قفسِ تنہائی
عشاء کی اذان کی پکار جب سماعتوں سے ٹکرائی تو سحر کی آنکھ کھلی۔ اُسکا پورا جسم برف کی طرح سن ہو چکا تھا جیسے روح اور بدن کا تعلق منقطع ہو گیا ہو، ایک پل کو اسے خوفناک احساس ہوا کہ شاید وہ مفلوج ہو چکی ہے مگر یہ محض اُسکے حواس کا دھوکا تھا۔ اُس نے تھکی ہوئی نظروں سے کمرے کے خلا میں داؤد کو تلاش کیا، وہ شخص جو 24 گھنٹے پہلے اُس کی زندگی کے تمام تر رنگ چھین کر جا چکا تھا۔
وہ نیم مردہ وجود کو گھسیٹتی ہوئی بیڈ سے نیچے اتری۔ ہر ہر عضو سے اٹھنے والی ٹیس اسے ساکت کرنا چاہتی تھی مگر وہ کسی طرح گرتی پڑتی واش روم تک پہنچ گئی۔ شاور کے نیچے ٹھنڈے فرش پر بیٹھتے ہی گرم پانی کی دھار نے اُس کے جسم کو چھوا۔ وہ بے حس و حرکت بیٹھی اپنے وجود پر جمے لہو کو پگھل کر نالی میں اترتے دیکھ رہی تھی۔ سرخ لکیریں پانی کے ساتھ بہ رہی تھی، بالکل ویسے ہی جیسے اُس کی زندگی کی تمام تر خوشیاں ایسی ہی کسی نالی کی تاریکی میں غائب ہو گئی تھیں۔ پانی زخموں کو دھو رہا تھا اور آنکھیں روح کے کرب کو بہا رہی تھیں۔
کافی دیر تک شاور سے بہتے گرم پانی کے شور میں اپنی سسکیاں سننے کے بعد وہ اٹھی۔ ایک پرانا لباس بدلا ، مگر وہ لباس اُس کے جسم پر پڑے نیلوں کو چھپانے میں ناکام تھا۔
اُس نے ایک بین کالر والی شرٹ نکال کر پہنی اور کمرے میں واپس آئی۔ اب بھوک کی شدت ایک نوکیلے خنجر
کی طرح اُس کے معدے میں اتر رہی تھی، یا شاید پیٹ کا وہ ناقابل برداشت درد تھا جو بھوک سے مل کر اب جان لیوا ہو رہا تھا۔ اُس نے کپکپاتے ہاتھوں سے کمرے کا ہینڈل گھمایا، مگر دروازہ باہر سے مقفل تھا۔ سحر کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ اُسے پہلی بار اِس حصار کی سختی کا احساس ہوا ۔
" داؤد ۔۔۔" اُس نے دروازہ بجایا ۔
" داؤد دروازہ کھولیں ۔" اُس نے دیوانہ وار دروازہ پیٹنا شروع کیا ۔
" داؤد ہمیں ڈر لگ رہا ہے۔ دروازہ کھولیں ۔۔۔"
" کوئی ہے؟ بابا! زویا!" اُس کی آواز کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھی۔ دروازہ پیٹ پیٹ کر ہاتھ سرخ ہو گئے، کلائیاں تھک گئیں، مگر اُس آہنی خاموشی کو چیرنے والا کوئی مددگار نہ تھا۔
وہ لڑکھڑاتی ہوئی بالکنی کے جنگلے والے دروازے تک آئی۔ اُسے کھولنے کی آخری کوشش کی، مگر وہ ہمیشہ کی طرح تالے میں جکڑا ہوا تھا۔ داؤد نے اُس گھر کی ہوا، روشنی اور ہر راستے پر اپنی انا کے پہرے بٹھا رکھے تھے۔ اسُ نے بالکنی کی سلاخوں سے منہ لگا کر پوری قوت سے داؤد کو پکارا۔ ایک بار، دو بار، تین بار۔۔۔ یہاں تک کہ اُس کا گلا بیٹھ گیا اور ہمت جواب دے گئی۔ وہ وہیں ٹھنڈے فرش پر سر گھٹنوں میں دیے اپنی بےبسی کا ماتم مناتی رہی۔ وقت کا پہیہ سست روئی سے گھومتا رہا۔ اُسے اندازہ نہ ہوا کہ وہ کب نڈھال ہو کر وہیں سو گئی۔ اچانک ایک شناسا آواز نے اسے بیدار کیا، مین گیٹ کھلنے کی آواز ۔ امید کی ایک موھم سی کرن جاگی۔ اُس نے اپنا بچا کچا زور
اِکٹھا کیا اور بالکنی کی سلاخوں سے منہ جوڑ کر دوبارہ چیخنا شروع کر دیا۔
" داؤد ! داؤد ! دروازہ کھولیں !" پھر وہ کمرے کے دروازے پر کھڑی اس کا انتظار کرتی رہی۔ جب کوئی نہ آیا تو اُس نے کمرے کا دروازہ پیٹنا شروع کیا۔
" داؤد ۔۔۔ دروازہ کھولیں ۔ داؤد ہم معافی مانگتے ہیں آپ سے۔ پلیز دروازہ کھولیں۔" خاموشی پہلے سے زیادہ گہری اور خوفناک ہونے لگی۔ تھک کر وہ واپس بالکنی کے دروازے کے پاس آ بیٹھی۔ اب اُس نے ہار مان لی۔ اُسے سمجھ آ گیا تھا کہ اِس کال کوٹھری میں اب دو ہی راستے بچے ہیں۔ یا تو موت اُسے یہاں سے رِہا کروائے گی یا پھر داؤد مختار کی مرضی۔ اپنی بند ہوتی آنکھوں کے کناروں سے آنسو پونچھ کر اس جیتے جاگتے وجود نے حالت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔
بالکنی کے آہنی جنگلے سے سر ٹکائے پچھلے ایک گھنٹے سےوہ اپنے وجود میں اترتے درد کی لہروں کو گن رہی تھی۔ جب اچانک ایک اجنبی آواز نے اس کی ہڈیوں میں سنسناہٹ اتاری۔ وہ خوف سے پیچھے پلٹی تو دیکھا کہ بالکنی کے بنیرے پر دو مردانہ ہاتھ مضبوطی سے جمے ہوئے تھے، جیسے کوئی دیوار پھاند کر اوپر چڑھنے کی جد و جہد کر رہا ہو۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص اُوپر چڑھا اور ٹھیک سحر کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ دراز قد، گوری رنگت اوروسیع جسامت۔۔۔ وہ ایک با رعب پٹھان مرد تھا جس کے ہلکے بھورے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔ گہرے سبز کوٹ کے نیچے سفید گول گلے کی شرٹ اُس کی جاذب نظر شخصیت کو مزید نمایاں کر رہی تھی۔ اُس نے بے خیالی میں اپنی شرٹ جھاڑی اور جب سامنے دیکھا تو اُس کے اپنے حواس سکت رہ گئے ۔ اُس نے ہاتھ میں پکڑا فون کان سے لگایا۔
" آپ کا اندازہ صحیح تھا۔ یہاں ایک زخمی لڑکی موجود ہے۔" اُس نے کس زبان میں بات کی سحر کو سمجھ نہ آیا۔ سحر کے حلق سے ایک لرزتی ہوئی چیخ نکلی۔ وہ بدحواسی میں کمرے کے دروازے کی جانب بھاگی اور روتے ہوئے دیوانہ وار اس کو کھولنے کی جدو جہد کرنے لگی۔ وہ کمرے میں تنہا قید تھی اور وہ اجنبی اپنی دگنی جسامت لیے بالکنی کے فرش پر اُس کے بالکل سامنے، سلاخوں کے اُس پار کھڑا تھا۔
" آلے ۔۔۔ نہیں!
میڈم۔۔۔
محترمہ ۔۔۔ میری بات تو سنیں۔" اس شخص نے گھبرا کر لوہے کی سلاخوں پر دستک دے کر سحر کو روکنا چاہا۔
" پریشان نہ ہوں۔ میں کوئی چور ڈاکو نہیں ہوں۔
مجھے ہاجرہ پھوپھو نے بھیجا ہے، آپ کی ملازمہ نے۔" ہاجرہ کا نام سن کر سحر کے ہاتھوں کی جنبش رک گئی۔اُس نے دھیرے سے گردن موڑی اور اپنی آنسوؤں سے لدی سرخ آنکھیں اُس کی طرف اٹھادیں۔ سحر کا چہرہ فانوس کی روشنی میں واضح ہوا تو سامنے کھڑے شخص کے ہاتھ لمحے کو بےجان ہو کر پہلو میں آن گرے، دل زور سے دھڑکا۔ اُس کی نظریں سحر کے چہرے پر پڑے نیلگوں نشانات پر جم گئی جیسے وہ سامنے کھڑی عورت کے روپ میں کسی زخمی ہرن کو دیکھ رہا ہو جو ابھی ابھی شیر کے ہاتھوں سے بچ کر لوٹی ہے ۔
" کیوں ؟ ہم سے کیا چاہیے؟" سحر نے سلاخوں کے بیچ سے اس کا چہرہ دیکھتے گھبرا کر پوچھا۔
" آپ شاید ابھی پکار رہی تھی۔۔۔ پھوپھو بہت پریشان تھیں۔ یہ لیں، اُن سے بات کریں۔" اُس نے بالکنی کے دروازے کی سلاخوں سے فون اندر کی طرف کیا۔سحر نے کچھ پل ہراساں نظروں سے اُس اجنبی شخص کا چہرہ دیکھا پھر لرزتے ہاتھ بڑھا کر فون جھپٹ لیا۔
" ہیلو ؟"
" سحر بیٹا! یہ میرا بھتیجا ہے۔ ڈرو نہیں، صاحب آپ کو باہر سے مقفل کر گئے ہیں، اِس لئے اسے سیڑھی لگا کر بھیجنا پڑا۔ ہم بس آپ کی کچھ مدد کرنا چاہتے ہیں۔" وہ مسلسل سامنے کھڑے شخص کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی اور وہ شخص، وہ کھو چکا تھا، خود کو یا شاید قوتِ عقلیہ کو ۔۔۔
" کیا مطلب ؟ کہاں ہیں داؤد ؟"
" وہ تو لندن چلے گئے نا۔"
" وہ ہمیں یہاں بند کر کے مرنےکے لئے چھوڑ گئے ہیں ؟" سحر کو بری طرح دھچکا لگا۔
" صاحب کہہ کر گئے تھے کہ اگر کسی نے آپ کو نکالا تو وہ میرے لڑکے کو مار دیں گے۔ وہ وقت کے فرعون بنے بیٹھے ہیں۔" حاجرہ کی آواز بیچ میں کٹی تو سَحر نے کان سے فون ہٹا کر اُس لڑکے کی طرف دیکھا۔
" محترمہ، آپ یہ سب پکڑ لیں ۔ " وہ چند پل اُس کا چہرہ دیکھنے کے بعد ہمت کرکے بالکنی تک گئی۔
" یہ کیا ؟"
" کچھ کھا لیں۔" اُس نے بے پناہ نرمی سے کہا۔
" نہیں، ہمیں کچھ نہیں کھانا۔ داؤد آتے ہی ہوں۔۔۔"
" وہ کل شام کو ہی لندن نکل گیا تھا۔ وہ ابھی نہیں آئے گا۔ آپ بھوکی مر جائیں گی ۔ پلیز یہ لے لیں۔" اُس نے رسی کی مدد سے نیچے سے ایک شاپر اوپر کھینچا اور ایک ایک کرکے چیزیں اُس کے حوالے کرنے لگا۔ سحر خاموشی سے اُس کی دی ہوئی چیزیں کسی خیرات کی طرح وصول کرتی گئی۔ کچھ چیزیں سلاخوں سے گزر گئیں اور کچھ نا گزر سکیں۔ وہ اُن چیزوں کو واپس لے جانے لگا۔ پھر پلٹا پٹھان غیرت نے اُس کی حالت دیکھ کر جوش مارا۔
" کوئی مدد کر سکتا ہوں؟ اگر یہاں سے نکلنا ہے تو بتائیں میں نکال لوں گا۔"
" ن۔۔۔ نہیں، ہمیں کوئی مدد نہیں چاہیے۔" سَحر نے گھبرا کر ایک قدم پیچھے لیا۔اُس جوان نے سَحر کے چہرے کا با غور جائزہ لیا پھر واپس پلٹ گیا۔ سَحر نے پل میں اُسے غائب ہوتے دیکھا۔ کچھ لمحے بعد اُس کی توجہ ہاتھ میں موجود سامان تک گئی تو وہ اُس کو دیکھ کر خوش ہوئی۔ اُس نے دو کیلے کھا کر، دودھ کے پیکٹ سے منہ لگایا۔ پیٹ بھر گیا تھا۔
☆ ☆ ☆
بالکنی کی حبس زدہ فضا سے نکل کر سیڑھی کے آخری پائیدان سے اترتے ہی اس نے ایک گہرا سانس لیا، لان کے اندھیرے میں ہاجرہ بےچینی سے ٹہل رہی تھیں۔
" خیر تو ہے نا؟ دیر لگا دی تم نے ۔" ہاجرہ نے دبے لہجے میں پوچھا، ان کی آواز میں بےچینی صاف جھلک رہی تھی۔ اس نے سیڑھی سمیٹتے ہوئے کوئی جواب نہیں دیا۔اس کی خاموشی ہاجرہ کے لئے پریشان کن تھی۔ وہ خاموشی سے چلتاہوا لان سے گزر کر جیپ تک گیا۔
" پھوپھو!" اُس کی آنکھیں اندھیرے میں بھی تپ رہی تھیں۔
" کون ہے یہ لڑکی؟ اور وہ درندہ اِسے کس جرم کی سزا دے رہا ہے؟" ہاجرہ نے ٹھنڈی آہ بھری۔
" قسمت کی لکیریں ٹیڑھی ہو تو محلوں میں پیدا ہونے والی شہزادیاں بھی کوڑے دانوں میں پھینک دی جاتی ہیں ۔ سنا ہے سحر کی ماں تھی نہیں تو باپ نے بہت نازوں سے پالا ہے، پر یہاں تو اب اُس کے زخموں پر مرہم رکھنے والا، دو وقت کی روٹی دینے والا بھی کوئی نہیں۔" اُس کی آنکھیں ہاجرہ کی بات سن کر چھوٹی ہوئیں۔
" باپ ہے اِس کا؟ تو اسے یہاں سے لے کر کیوں نہیں جاتا؟
وہ وہاں بھوک اور درد سے نڈھال ہے۔ اس برے حشر کے باوجود جس قدر نزاکت اس لڑکی میں ہے نا۔۔۔
مجھے نہیں لگتا کہ یہ دو چار دن سے زیادہ یہاں نکال سکے گی۔ یہ مر جائے گی، پھوپھو۔" ہاجرہ نے اُس کا بازو مضبوطی سے تھاما۔
" بیٹا، ان کے معاملات میں ٹانگ مت اڑاؤ۔ داؤد صاحب ایک اثرو رسوخ والا آدمی ہے۔ لوگ اس کو اسلام کا علم بردار مانتے ہیں اور اس کے منہ سے نکلے الفاظ کو خدا کا پیغام۔ اس کے خلاف بات کرنا پورے شہر سے دشمنی مول لینے جیسا ہے، وہ ایک نیک نام درندہ ہے، بیٹا۔" ہاجرہ نے اس کے دونوں ہاتھ اپنی نرم گرفت میں لے کر سمجھایا۔ اُس نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں جیسے وہ اپنے اندر اٹھنے والے طوفان کو لگام ڈال رہا ہو، جب اُس نے آنکھیں کھولیں تو ان میں کوئی اضطراب باقی نہ تھا صرف ایک ٹھہراؤ۔
" وہ اِسے مارے یا نہ مارے، تم پر آنچ آئی تو میں اپنے بھائی کو کیا جواب دوں گی؟ تمھارا کام صرف کھانا پہنچانا تھا وہ تم نے کر دیا، اب اِسے بھول جاؤ۔"
" جو شخص خدا کی مخلوق پر اِس قدر ظلم کرے وہ اسلام کا علم بردار تو بالکل نہیں ہو سکتا۔
اور کیسے بھول جاؤں، پھوپھو ؟ کیا میری غیرت اتنی آرزاں ہوگئی ہے کہ ایک کمزور عورت کو اس قدر ظلم کے بوجھ تلے دبا ہوا دیکھ کر بھی میں راستہ بدل لوں؟ اگر ایسا کروں تو مجھ جیسے سنگ دل کو سرداری کا زرہ برابر حق نہیں ۔" اس کی آواز میں تلخی آئی ۔
" خان!" ہاجرہ کا لہجہ اس سے بھی زیادہ تلخ اور کھردرا ہوا۔
" یہ غیرت دکھانے کا وقت نہیں ہے۔ وہ کسی کی منکوحہ ہے، اس کا شوہر جیسا بھی ہے، وہ اس کا مقدر ہے ۔
تم اسے یہاں سے نہیں نکال سکتے۔ اگر داؤد کو بھنک بھی پڑ گئی تو سحر کو وہ زندہ گاڑھ دے گا۔کیا تم یہ چاہتے ہو؟" اس نے اپنے بازو کو ہاجرہ کی گرفت سے باہر نکالا۔
" نکاح، عورت کا محافظ بننے کا عہد ہے۔ عورت کو قیدی بنانے کا لائسنس نہیں ۔"
" یہ صوابی نہیں ہے بیٹا، یہاں تم کسی کی گردن نہیں دبوچ سکتے۔"
" دبوچ سکتا ہوں لیکن وہ سامنے نہیں ہے اور ابھی اِس لڑکی کو سنبھالنا زیادہ ضروری ہے۔ جس دن ضرورت پڑی اِس داؤد کی گردن دبوچ بھی لوں گا اور توڑ بھی دوں گا۔" اس نے جبڑا اس زور سے دبایا کی چہرے کی ہڈیاں واضح دِکھنے لگیں۔
" تم بس چھوڑ دو اِسے۔ اپنے غصے کو قابو کرو۔ تمہارے پاس ویسے ہی سنبھالنے کو پورا صوابی پڑا ہے۔"
اُس نے گاڑی سٹارٹ کی مگر نظریں اب بھی اُس اونچی بالکنی پر جمی تھی جہاں ایک زندگی دم توڑ رہی تھی۔ اُس کا جی چاہا کہ وہ ابھی واپس جائے اور اِس بند دروازے کو اپنی ٹھوکر سے اُڑا دے مگر ہاجرہ کے لفظوں کی زنجیریں اُس کے پیروں میں تھی ۔
" میں اسے مرنے نہیں دوں گا۔ پھوپھو ۔
صوابی سنبھالنے کو وہاں اور بہت لوگ موجود ہیں ۔ یہاں پر اس لڑکی کو میری ضرورت ہے۔ جب میں اپنے گاؤں کی کسی لڑکی کو ظلم کا شکار نہیں ہونے دیتا تو اِسے کیوں چھوڑ دوں؟ یہ ابھی ڈری ہوئی ہے تھوڑی سنبھل جائے تو اس کے باپ کے گھر چھوڑ آؤں گا۔" اس کی آواز میں عزم تھا جو طوفان سے پہلے کی خاموشی میں ہوتا ہے۔
" پتہ نہیں لوگ بیٹیاں دیتے ہوئے اندھے کیوں بن جاتے ہیں۔" اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور اندھیرے کو چیرتا ہوا نکل گیا مگر اس کا دل وہیں بالکنی کی سلاخوں میں اٹکا رہ گیا تھا۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
اب سحر کو اپنے ارد گرد کا ہوش آیا ۔ سوکھے خون کی بو اب تک کمرے میں معلق تھی۔
سحر نے کپکپاتے ہاتھوں سے باتھروم سے پانی بھرا، چھوٹا وائپر اٹھایا اور آہستہ آہستہ فرش پر جمے خون کو دھونے لگی۔ ہر لکیر کے ساتھ اسے وہ منظر پھر سے یاد آتا، لیکن وہ رکنا نہیں چاہتی تھی یا شاید خود کو روکنا مشکل ہو گیا تھا۔
خون کا ہر نشان۔۔۔
ہر دھبہ ۔۔۔
ہر لکیر ۔۔۔
اسے اپنی ٹوٹی ہوئی امید یاد دلاتی تھیں۔ ماں بننے کا وہ احساس جو ابھی مکمل طور پر بیدار بھی نا ہوا تھا اسے مٹی کر دیا گیا تھا۔ اس نے اپنی کوکھ کے اِس پہلے خواب کو پانی میں بہہ جاتے دیکھا۔ کمرہ چمکنے لگا تو سحر تھک کر وہیں صوفے پر بیٹھ گئی ۔
" کاش ہمیں آپ کی موجودگی کا علم ہوتا، کاش ہم آپ کو بچا پاتے۔" اس نے آنکھیں بند کرکے سرگوشی کی جیسے وہ ننھی روح وہیں کہیں ہوا میں معلق اس کی باتیں سن رہی ہو ۔
ہم داؤد کو آپ کا خون کبھی معاف نہیں کریں گے۔" وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے اس کی موت کا ماتم منا رہی تھی جس کو اس نے کبھی محسوس تک نہ کیا تھا۔ آہستہ آہستہ آنسو ختم ہونے لگے اور پھر خاموشی چھا گئی۔
خاموشی اتنی گہری تھی کہ اس کے کانوں میں اپنی ہی سانسیں گونجنے لگیں۔ اس قدر گہری خاموشی کہ جیسے پوری دنیا اپنی سانس روکے، گھات لگا کر اُسے ہی دیکھ رہی ہو۔ اُس نے جھٹ سے اپنے پاؤں صوفے پر سمیٹ لئے یوں جیسے تاریکی میں کوئی نادیدہ چیز اُس کے ٹخنوں کو چھو لے گئی۔
دروازہ ۔۔۔
دیواریں ۔۔۔
پردے ۔۔۔
وہ در و دیوار جن کے سائے میں بہت وقت گزار بیٹھی تھی ، الله جانے کیوں سب ایک دم اجنبی لگنے لگے۔ وہ صوفے کے ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھ گئی، ڈری ہوئی، بھیگی ہوئی سانس کے ساتھ۔ وہ جو ساری زندگی تنہائی کے ڈر سے زویا کا ہاتھ تھام کر سوتی آئی تھی، آج اس کمرے کی تنہائی اُسے نوچ کھانے کو تھی۔ خوف آہستہ آہستہ اُس کے گرد لپٹنے لگا۔ ہوا کے دوش پر ہلتا پردہ کتنی ہی بار اُسے کسی سائے کا دھوکہ دےکر لرز اٹھنے پر مجبور کر گیا تھا۔ اِسی خوف کی مرتی جیتی کیفیت نے اُسے کب نیند کی آغوش میں کھینچ لیا اُسے معلوم تک نہ ہوا۔
فجر کی اذان کی آواز نے اُسے بری طرح جھنجھوڑ کر اُس خوفناک خواب سے جگھایا۔ آنکھ کھلی تو جسم اکڑا ہوا تھا۔ صوفے کا سہارا لے کر وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی۔ پورا جسم ایک رات کی دہشت سے ہی شکستہ ہو چکا تھا۔ صوفے کا سہارا لیتی وہ مشکل سے بیڈ تک پہنچی اور خود کو اس پر پھینک دیا،اس وقت بس ایک ہی خیال اُس
کے ذہن میں آیا۔
" رات گزر گئی۔ "
☆ ☆ ☆
"محترمہ!"
"سنیے۔۔۔ محترمہ، اُٹھ جائیے۔"
بالکنی کے بنیرے پر بیٹھا وہ سلاخوں پر چابی ٹک ٹک مار رہا تھا۔ شارٹ باکسد سٹائل کی داڑھی کے ساتھ، پیچھے کو جمے بال ، سیاہ شلوار قمیض کے ساتھ گہرے بھورے رنگ کی چادر گلے میں ڈالے ، وہ حد سے زیادہ پر کشش لگ رہا تھا۔
سَحر کی آنکھ نیم خوابیدہ سی کھلی، اور وہ چونک کر سیدھی ہو بیٹھی۔ سامنے وہ شخص تھا، پردہ ہوا سے ایک طرف ہونے کی وجہ سے وہ سحر کو براہ راست دیکھ سکتا تھا مگر اس کی نظریں سَحر پر نہیں،ہاتھ میں موجود مونگ پھلی کے دانوں پر تھیں۔
اس نے دوپٹہ اٹھا کر سر پر رکھنا چاہا، مگر اس کے ہاتھ میکانکی انداز میں رک گئے۔ اسی نام نہاد حیا اور تقدس نے آج اُسے اِس کال کوٹھری میں دھکیلا تھا۔اِسی دوپٹے اور فطری حیا نے داؤد کو دھوکہ دیا تھا۔ اُس نے دوپٹہ نفرت سے ایک طرف پھینک دیا۔ آج اُسے کسی نا محرم سے نہیں، اپنے محرم کے سائے سے خوف آ رہا تھا۔
وہ اُٹھی اور سلاخوں کے قریب آ گئی۔ مردانہ کلون کی سحرانگیز خوشبو سَحر کی ناک سے ٹکرائی۔
"السلام علیکم۔"
"وعلیکم السلام! لگتا ہے خالی پیٹ نیند زیادہ گہری آتی ہے آپ کو۔" وہ مونگ پھلی کے دانے کو توجہ سے چھیلتے ہوئے ہلکا سا مسکرایا۔
"ہم نے کھا لیا تھا۔" سَحر نے نظریں اُس کے چہرے پر رکھتے ہوئے کہا۔ اُس لڑکے کی آنکھوں کا رنگ اتنا منفرد تھا کہ سحر نے پہلے کبھی کسی انسان میں ایسی آنکھیں نہیں دیکھی تھیں۔
" کسی مغلیہ خاندان سے تعلق ہے آپ کا؟" وہ بنیرے پر بیٹھا بڑی توجہ سے مونگ پھلیاں چھیل رہا تھا یا شاید یہ دکھانا چاہتا تھا کہ اسے سحر کی حالت زار سے زیادہ ان دانوں میں دلچسپی ہے، تاکہ سحر اُس کی موجودگی سے ہراساں نہ ہو۔ یہ اس کی طرف سے ایک اجنبی لڑکی کو دیا جانے والا محفوظ فاصلہ تھا۔
" آپ۔۔۔ کو کیسے پتہ؟" سحر گھبراہٹ و خوف لمحے کو بھول کر متجسس ہوئی۔
"بس۔۔۔ آپ کے لب و لہجے سے محسوس کر لیا تھا۔" اس نے ایک مسکرتی نظر اوپر سے نیچے تک سحر کے سراپے پر ڈالی اور پھر نظر چرا کر اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگا،مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔ اِس بار اُس نے شاپر میں سے ایک پلیٹ نکال کر سلاخوں کے بیچ سے آگے بڑھائی۔ سحر نے کانپتے ہاتھوں سے پلیٹ تھام لی۔
"یہ لیجیے۔" پھر پراٹھا اور آملیٹ بھی اُس کی طرف بڑھایا۔ اس نے کپ سلاخ سے گزارنے کی کوشش کی مگر کپ گزر نا پایا۔
"گلاس ہے آپ کے پاس؟" اس نے پوچھا۔
" ہمم۔" سحر نے محض سر ہلا دیا۔
"پھر یہ بھی رکھ لیجیے۔" اس نے چائے کی گرم تھیلی احتیاط سے تھمائی۔ سَحر نے ایک پل کے لیے شاپر اور پلیٹ کو دیکھا، پھر اُس شخص کو۔ دل میں رشک اور تشکر مگر آنکھوں میں شرمندگی اور درد اُمڈ آیا۔
" تھینک یو ۔" سَحر نے نظریں جھکاتے ہوئے پراٹھا پلیٹ میں نکالا اور گلاس میں چائے ڈالی۔ وہ بنیرے پر بیٹھا بڑے آرام سے مونگ پھلی چھیل رہا تھا۔
"آپ ہمارے کھانے تک یہیں بیٹھے رہیں گے؟" سحر نے اس کو پُرسکون بیٹھے دیکھا تو پوچھا لیا۔
"جی ہاں۔۔۔ ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔" وہ بھی اُسی کے انداز میں بولا۔سحر کو یاد آیا کہ آخری بار اُسے اتنی عزت سے کھانا زویا نے پیش کیا تھا۔ اس کے لیے یہ صرف پراٹھا اور آملیٹ نہیں تھا، بلکہ اس ازیت ناک قید میں انسانی ہمدردی کا پہلا ذائقہ تھا۔
وہ اندر بیڈ پر بیٹھی ناشتہ کرتی رہی اور وہ باہر بنیرے پر بیٹھا رہا۔ اس نے بہت نفاست سے مونگ پھلی کے چھلکے اپنی چادر کے ایک کونے میں جمع کر رکھے تھے۔
کھانے کے بعد سحر نے چپ چاپ ہاتھ بڑھا کر پلیٹ اس کو دے دی۔ کچھ لمحوں بعد نظر پڑی تو اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پیکٹ تھا۔
"یہ لیں۔۔۔ درد کی دوائیں ہیں، اور یہ کھجوریں، ہمت بڑھانے کے لیے اور یہ زیتون کا تیل، چہرے کے نیل ختم کرنے کے لیے۔"
وہ پلٹنے ہی والا تھا کہ رکا، ہلکے سے سر جھکایا اور بولا، " آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو بتا دیں۔۔۔ اگر نہیں تو لکھ کر دے دیں۔۔۔ بلا جھجک۔" سَحر نے اس کی طرف دیکھا، آہستہ سے انکار میں سر ہلا دیا۔
" آپ کو اپنے گھر جانا ہے ؟ میکے چھوڑ آؤں ؟ یہاں پر ایسے قید رہنا اچھا نہیں ہے ۔" سحر نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
" ن ۔۔۔ نہیں ! ہم کہیں نہیں جا سکتے۔" سحر نے ایک قدم پیچھے لیا، آنکھوں میں وحشت اتر آئی۔
" اگر انھیں پتا چلا کہ ہم نے یہ دہلیز پار کی ہے تو وہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ ہمیں یہیں رہ کر ان کا انتظار کرنا ہے۔" وہ جانتی تھی کہ داؤد کے غصّے کی آگ کسی کو بھی جلا سکتی ہے، پھر وہ سراج، ہاجرہ یا یہ لڑکا کوئی بھی ہو۔ وہ مسکرا دیا پھر سر کو خم دے کر، اپنی بھوری چادر درست کی اور آہستہ سے بنیرے سے اتر گیا۔
وہ کچھ دیر بیٹھ کر آس پاس کی چیزوں کو دیکھتی رہی، شاپر پر نظر گئی تو اُٹھ کر دوا لی، پھر زیتون کا تیل روئی پر ڈال کر وہ آئینے کے سامنے آئی۔ وہ کل سے اس آئینے سے کترا رہی تھی،وہ ہمت نہیں کر سکی کہ آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر اپنے اندر کے بعد اب باہر کے ملبے کی بھی تصدیق کرے۔ اُسے ڈر تھا کہ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں اس کے چہرے پر عیاں ہوں گی۔ مگر آج ہمت کر کے جوں ہی اس نے سامنے دیکھا، حلق سے لرزتی ہوئی ایک چیخ نکلی اور ہاتھ سے روئی چھوٹ کر نیچے گر گئی۔
" یہ ۔۔۔ " اس کے الفاظ جیسے زہن سے تحلیل ہوئے۔
دائیں آنکھ کے نیچے گہرا جامنی نیل، ناک پر نیل، سوجن زدہ ہونٹ، گالوں پر معتدد نشانات اور خراشیں موجود
تھیں۔ یہ شاید داؤد کی درمیانی انگلی میں پہنے جانے والی اس سونے کی انگوٹھی کا کمال تھا جس کے چکور طلائی حصّے پر شیر کا نقش بنا ہوا تھا۔ وہ وہیں گھٹنوں کے بل زمین پر ڈھیر ہوئی دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے بلند آواز میں رونے لگی۔
" سحر !" اس اجنبی آواز پر سحر نے تڑپ کر بالکنی میں دیکھا، وہاں وہ شخص کھڑا تھا جسے وہ صحیح سے جانتی تک نہ تھی مگر اس وقت اس کے چہرے پر پھیلی پریشانی کسی قریبی عزیز سے بڑھ کر تھی۔ وہ اس کی ایک چیخ سن کر واپس پلٹ آیا تھا مگر اس کے اپنے ۔۔۔ کہیں نہیں تھے۔
" ہمارا چہرہ !" وہ کہہ کر دوبارہ چہرہ چھپائے بلک بلک کر رونے لگی۔
" آ ۔۔۔ " اس شخص کا ہر لفظ ٹوٹ کر پہلو میں گر گیا۔ وہ لڑکا جو دیوار کے اس پار ایک خاموش تماشائی بننے پر مجبور تھا، ترس کھاتی نگاہوں سے اُس بے گناہ کو دیکھتا رہا۔ اس کے اور سحر کے درمیان صرف چند قدموں کا فاصلہ نہیں تھا، بلکہ سماج اور اجنبیت کی وہ دیوار تھی جسے وہ چاہ کر بھی نہیں گرا سکتا تھا۔ اس کے لبوں تک کتنے ہی تسلی کے الفاظ آئے، کتنی ہی ہمدردیاں اس کی زبان پر مچلیں، مگر اجنبیت کی زنجیروں نے اسے جکڑ رکھا تھا۔ اُسے احساس ہوا کہ اِس وقت سحر کو اُس کی ہمدردی سے زیادہ اپنی تنہائی اور اِس کٹھن لمحے کی حرمت عزیز ہے۔
اُس نے اپنی بے قرار ہمدردیوں کو لگام دی اور ایک انتہائی محتاط قدم پیچھے ہٹایا۔ اُس کا یوں خاموشی سے پیچھے ہٹنا سحر کو اُس کا ذاتی حصار واپس لوٹانے کی ایک خاموش کوشش تھی، وہ دھیرے دھیرے بالکنی سے اوجھل ہوگیا۔
بہت دیر رونے کے بعد سحر نے سرخ پڑتی آنکھوں سے آنسو صاف کیے پھر زمین سے روئی اُٹھا کر نیلوں پر تیل لگایا اور بہت دیر بلکونی کے سلاخوں والے دروازے پر کھڑی آزاد پرندوں کو دیکھتی رہی ، پھر تھک کر بستر پر آ کر لیٹ گئی ۔
زندگی رک سی گئی تھی۔
زندگی کو رکنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے؟
یا یوں کہا جائے کہ زندگی تو رکی ہوئی ہوتی ہے لیکن ہمیں معلوم تب ہوتا ہے جب اس میں سے باسی پانی کی سی بدبو اٹھنے لگتی ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ زندگی رک چکی ہے۔
" داؤد واپس آ جایں۔ ہمیں طلاق دی، اچھا کیا لیکن ہمیں آزاد کر دیں۔ ہمارے بابا کو کچھ نہ کہیں۔" وہ رونے لگی تھی آنسو کنپٹیوں سے گزر کر بالوں میں جذب ہونے لگے۔ وہ کب نیند کی آغوش میں چلی گئی، اُسے خبر نہ ہوئی۔
☆ ☆ ☆
تقریباً آٹھ بجے اس کی آنکھ کھلی ، کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
" بابا جان!" اس نے گھبرا کر فوراً بیڈ سے پاؤں نیچے رکھا۔ بھاگ کر دروازے تک جانا چاہا ۔ بیچ میں رکھی کسی چیز سے گھٹنہ ٹکرایا اور وہ لڑکھڑا کر گری۔
" زویا!" روتے ہوئے واپس اُٹھ کر اس نے لائٹ آن کی ، پلٹ کر دیکھا تو صوفے کے ساتھ رکھی میز جو رات کو کمرہ دھونے کی خاطر دروازے کے سامنے رکھی تھی اور وہیں رہ گئی تھی۔ گھٹنا سہلا کر وہ لڑکھڑاتی ہوئی واپس بالکنی تک آئی۔ اس کی نظریں بے اختیار سامنے بالکنی کی منڈیر پر اٹکیں۔ پیٹ میں بھوک کا احساس درد بن کر اتر رہا تھا۔
" کیا وہ اب بھی آئیں گے؟" اس نے فوراً اپنی سوچ کو جھٹک دیا۔ وہ کوئی فرشتہ نہیں تھا، محض ایک راہگیر تھا جس نے ترس کھا کر دو نوالے دے دیے تھے ۔
" داؤد آ جائیں گے۔" اس نے خود کو تسلی دی مگر اس جملے کے کھوکھلے پن سے وہ بخوبی واقف تھی۔
ابھی وہ اپنی سوچوں کی رو میں بہہ رہی تھی کہ سیڑھی کی آواز وجود کے گرد بنتی فضول سوچوں کی دیوار میں ایک دراڑ لے آئی۔ سحر کے ساکت خون میں ایک تلاطم برپا ہوا۔ وہ جو لمحہ پہلے سوچوں کے تند و تیز سیلاب میں بہہ رہی تھی، تیزی سے بھاگ کر صوفے پر یوں جا بیٹھی جیسے پہلے سے وہاں موجود ہو۔ اس نے سرٹیک کر آنکھیں بند کر لیں مگر کان آہٹ کی جانب ہی لگے ہوئے تھے۔یہ اضطراب، یہ بد حواسی اس کی روح میں رچ بس گئی تھی۔ داؤد کے جبر نے اسے ایک سہمی ہوئی ہرنی بنا دیا تھا جو اپنے سائے سے بھی خوف کھا رہی تھی۔
دوسری جانب، وہ شخص جو باہر سے جتنا پُرسکون دکھتا تھا، اندر سے اتنے ہی تجسس کا شکار ہوا، بنیرے پر آ بیٹھا۔ اس کی نظر صوفے پر سمٹی ہوئی سحر پر پڑی تو اُسے وہاں ایک عورت نہیں بلکہ خوف کی ایک مجسّم تصور نظر آئی۔ اُس نے چابی جنگلے پر بجائی۔ وہ شخص اس کی ویران زندگی میں کسی خدائی وسیلے کی طرح داخل ہوا تھا۔ حالانکہ دل کے کسی گوشے میں اس اجنبی کی واپسی کی موہوم سی امید کسک رہی تھی پھر بھی سحر نے آنکھوں میں ڈھیروں حیرت سمو کر اس کا چہرہ دیکھا۔
" السلام علیکم ! " اس نے مدھم سا سلام عرض کیا۔
" آپ ؟" سحر بظاھر حیران ہوئی۔
" آپ اتنا حیران کیوں ہو رہی ہیں؟ "
" ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ آپ پھر آ جایں گے۔"
" مطلب آپ مرنے کا سوچ بیٹھی تھیں؟"
" عم۔۔۔ نہیں۔۔۔ مگر کون کسی کے لیے اتنی سٹرگل کرتا ہے۔"اس کے الفاظ میں تھکن تھی، وہ تھکن جو صبر سے جبر سہنے کا حاصل تھی۔
" مطلب آپ جینا چاہتی ہیں؟" اس کا جی چاہا کہ بولے ' صاحب ! جینا تو ایک فن ہے، میں تو محض سانسیں گننے کی مشق میں مصروف ہوں ۔ مرنا کون چاہتا ہے ؟ مگر اس گھٹن زدہ گھر میں، جہاں دیواریں بھی داؤد کی جاسوس لگتی ہیں، زندگی گزرنا مشکل ہے۔'
" مرنا کون ہی چاہے گا؟" اس نے بات مختصر کہہ کر اپنی بساط سمیٹ لی۔
" وہ جو اگلی زندگی کے لیا تیار ہو ۔۔۔
یا وہ جو اِس زندگی سے تھک گیا ہو۔۔۔" اس نے دو جملوں میں پوری کائنات کا حاصل نچوڑ کر پیالہ سحر کے سامنے رکھ دیا۔
" ابھی ہم زندگی سے تھکے نہیں ہیں۔ مشکل سے ہی صحیح لیکن گزار لیں گے ۔" سحر نے بجھتے دیے کی آخری ٹمٹماتی لؤ کی طرح ہمت جٹا کر کہا۔
" آپ کو ایسے انسان کے ساتھ نہیں رہنا چاہیے۔ سب کو زندگی اپنی مرضی سے ، باعزت اور باوقار طرح سے گزارنے کا حق ہے۔ " وہ اپنے بیگ سے کھانے کا سامان نکال کر سحر کو دے رہا تھا۔ سَحر نے ہاتھ روک کر اُسے دیکھا ۔ وہ اُسے بتا نہ سکی کہ رشتے کی ڈور تو پہلے ہی ٹوٹ چکی تھی۔
" آپ ہمیں طلاق لینے کا مشورہ دے رہے ہیں؟"
" ہاں ، کسی جانور کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے کہ اکیلے رہ لیا جائے۔
آپ یہاں سے چلی کیوں نہیں جاتیں ؟ آپ کے بابا بھی تو ہیں نا؟
یہاں اکیلے رہ کر کیوں خود کو اذیت دے رہی ہیں؟"
" ہم یہاں سے نہیں جا سکتے ۔ " سحر نے ضبط سے کہا۔ وہ اُسے کیسے بتاتی کہ یہ دہلیز اُس کے لئے ایک ایسی حدِ فاصل تھی جسے پار کرنے کا مطلب اپنے ساتھ ساتھ اپنوں کی تباہی بھی تھا۔ اس اجنبی شخص کی یہ ہمدردی سحر کو اندر ہی اندر توڑنے لگی۔ اسے ہمیشہ سب نے سراج احمد کی لازوال محبت اور لاڈ کی وجہ سے رشک کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ آج اِس شخص کی آنکھوں میں خود کے لئے ترحم دیکھ کر اس کی انا سسک اٹھی تھی۔
" آپ جا سکتی ہیں، میں آپ کو نکال سکتا ہوں۔"
" نہیں !" وہ اس قدر شدت سے چلائی کہ اس کی آواز میں وہ مہیب وحشت چھا گئی جو موت کو قریب تر دیکھ کر اترتی تھی۔
" ہم ان کی اجازت کے بغیر یہ دہلیز پار نہیں کر سکتے۔
اگر ہم گئے۔۔۔ تو سب ختم ہو جائے گا۔ وہ بہت ظالم ہیں، آپ نہیں جانتے۔
لوگ جیسے دکھتے ہیں ویسے نہیں ہوتے۔۔۔
لوگ جیسے دکھتے ہیں ویسے بالکل بھی نہیں ہوتے۔" وہ یک دم خاموش ہوگیا۔ اس کی خاموشی اس بات کا اعتراف تھی کہ وہ سحر کے چہرے پر لکھی اس تحریر کو پڑھ چکا تھا، وہ جان چکا تھا کہ یہاں معاملہ خوف کا نہیں کسی روح فرسا دھمکی کا ہے جس نے اس عورت کے سب حوصلوں کی کمر توڑ دی تھی۔
" اگر آپ کو ہماری وجہ سے اتنی ہی زحمت ہے تو اس زحمت کو تمام کیجیے۔
ہمیں ایسے مشورے دینے سے بہتر ہے کہ آپ یہاں سے چلے جائیں۔" سحر کو اس بن مانگی ہمدردی پر آنے والے غصے میں کچھ سمجھ نہ آیا تو وہ رخ پھیر کر کھڑی ہو گئی۔ وہ چند لمحے اُس کی پشت کو گھورتا رہا۔ چہرہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایک لفظ حلق میں اٹکا، کیا صوابی کا اگلا سردار ، اس ریزہ ریزہ عورت کو یہ لفظ کہہ سکتا تھا۔۔۔ اس نے لب ہلائے۔
" سوری!اب ایسا کچھ نہیں کہوں گا۔ معاف کر دیں ۔ "
" اچھا یہ تو پکڑ لیں۔" سَحر واپس مڑی، اس کے ہاتھ سے شاپر لیا اور نظریں چرا کر اندر کی سمت بڑھ گئی۔ اس نے دماغ میں کوئی اور سوال سوچا، وہ سحر کو اس خاموشی کی نظر نہیں ہونے دینا چاہتا تھا جو انسان کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی تھی۔ اس نے صوابی کی حویلیوں میں دکھوں کی ماری بہت سی عورتوں کو دیکھا تھا جو اپنی داستانیں سردارنیوں کو سنا کر دل کا غبار ہلکا کر لیتی تھیں۔ مگر یہ لڑکی چپ سادھے اندر ہی اندر کٹ مر رہی تھی۔
" اس قدر نازک طبیعت کی وجہ ؟" سحر کی آنکھوں میں سرخی دیکھ کر سوال کرنے کا جواز ہاتھ لگا تو اس نے فوراً سوال داغا۔
" جیسے ہمارا چہرہ گواہی دینے کو کافی نہیں !"
" پسند کی شادی تھی؟"
" داؤد کی پسند تھی۔"
" ہمم ۔" وہ تاسف سے سر جھکا گیا۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سَحر نے پلٹ کر دیکھا۔وہ بنیرے پر بیٹھا باہر چاند پر نظریں جمائے، پُرسکون دکھائی دے رہا تھا۔ اس کا سکون سَحر کو بے چین کرنے لگا۔
وہ کیسے اِس قدر پر سکون تھا؟
کیا اُس کی زندگی میں مسئلہ، پریشانی، فکر ، کچھ نہیں تھا؟
تبھی اُس کے فون کی گھنٹی بجی۔
" جی، پھوپھو ؟"
" سحر سے ؟ اچھا ایک منٹ ۔"
" سحر ، پھوپھو آپ سے بات کرنا چاہ رہی ہیں۔" سحر نے خاموشی سے آگے بڑھ کر فون تھاما اور کان سے لگا کر دور صوفے پر جا بیٹھی ایسے کہ وہ اس کی گفتگو نہ سن سکتا تھا۔
" السلام علیکم !"
