بنگلے سے رخ کیا جائے تو یہاں بھی صف ماتم بچھا ہوا تھا مگر ماتم صرف ایک ہی دکھائی دیتا تھا۔ اس نیم اندھیرے کمرے کے وسط میں وہ میز پر سر رکھے بلک بلک کر رو رہی تھی۔ کبھی وہ اپنے سر کو پیٹنے لگتی، تو کبھی اپنے زانو کو، کبھی اپنا سر میز سے ٹکراتی تو کبھی اپنے بالوں کو مٹھی میں جکڑ لیتی ۔ اس کی حالت بتاتی تھی کہ کسی بہت بڑے نقصان کو جھیل آئی ہے۔ اس کی کمر کے گرد لپیتی سفید چادر بتاتی تھی کہ وہ ابھی کہیں سے واپس لوٹی ہے۔
شاید کسی جنازے سے۔۔
*****
حر حیدر اپنے نئے گھر میں آیا تھا۔ شفٹنگ مکمل ہو چکی تھی ۔ ایک چھوٹا سا گھر، جہاں وہ صرف رہنا چاہتا تھا ۔ اس نے اپنے آبائی گھر کا رخ نہیں کیا تھا۔ وہ گھر اتنا بڑا تھا کہ وہاں اکیلا رہنا مشکل تھا۔ وہ آکر صوفے پر بیٹھ گیا۔ آنکھوں کے سامنے اس کی بھیگی سرخ آنکھیں گردش کرنے لگی تھیں۔ عرش کی بیٹی، جسے وہ سنبھال سنبھال کر رکھتے تھے، وہ بہت تکلیفیں کاٹ رہی تھی۔ اسے نوروز عرش جعفری پر بہت سار اترس آیا تھا۔ اس کی ہر ممکن طریقے سے مدد کرنے کا فیصلہ کرتے، اس نے افسوس سے سر جھٹکا۔
اسسسٹنٹ کلکٹر نے بیرسٹر کی بیٹی کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس لڑکی میں کچھ تو تھا جو اسے اس لڑکی سے مرعوب کرتا تھا اور آج، بہت سال بعد بھی اسے دیکھتے وقت ایسا ہی محسوس ہوا تھا۔ سب اس کی جرات کی داد اس کے عرش کی موت پر دیے گئے بیان پر دیتے تھے۔ اس وقت بھی اس نے نہ رونے دھونے کی بجائے اپنے باپ کی بہت سی حساس چیزوں کو سنبھالا تھا۔ وہ ہمیشہ سے مضبوط تھی ۔ بات کرتی تھی تو عرش لگتی تھی، دیکھتی تھی تو سامنے والے کی نظریں میں جھک جاتیں۔
وہ وہاں بیٹھا کافی دیر سوچتا رہا کہ اب اس کی بہن کا قاتل ڈھونڈا جائے، کیسے اور کب؟۔ اس نے فون پر ایک گھنٹی بجی تو اس نے مسج کھولا تھا۔ انسٹاگرام پر اس کے کسی دوست نے اسے کسی کی منگنی کی تصاویر بھیجی تھیں ۔ حر نے تصاویر دیکھیں پھر بے پرواہ سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا۔ ثانیہ، تم اگر خوش ہو تو حر حیدر بھی خوش ہے مگر میں تمھیں بھول نہیں پاوں گا۔ تم نے مجھے بدلنا چاہا مگر میں نہیں بدل سکا۔- تمھیں چناؤ کا حق تھا، تم نے حق استعمال کیا۔ تم نے اپنے لیے اچھا انسان چن لیا۔ امید ہے میرے لیے بھی کوئی اچھا لکھا ہوگا۔ شاید کوئی مختلف، کوئی تم سے زیادہ حسین۔۔۔" اس نے فون بند کیا اور صوفے پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔ سیاہی کے پردے پر ایک چہرہ دکھائی دینے لگا تھا۔ حر حیدر بے ساختہ مسکرا دیا۔
"میرے لیے بھی کوئی اچھا لکھا ہوگا۔"
*****
کافی دیر بعد اگر کمرے میں جھانکو تو اب نوروز وہیں پریسا کے زانوں پر سر رکھے لیٹی تھی۔ پریسا نے صوفے پر سر رکھا تھا اور ایک کشن اس کی گود میں پڑا تھا جس پر نوروز سر رکھے سو رہی تھی ۔ وہ روتے روتے سونے کی عادی تھی۔ وہ سو گئی تھی مگر پریسا کو نیند نہیں آئی تھی، وہ رات سے جاگ رہی تھی۔ نوروز کے بالوں میں انگلیاں چلاتے وہ اپنے آنسوؤں کو بہنے سے روک نہیں سکتی تھی ۔ اسے ہالہ کی موت سے زیادہ افسوس اس ازیت کا تھا جو نوروز نے برداشت کی تھی ۔
مرنے والا تو مر جاتا ہے مگر جس کے سامنے وہ توڑتا ہے وہ ایک طویل عرصے تک موت کا شکار رہتا ہے اور یہ امتحان اور سخت تب ہوتا ہے جب مرنے والے سے کوئی گہرا تعلق ہو۔
ہالہ، عرش کے بعد سے تھوڑی بدل گئی تھی پریسا اور نوروز نے اس پر توجہ کو بہت بڑھا دیا تھا۔ وہ دونوں اسے ماں بن کر پال رہے تھے۔ ابھی عرش کا خون تازہ تھا کہ ہالہ کی موت کا روگ لگ گیا تھا۔ اس کے کانوں میں نوروز کے جملے گونج رہے تھے۔ اس نے دل میں عزم کیا کہ وہ اس مجرم کو بھی ایسے ہی مجبور کر دے گی۔ اس کی آنکھوں سے بہتے قطرے کنپٹی سے ہوتے ہوئے اس کے سیاہ بالوں میں جذب ہو رہے تھے۔
اس کی نیندیں اڑ گئیں تھیں۔ نوروز صحیح کہتی تھی
"اب عرش جعفری بننے کا وقت ہے۔"
اس دن کا ہر گھنٹہ اذیت ناک تھا۔ ہر گھنٹے کوئی نیا خوف تو آلینتا تھا۔ اس کے بعد دن بھی گزرنے لگے، راتیں بھی کٹنے لگیں تھیں۔ اذیت کم ہوئی تھی یا نہیں مگر ان تینوں کے درمیان بہت زیادہ فاصلے آگئے تھے۔ پریسا اس سے نظریں چرانے لگی تھی تو بریرہ نے اس سے بات کرنا ہی کم کر دیا تھا۔ ان چالیس دنوں میں نوروز نے ہر طرح سے باقر اور اس کی فورس سے رابطہ رکھا تھا۔ وہ ہالہ کے مجرم تک پہنچنے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہی تھی ۔ باقر کو ہر طرح کی انفارمیشن وہ دے رہی تھی ۔ وہ جہاں بلاتا تھا وہ جاتی تھی مگر کوئی سرا ہاتھ نہیں لگتا تھا۔ پریسا بھی اس کا ساتھ دے رہی تھی مگر بریرہ سے چھپ کر کیونکہ بریرہ نے کیس بند کروا دیا تھا ۔ وہ اپنی باقی دونوں بیٹیوں کو کھونا نہیں چاہتی تھیں۔
****
چالییسویں روز
31 اکتوبر، سبز پرچم والے گھر میں سفید مسند بچھی تھی۔ بریرہ سفید لباس میں سامنے ویل چیئر پر بیٹھی تھیں۔ پریسا اور نوروز ان کے دائیں جانب بیٹھی تھیں۔ پریسا کی آنکھیں زرہ نم سی لگتی تھیں جبکہ نوروز کی آنکھوں میں کچھ بھی نہیں دیکھتا تھا، وہ سپاٹ تھیں، مردہ سی ہر قسم کے احساس سے عاری۔ اس کی آنکھیں ایسی تھی جو دل کے رازوں پر پردہ ڈالنا جانتی تھیں۔ وہ اس کے راز نہیں کھولتی تھیں ۔ اسے ہیراد سامنے سے آتی دکھائی دی تھی۔ اس نے آج بھی عبایا پہنے رکھا تھا مگر وہ سیاہ تھا جس پر نفیس نگوں کا کام ہوا تھا ۔ وہ اپنی ہیلز اتار کر اندر داخل ہوئی تو پریسا اس سے اٹھ کر ملی پھر وہ دونوں نوروز کے ساتھ بیٹھ گئیں۔ نوروز پچھلے چالیس دنوں سے زرہ چپ چپ رہتی تھی۔ وہ کسی صدمے کا شکار نہیں ہوئی تھی ۔ بس تھوڑی خاموش ہو گئی تھی۔ یونیورسٹی بھی جاتی تو چپ چپ رہتی تھی۔
ہیراد، پریسا کے ساتھ بیٹھتی اس سے مخاطب ہوئی۔
"بھئیا، ممی سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں-" ہیراد نے پریسا کے کان میں سرگوشی کی۔
"کیا بات ہے؟" وہ جانا چاہتی تھی۔"ہاں مجھے بھی اس سے بات کرنی ہے۔" یہ الفاظ بریرہ کے تھے۔ پریسا نے چونک کر انہیں دیکھا تھا۔ ہالہ کی موت نے سب سے زیادہ بریرہ کو توڑ دیا تھا۔ وہ بہت بدل گئی تھیں۔ ان کو پریسا اور نوروز کی کوئی پرواہ نہیں رہی تھی ۔ وہ ان پر توجہ بھی نہیں دیتی تھیں ۔
دعاکے بعد تمام لوگ کھانا کھا رہے تھے۔ جب بریرہ، یارق کو لے کر اپنے کمرے میں آگئیں تھیں۔ وہ کافی دیر ہالہ کے موضوع پر بات کرتے رہے پھر یارق نے موضوع کی طرف آتے کہا
"آپ نے مجھے کسی کام سے یاد کیا تھا-" وہ ان کے سامنے کرسی پر زرہ آگے کو ہو کر مؤدب سا بیٹھا ہوا تھا۔
"یارق بیٹا، میں ایک فیور چاہتی ہوں ۔ آپ نے جس طرح نوروز کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس رات بہت مدد کی تھی اگر آپ نا ہوتے تو۔۔۔"
"آپ مجھے بیٹا بھی بول رہی ہیں اور غیر بھی کر رہے ہیں۔ آپ مجھے بس حکم کریں-" وہ ان کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر ادب سے کہہ رہا تھا۔
"میں چاہتی ہوں کہ میں نوروز کی شادی کر دوں جلد از جلد۔" یارق کا چہرہ یک دم سفید پڑ گیا۔ نوروز کو اس نے بہن مانا تھا۔ اگلے جملے کا اندازہ وہ کر سکتا تھا ۔ اس کی ہتھیلیوں میں پسینہ آیا۔ اس نے اپنے ہاتھ واپس کھینچ لیے۔۔
"نوروز کی زمہ داری پہلے ہے۔ مجھے ڈر ہے اب وہ باغی ہو جائے گی۔ وہ عرش کی بیٹی ہے۔ اس مجرم کو پاتال سے ڈھونڈ نکالے گی ۔ اس سے پہلے اس کا دماغ اس طرف جائے، میں اسے کہیں اور الجھانا چاہتی ہوں اور ویسے بھی وہ بڑی ہے۔ اس کے بعد میں تمھارا اور پری کا سوچوں گی-" یارق یکدم سیدھا ہوتا نظر گھرا گیا۔۔ اس کی چوری پکڑی گئی تھی۔
"میں چاہتی ہوں تم نوروز کے معاملات میں میری مدد کرو۔ مجھے مالی مسائل نہیں ہیں۔ میں بس اس کے معاملے میں کسی غلط انتخاب سے ڈرتی ہوں۔ باقر سے بات کر کے دیکھ لو یا پھر تمھاری مرضی-" بریرہ سادگی سے کہہ رہی تھیں۔
"میں آپ کی بات باخوبی سمجھ رہا ہوں۔ میری نظر میں ایک شخص ہے ۔ میں بات کروں گا اور جلد جواب بھی دوں گا ۔ آپ اس معاملے میں بے فکر رہیں۔" پریسا کمرے میں چائے کی ٹرے لے کر داخل ہوئی۔ اس نے ٹرے رکھی پھر واپس ہو گئی ۔ آج یارق نے نظر اٹھا کر اسے نہیں دیکھا تھا ۔ وہ بریرہ کے سامنے یہ ہمت نہیں کر سکا تھا۔
ہیراد، نوروز کے ساتھ بیٹھی یونیورسٹی کے کچھ معاملات ڈسکس کر رہی تھی جب پریسا چائے لے کر ان کے ساتھ آ بیٹھی تھی۔
"ہیر، تم عبایے میں بہت اچھی لگتی ہو۔" نوروز مسکرا کر کہہ رہی تھی البتہ وہ اداس مسکراہٹ تھی۔
"مجھے اپنا آپ بھی اچھا لگنے لگا ہے۔ میں نے کبھی پردے کے بارے میں نہیں سوچا تھا کبھی پڑھا مگر مجھے اب لگتا ہے کہ خدا کا ہر فیصلہ ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے بس ہماری عقل محدود ہے ہم ہی نہیں سمجھتے۔" وہ چائے کا کپ اٹھاتی کہہ رہی تھی۔"نوروز ! میں ہمیشہ تم سے کہتی تھی کہ تم نقاب میں سانس کیسے لیتی ہو، تم کھاتی کیسے ہو، تمھیں دیکھ کر مجھے الجھن ہوتی ہے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ مگر اب میں تم سے انسپائر ہوں۔ اتنی گرمی تم کیسے برداشت کرتی ہو؟ میں تم مرنے والی ہو رہی ہوں۔
تم بہت اعلیٰ ہو۔۔ پتا ہے نوروز اگر اس رات میں نے ہالہ کو اپنے سامنے مرتے دیکھا ہوتا تو میں تمھاری طرح کبھی اس کو سنبھال نہیں پاتی۔ میں خود کو بھی نہیں سنبھال سکتی تھی۔ تم ہمیشہ کہتی تھی سید زادیاں صابر ہوتی ہیں۔۔۔ تم نے ثابت کیا نوروز۔ تم نے صبر کے ساتھ حوصلہ بھی کیا خود کے ساتھ پری کو بھی سنبھالا۔ تم نے رو کر میڈیا کی ہمدردیاں نہیں لیں ۔ تم ایک عظیم لڑکی ہو، یار۔۔ میں تم سے انسپائر ہوں۔"
"میں بھی روز ۔۔۔۔ میں بھی تم سے انسپائر ہوں-" یہ آواز پریسا کی تھی۔
"جب میں گھر میں یہ خبر سن کر بے ہوش ہو گئی تھی ۔ تب تم سڑک پر اس کی لاش اٹھائے بیٹھی تھی۔ ہیر صحیح کہتی ہے روز۔ تم عظیم ہو۔۔ تم بابا کا عکس ہو۔ میں تم جیسی کبھی نہیں ہو سکتی۔ مجھے تمھاری انگلی پکڑ کر چلنے کی عادت ہے۔۔۔ میں تمھارے بغیر کچھ بھی نہیں ہوں۔" نوروز نے اسے گلے سے لگا لیا پھر اس نے ہیراد کو بھی اشارے سے بلایا وہ بھی اس کے گلے لگ گئی۔
"تم دونوں کو مجھ سے انسپائر نہیں ہونا ہے۔ میں خاک ہوں ۔ آسمان کی طرف دیکھو۔ اپنی جگہ تلاش کرو۔ آزاد بنو۔۔ مجھ خاکی کے پیچھے مت چلو۔ میں ہالہ کی حفاظت نہیں کر سکi تم دونوں کی کیا کروں گی-" وہ دونوں اس سے الگ ہوئیں تو نوروز کی آنکھیں ضبط سے سرخ پڑ رہی تھیں۔
"مجھے اب کسی کا گارڈین اینجل نہیں بننا۔ میں حفاظت نہیں کر سکتی نا تمھاری نا تمھارے دل کی، میں کسی کی محافظ نہیں بن سکتی۔۔ یہ دنیا اکیلی عورتوں کے لیے نہیں ہے۔"
یارق نے لیونگ روم کے دروازے کے باہر کھڑے ہیراد کو آواز دی ۔ وہ ان دونوں سے الوداعی مصافحہ کرتی چلی گئی تھی۔
"ممی یارق بھائی سے تمھاری بات کر رہے تھے۔" پریسا نے نوروز کو اطلاع دی۔۔
"میری بات ؟ میری کیا بات ؟" وہ چائے کا کپ رکھتی بولی۔
"تمھاری شادی کی بات-"
"وااات ؟ میری شادی ؟؟؟ میری ؟؟؟ میری بہن کے چالیسویں روز میری شادی کی بات ؟" وہ بھی یارق بھائی سے۔۔ اس کو بہت برا لگا تھا۔
"یارق بھائی کے پاس کوئی تمھارے میج کا تھا تو انہوں نے ممی کو بولا کہ وہ کل تک جواب دیں گے۔ ممی کو تمھاری شادی کا خیال کیوں آیا اچانک ؟" پریسا کو اس کی شادی کا خیال آج پہلی دفعہ آیا تھا کہ نوروز اور اس کا الگ ہونا تھا ۔۔ وہ ہمیشہ ساتھ نہیں رہ سکتیں "اچانک نہیں پچھلے چالیس دنوں سے آ رہا ہو گا ۔ جیسے اب مجھے تمھاری شادی کا خیال آنے لگا ہے۔ میں تمھاری حفاظت نہیں کر سکتی، پری۔۔ کسی مضبوط سہارے کو ڈھونڈ لو۔ نہیں تو میرے بعد تمھاری باری ہے۔ ممی کے آگے سر جھکا دینا مشکل ہے۔ تم اپنی پسند سے شادی کر لینا۔" وہ اس کے سر پر بم پھوتی اٹھ چلی گئی تھی۔
پریسا وہیں جامد سی بیٹھی رہی۔ اس کے ذہن میں ایک چہرہ ابھرتا پھر معدوم ہوتا۔۔
صالح ابراہیم کا چہرہ۔۔
محبت تکلیف دہ نہیں ہوتی۔ ایک طرفہ محبت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ وہ نوروز کے پیچھے لپکی وہ جانتی تھی وہ اپنے کمرے میں گئی ہے۔ اس نے نوروز کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ کوئی آواز نہیں آئی اس نے دوبارہ دستک دی مگر جواب نہیں آیا۔ اس نے ناب گھمایا مگر وہ لاک تھا۔ وہ وہیں بیٹھ گئی۔ گھر میں اب صرف تین نفوس تھے ۔
