بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
☆ ☆ ☆
انتساب
اُس خدا کے نام جس نے مجھے اور آپ کو نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی۔
☆ ☆ ☆
قیاسِ فاسد
صوابی
صوابی کو ”یوسفزئی عقابوں کی سرزمین“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ضلع دریائے سندھ اور کابل کے درمیان واقع ہے۔ صوابی کو یہاں کے لوگوں کی گرم جوشی، مہمان نوازی اور غیرت مندی کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اب ہم یوسفزئیوں کی سرزمین کے ایک یوسفزئی سردار کی بڑی حویلی میں چلتے ہیں۔
حویلی کے بیج دالان میں ایک سیاہ لباس والی لڑکی بیٹھی تھی۔ حویلی کی سفید چادر اوڑھے بکھری ہوئی خاموش سی شخصیت، سبز آنکھیں پچھلے بتیس دنوں کی طرح آج بھی سرخ تھیں۔ وہ تخت کے ساتھ لگائے گئے ایک صوفے پر بیٹھی تھی، سر جھکائے ہاتھوں کو بے چینی سے آپس میں الجھاتی سلجھاتی خود کو کہیں اور مشغول کر رہی تھی یا شاید سامنے بیٹھے شخص کے سامنے ذلت کی کسی گہری کھائی میں خود کو اترتا دیکھ کر آج بھی خود کو سنبھال رہی تھی۔
حویلی میں کسی کی آمد کا اعلان ہوا تو اُس معصوم کے علاوہ سب وہاں سے چلے گئے۔ وہ اپنے سے کچھ دور بیٹھے ایک عادل شخص کو چور نظر سے دیکھ رہی تھی۔ آنکھوں میں ایک اجنبی مگر محفوظ، اپنائیت بھرا احساس تھا۔
وہ شخص ہمیشہ کی طرح اُس کی طرف متوجہ نہیں تھا، وہ سامنے دروازے سے داخل ہوتے حویلی کے بتیسویں مہمان کو دیکھ رہا تھا۔ مہمان دروازے سے اندر داخل ہوا اور قریب آکر اُس مرد کے ہاتھ کا بوسہ لیا۔ وہ بالکل خاموش تھا۔ حویلی والوں کی طرف سے روز گاؤں کا ایک فرد مہمان کے طور پر بلایا جا رہا تھا اور اسے سردار کے ولی عہد کے ساتھ کھانا کھانے کا شرف مل رہا تھا، لیکن جیسے ہی اُس لڑکی کی نظر سامنے بیٹھے مہمان پر گئی، اُس نے آغوش میں موجود لوہے کے تازیانے کو دیکھا، جس پر اُس کی گرفت غیر دانستہ طور پر سخت ہو چکی تھی۔ آنکھیں چند لمحوں کے لیے اس منحوس چہرے سے چپک گئیں، نفرت کی حد یہ تھی کہ اس کی دل چاہا سامنے بیٹھے شخص کے منہ پر تھوک دے۔ وہ اٹھی اور اُس بھوری چادر والے مرد تک گئی اور کچھ کہے بغیر تیش سے لرزتے ہاتھوں سے اُس کی طرف وہ تازیانہ بڑھا دیا۔ اُس مرد نے نظر اٹھا کر درشہوار کو دیکھا، لرزتے ہاتھ سے چادر کا کونا تھام کر اپنا آدھا چہرہ ڈھانپے وہ اُس کے سامنے کھڑی تھی، آنکھیں آنسوؤں سے لبریز، غصے اور اذیت کا ملاپ لیے ہوئے تھیں۔
”سائیں، میرا بدلہ پورا لینا۔“ وہ اپنی کہہ کر وہاں سے پلٹی، چند قدم چلی اور پھر دوڑتی ہوئی حویلی کے ایک کمرے کی جانب بھاگتی گئی۔ اُس نے درشہوار کی پشت دیکھی۔ وہ لڑکی بتیس دنوں کے بعد بولی تھی۔
☆ ☆ ☆
”سردار سائیں، سردار سائیں! وہ پاگل ہو گیا ہے۔ وہ گاؤں کے ایک آدمی کو گھسیٹ رہا ہے۔ وہ اسے عنقریب مار ڈالے گا۔ دادا سائیں اسے روک لیں۔“ سردار کا خاص ملازم پھولے ہوئے سانس کے ساتھ دالان سے اندر داخل ہوا، شاید وہ دوڑتا ہوا آیا تھا۔
”کیا قیامت آگئی، مرسلین؟ کیوں حویلی میں ہنگامہ برپا کر رکھا ہے؟“ سردار کو اپنے چائے کے وقت میں خلل قطعاً برداشت نہیں تھا۔
”سائیں، وہ اُس آدمی کو مار ڈالیں گے۔ انہیں روک لیں۔ وہ آج کے مہمان کو مار رہے ہیں۔“
”مرتضیٰ!“ سردار اپنی نشست سے غراتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس سے پہلے وہ ایک قدم بھی آگے بڑھاتے مرسلین کے الفاظ نے ان کے قدم زنجیر کیے، آنکھیں ساکن۔۔
”نہیں سائیں، میں نواب سائیں کی بات کر رہا ہوں۔“ چار سال بعد اس نے صوابی کی سرزمین پر ایک پورا مہینہ گزارا تھا، حسن داد نے اسے معاف کر کے دوبارہ قبول کر لیا تھا۔ مگر اب یہ خبر۔۔۔ انہوں نے تیزی سے قدم باہر کی جانب اٹھائے، اب وہ فکر مند نہیں تھے، وہ متجسس تھے۔
صوابی کی سرزمین پر مغرب کے بعد کا وقت تھا۔ گاؤں کے مرکزی چوک پر ایک کہرام برپا تھا۔ حسن داد کے قدم گاڑی سے نیچے اترے تو لوگوں نے انہیں راستہ دینا شروع کیا۔ ہر سو ’سلام سردار‘ کی آوازیں گونجنے لگیں۔ لوگ رک رہے تھے، جھک رہے تھے، مگر ایک شخص تھا جسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا اور وہ تھا سردار کا ولی عہد، حسن داد کا بڑا بیٹا۔
”بڑے خان، یہ کیا؟“ اس نے باپ کی آواز سنی تو اس آدمی پر چلتا تازیانہ روکا اور پلٹ کر اپنے باپ کی جانب دیکھا۔
”السلام علیکم!“ اس کے سفید لباس پر جا بجا خون کے چھینٹے تھے۔
” یہ کیا؟“ انہوں نے سوال دہرایا۔
”یہ معصومہ کا مجرم ہے، ابا سائیں- اس نے میرے گاؤں کی لڑکی کو ہاتھ کیسے لگایا؟“ اس نے غصے سے سرخ پڑتی آنکھوں سے اس لہو لہان ہونے شخص کو دیکھا۔ پھر ایک زور دار ٹھوکر اس کے منہ پر مار کر وہ لوگوں کے ہجوم کی طرف متوجہ ہوا۔
لوگوں میں ’معصومہ کون ہے؟‘ کی سرگوشیاں جاری تھی۔ دھمکانے کی غرض سے اٹھی اس کی خون میں ڈوبی شہادت کی انگلی غصے کی شدت سے لرز رہی تھی۔
” اگر کسی نے میرے گاؤں کی کسی بھی لڑکی کو چاہے ہے وہ حویلی کی ہو یا کوئی عام لڑکی، کسی کو بھی نظر اٹھا کر دیکھا تو اس کا حال یہی بھی ہوگا۔“ ”وہ جو اتنے سال بعد سرزمین پر واپس آکر خلوص اور محبت کی داستانیں رقم کر رہا تھا، اس کا یہ روپ دیکھ کر لوگ اسے حویلی کے باقی مردوں سے ملانے لگے۔
” اور تم سب میں سے کوئی بھی عورت اگر کسی ایسے کو جانتی ہے تو میں ہر وقت تم لوگوں کے لیے موجود ہوں۔ مجھ سے رابطہ کرے۔“ لیکن میرے گاؤں میں ظلم نا سہے- یہ میرا گاؤں ہے- میری پاک سرزمین پر ہر ایک کو عزت سے رہنے کا حق ہے اور جو اسے ناپاک کرے گا اس کے بھی یہی حال کروں گا، سمجھے؟“ وہ حلق پھاڑ کر تیش کے عالم سے گزر کر اب حواس میں واپس آ رہا تھا۔ آواز کی سرد مہری سے بھی خلوص جھلکنے لگا تھا۔ وہ جو لوگ فطرَت کے ہاتھوں ستائے ہمیشہ کی طرح لباسِ ظاہر پر میز انقدر بیٹھا کر اس کو بھی حویلی کے مردوں سے ملا رہے تھے، ذہن اور دہن روک کر اس کی پرخلوص کاوش کو دل ہی دل میں سراہنے لگے۔
