حصارِ جاں
گاؤں میں داخل ہوتے ہی اس نے سَحر کو پچھلی سیٹ سے اپنی بھوری تہ شدہ چادر اٹھا کر دی۔
"پہن لیں اس کو۔۔۔ میرا گاؤں شروع ہونے والا ہے۔" سحر نے اس چادر کو دیکھا پھر اس کا چہرہ دیکھا۔
" آپ ہمیں اس چادر کا پابند کر رہے ہیں؟"اف! اس عورت کا یہ ڈرا سہما انداز اسے منوں مٹی تلے دبا گیا۔ اگر جو جواب دینے میں لمحے کی دیری ہوتی تو وہ جانے کیا سوچ بیٹھتی۔
" نہیں، لوگوں کو پابند کر رہا ہوں کہ جس عورت کے شانوں پر میرے نام کی چادر ہو اس کی طرف نگاہ اٹھانے کی غلطی کوئی نہ کرے۔" سَحر نے چند لمحے سن سی آنکھوں سے اسے دیکھنے کے بعد چپ چاپ شال تھام لی۔اور جیسے ہی اس نے اپنے گرد لپیٹی، آنکھوں میں نمی تیر گئی۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ یہ آنسو کیوں آگئے۔ اس نے شال کے کنارے سے جلدی سے آنکھیں پونچھیں اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔کیا ہی ہوتا جو قدرت اس لمحے کو ارتضیٰ حسن کی آنکھوں سے چھپا لیتی مگر نہیں۔۔۔ اس کی زیرک نگاہ سے کہاں کچھ پوشیدہ رہ سکتا تھا۔ سیاہ رنگ کی جیپ جو سارے راستے ان کے پیچھے تھی، اب آگے نکل گئی تھی۔
" خوش آمدید !"
مرکزی دروازہ پار کرتے ہی فضا میں کچھ بدلاؤ آیا۔ لوگوں نے گاڑی کو دیکھ کر احترام سے راستہ دینا شروع کیا۔سحر نے ارتضیٰ کا چہرہ دیکھا جس پر اب ایک شاہانہ رعب دکھنے لگا تھا۔
" کون ہے یہ ارتضیٰ حسن ؟
ایک عام سا سلجھا ہوا، مذہبی آدمی جس کے لئے اقدار اور رضائے الہی ہی سب کچھ ہے؟
ایک ایسا شخص جس کی شرافت اور پاکدامنی کی قسمیں کھائی جا سکتی ہیں؟" سحر نے چہرہ گھما کر کھڑکی سے باہر دیکھا۔ وہاں شاید کوئی جمعہ بازار لگا تھا ۔ رش کے باوجود بھی لوگ رک رک کر بہت خوش دلی سے اسے سلام کر رہے تھے۔
سحر نے ہواؤں میں اس خوشگوار بدلاؤ کو محسوس کیا۔ اس کی خاموش حکمران سی نظریں، سنجیدہ چہرہ اور نرم سی مسکراہٹ۔۔۔ وہ ہر سلام کا جواب سینے پر ہاتھ رکھ کر دے رہا تھا۔
اس نے چہرہ جھکا کر خود کے گرد لپٹی اس بھوری چادر کو دیکھا۔
" اس چادر میں کیسی عجیب سی پناہ ہے، جیسے اس کے ریشے ریشے میں کوئی قدیم قسم کا تحفظ چھپا ہو۔" سَحر نے سوچ کر ادھر ادھر دیکھا زیادہ تر عورتیں سفید چادریں، جن پر سرخ دھبے تھے، اوڑھے ہوئے تھیں۔ ارتضیٰ کو سلام کرنے کے باجود کسی نے نظر اٹھا کر سَحر کو دیکھا تک نہ تھا ۔ گاڑی اس ہجوم سے آسانی سے گزر کر اب ایک پرسکون سڑک پر تھی۔
تھوڑا آگے جانے کہ بعد سَحر کی نظر اسی جیپ پر گئی۔ وہ سامنے سڑک کے بیچ و بیچ رکی تھی۔ اس کے سامنے ایک سفید مہران کھڑی تھی ۔ اس میں موجود آدمی باہر نکل کر گڑگڑا رہا تھا اور پھر جیپ کا دروازہ کھلا۔
سیاہ پنٹ شرٹ پر چمکتی چمڑے کی جیکٹ پہنے ہوئے وہ گلے میں موجود چین کو گھماتا ہوا، دائیں ہاتھ میں ایمپوریو ارمانی کی روپہلی گھڑی پہنے غضبناک ہو کر اترا ۔ نیلی آنکھیں سڑک کی پیلی روشنی میں کچھ سبز دکھ رہی تھیں۔
" سائیں ، میں سارا نقصان بھر دوں گا۔ بس معاف کر دو ، میں آئندہ دیھان سے چلاؤں گا۔ " وہ آدمی ہاتھ جوڑے بلند آواز میں بولا ۔ اس نے ایک ٹھوکر اس آدمی کے گھٹنے پر ماری، وہ لڑکھڑا کر زمین پر گرا۔ ارتضیٰ نے گاڑی وہیں سے دائیں جانب کو موڑ کر راستہ بدل لیا۔
" آپ ان کو بچا لیں، وہ انہیں پیٹ رہے ہیں۔" تبھی گاڑی ایک شاندار حویلی کے بلند دروازے میں داخل ہوئی تو سَحر کے لب بےاختیار کھل گئے۔
یہ تو عام گھر نہیں تھا۔۔۔ یہ تو گاؤں کے جاگیرداروں کی حویلی لگ رہی تھی۔ اونچی دیواریں، بڑے بڑے دروازے، آنگن میں گھومتے ملازم اور کڑکتی ہوئی شان۔۔۔ سب کچھ اس کے تخیل سے کہیں بڑھ کر تھا۔ اس نے نظر چُرا کر ارتضیٰ کے چہرے کی طرف دیکھا۔ وہ بالکل سپاٹ تھا، جیسے کچھ بھی غیر معمولی نہ ہو۔
گاڑی رکی۔ ارتضیٰ نے شیشہ نیچے گرا کر چہرہ باہر کیا اور ایک صدا لگائی، " فراز !" سامنے سے ایک لگ بھگ سَحر کی عمر کا لڑکا بھاگا ہوا آیا ۔ سفید شلوار قمیض کے ساتھ سر پر سیاہ پختون ٹوپی رکھے ، وہ سیدھا ارتضیٰ کے شیشے کے قریب آیا لیکن جھکا نہیں۔ فراز نے منہ دوسری جانب پھیر کر ایک صدا لگائی، آواز نہایت بلند تھی۔
" پردہ کر لو، چھوٹی سردارنی صاحبہ آئیں ہیں۔" سَحر نے چونک کر دیکھا۔ کالے شیشے کے پار صف بستہ کھڑے گارڈز، مزدور، مالی۔۔۔ سب کے سب نظریں جھکا کر ایک طرف منہ پھیر چکے تھے۔ ارتضیٰ نے اتر کر اس کی طرف کا دروازہ کھولا اور آگے ہاتھ بڑھایا۔ سَحر چند لمحے اس ہاتھ کو گھورتی رہی، جیسے فیصلہ نہیں کر پا رہی ہو ۔
" میڈم، گود میں اٹھا کر لے جانا پڑے گا کیا؟" ارتضیٰ کے خشک مگر شرارت بھرے لہجے نے اسے چونکا دیا۔ سَحر نے اس کا ہاتھ تھاما اور جھینپ کر نیچے اتری۔
" سَحر ، چہرہ ٹھیک رکھیں۔ گردن اکڑا لیں اور انداز میں شان لے آئیں۔ یہاں پر عورتیں حاکم ہوتی ہیں اور حاکم سر نگوں نہیں ہوتے۔ اندر بہت کچھ ہوگا مگر آپ روئیں گی نہیں۔ ٹھیک ہے؟" وہ اسے متانت سے سمجھا رہا تھا۔سحر نے نظر اٹھا کر اس کا شاداب چہرہ دیکھا۔ وہ آنکھوں میں بھر آنے والی نمی کو چھپا نہیں سکتی تھی تو بول پڑی۔
" ہمیں تو رونا آ رہا ہے۔" وہ بولی تو ارتضیٰ نے اس کا ضبط سے گلابی ہوتا چہرہ دیکھا،لب بھینچ کر ہنسی روکی، ایک قدم آگے بڑھ کر ، درمیان آئے سارے فاصلے مٹاتے ہوئے اس نے سَحر کا چہرہ اپنے کندھے سے لگایا۔
" جتنا رونا ہے ابھی رو لیں۔ اندر جا کر مغرور ملکہ بن جانا۔" وہ اس سے دور ہٹی، آ نکھوں میں آنسو تھے۔
" آئی ایم سوری ! ہم بہت بے بس ہیں۔"
" پورا کا پورا ارتضیٰ حسن اپنے بس میں کرکے آپ بےبس کیسے ہو سکتی ہیں؟" سحر نے اس کی دھوپ سے سنہری دکھتی آنکھوں میں دیکھا، جسم میں خون کی گردش یکدم شدت اختیار کرکے چہرے پر سرخی لا چکی تھی۔ اس نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے مگر پھر خاموشی سے اس کی شال سے آنکھیں پونچھ لیں۔
" چلیں۔" اس نے ارتضیٰ کے بازو میں ہاتھ پروتے ہوئے کہا۔ وہ دونوں اندر کی طرف بڑھنے لگے جب فراز کی آواز نے ان دونوں کو پلٹنے پر مجبور کیا۔
" سائیں، اندر محفل لگی ہے۔" فراز کا رخ اب بھی دوسری جانب تھا۔
" چوری نہیں کی فراز، حق حلال کی بیوی ہے، سارا گاؤں دیکھے یا ساری دنیا
"who cares"
" But… Please be careful"
اس کی بات سن کر ارتضیٰ نے سَحر کی کلائی اپنی گرفت میں لی اور قدم آگے راہداری کی جانب بڑھا دیے۔
وہ ایک لمبی راہداری تھی اس کے بعد ایک وسیع آنگن شروع ہوا، جیسے ہی وہ اس آنگن میں داخل ہوئے سامنے ایک تخت نما چیز پر ایک بادشاہ نما شخص جلوہ افروز تھا۔
تخت کے گرد قبیلے کے معتبرین کی چار پائیاں اور دور دراز سے آئے سائلین کا ہجوم تھا جو انتہائی ادب سے دو زانو بیٹھے تھے مگر محفل کی تقدیر میں بدلنا لکھا تھا۔ان سب سے ذرا فاصلے پر پتھروں کی بنی شاہانہ گزرگاہ پر ارتضی حسن کسی فاتح کی طرح قدم بڑھا رہا تھا۔ اس کے برابر میں سحر تھی، سرخ عروسی لباس میں ملبوس ارتضیٰ حسن کی چادر کے مضبوط حصار میں، اس کے ساتھ قدم سے قدم ملائے چلتی ہوئی گزر رہی تھی۔ آنگن میں بیٹھے مردوں میں ایک تھرتھراہٹ سی دوڑ گئی جو جہاں بیٹھا تھا، وہاں سے بے ساختہ کھڑا ہونے لگا۔
حویلی کا ولی عہد پانچ ماہ کے طویل بن باس کے بعد لوٹا بھی تھا تو اکیلا نہیں۔۔۔ اس کے جاہ و جلال کے حصار میں ایک عورت تھی۔ وہ امانت جس کی خاطر سردار زادہ اپنی سرداری بھی داؤ پر لگا آیا تھا۔
قبیلے کے بزرگوں نے سوالیہ نظروں سے حسن داد کو دیکھا۔ ارتضی حسن کے نام پر بیٹھی گلِ جاناں کے بارے میں پوچھا لیکن حسن داد کا دامن ابھی ان جوابوں سے خالی تھا۔ وہ کسی کو سمجھاتے بھی تو کیا کہ ان کے باغی بیٹے نے چھ سال بعد پھر بغاوت کی تھی؟
ان سب کا چونک چونک کر دیکھنا، وہ حیرت زدہ نظریں، وہ دبی دبی چہ مگوئیاں، ارتضیٰ کے پایا استقلال پر کوئی اثر نہیں ڈال سکی تھی۔ وہ گردن اٹھائے، سینہ تا نے ان پتھروں پر اپنے وقار کے نقش چھوڑتے ہوئے گزر گیا تھا۔
دالان کے بڑے دروازے سے اندر داخل ہوئے تو سامنے صحن میں عورتوں کا ہجوم موجود تھا، شاید سب عورتیں اپنے مسائل لے کر سردارنی کے پاس آیا کرتی تھیں۔ سب کی نظریں یکدم سَحر پر جم گئیں۔ ان کی نظریں جیسے سوال پوچھ رہی تھیں۔
یہ کون ہے جو بڑے خان کے ساتھ اس شان سے قدم رکھ رہی ہے؟
اسی لمحے تخت پر بیٹھی عورت نے سر اٹھایا۔ سبز جھیل جیسی گہری آنکھیں، چہرے پر ڈھلتی عمر کی جھریاں مگر شان و وقار ایسا کہ نگاہیں جھک جائیں۔
وہ گل بانو تھیں،
ارتضیٰ حسن کی ماں۔
وہ حساب کی کتاب ایک طرف رکھ کر سیدھی ہو بیٹھیں۔
جیسے ہی نظر بیٹے کے ساتھ عروسی جوڑے میں کھڑی لڑکی اور ارتضیٰ کے بازو پر اس کی گرفت پر گئی، ان چمکتی آنکھوں میں تعجب اور سختی در آئی۔
"تم سب جاؤ۔" ان کی گہری آواز گونجی اور لمحوں میں عورتیں غائب ہو گئیں۔ وہ تخت پرگردن اکڑائے، ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں۔
"آؤ بڑے خان۔۔۔ لگتا ہے آج بڑے ہونے کا ثبوت ساتھ لائے ہو۔" لفظوں میں طنز کا کاٹ تھا۔ پیچھے سے ایک مردانی آواز نے سَحر کو بری طرح چونکایا، " کون ہے یہ ؟" سحر نے گھبرا کر اس کا بازو مزید مضبوط گرفت میں لیا۔ وہ مرد سامنے چلتا ہوا گیا اور تخت پر اس عورت کے ساتھ بیٹھ گیا۔
" کس خاندان کی ہے؟ کہاں سے لائے ہو اسے؟ اور اس لباس میں اس نے ہماری دہلیز کیسے پار کی؟" حسن کے الفاظ پورے آنگن میں پتھروں کی طرح گونجے۔ سَحر کے دل کی دھڑکن بےقابو ہوئی۔ اسی لمحے اندر سے دو حسین لڑکیاں نمودار ہوئیں۔ وہ جیسے بھائی کی آواز سن کر کمرے سے نکل آئی تھیں۔ارتضیٰ نے سَحر کا ہاتھ مزید مضبوطی سے تھام لیا۔
"یہ سَحر ارتضیٰ حسن ہے۔
لاہور سے لایا ہوں۔
میں ہوں اس کا خاندان اور یہ میری عزت۔" اس کے لہجے کا اعتماد، وقار اور محبت ۔۔۔ وہ اس کی خاطر لڑ جانے کو تیار تھا۔
"بھگا کر لائے ہو؟" حسن نے پشتو میں سختی سے پوچھا۔ ارتضیٰ نے لمحہ بھر کو آنکھیں بند کیں اور پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں، اردو میں جواب دیا۔
"بھگا کر نہیں لایا، نکاح کرکے عزت سے لایا ہوں۔ ان کی جان خطرے میں تھی۔ والد کا انتقال ہو گیا تھا، تو کوئی سہارا باقی نہ رہا ورنہ آپ کو بتائے بغیر یہ قدم کبھی نہ اٹھاتا۔" مدھم مگر جلا کر راکھ کرتا لہجہ چیخ چیخ کر بتا رہا تھا کہ اسے وہ بات بہت بری لگی تھی۔
سَحر خاموش کھڑی تھی۔ زخمی ہوتی سماعتوں کو نظر انداز کر کے وہ اس کے بازو پر نظر جمائے ہوئے تھی۔
گل بانو نے لمحے بھر کو بیٹے کے چہرے کو دیکھا پھر دھیرے سے اپنی نگاہ سَحر پر ڈالی۔ ان سبز آنکھوں میں اب حیرت کے ساتھ ساتھ ایک ایسی سرد مہری بھی در آئی تھی جو سَحر کے دل کو چھیدتی جا رہی تھی۔ سَحر نا محسوس انداز میں ارتضیٰ کےکندھے کے پیچھے چھپی ۔ اس کی یہ حرکت ارتضیٰ اور ماہ رخ کے علاوہ کسی نے محسوس نہ کی تھی۔ ماہ رخ کا دل پگھل کر اس نازک مزاجی پر موم ہوا۔
"بڑے خان۔۔۔ تم جانتے ہو نا کہ یہ گھر کس خاندانی روایت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے؟ تم جانتے ہو نا کہ ایک غیر خون کی لڑکی کو یہاں لانے کا کیا مطلب ہے؟" ان کے لہجے میں نہ چیخ تھی، نہ لعن۔۔۔ بس ایسا بوجھ تھا جیسے صدیوں کی روایت اور عزت ایک ہی لمحے میں تولی جا رہی ہو۔
" بغاوت۔۔۔ جانتا ہوں مگر میں ان کو بیچ راستے میں چھوڑ نہیں سکتا تھا۔" سَحر نے بےساختہ نظریں اٹھا کر اس کے چہرے کا نیم رخ دیکھا۔
اس کے پاس اختیار ہوتا تو اس لمحے کو امر کر دیتی لیکن وہ تو بس اسے دیکھے جانے پر قادر تھی ۔
" اگر یہ لڑکی اس حویلی میں قدم رکھ گئی تو کل کو لوگ ہمیں طعنے دیں گے کہ بڑے خان کی نسل میں اجنبی خون گھل گیا۔" گل بانو نے ایک گہری سانس بھری۔ ان کی آنکھوں میں ممتا اور روایت کے درمیان ایک عجیب سی جنگ تھی۔
" خون اجنبی ہو اماں سائیں لیکن پاکیزہ ہو۔۔۔" وہ تخت کی پشت سے ٹیک ہٹا کر سیدھی ہو بیٹھیں۔
"فیصلہ آسان نہیں ہے، بڑے خان۔" گل بانو کے لہجے میں سرد پن بڑھ گیا۔
سامنے کھڑی لڑکیوں میں سے ایک تیزی سے آگے بڑھی۔ اس نے نہ ماحول کی سنگینی دیکھی، نہ باپ کا جاہ و جلال ، اسے بس پانچ ماہ کی جدائی کے بعد اپنا سائبان نظر آیا تھا۔ وہ دوڑتی ہوئی آئی اور ارتضیٰ کے سینے سے لپٹ گئی ۔
" لالہ، کیسے ہو؟" ارتضیٰ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور پھر جھک کر چادر سے ڈھکے سر پر بوسہ دیا۔
" صحت کو کیا ہوا ہے؟ کمزور لگ رہے ہو !"