ایک نیچے کمرے میں ویل چیئر پر بیٹھی بریرہ عرش جعفری تھی۔ اوپر ایک لڑکی کے اندر دروازے سے بیٹھی تھی اور دوسری لڑکی کمرے کے باہر دروازے سے لگی بیٹھی تھی۔ گھر میں خاموشیوں کا راج تھا۔ پریسا خاموشی سے بیٹھی اور سرد دروازے سے ٹیک دیا۔ اب وہ نوروز کی ہلکی ہلکی ہچکیوں کی آواز کو باآسانی سن سکتی تھی ۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ جانتی تھی کہ نوروز مضبوط ہے مگر انسان ہے ۔ وہ بھی ٹوٹی تھی بس اپنی اذیتوں کا اشتہار نہیں لگاتی تھی ۔ نوروز جعفری ہمیشہ پریسا کے لیے موجود تھی مگر نوروز کے لیے کبھی موجود نہیں ہوتی تھی ۔ نوروز ہمیشہ اسے سنبھالتی تھی، بچاتی تھی مگر وہ۔۔۔
وہ سب نوروز کے لیے کبھی نہیں کر سکی کیونکہ وہ پریسا جعفری تھی ۔ وہ نوروز نہیں بن سکتی تھی۔
کیا نوروز بننا اتنا آسان ہوتا ہے ۔۔۔؟ نہیں۔
نوروز جو اندر دروازے کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک منظرنامہ چل رہا تھا۔ وہ منظر پچھلی چالیس راتوں سے وہ جاگتی آنکھوں سے دیکھتی تھی۔ سب کہتے تھے نوروز مضبوط ہے، صابر ہے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ نوروز جعفری پچھلی چالیس راتوں سے سو نہیں سکی۔ اس کو اب بھی اپنے ہاتھ پر ہالہ کے خون کی نمی محسوس ہوتی تھی ۔ وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتا تو اسے سرخ نظر آتے تھے۔ آغوش کو دیکھتی تو ہالہ کا خون میں ڈوبا چہرہ دیکھتا تھا۔ اس نے اپنا سر گھٹنوں پر گرا دیا۔ پھر اس نے روتی آنکھیں اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھتے کہنا شروع کیا۔
"اے اللہ میں تجھے اپنا رب مانتی ہوں، میں کسی کو تیرے ساتھ شریک نہیں کرتی۔ تو وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔۔ جس نے مجھے عزت دی۔۔ جس نے میرے باپ کو عزت دی۔۔ اللہ تیرے احسان نہیں گنوا سکتی۔ مجھے صبر دے ورنہ میرا دل پھٹ جائے گا۔ میں اتنی مضبوط نہیں ہوں ۔۔۔۔ نہیں ہوں، اللہ تعالی مجھے صبر دے۔۔ تجھے تیرے حیب کے صبر کا واسطہ مجھے صبر دے۔۔ اللہ میرا دل پھٹ جائے گا۔" اس کی آواز بلند ہونے لگتی تھی، ضبط ٹوٹ رہا تھا۔
"صبر کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا، اللہ تعالی ۔ یہ بڑا مشکل ہے۔ یہ بڑا اذیت ناک ہے۔ میں تیری تقسیم پر راضی ہوں۔۔
مجھے شکوہ نہیں مالک، بس مجھ سے صبر نہیں ہوتا، میں خاکی ہوں۔یہ صبر بڑا مشکل ہے۔کلیجہ کٹ رہا ہے، آنسو بہہ رہے ہیں، سانس نہیں آتی، دنیا تنگ لگنے لگی ہے لیکن میں شکوہ نہیں کرتی۔" وہ سجدے کی سی حالت میں اب زمین پہ ماتھا ٹکائے رو رہی تھی اور دروازے سے باہر بیٹھی لڑکی اس کی آواز سن کر منہ پہ ہاتھ جمائے رو رہی تھی، اپنی آواز کا گلہ گھونٹ رہی تھی۔ پریسا، آج عرصہ بعد اس کی ایسی سسکی آواز سن رہی تھی۔۔
"میں پری کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ پری کے دل سے صالح کو نکال دے ۔ وہ بہت تکلیف میں ہے۔ مجھے پتا ہے نا پر میں کچھ نہیں کر سکتی اس کے لیے۔ میں بے بس ہوں۔
اللہ میری بہن کو اس کی خوشیاں لوٹا دو۔ اس کا دل محبت کا مارا ہوا ہے۔ تو صالح کو اچھا آدمی بنا کر اسے دے دے یا اُس کے دل سے یہ مرض نکال دے ۔ اس کی تکلیف کم کر دے اللہ تعالی ۔ میرے بابا کے سامنے سرخ رو جاؤں۔۔ میں ان کی ایک بیٹی کے معاملے میں کوتاہی کر گئی ۔ دوسری کے معاملے میں نہیں کرنا چاہتی۔ اللہ تعالی پلیز۔ میں۔۔۔" وہ ہچکیاں لیتی ایک لمحے کے لیے ٹھہری، کسی کی سسکی اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے، پلٹ کر ایک جھٹکے سے دروازے کا لاک کھولا۔۔ پریسا جو دروازے سے سر ٹیک کر بیٹھی تھی۔پیچھے کو لپک گئی پھر اس نے سیدھا ہوتے شرمندہ نظروں سے نوروز کو دیکھا۔ نوروز کی آنکھیں بالکل سفید تھیں - اس کی آنکھوں کو سرخ پڑنے کی عادت نہیں تھی ۔ پریسا نے سیدھا ہوتے ساتھ ہی اسے سینے سے لگایا ۔ نوروز نے خود پر بٹھائے آج سارے بند توڑ دیے تھے ۔ وہ رونے لگی، پھر اس کی آواز بلند ہو گئی ۔ پریسا اسے خاموش نہیں کروا سکتی تھی ۔ چالیس دن کا غبار آج بہنے لگا تھا ۔ اس کی ہچکی بند گئی تھی۔
بہت دیر رونے کے بعد وہ بولی "پری، صالح تمھارے قابل نہیں ہے ۔ تم کسی ایسے انسان سے شادی کرنا جو تم سے محبت کرے ۔ جو تمھیں تمھارے ہر عیب کے ساتھ قبول کر لے ۔ پری تم گھاٹے کا سودا نہ کرنا ۔ تم جس قدردان پر ہاتھ رکھو گی میں تمھیں لا کر دوں گی مگر صالح جیسا انسان نہیں ۔ وہ کسی محبت کا پر ستارہ ہے۔ وہ تمھیں کبھی عزت نہیں دے گا ۔" نوروز اس سے الگ ہوئی ۔
"اپنے لیے بہترین انتخاب کرنا ، میں ساتھ ہوں ممی کو بھی سنبھال لوں گی ۔ میں سب ٹھیک کر دوں گی ۔ میں تمھارے لیے سب کروں گی ۔ بس تم نے پیچھے نہیں ہٹا ۔ نوروز تمھارے آگے کھڑی ہے ۔ تم تک کسی کو نہیں آنے دوں گی ۔" وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بول رہی تھی ۔ عرش کی تربیت سامنے جھلک رہی تھی مگر کچھ تھا جو ان دونوں میں مختلف تھا۔
"اور تم روز؟؟؟ تمھارے آگے کون کھڑا ہے ؟ تمھیں کون بچائے گا ۔ تم نے ساری زندگی بہن ہو کر ماں والے فرض نبھائے ہیں ۔ تمھارا حق کہاں گیا؟ اس سب میں تم کہاں ہو؟" پریسا اس کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ چھڑواتی بول رہی تھی ۔
"ممی کا ایکسیڈنٹ تمھاری وجہ سے نہیں ہوا تھا ، وہ حادثہ تھا مگر تم نے اسے دل سے لگا لیا ۔ تم نے ممی کی ساری زمیداریاں اپنے سر لیں ۔ تم نے ہالہ کو پالا، مجھے سنبھالا، بابا کے ساتھ رہیں ۔ تم نے میری وجہ سے اپنا سائبر سیکیوریٹی اسپیشلسٹ بننے کا خواب چھوڑا اور اب تم ہالہ کی موت کا زمیدار خود کو سمجھتی ہو؟ تم اور کتنی قربانیاں دوگی، روز؟ خود پر رحم کرو ۔ تم میری ماں مت بنو، میری بہن بنو ۔ اپنا دکھ بھی تو مجھے بتاؤ نا ۔ تم ناانصافی کرتی ہو ۔ بابا کہتے تھے تم عرش جعفری ہو ۔ وہ اس لیے کہتے تھے کیونکہ تم میں ان جیسا صبر تھا، روز۔ مجھے اب سمجھ آئی۔"
پریسا خفگی سے رخ پھیر چکی تھی ۔
"پری، میں نازک مزاج نہیں ہوں میں برداشت کر سکتی ہوں ۔ مجھے۔۔۔" پریسا نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹی اور درشتگی سے بولی۔
"میری ماں مت بنو، روز۔ مجھے بہن کی ضرورت ہے۔ میری ماں زندہ ہے ابھی ۔" پریسا اٹھ کر اب کھڑکی بند کر رہی تھی ۔ نوروز کا کمرہ گھر کا سب سے زیادہ ہوادار اور روشن کمرہ تھا۔ اسے کھڑکیاں، دروازے اور کھلی جگہیں پسند تھیں۔ آج بھی اس کے کمرے کی کھرکی کھلی تھی مگر باہر چلنے والی سرد ہوا نے مجبور کیا کہ اسے بند کر دیا جائے۔۔
زندگی میں کچھ کھڑکیاں ہماری پسند سے کھلی رہتی ہیں مگر ان کا بند ہو جانا بہتر ہوتا ہے۔
*****
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے، اب گھر کے قریب ہی تھے۔ یارق گاڑی کو خاموشی سے چلا رہا تھا اور ہیراد اپنے فون پر کچھ دیکھ رہی تھی پھر اس نے فون پرس میں رکھا۔ ایک نظر یارق پر ڈال کر اب وہ باہر دیکھ رہی تھی۔۔
"بھئیا، ممی کو آپ سے کیا کام تھا؟" چپ رہنا شاید اس کی توہین تھی اس لیے کوئی بات ڈھونڈ کر پوچھ لی۔
"وہ نوروز کی شادی کرنا چاہتی ہیں۔ اس لیے مجھ سے ریکوئسٹ کر رہی تھیں۔" یارق سوچ سوچ کر بول رہا تھا۔
"کیاااا ؟ روز کی شادی ؟ آپ سے ؟ واہ ۔۔۔۔ وہ بہت اچھی ہے۔" ہیراد ایک دم پرجوش سی ہو گئی تھی۔
"نہیں اسٹوپڈ۔۔۔ مجھ سے نہیں۔ کوئی رشتہ ڈھونڈنے کا کہہ رہی تھیں ۔" وہ اس کی بات کا برامان گیا ۔ وہ بھلا کیوں کرتا نوروز سے شادی۔
"آپ ہی کر لیں نا اس سے شادی، وہ اتنی خوبصورت تو ہے۔۔۔ بھلا آپ کیوں نہیں؟" اس کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔
"ہیر۔۔۔ کیونکہ میں تو تمھاری پری میں انٹرسٹڈ ہوں۔" یارق نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر آج کہہ ہی ڈالا تھا جو پچھلے چالیس دنوں سے اس کے دماغ میں تھا یا شائد دل میں۔
"کیااا ؟ پری ؟؟؟ آپ کا دماغ چل گیا ہے۔ پری کتنی چھوٹی ہے آپ سے۔" ہیراد کو تو اچھا خاصا شاک لگا تھا۔
"نوروز بھی تو چھوٹی ہے؟" یارق اس کی تقسیم پر حیران تھا۔
"نوروز اور پری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ نوروز آپ کے ساتھ رہ سکتی ہے پر پری۔۔۔ ناممکن۔ آپ اسے کبھی خوش نہیں رکھ سکتے۔ آپ میں اتنے گٹس ہی نہیں ہیں۔" اس بار یارق کو شاک لگا تھا ۔ وہ سمجھا تھا کہ کہے گی کہ پری اس کی بھابھی بننے کے قابل نہیں‘ پری یہاں معاملات ہی الٹ تھے۔
"مجھ میں گٹس نہیں ہیں؟ میں تمھیں خوش رکھ سکتا ہوں تو اسے کیوں نہیں جب کہ میں اس سے محبت کرنے لگا ہوں۔ مجھ میں کیا کمی ہے؟" اب وہ گاڑی گیٹ سے اندر کر رہا تھا۔
"محبت ؟
آپ کو۔۔۔ پری سے محبت ہو گئی ہے؟" ہیراد منہ کھولے اس کا چہرہ تکنے لگی جیسے اس نے کچھ غلط سن لیا ہو۔۔
" نہیں پتا ہیر، ایسا کب ہوا مگر میں جب اسے دیکھتی ہوں مجھے اپنے آنگن میں اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ وہ مجھے اگنور کرتی ہے۔ بات کرتی ہے تو لہجہ سخت ہوتا ہے۔ دیکھتی نہیں اور جب دیکھتی ہے تو لگتا ہے کھا جائے گی ۔ پھر بھی اچھی لگتی ہے۔ تم بس یہ سوچو کہ مجھے نوروز کے آگے بھی وہی اچھی لگی ہے۔" ہیراد نے دروازہ کھولا، گاڑی سے اتری اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔
یارق کو لگا وہ ناراض ہو گئی ہے ۔ وہ بھی گاڑی پارک کر کے اس کے پیچھے آیا۔ وہ لیونگ روم کے صوفے پر بیٹھی تھی۔ یارق اس کے ساتھ آبیٹھا۔ اس کو ناراض چھوڑنا یارق کی عادت کے خلاف تھا۔
"برا لگا؟" یارق نے پیار سے اس کے کندھے پر ہاتھ پھیلایا۔
"نہیں، میں سوچ رہی ہوں کہ نوروز کے لیے سوئیبل میچ کون ہوگا؟" یارق نے اسے نظر بھر کر پھر ہستے ہوئے اسے سینے سے لگایا۔
"میں سوچ رہا ہوں کہ باقر سے بات کرتا ہوں ۔ وہ اچھا لڑکا ہے اور میں اسے جانتا ہوں۔"
"واٹ ؟؟؟ ڈی آئی جی صاحب، نہیں ! آپ ان سے نہیں کروا سکتے نوروز کی شادی۔ آریو میڈ۔ ان کے علاوہ کوئی بھی پروہ نہیں ؟"
"یار !!! ایک تو تم" ہیراد نے اس کی بات مکمل نہ ہونے دی۔
"وہ سر پھر اپارٹنر ہے نا۔۔۔ ؟ ان سے کروادیں، نوروز کی شادی۔" حر حیدر اور یارق بزنس پارٹنر تھے اور یہ بات آج کی نہیں تھی۔ باقر نے پہلے ہی یارق کو عرصے سے پارٹنر شپ کرنے پر راضی کیا تھا اور آج تک یارق کو اپنے فیصلے پر پچھتاوا نہیں ہوا تھا۔
"حر۔۔۔ ہاں اس کی عمر بھی کم ہے ۔ باقر تو بہت بڑا ہے۔ اچھا چلو، میں بات کرتا ہوں مگر مجھے لگتا ہے ۔۔۔ وہ کھڑوس منسٹر نہیں مانے گا۔"
"کون سا منسٹر؟" ہیراد نے اس کا چہرہ دیکھا۔
"فنانس منسٹر سلطان شاہ ۔ وہ آدمی اتنا کوئی کتے کی دم ہے۔ اس کو دیکھنا پڑے گا۔ باقر سے بات کرتا ہوں۔" وہ سوچ کر کہہ رہا تھا۔ "حر حیدر۔۔۔" یارق نے صوفے کی پشت سے سرٹکاتے استفسار کیا۔
"بھئیا ! پری کسی اور سے محبت کرتی ہے۔" ہیراد اب دھیمے لہجے میں بول رہی تھی۔
"کس سے؟" یارق کا لہجہ عام سا تھا مگر دل کو بہت لگا تھا۔
"صالح ابراہیم سے، اور وہ بے غیرت میرے پیچھے کتے کی طرح دم ہلاتا پھر رہا ہے۔" ہیراد اس کے کسی بھی منفی رد عمل کے لیے تیار تھی۔
"صالح ابراہیم ؟؟؟ کزن اس کا ؟ اتنی بری چوائس۔" یارق کو یکدم صالح ابراہیم برا لگا۔ وہ بری طرح متاثر ہوا تھا، اس کا دل بھی۔۔
"کسی اور سے محبت کرتی ہے اور وہ بھی صالح ابراہیم ؟ اسٹوپڈ۔" اس نے بات بلند آواز میں کہی تھی۔
"آپ کو صالح ابراہیم سے کیا مسئلہ ہے ۔ اچھا خاصا ہینڈسم نوجوان ہے، امیر ہے اور۔۔۔"
"تمہیں تو اس کی شکل دیکھنا پسند نہیں ہے۔ اب اس کی تعریفوں کے پل کیوں باندھ رہی ہو؟" اس نے غور سے ہیراد کے چہرے پر کچھ پڑھنا چاہا۔
"وہ میری ٹائپ نہیں ہے ورنہ اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔" ہیراد بھی کندھے اچکاتا بے باکی سے بولی تھی۔
"مطلب تمھاری پری کو جو چیز پسند ہے اس کو کچھ نہ کہا جائے ۔" وہ ایک تیوری چڑھائے اسے دیکھ رہا تھا۔
"جی" ہیراد نے اتراتر جواب دیا۔
"اور جو میرا دل اس کی محبت میں گھائل ہو رہا ہے وہ نہیں دیکھتا تمہیں؟" یارق اپنے سینے پر ہاتھ رکھے اس سے پوچھ رہا تھا۔
