"السلام علیکم!"
"وعلیکم السلام!" ایک دھیمی، گھبرائی ہوئی آواز کمرے میں گونجی۔ داؤد کے لبوں پر ایک دلآویز مسکراہٹ نمودار ہوئی، دو ماہ بعد بھی سَحر کی وہی حیا میں ڈوبی نگاہ، سادہ انداز اور شرمیلا رکھ رکھاؤ، اب بھی اسے اسی قرینے سے بھا گئیں۔ مگر آج اس مسکراہٹ میں ایک پاکیزگی اور اختیار کی چھاپ نمایاں تھی۔
" سحر!" داؤد نے بہت نرمی سے اسے مخاطب کیا اور آگے بڑھ کراس چند گھنٹوں کی دلہن کا گھونگھٹ اٹھایا۔
" تم آج بہت پیاری لگ رہی تھی۔" اس کی آواز میں تحسین تھی، مگر اگلا جملہ سحر کے لیے بالکل غیر متوقع تھا ۔
" مگر مجھے تمہارے یہ کھلے بال نہیں پسند آئے ۔ اب تو مناسب یہی ہے کہ تم پورا دوپٹہ سر پر رکھا کرو۔ لوگوں کو کیا گمان گزرے گا کہ داؤد مختار اپنی بیوی کو بےپردہ رکھتا ہے؟" اس کے لہجے میں گھلی شیرنی بھی سحر کو اس کے جملے پر چونک جانے سے روک نہ پائی۔ یہ وہ جملہ نہیں تھا جو وہ سننے کی توقع کر رہی تھی۔اس کا دل، دماغ اور لب سب ایک پل کو ساکت ہوئے۔ نکتہ رس نظر نے آس پاس چھاتے گھٹن زدہ سیاہ دھوئیں کو پھیلتے دیکھا۔
" جی ؟ " سَحر کے ہونٹ ہلے، مگر الفاظ باہر نہ نکلے۔ ہم کب پردہ کرتے ہیں ؟ وہ بری طرح الجھی مگر ہچکچا کر خاموش ہو گئی۔
" مجھے خوشی ہے کہ تم دین دار لڑکی ہو۔ آج کل کی لڑکیاں تو فیشن میں کھو کر دین بھول جاتی ہیں۔" اس بار سَحر گڑبڑا گئی کہنا چاہا کہ وہ فیشن ہی میں ہے کپڑوں کے ڈیزائن، رنگ، تراش خراش ۔۔۔ یہی اس کا جہان ہے۔وہ پچھلے چوبیس سالوں سے دن و رات کی خبر رکھے بنا ننگے پاؤں اس خواب کے پیچھے دوڑ رہی ہے۔
مگر وہ کچھ کہہ نہ پائی۔شاید اپنی دنیا کا دفاع کرنے کی ہمت اور اپنی ذات کے حق میں بولنے کا حوصلہ بھی اس کے نصیب میں نہ تھا۔ مگر یہ مسئلہ اب کا نہیں تھا، اس کی جڑیں ساری زندگی سراج احمد سے جڑی رہی تھی۔ سراج احمد کا اس کے لئے حد درجہ محتاط ہونا، اس کے راستے کا ہر کانٹا چن کر اس کے لئے ہمیشہ راستے ہموار کرنا، ہر بار اس پر اٹھنے والے سوالات کا جواب خود دینا ۔۔۔۔اس سب نے سحر کو محفوظ تو رکھا مگر کبھی بولنا نہیں سکھایا۔
اور اسی لئے آج اس غیر متوقع مطالبے پر وہ چونکی مگر دفاع ۔۔۔
جملہ ذہن سے دہن تک کا سفر کر کے بھی الفاظ کی چادر نہ اوڑھ پایا تھا۔ ذہن میں الجھن تھی، آنکھوں میں احتجاج مگر زبان۔۔۔ وہ گنگ تھی۔ جس دین پر اس نے کبھی توجہ نہیں دی تھی اس پر یوں اچانک مسلط کر دیا جائے گا یہ احساس جان لیوا تھا۔
" سحر ، کہاں کھو گئی؟"
" جی۔۔۔ ہم آپ کی بات ماننے کی کوشش کریں گے۔" بس اتنا ہی کہا، اور اس کی نظریں نیچے جھک گئیں۔
داود نے مسکرا کر اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے "ارے اللہ خیر کرے، لڑکی، اتنی سرد کیوں پڑ رہی ہو؟" داؤد نے چونک کر کہا اور اس کا ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیوں میں لے کر اس طرح دبایا، جیسے کسی بجھتی ہوئی لو میں سانس پھونک رہا ہو۔ لمحے بعد اسے شرارت سوجھی، اور اس نے وہی ہاتھ اپنے لبوں سے لگا لیا۔ سحر شرم سے ذرا اور سمٹی، گردن جھکائی تو کندھوں تک آتے بال چہرہ چھپانے لگے۔ وہ اس پل بھی فطرتاً خاموش تھی۔
"ادھر دیکھو!" وہ سر مزید جھکا گئی۔ داؤد ہنس پڑا، پھر اچانک آگے بڑھ کر اس کا چہرہ قریب سے دیکھنے لگا۔ سَحر نے چہرہ تھوڑا اور جھکا لیا۔ اب کے داؤد نے آگے بڑھ کر اس کی آغوش میں سر رکھا اور بڑے حق سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
"میرے ساتھ چلاکیاں؟" اس کے لہجے میں ہنسی گھلی ہوئی تھی۔ سَحر نے اُس کی شوخ آنکھوں میں دیکھا تو خود بھی ہنس پڑی۔
داؤد نے اس کا ایک ہاتھ پکڑ کر اپنے بالوں میں چلا دیا، پھر دوسرا ہاتھ تھام کر مضبوطی سے اپنی ہتھیلیوں میں دبا لیا۔ وہ آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔
اچانک کچھ یاد آنے پر داؤد سیدھا بیٹھ گیا، جیب سے ایک چھوٹی سی ڈبی نکالی، اور نہایت اہتمام سے باری باری اس کے دونوں پاؤں میں نازک سی پائل ڈال دی۔
"یہ میری بیوی کے لیے ہے۔۔۔ تاکہ جب تم چلو تو ہر کمرے کو خبر ہو کہ میں کتنا خوش نصیب ہوں۔" پھر مسکرا کر ان پر ہاتھ پھیرا۔
" لیکن گھر سے باہر جاتے ہوئے اتار دینا ورنہ تمہارے ساتھ میرے سر بھی گناہ آئے گا۔"
سَحر کی جھکی ہوئی نظریں، کانوں تک سرخی اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ۔۔۔ داؤد کو جیتا جاگتا ثبوت دے رہی تھیں کہ وہ اس شادی میں خوش ہے، چاہے الفاظ میں کبھی نہ کہے۔
---
بارات اور ولیمے کے درمیان ایک دن کا وقفہ رکھا گیا تھا۔
صبح کے نو بج رہے تھے۔ سراج اور زویا ان کے گھر رسمی ناشتے کے ساتھ موجود تھے۔
مختار اپنی اہلیہ کے ساتھ سامنے بیٹھے سراج کے ساتھ کل کی خوشگوار یادوں کو تازہ کر رہے تھے۔ سحر صوفے کے ایک گوشے میں کسی ساکت مجسمے کی طرح چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے بیٹھی تھی۔دونوں ہاتھ گود میں رکھے اپنے بکھرتے حوصلے سمیٹ رہی تھی۔
اس کے جسم کی تھکن اور وہ انجانی سی دکھن اُسے بار بار ایک تلخ حقیقت کی یاد دلا رہی تھی ۔ رفاقت کے نام پر جس لمس سے اس کا واسطہ پڑا تھا ، وہ تحفظ کے بجائے ایک تذلیل کا احساس چھوڑ گیا تھا۔ اس کے کمزور وجود پر جو بوجھ ان پڑا تھا وہ سہنے کی سکت اس میں نہیں تھا۔
باہر لان سے داؤد کی بلند آواز سنائی دے رہی تھی۔اس کی بات طویل ہوتے دیکھ حسینہ اٹھ کر اس تک گئیں۔
"داؤد، سب اندر انتظار کر رہے ہیں۔"
"امی ایک منٹ، بس دعا ختم ہونے دیں۔" کمال استغراق سے جواب دے کر وہ دوبارہ محو ہو گیا۔ اس کے لئے زندگی کی ہر چیز ثانوی تھی اور اپنی روحانیت کا اظہار اولین فریضہ ۔ ناشتے کی میز پر گفتگو کے نام پر صرف برتنوں کی کھٹکھٹاہٹ تھی۔ سراج نے خاموشی سے سحر کی جانب دیکھا، برسوں کی پرورش کا ایک حاصل یہ بھی تھا کہ لمحے بھر میں انہوں نے سحر کی آنکھوں میں چمکتے چھپتے ستارے دیکھ لئے۔
" وقت واقعی بہت تیزی سے بدل جاتا ہے۔ سَحر، ہمارا گھر تو ایک دن میں خالی ہوگیا ہے۔" سحر نے نظر اٹھا کر ان کا چہرہ دیکھا تو ضبط کا آنچل ہاتھ سے پھسل گیا۔ دو معصوم آنسو گالوں پر پھسلے اور چہرہ ایک دم سرخ ہو گیا۔
"بابا۔۔۔" وہ اتنا ہی کہہ پائی تھی کہ سراج فوراً اٹھ کر اس کا سر چوم کر اسے دلاسا دینے لگے۔ داؤد نے عجیب نظروں سے اس کے چہرے پر تیرتے جذباتی قطروں کا جائزہ لیا۔
"ماشاءاللہ، بہت نازک دل ہے آپ کی بیٹی کا۔" اس کی مسکراہٹ میں تعریفی الفاظ نہیں، طنز چھپا تھا۔کچھ تھا اس کے مزاج میں جو یکدم بدل سا گیا تھا۔
"ہاں، سَحر کو ہم نے کبھی کسی سختی میں نہیں ڈالا، ہمیشہ سہولت میں رکھا ہے۔"
" اب دنیا تھوڑی مختلف ہے، انکل۔ عورت کو مضبوط ہونا چاہیے ۔" داؤد نے ازلی نرمی سے کہا ۔
سَحر نے نظریں اٹھا کر سراج کا چہرہ دیکھا اس کی آنکھوں میں کہیں دور جو شکوہ تھا، سراج اسے محسوس نہ کر پائے۔
اس نے نظر گھما کر داود کا چہرہ دیکھا ایک نگاہ میں اس نے وہ حقیقیت پڑھ لی جو اسے اب عمر بھر کو کافی تھی۔
پہلی بار محسوس کیا کہ جو شخص دین کی بات کرتا ہے، اس کے دل میں نرمی نہیں ہے۔ وہ دوبارہ اپنی چائے کی پیالی میں ابھرتے ہوئے بھنور کو دیکھنے لگی۔ سطح پر سب کچھ معمول کے مطابق تھا، سب ناشتہ کر رہے تھے، دھوپ چمک رہی تھی مگر سحر کے وجود کے کسی گہرے نہاں خانے میں ایک دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا تھا۔ وہ جان گئی تھی کہ جو زندگی اس نے محبت، نرمی اور خوابوں سے بنی تھی، اس سنگلاخ زمین پر اس کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس کی زندگی ویسی تو بالکل نہیں ہونے والی جیسی اس نے تصور کی تھی۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