" و علیکم السلام !کیسی ہو بیٹا ؟"
" آپ نے دیکھا تو تھا۔ "
" بیٹا، اب داؤد صاحب واپس آئیں تو تم ان کے ساتھ رہنے سے انکار کر دینا۔ تم چھوڑ دینا ایسے درندہ صفت مرد کو۔"
" چھوڑ دینا؟ وہ طلاق دے کر گئے ہیں۔ اس قید کا نام عدت ہے، آنٹی۔"
" یہ اچھی بات ہے۔ آپ اپنے بابا کے گھر چلی جائیں۔ وہاں عدت مکمل کریں اور ۔۔۔" ان کی بات کی حدت تھی یا داؤد کے الفاظ کا خوف، اس نے فوراً کال کاٹ کر خوف سے پھیلی آنکھوں سے دور کھڑے شخص کا چہرہ دیکھا۔
" ہمیں یہاں سے کہیں نہیں جانا، آپ لوگوں کو سمجھنا چاہیے۔ واپسی کے سب دروازے بند ہو چکے ہیں۔ آپ لوگ کیوں ہماری زندگی کو مزید مشکل بنانا چاہتے ہیں؟"
" اوکے، آگے سے ایسا نہیں ہوگا۔ آپ کھانا کھائیں ۔" سحر نے چند لمحے اس کا اطمینان بخش چہرہ دیکھا۔
" یقین کریں، آگے سے ہم آپ کو فورس نہیں کریں گے۔ پھوپھو نے جو بھی کہا ہے میں اس کے لیے معافی مانگتا ہوں۔" سَحر نے خاموشی سے میز سے کھانا اٹھایا اور صوفے پر بیٹھ کر کھانے لگی۔ وہ بنیرے پر ٹانگیں باہر کو لٹکائے بیٹھا تھا۔ سحر کھانا کھانے کے بعد برتن لے کر بنیرے کے پاس گئی۔وہ شاید اس کے قدموں کی آہٹ سن کر یک دم پلٹا۔ ارتضیٰ کے اچانک پلٹنے پر سحر کے تنے ہوئے اعصاب اس طرح لرزے کہ اس کے ہاتھ سے پلیٹ فرش پر گری اور چور چور ہو گئی۔ سَحر نے شرمندگی سے اُس کی شکل دیکھی۔
" ٹوٹ گیا !" اس سے پہلے سَحر معافی مانگتی، اس نے بات کاٹی۔
" برا لگ رہا ہے؟" سَحر نے اثبات میں سر ہلایا۔
" اپنے دل کے لئے برا نہیں لگتا ؟" ارتضیٰ کے اس سوال پر سَحر نے ٹوٹے برتن سے نظر ہٹا کر اُسے دیکھا اور چند پل پتھرائی آنکھوں سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
" میں چلتا ہوں، خدا حافظ ۔"
☆ ☆ ☆
دو ہفتے بعد :
ان دو ہفتوں نے سحر کے زخموں اور اس کے خوف دونوں پر ایک خاموش مرہم رکھ دیا تھا۔ وقت کی گرد نے داؤد کی دی ہوئی جسمانی اذیت کے نشانات کو دھندلا کرنا شروع کر دیا تھا ۔ آنکھ کے نیچے کا وہ جامنی نیل اب پیلاہٹ میں بدل کر مٹ رہا تھا اور لبوں کی سوجن دم توڑ چکی تھی۔ اب آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر سحر کو ہول نہیں اٹھتے تھے ۔خوف جو کبھی ناگ بن کر اس کی تنہائیوں کے گرد لپٹا تھا اب ان تنہائیوں کا عادی ہو چکا تھا مگر اس جسمانی بہتری کے برعکس وہ ذہنی طور پر شدید دباؤ کا شکار رہنے لگی تھی۔ اس شخص کی آمد کا انتظار ہر لمحے اس کے ساتھ رہتا کہ تنہائیوں کی اس سیاہ وادی میں اس کی نرم گفتار روشن دیے کی مانند تھی۔ وہ کم گو تھا مگر اس کے کہے چند جملے سحر کے لیے اگلے چوبیس گھنٹوں کا زادِ راہ ہوتے۔ اس کی آمد سَحر کے لیے دن اور رات کی پہچان بن چکی تھی۔ اس کا دن اس جوان کی چابی کی آواز سے شروع ہوتا اور رات اس کے خدا حافظ پر مکمل۔
مردانہ وجاہت کا وہ پیکر جو ہمیشہ کسی ٹھہرے ہوئے سمندر کی طرح پُر سکون رہتا تھا آج کچھ مختلف دِکھ رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ پچھلے دنوں کے مقابل ذرا سمٹی ہوئی تھی۔ اُس کے چہرے کی شگفتگی کو کسی انجانی فکر نے چاٹ لیا تھا۔ وہ باہر بیٹھا مونگ پھلی کھانے کی بجائے اپنی گود میں ہاتھ رکھے ان کو فضول گھور رہا تھا یا شاید کسی گہری سوچ میں گم تھا۔
سَحر نے ان دو ہفتوں میں پہلی بار اسے یوں منتشر دیکھا تو اس کا اپنا دل ڈوبنے لگا، بریانی حلق میں پھنسنے لگی۔ اسے لگا جیسے اس کی پناہگاہ کی حفاظتی دیوار میں کوئی دراڑ آ گئی ہے جو اسے دوبارہ اندھیروں کے حوالے کردے گی۔
" آپ پریشان ہیں؟" اس نے جیسے سَحر کی آواز نہ سنی ہو۔
" سنیے۔۔۔ مسٹر۔۔۔" سَحر کو یک دم احساس ہوا کہ جو شخص اتنے دن سے اس کا مسیحا بنا ہوا تھا، سحر کو اُس شخص کا نام تک معلوم کرنے کی توفیق نہ ہوئی تھی۔
" ہیلو۔۔۔" اس نے چمچ سلاخوں پر مار کر اسے ہوش دلایا۔
" جی ؟" وہ چونک کر حال میں واپس لوٹا ۔
" آپ نے اپنا نام نہیں بتایا ۔"
" ارتضیٰ حسن!"
" ہم ۔۔۔ آپ کو کیا کہہ کر پکاریں؟"
" کیا کہنا چاہتی ہیں؟"
" مسیحا!" سحر کی بات سن کر ارتضیٰ کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ رینگی۔
" مجھے لگا بھائی کہیں گی۔" اس کے لہجے میں چھپی چوٹ سحر کو بےحال کر گئی۔
" ارتضیٰ حسن کیا آپ کسی وجہ سے پریشان ہیں؟" سحر نے اس کی تلخی کو نظر انداز کرکے اس کے کرب کی وجہ جاننی چاہی۔ ارتضیٰ نے اس کا چہرہ دیکھا، اس کی بات سنی تو ذہن کے پردے پر ایک منظر چلنے لگا۔
شام کے ڈھلتے سائے جب زمین کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے، ارتضیٰ حسن ایک چھوٹے مگر خوبصورت سے گھر کی چوکھٹ پار کر رہا تھا۔ ان کے باغیچے میں لگے پھولوں کی خوشبو فضا کو معطر کیے ہوئے تھی۔ باہر والے مخصوص کمرے کی دہلیز پار کی تو سامنے سیاہ عمامے میں ملبوس وہ نورانی چہرے والے بزرگ سجدے کی حالت میں تھے۔ وہ کمالِ ادب سے اُن سے ذرا پیچھے کو دو زانوں ہو کر بیٹھ گیا، جیسے کوئی پیاسا کنویں کے پاس لبِ تشنگی لئے آخری امید سے بیٹھا ہو۔
بزرگ نے نماز مکمل کی اور تسبیحات و مناجات سے فارغ ہو کر اُس کی طرف رخ کیا۔ ایک دلنشیں مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے اس کے چہرے پر پھونک ماری گویا اس کے پریشان حال وجود پر زم زم کے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے ہوں۔
" کیسے ہو برخودار ؟" ان کا لہجہ ریشم سا ملائم تھا۔
" ٹھیک ہوتے ہوئے اس طرح اطلاع کیے بغیر آپ کی خلوت میں خلل نہیں ڈالتا۔ میرا سکون کہیں چلا گیا ہے، آغا۔ میں تین دن سے نمازِ نیم شب نہیں پڑھ پا رہا ہوں۔ لگتا ہے کوئی آزمائش آ گئی ہے یا کوئی گناہ کر بیٹھا ہوں۔" آغا کی پارکھ نظریں چند ثانیوں تک ارتضیٰ کی آنکھوں میں جھانکتی، ضمیر کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر کر چھپا ہوا دکھ تلاش کرنے لگیں۔ پھر کسی نتیجے پر پہنچ کر انہوں نے لب ہلائے۔
" کسی عورت کی طرف نگاہ تو نہیں اٹھا لی، برخودار؟" انہوں نے اپنی جائے نماز تہہ کرتے ہوئے کہا۔ارتضیٰ کو لگا جیسے چوبیس سو واٹ کا کوئی تڑپتا ہوا بجلی کا جھٹکا اس کے پور پور میں اتر گیا ہو۔ وہ مبہوت سا ان کا چہرہ تکنے لگا۔ ذہن کے شفاف پردے پر ایک زخمی چہرے والی حسین لڑکی تھی۔
" میری نیت آلودہ نہیں تھی۔" اس نے بوکھلا کر سر جھکایا اور اپنی پارسائی کی صفائی دی۔
" نیت؟ " وہ اب اپنے سر سے عمامہ اتار کر اس کے قریب آ بیٹھے۔
ارتضیٰ! ایک نگاہ۔۔۔ محض ایک بے احتیاط نگاہ چالیس سال کی ریاضتوں کو خاک کر دیتی ہے۔
بس ایک نگاہ۔۔۔ "
" آغا ۔۔۔ " ارتضیٰ کی زبان تالو سے چپک گئی۔ اس کے پاس اب کوئی دلیل نہیں تھی۔
" وہاں جانا چھوڑ نہیں سکتا، اس کا چہرہ دیکھنے سے گریز نہیں برت سکتا، اس کا چہرہ نہیں بھی دیکھتا تو وہ ذہن سے محو نہیں ہوتی۔ میں بس اس کی مدد کر رہا ہوں اور بس مدد ہی کرنا چاہتا ہوں مگر وہ آسیب کی طرح ہر سوچ پر قابض محسوس ہوتی ہے۔"
" محبت کرتے ہو؟" آغا کا سوال کسی نشتر کی طرح اس کے سینے کے پار ہوا۔
" آ آ۔۔۔ آغا! وہ شادی شدہ ہے۔" اس نے شرمندگی سے چہرہ مزید جھکا لیا جیسے اپنے چہرے پر لگی سیاہی کو چھپا رہا ہو۔
" ارتضیٰ، میں نے پوچھا ہے کہ تمہیں اس سے محبّت ہے ؟"
" نہیں ۔"اس نے گردن اکڑا کر کہا۔
" اس کی طرف دیکھنے سے گریز کرو، اسے بھی پاک رکھو اور خود کو بھی پاک رہنے دو ۔ اپنی عبادت کو خاک ہونے سے بچاؤ، میرے بچے ۔ " آغا اتنا کہہ کر وہاں سے اٹھنے لگے۔ ارتضیٰ کی روح تڑپ اٹھی۔
" مجھے معاف کر دیں۔
میں نے آپ کی ساری تربیت خاک کر دی۔
میں نے آپ کا مان توڑ دیا۔" آغا رک گئے، مڑے ایک پر عزم نگاہ اس کے شرمندہ چہرے پر ڈالی۔
" میری تربیت اتنی کمزور نہیں کہ ایک عورت ان ستونوں کو ڈھا دے۔ تم مومن ہو ارتضیٰ، مومنوں پر آزمائشیں آتی ہیں اور مردوں پر حسین چہرے والی عورت سے بڑی آزمائش اور کیا ہو گی ؟ " وہ دہلیز کی طرف بڑھے پھر دہلیز پر رک کر گویا ہوئے، " خدا رحمن ہے، استغفار کا دروازہ ہمیشہ کُھلا ہے۔" وہ کہہ کر دروازے کے پار غائب ہو گئے مگر ان کے الفاظ کمرے میں گونجتے رہے۔
حال میں، ارتضیٰ اپنی شہادت کی انگلی پر چلتے انگوٹھے کو دیکھ رہا تھا۔
"استغفر اللہ۔۔۔ استغفر اللہ۔۔۔ استغفر اللہ۔۔۔"
"ارتضیٰ۔۔۔ کہاں کھو گئے؟" سَحر نے آہستہ سے پوچھا۔
"نہیں، آپ بتائیں کیا کہہ رہی تھیں؟"
" ہم پوچھ رہے تھے کہ طبیعت ٹھیک ہے؟"
"جی، شاید تھکاوٹ سی ہوگئی ہے۔" اس کی نظر اب بھی انگلیوں پر تھی۔سَحر نے نوٹ کیا کہ وہ کچھ پڑھ رہا ہے۔ ایک لمحے میں اس کا دل جیسے زور سے سکڑا۔
"آپ۔۔۔ آپ کچھ پڑھ رہے ہیں؟" اس کی آواز بہت ہلکی تھی۔
"جی، استغفار۔"سَحر کی پلکیں لرز گئیں۔ لفظ استغفار سنتے ہی ایک پرانی یاد چیخ بن کر اس کے کانوں میں گونجی۔وہ اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو مٹھی میں دبا کر سانس روک گئی۔
"وہ کیوں؟ کوئی گناہ ہو گیا ہے؟"
"استغفار صرف گناہ کے بعد نہیں پڑھا جاتا۔
آدمی اگر استغفار کیے بغیر سو جائے تو گناہوں کا بوجھ اسے فجر پر اٹھنے نہیں دیتا اور مجھے نمازِ صبح بہت عزیز ہے۔اس میں میرا سکون قید ہے۔" وہ اپنے سکون کا راز اس پر آشکار کر چکا تھا لیکن سَحر کے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ سَحر نے بے اختیار چند قدم پیچھے لیے جیسے کوئی انجانی لہر اسے دور دھکیل رہی ہو۔
"آپ تو شکل سے اتنے دین والے نہیں لگتے۔" اس نے تبصرہ نہیں، خوف کا اظہار کیا۔ آنکھوں کے سامنے داؤد کا سراپا گردش کر رہا تھا۔ ارتضیٰ نے اس کی آنکھوں میں ایک پر اسرار سے جذبے کو دیکھتے ہوئے کہا،"کیونکہ میری لمبی داڑھی نہیں اور شلوار ٹخنوں سے اوپر نہیں۔۔۔ اس لئے ؟ مجھے خدا چاہیے، لوگوں کی داد نہیں اور جنہیں خدا چاہیے ہوتا ہے، وہ دنیا کو چھوڑ دیتے ہیں۔"اس نے نظریں جھکا کر عاجزی سے کہا۔
اور یہی وہ لمحہ تھا جب سحر کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا۔ اسے یہ سب ایک جانا پہچانا جال لگنے لگا۔اس کا دل ڈر سے کانپا، وہی لفظ، وہی نرم لہجہ، وہی فلسفہ ۔۔۔
اسے وحشت ہوئی اُن آنکھوں کو دیکھ کر جن میں پچھلے دو ہفتوں سے صرف رحم ہی رحم تھا۔۔۔ سَحر نے تیزی سے پلکیں جھپکیں جیسے آنسو گرنے سے بچا رہی ہو مگر آنسو رخسار پر بہہ نکلے ۔ اس نے ہاتھ کی پشت سے ان کو رگڑ کر ارتضیٰ کا چہرہ دیکھا جو چونک کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ پلٹی اور بیڈ پر بے دم سی ہو کر بیٹھ گئی۔
یہ نرم گفتار، یہ انگلیوں پر ورد، یہ بات بات پر خدا خدا ۔۔۔ یہ ارتضیٰ حسن نہیں داؤد مختار تھا!
وہ اس کے تقویٰ سے متاثر ہونے کی بجائے خوفزدہ ہوئی، ٹیبل سے گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا اور پانی پی کر گہرا سانس لیا۔
" یہ بات بات پر آنکھیں کیوں بھیگ جاتی ہیں آپ کی؟
آنکھیں کمزور ہو گئی ہیں یا دل؟ " ارتضیٰ کی بات سن کر بھی سَحر نے چہرہ نہیں اٹھایا وہ بس مٹھیوں کو بھینچ کر زمین کو تکتی رہی۔
" ض۔۔۔ضب۔" لفظ ادا نہ ہوا تو اس نے رک کر گہرا سانس لیا۔
" ضبط کمزور ۔۔۔ہوگیا ہے۔" سَحر نے بھیگا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا اور چند لمحے دیکھتی رہی۔ اس نے سَحر کی سرخ پڑتی آنکھوں میں ابھرنے والے کسی جذبے کو دیکھا مگر کانوں میں گونجنے والی ایک بزرگ آواز نے اس کی نظر کا زاویہ بدلا۔
' ایک نگاہ چالیس سال کی ریاضتوں کو خاک کر دیتی ہے۔' ارتضیٰ وہاں سے فوراً پلٹا اور نیچے اتر آیا۔ چہرے کا رنگ پھیکا پڑ رہا تھا۔
" پھوپھو میں چلتا ہوں۔"کچن کے دروازے سے اطلاع دی۔ وہ واپس پلٹنے لگا تو حاجرہ نے ہاتھ تھام کر روک لیا۔
" چہرہ دکھاؤ، رنگ کیوں اڑا ہوا ہے؟ وہ مر تو نہیں گئی؟" وہ اس کے ہاتھ کو تھامے، پشتو میں پوچھ رہی تھیں ۔
" خدا کی پناہ، وہ بالکل ٹھیک ہے۔" اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر گہرے خوف کا اظہار کیا۔
" دل پر تو ایسے ہاتھ رکھا ہے جیسے وہ دل میں رہتی ہو؟" ارتضیٰ نے چہرہ جھکا کر سینے پر رکھے ہاتھ کو دیکھا پھر ہاتھ ہٹا لیا اور چند لمحے اس ہاتھ کو دیکھتا رہا، وہ اپنی دھڑکنوں کی دھن کو محسوس کر رہا تھا کہ آیا کہیں وہ سَحر سراج کے نام کا ورد تو نہیں کرنے لگیں۔
" ایک شادی شدہ عورت کے لئے میرے دل میں کوئی۔۔۔"
" طلاق یافتہ عورت ۔۔۔" انہوں نے اس کی بات کاٹ کر جو راز اس کے سر پر آشکار کیا وہ آتشِ جہنم میں کسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جیسا تھا۔
" میں چلتا ہوں، سر میں ذرا درد سا ہے۔"
" چائے بنا دوں؟"
" نہیں گھر جاؤں گا۔" وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہ رہا تھا۔
" جاگتے رہنا بیٹا، ورنہ غفلت کی نیند سو جاؤ گے۔" وہ چند لمحے ان کا چہرہ دیکھتا رہا مگر پھر کچن سے باہر نکل گیا۔
" رکو! آج برتن واپس نہیں لائے؟"
" اگر مزید رکتا تو غفلت میں پڑ جاتا۔" وہ کہہ کر رکا نہیں تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔
☆ ☆ ☆
گاڑی کو تیزی سے چلاتے وہ اپنے فلیٹ میں آیا اور دروازہ کھولا۔ دروازہ کھولتے ہی باہر کا شور پیچھے رہ گیا اور گھر کی اجلی ہوئی پرسکون فضا نے اسے اپنی آغوش میں لیا۔
ارتضیٰ نے دروازہ آہستگی سے بند کیا تو پورا گھر سنّاٹے میں ڈوب گیا۔ سامنے دیوار پر لٹکتے آیت الکرسی کے فریم سے ہلکی سی سفید روشنی پھوٹ رہی تھی جو کمرے کے نیم اندھیرے کو بھگا رہی تھی۔ وہ روشنی دل کو سکون دینے کے لیے تھی مگر ارتضیٰ حسن کے دل میں اس وقت طوفان برپا تھا۔
وہ آہستہ قدموں سے واش بیسن کی طرف بڑھا۔ نل سے بہتا ٹھنڈا پانی اس کے ہاتھوں کو چھو رہا تھا مگر وہ ٹھنڈک بھی اس کے اندر کی تپش کو کم نہ کر پائی۔ وہ مصلٰی پر جانے کی ہمت نہ کر سکا ، اسے اپنا آپ آلودہ محسوس ہو رہا تھا۔ وضو کے بعد وہ صوفے پر آ بیٹھا۔ دماغ میں کہیں آغا کی تو کہیں ہاجرہ کی باتیں گھوم رہی تھیں۔ اس نے سر دیوار سے ٹکایا اور سکون کی خاطر آنکھیں بند کیں مگر جو تصویر سیاہی کے پردے پر ابھری، وہ ارتضیٰ حسن کی ذات کو متزلزل کر دینے کو کافی تھی۔
سحر سراج کا چہرہ!
وہ چہرہ جس پر دکھ کی پرچھائیاں پھیلی تھیں، آنکھوں میں شکوے تھے اور لبوں پر خاموشیاں۔ ارتضیٰ نے جھرجھری لی اور دونوں ہاتھوں سے سر دبا لیا۔
"یا اللہ۔۔۔ یہ دل کیوں بے قرار ہے؟ میں نے نیت کبھی خراب نہیں کی تھی۔ میں نے برائی نہیں چاہی تھی۔ پھر یہ خلش کیوں میرا پیچھا نہیں چھوڑتی؟
میں نے صرف اس کی مدد کرنی چاہی تھی، میں صرف اس زخمی پرندے کو آزادی کا ذائقہ چکھانا چاہتا تھا۔ " اس کے ہر حرف سے بےبسی اور شرمساری پھوٹ رہی تھی۔
وہ یکدم اٹھا، الماری کھولی اور اوپر والے خانے سے پرانی ڈائری نکالی۔ گرد میں لپٹی ڈائری کو ہاتھ لگتے ہی ایک عجیب سی قربت محسوس ہوئی۔ ڈائری کھولی تو پرانی یادوں کا بوجھ اٹھائے ان اوراق سے مانوس خوشبو اٹھنے لگی۔ کہیں دعائیں درج تھیں، کہیں خواب، اور کہیں گناہوں کا اعتراف۔ ارتضیٰ نے قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کیا۔لکھتے لکھتے اس کا ہاتھ تھم گیا۔ قلم ایک طرف رکھ دیا۔ گہری سانس لی اور سر صوفے کی پشت سے لگا دیا۔
"میں خطاکار ہوں ۔۔۔ مگر میری طلب صرف تیری بندگی ہے، اے خدائے واحد! میں تیرا سچا بندہ رہنا چاہتا ہوں۔"
☆ ☆ ☆
گزرے دو ہفتوں کی نسبت پچھلے تین دن سے سَحر کا رویہ بدلتے موسموں کی طرح سرد ہو گیا تھا۔ اسے ارتضیٰ کی ہر بات، ہر لہجے میں داؤد دکھنے لگا تھا۔ اس کا آنا جانا جو کبھی حبس میں تازہ ہوا کا جھونکا تھا، اب مجبوری لگنے لگا تھا۔ وہیں ارتضیٰ کو اس کی بے رخی کسی غیبی انعام سے کم نہ لگ رہی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ شاید اس کے استغفار کی قبولیت کا یہی راستہ ہے کہ وہ عورت خود ہی اس سے دور ہو جائے جو اس کے اور خدا کے درمیان فاصلے پیدا کر رہی تھی۔سَحر کا روایہ اسے اپنی عبادتوں کی ضمانت لگ رہا تھا۔
" السلام و علیکم! طبیعت کیسی ہے؟" وہ آج بھی بنیرے سے نیچے اترتے ہوئے خوشگوار لہجے میں کہہ رہا تھا، مگر اس بار اس میں کوئی امید نہیں تھی۔سَحر نے اس کی جانب دیکھا،
" وعلیکم السلام!"
" طبیعت کیسی ہے ؟" اس نے سوال دہرایا ۔
" ٹھیک۔" یک لفظی جواب، اکھڑا ہوا لہجہ۔ ارتضیٰ کو سمجھ نہ آیا کہ یہ تبدیلی کیونکر آئی تھی مگر اسے لگا کہ یہی اس کے حق میں بہتر ہے تو خاموش رہا۔
" یہ لیں آپ کا کھانا اور یہ دودھ رکھ لیں اور۔۔۔" اس نے ارتضیٰ کے ہاتھ سے کھانے کا شاپر پکڑا اور اندر کی جانب چلی گئی۔ اس کی نظروں سے بالکل اوجھل، کمرے کے اس کونے میں جو بالکنی سے دیکھے جانا ناممکن تھا۔
" آپ ۔۔۔ سَحر ۔۔۔ بات سنیں ۔" سَحر نے چڑ کر بالکنی کے دروازے کی جانب دیکھا اور بےبسی سے واپس آئی۔ چہرے پر مجبور سی مسکراہٹ جو بالکل مدھم پڑ چکی تھی ۔
" جی؟ "
" یہ میں آپ کے لیے لایا تھا۔" سَحر نے ایک نظر اس کا چہرہ دیکھا اور پھر اس کے ہاتھ سے موبائل لے لیا۔
" سم بھی ڈال دی ہے اور اپنا نمبر بھی سیو کر دیا ہے ۔ آپ کو کوئی بھی مسئلہ پریشانی یا ضرورت ہو تو بس ایک کال کیجئے گا۔ "
" ہم نہیں کریں گے آپ کو کال۔" وہ تلخی سے بولی پھر جیسے اپنے لہجہ پر حیران اور پھر شرمسار ہوئی۔ ارتضیٰ نے اس کے چہرے پر آتا ہر جذبہ کسی ماہر نفسیات کی طرح پڑھا۔
" ہم ۔۔۔ ہم کال پر بات نہیں کرتے۔ ہمیں شرم آتی ہے ۔۔۔
مطلب ہم انٹروورٹ ہیں ناں۔" اس نے اپنی بتمیزی کو حیا کے پردے میں چھپانا چاہا۔ ارتضیٰ کے لبوں پر ایک دھیمی مسکراہٹ آئی۔
" کوئی بات نہیں ، آپ میسج کر دینا بلکہ میسج لکھنے کا بھی تکلف مت کیجیے گا۔ بس ایک نمبر لکھ کر بھیج دینا۔ مثلاً
1 مطلب بھوک لگی ہے ۔۔۔
2 طبیعت ٹھیک نہیں ۔۔۔
3 مدد چاہیے۔۔۔
اس میں تو شرم نہیں آئے گی ناں؟" ابھی ان کی گفتگو میں ذرا نرمی پیدا ہوئی ہی تھی کہ ارتضیٰ کا فون بجنے لگا۔
" ہاں بولو فراز ؟" دوسری طرف سے اسے کچھ بتایا جا رہا تھا۔ اس کے ماتھے پر شکنیں پڑنے لگیں۔
" کتنے حصے کو نقصان پہنچا ہے ؟ میں آ رہا ہوں۔" وہ برق رفتاری سے پلٹا اور ایک پاؤں بنیرے پر رکھ کر تیزی سے نیچے اتر گیا۔ سَحر ہاتھ میں فون تھامے ہکا بکا کھڑی اسے دیکھے گئی۔ وہ جا چکا تھا، مگر اپنے پیچھے سحر کے ضمیر میں ایک خلش چھوڑ گیا تھا۔ اب اسے اپنے اندر آنے والی منفی تبدیلیوں کو دیکھنا تھا۔
" یہ ہم کیا بن رہے ہیں؟" اس نے ہاتھ میں موجود موبائل اور کھانے کے شاپر کو دیکھا، پھر خالی بالکنی کو۔
"وہ ہماری مدد کر رہے ہیں اور ہم نے ان سے اِس طرح بات کی؟ ہم تو کبھی کسی ملازم سے بھی اس طرح بات نہ کرتے اور ایک ایسے شخص سے ۔۔۔
یہ ہم پر کس کا اثر ہوگیا ہے؟ ہم نے کیوں ان کو ہرٹ کیا؟" اس نے فون کی سکرین کو دیکھا۔
" ہم کل ان سے معافی مانگ لیں گے ۔
کل کیوں؟ ابھی مانگ لیتے ہیں۔ میسج کریں ؟ ایک دو تین میں تو سوری کا آپشن ہے ہی نہیں ۔۔۔ " وہ واپس اندر آ بیٹھی فون ٹیبل پر رکھ کر کچھ سوچنے لگی۔ یہ آلہ اس کے لئے آزادی کا پروانہ بن سکتا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک دم دھماکہ ہوا۔
" بابا جان !" اس کے لرزتے ہاتھوں نے تیزی سے فون اٹھایا اور اپنے باپ کو فون کر کے اپنی بربادی کا قصہ سنانے کا سوچا ۔ اس نے اسی پل ڈائل پیڈ کھولا اور انگلیاں نمبرز پر چلائیں۔
0321۔۔۔اس کا ہاتھ رکا، اگلا ہندسہ کیا تھا؟ 4 یا 5 ؟
اس نے ایک نمبر اندازے سے ملایا۔ بیل گئی مگر دوسری طرف سے کسی اجنبی مرد کی کرخت آواز سنائی دی۔
" ہیلو ؟ کون ہے؟" سحر نے گھبرا کر کال کاٹ دی۔
" شاید آخری نمبر آٹھ تھا۔"
اس نے دوبارہ کوشش کی۔ پھر تیسری بار، چوتھی بار، اور نہ جانے کتنی بار اس نے ہندسوں کو آگے پیچھے کیا مگر ہر بار اس کا ذہن ایک نئی دیوار سے ٹکرا جاتا۔ اسے اپنی زندگی کے چوبیس سال یاد تھے، اسے اپنے گھر کی خوشبو یاد تھی، اسے سب یاد تھا مگر ان سب تک پہنچانے والا وہ چند ہندسوں کا کوڈ نہیں یاد آ رہا تھا۔ جیسے وہ نمبر اس کے دماغ سے کسی نے کھرچ ڈالا تھا۔ وہ تھک کر بیڈ پر ڈھیر ہو گئی، فون اس کے شل ہوتے ہاتھ سے پھسل کر قالین پر جا گرا۔
" ہمیں اپنے بابا کا نمبر تک یاد نہیں ؟" اس نے وحشت زدہ ہو کر اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔" اس شخص نے ہمیں کتنا قید کر دیا ہے ۔۔۔اب ہم اپنے بابا کا نمبر بھی یاد نہیں کر پا رہے۔" اس کے دماغ پر جیسے داؤد کے ظلم نے کائی جما دی تھی۔ وہ سر دونوں ہاتھوں میں دبائے بلک بلک کر رونے لگی۔ یہ ایک نئی قسم کی بے بسی تھی۔ وہ آزاد ہونے کا پروانہ ہاتھ میں ہونے کے باوجود بھی اس ان دیکھی دیوار کو پار نہیں کر سکتی تھی۔ اب اس فون میں صرف ایک ہی نمبر محفوظ تھا، ارتضیٰ حسن ۔۔۔وہی جسے وہ ابھی بدتمیزی کر کے بھگا چکی تھی۔
☆ ☆ ☆
کھیتوں کے بیچوں بیچ سے سیاہ دھواں اٹھ کر آسمان کو گدلا رہا تھا۔ ہوا میں جلی ہوئی فصل کی بُو تھی، اور لوگ آگ بجھانے کو دوڑتے پھر رہے تھے۔ فراز ان سب کو ساتھ لگائے آگ بجھانے کی سر توڑ کوشش کر رہا تھا۔ مگر لپٹیں قابو سے باہر تھیں۔
"کُچھ لوگوں نے سردار سائیں کے کھیتوں کو آگ لگا دی!" یہ خبر جب حویلی پہنچی تو مرتضیٰ کے اندر جیسے لاوا پک اٹھا۔ مرتضیٰ دروازے سے باہر نکلا تو چہرہ غصے سے سرخ تھا۔ اس کی مٹھیاں سختی سے بند تھیں اور آنکھوں میں خون کی لالی ابھر رہی تھی۔ مرسلین اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
"سائیں رکیں، سردار سائیں سنبھال لیں گے۔ اچھا رکیں، ارتضیٰ سائیں کو آنے دیں۔ وہ ائیر پورٹ پہنچنے والے ہیں۔ رک جائیں نہ۔"
مرتضیٰ نے بندو ق کندھے پر لٹکائے سیاہ شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک الٹ رکھی تھیں۔
"کس نے ہمت کی؟ کس نے؟ مرسلین ہٹو میرے راستے سے ورنہ میں تمہارا سر کھول دوں گا۔" گاؤں کے دو آدمی ہانپتے ہوئے آئے۔
"حاجی سلیم کے بیٹے نے افسر خان کے بندے دیکھے ہیں، یہ ضرور اسی کا کام ہے، سائیں ۔" مرتضیٰ کے اندر جیسے بجلی دوڑ گئی۔
" مرسلین؟ تم سب اتنے سکون سے بیٹھے تھے کوئی آ کر آگ لگا گیا اور تم لوگ بندے دیکھ کر پکڑ بھی نہ سکے ؟ لعنت ہے تم سب پر ۔" اس نے بندوق کے دستے پر گرفت مضبوط کی، اور غصے میں بپھرا ہوا سیدھا حاجی سلیم کے گھر کی طرف چل پڑا۔
"نکل باہر!" حاجی سلیم کے دروازے پر کھڑا وہ بلند اور کھردری آواز میں دہاڑا۔ حاجی سلیم کا بیٹا دروازے کے پیچھے سے ڈرا سہما باہر آیا۔
"میں نے صرف دیکھا تھا سائیں، میں نے کچھ نہیں کیا۔ اللہ کی قسم !"
"بکواس بند! کتنے بندے تھے؟"
"سائیں چار کو میں پہچانتا ہوں اور ان کے ساتھ تین بندے اور بھی تھے۔"
"میرے کھیت جلے ہیں، اب اس کا گھر جلے گا!" مرتضیٰ نے اس لڑکے کو دھکیل کر چھوڑا۔
وہ وہاں سے پلٹا اور تیزی سے مرسلین کو لیے نکل پڑا۔ راستے سے کچھ نیلے کین اٹھا کر اب وہ دونوں گھر جا رہے تھے۔ دوسری طرف ، ارتضیٰ اسلام آباد ایئرپورٹ سے باہر نکل رہا تھا۔
☆ ☆ ☆
گاؤں کے کنارے وہی کھیت تھے جن میں ابھی کچھ دیر پہلے آگ بھڑکی تھی۔ ہوا میں جلی گھاس اور مٹی کی تیز بُو پھیلی ہوئی تھی۔ دھواں اتنا گہرا تھا کہ سامنے کھڑا انسان نظر نہیں آرہا تھا۔ فراز باقی مردوں کے ساتھ آگ پر مٹی پھینک رہا تھا۔ آگ کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی تھی۔
"چلو جلدی!اور پانی لے کر آؤ!" کسی نے آواز لگائی۔ چار آدمی ایک ساتھ بھاگ کر ہینڈ پمپ کی طرف چلے گئے، دو نے بالٹیاں اٹھائیں اور مٹی کے ڈھیر کی طرف دوڑ پڑے۔
ایک لمحہ میں سب ادھر اُدھر بکھر گئے۔فراز اکیلا رہ گیا۔وہ ہاتھوں سے مٹی اٹھا اٹھا کر شعلوں پر پھینک رہا تھا، اس کے کپڑے دھوئیں سے کالے ہو چکے تھے،ماتھے سے پسینہ ٹپک رہا تھا،اور سانسیں بے ترتیب تھیں۔ اچانک کسی چیز کے پھٹنے سے چنگاریاں اڑیں اور اس کی قمیض کی آستین، دامن اور چادر میں آگ لگ گئی۔
"اوئے!" وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا، ہاتھوں سے شعلہ بجھانے کی کوشش کی مگر شعلہ اور پھیل گیا۔اس نے تیزی سے چادر اتار کر دور پھینکی مگر آگ قمیض کو لگ چکی تھی۔ آگ کی تیز جلن اس کی جلد تک پہنچی ۔ وہ اس آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ مزید پھیل کر اس کے کندھے تک پہنچ گئی۔شور میں آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔
دھواں، شور، جلن،ایک لمحے کو اسے لگا شاید وہ بچ نہیں پائے گا۔ دھوئیں کی وجہ سے ہینڈ پمپ نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ اندازے سے ایک جانب بھگا اور تبھی ایک لڑکی دھوئیں سے نکل کر دوڑی بھاگی اس تک آ تی دکھائی دی۔
ملائی رنگ گیلی چادر کو لیے فراز کی جانب تیزی سے بھاگتے ہوئے اس کی آنکھوں میں بلا کا خوف تھا۔ وہ بھاگتی ہوئی فراز تک آئی اور اس کے وجود پر گیلی چادر ڈ ال کر آگ بجھانے لگی۔ فراز زمین پر بےدم سا ہو کر بیٹھ گیا تھا۔
"ہاتھ ہٹائیں!" رخسار نے جھک کر کہا۔دھوئیں سے اس کی آنکھوں میں پانی بھر آیا مگر وہ رکی نہیں۔
فراز نے حیرت سے سر اٹھا کر اسے دیکھا، وہ نہ جانتا تھا کہ وہ اتنی بہادری سے آگ کے درمیان کیوں کود پڑی تھی۔ بھیگی چادر اس کے ہاتھوں میں گھوم کر شعلوں کو دباتی ہوئی بالآخر آگ بجھا گئی ۔ رخسار نے تیزی سے گیلی چادر سے اس کا سر تھپتھپایا، یہ یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی چنگاری باقی نہ رہ جائے۔ایک چنگاری شاید اس کے ہاتھ کو بھی لگی تھی۔
"آپ۔۔۔ ٹھیک ہیں؟" اس نے سانس بھرتے ہوئے پوچھا۔ فراز نے اٹھنے کی کوشش کی مگر درد کی شدت سے بے دھم سا ہوکر بیٹھ گیا۔دائیں بازو کی کھال بری طرح جھلس گئی تھی۔دائیں جانب سے سر کے بال جل گئے تھے۔
" مجھے لگا۔۔۔"
"میرے ساتھ چلیں، آپ کو مرہم کی ضرورت ہے۔" رخسار اس کےبائیں بازو کو سہارا دے کر کھڑی ہوئی۔ فراز شرمندہ سا ہوا کہ وہ ایک لڑکی کے سہارے کھڑا ہے، مگر وہ کچھ کہہ نہ سکا۔جلن تھی کہ اعصاب پر حاوی ہو رہی تھی۔
فراز دھیرے دھیرے اس کے ساتھ چلنے لگا۔ پیچھے سے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے تھے، مگر اس لمحے اس کی پوری توجہ صرف ایک چیز پر تھی۔ وہ لڑکی جس کی سنہری سبز آنکھیں آگ کے شعلوں میں بھی ٹھنڈک سی دے گئی تھیں۔ ابھی وہ اس کے گھر کی دہلیز پار کر رہا تھا تبھی اسے سڑک پار ایک گاڑی نظر آئی۔
" نواب سائیں!" وہ مسکرایا، لڑکی اس کی مسکراہٹ دیکھ کر جل اٹھی۔
" میں تو کہتی ہوں اسی منحوس مارے سے شادی کر لو تم۔ حد ہے۔" وہ جس تیزی سے آپ سے تم پر آئی تھی فراز نقاہت کے باوجود ہنس دیا۔
☆ ☆ ☆
رات کی ہوا میں عجب سی گھٹن تھی۔ حویلی کے پچھلے صحن میں ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی مگر مرتضیٰ کے اندر بھڑکتی آگ ہر چیز سے زیادہ گرم تھی۔مرسلین اور پانچ ملازم اس کے سامنے قطار میں کھڑے تھے۔ نیلے ڈرم زمین پر رکھے تھے، ڈھکن کھلے۔۔۔ تیز پٹرول کی بو فضا میں پھیل رہی تھی، مرتضیٰ نے آستین اوپر کی۔
" سب بیٹھ جاؤ!" سب زمین پر بیٹھ گئے ۔ اس نے نیلے ڈرم کی طرف اشارہ کیا۔
" ہر ڈرم سے پٹرول بھر کے چھوٹی تھیلیاں بناؤ، مضبوط گرہ لگا کر۔
کوئی بھی تھیلی لیک نہیں ہونی چاہیے۔ ایک بھی پھٹی تو تم لوگوں کا سر پھٹے گا۔" ملازموں نےلرزتے ہاتھوں سے کام شروع کر دیا۔ پٹرول کی چھینٹیں زمین پر گرنے لگی۔ مرسلین دل میں ارتضیٰ کے آنے کی دعائیں کر رہا تھا۔ مرتضیٰ خاموش کھڑا انہیں کام کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا چہرے پر سفاک مسکراہٹ، بھاری سانس اور نظریں بے رحم سی تھی۔
" سائیں! بس کریں۔ آ پ نے اتنے زیادہ پٹرول کا کیا کرنا ہے؟" مرسلین نے پوچھ ہی ڈالا۔ مرتضیٰ کی نیلی آنکھیں اس پر غضبناک ہوئیں۔
" اس نے میرے بھائی کے کھیت جلائے ہیں۔ میں اس کی پوری دنیا جلا کر راکھ کر دوں گا۔" وہ ایک تھیلی اٹھا کر اس کا معائنہ کرنے لگا پھر یک دم تھیلی دُور دیوار پر دے ماری۔ تھیلی پھٹی اور سیال دیوار پر پھیل گیا۔ کسی نے دوبارہ کچھ نہ کہا تقریبا 50 تھیلیاں تیار ہو چکی تھیں۔ مرتضیٰ نے سب کی طرف دیکھ کر سمجھانا شروع کیا۔
" اب سنتے جاؤ ۔
سب الگ گاڑیوں میں چلیں گے۔
ایک دیوار پر ۔ ایک صحن میں، دو پچھلے دروازے پر اور میں اندر کا حصہ سنبھالوں گا۔"
" سائیں آپ اندر جائیں گے؟" مرسلین نے آہستہ سے کہا تو مرتضیٰ نے تن کر گردن اٹھائی۔
" ڈرتے ہو ؟ میں نے اپنے بھائی کے کھیتوں کو جلتا دیکھا ہے اب اس کی روح کو اپنی آنکھوں کے سامنے جلتا دیکھوں گا۔ اب پتہ چلے گا کہ مرتضیٰ داد خان کس بلا کا نام ہے۔" اس کے لہجے کی دہشت تھی کہ سب خاموش ہو گئے۔ مرتضیٰ کو غصہ آجائے تو پناہ بھی پناہ دینے سے انکار کر دیتی ہے اور آ ج یہ ثابت ہونے والا تھا۔
ایک گھنٹے بعد ، افسر علی خان کی حویلی کے سامنے دو گاڑیاں اندھیرے میں رکیں پھر ایک تیسری سائے کی طرح سب سے آگے آکر رکی۔ سڑک سنسان تھی، صرف دور کہیں کتے بھونک رہے تھے۔
مرتضیٰ گاڑی سے اترا، چاندنی اس کے چہرے پر پڑی تو نیلی آنکھیں چمکتی دکھائی دیں۔ اس نے کندھے پر ایک بیگ لٹکا رکھا تھا۔ گاڑی سے ایک تھیلی اٹھائی، انگلیوں میں لائٹر گھمایا اور سب کو اشارہ کیا۔
" پھیل جاؤ۔" ہر شخص اپنی مقرر ہ جگہ کے پاس چلا گیا۔ چپکے چپکے سائے کی طرح، ایک ایک کر کے تھیلیاں حویلی کے در و دیوار پر پھینکی جانے لگی ۔
چھپ ۔۔۔
چھپ ۔۔۔
چھپ۔۔۔
پٹرول چھینٹوں کی طرح دیواروں پر پھیلنے لگا۔ مرتضیٰ پچھلے دروازے کے قریب آیا۔ اس نے اندر جھانکا افسر خان کے ملازم کچھ دور آگ جلائے بیٹھے تھے۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔
" اب باری میری ہے۔"
اس نے دروازے سے تیزی سے نکل کر دبے پاؤں گھاس پر چلنا شروع کیا۔ درختوں کی اوٹ میں وہ بنا آواز پیدا کیے چلتا جا رہا تھا۔ مرکزی دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے کندھے پہ لٹکتا بیگ اتارا اور اس میں سے تھیلیاں نکالنا شروع کی۔ وہ تھیلی نکالتا، گلے کی چین میں لٹکتی تلوار سے تھیلی پھاڑ کر وہاں پہ پٹرول گراتا اور آگے بڑھ جاتا۔ وہ حویلی کے مرکزی دروازے کے پاس بہت سا پٹرول گرا چکا تھا جو بہہ کر اندر بچھڑے ایرانی قالین میں جذب ہونے لگا۔ اس نے آخری تھیلی میں چھوٹا سا سوراخ کیا اور پٹرول کی دھار سے ایک لکیر کھینچتے ہوئے اس نے حویلی کی دیوار سے ملائی اور واپس باہر نکلنے لگا۔حویلی کے کتے سو رہے تھے۔ اس نے خود کو روکنے کی کوشش کی مگر محبت غالب تھی۔ وہ قریب گیا اور کتے کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ کتا چند لمحے ویسے ہی پیار لیتا رہا مگر جیسے ہی ساتھ والے کتے نے مرتضیٰ کو دیکھا اس نے بھونکنا شروع کر دیا۔
سارے گارڈز آگ کو چھوڑ کر چوکنے ہوئے اس طرف بھاگے مگر وہ سکون سا بیٹھا، اس سفید کتے کے سر پر ہاتھ پھیرتا گیا۔ جی بھرا تو وہ سکون سے اٹھ کر باہر کی جانب جانے لگا۔ عین اسی لمحے پیچھے سے جھپٹتے ہوئے ایک گارڈ نے اس کے چوڑے کندھے پر اپنی بندوق کی نال رکھی۔ مرتضیٰ نے پلٹ کر دیکھا تو چاند کی روشنی میں اس کا قاتل نیم رخ اب پورا واضح ہوا۔
" مرتضیٰ داد ؟" بندوق پکڑے گارڈ کا ہاتھ یک دم لرزا۔
" تم یہاں کیا کرنے آئے ہو ؟"مرتضیٰ نے دو انگلیوں سے بندوق کو ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا۔
" تمہاری حویلی کو آگ لگانے آیا تھا۔" اس نے پُرسکون انداز میں کہا۔
" جاؤ، اپنی جان بچاؤ۔ یہ آگ تمہارے بعد تمہارے گھر والوں کو روٹی نہیں دے گی۔" وہ کہہ کر سکون سے پلٹا اور دروازے سے باہر نکل گیا۔ گارڈز وہاں کھڑے اس کی بات کا سچ جھوٹ تول رہے تھے۔ مرسلین گاڑی لیے تیزی سے اس کے قریب آیا۔ وہ گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی گھوم کر حویلی کی دائیں دیوار تک آئی۔ ہاتھ میں لائٹر جلا کر اس نے بھرپور مسکراہٹ سے شعلے میں ابھرتا مرسلین کا چہرہ دیکھا۔مرتضیٰ نے ایک آخری نظر اس سنہری حویلی کی طرف ڈالی، ایک ایسی نظر جس میں بدلہ ، غصہ اور عزت کا جھلسا ہوا جنون تھا۔
" میرے بھائی کی زمین کو آگ لگانے کا نتیجہ !" اس نے جلتا ہوا لائٹر پٹرول کی لکیر پر پھینک دیا۔
اگلے ہی لمحے حویلی کی دیوار سے ایک چھوٹا سا آگ کا شعلہ اندر کی جانب بڑھا اور دیکھتے ہی دیکھتے در و دیوار نے آگ پکڑ لی ۔
ایک دھماکے کے ساتھ پٹرول نے پوری حویلی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔
" بھاگو!" مرسلین جیپ میں کھڑا ہو کر چلایا۔ پھر تیزی سے بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی۔ سب اپنی اپنی گاڑیوں کی طرف دوڑے اور گاڑیاں اسٹارٹ کرکے مرتضیٰ کا انتظار کرنے لگے جو اطمینان سے کھڑا، جلتی ہوئی حویلی کو دیکھ رہا تھا۔ چہرے پر پچھتاوے کا کوئی نشان نہیں تھا، صرف وہی سفاک غصہ جو اس کی رگوں میں دوڑتا آیا تھا۔ اس نے جیپ کی پچھلی سیٹ سے گٹار اٹھایا اور جیپ کے بونٹ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ مرسلین نے پھٹی آنکھوں سے اس تلون مزاج، غیر متوقع اور نا قابل پیش گوئی انسان کو دیکھا اور سر پیٹ لیا۔
" یا رب کعبه ! یا خدائے واحد و یکتا ۔۔۔اس لڑکے کو ہدایت دے۔"
وہ جیپ کے بونٹ پر بیٹھا اور گٹار کی تاروں پر انگلیاں پھریں، ایک مدھم سی دھن فضا میں گونجی جو جلتی ہوئی لکڑیوں کے کڑکڑانے کی آواز کے ساتھ ایک عجیب سا آہنگ پیدا کر رہی تھی۔ اس نے آنکھیں موند کر خود کو کسی کنسرٹ کے اسٹیج پر محسوس کیا۔
" سائیں ، یہ دھنیں بجانے کا وقت ہے کیا؟"
" میں تمہیں جوابدے نہیں۔" اس نے مسکرا کر ایک تیز نوٹ بجایا اور پھر پلٹ کر گاڑی میں آگ بگولہ ہوتے مرسلین کا چہرہ دیکھا۔
" ہر جنازے کا ایک مرثیہ ہوتا ہے ، مرسلین۔۔۔اور اس کے جنازے کے لئے اس سے بہتر دھن ممکن نہیں۔"
سامنے دوسری منزل کے کمرے کی کھڑکی کھلی۔ آگ کے شعلے دیکھنے کے بعد افسر خان کی نظر مرتضیٰ پر پڑی۔ آگ کی زرد روشنی میں اس کا چہرہ مطمئن دکھتا تھا، نیلی آنکھوں میں للکار تھی۔ افسر علی خان نے اس کا چہرہ دیکھا تو مرتضیٰ مسکرا دیا، بائیں ابرو ماتھے کو چھو کر واپس آئی۔ بڑی مہارت سے گٹار پر انگلیاں چلاتا، وہ اس تباہ کن منظر کا اکیلا موسیقار تھا، جو کسی کی راکھ ہوتی سلطنت پر فتح کے راگ الاپ رہا تھا۔
وہ گاڑی میں بیٹھا ٹائر چیخے، گاڑی اندھیرے میں غائب ہو گئی، افسر خان کے لیے یہ رات صرف ایک حملہ نہیں تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اسے پہلی بار احساس ہوا کہ مرتضیٰ سے لوگ یوں ہی پناہ نہیں مانگتے تھے۔
بیس منٹ بعد، افسر خان حویلی سے ذرا دور کھڑا اپنی جہنم زار ہوئی سلطنت کو دیکھ رہا تھا کہ اس کا منشی اس تک دوڑتا ہوا آیا۔
" خان صاحب، میں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا۔ ارتضیٰ کی کسی چیز کو نقصان مت پہنچائیے گا ورنہ یہ قابو نہیں آئے گا۔ جس رفتار سے آگ لگی ہے، آگ بجھانے کے بجائے گارڈز بھاگ گئے ہیں اور کتے بھی غائب ہیں۔
یہ کوئی باقاعدہ فن ہے۔ سنا تھا وہ سرحد پار سے کوئی خاص فن سیکھ کر آیا ہے، جس نے اس کی ذات سے خوف کا عنصر نکال پھینکا ہے۔ یہ اسی کا کام لگتا ہے ۔ "اس نے دھوئیں کی طرف اشارہ کیا۔
" لوگ کہتے ہیں وہ لڑتا نہیں ہے پر حساب برابر رکھتا ہے۔اس کے ہاتھوں کی صفائی بتا رہی ہے کہ یہ کسی بین الاقوامی میدان کا منجھا ہوا شکاری ہے۔ یہ مرتضیٰ داد کا کام ہے، سائیں!"