"وہ اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ بس محبت ہے اور وہ اس احساس سے جان چھڑوانا چاہتی ہے۔" ہیراد کو جیسے افسوس سا ہوا تھا۔
"میری محبت اس کے دل سے اس شخص کی محبت کو نکال دے گی ۔ ایک دفعہ وہ بس میری ہو جائے-" یارق حصر سے بولا تھا۔
"ایک دفعہ وہ آپ کی ہو جائے پھر ہر بات پر اسے کسی اور سے محبت کرنے کے طعنے دینے والے آپ ہی ہوں گے ۔ جیسے میں مردوں کی فطرت سے واقف نہیں۔" ہیراد نے ہنسی اڑاتے ہوئے جملہ کہا پھر نظریں اوپر کی جانب بڑھنے لگی۔
"محبت جرم نہیں ہے نامرد کے لیے نا عورت کے لیے۔" یارق پیچھے سے پکار رہا تھا مگر ہیراد سیڑھیاں چڑھتی گئی ۔ پھر کچھ سوچ کر رکی اور پلٹ کر اسے دیکھا۔
"اگر وہ آپ سے شادی کے بعد بھی اسے دل سے نہ نکال سکی تو کیا کریں گے اس کے ساتھ؟" وہ وہیں کھڑی اس سے پوچھ رہی تھی۔
"ہیر ! میں اسے اتنی محبت دوں گا کہ وہ صالح کو بھول جائے گی۔" یارق اسے یقین دلا رہا تھا۔
"محبت جرم نہیں ہے بھئیا مگر کیا آپ یا کوئی بھی مرد ایک لڑکی کی پہلی محبت جاننے کے باوجود اس کی طرف سے غیر مطمئن، خوفزدہ اور شک کا شکار نہیں ہونگے؟ کیا آپ اپنی عصبیت کو اس کے اور اپنے رشتے میں درائیں ڈالنے سے روک پائیں گے ؟ آپ کو سوچنا چاہیے کیونکہ نا تو اس کی زندگی فالتو ہے اور نا ہی اس کا کوئی جذبہ۔ آپ کو یا کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ شک یا عصبیت میں گھر کر اسے جیتے جی مار ڈالیں۔ وہ انمول ہے اور اس کی محبت بھی۔۔۔ بس اس کا چناؤ غلط تھا اور محبت میں وفا کا موقع ہی کس کو ملتاہے ؟ آپ خود کو ہی دیکھ لیں ۔" وہ اپنی کہہ کر اوپر چلی گئی تھی ۔ یارق علی وہاں کھڑا رہ گیا ۔ یہ کیسا آئینہ تھا جو ہیر نے دکھایا تھا ۔ وہ کب اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے لگی تھی ۔ یارق کو یاد نہیں آیا تھا کہ آج سے پہلے اس نے کبھی یارق سے اتنی سنجیدہ اور تلخ گفتگو کی ہو ۔ اس کا ایک ایک لفظ ابھی تک یارق کے دماغ میں گونج رہا تھا ۔ وہ واپس صوفے پر بیٹھا تھا۔ اگر معاشرے میں ہر بہن شادی سے پہلے اپنے بھائی کو یہ آئینہ دکھا دے تو کئی زندگیاں محفوظ ہو سکیں، کئی دل ٹوٹنے سے بچ جائیں مگر یہاں تو عورت ہی عورت کے لیے گڑھے کھود رہی ہوتی ہے ۔ ساس ، بہو اور نند، بھاو ج کے مقدس اور حرمت والے رشتوں کو جنگی محاذ سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس سب میں ایک مرد میں اتنا فہم ہو کہ وہ ماں اور بہن کے رشتے کو بیوی کے رشتے سے علیحدہ رکھے اور ان میں مقابلہ اور موازنہ کرنے کی بجائے ہر رشتے کو ایک انسان ہونے کی حیثیت سے دیکھے تو گھروں میں امن قائم ہو جائے۔
*****
اب اگر سبز پرچم والے گھر کی دوسری منزل پر پہنچ کر نوروز کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ دونوں سامنے بیڈ پر لیٹی ایک فون میں کچھ دیکھ رہی تھی۔ قریب جا کر فون میں جھانکا تو وہ ہالہ کا انسٹاگرام تھا۔ اس پر موجود تصاویر دیکھتی وہ اچھے وقتوں کو یاد کر رہی تھیں ۔ تصاویر اوپر کرتے کرتے چند سال پرانی تصاویر سلائیڈ کی شکل ان کے سامنے آئیں ۔ وہ ہالہ کی سالگرہ کی تصاویر تھیں ۔ ان تصاویر میں عرش ہالہ کے پیچھے کھڑے تھے ، پریسا اور نوروز دونوں ایک جانب اور ہالہ کیک کاٹ رہی تھی ۔ بریرہ اس تصویر میں موجود نہیں تھی ۔ اگلی تصویر میں سائیڈ پر بیٹھی بریرہ کسی سے بات کر رہی تھی اور ہالہ ، صالح کو کیک کھلا رہی تھی ۔ اس سے اگلی تصویر میں ہالہ ، عرش کے ایک وکیل دوست کو کیک کھلا رہی تھی ۔ اگلی تصویر میں ایک وکیل عورت نقاب میں کھڑی ہالہ کو تحفہ دے رہی تھی ۔ پیچھے ابراہیم اور بریرہ کسی بات پر بحث کرتے دیکھتے تھے۔
اس کو دیکھ کر پری کو یاد آیا تو کہنے لگی۔
"روز ! تم نے دیکھا تھا پر اسیکیوٹر رباب ہالہ کی ڈیتھ پر کتنا رو رہی تھی ۔ ان کی تو ممی سے بھی بری حالت تھی ۔ اس دن تو وہ کہیں سے رباب لگ ہی نہیں رہی تھیں ۔" نوروز کو اس کی بات پر زرہ حیرت ہوئی مگر بظاہر خود اسے یاد نہیں تھا ۔
"ان کو تو میں نے بابا کی ڈیتھ پر دیکھا تھا یا آج دیکھا ہے ۔ وہ ہالہ کی ڈیتھ پر بھی آئی تھیں؟ رو تو وہ آج بھی بہت رہی تھیں ۔ پتا ہے پری، مجھے کہہ رہی تھی کہ کوئی لیگل ایڈوائزر چاہیے ہو تو ان سے رابطہ کروں ۔ وہ بابا کی احسانات چکانا چاہتی ہیں ۔" پریسا کو یہ بات اچھی لگی تھی۔
"ہاں تو برا کیا ہے ؟ ہمیں ہالہ کے کیس کا کوئی سرا ملا تو ہمیں وکیل کی خدمات چاہیے ہونگیں۔"
روز، تمھیں پتا ہے آج ان کا چہرہ دیکھا۔ ان کو رو رو کر ہچکی لگ گئی تھی تب میں ان کو کچن میں لے آئی تھی۔ تمھیں پتا وہ بہت خوبصورت ہیں۔ ان کا چہرہ تم سے ملتا ہے۔"
"بکو مت پری ، اب وہ ہماری چو تھی بہن نہیں ہو سکتیں ۔" اس فضول بات پر وہ یہی کہہ سکتی تھی۔
"سچ میں روز، ان کا چہرہ ۔۔۔۔"
"پری تمھارا دماغ ویسے ہی آج کل تھوڑا کم کام کرتا ہے۔ تم چپ رہو ۔ ویسے تم آج یہاں سو رہی ہو؟"
"میں کیوں سونے لگی تمھارے کمرے میں ۔ جا رہی ہوں میں۔" وہ اپنی چہرہ پر گرتی لٹ پیچھے کو اڑاتی کمرے سے نکل گئی ۔ نوروز اسے دیکھے گئی پھر انسٹاگرام کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
******
صبح ہیراد کی آنکھ کی شدت سے کھلی تھی ۔ صبح کے پانچ بج رہے تھے جب اس نے کمرے میں موجود فریج کو خالی پایا ۔ وہ بالوں کا جوڑا بناتی سیڑھیاں اتر رہی تھی ۔ اس کے ڈھیلے سلیپر سے چٹ پٹ کی آواز آرہی تھی۔
آخری چند زینے اترتے ہوئے اس کی نظر یارق پر پڑی تو اس کو اپنی رات والی بدزبانی کی وجہ سے پشیمانی نے گھیرا۔ وہ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی وہ شاید سو رہا تھا۔ ہیراد اس کی پشت دیکھ سکتی تھی۔ وہ گھوم کر اس کے سامنے آئی تو وہ فوراً سیدھا ہو بیٹھا۔
"بھئیا" وہ کچھ کہنا چاہتی تھی شاید کوئی معذرت یا کوئی دلیل مگر وہ پہلے ہی بولنے لگا۔
"ہیر! اسے میری طرف سے کبھی عدم تحفظ، شک اور عصبیت کی شکایت نہیں ہوگی۔ میں کوشش کروں گا کہ کبھی اس سے کوئی حساس سوال نہ کروں۔ میں اس کے ٹوٹے دل کو محبت سے جوڑنے کی کوشش کروں گا۔"
"بھئیا! میرا وہ مطلب نہیں تھا" ہیراد شرمندہ تھی۔۔۔ اپنے جملوں پر۔ اپنے لہجے پر۔
"جو تم نے کہا سب ٹھیک کہا۔ تم اس کی ہم عمر ہو اس کی طرح سوچ سکتی ہو۔ تم نے مجھے وہ بتایا جو شاید میری عمر کا کوئی بھی مجھے نہیں سمجھ سکتا تھا۔" یارق کو اس کی بات بری نہیں لگی تھی۔ سچ کڑوا ہی ہوا کرتا ہے۔
"بھئیا میں بس آپ دونوں کو خوش دیکھنا چاہتی ہوں ایک دوسرے کے ساتھ یا علیحدہ اس سے مجھے فرق نہیں پڑتا۔" ہیراد کی آنکھوں میں بھائی کے لیے بے حد محبت تھی۔
"ہیر ہماری اور تمھاری جنریشن میں اتنا گیپ ہے کہ جو تم سوچتے ہو وہ ہم نہیں سوچ سکتے۔ ہم نے اس تیزی سے بدلتے زمانے میں خود کو ہی بڑی مشکل سے سنبھالا ہے۔ تم بچے ہو اس میں جینے کے لیے روزنئی مشکلات کا سامنا کرتے ہو۔ کوئی مانے یا نہ مانے ہم لوگ ہم سے زیادہ سمارٹ ہو۔۔ تم لوگوں کے مشورے بھی ہمارے تجربے سے زیادہ کارآمد ہیں۔"
"آپ یہاں بیٹھ کر پری کے بارے میں سوچتے رہے ہیں؟ پوری رات؟" ہیراد کا دھیان اب اس طرف گیا تھا۔
"ہاں! میں نے کہا مجھے اپنے آنگن میں اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔" یارق کی آنکھوں میں دیکھنے والی محبت کو وہ آسانی پڑھ سکتی تھی۔
"میں اسے سمجھاؤؤں گی۔" ہیراد اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گئی تھی کیونکہ اس کی آنکھوں میں جھلکنے والے آنسو یارق کے سامنے بہہ نکلتے اور ان کا جواز وہ پیش نہ کرپاتی۔
مرد بھی ایسی محبت کرتے ہیں؟ کیا مرد بھی صرف ایک عورت کو سوچنے کی خاطر پوری رات جاگ سکتے ہیں؟ وہ دل میں سوچتی کچن میں داخل ہوئی۔ آج پہلی دفعہ اس نے محبت کے متعلق سوچا تھا۔ اسے بھی ایک ایسے مرد کی ضرورت تھی جو اس کی خاطر رات جاگ سکتا تھا، جسے اپنے آنگن میں اس کی کمی محسوس ہو، جسے وہ کبھی بری نہ لگے ۔۔۔۔ مگر اس سب میں محبت کی جو تصویر اس کے ذہن میں ابھری تھی اس نے ہیراد علی کو بری طرح چونکا دیا تھا۔
"کیا میں اس کو پسند کرنے لگی ہوں؟" یہ سوال اس کے دل نے دماغ سے پوچھا تھا اور جواب ہاں میں آیا تھا۔
آنسو صاف کرتے اس نے پیچھے پلٹ کر فریج کی طرف بڑھنا تھا مگر یارق کو دیکھ کر وہ ڈر گئی۔
"بھئیا ایسے کیوں کھڑے ہو گئے؟ ڈرا دیا مجھے۔" وہ سینے پر ہاتھ رکھے کہہ رہی تھی۔
"رو کیوں رہی ہو؟" یارق اب فکر مندی سے اس کے پاس آیا۔
"میں نے آپ کو ہرٹ کیا نا؟ آئی ایم سوری۔ بھئیا۔"
"نہیں میرا بچہ، نہیں ہوا میں ہرٹ۔ بس اتنی سی بات پر رو رہی ہو۔ اتنی صبح کیوں اٹھی ہو؟" وہ اسے پیار سے تھپک کر بول رہا تھا۔
"بھوک لگ رہی مجھے۔" ہیراد نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
"چلو آؤ کچھ کھاتے ہیں۔"
*****
وہ ایک پرتعیش عمارت تھی۔۔ اندر داخل ہو تو بہت سے لوگ کام کرتے دیکھتے تھے۔ یارق اندر داخل ہوا اور سامنے موجود چوکی دار کو دیکھا۔ وہ اسے دیکھ کر زرہ سیدھا ہوا چائے کا کپ نیچے رکھا پھر سلام کرتا ادب سے جھکا۔۔ وہ اس پر ایک کتیلی نظر ڈال کر باقر کے آفس میں داخل ہوا۔ وہ سامنے کھڑا کسی سے کال پر بات کر رہا تھا، کچھ اشتعال بھی لگتا تھا۔ اس نے آنکھ کے اشارے سے یارق کو کرسی پیش کی پھر خود پاور سیٹ پر بیٹھ گیا۔
چند منٹ بعد اس کی کال مکمل کی پھر پوری طرح اس کی طرف متوجه ہوا۔ باقر اب مسکرا رہا تھا۔ اس نے انٹرکام اٹھا کر دو کافی آرڈر کیں اور پھر دونوں ہاتھوں میں ہاتھ پھنسائے اس کی طرف متوجہ ہوا۔
"مجھے تم سے کوئی لپیٹی بات نہیں کرنی۔ میں صاف اور سیدھی بات کرنے آیا ہوں اور جواب بھی مجھے جلدی چاہیے۔۔" جیسے کوئی سودا کر رہا تھا یا باقر سے دوستی تھی اس حد تک اسے تمہید باندھنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔
"میں سن رہا ہوں۔۔" باقر اس کی بات سن سن کر سنجیدہ ہو گیا تھا۔
"نوروز جعفری۔۔" وہ اپنے الفاظ جوڑ رہا تھا۔
"کیا ہوا ہے اسے؟" باقر نے زرہ آگے ہو کر پوچھا۔۔
"اس کی شادی عرس سے ہو سکتی ہے؟" آنکھیں باقر کی آنکھوں پر جمی تھیں۔
"یہ کوئی مزاج۔۔۔ نوروز کی شادی؟ کل اس کی بہن کا چالیسواں تھا۔ آج شادی کی بات؟" باقر کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی۔۔
"اس کی ماں کی خواہش ہے کہ وہ جلد ان دونوں کو مضبوط ہاتھوں میں دے دے۔۔ انہیں لگتا ہے کہ اب وہ ان دونوں کی حفاظت نہیں کر سکتی۔۔" یارق سکون سے ٹیک لگاتا بولا۔
"یارق، بات تو ٹھیک ہے ویسے، جتنے دشمن اس کے باپ کے ہیں ۔ ان دونوں کو محفوظ رکھنا ایک عورت کے لیے مشکل ہے۔" باقر کاپی اے چائے لے کر اندر آیا تو باقر چائے دیکھ کر جھنجھلا اٹھا۔
"بکواس کی تھی کہ کافی لانا۔۔" وہ دھاڑا توپی اس نے بڑبڑا کر ٹرے اٹھائی اور باہر کو لپکا البتہ یارق پر سکون تھا جیسے عادی ہو۔
"ایک تو ارشد کی موت کا سب سے بڑا عذاب مجھے جھیلنا پڑا ہے۔ اس آدمی سے کوئی کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا۔" باقر تپا ہوا اپنے پرانی پی اسے یاد کر رہا تھا۔
"نوروز۔۔۔۔ باقر ہم اس کے بارے میں بات کر رہے تھے۔" یارق نے اسے واپس موضوع پر بلایا۔
"ہاں۔۔۔ یار مجھے عرصے بات کرنی پڑے گی۔ کل تک کا انتظار کرو۔" باقر نے سوچ کر کہا تھا۔
"نہیں مجھے آج رات ہی جواب چاہیے۔" یارق اسے ڈیڈلائن دے رہا تھا۔"نہیں مجھے آج رات ہی جواب چاہیے۔" یارق اسے ڈیڈلائن دے رہا تھا۔
"ہو جائے گا اور کچھ؟" باقر اس کی بات مانتے ہوئے اس کی آنکھوں میں کچھ اور دیکھ رہا تھا۔
"نہیں" یارق نے صاف جھوٹ بولا۔
"پریسا جعفری کے بارے میں کیا خیال ہے؟" باقر نے اب اس کی چوری پکڑی تھی۔ یارق نے دل میں خود پر لعنت بھیج کر سر اٹھایا۔
"نوروز کی شادی ہو جائے پھر اس کا بھی دیکھتے ہیں۔" وہ باقر کے سامنے اپنا لہجہ حد درجہ سادہ رکھتے ہوئے بولا۔
"بکو اس مت کرو" باقر اب کھلتے دروازے سے ایک چھوٹے لڑکے کو اندر آتے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی۔۔ وہ سرو کرتا رہا مگر یارق کو کوئی جواب نہیں سوجھا۔
"اسے کسی اور سے محبت ہے۔۔۔ دوست پر اعتماد کیا گیا تھا۔"
"کس سے؟ نام بتا ابھی فارغ کر دیتا ہوں۔" یارق نے گھور کر اسے دیکھا۔
"نہیں!"