" میں ٹھیک ہوں، بچے۔ بالکل ٹھیک اور خوش ہوں ۔ " ارتضیٰ نے کہتے ہوئے اس کی توجہ سحر کی جانب مبذول کی۔ ماہ رخ نے نرمی سے مسکراتے ہوئے سحر کا ہاتھ تھما۔
"بابی، آپ بیٹھیں۔۔۔ میں پانی لاتی ہے۔" ماہ رخ ٹوٹی پھوٹی اردو میں بول رہی تھی، سبز آنکھوں میں ہلکی سی چمک بھی تھی۔ سحر نے ارتضیٰ کا چہرہ دیکھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ماہ رخ نے سَحر کو ہاتھ تھام کر قریب کے صوفے پر بٹھا دیا۔ سَحر نے اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے اور سر جھکا کر گہرا سانس لیا۔ دل پر ذلت کا بوجھ اتنا بڑھ گیا کہ سانس لینا بھی مشکل لگ رہا تھا۔
ارتضیٰ کی آواز کہیں پیچھے سے ابھری، " پلوشہ ، بھابھی کو میرے کمرے میں لے جاؤ۔" اس نے بھیگتی آنکھیں اٹھا کر اس مہربان شخص کا چہرہ دیکھا۔سامنے کھڑی سنجیدہ سی لڑکی آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھی۔ سَحر نے سر اٹھایا تو پہلی بار اس کا چہرہ صاف دیکھا،چمکتی شفاف آنکھیں، ہو بہو ارتضیٰ جیسی اور سادہ سا چہرہ لیکن اس قدر حسین کہ اسے اپنا آپ ایک دم چھوٹا لگا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھی تو پلوشہ آگے چل دی اور سحر خاموشی سے اس کے پیچھے پیچھے۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی سَحر چند لمحے ساکت کھڑی رہ گئی۔ دیواروں پر سجے ارتضیٰ کے میڈلز اور تصویریں ایک انجانا سا رعب بکھیر رہی تھیں۔ نفاست، امارت، عبادت کیا تھا جو اس کمرے کی دیواروں سے واضح نہیں تھا۔
"آپ کو کچھ چاہیے تو بتا دیں۔۔۔ بعد میں لالہ کے کان مت بھرنا کہ پوچھا نہیں۔" پلوشہ کے انداز میں سختی، اردو صاف لیکن لہجہ پشتون تھا۔
"بس ایک سادہ سا لباس چاہیے۔۔۔ یہ بھاری جوڑا مزید نہیں سنبھل رہا۔" وہ ہنہہ کر کے پلٹی اور کمرے سے نکل گئی۔ سَحر نے بیڈ کا سہارا لیا، اور وہیں بیٹھ گئی۔ آنکھوں سے ضبط ٹوٹا اور آنسو بہنے لگے۔
"یا اللہ۔۔۔ ایک اور امتحان؟ ہمارا قصور ہی کیا ہے؟" وہ لرزتی آواز میں بولی۔ پیچھے سے مانوس آواز آئی، بھاری مگر دھیرج بھری۔
"آپ کا قصور یہی ہے سَحر ۔۔۔ کہ آپ اپنے رب کے فیصلے کو سمجھنے کے بجائے شکوہ کرتی ہیں۔" سَحر نے گھوم کر دیکھا۔ ارتضیٰ دروازے کے قریب کھڑا تھا۔ وہ اس کے قریب آئی، آنکھوں میں برسوں کا درد لے کر۔
"کس بات کو مان لیں؟ کہ ایک جہنم سے نکل کر دوسری جہنم میں آ گئے ہیں؟
کہ پہلے صرف داؤد کو سہنا تھا، اب پورے خاندان کی نفرت ؟
کہ ہم تنہا ہیں، شہر ہمارا نہیں، زبان ہماری نہیں؟ بتائیں ارتضیٰ۔۔۔ کون سی مصلحت ہے یہ؟" اس کے سوالوں میں کرب تھا، لرزتی آواز میں ٹوٹ پھوٹ۔ارتضیٰ نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔
" ایک بار اپنے لیے اچھا سوچ کر تو دیکھیں۔۔۔ ایک بار مجھ پر بھروسہ کر کے تو دیکھیں ۔ "اس کے لہجے کی گرمی سَحر کے دل تک اتر گئی۔ آنکھوں سے بہتے آنسوؤں میں لمحے کو سکون اتر آیا۔ اتنے میں دروازہ کھلا۔ دو لڑکیاں اندر داخل ہوئیں۔ ایک پلوشہ تھی اور دوسری ماہ رخ، جس کے ہاتھ میں ایک سفید سادہ لباس تھا۔ وہ سَحر کے قریب آئیں۔
"یہ پہن لو، بابی۔" وہ اشتیاق سے اس معصوم سی لڑکی کو دیکھ رہی تھی جس پر اس کے بھائی نے دل ہار دیا تھا۔سَحر نے لرزتے ہاتھوں سے جوڑا تھاما۔ ارتضیٰ اب اپنے ہاتھ پشت پر باندھے کھڑا تھا۔
"بابی، آپ کو کچھ اور چاہیے تو بتا دو۔" سَحر نے گردن ہلکی سی جھکا کر کہا، "نہیں، شکریہ۔"
ماہ رخ نے ارتضیٰ کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا،"لالہ، ماننا پڑے گا۔۔۔ آپ کی پسند کمال ہے۔ خوبصورت بھی ہے اور اخلاق بھی اچھا۔اماں ،ابّا کی فکر نہ کرو ۔" یہ کہہ کر وہ مسکراتی ہوئی باہر نکل گئی۔ ارتضیٰ کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آ گئی۔ سَحر نے نظر اٹھا کر دیکھا تو ارتضیٰ کی مسکراہٹ اور پلوشہ کی گھمائی ہوئی آنکھیں ایک ساتھ اس کی نظروں میں آئیں۔ پلوشہ بھی بنا کچھ کہے کمرے سے نکل گئی۔
"کیا وہ پشتو میں ہماری برائی کر رہی تھی؟" اس نے ارتضیٰ کی مسکراتی آنکھوں کو ساکن کیا۔
"نہیں، تعریف کر رہی تھی کہ بھابھی بہت بااخلاق ہیں۔"
"جھوٹ۔"
"میں کیوں جھوٹ بولوں گا، سحر ؟ وہ پڑھی لکھی نہیں ہے تو اردو کم بولتی ہے، اس لیے پشتو میں کہا۔" ارتضیٰ نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ اسی لمحے دروازہ دوبارہ کھٹکا۔ ایک کمزور سی ملازمہ دھیمی آواز میں بولی،" سردار آپ کو بلا رہے ہیں، سائیں۔" وہ بول کر چلی گئی۔ارتضیٰ نے گردن ہلائی، اور سَحر کی طرف دیکھا،
"آپ فریش ہو جائیں۔۔۔ میں آتا ہوں۔" وہ محبت سے اس کے گال تھپتھپا کر چلا گیا تھا۔ اس کے کمرے سے نکل جانے کے بعد کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
سَحر نے سفید لباس اپنی گود میں رکھا اور کچھ دیر تک گہری سانسیں لیتی رہی مگر دل کا بوجھ کم نہ ہوا۔ وہ کپڑے بدلنے کی خاطر اٹھی لیکن پلنگ کے کونے سے پاؤں ٹکرایا اور وہ پاؤں کا ناخن زخمی کر بیٹھی۔
" آہہہ ، یہ رہ گیا تھا۔" کچھ لمحوں بعد وہ دھیرے سے اٹھی، قدم ڈگمگاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی۔ دروازہ کھول کر راہداری میں جھانکا تو نیچے سے اونچی آوازیں سنائی دیں۔
"ابا سائیں ، نہیں چاہیے سرداری۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ مجھے اس نافرمانی کے بعد دستار نہیں دیں گے لیکن یقین جانیں مجھے دستار نہیں چاہیے۔ " ارتضیٰ کی بھاری آواز میں ضبط اور غصہ شامل تھا۔ اس کے جواب میں زنانہ آواز ابھری، بھاری اور رعب دار، "ارتضیٰ! خاندان کے اصول تمھارے جذبات سے بڑے ہیں۔ تم ایک عورت کے پیچھے دستار نہیں چھوڑ سکتے۔ یہی دستور ہے۔" سَحر کو ان کی زبان سمجھ نہ آئی۔
" ہم گاوں والوں کو کیا بتائیں گے کہ ہونے والے سردار نے ایک عورت پر دل ہار کر سرداری سے دستبرداری دے دی ہے؟ " اسی لمحے کسی نے پیچھے سے سحر کی کلائی پکڑی اور دھیرے سے اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ چونک کر پلٹی تو سامنے ماہ رخ کھڑی تھی۔
"کیا دیکھنے کڑی ہو گئی تی؟ مردوں کے معاملات عورتوں کو نہیں سننے چاہیے ۔" اس نے نرمی مگر سنجیدگی سے کہالیکن سَحر کے پاؤں پر نظر پڑتے ہی وہ فکرمند ہوئی۔
" یہ کیا ہوا؟ آپ بیٹو ، میں مرہم لا دیتی ہے۔"سَحر وہاں پڑے دیوان پر بیٹھ گئی۔دائیں طرف چہرہ کیے وہ ان کی بحث کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تبھی اسے اپنے ہاتھ پر ایک نرم معصوم سی گرفت محسوس ہوئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو ایک خوبصورت نیلی آنکھوں والا بچہ، جس کے سیب جیسے گلابی گال بے حد خوبصورت تھے۔ اس نے سحر کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔
" ایسے کسی کی باتیں نہیں سنتے، گناہ ملتا ہے۔" اس کا معصومیت بھرا انداز اور ٹمٹماتی آنکھیں ، سحر مسکرائی اور اس کے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لئے۔
" کسی کی باتیں سننا، گناہ نہیں ہوتا، bad manner ہوتا ہے۔"
" کیا ہوتا ہے؟"
" بری عادت ۔"
" نہیں، اماں کہتی ہے کہ گناہ ہوتا ہے۔"
"بچے ہر چیز گناہ نہیں ہوتی ۔ کچھ چیزیں اچھے بچے نہیں کرتے، جیسے بڑوں کی باتیں نہیں سنتے۔
یہ گناہ نہیں ہے لیکن ایک بری عادت ہے۔"
" تو تم گندی بچی ہو؟"
" مم ۔۔ہم ۔" پیچھے سے قدموں کی آواز آئی تو وہ بچہ راہداری کے ایک کونے میں گھس گیا۔ ماہرخ ہاتھ میں ہلدی لے کر آئی اور سَحر کے پاؤں پر ڈال کر اسے دوبارہ کمرے میں لے آئی۔
" وہ ہماری بات کر رہے ہیں؟" سَحر نے ماہ رخ سے پوچھتے پلٹ کر دروازے کو دیکھا تو وہاں ماہرخ نہیں کوئی اور موجود تھا۔
سَحر کی ساکت نظریں اس قد آور شخص کو دیکھ رہی تھیں۔ اس نے پیچھے دروازے پر ایک نظر ڈالی اور دوسری اس اجنبی کے مسکراتے چہرے پر ۔
سحر نے اضطراری کیفیت میں فوراً بیڈ پر رکھا اپنا فون اٹھایا، اس سے پہلے وہ ارتضیٰ کو کال ملاتی، اس کے ہاتھ سے چیل کی طرح فون جھپٹ لیا گیا۔سحر نے ہڑبڑا کر اس کا چہرہ دیکھا اور دو قدم پیچھے ہٹی ۔
" آپ سارے راستے ہمارا پیچھا کر رہے تھے۔ آپ اس گاڑی والے آدمی کو مار بھی رہے تھے۔ کون ہیں آپ ؟ اور حویلی کے اندر کیسے آئے؟" سَحر خوف کے مارے اس کا چہرہ دیکھ کر بولے گئی۔
" السلام علیکم!" اس نے سَحر کی بات مکمل سن کر سلام کرتے سر اس کے آگے جھکا دیا۔ اس کی اس حرکت میں اتنا ادب تھا کہ سحر الجھی ۔
" آپ نے تو سر پر ہاتھ ہی نہیں رکھا۔" اس نے سیدھا ہوتے شکوہ کیا۔
" ویسے آپ نے اتنا نوٹس کیا مجھے؟ پتا ہے اس آدمی نے کل رات ایک عورت کو گاڑی کے نیچے دے دیا تھا، تبھی اس کی طبیعت بحال کرنا ضروری تھا۔ ویسے آپ نے ایک جگہ مجھے نوٹس نہیں کیا۔" سحر نے اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھا۔ " میں نے پولیس والے کو بھی ۔۔۔ "
" کون ہیں آپ ؟" اب کے اس نے چڑ کر پوچھا۔
" یہ ہمارا بائی ہے، مرتضیٰ داد خان ۔ " پیچھے سے آتی ماہرخ نے فخر سے بتایا۔ سَحر نے اس کا چہرہ دیکھا پھر مرتضیٰ کا ۔
" آپ ارتضیٰ کے بھائی ہیں؟" مرتضیٰ اس کی بات سن کر سیدھا ہوا۔
" نام سے کیا لگتا ہے؟" وہ مسکرا کر بولا ،نیلی آنکھیں بچوں کی طرح چمک رہی تھیں۔ سَحر کو یقین نہیں آیا کہ یہ وہی شخص ہے۔
" وہ ۔۔۔ ارتضیٰ ۔" اس نے دروازے کی طرف اشارہ کرکے فکرمندی سے کہا ۔
" کچھ نہیں ہوگا ۔ چل کریں بھابھی جان ۔ اصول توڑا ہے تو یہ سب تو ہوگا نا۔۔۔ پیشیاں تو بھگتنی پڑیں گی۔"
" پیشیاں ؟"
" آپ آرام کرو، ہم چلتے ہیں۔ " ان دونوں کے جانے کے بعد سَحر نے لباس تبدیل کیا اور جب وہ آئینے کے سامنے آئی تو ایک پل کے لئے اپنی گردن دیکھ کر گھبرا گئی۔ اس نے بیڈ سے دوپٹہ اٹھایا اور اپنی گردن میں لپیٹ کر دونوں پلو آگے لٹکا لئے۔ پھر چادر سے سر ڈھانپ کر ، ارتضیٰ کی خوبصورت اور نرم سیاہ جائے نماز پر بیٹھ گئی۔ وہ ابھی نماز پڑھ رہی تھی جب ارتضیٰ واپس آیا۔ جیسے ہی اس نے سلام کیا، ارتضیٰ اس سے مخاطب ہوا۔
" میں کچھ دیر تک واپس آ رہا ہوں پھر ہم چلتے ہیں۔ آپ اتنی دیر آرام کریں۔" اس کا چہرہ سرخ اور تنفس تیز تھا، وہ شدید غصے میں اپنے کوٹ سے پسٹل نکال کر دراز میں رکھ رہا تھا۔
" کیا ہوا ہے؟"
" کچھ نہیں ہوا۔ " وہ ضبط سے دائیں انگوٹھے سے بائیں ہتھیلی مسل رہا تھا۔
" کہاں جانا ہے؟" سحر نے اٹھ کر اس کے پاس آتے نرمی سے سوال کیا۔
" ہمارے گھر، جو صرف آپ کا اور میرا ہوگا۔"
" یہاں کیوں نہیں ؟"
" یہاں کے اصولوں کی پابندی کرنے کے لیے آپ سے شادی نہیں کی میں نے۔" سحر کی روح جسم سے کھینچنے لگی ، دن بہ دن بڑھتی ٹھنڈ میں بھی اس کی ہتھیلیوں میں پسینہ آیا۔
" آپ ہمارے لیے اپنے والدین چھوڑ رہے ہیں؟"
" نہیں، ان کی انا کی بھیڑ کسی معصوم کو نہیں چڑھا سکتا۔اور ویسے بھی ایک اپنا گھر ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔ میں بس کچھ دیر میں آیا۔ " وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ اس کے جانے کے بعد، ناجانے کیا سَحر کے دماغ میں آیا کہ وہ کمرے سے نکل کر سیڑھیاں اترنے لگی۔ سامنے حسن اور گل بانو اسی موضوع پر بات کر رہے تھے۔ گل بانو کی نظر اس پر گئی جو سامنے سے سفید لباس پر ارتضیٰ کی بھوری چادر اوڑھے نیچے اتر رہی تھی۔
" السلام علیکم!"
" وعلیکم السلام!" لہجہ دو ٹوک تھا۔
" ہم آپ لوگوں سے بات کرنا چاہتے ہیں، کیا اجازت ہے؟"
" بولو؟"
" عم۔۔۔ ارتضیٰ نے ہم سے نکاح کرکے اگر غلط کیا تو ہم یہاں سے چلے جائیں گے لیکن ارتضیٰ کو ہماری وجہ سے سزا مت دیں۔ ان کے بہت احسانات ہیں ہم پر۔" وہ آنکھوں میں بے تحاشہ نمی لیے ان کے سامنے منت کر رہی تھی۔
" کیسے احسانات ؟"
" ارتضیٰ نے ہماری جان بچائی تھی اور ہماری ۔۔۔ آبرو بھی۔ انہوں نے ہم سے محبت میں نکاح نہیں کیا۔ ہمیں بچانے کے لیے کیا۔"
" ان کو ہم پر احسان کرنے کی وجہ سے سزا مت دیں۔ ہم بے اسرا تھے، اب ان کو ہماری وجہ سے بے اسرا مت کریں۔"
" اب تم ہمیں بتاؤ گی کہ ہمیں کیا کرنا ہے؟" گل بانو نے ہاتھ میں پکڑا سٹیل کا گلاس زمین پر دے مارا اور اٹھ کر وہاں سے چلی گئیں۔ سحر لب بھینچ کر خوف کو ظاہر ہونے سے روک رہی تھی۔
" سردار سائیں ، جرگہ بیٹھ گیا ہے۔" ایک ملازم نے ادب سے آ کر حسن داد سے کہا۔
" تم ارتضیٰ کو اطلاع کردو کہ اس کی بغاوت کی خبر عام ہو چکی ہے۔" جس طرح اسے جتلا کر کہا گیا تھا، سحر کی نظریں جھک گئیں۔ حسن نے اس کا چہرہ دیکھا اور کچھ کہے بغیر چلے گئے۔ سَحر کی آنکھوں سے موتی ٹوٹ کر بکھرنے لگے۔ وہ بہت دیر وہیں کھڑی رہی۔ چادر سر سے پھسل کر کندھوں پر آن پڑی۔
" اے پر کٹی کبوتری، کون ہو تم؟" پیچھے سے آتی ایک زنانہ آواز نے سَحر کو چونکایا۔ وہ پیچھے پلٹی تو دو لڑکیاں پچھلے دالان کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ ان میں سے ایک کی آنکھیں نیلی اور دوسری کی شہد رنگ تھیں۔ دونوں نے دوپٹے سر پر ٹکا رکھے تھے۔ ان میں سے ایک تیزی سے سَحر کی طرف بڑھی۔
" کون ہو تم ؟ اور میرے سائیں کی چادر کیسے اوڑھی تم نے؟" اس نے ایک جھٹکے سے اس کے وجود سے چادر نوچ لی۔ سَحر گھبرا کر پیچھے ہوئی اور دونوں ہاتھوں سے گردن میں لپٹا دوپٹہ تھام لیا۔
" انہوں نے ہمیں خود دی ہے۔" اس جارہانہ انداز پر اس کے الفاظ حلق میں دم توڑنے لگے۔
" بکواس، سردار اپنی چادر صرف بیوی کو دیتا ہے۔ اس چادر پر میرا حق ہے۔ " گلِ جاناں نے بلند آواز میں کہا، اتنی بلند آواز کے شاید کان کے ساتھ سحر کے دماغ کی بھی دھجیاں بکھر گئی تھیں۔
" لالہ نے تمھیں اپنی چادر دی؟" پریوش کا تو مانو سانس ہی رک گیا، گہرے سمندر سی نیلی آنکھیں سَحر کے چہرے پر جم گئیں۔
سَحر کے قدموں سے زمین نکلی، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
" نہیں ۔۔۔نہیں ، نہیں، نہیں! ایسا نہیں ہو سکتا!" وہ گلِ جاناں کا چہرہ دیکھتی رہی پھر نفی میں سر ہلاتے دو قدم پیچھے لیے اور بھاگ کر واپس زینے چڑھنے لگی۔ آنکھوں سے آنسو ابل ابل کر ٹھوڑی سے ٹپک رہے تھے۔
" یہ کیا کر دیا، ارتضیٰ ؟" اس نے کمرے میں آ کر دروازے کی کنڈی لگائی۔
" ہم نے یہ تو نہ سوچا تھا؟ محبت میں شریک بھی ہوتے ہیں۔ ارتضیٰ یہ کیا کر دیا؟" وہ روتے ہوئے وہیں بیٹھ گئی۔ دروازہ بجایا جا رہا تھا مگر اسے فکر نہ ہوئی، وہ اپنی چند گھنٹوں پہلے آباد ہوئی دنیا میں کھو گئی تھی۔ باہر سےآتی آواز نے اسے چونکایا۔
" دروازہ کھولو، ورنہ میں توڑ دوں گی۔" گلِ جاناں کی آواز میں تپش تھی۔ سَحر نے گھبرا کرکھڑے ہوتے پیچھے کی طرف قدم بڑھائے، یوں لگا جیسے یہ حویلی اسے نگل جائے گی۔ وہ وہیں کھڑی تھی جب اسے پلوشہ کی آواز سنائی دی۔
" سحر، دروازہ کھولو ۔" اس نے فوراً دروازہ کھولا ۔ سامنے گلِ جاناں کھڑی تھی، اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ اس سے پہلے سحر کچھ سمجھتی، گل اس پر جھپٹی اور اس کے چھوٹے بال اپنی گرفت میں لے لیے۔