رات کی سیاہی کمرے کے در و دیوار پر کسی زہریلی بیل کی طرح سرایت کر چکی تھی۔ سحر آئینے کے سامنے ساکت بیٹھی تھی۔ نحیف سے کندھے اور جھکی ہوئی پلکیں وہ کسی ہارے ہوئے سپاہی کی تصویر لگ رہی تھی۔ کانوں سے بالیاں اتارتے ہوئے اس کی پوریں کپکپا رہی تھیں جیسے ہر لمس اسے کسی آنے والے طوفان کی دستک محسوس ہو رہا ہو۔ اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ داؤد کے قدموں کی سنگین چاپ نے خاموشی کا سینہ چاک کیا۔ سحر کے وجود میں ایک عجیب سا خوف دوڑ چکا تھا۔
" تم نے آج مجھے بہت شرمندہ کیا، سحر۔" اس کی آواز میں سختی تھی جیسے سرد خنجر کی دھار ہو۔ اس میں نہ کوئی رحم دلی تھی، نہ ہمدردی، نہ رفاقت کا کوئی شائبہ، صرف حاکمیت اور برتری۔ سحر کے سوکھے ہوئے ہونٹ کپکپائے مگر الفاظ جیسے گلے میں گھٹ کر رہ گئے تھے۔
" ہم نے؟" اس کی آواز اتنی مدہم تھی کہ شاید وہ خود بھی نہ سن پائی تھی۔ داؤد اس کے عقب میں آ کھڑا ہوا۔ آئینے میں اس کا چہرہ کسی جابر حکمران جیسا تھا۔
" ہاں تم نے، انکل سراج کے سامنے آنسو کیوں بہا رہی تھی؟ وہ کیا سوچیں گے یہی نا کہ میں تم پہ ظلم کرتا ہوں۔" سحر کی سانس سینے میں مقید ہوئی، دل کی دھڑکنیں کسی بے ترتیب ڈھول کی طرح پسلیوں سے ٹکرانے لگی۔ وہ بخوبی جانتی تھی کہ اس پتھر کے وجود سے اب مہر و وفا کے چشمے نہیں پھوٹیں گے۔
" داؤد وہ ہمارے بابا ہیں، وہ ایسا نہیں سوچیں گے۔"
" داماد اور بیٹی میں فرق ہوتا ہے، کیا تمہیں نہیں معلوم؟" اس کا لہجہ حتمی تھا۔
" خبردار! آئندہ تم کسی کے سامنے روئی یا میرا تماشہ بنایا۔ یہ بات اپنے پلو سے باندھ لو۔" سحر نے اثبات میں سر ہلایا مگر خاموش آنکھیں اس کی فطری معصومیت اور خوف کا نوحہ پڑنے لگی تھیں۔
" اور یہ رونا دھونا۔۔۔" داؤد ایک قدم اور قریب آیا اس کا سایہ سحر کے وجود کو نگلنے لگا تھا۔
"اسلام میں صبر کی تلقین ہے یوں رونے دھونے کا سرعام اظہار کرنا بدعت کے زمرے میں آتا آہے۔ میرے گھر میں اس قسم کی بدعتوں کی تو کوئی جگہ نہیں ہے۔" سحر کے معصوم دل پر جیسے کسی نے آری چلا ڈالی تھی۔ رونا تو جبلت تھی، انسانیت کا خاصہ تھا مگر داؤد کے گھر میں یہ بھی جرم تھا۔
سحر کو حیرت تھی کہ جو دین رنج و ملال کی شدت میں سجدوں کو طول دینے اور خالق کے سامنے آنسو بہانے کی ترغیب دیتا ہے، داؤد کی خود ساختہ شریعت میں وہی آنسو جرم کیسے بن گئے؟ کوئی ان خود ساختہ شارحینِ دین سے کیوں نہیں پوچھتا کہ جس رب نے انسان کی مٹی میں جزبات کی آمیزش کی ہے،کیا اس نے اپنی ہی دی ہوئی جبلت کو بدعت قرار دیا ہے؟
یہ کیس شخص تھا جس کی آنکھیں خشک اور دل پتھر تھا؟ کیا وہ اپنے زعمِ تقوی میں اتنا مغرور ہو چکا تھا کہ اسے اپنے رب کے سامنے بھی گڑگڑانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی؟
سحر کو یقین تھا کہ جس دن دکھ اس کی اپنی دہلیز پر کسی اپنے کے جنازے کی صورت دستک دے گا، اس کی تمام عالمانہ منطقیں مٹی کے ڈھیر میں بدل جائیں گی، کیونکہ انسانی فطرت کو کسی مصنوعی پارسائی کے لبادے میں دیر تک قید نہیں رکھا جا سکتا۔
کوئی ان خود ساختہ شارحین دین سے کیوں نہیں پوچھتا کہ اگر رب کے عطا کردہ آنسو بدعت ہیں، تو کیا قہقہوں کا جواز اس مٹی کی جبلت میں شامل نہیں؟ اگر دکھ کا اظہار بدعت ہے، تو کیا خوشی کی نمائش پر کوئی قدغن نہیں ؟ جس رب نے ہنسنے اور رونے کی صلاحیت ایک ہی وجود میں رکھی ہے، اس کے نام پر جذبات کی تقسیم کا اختیار ان لوگوں کو کس نے دے دیا؟
" جی خیال رہے گا۔" یہ الفاظ نہیں تھے اس کی روح کی شکست کا اعتراف تھا۔ داؤد کے چہرے پر وہی تفاخر باقی تھا مگر اب وہ کسی شکاری کی طرح اپنے شکار کو سہلانے لگا تھا۔ اس کے ہاتھ سحر کے کانوں تک بڑھے اور پھر اس نے بالیاں اتار دیں پھر اس کی گردن سے لاکٹ ہٹایا۔ یہ لمس بظاہر نرم تھا مگر اس کی بنیاد میں وہی اختیار اور قبضے کی تڑپ موجود تھی۔ آئینے میں سحر کی جھکی ہوئی گردن اور سمٹے ہوئے کندھے داؤد کی مکمل فتح کا اعلان کر رہے تھے۔ وہ بیوی نہیں تھی اس کے زیر اثر ایک ایسی ہستی تھی جس کی اپنی کوئی مرضی، کوئی آنسو اور کوئی احتجاج باقی نہیں رہا تھا۔ داؤد نے ہر چیز کو جذب کر لیا تھا ۔
آج اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس کا شرمیلا پن اب کمزوری بننے لگا ہے۔
" اور ایک بات بتاؤ ، یہ تمہارے ابو اپنی ملازمہ کو اٹھا کر یہاں لے آئے تھے ۔" داؤد پانی کا گلاس لے کر صوفے پر بیٹھ گیا۔
" اب تو تم گھر پر نہیں ہو ، کیا یہ تمہارے گھر ہی رہتی ہے ؟ اکیلی ؟"سَحر کو اس کی بات اور لہجہ بری طرح ناگوار گزرا ۔
" وہ ملازمہ نہیں ہے ۔۔۔ وہ ہماری ۔۔۔ دودھ شریک بہن ہے ۔۔۔ اور اس کے بابا اور بہن بھی ہمارے گھر ہی ہوتے ہیں۔ بہت غلط سوچا آپ نے ۔" اس نے افسوس سے کہا۔
داؤد کے چہرے پر ایک دم تناؤ آیا۔ اس نے میز پر رکھا ہوا پانی کا گلاس اٹھایا اور پوری قوت سے سامنے والی دیوار پر دے مارا۔ گلاس بالکل سحر کے سر کے برابر سے گزرتا ہوا دیوار سے ٹکرا کر پاش پاش ہوا اور پانی کے چھینٹے سحر کے چہرے اور لباس پر گر پڑے ۔ سحر خوف سے اچھل پڑی، ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے تھے ۔
" تمیز سے بات کرو، شوہر ہوں تمہارا ۔" داؤد اپنی جگہ سے اٹھا اور سحر کے بالکل قریب آ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔
" اگلی بار میری بات کو کاٹنے اور مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش کی نہ تو پھر گلاس دیوار پر نہیں تمہارے سر پر ہوگا۔ سمجھ آئی ۔" سحر کی زبان تالو سے چپک گئی تھی وہ کچھ کہنے کے قابل نہیں رہی تھی۔
" سوری!" وہ بمشکل ہکلائی داؤد نے ایک حقارت بھری نظر اس کے سہمے ہوئے وجود پر ڈالی اور پیر پٹختا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ سحر وہیں کھڑی کانچ کے ٹکڑوں اور اپنی بکھرتی ہوئی خوشیوں کو دیکھتی ہکا بکا رہ گئی۔ اسے سمجھ آگیا تھا کہ یہ خاموش طوفان آنے والے وقت میں اسے کچلنے والا ہے۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
ایک ہفتے بعد، رات کا پچھلا پہر تھا، خاموشی کی چادر نے پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ سَحر نے بیڈ روم کی میز پر لیمپ جلا رکھا تھا اور بیٹھ کر کتاب پڑھ رہی تھی۔صفحوں کی مانوس خوشبو اس کے اضطراب کو تھپکیاں دے رہی تھی کہ اچانک قدموں کی چاپ نے سکوت چیرا۔
داؤد نے کمرے میں آ کر اسے یوں پڑھتے دیکھا تو ماتھے پر ابھرنے والی شکنیں نہ گواری کا اشتہار تھیں۔
"یہ کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے؟" اس کے لہجے کی کرختگی نے سحر کے گرد موجود اس سکون کے حصار کو پاش پاش کردیا۔بوکھلاہٹ میں سر پر دوپٹہ درست کر تے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔
"کتاب پڑھ رہے ہیں۔۔۔ سونے سے پہلے کچھ پڑھنے سے ذہن ہلکا ہو جاتا ہے۔" اس کی وضاحت پر داؤد طنزیہ ہنسا۔
"تمہیں ہلکا ذہن چاہیے یا زیادہ بھرا ہوا؟ عورت پر کتابیں سجتی ہیں کیا؟ تمہیں میری فکر ہونی چاہیے، نا کہ فلسفے جھاڑنے کی۔"اس نے آہستگی سے کتاب بند کر دی، ہمت جمع کر کے کچھ کہنا چاہا۔
" ہم نے سوچا تھا۔۔۔"
"سوچنا تمہارانہیں، میرا کام ہے۔" داؤد نے اس کے ہاتھ سے کتاب کھینچ کر ڈریسنگ ٹیبل پر پٹخ دی۔
"کتابیں پڑھ کر تم عورتوں کو اپنی اوقات بھولنے لگتی ہے۔ اونچے لمبے خواب دیکھنے لگتی ہو۔" سَحر نے لب بھینچ کر کچھ نہ کہا۔ داؤد نے اس کی خاموشی کو اپنی فتح گردانا اور جوتے اتارتے ہوئے نرمی سے بولا، "یاد رکھو، اچھی بیوی وہی ہے جو شوہر کے احکام مانے۔ باقی سب بغاوت ہے اور بغاوت کی سزا جانتی ہو نا؟"سَحر نے گردن جھکا دی، جیسے اپنی ذات کو اور بھی سمیٹ لیا ہو۔ ابھی تک داؤد کے سامنے وہ ایک بار کھل کر ہنس بھی نا سکی تھی۔ شادی شدہ زندگی کا یہ کینوس کتنا بدصورت تھا!