”اور اس کو یہاں سے کوئی نہیں اٹھائے گا۔ جو اٹھائے وہ اپنی بہن بیٹی کے بارے میں سوچ کر قدم بڑھائے- کوئی نہیں آگے آئے گا نا!“ اپنی عورتوں کے نام پر ان سب کے چہرہ کے پھیکے پڑتے رنگ دیکھ کر وہ بات پلٹ گیا۔
” اسے یہیں پڑا رہنے دو- مرتا ہے مرے نہیں تو میرے گاؤں سے دفع ہو جائے۔ اس کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں۔“ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک اور دفعہ وہ سبز بے گناہ آنکھیں لہرائیں تو اس نے ایک اور زور دار ٹھوکر اس کے منہ پر ماری، اسے دھتکار کر پلٹا، چادر کا پلو کندھے پر اڑا کر، ہجوم کو چیرتا ہوا اپنی سفید جیپ کی طرف بڑھا جو خاصی پرانے ماڈل کی تھی۔ لوگ اس کے وجیہہ چہرے کو دیکھ کر گاؤں کے مستقبل کو لے کر مثبت اندازے لگانے لگے تھے۔
اس سے پہلے وہ جیپ کے اندر بڑھتا ایک لڑکی نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا جو ہجوم سے کچھ دور اس کی گاڑی کی آوٹ میں چھپی کھڑی تھی۔
”سائیں، شہوار کیسی ہے؟“ اس نے اس لڑکی کی موجودگی پر نہیں اس نام پر چونک کر عقب میں دیکھا۔
” نام مت لو، معصومہ کہو۔۔۔ ٹھیک ہے وہ اب۔“ غصے کی شدت سے کہتے اس نے لہجے کو نرم کیا، سامنے عورت ذات تھی۔
”- سائیں، اس آدمی کی تو ایک بہن ہے، معصومہ کی سہیلی- وہ بیچاری کہاں جائے گی اگر یہ مر گیا؟“ اس نے پلٹ کر سیاہ چادر میں لپٹی لڑکی کو دیکھا جس کی آنکھیں سنہری اور سبز سی تھیں۔ خضاب لگے بال چادر کے کونے سے جھانک رہے۔ اس نے اپنی نظر کا زاویہ اس حسین سے دور موڑا۔
” میری زمہ داری!“ وہ کہہ کر گاڑی میں بیٹھا اور ہوا میں دھول اڑاتا وہاں سے نکل گیا۔ حسن داد پیچھے کھڑے اس یوسفزئی خاندان کے چاند کو دیکھ رہے جو اب اپنی پوری آب و تاب سے چمکنے لگا تھا۔ اس کے نور سے سر زمین روشن ہونے لگی تھی۔ جہالت کے اندھیرے غائب ہونے کو تھے۔ اس سخت ترین طبیعت والے سردار کو لوگوں نے مسکراتے دیکھا۔
بڑے خان کی حکومت منصف نہیں عادل ہوگی۔
☆ ☆ ☆
رات کے آخری پہر، نمازِ صبح سے کچھ وقت پہلے ایک نرم اور رحیم چہرے والا شخص، نمازِ نیم شب کی نیت باندھے کھڑا تھا۔ چہرے کا سکون اور نور اس کی باقاعدگی کی گواہی دے رہا تھا۔ نماز مکمل کرکے عموماً لوگ سو جایا کرتے تھے مگر اگر یہ سو جانے والوں میں سے ہوتا تو ارتضیٰ حسن نہ ہوتا۔
اب وہ بیٹھا سورہ دہر کی تلاوت کر رہا تھا، آواز نہ زیادہ دھیمی تھی نہ بلند، معلوم ہوتا تھا کہ وہ اعتدال پسند ہے۔ بھوری آنکھوں میں راحت تھی، ایک ایسا سکون جس کی تلاش میں لوگ ساری زندگی ادھر سر پٹکتے پھرتے ہیں، مگر وہ راحت کچھ لمحے بعد بری طرح ناگواری میں بدلی۔ ساتھ والے کمرے سے آتی گٹار کی آواز بلند ہو گئی تھی، اتنی بلند کے اب تلاوت میں خلل پیدا ہونے لگا۔ اس نے قرآن بندی کیا تھاجب پیچھے سے کسی نے کمرے کا دروازہ کھولا۔
ارتضیٰ نے پلٹ کر دیکھا سامنے ایک نوجوان کھڑا تھا۔ نیلی آنکھوں والا خوش شکل لڑکا، لگ بھگ چھیس برس کا سن اور قد بھی دراز۔۔۔ وہ بالکل تصور والے خوبصورت پختون مردوں جیسا تھا۔
”- اگر آواز ایک پوائنٹ اور اوپر گئی تو ابا سائیں کے کمرے سے پیغام آجاۓ گا۔“یہ ایک واضح دھمکی تھی جو حالت وضو کے لحاظ سے ارتضیٰ حسن کی جانب سے دی گئی تھی۔
”- میں یہی دیکھنے آیا تھا، تمہاری شکل تو اس قابل ہے نہیں جو رات کے اس پہر دیدار کو آؤں۔“ وہ حد درجہ گندی صورت بنا کر، آنکھیں گھما کر بولا۔
” ارتضیٰ! میرا دماغ مت خراب کرنا، شکل کم کرو یہاں سے۔“
”- میرے باپ کا گھر ہے کیوں جاؤں؟“ وہ ضد سے اس کے بالکل سامنے صوفے پر جا بیٹھا۔ ارتضیٰ نے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھتے قرآن چوما اور زمین پر دھرلے سے بیٹھ گیا۔ ارتضیٰ اس پل ہی قرآن کے احترام میں بلند مقام سے اٹھ گیا اور غلص کر ارتضیٰ کو دیکھا۔ چند پل بے بسی سے اس کی شکل دیکھے گیا۔ ارتضیٰ دوبارہ پوری توجہ قرآن کی آیتوں پر مرکوز کر چکا تھا۔
جیسے اس کے لیے باہر کی دنیا موجود ہی نہیں تھی، یہاں تک کہ مرتضیٰ بھی نہیں۔
خاموشی کا پل صرف چند ثانیوں کا تھا کہ "بھائی!" مرتضیٰ کی تیز، گونجتی ہوئی آواز نے فضا کو چیر کر رکھ دیا۔ ارتضیٰ چونکا، مگر سر نہ اٹھایا۔
اگلے ہی لمحے، مرتضیٰ دوڑتے ہوئے آیا،اسے زور سے دھکا دے کر ایک طرف گرایا اور خود اس کے سامنے دیوار کی طرح کھڑا ہو گیا جیسے اس کی طرف بڑھنے والا ہر تیر خود سینے پر کھانے کو دل و جان سے تیار بیٹھا ہو۔ باہر سے گولی چلنے کی آواز آئی۔ارتضیٰ پیٹھ کے بل فرش پر تھا۔ اس نے اپنے پیٹ پر سے ایک باریک سرخ دھار کو بہتے دیکھا۔لگتا تھا گولی چھو کر گزری تھی۔ مرتضیٰ کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا۔
" بھائی!" اس کی آواز میں اس قدر خوف تھا کہ اندھے کو بھی اندازہ ہو جائے کہ یہ ایک بوند خون بھی مرتضیٰ داد خان کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔
" چھو کر گزری ہے۔" ارتضیٰ نے اسے تسلی دی۔ وہ فوراً اُٹھ کر باہر کی طرف بڑھا ۔ حویلی کے برآمدے میں دیوار پر لگی بندوق اُتار کر وہ تیزی سے حویلی سے باہر نکلا۔ حویلی کے گارڈز چوکنے ہوئے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔
کچھ دیر بعد ارتضیٰ کے کمرے میں اماں، ابا اور اس کی تینوں بہنیں موجود تھیں۔ حسن اُس کی کمر پر خود پٹی لپیٹ رہے تھے۔ تینوں بہنوں کے رنگ فق تھے اور ماں سامنے دروازے کی اوٹ میں کھڑی سارا تماشا دیکھ رہی تھی۔ اُن کے ساتھ ایک سنہری مگر گھٹنوں تک آتے بالوں والی لڑکی کھڑی تھی جس کی آنکھیں شہد رنگ تھیں اور وہ موٹے موٹے آنسو ٹپکا رہی تھی۔ وہ گلِ جاناں تھی۔