" آئی ایم سوری! آئی ایم ریلی سوری !" سَحر کی اک دبی ہوئی چیخ نکلی۔
" گل، پاگل مت بنو۔ چھوڑو انہیں !" پلوشہ نے فوراً اسے سَحر سے دور کیا۔
" یہ میری بھابی ہے۔ لالہ شادی کرکے آیا ہے۔ "
" کیا بکواس ہے یہ سب؟ کون سی بھابھی؟ کس کی شادی؟ کون ہے یہ؟" گلِ جاناں چلائی تھی کہ پیچھے سے ایک مردانہ آواز نے ان سب کو خاموش ہونے پر مجبور کیا۔
" یہ سَحر ارتضیٰ حسن ہے۔ کسی کو کوئی اعتراض ؟" سَحر کو ان سب میں خیر خواہ صورت دکھی تو آس پاس کی ساری آوازیں دم توڑ گیں ۔ وہ تیزی سے مرتضیٰ کے پیچھے چھپی۔
" ایک دو ٹکے کی لڑکی کے لیے لالہ نے بابا کے فیصلے کو انکار کیا؟ لالہ نے اصول کے ساتھ ساتھ ایک معصوم دل بھی توڑا ہے۔ " مرتضیٰ نے گلِ جاناں کے ہاتھ سے چادر جھپٹ کر احترام سے سَحر کے کندھوں پر ڈالی۔ ارتضیٰ حسن کی متاعِ جاں کو کوئی رلاتا اور وہ خاموش رہتا، یہ ضبط آزما بات تھی۔
" جرگے نے انہیں سرداری چھوڑنے کی شرط پر معاف کر دیا۔" مرتضیٰ نے ضبط سے کہا تو پری وش ہنس دی۔
" دستار پر تو وہ پہلے ہی لعنت بھیج چکے تھے۔ ویسے تم بیٹوں کا ٹھیک ہے۔ قتل کرو معاف ، شادی کرو معاف ، اصول توڑو معاف اور ہم بیٹیاں سانس بھی اجازت کے بنا لیں تو مار دیتے ہو۔ " مرتضیٰ کا ضبط اپنی آخری حدود پر پہنچا۔ اس نے دو قدم آگے بڑھ کر پریوش کو اپنی وحشت زدہ نظروں کے حصار میں لیا۔ اس کے لیے ارتضیٰ حسن کا فیصلہ حرفِ آخر تھا اور جو اس کی مخالفت کرتا وہ اس کا سر قلم کر سکتا تھا، پھر بےشک وہ اس کی جڑواں بہن ہی کیوں نہ ہو۔
اس نے انگلی اٹھا کر کچھ سخت کہنا چاہا، مگر عین اسی لمحے اس کی نظر عقب میں نظر آتی سحر پر پڑی۔ سحر کی خوف سے پھیلی ہوئی آنکھیں دیکھ کر مرتضیٰ کے ابھرتے ہوئے الفاظ لبوں میں ہی دم توڑ گئے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے بھائی کی پسند اس کے جلال سے مزید خوف زدہ ہو۔ اس نے لب بھینچ کر انگلی کو مٹھی میں سمیٹا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
ابھی کمرے کی خاموشی نے چنگھاڑنا شروع ہی کیا تھا کہ پریوش نے دو قدم آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑی۔
" سحر ، یہی نام ہے ناں تمہارا ؟" پریوش کے پوچھنے پر سحر نے اثبات میں سر ہلایا۔
" اب اگر تم نے لالہ سے شادی کی ہے تو اتنا تو معلوم ہو گا کہ وہ کتنا منصف انسان ہے ؟"
" ہمم ۔"
" میں ان کی سگی بہن ہوں اور انہی کی طرح منصف بھی۔" پریوش نے اس کی کلائی پر گرفت مضبوط کی اور اسے لیے کمرے سے باہر نکلی۔ سحر اس کے ساتھ کھنچتی چلی جا رہی تھی۔ جس قدر بری طرح اسے محبت میں شکست ہوئی تھی، اب جو بھی اس کے ساتھ ہوتا وہ اس کی مستحق تھی۔
پری وش اسے حویلی کے پچھلے دالان میں لے آئی۔ وہ برہنہ پاؤں نیم اندھیرے میں اس کچی مٹی پر کھڑی تھی۔ وہاں ایک عظیم الشان درخت تھا جو کسی پتھر دل نے جلا کر راکھ کر دیا تھا۔
پریوش نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو گلِ جاناں اور پلوشہ بھی کھڑی تھیں۔ چند لمحے بعد ایک ملازمہ ہاتھ میں موٹا رسا لے کر آتی دکھائی دی۔ سحر نے پریوش کا چہرہ دیکھا، اتنا بےتاثر، سرد اور بے پرواہ چہرہ ۔۔۔
اس نے سحر کی ایک کلائی کو اس رسے میں جکڑا پھر اسے اس درخت تک لے گئی اور پھر اس کے گرد وہ رسا لپیٹنے لگی۔ سحر نے آنسو بہاتی آنکھوں سے اس عمل کو دیکھا۔ وہ جانتی تھی اب کیا ہونے والا ہے، داؤد سے شادی کا انجام دو ماہ بعد آیا تھا۔ ارتضیٰ حسن سے شادی کا انجام ایک دم میں ہی آ نکلا تھا۔
اور وہ انجام موت تھا۔ ۔۔
اس نے سحر کی بھیگی آنکھوں کو دیکھا تو ایک تمسخر بھری نظر ڈال کر اسے نظر انداز کیا اور کین کھول کر اس کے سر پر پٹرول ڈالنے لگی۔ سحر خاموشی سے سر جھکائے پیٹرول کو اپنی ناک میں چڑھ جانے سے روک رہی تھی۔
حویلی کی ملازمائیں تماشا دیکھنے کو وہاں جمع ہوتی جا رہی تھیں۔ دوسری جانب سے بھی نامحرم نظریں سحر کے وجود کو چھلنی کرنے لگی تھیں۔ تبھی ایک سنجیدہ آواز پر پریوش نے تھم کر پیچھے دیکھا۔
" پری اگر تو تم مکمل طور پر پاگل ہوگئی ہو تو بتا دو، میں تمھارا دماغ درست کر دیتا ہوں۔" مرتضیٰ نے تیزی سے پریوش کے ہاتھ سے کین چھین لیا۔
" کیوں ؟ ایسے ہی جلایا تھا نا سلیمان کو تم لوگوں نے؟ اسی درخت سے باندھ کر ، اس بے گناہ کو موت کے گھاٹ ۔۔۔" اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی، چہرے پر پڑنے والا تھپڑ زناٹے دار تھا۔ سارے میں خاموشی چھا گئی۔ سحر نے مردہ دلی سے نظر اٹھا کر اس لڑکی کو ایک جانب جھکتے دیکھا۔
" اپنی اوقات یاد رکھو،اس حویلی میں کھڑے ہونے کی بھی اوقات نہیں رہی تمہاری۔ بھائی نے خود حویلی چھوڑ کر تمہیں یہاں سر چھپانے کو جگہ دی ہے اور تم اسی کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہی ہو؟" مرتضیٰ نے اس کا بازو جکڑ کر اسے جھٹکا دیا۔
" مجھے مجبور مت کرنا کہ میں تجھے بھی سلیمان کے پاس پہنچا دوں۔" مرتضیٰ اس کے ہاتھ سے کین لے کر زمین پر پٹختا ہوا آگے کو چلا گیا تھا۔
" پلوشہ ، یہاں تماشا کیا دیکھ رہی ہو۔ بھابھی کو کمرے میں لے کر جاؤ ۔" جیسے ہی وہ حکم صادر کرکے منظر سے غائب ہوا پریوش نے دوبارہ سے کین اٹھا لیا۔ ابھی اس نے سحر کے سر پر چند قطرے ہی بہائے تھے کہ منظر میں روشنی پھیلنے لگی۔ سر جھکائے درخت سے بندھی سحر کو موت کی اس وادی میں محبت کی خوشبوؤں نے معطر کیا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ سامنے سے ایک باوقار مرد ان کی جانب آ رہا تھا۔
" پری، محبت کرنے والے دوسروں کی محبت چھینتے اچھے نہیں لگتے۔" پری وش کا کین سے ہٹ کر لائٹر تک جاتا ہاتھ تھما لیکن زیادہ دیر کو نہیں ۔
" لالہ ، اگر اس گھر میں ایک شادی پسند کی نہیں ہو سکتی تو دوسری بھی نہیں ہوگی۔ گلِ جاناں کے ہوتے ہوئے اس گھر میں یہ لڑکی آئے گی تو اس کا مقدر بھی سلیمان سا ہوگا۔"ارتضیٰ نے ایک قدم آگے بڑھایا، پریوش سے کین چھینا اور سحر کو بچانے کی بجائے وہ پورا پٹرول کا کین اپنے سر پر انڈیل لیا۔ سحر کی آنکھوں میں دہشت کی لہر دوڑی، پٹرول ارتضیٰ کی سفید شرٹ کو شفاف کرتا ہوا زمین پر بہنے لگا تھا۔
" لو پری! اب لگاؤ آگ ۔" ارتضیٰ نے چیلنج کرتے ہوئے اس کی لائٹر والی کلائی تھام لی۔
" اگر تمہاری تسکین کے لیے کسی کا جلنا ضروری ہے تو پہلے اپنے بھائی کو راکھ کرو کیونکہ اس لڑکی تک پہنچنے کے لیے تمہیں پہلے میری راکھ سے گزرنا ہوگا۔" اس کی مضبوط گرفت میں پری وش کا ہاتھ کانپنے لگا۔ ارتضیٰ کی آنکھوں میں موجود سفاک یقین نے ا سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ تلملائی،جھٹپٹائی لیکن ارتضیٰ نے اس کی کلائی نہیں چھوڑی۔
" میں نے تمہاری خاطر بغاوت کی تھی پری!
میں چھ سال تم سب کی شکل دیکھنے کو ترستا رہا!
اور آج تم اسی بھائی کی محبت کو جلانے نکلی ہو؟"
پری وش نے ایک نظر پٹرول میں بھیگے اپنے بھائی کو دیکھا اور پھر لائٹر دور پھینک دیا۔ پھاڑ کھانے والی نظروں سے ارتضیٰ کو دیکھتے اس نے جھٹکے سے اپنی کلائی اس کی گرفت سے نکالی اور بھاگ گئی۔ وہ بری طرح سہم گئی تھی۔
ارتضیٰ نے پلٹ کر گہرا سانس لے کر سحر کو آزاد کیا اور اس بھیگے وجود کو خود سے لگا لینا چاہا مگر وہ اس سے لپٹی، نا روئی۔ اس چڑیا جیسے دل کی عورت میں اس قدر بڑی بات صبر سے برداشت کرجانے کا حوالہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے ارتضیٰ اس سے کچھ پوچھتا گلِ جاناں ان کے قریب آئی۔
سحر نے اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھا تو تیزی سے ارتضیٰ کو ڈھال بناتے اس کے بازو کو تھامے، پشت کے پیچھے کھڑی ہوئی۔ گلِ جاناں کے سارے سوال اس لڑکی کا استحقاق دیکھ کر کرچی کرچی ہوئے۔
" سائیں ؟ تو پھر ہم کون ہے جس کو ساری زندگی کے لئے تمھارے انتظار کی سولی پر لٹکا دیا گیا ہے؟"
" میں نے تمھیں بہت پہلے کہا تھا کہ میرا انتظار مت کرنا۔ میں تم سے شادی نہیں کروں گا۔"
" مجھ سے تو کہا لیکن فیصلہ کرنے والوں کو کیوں نہیں کہا؟ سائیں، ایسا مت کرو، گل مر جائے گی۔گل ساری زندگی اس گھر کی چوکھٹ پر تمہارے نام پر نہیں بیٹھ سکتی۔"
" یہ میرا قصور نہیں ہے گل کہ تم نے میرا انتظار کیا۔ جا کے ابا سائیں سے سوال کرو۔میں ان کو بہت سال پہلے ہی یہ بات بتا چکا تھا۔" وہ پشتو میں بول رہی تھی اور ارتضیٰ اردو میں جواب دے رہا تھا۔
ارتضیٰ نے اسے نظرانداز کرکے سحر کی جانب دیکھا جو برہنہ پاؤں کھڑی تھی، پاؤں کے انگوٹھے سے خوں رواں تھا۔ اس نے ہر نظر سے بے پروا ہوکر فوراً اپنے جوتے اتارے اور ایک گھٹنا زمین پر رکھ کے اس عورت کے سامنے بیٹھا اور بڑی نرمی سے اس کے دونوں پیروں میں باری باری جوتا پہنا کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
ابھی وہ سحر کو لیے چند قدم ہی چلا تھا کہ سامنے کسی احساس کے تحت نظر اٹھائی۔ سامنے حسن داد کھڑے تھے۔ چہرے پر پتھر جیسے تاثرات اور پھاڑ کھانے والی نظریں جو اس وقت اپنے ہی خون کو پی جانے کے در پر تھیں۔
" فکر نہ کریں ابا سائیں! میں نے جرگے کو خبر کر دی ہے۔ میں سرداری سے دستبردار ہو رہا ہوں۔
آپ یہ دستار مرتضیٰ کو جب چاہیں دے سکتے ہیں۔" حسن کو زہر اگلنے کا موقع دے بغیر اس نے یہ کہہ کر سب کو اپنی اپنی جگہ منجمد کر دیا تھا۔
" تم نے میری ناک پہلے کم کٹوائی تھی جو آج ایک عورت کے پیچھے تم دستار چھوڑ کر بچی کچی کسر نکال رہے ہو؟ " وہ غصے سے پھٹ پڑے تھے۔
" میں نے پہلے بھی حق کا ساتھ دیا تھا اور اب بھی وہی کر رہا ہوں۔ میری بہن کے ساتھ نا انصافی ہو یا بیوی کے ساتھ،میں خاموش نہیں رہوں گا۔ آپ کیا چاہتے ہیں کہ میں ایک بے آسرا عورت کو بیچ راہ میں چھوڑ دوں؟"
" میں حویلی اور مشرق والی ساری زمینیں تمہارے نام کر دوں گا، اسے چھوڑ دو۔ "
" مجھے کچھ نہیں چاہیے ابّا، اپنی بہنوں کی وراثت تو بالکل نہیں۔بس جستجو یہ ہے کہ میرا دل نہ ٹوٹے، یہ زخم باعث اختتام زیست ثابت ہوگا۔" حسن نے جبڑے بھنچ کر ، اس کا چہرہ دیکھا۔ غصے کی تپش سے ان کے عمر رسیدہ ہاتھ تھرانے لگے تھے۔
" اپنی اس چہیتی کو اٹھاؤ اور نکل جاؤ یہاں سے !کل اس حویلی میں تمہارا سایا بھی نظر نہ آئے۔
یہ تمہاری اس بغاوت کی سزا ہے۔
تم سے اچھا تو وہ بدذات نکلا جس نے کبھی میری نفی کرنے کی ہمت نہیں کی۔" اس کی گرفت انجانے میں سحر کی کلائی پر اتنی سخت ہوئی کہ سحر کو اس کا بازو سہلانا پڑا۔ ارتضیٰ نے فوراً حواس میں آتے، ایک نظر سحر کا چہرہ دیکھا۔
" میرے بھائی کے لئے الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برتیں، ابا سائیں ۔" ایک ایک لفظ پر زور دیتے بولا تو حسن داد نے ایک لمحے کو ٹھہر کر ارتضیٰ حسن پر اس پل میں بیتی غصے کی لہر کو دیکھا۔
" بھائی ۔۔۔ " انہوں نے اس کے محبوب رشتے کی ہنسی اڑائی ۔
" یاد رکھنا، اگر یہاں سے اب گئے تو کبھی زندگی میں اس دہلیز کو پار نہیں کر پاؤ گے۔"
" وعدہ رہا ابا سائیں !"ارتضیٰ نے اس کی کلائی تھامی اور اسے لئے پلٹ گیا، حسن نے اس کو پلٹتے دیکھا تو طیش میں رخ دوسری جانب موڑا، وہاں مرتضیٰ کھڑا تھا، ایک ستون سے ٹیک لگائے ، مہین سی مسکراہٹ لیے وہیں دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی حسن کی نظر خود پر پائی،کسی تابعدار غلام کی طرح یک دم سیدھا کھڑا ہوگیا۔
☆ ☆ ☆
ارتضیٰ اسے سیڑھیوں سے اوپر اپنے کمرے کی جانب لے گیا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی ارتضیٰ نے ابھی کچھ کہنا ہی چاہا تھا کہ سَحر نے بازو چھڑوا کر ارتضی سے رخ پھیر لیا۔ ارتضیٰ نے اس کی سوگوار صورت دیکھ کر اسے بازو سے تھام کر اپنی جانب گھمایا۔
" آئی ایم سوری ! میرے گھر والے آپ سے اچھا سلوک نہیں کر رہے ہیں۔" اس نے بھیگی آنکھوں سے ارتضیٰ کو شکوہ کناں نظروں سے دیکھا اور ایک بار پھر اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کی۔ ارتضیٰ نے کمال نرمی سے اسے دوبارہ تھام لیا۔
" سحر ، ناراض ہیں ؟ "
" آپ نے ہمیں سب بتایا مگر یہ نہیں بتایا کہ خدا سے ادھوری دعا نہیں مانگتے۔۔۔"
" مطلب؟" ارتضیٰ حیران ہوا۔
" مطلب یہ کہ خدا سے آپ کو تو مانگ لیا مگر ہم شراکت سے پاک زندگی مانگنا بھول گے۔"
" شراکت ؟کیسی شراکت ؟"
" آپ شادی شدہ تھے تو ہم سے کیوں شادی کی؟
ہمیں ہمارے گھر واپس چھوڑ آئیں ارتضیٰ ، ہم آپ کے خاندان کا بوجھ تو سنبھال لیتے لیکن ہم کسی لڑکی کا گھر خراب کرنے کے لیے آپ کی بیوی بن کر نہیں رہ سکتے۔" سحر کے لہجے کی کاٹ اس کے دل کے آر پار ہوئی،ارتضیٰ کو گہرا دھچکا لگا۔
"کس لڑکی کا گھر؟ کون سی شادی؟آپ کیا کہہ رہی ہیں؟"
" وہ سنہری آنکھوں والی لڑکی جس نے ابھی ہم سے چادر چھینی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ وہ آپ کی بیوی ہے اور اس چادر پر صرف اس کا حق ہے۔" ارتضیٰ نے گہرا سانس لے کر بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
" سَحر بابا چاہتے تھے کہ میری اس سے شادی ہو بس۔۔۔ شادی ہوئی نہیں ہے۔ وہ میری منگ تھی، بیوی نہیں۔ " وہ دھندھلی آنکھوں سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
" سَحر، میں آپ کا تھا اسی لیے میری زندگی میں کبھی کوئی عورت نہیں آئی۔ میں ہمیشہ سے اکیلا ہی تھا۔ مجھے ان عورتوں کے معاملات میں نہیں پڑنا تھا، میں بس خدا کو تلاش کر رہا تھا اور وہی تلاش مجھے لاہور لے گئی۔" وہ نرمی سے اس کے چہرے پر بکھرے بال سمیٹ رہا تھا۔
" لیکن اس رات جب میں نے آپ کو بےپناہ زخموں میں چور دیکھا تو میرے دل میں کچھ بدل گیا، تب سے اب تک میں آپ سے دست بردار نہیں ہو سکا۔ پہلی نظر میں ہی آپ کو اپنا سکون تھما دیا تھا۔ اس دن کے بعد سے مجھے آپ کو دیکھے بغیر چین نصیب نہیں ہوتا۔" سحر کے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لے کر وہ اسے تسلی سے اپنی اسیری کی داستان سنا رہا تھا۔
" سَحر نہ میں پرفیکٹ ہوں نہ میرے گھر والے پرفیکٹ ہوں گے اگر ان سے کوئی غلطی ہو جائے تو انہیں ایک عام انسان سمجھ کر معاف کر دینا اور اگر مجھ سے غلطی ہو جائے تو بے شک مجھے سزا دینا، مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن میری وفا پر شک نہیں کرنا۔
میرے پاس اس گاؤں کی سرداری، خاندانی وراثت، ہزاروں لوگوں کا بھروسہ ہے مگر مجھے صرف آپ کا ساتھ چاہیے۔ میں یہ سب چھوڑ کر کل آپ کے ساتھ ایک عام سی زندگی گزارنے چلا جاؤں گا۔"
" ہم اتنی قیمتی نہیں کہ آپ ہمارے لیے سرداری چھوڑ دیں۔"
" آپ کے لیے تو دنیا چھوڑی جا سکتی ہے آپ سرداری کی بات کرتی ہیں؟" سَحر نے پٹرول سے بھیگی پلکیں اٹھا کر اسے بےیقینی سے دیکھا۔
" آپ کو اماں سائیں سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ وہ مزید ناراض ہو گئی ہیں۔"
" ہم نے بس۔۔۔"
" کوئی بات نہیں بس ایک دن ہی گزارنا ہے نا، گزر جائے گا۔"
" آپ کو ہماری وجہ سے اپنا گھر چھوڑنا پڑ رہا ہے!"