جو دوپٹہ ہمیشہ وہ اپنی مرضی سے اوڑھتی تھی اب بوجھ لگنے لگا تھا، دل میں ایک ہوک سی اٹھی کہ اس جبری تقدس کو نوچ کر پھینک دے، مگر بے بسی کی دیواریں بہت اونچی تھیں۔اس کی آنکھیں ایک دم بھیگ گئیں ۔ سامنے سے ٹشو اٹھا کر وہ آنکھیں پونچھ رہی تھی جب داود اس کے قریب آ بیٹھا ۔
" سَحر ؟" نرمی سے اس کا نام پکارا وہ جیسے گزرے لمحوں کا زہر دھو دینا چاہتا تھا۔
" جی ؟"سحر نے بھیگی پلکوں کی باڑ اٹھائی۔
" تم اتنی نازک کیوں ہو لڑکی ؟ چڑیا جتنا دل ہے تمہارا، یہ دنیا تو تمہیں پاؤں کے نیچے دے کر کچل دے گی۔ " وہ ہمیشہ کی طرح تلخ کلامی کے بعد مداوا کر رہا تھا۔
" ہمارا دل نازک ہے کیونکہ ہمیں حیوانات نہیں سکھائی گئی ۔ ہمارے گھر میں امن اور خوشحالی تھی۔ کبھی بھی کوئی بھی اتنی چھوٹی باتوں کا بتنگڑ نہیں بناتا تھا۔ اس لیے ہمیں یہ چھوٹی موٹی لڑائیاں بڑی لگتی ہیں۔ ہر بات پر چک چک ماحول خراب کرتی ہے اور ہماری زہنی صحت بھی۔ " اس نے ایک گہرا سانس لیا اور براہِ راست داؤد کی آنکھوں میں جھانکا۔
" اور آپ بتائیں ، دنیا کیوں ہمیں پاؤں کے نیچے دے کر کچلے گی؟ آپ کہاں ہوں گے؟ آپ ہماری حفاظت نہیں کریں گے ؟ "
" اپنے حصے کی جنگ سب کو خود ہی لڑنی ہوتی ہے، تمہیں بھی لڑنی پڑے گی۔"داؤد کے چہرے پر ایک سرد لاتعلقی چھا گئی۔
" اچھا اب خاموش ہو جاؤ ، تمہاری یہ نوحہ خوانی مجھے پسند نہیں ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ یہ رونا دھونا مت کیا کرو، بلاوجہ گناہ ملے گا۔ " سحر اس کا چہرہ دیکھ کر الجھ کر رہ گئی۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
دو ماہ بعد
وقت نے اپنی رفتار پکڑی اور دیکھتے ہی دیکھتے دو ماہ بیت گئے۔ سحر اب خود کو داؤد کے گھر کے رنگ ڈھنگ میں پوری طرح ڈھال چکی تھی۔ اپنے میکے میں جہاں سمیرا گھر اور زویا کچن سمبھلتی تھی، وہاں داؤد کے گھر کا رواج بالکل مختلف تھا۔ وہ جو کبھی اپنے میکے میں سمیرا اور زویا کی موجودگی کے باعث گھر کے کاموں سے بے فکر رہا کرتی تھی،اب داؤد کے گھر کی زمہ داریوں کو بخوبی سمجھنے لگی تھی۔ گھر کی اکلوتی ملازمہ کے ساتھ مل کر اب وہ کپڑے اور صفائی کے معاملات خود دیکھتی تھی۔
اس کی شخصیت اور پہناوے میں بھی ایک خاموش تبدیلی آگئی تھی۔ سحر، جو پہلے اپنی پسند کے رنگوں اور تراش خراش میں آزاد تھی، اب بند گلے کے بین کالر والے لباس کو ترجیح دینے لگی تھی۔ یہ بدلا ہوا انداز محض فیشن کی تبدیلی نہیں تھی،بلکہ پردہ پوشی تھی جو داؤد کی محبّت اور غصّے کے درمیانی فرق کو مٹا کر اس کے وجود پر نقش ہو گئے تھے۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے دوپٹے کے پیچ و خم درست کرتی تو اسے احساس ہوتا کہ کچھ داغ اتنے گہرا ہوتے ہیں کہ انہیں چھپانے کے لئے لباس کا انتخاب بہت احتیاط سے کرنا پڑتا ہے۔ اب وہ پہلے سے زیادہ سلیقہ مند اور سنجیدہ نظر آتی تھی، مگر اس سلیقے کے پیچھے ایک ایسی روح قید تھی جس نے حالت کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا۔
آج شہر کے ایک بڑے ہال میں داؤد کی این جی او کے زیر اہتمام " یتیم بچوں اور بیواؤں کی کفالت " کے حوالے سے ایک بڑی تقریب تھی۔ داؤد نے چمکتا ہوا کرتا پاجامہ اور سیاہ واسکٹ پہن رکھی تھی، ہاتھ میں تسبیح اور چہرے پر ایک مصنوعی نورانیت پھیلی ہوئی تھی۔
سَحر نے لال رنگ کا فراک پہنا تھا، اور آئینے کے سامنے بیٹھی بال سنوار رہی تھی۔چہرہ سادہ مگر صاف، ہونٹوں پر ہلکی لپ گلاس کی چمک، دوپٹہ کندھے پر ڈھیلا رکھا ہوا۔ تبھی داؤد اندر آیا۔ چہرے پر ایک خاص قسم کی نرمی جو ہر وقت بدلنے کو تیار رہتی تھی۔ اس کی نظر سَحر پر گئی، اس سے پہلے کہ وہ سلام کرتی داؤد بول پڑا۔
" یہ کیا پہن لیا ہے، سحر ؟ کم آن ۔۔۔ وہ سیمینار ہے، میلاد نہیں۔ جاؤ کچھ اور پہنو ۔"
" آپ بتا دیجیئے؟"
" میں نے بری میں تمھارے لیے ساڑھیاں رکھوائی تھیں۔ ان کو میوزیم میں رکھنا ہے ؟"
" ہم؟ ساڑھی پہن لیں ؟ " اس نے وضاحت چاہی۔
" جاؤ پہن کر آؤ۔"
" ساڑھی ؟"
" ایک تو تمھارے سوالات ۔ تنگ آ گیا ہوں میں۔ سَحر میں بہت تھکا ہوا ہوں۔ جاؤ پہن کر آو مجھے لیٹ مت کروانا۔"
" لیکن۔۔۔بال ؟"
" جاؤ!" وہ بلند آواز میں بولا تو سَحر کانپ سی گئی۔ چند لمحے سہم کر اس کا چہرہ دیکھنے کے بعد وہ اندر کی طرف بڑھ گئی تو داؤد مسکرا دیا۔
" تم عورتوں کو پیار کی زبان سمجھ ہی نہیں آتی ،صحیح کہتے ہیں ابّا۔"
تقریباً بیس منٹ بعد وہ اس کے سامنے ہلکے گلابی رنگ کی ساڑھی میں موجود تھی۔ داؤد نے اسے ڈریسنگ کی کرسی پر بٹھایا اور ایک ہار نکال کر اس کے گلے میں پہنا دیا پھر اس کے ساتھ کے جھمکے بھی اس کے کانوں میں ڈالنے لگا۔
" دیکھو !" سَحر نے ایک بےبس سی نظر اٹھا کر اپنے سراپے کو دیکھا۔ وہ حقیقتاً حسن کی کسی اونچی منزل پر موجود تھی ۔ اس سے پہلے داؤد اس کے بالوں پر کوئی تنقید کرتا وہ خود ہی بول پڑی۔
" بال ؟"
" تو دوپٹہ لے لو۔ اسلام میں عورت کا حسن چھپانے میں ہے، نممائش میں نہیں۔" وہ رکی، جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو، پھر چپ چاپ اٹھ گئی۔
کچھ دیر بعد جب وہ ساڑھی کے ساتھ سر پر شفون کا گلابی دوپٹہ لیے واپس آئی تو داؤد مطمئن سا مسکرایا۔
" یہ ہوئی نا بات۔ اب لگ رہا ہے تم میری بیوی ہو، کوئی ماڈرن لڑکی نہیں۔"
" مختار انکل بھی وہاں ہوں گے؟"
" نہیں جانم! ان کا وہاں کیا کام۔"
" ہمم ! " اس بار اس نے آئینے کے سامنے جانے سے گریز کیا۔ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ خود کو اس طرح فیشن کا ستیاناس کرتے دیکھے گی تو رو پڑے گی۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں گھر سے نکلنے والے تھے۔ سَحر صوفے پر بیٹھ کر اپنی روپہلی ہیلز پہن رہی تھی اور وہ اپنا والٹ وغیرہ اٹھا رہا تھا۔ جیسے ہی سَحر اٹھ کر کھڑی ہوئی داؤد کی نظر اس پر جا ٹھہری۔ وہ چند قدم اس کے قریب آیا۔ سَحر کا قد دراز ہونے کی وجہ سے ہیلز میں وہ داؤد سے ذرا برابر اونچی لگنے لگی۔
" سحر ، یہ اچھی نہیں لگ رہی۔ جاؤ کوئی اور جوتی پہنو۔" کچھ ہی لمحے بعد سَحر ہمرنگ ہیلز پہن آئی مگر مسئلہ تو اب بھی وہی تھا۔
" سحر ، مجھے یہ ہیلز میں عورتیں بالکل پسند نہیں ۔ ادھر ادھر گرتی پڑتی رہتی ہیں۔ "
" نہیں ، ہم نہیں گریں گے ۔ ہمیں پریکٹس ہے۔"
" مگر مجھے پریکٹس نہیں ہے۔ جاؤ جا کر یہ بدل کر کوئی فلیٹ جوتا پہنو۔
تم مجھ سے اونچا دِکھ کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو؟ درجہ پھر بھی میرا بلند ہی رہی گا۔" سَحر نے نظریں جھکا لیں۔ ایک افسوس بھری مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی۔ تو مسئلہ یہ تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ سادہ سا کھوسہ پہنے اس کے ساتھ چل دی۔
ساڑھی کی لمبائی زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ بار بار اس کے پاؤں میں الجھ رہی تھی۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس کا پاؤں ایک اور دفعہ الجھا اور وہ گر پڑی۔ گاڑی کا دروازہ کندھے اور سر پر لگا۔ داؤد نے فوراً اسے سنبھالا۔
" تم ٹھیک ہو؟"
" جی، ہم ٹھیک ہیں۔" اس نے سَحر کے ماتھے پر سرخی دیکھی تو اس کو سہلایا۔
" درد تو نہیں ہو رہا؟ " داؤد نے فکرمندی سے پوچھا۔
" بس ہلکا سا۔ ہم چلتے ہیں نا۔" اس کو داؤد کی فکر اچھی لگی تھی۔ بگڑا ہوا موڈ ایک دم بحال ہو گیا تھا۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
ہال رنگ، روشنی اور شور سے بھرا ہوا تھا۔پارٹی میں لوگ ہنس رہے تھے، خوشبوئیں پھیل رہی تھیں۔ شفون کا دوپٹہ بار بار اس کے سر سے کھسک جاتا،وہ گھبرا کر اسے واپس سر پر کھینچتی اور پھر کسی پنکھے کی تیز ہوا اسے پیچھے کو اڑا دیتی۔
داؤد کے چہرے پر ایک مصنوعی فخر تھا،جیسے وہ کوئی کامیابی کی ٹرافی ساتھ لایا ہو۔ سامنے سے اس کا ایک دوست چلتا آ رہا تھا۔ دیکھنے میں وہ بالکل داؤد کے مشابہ تھا۔ ایک مٹھ کی داڑھی ، شلوار قمیض پر واسکٹ، چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ اور نظر باز جیسی تیز، وہ موسیٰ تھا۔ وہ چلتا ہو سیدھا داؤد کے پاس آیا پھر مصافحہ کرکے بگلگیر ہوئے ۔
" السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!"
" وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، کیسے ہیں آپ موسیٰ ؟"
" الحمدللہ! یہ بھابھی ہیں؟"
" جی، سَحر یہ میرے بہت اچھے دوست ہیں، موسیٰ۔" اس نے سَحر کو متوجہ کرکے کہا۔
" السلام علیکم!"
" وعلیکم السلام، کیسی ہیں آپ ؟"
" ہم اچھے ہیں۔" سَحر نے کہہ کر داؤد کی طرف دیکھا جیسے اس سے تصدیق چاہتی ہو۔ ایک دو لوگ اور بھی آ کھڑے ہوئے تھے۔
" اکچلی، سَحر ذرا مردوں سے کم بات چیت کرتی ہیں۔ ماشاءاللہ بہت نیک دل ہے، پانچ وقت کی نمازی۔" سَحر کے لب ہلکے سے کھلے۔ وہ کہنا چاہتی تھی کہ وہ تو کبھی نماز نہیں پڑھتی مگر الفاظ گلے میں اٹک گئے۔ دوستوں نے رشک سے اسے دیکھا۔
“ماشاءاللہ، داؤد بھائی، آپ تو واقعی خوش نصیب ہیں۔ ویسے ہمیں آپ سے امید تھی کہ آپ کی بیوی بہت ہی شریف اور بےداغ ہوگی۔" داؤد فخر سے مسکرا دیا۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
تقریب کے دوران داؤد اسٹیج پر آیا۔ ہال میں موجود ہر شخص کی نظریں اس "مسیحا" پر جمی تھیں۔
"میرے بھائیوں اور بہنوں!" داؤد کی آواز گونجی، جس میں بلا کا سوز تھا۔ "میں جب کسی بیوہ کو بے سہارا دیکھتا ہوں یا کسی یتیم کے سر پر چھت نہیں پاتا، تو واللہ میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ میری زندگی کا مقصد صرف ان مظلوموں کی خدمت ہے۔ پیسہ تو آنی جانی چیز ہے، اصل دولت تو وہ دعا ہے جو کسی دکھی دل سے نکلتی ہے۔"ہال تالیوں اور "سبحان اللہ" کی صداؤں سے گونج اٹھا، کئی لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
سَحر، جو ہال کے ایک کونے میں صوفے پر بیٹھی تھی، مسحور ہو کر اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے ایک لمحے کے لیے لگا کہ شاید وہ داؤد کو سمجھنے میں غلطی کر رہی ہے۔ شاید وہ واقعی اتنا ہی نیک ہے جتنا نظر آتا ہے۔
اسی دوران ایک میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس بچہ ہال کے عقبی دروازے سے اندر داخل ہوا اور بھاگتا ہوا اسٹیج کے قریب پہنچ گیا۔ وہ شاید بھوک کی وجہ سے وہاں موجود کھانے کی خوشبو کی طرف کھنچا چلا آیا تھا۔ سیکیورٹی گارڈ نے اسے پکڑنے کی کوشش کی، لیکن داؤد نے اسٹیج سے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔
داؤد اسٹیج سے نیچے اترا، سب کے سامنے اس بچے کو سینے سے لگایا اور اس کے سر پر پیار دیا۔ پھر ویٹر کو بلا کر کہا، "اس معصوم کو وہی کھانا پیش کیا جائے جو اس ہال میں موجود معزز مہمانوں کے لیے ہے۔ اس کا بل میری جیب سے جائے گا۔" پورے ہال میں تالیاں گونج اٹھیں۔ خواتین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور مرد داؤد کی عظمت کے گن گانے لگے۔ سَحر کے شانے بھی فخر سے چوڑے ہوئے۔
تقریر کے بعد، سحر جو ساڑھی کے پلو اور سر پر دوپٹے کو سنبھالنے کی مسلسل اور ناکام کوشش کر رہی تھی، داؤد کو اپنی طرف آتا دیکھ کر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ داؤد کے چہرے پر وہی نورانی مسکراہٹ تھی۔لیکن جیسے ہی وہ سحر کے قریب پہنچا اس نے جھک کر نہایت دھیمی مگر سرد آواز میں کہا،
" باتھ روم چلو میرے ساتھ فوراً !"