" بکواس بند کرو تم، جانتا ہوں میں یہ سب، یہ چھٹانک بھر کا لڑکا میری حویلی کو شعلہ بار کر کے میرے سامنے جشن منائے گا اور میں اسے کچھ نہیں کہوں گا؟ ان لوگوں نے پہلے بھی ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اور اب یہ ۔۔۔"
☆ ☆ ☆
رات کا اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ تقریباً گیارہ بجے کے قریب وہ افسر خان کی سنہری محل جیسی حویلی کو شعلہ بار کرکے پرُسکون سا واپس آ رہا تھا۔
گلے میں لٹکتی چین کو گھماتا وہ حویلی داخل ہوا تو ارتضیٰ کی گاڑی کھڑی تھی۔ وہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھا مگر ارتضیٰ کہیں نہیں تھا۔ گل بانو نے بتایا کہ فراز کھیتوں کی آگ کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ وہ وہیں سے واپس بھاگے اور پوچھتے پچھاتے کھیتوں کے قریب بنے ایک چھوٹے مکان میں داخل ہوئے۔ اندر فراز چارپائی پر پڑا تھا۔ اس کا بازو بری طرح جھلس گیا تھا۔آدھے سر کے بال اور دائیاں کان بھی جل گیا تھا۔
سامنے ارتضیٰ بیٹھا اس کے بازو پر ایک ٹیوب لگا رہا تھا۔ ساتھ میں ڈاکٹر اور ایک کمزور سی لڑکی دوپٹے سے بے پروا کھڑی رو رہی تھی۔ سبز سی آنکھیں سرخ تھیں، اس کا ایک ہاتھ بری طرح جلا ہوا تھا جس پر شاید وہ پہلے ٹیوب لگا چکی تھی۔ مرتضیٰ کی نظر فراز کی چارپائی پر پڑے اس آدھے جلے دوپٹے پر گئی۔ وہ مسکرایا جیسے کوئی راز دریافت کر لیا ہو۔
" سلام لالہ!"
" وعلیکم السلام ! مرتضیٰ ، کتنا نقصان ہوا ہے؟"
" سائیں ، کپاس کے کھیت بچا لیے ہیں۔ باقی جل گئے ہیں ۔" فراز نے نقاہت سے کہا۔
" اس معاملے کو تو دیکھتے ہیں۔ تم بتاؤ، تم کیسے جل گئے فراز؟" مرتضیٰ نے دو قدم قریب ہو کر پوچھا۔
" آپ لوگوں کی وجہ سے جلے ہیں، نقصان آپ کا، کھیت آپ کا، فصل آپ کی تو آگ یہ کیوں بجھائے؟" اس لڑکی نے مرتضیٰ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس بلند لہجے میں کہا کہ ارتضیٰ نے پلٹ کر اس کا چہرہ دیکھنا ضروری سمجھا۔ وہ اس کی آواز پہچان گیا تھا، آنکھیں اور خضاب لگے بال بھی۔
" اے لڑکی! " مرتضیٰ کا لہجہ تلخ ہوتا تبھی ارتضیٰ نے اسے ہاتھ کے اشارے سے خاموش کروایا۔
" اپنے حصے کی آگ خود بجھایا کریں۔ اگر ان کو آپ لوگوں کی وجہ سے کچھ ہو جائے تو آپ لوگوں کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر میں بے آسرا ہو جاتی۔ آپ لوگ میرا پہلے ہی بہت نقصان کر چکے ہیں۔ اب اپنے حصے کی آگ خود بجھائیں۔" وہ اپنی دھن میں کہہ کر اندر کمرے میں گئی پھر دھاڑ سے دروازہ بند کر لیا۔ ارتضیٰ کے لب مسکرائے، یہ وہی لڑکی تھی جو اس سے درِ شہوار کا پوچھنے آئی تھی۔ اتنی جرات اسی میں تھی۔
" سائیں، میں معافی مانگتا ہوں اس کی طرف سے۔"
" فراز آئیندہ اپنی جان کو کبھی خطرے میں مت ڈالنا، چاہے گندم جلے، کپاس یا میں۔ " ارتضیٰ کہہ کر کھڑا ہو گیا۔
" خیال رکھنا، جب تک ٹھیک نہیں ہو جاتے ۔ آرام کرو۔" وہ کہہ کر گھر سے باہر نکل آیا تھا۔ مرتضیٰ ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں اڑائے، اس کے پیچھے لپکا۔
" بھائی !"
" ابھی منہ بند رکھو۔" وہ کندھے اچکا کر اس کے پیچھے چلنا لگا۔
" تو خبر ہو گئی آپ کو۔"وہ رکا، مڑا اور مرتضیٰ کی آنکھوں میں دیکھا۔
" جس مقصد کے لئے تم یہ سب کرتے ہو نا وہ تم مر مٹ بھی جاؤ تب بھی پورا نہیں ہو گا۔ جس دیوار کو گرانے کے لئے تم خود کو ریزہ ریزہ کر رہے ہو وہ تمہارے لہو سے بھی نہیں پگھلنے والی۔ مرتضیٰ جو تمہارا نہیں ہے وہ کبھی تمہارا نہیں ہو گا۔ بھیک میں ملی قطرہ قطرہ محبت سے بہتر وہ نفرت ہے جو کم از کم عزت نفس مجروح نہیں ہونے دیتی۔ " وہ مرتضیٰ داد کی کٹھور ذات کو متزلزل کر کے آگے چلا گیا تھا۔ پیچھے وہ ساکن قدم لئے ان الفاظ کا بوجھ اٹھائے کھڑا رہ گیا۔
" جو میرا ہے، اسے میرا ہونا پڑے گا! چاہے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے۔"
" میں نے اس بات کو سمجھنے میں پانچ سال لئے اور تم چوبیس سالوں میں یہ بات نہیں سمجھ سکے ۔ افسوس!جو تمھارا نہیں ہے،وہ کبھی تمھارا نہیں ہوگا۔"
☆ ☆ ☆
قریب صبحِ صادق کا وقت تھا۔ فجر کے بعد کی ٹھنڈی ہوا ابھی تک گاؤں کی گلیوں میں بھٹک رہی تھی۔ لوگ آہستہ آہستہ مسجدوں سے گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے کہ اچانک حویلی کے باہر شور اٹھا۔ چوکیدار کی آواز گونجی، "سردار سائیں کو بلاؤ! باہر مسئلہ ہو گیا ہے!"
مرسلین سب سے پہلے دوڑ کر مردانے سے باہر نکلا۔چوکیداروں کے چہرے دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ معاملہ معمولی نہیں۔ وہ بھاگتا ہوا مرتضیٰ کے کمرے تک پہنچا اور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔
"سائیں! باہر آ جائیں، فوراً !" ارتضیٰ کے کمرے میں جلتی ہوئی روشنی اس کے جاگنے کی اطلاع دے رہی تھی۔ مرسلین نے دروازہ کھولا، وہ سامنے مصلے پر کھڑا تھا۔
" سائیں نیچے آ جائیں ۔" ارتضیٰ کو کہہ کر وہ واپس نیچے دوڑا۔
مرتضیٰ نے چادر اپنے کندھے پر ڈالی اور دالان میں نکل آیا۔ افسر خان اپنے چاروں بیٹوں کے ساتھ مردان خانے میں داخل ہو چکا تھا۔ مرسلین اندر داخل ہوا تو منظر دیکھ کر رُک گیا۔ افسر خان اپنے چاروں بیٹوں کے ساتھ سینہ چوڑا کیے کھڑا تھا۔سب کے چہروں پر جلال، مٹھیاں بند اور آنکھوں میں ابھرتی انتقام کی لکیریں ۔ افسر خان نے بلند آواز میں للکارا۔
"حسن داد!" لیکن تبھی اس کی نظر مرسلین کے پیچھے سے نکل کر آتے مرتضیٰ پر پڑی، مرتضیٰ کی پھاڑ کھانے والی نیلی آنکھیں، بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ سامنے آیا تو ماحول کا درجہ حرارت بڑھ گیا۔
"اس حرام ۔۔۔ نے میری حویلی کو آگ لگائی ہے!" مرتضیٰ نے ایک پل میں آگے بڑھ کر افسر خان کا گریبان مٹھی میں جکڑا۔
" تُوں نے میرے کھیتوں کو آگ لگائی تھی۔ میں نے تیری حویلی پھونک دی۔ حساب برابر!" اس کے چاروں بیٹے مرتضیٰ کی گرفت اس پر سے چھڑوا رہے تھے۔
" سائیں اسے چھوڑو، مرتضیٰ سائیں رک جاؤ ۔ بات کرنے دو۔" مرسلین کی آواز کا اس پر کوئی اثر نا ہوا۔ اس نے دھکا دے کر افسر خان کو صوفے پر پھینکا۔ اس سے پہلے وہ دوبارہ جھپٹتا مردان خانے میں ایک آواز گونجی ۔
" مرتضیٰ!" ارتضیٰ مردان خانے میں داخل ہوا، سفید لباس، ماتھے سے بال سمٹ کر دائیں جانب گر رہے تھے اور چہرہ ۔۔۔ جھیل کے ساکت پانی کی طرح پرُسکون ۔
" جی بھائی؟" مرتضیٰ کے لہجے کی تمازت برف کی طرح پگھلی اور اس نے پلٹ کر بہت نرمی سے پوچھا۔
" میں بات کرتا ہوں۔ " وہ مرکزی صوفے پر پرُسکون سا بیٹھ گیا۔
" جی بہتر ۔" مرتضیٰ اس کی بات سن کر واپس اس تک آیا اور ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گیا۔ ارتضیٰ کی آنکھیں سیدھی افسر خان پر جمیں۔
"افسر علی ۔۔۔" اس کی آواز دھیمی تھی مگر تیز رفتاری سے کمرے میں پھیل گئی۔
"کھیتوں پر آگ لگانا جرم تھا اور ہر جرم اپنی قیمت وصول کرتا ہے۔
یہ ہونا ہی تھا، تم نے آگ لگائی، اب دھواں تو اٹھے گا۔"
" اے لڑکے ۔۔۔ بہت بکواس کر لی تو نے۔" افسر کے بڑے بیٹے نے دھاڑ کر اس کی بات کاٹی۔
" ایک دفعہ میرے بھائی سے اس لہجے میں دوبارہ بات کر اور میں تجھے یہیں چیر کر دو حصّوں میں تقسیم نہ کر دوں تو کہنا۔" مرتضیٰ کی آواز اتنی خار دار تھی کہ مردانے میں لمحوں کے لئے خاموشی چھا گئی۔
مرتضیٰ کی دھمکی پر زارون خان آگے بڑھا، مگر ارتضیٰ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے وہیں روک دیا۔
" افسر علی ۔۔" ارتضیٰ کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ سننے کو سانسیں روک لینا درکار تھا۔
" تمہیں لگتا ہے ہم یہاں صرف تمہاری حویلی کی راکھ کا ماتم کرنے بیٹھے ہیں؟" اس نے آرام سے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی اور جیب سے اپنا فون نکال کر میز پر رکھ دیا۔ اسکرین پر ایک لائیو ویڈیو چل رہی تھی۔ افسر خان نے جھک کر دیکھا تو اس کا رنگ فق ہوگیا۔
ویڈیو میں افسر خان کا گودام نظر آ رہا تھا جہاں اس کا سارا اسلحہ اور کروڑوں کا مال رکھا ہوا تھا اور وہاں مرتضیٰ کے بندے پٹرول کے کین لیے کھڑے کسی ایک اشارے کے منتظر تھے۔
" تمھارے چار بیٹے یہاں میرے سامنے بیٹھے ہیں۔" ارتضیٰ نے بہت پیار سے زارون خان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
" اور تمھاری پوری زندگی کی کمائی، ایک اشارے پر خاک ہونے کی منتظر !" ارتضیٰ نے آنکھ کے اشارے سے فرش پر گرے پٹرول کی طرف ان کی توجہ دلائی۔ مرسلین کے آگے ہاتھ پھیلایا تو اس نے ارتضیٰ کی ہتھیلی پر لائٹر رکھ دیا۔
" اب بتاؤ ۔۔۔ بات ختم کرنی ہے یا نسل؟" پورے مردانے میں موت جیسی خاموشی چھا گئی تھی۔ افسر خان کی آنکھوں میں اب جلال نہیں، بےبسی تھی۔ اسے سمجھ آ گئی تھی کہ وہ ارتضیٰ حسن کے جال میں خود چل کر آ یا تھا۔
افسر خان نے ایک گہرا سانس لیا، اس کی مٹھیاں اب ڈھیلی پڑ چکی تھیں۔اس نے اپنے بیٹوں کو دیکھا اور پھر خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس حویلی نے اس کا ایک بیٹا پہلے بھی نگل لیا تھا۔ وہ اب باقیوں پر رسک کیسے لیتا۔
" چلتے ہیں ۔" افسر نے بوجھل آواز سے آنکھوں میں سلیمان کا چہرہ سموئے کہا اور آگے بڑھ گیا۔
" آج تم یہاں سے زندہ جا رہے ہو،یہ میرا فیصلہ ہے مگر کل تم زندہ رہو گے یا نہیں ، یہ تمہارے اگلے قدم پر منحصر ہے۔" افسر خان کے چاروں بیٹوں نے چونک کر اس کا چہرہ دیکھا۔
" دشمنی کے پیچھے جان کے سودے کرنا عقلمندی نہیں۔
ایک مر گیا تو اس کے پیچھے دوسروں کی جان داؤ پر لگانا بیوقوفی ہے۔ " وہ پانچوں جو طوفان کی طرح داخل ہوئے تھے، کسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح واپس چلے گئے۔ پورے مردان خانے میں ایک لمحے کو خاموشی ہو گئی۔ ارتضیٰ نے پلٹ کر دیکھا تو پیچھے فراز کھڑا تھا۔
" تمہیں کیسے معلوم کہ یہ آ جائیں گے؟"
" دشمن پر نظر رکھتا ہوں،سائیں! بے لگام تھوڑی نہ چھوڑ سکتا ہوں۔ ایک دن غفلت کیا برتی پوری کی پوری فصل راکھ ہو گئی۔ "
" شکریہ فراز، ہمیشہ میرے پیچھے کھڑے رہنے کے لئے۔ " فراز نقاہت شدہ چہرے سے بھی مسکرا دیا۔
" وہ لڑکی۔۔۔ رخسار تھی نا؟"
" نام نہ لیں، سائیں۔" وہ نظر جھکا کر منت کرتے ہوئے بولا۔
" او ۔۔۔ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی ۔" مرتضیٰ پیچھے سے بولا تو فراز نے خفگی سے ارتضیٰ کا چہرہ دیکھا۔
" مرتضیٰ، مت تنگ کرو اس کو۔ وہ حساس ہے اس معاملے میں۔"
" اوئے، میں نے کب تنگ کیاتجھے ؟ اتنے سالوں بعد محترمہ کا نام معلوم ہو رہا ہے تو ۔۔۔"
" مرتضیٰ عقل نہ ہو تو منہ صرف کھانے کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔" ارتضیٰ نے شال گلے سے نکال کر کندھوں پر ڈالتے ہوئے کہا۔
" میں نے کون سا اس پر ڈوریں ڈال لینی ہے یا اس کا نام گاؤں کے چوک میں لٹکا دینا ہے۔" فراز نے مزید منہ بنا کر ارتضیٰ کو دیکھا۔
" الجھتے رہو دونوں، میں نکل رہا ہوں۔"
" کہاں؟ لالہ!ابھی رک جاؤ ۔"
" نہیں مجھے لاہور جانا ہے۔ مرسلین سے کہو، گاڑی تیار کرے۔" وہ پلٹا تو پیچھے حسن داد کھڑ ے تھے۔
" یہاں کیا ہو رہا ہے ؟"
" کچھ نہیں، ابا یہ دونوں حسب معمول الجھ رہے ہیں۔" وہ کندھے اچکا کر نکل لیا۔ حسن کو افسر خان کی آمد کا بتانا جنگ عظیم سوم کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔
☆ ☆ ☆
لاہور کی فضا میں سردیوں کی پہلی بارش کی خوشبو گھل رہی تھی۔باہر رات اندھیرے اور ٹھنڈ میں ڈوبی تھی۔کھڑکی کے پردے ہوا کے ساتھ جھول رہے تھے۔سَحر فرش پر بیٹھی، گھٹنوں میں چہرہ چھپائے، بھوک کی شدت کو ضبط کرتی جا رہی تھی۔وہ اب یہ تسلیم نہیں کرنا چاہتی تھی کہ وہ کسی کی منتظر ہے۔
مگر تھی۔
گھڑی نے سات بجائے۔ بیس گھنٹے مکمل ہو چکے تھے۔ صبح سے صرف بسکٹ کھانے کے بعد اب اسے اپنا آپ نڈھال محسوس ہو رہا تھا۔ ارتضیٰ حسن کی قدر ہو رہی تھی۔ دل کی دھڑکن بے وجہ تیز ہو گئی تھی ۔ آنکھیں اب شرمندگی سے سرخ و نم سی تھیں۔ شاید وہ اس بتمیزی کو دل پر لے چکا تھا تبھی پلٹ کر واپس نہیں آیا تھا۔ابھی وہ اپنی سوچوں کی منجدھار میں بہہ رہی تھی کہ وہی جانی پہچانی دبی ہوئی آہٹ، وہی چابی کی ہلکی سی کھنک ہوئی اور پھر بارش میں بھیگے سرخ ہاتھ منڈیر پر ابھر آئے۔ سحر کی آنکھیں یک دم بھیگ گئیں، وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ اوپر چڑھا تو اس کی کلائی سے بازو تک سفید پٹی بندھی تھی۔ چہرے پر چند خراشیں واضح تھیں اور دائیں ابرو کے بالکل اوپر ایک سنی پلاسٹک لگا رکھا تھا۔
"آپ کو کیا ہوا؟" سَحر کی آواز اپنے آپ کانپ گئی، مسکراہٹ سمٹ کر کہیں دور جا گری۔ وہ اسے دیکھ کر بری طرح متاثر ہوئی ، آنکھوں کی نمی آنسوؤں کی صورت باہر امڈ آئی۔ ارتضیٰ نے گہری سانس لی، گیلے بال ماتھے سے پرے کیے۔
" ایک لڑکے کی موٹر سائیکل پھسل گئی تھی تو بس گاڑی میں لگی اور ایکسیڈینٹ ہوگیا۔اسے زیادہ چوٹیں لگی تھی تو بس اس کے ساتھ ہسپتال میں وقت لگ گیا، میں تو ٹھیک ہوں۔ الحمدللہ۔۔۔ بچ گیا۔ شکر الله کا ۔" سَحر کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر سارا خون نچوڑ دیا ہو۔ اسے یک دم سینے میں ٹیس سی اٹھی۔
"یہ شکر کرنے والی بات ہے؟ آپ زخمی ہیں، خون بہہ رہا ہے!" وہ غصے سے بولی تو ارتضیٰ حسن کی ناک میں کسی جان لیوا سازش کی بو پھیلی۔ بھوری آنکھیں دنیا سے بےپرواہ ہو کر اُس عورت کو دیکھنے لگیں جس کی آنکھیں سب کہہ دینے کی عادی تھیں۔ اور جو جذبہ وہ اِس وقت اُس کی آنکھوں میں پڑھ رہا تھا وہ اُس سے اُس کی سرداری بھی چھین سکتا تھا۔۔۔ مگر دماغ میں بیٹھی کسی ہمکلام آواز نے اُسے یقین دہانی کروائی کہ اُس کے بازؤں میں اتنا دم ہے کہ وہ بغاوت کو سنبھال سکتا ہے۔ ہلکی سی ہنسی کے ساتھ اس نے سر جھکایا۔سحر کا بیٹھتا دل یک دم جان پکڑ کر جسم میں خون کی گردش کو بڑھانے لگا۔
"ہاں۔ شکر کرنے والی بات ہے۔
اگر کچھ اور ہو جاتا۔۔۔ اگر آج میں اپنی سانسوں کی مہلت ہار جاتا تو آپ آج بھوکی سوتیں۔
اللہ نے زندگی دی۔۔۔ شاید اس لیے کہ وہ مجھے آپ کے رزق کا وسیلہ بنائے رکھنا چاہتا ہے۔
آپ کے نام پر ملی اس مہلت کے لیے شکر ہے۔" اس کی بات کانوں سے ہوتی دماغ تک پہنچی تو سَحر ساکت رہ گئی۔ ان بھوری آنکھوں میں ایسا کیا تھا جو اس کی روح میں اترنے لگا تھا؟ اس نے زندگی میں شکر کا صرف ڈنڈا دیکھا تھا۔یہ نرمی۔۔۔ یہ تو اس نے کبھی سوچی بھی نہیں تھی۔ اس نے دیکھا کہ ارتضیٰ ہاتھ میں کچھ پیکٹ لیے کھڑا ہے۔
"آپ اتنی تکلیف میں بھی۔۔۔ کھانا لائے ہیں؟"
"ہاں۔ لیکن اگر بھوک نہیں ہے تو ہم بعد میں کھا لیں گے۔کوئی جلدی نہیں۔" وہ مسکرا رہا تھا مگر چہرے پر تھکن واضح تھی۔
یہ ایک بہت چھوٹا جملہ تھامگر اس نے سَحر کے اندر پڑا قفل کھول دیا۔ اسے داؤد کی آواز یاد آئی،
" کیا مطلب بعد میں کھاؤں گی؟ اللہ تعالیٰ نے رزق دیا ہے اور تم اسے انتظار کرواؤ گی؟ ناشکری عورت!" سَحر نے بہت آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر پیکٹ تھاما۔اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔
"آپ ہمیشہ پوچھ کر کیوں بولتے ہیں؟"اس کی آواز زخموں کی گہری کھائی سے نکلی، حلق میں گرہ سی اٹک رہی تھی۔ نظر اٹھا کر اس کا چہرہ نہیں دیکھا گیا، کیا ہوتا جو وہ کوئی انکہا راز جان جاتا۔ ارتضیٰ چند لمحے اسے دیکھتا رہا جیسے ایک ایک آنسو، ایک ایک یاد، ایک ایک چیخ وہ سن سکتا ہو۔
"کیونکہ اختیار چھین لینا ظلم ہے اور اختیار دے دینا محبت!"
سَحر کے اندر کہیں بہت پرانا زخم۔۔۔آہستہ سے مرہم ملنے پر سکون پانے لگا، نگاہ بے اختیار ہو کر اٹھی اور فانوس کی زرد روشنی میں سنہری دکھتی آنکھوں سے ایسا تصادم ہوا جو اس کی پوری ذات کو متزلزل کر گیا ۔ وہ پہلی بار، ارتضیٰ کی آنکھوں میں سیدھا دیکھ سکی۔
نہ نیکی کا دکھاوا۔
نہ مذہب کا لیبل۔
نہ حکم۔
نہ ملکیت۔
صرف۔۔۔انسانیت!
"کیا۔۔۔ سب مرد ویسے نہیں ہوتے؟"یہ سوال نہیں تھالیکن سوال کی طرح پیش کیا گیا۔
"نہیں!
لیکن کچھ۔۔۔ کوشش کرتے ہیں کہ وہ ویسے نہ ہوں جیسے باقی ہیں۔" بارش باہر گر رہی تھی اور اندر۔۔۔ برف پگھلنے لگی تھی۔
"ارتضیٰ۔۔۔"
"جی؟"
"آپ۔۔۔ ٹھیک ہیں نا؟"
یہ سوال عام تھا مگر زندگی بدل دینے والا تھا کیونکہ آج سَحر نے سَحر سراج بن کر پھر سے کسی اور کے درد کی فکر کی اور یہی healing کی طرف پہلا قدم تھا۔ارتضیٰ نے سر جھکا کر دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،" الحمداللہ۔" پنجرے کی ایک سلاخ آہستہ آہستہ ڈھیلی ہو گئی۔
اور اس دنیا میں کوئی ایسا تالا ایجاد ہی نہ ہوا تھا جسے میٹھے لہجے سے کھولا نہ جا سکتا ہو۔
کوئی ایسا دروازہ وجود ہی نہ رکھتا تھا جو میٹھے لہجے سننے کے بعد بھی اکڑ کھڑا رہتا ۔
اور یہی تو تھا عقل مندوں کا طریقہ ، حالات نیگیٹو ہوں تو خود پازیٹو ہو جاؤ ۔۔۔ زندگی خود با خود ہی نیوٹرل ہو جاتی ہے۔
" ہم آپ سے سوری کہنا چاہتے تھے، کل ہی مگر آپ نے سوری کے لیے کوئی نمبر ہی نہیں بتایا ۔"
" اسی لیے نہیں بتایا تاکہ آپ سوری نہ کہیں۔ آپ سے سوری کروا کر مجھے کون سا عروج مل جائے گا۔"
" لیکن ہمارے دل پر بوجھ ہے، ارتضیٰ یقین کریں ہم بالکل بھی بدتمیز اور بےلحاظ نہیں ہیں لیکن معلوم نہیں کیا ہوا تھا ہمیں ؟ ہمیں آپ میں داؤد نظر آ رہے تھے۔ ہم آپ کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتے تھے ہمیں لوگوں کا دل دکھانے سے بہت ڈر لگتا ہے۔ " اس کی آنکھوں سے بہنے والی نمی اس کی سچائی کی گواہ تھی۔
" آئی ایم سوری!"
" سَحر، میں آپ کو سمجھتا ہوں۔ انسان اتنے وقت سے اکیلا اور تکلیف میں رہ رہ کر چڑچڑا ہو جاتا ہے۔
میرا دل نہیں دکھا، اٹس اوکے!" ارتضیٰ اس لڑکی کو اتنی سی بات پر روتا دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا تھا۔ اس نے ہمیشہ سنا تھا کہ عورتیں معافی نہیں مانگتی مگر یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی تھی۔
" اگر آپ رونا بند نہیں کریں گی تو میں چلا جاؤں گا۔" سَحر نے اس کا چہرہ دیکھا اور اپنے آنسو صاف کر دیے۔ لوگ کہتے ہیں کہ شہزادے لڑکیوں کو بچانے کے لیے کہانی میں آتے ہیں لیکن جنہیں اللہ وسیلہ بنا کر ہماری مدد کے لیے بھیجتا ہے وہ بھی شہزادے ہی ہوتے ہیں۔
" مسکرایا کریں کہ مسکرانا سنت ہے۔" وہ بالکنی سے زرا اندر کو سمٹ کر بارش سے بچ کر کھڑا تھا۔
" ہمارے پاس مسکرانے کے لیے کوئی وجہ نہیں ہے۔"
" آپ سنت سمجھ کر مسکرایا کریں۔ "
" آپ یہ دین والی باتیں نہ کیا کریں، ہمیں اس دین کے زہر سے دور ہی رکھیں۔"
" اچھا ۔ ۔ ۔ " وہ اس کی حالت سمجھ کر بولا۔
" پھر آپ سائنس سمجھ کر مسکرایا کریں کیونکہ مسکرانے سے ہمارے جسم میں خوشی کے ہارمون پیدا ہوتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں ہم خوشی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ تبھی ہمارے آقا صَلَّى ٱللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے مسکرانے کو سنت بنایا۔
مسکراتے رہنا چاہیے کہ زندگی بہت مختصر ہے، سحر صاحبہ!" سحر نے اس کا پروقار چہرہ دیکھا۔ ارتضیٰ کی نرم گوئی اس کے دل میں کہیں نہ کہیں ہر بات کی جگہ بنا لیتی تھی۔
" ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں رنگ ختم ہوتے جا رہے ہیں ۔"
" آپ میں رنگ ختم ہو رہے ہیں ۔ آسمان تو نیلا ہی ہے لیکن آپ کی آنکھیں اس کی ٹھنڈک کو جذب نہیں کر پا رہیں۔۔۔ اپنے رنگوں کی حفاظت کریں، یہ ایک بار گئے تو واپس آنے میں بہت وقت لگا دیں گے۔"
دو ماہ بعد:
دن ایسے ہی گزرنے لگے، ارتضیٰ حسن پر اعتماد بڑھتا جا رہا تھا۔ اُس کی آمد کا انتظار کرتے وقت گزرنے لگا تھا۔ آج بھی اُس نے سَحر کی مایوس آنکھوں کو دیکھا تو پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
"آپ اُداس معلوم ہوتی ہیں!" سحر بالکونی کے دروازے کے ساتھ زمین پر بیٹھی تھی۔
" نہیں بس ایک پرانا زخم یاد آ گیا تھا۔"
" سحر ، مجھے بس ایک بات پر حیرت ہوتی ہے کہ آپ جیسی باشعور لڑکی اُس جانور کے قابو کیسے آ گئی؟"
" ہم اپنی مرضی سے ان کے قابو نہیں آئے تھے۔"
" عورت ہمیشہ اپنی مرضی سے اپنے مرد کے قابو آتی ہے ورنہ عورت بہت طاقتور ہوتی ہے۔"
" ہم طاقتور نہیں، اور کیا مطلب ہے آپ کی بات کا ؟ ہم ان کے نکاح میں تھے ۔۔۔ ہم ۔"
" یہی بات ۔۔۔" اس نے چٹکی بجا کر سحر کی بات کاٹی۔
" اس وجہ سے آپ نے خود کا دفاع نہیں کیا کیونکہ آپ نے خود کو اُس کی بیوی نہیں جاگیر سمجھ لیا تھا۔"
" یہ سب باتیں تو اب فضول ہیں لیکن ہم سوچ رہے ہیں ارتضیٰ۔۔۔ ہم نے زندگی میں ایسا کیا کیا ہے کہ ہمیں اتنی بڑی سزا مل گئی؟ دنیا ہمارے لیے قید خانہ کیوں بن گئی ہے؟" ارتضیٰ باہر پوری آب و تاب سے چمکتے چاند کو دیکھ رہا تھا اور سَحر اُس کی پشت کو۔
" حدیث میں آیا ہے کہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے۔ تو اصل میں آپ کو تو شکر گزار ہونا چاہیے۔"سَحر کے لبوں پر بےاختیار تلخی ابھری، سر جھٹک کر وہ اٹھی اور ایک قدم آگے آئی۔
"شکر گزار کس چیز پر؟ ہماری ساری دنیا اجڑ گئی، ہمیں طلاق ہو گئی، ہمارا شوہر ہمیں اُس قید خانے میں مرنے کے لیے چھوڑ گیا اور ہم شکر کریں؟ کس بات کا شکر؟" وہ جھنجھلاہٹ سے بولی۔ اُس نے ارتضیٰ کی پشت کی جانب دیکھتے ہوئے بلند آواز سے کہا،"ادھر پلٹیں ! ہمیں جواب دیں۔"ارتضیٰ نے فلک پر چمکتے ماہِ تمام سے نظریں ہٹائیں اور نہایت طمانیت سے رخ موڑا۔ اُس کے سامنے سحر کھڑی تھی، جس کے چہرے پر غصہ اور آنکھوں میں استحقاق کے شعلے رقص کر رہے تھے۔ ارتضیٰ نے ایک نظر چاند کو دیکھا اور دوسری نظر اُس کے معتبر چہرے کو، اُسے دونوں کے حسن میں کوئی خاص فرق نہیں نظر آیا۔
" آپ مری تو نہیں نا؟" سحر نے گڑبڑا کر اُس کا چہرہ دیکھا۔
" خدا نے آپ کو زندہ رکھا ہے۔آپ کو بن مانگے رزقِ جاں عطا ہو رہا ہے اور مجھے آپ کی خدمت پر معمور کر دیا گیا ہے۔ یہ سب آپ کو نظر نہیں آتا؟" انتہائی شائستگی کے باوجود اُس کے لب و لہجے سے بھرپور جتانے والا انداز جھلکا۔
" آپ اُس خدا سے دنیا مانگ رہی ہیں، جو آپ کو جنت دے سکتا ہے؟
یہ دنیا تو اتنی ہی دیر کی ہے جتنی دیر آپ یہاں ہیں۔
جس دن جان نکل گئی نا۔۔۔ اُس دن سب ختم۔
رشتے، محبتیں، دوستیاں، دولت، اولاد، شریکِ حیات۔۔۔ سب ختم۔"
"سب ختم؟ ارتضیٰ !اتنی اذیتوں کے بعد سب ختم؟ تو پھر خدا ہمارے لئے کیا کر رہا ہے؟"
" آپ خدا کے لئے کیا کر رہی ہیں؟" اُس نے ترکی با ترکی پوچھا تو سَحر پل بھر کو چونکی۔
" ہم؟
ہم ایک اچھی انسان ہیں۔
ہم کسی کا دل نہیں دُکھاتے۔
ہم دوپٹے کے بنا باہر نہیں جاتے۔
ہم سب کا خیال رکھتے ہیں اور کیا کریں؟"
" آپ سب کرتی ہیں مگر اپنے خدا کو یاد نہیں کرتی!"
" کیا مطلب ؟ ہم بھی خدا کو مانتے ہیں۔"
" خدا کو ماننا اور خدا کی ماننا دو الگ الگ باتیں ہیں اور ان دونوں کے درمیان عشق کا وہ صحرا ہے جو ابھی آپ نے طے نہیں کیا ۔" ارتضیٰ نے دھیمے لہجے میں کہا تو سحر نے ایک طنزیہ مسکراہٹ سے اُسے ٹوکا۔
" بس کریں ارتضیٰ! یہ مذہب کا لیبل، یہ ہر بات پر خدا خدا ۔۔۔ داؤد بھی یہی کرتا تھا۔ ہر ظلم سے پہلے ایک آیت سناتا تھا، ہر اذیت کے بعد خدا کا خوف دلاتا تھا۔آپ بھی وہی کر رہے ہیں! بس آپ کا طریقہ ذرا نفیس ہے ۔" سحر کی آواز میں تلخی اور خوف دونوں کا ملاپ تھا۔ وہ ارتضیٰ کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی جیسے وہ ابھی اپنی پارسائی کا لبادہ اتار کر اُس بھیڑ کی کھال سے بھیڑیا نکل آئے گا۔ ارتضیٰ نے نظر اٹھا کر اُس کے چہرے کا ہر زاویہ ناپا۔ پھر وہ مسکرا دیا، ایسی مسکراہٹ جس میں طنز نہیں مروت تھی۔
" آپ ٹھیک کہتی ہیں ۔" اُس کے اعتراف پر سحر چونکی۔
" لوگوں نے مذہب کو ڈھال بنا لیا ہے، میں جانتا ہوں۔ جس کو کوئی ذریع معاش نہیں ملتا وہ اسلام بچنا شروع کر دیتا ہے۔ لیکن سحر ۔۔۔ اگر کوئی آپ کو زہر آب زم زم کہہ کر پلا دے تو قصور زہر کا ہے یا پلانے والے کا ؟" اُس نے آواز کو اتنا دھیما رکھا کہ سحر کو لگا وہ اُسے نصیحت نہیں کر رہا بلکہ اُس کے ساتھ مل کر کسی گتھی کو سلجھا رہا ہے۔
" میں آپ کو کوئی سبق نہیں پڑھا رہا۔ میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ اُس شخص کے دیے ہوئے زخموں کا قصوروار خدا کو کیوں بنائے بیٹھی ہیں۔ وہ اُس کی درندگی تھی، خدا کا فیصلہ نہیں۔" سحر خاموش ہو کر چند لمحے اُس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ ارتضیٰ حسن کا انداز اُسے کسی سخت طبیعت اُستاد کا نہیں بلکہ ایک مسافر کا سا لگا جو خود بھی اُس راستے کی دھول چھان چکا ہو۔
سحر کو محسوس ہوا کہ سامنے کھڑا شخص اُسے جج نہیں کر رہا، اُس کی باتوں میں وہ گھٹن نہیں تھی جو داود کے الفاظ میں ہوتی تھی۔ یہاں ' تمہیں یہ کرنا ہو گا' نہیں بلکہ ' تم یہ کیوں کر رہی ہو' کا ہمدردانہ سوال تھا۔ سحر کے گرد حصار باندھے کھڑی نفرت کی دیواریں لرزیں، اور پھر آہستہ آہستہ ڈھیر ہونے لگیں۔ کچھ لمحوں کی معتبر خاموشی کے بعد وہ اپنے دفاعی حصار سے باہر آ کر شکوہ کرتے انداز سے بولی۔
" ہم روز الله سے ہزار دفعہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں یہاں سے نکال لے مگر وہ نہیں سنتا!