"تم ایک بار کوشش کر کے دیکھ لوہو سکتا ہے وہ مان ہی جائے۔ اس وقت لوہا گرم ہے۔
لڑکی کو پریشر۔۔۔" باقر اسے راستہ دیکھ رہا تھا۔
"نہیں، کوئی پریشر نہیں اگر شادی کے لیے راضی ہو گئی تو ٹھیک ورنه مجھ جیسے سو کو وہ روز ٹھکرانے کی عادی لگتی ہے۔"
"وہ خاص ہے اپنے لیے کوئی خاص ہی چنے گی۔" یارق نے جیسے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔
کافی پیتے وہ دونوں خاموش تھے، کچھ سوچ رہے تھے۔ باقر کے دماغ میں جو تھا وہ بھی گرم لوہے پر چوٹ دینے کے مترادف تھا۔ یارق کے جانے کے گھنٹے بعد وہ حر کو کال کر رہا تھا۔
"ہیلو!" حر حیدر کی آواز ابھری تو باقر مسکرایا۔۔
"چھوٹے بھائی! آج رات کا ڈنر میرے ساتھ کرو گے؟" باقر کا لہجہ آج بھی ہمیشہ کی طرح پرجوش سا تھا۔
"می کدہر آؤں؟" حر نے بے زار ہو کر پوچھا۔
"میرے گھر، آٹھ بجے۔۔"
"اوکے" اور کال کھڑک سے کاٹ دی گئی تھی۔ باقر نے مسکرا کر فون کو دیکھا۔ لوہا سچ میں گرم تھا۔
*****
اس رات ٹھیک آٹھ بجے حر حیدر باقر کے گھر میں موجود تھا۔ باقر اب تک گھر نہیں پہنچا تھا۔ حر وہیں پر بیٹھ گیا۔ وہ شدید غمگین تھا۔ اس نے اپنا فون کھول کر اپنے اکاؤنٹ پر موجود ٹائنگر کی تصاویر دیکھنے لگا۔ وہ اس کا سیاہ اور بھورے رنگ کا اونچا لمبا کتا جو کراچی میں مار دیا گیا تھا۔ حر کی اس سے دلی وابستگی بہت زیادہ تھی۔۔ وہ پچھلے پانچ سال سے حر کے ساتھ تھا۔ حر کا دل ایک دم برا سا ہونے لگا۔ اسے ٹائنگر کی موت سے زیادہ افسوس اس بے بسی کا تھا جس کی وجہ سے وہ اس کے قاتل کو ڈھونڈنے سے قاصر تھا۔ حر نے سرہاتھوں میں گرا دیا۔
با قر جب گھر میں داخل ہوا تو حر سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ وہ حر کے پاس بیٹھ گیا، اس کی آواز میں ہمدردی تھی۔
"یار، میں جانتا ہوں کہ یہ مشکل ہے، لیکن تم ثانیہ کی شادی کو اپنی زندگی کا تعین کرنے نہیں دے سکتے۔۔ تم نوجوان ہو، باصلاحیت ہو، اور تمھارے پاس کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔" باقر اسے دلاسہ دے رہا تھا۔
"اب کچھ نہیں ہے۔ میں اب صرف اپنی جان پر توجہ دوں گا یا پھر عرش صاحب کی بیٹی ۔۔۔ کے قاتل پر۔" حر جیسے اپنا فیصلہ سنا رہا تھا۔ "ویسے نوروز کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ ایک حیرت انگیز لڑکی ہے، اور وہ تمھارے لیے سب سے بہتر ہے۔ تم دونوں خوش رہو گے، میں وعدہ کرتا ہوں۔" حر نے چونکے بغیر سر ہلایا۔
"آپ سمجھے نہیں باقر سلطان - ثانیہ میرا پہلا اور ناکام پیار تھی۔ کوئی اس کی جگہ نہیں لے سکتا۔" باقر نے حر کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"میں سمجھتا ہوں، حر۔۔ لیکن کبھی کبھی زندگی کبھی ہمیں وہ نہیں دیتی جو ہم چاہتے ہیں۔ ہمیں آگے بڑھنا سیکھنا ہوگا۔ نوروز، ثانیہ کا نعم البدل نہیں ہے، بلکہ تمھاری زندگی کا ایک نیا باب ہے۔ اپنے آپ کو دوبارہ دریافت کرنے کا موقع، اپنی خوشی دوبارہ تلاش کرو۔۔ تم نے نوروز کو دیکھ رکھا ہے، وہ ثانیہ سے ہزار گنا زیادہ خوبصورت ہے۔ اس بے وفا کے روگ میں کب تک بیٹھو گے؟ محبت غلط نہیں ہوتی بس انسان غلط ہو جاتا ہے۔ تم نے بھی ایک غلط عورت سے محبت کر لی ہے۔ اب میرے کہنے پر ایک صحیح عورت کا انتخاب کر کے دیکھو۔" حر کو محسوس ہوا، اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔
"لیکن میں شادی کے لیے تیار نہیں ہوں۔"با قر کالہجہ نرم ہو گیا۔
"تمھیں تیار رہنے کی ضرورت نہیں ہے، حر۔۔ بس ایک چھوٹا سا قدم اٹھاؤ، نوروز سے مل چکے ہو تم۔۔ اس حد تک خوبصورت لڑکی تمھیں نہیں ملے گی۔ ثانیہ اس کے سامنے کھونا سکے ہے اور نوروز، وہ ہیرا ہے جس کو اس وقت کسی مضبوط سہارے کی ضرورت ہے۔ وہ خطرے میں ہے۔" حر ہچکایا، اس کا دل اب بھی غم سے بوجھل تھا لیکن باقر کی باتوں نے ایک دم امید توڑ دی تھی۔۔ شاید کی بات نہیں تھی، نوروز واقعی مصیبت میں تھی بات حر اچھے سے جانتا تھا ۔۔ شاید، یہ نئے سرے سے شروع کرنے کا موقع تھا۔ حر نے سر ہلایا۔۔
"ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، میں اس سے شادی کروں گا لیکن سادگی سے، اس کے پردے کا احترام کرتے ہوئے۔۔" باقر کا چہرہ مسکراہٹ سے چمک اٹھا۔
"یہ ہوئی نا بات ! میں کل کے لیے ایک میٹنگ طے کرتا ہوں۔۔ حر، تمہیں اپنے فیصلے پر افسوس نہیں ہوگا۔ اور وعدہ کرتا ہوں۔" باقر کو ابھی دوسرے مرحلے سے گزرنا تھا مگر اس کے لیے کل صبح کا سوچا تھا اس مرحلے کا نام سلطان شاہ تھا۔
*****
با قر اپنے شاندار دفتر میں بیٹھا، دولت اور طاقت کی علامتوں سے گھرا ہوا تھا۔ سلطان نے باقر کو دیکھا، ان کی آنکھوں میں جھنجھلاہٹ کے آثار تھے۔
"کیا بات ہے باقر۔ میں مصروف ہوں۔۔" باقر نے گہرا سانس لیا۔
"یہ حر اور نوروز کے بارے میں ہے، ڈیڈ۔۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ شادی کر لیں۔۔" سلطان نے ایک ابرو اٹھائی۔۔ ایک پل میں لبوں پر آنے والی مسکراہٹ سمٹی تھی۔
"اور میں اس کی پرواہ کیوں کروں؟" سلطان کی بات سنتے باقر نے اپنے الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کیا۔
"کیونکہ ڈیڈ، انکل جعفری آپ کے قریبی دوست تھے اور ان کی بیٹی اس وقت مشکل میں ہے۔ حر بھی یہی چاہتا ہے۔ نوروز کا خیال رکھے گا۔" وزیر خزانہ نے قہقہہ لگایا۔
"اس کا خیال رکھنا؟ مجھے اس سے زیادہ ٹھوس چیز چاہیے۔ اس میں میرے لیے کیا ہے؟" باقر اپنے باپ کا کھیل جانتا تھا۔
"ٹھیک ہے۔ نوروز کی ماں کے کاروباری دنیا سے رابطے ہیں۔ وہ ہمارے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔"
"میں نے تمھیں بہت دفعہ کہا ہے کہ اپنی پارٹنر کو اپنے تک رکھو۔۔ بریرہ کے علاوہ کوئی بات بتاؤ، باقر۔" سلطان کا چہرہ ایک دم بجھ سا گیا تھا۔ ان کو باقر کی بریرہ کی پارٹنر شپ ہمیشہ سے ناپسند رہی تھی۔
"نوروز، حر کی زندگی میں روشن دیا بن سکتی ہے۔ اس لڑکی میں اتنا دم ہے کہ حر کو واپس ہنسنے پر لے آئے گی۔ ڈیڈ، وہ حر میں زندگی پھونک سکتی ہے۔" سلطان کی آنکھیں دلچسپی سے چمک اٹھیں۔
"جاؤ۔" سلطان کے کہا تو باقر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ وہ جانتا تھا کہ اسے اپنے حقیقی ارادوں کو ظاہر کیے بغیر اپنے والد کو شادی کی حمایت کے لیے راضی کرنے کے لیے احتیاط سے چلنا ہوگا۔ اقتدار اور بدعنوانی کا کھیل پیچیدہ تھا، لیکن باقر، حر اور نوروز کی خوشی کو یقینی بنانے کے لیے اس کھیل کو کھیلنے کے لیے پرعزم تھا۔
*****
ہیراد، پریسا کے ساتھ یونیورسٹی کی کینٹین میں بیٹھی ہوئی تھی۔ ہیراد اسے رشک سے دیکھ رہی تھی، اسے آج پریسا ہر گزرے لمحے سے زیادہ حسین لگ رہی تھی۔ تبھی اسے دور سے یارق چل کر آتا نظر آیا۔ وہ دونوں جو بھی بات کر رہی تھی اس کو دیکھ کر خاموش ہو گئیں۔ یارق آیا اور ایک کرسی کھینچ کے ان دونوں کے نزدیک بیٹھے، وہ ہیراد کا جوس اٹھا کر پینے لگا۔ وہ دونوں اس کو دم سادھے دیکھ رہی تھی کیونکہ اس کا یونیورسٹی میں آنا عام حالات میں پہلی دفعہ تھا۔ ہیراد کو ہضم نہ ہوا تو پوچھنے لگی۔
"خیریت ہے بھیا؟ آپ یہاں پہ؟ کال بھی نہیں کی آپ نے مجھے۔ آپ تو ڈی آئی جی صاحب کے پاس گئے تھے نا۔"
"ہاں آپ دونوں کو وہی خبر دینے آیا ہوں کہ حرمان گیا ہے۔ اب باقر اور سلطان صاحب آج شام کو پری کے گھر آئेंगे مگر اس سے پہلے ہمیں گھر جا کر کچھ تیاریاں کر لینی چاہیے اور آنٹی کو بھی اطلاع کرنی ہے تو کیا ہم ساتھ چل سکتے ہیں؟" پریسا نے ایک نظر اس کو دیکھا وہ ان کے لیے اتنا سب کیوں کر رہا تھا شاید اس لیے کیونکہ اس کی بہن پریسا کی بیسٹ فرینڈ تھی یا شاید اس لیے کہ اس کا ایک نام تھا---
خیر جو بھی تھا وہ دونوں اپنا ملک شیک ختم کرتی اٹھ کھڑی ہوئی پریسا نے ہیلز پہن رکھی تھی وہ ذرا آہستہ چل رہی تھی۔ ہیراد آگے یارق کے ہمراہ چل رہی تھی۔ وہ دونوں گاڑی کے فرنٹ اور پیسنجر سیٹس پہ بیٹھے جبکہ پریسا پیچھے اپنے فون میں لگ گئی تھی نوروز آج یونیورسٹی نہیں آئی تھی، اس کی طبیعت کچھ ناساز تھی۔
وہ لوگ گھر پہنچے تو پریسا اور ہیراد پہلے داخل ہو گئی جبکہ یارق کار پارک کر کے ان کے پیچھے آیا۔ اس کو گھر میں کسی اور سے دلچسپی نہیں تھی، وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھ گیا تو کچھ دیر بعد بریرہ کمرے میں داخل ہوئیں۔ بریرہ یارق کو دیکھ کر زرہ مسکرا اٹھی۔ یارق کا چہرہ دیکھ کر وہ یہ بخوبی جان گئی کہ وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹا تھا۔ پریسا نے عائشہ کے ہاتھ چائے بھجوائی اور پھر ہیراد کے ساتھ نوروز کے پاس آگئی جبکہ یارق اور بریرہ آپس میں شام کی متعلق باتیں کرتے رہے۔
اب یارق ملازموں کو ہدایات دے رہا تھا اور شام کے حوالے سے کچھ ضروری سامان منگوا رہا تھا۔۔ پریسا نے یہ بم جب نوروز کے سر پر پھوڑا تو وہ بیماری بھول کر اٹھ بیٹھی۔ اس کی آنکھیں بے یقینی سے پھیل گئی تھیں، سیاہ آنکھوں میں حیرت کے ساتھ کچھ خوف بھی تھا۔
"کیا تم سب کا دماغ چل گیا ہے؟ حر؟ وہ سر پھرا ہے؟"
وس سب کے لیے اتنی جلدی تیار نہیں ہو سکتی تھی اور حر حیدر شاہ۔۔۔اس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ کچھ دیر وہ پریسا سے مختلف سوال کرتی رہی پریسا نے اس کو بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ پریشان لگتی تھی۔ یارق کسی کام سے باہر جا چکا تھا۔ ہیراد ملازموں کے ساتھ کچن میں کھڑی کچھ کھا رہی تھی اور بریرہ کے کمرے میں نوروز کی پیشی کا وقت تھا۔
وہ دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوئی تو بریرہ سامنے اپنی کرسی پر بیٹھی تھی ہاتھ میں تسبیح لیے وہ آج اسے دیکھ کے پورے دل سے مسکرائی تھی۔ نوروز کے لیے یہ مسکراہٹ ایک بہت بڑی چیز تھی۔ اس نے ماں کو آنکھ بھر کر دیکھا پھر وہ بھی ذرا مسکرائی اور ان کے سامنے والی کرسی پر آبیٹھی۔ بریرہ نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا نوروز کا دل حلق میں آگیا اس نے نظر اٹھا کر ماں کو دیکھا ان کی آنکھوں میں امید تھی، آس تھی، چمک سی تھی۔ عرش کے بعد وہ چمک غائب ہو گئی تھی۔ اس کو بریرہ کی یہ مسکراہٹ بہت بھلی لگی۔
"نوروز اگر میں تم سے کچھ مانگوں تو کیا تم مجھے انکار کروگی۔" بریرہ کی آنکھوں میں آس تھی۔۔
"ممی آپ حکم کریں۔" اس نے جیسے بات سننے سے پہلے ہی ان کا مان رکھ لیا تھا۔
"تم جانتی ہو تمہیں آج یہاں پہ کیوں بلایا ہے؟"
"جی، میں جانتی ہوں" اس نے نظر چرا کر ان کی ویل چیئر پر ٹکا دی۔
"تو پھر میں اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو پورا کرتے ہوئے تم سے یہ بات کہتی ہوں کہ حیدر کے لیے تمہارا ہاتھ مانگا گیا ہے۔ کیا تم مجھے اجازت دیتی ہو کہ میں ہاں کہہ دوں؟" بریرہ نے اس کا ہاتھ جوش سے دبایا تھا۔"مجھے آپ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں۔ آپ کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ مجھے پورے دل سے قبول ہے۔ آپ میری طرف سے پریشان مت ہوں۔" یہ بات کہتے ہوئے اس کا دل ذرا بوجھ سا تھا مگر وہ مسکرا رہی تھی۔ اس کی آنکھیں بھی چمک رہی تھیں۔ بریرہ نے اسے غور سے دیکھا کہیں ناراضگی خلوگی یا خوف ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر انہیں ایسا کچھ نہیں ملا۔ وہ سچ میں مسکر رہی تھی۔ اس نے اپنے کچھ بال کان کے پیچھے اڑے پھر مسکرا کر بولی
"میں جاؤں ممی؟" بریرہ نے اسے دیکھا پھر مسکرا کر سر ہلا دیا اور نوروز کمرے سے باہر آگئی۔ بریرہ بہت پرسکون محسوس کر رہی تھی۔ وہ جانتی تھی نوروز انہیں کبھی مایوس نہیں کرے گی۔ ان کی بیٹیاں ایسی ہی تھیں باوقار مگر نوروز، وہ کچھ مختلف تھی وہ اپنی عمر سے کچھ زیادہ بڑی لڑکی تھی۔۔ وہ ہمیشہ ایسی تھی کہ اس پر ناز کیا جاتا، فخر کیا جاتا، وہ اپنے باپ کا عکس تھی۔
*****
شام کے قریب پانچ بج رہے تھے جب گیٹ پر ہارن کی آواز گونجی۔۔ پریسا نے جلدی سے ٹیرس سے جھانکا تو باقر کی کار کو اندر آتے دیکھا۔ اس نے نیچے ہیراد کو اشارہ کیا، اور وہ دونوں جلدی جلدی تیاری کرنے لگیں۔ بریرہ پہلے ہی ڈرائنگ روم میں موجود تھیں، اپنی چادر کی سلوٹیں درست کرتے ہوئے خود کو پرسکون دکھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ہیراد نے آئینے میں اپنی سرخ بالوں کی لٹوں کو ترتیب دیا، اور اس لمحے وہ عام دنوں سے زیادہ حسین لگ رہی تھی۔
باقر اور سلطان شاہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔ دونوں خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئے۔ سلطان شاہ نے سلام کرنا ضروری نہ سمجھا، جس پر بریرہ نے ہی پہلے کرتے ہوئے سلام کیا۔ سلطان شاہ نے سر کو خم کرتے ہوئے جواب دیا اور سگریٹ جلا کر دھواں اڑانے لگے۔ باقر نے سلطان کی خاموشی کو توڑتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔
"ہم نے بہت سے سودے کیے ہیں اور بہت سے روز کرتے ہیں، لیکن اس بار میں ایک قیمتی چیز مانگنے آیا ہوں۔ اپنی بیٹی ہمیں دے دیں۔ میرا بھائی اس کا بہت خیال رکھے گا۔"
بریرہ نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا اور قدرے سنجیدگی سے پوچھا، "کیا ثبوت ہے کہ وہ میری بچی کا خیال رکھے گا؟"
باقر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ "کیا میرا کہنا کافی نہیں؟"
بریرہ نے اس کی بات کو غور سے سنا، جیسے وہ کچھ فیصلہ کر رہی ہوں پھر مسکرا کر بولیں، "کچھ لو نا۔" وہ سامنے رکھے لوازمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی تھیں۔ گفتگو میں ہلکی سی نرمی آگئی تھی لیکن بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ بریرہ نے نرمی سے شادی کی تاریخ جلد طے کرنے پر بات کی، اور سب متفق ہو گئے کہ دو ہفتے بعد آنے والے جمعے کو یہ رشتہ پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔
*****
رات کے قریب سات بجے جب وہ لوگ مغرب کی اذان کے ساتھ روانہ ہو رہے تھے، تو ملازمہ کچن میں برتن سمیٹ رہی تھی۔ پریسا اور ہیراد ڈرائنگ روم میں موجود تھیں، آپس میں ہلکی پھلکی گفتگو کرتے ہوئے بسکٹ کھا رہی تھی۔ نوروز کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ ہاتھ روم سے نکلی۔ اس کی آستینیں کہنیوں تک فولڈ تھیں اور اس کے گیلے اعضاء وضو کی گواہی دے رہے تھے۔
نوروز نے دوپٹہ اٹھایا، اپنے لمبے بالوں کو جلدی سے باندھا اور پرینز روم کی طرف چلی گئی۔ اندر جا کر اس نے لیمپ جلایا، جو کمرے کو ایک نرم سی روشنی سے بھر دیتا تھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے اللہ لکھے فریم کو دیکھتی رہی، جیسے اپنے دل کی گہرائی سے کچھ مانگ رہی ہو۔ پھر اس نے جائے نماز بچھائی اور اپنی توجہ نماز پر مرکوز کر لی۔۔ لیکن خدا تو خاموشی بھی سن لیتا تھا۔
*****
جب مہمان چلے گئے تو بریرہ نے پریسا اور ہیراد کو بلایا۔ دونوں فوراً ان کے پاس آئیں۔
"دو ہفتے بعد جمعے کو شادی ہے۔" بریرہ نے بغیر کسی تمہید کے اعلان کیا۔ پریسا کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا جبکہ ہیراد بھی دنگ رہ گئی۔
"اتنی جلدی کیوں؟" ہیراد بولی۔ "میرا مطلب ہے، نوروز تو اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی!"