اُس نے اپنی بہنوں کی آنکھوں میں نمی، فکر اور خوف دیکھا۔ اپنے باپ کے ہاتھوں میں لرزش اور دور کھڑی گل کے گالوں پر بہتے آنسو بھی مگر جب نظر اپنی ماں پر گئی تو اُن کا چہرہ ہر جذبے سے عاری تھا۔ نا نمی، نا آنسو، نا خوف نا فکر بس ایک سادہ نظر۔ ارتضیٰ نے مایوسی سے سر جھکا لیا۔ زخم میں یک دم تکلیف محسوس ہونے لگی تھی۔ابھی اِس واقع کو آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ حویلی کے برآمدے سے برپا ہوتے شور نے ان چاروں بہن بھائی کو متوجہ کیا۔ حسن اور گل بانو واپس جا چکے تھے۔ ارتضیٰ اور اُس کے پیچھے تینوں بہنیں کمرے سے نکلیں۔ نیچے برآمدے میں مرتضیٰ کھڑا تھا۔ ہاتھ میں بندوق لیے اُس نے سامنے موجود درمیانی عمر کے آدمی کا نشانہ باندھا، جو پہلے سے ہی بری طرح زخمی تھا۔ دو گارڈز نے اس آدمی کو پکڑ رکھا تھا۔ اس سے پہلے ارتضیٰ کی زبان حرکت کرتی بندوق کی گولیاں اُس کے بدن کو چیرتی ہوئی پیچھے دیوار میں پیوست ہو گئیں۔ تینوں لڑکیاں پیچھے رہ گئی تھیں۔ ارتضیٰ بھاگتا ہوا سیڑھیوں سے نیچے اُترا اور سامنے جا کر اُس شخص کو دیکھا جس کے وجود پر تازیانے کے تازہ زخم موجود تھے، وہ مر چکا تھا۔
" مرتضیٰ تم پاگل ہو گئے ہو؟ یہ کیا کر دیا ہے؟"
" زیادہ اُڑ رہا تھا، میں نے اُڑا دیا۔" اس نے بندوق کی نال پر پھونک مار کر کہا۔
" صحیح تو کیا ہے، ہمارے بھائی کی طرف جو بھی آنکھ اُٹھائے گا اگلا سانس نہیں لے پائے گا۔ اِس کی اتنی جرات کہ سردار کے بیٹے پر گولی چلائے؟" سیڑھیوں سے اترتی نیلی آنکھوں والی لڑکی کرخت لہجے میں بولی۔
" بکو مت پری! تم لوگ خود کو خدا سمجھ رہے ہو؟ اِس طرح کے معاملات میں ایسا نہیں کرتے۔ "
" بہت خوب بھائی، خود کے علاوہ سب کے لیے لڑتے رہا کرو۔" پریوش نے طنزیہ کہہ کر قدم روک لیے۔
" اتنا اوور ریکٹ کیوں کر رہے ہیں آپ ؟ بھائی یہ آپ کی جان لینا چاہتا تھا اور اگر کوئی میرے بھائی کی طرف بری نظر سے دیکھے گا تو میں اس کا یہی حال کروں گا۔" مرتضیٰ نے اس کا بازو تھام کر کہا۔
" تم کیا چاہتے ہو مرتضیٰ کہ میں ساری زندگی سجدے میں گر گر کر تمہارے لئے معافیاں مانگتا رہوں ؟ اور کوئی کام نہیں ہے مجھے ؟ اسی لیے میں اب یہاں نہیں آتا، جا رہا ہوں میں۔" وہ پیر پٹختا واپس جانے کو مڑا ہی تھا کہ سامنے درِ شہوار کھڑی تھی۔ دونوں کی نظریں ٹکرائیں، ارتضیٰ کی زیرک نظر نے اس کی جاندار مسکراہٹ بڑے غور سے دیکھی پھر نظر پھیر لی۔ اُس کا مسکرانا بنتا تھا، خدا نے اُس کی بہت قریب سے سنی تھی۔
" شہوار اب اِسی حویلی میں رہے گی۔ اور اِس ناقص العقل کی بہن کو بھی حویلی میں لے آؤ اور اگر نہ آئے تو اُسے گھر اور ماہانہ خرچ دو۔میرے حصے سے۔۔۔" اپنا فیصلہ سنا کر وہ بےبسی بھرے غصے سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ یہ تو طے تھا کہ وہ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی لاہور روانہ ہو جائے گا۔ کوئی لاہور میں اس کا منتظر تھا۔
" بھائی!" مرتضیٰ بندوق فراز کے ہاتھ میں اُچھال کر سب کو پسِ پشت ڈال کر تیزی سے اُس کے پیچھے بھاگا۔
" بھائی رکیں!" وہ سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اُس کے پیچھے بھاگ رہا تھا، مرتضیٰ اُس کے پیچھے اِیسے ہی بھاگا کرتا تھا۔ سب نے کچھ پل ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر سب آہستہ آہستہ اپنے کمروں کی طرف روانہ ہوگئے۔ فراز نے سر جھکاتے ہوئے گہرا سانس لیا اور مرسلین کی جانب دیکھا، مرسلین اُس سے عمر میں بڑا تھا مگر ان دونوں میں تکلف نہیں تھا۔ اُس نے فراز کی نظر کے جواب میں آنکھوں سے لاش کی طرف اشارہ کیا جیسے کہنا چاہتا ہو کہ یہ گند اب ہمیں ہی سمیٹنا ہے۔فراز نے نیند سے بھری آنکھیں لیے آستینیں کہنیوں تک چڑھاتے ہوئے مرتضیٰ کو چند بر حق گالیوں سے نوازا اور کام شروع کر دیا۔
☆ ☆ ☆
لاہور
لاہور کی گردآلود فضا میں گرمی اپنی پوری حدت کے ساتھ اتر چکی تھی۔ اس بڑے اور پرتعیش فیشن شو کے ہال میں روشنیوں کی چکاچوند تھی، مگر اس چمک کے پیچھے فیصلے ہوتے تھے کچھ خوابوں کے حق میں، اور کچھ کے خلاف جاتے تھے۔
ریسپشن سے لے کر ریمپ کے اختتام تک، مہمانوں کی سرگوشیاں، ہنسی، تنقید اور داد سب ایک شور میں گھل چکی تھیں۔ پردے کے پیچھے، اس شور سے ذرا ہٹ کر، ایک وجود خاموشی کی گھنی چادر اوڑھے ایستادہ تھا۔ آنکھیں ٹپ ٹپا کر اِدھر سے اُدھر دیکھتی وہ اپنے چہرے کی معصومیت کو چار چاند لگائے ہوئے تھی۔ چہرہ حسین، جس کے اطراف میں پھیلی کندھے تک آتی بھوری ریشم اس منور چہرے کو اطراف سے ڈھانپے کھڑی تھی۔
اس کی عمر کے چند سال مزید گھٹا کر اسے وقت کی قید سے آزاد کر رہی تھیں۔
اُسے دیکھنے والا اگر ایک لمحے کو ٹھہر جاتا تو بعید تھی کہ اس کے دل میں کسی ماورائی شہزادی کا تصور بے اختیار ذہن کے پردے پر لہراتا۔
مگر وہ صرف حسین نہیں تھی، وہ خاموشی میں لپٹا ایک راز تھی۔۔۔ اور اسی راز کا نام سحر سراج تھا۔
سیاہ رنگ کے سادہ مگر بےحد نفیس انارکلی فراک میں ملبوس، کرنکل کا دوپٹہ اس نے سر پر سنبھالا ہوا اور دونوں ہاتھوں میں نازک سی انگوٹھیاں۔ لباس میں کوئی شوخی تھی نہ کوئی جرات مندانہ اقدام ، بس وقار، سادگی اور تہذیب۔
وہ بار بار اپنی انگلیاں آپس میں مروڑتی، پھر خود ہی انہیں ساکت کرنے کی کوشش کرتی۔ یہ گھبراہٹ کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش تھی۔ وہ دور کھڑی دوسری ڈیزائنرز کو ہنستا اور باتیں کرتا دیکھ کر بھی وہاں ہی جمی کھڑی تھی۔ سحر وہ لڑکی تھی جو بھیڑ میں کھڑی ہو کر بھی خود کو تنہا ہی محسوس کرتی تھی یا شاید اس کو کبھی بھیڑ تک رسائی ملی ہی نہیں تھی۔ انٹروورٹ اور شرمیلا پن ہی اس کی ساری شخصیت کا نچوڑ تھا۔
کم گو لیکن ذہین ۔۔۔
نظریں جھکی رہتیں، مگر خواب آسمان سے بھی اونچے تھے۔ ابھی وہ ان ڈیزائینرز کی طرف دیکھ ہی رہی تھی کہ ایک لڑکی نے اس کی جانب دیکھا،اس سے پہلے وہ سحر کو بلاتی، سحر نے گھبرا کر رخ پھیر لیا۔ ایک انٹروورٹ کے لئے آئی کانٹیکٹ سے خوفناک چیز اس دنیا میں شاید پائی ہی نہیں جاتی تھی۔
اسی لمحے ہال کی روشنیاں مدھم ہوئیں۔ اسکرین پر اس کی کلیکشن کا نام ابھرا،
"رنگ و نور بائی سحر سراج!"