ہم اُس سے سکون مانگتے ہیں پر نہیں ملتا۔ ہم ۔۔" اُس نے پہلی بار اپنے دل کا حال خوبصورت آنکھوں والے اُس مرد کے سامنے رکھا۔
"جن کے نصیب میں دنیا کا سکون نہیں لکھا ہوتا ان کے لئے آخرت کی بہشتیں آراستہ کی جاتی ہیں مگر اُس معراج کی پہلی شرط تسلیم و رضا ہے۔
اپنے وجود کو خدا کی مرضی کے تابع کرنا۔"
"مطلب۔۔۔ یہ سب کچھ ہم بس چپ چاپ ایسے ہی برداشت کرتے رہیں؟ ارتضیٰ، ہمارا قصور کیا ہے؟ ہمارا گناہ کیا ہے؟"
"قصور یا گناہ نہیں۔۔۔ آزمائش!" اُس کا لہجہ ریشم سا ملائم تھا۔
" خدا جب اپنے کسی بندے کو نوازنے کا ارادہ کرتا ہے تو پہلے اُسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔ اگر آپ پر یہ سب آیا ہے، تو سمجھ لیجیے کہ اُس کا اجر بھی بہت بڑا اور مسرت بخش ہوگا۔"
"ہم بھی ایک زمانے میں ایسا ہی سوچا کرتے تھے۔ سب کچھ مثبت دیکھتے تھے۔ مگر اب۔۔۔ اب ہم پوزیٹو سوچ ہی نہیں پاتے۔ ہم منفی ہو گئے ہیں۔" ارتضیٰ نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا۔
"فرق ہے، پوزیٹو سوچنے اور خدا پر یقین رکھنے میں فرق ہے۔
پوزیٹو سوچ یہ ہے کہ انسان بار بار خود کو دلاسہ دے کہ سب اچھا ہے، سب اچھا ہوگا لیکن جیسے ہی کوئی مشکل آتی ہے، وہ پوزیٹیویٹی ٹوٹ جاتی ہے۔
لیکن خدا پر یقین۔۔۔ وہ مشکل آنے کے بعد اور مضبوط ہوتا ہے۔ آزمائش جتنی بڑھتی ہے، انسان اپنے رب کے اور قریب جاتا ہے، اور اُس سے اور زیادہ یقین سے مانگنے لگتا ہے۔آپ پوزیٹو سوچتی تھیں، میں خدا پر یقین رکھتا ہوں۔" چند لمحے خاموشی سے سرکے تو اُس نے خود ہی اُس تسلسل کو توڑا۔
" بالوں کا یہ حال کیوں بنا کر رکھا ہے؟ اُس کو سلجھا کر ، سنوار کر کیوں نہیں رکھتیں؟
اُس کے پیچھے بھی داؤد کی کوئی احمق حرکت ہوگی؟" وہ ڈریسنگ ٹیبل کی نچلی دراز سے کچھ نکال رہی تھی۔
" داؤد کہتے تھے کہ نیک عورتوں کے بال لمبے ہوتے ہیں۔ ہم نے بہت تیل لگایا بالوں میں۔ " پھر اُس نے وہ تیل کی بوتلوں اور مہنگے شیمپووں سے بھری ٹوکری اُس کے سامنے رکھ دی۔
" دیکھیں، ہم نے اتنی کوشش کی کہ ہمارے بال بڑھ جائیں۔ نہیں بڑھے پتا ہے کیوں ؟
کیونکہ داؤد ٹھیک کہتے ہیں، ہم نیک عورت نہیں ہیں۔"
" اگر عورت کے نیک ہونے کا پیمانہ اُس کے بالوں سے متعین کیا جاتا تو عورت کو بال چھپانے کا حکم نہ ہوتا نا ہی حج پر بال کٹوانے کا حکم آتا۔ بال زندگی میں عورت کی خوبصورتی ہوتی ہے اور موت کے بعد پردہ۔ اُس کے علاوہ ان کی کوئی شرعی یا اخلاقی حیثیت نہیں ہے،سحر۔"
" پھر ہمارے بال کیوں نہیں بڑھے؟"
" آپ صرف دو ماہ رہی ہیں اُس جاہل کے ساتھ۔ دو ماہ میں بال اتنے نہیں بڑھتے کہ آپ کو واضح طور پر نظر آئیں ۔ یہ آپ کا قصور نہیں، بلکہ آپ کے شعور میں داؤد نے جہالت کا جو زہر گھولا ہے، یہ اُس کا اثر ہے کہ آپ خود کو اُسی کے ترازو میں تول رہی ہیں۔"ارتضیٰ کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، "ویسے میں سوچ رہا تھا، ابھی آپ نے کہا کہ آپ دوپٹے کے بغیر باہر نہیں جاتیں۔ مگر یہاں آپ نے اُس کپڑے سے اُس قدر دوری اختیار کر رکھی ہے کہ اُس کی طرف ہاتھ تک نہیں بڑھاتیں ۔"
" نفرت ہے ہمیں دوپٹے سے، اس ایک کپڑے کے ٹکڑے نے ہمیں بہت برا پھنسا دیا۔ اُس کی وجہ سے داؤد نے دھوکہ کھایا کہ ہم پردہ دار اور بڑی کوئی پارسا ہیں۔"
" آپ کو اس کپڑے سے نفرت نہیں ہے، سحر۔ آپ کو اس جھوٹی پارسائی سے نفرت ہے جو داؤد نے اوڑھ رکھی تھی۔ آپ اُس سے بدلہ لینے کے چکر میں اپنی حیا کو داؤ پر لگا رہی ہیں۔"
" آپ کو کیسے معلوم کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟"
" کیونکہ حیا ایک لباس نہیں، ایک فطرت ہے۔" ارتضیٰ نے اُسے سچائی کا آئینہ دکھایا۔
" آپ کو معلوم ہے؟ آپ ابھی مجھ سے بات کرتے ہوئے بھی بار بار اپنی قمیض کا کالر ٹھیک کر رہی ہیں، اپنے بالوں پر ہاتھ پھیر کر دوپٹے کی کمی پوری کرنا چاہ رہی ہیں۔ آپ کے اندر کی عورت اب بھی باحیا ہے۔ بس آپ کا دماغ داؤد کی بنائی دنیا سے بغاوت کر رہا ہے۔ مگر آپ کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ جنگ آپ کی اپنے آپ سے ہے، داؤد سے نہیں ۔ وہ آپ کی زندگی سے جا چکا ہے۔"
" ہم۔۔۔" سحر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اُس کے پاس صرف وہ خاموشی تھی جو اعتراف شکست کے بعد پیدا ہوتی ہے۔
گونگی ہو گئی آج کچھ زبان کہتے کہتے
ہچکچا گیا خود کو مسلماں کہتے کہتے
" آپ نماز کیوں نہیں پڑھتیں؟"
" ہم نماز؟ ہاں۔۔۔ جمعہ کی پڑھ لیتے تھے۔"
" کیا صرف جمعہ کی نماز فرض ہے؟" سَحر نے اُس کا چہرہ دیکھا جس پر بلا کی نرمی سجی تھی۔ سَحر کا چہرہ سنجیدہ ہوا، نظریں جھک گئیں۔
" نہیں۔۔۔ مگر۔۔۔" وہ لا جواب ہوئی۔
توفیق نہ ہوئی مجھ کو اک وقت کی نماز کی
اور چپ ہوا موذن اذان کہتے کہتے
" پتا نہیں ہم کیوں نہیں پڑھتے؟ " ارتضیٰ نے سانس بھرا، پھر اُس کا معصوم چہرہ دیکھا۔
" نماز چھوڑنی نہیں چاہیے، سحر ۔ نماز دروازے کھولتی ہے۔ روح کے لیے بھی اور نور کے لیے بھی۔ دین کے لیے بھی اور دنیا کے لیے بھی۔"
" آپ کے مسائل کا حل آپ کے اپنے پاس موجود ہے۔ انسانوں کے تمام مسائل کا حل نماز اور تمام مسائل کی جڑ غفلتِ نماز ہے۔" سَحر نے اُسے غور سے دیکھا، جیسے اُس کی باتیں دل کے دروازے پر دستک دیتی محسوس ہو رہی ہوں۔
" آپ نماز پڑھتے ہیں؟" ارتضیٰ کے چہرے پر شکر و سکون کی لہر دوڑ گئی۔
" الحمدللہ۔" اُس کے چہرے پر جو سرشاری تھی وہ صرف خدا کی طرف سے حاصل کردہ سکون کے بعد ہی ممکن تھی۔ سحر نے چمک اٹھتی آنکھوں سے اس کا منور چہرہ دیکھا،بے شک وہ سچ کہہ رہا تھا۔
" کیسے پڑھ لیتے ہیں؟ ہمیں تو سمجھ نہیں آتا۔۔۔ وقت ہی نہیں ملتا۔"
" کیسے کا مجھے نہیں معلوم۔ بس مجھ سے نماز چھوڑی نہیں جاتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے روح خالی رہ جائے گی، جیسے دل بے سکون رہ جائے گا۔"وہ لمحہ بھر کو رکا، پھر آہستگی سے بولا ۔
" لیکن ایک اور وجہ بھی ہے جو مجھے ڈراتی ہے۔"
سَحر نے تجسس سے بالکنی کے قریب جا کر پوچھا، " وہ کیا ؟"
" یہ کہ جب اذان ہوتی ہے اور مؤذن کہتا ہے ’حیّ علی الصلاۃ‘ تو مجھے لگتا ہے جیسے خدا بلا رہا ہے۔ اور اگر میں اُس وقت نماز نہ پڑھوں۔۔۔ تو ایسا لگتا ہے جیسے خدا نے مجھے پکارا اور میں نے منہ موڑ لیا۔" سَحر کا تجسس کانٹا بن کر حلق میں اٹکا۔ وہ چند لمحے خاموش رہی پھر میز سے گلاس اٹھا کر ایک گھونٹ پانی پیا۔
" اذان تو ہم بھی روز سنتے ہیں ۔۔۔ لیکن ہم نے کبھی یوں نہیں سوچا۔" سحر کے لئے جیسے وہ انکشاف برداشت کرنا مشکل تھا۔
' خدا بلاتا ہے اور ہم پیٹھ پھیر کر بیٹھے رہتے ہیں؟
خدا بلاتا ہے؟ اذان خدا کی پکار ہے!' سَحر کا دل بیٹھ رہا تھا مگر اُس نے ظاہر نہیں کیا۔
یہ ارتضیٰ حسن نے اُسے خدا کا کون سا روپ دکھایا تھا جو اُس پر رعب طاری ہونے لگا تھا۔
" نماز ان کو ہی اپنی طرف بلاتی ہے جو نجات کی طرف جانا چاہتے ہیں۔" ارتضیٰ نے دھیرے سے مسکرا کر کہا۔
" خدا کے ہاں وقت کی قید نہیں ہوتی۔ بس نیت ہو تو وہ راستہ کھول دیتا ہے اور ایک بات بتاؤں ؟
" ہمم!" سحر نے لرزتے ہاتھوں سے پانی کا گلاس میز پر رکھا۔
" خدا بلاتا ہے اور ہم پیٹھ پھیر کر بیٹھے رہتے ہیں۔ ارتضیٰ، یہ کتنا بھیانک احساس ہے ۔" اس کی آواز میں بلا کا خوف تھا۔ اسے لگا یہ ارتضیٰ نہیں کوئی غیبی آواز اسے آئینہ دکھا رہی ہے۔ ارتضیٰ نے بالکنی کے پلر سے سر ٹکا کر آسمان کو دیکھا۔
" بھیانک نہیں سحر! یہ تو شکوہ ہے! آپ کو پتہ ہے اقبال نے ایک جگہ خدا کی طرف سے ہم انسانوں کا حال کیسے بیان کیا ہے ایسے لگتا ہے جیسے خدا خود ہم سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہو۔" اس کا لہجہ بدل گیا۔اب اس میں ایک درد تھا۔ "وہ کہتا ہے کہ۔۔۔
ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے، رہر وِ منزل ہی نہیں!"
" آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے خدا ایک ہمارے لیے ہی بیٹھا ہے۔۔۔"
" بالکل ! خدا اور اس کے بندے کے درمیان کوئی دیوار حائل نہیں ہوتی۔ یونہی سمجھ لیں کہ خدا ہمارے لیے ہی بیٹھا ہے۔" ارتضیٰ نے اسے وہ آخری امید دی جس کی اسے تلاش تھی۔
" وہ ہمیں راستہ دکھانے کے لیے تیار ہے ہم جیسے بھٹکے ہوئے لوگوں کو بھی؟"
"کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں"
"شان کئی؟" سحر نے الجھ کر پوچھا۔
" کئی یعنی بادشاہوں جیسی شان۔" ارتضیٰ مسکرایا۔
" خدا کہتا ہے کہ تم ڈھونڈنے والے تو بنو میں تمہیں صرف پرانی زندگی نہیں لوٹاؤں گا، میں تمہیں ایک نئی دنیا دوں گا جہاں کوئی داؤد تمہاری روح نہیں رکھرچ سکے گا۔" سحر ششدر رہ گئی ۔ یہ وہ اسلام نہیں تھا جس کے ڈنڈے سے داؤد اسے ہانکتا تھا یہ تو وہ خدا تھا جو بند دلوں پہ بادشاہت نچھاور کرنے کا وعدہ کر رہا تھا۔ یہ داؤد کا اسلام نہیں تھا، یہ ضرور کوئی دوسرا اسلام تھا، مختلف اور مخلص۔۔۔ کوئی سچا اسلام۔
☆ ☆ ☆
رات کے دس بجے کا وقت تھا، کمرے میں فانوس کی ہلکی روشنی تھی۔ سَحر بستر کے کنارے بیٹھی اپنے ہاتھوں کی لکیریں دیکھ رہی تھی۔دل عجیب سی بےچینی میں ڈوبا ہوا تھا وہی بےچینی جو ہر مشکل رات کے بعد اُسے جینے نہیں دیتی تھی۔
"جسے خدا چاہیے ہوتا ہے۔۔۔ وہ دنیا چھوڑ دیتا ہے۔"ارتضیٰ کی باتیں اُس کے ذہن میں گونج رہی تھیں ۔
سحر کے تپتے وجود میں ایک میٹھی لہر سرائیت کر گئی۔ اس نے سوچا،' کیا واقعی مٹی کا بنا یہ انسان اس مالکِ کائنات کو اس حد تک چاہ سکا ہے کہ اسے دنیا کی کسی چیز کی تمنا نہ رہے؟ اور اگر خدا کو چاہنے میں ہی سکون ہے تو کیا وہ سکون ہمارے اس اجڑے ہوئے قلب پر بھی اتر سکتا ہے؟' سَحر نے دھیرے سے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرے۔
اُس نے زندگی میں کبھی نماز کو " سکون " نہیں سمجھا تھا۔ اُس کے لیے نماز تو صرف وہ چیز تھی جس کے نام پر اُسے طعنے، مار، ظلم، زبردستی اور بے رحمی ملی تھی۔ وہ آہستہ سے اٹھ کھڑی ہوئی جیسے برسوں کی قید کے بعد کوئی قیدی زنجیروں سمیت چلنے کی کوشش کر رہا ہو۔ کمرے میں خاموشی تھی، مگر دل کسی انجانے شور کی زد میں تھا۔
" کوشش کر لیتے ہیں۔۔۔ "
اس نے وضو کی نیت سے باتھروم میں قدم رکھا، پانی ہاتھوں سے چہرے تک پہنچا تو ایک انوکھی ٹھنڈک دل تک گئی۔ وضو کا پانی تولیے میں جذب کر کے وہ داؤد کی جائے نماز پر آ کھڑی ہوئی۔
پہلی بار۔۔۔ پوری زندگی میں پہلی بار۔۔۔ وہ خدا کے لئے نماز پڑھنے کھڑی ہو رہی تھی۔ وہ کسی انسان کی زبردستی ، کسی امتحان میں کامیابی کی لالچ اور عید ملنے کے بہانےکے بغیر نماز پڑھنے جا رہی تھی۔ الفاظ ہونٹوں تک آئے، مگرحلق میں آنسوں طوق بن کر اٹک گئے۔
" اللہ۔۔۔"
صرف ایک لفظ نکلالیکن اُس ایک لفظ نے اُس کے اندر لگی ساری گرہیں کھول دیں سارے بند ٹوٹ گئے تھے۔دل میں چبھن سی محسوس ہوئی مگر آنسو اب بھی نا نکلے۔
نماز کا آغاز ہو چکا تھا، الحمد کے بعد پہلا قل پڑھ کر وہ رکوع کے لیے جھکی، ذکر تین دفعہ مکمل ہو گیا تب بھی وہ اٹھ نہیں سکی۔ یہ کیسا جھکاؤ تھا کہ جھک کر وہ خود کو بلند محسوس کر رہی تھی۔ گھٹنوں پر اُس کی گرفت بے ساختہ سخت ہوئی۔
اُس نے گھٹنوں پر زور دیا اور سیدھی کھڑی ہوگئی، اب جو اُس نے پیشانی سجدے میں رکھی۔ یوں محسوس ہوا کہ پشت پر لدا سارا بوجھ زمین بوس ہو گیا ہو۔ اُس ایک سجدے نے اُس کے اندر تک کو ہلا دیا تھا، سارے بند ٹوٹ گئے، وہ تڑپ کر رو دی۔ آنسوؤں کی گرم دھاریں جائے نماز کے ریشوں میں جذب ہونے لگیں جیسے صدیوں کی پیاسی زمین پر ساون برسا ہو ۔
اُسے یوں لگا جیسے ساری اذیت اُس کے کندھوں سے سرکتی جا رہی ہو۔ دل پہلی بار اس زور سے دھڑکا کہ اُسے کانوں میں آواز سنائی دینے لگی۔
پہلا سجدہ۔۔۔
زندگی کا پہلا اور حقیقی سجدہ۔۔۔
زندگی کا پہلا حقیقی سجدہ محض زمین پر پیشانی رکھ دینے کا نام نہیں، بلکہ وہ تو روح کا اپنے مرکز سے جا ملنے کا ایک قابل دید لمحہ ہوتا ہے۔ اس ایک سجدے کی لذت میں وہ کیمیا چھپا ہے جو انسان کے وجود سے صدیوں کے دکھ اور زمانوں کے غم پل بھر میں بھلا دینے پر قادر ہے۔جب انسان کائنات کے شور، معاشرے کی زنجیروں، بےجا خوف اور ادھوری خواہشات کے حصار سے نکل کر ، اپنی انا کو خاک کرکے اپنے رب کے حضور جھکتا ہے، تو گویا زمان و مکان تھم جاتے ہیں۔ عرش کے فرشتے اس والہانہ وارفتگی کو دیکھ کر مسکراتے ہیں۔ گردش دوران ایک پل کو رک کر خدا اور بندے کے درمیان استوار ہونے والی اس محبت کا نظارہ کرتی ہے۔
" ٹوٹ گئے ہیں الله تعالیٰ!ہم بہت تھک گئے ہیں۔۔۔ " اس کی آواز میں وہ تھکن تھی جو ہڈیوں میں اتر کر گودا چاٹ جاتی ہے۔
" ہمارا قصور کیا تھا ؟ ہم نے تو کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا، ہم نے کیا غلط کیا تھا؟ کیوں ہمیں اس ذلت کے گڑھے میں گرنے دیا؟ کیوں ہمیں اکیلا چھوڑ دیا؟" اس نے سوال نہیں کیا تھا، اپنے کلیجے کی کرچیاں اٹھا کر خدا کے سامنے رکھ دی تھیں۔
" کیا آپ دیکھ نہیں رہے تھے، جب آپ کا نام لے کر داؤد ہماری روح زخمی کر رہا تھا؟
جب ہمارا بچہ ہم سے چھن رہا تھا؟ تب آپ کہاں تھے، اللہ تعالی کیوں خاموش رہے آپ؟"
کمرے کی دیواریں بھی جیسے اس کے دکھ پر لرزنے لگی تھیں مگر پھر ایک عجیب سی انوکھی ٹھنڈک اس کے لہو میں دوڑنے لگی جیسے تپتے ہوئے صحرا میں کسی نے برفاب چشمہ کھول دیا ہو۔ اسے لگا کہ سجدے کی زمین اسے اپنے اندر سمیٹ رہی ہے، محسوس ہوا کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔ وہ جو سوال کر رہی تھی کہ آپ کہاں ہیں؟
اسے جواب الفاظ میں نہیں بلکہ ایک لمس بے نام میں دیا گیا تھا، اسے لگا جیسے کوئی اس کے بوجل کندھوں سے وہ وزنی چادر ہٹا رہا ہے جو داؤد نے اسے اوڑھائی تھی۔ ایک ایسی خاموش تسلی اس کے دل پہ اتری جیسے کوئی کہہ رہا ہو ،' سحر جب تم ٹوٹ رہی تھی، میں تمہارے سب سے زیادہ قریب تھا مگر تم نے محسوس ہی نہیں کیا۔ میں نے تمہیں اکیلا نہیں چھوڑا تھا۔ میں تو تمہیں اس درد کے ذریعے اپنے لیے تراش رہا تھا۔ دیکھو آج تم داؤد کے ڈر سے نہیں، میری محبت سے میرے سامنے آئی ہو اور یہی تمہاری جیت ہے ۔" اس کی سسکیاں مدھم پڑنے لگی وہ جو خدا کو مانتی تھی، آج خدا کی مان رہی تھی۔ وہ اب سحر سراج نہیں رہی تھی وہ ایک روح بن کر اپنے مرکز سے جا ملی تھی۔نماز مکمل کرکے وہ ابھی جائے نماز پر ہی بیٹھی تھی۔ مہینوں بعد پہلی بار اُس نے اپنی سانس پُرسکون محسوس کی۔ اب اُس نے دھیرے سے ہاتھ اُٹھائے، نماز کے بعد سب دعا مانگتے تھے مگراُس کے پاس مانگنے کو کیا بچا تھا، اُسے سمجھ نہیں آیا ۔ اُس نے ایک جملہ توڑ کر ادا کیا۔
" یا الله۔۔۔ تیرا شکر ہے۔"یہ اس کی زندگی کی پہلی حقیقی کمائی تھی ۔ اس نے دنیا نہیں، اپنا آپ مانگ لیا جو کہیں کھو گیا تھا۔ پھر کچھ دیر اپنی ہتھیلیوں کو دیکھنے کے بعد اُس نے ہاتھ واپس جھولی میں گرا دیے ۔ سحر نے اپنی خالی ہتھیلیوں کو دیکھا وہ ہتھیلیاں جو کبھی داؤد کے سامنے رحم کے لیے پھیلتی تھی،آج اس مالک حقیقی کے سامنے تھی جو نوازنے پرآئے تو کنویں سے نکال کر بادشاہت دے دیتا تھا۔
کیا مانگیں؟ کیا چاہیے ؟ کیا بچا ہے؟ وہ بری طرح الجھی۔خالی ہاتھوں کو دیکھتی رہی۔
ارتضیٰ بالکونی میں اترا تو سامنے سے کمرہ خالی تھا۔ اُس نے ذرا آگے کو ہو کر جھانکا تو لمحہ بھر کے لیے ٹھٹھک گیا۔سَحر سفید دوپٹے میں ملبوس، جائے نماز پر بیٹھی تھی۔ کمرے کا ہلکا اندھیرا اور فانوس کی روشنی اُس منظر کو اور بھی پُرسکون بنا رہی تھی۔
ارتضیٰ کے دل پر جیسے خوشی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ اُس نے آہستہ سے جیب سے پستے اور مونگ پھلی نکالی اور بالکونی کی منڈیر پر بیٹھ گیا۔
سَحر کچھ دیر جائے نماز پر بیٹھی رہی۔ آنکھیں بند تھیں مگر دل جیسے کسی کشمکش میں مبتلا ہو رہا تھا۔اُس نے الجھن میں ہاتھ دعا کے لیے بلند کیے مگر پھر واپس جھولی میں گرا دیے۔ ارتضیٰ نے اُسے اس شَش و پنج سے بھی نکالنا چاہا، وہ اتر کر دروازے تک گیا،
" ضائع ہونے سے بچالے میرےمعبودمجھے
یہ نہ ہو وقت مجھے کھیل تماشا کر دے
یہ جو حالت ہے میری میں نے بنائی ہے مگر
جیسا تو چاہتا ہے اب مجھے ویسا کر دے"
ارتضیٰ کی آواز نے اُسے چونکایا نہیں تھا، وہ اُسے خوشبو سے پہچان چکی تھی۔ اُس نے دعا کے لئے ہاتھ دوبارہ اُٹھائے ۔
" اللہ تعالیٰ ہمیں ضائع ہونے سے بچا لیں۔ آپ جیسا چاہتے ہیں ہمیں ویسا بنا دیں۔" دعا کر کے وہ آہستہ سے اٹھی، جائے نماز تہہ کی۔ ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر آئی اور وہ بالکونی کے دروازے میں آ کر ارتضیٰ کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
وہ سیاہ ڈھیلی جینز پر سرمئی پولو شرٹ پہنے ہوئے تھا، آستینوں سے جھلکتے کسرتی بازووں کی نسیں ابھری ہوئی تھی۔ ہاتھ اندر سے سرخ تھے، وہ شاید کوئی زور آزما کام کر کے آیا تھا۔ بھورے بال ہوا سے اڑ کر ماتھے پر گر رہے تھے۔ ارتضیٰ نے مسکرا کر اُسے سلام کیا، پھر بےتابی سے پوچھا، "سکون ملا؟"
سَحر نے دروازے کی سلاخ پر ہاتھ رکھتے ہوئے نگاہیں جھکا لیں۔ کچھ لمحے خاموشی میں گزرے، پھر وہ دھیمی آواز میں بولی، "پتا نہیں۔۔۔ سکون ملا یا نہیں۔۔۔ لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے سالوں کا بوجھ ایک دم کندھوں سے اتر گیا ہو۔
اب معلوم نہیں کہ یہی سکون ہے یا نہیں۔"ارتضیٰ نےآ نکھوں میں شفقت اور نرمی لیے اُس کا چہرہ دیکھا۔سحر نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی ، پھر جیسے دل کی گہرائیوں سے نکلا سوال اُس کی زبان پر آ گیا۔
" آخر یہ سکون ملتا کیسے ہے؟" ارتضیٰ نے سانس بھر کر اُس کی تقلید میں آسمان کی طرف دیکھا۔
"سکون۔۔۔
سکون دنیا میں نہیں ہے سَحر۔ نہ رشتوں میں، نہ چیزوں میں۔ یہ تو صرف اُس کے پاس ہے جس نے ہمیں بنایا۔ جب انسان دل کا رشتہ اپنے رب سے جوڑ لیتا ہے نا، تو پھر در بدر بھٹکنا ختم ہو جاتا ہے۔"
" خدا تو تھام لیتا ہے نا۔۔۔ جب آپ نماز پڑھنا شروع کریں گی تو خدا آپ کو بھی تھام لے گا۔" سَحر کی آنکھوں میں ہلکی نمی اتر آئی۔
"پر ہم کوشش کرتے ہیں پھر بھی اندر اتنی الجھن کیوں ہے؟ شاید ہماری روح ناپاک ہو گئی ہے۔"
" سَحر ، روح امرِ الٰہی ہے۔ روح کبھی بھی ناپاک نہیں ہوتی ۔ ناپاک جسم ہوتا ہے ، نفس ہوتا ہے مگر روح ۔۔۔ وہ ہمیشہ پاکیزہ رہتی ہے ۔ "
" کیا مطلب روح اور نفس تو ایک ہوتا ہے نا؟" وہ اُس کی بات سن کر الجھی۔
" نہیں ، جسم، روح اور نفس تینوں الگ الگ چیزیں ہیں اور جب ہمیں ان تینوں کا فرق سمجھ آ جاتا ہے تو زندگی میں نیکی اور پاکیزگی کا حصول اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔"
" جسم (Body)
انسان کا مادی اور ظاہری جسم، یعنی وہ چیز جو نظر آتی ہے اور چھوئی جا سکتی ہے۔
یہ جسم انسان کو سہارا، ساخت structure اور دنیا کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنے کا ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
مثلا جسم کے اعضا اور نظام جیسے دل، دماغ، وغیرہ جو انسان کے مادی وجود کو تشکیل دیتے ہیں۔
روح (Soul/ Spirit ) کچھ بھی کہہ لو۔
یہ اللہ کا ایک امر ہے جو انسان کے اندر زندگی کی چنگاری یا نور کے طور پر داخل ہوتا ہے۔
یہی زندگی کا اصل ہے، شعور کا ذریعہ ہے اور انسان کو اللہ سے جُڑنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ روح نورانی اور غیر فاسد ہوتی ہے یعنی روح پاکیزہ ہی رہتی ہے۔
مثلا جیسے ایک گاڑی کو چلانے کے لیے انجن ضروری ہوتا ہے، ویسے ہی روح جسم کو زندگی بخشتی ہے۔
اور نفس (Self/ Ego):
انسان کی شخصیت کا وہ پہلو جو پیدا کیا جاتا ہے، جس میں خواہشات، ارادے اور انا شامل ہوتے ہیں۔
یہی وہ حصہ ہے جو جذبات، خواہشات اور اندرونی تحریکات کو محسوس کرتا ہے، اور روح و جسم کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتا ہے۔
مثلاً جب روح جسم سے نکل کر خدا کے پاس چلی جاتی ہے تو ظاہر ہے روح تو زندہ ہی رہتی ہے اور جسم وہ بھی ٹھیک ہوتا ہے بس اُسے کمانڈ نہیں مل رہا ہوتا۔ اگر روح واپس آ کر جسم کو کمانڈ دے تو جسم حرکت کر سکتا ہے تو پھر موت کس کو آتی ہے؟؟؟ " اُس نے سَحر کے چہرے پر تاریکی دیکھی۔
" موت نفس کو آتی ہے؟"
" بالکل ! موت نفس کو آتی ہے، جسم خاکی ہوتا ہے خاک میں چلا جاتا ہے۔
روح روحانی ہوتی ہے اپنے اصل کو لوٹ جاتی ہے۔
مطلب موت نفس کو آتی ہے۔ اور اُس چیز کے پیچھے بھاگتے ہم اپنی پوری زندگی گزارتے ہیں جس کو موت آ جانی ہے۔ "
نفس میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اُسے بہتر (پاک) یا بدتر (خراب) بنایا جا سکتا ہے، انسان کے اعمال اور انتخاب کے ذریعے۔
مثال:
نفس وہ حصہ ہے جو انسان کو گناہ یا نیکی کی طرف مائل کر سکتا ہے، اگر قابو میں ہو تو خیر کی طرف لے جاتا ہے، اور اگر آزاد ہو تو خواہشات کا غلام بنا دیتا ہے۔"
" لیکن ہم نے تو ہمیشہ سنا ہے کہ نفس برائی کی طرف لے جاتا ہے۔"
" نفس برائی کی طرف نہیں لے کر جاتا، نفس کی صفات یا یوں کہوں کہ بری صفات ۔۔۔ میں آپ کو تفصیل میں سمجھاتا ہوں۔ آپ بیٹھیں۔ تھک جائیں گی۔" اُس نے سَحر کے قریب دِکھتی کرسی کی جانب اشارہ کیا۔ سَحر نے رشک سے اُسے دیکھا پھر کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی ۔
" آپ نہیں تھکیں گے؟ " اُس نے انکار میں سر ہلایا۔
" نہیں، یہاں آ کر تھکن اتر جاتی ہے ۔ "
" ہمیں دیکھ کر؟"
" موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔
تو ہم ڈسکس کر رہے تھے نفس کی صفات کو۔۔۔"
" ہمم۔" سَحر نے مبہم سا کہا۔
" تو مس سَحر سراج، نفس کی چار صفات ہوتی ہیں۔"
" کتنی؟"
" جی ؟"
" کتنی صفات ہوتی ہیں؟"
" چار، پہلی القوۃ العقلیۃ یعنی عقل کی قوت ،
یہ انسان کو حق و باطل کی پہچان دیتی ہے، علم و حکمت کی بنیاد ہے۔
دوسری القوۃ الغضبیۃ، یعنی غصے کی قوت،
یہ انسان کو دفاع، تحفظ اور غلبہ کے جذبے سے متحرک کرتی ہے۔
تیسری القوۃ الشہویۃ یعنی خواہش کی قوت،
یہ بھوک، پیاس ، شہوت اور دنیاوی رغبتوں سے متعلق ہے۔
اور چوتھی القوۃ الوھمیۃ یعنی وہم یا تخیل کی قوت،
یہ انسان کو چالاکی، فریب، دھوکہ اور غلط فہمی کی طرف لے جا سکتی ہے۔"
" مطلب یہ برائی کی طرف لے کر جاتی ہے ؟ "
" عمم ۔۔۔ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ ، دیکھیں سَحر ،ہر قوت کا ایک خاص کردار اور قدر و قیمت ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ صحیح طریقے سے استعمال کی جائے۔ اگر آپ کسی اچھی چیز کو غلط طرح استعمال کریں گے تو وہ نقصان ہی دے گا نا ۔" اُس نے مٹھی بھر کر پستے اور مونگ پھلی بالکنی کی سلاخوں سے ہاتھ نکال کر اُس کی جھولی میں ڈال دیے۔
" اگر انسان میں عقل نہ ہوتی،
تو وہ نیکی اور بدی، حق اور باطل، سچ اور جھوٹ میں فرق نہ کر سکتا۔
اگر اُس کے اندر غصے کی قوت نہ ہوتی،
تو وہ اپنے آپ کو حملے اور ظلم سے بچانے کے قابل نہ ہوتا۔( یہ آپ میں نہیں ہے ) " اُس نے اتنے عام سے انداز میں بولا کہ سَحر کو محسوس نہ ہوا۔
" اگر انسان میں جنسی خواہش اور کشش کی قوت نہ ہوتی، تو انسان کی نسل کا تسلسل خطرے میں پڑ جاتا۔" ارتضیٰ کا رخ باہر نکلے چاند کی جانب تھا۔
" اور اگر اُس کے اندر وہم و تخیل (تصور کی قوت) نہ ہوتی، تو وہ کلیات اور جزئیات کا تصور نہ کر سکتا،
اور نہ ہی ان کی بنیاد پر کوئی نتیجہ اخذ کر سکتا۔
" کلیات ؟ واٹ ؟ "
" تم Gen - Z کا کیا بنے گا ؟ "
" مطلب تھا کلیات یعنی عمومی باتیں اور جزئیات یعنی تفصیلی باتیں ۔۔۔ جیسے ہم ایک کتاب پڑھتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کے یہ بورنگ ہے مگر ہم تصور کر لیتے ہیں کہ کہانی میں کیا ہو رہا ہے جو اُسے دلچسپ بناتا ہے۔ یہی اگر تصور نہ ہو تو؟"
" آپ کتابیں پڑھتے ہیں ؟ "
" جی، کیوں ؟"
" ہم بھی کتابیں پڑھتے ہیں ، کتنا مزہ آتا ہے نا۔" وہ اُس کی بات سن کر ہنس دیا۔ وہ سنجیدہ نہیں تھی وہ عورت تھی۔
" آپ میرے بھاشن سے بور ہوگئیں؟"
" نہیں ہم نے سب سنا ہے، نفس کی چار صفات۔۔۔۔ " اُس نے سب دوہرا دیا ساتھ ساتھ مونگ پھلی کم اور پستے زیادہ شوق سے کھا رہی تھی ۔
☆ ☆ ☆
پانچ دن بعد ، رات اندھیرے میں بیڈ پر بیٹھی سَحر فون کی روشنی میں ارتضیٰ کی لائی ہوئی کتاب کا پورے انہماک سے مطالعہ کر رہی تھی۔ پچھلے پانچ دنوں میں یہ اس کی چوتھی کتاب تھی جو اب اختتام کے در پر تھی۔ اس کو مانوس خوشبو آئی تو اُس نے نظر اٹھا کے بالکونی کی طرف دیکھا۔ وہ سامنے بیٹھا تھا مگر آج کچھ خاموش اور مختلف لگ رہا تھا، ہاتھ میں پچھلے چند دنوں کی طرح کوئی نئی کتاب بھی نہیں تھی۔ وہ کب آیا تھا سحر کو خبر تک نہ ہوئی تھی۔ سفید شلوار قمیض کے ساتھ بھوری شال گلے میں ڈالے وہ کسی اونچی حویلی کا سردار لگ رہا تھا ۔ کچھ دیر تک چپ چاپ خلا میں دیکھتا رہا۔ پھر یکدم بولا،
" آج لائٹ نہیں ہے تو گھر اور کمیونٹی کے کیمرے بھی کام نہیں کر رہے ہوں گے ۔۔۔ موقع اچھا ہے، محترمہ۔ آج آپ یہاں سے بھاگ جائیں۔"سَحر چونک گئی، نظریں اٹھا کر فون کی ٹارچ کی روشنی میں اُس کا چہرہ دیکھا۔
" کیا مطلب؟"
" آج پھوپھو لوگ گھر پر نہیں ہیں ۔ اگر آپ چاہیں تو ابھی نکل سکتی ہیں۔ بھاگ چلیں، داؤد کو خبر تک نہیں ہوگی۔" اُس نے ساتھ لائے شاپر سے ایک چھوٹی ہتھوڑی نکالی اور سلاخوں کی طرف بڑھائی۔سَحر کی سانس تیز ہوگئی، وہ کتاب رکھ کر فوراً بالکنی کے قریب آئی۔ ہاتھ آگے بڑھایا، پھر گھبرا کر پیچھے کھینچ لیا۔
" نہیں۔۔۔ نہیں! ہمیں کہیں نہیں جانا۔ اُسے مت توڑو۔" ارتضیٰ رکا، اُس کی آنکھوں میں بےیقینی سی جھلکی۔
" کیوں؟ آپ کو آزاد نہیں ہونا؟ دو ماہ سے دیکھ رہا ہوں، آپ ہر لمحے مر رہی ہیں۔" سَحر کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ وہ آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں سموئے نفی میں سر ہلانے لگی۔
" ہمیں کسی پر اب کوئی بھروسہ نہیں رہا۔ اگر وہ واپس آ گیا تو وہ بابا کو بھی مار ڈالے گا؟ آپ اُنہیں نہیں جانتے ہیں۔"
" میں آپ کو سیدھا آپ کے بابا کے گھر چھوڑ آؤں گا۔ وہاں سے وہی آپ کا سہارا ہوں گے۔ اُس کے بعد میرا کوئی تعلق نہیں۔ بس ایک بار مجھ پر بھروسہ کریں۔" ارتضیٰ نے یقین دہانی کروائی ۔ سَحر نے چونک کر اُس کا چہرہ دیکھا ۔ اُسے کیا برا لگا تھا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
بہت دیر یقین دلانے کے بعد آخرکار سَحر نے ہمت پکڑی۔ ہتھوڑی کی ایک ضرب سے بالکونی کے دروازے پر لٹکتا تالا کھلا اور سَحر لرزتے قدموں سے باہر نکلی۔ ارتضیٰ کے پیچھے وہ بالکونی پر لگی سیڑھی سے نیچے اتری۔ اندھیرے میں دبے پاؤں وہ سامنے کھڑی بڑی سی جیپ میں بیٹھی اور ارتضیٰ نے تیزی سے گاڑی گھر سے باہر نکالی پھر اتر کر گیٹ بند کیا اور واپس آ بیٹھا۔
آدھے گھنٹے بعد، ارتضیٰ کی گاڑی آخرکار مکان سے کچھ دور گلی کے کنارے رکی، گلی میں کھدائی کا کام جاری تھا، گاڑی اندر نہیں جا سکتی تھی۔ وہ اتر کر گلی کے اندر داخل ہوئے ، دل کی دھڑکنیں تیز تھی۔
ارتضیٰ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ کچھ دیر بعد سامنے ٹیرس پر ایک سایہ سا نمایاں ہوا اور پھر دو منٹ بعد کسی نے دروازہ کھول دیا۔ ایک اجنبی لڑکی برآمد ہوئی۔ چہرے پر سختی اور لہجے میں جھنجھلاہٹ۔
"جی؟ کس سے ملنا ہے؟"
" آپ کون ہیں؟" سحر نے اُس لڑکی سے سوال کیا۔
" یہ تو آپ بتائیں، میرے گھر کس کام سے آئی ہیں؟"
" یہ ہمارا گھر ہے!" سحر کی آواز جیسے ٹوٹ کر نکلی۔
" تمہارا گھر ہے تو تم باہر اور میں اندر کیوں؟ پتہ نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں۔" اُس لڑکی نے ان کے منہ پر دروازہ بند کر دیا۔
ارتضیٰ نے دوبارہ بیل بجائی۔ دروازہ فوراً دوبارہ کھولا گیا۔ اُس سے پہلے وہ کوئی مزید صلاواتیں سناتی ارتضیٰ نرمی سے بولا۔
" میں معذرت خواہ ہوں مگر آپ اتنا بتا دیں کہ آپ کو سراج صاحب کے بارے میں کچھ معلوم ہے؟ یہ گھر ان کا تھا۔"
" ہاں، وہ تو ایک ماہ پہلے ہی یہ گھر بیچ کر کہیں اور جا چکے ہیں۔"ارتضیٰ نے سَحر کی طرف دیکھا، اُس کا دل جیسے ڈوب گیا۔
"کہاں گئے ہیں؟ کوئی نیا پتہ؟ نمبر؟"
"ہمیں کیا پتہ؟ گھر بیچا اور نکل گئے۔" ارتضیٰ چند لمحے دروازے پر کھڑا ساکت رہا۔ پھر سے سوال کیا،"یعنی۔۔۔ آپ کو واقعی کچھ بھی نہیں معلوم؟"
"بھائی صاحب، کہا نا کچھ نہیں پتہ۔ اب ہمیں تنگ مت کریں۔" اور دروازہ زور سے بند کر دیا۔
ارتضیٰ کے اندر عجیب سا خلا پیدا ہوا ، جیسے زمین اُس کے قدموں تلے سے سرک گئی ہو۔ اُس نے سر جھکایا اور خود سے بڑبڑایا، "سَحر کو تو میں بچا لایا۔۔۔ مگر اب اسے کہاں لے جاؤں؟" وہ واپس گاڑی کی طرف بڑھا۔ پلٹ کر اس نے دیکھا تو سحر وہیں جمی کھڑی تھی، وہ واپس اُس تک آیا ۔
" سحر اس گھر میں اب کوئی اور رہتا ہے۔ چلیں۔"
" ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ گھر ہمارے نام ہے۔ بابا جان اسے کیسے بیچ سکتے ہیں؟"
" اچھا آپ گاڑی تک چلیں، ہم دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے آگے۔"
رات کی خاموشی میں جب ارتضیٰ نے سَحر کو اپنی گاڑی سے اُتارا تو دل جیسے ہاتھ سے پھسل رہا تھا۔دروازے کے سامنے رُکتے ہوئے اُس نے دھیرے سے کہا، "آئیں۔۔۔ یہ میرا گھر ہے۔ یہاں آپ محفوظ ہیں۔ کوئی آپ کو چھو بھی نہیں سکے گا۔" ارتضیٰ نے ایک قدم آگے بڑھایا۔سَحر نے دروازے پر قدم رکھاتبھی ارتضیٰ کے جملے کانوں میں پڑے تو وہ رک کر لکڑی کی دہلیز کو گھورتی رہی۔
"چلیں۔۔۔ اندر آ جائیں۔ میرے گھر کو زینت بخشیں۔" مگر سَحر جیسے پتھر کی مورت بنی کھڑی رہی۔ آنکھوں میں نمی، ہونٹوں پر کپکپاہٹ۔ وہ سر جھٹک کر پیچھے ہٹی۔
"نہیں۔۔۔ ہم یہ دہلیز پار نہیں کر سکتے!"