سحر فوراً اٹھ کھڑی ہوئی ۔وہ اسے لے کر ہال کے کونے میں بنے وی آئی پی واش روم کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی واش روم کا دروازہ بند ہوا۔ داؤد کا چہرہ نفرت سے بگڑ گیا ۔ اس نے وحشت زدہ انداز میں سینیٹائزر نکالا اور بڑی کراہیت سے اپنے ہاتھ اور واسکٹ کا وہ حصہ صاف کرنے لگا جہاں اس بچے نے ہاتھ لگایا تھا۔ اس کے چہرے پر ایسی نفرت تھی جیسے اس نے کسی گندی چیز کو چھو لیا ہو۔ سحر یہ دیکھ کر ششدر رہ گئی تھی۔
" داؤد! آپ ٹھیک تو ہیں؟ ابھی تو آپ نے اسے اتنے پیار سے گلے لگایا تھا؟" داؤد نے سینیٹائزر کی بوتل سنک پر دے ماری، آنکھیں غصے سے سرخ ہو گئیں۔
" خاموش رہو سحر ! اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانا بند کرو۔ تمیں کیا لگتا ہے وہ غلیظ بچہ میرے گلے لگنے کے لائق تھا؟" سٹیج کے اوپر اس کے لہجے میں جو شیرینی موجود تھی، وہ اب یکسر غائب تھی۔
" لیکن آپ تو کہہ رہے تھے کہ انسانیت سب سے بڑی۔۔۔"
" میں نے کہا نا خاموش رہو۔" داؤد نے دھاڑ کر اسے چپ کروا دیا۔
" وہاں میڈیا کے کیمرے، اور شہر کے بڑے ڈونرز بیٹھے تھے اگر میں وہ ڈرامیٹک قدم نہ اٹھاتا تو کل کے اخبار میں میری تصویر کیسے چھپتی؟ وہ بچہ میرے لیے صرف ایک پراپ تھا۔ اور تم میری بیوی ہو، فلاسفر بننے کی کوشش مت کرو۔"سحر کا دل زور سے دھڑکا۔
" مطلب وہ سب صرف دکھاوا تھا؟ داؤد وہ بچہ تو آپ کو واقعی فرشتہ سمجھ رہا تھا۔"
" اپنی حد میں رہنا سیکھو سحر۔ تم یہاں میری عقل پر جرح کرنے نہیں، میری مرضی پر چلنے کے لیے آئی ہو۔ اگر دوبارہ تم نے میرے کسی عمل پر سوال اٹھایا یا اپنی یہ اخلاقی حس جگانے کی کوشش کی تو میں تمہاری زبان تالو سے کھینچ لوں گا۔ " وہ اپنی واسکٹ رگڑتے ہوئے غرایا۔
" گھر جا کر چپ چاپ کمرے میں جاؤ اور اپنے چہرہ کو آئینے میں دیکھو شاید تمہیں سمجھ آ جائے کہ تمہاری حیثیت میرے جوتے سے زیادہ نہیں ہے۔" اس کی سفاک بات سن کر سحر نے آنکھیں میچ لیں، اس کے کانوں میں ابھی بھی داؤد کے بول گونج رہے تھے جو اس نے سٹیج پر عورت کی عزت اور انسانیت کے بارے میں کہہ رہے تھے ۔ اسے احساس ہوا کہ وہ کسی نیک انسان کے ساتھ تو بالکل بھی نہیں بلکہ ایک نہایت عیار اداکار کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے جس کا ہر لفظ محض ایک جال ہے۔ سحر نے اس کی واسکٹ اس کے ہاتھ سے لے کر صاف کی اور ہینڈ ڈرائیر سے سکھا کر اسے واپس پہنائی۔ اب وہ دونوں خاموشی سے واپس آئے تو کھانے کی میز سجائی جا رہی تھی۔
کھانے کے وقت سب ٹیبل پر بیٹھے تھے، تبھی ایک میزبان لڑکی سحر کی طرف آئی۔
"ارے، آپ تو سحر سراج ہیں نا؟
یاد ہے آپ کو پانچ ماہ پہلے میری یہ والی ساڑھی۔۔۔" وہ بے حد پیار اور اپنائیت سے کہہ رہی تھی۔
"جی، مجھے یاد ہے۔ اپنا ڈیزائن کون بھولتا ہے؟" سحر مسکرا دی۔ اس کی مرجھائی ہوئی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔
"میں نے آپ کی 'رنگ و نور' کلیکشن Cool Colors میگزین میں دیکھی تھی! یہ ساڑھی اپنی شادی پر لی تھی، اب سوچا کہ بلاؤز کوئی اور پہن لیتی ہوں لیکن دیکھیں، یہ اس کے ساتھ بھی بہت خوبصورت ہے۔ آپ کا ہر ڈیزائن ہی کمال ہوتا ہے۔" اتنی تعریف سے سحر کا چہرہ کھل اٹھا تھا، مگر جیسے ہی اس کی نظر سامنے بیٹھے داؤد پر پڑی، ہر شے دھندلا گئی۔ داؤد کی آنکھوں میں اترتی سرخی دیکھ کر سحر کا رنگ سفید پڑ گیا، ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا۔
"سحر، آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو پلیز مجھے بتائیے گا۔" میزبان لڑکی مسکرا کر چلی گئی۔
پوری میز پر چند لمحوں کے لیے بھاری خاموشی چھا گئی۔ داؤد کے دوستوں میں معنی خیز نظروں کا تبادلہ ہوا۔ موسیٰ نے ہنسی دبا کر شرارت سے کہا، "واہ! مولوی صاحب کی بیوی فیشن ڈیزائنر نکلی؟ ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا داؤد کہ بھابھی اتنی 'ماڈرن' فیلڈ سے ہیں۔" داؤد کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں، مگر فوراً ہی اس نے ایک مصنوعی اور کھوکھلی ہنسی سینے سے نکالی۔
"جی، کبھی زمانہِ جاہلیت میں یہ کام کرتی تھیں۔ اب تو ماشاءاللہ ہدایت پا کر پردے میں رہتی ہیں۔" سحر نے اہانت سے سرخ پڑتے چہرے کو جھکا لیا۔ کچھ دیر بعد ، داؤد آہستہ سے اس کے کان کے قریب جھکا، اس کے لہجے میں زہر بھرا تھا۔
"اٹھو اور چلو، ابھی!"
"پر سب دیکھ رہے ہیں، کھانا تو۔۔۔"
"میں نے کہا چلو!" اس کی دبی دبی گرج سحر کے پور پور میں خوف بھر گئی۔ سحر نے لرزتے ہاتھوں سے پرس اٹھایا اور ایک مصنوعی مسکراہٹ سجائے کھڑی ہوگئی۔
گھر تک کا راستہ کسی قبرستان کی خاموشی جیسا تھا۔ داؤد اسٹیئرنگ پر گرفت اتنی سخت کیے ہوئے تھا کہ اس کے جوڑ سفید پڑ رہے تھے، وہ بار بار تیزی سے بریک لگاتا جیسے اپنا غصہ سڑک پر نکال رہا ہو۔ گھر پہنچتے ہی داؤد نے کمرے کا دروازہ اس زور سے بند کیا کہ دیواریں لرز گئیں۔
"تمہیں شرم نہیں آتی؟" اس کی آواز دہاڑ بن کر گونجی۔
"ہم نے کیا کیا۔۔۔؟" سحر کے لب کپکپائے۔
"خاموش رہو!" وہ اس کی طرف ایک قدم بڑھا، "لوگ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ تم فیشن ڈیزائنر ہو؟ میں نے تمہیں عزت دی، اپنا نام دیا، اور تم وہاں اپنی اس ناپاک پہچان پر فخر جتا رہی تھیں؟"
"وہ خود آگئی تھیں، ہم نے تو صرف۔۔۔"
"زبان بند کرو اپنی!" داؤد نے سحر کا بازو پکڑ کر اسے بری طرح جھنجھوڑا۔
"یہی تمہارا مسئلہ ہے! تم چاہتی ہو دنیا تمہیں ان نیم برہنہ لباسوں سے پہچانے جو تم عورتوں کو ننگا کرنے کے لیے ڈیزائن کرتی تھی؟ جس کام کی بنیاد ہی گناہ پر ہو، اسے جسٹیفائی کرنے چلی ہو؟" سحر پیچھے ہٹی، آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔
"ہم نے انہیں جواب نہیں دیا تھا، بس ایک بار مسکرا دیا تھا۔"
"مسکراہٹ؟ تمہیں پتا بھی ہے ایک نامحرم کے سامنے تمہاری مسکراہٹ فتنہ ہے؟" داؤد نے اس کے بازو پر گرفت مزید مضبوط کی۔
"میرے گھر میں ایسی بے دین اور جھوٹی عورت کی کوئی جگہ نہیں۔" سحر کو اب اپنی انا پر چوٹ محسوس ہوئی، وہ ہانپتے ہوئے بولی، "آپ بھی تو جھوٹ بولتے ہیں، آپ نے سب سے کہا کہ ہم پانچ وقت کی نمازی ہیں، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ۔۔۔"
"تو کیا غلط کہا؟ عورت کو نماز پڑھنی چاہیے!" داؤد کو اپنی چوری پکڑے جانے پر آگ لگ گئی۔
"جی۔۔۔ مگر اگر ہم نماز نہیں پڑھتے تو آپ کا سب سے یہ کہنا جھوٹ ہے نا؟" داؤد ایک دم رک گیا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت اتر آئی۔
"کیا مطلب؟ تم نماز نہیں پڑھتیں؟" اس نے ایسے پوچھا جیسے کوئی بہت بڑا کفر دریافت کر لیا ہو۔
"ہم۔۔۔ ابھی کوشش کر رہے ہیں۔" سحر نے گھبرا کر قدم پیچھے لیا۔
"ادھر آؤ! جواب دو مجھے، بے نمازی، جہنمی عورت!" داؤد نے جھپٹ کر سحر کا جبڑا اپنی مٹھی میں دبوچ لیا۔
"داؤد! چھوڑیں، درد ہو رہا ہے۔۔۔" سحر نے دفاع میں خود کو چھڑانے کے لیے پیچھے قدم لیا، مگر اس کی ریشمی ساڑھی پاؤں میں الجھ گئی اور وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی۔ وہ پوری قوت سے پیچھے فرش پر گری۔ داؤد نے اسے اٹھانے کے لیے ہاتھ تک نہ بڑھایا، بلکہ اس کے بکھرے ہوئے وجود کو حقارت سے دیکھا۔
"آج کے بعد تم نقاب پہنو گی تاکہ تمہاری یہ بدصورت پہچان چھپ جائے۔ پانچ وقت کی نماز پڑھو گی اور صرف میری بیوی بن کر جیو گی۔ تم جیسی عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں قید رکھنا ہی عین ثواب ہے۔ تمہارا یہ ڈیزائنر والا خبط میں نکال دوں گا۔"وہ جاتے جاتے اپنی ٹھوکر سے سحر کے پیروں کو ایک طرف کرتا ہوا، اسے ایک کوڑے کرکٹ کی طرح راستے سے ہٹاتا باہر نکل گیا۔
سحر وہیں فرش پر بکھری رہ گئی۔ اسے جسم کی چوٹ سے زیادہ اپنی روح لہولہان محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے اپنے ان ہاتھوں کو دیکھا جو کبھی رنگ بکھیرتے تھے، آج ان پر داؤد کی انگلیوں کے نشان ابھر رہے تھے۔ وہ وہیں بیٹھی بہت دیر تک اپنے نصیب پر روتی رہی۔ کمر میں تکلیف الگ تھی۔ بازو اور رخساروں پر اس کی سخت انگلیوں اور اب پاؤں پر بھی درد کی تیز لہر ابھرنے لگی تھی۔ سَحر نے فوراً ہمت کی اور اٹھ کر سراج کو فون لگا دیا۔ دوسری بیل پر فون بھی اٹھا لیا گیا تھا۔
" بابا جان! " وہ روتے ہوئے بولی تو سراج کی ساری نیند ہوا ہوئی۔
" سحر ، بابا کی جان، کیا ہوا ہے ؟"
" بابا جان ، ہم بہت درد میں ہیں۔ ہماری مدد کریں۔ " وہ روتے ہوئے بولی تو سراج نے اسی وقت اسے تسلی دے کر فون کاٹ دیا۔ کمرے میں صرف بےجرم ، بے خطا آنسو باقی رہ گئے اور ایک عورت جو اپنی سانسوں کے بچ جانے پر شکر ادا کر رہی تھی۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
سراج نے کانپتے ہاتھوں سے سَحر کی کال کاٹی اور دوسری کال انھوں نے مختار کو لگائی اور اگلے ایک گھنٹے میں وہ دونوں سَحر کے گھر موجود تھے۔ داؤد جو لان میں بیٹھا سیگریٹ پھونک رہا تھا ان دونوں کو دیکھ کر بری طرح چونکا۔ سراج نے اس سے پہلا سوال سَحر کے بارے میں پوچھا تو اس کے اوسان خطا ہوگئے۔ اس کی طرف سے جواب نا پا کر وہ خود ہی گھر میں داخل ہو گئے تھے۔ مختار نے فکر مندی سے داؤد کی طرف دیکھا۔