پس منظر میں ہلکی سی ستار کی دھن گونجی، نہ تیز، نہ شوخ، بالکل ویسی جیسے سحر کی طبیعت تھی۔ اس کے دل نے اتنے لمحے ساکت ہوکر گزارے کہ اسے سانس کھینچ کر اس سلسلے کو بحال کرنا پڑا۔
پہلی ماڈل ریمپ پر آئی۔
آف وائٹ ریشمی ساڑھی، باریک سنہری کام، پلو پر ہاتھ کی نفیس کڑھائی، سلیو لیس بلاؤز پر تلّے کا کام۔دوسری ساڑھی سنہری اور سبز امتزاج میں تھی، جس کے بازوؤں پر کٹ دانے کا کام کیا گیا تھا۔ تیسری نیلے رنگ کی گہری، جیسے افق پر طلوع آفتاب کے لمحے آسمان کی بےداغ اور آلودگی سے یکسر پاک وسعت۔ مہمانوں کی سرگوشیاں اب تیز ہونے لگیں۔
" Elegant ہے۔۔۔ مگر شاید بہت soft ہے۔"
"Trend آج کل bold مانگتا ہے۔"
سحر نے یہ جملے سنے، مگر اس نے کانوں پر ہاتھ نہیں رکھے۔وہ پہلے ہی جانتی تھی، وہ اس دنیا کے شور کے لیے بنی ہی نہیں۔ وہ خاموشیوں کی باسی تھی، اسے ایسی چکا چوند کہاں ملنی تھی۔
نتائج کا وقت آیا۔
ایک، دو، تین!
نام پکارے گئے،مگر سحر کا نہیں۔
پردے کے پیچھے وہ جیسے زمین میں گڑھنے لگی۔ دل میں بچپن سے روشن چراغ کسی نے پھونک مار کر بجھا دیا تھا۔ ہاتھ آپس میں جڑے، انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ چہرے پر وہی مدھم سی مسکراہٹ، جو وہ اکثر ڈر اور ٹوٹ پھوٹ کو چھپانے کے لیے اوڑھ لیتی تھی۔ اسے لگا جیسے اس کے خواب کسی نے ریمپ پر نہیں، اس کے سینے پر پاؤں رکھ کر کچلے ہوں۔ اسے اس وقت سراج کی ضرورت تھی مگر تبھی اسے فارہ جان اپنے قریب آتی نظر آئی۔
" سحر ، رونا مت پلیز ۔ اگلے سال ہم دوبارہ کوشش کریں گے۔پہلا تیر نشانے پر نہ لگے تو مایوس نہیں ہوتے۔ تیر چلانا آ جائے تو ایک نہ ایک دن نشانے پر بھی جا لگتا ہے ۔ " پیچھے سے کسی نے انھیں آواز دی۔
"ابھی صرف تیر چلانے پر خوش ہو جاؤ۔" اور وہ تیزی سے اس کے کندھا تھپک کر واپس نکل گئیں۔
اس سے پہلے ان کے الفاظ سحر کے چہرے کو ذرا شادابی بخشتے اس کا منیجر، اصفہان تیز قدموں سے آیا۔ چہرے پر ناگواری صاف تھی۔
" مس سحر! میں نے کہا تھا نا یہ سب بہت soft ہے۔
یہ فیشن شو ہے، مدرسے کی نمائش نہیں!" اس کی آواز بلند تھی۔ سحر چونکی اور دو قدم پیچھے ہٹی جیسے لفظوں کی بھی تاب لانے کی سکت اس کے نزاکت بھرے وجود میں نہیں تھی۔
" سوری سر ۔۔۔ ہم اگلے سال۔"
" اگلا سال؟" وہ اس کی نرم گفتار کو منقطع کرکے تلخی سے ہنسا۔
" یہاں اگلا سال کوئی نہیں دیکھتا۔ جیتو یا غائب ہو جاؤ!" وہ اس کے سامنے انگوٹھے اور انگلی کو مسل مسل کر چٹکی بجا رہا تھا۔سحر کی آنکھیں بھر آئیں، مگر آواز نہ نکلی۔ وہ ڈر جانے والی لڑکی تھی۔ دفاع کرنا اس کے بس میں کبھی نہیں رہا تھا۔وہ صرف خواب دیکھنا جانتی تھی۔۔۔ بہت بڑے خواب۔
" سر پلیز۔۔۔ ایک اور چانس، آپ جو بھی کہیں گے ہم کریں گے۔ بس ایک چانس۔۔۔ " وہ پلٹتے پلٹتے رک گیا، پھر بدتمیزی سے قریب آیا۔
" جو بھی کہوں گا وہ کرنے کو تیار ہو؟" سحر نے فوراً ایک قدم پیچھے لیا۔دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔
" بولو ؟ کچھ بھی؟"
" ہمارا مطلب۔۔۔" سحر نے ایک قدم مزید پیچھے کو لے کر صفائی دینی چاہی۔ تبھی اس نے سحر کو بازو سے پکڑ کر قریب کیا۔ اس سے پہلے وہاں کچھ بھی مزید ہوتا ایک شخص کی آہنی گرفت نے اسے کھینچ کر اصفہان کی گرفت سے دور کیا، وہ ان دونوں کے بیچ حائل ہوگیا تھا۔
" بس سائیں! عورت ذات سے ایسا سلوک نہیں کرتے۔ " ایک سادہ لباس میں ملبوس شخص ان دونوں کے بیچ کھڑا تھا۔ سفید شلوار قمیض، کندھے پر بیگ، سر پر جالی دار سفید ٹوپی، ہلکی داڑھی اور آنکھوں میں عجیب سا ٹھہرا ہوا سکون۔اصفہان کچھ بھی مزید کہے یا کیے بغیر وہاں سے نکل کھڑا ہوا ۔
" آپ ٹھیک ہیں ؟" اس شخص نے پلٹ کر سحر کا چہرہ دیکھا جو ڈر سے سفید پڑ گیا تھا۔ اس نے کندھے سے بیگ اتار کر اس میں سے مہنگے منرل واٹر کی چھوٹی بوتل نکالی اور سحر کو تھما دی۔
" آپ ٹھیک ہیں ؟" وہ دوبارہ پوچھ رہا تھا۔ سحر نے نظر اٹھا کر اس شخص کو دیکھا۔
" ہم ۔۔۔ ہم ٹھیک ہیں ۔" اس کی دھیمی،محصور کن آواز ہوشربا تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو گرے، مگر وہ سسکی نہیں۔ بس دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی، جیسے اگر کھڑی رہی تو بکھر جائے گی۔
" ہار ہمیشہ ناکامی نہیں ہوتی۔" وہ چونکی۔سامنے کھڑے اس شخص کا سادہ لباس، نرم نگاہیں، چہرے پر ٹھہرا ہوا سکون۔ وہ سکون جو سحر کو تلاش کر کر نصیب ہونے کو نہ تھا۔
" آپ ؟"
" میں دراصل ڈرائیور ہوں، باس اندر تھیں تو نماز پڑھنے یہاں آ گیا تھا۔ یہ پانی بھی ان کا ہے، استعمال شدہ نہیں ہے، پی لیں۔" وہ مسکرایا، اس کی مسکراہٹ بھلی تھی۔ اس کے لہجے میں کوئی کھردرا پن نہیں تھا۔
'شاید یہی نماز کا اثر ہوتا ہے، کہ آدمی عورت کو لفظوں سے بھی چوٹ نہ پہنچائے۔' وہ سوچتے ہوئے مسکرا دی۔ سحر کا دل چاہا کہ اُس نرم خو انسان کو بتائے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اپنے خواب سے دور ہو چکی تھی۔ اُس نے اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا واحد موقع گنوا دیا تھا۔
سحر یک دم ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی۔ دائیں جانب زویا گہری نیند میں تھی، فجر کی اذانوں سے فضا گونج رہی تھی۔
" اُف خدایا! ابھی تو فجر ہوئی ہے۔" وہ دوبارہ چادر سر تک تان کر بڑبڑائی۔ پیچھلے دو ماہ میں وہ یہ خواب دو سو دفعہ دیکھ چکی تھی۔ تکلیف تھی کہ اعصاب پر ڈپریشن بن کر سوار تھی اور شادی۔۔۔ شادی سر پر آن پہنچی تھی۔
☆ ☆ ☆
"السلام علیکم، بابا کہاں ہیں آپ؟ ہم دونوں فارغ ہو گئے ہیں۔"ہول سیل کی دکان سے مطلوبہ کپڑے خریدنے کے بعد وہ سراج کی غیر موجودگی سے چونک کر انہیں کال ملا رہی تھی۔
"بیٹا گاڑی پنکچر ہوگئی ہے، ہمیں تھوڑی دیر ہو جائے گی، آپ انتظار کیجیے۔" سراج احمد دھوپ میں کھڑے گاڑی کے ٹائر کا معائنہ کر تے شخص کو دیکھ رہے تھے۔