"یہی بہتر ہے۔" بریرہ نے پرسکون انداز میں کہا۔
"نوروز کو منانا مشکل نہیں ہوگا۔ وہ میرے سامنے کبھی اعتراض نہیں کرتی، لیکن میں جانتی ہوں، اسے یہ سب پسند نہیں آئے گا۔ پری، تمہیں اسے سنبھالنا ہوگا۔"
پریسا نے ایک گہری ناراض ناراض مان پر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ ہیراد وہیں خاموشی بیٹھی رہی۔ کچھ دیر بعد یارق کمرے میں داخل ہوا اور بریرہ سے اجازت لیتا، وہ ہیراد کے ساتھ اپنے گھر روانہ ہو گیا۔
وہ لوگ کب نکلے پری کو پتہ نہیں چلا وہ بس نوروز کے کمرے میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی کافی دیر بعد نوروز اپنی ہلکی سرخ آنکھیں لے کر پرینز روم سے باہر نکلتی دکھائی دی۔
وہ اب اسکارف کی پن کھول رہی تھی پھر کیچڑ اتار کر اس نے اپنی قمیض کے دامن پر لٹکایا اور بالوں کو کھول کر پشت پر ڈالا۔ گیلے بال لٹوں کی صورت کمر پر بکھر گئے تھے۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی تو پریسا بیڈ پر بیٹھی تھی۔ وہ اسے دیکھ کر مسکراتی ہوئی اس تک آئی۔
"تھک گئی ہو، پری؟" نوروز اپنی قمیض کے دامن سے کیچر اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ رہی تھی۔
"مجھنے زندگی نے تھکا دیا ہے اور نوروز، تمھارے جانے کے بعد یہ زیادہ وحشت ناک روش اپنا لے گی۔" وہ گرنے کے انداز میں پیچھے کو لیٹ گئی تھی۔
"زندگی صرف ان کو تھکاتی ہے جو منزل کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ پری، زندگی سفر ہے، زندگی تلاش ہے، خوشیوں کی، زندگی ہر لمحہ کو خدا کے ساتھ منسوب کرنے کا نام ہے۔ زندگی جیو گی تو تھکاوٹ نہیں ہوگی اگر گزارو گی تو تھک جاؤ گی۔ منزل کے پیچھے مت بھاگ۔ کیا تم جانتی ہو کہ اس منزل تک موت سے پہلے تم پہنچ جاؤ گی؟ اسی لمحہ کو جیو ۔ مہلت کو غنیمت جانو۔" وہ ایک ہاتھ سے اپنے بال جنگ رہی تھی۔ ناجانے اسے اپنے سے زیادہ اپنوں کے دل کی پرواہ کیوں ہوتی تھی۔ ٹوٹے دلوں کو جوڑنا اس کا پسندیدہ کام تھا۔ وہ دنیا کے ہر انسان کو باوقار دیکھنا چاہتی تھی، جیسے وہ خود تھی۔ کسی کو خود پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ دینے والی ۔ اپنے جانب اٹھنے والے ہر سوال کا جواب دینے اور کسی کے سامنے نہ جھکنے والی کیونکہ اس کے خیال میں ہر انسان قابل عزت تھا۔ وہ اپنی ذات کو دوسروں کے سامنے بے مول کرنے کے لیے پیش نہیں کرتی تھی۔ اسے خود پر اٹھنے والی اونچی آوازوں کو آہستہ کرنا آتا تھا اور وہ پریسا کو بھی ایسا ہی بنانا چاہتی تھی۔
"روز، تمہیں پتا ہے ممی نے تمھاری ڈیٹ فکس کر دی ہے؟"
"تو پھر کتنا ٹائم ہے میرے پاس؟" وہ مذاق اڑاتے بولی۔
"پندرہ دن" پریسا نے آنکھیں زور سے بند کر کے کھول لیں۔ وہ نوروز کا ری ایکشن نہیں جانتی تھی۔
"What rubbish" اس کا منہ کھل گیا تھا۔
"پندرہ دن ! اتنی جلدی؟ پری اٹھ کر بیٹھو۔" پریسا فوراً سیدھی ہوئی۔
"جن لڑکیوں کے باپ مر جاتے ہیں نا ان کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔"
"ماں تو زندہ ہے۔ میں اسے جانتی تک نہیں ہوں ڈھنگ سے۔ ایک دن صرف دو جملوں میں بات ہوئی ہے میری اس سے۔ میں اس سے کیسے اتنی جلدی شادی کر لوں۔ یا اللہ۔" نوروز ید سے اتر کر زمین پر بیٹھ گئی تھی۔
اسے غم زمین پر منانے کی عادت تھی۔ پریسا فوراً اس کے ساتھ بیٹھی۔
"روز مجھے تمھاری طرح لمبی لمبی باتیں نہیں کرنا آتیں نا میری باتوں میں ویسا اثر ہوگا مگر مجھے اللہ پر یقین ہے جو بھی ہوگا جیسے بھی ہوگا مگر تمھارے ساتھ کبھی غلط نہیں ہوگا۔ تم نیک بخت ہو ۔ خدا پر یقین رکھو۔"
اس نے پری کا ایک ہاتھ تھام لیا۔ "میں چلی بھی جاؤں تب بھی تم جب آواز دوگی میں آؤں گی۔ گھر الگ ہوں گے دل نہیں ، پری ۔ ناہی خون۔"
"مجھے لگا تم بہت روگی یا کہو گی کہ تمھیں بابا کی پڑھائی کوئی آیت یاد آ رہی ہے یا پھر یہ کہ تمھیں کوئی فرق نہیں پڑتا مگر یہ مختلف تھا۔" وہ اب کچھ پرسکون محسوس کر رہی تھی۔ نوروز مسکرا دی پھر اٹھ کر ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑی ہوئی۔ وہ پری کو کیسے بتاتی کہ اسے رونا آ رہا تھا، اسے آیت بھی یاد آ رہی تھی اور اسے کوئی فرق بھی نہیں پڑ رہا تھا۔
اس نے بس خاموشی سے ہاں کر دی۔
اسے خدا پر یقین تھا اور جن کو خدا پر یقین ہوتا ہے کیا ان کو کبھی رسوا ہوتے دیکھا ہے؟
میں نے تو کبھی نہیں دیکھا۔ خدا تو کل کرنے والوں کو رسوائی کا روگ نہیں دیتا ۔ نہیں یقین تو آزما لینا ۔ جب لگے ناک سب ختم ہو گیا ہے تو زمین پر بیٹھنا آنکھیں بند کرنا اور کہنا میرا یقین کامل ہے---
سلطان شاہ اور باقر گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ڈرائیور سامنے کھڑا سگریٹ خرید رہا تھا۔
"تم نے زیادہ جلدی کی تاریخ نہیں رکھ دی؟ اتنی جلدی کس بات کی ہے؟" سلطان کچھ چڑے ہوئے لگتے تھے۔
"بابا، آپکی دوسری اولاد کو محبت کا روگ لگا ہے۔ میں اسے جلد از جلد کہیں اور مصروف کرنا چاہتا ہوں اور دوسری وجہ نوروز ہے۔ اس کی جان کو خطرہ ہے اور یہ بات واضح ہے۔ مجھے یہ دونوں عزیز ہیں۔" وہ فکر مندی سے کہہ رہا تھا۔
"لڑکی کے قتل کے حوالے سے کیا اپڈیٹ ہے؟" سرسری سا پوچھا گیا تھا۔
"جو بھی ہے اس نے کوئی نشان نہیں چھوڑا۔ مجھے ایک سوئی بھی نہیں مل رہی۔ عرش صاحب کے سارے دشمنوں کو چیک کر چکا ہوں مگر کچھ ہاتھ نہیں آ رہا ہے۔" وہ کنپٹی سہلاتے ہوئے بول رہا تھا۔
ڈرائیور نے سگریٹ سلطان کو پکڑاایا اور خود آگے آکر بیٹھ گیا۔
"دشمنوں سے پہلے دوستوں اور خونی رشتوں کو چیک کرنا چاہیے۔"
"ڈیڈ پلیز!"بے شک میرے عرش سے معاملات سنجیدگی کی حد تک خراب تھے مگر مجھے اس کی بیٹی کی موت کا دل سے افسوس ہے وہ اپنی بیٹیوں سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ میں حقیقتاً نہیں چاہتا کہ نوروز کو کوئی نقصان پہنچے اور جہاں تک میرا خیال ہے نوروز اس لڑکی کا قاتل ڈھونڈنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گی آخر وہ عرش کی بیٹی ہے۔" سگریٹ کا ایک کش اپنے اندر اتارتے وہ بولے تھے۔
"اس کی ماں، اس کی شادی اسی لیے کرنا چاہتی ہیں کہ وہ ہالہ کے قاتل کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اپنی جان خطرے میں نہ ڈال لے ۔ وہ چاہتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں مصروف ہو جائے اور اس سب کو بھول جائے۔"سلطان شاہ کا ایک جاندار قہقہہ گاڑی میں سنائی دیا تھا۔ باقر نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔
"میں اس کا کیا مطلب سمجھوں؟" باقر نے سنجیدگی سے کہا۔
"وہ نوروز کو اس کی زندگی میں مصروف نہیں کرنا چاہتی وہ بس اتنا چاہتی ہے کہ وہ ہالہ قاتل کو نہ ڈھونڈے۔"
"آپ عرش انکل کی دشمنی ان کی بیوہ سے نہیں نکال سکتے۔" باقر نے چڑ کر کہا تھا۔
"میں کسی کی دشمنی نہیں نکال رہا بس تم ہالہ کے قاتل کو ڈھونڈو ۔ اگر میری کوئی مدد چاہیے ہو تو میں بھی تمہاری مدد کروں گا میں حقیقت میں یہ چاہتا ہوں کہ تم اس لڑکی کے قاتل کو ڈھونڈو۔" باقر نے فون کان سے لگایا اور سلطان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ کال پر مصروف ہو گیا۔ سلطان نے ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر سگریٹ کو لبوں سے لگا لیا۔ ایک عجیب سی مسکراہٹ ان کے لبوں پر پھیل گئی تھی۔ جیسے وہ کچھ ایسا جانتے ہوں جو کہ ابھی باقر نہیں جانتا تھا---
"بھیا! آپ کو کیا لگتا ہے اتنی جلدی ایسے نوروز کی شادی کر دینا ٹھیک ہوگا؟" گاڑی میں بیٹھی ہیراد کچھ سوچتے ہوئے بول رہی تھی۔ یارق نے چہرہ گھما کر اسے دیکھا۔
"اس کی سیکیورٹی کے لیے یہی بہتر ہوگا اور ویسے بھی حریم میں کوئی بھی فالٹ نہیں ہے۔ وہ ایک بہترین ہمسفر بن سکتا ہے بس ذرا غصے کا تیز ہے۔"
"نہیں بھیا میرے کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے میں کہنا چاہ رہی ہوں کہ کیا ایسے اچانک سے 15 دن کے اندر اندر کسی کی شادی کر دینا اس کو مینٹلی ٹارچر کرنے کے جیسا نہیں ہے؟" ہیراد کی سوئی اب بھی پر اٹکی تھی۔
"یہ اس کی ماں کا فیصلہ ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔" یارق نے اس کی اداسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے جواب دیا۔
"تم بے فکر رہو پری کی شادی ہم اس کی مرضی سے ہی کریں گے۔ دن ، تاریخ ، وقت ہر چیز اس کی مرضی سے ہی ہوگی۔" اس نے نظر گھما کر بھائی کو دیکھا۔
"کیا نوروز کا زندگی پر اس طریقے سے حق نہیں ہے جیسے پری کا ہے؟ کیا قربانیاں ہمیشہ بڑی بیٹیوں کو ہی دینی ہوتی ہیں؟"
"یہ اس کا مقدر ہے، ہیرے۔" اس نے گاڑی کو ایک ریسٹورنٹ کے سامنے روکا۔
"یہ صحیح ہے ایک انسان کے اوپر کوئی بھی اٹھ کر اپنا فیصلہ تھوپ دے اور پھر کہہ دیا جائے کہ یہ اس کا مقدر ہے یہ کہاں کا انصاف ہے، بھیا؟" وہ کہہ کر رکی نہیں دروازہ کھول کر نیچے اتر گئی تھی۔
یارق کے پاس اس کی بات کا کوئی جواب نہیں تھا وہ درست کہہ رہا تھا۔ ہمارے معاشرے میں ہمیشہ سے یہی ہوتا آ رہا ہے۔ لڑکیوں پر شادی کے نام پہ کسی کو بھی تھوپ دیا جاتا ہے اور وہ خاموش ہو جاتی ہیں۔ اگر ماں باپ کا فیصلہ اچھا نکل آئے تو وہ ماں باپ کا فیصلہ اور اگر غلط نکل آئے تو وہ لڑکی کا نصیب۔ پتہ نہیں یہ معاشرہ کب بدلے گا۔
وہ سوچتا ہوا ہیراد کے پیچھے ریسٹورنٹ میں داخل ہوا۔
*****
3 نومبر، آج جمعرات کا دن تھا۔ موسم دن بہ دن ٹھنڈا ہوتا جا رہا تھا۔ اکتوبر کا آخری ہفتہ کافی خوش گوار تھا۔ پہاڑی علاقوں میں برف باری کی وجہ سے اسلام آباد میں اب برفیلی ہواؤں میں گھر ہوا تھا۔ ٹھنڈ کے اس زور پکڑتے موسم میں اگر کوئی شخص ٹھنڈ کو محسوس نہیں کر رہا تو وہ ہیراد تھی ۔ جو اپنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی میک اپ کر رہی تھی۔ گیلے بال کمر پر بکھرے تھے جو قمیض کو گیلا کر کے اس کی پشت سے چپکا چکے تھے۔
لیلن کی لمبی قمیض پہنے وہ ٹھنڈ کے احساس سے عاری کھڑی تھی۔ مسکارا لگا کر اب آنکھوں کو دیکھتی وہ خوش دیکھتی تھی پھر پاس موجود پرس اٹھا کر وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔ سیڑھیوں سے نیچے آتے ہی اسے سامنے یارق بیٹھا نظر آیا۔ اس نے سلام کیا اور آگے بڑھنے لگی جب یارق کی آواز نے اسے روک لیا۔
"کھانا کھا کر آؤگی؟"
"جی"
"او کے" وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا۔ ہیراد مڑ کر اب گاڑی کی طرف بڑھنے لگی۔ قریب بیس منٹ بعد اس کی گاڑی سفید پرچم والے گھر کے آنگن میں کھڑی تھی ۔ وہ اپنی انلی شان سے اتری اور گاڑی لاک کی، سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو آج بریرہ نظر نہیں آئی تھی ۔ وہ اب راہداری کو عبور کر کے آگے بڑھی تھی۔ پریسا کے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ وہاں موجود نہیں تھی ۔ چند قدم آگے بڑھ کر اس نے نوروز کے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ بھی خالی تھا۔ سامنے موجود ایک کمرے کے دہلیز پر روشنی کے آثار نمایاں تھے۔ وہ چلتی ہوئی اس دروازے تک آئی۔ اس سے آرام سے پرینز روم کا دروازہ کھولا ساتھ ہی جوتوں کو دو جوڑے رکھے دکھائی دیے وہ اندر داخل ہوئی اور اپنی ہیلز اتار کر ان کے ساتھ رکھ دیں۔
داخل ہونے کے بعد سارا کمرہ اس کے سامنے واضح تھا۔ سامنے سفید جایئے نماز پر بیٹھی نوروز اور اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھی پریسا۔ پریسا نے اسے دیکھا تو اشارے سے پاس بلا لیا۔ نوروز ہنوز تلاوت میں مصروف تھی۔
ہیراد نہیں جانتی تھی کہ اس وقت نوروز کیا پڑھ رہی ہے۔ پریسا نے ایک چھوٹی سی کتاب کا ایک صفحہ کھول کر اس کے سامنے پیش کیا۔ جسے اس نے تھام لیا۔ وہ کتاب کو تھام کر دیکھنے لگی۔ اس کی ایک جانب عربی جب کہ ایک جانب اردو لکھی تھی۔ پریسا نے ایک ستر پر انگلی رکھ کر نشاندہی کی مگر اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ وہ ان سطور کو دیکھ کر نوروز کو سننے لگی۔ چند لمحوں میں ہی وہ بور ہو گئی تھی۔ اب اس نے ساتھ درج شدہ اردو ترجمہ پڑھنا شروع کیا۔
"اے نور، اے سب سے زیادہ پاک و پاکیزہ
اے سب پہلوں سے پہلے
اے تمام آخروں سے آخر
اے اللہ میرے وہ سب گناہ بخش دے جو نزول بلا کا باعث بنتے ہیں۔ اے اللہ میرے وہ سب گناہ بخش دے جو نزول عذاب کا باعث بنتے ہیں۔ اے اللہ میرے وہ گناہ معاف فرما جن سے نعمتیں زائل ہوتی ہیں۔" اس نے چونک کر سر اٹھایا پھر ان دونوں کو دیکھا وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھیں۔ اس نے پھر اپنی نظریں کتاب کی جانب موڑ لیں۔
"اے اللہ میرے وہ گناہ معاف فرما جو دعا کو روک دیتے ہیں۔ اے اللہ میرے وہ گناہ بخش دے جن سے بلائیں نازل ہوتی ہیں۔ اے اللہ میرا ہر وہ گناہ معاف فرما جو میں نے کیا ہے اور ہر لرزش سے درگزر کر جو مجھ سے ہوئی ہے۔