" کیا کیا ہے تم نے اس بچی کے ساتھ؟ داؤد میری سالوں پرانی دوستی کا بھرم رکھنا ۔"
اندر سراج سَحر کے کمرے میں پہنچے تو سَحر سامنے بیڈ پر بیٹھی تھی۔ وہ قدم قدم چلتے اس کے پاس گئے تو اس کا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ دیکھ کر تڑپ اٹھے۔
" سَحر ؟" ان کے منہ سے بےساختہ نکلا۔
" بابا !" سَحر ایک دم اٹھ کر ان کے سینے سے لگی۔
" ہمیں لے چلیں، بابا جان۔ ہم مر جائیں گے یہاں پر۔ ہمارا دم گھٹ جائے گا۔"
سراج نے اس کی آنکھوں میں سرخی دیکھی، کچھ پوچھے بغیر ،سراج نے اسے سہارا دیا، وہ پاؤں میں موچ اور درد کی وجہ سے لنگڑا کر چل رہی تھی۔ سراج اسے نیچے لے آئے جہاں مختار اور داؤد موجود تھے۔
" آپ پر اعتبار کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے ہمیں، مختار صاحب۔ ہم نے جس کو کبھی ڈانٹا تک نہیں آپ کے بیٹے نے اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر کر دیا ہے۔" وہ اپنی بات مکمل کر کے سَحر کو لیے گاڑی میں بیٹھ گئے۔ مختار ان کو بلاتے اور صفائی کا ایک موقع مانگتے رہ گئے۔ ان کی گاڑی گھر سے باہر نکلی تو مختار واپس داؤد کی طرف بڑھے ۔
" چٹاخ!" اور ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر جھڑ دیا۔
" تمھاری ہمت کیسے ہوئی اس بچی کو رلانے کی؟ داؤد ، وہ بن ماں کے نازوں سے پلی بچی ہے ، تم نے کیا کیا ہے اس کے ساتھ کہ وہ پاگلوں کی طرح رو رہی ہے؟ " وہ بولے جا رہے تھے اور داؤد ان کا چہرہ دیکھے جا رہا تھا۔ داؤد نے اپنا رخسار سہلایا،اس کی آنکھوں میں شرمندگی کی جگہ ایک زہریلی ہٹ دھرمی تھی۔ اس نے دیکھا یونس اور ہاجرہ بھی وہاں موجود اسے ہی دیکھ رہے ہیں۔
" میں نے کیا کیا ہے بابا؟" اس نے انجان بنتے حیران لہجے میں پوچھا۔
" آپ خود دیکھ لیں، کیا اس کے چہرے پر ایک بھی نشان ہے؟ میں نے اسے چھوا بھی نہیں۔"
" پھر وہ لنگڑا کر کیوں چل رہی تھی، تم نے اس کی سرخ پڑتی آنکھیں نہیں دیکھیں؟" مختار بہت بلند آواز میں چلائے۔ داؤد نے ٹھنڈی آہ بھری اور افسوس سے سر جھکا لیا۔
" بابا ۔۔۔ یہی تو اس کا ٹیلنٹ ہے۔ وہ ایک آرٹسٹ ہے۔ اسے ڈرامہ کرنا آتا ہے۔ میں تو بس اسے نماز پڑھنے کا کہہ رہا تھا، اس نے رونا دھونا شروع کر دیا۔ اوپر سے چھ فٹ لمبی ساڑھی پہنی تھی الجھ کر خود ہی گری ہے۔ اب اگر وہ اپنی 'آزاد خیالی ' چھپانے کے لئے مجھے بدنام کر رہی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟"
" بکواس بند کرو، جھوٹ بول رہے ہو تم۔" مختار گرجے۔
" میں جھوٹ نہیں بول رہا، میں نے اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا ، وہ خود گری تھی۔" اس نے بلند آواز میں صفائی دی۔
" اچھا اگر ایسا ہے تو تم اس کے پاس ہونے کی بجائے یہاں کیا کر رہے تھے؟" مختار اپنے لاڈلے کو خوب جانتے تھے۔
" میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے اسے نہیں مارا، یار۔ میں بس اس سے کہہ رہا تھا کہ پردہ کیا کرو، میں اسے پردہ دار بنا رہا ہوں جیسے سب مذہبی لڑکیاں ہوتی ہیں۔ "
" تم اندھے ہو ؟ تمھیں نظر نہیں آتا کہ وہ ایسی لڑکی نہیں ہے۔ وہ نازک ہے شرمیلی سی لیکن مذہبی نہیں اور یہ بات تم اچھے سے جانتے تھے۔ اگر پردے دار لڑکی چاہیے تھی تو اس سے شادی کیوں کی؟" مختار چلا رہے تھے اور وہ خاموش کھڑا تھا۔ باپ کے سامنے وہ زیادہ بولنے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔
" جس مرضی کو بلالیں اور اس کا معائنہ کروا لیں۔ اگر میرے ہاتھ کا ایک نشان بھی مل جائے تو جو چور کی سزا وہ میری۔ بابا، وہ لڑکی صرف اس لئے گھر چھوڑ کر گئی ہے تاکہ اسے نماز نہ پڑھنی پڑے۔ اور وہ آپ لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ کر مجھے آپ سب کی نظر میں گرا سکے۔ "
ہاجرہ اور یونس نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ داؤد کی باتوں میں اتنا وزن تھا کہ اب انہیں بھی سحر کا رونا مشکوک لگنے لگا ۔ داؤد نے ہٹ دھرمی سے بات جاری رکھی۔
" کل میں خود سراج انکل کے پاس جاؤں گا، اور ان کا وہم دور کر دوں گا۔ سب دیکھ لیں گے کہ سحر سراج کتنی مکار عورت ہے۔" مختار کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا، وہ اس کے قریب ہوئے دھیمی مگر کاٹ دار آواز میں کہا، " تمہارے اس مذہبی ڈھونگ سے دنیا بہلتی ہوگی داؤد لیکن میں تمہارا باپ ہوں۔ میں تمہاری پارسائی کے پیچھے چھپی ہر کمینگی اور گھٹیا پن سے واقف ہوں۔ تم اسے دین نہیں سکھا رہے ،تم اپنی انا کی تسکین کے لیے اس بچی کو کچل رہے ہو۔" داؤد وہیں کھڑا اپنے باپ کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا اس کے ذہن میں سحر کی چیخیں نہیں بلکہ اپنے باپ کا تھپڑ اور یونس کی نظریں گھوم رہی تھیں۔ اس نے مٹھیاں بیچ لی۔ اس کی ہٹ دھرمی اب ایک خطرناک موڑ لے چکی تھی۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
سَحر اپنے گھر کے مانوس صوفے پر بیٹھی تھی مگر اس کا وجود ابھی تک داود کے کمرے کے اسی خوفناک کونے میں قید تھا۔ سراج اس کے لیے پانی کا گلاس لے کر آئے تو اس نے ہچکیوں کے بیچ مشکل سے پانی پیا۔ سراج اس کے پاس آ کر بیٹھے اور چند لمحے اس کا چہرہ دیکھتے سن سے ہوگئے تھے۔ سحر کے رخساروں پر اگرچہ داود کی انگلیوں کے نشان نہیں ابھرے تھے،مگر اس کی آنکھوں کی سرخی، چہرے کی ویرانی اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ کسی گہرے زخم کا پتا دیتی تھی۔ انہوں نے اس کے چہرے سے آنسوؤں صاف کیے اور پھر افسوس سے اسے گلے لگا لیا۔
" ہم سے غلطی ہوگئی، سحر ۔ ہمیں اتنی جلدی آپ کی شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ " سراج کی آواز پچھتاوے کی کسی گہری کھائی سے آ رہی تھی۔سراج اس کو تھپک کر بولے مگر جواب نہیں آیا۔ ان کی آنکھوں میں ابھرنے والا تاثر خالص پچھتاوا تھا۔ وہ سَحر کو اس حالت میں دیکھ کر ماضی کی کسی گہری کھائی میں جا گرے تھے ۔
" ہم سے ناراض ہیں؟" سراج نے اس کی خاموشی سے ڈ ر کر پوچھا۔
" نہیں بابا، یہ تو ہمارا نصیب ہے یا شاید ہم میں ہی کوئی کمی ہے جو داؤد کو ہم اچھے مسلمان نہیں لگتے۔" اسے حقیقتا شکوے کرنے کی عادت نہیں تھا۔
" لیکن بابا ہم ایسے بے ڈھنگے لباس نہیں پہن سکتے ۔ساڑھی پر دوپٹہ کون لیتا ہے؟" اس نے اپنے گلے میں لپٹا دوپٹہ اتار کر صوفے سے دور اچھال دیا۔
" میری جان، آپ آرام کریں۔ ہم مختار سے بات کریں گے۔ آپ نے کھانا کھایا؟" سراج نے اس کے آنسو روکنے کی غرض سے اس کا دیہان بھٹکانا چاہا۔
" ہمیں لگتا ہے پاؤں ٹوٹ گیا ہے۔ " سحر نے اپنا دائیاں پاؤں ذرا سا ہلایا تو تکلیف اعصاب چیر کر دماغ تک پہنچی۔
" یہ کیا ہوا ہے؟" وہ فکرمندی سے اس کا سوجا ہوا پاؤں پکڑ کر جائزہ لے رہے تھے۔
" داؤد نے۔۔۔ داؤد نے ٹھوکر ماری ہے۔" سحر کی آواز دبی دبی تھی،جیسے وہ خود اس تذلیل کو بیان کرتے شرمندہ ہو رہی ہو۔ سراج کے قدموں تلے زمین سرک کر پانی ابھر آیا۔ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کی لاڈلی بیٹی کے سامنے یہ سب آئے گا۔
" ہم ہلدی لاتے ہیں آپ پاؤں پر زور مت دیں۔" وہ اپنے باپ کی فکر دیکھ کر پھر سے رو پڑی تھی۔
اسے شدت سے احساس ہوا کہ کسی کے جگر کا ٹکڑا کسی کے لئے محض کچرا ہوسکتا ہے۔ کسی کی محبوب ترین اولاد کسی کے لیے ملازم بن سکتی ہے۔ کسی کی بیٹی کسی کے لئے صرف حکمرانی اور طاقت دکھانے کے لئے ایک رعایا بن جاتی ہے۔ خدا جانے لوگ ، کسی کی بیٹی لا کر خود کو اس کا خدا کیوں ماننے لگ جاتے ہیں۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے جب ارتضی اپنے گھر میں موجود اس ورک شاپ نما کمرے کی بڑی اور وسیع میز پر جھکا ہوا تھا۔ میز پر مختلف سائز کے چاکو اور چھریوں کے نمونے بکھرے ہوئے تھے۔ یہ اس کا چھوٹا سا مگر نہایت نفیس کاروبار تھا، وہ فولاد کو تراش کر اسے فن پارے میں بدلنے کا ہنر جانتا تھا۔اور اب اس ہنر کے بل بوتے پر وہ ایک کارخانہ کھڑا کر چکا تھا۔ آج اس نے شکاری چاقوؤں کے دستوں پر ہاتھی دانت اور آبنوس کی لکڑی سے چند نئے ڈیزائن تیار کیے تھے۔اس نے اپنے فون سے ان ڈیزائنز کی چند واضح تصاویر کھینچی اور مرتضیٰ کو واٹس ایپ کر دیں۔ مرتضیٰ آئے روز نئے چاکو چھریاں خریدنے کی وجہ سے، اس کام میں ڈیزائنز کی باریکیوں پر گہری نظر رکھتا تھا۔
"مرتضیٰ یہ ڈیزائن دیکھو۔کیا ان کی فنشنگ ٹھیک ہے؟ مجھے کلائنٹ کو جواب دینا ہے۔ پھر کارخانے میں بھیجنا ہے جلدی بتاؤ۔" اس نے میسج ٹائپ کیا مگر دس منٹ گزرنے کے بعد بھی کوئی جواب نہ آیا ۔ ارتضیٰ نے ایک بار پھر فون دیکھا، میسج ڈلیور ہو چکا تھا مگر مرتضیٰ کی طرف سے خاموشی تھی۔اس نے مرتضیٰ کا نمبر ڈائل کیا لیکن دوسری طرف سے گھنٹی بجتی رہی اور فون نہیں اٹھایا گیا۔
" یہ لڑکا بھی نا، پتہ نہیں کس دنیا میں رہتا ہے۔" ارتضیٰ نے سر جھٹکا اور ماہ رخ کا نمبر ملایا مگر ساتھ ہی فون کاٹ دیا، رات گہری ہو رہی تھی۔ حویلی کے سارے لوگ اس وقت سو جانے کے عادی تھے، سوائے ایک شخصیت کے۔ ارتضیٰ نے نمبر ملا کر فون کان سے لگایا۔ گلِ جاناں جو لان کی کرسی پر بیٹھی، گردن اٹھائے ، محویت سے اوپر ٹیرس میں موجود شخص کو دیکھ رہی تھی۔ فون کی بیل نے اس کا فسوں توڑا۔
" سلام سائیں !"