ارتضیٰ چونکا، "کیوں نہیں کر سکتیں؟ یہ قید نہیں، پناہ گاہ ہے۔" سَحر نے دھیرے سے سر اٹھایا، آنکھوں کے نیچے سوجی ہوئی لکیروں میں برسوں کا دکھ بول اٹھا۔
" ہم نکاح شدہ ہیں،ارتضیٰ۔ ہماری زندگی چاہے برباد ہو گئی ہو، مگر دوسرا گھر۔۔۔ دوسرا سہارا۔۔۔ ہم نہیں لے سکتے۔ہمیں واپس جانا ہے۔" ارتضیٰ نے ابرو بھینچ کر اُس کا چہرہ دیکھا۔
" آپ کو اندازہ ہے کہ میں نے کس جان جوکھم سے آپ کو وہاں سے نکالا ہے؟
آپ کے زخم دیکھ کر میرا خون ابلتا رہتا ہے، اور آپ کہتی ہیں۔۔۔ آپ واپس جائیں گی؟" سَحر نے ایک بےبس مسکراہٹ لبوں پر سجائی۔
"یہ ہمارا نصیب ہے،ارتضیٰ۔ ہم بھاگ کے بھی واپس وہیں جائیں گے جہاں ہمارا نام لکھا ہے۔" اُس نے دہلیز کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ ارتضیٰ نے ایک لمحے کو اُس کی آنکھوں میں دیکھا وہاں شکست نہیں، ایک ضد تھی۔ ایسی ضد جس نے ارتضیٰ حسن کی تمام ہمت کو مٹی کر دیا۔ ارتضیٰ نے فوراً نظر جھکائی۔
" میں آپ کو کسی ہوسٹل میں جگہ لے دیتا ہوں۔ آپ وہاں رہیں ۔" اُس گھر واپس جانے کی بات پر جس جلن کا احساس اُسے ہوا تھا یہ ارتضیٰ حسن کے لیے ایک بہت ہی انوکھا تجربہ تھا۔
" نہیں ارتضیٰ، آپ ہمیں۔" ارتضیٰ نے جوتے کی نوک سے زمین کو مسلنا شروع کیا۔ طیش تھا کہ اب دل سے نکل کر حلق میں اٹکنے لگا تھا۔
" کوئی الگ فلیٹ لے دیتا ہوں۔" ضبط سے طوفان کا رخ پھر سے موڑا گیا۔
" نہیں ارتضیٰ، آپ ہمیں واپس۔"
" سَحر، خدا کے لیے! میری کوئی بات تو مان لیں۔" وہ اس بار جھنجھلا کر بولا، شاید وہ اپنی اتنی کاوش کو مٹی ہوتے دیکھ نہیں پا رہا تھا یا شاید کچھ ایسا ہو چکا تھا جس کی بھی اُس کو خبر نہیں ہوئی تھی۔ کوئی ہستی دل کے دروازے پر کھڑی اُسے زور و شور سے بجانے لگی تھی۔
" خدا کے لیے آپ ہماری بات مانیں، ہمیں واپس چھوڑ دیں۔ ہم کہیں نہیں رہنا چاہتے۔اور آپ ہمیں یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ آپ نے تو خود کہا تھا نا ' کہ خدا کی بنائی حدود مزاح نہیں ہوتیں' تو پھر ہم کیسے اس حد کو پار کر دیں؟" اُس کا جملہ ارتضیٰ حسن کو تماچے کی طرح لگا۔ سانس ایک پل کو ایسا رکا کہ موت کا سا گمان ہوا ، اُس نے یہ بات کیوں کر نہ سوچی تھی؟ وہ پلٹ کر سانس بھرتے ہوئے دروازہ بند کر گیا۔ اُس کے آنسو ہی تو تھے جو وہ روکنا چاہتا تھا مگر اب خود اُن کی وجہ بن رہا تھا۔ اُس نے چند گہرے سانس لیے، کانوں میں ایک نرمی بھری آواز گونجی۔
" خدا نے فرعون جیسے سرکش کے پاس بھی جب موسیٰ کو بھیجا تو حکم دیا تھا کہ موسیٰ نرم لہجے میں بات کرنا۔ اور ہم عام انسان سے ایسے لہجے میں بات کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ بات ہی نا کرنا چاہے۔"
گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اُس نے نرم لہجے میں کہا، "ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن یاد رکھیئے گا، یہ آپ کی ضد ہے، میرا فیصلہ نہیں۔
میں آپ کو ہمیشہ آزاد دیکھنا چاہوں گا۔
بلند ۔۔۔
معزز۔۔۔
اور سب سے ممتاز۔۔۔
اتنے اونچے مرتبے پر کہ سب آپ کو نظر اٹھا کر دیکھیں۔" سَحر نے ایک پل اُس مخلص آواز پر اُس کا چہرہ دیکھا اور خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی۔ وہ دوسری جانب سے آ کر بیٹھا تو سَحر سر جھکائے رو رہی تھی۔ ارتضیٰ نے حیرت کے مارے منہ کھولے اُسے دیکھا۔ ایک پل کو گمان سا ہوا کہ شاید وہ اُس کے تلخ لہجے پر رو رہی ہے تو زمین قدموں کو ویران چھوڑ کر کھسک گئی۔
گاڑی کا دروازہ بند ہونے کی آواز پر اُس نے چہرا اٹھایا، آنکھیں پونچھ کر رخ ارتضیٰ کی جانب کیا، چہرے پر اردگرد سے ننھے بالوں کی لٹیں آ کر چپک گئی تھیں۔ اُس نے رخساروں سے چپکے بال اُتارے اور کچھ کہنا چاہا۔ اک زلفِ پریشاں پھر اُس کے چہرے پر آ گری۔
ارتضیٰ حسن نے رک کر اُس کے سرخ چہرے کو اور پھر چہرے تک جاتی اُس کی سفید انگلیوں کو دیکھا۔
پھر کان کے پیچھے اٹکتی زلفیں۔۔۔ وہ ارتضیٰ سے کچھ کہہ رہی تھی مگر وہ سننے سے قاصر تھا۔
یک ٹک اُس کے ننھے بالوں کو دیکھنے کے بعد اُس نے بری طرح سر جھٹکا اور دروازے میں اڑی پانی کی بوتل نکال کر اُسے منہ سےلگایا ۔
" استغفر اللہ ۔۔۔ استغفر اللہ ۔" چند گھونٹوں کے ساتھ خود پر دربان بٹھا کر اُس نے گاڑی سٹارٹ کی اور پھر سارے راستے اُس نے سحر کی جانب نظر نہیں بھٹکنے دی۔
کیا وہ ایک نظر کے بدلے اپنے رب کو خفا کر دیتا؟
ساری نمازیں بیچ کر جہنم کی آگ خرید لیتا؟ کس قدر گھاٹے کا سودا تھا یہ۔۔۔
صحیح کہتے تھے آغا ' مردوں پر حسین چہرے والی عورتوں سے بری آزمائش اور کیا ہو گی ؟'
کچھ ہی دیر بعد سحر پھر سے اُسی مکان کی دہلیز پر کھڑی تھی جہاں سے نکلنے کی اُس نے کبھی دعائیں مانگی تھیں۔ بہت دیر بعد حاجرہ اور یونس واپس آئے تو ارتضیٰ کو لان میں بیٹھے پایا۔ حاجرہ اُس کے پاس آ بیٹھی تھی۔ یونس کے کمرے میں جاتے ہی انہوں نے بےتابی سے پوچھا۔
" چھوڑ آئے انہیں ؟"
" ان کے پاس جانے کو گھر نہیں پھوپھو اور میرے گھر وہ جانے کو تیار نہیں ہے۔ واپس یہاں آ گئی ہے۔ بھلا میرے گھر میں کیا مسئلہ ہے؟" وہ شدید غصے میں نظر آتا تھا۔ چہرہ بری طرح سرخ تھا۔
" خان، وہ عورت ذات ہے، جس پر ابھی طلاق کا داغ ٹوٹا ہے اور تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم اُسے کس حیثیت سے اپنے گھر لے کر جا رہے تھے؟ بغیر کسی رشتے کے اکیلے گھر میں ایک لڑکی تمہارے ساتھ کیوں رہے گی، کیا تم نے خود نہیں سوچا؟"
" میں انہیں کوئی نقصان تو نہیں پہنچانا چاہتا۔"
" ہر انسان اپنے اندر کی کالک چھپا کر خود کو سفید بنا کر بیٹھا ہے
تنہائی میں سیاہ اور اجالوں میں سفید۔۔۔
سمجھو تو یہ سب سے بڑی منافقت ہے اور منافقوں کو پہچاننا بڑا مشکل کام ہے۔" وہ نرمی سے کہہ کر چند لمحے اُس کا چہرہ تکتی رہیں۔
" آپ سمجھتی ہیں کہ میری اُن پر نیت خراب ہو جاتی؟" ارتضیٰ کی آواز میں تلخی اور دکھ دونوں نمایاں تھے۔
" میں سمجھوں یا نہ سمجھوں وہ یہی سمجھی ہو گی ۔
اور میں نے کب کہا کہ تم انسان نہیں ہو؟" انہوں نے دونوں ابرو اٹھا کر سوال کیا۔
" تم انسان ہو اور نوجوان بھی، جوانی کا جذبہ ہے، خون گرم ہے۔ ہر انسان کے اندر ایک کمزور پہلو ہوتا ہے۔ اگر تم اپنی نیک نیتی کی چھتری اُس پر نہ رکھو تو معاشرہ کبھی اُس کی اجازت نہیں دے گا اور تمہارے دل میں ابلیس وسوسے ڈالنے میں دیر نہیں کرے گا۔ " اُس نے گہری سانس چھوڑ کر ہاجرہ کا چہرہ دیکھا۔ جس جزبے سے وہ اس وقت گزر رہا تھا وہ خود بھی اُس کو نام دینے سے قاصر تھا تو ان کو کیسے بتاتا کہ وہ کیا محسوس کر رہا ہے۔
" میں روز اوپر جاتا ہوں، گھنٹہ گھنٹہ بھی رکتا ہوں۔ وہ اکیلی ہوتی ہیں، بےبس لیکن تربیت اچھی ہو تو انسان کا ضمیر خود اُس کے کردار کی حفاظت کرتا ہے اور میں تو صرف ان کی مدد کرنا چاہتا تھا۔" اُس نے اپنا دفاع کیا، جیسے وہ خود کو بھی یقین دلا رہا ہو۔ دل اب بھی اپنی دھڑکن روک لینے پر قادر نہیں تھا۔
" مدد کرنے کے اور بھی کئی طریقے ہیں۔ تم یہ بتاؤ ، اُس کے بابا کہاں ہیں؟"
" معلوم نہیں ہو رہا ۔۔۔"
" اب ؟"
" اب کیا؟ واپس اوپر بیٹھی ہے۔ کہتی ہے کہ کل سے ان کے پاس نہ جاؤں۔ بتاؤ بھلا؟ کیا مرنے کے لیے چھوڑ دوں؟ اتنی محنت کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ واپس اپنے سابقہ شوہر کے گھر میں آ گئی ہیں۔" وہ غصے سے اپنی بھوری چادر کا کنارا مروڑ تا، وہ جملہ کہہ گیا جس نے حاجرہ جیسی زیرک عورت کے سر پر دھماکہ کیا۔ انہوں نے جو شوق اُس کی آنکھوں میں پلتا دیکھا وہ پوچھے بغیر نہ رہ پائیں۔
" تمھیں مسئلہ اُس کے واپس آنے سے ہے یا داؤد کے گھر واپس آنے سے ؟" وہ چونکا مگر خاموشی سے ان کا چہرہ دیکھتا رہا۔ اُس نے کئی بار خود سے سوال کیا مگر جواب۔۔۔ ندارد ۔ ہاجرہ نے اُس کی آنکھوں میں ابھرنے والا جذبہ حرف در حرف پڑھ کر ایک گہری سانس لی، یہ وہی جذبہ تھا جو عین جوانی کے دنوں میں وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی آنکھوں میں دیکھا کرتی تھیں۔
" تمہیں جو مسئلہ ہو رہا ہے اُس کا حل میں تمہیں دے سکتی ہوں مگر اُس کے ساتھ کبھی ظلم مت کرنا۔"
" مجھے کون سا مسئلہ ہے؟" اُس نے جیسے ان کی بات کی واضح نفی کرنا چاہی۔
" محبت کا !" حاجرہ کے لہجے کا وثوق صوابی کے صاحبِ حق کے چھکے چھڑا چکا تھا۔
" نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں اُن کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتا تک نہیں ہوں۔ " وہ ہنسا بولا تو لہجے میں بلا کا یقین تھا۔ کس کو یقین دلا رہا تھا وہ؟ کس کو تسلی دے رہا تھا ؟ لاہور کی بے وفا آب و ہوا تک اُس کے جذبوں کی مہک سے معطر ہو چکی تھی۔
" لیکن ہر روز اُس کی آنکھیں پڑھ کر سیڑھی اترتے ہو۔" وہ چند لمحے حاجرہ کا چہرہ دیکھتا رہا جیسے کسی نے سیسہ انڈیل کر زبان کو جما دیا ہو۔ یہ کیا ہوا تھا؟ دل کے دروازے پر دستک دیتی ہستی نے لمحے کو ہاتھ روک لیا تھا۔ اُس سے پہلے وہ سکون کا سانس لے پاتا، دل کے دربانوں نے اُس نازک ہستی کے لیے دروازے وا کر دیے تھے۔
" مان لو ارتضیٰ حسن خان! اُس کو بچاتے بچاتے تم خود کو ہار بیٹھے ہو۔ صوابی کا ولی عہد ایک قیدن پر دل ہار بیٹھا ہے۔" ارتضیٰ کے کندھے غیر ارادہ طور پر جھک گئے۔ سانسیں مدھم پڑ گئی تھیں۔ کچھ لمحے چہرے کی نرمی میں دراڑ پڑی رہی۔ گہری سوچ کے سمندر سے زندہ واپس نکل کر اُس نے نفی کرنے کی بجائے سفید جھنڈی لہرا دی تھی۔
" معلوم نہیں لیکن وہ پہلی عورت ہے جس کی وجہ سے مجھے آغا کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا۔ جس کا چہرہ میں آنکھوں میں سمائے ان کی دہلیز پر گیا۔"
" اور ؟" وہ جیسے ارتضیٰ حسن کے اندر پنپتے ہر جذبے کو باہر نکلنے کا راستہ فراہم کر رہی تھی یا شاید اُس کے جذبات کی گہرائی سے صوابی کی تقدیر کا فیصلہ لینا چاہ رہی تھی۔
" وہ پہلی عورت ہے جسے دیکھ کر میری ساری تھکن اتر جاتی ہے۔ میرا دل چاہتا ہے میں اُسے اپنے گھر لے کر جاؤں۔ اُسے اپنا گھر دکھاؤں ، اپنے بارے میں بتاؤں اور معلوم ہے وہ اُس قدر شوق سے میری باتیں سنتی ہے کہ جتنی کبھی آپ نے بھی نہیں سنی ہوں گی۔ اور اُسے سب باتیں یاد بھی رہتی ہیں۔ اور اُس سے مزے کی بات وہ ان پر عمل بھی کرتی ہے۔ معلوم ہے پھوپھو وہ نماز پڑھنے لگی ہے۔" وہ اُس قدر پرجوش ہو کر بول رہا تھا کہ حاجرہ کا سپید پڑتا چہرہ دیکھ کر چونکا پھر چند لمحے تھم کر ان کا چہرہ دیکھتا رہا۔
" کیا سچ میں مجھے محبت ہے اُس سے؟ لیکن پھوپھو وہ میری تو نہیں ہے۔" وہ سراب کی سی کیفیت میں بولا لیکن سراب ٹوٹ گیا، وہ اٹھ کر چلی گئی تھی۔ ارتضیٰ ان کے پیچھے بھاگا ۔
" حل تو بتا دیں ۔" وہ ان کو پیچھے سے پکار رہا تھا۔
" تم مجھے یہ بتاؤ کہ اُسے آزاد کیوں نہیں کر دیتے ؟"
" میں نے اُسے آزاد کیا تھا ، مگر وہ خود پلٹ کر یہاں میری پناہ میں واپس آئی ہے۔ میں نے اُس سے کہا تھا کہ کسی ہوسٹل یا فلیٹ میں رہ لے مگر نہیں مان رہی تو زبردستی تو نہیں کر سکتا نہ۔"
" یہ دروازہ کیوں نہیں کھول دیتے؟ ایسے بندروں کی طرح لٹکنے سے بہتر ہے کہ دروازہ کھول کر اُسے کم از کم اُس گھر کی حدود میں تو آزاد کر دو۔"
" ہزار دفعہ کہا ہے پھوپھو۔۔۔ مگر یہاں جو کیمرے لگے ہیں ان کا ایکسس داؤد کے فون میں ہے، اور سَحر نہیں چاہتیں کہ ان کی عدت مکمل ہونے سے پہلے داؤد یہاں آ پہنچے۔
ہم داؤد کو یہاں سے دور رکھنے کا ایک یہی حل کر سکتے ہیں۔"
" تم اتنے بےبس نہیں ہو ارتضیٰ حسن، تم بےبس بن رہے ہو۔" ہاجرہ نے اُس کے سینے پر شہادت کی انگلی سے زور دے کر کہا۔
" آپ کہنا کیا چاہ رہی ہیں؟"
"میں نے کہا کہ تم بے بس بن رہے ہو ورنہ یہ سب تمہارے ایک اشارے پر ہو سکتا ہے۔"
" میں بےبس نہیں ہوں پھوپھو! میں داؤد کے کیمرے توڑ سکتا ہوں، اس کا غرور بھی خاک میں ملا سکتا ہوں۔۔۔مگر میں سحر کا اعتبار نہیں توڑ سکتا۔ دو ماہ بعد بہت مشکل سے میں نے اسے داؤد کے خوف سے باہر نکالا ہے۔ ابھی اس میں دوبارہ سے جی اٹھنے کے لئے روح پھونکنا باقی ہے ۔ اسے واپس سے نارمل ہونے کے لئے وقت چاہیے۔ میں اسے زبردستی آزاد کرکے ایک اور داؤد نہیں بننا چاہتا۔"
" اوپر سے وہ ابھی عدت میں ہے، میں اُس سے ۔۔۔" وہ یک دم خاموش ہوا۔
" ہاں، وہ عدت میں ہے ۔۔۔ تم اُس سے نکاح نہیں کر سکتے اور وہ تم سے ۔ "
" اور وہ مجھ سے؟"
" اور کیا ورنہ داؤد کے نام کا جو خوف اُس ذہن پر نقش ہے، وہ اُس کی دہلیز پار کرنے کی ہمت کبھی نہ کرتی لیکن تمہارے کہنے پر اُس نے یہ بھی کیا۔ وہ بھی تم سے محبت کرتی ہے۔"
" آپ ہوا میں تیر چلا رہی ہیں ۔" اُس نے ہاجرہ کا چہرہ تیکھی آنکھوں سے دیکھا۔
" ہاں ایسا ہی ہے۔" وہ ہلکا سا ہنس کر کچن میں چلی گئیں ۔
" پھوپھو ! بندہ کمزور ہے، ایسے اندازے نہ لگائیں۔" وہ گہری مسکراہٹ لئے گردن پر ہاتھ رگڑتا ان کے پیچھے بڑھنے لگا۔
☆ ☆ ☆
سَحر کی آنکھ کھلی تو کمرہ خالی تھا، اداُس سی فضا میں اُس نے سانس لے کر اٹھنا چاہا مگر بخار نے جسم توڑ رکھا تھا۔ جانی پہچانی سی خوشبو کمرے میں بکھری تھی۔ بمشکل اُس نے اٹھ کر منہ ہاتھ دھویا اور پھر کپڑے بھی تبدیل کر لیے۔ اب وہ بیڈ پرآ کر بیٹھی تو نظر سامنے صوفے کے آگے رکھی میز پر گئی۔ وہاں ایک ٹرے میں مکمل تردد سے ناشتہ موجود تھا۔ پراٹھا، املیٹ، جوس اور دودھ کا ڈبہ جس کے ساتھ چند بسکٹس کے پیکٹ موجود تھے۔ سَحر کو اُسی پل بھوک کا احساس ہوا۔
" تو وہ آیا تھا۔"
وہ چھوڑ دینے والوں میں سے نہیں تھا، دھوپ چھاؤں میں ساتھ دینے والا تھا۔۔۔
باتوں کو دل سے لگانے کی بجائے درگزر کر دینے والا تھا۔
اُسے سمجھ نہ آئی کہ وہ خوش ہو یا پھر اداس ۔۔۔
وہ واحد انسان تھا جس کے دم پر وہ پچھلے دو ماہ سے زندہ تھی۔
اُس نے خاموشی سے صوفے پر بیٹھ کر ناشتہ کیا اور دودھ اور بسکٹ دوپہر کے لیے بچا لیے۔ بخار کی دوا ایک دفعہ اور لے کر وہ سو گئی تھی۔ دن بھر وہ سوتی رہی یہاں تک کہ چاندنی نے بنیرے پار کرکے کمرے میں داخل ہونا شروع کیا۔
سَحر کی آنکھ شناسا آواز سے کھلی تو ایک خوشگواری حیرت سے اُس نے بالکنی کی جانب دیکھا۔ مگر وہ حیرت ایک پل کی تھی۔ وہ سامنے بنیرے پر بیٹھا آج کھلے دروازے کو چابی سے بجا رہا تھا۔ وہ اٹھ کر بیٹھی۔
"ارتضیٰ! آپ کیوں بار بار آتے ہیں؟ ہم نے کہا نا، ہمیں اکیلا چھوڑ دیں۔ یہ سب بیکار ہے۔" اُس نے جس گھبراہٹ کو اپنی ہستی میں اترتا ہو محسوس کیا، سامنے بیٹھا مسکراتا شخص اُس کی جانب متوجہ نہیں تھا ورنہ ایک پل میں اُس کے چہرے سے سب پڑھ لیتا۔
" اجازت ہو تو اندر داخل ہو جاؤں ؟" وہ اُس کی بات کو مکمل طور پر نظر انداز کر گیا۔
" نہیں!" وہ چلائی۔ خوف کو قابو کرنے کے لیے دونوں ہاتھ آپس میں ملا کر لرزش روکی۔ارتضیٰ نے شاپر سے پلیٹ نکالی اُس میں برگر رکھا اور وہیں کھڑے پلیٹ ایک خاص زاویے سے لکڑی کی میز کی جانب اچھل دی۔ اور پھر ایک کولڈ ڈرنک کی بوتل بھی اُس کی طرف اچھالی، بوتل سحر کے پاؤں کے قریب سیدھی آ کھڑی ہوئی تو وہ مسکرا دیا۔ سحر نے تذبذب سے کبھی پلیٹ میں سجے برگر کو اور کبھی بوتل کو دیکھا۔ وہ نشانے بازی میں اُس کی مہارت دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی۔ وہ ایک ایسا مرد تھا جو ہزار فاصلوں کے باوجود نشانے پر وار کرنا جانتا تھا، چاہے وہ نشانہ میز ہو یا کسی کا دل۔
" یہ کھا لیجیے پھر میں چلا جاوں گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں، کل سے نہیں آؤں گا۔" سَحر نےبری طرح چونک کر بےیقینی سے اُس کی طرف دیکھا۔ یہ خوشی کی بات پر دل میں موت کا سا سناٹا کیوں چھا گیا تھا؟ کیوں کسی کے چھوڑ جانے کا خوف حاوی ہو کر اُس کے اعصاب کو منجمد کرنے لگا تھا۔ اُس نے خاموشی سے نوالہ اٹھا لیا۔
اگلے دن۔۔۔
سَحر کی آنکھ کھلی تو اُس نے فضا میں اپنائیت کی بو سونگھ کر سر دائیں جانب پھیرا اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر آنکھیں مکمل کھل گئی۔ ارتضیٰ سامنے صوفے کے پاس موجود تھا۔ ہاتھ میں کھانے کا ایک ڈبہ لیے وہ احتیاط سے سب چیزیں ٹیبل پر رکھ رہا تھا، بنا آواز پیدا کیے ۔۔۔ احتیاط سے۔
"آپ پھر آگئے؟" سَحر نے تلخی سے کہا۔تو وہ چونکااور پلٹے بنا ہی بولا۔
"ہاں، میں نے کل کہا تھا کہ نہیں آؤں گا۔ مگر میں جھوٹا ہوں، وعدہ خلاف بھی ہوں مگر بےحس نہیں ہوں۔ آپ کو ایسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتا یا تو میں دروازہ توڑ دوں گا یا پھر آتا رہوں گا۔"
"ارتضیٰ، آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتی؟" سَحر نے جھنجھلا کر رخ پھیر لیا ۔
"آپ مجھے نکال سکتی ہیں، ڈانٹ سکتی ہیں، نفرت کر سکتی ہیں۔۔۔ مگر میں پھر بھی آؤں گا کیونکہ اب یہاں نہ آنا میرے بس سے باہر ہے۔" وہ عام سے لہجے میں بولا۔
" یہ سب۔۔۔ یہ سب غلط ہے۔ ہم عدت میں ہیں۔ ہم آپ کے نام کے علاوہ کچھ بھی نہیں جانتے اور آپ ہمارے نام اور طلاق کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔ آپ کیوں روز اتنی تکلیف کرتے ہیں؟ کیوں اپنا وقت ہم سی اجڑی لڑکی پر برباد کرتے ہیں؟ ہمیں مر جانے دیجیے۔"
" کیوں مر جانے دوں؟" وہ تیزی سے پلٹا ۔
" اتنی محنت کی ہے میں نے۔ دو ماہ ہوگئے روز بندروں کی طرح چڑھ کر آپ کو کھانا پہنچانے آتا ہوں مجھے کوئی انعام نہیں ملے گا؟" وہ سرخ چہرہ لیے دھپ سے صوفے پر بیٹھ گیا۔
" انعام ؟ ک۔۔۔ کون سا انعام؟"
" میں یہاں اکیلا رہتا ہوں۔آزاد ہونے کے بعد اگلے ایک ماہ آپ مجھے کھانا بنا کر دیں گی۔ گھر کا کھانا۔۔۔" سَحر نے کچھ پرُ سکون ہو کر اُسے دیکھا۔
" مگر ہمیں کھانا بنانے نہیں آتا۔ آپ کو کیسے بنا کر دیں گے ؟"
" مجھے بھی بندر کی طرح دیواروں پر چڑھنا نہیں آتا تھا۔" اُس نے جتا کر کہا اور باہر دیکھنے لگا۔
" ٹھیک ہے، ہم آپ کا احسان ضرور اتار دیں گے۔" وہ مسکرا دیا۔ دھوپ سے بھورے بال سنہرے دکھنے لگے تھے۔ اُس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا پھر اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
" لیکن ارتضیٰ !"
" لیکن ویکن کچھ نہیں، جب تک آپ یہاں سے چلی نہیں جاتیں، میں تو آتا رہوں گا۔" وہ اپنی کہہ کر چلا گیا تھا، سحر پیچھے بیٹھی الجھی ہوئی اسے جاتا دیکھتی رہی۔
"یا الٰہی۔۔۔ یہ کیا تھا؟"
☆ ☆ ☆
اگلے دن وہ گھر آیا تو سَحر سامنے بیڈ پر موجود تھی۔ ارتضیٰ پر نظر پڑی تو سامنے سے اپنا دوپٹہ اٹھا کر اوڑھا اور نظریں جھکا لیں۔
" اجازت ہو تو اندر آ جاؤں ؟" اُس کی بات سن کر سحر نے سر اثبات میں ہلایا۔ وہ چلتا ہوا اندر آیا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔
" کیا بات ہے؟ کوئی مسئلہ ہے تو بتائیے۔"
" ہمارے بابا کہاں چلے گئے؟ ہمیں تو کبھی ایک دن کے لیے بھی تنہا نہ چھوڑا تھا اب کہاں چلے گئے؟"
" ان کو تو یہی معلوم ہے کہ آپ داؤد کے ساتھ دو ماہ کے لیے گئی ہیں۔ اس لیے انہوں نے ابھی تک تلاش نہیں کی۔ ممکن ہے کہ داؤد نے کوئی جھوٹ بول رکھا ہو اور آپ کے اُس کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کیا ہو۔ہمیں کچھ اندازہ نہیں کہ ہماری پیٹھ پیچھے ہو کیا رہا ہے۔ "
" معلوم نہیں مگر اب ہمیں بابا کی ضرورت ہے۔ ہم ان کے پاس جانا چاہتے ہیں تاکہ بالکل محفوظ ہو جائیں۔ "
" جب تک میری رگوں میں خون دوڑ رہا ہے تب تک تو آپ یہاں بھی محفوظ ہیں اور اُس کے بعد کا بھی انتظام کر رکھا ہے۔ فکر نا کریں۔"
"آپ کیوں یہ سب کر رہے ہیں ہمارے لیے؟" سَحر نے جیسے تھکے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
" مخلوق خدا جب کسی مشکل میں پھنسی ہو
سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہوتی ۔"
" آپ چلے جائیں ہماری زندگی سے۔"سَحر نے فوراً رخ پھیر لیا۔
"چلے جانے کے لیے آیا ہوتا تو کب کا چلا جاتا۔" ارتضیٰ کے لہجے کا سکون جوں کا توں تھا۔ "میں آپ کو یہاں سے لے جانے آیا ہوں۔ آج نہیں تو کل جانا آپ کو میرے ساتھ ہی ہوگا۔"
"ارتضیٰ، ہم آپ کی طرح خوابوں میں نہیں جیتے۔" سَحر کا لہجہ تلخ ہوا۔
"خوابوں میں تو میں بھی نہیں جیتا۔ اتنا ہی کہتا ہوں جتنا کرنے کی ہمت رکھتا ہوں۔"
"مگر۔۔۔ ہم اتنی ہمت نہیں رکھتے ۔" سَحر کی آواز میں ٹوٹ پھوٹ تھی۔
"سَحر صاحبہ، ہمت عورتوں میں اکثر مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ انہیں بچپن سے ڈرایا جاتا ہے ۔۔۔ 'چپ رہو'، ' آہستہ ہنسو '، 'لوگ کیا کہیں گے' ، 'ایسے چلو ' ، ' ایسے بیٹھو '، 'یہاں نہ جاؤ' ۔۔۔اور پتا نہیں کیا کیا مہیب باتیں۔۔۔ یہ ڈر ان کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتا ہے۔ وہ جب بھی اپنے لیے ایک قدم اٹھانا چاہتیں ہیں یہ ڈر انھیں آگے بڑھنے ہی نہیں دیتا۔ آگے صرف وہی بڑھ پاتی ہیں جو ہمت کر کے ان بیڑیوں کو توڑ دیتی ہیں۔" اُس کے الفاظ میں کڑواہٹ تھی، مگر لہجے کی نرمی سے سچائی چھلک رہی تھی۔
" اور ہمت نہیں ہے کا کیا مطلب ہوا؟ ہمت تو آپ میں جینے کی بھی نہیں ہے مگر جی رہی ہیں نا؟
ہمت تو سانس لینے کی بھی نہیں ہے مگر لے رہی ہیں نا؟
ہمت تو آپ جیسی میں داؤد سے جانور کو برداشت کرنے کی بھی نہیں تھی مگر کی ناں؟
پھر اب جب آزادی کا دروازہ کھلاہے ، تو ڈر کیوں غالب آ رہا ہے؟"
" سَحر ، ظلم سہنے والی عورت ظالم سے زیادہ قصوروار ہوتی ہے۔" سَحر خاموش تھی، جیسے دل کی زمین پر اُس کے الفاظ بیج بو رہے ہوں۔
" اگر آپ نے آج ہمت نہ کی تو نہ صرف آپ ہاریں گی بلکہ وہ سب عورتیں بھی ہار جائیں گی جو آپ کو دیکھ کر جینے کی امید باندھ سکتی ہیں۔" وہ کچھ بولی نہیں، مگر اُس کی خاموشی میں ایک ہلچل تھی۔ارتضیٰ نے مزید کچھ نہیں کہا۔ بس چپ چاپ اُسے دیکھتا رہا، جیسے جانتا ہو کہ وقت لگے گا، مگر اُس کی بات سحر کے دل تک رسائی حاصل کر لے گی۔
" ہم ظلم سہنے والی عورت نہیں ہیں یہی ہماری بربادی کی وجہ ہے۔" سحر نے دھیرے سے کہا اور زخمی سی نظر اٹھا کر اُس کا چہرہ دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے جھلکتا تلاطم ارتضیٰ حسن کے سکون کو ایک پل میں تہہ و بالا کرنے کو کافی تھا۔
" ہم نے داود کو انکار کیا، ہم نے ان کے غلط کو غلط کہا، انہوں نے ہاتھ اٹھایا تو ہم نے بابا جان کو بتایا۔ یہی بات تھی جس کی وجہ سے ہم نے اتنی اذیت جھیلی لیکن اُس میں بھی غلطی ہماری ہی تھی۔"
"شادی کے پہلے دن ہمیں بول دینا چاہیے تھا کہ ہم پردہ، نماز، روزہ کچھ نہیں کرتے مگر ہم خاموش رہے۔
فیشن ڈیزائننگ کو گناہ کا لیبل دے کر داؤد نے ہم سے ہمارا سب سے بڑا خواب چھین لیا لیکن ہم نے آواز نہ اٹھائی۔
جب وہ ہمیں دنیا کے سامنے دکھاوے کا دین دار بنا کر پیش کرنے لگے، ہم نے زبان بند رکھی۔
ہم اتنا خاموش رہے کہ جب بولنا چاہا تو زبان نے ساتھ نہ دیا۔ ہماری سب سے بڑی مجرم ہماری خاموشی ہے۔" کچھ لمحوں بعد وہ بولی تو اس بار اُس کی آواز میں قبولیت تھی، نفرت نہیں۔
"آپ صحیح کہہ رہے ہیں اگر ہم نے پہلے دن سے حدیں بنائیں ہوتیں ، اپنے لئے حدود طے کی ہوتیں، 'یہ یہ میں کرتی ہوں، یہ میں نہیں کرتی' تو یہ سب نہ ہوتا۔ مگر ہم ٹھہری پاکستان کی عام سی لڑکی جو جنتی مرضی اونچی اڑان اڑ لے واپس اسے اس ' لوگ کیا کہیں گے ' کی کیچڑ میں ہی آ گرنا ہوتا ہے۔" ارتضیٰ خاموشی سے اُس کا چہرہ دیکھے گیا۔وہ اب صرف درد میں اٹکی ہوئی نہ تھی، اُس نے اپنی غلطیوں کو پہچان لیا تھا، اتنے وقت بعد ہی صحیح آخر کار وہ سوچنے لگی تھی اور سوچنا ہی تو کر گزرنے کی ابتدا ہے۔
☆ ☆ ☆
رات کی سیاہی میں چاندنی کسی سفید ریشم کی طرح پورے صحن میں بکھری ہوئی تھی۔سحر بالکنی کے دروازے کی چوکھٹ سے لگی بیٹھی تھی، چہرے کے گرد لپٹا ہوا سفید دوپٹہ اس کے چہرے کو ایک ہالے میں قید کیے ہوئے تھا۔ ابھی نماز شب سے فارغ ہوئی تھی، تو روح میں وہ عجیب سا ٹھہراو تھا جو برسوں کی مسافت کے بعد کسی تھکے ہوئے مسافر کو نصیب ہوتا ہے۔ اس نے بے خیالی میں منڈیر سے نیچے جھانکا اور پھر اس کی نظریں وہیں ٹھہر گئی۔
نیچے لان کی ہریالی پر ارتضیٰ حسن بغیر کسی جائے نماز کے براہ راست مٹی پر کھڑا نماز پڑھ رہا تھا۔ وہ اس وقت کوئی زمانہ شناس مرد نہیں بلکہ وہ بشر لگ رہا تھا جس کو اپنے خالق کے سامنے ریزہ ریزہ ہونےکا فن آتا تھا۔ وہ جس وقار سے رکوع میں جھکا اس کے بند بند سے جھلکتی عاجزی سحر کے دل میں اترنے لگی۔ اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ بندگی صرف ماتھا زمین پر ٹیکنے کا نام نہیں بلکہ خود کو مکمل طور پر خدا کو سونپ دینے کا نام ہے۔ سحر کو اپنا وہ بچہ، اپنا دکھ، داؤد کی دی ہر اذیت اور سراج احمد ایک لمحے کو دھندلے سے لگے۔ اسے محسوس ہوا کہ جب تک ارتضیٰ جیسا عاجز و انکسار شخص اس کے لیے دیوار بن کر کھڑا ہے تب تک داؤد اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ شاید خدا نے اس کی سسکیاں سن لی تھیں۔ اس تسکینِ من کے لیے ایک انجانہ سا اعتبار سحر کے وجود میں سرائیت کر گیا۔
ارتضیٰ سجدے میں گیا تو سحر نے بے اختیار اپنی انگلیاں منڈیر کی ٹھنڈی اینٹوں پر رکھیں، کچھ پل کے لئے وہ محو تمنا ہوئی یہاں تک کہ ہوا کے ایک جھونکے نے سحر کا دوپٹہ اس کے چہرے پر لا ڈالا۔ اس نے دوپٹہ ہٹایا تو دیکھا ارتضیٰ اب تسبیح زہرا پڑھ رہا تھا۔ اس نے تسبیح پڑھنے کے بعد موبائل پر قرآن نکالا اور چندآیات کی تلاوت کی، سحر جو اوپر کھڑی اس کی آواز کو سن سکتی تھی اس آواز پہ ساکت رہ گئی۔ وہ داؤد کی طرح جیب میں قرآن اور ہاتھ میں تسبیح لے کر نہیں گھومتا تھا، وہ ارتضیٰ حسن تھا، ہر ریا کاری سے پاک، ایمان والا شخص۔۔۔
کچھ لمحوں بعد ہاجرہ اس سے کچھ فاصلے پر لگے بینچ پر آ بیٹھیں۔ اس نے تلاوت مکمل کی اور موبائل کی سکرین کو بند کرنے لگا تو ہاجرہ نے اسے روک دیا۔
" تمہاری آواز میں سکون ہے ، تمہاری تلاوت میں سکون ہے اور تمہاری موجودگی میں بھی سکون ہے۔
تم سکون ہو، ارتضیٰ ۔ دو آیات اور پڑھ دو۔ میرا دل آج بہت بے چین ہے۔" ارتضیٰ نے مسکرا کر سر کو خم کیا۔
" جو حکم میرے آقا !" اگلے دس منٹ تک ان کو تلاوت سنانے کے بعد ارتضیٰ نے تلاوت مکمل کی تو ہاجرہ کے ہاتھ اس کے سر پر دعاؤں کی صورت پھیل گئے۔ سحر اوپر منڈیر پر کھڑی ان الفاظ کو اپنی روح میں جذب کر رہی تھی ۔
" خدا تمہاری وہ خواہشات پوری کرے جس کو کہنے سے تم ڈرتے ہو، خدا تمہارے بخت میں کوئی نیک دل عورت لکھے۔" ہاجرہ کے ان الفاظ پر سحر کا دل ایک لمحے کو دھڑکنا بھول گیا اسے لگا جیسے یہ دعا سیدھا اس کے حق میں مانگی جا رہی ہو۔
" خدا کرے کہ تمہیں محبت کی شیرینی نصیب ہو، خدا تمہیں اتنا نوازے کہ دیکھنے والے دیکھتے رہ جائیں۔ خدا تمہیں عیسیٰ و مہدی کے پیچھے نماز پڑھنا نصیب کرے۔
خدا میرے بچے کو حاسدوں کے حسد سے محفوظ رکھے، ہمیشہ جیتے رہو۔" ہاجرہ کے جانے کے بعد وہ دعا کر کے اٹھا اور جائے نماز اٹھائی تو ہاجرہ کی آواز آئی۔
" کھانا تیار ہے، تم یہ لے کر جاؤ اتنی دیر یونس تمہاری روٹی پکا دیتے ہیں۔" اس نے اثبات میں سر ہلایا اور ٹھیک اسی لمحے اس کی نظر سیدھا اوپر بالکنی کی طرف اٹھی۔ سحر ہڑبڑا کر پیچھے ہونے کی بجائے، وہیں جمی کھڑی رہی۔ ایک پل کے لیے دونوں کی نظریں چاندنی میں ٹکرائی۔ وہ اعتبار جو اب تک صرف الفاظ میں تھا آج آنکھوں کے راستے دل میں اتر گیا۔ سحر خاموشی سے واپس پلٹ گئی۔
کچھ ہی دیر بعد، ارتضیٰ کھانا لئے سیڑھی کے ذریعے اوپر چڑھ رہا تھا۔
اُس نے ابھی بنیرے پر ہاتھ ہی رکھا تھا کہ سیڑھی ڈگمگا گئی۔ ارتضیٰ کا پاؤں پھسلا اور وہ توازن کھو بیٹھا۔ لمحہ بھر کو اُس کا جسم بنیرے سے لٹک گیا۔ سیڑھی نیچے گر گئی تھی بس ایک پل اور وہ سیدھا نیچے لان میں گرتا۔
"ارتضیٰ!" سَحر کی زبان سے بےساختہ چیخ نکلی۔ وہ دوڑتی ہوئی آئی اور پوری طاقت سے اُس کا بازو پکڑ لیا۔ ہاتھ میں پکڑا فون بنیرے سے نیچے گر کر چورچور ہو گیا۔ ارتضیٰ کے پاؤں ہوا میں جھول رہے تھے۔ سَحر دونوں ہاتھوں سے اُس کا بازو پکڑے ہوئے تھی، خوف سے اُس کا چہرہ زرد تھا۔
"چھوڑ دیجیے، آپ گر جائیں گی!" ارتضیٰ نے ہانپتے ہوئے کہا۔
" ہم آپ کو چھوڑ نہیں سکتے!" سَحر نے گھبرا کر جواب دیا۔ اُس نے سَحر کی آنکھوں کو دیکھا اور لمحوں کا کھیل تھا کہ دیکھتے دیکھتے وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
" کاش دا وخت دلتا رکاؤ شی ۔ "
( کاش یہ وقت یہیں رک جائے۔)
نیچے کھڑی حاجرہ نے کچھ لمحوں کی جدوجہد کے بعد آخرکار سیڑھی دوبارہ رکھی تو ارتضیٰ نے پاؤں اُس پر رکھ کر سہارا لیا اور بنیرے پر چڑھ کر بیٹھا، سانس پھول رہا تھا۔ سَحر بھی ہانپ رہی تھی، اُس کے ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے۔ چند لمحے خاموشی رہی پھر ارتضیٰ نے گہری سانس لی اور نیم مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "دیکھا، آپ میں وہ ہمت ہے جسے آپ مانتی نہیں تھیں۔" سَحر نے نظریں چُرا لیں، مگر دل کے اندر ایک عجیب سی گرمی اُترنے لگی تھی۔ درِ دل کسی ہستی کی مانوس دستک سے لرزنے لگا تھا۔
" کھانا تو نیچے گر گیا۔" اُس نے نیچے جھانک کر دیکھا۔روٹیاں گر کر گرد آلود ہو گئیں تھیں۔
" تم رکو اوپر ہی،میں یونس سے دوبارہ پکوا دیتی ہوں۔" ہاجرہ نے روٹیاں سمیٹ کر کہا۔
" مل گیا سکون ؟"سَحر کے لبوں پر ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ آئی۔ ارتضیٰ نے نفی میں سر ہلایا، آنکھوں میں گہری سنجیدگی تھی۔
" میرا سکون تو سَحر سراج کی آزادی ہے۔" سَحر نے ہولے سے سر ہلایا۔ اُس لمحے کے بعد وہ چونکی اور بری طرح چونکی۔ آنکھوں کی پتلیاں پھیل گئیں۔
سَحر سراج کی آزادی ۔۔۔
" کیا؟"
" آپ آزاد ہو کر چلی جائیں تو میری ڈیوٹی بھی ختم ہوگی۔ ورنہ ایسے ہی کسی دن میں بندر کی موت مر جاؤں گا۔" وہ صوفے پر بیٹھ کر ، کوٹ سے چونا جھاڑتےہوئے بولا۔
اس بار روٹیاں نئے سرے سے بننے میں وقت لگا ارتضیٰ کافی دیر روٹی کے انتظار میں وہیں اُس کے پاس بیٹھا رہا۔ روٹی بننے کے بعد اُس نے سحر کا دوپٹہ لٹکا کر کھانا اوپر کھینچا، پھر اکٹھے ہی کھانا کھا کر وہ برتن سمیٹ کر چلا گیا تھا۔ وہ سیڑھی اتر گیا تو سَحر اٹھ کر بنیرے تک آئی پھر نیچے جھانکا۔ وہ سیڑھی سے نیچے اترا تو ہاجرہ چلتی ہوئی اُس تک آئیں ۔
" اگر آج گر کر کوئی ہاتھ پاؤں تڑوا لیتے تو محبّت کا سارا بھوت اتر جاتا۔"
" آپ تو خود اسیر محبت ہیں، پھوپھو۔ آپ تو سمجھیں نا ۔۔۔
زہر ویکھ کے پیتا، تے کی پیتا ؟
عشق سوچ کے کیتا تے کی کیتا ؟"
وہ ہنس کر ان کے کندھے پر ہاتھ رکھے آگے بڑھ گیا لیکن پیچھے کسی کی بےرنگ دنیا میں سرخ رنگ بھر گیا۔
" عشق ۔۔۔" سحر نے زیر لب دہرایا۔
وہ حقیقتاً اُس کے لیے بہت کچھ قربان کر رہا تھا۔۔۔
وقت، پیسہ، صحت۔۔۔ لیکن محبت ؟؟؟
ہاں محبت ۔۔۔
اتنے ناز تو محبوب کے ہی اُٹھائے جاتے تھے۔
اتنے چکر تو محبوب کے دیدار کو ہی لگائے جاتے تھے۔
کیا ارتضیٰ حسن اُس سے ہمدردی نہیں۔۔۔ محبت کرتا تھا؟
☆ ☆ ☆
فجر کی نماز پڑھنے کے بعد وہ زیرِ لب ورد کرتے ہوئے کچن میں کھڑا قہوہ بنا رہا تھا، آنکھیں بے چین سی تھیں۔
نظر میں بار بار وہ خوف سے پھیلی ہوئی سیاہ آنکھیں آ کر اُسے کچھ جتلانے لگی تھیں۔ اس نے ایک حسین عورت کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوتاہی کر لی تھی، اب آنکھیں بند کرنا، بند کرکے کھولنا، ان کو مسلنا ، مسل کر ٹپٹپانا ۔۔۔ کچھ کام نہیں آ رہا تھا۔
اُس نے کپ اٹھایا اور چیزیں وہیں چھوڑ کر اپنی ٹیبل تک آ گیا۔ کپ رکھا اور پیچھے الماری سے ایک ڈائیری نکال لی۔
" یا اللہ یہ تنہائی گھن کی طرح انسان کو چاٹ جاتی ہے اور اُسے بھی چاٹ رہی ہے۔
میں بےبس نہیں ہوں، میں چاہوں تو ایک پل میں اُسے وہاں سے نکال کر کسی محل میں لے جاؤں تو نے مجھے عزت سے نوازا ہے مگر وہ اس قدر ڈھیٹھ کیوں ہے؟
کیوں ہوتی ہیں یہ لڑکیاں اتنی ضدی؟
یا اللہ اس لڑکی کو ہدایت دے، یا اللہ اس پر رحم کر ، یا الله اس کے سارے زخم بھر دے،
اسے عقل دے کہ وہاں سے نکلنا ہی اس کے اور میرے لیے بہتر ہے۔ " کچھ لمحے بے بنیاد سی خاموشی چھائی رہی۔
" اُس کی تنہائی مجھے کھانے لگی ہے ۔ میں اُسے مزید ایسے نہیں دیکھ پا رہا ۔ اللہ یہ امتحان مت لے۔ اس کے باپ کا کچھ پتا دے دے مجھے ۔" ابھی وہ اپنی آنکھوں میں موجود اس انجانے جذبے کی تپش کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ باہر راہداری میں لاک کھلنے کی وہ مخصوص آواز سنائی دی ۔ ارتضیٰ کے حواس ایک دم بیدار ہوئے ۔ اس نے لمحے کے ہزارویں حصے میں ڈائری بند کی اور اسے پیچھے کی طرف الماری کے کھلے ہوئے شیلف میں اچھالا، ڈائری کسی تربیت یافتہ پرندے کی طرح سیدھا اپنی جگہ جا ٹھہری ۔ الماری کے دروازے کا پٹ کھلا تھا ۔ارتضی نے میز پر رکھا ہوا دھاتی پین اٹھایا اور کلائی کے ایک زوردار جھٹکے سے اسے دروازے کی سمت اچھال دیا ۔ پین ہوا کو چیرتا ہوا گیا اور ٹھیک اسی جگہ لگا جہاں مقناطیسی لاک کا سینسر تھا۔ ایک گونج دار آواز کے ساتھ لاک چپک کر بند ہوا اور کمرے کا دروازہ کھلنے سے پہلے ہی اپنی جگہ ساکت ہو گیا۔ ارتضیٰ کے چہرے پر ایک لمحے کو بھی گھبراہٹ نہیں آئی۔اس کا نشانہ صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں تھا وہ چیزوں کو ان کی اوقات میں رکھنا بخوبی جانتا تھا۔
کمرے کا دروازہ کھلا، سامنے مرتضیٰ کھڑا تھا، اپنی نیلی آنکھیں چمکاتے، دونوں بازو سینے پر باندھے، طنزیہ نظروں سے گھورتے ہوئے۔
"کیا تکلیف ہے؟" ارتضیٰ نے بیزاری سے کہا۔
"سوچا دیکھ آؤں، کہیں بچارا شہر بدر مر تو نہیں گیا۔" وہ ڈھٹائی کی اعلیٰ مثال تھا اس نے ایک اور دفعہ ثابت کیا۔
"مریں میرے دشمن! میں کیوں مروں؟ نیلے سپولے، کبھی کچھ اچھا بھی بول لیا کر!