"میں نے کئی سال پہلے ہی حویلی چھوڑ دی تھی۔" اس نے ایک زخمی مسکراہٹ لئے کہا۔
☆ ☆ ☆
کچھ دیر بعد وہ نہا کر باہر آئی تو ارتضیٰ کی سیاہ ہائی نیک شرٹ اور ٹراؤزر پہن رکھا تھا۔ تیل سے بھیگے کپڑے اس نے کچرے دان میں ڈالے اور ارتضیٰ کے سامنے صوفے پر بیٹھتے وہ ٹراؤزر کے پائنچے موڑنے لگی۔ اس نے کال ختم کر کے سحر کی جانب دیکھا۔
" اگر آپ لوگوں کے پاس سرداری ہے تو آپ کی پھوپھو ہمارے گھر میں ملازمہ کیوں تھیں؟" ارتضیٰ ایک پل کو ٹھہر کر اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔اس کا سوال برحق تھا۔
" سحر کچھ لوگ ہماری طرح محلوں کے قیدی ہوتے ہیں اور کچھ لوگ پھوپھو کی طرح اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کے لئے غریب بستیوں کی خاک چھاننا پسند کرتے ہیں۔"
" ان کا وہاں ہونا ہی در اصل وہ وجہ ہے جس نے مجھے آپ تک پہنچایا۔ شاید قدرت چاہتی تھی کہ وہ وہاں ملازمہ بن کر رہیں تاکہ میں وہاں آپ کا محافظ بن کر پہنچ سکوں۔"
" لیکن انہوں نے اتنی عالی شان طرز زندگی، سرداروں کی حویلی اور زندگی کی ہر سہولت کیوں چھوڑ دی؟"
" در اصل پھوپھو کو محبت ہوگئی تھی۔۔۔
پھوپھو اور پھوپھا ایک ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتے تھے، پھوپھو نے جب دادا سائیں کو اپنی آرزو کے بارے میں بتایا تو انہوں نے پھوپھو کو قید کر دیا، بغاوت کا ٹھپا لگا کر زبردستی شادی طے کر دی مگر قسمت۔۔۔ کہ حویلی کا ایک ملازم پھوپھا کا دوست نکلا، اس نے شادی سے ایک ہفتہ پہلے پھوپھو کو گھر سے بھگا دیا اور دادی کا سارا زیور ان کے حوالے کر دیا۔
وہ دونوں لاہور چلے گئے مگر یہاں والوں نے ان کو بہت ڈھونڈھا، ہر جگہ بدنام کیا، ان کی ڈگریاں منسوخ کروائیں اور ان دونوں پر چوری کی FIR کروا دی۔ جس ملازم نے انھیں بھگایا تھا اسے اور اس کی بیوی کو قتل کر دیا گیا، ان کا ایک بیٹا تھا جسے بندی بنایا گیا۔
لیکن خدا کا فیصلہ کچھ اور تھا پھوپھو آج تک ان کے ہاتھ نہیں آئیں۔"
" اس لیے وہ آج بھی یونس پھوپھا کے ساتھ گھروں کی ادنیٰ نوکریاں کرتی ہیں لیکن وہ اپنی زندگی سے خوش ہیں۔۔۔ معلوم نہیں مگر وہ یہی کہتی ہیں۔ ان دونوں نے سب کچھ کھو دیا مگر ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔۔۔ محبت قربانی مانگتی ہے اور ان دونوں نے بھر پور قربانیاں دی ہیں۔" سَحر اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ حاجرہ واقعی اپنے شوہر سے بے پناہ محبّت کرتی تھیں، یہ سَحر جانتی تھی۔
☆ ☆ ☆
عشاء کی نماز ان سب حالات میں قضا ہو چکی تھی،قضا نماز پڑھنے کے بعد ارتضی کے چہرے پر کچھ اطمینان نظر آیا ۔اس نے خادمہ کو کھانا کمرے میں ہی لگانے کا بولا۔ کچھ ہی دیر میں دسترخوان لگایا جانے لگا۔سحر ارتضیٰ کی شرٹ پہنے کھڑکی سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔کمرے میں آتی جاتی ملازماؤں کی نظریں سحر کو دیکھ کر تھمنے لگیں۔ارتضی کی انگریزی سیاہ اونی شرٹ سحر کے وجود پر اتنی کھلی تھی کہ وہ اس میں مزید کم عمر لگ رہی تھی ۔
وہاں کی عورتوں سے تو بالکل مختلف۔۔۔
باہر سے جو اندر آتی جا رہی تھیں، وہ کھانا ہاتھ میں لیے یوں ہی کھڑی یک ٹک سحر کو دیکھنے لگیں۔ ارتضیٰ کی ایک سرد نظر نے ان کو ان کی حدود یاد دلائیں اور وہ فوراً نظر جھکا کر چیزیں رکھتی باہر نکل گئیں۔
ان کے جانے کے بعد وہ دونوں خاموشی سے دسترخوان پر بیٹھ گئے۔سحر کھانے کے لیے بار بار اپنی آستینوں کو اوپر کرتی اور وہ واپس نیچے ڈھلک جاتی ۔ ارتضیٰ نے خاموشی سے نوالہ بنایا اور سحر کی طرف بڑھا دیا۔
" بسم اللہ کہیں، سحر۔" اس کا لہجہ ریشم کی طرح ملائم تھا۔ سحر کے لبوں سے بے ساختہ بسم اللہ ادا ہوئی اور اس نے ہچکچاتے ہوئے نوالہ لے لیا۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی وہی بے یقینی تھی جو پٹرول سے بھیگی پلکوں کے پیچھے چھپی تھی۔
" جانتی ہیں سحر میرا سکون دو جگہوں پر قید ہے۔ ایک وہ سجدہ جہاں میں اپنے رب کے سامنے ہوتا ہوں اور دوسرا آپ کا یہ چہرہ۔۔۔جب اس پر خوف کی جگہ اطمینان ہوتا ہے۔" وہ ایک نوالہ اسے دیتا اور دوسرا خود کھاتا جا رہا تھا۔ سحر کو محسوس ہوا کہ اس آدمی کے لفظوں میں کوئی جادو ہے جو اس کے اندر کے سارے زخم سینے لگا تھا۔
" میں جانتا ہوں ،آپ ڈر گئی ہیں۔ پریوش سے، ابا سائیں سے، اماں سے مگر آگے سے ایسا نہیں ہوگا۔
میں کوشش کروں گا کہ زندگی میں کبھی ایسا نہ ہو۔مگر اپنے لئے خود لڑنا سیکھیں، جہاں آپ حق پر ہوں وہاں دفاع کریں، غلط کے آگے سر جھکا دینا عقلمندی نہیں ہوتی۔
اسی وجہ سے آپ داؤد کے ہاتھوں اتنا کچھ سہہ چکی ہیں، اب تو جواب دینا سیکھیں، یہ نہ دیکھیں کے سامنے کون ہے۔ یہ دیکھیں کہ کیا وہ حق پر ہے یا نہیں۔"
" میں آپ کو آپ کے سارے حقوق دوں گالیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ کو اپنے حق میں بولنا آ جائے اور آپ سے بس اتنی گزارش ہے کہ آپ میرا ساتھ دیں ۔"
" آپ کا ساتھ ہی تو دے رہے ہیں۔آپ کا ساتھ دینے کی سزا اگر موت ہے تو ہم مر بھی سکتے ہیں۔ ویسے بھی بابا جان کے بعد آپ کے علاوہ کون ہے ہمارا؟ "
" مجھے لگتا ہے داؤد آپ کے والد کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے۔ اس معاملے میں مجھے خود چھان بین کرنی ہوگی۔"
☆ ☆ ☆
کھانے کے بعد ارتضیٰ سکون سے بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔ سَحر سامنے صوفے پر گم سم سی بیٹھی تھی جیسے اسے یقین تھا کہ حویلی کا طوفان ابھی تھما نہیں ہے ۔ ارتضیٰ کافی دیر اس کا انتظار کرتا رہا مگر جب وہ نہ آئی تو اٹھ کر خود اس کے پاس گیا۔
" کیا بات ہے؟" وہ اس کا چہرہ چند لمحوں تک دیکھتی رہی۔
" ہمیں ڈر لگ رہا ہے۔"
" کس چیز سے؟"
" ہر چیز سے۔"
" آپ یہاں آ کر لیٹ جائیں ویسے بھی ڈاکٹر نے آپ کو آرام کرنے کا کہا ہے۔ میں باہر چلا جاتا ہوں۔" وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر بیڈ تک لے گیا۔ پھر اسے لٹا کر اس پر چادر اوڑھا دی۔ارتضیٰ پلٹنے ہی والا تھا کہ سحر نے اس کی کلائی تھام لی۔
" باہر مت جائیں، یہاں ہی سو جائیں۔"
" میں آپ کو غیر آرام دہ نہیں کرنا چاہتا۔"
" آپ کی موجودگی سکون ہے، ارتضیٰ ۔" ارتضیٰ نے ٹھہر کر اس کی آنکھوں میں دیکھا، پھر مسکرا کر دوسری طرف سے آیا اور اس کے قریب بیٹھ کر اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں دبا لیا۔
" زندگی میں پہلی دفعہ کسی عورت کی خواہش کی اور وہ مجھے مل گئی تو اور مجھے کیا ہی چاہیے ہوگا؟"
" ایک شادی شدہ عورت سے شادی کرکے آپ کو کیا ہی مل جائے گا۔ طعنوں کے علاوہ کچھ نہیں۔"
" مجھے بس ساتھ چاہیے باقی سب کی پروا میں نہیں کرتا۔ " سَحر نے اس کا چہرہ دیکھا۔
" مجھ سے محبت کرتی ہیں؟"
" ہمیں نیند آ گئی ہے۔"
" سو جائیں۔"
وہ بہت دیر آنکھیں بند کیے سونے کی کوشش کرتی رہی مگر نیند نہیں آئی، رات کو سونے کی عادت ختم ہو چکی تھی۔ اس سے پہلے وہ آنکھیں کھولتی ارتضیٰ کا ہاتھ اس کا سر سہلانے لگا۔ سَحر نے آنکھیں نہیں کھولیں۔ وہ بہت دیر اس کا سر سہلائے گیا یہاں تک کہ سَحر پر غنودگی چھانے لگی۔ ارتضیٰ نے اس کے سر پر پھونک ماری تو وہ چونک کر آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی۔
" ابھی تک جاگ رہی ہیں؟"
" آپ ہم پر کیا پھونک رہے ہیں؟"
" کالا جادو کر رہا ہوں تاکہ آپ ہمیشہ میرے پاس رہیں۔ میری محبت میں پڑ کر ۔"
" ہم بھی کہیں کہ ہم آپ کی طرف اتنی کشش کیوں محسوس کرتے ہیں۔" وہ منہ بنا کر بولی تو ارتضیٰ ہنسا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتے اٹھ بیٹھی۔
" کیا؟"
" آپ ابھی تک جاگ کیوں رہی تھیں؟" وہ ہنس کر بولا۔
" آپ کیا پھونک رہے ہیں ؟"
" سوره الرحمن ۔"
" جھوٹ ۔۔۔" ارتضیٰ نے اپنے موبائل کی سکرین سحر کے سامنے کی جس پر آیات دکھ رہی تھیں۔
" یہ کیوں ؟"
" میں آپ کو شفایاب دیکھنا چاہتا ہوں اور اس سورت میں شفا ہے ۔ "
" اب آپ بتائیں، ابھی تک جاگ کیوں رہی تھیں؟"
" ہم سوچ رہے تھے کہ آپ نے اس لڑکی کا دل توڑ دیا۔"
" کس لڑکی کا؟ گل کا ؟ ارے اسے بچپن سے ہزار دفعہ کہا ہے کہ میں اس سے شادی نہیں کروں گا مگر وہ یک طرفہ محبت میں بیٹھی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔"
" آپ اپنے بابا جان سے کہتے نا!"
" کم آن سَحر ، آپ کو اس کی فکر ہی کیوں ہے؟"
" کیونکہ وہ لڑکی ہے۔ اس کا دل بھی دکھتا ہوگا۔ "
" ابا نے اسے ہزاروں رشتے دکھائے ہیں مگر وہ سب کو انکار کرتی ہے۔ اب اپنی زندگی کا برا وہ خود کر رہی ہے۔"
" سَحر محبت کبھی بھی تکلیف نہیں دیتی مگر عشق۔۔۔ یہ جنون ہے اور انسان مجنون ہو کر کیا کر رہا ہے اسے خود علم نہیں ہوتا۔ محبت بری نہیں ہوتی مگر حاصل کرنے کا جنون ۔۔۔ " اس نے سر افسوس سے دائیں بائیں گھمایا۔
" آپ ہم سے محبت کرتے ہیں یا عشق؟" سَحر نے لیمپ کی زرد روشنی میں اس کی سنہری دکھتی آنکھوں میں جھانکا ۔
" جنون !" ارتضیٰ کے لہجے سے جنون ٹپکا۔سحر نے بوکھلا کر نظریں جھکا لیں، جیسے اس جنون کی تپش اسے جلا دینے کے در پر ہو۔
" آپ سو جائیں ۔"سحر نے فوراً موضوع بدلا۔
" میں آپ کے سونے کا انتظار کر رہا ہوں۔" ارتضیٰ کا لہجہ اب بوجھل تھا۔
" ہم رات کو نہیں سوتے، ہم روشنی کے بعد سو جائیں گے۔" ارتضیٰ کو ایک پر زور جھٹکا لگا۔ اس نے بے یقینی سے بیڈ کی ٹیک چھوڑی اور سحر کا چہرہ دیکھا۔
" آپ پچھلے تین ماہ سے رات کو سوئی نہیں؟" ارتضیٰ کی حیرت زدہ نظروں میں ایک تڑپ تھی۔
" ڈر لگتا تھا۔" سحر نے سوگوار سی مسکراہٹ لئے کہا۔
" آج آپ تنہا نہیں ہیں،میں آپ کے پاس ہوں۔ آج سو جائیں۔"
" ہم سو جائیں؟" سحر نے بےیقینی سے پوچھا۔
" ہاں، جانِ دل !بے فکر ہو کر سو جائیں۔ میں آپ تک آنے والے ہر شر کو روک لوں گا۔"سحر نے دھیرے سے سر تکیے پر رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔
اسے لگتا تھا ارتضیٰ حسن اس کی زندگی کے اندھیروں میں ایک روشن چراغ تھا۔۔۔ لیکن اب اسے سمجھ آیا تھا وہ خود سحر تھی، اور ارتضیٰ حسن صبح صادق کا وہ پہلا نور تھا جو اندھیروں کو مٹانے کا وعدہ لے کر آتا ہے۔ اس کی جاگتی آنکھیں سحر کے لئے وہ حصار بن گئیں تھیں جہاں اب خوف و ہراس کا داخلہ اب ممنوع تھا۔
" ہم آپ پر بھروسہ کرتے ہیں، ہمارے پاسبان ۔" سحر نے اس کی گرفت میں موجود اپنے ہاتھ کو دیکھا پھر آنکھیں موند لیں۔
☆ ☆ ☆
صبح سورج نکلنے سے پہلے ہی دروازے پر دستک ہوئی۔ سَحر بری طرح گھبرا کر اٹھی، نیند سے بوجھل آنکھوں میں ڈر کی جھلک تھی۔اس نے دیکھا ارتضیٰ کمرے میں نہیں تھا، وہ شاید اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہونے جا چکا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے دو ملازمائیں کھڑی تھیں۔
"بی بی جی، سردارنی صاحبہ نے آپ کو ابھی طلب کیا ہے۔" سَحر نے ان کا چہرہ دیکھا اور اسی طرح قدم بڑھا دیے۔ آنگن میں سب عورتیں کھڑی تھیں۔ مرد حویلی کے دوسرے حصے میں جا چکے تھے۔ بیچوں بیچ گل بانو تخت پر بیٹھی تھیں، چہرہ سنجیدہ اور نگاہوں میں غیر معمولی جلال۔
جیسے ہی سحر نے صحن میں قدم رکھا، انگریزی پہناوے میں، اس کا دوپٹے سے عاری وجود دیکھ کر وہاں موجود بڑی بوڑھیوں کے ہاتھ اپنی تسبیحوں پر رک گئے اور جوان لڑکیوں نے لا شعوری طور پر اپنے لمبے دوپٹے کے پلوؤں کو انگلیوں پر لپیٹنا شروع کیا۔
اس کا الجھا ہوا سرخ چہرہ، خوف زدہ سی نظریں اور دانتوں میں دبے ہونٹ۔ وہ دراز قد لڑکی اپنے چھوٹے چھوٹے بالوں کو گھبراہٹ کے مارے بار بار کان کے پیچھے اڑا رہی تھی۔
وہ شرٹ جو ارتضیٰ کے چوڑے شانوں پر فٹ آتی تھی، اس کے نحیف وجود پر اتنی کھلی تھی کہ اس کے شانے ڈھلک رہے تھے۔صوابی کی وہ عورتیں جن کا غرور ان کی کمر تک آتی گتیں تھیں، آج اس لڑکی کے گردن تک کٹے بالوں میں موجود اس باغیانہ حسن کو دیکھ کر ششدر رہ گئیں۔ اس کے چہرے کی رنگت ان سب کی سفیدی سے ذرا کم تھی اور سیاہ آنکھوں میں تیرتا خوف اسے قدیم یونانی مجسموں جیسی نفاست دیے ہوئے تھا۔
صوابی کی عورتیں اس سے متاثر ہوئیں،لڑکیاں جل گئیں۔ اس کا حسن آج ارتضیٰ حسن کی چارد سے آزاد، ماہِ کامل سا تھا ۔ گل بانو نے کتاب میز پر پٹخ کر توجہ اپنی جانب کھینچی، سحر ڈر کر اچھل پڑی، چہرے پر خوف کے سائے گہرے ہوئے تھے۔
"یہ حویلی صرف دولت یا رتبے سے نہیں چلتی۔ یہاں عورتیں بھی مردوں جتنا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ جو یہاں کی بہو ہے، اسے صرف زیور اور رتبے کا نہیں بلکہ خاندان کی عزت کا بار اٹھانا پڑتا ہے۔" گل بانو نے ہاتھ کے اشارے سے ملازمہ کو آگے بڑھنے کا کہا۔
" اور اس مقام کے لئے پہلے امتحان دینا پڑتا ہے۔" ایک بڑی ٹوکری سامنے رکھی گئی جس میں کوئلوں پر دہکتا ہوا کڑاہ تھا۔ اس میں پانی ابال کھا رہا تھا۔ اسے دیکھ کر سَحر کی نیند اڑی، آنکھیں پھیل گئیں۔
" یہ آزمائش ہے۔" پھر ان کی نظریں سیدھی سَحر کی آنکھوں میں جا ٹکیں۔
"اس کڑاہے میں سے کپ بھر کر نکالو اور میری ہتھیلی پر ڈال دو۔ اگر ایک قطرہ بھی نیچے گرا۔۔۔ تو سمجھوں گی تمہارے ہاتھ لرزتے ہیں، اور جس عورت کے ہاتھ لرز جائیں وہ خاندان کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔اور اگر نہ گرا تو تخت تمہارا ۔۔۔ " آنگن میں سناٹا چھا گیا۔ عورتیں ہونٹ کاٹتی اس ناز پروردہ لڑکی کو دیکھنے لگیں جس کے وجود سے نزاکت ٹپک رہی تھی۔ سَحر کے دل کی دھڑکن اتنی تیز ہو گئی کہ وہ اسے اپنے حلق میں سنائی دے رہی تھی۔
" جی ؟" سحر نے ناسمجھی سے ان کا چہرہ دیکھا اور بےبس نظر دروازے کی جانب ڈال کر ارتضیٰ کو یاد کیا۔
" میرا ہاتھ جلا کر ہی تم سردار کی بیوی کا تخت حاصل کر سکتی ہو ۔"
" لیکن ارتضیٰ سرداری چھوڑ چکے ہیں۔" سحر کے منہ سے اس بےباکی سے ولی عہد کا نام سن کر سب نے منہ پر ہاتھ رکھا۔ بوڑھی عورتوں نے اس کے زائچے پر بدتمیز اور بد لحاظ ہونے کا ٹھپا لگایا۔ سب اسے یوں آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہے تھے جیسے اس نے کوئی کفر بک دیا ہو۔
" اے لڑکی، کچھ ادب آداب نہیں سکھائے تمہاری ماں نے؟ اپنے مرد کا نام لے رہی ہے، بے حیا۔
سائیں بول ۔۔۔سائیں۔ "
" ہماری اماں اس دنیا میں نہیں ہیں، تو ان کو بیچ میں مت لائیں۔" اس کی دکھتی رگ پر پیر پڑا تو ساری نزاکت پیچھے رہ گئی تھی۔ اس نے براہ راست اس بوڑھی عورت کی آنکھوں میں دیکھا۔
"دوسری بات، ہمارے ہاں سائیں دیوانے کو کہا جاتا ہے اور ہمارے ارتضیٰ دیوانے نہیں ہیں۔" اس نے پر تپش لہجے میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ۔
" سحر ، شوہر کا نام ایسے نہیں لیتے۔" پلوشہ کی بات پر سحر نے رخ اس کی جانب کیا۔
" پر کیوں ؟ ارتضیٰ کوئی بدنام آدمی نہیں ہیں۔" اس کی سادگی میں پوچھا گیا سوال ان سب کے سالوں پرانے آداب کے بتوں پر ضرب لگاگیا۔
" اٹھا دو اس کڑھے کو!ایسے لباس اور اتنی تیز زبان والی لڑکی آپ کی آزمائش پر پوری نہیں اترنے والی ۔ سردارنی صاحبہ !مان لیں۔ آپ کا باغی بیٹا، اپنے جیسی باغی عورت ہی لایا ہے۔" ایک اور آواز نے گل بانو کا خون جلایا۔ اب سحر کے پاس دینے کو جواب نہ بن پایا تو وہ بات کو مزید بڑھانے کی بجائے پلٹ گئی۔
" تم چاہتی ہو کہ ارتضیٰ سرداری چھوڑ دے؟ یہ محبت ہے تمہاری کہ اس سے اس کا سب کچھ چھیننا چاہتی ہو؟" گل بانو کی بات سن کر اس کے قدم تھم گئے، وہ چند لمحے ساکت کھڑی رہی پھر آہستہ سے پلٹی، کپ اٹھایا، اور دہکتے پانی میں ڈبو دیا۔
جب کپ بھرا تو اس کے ہاتھ لرز رہے تھے، مگر وہ جانتی تھی اگر لرزش ظاہر ہو گئی تو وہ ہار جائے گی۔ سَحر نے کپ تھام کر ایک قدم آگے بڑھایا۔ اچانک اس نے فیصلہ کر لیا، وہ پانی گل بانو کے ہاتھ پر نہیں ڈالے گی ۔
" ہمارے لئے ارتضیٰ کی بات حرف آخر ہے۔ ارتضیٰ نے کہا کہ انہیں سرداری نہیں چاہیے اور ہم اپنے شوہر کی نفی نہیں کر سکتے ۔" اس نے کپ بھرا، اور گل بانو کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ بمشکل نظر اٹھا کر ان کی گہری سبز آنکھوں میں دیکھا۔
" آپ کا تخت آپ کو مبارک ہو۔"اس نے آہستہ سے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ ان کی ہتھیلی کے اوپر رکھ کر کپ الٹ دیا۔ ابلتا ہوا پانی اس کے ہاتھ پر گرا۔
"آہہ!" اس کی چیخ آسمان کو چیرتی ہوئی نکلی اور وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گری۔ آنگن کی خاموش فضا دہل گئی۔کپ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرا ، عورتیں سہم کر پیچھے ہٹ گئیں۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ گل بانو کا ہاتھ ایک پل کو بھی نہ ہٹا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں، ان کے چہرے پر فکر کی بجائے عجیب سا صدمہ دکھ رہا تھا۔وہ سحر کو گرا دینا چاہتی تھیں، مگر اس لڑکی نے خود کو جلا کر گل بانو کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا۔
سَحر کا ہاتھ سرخ ہو چکا تھا، جلتی ہوئی کھال سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ مگر اس نے اپنے لب بھینچ رکھے تھے، آنکھوں سے پانی ٹپ ٹپ بہہ رہا تھا۔
اتنے میں مردانے کی جانب سے تیز قدموں کی چاپ سنائی دی۔ ارتضیٰ بھاگتا ہوا تیزی سے وہاں آیا۔
" سَحر!" وہ گھبراہٹ کے مارے دور سے چلایا ۔
" سحر ، کیا ہوا ہے آپ کو ؟" تیزی سے قدم اٹھاتے سحر کے قریب آتے وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔
" ارتضیٰ، ہمارا ہاتھ۔" اس نے جھلسا ہوا ہاتھ ارتضیٰ کے سامنے پھیلایا۔
" یا خدا!" ارتضیٰ نے تڑپ کر اس کا ہاتھ تھامنا چاہا، مگر جیسے ہی اس کی انگلیاں سحر کی آستین سے ٹکرائیں، وہ دہکتے ہوئے گرم پانی کی تپش سے جل اٹھا۔ سحر کی قمیض کا کپڑا ابلتے پانی سے بھیگ کر اس کی کلائی کی کھال سے چپک گیا تھا۔
" کوئی ٹھنڈا دودھ لے کر آؤ !"ارتضیٰ کا چہرہ غصے سے سیاہ پڑ گیا۔ اس نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اپنی جیب سے چھوٹا شکاری خم دار چاقو نکالا اور سحر کی آستین کو کہنی کے پاس سے ایک جھٹکے سے چیر کر الگ کیا۔
" مجھے آپ کو تنہا ان سب کے بیچ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔" سحر کا جلتا ہوا ہاتھ پکڑ کر اس پر پھونک مارتے اس نے گھور کر ماں کو دیکھا۔ گل بانو نے اپنے اعصاب پر قابو پانے کے بعد ارتضیٰ کو مخاطب کیا۔
" ارتضیٰ ! ہوش کرو ، سب دیکھ رہے ہیں۔ ایک سردار کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ۔۔۔ "
"ارے ! آگ لگے ایسی سرداری کو جو میرے خاندان کی عورتوں کے لئے صرف تکلیف ہے۔ میں دستار لینے سے کل ہی انکار کر چکا ہوں تو اب یہ تماشا کیوں ؟" دودھ کا پیالہ آتے ہی ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ دودھ میں ڈبو دیا۔ وہ ہلکان سی ہو کر اس کے کندھے سے آ لگی تھی۔
" چلیں سَحر، ہم اب یہاں اور نہیں رکیں گے۔" وہ سحر کو لئے اٹھ کھڑا ہوا۔
" ارتضیٰ! ماں کھڑی ہے اور تم بیوی کو لیے پیٹھ دکھا کر جا رہے ہو؟"
" اماں سائیں یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ آپ کو اندازہ بھی ہے! آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں ؟" وہ سَحر کے ہاتھ پر پھونکیں مارتا بے یقینی سے ماں کو دیکھ رہا تھا۔
" بچے، اور دودھ لے کر آؤ !" وہ سامنے کھڑی پلوشہ کو دیکھ کر چلایا۔ پلوشہ کچن کی طرف دوڑی تھی۔
" تم اس لڑکی کے لئے ماں کو آنکھیں دکھا رہے ہو؟"
" میری بیوی کو اگر میری ماں بھی رلائے گی تو میں برداشت نہیں کروں گا، وہ بھی کہ جب وہ بے قصور ہو۔"
" ارتضیٰ !"