"بابا کہہ رہے ہیں کہ انہیں دیر ہو جائے گی، اب؟" سَحر نے ساتھ کھڑی لڑکی سے دھیمے لہجے میں کہا۔
"آپ ان سے کہیں کہ ہم خود آ جاتے ہیں، ہم کوئی ٹیکسی کروا لیں گے۔"
"بابا، ہم کوئی ٹیکسی کروا لیتے ہیں، آپ آرام سے دیکھ لیں۔"
"لیکن زرہ خیال کیجیے گا، کوئی مسئلہ ہو تو بتائیے گا۔"
سَحر نے اوکے کہہ کر فون بیگ میں رکھا اور ہوا سے اڑتا دوپٹہ سنبھال کر سر پر درست کیا۔ سفید کرتے کے ساتھ سفید پلازو اور کلائی میں نیلی چوڑیاں، دھوپ میں بارش کی باریک نادیدہ بوندیں ایک تازگی سی بکھیر رہی تھیں۔ دراز قامت ہونے کے باوجود اس کے چہرے پر معصومیت تھی۔ مگر اس معصومیت کے پیچھے ایک محنت کش ذہن تھا جو ہر چیز کا حساب رکھتا تھا۔ چاہے وہ کپڑا ہو ، کوئی لیس، موتی یا ستارہ ہی کیوں نہ ہو؟
سمیرا نے ہاتھ دے کر ایک ٹیکسی روکی۔ گھر کا پتا بتا کر اس سے کرایا پوچھا۔
"باجی، تین سو دے دینا۔"
"تین سو؟" سَحر کے ماتھے پر بل پڑے۔
"مالدیپ نہیں جانا ہمیں، ماڈل ٹاؤن جانا ہے۔"ڈرائیور نے کندھے اچکا کر سمیرا کو دیکھا، "باجی تین سو ہی بنتے ہیں۔"
" اچھا آپ جائیں۔"
"سَحر ، یہ بس جا رہی ہے، صرف پچاس روپے لے گی، گلی کے سامنے اتارے گی۔"
"بس ٹھیک ہے، اسی میں چلتے ہیں۔" بس رکتے ہی دونوں سوار ہوگئیں۔اندر بلا کا رش تھا۔ سَحر، سمیرا کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔ ہجوم کے بیچ بھی وہ لوگوں کے لباس، رنگوں اور بناوٹ کو دیکھ رہی تھی۔
"کتنے رنگ ہیں اس بھیڑ میں۔۔۔ اگر ہم ایسے کپڑوں پر اپنی کلیکشن لانچ کریں ، روایتی مگر جدید۔۔۔ لوگوں کو خوب پسند آئے، خوب کمائے بھی۔۔۔" ایک لمحے کو اس کی آنکھوں میں چمک اُبھری۔ اسے پیسے کا شوق نہیں تھا، مگر اپنے بل پر کمانے کا جنون تھا۔ اپنے خوابوں کو اپنے پیسوں سے حقیقت بنانے کی ضد۔
اگلے اسٹاپ پر دو عورتیں اتریں تو ذرا جگہ بنی، وہ فوراً سیٹ پر بیٹھ گئی۔ تبھی ایک بھاری جسم والی عورت جھٹکے سے آ کر سَحر پر گری، پھر سنبھل کر اس کا چہرہ دیکھتے ہی ہلکا سا مسکرا دی۔ اگلے اسٹاپ پر بھی یہی ہوا تو سمیرا نے اپنے سکارف سے پن نکالی تاکہ اگلی بار وہ چبھا دے، مگر سَحر نے فوراً اس کا ہاتھ روک کر آنکھوں ہی آنکھوں میں تنبیہ کی۔
"سمیرا، ہمارے اعمال اتنے اچھے نہیں کہ جنت مل جائے۔ خدا کے حقوق ادا نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کی مخلوق سے درگزر ہی کر لیں۔ کیا معلوم خدا اسی بات پر معاف کر دے۔" سمیرا نے بے اعتنائی سے منہ پھیر لیا، وہ سَحر کی ایسی باتوں کی عادی تھی۔ ان کی عمر میں بیس سال کا فرق ہونے کے باوجود وہ ان دونوں بہنوں کو نام سے پکارتی تھی اور عزت بھی برابر کرتی تھی۔
"یہ جان بوجھ کر گر رہی ہے تم پر۔" اس نے چڑ کر سَحر کو اطلاع دی۔
"سنیں، اگر آپ کو یہاں آنا ہے تو آپ یہاں آ جائیں، ہم کھڑی ہو جاتی ہیں۔" وہ عورت جیسے شکر ادا کرتے ہوئے فوراً آ بیٹھی۔
"جزاک اللہ بیٹا، میرے تو ہاتھ پیروں سے جان ہی نکل رہی تھی، شوگر بہت لو ہورہی ہے۔" اگلے اسٹاپ پر دونوں اتر گئیں۔ سمیرا نے بس سے اترتے ہوئے کہا، " ڈھائی سو بچا لیے، خوش ہو؟"
" قسم سے ہم پیسے کے پیچھے نہیں بھاگتے ! بس ہمیں اچھا لگتا ہے جب پیسا ہمارے پیچھے بھاگتا ہے۔" سمیرا اس کی بات سن کر ہنسی اور اپنا شاپر گھسیٹتے آگے بڑھ گئی۔ مشکل سے دروازے تک پہنچے تو زویا بھی مدد کو آ گئی تھی۔ اندر پہنچ کر تینوں پھولے سانس کے ساتھ صوفے پر گر پڑیں۔
کچھ دیر بعد سَحر اٹھی اور کولڈ ڈرنک کے تین گلاس لا کر رکھے۔
" فیروز چچا کہاں ہیں؟" اس نے زویا سے پوچھا۔
" گاڑی خراب ہوگئی تھی تو صاحب کی مدد کو گۓ ہیں ۔ سَحر ، وہ بلو ڈریس والی کلائنٹ کا ڈرائیور آیا تھا۔ یہ پیمنٹ دے کر گیا ہے۔" سَحر کی ساری تھکاوٹ جیسے ہوا ہوئی۔ اس نے فوراً لفافے سے پیسے نکالے اور گننے لگی، پھر چونک کر زویا کا چہرہ دیکھا جو اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔ سمیرا سکون سے بیٹھی کولڈ ڈرنک پی رہی تھی۔
" یہ دونوں ڈریسز کی قیمت ہے؟" سَحر کا رنگ پھیکا پڑا۔
" ہاں، کیوں ؟" زویا جیسے ہر چیز سے انجان بنی۔
" زویا، آپ نے پیسے گِنے نہیں ؟" وہ حیران و اُداس ہوئی، آواز اور چہرے کی جوت بوجھ گئی۔
" کیوں ؟ پوری قیمت نہیں ہے؟"
" نہیں !"
" مگر اتنی ہے کہ تمہیں نقصان نہ ہو۔"
" زویا، اگر آرٹ منہ مانگی قیمت نہ دے تو لوگ اُسے مشغلہ ، دلچسپی یا شوق تو کہتے ہیں مگر آرٹ کوئی نہیں کہتا۔" وہ اداسی سے اب رو دینے کو تھی۔
" ہاۓ اللہ سَحر، مر ہی نہ جانا غم سے۔ " اس نے سحر کو بچوں کی طرح پچکارتے ہوئے کہا۔
" باقی اکاؤنٹ میں بھیجی ہے اس نے ۔ آٹھ لاکھ کیش کسی کے پاس نہیں ہوتا۔" سَحر نے کولڈ ڈرنک کا گلاس پکڑا اور دو گھونٹ پی کر سکون کا سانس لیا۔ اس کی آرٹ، آرٹ ہی تھی مشغلہ نہیں بنی تھی۔
" ایک دن ہماری ڈیزائننگ اتنی رنگین ہوگی کہ لوگ اسے پہن کر رشک کریں گے۔۔۔" اس نے کسی اور دنیا میں قدم رکھتے ہوئے ہمیشہ کی طرح زویا کا بازو تھام کر جس وثوق سےکہا زویا ہنس دی ۔
" اور ہم اپنے کمائے ہوئے پیسوں سے وہ خوشی محسوس کریں گے جو بابا کے سامنے ہاتھ پھیلانے میں نہیں ہوتی۔ تب ہم اپنا بڑا سا گھر بنائیں گے بالکل محل جیسا جہاں نوکر چاکر ، عیش و عشرت ہو گی۔ لوگ ہمارا نام سن کر پر جوش ہوا کریں گے۔ رنگ و نور کے ڈیزائن پہن کر فخر کیا کریں گے۔ "
☆ ☆ ☆
کچھ دیر ہی گزری تھی کہ سراج بھی گھر آ پہنچے۔ سَحر مالی سے لان میں کھڑی کرسیوں کے پیچھے لگے فوارے کے قریب جگہ کھدوا رہی تھی۔ سراج پسینے میں شرابور ہونے کے باوجود بھاگ کر اس تک آئے اور اُسے بازو سے پکڑ کر اُس مٹی والی جگہ سے دور کیا۔
" سَحر، یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟"
"بابا، ڈرا دیا آپ نے تو!