اور یہ شہر بدر کس کو بولا؟ اپنی مرضی سے آیا ہوں میں یہاں پر۔"
"ایسی بکواس تو تمہاری شکل دیکھ کر ہی آتی ہے، ورنہ باقی وقت تو میں بڑا بااخلاق اور حسین انسان ہوں۔"
"ہو گئی بکواس ؟ کچھ کھانا ہے تو کچن میں جا کر ٹھونس لو۔"
"تم اپنی چھریاں بیچ بیچ کر جو پیسے کماتے ہو، ان سے گزر بسر کرو۔ میں تو اونٹ کے تکے کھا کے آیا ہوں۔"
" تبھی زبان اونٹ جیسی لمبی ہوگی ہے!" ارتضیٰ نے پلکیں جھپکائے بغیر جواب دیا۔
"ہاں ہاں۔۔۔ لیکن تم بتاؤ، یہ سڑی ہوئی شکل، سرخ آنکھیں، اور اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھے ہو
کیا چھپا رہے ہو بھائی؟" وہ آنکھیں تنگ کر کے بولا۔
"مرتضیٰ۔۔۔" ارتضیٰ نے دانت پیس کر کہا۔اُس کی آنکھیں اُس قدر تیز کیوں تھیں۔۔۔
"اگر بکواس ختم ہو گئی ہو تو آنے کا مقصد بتا دو۔"
"ابا نے کہا ہے دو ماہ بعد تمہیں دستار دیں گے اور پھر ایک ماہ بعد تمہاری اور جانا کی شادی۔
مطلب تین ماہ بعد تم دولہا بنو گے!" وہ خوشی سے اچھلنے لگا۔
"اور میں۔۔۔ تمہاری شادی میں تم سے نکاح کے ساتھ ڈیرہ نواب کے کاغذات پر دستخط کروا لوں گا۔"ارتضیٰ کا چہرہ سخت اور خالی سا ہو گیا۔ مرتضیٰ ہنستے ہنستے رکا، آگے آ کر اُس کے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھے۔
"اوئے! کس بات پر منہ لٹکا لیا؟"
"میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔"ارتضیٰ نے اُس کا ہاتھ جھٹک دیا اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ چہرے پر جو اضطراب در آیا تھا وہ اُس پُرسکون رہنے والے شخص کے چہرے پر جچتا نہیں تھا۔مرتضیٰ چونکا۔
"اوہ۔۔۔" اُس نے ارتضیٰ کے کندھے پر کوہنی ٹکائی ۔
" یہ جو لاہور سے محبت ہے۔۔۔
یہ کسی اور سے محبت ہے ۔۔۔ "
ارتضیٰ خاموشی سے اُس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔ اسے اندازہ ہوا کہ جسے چھپانے کے لئے اس نے ہزار دعائیں کی تھیں وہ اب اس کی آنکھوں کے پیالوں سے جھلک پڑا تھا۔ اس کی خاموشی جیسے مرتضیٰ کی بات پر سچ کی مہر لگا گئی، مرتضیٰ کی آنکھیں پھیل گئیں۔
"کون ہے وہ؟ کیسی ہے؟ پٹھان ہے؟ آنکھیں نیلی یا ہری؟ یا سنہری بال گھٹنوں تک؟"
"میں نے انہیں کبھی اتنے غور سے نہیں دیکھا۔۔۔" ارتضیٰ اپنے ناخنوں کو مسلنے لگا۔
" ایسا نہیں کہ کبھی اتنی خوبصورت لڑکی دیکھی نہیں۔ مگر اُس کی آنکھوں میں کچھ تھا کچھ ایسا جس نے مجھے قید کر دیا۔ میں قیدی ہوگیا، مرتضیٰ۔
وہ بنتِ ہوا نا ہوتی تو شاید کوئی معصوم سا ستارہ ہوتی یا کسی کہکشاں کا چمکتا چاند ہوتی ۔۔۔
ابھی غور سے دیکھا نہیں تھا تو یہ حال ہو گیا ۔۔۔ غور سے دیکھتا تو دیوانہ ہو جاتا ۔۔۔ مجنون ۔" مرتضیٰ نے اُس کی آنکھوں میں وہ پڑھا جو غیر خون کے لیے محسوس کرنا ان کے خاندان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے در پہ تھا۔
"غور سے نہیں دیکھا تو محبت کیسے ہو گئی؟" وہ ارتضیٰ حسن کی آنکھوں میں جو دیوانگی دیکھ رہا تھا، کہیں دور اُسے ارتضیٰ کے چہرے میں حاجرہ اور پھر پریوش دکھائی دینے لگیں۔ بغاوت کی بو لاہور کی فضا میں گھل کر سانس تنگ کرنے کو تھی۔
"محبت نہیں ہوئی۔۔۔" ارتضیٰ نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا تو لہجہ بوجھل تھا یا شاید وہ بھی انجام کا سوچ رہا تھا۔
" عشق سا ہو گیا ہے۔
اور اگر۔۔۔ اگر وہ انکار کر دیں تو؟ اگر وہ مانیں ہی نہ؟" کمرے میں لمحہ بھرکے لئے خاموشی چھا گئی۔
وہ حویلی والوں کا نہیں ، محبوب کا ردعمل سوچ رہا تھا۔
صوابی کا امیرِ نامزد بغاوت کا سوچ رہا تھا۔
"بھائی۔۔۔ تم اتنی تہجد پڑھتے ہو۔ ایک دفعہ تہجد میں انہیں بھی مانگ لو۔ دیکھنا اللہ ضرور تمہاری دعا پوری کرے گا۔" مرتضیٰ نے لہجے میں نرمی گھولتے ہوئے مشورہ دیا۔
"مرتضیٰ۔۔۔ وہ طلاق یافتہ ہیں۔"
" کیاااا ؟" مرتضیٰ کی چیخ نکلی، جیسے اسے چلتے چلتے بجلی کا جھٹکا لگا ہو۔ اس نے حیرت سے ارتضیٰ کو دیکھا جیسے اسے اپنی سماعت پر یقین نہ آیا ہو۔
" داؤد نے ان پر بہت ظلم کیے ہیں، جب میں ان سے پہلی بار ملا تھا، ان کا زخموں سے چور خون میں ڈوبا سراپا آج بھی اذیت دہ ہے۔ سَحر کو پہلی شادی نے اتنے زخم دیے کہ شاید وہ اب شادی کا نام سن کر بھی لرز جائے۔" یہ الفاظ سنتے ہی مرتضیٰ کی آنکھوں کی پتلیاں سکڑ گئیں۔ وہ ایک دم تپا اور اپنی کمر کی طرف آڑی پستول نکال کر ٹیبل پر پٹخ دی۔
" یہ کس دن کام آنی ہے۔ مجھے اُس حرام۔۔۔نہیں، حلال آدمی کا نام بتاؤ جس نے میری بہن کو تکلیف دی۔ میں ابھی اُس کے گھر جا کر اُس کی کھوپڑی اڑا دوں گا۔"مرتضیٰ کی ماتھے کی رگیں تن گئی تھیں۔
" اگر تم اس وقت مجھے کوئی عقل والا مشورہ نہیں دے سکتے تو منہ بند رکھو۔" ارتضیٰ کی دھمکی آمیز آواز کمرے میں گونجی۔
"عقل تم اپنے پاس رکھو، بھائی۔ میرے پاس صرف غیرت ہے اور میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ داؤد جیسا گھٹیا انسان چین سے سانس لے۔" کمرے میں چند لمحے خاموشی چھا گئی۔ ارتضیٰ نے آنکھیں موند لیں، جبکہ مرتضیٰ کی آنکھوں میں غصہ اب بھی دہک رہا تھا، جیسے واقعی موقع ملا تو وہ داؤد کا قتل کر ڈالے گا۔
"اگر تم پر امیتاب بچن کی حاضری ختم ہو گئی ہو تو بکواس بند کرو ۔ مجھے سَحر اور ابا کو منانے کا حل چاہیے ۔" مرتضیٰ کے چہرے سے شرارت غائب ہوئی وہاں اب ایک عجیب سی سنجیدگی اور خوف تھا۔ وہ ارتضیٰ کے قریب آیا۔
" تم یہاں خاموشی سے شادی کر لو، میں سب سنبھال لوں گا۔ میں لاہور کے اس قصے کو صوابی کی مٹی میں ایسا دفن کروں گا کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوگی۔ تم وہاں جاناں سے بھی نکاح کر لینا، ابا کی دستار بھی پہن لینا مگر ان سے بغاوت مت کرنا۔ تم ان کے سچے بیٹے ہو لالہ اور ایک سچا بیٹا اپنے باپ کو وہ زخم نہیں دیتا جو کبھی نہ بھر پائے۔" ارتضیٰ نے گدی کھینچ کر اس کے منہ پر ماری، مگر مرتضیٰ نے اسے ہوا میں ہی پکڑ لیا۔
" تم مجھے مارو یا مار ہی دو لالہ! مگر میری بات کان کھول کر سن لو۔تم ابا سے نہیں لڑو گے، تم ان کا دل نہیں توڑو گے، تم جانتے ہو وہ تمہیں کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ تمہیں اپنا فخر، اپنا خون اور حویلی کا اکلوتا وارث مانتے ہیں۔ تم ان کے لیے وہ ہو جو میں کبھی نہیں بن سکا۔"
" باقی رہ گئی بات داؤد کی تو اس بےغیرت کو تو ۔۔۔ "اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ارتضیٰ اُسے کالر سے پکڑ کر دروازے تک لے گیا پھر دروازہ کھولا اور عزت سے جھک کر بولا۔
" جناب غیرت علی خان صاحب، آپ یہاں سے دفع ہو جائیں۔" اور اُسے دھکا دے کر دروازہ بند کر دیا۔
" میں گھر جا کر سب کو سَحر بھابھی کے بارے میں بتاؤں گا۔"
" کیا کہا؟" ارتضیٰ نے دروازہ کھولا تو ہاتھ میں گلاک ١٩ تھی۔
" خدا حافظ پیارے بھائی، اپنا خیال رکھنا۔ وقت پر کھانا کھانا۔ خیریت کا خط لکھتے رہنا۔ " پستول کی نال خود پر دیکھ کر، بہت عزت سے کہتے وہ وہاں سے پلٹ گیا تھا۔
☆ ☆ ☆
اگلی صبح ارتضیٰ ہمیشہ کی طرح بالکونی میں آ بیٹھا۔ دھوپ سے چندھیائی آنکھوں سے اندر جھانکا تو سَحر جائے نماز پر کھڑی تھی۔ وہ شاید قضا نماز ادا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
"الحمد للہ رب العالمین۔۔۔" لبوں پر آتا اور پھر وہ چونک کر سر جھٹک دیتی۔ الفاظ جیسے زبان پر الجھ جاتے۔ بار بار وہ شروع کرتی، لیکن دھیان کہیں اور بھٹک جاتا۔ارتضیٰ نے غور کیا۔ اُس کے چہرے پر تھکن اور اضطراب کی لکیریں تھیں۔ اچانک وہ رُکی، کھڑی کھڑی خلا میں دیکھنے لگی۔
ارتضیٰ نے دیکھا اُس کی آنکھوں میں ایک انجانی وادی اتر آئی ہے۔ پھر پلک جھپکتے ہی وہ کسی اور لمحے میں جا پہنچی۔اچانک اُس کے ہونٹ کپکپائے۔
"داؤد۔۔۔ "الفاظ ٹوٹے جیسے ماضی کے زخموں نے ایک دم سراپا لہو کر دیا ہو۔
ارتضیٰ کے دل میں ایک چبھن سی اٹھی۔ وہ بالکونی سے آہستہ سے اندر داخل ہوا۔ اُس نے قریب جا کر دیکھا، سَحر کا وجود لرز رہا تھا۔وہ اپنے خیالات سے گھبرا کر پیچھے ہٹی تو ارتضیٰ سے ٹکرا گئی۔ چونک کر پلٹی اور اُس کا چہرہ دیکھا۔ دونوں کی آنکھوں میں حیرت بھری پڑی تھی، نظروں کا ایسا تصادم ہوا کہ دونوں سینوں میں دل دھڑک اٹھے۔ اُس نے پلکیں جھپکی تو آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر رخسار پر بہہ نکلے، وہ زمین پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
ارتضیٰ نے جگ سے پانی ڈال کر اُسے دیا۔ پھر پاس بیٹھ گیا لیکن لمحہ بھر کے توقف کے بعد بالکنی کی طرف واپس گیا۔
" سَحر ۔۔۔ میں اندر آ سکتا ہوں؟"سَحر نے آنسوؤں کے درمیان چونک کر اُسے دیکھا۔ وہ بالکونی کے دروازے کی دہلیز پر کھڑا تھا، سحر نے آہستہ سے سر ہلایا۔ وہ آیا اور دور صوفے پر بیٹھ گیا۔
"ہم سے یہ سب نہیں ہوگا،ارتضیٰ۔۔۔ ہم نماز کے لیے نہیں بنے۔ ہم خدا کو پسند نہیں ہیں۔"
"ایسا کیوں کہہ رہی ہیں؟" وہ روتے ہوئے، آنکھیں بار بار جھپک رہی تھیں۔
"کیونکہ جب ہم نماز شروع کرتے ہیں تو ہماری آنکھوں کے سامنے داؤد آ جاتا ہے۔ وہ ہمیں مارتا ہے۔۔۔ ہمیں طلاق دینے لگتا ہے۔۔۔ارتضیٰ ہمارا سانس گھٹنے لگتا ہے۔ ہم سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا،ہمیں فرار چاہیے ۔۔۔ سکون چاہیے تھا۔۔۔ اذیت نہیں۔" ارتضیٰ نے اُس کے لرزتے ہاتھوں کو دیکھا۔پھر بہت آہستہ، بہت نرمی سے، اس کی طرف قدم بڑھایا۔
" آپ کو پتہ ہے سحر؟" اس کی آواز اتنی مدھم تھی کہ سحر کو رونے کے باوجود رک کر سننا پڑا۔
"آج سے چھ سال پہلے یہ وقت مجھ پر بھی آیا تھا جب میں خود سجدے میں نہیں جا پاتا تھا۔ مجھے لگتا تھا میرے گناہوں کا بوجھ اتنا ہے کہ میری گردن جھک نہیں پائے گی۔" سحر نے حیرت سے سر اٹھایا۔ ارتضیٰ حسن ۔۔۔ گناہگار ؟ اسے تو لگتا تھا یہ شخص کوئی فرشتہ ہے جس کا دامن کبھی میلا نہیں ہوا۔
" خدا کو پرفیکٹ لوگ نہیں چاہیے سحر ! اسے ٹوٹے ہوئے لوگ پسند ہیں۔" ارتضیٰ نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی نظریں سامنے دیوار پر ٹکا دیں جیسے کوئی پرانا منظر دیکھ رہا ہو۔
" اور ایک بات یاد رکھیں، شیطان ہمیشہ اسی دل پر وار کرتا ہے جو آباد ہونے والا ہو۔ آپ کی نماز میں خلل اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی توبہ قبول ہو چکی ہے اور آپ کا راستہ درست ہے۔ اب جب بھی داؤد کا خیال آئے، اسے وہیں جائے نماز پر خدا کے سامنے پیش کر دیں کہ یا اللہ! میں اس شخص کو آپ کے دربار میں لائی ہوں۔اسے مجھ سے دور کر دیں۔ آپ لڑیں مت، بس اپنا حال سنائیں جیسے کسی اپنے کو سناتے ہیں۔ خدا سے زیادہ اپنا کون ہی ہو سکتا ہے؟
" آپ کا دھیان اس لیے بھٹکتا ہے کیونکہ آپ داؤد سے بچنے کے لیے نماز پڑھتی ہیں۔ جس دن آپ خدا سے ملنے کے لیے پڑھیں گی، اس دن کوئی داؤد آپ کے اور خدا کے درمیان نہیں آسکے گا۔" وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے وجود سے ایک عجیب سا سکون مہک رہا تھا۔
" اگلی بار جب اذان ہو تو یہ مت سوچیے گا کہ اب فرض ادا کرنا ہے بلکہ یہ سوچیے گا کہ ا س دنیا کے شور سے فرار کا وقت ہوا چاہتا ہے ۔وہ آپ کا اور آپ کے رب کا پرائیویٹ وقت ہے۔وہاں داؤد کی اینٹری بین ہے۔"
" نماز کے بعد دعا اسی لیے مستحب ہے کہ وہ وقت انسان اور خدا کے درمیان کسی پردے کے بغیر ہوتا ہے۔دل بھاری ہو تو بس سجدے میں گر جاؤ۔ لفظ نہ آئیں۔۔۔ تو رو دو، یہ جو آنسو ہوتے ہیں ناں، خدا کے ہاں ان کی بہت قدر ہوا کرتی ہے۔خدا دل کی آواز لفظوں کے بغیر بھی سن لیتا ہے۔" سحر نے آنسو پونچھے۔اُس کی سانسوں میں ذرا سا سکون اُترنے لگا۔
"اور سنیں ۔" ارتضیٰ کی آواز اور نرم ہو گئی۔
"کوشش کبھی یہ نہ کریں کہ پہلی ہی نماز کامل ہو۔
جیسے برسوں کے زخم ایک دن میں نہیں بھر سکتے،
ایسے ہی دل بھی آہستہ آہستہ ٹھیک ہوتا ہے۔
ہر ایک رکعت، ہر ایک سجدہ۔۔۔
تھوڑی تھوڑی روشنی، ہر دن۔" سحر نے قریب رکھے گلاس سے پانی پیا،اور آنسو صاف کر کے اُس کا چہرہ دیکھا۔
"کیا واقعی خدا ہمیں سن لے گا؟
کیا وہ ہمیں سچ میں تھام لے گا؟
ہم بہت گناہگار ہیں، ارتضیٰ۔۔۔
ہم نے نماز نہیں پڑھی۔۔۔ قرآن نہیں پڑھا۔۔۔
پردہ نہیں کیا۔۔۔کبھی نہیں۔
وہ ہم سے نفرت کرتا ہوگا۔" ارتضیٰ مسکرایا،وہ سمجھ گیا تھا، وہ بالکل اُسی مقام پر کھڑی تھی جہاں آج سے چند سال پہلے وہ خود کھڑا تھا۔
" الله نفرت کرنے لگ جائے تو ہم جیسے کہاں جائیں گے؟"
"خدا نفرت نہیں کرتا، سحر۔
وہ تو انتظار کرتا ہے کہ میرا بندہ کب پلٹ کر میرے پاس آئے گا۔
ٹوٹے ہوئے دل کو سب سے پہلے اللہ سنتا ہے۔
آپ صرف ایک بار۔۔۔
سچ میں۔۔۔ اُس کے سامنے کھل کر سب کہہ کر دیکھیں۔
باقی سب وہ خود سنبھال لے گا۔"
"حدیث قدسی میں خدا فرماتا ہے کہ' میں کسی چیز میں سماں نہیں سکتا سوائے مومن کے دل میں۔'
اگر اس دل میں خدا سماں گیا نا تو کوئی اسے توڑ نہیں سکتا۔" پھر ارتضیٰ اٹھا۔
" چلیں، آنکھیں بند کریں اور یقین کریں کہ خدا آپ کے سامنے بیٹھا ہے۔
صرف آپ کو سننے کے لیے۔اب اُسے سب بتا دیں ۔
زخم بھی، خوف بھی، وہ دن رات بھی جو رو رو کر گزارے ،
جو کبھی کسی کو نہیں بتایا، وہ سب اُس کو بتا دیں۔" ایک تو وہ ہمیشہ اس نرمی سے بولتا تھا کہ زمین اپنی گردش چھوڑ کر اُسے سننے لگتی تھی۔ ارتضیٰ مڑنے لگا تو رکا،اور نرمی سے بولا،
"یہ ناشتہ رکھا ہے۔ فارغ ہو کر کھا لینا لیکن آج دل ہلکا کر کے اٹھنا۔خدا کی قسم ، یہ نماز آپ کو جوڑ دے گی۔" سَحر نے اُس کی جانب دیکھا پھر چہرہ آگے کی جانب موڑ لیا۔
" ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ اب بس کر دیں؟ " وہ اُس کی آواز سن کر رکا۔
" جب آپ کے زخم کو خدا کی طرف سے مرہم دیا جائے گا تو آنسو تھم جائیں گئے، اُس وقت دل ہلکا محسوس ہوگا۔ پھر اُس ہلکے دل سے خدا کا شکر ادا کرنا کہ اُس نے آپ کو اپنے در پر آنے کی توفیق دی۔" وہ اپنی کہہ کر چلا گیا تھا سَحر نے اب اپنے دل کا حال خدا کے سامنے رکھنا شروع کیا۔ بہت دیر رونے کے بعد اُس کی ہچکی بندھ گئی تھی۔آنکھیں اور ناک سرخ پڑ چکے تھے۔ وہ پانی پینے اٹھی تو دیکھا سامنے وہ منڈیر پر ایک شاپر رکھ کر واپس جا رہا تھا۔ سَحر کو دیکھ کر رک گیا۔ سَحر پاس گئی اور شاپر کھول کر دیکھ اُس میں ایک فون اور ایک تالا موجود تھا۔ سَحر نے فون اٹھا لیا۔
" یہ تالا ؟" اُس نے تعجب سے پوچھا۔
" معذرت ، مگر آپ یہ تالا یہاں ڈال کر رکھ لیں۔ آج بنا اجازت کے اندر آ گیا تھا۔" سَحر کو معلوم نہ ہوا کہ وہ شرمندہ ہے یا خوفزدہ ۔
" ہم بھروسہ کرتے ہیں آپ پر۔" یہ جملہ جس اعتقاد سے ادا کیا گیا، ارتضیٰ حسن کے اعصاب کچھ لمحوں کے لئے منجمد ہوئے۔
" غلط کرتیں ہیں!" اس نے نظر جھکا کر کہا۔
" کیا آپ نے سنا نہیں کہ جہاں مرد اور عورت اکیلے ہوں وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے؟" اُس کے الفاظ اور جھکی نظریں ایک دوسرے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے مخالف سمت میں جا رہی تھی۔
" معلوم نہیں، نیت کا معلوم نہیں مگر ہم عورتیں نظریں بھانپ لیتی ہیں۔" اس نے بھی نظر جھکا کر آشکار ہونے والے جذبات کے سمندر پر بند باندھ دیا۔
" نیت کا تو مجھے بھی معلوم نہیں مگر ہم مرد نظر اٹھا لیتے ہیں۔ نظر جھکی رہے تو دل پاک رہتا ہے۔ خیر!خدا کی امان میں۔ میں چلتا ہوں۔" اُس کا اب یہاں سے چلے جانا ہی بہتر تھا جو مزید یہاں پر رکتا تو یوسفزائیوں کی حویلی کا تاج اُس کے سر پر سے نوچ پھینک دیا جاتا۔
سَحر نے رشک سے اُس شخص کو دیکھا۔ دل کی دھڑکن جو دھن بجانے لگی تھی وہ اُس سے بالکل بے خبر نہیں تھی لیکن جو ساز آج اُس کی سماعتوں میں گونج رہا تھا وہ کسی بہار کی آمد کا پیغام دیتا تھا۔
اور یہ وہ لمحہ تھا جب سَحر سراج کو یقین ہوگیا تھا کہ اُسے ارتضیٰ حسن سے محبت ہوگئی ہے۔ وہ محبت جو خدا دلوں کو سکون دینے کے لیے نازل کرتا ہے، وہ محبت جو خدا دلوں کو جوڑنے اور ان کے زخم بھرنے کے لیے نازل کرتا ہے۔
☆ ☆ ☆
اُس رات، ارتضیٰ کے جانے کے بعد وہ آدھی رات کو پھر مصلے پر موجود تھی۔ نماز نیم شب، اب ذرا بہتر پڑھی گئی تھی۔وہاں اب داؤد تھا نہ ہی اُس کی کوئی یاد، تسبیح پڑھنے کے لیے اس نے انگلیوں کے پوروں کو دیکھا لیکن اسے یاد نہ آیا کہ تسبیحِ زہرا میں کون سا ذکر پڑھا جاتا ہے۔ چند لمحے خلا میں گھورنے کے بعد فون اٹھایا،مسنجر کھول کر ارتضیٰ سے پوچھنا چاہا مگر شرمندگی تھی یا کم عقل کہلائے جانے کا خوف اُس نے میسنجر بند کر دیا۔ چند لمحے گہری سوچ میں ڈوب کر اپنی بہترین یاداشت کو اس بدتر حالت میں دیکھ کر سوگ کے چند آنسو ٹپکانے کے بعد ،اس نے گوگل سے سوال کر ڈالا ، پل میں جواب موصول ہوا اور اس نے تسبیح کے اذکار پڑھ کے فون بند کر دیا۔
تسبیحات پڑھنے کے بعد اُس نے درود پڑھ کر دونوں ہاتھ دعا کے لیے بلند کیے کافی دیر خاموشی سی چھائی رہی۔ وہ مقدس خاموشی جس کی وجہ سے نمازِ نیم شب کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔ وہ خاموشی جو نصیب والوں کو نصیب ہوتی تھی، وہ خاموشی جس میں خدا قریب سے سن لیتا تھا۔ مگر پھر اُس کے لب ہلے۔
" اللہ۔۔۔ ہمیں ۔۔۔ " وہ خوفزدہ ہو کر خاموش ہوئی۔ یہ سینے میں دھڑکتی دل نامی چیز نے کیا خواہش ظاہر کی تھی۔۔۔
"پاؤں کے نیچے اپنی زمین نہیں ہے اور آسمان کی خواہش کرنے لگی ہو؟" اُس نے خود کو جھڑکا، اُسے منہ پھاڑ کر اوقات سے باہر کی چیزیں مانگنے کی عادت نہیں تھی۔وہ کافی دیر خاموشی سے دعا کے لئے اٹھے ہاتھوں کی لکیریں دیکھتی رہی۔
" سحر، کن فیکون کے مالک کے لئے کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا،
نہ مچھلی کے پیٹ میں زندہ رکھنا،
نہ دریا میں سے راستے بنانا،
نہ کنویں سےنکال کر بادشاہت دینا۔۔۔
اُس کے لئے کچھ ناممکن نہیں ہوتا۔" یہ شخص نہ ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ موجود ہوتا تھا۔ سحر نے آنکھیں کھول کر اپنی ہتھیلی کو دیکھا۔ایک گہری سانس لے کر جیسے خود کو اُس محاذ کیلئے تیار کیا۔
" اللہ ہمیں ارتضیٰ چاہیے۔"
" ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ہم اُن کے عشق میں مبتلا ہو جائیں گے ۔" لوگ کہتے تھے کہ اعتراف کا لمحہ عذاب کا لمحہ ہوتا ہے مگر وہ اعتراف اگر خدا کے سامنے ہو تو اُس سے زیادہ دل کو سکون دینے والی کیفیت اور کوئی نہیں تھی۔
" الله تعالیٰ!یہ ھمارے اختیار میں نہیں تھا مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ بھی تو نے ہی کیا ہے، کیونکہ تو ہمیں کسی قدردان کے ہاتھ سونپنا چاہتا تھا۔ اب تو اُسے ہمارے مقدر کا ستارہ بنا دے جو ہمارے مردہ دل کو روشن کر دے۔ یا اللہ اُسے ہمارے نصیب میں لکھ دے۔ ہم تجھ پر یقین کرکے اُس ہمدرد ، اعلیٰ ظرف اور رحم دل انسان کو تجھ سے ایک پاک رشتے میں مانگ رہے ہیں۔"
" اللہ ہمیں ارتضیٰ حسن عطا کر۔ ہم جانتے ہیں کے داؤد کی لگائی ہر ضرب کا علاج کڑکتی دھوپ میں شجر جیسے اُس شخص کے پاس ہے۔ کیسے کا سوال تو ہم تجھ سے کر ہی نہیں رہے ہیں، جس کا اختیار کن پر ہو اُس سے کیسے کا سوال کرنا جرم ہے۔" باہر زور سے بجلی کڑکی تو اُس نے گھبرا کر دل پر ہاتھ رکھا۔ پھر اٹھ کر بالکنی کے پردے گرا دیے۔ دروازے پر ہنوز تالا لگا تھا۔
☆ ☆ ☆
کیا زندگی ایسے ہی گزر جائے گی؟
نہیں!
معجزے ہوتے ہیں ۔
دعائیں سن لی جاتی ہیں۔
رحم کر دیا جاتا ہے ۔
زخم بھر دیے جاتے ہیں ۔
دل پرسکون اتار دیا جاتا ہے۔
مان رکھ لئے جاتے ہیں ۔
کُن کہہ دیا جاتا ہے ۔
لیکن
پہلے آزمایا جاتا ہے۔۔۔
اُس دن کے بعد سَحر کی نمازوں میں سکون آ گیا تھا۔ وہ پابندی سے نماز پڑھتی۔ کبھی کبھی نفل بھی ادا کرتی۔ ارتضیٰ آ تا جاتا تھا مگر اُس کا دھیان اب صرف اپنی عدت کے اختتام پر تھا۔ روز بیٹھ کر کیلنڈر پر ایک ایک دن گننے کے بعد آخر کار وہ گھڑی آ پہنچی تھی۔
عدت ختم ہونے کے پانچ دن بعد کی وہ رات جب بارش ہولناک تھی۔ بوندوں کا شور چھتوں کو پیٹ رہا تھا۔ صبح سے برستی بارش اب بھی تھمنے سے انکاری تھی ۔ ارتضیٰ صبح جلدی میں آیا، اُسے قضا نماز پڑھتا دیکھ کر ناشتہ ٹیبل پر رکھ کر واپس ہو گیا تھا۔ ارتضیٰ نے آج اس سال کی سب سے بڑی ڈیل فائنل کی تھی۔ اب رات کے ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔ دفتر کے کام سے فارغ ہو کر فون اٹھایا تو سَحر کا میسج دیکھا۔
" 2 " اُس کا دو گھنٹے پہلے آیا مختصر سا پیغام ارتضیٰ حسن کی جان نکالنے کو کافی تھا۔ سانس ایک لمحے کو رک کر بحال ہوئی۔ اُس نے بدحواسی سے فون کوٹ کی جیب میں اڑسنا چاہا مگر وہ پھسل کر زمیں بوس ہوا۔ سکرین پر لگا پروٹیکٹر چور چور ہو کر دہائی دینے لگا۔ صوابی کا ولی عہد ایک لمحے کو اپنے ہاتھوں کی لرزش دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ تیزی سے جھک کر فون اٹھایا تو سامنے کسی کے قدم دیکھ کر فوراً سیدھا ہوا۔
" کیا ہوا ہے ؟" سامنے کھڑا شخص اُس کی بے چین حالت دیکھ کر بولا۔
" سحر کی طبیعت خراب ہے، میں گھر جا رہا ہوں۔" اس نے تیزی سے دوبارہ کوٹ کی جیب میں موبائل اڑسنے کی کوشش کی ، فون دوبارہ پھسل کر زمیں پر گرنے لگا مگر اس بار مرتضیٰ کا ہاتھ اُسے زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی تھام چکا تھا۔ مرتضیٰ نے اُس کے کوٹ کی جیب میں فون رکھا اور اُس کا کندھا تھپک کر نہایت سنجیدگی سے کہتے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
" اُس تک زندہ پہنچ جانا ورنہ وہ مر جائے گی۔"
مرتضیٰ کے لہجے کی پرسرار سنجیدگی نے ارتضیٰ کو بری طرح چونکا دیا، ایک لمحے کو اُس کے قدم زمین سے چپکے مگر اگلے ہی پل وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ اُسے اب ہر گزرتا لمحہ صدیوں پر محیط لگ رہا تھا۔
رات کے نو بجے کے قریب ارتضیٰ، حاجرہ سے کھانا لے کر آیا۔ بھیگی سیڑھی سے اوپر چڑھنے لگا تو پھسلتے پھسلتے بچا۔
" اتنی جلدی کس چیز کی ہے؟ آرام سے جاؤ ارتضیٰ، چوٹ لگ جائے گی۔" حاجرہ نے اُسے مادری زبان میں ڈپٹا۔
" پتا نہیں، اُس کی طبیعت کیسی ہے؟ تین گھنٹے ہو گئے ہیں، مجھے فکر ہو رہی ہے۔" وہ کہہ کر روکنے کی بجائے مزید تیزی سے سیڑھی چڑھنے لگا۔اُس کے لہجے کی بے چینی اب چھپائے نہ چھپتی تھی۔
اوپر پہنچ کر اُس نے بالکنی کے دروازے پر ہاتھ سے دستک دی ۔ اندر گہرا سکوت طاری تھا، بھاری پردوں نے اندر کے حال کو دنیا سے چھپا رکھا تھا۔ ارتضیٰ نے کچھ دیر دروازہ بجایا مگر کوئی جواب نہ آیا۔ بےچین ہو کر اُس نے سلاخوں سے ہاتھ اندر کرکے پردے کنارے سے کھینچے، اور پھر ایک لمحے کو اُس کا دل دہل گیا۔ سَحر صوفے کے پائے کے پاس بےسدھ گری ہوئی تھی جیسے گرتے ہوئے اس نے سہارا لے کر خود کو سنبھالنا چاہا ہو۔ زندگی کی رمق سے عاری وہ وجود دیکھ کر ارتضیٰ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
" پھوپھو ! ہتھوڑی یا پلاس لائیں۔ جلدی کریں۔" اُس نے بالکنی سے کھڑے ہو کر آواز دی اور تیزی سے نیچے اترا۔ وہ نیچے پہنچا ہی تھا کہ ہاجرہ نے اُس کے ہاتھ میں پلاس تھما دیا۔
وہ فوراً پلٹا اور اوپر پہنچتے ہی تالے پر ایک کاری ضرب لگائی۔ اُس کا ماتھا پسینے سے شرابور تھا، ہاتھ سرخ ہو گئے تھے۔ تالا ٹوٹا تو وہ تیزی سے اندر داخل ہوا، پھولے ہوئے سانس کے ساتھ سَحر کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اُس نے نہایت احتیاط سے سحر کے کندھوں کو سہارا دے کر اُسے فرش سے اٹھایا اور صوفے کی نرم ہتھی سے اُس کا سر ٹیکا، مگر وہ بالکل بےجان تھی۔ وہ دوڑ کر واش روم سے پانی لے آیا اور اُس کے چہرے پر چھڑکا۔ چند لمحوں بعد سَحر کی پلکیں ہلیں، جیسے وہ کسی گہری بےہوشی سے جاگ رہی ہو۔
" سَحر ! ہوش میں آئیں۔۔۔ آپ ٹھیک ہیں؟ " ارتضیٰ نے بےقراری سے اُس کا پسمردہ چہرہ دیکھا۔ کچھ لمحوں بعد سَحر کی آنکھیں نیم وا ہوئیں۔
"کیا حال بنا رکھا ہے آپ نے!" ارتضیٰ کے لہجے میں فکر غالب تھی۔ سامنے رکھے صبح کے ناشتے پر نظر پڑی تو وہ جل اٹھا " ناشتہ کیوں نہیں کیا تھا؟"
"آپ؟ یہاں۔۔۔؟" سَحر کی آواز مدھم اور کمزور تھی۔
" آپ بےہوش تھیں، اس لیے مجھے آنا پڑا۔ صبح سے کچھ نہیں کھایا آپ نے؟ یہی وجہ ہے کہ گر پڑیں۔" سَحر نے نظریں جھکا لیں، مگر آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ وہ ارتضیٰ کو شکستہ پہلو کا غم نہیں بتا سکی۔ ارتضیٰ نے ساتھ لایا ہوا کھانا کھولا اور پلیٹ اُس کے سامنے رکھتے ہوئےصوفے کے ساتھ رکھے ایک سٹول پر بیٹھ گیا، "اب ضد نہیں۔ پہلے یہ کھائیں۔" سَحر نے ارتضیٰ کی فکر سے بھری نگاہوں کے آگے مجبور ہو کر اُس کا چہرہ دیکھا۔ آنسو بہتے جا رہے تھے۔
" طبیعت ٹھیک ہے؟ " ارتضیٰ کا دل عجیب کیفیت سے دوچار تھا۔ وہ اُسے یوں کمزور اور ٹوٹا ہوا دیکھ کر اندر ہی اندر غمگین تھا۔
"دیکھیے، آپ اپنی جان کو یوں ضائع مت کریں۔
میں ہر روز آؤں گا، ہر حال میں آؤں گا۔ آپ کو ہمت نہیں ہارنی۔
بس عدت پوری ہونے کا انتظار کرنا ہے۔" ارتضیٰ کے لہجے میں پہلی بار بےساختگی تھی۔سحر کو اُس کی آواز کہیں دور دراز سے آتی محسوس ہوئی۔
" عدت تو پوری ہو چکی۔" اُس نے بوجھل ہوتی آنکھوں کو بمشکل کھلا رکھ کر کہا۔
" سحر ۔۔۔" ارتضیٰ نے اُس کی آنکھیں بند ہوتے دیکھیں تو اُس کا گال تھپتھپا کر اُسے دوبارہ اپنی طرف متوجہ کیا۔
" ہوش میں رہیں۔"
" اگر آپ کو یہاں کسی نے دیکھ لیا تو ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟" سحر صوفے سے ٹیک لگا کر ذرا سنبھل کر بیٹھی اور اس کے ہاتھ کو خود سے دور دھکیلا۔
" یہاں آپ کو پوچھنے پچھلے ڈھائی تین ماہ سے کتنے لوگ آ چکے ہیں جو ابھی اسی وقت ہی آئیں گے؟ یا آپ کو ابھی بھی کسی کا انتظار ہے؟ کہیں اپنے سابقہ شوہر سے کسی قسم کی امید تو نہیں لگائے بیٹھیں؟" ارتضیٰ نے سابقہ پر زور دے کر غور سے اُس کا چہرہ دیکھا۔
" امیدیں تو سب ٹوٹ گئیں،ارتضیٰ۔ ہم نے ایک غلط انسان سے رشتہ جوڑ کر اپنے بابا، اپنا بچہ اور اپنی عصمت و آزادی۔۔۔ سب کھو دیا۔"
" آپ کا بچہ؟" جسم میں گردش کرتا لہو ارتضیٰ حسن سے بغاوت کرکے اپنی روانی اُس ایک جملے کی نظر کر کے ساکت ہوا۔
" ہماری کوکھ میں ہی مار دیا، ظالم نے۔" وہ اپنے پہلو پر ہاتھ جمائے، سر جھکا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
" کب؟" ارتضیٰ نے اُس دھچکے کو حلق میں پھنسے نوالے کی طرح بمشکل نگل کر ایک لفظ ادا کیا۔
" طلاق دینے سے کچھ دیر پہلے۔" ارتضیٰ کے کانوں میں سائیں سائیں ہونے لگی۔ اُس نے صوفے پر سمٹی اُس لڑکی کو دیکھا جو اپنی ممتا کا ماتم منا رہی تھی۔ ایک پل کو ارتضیٰ کا دل چاہا کہ وہ تمام مصلحتیں توڑ کر اُسے اپنے حصار میں لےلے لیکن اُسے اپنی حدود کا اچھے سے ادراک تھا۔ وہ اٹھا اور کچھ کہے بغیر ہی بالکنی سے نیچے اتر گیا مگر اپنے ساتھ وہ اپنائیت کا احساس بھی لے گیا تھا۔
سحر ابھی اپنے آنسو پونچھ بھی نہ پائی تھی کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ ایسے لگا جیسے کسی نے آہنی دروازے پر پہاڑ دے مارا ہو ۔ وہ بمشکل اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی ، دوسرا وار ہوا اور کمرے کی چوکھٹ کراہ اٹھی۔ ایک آخری زوردار جھٹکے کے ساتھ دروازہ اپنی چولہوں سے اکھڑا اور ارتضیٰ حسن کمرے کے اندر دروازے سمیت آ گرا۔ وہ تیزی سے اٹھا اپنے زخمی کندھے کی پرواہ کیے بغیر وہ سحر کے قریب پہنچا۔ اس کی آنکھوں میں وہ آگ تھی جو سحر نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ارتضیٰ نے کچھ کہے بغیر اپنی بھوری شال اتاری اور سحر کے گرد اس طرح لپیٹی جیسے کوئی قیمتی ہیرا کسی ریشمی کپڑے میں چھپایا جاتا ہے۔
وہ دونوں پلوؤں سے چادر کو مضبوطی سے پکڑے اُسے کمرے سے باہر لے گیا۔
ارتضیٰ ۔۔۔؟" سحر کی آواز لرز رہی تھی ۔
" مزاحمت مت کیجئے گا، سحر! آج بالکل نہیں!" اس کے لہجے میں صوابی کے پہاڑوں جیسی سختی اور حتمی فیصلہ تھا۔ اس نے چادر کے کنارے مضبوطی سے پکڑے اور اسے اس حبس زدہ قید خانے سے باہر کھینچ لے گیا۔ تین ماہ بعد سحر نے کمرے کی دہلیز پار کی تو اسے لگا جیسے وہ کسی دوسری دنیا میں آگئی ہو۔سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کے قدموں نے ساتھ چھوڑ دیا۔ بصارت دھندلا گئی، وہ تین ماہ سے دھوپ اور تازہ ہوا کو ترس گئی تھی۔ اس کے اعصاب اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ وہ چار قدم سے زیادہ چلنا بھول رہی تھی۔ رلنگ پر اس کی گرفت سخت ہوئی تو ارتضی نے ایک پل کو رک کر اسے دیکھا پھر آہستہ آہستہ اسے گاڑی تک لے گیا۔ یونس اور ہاجرہ نیچے لان میں بت بنے کھڑے تھے۔انہوں نے پچھلے پانچ سال میں ارتضی حسن کو کبھی اتنا مشتعل اور اتنا بے پرواہ نہیں دیکھا تھا ۔ ارتضی نے سحر کو گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور خود تیزی سے گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ گاڑی گیٹ سے باہر نکلی تو لاہور کی سڑکوں کا شور سحر کے حواسوں سے ٹکرایا۔ تین ماہ کے اندھیرے اور حبس کے بعد یہ روشنی اسے زہر لگ رہی تھی۔ اس نے فوراً آنکھیں میچ لیں اور چہرہ ارتضی کی دی ہوئی اس بھوری شال میں چھپا لیا۔
" سحر ، ہوش میں رہیے گا۔ بس تھوڑی سی دیر اور ۔"ارتضی کی آواز میں بے چینی تھی جو اس کی ڈرائیونگ سے جھلک رہی تھی۔ وہ بار بار سحر کا زرد چہرہ دیکھ رہا تھا اور پھر اسٹیرنگ پر اپنی گرفت سخت سے سخت کر لیتا۔ باہر لاہور کی سڑکیں کسی بھاگتی ہوئی فلم کی طرح پیچھے چھوٹ رہی تھیں۔ ٹریفک کا شور، ہارن کی آوازیں اور لوگوں کا ہجوم ۔۔۔سحر کو لگ رہا تھا جیسے وہ کسی تپتے ہوئے صحرا میں ننگے پاؤں کھڑی ہے۔ گاڑی کے اندر کے اے سی کی ٹھنڈک بھی اس کے جسم کی تپش کو کم نہیں کر پا رہی تھی۔
" ہم ۔۔۔ ہم کہاں جا رہے ہیں؟" سحر نے بہت دھیمی آواز میں پوچھا۔ اس کا سر سیٹ سے لگا ہوا تھا اور لہجے میں نقاہت تھی۔
" وہاں جہاں سے آپ کی شفا شروع ہوگی۔ میرے ایک دوست کی وائف ڈاکٹر ہیں بس انہی کے پاس جائیں گے ۔" ارتضي نے گاڑی کی رفتار مزید بڑھا دی۔ کچھ دیر بعد گاڑی ایک بڑے ہسپتال کے ایمرجنسی گیٹ کے سامنے رکی۔ سفید وردیوں میں ملبوس عملہ ،اسٹریچر کی آواز اور مخصوص ہسپتال کی بو، سب سحر کے قدموں کی زنجیریں بننے لگے۔
"آئیں سحر ،قدم اٹھائیں۔ میرے ہوتے ہوئے اب آپ کو کسی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔"
ریسپشن پر اُس نے ڈاکٹر کا نام بتایا تو فوراً انہیں گائناکالوجسٹ کے کمرے کی طرف بھیج دیا گیا۔ اُس نے سحر کو اندر بھیجا اور خود کاؤنٹر پر ادائیگی کے لئے رک گیا۔ ڈاکٹر نے سَحر کی حالت دیکھتے ہی کچھ رپورٹس نکلوائیں، پھر ارتضیٰ کو اندر بلا لیا۔
" یہ آپ کی کوئی عزیز ہیں؟" ارتضیٰ نے ہلکا سا اثبات میں سر ہلایا۔
" اس کا شوہر انسان ہے یا جانور ؟ انفیکشن کتنا زیادہ پھیل چکا ہے۔ " اس نے مادری زبان میں بولا تو سحر کو سمجھ نہ آیا۔
" بھابھی، آپ ابھی سحر کا ٹریٹمنٹ کریں، اس کا ٹریٹمنٹ میں بعد میں کروں گا۔"
" ان کی کنڈیشن سیریس ہے۔ ہمیں فوراً ڈی اینڈ سی کرنا ہوگی ورنہ انفیکشن بڑھ کر ان کی جان کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔" اب کی بار اردو کا جملہ سحر کو سمجھ آیا تو اس کا رنگ اڑ گیا۔ وہ گڑبڑا کر نظریں جھکا گئی۔ ارتضیٰ نے ایک لمحے کو اُس کی جھکی ہوئی صورت دیکھی، پھر سنجیدگی سے کہا، "جی، جو بہتر ہے کر دیجیے۔"
" عمر کتنی ہے تمہاری ؟" ڈاکٹر نے فائل پر قلم چلاتے ہوئے پوچھا۔
" ہماری ؟"
" ہاں، کیا عمر ہے؟" سحر نے ارتضیٰ کی جانب مدد طلب نظروں سے دیکھا۔
" یاد نہیں !"اسے واقعی اپنی عمر یاد نہیں تھی۔ داؤد کے ساتھ گزارا ہوا ہر دن ایک صدی جیسا تھا، وہ برسوں کی گنتی بھول چکی تھی۔ اس کی دھیمی آواز نے ارتضیٰ کے دل پر ایک اور چرکا لگایا۔
" نیند کیسی آتی ہے؟"
" دن کو آتی ہے،رات کو نہیں آتی ، ڈر لگتا ہے۔"
" اسے Postpartum Depression ہے۔ یہ شدید ذہنی تناؤ میں ہے۔ لالہ، آپ لوگ توجہ کیوں نہیں دیتے ہیں؟" ارتضیٰ نے ایک گہرا سانس لیا۔ اس کی نظر اب بھی سحر پر تھی جو ہسپتال کے سفید بستر پر کسی مرچھائے ہوئے پھول جیسی لگ رہی تھی۔
" توجہ تو ساری ان پر ہی ہے، بھابھی بس ان کی خلا اتنی گہری ہے کہ میری ساری توجہ بھی کم پڑ رہی ہے۔" اس کا لہجہ اتنا اداس تھا کہ ڈاکٹر بھی خاموش ہو گئی۔
ایک گھنٹے بعد، نرس سَحر کو لے کر اندر گئی تو وہ قدم قدم پر خوفزدہ ہو رہی تھی۔ دل تیز دھڑک رہا تھا، ہاتھ کانپ رہے تھے۔ نرس نے جیسے ہی اُسے آپریشن تھیٹر کے بیڈ پر لیٹنے کو کہا، سَحر نے بےاختیار ارتضیٰ کی طرف دیکھا۔
" ہم ۔۔۔ ہم اکیلی ہوں گی؟" اُس کی لرزتی ہوئی آواز نکلی۔ نرس نے ایک نظر ارتضیٰ پر ڈالی، "آپ اندر آ سکتے ہیں۔ مریضہ کو سپورٹ کی ضرورت ہے۔" ارتضیٰ آگے بڑھ کر اُس کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ "میں ہوں نا۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا، بس آپ اپنی آنکھیں بند کر لیں۔" سَحر نے کانپتے ہوئے ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر گہرا سانس لیا اور آنکھیں بند کر لیں ۔ نرس کینولا لے کر اس کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ ارتضیٰ دھیرے سے اُسے تسلی دیتا رہا۔
" سحر، بسم الله پڑھیں ۔"
" بسم الله الرحمن الرحيم "
" اب الحمد پڑھیں ۔" سَحر نے آنکھیں کھول کر اُس کا چہرہ دیکھا جیسے وہ الحمد بھول بیٹھی ہو۔ ارتضیٰ نے اُس کی الجھی صورت دیکھی تو بلند آواز میں خود پڑھنا شروع کیا۔ سحر اُس کے پیچھے دہراتی، اُس کا چہرہ ایسے دیکھ رہی تھی جیسے صدیوں کے گرہن کے بعد چاند دکھا ہو۔ جب انستھیزیا کے اثر سے سحر کی پلکیں بوجھل ہوئیں، تو ارتضیٰ نے ایک آخری بار اس کے زرد چہرے کو دیکھا اور باہر آ گیا۔راہداری میں پھیلی ہسپتال کی مخصوص بو اس کا دم گھونٹ رہی تھی۔ پراسیجر شروع ہوتے ہی ارتضیٰ نے نرسنگ اسٹیشن سے باقی ہدایات لیں۔ فیس، میڈیسن، سب کا خرچ وہ خود سنبھالتا رہا۔ فارم بھرے، کبھی وارڈ بوائے سے بیڈ کے انتظام کا پوچھتا اب وہ دوا لینے جا رہا تھا۔ جب اُسے معلوم ہوا کے اُس کا والٹ خالی ہو چکا ہے۔ اُس نے مرتضیٰ کو کال ملائی۔
" ویا ۔۔۔" مرتضیٰ کی کھلی ہوئی آواز آئی ۔
" مجھے پیسے چاہیے ہیں ۔" اُس نے تیزی سے کہا۔
" کل تو آرڈر کی پےمینٹ بھیجی تھی۔"
" میرا کارڈ تمہارے پاس ہے! چیز لے کر جاتے ہو تو واپس کرنے کی ہوش نہیں ہوتی؟ " وہ زور دے کر بولا تو مرتضیٰ سنجیدہ ہوا۔
" اچھا لالہ ! آ رہا ہوں ۔ پریشان کیوں ہو؟ وہ ٹھیک ہے؟ "
" نہیں !" یک لفظی جواب کے بعد کال کاٹ دی گئی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر او- ٹی سے باہر نکلی، اس کے چہرے پر سکون نہیں بلکہ ایک گہری پیشہ ورانہ تشویش تھی۔ اس نے ارتضیٰ کو ایک طرف بلایا۔
" لالہ ! آپ ان کے فیملی ممبر ہیں؟"
"جی بھابھی، آپ بتائیے ۔۔۔ سب ٹھیک ہے؟"ارتضیٰ کا دل ڈوبنے لگا۔