" اماں سائیں وہ پہلے ہی بہت بیمار ہے۔ میں اس کو یہاں اس لیے لایا تھا کہ آپ سب لوگ محبت سے اس کے زخم بھر دیں گے مگر آپ لوگوں نے یہ ۔۔۔ یہ کیا کر دیا؟"
" آپ سے یہ توقع نہیں تھی مجھے۔" آنگن میں کھڑی عورتیں سرگوشیاں کرنے لگیں۔ دودھ آتے ہی وہ اس کے ہاتھ پر تیزی سے دودھ انڈیلنے لگا۔ ملازمین نے حیرت سے یہ منظر دیکھا،وہاں کے مرد اپنی عورت کے لئے اتنے حساس نہیں ہوتے تھے۔
گل بانو کی وہ چال، جس کا مقصد سحر کو ارتضیٰ کی نظروں سے گرانا تھا، الٹا سحر کو ارتضیٰ کے دل میں ایک مقدس مقام پر فائز کر گئی تھی۔
" بڑے خان، ایسا بھی کیا ہوگیا ؟"
" اماں سائیں بس، میں ساری زندگی آپ کی اس تلخی کو سہتا آیا ہوں مگر میری محبت آپ کی اس تلخی کی بھینٹ نہیں چڑھے گی۔" اس نے سَحر کی کلائی نرمی سے تھامی اور اسے اپنے بازو کے حصار میں لیا۔
" چلیں سَحر ۔" وہ اسے لیے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ پیچھے موجود بزرگ عورتیں سحر کے زائچے پر ایک اور ٹھپا لگانے لگیں۔۔۔ کالے جادو کا ٹھپا ۔۔۔
کمرے کا دروازہ بند ہوا تو خاموشی جیسے ایک لمحے کو قبرستان بنا گئی۔ ارتضیٰ آگے بڑھا، اور سَحر کا جلا ہوا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔ ہاتھ پر چھالے اُبھر آئے تھے، گوشت سرخ اور سوجا ہوا تھا۔ ارتضیٰ کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے ایسا کرب اترا جیسے یہ جلن اس کی اپنی ہڈیوں تک اتر گئی ہو۔
" میں قربان۔۔۔ سَحر ۔۔۔ یہ کیا کر دیا ان سب نے ؟" اس کی آواز میں وہ لرزش تھی جو پتھروں کو بھی نرم کر دیتی۔وہ جلدی سے مرہم کی شیشی کھول کر نرمی سے مرہم لگانے لگا۔ سَحر کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ آنسو تیزی سے گالوں پر بہنے لگے۔
اس کی روح میں ارتعاش دو تصویروں کے بیچ جھولنے لگا ۔۔۔
ایک تصویر وہ تھی جو اسے جلتے دیکھ کر مسکراتی تھی۔
اور دوسری، جو اسے جلتے دیکھ کر خود راکھ ہو جاتی تھی۔
یہی فرق۔۔۔ اس کے اندر شدت سے گونج رہا تھا۔
دو جملے، دو لہجے۔۔۔
اور ان دونوں کے بیچ ایک پوری زندگی کھڑی تھی۔
انتخاب ۔۔۔
اس کی قسمت خراب نہیں تھی بس انتخاب غلط ہو گیا تھا۔
ایک غلط انتخاب اور بس !سب ختم،
دنیا ختم،
رنگ ختم ،
روشنی ختم،
رونقیں ختم یہاں تک کہ انسان ختم۔۔۔
لیکن اب اس نے اپنے لئے درست انتخاب کر لیا تھا۔
" ارتضیٰ !"
" کیا جہنم کی آگ بھی ایسی ہوگی؟ کیا ہمیں اتنا ہی جلنا پڑے گا؟" سحر کی بات سن کر اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اس نے پتھر سی نظر اٹھا کر سَحر کا چہرہ دیکھا۔
" وہ اس سے بھی زیادہ اذیت ناک ہوگی۔
وہ اس سے بری طرح جلائے گی اور وہ جلن امر ہوگی۔
اس جلن کا کوئی توڑ نہیں ہوگا۔ اس پر کوئی مرہم نہیں ہوگی۔
وہ آگ صرف خدا کے گناہگاروں کو جلائے گی۔"
" ہم بھی تو خدا کی گناہگار ہیں۔ ہم بھی تو نماز نہیں پڑھتے، پڑھتے ہیں تو صرف اپنی دعاؤں کے لیے پڑھتے ہیں۔ ہم بھی تو خدا کے گناہگار ہیں ۔"
" سَحر ، سوره زمر میں الله کہتا ہے کہ
اے میرے وہ بندوں جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے ،بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
اور سوره نساء میں الله کہتا ہے کہ
اور جو کوئی برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔
جب انسان پلٹ جاتا ہے تو الله بھی معاف کر دیتا ہے ۔ ماضی کو بھول جائیں۔" وہ بار بار اس کے جلتے ہاتھ پر پھونکیں مارتا، جیسے اپنی سانسوں سے اس کے زخموں کی آگ بجھا دینا چاہتا ہو۔
وہ سر جھکا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ چھوڑ کر بازو سے اسے تھاما اور اپنی طرف کھینچ کر سینے سے لگا لیا۔ وہ اس کی گرفت میں اور تڑپ کر رو دی۔
" ارتضیٰ، ہمیں بہت تکلیف ہو رہی ہے۔ ہمارا ہاتھ جل رہا ہے۔ " وہ اب ہچکیاں لینے لگی تھی۔
" مجھ سے ایک وعدہ کریں آج کے بعد کبھی خود کو تکلیف نہیں دیں گی کیونکہ اب آپ صرف میری ہیں۔ میری کسی چیز کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔کوئی میرا نام لے کر مجبور کرے یا چاہے کوئی میری کنپٹی پر بندوق ہی کیوں نہ رکھ دے، آپ خود کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ " ارتضیٰ نے اسکی مضبوط گرفت کو خود پر محسوس کیا تو خاموش ہو گیا۔ وہ بہت دیر روتی رہی، یہاں تک کہ اس کے رونے کی آواز مدھم پڑ گئی اور ہچکیاں خاموشی میں بدل گئی۔
ارتضیٰ چہرے پر ندامت لیے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا رہا جیسے الجھی ہوئی تقدیر کے دھاگوں کو سلجھا رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں سحر کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور اس کا سر ارتضیٰ کے سینے پر جھک گیا۔وہ کسی ننھے بچے کی طرح روتے روتے سو چکی تھی۔
ارتضیٰ نے بیڈ کی پائنتی سے کمر ٹیکی ، سحر کا سر اپنے سینے پر درست کیا اور اس کے سرخ جلے ہوئے ہاتھ کا معائنہ کرنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں گہرا دکھ اتر آیا تھا۔ وہ خود اس کے مسخ ہوئے وجود کو جوڑنا چاہ رہا تھا اور اس کی ماں نے ایک ہی وار میں اسے بری طرح توڑ دیا تھا ۔
اسے اندازہ ہوا کہ سحر کو داؤد سے بچانا آسان تھا مگر اپنوں سے بچانا۔۔۔ ایک جنگ ثابت ہونے والی تھی۔ اسے اندازہ ہوا کہ اس نے ایک رات حویلی میں گزار کر سحر پر کتنا رسک لیا اور اسے اکیلا چھوڑ کر مزید بے پرواہی کا مظاہرہ کیا ہے۔
ارتضیٰ نے وہ وقت چپ چاپ گزارا، مگر سحر کے جاگتے ہی وہ سَحر کو لے کر حویلی سے نکل کھڑا ہوا۔ سَحر کے دل میں خوف بھی تھا اور اعتماد بھی کہ ارتضیٰ اس کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔ وہ قریب ایک تین کمروں اور وسیع آنگن والے قدیم طرز کے گھر میں داخل ہوئے۔ یہ گھر حویلی جتنا وسیع نہیں تھا مگر سکون اور تحفظ کی خوشبو بکھیر رہا تھا۔ نیچے ملازمین کچھ فرنیچر لگا رہے تھے ، ارتضیٰ سحر کو لیے اس خوبصورت گھر کی چھت پر آ گیا، جہاں سے پورا صوابی کسی خواب ناک منظر کی طرح پھیلا ہوا نظر آ رہا تھا۔
"یہ اب ہمارا گھر ہے، سَحر ۔ یہاں کوئی آپ کو نہیں آزمائے گا، نہ کوئی آپ کو کمتر سمجھے گا۔" ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔ ابھی اس کی بات کا سحر طاری تھا کہ پیچھے سے کسی کے کھانسنے کی آواز آئی ۔ وہ دونوں چونک کر مڑے۔
سیڑھیوں کے دہانے پر مرتضیٰ کھڑا تھا۔ اس کی وہی پراسرار نیلی آنکھیں سورج کی روشنی میں چمک کر سبز نظر آ رہی تھیں اور لبوں پر وہی ادھوری، دل پگھلانے والی مسکراہٹ تھی۔
" ہاں پھر ہو گئی نا آپ عام چڑیل بہوؤں کی طرح پہلے دن سسرال سے الگ ۔۔۔" وہ آنکھیں چڑھا کر بولا تو سحر مسکرا دی۔
" کام ہو گیا ہے یا صرف بکواس ہوئی ہے ؟" ارتضیٰ کا ایسا بیباک لہجہ سَحر نے پہلی بار سنا تو چونکی پھر ہنسی روک کر مزید سننا چاہا ۔
"اے خانہ بدوش، ملازم نہیں ہوں میں تمھارا۔ فراز نے ضرورت کا سامان لا دیا ہے ، اب جا کر دیکھ لو۔"
" بس اسی لئے آ کر یہ صورت دکھانے کی زحمت کی تھی ؟ سارا موڈ خراب کر دیا۔"
" ایسی شکل دیکھنے کا شوق نہیں ہے مجھے ۔ نہ مجھے بن بلائے، لوگوں کے گھر جانے کا شوق لاحق ہے۔ شہوار کو لے کر آیا ہوں، تم سے ملنے آئی ہے ۔" اس کی بات سن کر ارتضیٰ نے سَحر کا ہاتھ چھوڑا اور نیچے کی سیڑھیاں پھلانگتا غائب ہو گیا ۔
" شہوار کون ہے ؟" سَحر نے متجسس ہو کر پوچھا ۔
" گاؤں کی ایک عام سی لڑکی تھی۔
بھائی نے اس کے مجرم کو پکڑا تھا اور پھر کیا حال کیا میں آپکو دکھاتا ہوں ۔ " اس نے موبائل میں کچھ ڈھونڈا اور ویڈیو چلا کر فون اسے تھما دیا ، خود نیچے صحن میں جھانک رہا تھا ۔
سَحر اس ویڈیو میں دکھنے والے شخص کو دیکھ کر ہکا بکا ہوئی۔ وہ ارتضیٰ جو اس سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کرتا تھا، اس قدر ظالمانہ طریقے سے اس آدمی کو مار رہا تھا۔ اس کے بعد اس نے ان سب سے جو کچھ کہا وہ بھی سَحر نے باغور سنا پھر ویڈیو ختم ہوئی تو فون دینے مرتضیٰ کے پاس آئی۔
وہ نیچے ہونے والی ان دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ سَحر نے نیچے جھانکا تو دیکھا کہ ارتضیٰ صوفے پر دونوں ہاتھ آپس میں ملائے نظریں بائیں جانب جمائے بیٹھا تھا ۔
سفید چادر میں لپٹی ایک لڑکی، اس کے دائیں جانب کرسی پر بیٹھی تھی ۔ روتے ہوئے چادر سے آنسو پونچھ رہی تھی۔
" اس کا کوئی قصور نہیں تھا، سائیں ۔ اس کے بھائی کے گناہ کی سزا اسے کیوں ملے ؟ آپ نے میرا نام چھپا کر رکھا تو اس لڑکی کو کیوں رسوا کیا ؟"
" میں نے اسے پورے گاؤں کے سامنے عبرت بنانے کا سوچا تھا، لیکن اس کی جان اسی لیے نہیں لی تھی کہ وہ اپنی بہن کو لے کر چلا جائے۔ میں ہماری جانب سے غلطی مانتا ہوں۔ میں اس کے لئے کچھ کرتا ہوں۔ "
" غلطی ماننے سے کچھ نہیں ہو گا آپ کو کفارہ ادا کرنا ہوگا۔"
" کیا کفارہ چاہیے؟" شہوار نے ایک پل کی خاموشی کے بعد بڑے حوصلے سے کہا۔
" آپ اس سے شادی کر لیں ۔"
" شہوار ! " اس کی آواز اتنی بلند ہوئی کہ اوپر کھڑی سحر اور نیچے بیٹھی درِ شہوار دونوں کانپ گئیں۔
" حویلی میں رہنے کا مقصد یہ نہیں کہ تم مجھ سے اس قدر بےباکی برتنے لگو ۔" وہ اب بھی شدید غصے سے بولا مگر آواز قدرے قابو میں تھی۔
" میرے پاس تو ویسے ہی عزت نہیں تھی۔ اب اس کے پاس بھی نہیں ہے، آپ کی بدولت ۔" وہ اٹھ کر اس کے سامنے سے گزری۔
" ایک کا نام تک چھپا کر رکھا اور دوسری کو سر بازار تماشا بنا دیا۔ واہ سائیں واہ !" وہ طنز سے کہہ کر گھر کے باہر کھڑی مرتضیٰ کی سیاہ جیپ میں بیٹھ گئی ۔ مرتضیٰ نے سَحر کا چہرہ دیکھا تو اس کے ہوش اڑے اڑے سے لگے ۔ کل سے اب تک ہر ہر پل اسے ارتضیٰ حسن کے بارے میں کچھ نیا جاننے کو مل رہا تھا۔
" بھابھی ، یہ سب تو بھائی کی روٹین کا حصّہ ہے۔ آپ دل پر مت لیں ۔ " اس سے پہلے سَحر کچھ کہتی نیچے کی طرف ان دونوں کا دھیان گیا ۔ فراز ارتضیٰ کو بندوق تھما کر خود اس کے پیروں کے قریب بیٹھا، پھر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر گردن جھکا لی۔
" کیامسئلہ ہے ، فراز ؟"
" نواب سائیں، اگر میری درخواست بری لگے تو گولی مار دینا کیونکہ جینا تو ویسے ہی دشوار ہو چکا ہے ۔"
" بولو ۔"
" معصومہ کی دوست سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ۔ میں اس کو پسند کرتا ہوں۔ " اس نے ارتضیٰ کے پاؤں پر ہاتھ رکھا۔
" سائیں، گاؤں والے اسے بہت ذلیل کرتے ہیں، اس کے بھائی کا گناہ اس کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ سب اس کو بدنسل بلاتے ہیں ۔ میں اسے لے کر یہاں سے چلا جاؤں گا ۔" فراز جیسے رو دینے کو تھا۔
" معصومہ کا مجرم، وہ رخسار کا بھائی تھا ؟ "
" جی ، سائیں۔" فراز نے بے بسی سے لب بھیچ کر کہا۔
" ہاتھ ہٹاؤ ، فراز ۔"
" سائیں، محبّت کرتا ہوں اس سے۔" ارتضیٰ نے اس کی گرفت سے پاؤں نکالے اور اٹھ کھڑا ہوا۔
" حویلی جاؤ !" اس نے رخ پھیر کر کہا۔
" سائیں ۔۔۔" اس سے پہلے اس کا جملہ مکمل ہوتا، ارتضیٰ نے پلٹ کر پوری قوت سے بندوق کی ہتھی اس کے سر پر دے ماری ۔
" اب کرنی ہے شادی ؟" ارتضیٰ نے گرج کر پوچھا۔ سَحر نے چونک کر اپنے برابر میں کھڑے مرتضیٰ کا چہرہ دیکھا ۔ اس سے پہلے وہ اوپر سے ہی ارتضیٰ کو آواز دے کر روکتی، مرتضیٰ نے اپنی ہتھیلی اس کے منہ پر رکھ کر اس کی آواز کا گلہ گھونٹااور اپنے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا کہا۔
" خاموش رہیں بھابھی! اور میرے بھائی کی مفاہمت دیکھیں۔" سحر نے دوبارہ نیچے جھانکا۔
" سائیں، اسے بچپن سے چاہتا ہوں،آپ سب جانتے ہیں۔ بدنام ہو گئی تو کیا محبت تو ختم نہیں ہوتی۔" ارتضیٰ نے دوسرا وار بھی اسی شدت سے کیا تو اس کے بالوں سے گزر کر خون کی باریک لکیر ماتھے پر بہنے لگی۔ وہ ابھی بھی وہیں جما بیٹھا تھا۔
" اب کرنی ہے شادی ؟"
" سائیں اسے اس غلاظت سے نکال کر ایک پاکیزہ زندگی دوں گا۔" ارتضیٰ نے اب اس کے کندھے پر مارا ۔
" اب ؟"
" سائیں تیرہ سال کی عمر سے چاہتا ہوں،آپ سب جانتے ہیں۔" کچھ دیر ارتضیٰ کے ہاتھوں وہ یوں ہی پٹتا رہا، یہاں تک کے اب اس کی آواز کانپنے لگی تھی۔
" اب بھی کرنی ہے شادی ؟"
" سائیں سب اس پر انگلیاں اٹھاتے ہیں، وہ عورت ہو کر اکیلے سب سے لڑتی ہے۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ میں کیسا مرد ہوں جو اپنی محبت کو اپنا نام بھی نہیں دے سکتا؟ " وہ ابھی بھی یوں ہی سر جھکاۓ زمین پر بیٹھا تھا۔ چہرہ خوں میں تر تھا۔
" ایک بدنامِ زمانہ لڑکی سے شادی کرو گے تو دنیا کیا کہے گی، فراز ؟"
" کچھ کہہ کر دکھائے سائیں، اس کی قسم بولنے والے کی زبان نکال کر کتوں کو ڈال دوں گا۔" فراز نے اس سب میں پہلی بار سر اٹھایا، آنکھیں جنونیت سے بھری تھیں۔
" یہ کہنا آسان ہے ۔۔۔ جب عقد میں بیٹھی عورت کے کردار پر کوئی کیچڑ اچھالتا ہے ناں تو یہ دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ "
" سارا گاؤں جانتا ہے کہ فراز ایک لڑکی کو چاہتا ہے مگر کس کو ؟ یہ بات پندرہ سالوں سے کوئی نہیں جان پایا۔ جس کا نام اتنے حجابوں میں رکھا ہے اس پر کسی کو انگلی اٹھانے دوں یہ ہو سکتا ہے سائیں ؟ خدا کی قسم! مجھے حق نہیں ورنہ اس پر آواز کسنے والی ہر زبان کو گدی سے کھینچ لینے کی صلاحیت ہے مجھ میں۔ برداشت کر جاتا ہوں، خون کے گھونٹ کی طرح پی جاتا ہوں۔" ارتضیٰ چند لمحے اس کا چہرہ دیکھتا رہا پھر اپنا چہرہ دوسری جانب موڑ لیا۔