وہ یہاں پر پانی گر گر کائی جم گئی تھی نا تو ہم نے سوچا کہ یہاں فوارے کے گرد گلاب لگوا دیتے ہیں، جیسے وہاں کیاری میں سفید اور سرخ والی قلم لگائی تھی نا، بالکل ویسے ہی مگر اس بار گلابی اور سفید لگائیں گے۔ کیسا؟"
وہ بچوں کی طرح خوش ہو کر بتا رہی تھی۔ دوپٹہ مٹی میں اٹا تھا، وہ ہاتھ جھاڑ رہی تھی۔سراج کی آنکھوں نے ایک منظر دیکھا، وہی جگہ، ویسا ہی دوپٹہ، ویسی ہی شام، بس سَحر کی جگہ صالحہ تھیں۔
" ہزار دفعہ آپ کو منع کیا ہے نا کہ ان گندے کاموں سے دور رہا کریں۔ دیکھو ذرا سارا لباس ، ہاتھ منہ سب گندا کر لیا ہے۔" وہ اس کے دامن اور گھٹنوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے بولے۔
" اب آپ اندر جائیں، ہم لگوا دیتے ہیں یہ پھول بوٹے۔"
"ہم صرف دیکھ رہے ہیں، باباجان۔"
"ہم زیادہ اچھے سے دیکھیں گے، آپ زویا سے کہیں کہ چائے بنائے، ہم سموسے لے کر آئے ہیں۔" وہ اسے پیار سے کسی ننھے بچے کی طرح ٹال رہے تھے اور سموسوں کا نام سن کر وہ بہل بھی گئی۔ اس کے لان پار کرتے ہی وہ تیزی سے گارڈ تک گئے،
"فیروز، جا کر سموسے لے آؤ اور اس مالی کو آئندہ نہ بلانا۔ کسی نئے مالی کا انتظام کرو۔"
" صاحب، سَحر بی بی کو پھر مسئلہ ہوگا۔۔۔ "
" ہم یہی چاہتے ہیں۔ نیا مالی ہو گا تو چار مہینے ان پھول پودوں سے سکون رہے گا۔
نہ بات کریں گی مالی سے، نا نئے پودے لگیں گے ورنہ یہ لڑکی تو یہاں جنگل تیار کر دے گی۔"
☆ ☆ ☆
رات کے وقت اس گھر کے ماسٹر بیڈروم میں آؤ تو دیواریں، کپڑوں کے ڈیزائنز ، ماڈلنگ شو، ڈ میاں، ڈیزائنز کے خاکے اور ڈالروں کی معتدد تصاویر سے بھری ہوئی تھیں۔ جسے آج کل کی نوجوان نسل ویژن بوڈ کے نام سے جانتی تھی۔ ان سب تصاویر کے اوپر بڑا سا ' مائی فیوچر ' لکھا تھا۔
کمرے میں جگہ جگہ کپڑے کے ٹکڑے، سوئیاں ، دھاگے ، چاک اور چھوٹی بڑی کھینچیاں رکھی تھیں۔ سفید رنگ کی سلائی مشین پر زرد سا چھوٹا بلب جل رہا تھا، جو صرف ایک مخصوص حصے کو روشن کیے ہوئے تھا۔ باقی کمرے کو ایک اچھا خاصا موٹا بلب روشنی دے رہا تھا۔
میز پر بکھرے کپڑوں کے درمیان سَحر بیٹھی تھی، سوئی دھاگے سے ایک ایک موتی احتیاط سے سی رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں تھکن کے بجائے ایک عجیب سی خوشی تھی۔ سامنے رکھے نیم تیار لباس کو دیکھ کر اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کھیل جاتی۔ وہ ایک عروسی لباس تیار کر رہی تھی۔
کسی اور کے لئے نہیں اس بار خود کے لئے۔ اچانک، اس کے ہاتھ رُک گئے۔ کپڑے کے نرم پھولوں پر انگلیاں ٹھہریں، اور ماضی کی ایک پرانی شام آنکھوں کے سامنے جا اٹکی۔
شام کا وقت تھا۔
برآمدے میں ہلکی ہلکی روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔ باہر لان میں تازہ کٹی گھاس کی خوشبو فضا میں گھل رہی تھی۔ ایک گاڑی بڑے دروازے کے سامنے آ کر رکی تھی۔
گاڑی سے سب سے پہلے سفید کرتے پاجامے میں ملبوس ایک باوقار شخص اترے ، مختار۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا داؤد تھا، چوڑے شانے، سانولا مگر دلکش چہرہ، اور آنکھوں میں وہ عجیب سا اعتماد جو دیکھنے والے کو خود میں جذب کر لیتا تھا۔ شلوار قمیض پر واسکٹ پہنے ، وہ اپنی مُٹھی بھر بڑھی داڑھی کو ہاتھ سے درست کر رہا تھا ۔
یہ سراج اور مختار کی پرانی دوستی کی یاد تازہ کرنے کے لئے آٹھ سال بعد مختار کے پاکستان لوٹنے کی خوشی میں ایک خالص دعوت تھی ، مگر اس دن کچھ ایسا ہوا جو قسمت کا رخ بدل گیا۔
کیا تم جاننا چاہو گے کہ ایسا کیا ہوا تھا ؟
پھر میرے ساتھ دو ماہ پیچھے چلو ۔۔۔
سراج ، مختار اور داود کے ساتھ بڑے کمرے میں بیٹھے تھے ۔ سَحر اپنی شرمیلی فطرت کی وجہ سے ان سے ملنے سے انکار کر چکی تھی۔ اس کے انداز میں گھریلو وقار ہوتا تھا، جیسے وہ بڑے گھروں کی شوخیوں سے بہت دور ہو۔ نہ ہی چنچل مزاج تھی کے ہر ایک سے ملنے گھلنے کا شوق ہوتا اور نا ہی مردوں میں بیٹھنے کی عادی تھی ۔۔۔
یہ یوں کہنا بہتر تھا کہ اسے سراج کے علاؤہ اس دنیا کی کسی مرد نامی چیز سے آشنائی نہیں تھی۔
وہ ان اپر مڈل کلاس لڑکیوں میں سے تھی جنہیں بلا وجہ مردوں سے الرجی ہوا کرتی تھی۔۔۔ جو بس اپنے خوابوں میں جیا کرتی تھیں۔
کھانے سے پہلے داؤد ہاتھ دھونے کے لیے واش بیسن کی طرف بڑھا۔ بیسن کچن کے قریب تھا۔ کچن کا دروازہ نیم کھلا ہوا تھا، اور اندر سے ہلکی ہلکی آواز آ رہی تھی۔ داؤد کی نظر بےاختیار اندر گئی۔
وہاں سَحر کھڑی تھی ، دراز قد، گوری رنگت، چھوٹے بال سلیقے سے کانوں کے پیچھے کیے ہوئے۔ چہرے پر ایک قدرتی معصومیت اور آنکھوں میں نرمی۔ وہ زویا کو نہایت محبت اور دھیمے لہجے میں کھانے کے متعلق ہدایات دے رہی تھی۔ جیسے ہی وہ پلٹی ، ایک لمحے کے لیے سَحر کی نظریں داؤد سے ملیں، اور پھر وہ ہڑبڑا کر کچن کے کاؤنٹر کے پیچھے چھپ گئی۔
یہ معصوم حرکت داؤد مختار کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہوگئی۔ اس کے نرم سے مزاج میں ایک تبدیلی اُتر آئی۔ وہ ہنسا کچھ تجسس بھی پیدا ہوا ۔ اس نے بچپن میں سَحر سے دوستی کی ناکام کوشش بہت بار کی تھی۔
وہ کچھ لمحے وہیں کھڑا رہا، پھر جب زویا ایک اور ٹرے لے کر باہر نکلی تو داؤد موقع دیکھ کر کچن میں داخل ہو گیا۔ اندر سَحر بالکل سامنے کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر وہ ایک پل کو جیسے سن ہو گئی۔
اب قریب سے داؤد کو اس کا سراپا واضح دکھائی دیا۔ گہری نیلی شلوار قمیض، اس پر ایک بڑی چادر جسے وہ شانوں پر ڈالے ہوئے تھی۔ داؤد کی نظریں اس پر پڑیں تو وہ فوراً گھبرا کر چادر سر پر لے گئی۔
داؤد ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
"تم شاید سَحر ہو؟"
سَحر نے نظریں جھکا لیں، "جی۔"
" تم سے مل کر لگتا ہے تم سے برسوں پرانا تعلق ہو۔۔۔" داؤد کی آواز میں ایک عجیب سا سکون تھا، مگر آنکھوں میں وہ بےتکلفی اور بےخوفی تھی جس سے سَحر ہمیشہ گریز کرتی تھی۔ سَحر نے چونک کر اسے دیکھا۔