اے اللہ میں تیرے ذکر کے ذریعے تیرا تقرب چاہتا ہوں اور تیری ذات کو تیرے حضور اپنا سفارشی بناتا ہوں اور سوال کرتا ہوں تیرے وجود کے واسطے سے کہ مجھے اپنا قرب عطا فرما اور توفیق دے کہ تیرا شکر ادا کروں اور میری زبان پر اپنا ذکر جاری فرما۔" ہیراد کو یک دم اپنے اردگرد ٹھنڈ کا احساس ہونے لگا تھا۔ اس نے اپنے بازوؤں کو دیکھا جن کے بال کھڑے ہو گئے تھے۔ اس نے ٹیبل پر رکھا تولیہ اٹھا کر اپنے کندھوں پر ڈال لیا۔ نوروز کی تلاوت کی آواز ہنوز کانوں میں پڑ رہی تھی۔ وہ دوبارہ کتاب کی طرف متوجہ ہوئی۔ اس نے صفحہ کھو دیا تھا۔ ایک اندازے سے اس نے دوبارہ صفحے پلٹے اور بس سامنے موجود سطر کو پڑھنے لگی۔
"یا اللہ اے میرے مالک تو نے میری کتنی برائیوں پر پردہ ڈالا اور کتنی سخت سے سخت بلاؤں کو تو نے ڈال دیا اور کتنی خطاؤں سے تو نے بچا لیا اور کتنی اذیتوں کو تو نے دفع فرما دیا اور کتنی خوبیاں جن کا مستحق نہ تھا تو نے لوگوں میں مشہور کر دی ہیں یا اللہ میری آزمائش اس وقت بڑھ چکی ہے اور میری بدحالی حد سے گزر گئی ہے اور میرے نیک اعمال کم ہیں اور سخت تکلیفوں نے مجھے گھیر لیا ہے اور میری امیدوں کی ترازی نے مجھے نفع سے باز رکھا اور دنیا نے مجھے اپنے فریب دہی سے دھوکہ میں رکھا اور میرے نفس نے اپنی خیانت اور ٹال مٹول سے مجھے دھوکہ دیا اے اقا پھر سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری عزت کا واسطے کے کہ میری بد عملی اور میرے کردار میری دعا کو تیرے حضور میں پہنچنے سے نہ روکے۔"
ان سطور کو پڑھنے سے اس کے دل پر عجیب رعب طاری ہو رہا تھا۔ دل معمول سے زیادہ رفتار سے دھڑکنے لگا تھا۔ اس نے نظر اٹھا کر ان دونوں کو دیکھا۔ اس کی چشم تر منظر دھندلا لایا تو اس نے ہاتھ کی پشت سے نم پونچھ دی۔ منظر واضح ہوا ان میں سے کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔ ہیراد نے پھر کتاب پر مرکوز کر دیں۔
"اے میرے اللہ تجھے تیری عزت کا واسطے میرے ہر حال میں مہربان رہ اور تمام امور میں مجھ پر عنایت فرما۔
میرے معبود۔۔۔۔۔۔ میرے رب۔۔۔۔۔۔ تیرے سوا میرا کون ہے جس سے سوال کروں کہ میری تکلیف دور کر دے اور میرے معاملات پر نظر رکھے۔ اے میرے معبود۔۔۔۔۔۔ اے میرے مولا۔ ۔۔۔ تو نے میرے لیے حکم صادر فرمائے لیکن میں نے اس میں کہنا مانا اپنی خواہش کا اور میں فریب کاری سے بچ نہیں سکا دشمن کی۔ ۔۔۔" اگلے پانچ منٹ وہ مزید پڑھتی رہی۔
"اے اللہ تیرے حضور آیا ہوں جب کہ میں نے کوتاہی کی اور اپنے نفس پر زیادتی کی ہے میں عذار خواہ ہوں پشیمان ہارا ہوا معافی کا طلبگار بخشش کا سوال ہے تائب گناہوں کا اقراری سرنگوں اقبالی ہوں جو کچھ مجھ سے ہوا نہ اس سے فرار کی راہ ہے نہ کوئی پائے پناہ کے اپنے معاملات میں اس کی طرف توجہ کر سکوں سوائے اس کے کہ تو میرے عذار قبول کر لے اور مجھے داخل کر دے وسیع تر رحمت میں اپنی۔"
اس کی آنکھوں میں شدت سے آنسو آنے لگے تھے۔ اس نے کتاب کو بند کیا اور اپنے پرس میں ڈال دی پھر ٹشو نکال کر چہرہ صاف کیا۔ آنسو شدت سے بہے جاتے تھے۔
انسان کو خدا کا خوف اتنا نہیں رلاتا جتنا اپنے کیے گئے گناہوں کا اقرارلاتا ہے۔
وہ احساس جب آپ کے کیے گئے تمام گناہ آئینہ کی طرح سامنے آجائیں اور آپ اپنی توڑی ہوئی حدوں کو دیکھ کر کپکپا اٹھیں۔
اس وقت ہیراد علی پر بھی یہی کیفیت طاری تھی ۔ اس نے دو مزید ٹشو نکالے، چہرہ اور ناک صاف کی۔ وہ جانتی تھی اب اس کا یہاں بیٹھना مشکل ہے اس نے تولیہ اتار کر زمین پر رکھا اور خود پرس اٹھا کر باہر نکل آئی۔ اس نے ہیلز ہاتھ میں اٹھا رکھیں۔ شدت ضبط سے اب اس کا سانس اٹک رہا تھا۔
گاری تک وہ مشکل سے پہنچی تھی۔ راستے میں موجود ملازمین اس کا سرخ چہرہ دیکھ کر سرگوشیاں کرنے لگی تھیں ۔ گاڑی میں بیٹھ کر اس نے گاڑی کو تیزی سے گھر سے نکالا اور سڑک پر ڈال دیا۔ اب وہ پانی پی رہی تھی۔ اس کے کانوں میں اپنے ہی پڑھے جانے والے الفاظ گونجنے لگے تھے۔
"اے اللہ میرے وہ گناہ معاف فرما جن سے نعمتیں زائل ہوتی ہیں اے اللہ میرے وہ گناہ معاف فرما جو دعا کو روک دیتے ہیں اے اللہ میرے وہ گناہ بخش دے جن سے بلائیں نازل ہوتی ہیں"
وہ گناہ معاف فرما جن سے نعمتیں زائل ہوتی ہیں ----
وہ گناہ معاف فرما جن سے نعمتیں زائل ہوتی ہیں ----
ہیراد نے گاڑی کے ایک روشن حصے میں کنارے کو لگائی اور سر اسٹیرنگ سے ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں۔
وہ گناہ جن سے نعمتیں زائل ہوتی ہیں ----؟
"نعمتیں زائل ہوتی ہیں؟ میرے پاس تو دنیا کی ہر نعمت ہے۔ گناہوں سے بھی نعمتیں زائل ہوتی ہیں؟ وہ کون سے گناہ ہیں؟
کچھ دیر خاموشی چھائی رہی جیسی خاموشی گاڑی میں تھی ویسی ہی اس کے ذہن میں بھی تھی۔ پھر اس کے ذہن میں ایک اور آواز گونجی
"نعمتوں سے کیا مراد ہے؟"
اس نے کتاب نکال کر صفحے آگے پیچھے کیے مگر اس سے مطلوبہ ستر ملی نہ صفحہ اس نے کتاب بند کر کے ڈیش بورڈ پر رکھ دی۔ اس پر سبز رنگ کا نام جگمگا رہا تھا۔
"دعائے کمیل" وہ جانتی تھی اس کا جواب اب صرف ایک ہی انسان دے سکتا تھا اس نے بھیگا چہرہ اٹھا کر ایک نمبر ڈائل کیا جس پر روز لکھا تھا۔ تیسری رنگ پر فون اٹھا لیا گیا تھا۔
"ہیلو"
"روز! وہ کون سے گناہ ہوتے ہیں جن سے نعمتیں زائل ہو جاتی ہیں؟ نعمتیں کون سی؟ میرے پاس تو سب نعمتیں ہیں پھر یہاں کون سی نعمت کی بات ہو رہی ہے؟ بتاؤ مجھے۔"
دوسری طرف ایک پرسکون ٹھنڈی آہ بھری گئی تھی۔
"ہیراد یہاں پر نعمت سے مراد ہے تم بتاؤ کیا تم نماز پڑھتی ہو؟ کیا نماز کی نعمت تمہارے پاس ہے؟ نہیں ہیر، تم نماز نہیں پڑھتی۔ نعمت نعمت ہے۔۔۔
کیا تم اپنے لیے دعا کرتی ہو؟ نہیں ہیر، تم اپنے لیے دعا نہیں کرتی۔ دعا نعمت ہے۔۔۔
کیا تم رمضان کے روزے رکھتی ہو؟ نہیں ہیر، تم روزہ نہیں رکھتی۔ روزہ نعمت ہے۔
یہ بتاؤ، تم کہتی ہو تمہارے پاس سب نعمتیں ہیں تو کیا تم ان نعمتوں کا شکر ادا کرتی ہو؟ نہیں ہیر، شکر ادا کرنا بھی ایک نعمت ہے جو تمہارے پاس نہیں۔۔۔ نعمت نعمت نہیں۔
کیا تم قرآن پڑھتی ہو؟ نہیں نا قرآن پڑھنا بھی ایک نعمت ہے۔
ہیر، نعمت صرف کھانا، پینا، پھل، سبزیاں، دولت، عیش و عشرت کا نام نہیں ہے۔ نعمت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو خدا کی طرف سے آپ کو عطا کی گئی ہو اور وہ آپ کو فائدہ پہنچائے۔ آپ کو آپ کے رب کے قریب کرے اور آپ کو اس کی موجودگی کا احساس دلائے۔ سمجھ آیا؟" دوسری طرف وہ مسکرا کر پوچھ رہی تھی۔
"ہاں۔۔۔ ہاں آگیا۔" ہیراد نے جیسے کسی سکتے سے باہر قدم رکھا۔ "خدا حافظ!" نوروز نے فون رکھ دیا تھا ۔
*****
15 دن بعد
شادی کا دن آ پہنچا تھا۔گھر میں مہمانوں کی ریل پیل لگی ہوئی تھی۔ مختلف رنگ کے برقی قمقموں سے گھر کو سجایا گیا تھا۔ گھر میں ایک کہرام مپا تھا۔
پریسا بریرہ کے کمرے میں ان سے باتوں میں مصروف تھی جبکہ ہیراد پاس پڑی اشیاء کو ترتیب سے جمع کر کے نوروز کے کمرے کی طرف لے جا رہی تھی۔ ہیراد نے ٹوکری کو بڑی احتیاط سے اٹھایا اور کمرے سے باہر نکلی، جبکہ پریسا اس کے پیچھے چل رہی تھی۔ دونوں نے نوروز کے کمرے کا دروازہ کھولا تو اندر کا منظر بے سلیقے سے آراستہ تھا۔ کمرہ صاف ستھرا تھا، بیڈ پر سفید اور سلیقے سے بچھی چادر، ہر چیز اپنی جگہ پر موجود تھی، کوئی نشانی نہیں کہ یہ دلہن کا کمرہ ہے۔
نوروز آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ اُس نے دلہن کا روایتی جوڑا پہن رکھا تھا، چہرے پر ہلکا سا میک اپ کرتے ہوئے وہ خود کو سنوارنے میں مصروف تھی۔ جیسے ہی پریسا اور ہیراد اندر آئیں، نوروز نے آئینے میں ان کا عکس دیکھ کر پلٹ کر ان کی طرف دیکھا۔
"کہاں رہ گئی تھیں تم دونوں؟" نوروز نے قدرے پریشانی سے پوچھا۔
ہیراد نے جلدی سے ٹوکری بیڈ پر رکھی اور زیورات کو ترتیب سے نکال کر الگ کرنے لگیں۔ نوروز نے جھمکے اس کے ہاتھ سے لے کر کانوں میں پہننا شروع کیے، اور پریسا نے آگے بڑھ کر گلے کا ہار اس کے گلے میں باندھا۔ پھر وہ ناک کی بالی ہاتھ میں لیے پلٹی تو کمرے کے دروازے پر کھڑی فرووا کو دیکھ کر مسکرا دی۔
"تم کب آئی، فرووا؟ ابراہیم ماموں بھی آئے ہیں؟" پریسا نے شفقت بھرے لہجے میں پوچھا۔
"جی، صالح بھائی کہہ رہے تھے کہ جلدی آجائیں، تو اس لیے آگئے۔ امی نیچے صالح بھائی اور پاپا کے ساتھ بیٹھی ہیں۔ میں نے کہا، آپی کے پاس چلی جاؤں۔" فرووا نے معصومیت سے جواب دیا۔
"ہاں، بہت اچھا کیا فرووا اور تمہارا ڈریس تو بہت پیارا لگ رہا ہے، بیٹھ جاؤ نا۔" نوروز نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
فرووا، ایک پندرہ سولہ سال کی معصوم سی لڑکی تھی، جس نے سفید فراک پہن رکھا تھا جس پر سنہری کام ہوا تھا۔ وہ بے بیاری لگ رہی تھی۔ ہیراد کی نظر ایک لمحے کے لیے فرووا کے لباس پر ٹکی، پھر اس نے پریسا کی طرف دیکھا اور بنا کچھ کہے کمرے سے باہر نکل گئی۔
پریسا کو اندازہ تھا کہ ہیراد کو کیا محسوس ہوا ہو گا، مگر اس وقت وہ نوروز کے زیورات ترتیب دینے میں مشغول ہو گئی تھی۔ فرووا ہنوز بیڈ پر بیٹھی تھی، معصومانہ مسکراہٹ کے ساتھ نوروز کی تیاری دیکھ رہی تھی، جیسے اس کے انداز کو اپنے دل میں محفوظ کر رہی ہو۔
ہیراد کمرے سے باہر آئی اور فوراً یارق کو فون ملایا۔ چند لمحوں کے بعد فون اٹھا لیا گیا۔
"ہاں بیٹے، بولو؟" یارق کی مصروف آواز نے فون کے دوسری جانب سے سوال کیا۔
"بھیا، مجھے مال جانا ہے۔"
"اس وقت؟ تم تو ڈریس لے چکی ہو، اور کچھ رہ گیا ہے؟"
"ہاں، مگر میرے جیسے سیم ڈریس کسی اور نے پہن لیا ہے۔ اب میں وہ نہیں پہن سکتی۔ آپ بس کچھ کریں، مجھے مال جانا ہے۔"
یارق نے گہری سانس لی۔ "अच्छा, मैं किसी को भेजता हूँ। तुम ड्राइवर के साथ चली जाओ या फिर परी की कार ले लो और खुद चली जाओ, मैं مصروف ہوں، مجھے ابھی کیٹرنگ والوں کے پاس جانا ہے۔"
"ٹھیک ہے، آپ نہ آئیں ۔ میں خود چلی جاؤں گی، مجھے کون ساجن کہا جائیں گے۔" ہیراد کی آواز میں مایوسی تھی۔
یارق کو احساس تھا کہ وہ اس کے ساتھ جانا چاہتی ہے، لیکن اس کے کندھوں پر بے شمار ذمہ داریاں تھیں۔
"میں جانتا ہوں، لیکن وقت نہیں ہے۔ تم خود جا سکتی ہو۔"
"अच्छा ठीक है, भैया। बस यही पूछना था।" ہیراد نے فون بند کیا، مگر دل میں ایک خاموش سی بے اطمینانی تھی.
وہ واپس کمرے میں آئی۔ ایک نظر فرووا پر ڈالی، جو بیڈ پر معصومیت سے بیٹھی تھی، پھر پریسا کی طرف رخ کیا۔
"پری، یار، تمہاری کار فری ہے؟ مجھے چاہیے ہے۔"
"ہاں، لے لو۔ مگر کہاں جانا ہے اس وقت؟"
"مال جانا ہے۔" ہیراد نے مختصر جواب دیا اور ایک بار پھر فرووا کی طرف کٹیلی نظر ڈالی۔
"میرے، بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر چابی ہوگی۔ لے لو۔" ہیراد سر ہلاتی پریسا کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
دروازہ کھولتے ہی اندر کا منظر کسی دھماکے سے کم نہیں تھا۔ ہر طرف کپڑے، جوتے، اور زیورات بکھرے پڑے تھے۔ ہیراد نے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر چابی ڈھونڈنے کی کوشش کی، مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔ وہ ایک ایک دراز کھولتی گئی ۔ چابی تو نہیں ملی، لیکن ایک گولائی میں لپٹا ہوا کاغذ اس کی توجہ کا مرکز بن گیا.
اس نے کاغذ اٹھایا، ربڑ بینڈ اتارا، اور اسے کھول دیا۔ یہ ایک اسکیچ تھا۔ ہیراد کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی.
اسکیچ میں ایک خوبصورت جھولے پر پریسا بیٹھی تھی، جو پھولوں سے آراستہ تھا۔ مگر پیچھے کھڑا شخص یارق نہیں تھا۔
وہ صالح تھا ۔ صالح ابراہیم۔۔۔
ہیراد کو یوں لگا جیسے کسی نے اس کے دل پر وار کر دیا ہو۔ وہ جانتی تھی کہ پریسا اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرتی، مگر یہ اسکیچ چیخ چیخ کر اس کے دل کی گواہی دے رہا تھا۔ ہیراد نے افسوس سے اسکیچ واپس رکھا، اور چابی تلاش کرنے لگی۔ چابی اسے آخر کار سٹڈی ٹیبل پر ملی.
ہیراد کی کار مال کے گیٹ پر رکی۔ وہ شان سے بوتیک کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کے سرخ بال، جو اونچی پونی ٹیل میں بندھے تھے، جھوم رہے تھے۔ سیاہ ہیل کی ٹک ٹک مال کی گہما گہمی میں بھی سنائی دے رہی اور جب وہ قدم اٹھاتی تو اس کا نچلا سرخ حصہ دیکھنے والوں کو مرعوب کرتا تھا۔
بوتیک کے اندر داخل ہوتے ہی ایک نوجوان سیلزمین نے ادب سے اس کا استقبال کیا۔
"ہیلو، ممیم۔ کیسے خدمت کروں؟"
"مجھے ایک ساڑھی چاہیے۔ سفید یا سرخ نہیں، کوئی اور رنگ دکھاؤ۔"
پانچ منٹ کے اندر اندر اس کے سامنے ساڑھیوں کا ڈھیر لگا دیا گیا ۔ ہیراد نے ایک کے بعد ایک ساڑھی کو دیکھا۔ ایک سنہری ساڑھی اس کے سامنے رکھی گئی، مگر اس نے ناپسندیدگی سے ناک چڑھالی۔ پھر ایک گہری سبز ساڑھی سامنے آئی، جس پر مہارت سے کام کیا گیا تھا۔ اس کے چہرے پر روشنی کی ایک لہر دوڑ گئی.