" سائیں آپ کو سحر بی بی کی قسم ، مان جائیں ناں۔" اس نے ارتضیٰ کا ہاتھ تھام کر اپنی خوں ریز پیشانی سے لگایا۔ ارتضیٰ نے پلٹ کر اس کا خوں میں تر چہرہ دیکھا۔
" تم نے یہ قسمیں وعدے کب سیکھے فراز ؟"
" عشق سائیں۔۔۔ عشق نے رول دیا مجھے ۔ سائیں آپ کو آپ کے عشق کی قسم مان جائیں ناں۔" ارتضیٰ نے گہرا سانس لے کر آسمان کی طرف دیکھا، نظر اس نور نظر پر جا ٹھہری۔
" مرتضیٰ ۔۔۔ " سحر کے برابر میں کھڑے مرتضیٰ کا چہرہ پل میں بدل کر بے تاثر ہوا۔ وہ تیزی سے چار چار زینے پھلانگ کر نیچے صحن میں آیا۔
" جی بھائی ؟ " وہ ارتضیٰ کے بالکل سامنے آ کر ہاتھ پشت پر باندھے کھڑا ہو گیا۔
" سائیں، ان کو کیوں بیچ میں لا رہے ہیں؟ مارنا ہے تو خود مار دیں نا۔" فراز نے اس کا تابعدار چہرہ دیکھ کر کہا۔
" مرتضیٰ جس دن رخسار کی آنکھ سے ایک آنسو بہا ، اسے گولی مار دینا ۔" ارتضیٰ نے ہاتھ میں پکڑی بندوق اس کی طرف اچھالی۔ مرتضیٰ نے اسے ہوا میں ہی دبوچ لیا۔
" جی،سمجھ گیا۔"
" سچ؟ سائیں سچ ؟ آپ کی قسم ! میں اسے بہت خوش رکھوں گا ۔" فراز جیسے مر مٹنے کو تھا ۔
" کل جا کر رخسار سے پوچھ آنا ، اگر رضامندی دے تو کسی مناسب جمعے کو نکاح کی تاریخ رکھ دینا۔ " وہ مرتضیٰ کو حکم سنا رہا تھاپھر فراز کا خون آلود چہرہ دیکھا۔
" اور اگر وہ نہ مانی فراز تو اس کا نام دوبارہ نہیں سنوں گا ۔" وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
" وہ مان جاۓ گی سائیں، اس نے مجھ سے بہار میں وعدہ کیا تھا۔ کوئی کسی کے لئے کھیتوں کی جان لیوا آگ میں نہیں کودتا مگر وہ جسے مرض عشق ہو۔"
ارتضیٰ گھر کی دہلیز پار کر گیا تو فضا میں پھیلا تناؤ تھوڑا کم ہوا ۔ مرتضیٰ کو دیکھ کر ایک جاندار مسکراہٹ کے ساتھ فراز دوبارہ کام میں مشغول ہو گیا۔ سحرآنکھوں میں تحیر بھرے سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی۔ اس کی نظریں فراز کے لہو لہان چہرے پر تھیں جس کا خون اب فرش کی مٹی میں جذب ہو رہا تھا۔
" مرتضیٰ،آپ ان کو ہسپتال لے جائیں، خون بہہ رہاہے، بہت تکلیف میں ہیں یہ۔" سحر کی آواز میں وہ فطری ہمدردی تھی جو ہر دکھے ہوئے دل کے لیے اس کے پاس ہمیشہ سے محفوظ تھی۔
مرتضیٰ نے پُر سکون انداز میں اپنی قمیض کے کف درست کیے اور فراز کی جانب دیکھا، جو زخموں کے باوجود ایک فاتحانہ مسکراہٹ لیے دل و جان سے کام میں مگن تھا۔
" بہنے دیں اس لہو کو بھابھی! یہ درد ،اس کے عشق کی گواہی ہے۔" مرتضیٰ کی لہجہ سنجیدہ تھا۔
" محبت کے دعوے کرنے آسان ہے، لیکن زمانے کی ٹھکرائی ہوئی عورت کا ہاتھ تھام کر دنیا کے سامنے کھڑا ہونا۔۔۔ یہ دہکتے انگاروں پر چلنے جیسا ہے۔" اس نے سحر کی آنکھوں کی گہرائی میں جھانکا۔
" بھائی نے اسے اس لیے نہیں مارا کہ اس کا مطالبہ غلط یا ناجائز تھا بلکہ اس لیے مارا ہے کہ اسے ساری زندگی یاد رہے کہ جس کے لیے اس نے یہ وار سہے ہیں اگر اس کی آنکھوں میں ایک آنسو بھی آیا تو اس کے پیچھے کھڑے مرد اگلے وار بندوق کے دستے سے نہیں ، گولی سے کریں گے۔
یہ مقصد تھا کہ رخسار کو بےسہارا نہ سمجھا جائے، اس کے پیچھے ارتضیٰ حسن کھڑا ہے۔" سحر نے اس کی بات سن کر نظریں جھکا لیں، اگر نہ جھکاتی تو آنکھوں میں جمع ہوتی نمی کی وجہ وہ اپنے اس بھائی کو سمجھا نہ پاتی۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
کمرے میں روشنی مدھم تھی۔ کھڑکی کے پار شام اتر رہی تھی۔ سَحر خاموشی سے بیٹھ کر ارتضیٰ کے کپڑے تہہ کر کے الماری میں لگا رہی تھی جب دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ارتضیٰ اندر آیا اور جوتے آہستہ سے ایک طرف اتار دیے۔ پھر سحر کے پاس آیا اور اسے خود سے لگا کر بالوں پر بوسہ دیا ۔
" السلام علیکم!زیادہ دیر تو نہیں ہوئی ؟ یہ جوڑا آپ کے لیے ۔ اب ہاتھ ٹھیک ہے ؟" سَحر نے بے اختیار اس کی طرف دیکھا۔
کوئی دعا نہیں۔
کوئی لمبی تسبیح نہیں۔
کوئی "یہ کرنا فرض ہے، یہ حرام ہے" جیسا حکم نہیں۔
بس ایک تھکا ہوا انسان تھا۔
" چائے ؟" سَحر کے منہ سے خود نکل گیا۔
" آپ رہنے دیں، آپ کا ہاتھ جلا ہوا ہے۔میں خود بنا لیتا ہوں۔"
" ہم بنا لیں گے، اگر آپ پینا چاہیں۔"
" آپ پلائیں تو اعزاز ۔" وہ مسکرا کر بالکل سادہ لہجے میں بولا ۔سَحر نے لمحے بھر کو توقف کیا۔
" شوہر کے کام کرنا ہر بیوی پر فرض ہے ، دین کہتا ہے عورت شوہر کی خدمت کرے۔"اس کے اندر کہیں کوئی پرانا زخم تڑپ اٹھا۔
" اعزاز ؟" سَحر نے اچنبے سے پوچھا۔ ارتضیٰ صوفے سے اٹھا اور اس کے نرم گرم سے ہاتھ اپنی ٹھنڈی ہتھیلیوں میں قید کیے۔
" کیوں کہ ان ہاتھوں سے بنی ہوئی چائے سب کو نصیب نہیں ہوتی۔سب اتنے خوش نصیب تھوڑی نہ ہوتے ہیں۔" وہ بےحد محبّت سے بولا ۔ سحر نے اس کی گرفت سے ہاتھ نکالے اور کمرے سے باہر نکل گئی ۔وہ خاموشی سے باورچی خانے میں گئی، چائے بنا کر واپس آئی اور کپ اس کے سامنے ٹیبل پر رکھ دیا۔ ارتضیٰ نے صوفے کی ٹیک چھوڑی اور کپ ہاتھ میں لیا۔
"جزاک اللہ خیر! خوشبو تو بہت اچھی ہے ۔"
یہ الفاظ حکم نہیں تھے۔
یہ دعا تھی۔
اور دعائیں تو دل میں اُتر جاتی ہیں۔
اس نے سَحر کو ایسے کھڑے دیکھا تو کپ سے ایک گھونٹ پیا اور مسکرا دیا۔
" بہت اچھی ہے۔" سَحر کی سانس کچھ دیر کو رکی۔ اس نے شرٹ کی لمبی لٹکی آستینوں کو انگلیوں میں دبا لیا۔آنکھوں کے پیچھے خالی پن سا تھا۔
"سَحر ! آپ ٹھیک ہیں؟" اس کی آواز میں فکر تھی، تجسس نہیں۔وہ جاننا چاہتا تھا، ٹٹولنا نہیں۔سَحر نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے دماغ کی تختی پر داؤد اور ارتضیٰ کے درمیان جو اختلاط چل رہا تھا وہ ارتضیٰ حسن کبھی نہ سمجھ پاتا۔
داود کی آنکھوں میں دین غصہ بن کر اترتا تھا۔
ارتضیٰ کی آنکھوں میں دین سکون بن کر ٹھہرا ہوا تھا۔شاید مسئلہ دین میں نہیں تھا۔۔۔
مسئلہ اُس شخص میں تھا، جو دین کا نام لے کر ظلم کرتا تھا۔اس نے سر جھکا دیا۔ہونٹ بہت آہستہ سے لرزے۔ سَحر کے حلق میں جملہ پھنس گیا۔ ارتضیٰ کپ رکھ کر کھڑا ہوا اور اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا تو پلکوں میں پھنسے پانی کے قطرے رخساروں پر بہہ گے۔ ارتضیٰ نے اسے خود سے لگا کر کسی کمسن بچے کی طرح تھپکا۔
"ہر انسان دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، سَحر۔ایک غلط انسان اگر زندگی میں آ جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ساری دنیا غلط ہے۔
ایک برے تجربے کا مقصد یہ نہیں کہ ہر نیا تجربہ بھی برا ہوگا۔" سَحر خاموشی سے کھڑی آنسو بہاتی رہی، جو اتنے مہینوں سے حلق میں اٹکا تھا اب آنسو بن کر نکل رہا تھا تو ان دونوں نے اسے روکا نہیں۔
"کچھ چیزیں پہلے غلط ہوتی ہیں۔۔۔ تاکہ جب صحیح ہوں تو ہم اس کی قیمت پہچانیں۔
آزمائش کے بعد ملنے والی نعمت ۔۔۔ زیادہ گہرا شکر سکھاتی ہے۔"
ایک لمبی سانس کے بعد اس نے بہت نرمی سے اس کا سر چوم کر اس کا چہرہ دیکھا۔
"جو گزر گیا ہے۔۔۔ اُس کو بھولنے میں وقت لگے گا۔
لیکن اسے سوچنا چھوڑ دیں گی تو وہ جلدی بھول جائے گا۔
جس چیز پر جتنی توجہ دیں گی وہ اتنا ہی بڑھے گا۔
اگر تکلیف پر توجہ دیں گی تو وہ لوٹ لوٹ کر آئے گی اور اگر خوشی پر توجہ دیں گی تو وہ بھی بار بار آئے گی۔" سَحر کی آنکھوں میں اطمینان و سکون بھری ایک ٹھنڈی لہر اترنے لگی تھی۔اسے لگا جیسے کسی نے اس کے کندھوں سے کوئی بوجھ ہٹا دیا ہو۔
"شاید۔۔۔ الله ناراض نہیں تھا۔ ہم بس غلط ہاتھوں میں تھے۔" وہ گہرا سانس لے کر اپنی آواز کو نارمل کرتی بولی ۔
" آپ کی چائے کہاں ہے ؟"
" ہم اپنے لئے بنانا بھول گئے ۔" وہ اس قدر افسوس سے بولی کہ ارتضیٰ کو بے ساختہ اس پر ترس آیا۔
" اچھا کوئی بات نہیں ہم آدھی آدھی کر لیتے ہیں۔" وہ کچن سے کپ لایا اور آدھی چائے اسے دے دی۔ سَحر دونوں پاؤں صوفے پر سمیٹ کر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔ ارتضیٰ نے سکون کا سانس لے کر اس کا چہرہ دیکھا۔
سحر نے ایک گھونٹ چائے کا پیا اور چونک کر ارتضیٰ کا چہرہ دیکھا۔ وہ آرام دہ سا صوفے کی پشت پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔ سَحر نے چائے کا کپ لبوں سے دور کیا اور شرمندگی سے اس کا چہرہ دیکھا۔ اس سے پہلے ارتضیٰ اس کے چہرے سے کچھ بھانپ کر ردِعمل دیتا، وہ پٹی بندھا ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھے رو دی۔ ارتضیٰ نے گڑبڑا کر صوفے کی ٹیک چھوڑی اور چائے کا کپ میز پر رکھا۔
" سَحر ۔۔۔ یا خدا ، اب کیا ہوا؟" وہ مسلسل آنکھیں ڈھانپے رو رہی تھی، آنسو ہتھیلی سے نکل نکل کر ٹپکنے لگے۔
" یہ اچھی ہے؟ نہ چینی ہے نہ پتی ہے۔ آپ اس کو اچھی کیوں کہہ رہے تھے؟"
" تاکہ آپ کا دل نہ ٹوٹ جائے؟"
" آپ کو ہمارے دل کی اتنی پروا ہے؟"
" اپنی چیزوں کی پرواہ کرنی پڑتی ہے اور آپ کو بھی میری پروا کرنی پڑے گی۔ ایسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر یہ رونا دھونا نہیں چلے گا یار میں تو ملک الموت کے آنے سے پہلے ہی مر جاؤں گا۔ " سحر نے رونا بھول کر اس کا چہرہ دیکھا۔
" ہمارے رونے سے آپ کیسے مرنے لگے ؟"
" دل میں درد ہونے سے تو مر جاؤں گا نا۔"
" ویسے روتے ہوئے آپ کا چہرہ بہت ہی بھیانک لگتا ہے، میں بندہ مضبوط ہوں لیکن دل ذرا کمزور ہے۔" وہ دل پر ہاتھ رکھے ایسے ڈرامائی انداز سے بولا کہ سَحر ہنس پڑی۔ بے ساختہ ۔۔۔
آنسو اب بھی بہہ رہے تھے مگر وہ ہنس رہی تھی ۔ارتضیٰ نے پہلی بار اس کی ہنسی کی آواز سنی تو آس پاس کی ہر آواز تھم گئی، وہ ارد گرد سے بے خبر ہو کر اس دل نشیں کا بھیگا ہنستا چہرہ دیکھنے لگا۔ یوں لگا جیسے کسی نے اندھیری غار میں چراغ جلا دیا ہو، جیسے صدیوں سے خاموش کسی ساز کے تار چھیڑ دیے گئے ہوں۔
" اللہ میرے دل کی حفاظت کرنا۔ یہ عورت تو قتل کے ارادے سے ہے۔"
" ہمیں عورت مت کہیں۔" سحر کی سوئیں ابھی بھی وہیں اٹکی تھی۔
" میری عورت !" وہ کہہ کر تیزی سے اٹھ کر ہنستا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔ سحر نے اس کو یوں بھاگتے دیکھا تو چہرہ جھکائے ہنس دی۔ اس گھر میں رونا بدعت نہیں تھا۔ یہاں رونے پر پابندی نہیں تھی۔
یہاں احساس تھا احسان نہیں ۔ یہاں اسے انسان سمجھا جا رہا تھا،جاگیر نہیں ۔ سحر نے دھیرے سے اپنا چہرہ گھٹنوں پر ٹکا دیا۔ اس کے آنسو اب تھم چکے تھے، مگر پلکیں اب بھی گیلی تھیں۔
" کاش بابا جان آپ ہمارے پاس ہوتے۔" اس نے آنکھیں بند کر کے سراج کا چہرہ تصور میں لاتے ہوئے کہا۔
" آپ ارتضی سے ملتے تو اسے دیکھ کر آپ کی آنکھیں فخر سے چمک اٹھتیں۔ آپ کو اپنی بیٹی کی پسند پر ناز ہوتا۔بابا آپ دیکھتے کہ آپ کی نازوں سے پلی بیٹی جس مٹی میں رول دی گئی تھی، وہاں اسے ایک پاسبان مل گیا ہے۔ " ایک آخری آنسو اس کی پلک سے ٹوٹ کر رخسار پر گرا، مگر اس بار اس میں نمک کی کڑواہٹ نہیں بلکہ شکرانے کی مٹھاس تھی۔
" سحر ! کھانا لگا دیا ہے، آ جائیے۔ " باہر سے ارتضیٰ کی آواز آئی تو سحر نے آنسو صاف کیے اور ہاتھ دھونے چلی گئی۔
☆ ☆ ☆
پس منظر میں فجر کی اذانیں اب مدھم ہو رہی تھیں۔ انہیں اس گھر میں آئے تیسرا دن تھا اور بارش اب بھی اپنے زور پر تھی۔ سحر وضو کر کے تولیے سے بازو اور چہرہ خشک کرتی باہر آئی۔ ارتضیٰ وہاں کھڑا اپنی جائے نماز کے پیچھے اس کے لئے جائے نماز بچھا رہا تھا۔ سحر نے جائے نماز پر قدم رکھا تو اسے لگا کہ جیسے وہ دنیا کی تمام تر گرد جھاڑ کر کسی شفاف جزیرے پر آگئی ہو۔ اپنے ہاتھوں سے اس نے قمیض کے آستینوں کو نیچے کھینچنا شروع کیا۔
عین اسی لمحے ارتضیٰ کی نظر اس کے سفید بازو پر پڑی،جہاں نیلے اور زرد نشانات ثبت تھے۔ وہ نشان جو وقت کی دھول میں دھندلے تو ہو گئے تھے، مگر مٹ نہیں پائے تھے۔ارتضیٰ نے فوراً سحر کا بازو تھاما۔اس کا لمس اتنا نرم تھا جیسے کوئی کسی پیاسے پودے کو چھو رہا ہو۔
" یہ کیا ہے ،سحر؟ یہ کیسے نشانات ہیں؟" سحر نے اسی پھرتی سے آستین نیچے کرکے بازو اس کی گرفت سے نکالا۔
" کیا مطلب کیا ہے؟ ضربیں ہیں۔" وہ بگڑ کر بولی تو ارتضیٰ موقع کی نزاکت کا احساس کرتے فوراً محتاط ہوا۔
" نہیں میں۔۔۔ بس ۔۔۔میں شاک میں تھا۔" سحر نے تلخ نظریں جھکا لیں۔
" یہ داؤد کے ساتھ گزرے ہوئے اس تاریک وقت کی مہریں ہیں جو شاید کبھی نہیں مٹیں گی ۔ یہ وہی نشانات ہیں جن کی بات اس دن داؤد نے کی تھی، اس وقت تو آپ کو فرق نہیں پڑا تھا۔" ارتضیٰ نے کچھ نہیں کہا بس دو قدم آگے بڑھ کر اسے حصار میں لیا ۔ ایک ہاتھ سے کندھا تھپکا دوسرے سے کمر،سحر کو لگا جیسے اس کے سارے زخم ارتضیٰ کی خوشبو میں گھل کر ختم ہو گئے ہوں ۔
" مجھے ابھی بھی فرق نہیں پڑتا، مجھے بس تکلیف ہوئی تھی ان نشانات کو دیکھ کر ۔" اس نے ایک نرم مسکراہٹ سے کہا اور دور ہو گیا۔ اسے چھوڑ کر جب جائے نمازکے اگلے حصے پر، امامت کے لیے کھڑا ہوا تو سحر کے اندر یادوں کا ایک دریا بہہ نکلا۔
وہ وہیں کھڑی سوچنے لگی۔۔۔
ایک وہ وقت تھا جب ارتضیٰ اس کے لیے صرف ایک ہدایت تھا جو اسے نماز کی تلقین کرتا تو اسے وہ بوجھ لگتی تھی۔
پھر ایک وقت آیا جب وہ خدا تک پہنچنے کے اس سفر میں اس کے ٹوٹے ہوئے حوصلوں کا سہارا بنا۔
پھر وہ دور بھی آیا جب وہ بالکنی میں کھڑی اسے صحن میں سجدہ ریز دیکھتی تو اسے گمان ہوتا کہ کائنات کا سارا حسن اس شخص کی پیشانی میں سمٹ آیا ہے۔
اور آج ۔۔۔ آج وہ اس کا محرم تھا،اس کا امام، جو اس کے اور خدا کے درمیان ایک مضبوط پل بن کر کھڑا تھا۔سحر نے ابھی اس ارتقاء کے سحر سے نکلنا ہی چاہا تھا کہ ارتضیٰ کی پرسوز آواز فضا میں گونجی۔
" اللہ اکبر!"