" لالہ، باقی سب تو ٹھیک ڈی اینڈ سی کے دوران کچھ ایسی علامات ملی ہیں جو ۔۔۔" ڈاکٹر کی بات سن کر ارتضیٰ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
" کیا دو چار پرسنٹ بھی امید نہیں ہے؟"
" میڈیکل ہسٹری کے مطابق تو کوئی امید نہیں ہے۔ باقی تفصیلات میں نے اس سیلڈ رپورٹ میں لکھ دی ہیں۔ یہ سوائے ان کے شوہر کے کسی کو مت دکھائیے گا۔" ڈاکٹر نے ایک لفافہ اسے تھمایا اور چلی گئی، ارتضیٰ وہیں بینچ پر بیٹھ گیا۔ اس کے ہاتھ میں موجود وہ لفافہ اب کسی دہکتے ہوئے کوئلے کی طرح تھا۔ اسی وقت مرتضیٰ وہاں آ پہنچا۔
" لالہ! یہ کارڈ پکڑیں۔۔۔ آپ کا فون کیوں بند آ رہا ہے؟ اور وہ کیسی ہے ؟" مرتضیٰ نے اس کی عدم توجہ دیکھ کر اس کا کندھا ہلایا۔ ارتضیٰ نے چونک کر اسے دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایسی وحشت تھی جو مرتضیٰ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس نے وہ لفافہ فوراً اپنی جیب میں چھپا لیا۔ کارڈ اُسے پکڑا کر مرتضیٰ خود اُس کی جگہ صوفے پر بیٹھ گیا ۔ کچھ دیر بعد سَحر کو وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ مرتضیٰ وارڈ میں داخل ہوا تو وہ سامنے اُس کمزور سی لڑکی کو دیکھ کر چونکا۔
" یہ سَحر ہیں؟"
" ہاں !" نرس نے جواب دیا۔ ارتضیٰ خود اُس کے لئے صاف کمبل لایا، بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر پانی اور ضروری اشیاء رکھیں۔
" بھائی ، یہ پیاری ہے مگر جاناں زیادہ خوبصورت ہے۔"
" خوبصورتی ؟ مرتضیٰ ، مجھے گل نہیں یہ پر کشش لگتی ہے۔" اور محبت کرنے والوں کی نظر ہی تو ہوتی تھی جو غیر معمولی ہوتی تھی ۔ جو عام کو بھی خاص کر دیا کرتی تھی ۔ جو کھوٹے کو سونا کیا کرتی تھی۔
جب وہ نیم بےہوشی سے جاگی تو پہلی نظر بھی ارتضیٰ پر پڑی جو اس کے قریب کرسی پر بیٹھا تھا۔اس کی نظریں سحر کے چہرے پر نہیں بلکہ اپنی جیب میں موجود اس راز پر تھیں جو اس کی محبّت کا سب سے بڑا امتحان بننے والا تھا۔
سَحر کی آنکھوں پر غنودگی کا بوجھ تھا۔ درد اور کمزوری سے وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی۔ وہ کروٹ بدلنے ہی والی تھی کہ اُس کے قریب بیٹھا ہوا ارتضیٰ فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
"آرام سے، سحر۔۔۔"
" پانی۔۔۔" سوکھ کر اکڑتے حلق سے اُس نے بامشکل اپنی فریاد اُس فریاد رس کی سماعتوں میں انڈیلی۔
ارتضیٰ نے نہایت نرمی سے اُس کا تکیہ درست کیا اور پانی کا گلاس اُس کے ہونٹوں سے لگا دیا۔ اُس نے پانی پی کر چہرہ پیچھے کیا اور ارتضیٰ کا دایاں ہاتھ تھام لیا۔ اُس کا برفاب لمس محسوس کرکے ارتضیٰ حسن کی روح زلزلوں کی زد میں آئی۔ارتضیٰ نے دوسرے ہاتھ سے گلاس واپس رکھا اور کرسی پر غیر آرام دہ ہو کر بیٹھ گیا۔ وہ اس وقت اُس کا ہاتھ جھٹک سکتا تھا نا اُسے کوئی حد بتا سکتا تھا۔ سَحر کی آنکھیں دھندلا رہی تھیں۔ وہ پلکیں جھپک جھپک کر اُسے دیکھنے کوشش کرنے لگی۔
"ارتضیٰ۔۔۔" اُس کی پکار ایسی تھی کہ کوئی جان سے جا سکتا تھا مگر اُس کو ادراک نہیں تھا۔
" آپ۔۔۔ آپ کیسے آ گئے ہماری زندگی میں؟" اُس کی نیم غنودگی میں ڈوبی آنکھوں میں ابھرنے والا یہ تاثر ارتضیٰ حسن کو گویا اب رٹ چکا تھا۔
" اللہ جن سے محبت کرتا ہے ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔" ارتضیٰ نے پیچھے کھڑکی سے باہر دکھتے آسمان کی سیاہی کو دیکھ کر نرمی سے کہا۔
"کاش۔۔۔ یہ سب پہلے ہو جاتا۔ ہم نے تو خود کو تنہا ہی جانا تھا۔" سَحر کی آنکھوں سے بےاختیار آنسو نکل کر کن پٹیوں سے ہوتے ہوئے اب تکیے کو شرف بخش رہے تھے۔ ارتضیٰ کی آنکھوں میں گہری سنجیدگی تھی۔ وہ سَحر کی انگلیوں کی کمزور گرفت میں پھنسی اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا تھا۔ لمحہ بھر کو اُس کے دل میں سوال اٹھا، ' کہیں یہ لمس میرے ایمان کی کمزوری نہ بن جائے؟'
وہ جھجکا اور ہاتھ پیچھے کھینچنا چاہا۔ مگر سَحر کے کمزوری سے لرزتے ہاتھ نے اُس کے دل کو موم کر دیا۔ اُس نے اپنے دل کو ٹوکتے ہوئے سوچا،"یہ شہوت نہیں ہے انسانیت ہے۔ یہ حد پار کرنا نہیں، سہارا دینا ہے۔" ارتضیٰ نے اپنے ہاتھ کو ڈھیلا چھوڑ دیا، صرف اتنا کہ سَحر کے لرزتے ہاتھ کو سہارا ملے۔ نہ کوئی چاہت، نہ کوئی خواہش بس ایک خاموش دلاسہ۔
" کب ختم ہوگی یہ آزمائش! ہماری برداشت اب ختم ہوگئی ہے، ارتضیٰ ۔" وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔
" سحر!" ارتضیٰ کے لب جامد ہوئے، ہاتھ ساکت، اُسے تو حق ہی نا تھا ان آنسوؤں کو پونچھ ڈالنے کا۔
" بابا جان کو اس وقت ہمارے پاس ہونا تھا، وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے ہمیں کیسے چھوڑ دیا؟ وہ کہاں ہیں، ارتضیٰ ؟ ہمارے اپنے کہاں ہیں؟" اُس کی حقیقتاً آج بس ہوگئی تھی، اُس کے ہاتھ کو تھام کر سہارے لیتے وہ دوسرے ہاتھ سے اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔
"یہ سفر مشکل ہے۔۔۔" ارتضیٰ کی آواز کہیں دور سے روح لوٹ آنے کے بعد نرمی سے نکلی، "مگر آپ کو اکیلے سہنے نہیں دوں گا۔ میں یہاں ہوں، ہمیشہ رہوں گا۔" وہ رکا، اور پھر آہستگی سے بولا،
"بس ایک بات یاد رکھیں۔۔۔ آزمائشوں کے بعد ملنے والی نعمت قابلِ قدر ہوتی ہے۔ اور رہی بات اُس قید با مشقت کی تو اب آپ کو وہاں رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ آپ زرا سا سنبھل جائیں تو آپ کے لیے انتظام کرتا ہوں۔ بس یہ دو دن اور۔"
وہ اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہوا تو وارڈ کی گہری خاموشی میں صرف سَحر کی سسکیاں باقی رہ گئیں۔ اُس کی بات اور نرم لہجے کی حدت سے اُس کے درد دور بھاگ گئے۔ بدن میں ایک سکون سا اترنے لگا۔ وہ اُس کا چہرہ ڈھنگ سے نہ دیکھ پائی تو چھت کو دیکھنے لگی۔اب وہ چھت پر نظر جمائے شکرانے کے آنسو بہا رہی تھی۔ اُس نے پہلی بار خود کو محفوظ محسوس کیا، جیسے زندگی کے اندھیروں میں ایک روشن دیا سنگ چلنے کو مل گیا ہو۔
سَحر کے سونے کے بعد ارتضیٰ آہستگی سے وارڈ سے باہر نکلا۔ وہ اطمینان بھری رات جہاں سَحر کے لیے تیزی سے گزر رہی تھی وہیں ، وہ اضطراب بھری رات ارتضیٰ حسن کے لیے پل پل عجل بن رہی تھی۔ ہسپتال کی راہداریوں میں سنّاٹا پھیلا ہوا تھا۔ گھڑی پر نگاہ ڈالی رات کے دو بج رہے تھے۔ ساتھ ہی نگاہ اپنے ہاتھ پر گئی ، ارتضیٰ کو اپنا ہاتھ سیاہی میں ڈوبا نظر آیا ۔ اُس نے فوراً ہاتھ جھٹکا ،دل میں عجیب سا بوجھ تھا، بےچینی جیسے اندر سے کچوکے لگانے لگی۔
اُس نے موبائل نکالا اور ایک نمبر ڈائل کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اُس وقت عبادت کی غرض سے جاگنے والا شخص ہی اُس کے دل کی حالت سننے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
فون کئی بیلوں تک بجتا رہا، پھر اُس نے مایوسی سے کال کاٹ دی۔ گہرا سانس لیتے ہوئے سامنے صوفے پر جا بیٹھا۔ سر ہاتھوں میں دبا لیا۔
دس پندرہ منٹ گزرے ہی تھے کہ اچانک موبائل کی اسکرین روشن ہوئی۔ وہی نمبر واپس کال کر رہا تھا۔ ارتضیٰ نے فوراً فون اٹھایا۔
"ہیلو!" اُس کی آواز میں گھبراہٹ اور بیقراری تھی۔
"السلام علیکم!" دوسری طرف سے وہی مانوس نرم آواز گونجی۔
"وعلیکم السلام، آغا۔۔۔" ارتضیٰ کے لب کپکپائے۔ "میں۔۔۔ میں ایک گھنٹے تک اُس کا ہاتھ تھام کر بیٹھا رہا۔ وہ ہسپتال میں اکیلی تھی۔۔۔ وہ اکیلی تھی، بے سہارا۔ مجھے لگا اگر میں نہ بیٹھا تو شاید وہ ٹوٹ جائے گی۔اُس کے پاس کوئی نہیں تھا۔۔۔ اُسے سہارا چاہیے تھا۔ میں نے بس مدد کی نیت کی تھی۔" وہ تیزی میں بولتا چلا گیا، جیسے اندر کی ساری گھٹن ایک ساتھ باہر نکال رہا ہو لیکن اُدھر جواب کی بجائے پرُسکون سا سوال آیا،
" ارتضیٰ ، بے چین کیوں ہو؟" وہ رکا، سانسیں بے ترتیب تھیں۔
"میں نے نیت مدد کی کی تھی۔۔۔ مگر دل میں کھٹکا ہے۔ کیا میں نے اپنی عبادات ضائع کر دیں؟ میں نے یہ کیسے کر دیا، آغا۔ میں ۔۔۔ بےبس ہوگیا تھا۔" کچھ لمحوں کے وقفے کے بعد آغا کی نرم اور مطمئن آواز کانوں میں اتری۔
"عبادت صرف سجدے کا نام نہیں، ارتضیٰ۔ کسی کے دکھ کے وقت اُس کا سہارا بننا بھی عبادت ہے۔ اگر تم نے دل میں اخلاص رکھا تو یہ لمحہ تمہارے حق میں عبادت سے کم نہیں۔ شیطان تمہیں بےچین کر کے نیکی کا ذائقہ چھیننا چاہتا ہے۔ یاد رکھو۔۔۔ اللہ خلوص کو دیکھتا ہے، دکھاوے کو نہیں۔" ارتضیٰ کے ہونٹ کپکپائے۔ دل پر رکھا پہاڑ جیسے کسی نے ریزہ ریزہ کرکے اُڑا دیا ہو۔
" میں یہ نہیں کہتا کہ نامحرم کو چھونا کوئی چھوٹی یا عام بات ہے مگر حالات کو اور تمھارے خوف و پچھتاوے کو دیکھ کر یہ قابلِ معافی معلوم ہوتا ہے۔ "
" اچھا بتاؤ کہ اُسے ہوا کیا ہے؟"
" اُس کی D&C ہوئی ہے۔ وہ طلاق کے ساتھ اُس داغ کو بھی اٹھائے بیٹھی تھی۔ یہ کیسی وابستگی تھی آغا کہ میں اُس کی تکلیف سے ناواقف رہا؟ آج مجھے لگا کہ شاید میں اُس کے درد کا ذرا سا حصہ کم کر پایا ہوں۔" چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر وہی سکون بخش آواز سنائی دی۔
" اُس سے نکاح کا ارادہ ہے؟" ارتضیٰ نے پلکیں موند لیں۔ سوال آیا بھی تھا تو کس کی طرف سے، کس وقت اور کس بے باکی سے تھا۔
"محبت کرتا ہوں۔ اگر وہ مان گئی تو جیسے ہی صحتیاب ہوگی، نکاح کر لوں گا۔"
"پھر صحتیابی کا انتظار کیوں کرتے ہو، نادان ؟ نکاح کرو تاکہ اُس کا خیال بھی بہتر اور پاکیزہ طریقے سے رکھ سکو۔" انہوں نے جیسے سارے معاملات خود ہی تہہ کر ڈالے۔
" اگر انہوں نے انکار کیا تو؟" دوسری طرف تو جیسے کوئی امید لگائی ہی نہ گئی تھی۔
" تو انتظار کرنا۔" مقابل بھی بلا کا بے نیاز تھا۔
" عمریں گزر گئیں تو؟" ایک اور خدشہ ۔۔۔
" افسوس نہیں ہو گا۔" بے نیاز شخص بے نیازی کی ایک اور منزل چڑھ گیا تھا۔ ارتضیٰ کے دل میں ایک روشنی سی اتر آئی۔ وہ صوفے سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر گیا۔
اندر کی گھٹن آہستہ آہستہ سکون میں ڈھلنے لگی۔۔۔ جیسے رات کی سیاہی کے بعد روشنی کا وعدہ قریب آ رہا ہو۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
چاند کی روشنی میں لاؤنج کے صوفے پر وہ چہرے پر تکبر لئے بیٹھا سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہا تھا۔
" یونس ۔۔۔ " داؤد کی آواز نے گھر کے سکوت کو چیرا ۔یونس سامنے کھڑا تھا۔
" میری برداشت کا امتحان مت لو۔کہاں ہیں وہ دونوں؟ اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری اجازت کے بغیر اسے باہر جانے دینے کی؟"
" صاحب جی، ناراض مت ہوں ۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ سحر بی بی اور ارتضیٰ کے بیچ بات اتنی آگے بڑھ جائے گی ۔ پچھلے دو ڈھائی مہینوں سے دن میں دو بار مل رہے تھے ۔ اب اتنی قربت ہو تو۔۔۔"
" قربت ؟" وہ دھاڑ کر اپنی جگہ سے بجلی کی سی تیزی سے اٹھا۔
" دو ماہ سے یہ تماشہ میری پیٹھ پیچھے چل رہا تھا اور تم تماشائی بنے بیٹھے رہے ؟ بتایا کیوں نہیں مجھے؟"
" سحر بی بی نے دھمکی دی تھی۔" یونس کی آواز کپکپائی۔
" ویسے بھی صاحب آپ سحر بی بی کو طلاق دے ہی چکے ہیں تو اب وہ جس کے ساتھ بھی۔۔۔" داؤد نے طیش میں آ کر صوفے کے پاس رکھی میز پر پڑا کرسٹل کا گلدان دیوار پر دے مارا۔ اس کے ٹکڑے پورے لاؤنج میں بکھر گئے۔ اس کا چہرہ جنون کی حد تک بگڑ چکا تھا۔
" زبان کو لگام دو یونس! وہ میری بیوی تھی،میری ہے اور میری ہی رہے گی۔
کائنات بدل سکتی ہے، اس کا محرم نہیں۔" اس نے یونس کے قریب آ کر اس کا گریبان جکڑا اور اس کی آنکھوں میں جھانک کر سرد لہجے میں کہا،" حلالہ کرنا ہے اس سے۔۔۔ اسے واپس اس گھر میں لانا ہے۔۔۔ چاہے مجھے اسے جہنم کی آگ سے ہی کیوں نہ گزارنا پڑے۔
مجھے دھوکہ دے کر وہ کسی اور کے ساتھ رہے گی؟
اسے ابھی نصیحت نہیں ہوئی؟"
" صاحب پھر ایک مشورہ دوں۔ انسان سب سے زیادہ اس کے ہاتھوں ٹوٹتا ہے جس پر اس نے اندھا اعتماد کیا ہو۔ جن سے نکاح کا ارادہ ہو اگر وہی آپ سے حلالہ کرنے کی خواہش کریں تو انسان ڈوب کر مرنے کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔"
" تمہارا دماغ تو بہت تیز چلتا ہے، یونس۔" داؤد نے اس کی بات کے پیچھے چھپے معنی کو سمجھتے، مسکرا کر کہا۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
ہسپتال کی سفید دیواروں سے اٹھتی فینائل کی بو سحر کے اعصاب پر سوار تھی۔ ارتضیٰ ڈسچارج پیپر فائل میں لگائے کمرے میں داخل ہوا، جہاں لیڈی ڈاکٹر سحر کا آخری معائنہ کر رہی تھی۔ سحر کی رنگت اب بھی زرد اور آنکھیں بے جان تھی۔
" لالہ !" ڈاکٹر نے فائل پہ دستخط کرتے ہوئے سحر کی بجائے ارتضیٰ کی جانب دیکھا جیسے وہ جانتی ہو کہ اس عورت کا محافظ کون ہے۔
" میں نے ادویات کا نسخہ لکھ دیا ہے۔ یہ کورس پورے تین ماہ چلے گا، ایک دن کا بھی ناغہ نہیں ہونا چاہیے۔" ارتضیٰ نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔
" سحر!" ڈاکٹر نے اس کا ہاتھ تھاما۔
" دیکھو تمہارا جسم ابھی کسی بھی قسم کا تناؤ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اگلے تین ماہ تک تمہیں ہر قسم کے ذہنی اور جسمانی دباؤ سے دور رہنا ہے۔ تمہارے زخموں کو بھرنے کے لیے مکمل سکون اور فاصلہ ہی اِس وقت سب سے بڑی دوا ہے۔" کمرے میں ایک بوجھل سی خاموشی چھا گئی۔ ارتضیٰ اب تک خاموشی سے فائل پکڑے ایک طرف کھڑا تھا۔
" جی بھابھی، آپ اطمینان رکھیں۔ سحر کو وہی ماحول ملے گا جو اِن کی شفایابی کے لیے ضروری ہے۔ اب یہ اس جانور کے گھر میں نہیں جائیں گی۔" سحر نے چونک کر ارتضیٰ کی طرف دیکھا۔اس کی آواز میں وہ مان تھا جس نے سحر کے اندر پلتے خوف کو ایک لمحے میں ٹھنڈا کر دیا۔
ڈسچارج کے بعد ارتضیٰ اسے ایک فلیٹ میں لے آیا تھا۔ فلیٹ کی فضا میں ابھی تک پینٹ اور تازہ فرنیچر کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ ارتضیٰ کے جانے کے بعد کمرے میں ایک سکون طاری تھا۔ سحر بیڈ پر پیچھے کو ٹیک لگائے بے حد پرسکون بیٹھی تھی۔ ہاجر ہ نے سحر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔
" دودھ لے آؤں ؟ دوائی کا وقت ہو گیا ہے۔"
" آپ سچ میں رکیں گی نا؟" سحر نے دھیرے سے پوچھا جیسے اسے یقین نہ ہو ۔
" برا لگا تو بتا دو، میں ارتضیٰ کے ساتھ ہی نکل جاتی ہوں ۔" ہاجرہ نے شرارت سے کہا۔سحر نے جلدی سے ان کا ہاتھ تھاما ۔
"نہیں۔۔۔ ہمیں اچھا لگے گا ۔" ہاجرہ مسکرا دیں تب ہی دروازہ کھلا اور ارتضیٰ نے دروازے سے سر اندر کیا۔
" اچھا لیڈیز ، میں نکل رہا ہوں ۔ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بس ایک کال اور سحر آپ کے لیے ون، ٹو، تھری ۔۔۔ اور میں حاضر ۔اللہ کی امان میں! " وہ مسکرا کر دروازے سے باہر نکل گیا۔
" دھیان سے جانا ارتضیٰ!" ہاجرہ نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
" آپ بہت پیار کرتی ہیں ارتضیٰ سے؟"
" اس جیسے انسان سے کون پیار نہیں کرے گا؟ اس کی ذات کا ہر پہلو ایسا ہے کہ اس سے پیار کیا جائے۔ تم بتاؤ، کیا تمہیں اس سے پیار نہیں ؟"
" جی ؟" سحر ان کی براہ راست بات پر گڑبڑا گئی۔
" تم دونوں کو کیا لگتا ہے، تم خاموش ہو جاؤ گی اور وہ نظر جھکا لے گا، تو سب چھپ جائے گا؟"
" اس کی آنکھوں کا جھکاؤ اور تمہاری نظروں کا ارتعاش سب کہہ رہا ہے۔" ہاجرہ کا لہجہ اب بالکل سنجیدہ تھا۔سحر کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی، ہتھیلیوں پر پسینہ اتر آیا۔
" نکاح کرو گی اس سے؟" ہاجرہ کا اچانک سوال سحر کے لیے کسی ایٹم بم سے کم نہ تھا۔ سحر کی نظر کے سامنے یک دم وہ سیاہ موٹی اور پر تپش آنکھیں آئیں، اس نے آنکھیں میچ کر اس تصور کو دھندھلانا چاہا اور تبھی نظر کے سامنے وہ بھوری، احترام بھری آنکھوں کا عکس دکھنے لگا۔ اس کے اندر تلاطم برپا تھا مگر وہ خاموش رہی، خاموشی اتنی لمبی تھی کہ گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دینے لگی۔
"وقت لو۔" حاجرہ نے نرمی سے کہا۔
" مگر یاد رکھنا ایسے مرد نایاب ہوتے ہیں جن کے دل میں خوفِ خدا ہو ،جو غصے میں بھی آواز نیچی رکھنا جانتے ہوں، جو نظر جھکا کر بات کریں اور آپ کی بڑی سے بڑی غلطی نظر انداز کر دیں اور بونس یہ ہے کہ اسے کھانا بنانا بھی آتا ہے۔ عیش کرو گی، عیش!" ان کے مزاحیہ انداز نے سحر کے چہرے پر ایک ادھوری مسکراہٹ بکھیر دی۔
"انھیں کھانا بنانا آتا ہے؟"
" ہاں، پچھلے دو ہفتوں سے وہی کھانا بنا رہا ہے، ہر چیز بہت جلدی سیکھ جاتا ہے۔ تم نے ذائقے کا فرق محسوس نہیں کیا؟ محبت کے تیل میں پکاتا ہے، عشق کا بھگار لگاتا ہے اور تم سمجھتی ہو اسے تم سے محبّت نہیں۔ "
☆ ☆ ☆
صبح کے دس بج رہے تھے۔ نئے فلیٹ کا کچن ابھی بانجھ پڑا تھا، نہ چینی تھی، نہ پتی اور ان دونوں کی بھوک اب چمک اٹھی تھی۔ ہاجرہ نے فکرمندی سے ارتضیٰ کو فون لگایا۔
" کہاں ہو خان ؟" دوسری طرف سے ارتضیٰ کی مصروف سی آواز سنائی دی۔
" پھوپھا آخری پراٹھا بیل رہے ہیں، بس پانچ منٹ تک نکلتے ہیں۔"
" یونس کا ایک پراٹھا بنتا ہے اور میرا چوتھا! جلدی آؤ ، سحر کو دوائیں وقت پر دینی ہیں۔" سحر حیرت سے ان کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ انہوں نے کال بند کی تو سحر نے فوراً پوچھا۔
" آپ انکل سے کھانا بنواتی ہیں؟" اس کے ذہن میں داؤد کا چہرہ گھوم گیا جسے پانی بھی ہاتھ میں دینا پڑتا تھا۔
" بنواتی نہیں ہوں سحر، ہم مل کر بناتے ہیں۔" ہاجرہ نے صوفے پر ٹیک لگائی۔
" جب ہم مل کر کما سکتے ہیں، تو مل کر پکا کیوں نہیں سکتے؟"
" ان کی انا بیچ میں نہیں آتی ؟" سحر کا سوال اس کے ماضی کی عکاسی کر رہا تھا۔
"بیٹا ، محبّت میں انا کی گنجائش ہی کہاں ہوتی ہے، محبت میں تو صرف تسلیم و رضا ہوتی ہے۔ پتا ہے، ہماری لو میرج تھی۔ میں نے یونس کو چنا کیوں کہ وہ مرد اور عورت کی تفریق کے بغیر سامنے والے کو انسان سمجھتے تھے۔ مجھے لگتا تھا یونس جیسا کوئی نہیں ہو سکتا مگر اب ارتضیٰ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ۔۔۔" ان کی بات بیچ میں ہی رہ گئی۔
فلیٹ کے دروازے پر ایک زوردار دستک ہوئی۔ ہاجرہ نے دروازے کے پاس کھڑے ہوتے باہر جھانکا اور داؤد کا چہرہ دیکھتے ہی ان کی آنکھیں اپنے حجم سے پھیل گئیں۔ وہ ارتضیٰ کو کال کرنے کمرے کی طرف بڑھیں اور پیچھے ایک زوردار آواز کے ساتھ دروازہ چوپٹ کھل گیا۔ داؤد چلتا ہوا اندر آیا۔ چہرے پر وہی مکروہ مسکراہٹ اور آنکھوں میں درندگی۔
" سحر ! باہر نکلو ۔۔۔ عدت پوری ہو گئی ہے تمہاری۔ اب حلالہ کر کے واپس میری ہونے کا وقت آ گیا ہے۔" سحر نے ہاجرہ کا چہرہ دیکھا، اس کا وجود وہیں برف ہو گیا تھا۔ وہ لرزتے قدموں سے کمرے کے دروازے تک آئی، آنکھیں خوف سے پھٹی جا رہی تھیں۔ داؤد آگے بڑھا اور سحر کو بازو سے پکڑکر جھنجھوڑا۔
" بہت دن عیاشی کر لی اس غیر مرد کے ٹکڑوں پر ، اب واپس چلو میرے ساتھ۔"
"ہمیں اب آپ کے ساتھ نہیں رہنا۔" اس نے لہجے کو مضبوط رکھتے ہوئے کہا۔
" میں نے پوچھا ہے؟" اس نے سحر کی کلائی اپنی گرفت میں لی۔
" چھوڑیں ہمارا ہاتھ! خدا کے لئے داؤد چھوڑیں۔" سحر کی چیخ بےساختہ تھی، ہاجرہ بھی سحر کی کلائی داود کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ تبھی ایک مضبوط ہاتھ نے داؤد کی کلائی کو آہنی گرفت میں لیا۔
ارتضیٰ کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا، ماتھے کی رگیں تن چکی تھیں۔ اس نے ایک جھٹکے سے داؤد کا ہاتھ سحر کے بازو سے ہٹایا اور اسے پیچھے دھکیلا۔ سحر تیزی سے ہاجرہ کے پیچھے چھپی۔
" تمہاری ہمت کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی؟" ارتضیٰ کی آواز میں گرج تھی۔
" اوہ ، تو تم ہو وہ ؟" داؤد نے چمکتی آنکھوں سے اس کا پُرنور چہرہ دیکھا، سفید شرٹ کے ساتھ گہرے نیلے رنگ کا کوٹ اور ہم رنگ پینٹ پہنے وہ شاید کسی فارمل میٹنگ کے لئے تیار تھا۔
" دیکھو بھائی، یہ میری عورت ہے۔ غصے میں طلاق دے دی تھی، اب مجھے رجوع کرنا ہے۔ شریعت کہتی ہے کہ حلالے کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ اب حلالہ تو کرنا پڑے گا تاکہ یہ میرے لئے حلال ہو سکے۔"
" ہم کبھی نہیں بنیں گے تمہاری بیوی، داؤد! حلالہ کوئی کھیل نہیں ہے۔ اس طرح تو یہ حرام ہے، ہم اس کے لیے کبھی راضی نہیں ہوں گے!" سحر نے تڑپ کر التجائی نظروں سے، ارتضیٰ کا چہرہ دیکھا۔
" سحر اب میری ہے، تجھے نہیں دوں گا۔ کبھی نہیں۔۔۔ " داؤد نے ارتضیٰ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی جیب سے چیک بک نکالی۔
ارتضیٰ ! جذبات سے پیٹ نہیں بھرتا، میرے بھائی۔ یہ دیکھو۔۔۔ "اس نے پانچ لاکھ کا ہندسہ لکھ کر چیک ارتضیٰ کی طرف بڑھایا۔
" یہ قیمت ہے، ایک رات سحر کو تمہارے نکاح میں رکھنے کی اور کل صبح اسے طلاق دے کر میرے دروازے پر پھینک جانا۔ بولو ، منظور ہے؟" سحر کو یقین تھا کہ ارتضیٰ اس چیک کے ٹکڑے کر کے داؤد کے منہ پر دے مارے گا مگر کمرے میں موجود ہر شخص کے ہوش تب اڑے جب ارتضیٰ نے جھک کر بے تاثر چہرہ لئے، وہ چیک اٹھایا اور اسے اپنی جیب میں ڈال لیا۔
" منظور ہے۔" اس نے داؤد کا ہاتھ تھام کر کہا۔
"ارتضیٰ!" سَحر کی چیخ نکلی، اس نے دروازے کی چوکھٹ کا سہارا لیا۔ ارتضیٰ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جیسے ٹھہراؤ سے کہا، " سَحر ، اس میں حرج ہی کیا ہے؟" ہاجرہ کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ وہ چند لمحے سن سی کھڑی رہیں۔
" ارتضیٰ !" ہاجرہ کی آواز بےیقینی سے بھری پڑی تھی۔ وہ طیش کے عالم میں اس کے سامنے آئیں اور اس سے پہلے کہ وہ اپنی کہتا، ہاجرہ نے ارتضیٰ کے چہرے پر ایک زوردار تھپڑ رسید کر دیا۔ پورے لاؤنج میں اس تھپڑ کی گونج سنائی دی۔ سَحر کا دل دہل گیا، آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔
"ارتضیٰ، آپ کو تو ہم سے محبت تھی نا؟ یہ سب کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ایسے حلالہ نہیں ہوتا!"
" میں نے کب کہا کہ مجھے آپ سے محبت ہے؟" یہ خاص دکھنے والے لوگ کتنا بڑا عذاب ہوتے ہیں سَحر سراج کو آج معلوم ہوا تھا۔اسے لگا جیسے اس کے کان سائیں سائیں کر رہے ہوں۔
" شرم نہیں آئی تمہیں یہ غلیظ الفاظ زبان پر لاتے ہوئے؟" ہاجرہ چلائیں، ان کا پورا وجود غصے سے کانپ رہا تھا۔ میں نے سحر کو اس لیے تمہارے حوالے کیا تھا کہ تم اس کی مجبوری کا سودا کرو ؟ تم بھی اسی قماش کے مرد نکلے ؟" ارتضیٰ نے اپنا چہرہ نہیں موڑا، وہ اسی طرح ساکت کھڑا رہا جیسے اس تھپڑ نے اسے چھوا ہی نہ ہو۔اس کی آنکھیں ابھی بھی داؤد پر جمی تھیں۔
" پھوپھو، آپ بیچ میں نہ آئیں۔" ارتضیٰ نے دھیمے لہجے میں کہنا چاہا۔
"کیوں نہ آؤں ؟" ہاجرہ نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے دھکا دیا۔
" سحر میری بیٹی جیسی ہے۔ میں اسے جیتے جی اس جہنم میں نہیں جانے دوں گی اور نہ ہی تمہیں اس کی تذلیل کرنے دوں گی ۔ ارتضیٰ،تم میرے بھائی کی اولاد ہو مگر آج تم پر لعنت بھیجنے کا دل کر رہا ہے۔"
یونس جو اب تک خاموشی سے یہ سب دیکھ رہے تھے جانتے تھے کہ اگر ہاجرہ یہاں رہیں تو بات مزید بگڑ جائے گی۔ وہ تیزی سے آگے بڑھے اور حاجرہ کو کندھوں سے پکڑ کر انہیں پیچھے ہٹانے لگے۔
" ہاجرہ چلیں یہاں سے ۔ہمیں بیچ میں نہیں پڑنا چاہیے۔" یونس کی آواز میں ایک عجیب سی عجلت تھی۔
" چھوڑیں مجھے یونس، دیکھیں یہ کیا بکواس کر رہا ہے؟یہ سودا کر رہا ہے سحر کا؟" حاجرہ نے ہاتھ پاؤں مارے، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
" میں کہہ رہا ہوں چلیں اندر۔ یہ مردوں کا معاملہ ہے آپ اندر بیٹھیں!" یونس نے انہیں سختی سے تھاما اور دوسرے کمرے کی طرف کھینچتے ہوئے لے گئے۔
" کون سے مرد ؟یہ درندے ہیں یونس! درندے!" ان کی آواز کمرے میں بند ہوتے ہی دب گئی۔ اب باہر وہ تینوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے۔
" دیکھا ارتضیٰ، یہ عورتیں جذبات میں آجاتی ہیں۔ خیر ہم اپنا کام کرتے ہیں۔ یاد رکھنا کل صبح طلاق کے کاغذات میرے ہاتھ میں ہوں گے۔" سحر نے ہاتھ داؤد کے سامنے جوڑے۔
"داؤد، نہیں۔۔۔ یہ غلط ہے۔
داؤد، حلالہ ایسے نہیں ہوتا! وہ تب ہوتا ہے جب دوسرا شوہر مر جائے یا اپنی مرضی سے طلاق دے دے، تب پہلی شوہر سے شادی کی جا سکتی ہے۔ ورنہ نہیں! یہ گناہ ہے داؤد۔ آپ ہمیں گنہگار کروائیں گے؟" داؤد کا غصہ نقطۂ عروج پر پہنچ گیا۔ وہ ایک قدم اور آگے بڑھا، اس کی آواز گونجی۔
"چپ! بکواس بند کرو! کوئی گناہ نہیں ہے۔ سب کرتے ہیں حلالہ!"
" ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے۔" شعلہ بار آنکھیں لیے وہ جس قدر بلند آواز میں چلائی داؤد کی ہستی ایک پل کو ٹھہر سی گئی۔
" تمھارا تو باپ بھی قبر سے آ کر کرے گا ورنہ تمھیں مجھ سے بچائے گاکون ؟" اس کی بات تھی کہ زہر میں بجھا خنجر ،سحر کی روح یک دم گھائل ہوکر قدموں میں گری۔
" نہیں!
یہ نہیں ہو سکتا!
یہ کیا کہہ رہے ہیں؟
کہاں ہیں ہمارے بابا؟" بلند آواز تو بے یقینی سے حلق میں اٹک چکی تھی۔
" تمہاری طلاق کی خبر سن کر مر گیا۔"داؤد نے تمسخر اڑاتے کہا تو سَحر کو لگا جیسے ساری دنیا تاریک ہوگئی ہو۔ وہ لڑکھڑا کر یوں گری تو ارتضیٰ اسے تھامنے کے لئے آگے بڑھا مگر داؤد نے اسے بازو سے تھام کر صوفے پر پٹخ دیا۔ ارتضیٰ تیزی سے کچن سے پانی لے کر ایا۔ سَحر، اس دھوکے کے بعد اس کے ہاتھ سے پانی نہیں پی سکتی تھی۔ اس نے گلاس بری طرح جھٹکا۔
" ہمارے بابا کو بھی مار دیا تم نے اور ہماری اولاد کو بھی اور ہم اب بھی تمھارے ساتھ رہیں؟ ہم لعنت بھیجتے ہیں تم پر داؤد مختار۔" وہ نفرت بھرے لہجے میں چلائی تھی۔ داؤد کا ہاتھ بے ساختہ اٹھا اور اس کے چہرے پر سرخ لکیریں چھوڑ گیا۔ وہ لڑکھڑا کر داؤد کے پیروں میں گری۔ ارتضیٰ کچن سے گلاس رکھ کر واپس آیا تو دیکھا داؤد اسے بازو سے پکڑ کر سامنے کمرے میں دھکیل رہا تھا۔ ارتضیٰ کے قدموں میں ارتعاش پیدا ہوا۔
" یہ غلط ہے۔ گناہ ہے۔ حلالہ ایسے نہیں ہوتا۔ ہماری بات سنیں۔" داؤد نے سحر کی آواز کو نظر انداز کرکے اسے اندر دھکیلا، کمرے کو لاک کرتے خود باہر نکل گیا۔ وہ پیچھے روتی ہوئی دروازہ بجاتی رہی۔ داؤد کو پکارتی رہی۔ ارتضیٰ کی یہ بے حسی اسے توڑ رہی تھی۔
کمرے میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ سَحر کی چیخیں ابھی بھی گونج رہی تھیں جو اندر کمرے میں بند تھی۔ دروازے کے باہر داؤد بےچینی اور ضد کے عالم میں ٹہل رہا تھا۔ارتضیٰ پرسکون چہرے کے ساتھ صوفے پر بیٹھا تھا، جیسے ساری صورتِ حال اس کے کنٹرول میں ہو۔
" میں نے گھر پر سارا انتظام کر رکھا ہے، نمازِ جمعہ کے بعد نکاح خوان اور گواہ آ جائیں گے۔ وہیں چلتے ہیں۔"
تین گھنٹے بعد۔۔۔
جمعے کی اذان کی گونج تھم چکی تھی۔ داؤد کے گھر نکاح کی تیاریاں مکمل ہو رہی تھیں، مگر کمرے کے اندر ایسا سکوت پھیلا تھا جو روح تک کو لرزا دیتا۔ ہر شے خاموش تھی، لیکن اس خاموشی میں ایک دباؤ، ایک گھٹن تھی جو سانس لینا مشکل کر رہی تھی۔
ہاجرہ عروسی جوڑا لئے سحر کے کمرے کی جانب بڑھی اور تبھی داؤد قریب آیا۔
" مجھے دو، میں لے جاتا ہوں۔" ان کے ہاتھ سے جوڑا لے کر داؤد آہستہ قدموں سے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں سَحر کا عروسی جوڑا تھا، وہی جوڑا جس کا ایک ایک موتی اس نے اپنی انگلیوں سے ٹانکا تھا، شاید یہ اس جوڑے کی منحوسیت تھی کہ جب بھی زیبِ تن کرتی تھی، منہ کے بل گرتی تھی۔ وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھا اور بےرحمی سے جوڑا سَحر کے سامنے اچھال دیا۔
"یہ پہنو۔" سَحر نے جوڑے کو دیکھا تو اس کی آنکھوں سے موت کے سائے جھلک پڑے۔ اس کے لب کپکپائے، سانس لرز گیا۔
"داؤد۔۔۔" اس کی آواز ٹوٹ گئی، "خدا کے لیے ایسا مت کریں۔ ہم مر جائیں گے۔۔۔ آپ ہمیں گولی مار دیں۔۔۔ ہم سے بدلہ لے لیں، لیکن خدا کے لیے ایسا مت کریں۔ ہم آپ کے قابل نہیں رہیں گے۔"وہ اب وہ حوصلہ مند، مضبوط سَحر نہ رہی تھی۔ ارتضیٰ کی محبت اور اعتماد سے بنی دیوار ٹوٹ کر بکھر چکی تھی۔ وہ پھر سے وہی سہمی، لرزتی ہوئی لڑکی بن گئی تھی۔
" سحر، میں تمہیں مرنے کے لئے ہی چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔ جینے کا شوق تمہیں تھا تو اب میرے ساتھ ہی جینا ہوگا۔ داؤد مختار اپنی ملکیت سے دستبردار نہیں ہوتا۔" داؤد کے چہرے پر سفاکی اتر آئی۔
" داؤد، ایسا مت کریں۔" اس کی آنکھوں میں وحشت کے شعلے بھڑکنے لگے۔ وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا ہوا اس کے قریب آیا۔
"اگر تمہارے منہ سے ایک لفظ اور نکلا۔۔۔" اس کی سانس سَحر کے چہرے کو جلا رہی تھی۔
" تو جو میں تمہارے ساتھ کروں گا۔۔۔ وہ تم سوچ بھی نہیں سکو گی۔" سَحر گھبرا کر پیچھے ہٹنے لگی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو امڈ آئے۔
"ک۔۔۔ کیا کریں گے آپ؟ مار دیں گے ہمیں؟ تو مار دیں نا۔" اس کی آواز کانپ رہی تھی، جیسے جسم میں جان ہی باقی نہ رہی ہو۔ داؤد نے جھٹکے سے اس کی ٹھوڑی کو پکڑا۔
"مرنے کی دعا کرو گی۔۔۔ لیکن میں تمہیں مرنے بھی نہیں دوں گا۔ تم میری بیوی ہو۔ میری مرضی سے جیو گی۔" وہ اور جھکا، اس کی آنکھوں میں وحشت ابھرتی گئی۔
"اور اگر نکاح سے انکار کیا۔۔۔ تو سن لو، طلاق کا تو کوئی ثبوت ویسے بھی نہیں ہے۔ تمہاری ساری زندگی میرے ساتھ ہی گزرے گی۔ سمجھتی ہو نا؟" سَحر پر جیسے بجلی گری۔ اس کا جسم پتھر کا ہو گیا، سانسیں رکنے لگیں۔ وہ جان گئی کہ اب کوئی راہِ فرار باقی نہیں بچی۔
"آپ۔۔۔ اتنا گر جائیں گے؟ اب آپ کو خدا سے ڈر نہیں لگے گا؟"
داؤد کا ہاتھ ایک اور دفعہ اس کے چہرے پر چھاپ چھوڑ گیا۔ سَحر کے قدم لڑکھڑاتے ہی وہ بیڈ پر جا گری۔ داؤد مزید قریب ہوا تھا کہ دروازہ کھلا اور ارتضیٰ اندر داخل ہوا۔ کمرے کی فضا پل میں بدل گئی۔ داؤد لمحے بھر کو ٹھٹھکا مگر فوراً خود کو سنبھالتے ہوئے تن کر کھڑا ہو گیا۔
"داؤد! ہوش کے ناخن لو۔ باہر لوگ موجود ہیں۔۔۔ اگر انہوں نے یہ سب دیکھا، تو سوچ لو عزت کس کی خاک میں ملے گی۔" ارتضیٰ کی نظریں سحر کے ننھے بالوں کی اوٹ میں چھپے ان سرخ نشانات تک نہ پہنچ سکیں، ورنہ شاید کہانی کے رخ کچھ اور ہوتا۔
داؤد کی آنکھوں میں ایک لمحے کو حیرانی ابھری۔ آگے بڑھ کر اس نے جوڑا زمین سے اٹھایا اور غصے سے سَحر کی طرف پھینک دیا۔
" یاد رکھنا، سحر۔۔۔ تمہاری زندگی ان پانچ انگلیوں میں قید ہے۔" ارتضیٰ نے آگے بڑھ کر داؤد کے کندھے پر سختی سے ہاتھ رکھا۔
"چلو داؤد۔ یہاں تماشہ نہ بناؤ۔" داؤد نے جلتی آنکھوں سے سَحر کی طرف آخری بار دیکھا، پھر ارتضیٰ کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا۔
☆ ☆ ☆
تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ سَحر کا دل بےقابو گھوڑے کی طرح دوڑ رہا تھا۔ ہاتھوں کی لرزش قابو سے باہر تھی۔ وہ اسی عروسی جوڑے میں بیٹھی تھی، چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔ داؤد فاتحانہ مسکراہٹ لیے مولوی کے سامنے جا بیٹھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک وحشیانہ چمک تھی۔مولوی نے نکاح نامے پر نگاہ ڈالی۔
" سَحر بنت سراج۔۔۔ آپ کا نکاح نواب ارتضیٰ حسن خان بن حسن داد خان کے ساتھ پڑھایا جا رہا ہے۔ کیا قبول ہے؟"سَحر کے ہونٹ کپکپائے مگر آواز گلے میں اٹک گئی۔ وہ پتھرائی ہوئی بیٹھی رہی، جیسے سانس بھی بند ہو گئی ہو۔
مولوی نے دوبارہ کہا، " سَحر ۔۔۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟" اس کے اندر ایک خوفناک طوفان اٹھا۔ ماضی کی چیخیں، ارتضیٰ کی یادیں، داؤد کے زہریلے الفاظ سب ایک ساتھ دماغ میں گونجنے لگے۔ اس کے سامنے ارتضیٰ کا چہرہ آیا، وہ چہرہ جس نے ہر بار اسے بچانے کی کوشش کی، وہ وجود جسے اس نے خود اپنے دل سے دھتکار دیا تھا۔داؤد نے نفرت سے لب بھینچ کر اس کے کان میں سرگوشی کی،
"کہہ دو۔۔۔ ورنہ تم جانتی ہو کیا ہوگا۔" یہ دھمکی تیر کی طرح دل میں پیوست ہوئی۔ سَحر کا وجود کانپا۔
مولوی نے تیسری بار کہا،" سَحر بنت سراج۔۔۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"
سَحر کی آنکھوں سے سیلاب چھوٹ گیا۔ اس کی چیخ لبوں سے نکلنے کو بےتاب تھی۔ اور آخرکار، اس نے رو پڑتے ہوئے کہا، "ق۔۔۔ قبول ہے۔" ارتضیٰ نے آنکھیں بند کر کے خدا کا شکر ادا کیا۔ کمرہ ایک پل کو ساکت ہو گیا۔ داؤد کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔ مولوی نے دو بار پھر دہرایا اور سَحر نے روتے ہوئے وہی جواب دیا،
"قبول ہے۔"
"قبول ہے۔"
نکاح مکمل ہوا تو سحر نے محسوس کیا کہ جیسے اس کی روح کا آخری چراغ بھی بجھ گیا ہو۔ اب نہ کوئی احتجاج باقی تھا،نہ کوئی التجا۔وہ ایک زندہ لاش کی طرح ساکت ہو چکی تھی۔ تبھی داؤد نے اسے بازو سے پکڑ کر صوفے سے اٹھایا اور باہر کھڑی ارتضیٰ کی گاڑی میں ٹھونس دیا۔ اس نے مدافعت تک نہیں کی، وہ تو بس پتھرائی ہوئی نظروں سے بند ہوتے ہوئے دروازے کو دیکھتی رہی۔ داؤد نے دروازہ پٹخا تو اس کی گونج سحر کے خالی ہوتے وجود میں سنائی دی۔
ارتضیٰ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر آ کر بیٹھا،گاڑی سٹارٹ ہوئی اور گیٹ سے باہر نکل گئی۔ گیٹ کے پاس کھڑی سیاہ جیپ کو دیکھ کر ارتضیٰ کے لبوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔ گاڑی کی رفتار کے ساتھ سحر کا سر کھڑکی کے شیشے سے ٹکرایا۔ ہچکیاں اب دم توڑ چکی تھیں، صرف ایک بے نام سا سکوت گاڑی میں باقی تھا۔ اسے لگا جیسے ارد گرد کی دیواریں پگھل رہی ہیں۔ فضا میں موجود پٹرول کی بو، حبس اور داؤد کی دی ہوئی اذیت کا بوجھ اس کے اعصاب پر اتنا بھاری ہوا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔
ارتضیٰ نے چہرہ موڑ کر اس کو دیکھا۔ سحر کا سر ایک طرف کو جھک گیا تھا اور اس کا ہاتھ بے جان ہو کر سیٹ سے نیچے لٹک رہا تھا۔
" سحر؟" ارتضیٰ کی آواز میں پہلی بار گھبراہٹ سی آئی۔ اس نے گاڑی سڑک کے کنارے روکی اور سحر کا جائزہ لیا۔ وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔ اس کا زرد چہرہ کسی مرجھائے ہوئے سفید پھول جیسا لگ رہا تھا، جس کی خوشبو نچوڑ لی گئی ہو۔ارتضیٰ نے سیٹ بیلٹ لگانے کے بعد ایک گہرا سانس لے کر دوبارہ گاڑی سٹارٹ کی اور تیزی سے اپنے فلیٹ کی طرف بڑھا۔
☆ ☆ ☆
بلڈنگ کے باہر گاڑی رکی ارتضیٰ نے گاڑی سے نکل کر دروازہ کھولا اور جھک کر سحر کے نحیف وجود کو اٹھا لیا ۔ وہ اس وقت اسے کسی عورت کی طرح نہیں بلکہ کسی مقدس امانت کی طرح اٹھائے ہوئے تھا۔لفٹ سے ہوتے ہوئے فلیٹ کے دروازے پر پہنچا، بمشکل دروازہ کھولا اور سحر کو بڑی نفاست سے صوفے پر لٹا دیا۔اس کے بے جان ہاتھوں کو درست کیا اور ایک کمبل اس کے وجود پر پھیلا دیا۔
" اب آپ محفوظ ہیں ،سحر!"