"آپ۔۔۔ آپ کو کچھ چاہیے تھا؟"
"چاہیے؟" داؤد نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر آہستگی سے بولا، "ہاں۔۔۔ چاہیے تو بہت کچھ ہے، مگر ایک چیز ہے جو مل گئی تو باقی سب بھول جاؤں گا۔"
سَحر کی پیشانی پر ہلکی سی لکیریں ابھریں، "ہم سمجھ نہیں رہے۔۔۔" اسے وہ بالکل یونیورسٹی کے زمانے کا کوئی فلرٹ لڑکا لگا، سَحر نے حقارت سے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔داؤد ایک قدم قریب آیا، نظریں اس کے چہرے سے ہٹائے بغیر کہا،
"میری تلاش تم پر ختم ہوئی۔۔۔اب تو دوستی کر لو۔" اس کا بڑھا ہوا ہاتھ دیکھ کر سَحر کا دل جیسے ایک لمحے کو رک سا گیا۔ اس کے سراپے سے مذہب ٹپک ٹپک کر واضح تھا مگر یہ۔۔۔
" ہم مردوں سے دوستی نہیں کرتے ۔"
" عورتوں سے دوستی تو میں بھی نہیں کرتا۔ تم میرے جیسی ہو اور میں تمھارے جیسا تو پھر ہم شادی کر لیتے ہیں۔"
اس سے پہلے داؤد کچھ اور کہتا، سَحر نے اچانک اونچی آواز میں پکارا، "بابا جان! جلدی ۔۔۔"
داؤد چونک گیا۔ ایک پل میں آگے بڑھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا سحر کی آنکھیں اس مرد کی آنکھوں سے بری طرح ٹکرائیں۔
مگر اگلے ہی لمحے سراج کے قدموں کی آہٹ سن کر وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ سحرآنکھیں پھاڑے اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔
" ایم سوری، مجھے تمھیں چھونا نہیں چاہیے تھا۔ انسان ہوں میں گھبرا گیا تھا۔ معاف کرنا۔
استغفر اللہ ۔۔۔ استغفر اللہ ۔۔۔"
چند ہی سیکنڈ میں سراج کچن کے دروازے پر نمودار ہوئے۔ ان کی نگاہ پہلے داؤد پر پڑی جو اپنے ہاتھ ایسے جھاڑ رہا تھا جیسے کوئی اچھوت چیز چھو لی ہو، پھر سَحر پر جو اسے آنکھیں پھیلائے گھور رہی تھی۔ سراج کی آنکھوں میں سوال تو تھا، مگر لہجہ پُر سکون۔
"داؤد بیٹا، آپ یہاں؟" سراج نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا، مگر اس مسکراہٹ میں ایک غیر محسوس سنجیدگی چھپی ہوئی تھی۔داؤد نے تیزی سے جواب گھڑا۔
"جی، ہاتھ دھونے آیا تھا، راستے میں سَحر کو دیکھا تو سلام کرنے رک گیا۔"
"چلیے، سب انتظار کر رہے ہیں۔" پھر ایک سرسری مگر گہری نظر سَحر پر ڈال کر وہ داؤد کو اپنے ساتھ لے گئے۔
ڈائننگ ٹیبل پر واپس آتے ہوئے، داؤد کے ذہن میں ایک فیصلہ واضح ہو چکا تھا۔۔۔
"یہ لڑکی۔۔۔ اتنی پاکیزہ ، اتنی شرم و حیا والی ، یہی میری بیوی بنے گی۔"
اور سحر کے دماغ میں داؤد کا سراپا دیکھ کر وہ لڑکا گھوم رہا تھا جس نے اسے اصفہان سے بچایا تھا۔
مہربان، دیندار اور عزت کرنے والا۔
جو شخص ایک ہاتھ لگ جانے پر استغفار کرنے لگا تھا۔ اس حد تک خدا کی پرواہ کرنے والا شخص کتنا عظیم ہوگا۔۔۔
" سَحر !" کمرے کے دروازے پر سراج آ کھڑے ہوئے ۔ سفید بالوں میں گزرے وقت کے نشان مگر آنکھوں میں اپنی اکلوتی بیٹی کی محبت جھلک رہی تھی۔ ان کی آواز پر سَحر چونکی ہاتھ سے سوئی گر گئی۔
" بابا !" اس نے خفگی سے کہا اور دھاگے سے پکڑ کر سوئی واپس کھینچی ۔
" آپ کیوں ہمیشہ ہمیں ڈرا دیتے ہیں؟ " وہ جانتی تھی کہ ڈرپوک وہ خود ہی ہے مگر سامنے کھڑا شخص مان رکھ لینے والا تھا۔
"بیٹا، آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں؟ آنکھوں میں نیند صاف نظر آ رہی ہے۔ زویا بھی کب کی سو چکی ہے۔"
پھر ان کی آواز میں وہی پرانی ملامت آ گئی، "اسی لیے ہمیں آپ کی یہ رات بھر جاگنے والی عادت اچھی نہیں لگتی۔ ڈیزائنر بنیے، ضرور بنیے مگر شادی بھی سر پر کھڑی ہے۔ چہرہ مت بگاڑیں۔" وہ شدید خفا لگ رہے تھے۔
" اتنی پیاری تو ہیں ہم، اب اور کتنا حُسن چاہیے آپ کو ؟" سحر اپنے مرمریں لبوں پر مسکراہٹ لیے اٹھی۔سب چھوڑ کر لاڈ سے اُٹھ کر اُن کے پاس آ گئی۔ سراج ہنس دیئے۔ کمرے کا بڑا بلب بند کرکے وہ کمرے کے دوسرے حصے کی طرف بڑھی جہاں اس کا بیڈ نفاست سے سجا تھا۔زویا سر تک چادر اوڑھے سو رہی تھی ۔ سَحر نے اپنی چادر کھینچ کر خود پر لی اور ایک جتاتی نظر سراج احمد پر ڈالی۔ کانوں سے جھمکے اتار کر ٹیبل پر رکھے۔ وہ مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ سحر کی مسکراہٹ ان کا چہرہ دیکھ کر پھیکی پڑی۔
" زیادہ مکھن مت لگائیں۔ سو جائیے۔ صبح اُٹھ کر بھی کام ہو سکتا ہے۔" وہ دونوں ہاتھوں سے اُس کے بال سہلا کر بولے۔سحر نے فوراً سر جھکا دیا۔
"بہتر۔"
"بابا جان!" سحر نے انہیں پکارا تو وہ رکے۔
"جی، بیٹا؟"
"آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ داؤد ہمارے لیے اچھے ثابت ہونگے؟"اس کی آواز میں بہت دبے لفظوں والا وہ خوف تھا جو ہر بیٹی کو رخصتی کے وقت محسوس ہوتا ہے۔
سراج دھیرے سے مسکرائے۔ "داؤد بہت اچھا لڑکا ہے، بیٹا۔ آج کے دور میں بس دو چار ہی ایسے نوجوان ہیں جو دنیا کے دھارے میں بہنے کے بجائے دین کو تھامے رہیں؟" سحر خاموشی سے انہیں سن رہی تھی۔
"وہ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں۔" سراج نے جیسے دلیلیں دیتے ہوئے کہا، "اپنی ماں سے کس طرح عزت سے بات کرتے ہیں دیکھا آپ نے؟ ان کی آنکھوں میں جو عاجزی رزق کو دیکھ کر آتی ہے ۔۔۔ واہ ! ایسے لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں، سحر۔" سحر کے لب ہلکے سے مسکرائے ایک ایسی مسکراہٹ جو اطمینان کے ساتھ تھوڑی سی گھبراہٹ بھی لیے ہوتی ہے۔
"اور سب سے اہم بات۔۔۔" سراج نے نرمی سے کہا، "وہ آپ کی اہمیت سمجھتے ہیں۔
بیٹا، یہ چیزیں کسی بھی رشتے کو مضبوط بنا دیتی ہیں۔" سحر نے آہستگی سے سر جھکا لیا۔
"ہاں، ہمیں بھی ان کی باتیں۔۔۔ان کا انداز۔۔۔ ان کا سکون۔۔۔ سب اچھا لگتا ہے۔ جو سکون ان کی ذات میں ہے نا بابا جان وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔"سراج آگے بڑھے، اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