"یہ میں ٹرائی کروں گی۔"
وہاں موجود تین لڑکے اور دو لڑکیاں جن میں سے ایک مینیجر تھی ۔ اس کا انتظار کر رہے تھے۔ دروازے کا لاک کھلا تو تو سب ذرہ سیدھے ہوئے ۔ وہ اپنے سرخ بال دائیں جانب ڈالے بائیں کندھے پر ساڑھی کا پلو درست کرتی باہر آ رہی تھی۔ ۔ وہاں موجود تمام افراد ہیراد نے سانس تک روک لیا۔
وہ حسین تھی، یہ کوئی بھی بتا سکتا تھا مگر اس وقت اس پر جو روپ طاری تھا وہ حسین ہونے سے اوپر کا تھا۔ اس نے چلتے چلتے ایک قد آور آئینہ میں خود کو دیکھا۔ پھر مسکرائی، ایک اور نظر خود پر ڈالی اور واپس مڑ گئی ۔ وہاں موجود تمام لوگ بس اسے دیکھ رہے تھے۔
شاید شہزادیاں ایسی ہوتی ہیں۔
*****
وہ اس شاپ سے کھلی ہوئی کلی کی طرح باہر نکلی تھی ۔ سرخ بال کھلے ہوئے کمر پر لہرارہے تھے۔ دل مطمئن تھا اور آنکھیں چمک رہی تھیں ۔ اب اسے گھر جانا تھا۔ ادھر نوروز اپنی تیاری مکمل کر چکی تھی۔ زیورات اس کے حسن میں اضافہ کر رہے تھے، مگر اس کی آنکھوں کی چمک کہیں کھو گئی تھی ۔ آج وہ نوروز جعفری سے نوروز حر حیدر شاہ بننے جا رہی تھی، لیکن اس کا دل بجھا ہوا تھا۔
وہ آئینے میں خود کو دیکھ رہی تھی، مگر آنکھوں کے پردے پر ایک منظر بار بار ابھر رہا تھا۔
وہ تینوں بہنیں لاؤنج کے صوفے پر بیٹھیں ایک ڈراما دیکھ رہی تھیں ۔ اداکارہ کی رخصتی کے مناظر اسکرین پر جلوہ افروز تھے ۔ وہ اپنے ماں باپ سے رو رو کر مل رہی تھی۔ جسے دیکھ کر نوروز نے چڑ کر کہا تھا۔
"یہ عجیب ہے شادی کر رہی ہے تو خوشی سے اپنے گھر جائے۔۔ اتنا رونا دھونا کیوں؟ نائیک کی بھی حد ہوتی ہے۔"
نوروز نے ریموٹ کنٹرول سے آواز ذرہ ہلکی کر دی تھی۔
"روز، تم نہیں روگی اپنی رخصتی پر؟ تمہیں دکھ نہیں ہوگا ہمیں چھوڑ کر جانے پر؟" یہ پریسا کے الفاظ تھے جو اس کی سماعت سے ٹکرائے تھے۔
"نہیں بھئی، میں کیوں رونے لگی۔ اپنی مرضی سے شادی کروں گی، اپنے اسٹینڈرڈ کے بندے سے اور خوشی خوشی جاؤں گی۔۔ بابا کو پریشان نہیں کروں گی رو رو کر۔" یہ اس نے لاپرواہی سے کہا تھا۔
بالہ کو ان دونوں کی گفتگو سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ اسے دلہن کا لہنگا دلچسپ لگا تھا۔ پیچھے سے عرش کی آواز پر وہ تینوں مڑی تھیں۔
"بالکل صحیح کہا میری بیٹی نے، رونا دھونا فضول ہے۔ زندگی کا نیا سفر خوشی سے شروع کرنا چاہیے۔" نوروز اٹھ کر ان کے گلے سے جا لگی تھی۔ عرش نے اس کے سر پر بوسہ دیا پھر ہاتھوں کی ہتھیلیاں چومی۔
منظر تحلیل ہوا تو سامنے موجود آئینے میں، وہ خود کو سرخ عروسی لباس میں ملبوس دیکھ رہی تھی۔
سرخ جوڑا گویا دہکتے شعلے کی مانند تھا، سنہری زیورات کی چمک صبح کی پہلی کرن کی طرح جگمگا رہی تھی، اور گہری سرخ لپ اسٹک نے اس کے لبوں کو ایک منفرد جذابیت دی ہوئی تھی۔۔
اس کا سراپا ایسا تھا جیسے کوئی ملکہ اپنے تاج کے لیے تیار ہو رہی ہو۔۔ ہر زیور، ہر رنگ، ہر تفصیل اس کی بادشاہی کی گواہی دے رہا تھا، جیسے وہ کسی تخت پر جلوہ افروز ہونے والی ہو۔
یہ منظر ایسا تھا کہ دیکھنے والے کو محسوس ہو کہ وہ کسی دیوملائی کہانی کی شہزادی ہے، جو دنیا کے سب سے حسین لمحے کا حصہ بننے جا رہی ہو۔
بھیگی آنکھیں اور ویران پڑتا دل کوئی اور کہانی سناتا تھا۔ اس کا دل چاہا کہ عرش ایک بار اس کے سامنے آجائے اور وہ اس کے سینے سے لگ کر سب کچھ کہہ ڈالے مگر مر جانے والے بھی کبھی واپس آئے ہیں؟
زندگی میں جتنا بھی بڑا حادثہ ہو جائے ایک محدود مدت کے بعد وہ چھوٹا ہی لگنے لگتا ہے۔ اسے امید تھی وہ دن ضرور آئے گا جب وہ عرش کی موت کو قبول کر لے گی۔
اس نے ٹشو کے کنارے سے آنکھوں میں آئی نمی سنجی اور مسکرائی۔ اپنے حسین جوڑے کو دیکھتی وہ ابھی اپنا دل ہلکا کرتی جب آنکھوں کے سامنے ایک منظر چلنے لگے۔ اس نے نم آنکھیں رگڑ کر اس منظر کو نگاہ کے سامنے آنے سے روکا، وہ منظر خوفناک تھا.
ہیراد دروازے پر دستک دے کر کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے آنکھوں کے بھیگے کنارے صاف کیے پھر مسکرا کر اسے دیکھا۔ وہ پرجوش سی کھڑی بیگ میں سے اپنا ڈریس نکال رہی تھی ۔ اس نے ساڑھی نوروز کو دکھائی۔ اس کی آنکھیں اس ساڑھی کو دیکھ کر چمک اٹھی تھیں ۔ وہ سچ میں بہت خوبصورت تھی ۔ ہیراد بلاؤز اور پیٹی کوٹ لے کر باتھ روم میں چلی گئی تھی البتہ نوروز اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔ کرسی پر بیٹھے اس کی کمر دکھ چکی تھی اور ابھی بہت اسے ایسے ہی بیٹھے رہنا تھا۔
پریسا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو اس نے آنکھیں کھول کر بیزاری سے دیکھا۔ پریسا اپنے دوپٹے کو قمیض کے ساتھ پکڑے ایک پن لیے اس کے سامنے آنبیٹھی۔ نوروز نے اس کے ہاتھ سے پن لی پھر اس کے دوپٹے پر اچھے سے لگا کر اسے ٹھہرا دیا۔ پریسا آئینہ کے سامنے کھڑی ہو خود کو دیکھ کر جیسے تسلی کی پھر نوروز کے پاس آ بیٹھی۔"روز! تم تھک گئی ہو؟" وہ اس کی بجھی ہوئی شکل دیکھ کر پوچھ رہی تھی.
"نہیں، بس اداس ہوں اور تھوڑا ڈر بھی لگ رہا ہے۔" اس نے آنکھیں کھولنے کی زحمت نہیں کی تھی۔
"اداس کیوں ہو اور ڈر کیوں لگ رہا ہے؟" وہ نوروز کے پاس بیٹھتی، اس کے ہاتھوں پر لگی مہندی کو اپنی انگلیوں سے چھو رہی تھی.
"بابا اور ہالہ کی یاد مجھے اداس کر رہی ہے اور آگے آنے والا وقت خوف زدہ۔ پتا نہیں کچھ گھنٹے بعد بدلنے والی زندگی کیسی ہوگی؟" وہ پریسا کو اپنے خوف کی حقیقی وجہ نہیں بتا سکتی تھی۔
"جتنا بڑا بدلاؤ تمہاری زندگی میں ہالہ کی موت کی وجہ سے آیا ہے کیا اس سے بھی برا کچھ ہو سکتا ہے؟ کیا یہ بدلاؤ اس سے بھی بدترین ہوگا؟ نہیں! کم از کم اتنا برا نہیں ہوگا." پریسا نے بہت سکون سے کہا تھا۔
"پری؟" اس نے آنکھیں کھول کر پریسا کو دیکھا۔ وہ اسے اس وقت ہالہ کی موت یاد کرادے گی یہ اسے گمان نہ تھا.
"دیکھو روز نئی زندگی کے حوالے سے اچھا سوچو۔ بابا کہتے تھے ہم جیسا سوچتے ہیں ویسا ہوتا ہے۔ تم اچھا سوچ کر دیکھو وہ مثبت اثرات ہی مرتب کریں گے۔ جب انسان اپنے لیے اچھا کہتا ہے تو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں یا یوں کہہ دوں کہ ہمارا دماغ ہر لفظ کی فریکوئنسی کو پہچانتا ہے اور ویسی ہی چیزیں اٹیک کرتا ہے۔ بس تم اچھا سوچو۔" وہ اپنی بہن کو دلاسہ دے رہی تھی جبکہ اندر ہی اندر اس کا بھی دکھی تھا.
"پری، میں اچھا ہی سوچ رہی ہوں مگر دل بہت پریشان ہے خود بخود برے خیالات آتے ہیں۔ میرا ان پر اختیار نہیں." نوروز نے بے بسی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
"خود بخود کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ہم دماغ کو اجازت دیتے ہیں تو وہ ہمارے سامنے خیالات رکھتا ہے۔ تمہیں جیسے ہی کوئی برا خیال آئے تو فوراً الرٹ ہو جاؤ اور اپنے دماغ کو کہو کہ تم بہت خوش اور مطمئن ہو ۔ اللہ ساتھ ہے تمہارے تم کیوں کر پریشان ہو؟" وہ اس کا ہاتھ تھامے بول رہی تھی.
تبھی ہیراد باہر نکل کر آئی۔ پریسا نے اس پر نظر ڈالی پھر اٹھ کر ہیراد کے پاس گئی ۔ اس کا بلاؤز کی زپ بند کر کے وہ اس کی ڈوری باندھ رہی تھی.
"کیسی ہے یہ ساڑھی؟ تم نے دیکھی ہے؟" ہیراد مطمئن سی اس سے پوچھ رہی تھی۔
"نہیں! مجھے معلوم تھا کہ تم اب وہ ڈریس نہیں پہنو گی." اس کو ساڑھی پہننے میں مدد کرتے پریسا نے کہا تھا۔
"کیوں پہنتی میں؟ اور ویسے بھی میرے مقدر میں آج کے دن یہی پہننا لکھا ہوا تھا." وہ ساڑھی کا پلو کندھے پر رکھ کر نشاندہی کر رہی تھی۔ پریسا نے وہاں پر ہی پن سے اسے فکس کر دیا تھا۔
"اس کے بالوں کا جوڑا بنا دو، پری اور تمہارے پاس جو ریڈ جوڑے والے پھول ہیں وہ بھی لگا دو۔" پری نے دانت میں پن دبا رکھی تھی تو سر کو خم دیا۔
"وہ تو کالج کے فنکشن پر ہالہ نے لگائے تھے۔" نوروز نے اسے ٹھہرنے کا کہا اور ہالہ کے کمرے میں چلی آئی.
دروازہ کھولتے ہی اسے ایسا لگا کہ ابھی ہالہ کہیں سے آپی آپی کرتی آجائے گی ۔ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف قدم بڑھانے تو سامنے اس کی تمام اشیاء ویسے ہی پڑی تھیں جسے وہ رکھتی تھی مگر اب ان پر گرد پڑ گئی تھی ۔ جدائی کی گرد، موت کی گرد۔۔۔۔۔
اس نے ڈریسنگ ٹیبل کے نیچے بنا خانہ کھولا تو اندر موجود تمام چیزیں اس کے سامنے تھیں ۔ اس نے ایک ایک کر کے ڈبے نکالے پھر اپنا لہنگا زرع پیچھے کر کے زمین پر بیٹھ گئی ۔ پہلے دو ڈبوں میں صرف زیورات تھی ۔ تیسرے ڈبے میں بالوں کی اشیاء تھیں مگر وہ پھول نہیں تھے ۔ اس نے اندر ہاتھ مار کر ٹٹولنا چاہا، وہ لہنگے کی کین کین کی وجہ سے پوری جھک نہیں سکتی تھی ۔ اس کے ہاتھ پر ایک ڈبہ لگا جو خانے کی چھت پر چپکا ہوا تھا ۔ اسے حیرت ہوئی تو ڈبے کو محسوس کیا
وہ ایک سیکرٹ لاک تھا ۔ نوروز کھڑی ہوئی کمر لاک کیا اور اپنا لہنگا اتار کر بیڈ پر رکھا ۔ اب وہ سکون سے اس کا معائنہ کر رہی تھی ۔ وہ ایک سلائیڈنگ لاک تھا ۔ اس نے اوپر والا دراز باہر نکالا اور پھر لاک باہر نکال لیا۔ اس پر لاک لگا تھا مگر جیسے ہی نوروز نے اسے چہرے کے قریب کیا۔فروا کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے ہیراد کو بہت اشتیاق سے دیکھا تھا ۔ وہ اسے دیکھ کر تعریف کیے بغیر نہ رہ سکی۔
"آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں ۔ یہ ساڑھی بھی بہت اچھی ہے۔ پری آپی ! آپ کو پھوپھو بلا رہی ہیں." وہ پیغام دے کر پلٹ گئی تھی۔
"میں ممی کی بات سن کر آتی ہوں ۔ روز پھول لے کر آئے تو ان کو لگا لینا." وہ کمرے سے نکل گئی تو ہیراد نے خود کو آئینے میں نظر بھر کر دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی ۔ برتری کی چمک، غرور کی چمک، عروج کی چمک۔۔۔۔۔
اس نے اپنا جوڑا بنایا پھر کچھ تصاویر لیں اور انکو انسٹاگرام پر پوسٹ کر دیا ۔ نوروز ابھی تک واپس نہیں آئی تھی ۔ وہ اٹھی اور ہالہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی.
جیسی ہی نوروز نے لاک کر کے چہرے کے قریب کیا وہ کلک کی آواز سے کھل گیا ۔ ایک مدھم سوگوار سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر بکھر گی ۔ فیس آئی ڈی ! آہ ہالہ۔۔۔
اس لاک کے اندر کچھ میڈیکل رپورٹس رکھی تھیں ۔ اس نے ایک ایک کر کے ان کو دیکھنا شروع کیا۔ ہالہ کی ڈی این اے رپورٹس، خون کے ٹیسٹ اور مزید کچھ رپورٹس جو اس کی سمجھ سے باہر تھیں ۔ ان سب کے آخر میں ایک فائل رکھی تھی جس پر بریرہ کا نام لکھا ہوا تھا ۔ اس نے وہ فائل کھولی تو وہ بریرہ کی ڈی این اے رپورٹس تھیں ۔ ان تمام فائلز کے ساتھ ایک ڈاکٹر کی لھی ہوئی پرچہ بھی موجود تھی ۔ اس نے وہ پرچہ کھولی تو ڈاکٹر کا نام سامنے آیا۔ ڈاکٹر ابرار، ان کا فیملی ڈاکٹر تھا جس کی موت ہالہ کی موت سے ایک ماہ پہلے ہوئی تھی ۔ اس پرچی پر صاف صاف لکھا تھا کہ ہالہ کو (immunodeficiency disorder) ہے اور اس کے لیے درج ذیل ادویات ضروری ہیں ۔ نوروز کو ایک جھٹکا لگا تھا ۔ 'ہالہ اتنی بڑی کب ہو گئی تھی کہ اس نے یہ سب ٹیسٹ اکیلے کروا لیے تھے ۔ وہ ڈاکٹر کے کب گئی اور اس نے یہ ٹیسٹ کب کروائے تھے؟' بہت سارے سوال تھے جو اس وقت نوروز کے دماغ میں گونج رہے تھے ۔ اس نے فائلز واپس رکھ کر لاک بند کیا اور پھر تمام چیزوں کو ویسے ہی رکھ دیا جیسے وہ تھیں۔ اس کی پریشانی بڑھی تھی مگر اس وقت کوئی نیا مسئلہ دریافت نہیں کر سکتی تھی اور ویسے بھی نوروز جعفری کو مسئلے خود میں جذب کر لینے کی عادت تھی ۔ دروازے بجنے کی آواز پر وہ سوچوں سے باہر آئی تو جلدی سے اٹھی پھر دروازہ کھولا تو سامنے ہیراد کھڑی تھی.
"اتنا ٹائم لگا دیا؟" وہ حیران سی پوچھ رہی تھی.
"یار پھول نہیں ملے مجھے بس۔۔۔ ہیر میں تھوڑی ایموشنل ہو گئی تھی ۔ ہالہ کی یاد آگئی تھی." اس نے اپنی بات بدل دی تھی۔
" ایسے موقعوں پر یاد آتی ہے ۔ تم میرے ساتھ آؤ۔" ہیراد اسے کسی چھوٹے بچے کی طرح بہلا کر اپنے ساتھ لے گئی ۔ ہالہ کے کمرے کا دروازہ اسے حسرت سے دیکھ رہا تھا ۔ آس سے اور امید سے بھی۔۔۔
پریسا نیچے لان سے کچھ گلاب توڑ لائی تھی ۔ وہ ہلکے گلابی رنگ کے گلاب تھے ۔ اس نے وہ ہیراد کے جوڑے میں لگادیے تھے ۔ سرخ بالوں پر وہ گلاب بہت جچتے تھے۔
"ایسے ہی تمہیں زحمت ہوئی، روز۔ یہ دیکھو، یہ پھول زیادہ اچھے لگ رہے ہیں۔" وہ ہیراد کے پیچھے کھڑی نوروز کو مخاطب کرتے بولی
"مجھے کون سا مل گئے تھے پھول۔"
"ہم ۔۔۔ پرفیکٹ ۔ دیکھو روز تین کافی ہیں نا؟" پریسا اب نوروز سے مشورہ لیتی اس کا جوڑا سیٹ کر رہی تھی ۔
"ہاں بس کرو۔ یہ پرفیکٹ ہیں۔" ہیراد اٹھ کر خود کو آئینے میں دیکھ کر تسلی کر رہی تھی ۔ پریسا نے تمام بکھری ہوئی چیزوں کو ڈریسنگ ٹیبل کے دراز میں پھینکا اور دراز بند کر دی۔
نوروز کے کمرے میں خاموشی کے باوجود اس کے دل میں خیالات کا شور برپا تھا ۔ عروسی لباس اپنی نزاکت اور ہلکے رنگوں میں بے عیب نظر آرہا تھا، مگر نوروز خود کو ان رنگوں کے اندر گمشدہ محسوس کر رہی تھی۔ آئینے میں اپنی جھلک دیکھتے ہوئے، وہ اپنے نقاب کی تہوں کے پیچھے چھپے چہرے کو دیکھتی رہی، جیسے خود کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہو کہ سب کچھ ٹھیک ہوگا۔
مگر سب کچھ ٹھیک محسوس نہیں ہو رہا تھا.