سحر کو محسوس ہوا جیسے اس کے وجود کی کرچیاں ایک مرکز پر اکٹھی ہو گئی ہوں ۔اللہ اکبر کی اس صدا نے کائنات کے تمام ہنگاموں کو پس منظر میں دھکیل دیا تھا۔ اب صرف سجدہ تھا ،امام تھا، اور وہ خدا تھا جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو بسا دیا کرتا تھا۔
☆ ☆ ☆
رات کا کھانا کھانے کے بعد، فضا میں پھیلی خنکی نے انہیں صحن کی طرف دھکیل دیا تھا۔ صبح سے برستی بارش اب تھم چکی تھی،مگر کچی مٹی سے اٹھنے والی سوندھی خوشبو ابھی تک رقصاں تھی۔ ارتضیٰ کے ہاتھ کی بنی کڑک چائے کی مہک جب اس مٹی کی خوشبو سے ملی، تو فضا میں ایک عجیب سا حصار تن گیا۔ درختوں کے پتوں سے گرتے ہوئے پانی کے قطرے زمین پر گرتے تو سکوت شب میں ایک مدھم سی موسیقی بکھرتی۔
سحر کرسی پر پاؤں سمیٹے ارتضیٰ کی چادر خود پر لپیٹے بیٹھی تھی۔ وہ کچن کی لسٹ کے لیے چیزیں گنوا رہی تھی اور ارتضی عام طور پر قبیلے کے بڑے فیصلے کرنے والا، اس وقت نہایت توجہ سے ہاتھ میں قلم تھامے ایک ایک لفظ کو کاغذ پر اتار رہا تھا۔
" چینی پتی اور نمک کے لیے ایک جیسے ڈبے اور باقی مصالحوں کے لیے کمبائن کنٹینرز۔۔۔" سحر نہایت سنجیدگی سے لسٹ لکھوا رہی تھی۔ارتضیٰ نے قلم روک کر الجھن سے اسے دیکھا۔
"چینی ، پتی اور نمک تو ٹھیک ہے لیکن دودھ کے لیے ڈبہ؟"
" ہاں تو؟ ڈبے میں دودھ نہیں ڈالیں گے؟ ہم ٹی وائٹنر کے ڈبے تو استعمال نہیں کر سکتے ناں ۔" سحر نے اپنی نفاست پسندی کا دفاع کیا۔
" نہیں، وہ تو صرف میں آج بارش کی وجہ سے لایا تھا مگر اتنے سے ڈبے میں آپ کلو دودھ کیسے بھریں گی؟ اس کے لیے تو بالٹی چاہیے ہوگی نا ؟" ارتضیٰ نے حقیقت پسندی سے جواب دیا۔
" بالٹی؟" سحر کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔
" کپڑے دھونے والی بالٹی؟ اس میں ہم دودھ ڈالیں گے؟"
ارتضیٰ نے ماتھے پر ہاتھ مارا،" سحر ،خدا کے لیے! آپ کیا بات کر رہی ہیں؟"
" ہم تو وہی بات کر رہے ہیں جو ہم شہر میں کرتے ہیں ۔ دودھ ڈبے میں ڈال کر، ٹرے میں سجا کے قہوے کے ساتھ لے آتے ہیں۔"
" یا خدا! اب سمجھا، آپ ملک پاؤڈر کی بات کر رہی ہیں؟" ارتضیٰ کے ہنسی چھوٹی۔
" میں بھینس کے دودھ کی بات کر رہا ہوں جو گوالا بالٹی میں بھر کر لاتا ہے۔"
" اچھا اور کچھ؟ یا لسٹ مکمل ہو گئی ہے؟" ارتضیٰ نے کاغذ سمیٹتے ہوئے اپنی مسکراہٹ دبانے کی ناکام کوشش کی ۔سحر نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور ایک مصنوعی خفگی سے اسے دیکھا۔
" آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے ہم نے آپ سے پوری دنیا مانگ لینی ہے؟"
" دنیا مانگ لینے کا ڈر کسے ہے، جانان؟ " ارتضیٰ نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی ہے اور شرارت سے اپنی آنکھیں سکیڑیں۔
" ڈر تو اس بات کا ہے کہ اگر آپ نے اپنے ان ایستھیٹک شہری پن کی فہرست میں مجھ سے کوئی گلابی بھینس مانگ لی تو میرا دیوالیہ نکل جائے گا۔ کیونکہ صوابی کے کسی میلے میں ابھی تک ایسی نایاب نسل متعارف نہیں ہوئی جو ڈیزائنر دودھ دیتی ہو۔"
" ہیں؟ بھینس پنک کلر کی ہوتی ہے؟ لاہور میں تو ہمیشہ کالی دیکھی ہیں۔" اس کے لہجے میں ذرا برابر بھی مذاق نہیں تھا بلکہ ایک سچی سی الجھن تھی۔
" اور آپ کیوں دیوالیہ ہوں گے ؟ کیا وہ بہت مہنگی ہوتی ہے؟ ہمیں نہیں چاہیے ویسے بھینس۔ ہمیں بھینس سے ڈر لگتا ہے۔" ارتضیٰ نے ایک گہرا سانس لیا اور بے ساختہ اپنا ہاتھ ماتھے پر مارا۔
" سحر! آپ واقعی اس دنیا کی نہیں ہیں ۔ میں مذاق کر رہا تھا۔ گلابی بھینس نہیں ہوتی اور نہ ہی آپ کی فرمائشیں مجھے دیوالیہ کر سکتی ہیں۔" سحر نے ہونٹ کاٹے اور شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
" ہمیں لگا آپ سچ کہہ رہے ہیں ۔۔۔ صوابی میں کیا پتہ کچھ بھی ہوتا ہو؟ ابھی کل بھی آسمان پر
ایک پنک کلر کا پرندہ اڑ رہا تھا۔ ہم نے دانور سے پوچھا تو کہنے لگی کہ یہ کبوتر ہے۔ اب لاہور میں تو سفید کبوتر ہوتے تھے یہاں پنک بھی ہیں۔"
" سحر !" ارتضیٰ کے الفاظ جیسے ختم ہو گئے تھے ۔
" کبوتروں کو نشانی کے لیے پینٹ کرتے ہیں۔ آپ نے ساری زندگی کہاں گزاری ہے؟"
" گھر میں۔"
" گھر میں کیا کرتی تھیں جو دنیا کی خبر تک نہیں ہے؟" ارتضیٰ نے اسے اتنی حیرت سے دیکھا جیسے وہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہو۔ سحر نے اپنی انگلیاں چادر کے پلو میں الجھائی اور ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔
" پینٹنگ کرتے تھے، کتابیں پڑھتے تھے، کپڑے ڈیزائن کرتے تھے اور پھر کھڑکی کے باہر آسمان کو دیکھتے تھے۔ ہمیں کبھی کسی نے بتایا ہی نہیں کہ کبوتروں کو نشانی کے لیے پینٹ کیا جاتا ہے۔ ہمیں لگا یہاں کے پرندے ہی الگ ہوتے ہیں۔" اس کی آواز میں ایک ایسی سچائی تھی جس نے ارتضیٰ کا دل پگھلا کر رکھ دیا۔ اس نے گہرا سانس لیا، ذہن میں اس لڑکی کی تصویر ابھری جو برسوں ایک خوبصورت پنجرے میں بند رہی تھی جہاں اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ باہر کی دنیا میں اصلی رنگ ہوتے ہیں یا مصنوعی ۔
" سحر ۔۔۔ " ارتضیٰ نے اس کا نام اتنی نرمی سے لیا کہ سحر نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔
"پینٹ کیے ہوئے کبوتر ہوں یا میرا گلابی بھینس والا مذاق ۔۔۔ یہ سب اس دنیا کی چالاکیاں ہیں۔ آپ جس گھر میں رہی ہیں، وہاں شاید وقت ٹھہرا ہوا تھا مگر یہاں صوابی میں وقت بہت تیزی سے رنگ بدلتا ہے۔" وہ تھوڑا اور جھکا،اس کی آنکھیں اب سحر کی آنکھوں کے بالکل سامنے تھیں۔
" عجیب بات ہے سحر! سراج صاحب نے آپ کو اتنی محبت دی کہ آپ کو دنیا کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہونے دی۔ مگر اس محبت نے آپ کو اتنا نہتا کر دیا ہے کہ آج آپ کو اصلی اور مصنوعی رنگوں کا فرق بھی کسی سے پوچھنا پڑ رہا ہے۔ مجھے آپ کی یہ بے خبری زیادہ پسند نہیں آئی۔ عورت کو تو ایسا ہونا چاہیے کہ میلوں دور سے کسی کی بدنیتی کی بو سونگھ لے، نہ کہ آپ جیسا۔ آپ کے سر پر تو موت رقص کر رہی ہو اور آپ کو خبر تک نہ ہو پائے۔"
" آپ ہمیں بے وقوف کہہ رہے ہیں؟"
" نہیں! میں آپ کو بے خبر کہہ رہا ہوں۔"
" اچھا ! تو آپ ہمیں اپنی دنیا دکھائیں، آپ کی دنیا کیسی ہے ؟"ارتضیٰ کے لبوں پر ایک گہری مسکراہٹ ابھری۔
" آپ تیار ہو جائیں، میں آپ کو دکھاتا ہوں اپنی دنیا۔"
" ہم بس جوتی پہن کر آئے ۔" سحر جوش میں اٹھنے لگی۔
" اوکے، میں گاڑی نکلتا ہوں۔" ارتضیٰ نے چابی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
" گاڑی کا کیا کرنا ہے؟ ایسے ہی چلتے ہیں ۔"
ارتضیٰ نے ایک لمحے کو اسے دیکھا، پھر نرمی سے سمجھانے والے انداز میں بولا ،" سحر ! میری دنیا کی سڑکیں لاہور کے پختہ راستوں سےبالکل مختلف ہیں۔ بارش کے بعد یہاں کی راہیں پھسلن والی اور کچی ہو جاتی ہیں۔ جگہ جگہ کیچڑ ہوگا، آپ کے پاوں خراب ہو جائیں گے اور آپ تھک جائیں گی۔"
سحر نے ایک قدم اس کی جانب بڑھایا، " تو کیا آپ ہمارا سہارا نہیں بنیں گے۔" ارتضی نے اس کا چہرا دیکھ کر آسمان کو دیکھا۔
" ٹھیک ہے۔آپ تیار ہو جائیں پھر چلتے ہیں۔"
دس منٹ بعد وہ تیار ہو کر ارتضیٰ کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اس کی جوتی، کا سٹریپ کھلا تھا اور دائیں ہاتھ پر بندھی پٹی اسے اجازت نہیں دے رہی تھی کہ وہ خود اس کو باندھ لے۔ ارتضیٰ نے بغیر کچھ کہے اس کے سٹریپ کو پکڑا اور باری باری دونوں کو بند کر دیا۔ اب وہ گھر کو تالا لگا کر شاپنگ کے لیے نکل پڑے تھے۔
سحر سیاہ لباس پر سفید مردانہ چادر کندھوں پر ڈالے اس کے ساتھ چل رہی تھی۔ ارتضیٰ اس کے قدموں کی رفتار سے اپنی رفتار ہم آہنگ کیے ہوئے تھا۔
کچی پکی گلیوں میں چلتے ہوئے سحر نے بےاختیار اس کا بازو تھام لیا۔ ارتضی نے ایک لمحے کو گردن جھکا کر اس کا چہرہ دیکھا، وہ لمس۔۔۔ وہ گرفت۔۔۔ جیسے دل نے سانس لینے کو بھی وقت کا زیاں سمجھا ہو۔
ایک لمحے کو وہ خودبھی ٹھٹھکا۔ اسے لگا جیسے وہ سحر کو پہلی بار دیکھ رہا ہو، شناسائی کے بعد آج اس کتابِ حسن کا کوئی پوشیدہ باب کھلا ہو۔ اس کی ستواں ناک سردی کی وجہ سے ہلکی سرخ تھی، ارتضیٰ نے پہلی دفعہ غور کیا کہ اس کی آنکھیں چھوٹی تھیں، بالکل چینی آنکھوں جیسی۔۔۔ وہ آنکھیں جو مسکراتی تو سمٹ کر ہلال بن جاتیں۔ اور ان کی گھنی پلکیں۔۔۔
وہ جب نظریں اٹھاتی تو وہ لمبی، گھنی پلکیں اس کی بھنووں کے خم کو چھونے لگتیں۔ وہ ایک ایسی عبارت تھی جسے جتنا پڑھا جاتا، معنی اتنے ہی گہرے ہوتے جاتے۔ ارتضیٰ کی نظریں ان مخمور آنکھوں کے حصار میں قید ہوئیں۔ وہ کچھ بولے بنا اس کے ساتھ قدم سے قدم ملائے چلتا گیا۔ وہ ہر گلی، ہر موڑ کو اسے دیکھ رہی تھی جیسے کوئی بچہ پہلی بار کسی جادونگری میں قدم رکھے۔
" سحر، آپ کبھی کسی گاؤں نہیں گئیں ؟"
" گاؤں ؟ یونیورسٹی جانے کے علاوہ، ہم نے کبھی ماڈل ٹاؤن سے قدم باہر نہیں رکھا۔" وہ چند گلیوں کا فاصلہ طے کر کے جب مرکزی بازار پہنچے تو سحر کی نظر سب سے پہلے مٹی کے برتنوں پر جا ٹھہری، وہ رک کر اس کچی زمین پر دکان تک جانے کا راستہ دیکھنے لگی۔
وہ رک جاتی اور ارتضیٰ کے قدم ٹھہرتے نہ، یہ ممکن نہیں تھا۔ وہ بے ساختہ اسے لیے دکان کے
اندر داخل ہوا۔ دکان میں اٹھتا شور ان دونوں کو دیکھ کر دم توڑ گیا۔ سب ارتضیٰ کے بازو سے لپٹی اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے جس کے کندھوں کو چھوتے خوبصورت بال دوپٹے سے نکل کر باہر اڑ رہے تھے۔
" ارتضیٰ !اس طرح کے دو مٹی کے برتن لے لیتے ہیں۔ ایک میں پرندوں کے لیے پانی ڈالیں گے اور دوسرے میں باجرہ۔" اس کی خوبصورت اور نرم گفتار ایسی تھی کہ سب مزید ان دونوں میں محو ہوئے۔
" جی!" وہ مسکرا کر سر ہلا گیا جیسے وہ اس کی ہر خواہش پر لبیک کہنے کی نیت سے آیا تھا۔لڑکا جیسے ارتضیٰ کو دیکھ کر ہوش ہی کھو بیٹھا تھا۔ سحر کی بات سن کر ،سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فوراً اس نے مٹی کے دو پیالے شاپر میں ڈالے اور ارتضیٰ کی جانب بڑھا دیے۔ ارتضیٰ نے جیب سے ہزار روپے کا نوٹ نکالا ۔ لڑکے نے جلدی سے دو سو کاٹ کر باقی پیسے بڑے احترام سے واپس کر دیے۔
" اب؟" ارتضیٰ نے دکان سے باہر نکلتے ہوئے پوچھا۔ پیچھے دکان میں پھر سے ہلچل مچ چکی تھی مگر اس شور کا موضوع ارتضیٰ حسن خوب جانتا تھا۔
" اب کچھ ڈبے وغیرہ لے لیتے ہیں، پھر دیکھیں گے ان میں کیا رکھنا ہے۔"
" یہ سب چیزیں میں خود لا دوں گا۔ ابھی ہم آپ کی شاپنگ کریں گے۔"
" اوکے۔" وہ مسکرا کر بولی اور اسی طرح ارتضیٰ کا بازو تھامے آگے بڑھ گئی ۔ابھی چند قدم ہی چلی تھی کہ اس کا پاؤں اچانک کیچڑ میں جا پڑا۔ اس نے ناگواری سے منہ بنایا، پاؤں ہوا میں اٹھا لیا اور التجائیہ نظروں سے ارتضیٰ کا چہرہ دیکھا۔
" ارے۔" اس نے ارتضیٰ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ٹشو سے پاؤں صاف کرنے کی کوشش کی لیکن زخمی ہاتھ پر وزن نہ دیا گیا۔ وہ لڑکھڑائی ۔ ارتضیٰ نے اس کے ہاتھ سے ٹشو لیا اور فوراً جھک کر ٹشو سے اس کا پاؤں صاف کرنے لگا۔ جو لوگ پہلے آڑی ترچھی نظروں سے اس غیر خون کی لڑکی کو ولی عہد کا بازو تھامے مسکراتے دیکھ رہے تھے، اب رک رک کر سیدھا دیکھنے لگے تھے۔
" رکیں، میں پانی لاتا ہوں۔"
" آپ ہمیں اکیلا چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟" وہ رک گیا، ابھی کوئی حل سوچ ہی رہا تھا کہ پیچھے سے ایک مانوس آواز آئی ۔
" سائیں!" ارتضیٰ نے مسکرا کر دائیں جانب سے بڑھائی گئی پانی کی بوتل دیکھی اور ہاتھ بڑھا کر لے لی۔ فراز نے آگے بڑھ کر مٹی کے پیالے اس کے ہاتھ سے سنبھال لیے۔
ارتضیٰ پنجوں کے بل زمین پر بیٹھا اور آہستگی سے اس کے پاؤں پر پانی ڈال کر کیچڑ صاف کی، پھر جوتی پر پانی بہا کر اسے دھویا۔ بوتل ایک طرف رکھ کر اسے خود ہی جوتا واپس پہنا دیا۔ گرد و نواح میں وقت جیسے تھم گیا تھا۔ لوگ سانس روکے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ کچھ بوڑھے اپنی پگڑیاں سنبھالتے مڑ مڑ کر دیکھ رہے تھے، کچھ نظریں چرا کر آگے بڑھ گئے تھے اور کچھ دل ہی دل میں اس لمحے کو اپنے وہم و گمان کا حصہ سمجھ رہے تھے ۔
صوابی کی سرزمین پر پہلی بار کسی سردار کے ولی عہد کو ایک عورت کی یوں ناز برداریاں کرتے دیکھا جا رہا تھا۔
حویلی کے مردوں کی سختی سے سب واقف تھے اور پھر جب سے مرتضیٰ نے نظام میں ہاتھ ڈالا تھا خوف جیسے رگوں میں اتر آیا تھا۔ ارتضیٰ اٹھا تو اس کے ہاتھوں سے پانی کے قطرے زمین پر گر رہے تھے۔ سحر نے اپنے دوپٹے سے اس کا ہاتھ خشک کیا۔ ارتضیٰ نے مسکرا کر سحر کی طرف دیکھا مگر اس کے چہرے پر اطمینان یا مسکراہٹ نہیں تھی، وہاں اضطراب تھا ۔
" کیا ہوا ؟" ارتضیٰ نے دھیرے سے پوچھا۔
“Why are these people looking at me like that?”
اس نے انگریزی میں سرگوشی کی ۔ آواز میں الجھن اور آنکھوں میں گھبراہٹ واضح تھی۔ ارتضیٰ
ذرا سا اس کے قریب جھکا، اس کی آواز نرم تھی، یقین سے بھری ہوئی۔
“ Because they have never seen such a beautiful woman in their life.”