"آپ نے ہمیشہ ہمارے گھر کو روشنی دی ہے، سحر۔ ہم کبھی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جس میں آپ کی خوشی نہ ہو۔ اور جہاں اللہ کا خوف ہو، وہاں ظلم نہیں ہوتا۔ داؤد ایسا ہی لڑکا ہے۔ وہ ایک نیک، مضبوط ایمان والا، اور اللہ سے ڈرنے والا اچھا شوہر بنے گا۔" ان کے لہجے کا یقین اتنا زیادہ تھا کہ سحر کو اپنا آپ محفوظ محسوس ہوا۔
" ہم جانتے ہیں بابا، وہ اللہ کے سارے حقوق ادا کرتے ہیں تو بیوی کے سارے حقوق بھی ادا کریں گے۔ لیکن بس ڈر سا لگتا ہے۔ یا پھر شاید ہم آپ سے دور نہیں جانا چاہتے۔"
" بیٹیوں کو دور جانا پڑتا ہے ۔ اچھا اب رونا دھونا بالکل نہیں، آپ ریلیکس کریں ۔ ہم چلتے ہیں۔"
" بہتر۔" وہ مان گئی تھی۔ سَحر سراج کی یہی عادت تو اس کی سب سے خاص بات تھی کہ وہ مان جایا کرتی تھی ۔ اسے بحث کرنے کی عادت نہیں تھی۔ انہوں نے مسکرا کر بلب بند کر دیا۔ سَحر نے بیڈ کے قریب اپنا چھوٹا سا زمین کی شکل والا لیمپ آن کر دیا تھا۔
سَحر سراج کی ذات میں عاجزی بھری پڑی تھی۔
☆ ☆ ☆
لاہور پہنچ کر ابھی ارتضیٰ نے کال ملانے کے لیے فون نکالا ہی تھا کہ ہاجرہ کی کال خود ہی آ گئی۔
" السلام علیکم! میں آپ کو ہی کال کرنے والا تھا۔"
" دل کو دل سے راہ ہوتی ہے، شہزادے۔ لاہور کی فضا میں تمھاری خوشبو محسوس ہو رہی تھی۔ بتاؤ پھر آ جاؤں چائے پینے ؟" جس قدر استحقاق سے پوچھا گیا تھا کہ جیسے سامنے والا انکار تو کر ہی نہیں سکتا تھا۔
" یہی کہنے کے لیے کال کرنی تھی۔"
" پھر دروازہ کھول دو !" ایک بے ساختہ مسکراہٹ ارتضیٰ حسن کے لبوں پر بکھری، اس نے تیزی سے بھاگ کر دروازہ کھولا۔
" آپ ہمیشہ ایک قدم آگے رہتی ہیں اور مجھے آپ کا یہ بڑا پن بہت عزیز ہے۔"
" چلو اب زیادہ باتیں مت بناؤ ۔ اپنی عادت ڈال کر ایک ایک ماہ غائب رہ کر میرے دل کو بےقرار رکھتے ہو تم ۔"
" میں جس کام سے گیا تھا وہ تو پورا کرکے ہی آنا تھا۔" وہ اب کچن میں کھڑا پتیلی میں دودھ ڈال رہا تھا۔
" حیرت ہے کہ سلیمان والے معاملے کے بعد ایسا کیا ہوا اب کہ حسن بھائی نے تمہیں مکمل طور پر معاف کر دیا۔ ورنہ وہ تو تمھیں عاق کرنے کو تیار تھے۔"
" پھوپھو، وہ معاملہ کون سا چھوٹا تھا اور میں حق پر تھا تبھی وہ مجھے جھکا نہیں سکے۔ اب شاید ان کو خود بھی احساس ہوتا ہوگا۔" وہ شدید افسوس سے بولا جیسے زخمی پاؤں پر کوئی جوتا رکھ کر گزر گیا ہو۔
" لیکن سچ کہوں تو اب سرداری منتقل کرنے کا وقت ہے۔ ابھی تو ابا نے سارا بوجھ ہم تین کندھوں پر تقسیم کر رکھا ہے مگر اب وہ یہ بوجھ خود پر سے اتار دینا چاہتے ہیں۔"
" ہائے میرے لال، کاش میں تمھارے دور کا صوابی دیکھ سکوں ۔۔۔ مجھے اس وقت کا بےصبری سے انتظار ہے۔" وہ محبت سے کہتے اس کی ہلکی پھلکی داڑھی کو چھو رہی تھیں۔
" کیا آپ سچ میں بہت یاد کر رہی تھیں مجھے ؟ "
" داؤد صاحب کی شادی میں مصروف ہوں اسی لیے اتنا محسوس نہیں ہوا۔"
دودھ میں ابال آنے لگا تھا۔ ارتضیٰ نے پتی کا ڈبہ نکال کر دو چمچ پتی ڈالی، اسی پل فون بجا تو، مرتضیٰ کا نام جگمگا رہا تھا۔ اس نے اسپیکر آن کر کے فون شیلف پر رکھ دیا۔
"بھائی!" دوسری جانب سے گہری اور متوازن آواز آئی۔
"کیا ہے؟"
"کچھ نہیں، بس چیک کر رہا تھا کہ زندہ ہو یا نہیں۔"
"مر جاؤں گا تو تمہیں سب سے پہلے اطلاع ملے گی۔ سیدھی بات کرو، وقت مت ضائع کرو۔"
"پورا ایک مہینہ تم میرے گٹار کے دشمن بنے رہے اور اب بالآخر میرے کانوں کو سکون کی فضا ملی ہے، تو بس شکریہ کہنا تھا۔"
"ہو گئی بکواس؟" ارتضیٰ کا لہجہ سرد تھا، مگر وہ پورے دل سے مسکرا رہا تھا۔ ساتھ ساتھ پتی کا ڈبہ واپس رکھ کر اس نے دو کپ نکالے۔
" کیوں دونوں ہر وقت کتے بلی بنے لڑتے رہتے ہو؟" حاجرہ نے دھیمی آوازمیں اسے کہا۔
"نہیں بھائی بکواس ابھی باقی ہے۔"
"کیا تکلیف ہے، مرتضیٰ؟" اس کے کٹھور انداز پر کچھ پل خاموشی کی نظر ہوئے۔
"لالہ!" مرتضیٰ کی آواز اچانک بھیگ گئی۔ اس نے جس طرز تخاطب سے اسے پکار تھا یہ صرف لوگوں کے سامنے یا پھر شدید بے سی کے عالم میں ہوتا تھا۔
"کیا ہوا؟ تم ٹھیک تو ہو؟ مرتضیٰ، بات کرو۔" ارتضیٰ کی آواز سے مسکراہٹ چھنی، وہ فوراً سنجیدہ ہوا۔ حاجرہ نے اس کے ہاتھ سے کپ لے کر دھوئے اور چائے انڈیلنے لگیں۔
" لالہ، وہ جس کے علاج کے لیے میں نے ایک ہفتہ پہلے پیسے دیے تھے نا۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ مر گیا۔" ایک پل کو ارتضیٰ نے کچھ نہیں کہا۔ دونوں جانب خاموشی چھا گئی۔
"إنا لله و إنا إليه راجعون۔"
"میں نے اس کے لیے سب کچھ کیا لالہ، سب کچھ!"
"تم جو کر سکتے تھے تم نے کیا، باقی فیصلہ اللہ کا تھا۔"
"تم ہمیشہ اتنے ٹھہرے ہوئے کیوں رہتے ہو،لالہ؟"
"کیونکہ اگر میں ٹوٹ گیا تو تم بکھر جاؤ گے۔" وہ دوسری طرف سے شاید اپنی ناک پونچھ رہا تھا۔
" تم ریسٹ کرو، میں تم سے بعد میں بات کروں گا۔"
" دیکھو موت اور زندگی خدا کے ہاتھ میں ہے، زیادہ دل پر مت لینا۔" اُس نے سنجیدگی سے سمجھا کر کال منقطع کردی۔
" کون مر گیا ؟" حاجرہ نے فکرمندی سے اس کا چہرہ دیکھا۔
" کچھ دنوں پہلے فراز کی گاڑی کے نیچے ایک کتا آ گیا تھا۔ فراز کے بتانے پر اِس نے اُس کتے کے علاج کے لیے پیسے دیے۔ مگر افسوس۔۔۔مر گیا ۔" اس کی بات سن کر ہاجرہ نے چھت پھاڑ بلند قہقہہ لگایا تو وہ بھی ہنس دیا۔
"تم واقعی ایسے موقعوں پر بھی اِنّا للہ پڑھ لیتے ہو؟"
"کسی کا دل ٹوٹ رہا ہو تو وجہ بڑی یا چھوٹی نہیں ہوتی۔"
وہ چائے کا کپ اُٹھاتے ہوئے بولا۔ ہاجرہ نے ایک لمحہ اسے دیکھا، پھر آہستہ سے کہا،
"تمھاری یہ سنجیدگی، کبھی کبھی تمھیں سب سے مختلف بنا دیتی ہے۔ مرتضیٰ سے بھی ۔" وہ مسکرا دیا۔
" تربیت غلط لوگوں کے ہاتھوں ہو رہی ہے ورنہ بندہ اچھا ہے۔" وہ ایک گھونٹ پی کر ستائش سے ابرو اُٹھا کر بولا۔
" تم اپنی اِس ان آفیشل بیوی کو دوبارہ سے تربیت دے سکتے ہو۔ میں نے دیکھا ہے مرتا ہے یہ تم پر۔" وہ اُن کی بات پر ہنس رہا تھا۔ دل کھول کر ایسے جیسے حویلی کی گھٹن زدہ در و دیوار میں کبھی نہیں ہنس سکتا تھا۔