☆ ☆ ☆
گاڑی کے رکنے کا جھٹکا یا شاید کسی کے آہنی بازو کا لمس۔۔۔ سحر کو کچھ یاد نہیں تھا۔اسے تو بس اتنا یاد تھا کہ داؤد نے اسے گاڑی میں ٹھونسا تھا اور پھر اندھیرا چھا گیا تھا۔
جب سحر کی بوجھل پلکیں وا ہوئیں، تو اسے احساس ہوا کہ وہ گاڑی کی سیٹ پر نہیں بلکہ ایک نرم اور مخملی صوفے پر لیٹی ہوئی ہے۔ اس نے تڑپ کر اٹھنے کی کوشش کی، ذہن میں وہی خوف تھا کہ شاید وہ پھر سے داؤد کے کسی نئے وار کا شکار ہو رہی ہے مگر جیسے ہی اس نے چاروں طرف دیکھا اس کا سانس حلق میں اٹک کر رہ گیا۔
یہ وہ گھر نہیں تھا جہاں وہ عرصے سے قید تھی۔ فلیٹ کی فضا میں عطر کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ ایک نئے آغاز کی خوشبو ۔سامنے کمرے کا دروازہ کھلا تھا جہاں سے روشنی آرہی تھی۔ سحر نے صوفے سے اٹھ کر چند قدم اس جانب اٹھائے۔ اس کی نظریں جیسے ہی کمرے کے اندر پڑی وہ وہیں کسی برف کی سل کی طرح منجمد ہو گئی۔
ارتضیٰ اندر سفید جائے نماز پہ کھڑا تھا۔ اس کی پشت سحر کی طرف تھی، سر جھکا ہوا اور ہاتھ کانوں تک اٹھے ہوئے تھے۔ وہ تکبیر کہہ رہا تھا۔ کمرے میں ایک عجیب سا تقدس اور خاموشی تھی، صرف ارتضیٰ کے لبوں کی مدھم سی جنبش سنائی دے رہی تھی جیسے وہ کسی بہت بڑے دربار میں اپنی بساط رکھ رہا ہو۔
اس کی پشت سحر کی طرف تھی۔ سحر کے دل میں ایک لرزتی ہوئی سرگوشی ابھری کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے مگر بھاگنے کی ہمت اگر ہوتی تو آج اِس دہلیز پر بے ہوشی کے عالم میں لائی ہی کیوں جاتی؟ وہ دہلیز جسے کبھی پار نہ کرنے کی قسم کھائی تھی وہ پار ہو چکی تھی۔ وہ تقدیر کے لکھے کے سامنے ایک بے جان مہرے کی طرح پڑی تھی۔
اس نے بچاؤ کی خاطر ، ساتھ والے کمرے میں خود کو بند کر لینا چاہا، جیسے ہی اس نے دروازہ دھکیلا، اس کے وجود میں بچی کچی سانس بھی زہریلی ہوئی۔ اس ہتھیاروں سے لیس کمرے کو دیکھ کر اس کا پورا وجود لرز اٹھا تھا۔ اس نے بدحواسی میں کئی قدم پیچھے لیے۔
سامنے کمرے کی دیواروں پر کوئی سجاوٹ نہیں تھی، بلکہ موت کا سامان آویزاں تھا۔ اس بڑے سے میز پر اور دیواروں کے ہر گوشے پر سجے چمکتے چاکو، چھریاں ، فولاد تراشنے والے آلات اور نوکیلے اوزار دیکھ کر اسے اپنی گردن پر فولاد کی ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ قسمت کی ستم ظریفی تھی یا اس کے نصیب کی سیاہی، اسے داؤد کی قید سے نکال کر کہاں لا کر پھینکا گیا تھا؟
" کوئی راہِ فرار نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ۔۔۔ کوئی راہِ فرار نہیں ۔" اس نے بےبسی سے واپس ارتضیٰ کی جانب دیکھا۔ ارتضیٰ نے جیسے ہی سلام پھیرا ، اس کی نظر سحر کے ساکت و جامد وجود پر پڑی۔ ارتضیٰ کے چہرے پر ایک نورانی ٹھہراؤ تھا جو ابھی ابھی سجدے سے شاید ادھار لیا تھا۔
" جاگ گئیں آپ؟ اندر آئیں ۔۔۔ یہ در و دیوار کب سے آپ کے منتظر ہیں۔" ارتضیٰ نے جائے نماز سے اٹھتے ہی ایک قدم اس کی جانب بڑھایا اور تبھی سحر کو گھبرا کر پیچھے ہٹتے دیکھا۔
یہ محض جسمانی طور پر فاصلے کا مطالبہ نہیں تھا، یہ اس کے اندر پلتے خوف کا ردِ عمل تھا۔ ارتضیٰ جان گیا کہ اس کا یہ خوف ارتضیٰ کے لیے نہیں، اُس کی مٹھی میں دبے اُس استحقاق کے لیے تھا جو اسے نکاح کے تین بول بولنے کے بعد مکمل طور پر حاصل ہو چکا تھا۔ ارتضیٰ کی نظر اس کے قدموں سے ہٹ کر ہاتھوں تک گئی تو ان پر کپکپاہٹ طاری تھی جسے ایک دوسرے میں اڑا پھنسا کر روکنے کی کوشش کی جاری تھی۔ پھر نظر نے چند قدم کا فاصلہ مزید طے کیا اور اس کی سانسوں پر جا رکی جو سسک سسک کر آر پار ہو رہی تھیں۔
ایک گہری سانس لے کر ہمت مجتمع کرنے کے بعد نظر نے پھر اس کی آنکھوں تک کا سفر طے کیا اور پھر سب بھول بھال کر وہیں جامد و ساکن ہو گئی۔
ان آنکھوں میں آنسوؤں کا اک سمندر جمع تھا۔
ان آنکھوں میں ڈر تھا کہ اگر وہ رکی،
تو سنبھل نہیں پائے گی۔
اگر ٹوٹ گئی،
تو اس بار سمیٹنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
ارتضیٰ حسن کی زیرک نظر اس کے ہر جذبے کو کسی کھلی کتاب کی طرح پڑھ رہی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ اگر وہ ایک قدم بھی آگے بڑھا تو وہ سحر کو نہیں اس لمحے کی حساسیت کو کچل دے گا۔
ارتضیٰ اس کا خوف دیکھ کر اپنی جگہ رک گیا۔ پھر دونوں ہاتھ دفاع کے انداز میں اٹھا کر ہولے ہولے کمرے سے باہر آیا۔ سحر اس کے ہر قدم کے ساتھ قدم پیچھے کو اٹھانے لگی ۔ دونوں میں پانچ قدموں کا فاصلہ تھا۔ ارتضیٰ نے مزید دو قدم اٹھائے اور ردِعمل میں سحر نے دو قدم پیچھے لیے اور پشت لاؤنچ کی دیوار سے جا لگی۔ وہ بری طرح چونکی۔ ارتضیٰ نے اس کے سامنے آ کر ایک لمحے کو سحر کی آنکھوں میں جھانکا، جہاں خوف کا یہ عالم تھا کہ اگر وہ زور سے سانس بھی لیتا تو وہ ڈر کر بےہوش ہو جاتی۔
سحر کو لگا کہ اب تو شاید اسے تقدیر کے ہاتھوں سے کوئی راہ فرار نہیں ملنے والی مگر اسی لمحے اس نے اپنے سامنے کھڑے مرد کو پورے ہوش و حواس میں، مکمل آمادگی و رضامندی سے، ایک گھٹنا زمین پر ٹیکتے دیکھا اور پھر دوسرا بھی۔
" سحر !" اس نے بہت دھیمے لہجے میں مخاطب کیا۔
" میں نے ابھی جس کے سامنے سجدہ کیا ہے، اسے گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اس نکاح کا مقصد آپ کو حاصل کرنا نہیں، آپ کو بچانا تھا۔ میں اس استحقاق کو کبھی استعمال نہیں کروں گا جس کا خوف آپ کی آنکھوں میں اس وقت مجھے دکھ رہا ہے۔" وہ پُر امید نظروں سے سحر کا پریشان حال چہرہ دیکھ رہا تھا۔
" سَحر ، آپ سے حلالہ نہیں کیا، نکاح کیا ہے۔
نکاح صرف نکاح۔" وہ دونوں ہاتھوں کو آپس میں جوڑے اسے یقین دہانی کروا رہا تھا۔ وہ اس عورت کے سامنے زمین بوس ہو چکا تھا۔ ہاجرہ ٹھیک کہتی تھیں، اس کو بچاتے بچاتے وہ خود کو ہار بیٹھا تھا۔
انا، ذات، دستار ، برتری ، نصیب، رتبہ ۔۔۔ سب کہیں پیچھے رہ گیا تھا ۔
صوابی کا اگلا سردار گھٹنوں پر بیٹھا ایک عورت کی غلط فہمی دور کر رہا تھا۔
" اصلی والا نکاح ، اپنی آخری سانس تک کے لیے۔
اگر آپ مجھ سے یوں خوف کھائیں گی تو ہم داؤد سے کیسے لڑیں گے ؟" سَحر کی آنکھوں میں حیرت اور بےیقینی جھلکنے لگی، ہاتھ پہلو میں آ گرے، وہ اس کے چہرے کو دیکھتی رہ گئی۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں صرف مردوں کو حاکم بنتے دیکھا تھا،یہ پہلا مرد تھا جو اس کے قدموں میں بچھ کر اس کا سائبان بننے کی بھیک مانگ رہا تھا۔
"میں وعدہ خلاف ضرور ہوں، جانتا ہوں۔ مگر بے حس نہیں۔ آپ کو وہاں سے نکالنے کا یہی بہترین طریقہ تھا۔ میں کسی عورت کو روندنے کے لیے کسی مرد کا ساتھ نہیں دے سکتا۔"
"آپ نے یہ سب کیوں کیا؟"سَحر کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
"کیونکہ آپ کو میرے گھر کسی رشتے کے بغیر آنا منظور نہیں تھا۔" اس کی آنکھوں میں شرمندگی اتر آئی۔ ہاتھ اب بھی جوڑ کر سینے سے لگا رکھے تھے۔
"میں معافی مانگتا ہوں۔" اس نے سحر کے پاؤں کی انگلیوں کو چھوا تو وہ کسی سراب سے نکلتی پیچھے ہٹنے لگی مگر پشت پھر دیوار سے ٹکرائی، وہ دائیں جانب ہٹی ۔
"یہ۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں؟ خدا کے لیے ہمیں اور گناہگار نہ کریں۔" سَحر نے اس کا بازو تھام کر اسے زمین سے اٹھایا۔
"میں سچ کہہ رہا ہوں، سَحر ۔ میں نے صرف آپ کو نکالنے کی خاطر ایسا کیا۔ مجھے لگا آپ سمجھ گئی ہوں گی اور میرے ساتھ مل کر داود کے سامنے ایکٹنگ کر رہی ہیں۔ آپ اتنی سی بات بھی نہیں سمجھیں؟ " وہ سر پر ہاتھ رکھے بےحد پریشانی سے کہتا، اب بھی اس بھیگی آنکھوں والی لڑکی کے دل سے اپنی بدگمانی کا داغ صاف کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
" میں آپ کو ثبوت دیتا ہوں۔" اس نے فون نکال کر ابھی pin کھولا ہی تھا کہ یونس کی کال آنے لگی۔ اس نے فون سپیکر پر ڈالا۔
" سحر ٹھیک ہے؟ تم نے اسے سچ بتا دیا بیٹا؟" ہاجرہ کی بے چین آواز گونجی۔
" میں شرمندہ ہوں، مجھے ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا تم پر۔ معاف کرنا، میں نے تمہاری نیت پر شک کیا۔ تمہیں چاہیے تھا کہ ہم دونوں کو پہلے ہی سب بتا دیتے۔ وہ رو رو کر مر جائے گی ارتضیٰ، اسے سب بتا دو۔"
" پھوپھو، ریلکس ۔ بتا دیا ہے سحر کو سب۔"
" اس نے یقین کیا؟ "
" جی ۔"
" اس کا خیال رکھنا ارتضیٰ، وہ بہت زخمی ہے۔"
"جانتا ہوں!" اس نے براہ راست سحر کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔
" آپ بےفکر ہو جائیں ۔" فون بند ہوتے ہی اس نے ایک ویڈیو کھول کر سکرین سحر کے سامنے کی۔ وہاں داؤد کھڑا اپنی بیوی کا سودا پانچ لاکھ میں کر رہا تھا۔
" اس سے کیا ہو گا؟"
" جب یہ سوشل میڈیا پر جائے گی تو داؤد کی ساکھ تباہ ہو جائے گی۔ لوگ جو آج اسے اسلام کا علم بردار سمجھتے ہیں تھوکیں گے اس پر۔"
"داؤد کو پتا لگا تو وہ آپ کی جان لے لیں گے۔"
"دیکھتے ہیں کون کس کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ فی الحال آپ مجھے صرف یہ بتائیں کہ آپ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہیں یا۔۔۔ ؟"
"کیا مطلب؟"سَحر کا دل دھک سے رہ گیا۔
"مطلب یہ کہ مجھے نہیں لگتا آپ میرے ساتھ رہنا چاہیں گی۔ آپ ایک رئیس زادی ہیں،شان و شوکت سے جینے والی اور میں؟"
" میں ٹھہرا آپ کی ملازمہ کا بھتیجا۔ شہزادیاں بھی بھلا غلاموں کے ساتھ رہا کرتی ہیں؟"
"ہاں۔۔۔
ہمیشہ سے۔۔۔
شہزادیاں ہمیشہ سے غلاموں کو ہی چنتی آئی ہیں
کیونکہ شہزادیوں کو دولت کی نہیں محبت اور احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔
تپتی دھوپ میں کسی مضبوط شجر کی ٹھنڈی چھاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔
اور آپ ہمارے لیے مسیحا ہیں،ارتضیٰ۔ سب سے معتبر انسان۔ ہم آپ کے بارے میں ایسا نہیں سوچتے۔"
"لیکن سَحر ، میری زندگی آپ کی زندگی سے بہت مختلف ہے۔ جب آپ اس زندگی میں قدم رکھیں گی تو سب کچھ بدل جائے گا۔"
"اگر آپ ہمارے ساتھ ویسے ہی رہیں جیسے پچھلے ڈھائی تین ماہ سے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ رہیں گے۔
کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ؟ آپ کی تنخواہ میں گزارا نہیں ہوگا؟ ہم فیشن ڈیزائنر ہیں، اتنا کما لیتے ہیں کہ گھر چل سکے اور کیا ہوگا؟ ذات کا فرق؟ ہم اس ذات پات کو نہیں مانتے۔ اور کیا ہوگا؟" وہ جیسے خود ہی ہر منفی سوال کا مثبت جواب دے کر اس رشتے کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی جس نے ابھی چند گھڑیوں پہلے جنم لیا تھا۔
"مطلب آپ ہر صورت میں میرے ساتھ رہنا چاہیں گی؟ میں صرف اسی لیے پوچھ رہا ہوں کہ کل کو کوئی مسئلہ نہ ہو۔ جانتا ہوں یہ شادی زبردستی ہوئی ہے۔" ارتضیٰ کا لہجہ ابھی اس احتیاط میں لپٹا تھا جو کسی نازک آبگینے کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے برتی جاتی ہے۔
" ہم خود کو آپ کے سانچے میں ڈھالنے کی قسمیں کھا رہے ہیں اور آپ اب بھی ہم سے ایک اجنبی کی طرح سودے بازی کر رہے ہیں؟"
سحر کا ضبط ٹوٹ گیا وہ ضبط جو داؤد کی وحشت کے سامنے نہیں ٹوٹا، وہ ارتضیٰ کی اس بیگانگی کے سامنے پاش پاش ہو گیا۔ وہ آگے بڑھی اور ارتضیٰ کا کالر اپنی مٹھیوں میں جکڑ کر اس کے سینے پر بے ترتیب تھپڑ مارنے لگی۔
"آپ نے ہمیں اتنا رلایا!آپ کو اندازہ بھی ہے کہ جب آپ نے وہ چیک اٹھایا تو ہم پر کیا گزری؟"
" آپ ہمیں اپنا ارادہ بتا دیتے تو ہم یوں نہ ٹوٹتے!"
" ہمیں لگا سب ختم ہوگیا۔ارتضیٰ۔۔۔ ہمیں لگا ہم غلط انسان سے محبت کر بیٹھے ہیں۔"
محبت کا وہ اعتراف جو کسی گلاب کی پنکھڑی جیسا نرم ہونا چاہیے تھا،وہ ایک دہکتے ہوئے شعلے کی طرح سحر کے لبوں سے پھسلا۔ وہ اسے پیچھے کو دھکیل رہی تھی اور ارتضی حسن۔۔۔ وہ صوابی کے پہاڑوں جیسا چٹان مرد کسی سوکھے پتے کی طرح اس کے ہر دھکے پر پیچھے کو پھسلتا جا رہا تھا۔
" آپ نے ایسا کیوں کیا؟" وہ چیخ رہی تھی،اسے دھکے دے رہی تھی، کالر پکڑ کر جھنجھوڑ رہی تھی اور ارتضیٰ حسن سکتے میں کھڑا تھا۔ اس روتی چلاتی عورت کا ہر دھکا اسے ایک اجنبی سے خوشی بخشنے لگا۔ کمرے کی غم سے بوجھل فضا میں محبت نامی طلسماتی فسوں چھانے لگا تھا ۔ ہر جانب سنہری افشاں گرتی دکھنے لگی۔
"سَحر کو مجھ سے محبت تھی؟
اس بےوفا لاہور نے محبوب ملا دیا تھا ؟ "
سَحر تھک کر اس کے سینے پر پیشانی رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ارتضیٰ حسن کو محسوس ہوا کہ روح جسم سے علیحدہ ہوکر زمین بوس ہوگئی ہو، سانس حلق میں اٹک کر آخری ہچکی کے انتظار میں ہو اور دل دھڑکنا بھول چکا ہو۔ اس نے پیچھے ڈریسنگ ٹیبل پر دونوں ہاتھ ٹکا کر سہارا لیا۔ سَحر نے اس کے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا اور پھر قمیض کو اکٹھا کرکے مٹھی میں سمو لیا۔ ارتضیٰ کی بھوری آنکھیں پھیل کر سیاہ ہوئیں ۔ ایک ہاتھ بےاختیار اس کے سر کی طرف بڑھا مگر رک گیا۔
کیا وہ اب اس پر حق جتا سکتا تھا؟
پھر اس نے ہمت کر کے دونوں بازو بہت نرمی سے اس کے گرد حمائل کیے۔ اتنی نرمی سے کہ اسے صرف سحر کے لباس کا لمس محسوس ہوا، جسم کا نہیں۔
سَحر مسلسل رو رہی تھی، دوپٹہ سر سے پھسل کر زمین پر گر گیاتھا۔ ارتضیٰ نے ہلکے سے اس کی کمر سہلائی۔
"س ۔۔۔سَحر !" اس کے لبوں پر تسلی کے کچھ الفاظ آنے ہی والے تھے کہ سَحر نے سر اٹھایا، سوجی آنکھیں اس کی آنکھوں میں سوالی بن کر دیکھ رہی تھیں۔
ارتضیٰ کے پاس تین زبانوں کا علم تھا مگر لمحہ ایسا تھا کہ الفاظ ساتھ چھوڑ گئے۔ وہ ہکلا کر رہ گیا۔ سَحر نے چند لمحے اس کا چہرہ دیکھا اور لمحے کی حساسیت کو محسوس کرتے گڑبڑا کر اس سے دور ہو گئی۔ آنسو اب بھی بہہ رہے تھے۔
وہ پلٹی، زمین پر گرا اپنا دوپٹہ اٹھایا، اس سے پہلے وہ اسے پہنتی ، اسے پیچھے سے ایک نرم سی گرفت نے روک لیا۔ ارتضیٰ نے اس سے لپٹ کر اپنی تھوڑی اس کے سر پر ٹکا دی۔ سَحر اپنی جگہ رک گئی۔ وہ دونوں خاموش تھے۔
ارتضیٰ کے آنسو اس کی مانگ کو بھگو کر ماتھے سے بہنے لگے۔
"مجھے آپ سے اتنی محبت ہو جائے گی، یہ مجھے معلوم نہیں تھا۔اگر ہوتا تو خدا کی قسم، پھوپھو کی اس کال پر میں کبھی گھر نہ آتا۔
مجھے کیا معلوم تھا کہ چند زینے چڑھ کر واپسی کا راستہ کھو بیٹھوں گا۔" اس نے سحر کی پشت کو سینے سے لگایا۔
"میں مر جاتا اگر آپ آج ہاں نہ کرتیں!
آپ سے محبت کرتے کرتے میں نے خود کو بھلا دیا، میں ارتضیٰ حسن کو بھول گیا۔" اس نے پس پشت کھڑے سحر کے دونوں ہاتھ اپنی نرم گرفت میں لیے۔
" سَحر ! میں نہیں جانتا تھا کہ آپ سے اس حد تک محبت ہو جائے گی اور جب معلوم ہوا تو یہ خوف ساتھ تھا کہ آپ مجھے کبھی قبول کریں گی یا نہیں۔ مجھے لگتا تھا کہ میں آپ کے قابل نہیں ہوں ۔" سَحر نے اس کی گرفت سے نکلے بغیر پلٹ کر اس کا چہرہ تھام لیا۔ اپنے لرزتے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کیے۔
" نہیں ارتضیٰ،ہم آپ کے قابل نہیں ہیں، آپ۔۔۔ آپ تو ایک مکمل مرد ہیں اور ہم؟ داؤد ہمیں مسخ کر چکے ہیں۔"ارتضیٰ نے مسکرا کر ستائش سے اس کا چہرہ دیکھتے اس کے لبوں پر انگلی رکھ دی۔
"محبت میں صرف محبت کو دیکھتے ہیں، صرف محبت کو۔ یہاں خوبیوں اور خامیوں کو دیکھنا کفر ہے۔" نرمی سے اس کے چہرے کے اطراف میں پھیلی لٹیں ہاتھ سے اس کے کانوں کے پیچھے اڑا کر،ارتضیٰ نے اسے چھوڑا، پھر ہاتھ تھام کر بیڈ پر بٹھا دیا ۔ کچن سے پانی لے کر آیا اور اسے تھما دیا۔
سَحر نے پانی پیا تو رونے سے بندھی ہچکی رکی۔ سوجی ہوئی نمناک آنکھیں اٹھا کر ارتضیٰ کو دیکھا۔
" آپ ریلیکس کریں، میں پیکنگ کرتا ہوں۔ پھر نکلیں گے۔"
" کہاں ؟"
" ہم آج ہی صوابی جا رہے ہیں۔ رہ گئی بات داؤد کی تو اس کو تو اب وہیں دیکھیں گے۔ "
"ارتضیٰ! ہمیں نہیں جانا۔ ہمیں کہیں نہیں جانا۔" وہ گھبرا کر بولی تھی۔
" ایک دفعہ آپ کی ضد مانی تھی نا انجام دیکھا اس کا؟ اگر آج میں وہاں موجود نہ ہوتا تو وہ کیا کر گزرتا؟ اندازہ ہے؟ اب وہی ہوگا جو میں کہوں گا۔ " سَحر نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔ وہ بیڈ پر بیٹھی رہی اور ارتضیٰ اپنا سامان پیک کرتا رہا۔ تبھی باہر گیٹ کھٹکنے کی آواز آئی۔ سحر ہڑبڑا کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ارتضیٰ سوٹ کیس بند کرکے کمرے سے باہر جانے لگا تو سحر نے اس کا بازو تھام کر اسے روکا۔
" داؤد ہیں، ہم ان کی دستک پہچانتے ہیں۔ آپ مت جائیں۔" ارتضیٰ نے مڑ کر سحر کی آنکھوں میں دیکھا اور نرمی سے سحر کا ہاتھ ہٹایا۔
" آپ یہاں رکیں، میں دیکھتا ہوں۔"سحر کمرے کے دروازے پر کھڑی رہی، ارتضیٰ نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو سامنے داؤد کھڑا تھا۔اس کا چہرہ سوجھا ہوا تھا، ایک آنکھ کے پاس نیل پڑا تھا اور ناک بری طرح زخمی تھا۔
" مجھے دھوکہ دیا تو نے؟" داؤد غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر ارتضیٰ کا کالر جکڑا اور اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی، مگر وہ کسی چٹان کی طرح اپنی جگہ جما کھڑا رہا۔ ارتضیٰ نے پھرتی سے داؤد کا وہی ہاتھ موڑا اور اسے پوری قوت سے دیوار سے دے مارا۔ داؤد لڑکھڑا گیا مگر اس کی آنکھوں میں اب بھی وہی غلاظت تھی۔ وہ گھٹیا ہنسی ہنسا، ایک ایسی ہنسی جس نے کمرے کی فضا کو زہریلا کیا۔
" مار لے ارتضیٰ ، جتنا مارنا ہے مار لے ۔ مگر ایک حقیقت تو نہیں بدل سکتا۔ میں نے اس کو کسی کے قابل نہیں چھوڑا۔ اس کے ذہن سے میرے نقش تو ساری زندگی نہیں مٹا پائے گا۔ میں نے اس کے اپنے وجود کو اس کی نظر میں اتنا گرا دیا ہے کہ یہ زندگی بھر خود سے نظر نہیں ملا سکے گی۔
یہ جو آج تیرے پیچھے چھپ کر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہی ہے، یہ گھٹیا لڑکی، ایک وقت میں میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر اپنی زندگی کی بھیک مانگتی رہی ہے۔" یہ جملہ سنتے ہی سحر کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، اس نے تڑپ کر اپنی آنکھیں بند کیں۔ ارتضیٰ حسن جو اب تک ایک ساکت چٹان بنا کھڑا تھا، اس کے اندر جیسے کوئی آتش فشاں پھٹ پڑا۔ اس کی بھوری آنکھیں سیاہ خونخوار رنگ میں بدلیں۔ اس نے داؤد کو گریبان سے پکڑا اور اسے ہوا میں لہراتے ہوئے دیوار سے دے مارا۔
" خاموش ! بدبخت انسان !خاموش !" اس کی آواز بے حد بلند تھی۔ داؤد کو چھوڑ کر وہ تیزی سے سحر تک آیا۔ اسے بازو سے پکڑ کر کمرے کے اندر دھکیلا اور دروازہ بند کر دیا۔ سحر کمرے میں ساکت کھڑی اپنی قسمت میں لکھی ذلت کا ماتم منانے لگی۔ارتضیٰ کمرے سے واپس آیا تو لب بھینچ رکھے تھے، اب کی بار وہ داؤد پر ٹوٹ پڑا۔ اس نے داؤد کا چہرہ بری طرح زخمی کرنے کے بعد اسے زمین پر پٹخ کر اپنا گھٹنا اس کے سینے پر جمایا۔
داؤد ہانپ رہا تھا، مگر ارتضیٰ کی آنکھوں میں اس وقت رحم کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا۔ اس نے داؤد کے کالر کو مٹھی میں جکڑ کر اسے اپنے چہرے کے قریب کیا۔
" سن، جس عورت کے سر پر ارتضیٰ حسن کا سایہ ہو، کائنات کی کوئی دہشت اسے ڈرا نہیں سکتی۔" اس نے داؤد کا جبڑا اپنی سخت گرفت میں لیا۔
" تو نے اسے زخم دیے ہیں، تیری وجہ سے وہ خوشیوں سے محروم ہوگئی اور تجھے لگا میں تجھے چھوڑ دوں گا؟ کتے نوچیں گے تجھے، کوئی لاش اٹھانے والا بھی نا پائے گا۔تجھے عبرت کا نشان نہ بنا دیا تو کہنا۔" ارتضیٰ نے جھٹکے سے اسے چھوڑا اور کھڑا ہو گیا۔ اس کے ہاتھ خون سے لت پت تھے، قمیض کے کف سرخ ہو چکے تھے۔ اس نے رومال سے اپنے ہاتھ صاف کیے اور جیب سے فون نکالا اور پھر ایک بٹن دبا کر سکرین داؤد کے سامنے کی۔ پورے صحن میں داؤد کی اپنی آواز گونجنے لگی۔ داؤد کا رنگ پیلا پڑا، اس کی آنکھوں میں پہلی بار خوف کی لکیریں ابھریں۔
" یہ ۔۔۔ یہ کیا ہے؟"
" یہ تمھاری پاکیزہ ساکھ کا جنازہ ہے، داؤد مختار۔" ارتضیٰ نے اس کے قریب جھک کر سرد لہجے میں کہا۔
" یہ ریکارڈنگ، تمھارا اعترافِ جرم اور اس چیک کی تصویر اب سوشل میڈیا پر ہوگی۔
تمھارے حلقے کے لوگ، تمھارے خاندان والے اور وہ سیاست دان جن کے تلوے تو چاٹتا ہے، سب دیکھیں گے کہ تو حقیقت میں کتنا بدکردار اور لعنتی ہے۔"
" تو مجھے بلیک میل کر رہا ہے؟"
" ماڑا۔۔۔ تیرا دماغ تو کچھوے سے بھی سست ہے۔" اس نے ازلی پختون لہجے میں طنزاً کہا، " بلیک میل وہ کرتے ہیں جن کو کچھ چاہیے ہوتا ہے، میں تجھ سے سب چھیننے والا ہوں۔ " پھر اس نے وہیں کھڑے کھڑے اسی لمحے اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر LIVEکر دیا۔
" داؤد مختار کا اصل چہرہ۔۔۔ مذہب اور حلالے کے نام پر عورتوں کی عصمت دری کرنے والا درندہ۔" اس کے نیچے کیپشن لکھا۔
" لو جی ہوگیا کام، ایک کلک اور داؤد مختار کی ساکھ۔۔۔ راکھ!" اس نے ہنس کر بٹن دبایا اور پھر داؤد کا چہرہ دیکھا جو زمین پر بےحال سا پڑا کھینچ کھینچ کر سانس لے رہا تھا۔
" اور یاد رکھنا، ارتضیٰ حسن اپنی چیزوں پر کسی کا سایہ بھی برداشت نہیں کرتا۔" اس نے پاس پڑا کانچ کا جگ اٹھایا اور پوری قوت سے داؤد کے زمین پر پڑے دائیں ہاتھ پر دے مارا۔ فضا میں ایک دل خراش چیخ گونجی، ہاتھ بری طرح زخمی ہوا اور خون کی ایک گاڑھی لکیر بہنے لگی۔
" یہ ہاتھ اب کسی عورت کی طرف نہیں اٹھے گا، ارتضیٰ حسن کے جیتے جی کوئی عورت تماشہ نہیں بنے گی۔" داؤد تکلیف سے کراہتا ہوا، ماتھا زمین پر ٹیکے اپنے ہاتھ میں اٹھنے والی تکلیف میں گھل رہا تھا۔
بالکل اسی طرح جیسے سحر شکستہ پہلو لیے اس شام زمین پر تڑپ رہی تھی۔
آس پاس بالکل ویسا ہی خون پھیلا تھا جیسے اس سیاہ شام سحر کے بطن سے بہنے والا لہو تھا۔
آج ویسی ہی زمین تھی، ویسی ہی بے بسی، ویسا ہی خون ،بس چہرہ بدل گیا تھا۔ مکافات کا چکر گھوم کر داؤد مختار تک آ پہنچا تھا۔ وقت نے خود کو دہرایا تھا مگر اس بار ظالم کے قدموں تلے زمین نہیں تھی۔
ارتضیٰ نے پلٹ کر اس دہلیز کو دیکھا جہاں ایک عورت اس کی منتظر تھی۔ وہ عورت جسے اس نے آج صرف داؤد سے نہیں بلکہ اس کے ماضی کے خوف سے بھی آزاد کر دیا تھا۔ ارتضیٰ نے اندر کی جانب قدم بڑھائے، دروازہ کھولا تو وہ سامنے بیٹھی رو رہی تھی ۔ارتضیٰ نے سحر کو مکمل طور پر اپنے حصار میں چھپا لیا۔
" سحر! میری جانب دیکھیں۔" ارتضی کا لہجہ اب دوبارہ وہی ریشم سا ملائم تھا۔
" داؤد صحیح کہہ رہے ہیں، ہم کسی قابل نہیں ہیں۔ہم خود سے نظر نہیں ملا سکتے۔" سحر نے سسکتے ہوئے اپنی بے بسی کا اعتراف کیا۔
" داؤد نے آپ کو ناقابلِ قبول کہا تھا۔۔۔ اب سے وہ خود دنیا کے لیے ناقابلِ قبول ہو چکا ہے۔
جس چیز میں آپ کا قصور نہیں، اس کی سزا آپ کو کبھی نہیں ملے گی۔" اس نے سحر کے ہاتھ مضبوط گرفت میں لیے۔
" آپ نے بہت سی قربانیاں دے دی ہیں، سحر۔ اب میری باری۔
اب قربانی میری طرف سے،
اس محبت کے نام۔"
ارتضیٰ نے اپنا سامان اٹھایا اور سحر کی طرف ہاتھ پھیلا دیا۔ " چلیں ؟" سحر نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے اپنا ہاتھ ارتضیٰ کی مضبوط گرفت میں دے دیا۔ وہ دونوں لاؤنج سے گزر رہے تھے۔ داؤد اب بھی فرش پر ڈھیر اپنی شکست کا بوجھ اٹھائے تڑپ رہا تھا۔ سحر ایک پل کے لیے رکی، اس نے داؤد کی آنکھوں میں بے بسی، اذیت اور ذلت دیکھی۔
" جو کسی کا تماشہ بناتے ہیں، خدا ان کا تماشہ بنا دیتا ہے۔
اب مکافات کا ذائقہ چکھیں، داؤد مختار!" اور پھر کسی شرارتی بچے کی طرح زبان نکال کر اسے چڑھایا۔ اس کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کا یہ چھوٹا سا عمل داؤد مختار کے لیے کسی ایٹم بم سا تھا۔ ارتضیٰ کے لبوں پر بےساختہ مسکراہٹ آئی۔
☆ ☆ ☆
شام کی زرد روشنی سیاہی میں بدل کر رات میں ڈھل چکی تھی۔ وہ دونوں صوابی میں داخل ہوئے ہی تھے کہ پولیس اہلکار نے ہاتھ دے کر گاڑی رکوائی۔ ارتضیٰ نے شیشہ نیچے کیا۔ اہلکار کی نظر بدتمیزی سے سحر کے عروسی لباس اور اجڑے سنگار پر اٹکی ۔اس نے ایک معنی خیز مسکراہٹ اپنے ساتھی کی طرف اچھالی۔
" بڑے ٹھاٹھ ہیں جناب کے ۔ یہ کون ہیں؟" اہلکار نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔
" میری بیوی ہے۔" ارتضیٰ نے مختصر اور سپاٹ جواب دیا۔ سالوں بعد صوابی کی سڑکوں پر قدم دھرنے کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ جو مرتضیٰ کو اس کے سائے سے پہچان لیتے تھے آج ارتضیٰ حسن کو پہچاننے میں چوک کر گئے تھے یا پھر یہ اس فارمل ڈریسنگ کے منفی اثرات تھے۔
" اچھا! بیاہی بیوی یا بھگائی بیوی؟" دوسرے اہلکار نے طنزیہ کہا۔
" لگتا ہے کہیں سے تازہ تازہ پارسل اٹھایا ہے،
کاغذات دکھاؤ اور بی بی تم باہر آؤ۔ تمھارا بیان لینا ہے۔" ارتضیٰ کے ماتھے کی رگ ایک لمحے کے لیے ابھری، اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں، مگر اگلے ہی لمحے اس نے ایک لمبی سانس لے کر اپنی آنکھیں بند کیں۔ جب اس نے دوبارہ آنکھیں کھولیں تو وہاں غصہ نہیں تھا۔
" افسر صاحب! میں نے آپ کی بدتمیزی کو صرف اس لیے نظر انداز کیا ہے کہ میں قانون ہاتھ میں لینے کے حق میں نہیں ہوں۔ لیکن یاد رکھیں، غیرت مند مرد اپنی عورت کی تذلیل برداشت نہیں کر سکتا۔" ارتضیٰ نے شیشہ اوپر کرنے سے پہلے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
" آپ کی یہ خوش گوار گفتگو میرے ڈیش بورڈ کیمرے میں ریکارڈ ہو چکی ہے۔ اب یا تو آپ راستہ چھوڑ دیں، یا کل صبح اپنے محکمے میں جواب دہی کے لیے تیار رہیں۔یہ میرا کارڈ رکھیں، آپ کی معلومات میں اضافہ کرے گا۔" اس نے والٹ نکال کر ، اپنا کارڈ اہلکار کی جانب بڑھایا۔ اہلکار نے کارڈ چہرے کے سامنے کیا تو ارتضیٰ حسن کا نام پڑھ کر اس کے چہرے کی رنگت بدل گئی۔ ارتضیٰ حسن کا نام، اگلے ولی عہد کا نام۔۔۔ یہ نام وہاں شرافت اور طاقت کی علامت تھا۔ ایک ایسا نام جو پچھلے چھ سال سے صوابی کے لوگوں کے لیے ایک معمہ بنا ہوا تھا۔
" سائیں ، میں ۔۔۔ میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔ سائیں،سردار سائیں کو مت بتائیے گا۔ میں معافی مانگتا ہوں۔ بھابھی میں معافی مانگتا ہوں۔ سائیں میری نوکری۔۔۔"
" جائے گی۔۔۔ نوکری بھی جائے گی اور تو بھی!" پیچھے سے کسی نے اس اہلکار کی گردن کو مضبوط گرفت میں لیتے پختون لہجے میں کہا تو سحر نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ ارتضیٰ نے انتہائی اطمینان سے گاڑی آگے بڑھا دی۔ اس کے چہرے پر ایسا سکون تھا کہ مانو اسے فرق ہی نہ پڑا ہو۔
" آپ کو غصہ نہیں آیا ؟" سحر کی دھیمی آواز سارے سفر میں پہلی بار گاڑی میں گونجی۔
" آیا تھا! مگر غصے میں آپ کا ہاتھ چھوڑ کر ان سے لڑنا بہادری نہیں، بےوقوفی ہوتی۔ میری پہلی ترجیح آپ کو سٹریس سے دور رکھنا ہے۔"
" داؤد کو تو آپ نے ہمارے سامنے مارا تھا۔"
" سحر، داؤد میرا ذاتی دشمن تھا۔ اس نے میرے سامنے میری عورت کی توہین کی، وہاں غصہ فرض تھا۔"
" آپ ہمیں عورت مت بولیں، ہم ابھی لڑکی ہیں۔"
" اچھا؟ بھلا کیا عمر ہے آپ کی؟"
" بس چوبیس سال۔"
" او ہو ! یہ تو واقعی بہت کم عمر ہے۔" ارتضیٰ نے چھیڑنے والے انداز میں کہا، مگر پھر اس کا لہجہ حد درجہ معتبر ہوگیا۔
" لیکن ایک بات بتاؤں، سحر؟" سحر نے اثبات میں سر ہلایا۔ ارتضیٰ نے گاڑی کی رفتار تھوڑی کم کی۔
" ہمارے ہاں عورت لفظ بڑھاپے کی نشانی نہیں بلکہ ایک تاج کی طرح ہوتا ہے۔ جب میں کہتا ہوں میری عورت تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ میرے سر کا تاج ہے اور اب کوئی اس کی طرف نظر اٹھا کر میری غیرت کو نہ للکارے۔"
" آپ پٹھان لوگ غیرت کے نام پر لڑکیوں کو قتل کر دیتے ہیں نا؟" اس کی معصوم مگر تیکھی بات سن کر ارتضیٰ بلند قہقہا لگا کر ہنس دیا۔
" تو یہ وجہ تھی صوابی نہ جانے کی۔۔۔" وہ اتنی خوش دلی سے ہنسا کہ فضا سے تناؤ چھٹ گیا۔ سحر اسے حیران نظروں سے دیکھے گئی۔ ارتضیٰ نے گاڑی سڑک کنارے روکی اور مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کی بھوری آنکھوں میں اس وقت گہری محبت کے ہزاروں جگنو چمک رہے تھے۔
" جو مردوں سے نہیں لڑ پاتے وہ عورتوں سے لڑتے ہیں،
جو مردوں پر غصہ نہیں کر پاتے وہ عورتوں پر کرتے ہیں۔"
" عورت تو پھول ہے سحر ، پھول کو نرمی سے ہینڈل کرنا پڑتا ہے ، اس کی خوشبو لینی ہے تو اس کے ساتھ لگے کانٹوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ الله نے عورت کے معاملے میں نرمی برتنے کا حکم دیا ہے۔" اس نے سحر کے ہاتھ پر گرفت تھوڑی اور مضبوط کی۔
" غیرت کا مطلب ہے کہ اگر زمانے کی تپتی دھوپ میری عورت کی طرف بڑھے، تو وہ پہلے میرے وجود سے ٹکرائے۔ غیرت کا مطلب یہ ہے کہ میری پناہ میں آنے والی ہر عورت، چاہے وہ میری بیوی ہو، بہن ہو یا بیٹی، اسے سہارے کے لئے کسی دیوار کی ضرورت نہ پڑے۔ میں ہمیشہ اس کی پشت پناہی کے لیے موجود رہوں۔ "
" باتیں اچھی بنا لیتے ہیں ۔" سحر نے دل میں پنپتے جذبات کو پیچھے دھکیل کر اسے تنگ کیا۔ اور وہ ایک بار پھر بلند قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