" وعلیکم سلام ، گل ۔ مرتضیٰ کہاں ہے؟" ارتضیٰ نے چاکو کی دھار پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا۔
"میں نے اسے کام کی کچھ تصاویر بھیجی ہیں اسے کہو ذرا دیکھ کر بتائے ۔ اسے کال کر رہا ہوں مگر وہ سن ہی نہیں رہا۔" دوسری طرف سے ہلکی سی ہنسی کی آواز آئی ۔
" سائیں، وہ آپ کی کال کیسے سنے گا؟وہ تو اس وقت ٹیرس کی منڈیر سے پاؤں لٹکائے مرسلین کے ساتھ بیٹھا کائنات کی دھنیں چھیڑ رہا ہے۔" اس نے محبوبیت سے اوپر ٹیرس میں موجود وجود پر نظر جمائے کہا۔
"مطلب؟" ارتضیٰ ذرا الجھ گیا۔
" مطلب یہ کہ حضرت اس وقت اپنے گٹار میں مگن ہیں یہاں نیچے تک ان کی موسیقی کی آواز آرہی ہے۔ وہ اپنے ٹیرس پر بیٹھا ' دل عبادت ' گا رہا ہے اسے تو شاید اپنے آس پاس کی دنیا کی بھی خبر نہیں، فون کی گھنٹی تو دور کی بات ہے۔"
" رات کے بارہ بجے؟ "
" وہ مرتضیٰ ہے، سائیں۔اس کو کب کیا کرنا ہوتا ہے رب کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔اس کے جنون کا کوئی نصاب نہیں اور اس لہر کا کوئی حساب نہیں۔
اور پھر اس قیامت خیز موسیقی کے بیچ اسے ٹوک کر کون اپنی عاقبت خراب کرے؟" ارتضیٰ نے ایک گہری سانس لی۔
" اچھا ٹھیک ہے جب اس کی محفل ختم ہو تو اسے کہنا کہ اپنے بھائی پر بھی ایک۔۔۔" کچھ یاد آنے پر وہ خاموش ہوا۔
" لیکن گل مجھے تھوڑی جلدی تھی۔ اگر تم جا کر اسے پیغام دے دو تو مجھ پر احسان ہوگا۔ میں نے کلائنٹ کو جواب دینا ہے۔" فون بند ہوا تو ارتضیٰ کی توجہ دوبارہ اپنی میز پر دھرے ایک ادھورے چاقو کی طرف چلی گئی۔ لیکن اب اس کی گرفت میں وہ صلابت نہ رہی۔ اب اسے اس فولاد میں سختی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
دو الگ شہروں میں مقیم ہونے کے باوجود اسے محسوس ہوا کہ جیسے دور کہیں سے گٹار کی ایک دھیمی سی لہر اس کے کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر ارتعاش پیدا کر رہی ہے۔ ایک طرف فولاد کی سختی تھی اور دوسری طرف گٹار کے تاروں کی نرمی، مگر ان دونوں بھائیوں کی شخصیت ان کے فنون سے بالکل متضاد تھی، ارتضیٰ حسن کے وجود کی ساری سختی فولاد پی کر اسے موم کر دیتا تھا اور مرتضیٰ کی ساری نرمی گٹار کی نظر ہوکر اسے فولاد بنا دیتی تھی۔
گلِ جاناں نے ایک گہری سانس لے کر فون میز پر رکھا اور چند لمحے وہ اوپر بیٹھے شخص کو دیکھتی رہی، جس کی نیلی آنکھوں کے عمیق سمندر کا تلاطم اس پل تھما ہوا تھا۔ وہ ہوا میں ٹانگیں جھلاتے، گٹار بجاتا اپنی ہی دھن میں مگن تھا۔ گلِ جاناں نے قدم اندر کی طرف بڑھا دیے ۔
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کے قدموں میں لرزش آئی۔ ایک پل کو رکی، کچھ سوچا اور پھر مڑ کر نہ دیکھا۔' جلوہ جاناں' کی خاطر تو کٹھن راستے بھی سہل ہو جاتے ہیں،یہ تو محظ چند سیڑھیاں تھی۔ لبوں پر ایک دھیمی، غیر محسوس مسکراہٹ لئے وہ اس کے کمرے کے سامنے آ کھڑی ہوئی ۔ ایک دفع دستک دی مگر وہ جانتی تھی کہ آواز وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس نے ناب گھمایا اور اندر داخل ہوئی۔ چند قدم آگے بڑھ کر اس نے ٹیرس کا پردہ ہٹایا اور دو زینے نیچے اتری۔ ان دونوں نے ایک ساتھ پلٹ کر دیکھا۔ گلِ جاناں کے لئے اس ایک پل کو روئے زمین کی حرکت تھم گئی، چراغ سی سنہری آنکھوں میں اسے دیکھ کر چمک گہری ہوئی، جس نے اس کے دل کی دھڑکنوں کو بےترتیب کیا۔ اس نے مسکرا کر نظر جھکا لی مگر اس خاموشی میں ایسی تپش تھی جس نے مرتضیٰ کو آگ بگولہ کر دیا۔
" گل ! تمہارا دماغ تو ٹھکانے پر ہے ۔ " وہ گٹار مرسلین کی طرف اچھال کر تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
" رات کے اس پہر یہاں کیا لینے آئی ہو ؟"
" لالہ ! سائیں آپ کو یاد کر رہے ہیں۔ " اس سے پہلے کہ اس کے غصے کی تپش گلِ جاناں کو جھلسا دیتی، اس نے کمال ضبط سے کام لیتے لہجہ سپاٹ رکھا ۔
" بھائی ؟" ارتضیٰ کا نام مرتضیٰ کے کانوں سے ٹکرایا تو جیسے اس کی آنکھوں میں ابھرتے تلاطم کو اچانک سکون کا ساحل ملا۔ اس کی غصے سے باریک ہوئی ، نیلگوں آنکھیں یکدم گول ہوئیں، تنی ہوئی رگیں ڈھیلی ہوئیں۔ وہ بپھرا ہوا شیر پل بھر میں ساکن ہو چکا تھا۔ گلِ جاناں بخوبی جانتی تھی کے ارتضیٰ حسن کا نام اس بھڑکتے شعلے پر شبنم بن کر برستا ہے۔
" ہاں، دھن میں اتنا مگن نہیں ہوتے کے اپنے آس پاس کی دنیا اور رشتوں سے بے خبر ہو جائے ۔" اس نے معنی خیزی سے کہا اور واپس ہو گئی۔ مرتضیٰ نے فوراً فون اٹھا کر کال ملائی۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
ارتضیٰ کی میز پر پڑا فون وائبریٹ ہوا، سکرین پر مرتضیٰ کا نام چمک رہا تھا۔ ارتضیٰ نے چاقو کی پالش چھوڑ کر فون اٹھایا۔
"جی 'استادِ اعظم'! آپ کی ریاضت ختم ہو گئی ہو تو کیا ہم بات کر سکتے ہیں؟" ارتضیٰ نے فون کان سے لگاتے ہی طنزیہ لہجے میں کہا۔دوسری طرف سے مرتضیٰ کی ہلکی سی ہنسی سنائی دی۔
"بھائی! آپ بھی بس۔۔۔ گل نے بتایا کہ آپ یاد کر رہے تھے۔"
"گل نے تو یہ بھی بتایا کہ تم بیٹھے کائنات کی دھنیں چھیڑ رہے تھے۔ مرتضیٰ میاں، یہ گٹار کے تاروں سے پیٹ نہیں بھرتا، کبھی ان فولاد کے ڈیزائنوں پر بھی انگلیاں گھما لیا کرو۔ اگر یہی وقت تم نے ان نمونوں کو تراشنے میں لگایا ہوتا تو اب تک ہم ایک نیا برانڈ لانچ کر چکے ہوتے۔ مگر تم تو بس تخیل کے گھوڑے دوڑانے میں مگن رہتے ہو۔"مرتضیٰ نے ایک گہری سانس لی۔
"بھائی، موسیقی روح کی غذا ہے اور آپ کا یہ فولاد کا کام۔۔۔ خیر، میں نے تصویریں دیکھ لی ہیں۔"
"اچھا، تو کیا رائے ہے تمہاری؟ وہ جو ہاتھی دانت والا دستہ ہے، اس کی فنشنگ کیسی لگی؟ " ارتضیٰ کا لہجہ فوراً سنجیدہ ہو گیا۔
مرتضیٰ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر اپنی پیشہ ورانہ رائے دیتے ہوئے بولا، "بھائی، لکڑی اور ہاتھی دانت کا جوڑ تو کمال ہے، لیکن وہ جو تیسرا ڈیزائن ہے نا۔۔۔ جس میں آپ نے پیتل کی پٹیاں دی ہیں، وہاں ڈیزائن تھوڑا زیادہ بھرا ہوا لگ رہا ہے۔ اگر آپ پیتل کے کام کو تھوڑا سادہ رکھیں اور بلیڈ کی ڈھال کو ذرا سا کرو (Curve) دیں، تو اس کی قیمت بھی بڑھ جائے گی اور یہ دیکھنے میں زیادہ نفاست سے بھرپور لگے گا۔ باقی کام ہمیشہ کی طرح لاجواب ہے۔" ارتضیٰ نے سامنے پڑے چاقو کو اٹھا کر بغور دیکھا اور مرتضیٰ کے مشورے پر غور کیا۔
"ہمم۔۔۔ تمہاری جمالیاتی حس کا تو میں بھی قائل ہوں۔ بات تو ٹھیک ہے ، پیتل کا کام تھوڑا کم ہی جچے گا۔"
"دیکھا! آخر بھائی کس کا ہوں؟" مرتضیٰ نے شوخی سے کہا۔
"اچھا اچھا، اب زیادہ چنے کے جھاڑ پر مت چڑھو۔ جاؤ، واپس جا کر اپنی دھنیں مکمل کرو، ورنہ موسیقی کی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہو جائے گا۔"
" جس دن میری آواز نے زمانے کو اسیر کر لیا نہ اس دن آپ کے چاہنے والوں کی تعداد میرے مداحوں کے آگے کم پڑ جائے گی، لالہ !" مرتضیٰ نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
" مرتضیٰ، تم فن کی اس بلندی پر ہو جہاں کسی سے بھی موازنہ تمہاری توہین ہے۔ مقابلہ تو ان کا ہوتا ہے جو عام ہوں اور میرا بھائی نایاب ہے۔ کوئی دوسرا مرتضیٰ خان یوسفزئی نہیں ہو سکتا،
تو خود کو خاص جانو۔ کہ تم وہی ہو جو تم سوچتے ہو۔ وہی ہو جو تم بولتے ہو۔
تو اپنے آپ کو ہیرا جانو اور خود کو سب سے خاص مانو۔
You are the best. No one can compete with you. No one can be Murtaza.