اس کا دل، جیسے بھاری پتھر کے نیچے دب گیا ہو۔ حر کی یادیں، جنہیں وہ ماضی میں دفن کرنے کی کوشش کر چکی تھی، اب کسی سائے کی طرح اس پر چھا گئی تھیں ۔ وہ یادیں، جب حر ایک بگڑے ہوئے، غصے لیے لڑکے کے طور پر پہچانا جاتا تھا ۔ اس کی باتیں، اس کا انداز، اس کا غصہ۔۔۔ سب کچھ خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھا۔
حر اب ایک ذمہ دار اور بااختیار شخصیت بن چکا تھا ۔ اسسٹنٹ کلیکٹر کی حیثیت سے، اس کی کامیابیوں کے چرچے ہر طرف تھے ۔ لیکن ماضی کے وہ لمحے، جب وہ کسی بات برداشت نہیں کر سکتا تھا، جب اس کا غصہ سب پر بھاری ہوتا تھا، نوروز کے دل سے محو نہیں ہو سکے تھے.
"کیا وہ اب بھی ویسا ہی ہوگا؟"
اس سوال کے جواب کی تلاش نے نوروز کو اندر سے کمزور کر دیا تھا ۔ شادی کا فیصلہ اس کے لیے ایک نیا آغاز ہونا چاہیے تھا، لیکن اس کے لیے یہ کسی آزمائش سے کم نہ تھا ۔ وہ حر کی ذات سے خوفزدہ تھی، اس کے غصے سے، اس کی ماضی کی تلخی سے، اور سب سے بڑھ کر اس بات سے کہ اگر وہ اس کے ساتھ زندگی گزارنے میں ناکام ہوئی تو کیا ہوگا؟ اگر وہ اس غصے کی تاب نہ لاسکی تو کیا ہوگا؟
دوسرے کمرے سے قہقہوں کی آوازیں دیواریں پھلانگ کر اس کے کانوں تک پہنچ رہی تھیں ۔ یہ آوازیں خوشی کی علامت تھیں، مگر نوروز کے لیے وہ قہقہے جیسے تنبیہہ تھے کہ خوشیوں کے پیچھے کئی خوف چھپے ہو سکتے ہیں.
"میں اس سب کے لیے تیار نہیں ہوں۔۔۔"
"یہ میں نے کیا کر دیا؟ میں کسی اور سے شادی کر لیتی۔۔۔ حر ہی کیوں؟"
نوروز نے اپنے دل میں یہ بات قبول کر لی تھی، لیکن زبان پر لانے کی ہمت نہ کر سکا۔ نقاب کی تہوں اس کے جذبات کو چھپانے میں ناکام تھیں اور اس کا دل ایک بھاری بوجھ کے نیچے دب رہا تھا ۔ پریسا کمرے میں ہوئی تو اس کا سوچوں کا تسلسل ٹوٹا.
"نوروز، اب قریب شروع ہونے کا وقت ہے!" پریسا جوش کے ساتھ بولی، اس کا اپنا لباس گلابی اور سنہری رنگ میں چمکتا ہوا تھا.
"کیا تم مجھے ایک لمحے کے لیے اکیلا چھوڑ سکتی ہو؟" نوروز نے چڑھ کر کہا ۔ پریسا ایک لمحے کے لیے رکی، اپنی بہن کی طرف فکر مندی سے دیکھا.
"تم ٹھیک ہو جاؤگی، ہے نا؟ یہ تو بس ایک رسمی تقریب ہے، تم ایک دن کے لیے دکھاوا کر سکتی ہو ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا، روز۔ پریشان نہ ہو۔" پریسا اس کی قربانی کی قدر کرتی تھی ۔ نوروز نے ہمیشہ شادی کے حوالے سے صرف ایک خواب دیکھا تھا اور وہ تھا پسند کی شادی۔
قسمت نے اس کی واحد خواہش کا احترام بھی نہیں کیا تھا.
اسی لمحے، دروازہ پورا کھلا اور بریرہ داخل ہوئیں، جنہوں نے خوبصورت شلوار قمیض پہن رکھی تھی ۔ بال دونوں طرف سے آگے کو ڈالے وہ وہل چیئر کا بٹ تھامے ہوئے تھے ۔ ان کی نرم نظر نوروز پر رک گئی، ہوا میں موجود کشیدگی تھوڑی کم ہوئی.
"نوروز، کیا تم تیار ہو؟ سب لوگ آ چکے ہیں،" بریرہ نے کہا، ان کی آواز یقین دہانی اور جوش کا ملاپ تھی۔
"تِیار؟" نوروز نے سرگوشی کی، دل میں حر حیدر کا سامنا کرنے کی سوچ پر درد محسوس کرتے ہوئے.
"جی۔"
جب وہ باہر نکلے، نوروز نے محسوس کیا کہ اس کا دل تیز دھڑک رہا ہے ۔ آنگن ایک عارضی جگہ میں تبدیل ہو چکا تھا جسے ریشمی پردوں، چمکتی ہوئی روشنیوں، اور رنگین پھولوں سے سجایا گیا تھا ۔ قریبی خاندان کے افراد، جو اس نکاح کے حسیں بندھن کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے، اس کی داخلی ہنگامہ خیزی سے بے خبر رہے تھے۔
حر حیدر سامنے کھڑا تھا، سفید شلوار قمیض میں ملبوس، اس کی شخصیت میں ایک مضبوطی تھی، مسکراہٹ کی کوئی جھلک بھی نہیں ۔ ایک لمحے کے لیے، ان کی نگاہیں ملیں، ایک عارضی لمحہ جو اس کے جسم کو تناؤ میں مبتلا کر گیا.
حر نے فوراً نظر جھکالی تھی مگر اس کا چہرہ، بے تاثر سا، ناقابل فہم رہا ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے شادی کوئی مشکل سودا کر رہا ہو ۔ وہ اب حر کے قریب آچکی تھی مگر بیٹھنے کی ہمت نہیں کر سکتی ۔ وہ سکتے کے عالم میں اس کی بے رخی دیکھ رہی تھی.
"بیٹھو، نوروز۔" ابراہیم نے اصرار کیا، جیسے ہی وہ اپنی جگہ بیٹھی، اس کے اردگرد کی دنیا دھندلا گئی ۔ امام نے دعاؤوں کا آغاز کیا، "سیدہ نوروز بنت سید عرش جعفری آپ کا نکاح سید حر حیدر شاہ۔۔۔" نوروز نے مشکل ہی بولے جانے والے الفاظ کو سنا۔
جب دستخط کرنے کا وقت آیا، ہیراد نے اس کا ہاتھ اٹھایا اور اس کے سامنے موجود کاغذ پر رکھا ۔ اس کی آنکھوں سے ایک آنسو نکل کر کاغذ پر گرا اور اس میں جذب ہو گیا.
"یہ تمہارا مقدر ہے، بیٹی۔" ابراہیم نے سرگوشی کی حر نے اس کے ہاتھ سے قلم لیا تو نوروز نے اس کے ہاتھ میں ہلکی لرزش دیکھی جو اس کی اپنی بے چینی کو ظاہر کرتی تھی۔ ان کی آنکھیں دوبارہ ملیں، ایک خطرناک امتزاج بے یقینی اور مجبوری کے درمیان سے گزرتا ہوا۔ لیکن حر نے فوراً نظر پھیر لی تھی.
"یہ ہمارے لیے کیسے منتخب کیا جا سکتا ہے؟" نوروز فریاد کرنا چاہتی تھی، خاموشی کو توڑنا چاہتی تھی جو اسے گھیرے ہوئے تھی، لیکن وہ لڑکی تھی اور یہ بوجھ اس کی زبان کو بند کر گیا تھا۔
نکاح کے بعد ہیراد اپنا میک اپ فریش کرنے نوروز کے کمرے میں آئی تھی۔ اس نے دراز سے فیس پاؤڈر نکالا اور ضرورت کے مطابق لگانا شروع کیا۔ دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا مگر وہ آواز اسے چونکانے کے لیے کافی تھی۔ بس وہی آواز تو اسے چونکایا کرتی تھی.
"ہیر! ساڑھی۔۔۔ وہ بھی سبز!" وہ ایک بھاری مردانہ آواز تھی سرد اور نرم سی۔ ہیراد جھٹکے سے پلٹی تو سامنے وہ کھڑا تھا.
"آپ؟؟؟ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ میں اس طرح کی حرکت بالکل برداشت نہیں کرتی۔" وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے بناوٹی غصہ سے بولی.
"میں واش روم ڈھونڈ رہا تھا، اور تعریف تو میں تمہاری ہمیشہ ہی کرتا ہوں" باقر احتیاط سے کہتا پلٹ گیا تھا جب اس کی آواز پر واپس مڑا.
"نہیں ۔۔۔ رکیں۔ آپ یہاں چلے جائیں ۔ میں ویسے بھی جارہی ہوں ۔ شادی والا گھر ہے اس لیے کہہ رہی تھی ۔" وہ پلٹ کر اپنا پاؤچ آپ کرنے لگی.
"تم تو آج قیامت لگ رہی ہو، لڑکی۔ نظر نہیں ہٹ رہی، سب خیر ہے نا؟" اس کی بات سن کر ہیراد کا سانس رک سا گیا۔ مطلب جو نظر وہ خود پر محسوس کرتی رہی تھی، وہ باقر کی تھی۔۔۔
باقر سلطان کی نظر۔
باقر نے کوٹ اتار کر صوفے پر رکھا اور خود واش روم چلا گیا ۔ ہیراد نے دراز میں فیس پاؤڈر رکھا اور کمرے سے باہر جانے لگی کہ ناجانے کس خیال سے پلٹی، صوفے تک آئی پھر اس کا کوٹ اٹھا کر چہرے کے قریب لائی ۔ اس کے پرفیوم کی سحر انگیز خوشبو اس کی ناک سے ٹکرائی تو ایک حسیں مسکراہٹ اس کے لبوں پر بکھر گئی۔ اس نے ایک لمبی سانس اندر کھینچیں اور اس خوشبو کو خود میں اتارا۔ کچھ دیر وہ اسے ناک سے لگائے کھڑی رہی کہ واش روم کا دروازہ کلک کی آواز سے کھل گیا ۔ وہ بوکھلا کر اس کا کوٹ رکھتی تیزی سے باہر نکلی۔ ساڑھی کی وجہ سے تیز بھاگا بھی نہیں گیا تھا.
تقریب میں ہر طرف ہلچل تھی۔ لوگ کھانے میں مصروف تھے، قہقہے اور باتیں ماحول کو زندگی بخش رہی تھیں، مگر نوروز کے لیے یہ شور جیسے ایک مدھم سرگوشی بن کر رہ گیا تھا۔ وہ اپنی جگہ چپ چاپ بیٹھی تھی، نظریں جھکائے، اپنی گود میں رکھے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز تھی، جیسے ہر دھڑکن اس کے خوف اور بے یقینی کو اور بڑھا رہی ہو۔
"پیچھے سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ اب صرف آگے کی زندگی ہے اور وہ جانے کیسی ہے۔۔۔" یہ خیال بار بار اس کے ذہن میں آتا۔ نکاح کے الفاظ، گواہوں کی موجودگی، اور وہ اقرار۔۔۔ سب اسے حقیقت سے قریب تر لا رہے تھے لیکن حقیقت جسے قبول کرنا اس کے لیے آسان نہ تھا.
اسی لمحے، حر نے اپنے سامنے کھڑے لوگوں کے ہجوم سے نظریں ہٹا کر نوروز کی طرف دیکھا۔ وہ نظر ایک عام نظر نہیں تھی، یہ ایک ایسی نظر تھی جس میں حق، اختیار اور پاکیزگی کا امتراز تھا۔ اس نے نوروز کے ہاتھوں کی ہلکی کپکپاہٹ کو محسوس کیا اور اس کی نظروں میں سختی اور حیرت کے ساتھ نرمی بھی تھی۔ "یہ خوف کیوں؟ نوروز کے بھی ہاتھ کانپتے ہیں؟" حر کے ذہن میں یہ سوال ابھرا، مگر اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ آیا۔ وہ اسے دیکھتا رہا، جیسے نوروز کے اندر چھپے راز کو جاننے کی کوشش کر رہا ہو۔
"یہ خوف کیوں؟" حر کی آواز گہری، مگر سرد تھی.
نوروز نے ایک دم سر اٹھایا اور ان دونوں کی نظریں ملیں۔ وہ لمحہ جیسے ٹھہر سا گیا۔ حر کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جو نوروز کو مزید بے چین کر رہا تھا، جیسے وہ اس کے دل کے اندر جھانک رہا ہو۔ اس کی ملکیت جتاتی نظریں اس کے وجود کو تناؤ میں مبتلا کر رہی تھیں۔
نوروز نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر لفظ اس کے گلے میں اٹک گئے۔ اس کی سانسیں بے ترتیب ہو گئیں ۔ وہ اپنے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامے بیٹھی رہی جیسے اپنے خوف کو قابو میں رکھنے کی آخری کوشش کر رہی ہو۔ نظریں اب بھی اس کے چہرے پر جمی تھیں.
"میں کچھ پوچھ رہا ہوں، نوروز۔ یہ خوف کس بات کا ہے؟" حر کا لہجہ اب تھوڑا سنجیدہ تھا، لیکن اس میں افسروں والی تفتیشی جھلک در آئی تھی۔ نوروز کے چہرے کی رنگت اڑ گئی۔ وہ اسے کیسے بتاتی کہ اس کا خوف ماضی سے جڑا ہوا ہے۔
نوروز نے نظریں جھکا لیں، اس کے لب ہلے، مگر آواز نہ نکل سکی۔ اس نے گردن جھکائی اور سر نفی میں ہلا دیا۔
حر نے اس کے جھکے ہوئے چہرے کو بغور دیکھا، پھر آہستہ سے کہا۔
"مجھے لگتا ہے، آپ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی ہیں۔" نوروز نے چونک کر سر اٹھایا، اس بار حر کی نظر سادہ سی تھی۔ نوروز نے فوراً نظر چرای اور بے بسی کے عالم میں اپنی انگلیاں مروڑنے لگیں لیکن اس کا جواب اب بھی خاموشی تھا.
آخرکار، رخصتی کا وقت آگیا۔ ماحول غمگین ہو گیا اور ہوا بن روئے آنسوؤں سے بھر گئی۔ نوروز اپنے باپ کے گھر کے دروازے پر کھڑی تھی، وہ واحد جگہ جس نے اسے سکون دیا تھا۔
"پری، مجھ سے ملنے آیا کرو گی نا؟" نوروز نے پوچھا، اپنی اداسی کو معمول کی چادر کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے۔ پریسا کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور اس نے سر ہلایا۔
"ہاں روز یہ کوئی کہنے کی بات ہے۔" اس نے مسکراہٹ کے ساتھ وعدہ کیا لیکن اس وعدے کے باوجود نوروز کو وہ فاصلے محسوس ہوا جو ناگزیر طور پر ان کے درمیان آ چکا تھا۔
بریرہ آگے آئیں، نوروز کے ہاتھوں کو پکڑا تو وہ ذرہ نیچے جھکی۔
"جو بھی ہو جائے، یاد رکھو کہ تمہارے پیچھے باپ نہیں ہے، بس ایک کمزور ماں ہے۔ میں امید کرتی ہوں تم اس رشتے کو نبھاؤ گی۔" بریرہ نے سرگوشی کی، ان کی آواز لرزتی ہوئی مگر فخر سے بھری تھی.
نوروز نے گہری سانس لی، اس کی ماں کے ہاتھوں کی گرمی اس کے اپنے ہاتھوں میں سرد لہر بن کر منتقل ہوئی۔ حر ایک طرف کھڑا تھا، واضح طور پر بے چینی میں، جیسے شادی کی کسی تقریب میں اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جب وہ گاڑی میں بیٹھے، نوروز نے حر کو دیکھا، وہ مجمعے کو اسکین کر رہا تھا پھر اس نے گاڑی اسٹارٹ کر دی ۔ وقت، رشتے اور حالات بدل رہے تھے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نام کی چیز خشک ہو چکی تھی۔ وہ سارے راستے اپنی انگلیوں کو الجھانے، سلجھانے میں لگی رہی۔ حر کی نظر اس کی ہر چھوٹی سے چھوٹی حرکت پر مرکوز تھی۔ وہ افسر تھا اس کی نظر سے کوئی چیز بچانا مشکل تھا۔
"آپ یونہی سب کی باتوں کو نظر انداز کرتی ہیں یا یہ صرف میرے لیے تھا؟" حر کی بات پر اس نے چونک کر سر اٹھایا۔
"جی؟"
"آپ بھول رہی ہیں کہ میں ایک افسر ہوں۔ سامنے والے کی آنکھ میں وہ سب پڑھ سکتا ہوں جو اس کے دل میں چل رہا ہوتا ہے۔ تو آپ مجھے وجہ بتائیں گے کہ آپ کو اس قدر بے چینی کیوں ہے؟ یا یہ بھی میں بتاؤں؟" حر کے الفاظ اس کے کانوں میں صور پھونک رہے تھے۔ کچھ تو تھا جو وہ اسے جتانے کی کوشش کر رہا تھا۔ کچھ تھا جو وہ بتانا نہیں چاہتاتھا ۔
"رخصتی کے وقت سب لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اپنا گھر اور خاندان چھوڑنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔"
اس نے حر کے سوال سے بالکل مختلف جواب دیا تھا۔ حر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا وہاں صرف شفافیت تھی ۔ وہ خاموش ہو گیا مگر کچھ تھا اس کی نظر میں جو نوروز محسوس نہیں کر سکی تھی کیونکہ نوروز جعفری کو چہرے پڑھنے نہیں آتے تھے۔