خوش رہو، اپنا خیال رکھنا۔" ارتضیٰ نے پیار سے فون بند کر دیا اور ایک بار پھر اپنے کام میں جٹ گیا، مگر اب اس کے ذہن میں مرتضیٰ کا دیا ہوا وہ نیا ڈیزائن گردش کر رہا تھا۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
اگلی شام کو مختار، اپنی بیگم کے ساتھ سراج کے گھر موجود تھے مگر صرف وہ دونوں نہیں آئے تھے۔ ان کے ساتھ داؤد بھی موجود تھا۔ حسینہ بار بار داود کا ہاتھ دبا کر اسے تسلی دے رہیں تھی ۔ داؤد کے چہرے پر تناؤ مگر آنکھوں میں وہی ہٹ دھرمی واضح تھی۔
مختار، سراج کے سامنے شدید شرمندگی سے معافی مانگ رہے تھے لیکن سراج کی شدید ناراضگی میں کوئی کمی نہیں ہو پا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد حسینہ نے زویا سے سَحر کو بلانے کا کہا مگر سَحر کی طرف سے صاف انکار ہو گیا۔ اب کی بار وہ خود اٹھ کر سَحر کے کمرے کی جانب بڑھیں۔
کمرے میں داخل ہوئیں تو سَحر کھڑکی کے پاس اداس سی بیٹھی تھی۔دائیں پاؤں پر بندھی پٹی ہلدی سے پیلی ہو چکی تھی۔
" سحر !" انھوں نے پیار سے کہا۔
" السلام علیکم!" سَحر کھڑی ہونے لگی جب انہوں نے اسے واپس بٹھایا۔
" بیٹا کیا ہوا ہے؟ ایسے اپنا گھر چھوڑ کر کیوں آ گئی ہو؟"
" آنٹی، ہمیں ایسے سلوک کی عادت نہیں ہے۔" سَحر نے دھیمے مگر دو ٹوک لہجے میں بولا۔ حسینہ بیگم ہنسی تو سحر نے تذبذب سے ان کا چہرہ دیکھا۔ماتھے پر پڑے بلوں میں ناگواری واضح تھی۔
" بیٹا، ابھی شادی کو دو ماہ ہی تو ہوئے ہیں۔ پہلے ایک آدھ سال رشتہ ایسا ہی کچا پکا ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ اور ویسے بھی عورتوں کو یہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے تب ہی تو گھر کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں ۔" سَحر کو اس وقت وہ ایک روایتی ساس لگیں جو اپنے بیٹے کے گناہ کو مصلحت کا صابن لگا کر دھونے آئیں تھیں۔
" کیا انکل بھی آپ سے ایسا سلوک کرتے ہیں؟" اس نے ایسا سوال کر کہ حسینہ کو لا جواب کر دینا چاہا۔
" ہاں، ہزاروں بار!" وہ بلا توقف و بلا جھجھک بولیں۔
" مگر میں نے تو تمہاری طرح رو رو کر خاندان نہیں اکٹھا کیا۔ آج تک کسی کو بھنک بھی نہیں پڑنے دی۔" سَحر ان کی بات سن کر خود ہی لاجواب ہوگئی تھی۔ انہوں نے اپنی آستین اوپر چڑھا کر بازو پر پڑے چند پرانے نیل اس کو دکھائے ۔ سَحر کو ایک زوردار جھٹکا لگا، جیسے حلق تک کڑوا ہو چکا تھا۔
" کیا۔۔۔ کیا سب مرد ایسے ہی ہوتے ہیں؟"
" ہاں، بیٹا۔ تمھارے بابا بھی تمھاری امی کے ساتھ ایسے ہی تھی۔ اب تمھیں یاد نہیں تو کیا کریں۔"سَحر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس کے ایڈیل ۔۔۔ اس کے شفیق اور نرم مزاج بابا ؟
" ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں۔"
" سب مرد ایسے ہی ہوتے ہیں ، ایک دفع ان کی بات کو انکار کر کے دیکھو، یہ انسان سے جانور بننے میں وقت نہیں لگاتے ۔" اس کی آنکھوں کے سامنے کل رات کے چند مناظر گردش کرنے لگے ۔۔۔
اسے محسوس ہوا کہ نسل در نسل عورتیں اپنی قمیض کی آستینیں لمبی صرف فیشن کے لیے نہیں کرتی بلکہ ان زخموں کو چھپانے کے لیے کرتی ہیں جو انہیں ان کے مردوں سے ملے ہوتے ہیں۔
گھریلو تشدد صرف جسم پر پڑنے والے نیلوں کا نام نہیں ہے یہ اس خاموش اور سفاک منطق کا نام ہے جہاں ایک عورت کو یہ باور کرا دیا جاتا ہے کہ اس کی ہڈیوں کا ٹوٹنا گھر کی بنیادوں کو جوڑنے کے لیے ضروری ہے۔کتنا بڑا المیہ ہے کہ معاشرے میں اچھی عورت کا معیار اس کی برداشت کو بنا دیا گیا ہے ۔ وہ جتنا ظلم پی جائے گی، وہ اتنی ہی معتبر کہلائے گی۔ ہم نے محبت کے نام پہ قبضے کو اور اصلاح کے نام پہ تشدد کو مذہب اور روایت کا نام دے دیا ہے۔
سحر کو پہلی بار یہ خوفناک سچائی سمجھ آ رہی تھی کہ مرد کا غصہ فطرت کہلاتا ہے اور عورت کا آنسو کمزوری، اس کی آنکھوں کے سامنے داؤد کا غصہ، اس کی ٹھوکر اور اب حسینہ کے بازو کے نیل گردش کرنے لگے تھے اور یہ وہ لمحہ تھا جب سحر سراج کی روشنی اور پڑی لکھی سوچ میں سالوں سے چلتی آئی صبر اور غلامی کی جہالت کا پہلا بیج بو دیا گیا تھا۔ اسے لگنے لگا کہ داؤد غلط نہیں شاید مرد کی فطر ہی یہی ہے اور اسے ہی جھکنا ہوگا۔
کمرے کا دروازہ کھٹکا اور سراج کے ساتھ مختار اور ان کے پیچھے داؤد بھی کمرے میں داخل ہوئے۔ سَحر نے دوپٹہ سر پر اوڑھے مختار کو سلام کیا۔
" سحر ، بیٹا میں اس کی طرف سے معافی مانگتا ہوں۔" مختار ہاتھ جوڑے اس کے قریب آئے تو اس نے فوراً کھڑے ہو کر ان کے ہاتھ پکڑ لیے۔
" ہمیں شرمندہ نہ کریں، انکل ۔"
" شرمندہ تو میں ہوں بیٹا مگر میں وعدہ کرتا ہوں اب یہ ایسی کوئی غلطی نہیں کرے گا۔" سَحر نے داؤد کا چہرہ دیکھا جو ذرا سا شرمندہ بھی نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے ایک نظر حسینہ کے چہرے پر ڈالی پھر بازو پر ' اگر سب مرد ایسے ہی ہوتے ہیں تو میں کیوں تماشہ لگاؤں ؟' اس نے صرف سوچا۔
" مختار، ہم آپ سے کہہ چکے ہیں کہ ہماری بیٹی اب وہاں نہیں جائے گی۔ " سراج کی بات سن کر داؤد کا ضبط جواب دے گیا۔
" بیوی ہے یہ میری، کیسے نہیں جائے گی اور ایسا کچھ تو نہیں کیا میں نے۔
سَحر مجھے بتاؤں میں نے تمھیں تھپڑ مارا ؟ بتاؤ ؟" سَحر نے انکار میں سر ہلاتے اسے ہراساں نظروں سے دیکھا۔
" دیکھا آپ سب نے ، سَحر میں نے تمھیں مارا تھا یا تم خود ساڑھی کی وجہ سے گری تھیں؟ خود گری تھی نا؟ "
" ج ۔۔۔ جی۔" داؤد نے فاتحانہ نظروں سے سب کو دیکھا۔
" سراج انکل میں نے ایسا کچھ نہیں کیا، آپ نے اپنی بیٹی کو ضرورت سے زیادہ نازک بنا دیا ہے۔ میں اسے اب مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کوئی ظلم نہیں کر رہا۔" اس کی بات سن کر سَحر نے زرہ ہمت کی۔
" بابا جان، یہ ہمیں نقاب پہننے کا کہہ رہے ہیں۔ ہم نقاب نہیں پہنیں گے۔"
" ٹھیک ہے، بس یا اور کچھ ؟ چلو اب گھر چلو دو دن بعد ہماری فلائٹ ہے، میں پلین کینسل نہیں کرنا چاہتا۔"
" فلائٹ ؟" سراج نے ٹھٹھک کر پوچھا۔
" جی انکل، مجھے ایک بزنس ٹرپ پر جانا تھا، دو ماہ کے لیے تو میں نے سوچا کہ اس کو ساتھ لے جاؤں۔ اتنا وقت اکیلی تو نہیں رہ سکتی نا اور پھر کام کا کام اور ہنی مون کا ہنی مون ہو جائے گا۔ " اس کی بے باکی پر سراج خاموش ہوئے۔ اس نے آگے بڑھ کر سَحر کا ہاتھ پکڑا ۔ اس سے پہلے وہ قدم آگے بڑھاتا سراج نے اسے روکا۔
" یہ آج نہیں جائیں گی، دو دن ہمارے پاس رہنے دو، فلائٹ سے کچھ گھنٹے پہلے لے جانا۔"
" ہممم۔۔۔ اوکے انکل۔ لیکن میری طرف سے دل صاف رکھیں۔"
" ہمم۔" سراج نے سرسری سا جواب دیا۔ ان کی نظر سَحر کے چہرے پر جمی تھی ۔ کچھ تھا جو بدل گیا تھا، لیکن سراج کے ماتھے پر شکنوں کے علاوہ کچھ نہ دکھا ۔
---
دو دن کی پُرسکون فضا، نرم بستروں پر نیند، اپنی پسند کے کپڑے اور کھانا۔۔۔ سَحر کو لگا جیسے زندگی لمحہ بھر کے لیے رک گئی ہو۔یہاں نہ کسی کے طعنوں کی گونج تھی، نہ ناپسندیدگی کے تیر، نہ کسی کے احکامات کی زنجیر۔ داؤد کی پسند کا کھانا، اس کے مقرر کردہ لباس، اس کی ٹھہری ہوئی خاموشیاں ، ان سب سے آزاد ہو کر سَحر نے دو ماہ بعد خود کو جیتا ہوا محسوس کیا تھا لیکن یہ آزادی عارضی تھی۔
زویا کے ہاتھ سے چائے کا کپ پکڑتے ہوئے شام کے سائے لمبے ہونے لگے، تو دل میں ایک عجیب سا بوجھ اتر آیا۔ وہ جانتی تھی، اب وہ واپس اُسی گھر میں جانے والی ہے جہاں سانس لینے کے لئے بھی اجازت درکار تھی۔ داؤد کے گھر کی دیواریں جیسے اُس پر جھک آتی تھیں، نہ ٹیرس کا دروازہ کھلتا تھا نہ کسی کھڑکی سے باہر جھانکنے کی اجازت تھی۔وہاں ہر بات ناپ تول کر کرنی پڑتی تھی ، کیا پہننا ہے، کیا بولنا ہے، کس سے ملنا ہے جبکہ سراج کے گھر میں کھڑکیاں کھلی تھیں، ہوا آزاد تھی، ہنسی بے ساختہ تھی۔ یہی فرق اس کے دل کو چیر رہا تھا۔
وہ سوچتی رہی۔۔۔ کاش کہہ پاتی کہ وہ واپس نہیں جانا چاہتی،اگر مان لیا جاتا کہ وہ صرف دو دن نہیں، ہمیشہ یہیں رہنا چاہتی ہے تو شاید یہ ایک فیصلہ ایک زندگی بچا لیتا مگر افسوس انسان کو مستقبل کا علم نہیں ۔ سَحر نے کہنا چاہا مگر ہمت زبان تک پہنچنے سے پہلے حلق میں ہی دم توڑ گئی۔ چائے کا خالی کپ میز پر رکھ کر وہ خاموشی سے اٹھی۔ دروازے پر داؤد کھڑا تھا، ہمیشہ کی طرح سنجیدہ اور اجنبی۔سَحر نے ایک نظر اس گھر پر ڈالی جہاں سکون نے اسے اپنی بانہوں میں لے رکھا تھا، پھر چپ چاپ اس کے ساتھ چل پڑی۔ قدم تو اس کے ساتھ تھے، مگر دل سراج کے گھر کی دہلیز پر ہی رہ گیا تھا۔
---
داؤد کے گھر میں قدم رکھتے ہی ماحول عجیب بوجھل محسوس ہوا۔ داؤد غیرمعمولی حد تک خاموش تھا۔ سیڑھیاں چڑھتے وقت اس نے سَحر کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما۔ حاجرہ ہاتھ میں سوٹ کیس لیے کمرے سے نکل رہی تھیں۔کمرے میں داخل ہوتے ہی داؤد نے پیچھے سے دروازہ دھڑام سے بند کیا۔
" تم نے کبھی سفید، مکمل لباس پہنا ہے؟ بالکل مکمل۔۔۔؟" داؤد نے موبائل اور پرس اس کے ہاتھ سے لے کر بیڈ پر اچھالا ۔
" عبایا؟"
" کفن۔۔۔" داؤد نے اس کے کان میں سرگوشی کی، آواز دھیمی مگر زہر میں ڈوبی ہوئی تھی۔
" جی؟" سَحر کا سانس کھنچا۔
"تمہیں معلوم ہے سحر ۔۔۔ تمہارے جانے کے بعد ابا نے مجھے تھپڑ مارا؟"
"کیوں؟"
" کیونکہ تم نے انہیں کہا تھا کہ میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا ہے۔" داؤد کا جبڑا بھنچ گیا۔اس نے اچانک دونوں بازو پکڑ کر سَحر کو پوری قوت سے دیوار سے دے مارا۔ سر کا پچھلا حصہ دیوار سے ٹکرایا ، دھچکے سے سَحر کی سانس اٹک گئی۔
" ہم نے نہیں۔۔۔ " وہ جملہ پورا بھی نہ کر پائی تھی کہ ایک تیز، بھاری تھپڑ اس کے چہرے پر پڑا۔ وہ پوری کی پوری دائیں جانب جھک گئی۔
"اسے کہتے ہیں تھپڑ!" داؤد کا چہرہ اس کے اتنا قریب تھا کہ سَحر اس کی سانسوں کی گرمی اور نفرت کی بو محسوس کر سکتی تھی۔
وہ بار بار یہی جملہ دہراتا، اور ہر بار تھپڑ برس جاتا۔ سَحر نے اپنے ہاتھ بچاؤ میں اٹھائے، مگر وہ اس کے دونوں ہاتھ اپنی فولادی گرفت میں جکڑ چکا تھا۔ اس کے ہونٹ پھٹ گئے، آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، اور پورا جسم خوف سے کانپنے لگا۔
"اب پتہ چلا مار کسے کہتے ہیں؟ معلوم ہوا؟ بول! نافرمان عورت ، شوہر پر الزام لگاتی ہے۔ " سَحر ہانپتی ہوئی، دھندلی نظر سے اسے دیکھتی رہی۔
" تجھ جیسی اداکار عورتوں کو سیدھا کرنا اچھے سے آتا ہے مجھے۔" داؤد نے سر کو نفرت سے جھٹکا۔
"یاد رکھنا، آئندہ میرے گھر کی بات تمہارے باپ یا کسی کے کان تک پہنچی، پہلے تمہارے باپ کو اور پھر تمہیں زندہ گاڑھ دوں گا۔"داود نے اس کا فون اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔
"اب اپنے باپ کو فون کرو اور کہو کہ میں نے تمہیں مارا ہے۔ پہلے جھوٹ بولا تھا۔ آج سچ بولو۔" سَحر روتی ہوئی دیوار کے ساتھ بیٹھتی چلی گئی۔ "رحم کریں ہم پر۔۔۔" اس نے دونوں ہاتھ جوڑ لیے۔
" میں نے تم پر رحمت کی تھی لیکن تمہیں میرا یہ چہرہ دیکھنا تھا۔ آج کے بعد تم کبھی جھوٹ نہیں بولو گی۔" داؤد آہستہ سے جھکا، ہونٹوں پر ایک خطرناک مسکراہٹ تھی۔
وہ اٹھنے لگا تو سَحر نے ہمت جٹا کر کہا، "ہم نے جھوٹ نہیں۔۔۔ " اس سے پہلے کہ جملہ پورا ہوتا، وہ جھپٹ کر آیا، اس کے بال مٹھی میں جکڑ کر اسے فرش سے اٹھایا، "ابھی سارے بل نہیں نکلے نا۔۔۔ نکال دیتا ہوں!" اس نے بیلٹ کھینچی، کمرے میں ایک سرد کھنک گونجی۔
سَحر کو اپنا دماغ سن ہوتا محسوس ہوا ، وہ پیچھے ہٹتی گئی، روتے ہوئے، مچلتے ہوئے، " نہیں۔۔۔ خدا کے لیے۔۔۔ داؤد ہماری بات سنیں!
آئی ایم سوری!
داؤد پلیز ۔۔۔"
وہ بھاگنے کو مڑی تو پاؤں الجھنے سے منہ کے بل فرش پر گری۔ ایک تیز چیخ کمرے میں گونجی، اور بس اک زندگی کا اختتام ہوگیا۔
داؤد کا چہرہ سرخ اور آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ بیلٹ اس کے ہاتھ میں تنی ہوئی تھی اور اس کی ہر ضرب سَحر کے جسم میں بجلی کی طرح چبھ رہی تھی۔
"بولتی کیوں نہیں! جواب دے! جھوٹ نہیں بولا تو نے؟ " وہ دھاڑا اور ایک کے بعد ایک وار کرتا گیا۔
سَحر کے ہاتھ پیٹ پر جم گئے جیسے وہ کسی اندرونی درد کو روکنے کی کوشش کر رہی ہو۔ سانسیں تیز، آنکھوں میں آنسو اور پھر ایک لمحہ ایسا آیا جب اس کی چیخ پھٹی اور وہ فرش پر دوہری ہو گئی۔خون کے دھبے فرش پر پھیلنے لگے۔ بیلٹ دور پھینک کر داود نے اپنا ماتھا انگوٹھے سے مسلا۔
" رحم کریں، داؤد۔ ہمیں چھوڑ دیں۔" اس کی آواز نے داؤد کا ٹھنڈا پڑتا غصہ ایک اور دفہ بھڑکایا۔
"چھوڑ دوں؟ تو دفع ہو جا میری زندگی سے! میں تجھ جیسی *** عورت کو طلاق دیتا ہوں!"
یہ الفاظ اس کے منہ سے زہر کی طرح نکلے، اور سَحر کی آنکھوں میں ایک آخری آنسو ٹوٹ کر بہہ گیا۔
" داؤد ۔۔۔" اس نے ہاتھ جوڑے۔
" میں تمھیں طلاق دیتا ہوں۔ "
" خدا کا واسطہ ہے داؤد !" اس نے اٹھ کر داؤد کے پاؤں پکڑنا چاہے مگر درد امر تھا۔
" میں تجھے اپنے پورے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں۔"
اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا مگر ازیت ناقابلِ برداشت تھی۔ اس نے گھٹتے ہوئے سانس سے داؤد کو پکارنا چاہا۔ ہاتھ بڑھا کر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے پانی کا جگ اٹھایا۔ آدھا پانی زمین پر گر گیا اور باقی جو اس نے بامشکل منہ سے لگایا۔
چند گھونٹ پی کر اس نے جگ رکھا اور اپنا پہلو تھام لیا۔ داؤد تیزی سے ایک فائل اٹھا کر کمرے سے نکل گیا تھا۔
پیچھے سَحر بن آب کے مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ سانپ کی طرح ازیت سے بل کھاتے وہ زمین پر مکمل گر چکی تھی۔ دھندلی بصارت سے اس نے دروازہ کھلتے دیکھا اور پھر حاجرہ دوڑتی ہوئی اس تک آئیں۔
" ہائے اللہ!" وہ چلا کر سَحر تک آئی اور اسے زمین سے اٹھا کر بمشکل بیڈ پر منتقل کیا۔ اب سَحر کی نظر زمین پر گئی تھی۔ وہ خون آلود تھی۔ بے حد زیادہ خون۔۔۔
" باجی، آپ کا تو حمل گر گیا۔" حاجرہ اس کے خون آلود وجود کو دیکھ کر کہہ رہی تھی۔ سَحر نے اس کی بات سنی تو آنکھوں کے آگے آئی دھند چھٹ گئی۔
" ہمارا بچہ ؟ مر گیا؟ ہمیں تو معلوم بھی نہیں تھا۔"
"صاحب نے اپنا بچہ مار ڈالا۔ آپ رکیں میں کچھ لے کر آتی ہوں۔ " وہ نیچے کی جانب بھاگی مگر اس کے سیڑھیاں اترتے ہی داؤد واپس گھر میں داخل ہوا اور اوپر کی سیڑھی چڑھ گیا۔ حاجرہ وہیں رک گئی۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک پل کو چونک گیا۔ بیڈ پر بےحال سی پڑی سَحر کے جسم سے خون جاری تھا اور زمین پر پڑا خون، جگ سے گرے پانی میں شامل ہو کر مزید پھیل گیا تھا۔
" داود، آپ نے ہماری کوکھ اجاڑ دی۔ آپ نے اپنی نسل۔۔۔" داؤد اس کی بات مکمل سنے بغیر ہی اپنا والٹ اور گاڑی کی چابیاں اٹھا کر باہر نکل گیا۔جاتے جاتے کسی خیال کے تحت واپس آیا۔
" اس کمرے سے قدم باہر نکلنا اور دیکھنا میں کرتا کیا ہوں۔ ابھی تم مجھے جانتی نہیں ہو۔"
" داؤد ہمارا بچہ ۔۔۔"
" بھاڑ میں جاؤ تم بھی اور تمہارا بچہ بھی اور آگے سوچ سمجھ کر چلنا ورنہ تمہارا باپ بھی، تمہارے اس بچے کے پاس پہنچ جائے گا۔" اس نے دروازہ دھاڑ سے بند کیا اور باہر سے لاک کر دیا۔ سیڑھیوں سے نیچے آیا تو حاجرہ پر نظر پڑ گئی۔
" میں نے تمھیں آنے سے منع کیا تھا۔ بتایا تھا کہ ہم دو ماہ کے لیے جا رہے ہیں۔ یونس اکیلا ہی کافی ہے۔"
" جی صاحب بس میں سوٹ کیس رکھ کر جا ہی رہی تھی۔" حاجرہ تیزی سے گھر سے باہر نکل کر یونس کے پاس گئیں مگر بولنے کی ہمت نا ہوئی تو دوڑ کر اپنے کمرے کی جانب آ گئیں۔
داؤد نے گھر کو باہر سے تالا لگایا اور خود گاڑی میں آ بیٹھا۔ یونس نے دروازہ کھولا تو وہ گاڑی اس کے پاس سے گزارتے ہوئے رکا۔
" میرے معاملات میں دخل دینے سے پہلے یاد رکھنا کہ تمھارے بیٹے کی فیس میرے اختیار میں ہے۔ کوئی اور حرکت کرنے سے پہلے سوچ لینا کہ اس کی زندگی بھی میرے اختیار میں ہے۔
میرے گھر کا اور اپنے بیٹے کا خیال رکھنا۔" داؤد اسے کہہ کر باہر نکل گیا۔ یونس الجھ کر وہیں کھڑا رہا پھر دروازہ بند کرکے اپنے کمرے کی جانب آیا۔ حاجرہ وہاں گھبرائی بیٹھی تھی۔
" صاحب کا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا؟ زندگی موت کی باتیں کر رہے ہیں۔"
" یونس، انہوں نے سَحر بی بی کا حمل گرا دیا۔ وہ اوپر تڑپ رہی ہے۔ مجھے اس کے پاس جانا ہے مگر صاحب نے باہر نکال دیا ہے۔ "
" کیا؟ حمل ؟ کہاں ہیں سَحر بی بی؟"
" اوپر کمرے میں ۔ "
" مگر صاحب تو گھر کو تالا ڈال کر گئے ہیں۔ اور وہ بھی اکیلے ۔"
" کیا ؟ آپ نے دیکھا نہیں ہوگا۔ وہ انہیں ساتھ لے گئے ہوں گے۔"
" نہیں وہ اکیلے تھے۔ آئیں جا کر بالکونی سے آواز دے کر دیکھ لیتے ہیں کہ وہ ہیں یا نہیں ۔"
" ہاں چلو ۔"
وہ دونوں داؤد کے کمرے کی بالکونی کے پاس آئے، اور سَحر کو بلند آواز میں پکارا ۔
بہت دفہ پکارنے کے بعد بھی جواب نہیں ملا تو وہ دونوں تسلی کر کے واپس آ گئے تھے۔
اندر سَحر بےہوش پڑی تھی۔
صدمہ۔۔۔
ازیت۔۔۔
طلاق کا داغ۔۔۔
اور اجڑی ہوئی کوکھ لیے۔۔۔
وہ بیڈ پر بے ہوش پڑی تھی۔لیکن یہ صرف آج رات کی کہانی نہیں تھی۔ اگلے پورے دن بھی وہ بےہوش و حواس پڑی رہی۔