نہ چاہتے ہوئے بھی سحر کے لبوں پر مسکراہٹ کھلی۔ اس نے پر شوق نظر سے ارتضیٰ کا چہرہ دیکھا پھر ہنس دی۔ سب لوگ اس لڑکی کو ولی عہد کا بازو تھامے ہنستے دیکھ رہے تھے۔ اس کے گالوں پر پھیلی سرخی اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ تعریف سیدھی دل میں اتری تھی۔ سحر کے لیے ساری دنیا اس وقت دھندلا سی گئی، صرف وہ چاند سا چمکتا چہرہ نگاہوں کے سامنے رہ گیا تھا۔ اسی لمحے سامنے کھڑی سیاہ رنگ کی گاڑی کے ہار ن نے فضا میں موجود اس فسوں کو توڑ دیا۔
یہ ہارن۔۔۔ یہ وہ آواز تھی جسے گاؤں والے برسوں سے پہچانتے آ رہے تھے۔
" ہارن سنائی نہیں دیا؟ یہ مرتضیٰ سائیں کی گاڑی ہے۔۔۔ راستہ چھوڑ دے ، مرنا ہے کیا؟" ایک لڑکے نے بدحواسی سے کہا اور موٹر سائیکل کے پیچھے سے اتر کر اپنے ساتھی کے سر پر زوردار چپت رسید کی۔ سحر نے پلٹ کر اس کا چہرہ دیکھا۔
" کیوں؟ یہ کوئی برا آدمی ہے؟" کم عمر لڑکے نے موٹر سائیکل دوسری جانب گھماتے ہوئے جھنجھلا کر پوچھا۔
" وہ برا نہیں ہے بس جس طرف وہ کھڑا ہو جائے وہاں پھر دلیل نہیں چلتی۔"
" ہے کون یہ ؟ نام تو کبھی نہیں سنا۔" کم عمر لڑکے نے موٹر سائیکل موڑتے ہوئے پوچھا۔
" نادان ! یہی چھوٹے خان ہیں، حویلی کا چھوٹا بیٹا جو اب سردار بنے گا۔ مرتضیٰ داد خان ۔۔۔" سامنے کھڑی گاڑی میں بیٹھے شخص کی شناخت ظاہر ہوئی تو اس لڑکے کے ہاتھ سے موٹر سائیکل ڈگمگا گئی۔ اس نے بمشکل موٹر سائیکل کو سنبھالا اور تیزی سے موٹر سائیکل بھگا لے گیا۔
سحر نے آگے پیچھے دیکھا، یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے جادو کی چھڑی گھما دی ہو ۔لوگوں کے قدم خود بخود پیچھے ہٹ گئے تھے۔ بلند آوازیں خاموش ہو گئی تھیں، لوگ چھٹ گئے تھے۔
ارتضیٰ نے محض ایک اشارہ کیا۔ وہ گاڑی ان کے قریب لے آیا ۔
" سحر ، بیٹھیں پلیز۔" اس نے پچھلا دروازہ کھولتے ہوئے کہا، لہجے میں وہی نرمی تھی۔ سحر خاموشی سے بیٹھ گئی مگر اس کے ہاتھ بے اختیار آپس میں الجھ سے گئے تھے۔ دل کی دھڑکنیں تیز تھی مگر وہ خاموش رہی۔ ارتضیٰ نے بھی ان لڑکوں کی باتیں سن لی تھیں اور یہ سب محسوس بھی کیا مگر کچھ کہا نہیں۔
" رن مریدی کے جو نئے ریکارڈ تم نے آج پورے صوابی کے سامنے قائم کیے ہیں نا۔ دس منٹ میں ابا سائیں کے کانوں تک پہنچ جائیں گے۔" مرتضیٰ نے آئینے میں دیکھتے ہوئے کہا۔ ارتضیٰ نے دھیما سا ہنس کر کھڑکی سے باہر دیکھا۔سحر کے رخساروں کے ساتھ اس بار کان بھی سرخ پڑ چکے تھے۔ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی مگر وہ ہنسی نہیں۔
" سائیں ، کہاں جانا ہے؟" آگے والی سیٹ پر فراز مرتضیٰ کے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔ اس نے بات کا رخ موڑنا چاہا۔
" ہمیں اپنے کپڑے خریدنے ہیں۔" سحر نے جواب دیا۔
" پھر مال چلتے ہیں۔" مرتضیٰ نےکہا۔
" نہیں، ہمیں یہیں سے خریدنے ہیں۔"
" ٹھیک ہے آپ اتر کر، اس کچی پکی سڑک پر کپڑے ڈھونڈیں، ہم آگے سے ہو کر آتے ہیں۔" اس نے گاڑی روک دی۔ سحر نے شیشے کے پار کچی زمین کو دیکھا پھر ارتضیٰ کو۔
" نہیں، ہم مال ہی جائیں گے۔ مرتضیٰ! آج سحر کو صوابی دکھاتے ہیں ۔" وہ اس کو کور آپ کرکے بہت خوشی دلی سے آگے دیکھ رہا تھا۔ سحر نے اس کا روشن چہرہ دیکھا۔ یہ محافظ سا مرد جو ہر وقت اس کے لیے موجود رہتا تھا، اب متاعِ جاں بننے کو تھا۔
" پھر ایسے مزہ نہیں آئے گا۔ اپنی اپنی گاڑیاں لیتے ہیں پھر چلیں گے۔"
دس منٹ بعد وہ گھر کی دہلیز پر کھڑی تھی، ارتضیٰ نے گاڑی باہر نکالی اور گھر کو تالا ڈال دیا۔ سحر اب کے جھینپ کر اس کے برابر والی سیٹ پر سوار ہوئی۔
" اگر آپ یہ سوچ رہی ہیں کہ میں آپ کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوں تو مت سوچیں۔ کیونکہ گھر آ کر گاڑی لے کر دوبارہ جانا ایسا کوئی بڑا کام نہیں ہے۔
آپ کہیں تو میں لاہور سے یہاں تک کا سفر بھی پیدل کر سکتا ہوں۔" وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بہت نرمی سے بولا پھر جھک کر ہاتھ کی پشت پر بوسہ دینا چاہا مگر سحر نے فوراً ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔
" کیا کر رہے ہیں ؟" وہ اسے مرتضیٰ اور فراز کی موجودگی سے خبردار کر رہی تھی۔ ارتضیٰ ہنس دیا پھر گاڑی سٹارٹ کرکے اس کی جانب بہت پیار سے دیکھا۔
" سیٹ بیلٹ لگا لیجئے اور دل تھام لیجیے۔ اب ہم آپ کو صوابی دکھانے والے ہیں۔" اس کی مسکراہٹ معنی خیز تھی۔ سحر نے اچنبھے سے اسے دیکھ کر سیٹ بیلٹ لگا کر اثبات میں سر ہلایا۔ سفید جیپ، سیاہ جیپ کے روبرو آ کھڑی ہوئی۔ اور پھر ایک جھٹکے سے دونوں اسٹارٹ ہوئیں اور تیز رفتار سے دوڑنے لگیں۔
دو منٹ کا راستہ عبور کرنے کے بعد وہ ہائی وے پر سو کی سپیڈ سے گاڑیاں بھگا رہے تھے۔ کالی آگے، سفید پیچھے، پھر سفید آگے کالی پیچھے۔
ارتضیٰ نے ایک نظر سحر پر ڈالی جو آنکھیں بند کیے ٹھنڈی ہوا کو اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی۔ ارتضیٰ نے مسکرا کر سپیڈ تھوڑی اور تیز کی۔ سحر نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا پھر ہنس کر اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
" مجھے لگا آپ ڈریں گی۔"
" ہمیں انسانوں سے ڈر لگتا ہے، ایڈونچرز سے نہیں۔" اس کی بات سن کر وہ ایک پل اس کا چہرہ دیکھنے پر مجبور ہوا، وہ پُرشوق نگاہیں پوری طرح ارتضیٰ حسن کی طرف متوجہ تھیں۔
" مجھے ایسے مت دیکھا کریں، میں پہلے ہی بہت کچھ ہار چکا ہوں۔ جو بچا ہے وہ سب بھی ہار جاؤں گا۔"
" محبت تو جیت ہے، آپ کیونکر ہارنے لگے؟"
" محبوب جیتا کرتے ہیں سحر، ہم جیسے گرفتارِ محبت تو ایک دیدارِ یار پر ہی سب ہار جاتے ہیں۔" سحر نے اس کے بازو پر گرفت مضبوط کی پھر اس کے کندھے پر بوسہ دے کر واپس سر رکھ دیا۔ ارتضیٰ نے ایک ہاتھ اس کے کندھے پر پھیلایا، تبھی مرتضیٰ کی گاڑی برابر میں آئی۔
" لو جی، یہ طوطہ مینا تو اپنے حال میں مگن ہیں۔" اس نے بلند آواز میں کہا تو سحر چونکی، اس سے دور ہونا چاہا مگر ارتضیٰ نے اسے دور ہونے نہ دیا۔
" تمھیں کوئی منہ نہیں لگاتی تو مجھ سے مت جلو۔"
" میں خود محبت نہیں کرتا، آج کل کی محبتوں میں کھوٹ ہے اسی لیے میں پرسوں کروں گا۔" اس نے کندھے اچکا کر کہا اور گاڑی آگے نکال لے گیا۔سحر پیچھے ہنسے گئی۔
اگلے دو منٹ بعد وہ صوابی کی ایک نئی شکل دیکھ رہی تھی۔ ہر طرف خوبصورتی اور جدت۔ جس صوابی کو اس نے پچھلے دو دن سے دیکھا تھا یہ اس سے یکسر مختلف تھا۔ اسلام آباد جیسی خوبصورت اور دلکش سڑکیں، ترقی یافتہ علاقے اور بلند و بالا عمارات ۔۔۔
" ارتضیٰ، ہم کون سی جگہ آگئے ہیں ؟" اس نے تصدیق چاہی۔
" یہ صوابی ہی ہے، سحر۔ داروڑئی گاؤں ہے، صوابی شہر ہی ہے۔"
" دراو۔۔۔ واٹ ؟ "
" دا ۔۔۔ روڑ۔۔۔ڑئی۔ "
" ہم صوابی ہی کہہ لیں گے۔" وہ ہنس دیا۔ یہ دل نشیں سی لڑکی اس کے دل میں یوں سما جائے گی اس نے سوچا نہ تھا ۔
اگلے دو گھنٹے وہ لوگ شاپنگ کرنے کے بعد اب ایک بڑے ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے۔ سحر اور ارتضیٰ کافی پی رہے تھے، مرتضیٰ اور فراز چائے کے کپ تھامے ہوئے تھے۔ کافی اور چائے کے کپ تقریباً ختم ہو چکے تھے کہ عشاء کی اذان فضا میں گونجی۔سحر نے آہستہ سے ارتضیٰ کی طرف دیکھا،
" اذان ہو گئی ہے، گھر چلیں؟"
" گھر جانے کی کیا ضرورت؟ مسجد چلتے ہیں۔"
" مسجد؟"
" کیا آپ کبھی مسجد نہیں گئیں؟"
" نہیں، مسجد تو مرد جاتے ہیں۔"
" عورتوں کے لیے بھی جگہ ہوتی ہے۔" وہ جیسے بے یقینی سے ہنس دی۔ یہ اس کے لیے ایک نئی بات تھی۔
" اوکے، چلتے ہیں۔" وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے تو مرتضیٰ اب بھی فراز کے ساتھ مگن تھا۔
" تم دونوں کو جوتے مار کر غیرت دلانی پڑے گی؟
اذان ہو رہی ہے، آواز بند کرو اس گانے کی۔ اٹھو اور چلو، ہم مسجد جا رہے ہیں۔"
" تو جاؤ نا یار ہم نے منع کیا ہے؟"
" میں یہ کپ سر میں دے کر ماروں گا، اٹھو دونوں! " فراز تیزی سے اور مرتضیٰ بے زاری سے اٹھ کھڑا ہوا۔
وہاں سے دس منٹ کی مسافت پر ایک خوبصورت اور عالی شان مسجد موجود تھی۔ پرسکون اور کشادہ علاقے میں بنی، سفید اور نیلی ٹائلوں سے مزین وہ مسجد نظروں کو خیرہ کر رہی تھی۔
ارتضیٰ ان دونوں کو لیے نیچے جماعت کے ساتھ کھڑا نماز پڑھ رہا تھا اور اوپر سحر دو عورتوں کے ساتھ کھڑی تھی۔ نماز مکمل ہوئی تو لوگ دعاؤں میں مشغول تھے، کچھ اٹھ کر جا چکے تھے تو کچھ خدا کے حضور دل ہلکا کرنے کو بیٹھے تھے۔ کچھ حاجات کے لیے، تو کچھ مناجات کے لیے، ہر ایک اپنی اپنی کہنے میں مگن تھے مگر سحر سراج اس کانچ کی بنی دیوار کے پار کھڑی اپنے بخت پر نثار ہوتی عالمِ بالا کی بلندیوں پر پہنچ چکی تھی۔ اسے آج سے پہلے اپنا آپ اس قدر متاثر نہیں لگا تھا جتنا آج ارتضیٰ حسن کو اس حق سے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر لگا تھا۔
کیا محبت اسے کہتے ہیں کہ جب محبوب کو دیکھ دیکھ کر بھی آنکھیں تھیں کہ تھکن کا نام تک نہ پہچانتی تھیں۔
نگاہوں کا شوق تھا کہ پورا ہونے کو نہ تھا اور دل۔۔۔ وہ تو شکر کے سجدے سے سر اٹھاتا بھی تو کیسے؟
کیا یہ کم تھا کہ ارتضیٰ حسن کے نام کا حصار اس کے کندھوں پر اس چادر کی صورت موجود تھا۔
اسی لمحے میں اس نے ارتضیٰ حسن کو سجدہِ شکر کرتے دیکھا۔ پھر وہ ایک گہرے لمبے سجدے میں گیا اور اٹھ کر اس نے دونوں ہاتھ اٹھا کرآمین کہا اور نظر اٹھا کر وہاں دیکھا جہاں وہ محبوبِ نظر کھڑی تھی۔ سحر کا دل تھا کہ ایک دم دھڑک کر حلق میں آیا ۔
وہ طالب نظریں اس مطلوبہ لہر کو بہت تیزی سے پکڑ لیا کرتی تھیں۔ وہ مسکرا دی، پھر بے ساختہ اس نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اس پر سے وار کر اپنی کنپٹیوں پر لگا لیے۔ اس سے پہلے وہ پلٹ کر کوئی ردِعمل دیتا، وہ پلٹ گئی۔ آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں تھیں۔ چند قدم آگے آ کر وہ دیوار کا سہارا لے کر بیٹھ گئی۔ دل کو کسی نے اتنی زور سے جھنجھوڑا تھا کہ اس کا سانس لمحے کو رک کر بحال ہوا۔ اس نے آنسو صاف کرکے اس منظر کو یاد کیا جب وہ داؤد کے نکاح میں تھی۔ وہ تکلیف دے وقت اور انسان دونوں کے مقابلے ارتضیٰ حسن ایک انعام تھا یا نعمت وہ سمجھ نہیں سکی۔ دل سے ایک گہرے شکر کی صدا نکلی۔
" بچے، ٹھیک ہو نا؟ " کسی عورت نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیار سے پوچھ تو اس نے بھیگی پلکیں اٹھا کر انہیں دیکھا پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔
" لگ تو نہیں رہیں۔
کوئی محبت کا مسئلہ ہے؟" انہوں نے اس کی عمر اور آنسوؤں کی شدت سے اندازہ لگاتے اندھیرے میں تیر چلایا تھا۔ سحر نے پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔
" سب کے نصیب میں محبت نہیں ہوتی بیٹے ۔" وہ اس کی دل جوئی کرنے لگی۔
" ہمارا نصیب سونے کا نکلا، ہمیں سب مل گیا، آنٹی ۔
ہمیں خدا بھی مل گیا اور ارتضیٰ بھی مل گیا۔
یہ تو خوشی کے آنسو ہیں، ہمیں ہماری دونوں محبتیں مل گئیں ۔
سب مل گیا ہمیں، سب مل گیا۔ "
" اپنے بخت کے صدقہ دو۔" وہ پیار سے اس کا گال تھپک کر بولی اور اٹھ کر چلی گئیں۔ سحر نے اپنے آنسو صاف کیے اور چادر سے چہرہ تھپتھپا کر سیڑھیوں سے نیچے اتر آئی۔ وہ سامنے کھڑا تھا۔ سحر کو قریب آتا دیکھ کر آگے بڑھا اور ہاتھ پھیلا دیا۔ آنکھوں کا دل سے دل میں اتر جانے والا جان لیوا تصادم ہوا، نگاہیں دو سے چار ہوئیں مگر نہ گھبرائیں نہ شرمائیں۔ سحر نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔
وہ چاروں پارکنگ میں موجود اپنی اپنی گاڑیوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ سب سے آگے مرتضیٰ تھا، اس کے پیچھے سحر اور ارتضیٰ اور ان دونوں کے پیچھے فراز چل رہا تھا۔ مرتضیٰ جیپ کے قریب ہی تھا کہ ہوا میں موجود کسی انجانے خطرے نے اس کے قدم مٹی میں پیوست کیے۔ اس کی حسِ خطرہ بیدار ہوئی تو ارتضیٰ نے ایک پل ضائع کیے بغیر صورتحال کو بھانپ لیا اور اپنی پوری قوت سے سحر کو مرتضیٰ کی جانب دھکیل دیا جو تقریبا گاڑی کی اوٹ میں ہی کھڑا تھا۔ مرتضیٰ نے کسی ماہر کی طرح فوراً سحر کو بازو سے پکڑا اور اسے گاڑی کی اوٹ میں کھینچ لیا مگر اس سے پہلے کہ وہ مکمل طور پر محفوظ ہو پاتے۔ سحر کو اپنے بالوں کے قریب سے ایک جھلسا دینے والی تپش گزرتی محسوس ہوئی۔ اگر وقت کی رفتار یہاں ایک لمحے کو تھم جاتی تو منظر کچھ یوں دکھائی دیتا کہ ارتضیٰ ساکت کھڑا اپنی پستول کو نہایت سفاکی سے لوڈ کر رہا تھا، فراز اپنی واسکٹ کی تہوں سے پستول نکال رہا تھا اور مرتضیٰ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر سحر کے سامنے کھڑا اسے دنیا کی نظروں سے چھپا رہا تھا۔ اسی ساکت لمحے میں سحر کے سیاہ دوپٹے میں آگے کو نکلے ہوئے بال ہوا میں معلق تھے اور وہ کپڑا گولی کی شدت سے سوراخ ہونے کے بعد ایک مذبوح لہر کی طرح پیچھے کو اڑتا دکھائی دے رہا تھا۔
پھر گاڑی کا شیشہ ٹوٹنے کی آواز نے اس سکوت کو بے رحمی سے چیرا اور وقت نے یک دم اپنی رفتار پکڑ لی۔ سحر کی نظر ارتضیٰ پر پڑی جو اس میدان جنگ کے وسط میں ایک کوہِ گراں کی طرح کھڑا تھا۔ ہاتھ میں پستول تھامے، اس کا رخ ایک جانب تھا جبکہ فراز اس کی کمر سے کمر جوڑے مخالف سمت میں موت بانٹنے کے لیے تیار کھڑا تھا۔
اس سے پہلے کہ سحر کے حواس اسے کچھ سمجھنے کی مہلت دیتے ایک اور شیشہ ٹوٹنے کی ہولناک آواز نے اس کے دل کی دھڑکن بڑھائی۔ مرتضیٰ نے اسے کہنی سے تھام کر تیزی سے گاڑی کے اندر دھکیلا اور اس سے لے کر وہاں سے نکل گیا۔ سحر نے تڑپ کر پیچھے شیشہ سے ارتضیٰ کا آخری عکس دیکھا جو بارود کے دھوئیں اور بکھرے ہوئے شیشوں کے درمیان کھڑا تھا۔
" مرتضیٰ ! وہ اکیلے ہیں۔ گاڑی روکیں۔"
" مرتضیٰ، گاڑی روکیں۔" خوف کے مارے سحر کا دل حلق میں آ رہا تھا۔
" خاموش!" وہ چلایا تو سحر گھبرا کر پیچھے ہوئی۔
" مطلب۔۔۔ خاموش ہو جائیں، بھابھی۔ فراز ساتھ ہے، کچھ نہیں ہوگا۔"
مرتضیٰ کی گاڑی کے ٹائروں کی چنگھاڑ ابھی فضا میں باقی ہی تھی کہ ارتضیٰ اور فراز نے جوابی وار شروع کر دیے۔ فائرنگ کا مختصر سا تبادلہ ہوا، جیسے ہی دشمن کی بندوقیں خاموش ہوئیں۔ ارتضیٰ کسی شکاری کی طرح اس ستون کی طرف بڑھا جہاں سے آخری گولی چلی تھی۔
ارتضیٰ نے ایک زخمی حملہ آور کو بالوں سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ پٹخا،" تمہارے پاس 10 سیکنڈ ہیں ورنہ اگلی گولی تمہارے گھٹنے میں نہیں سینے میں اترے گی، تمہیں کس نے بھیجا ہے؟" اس نے کھردرے پختون لہجے میں پوچھا۔
" کون ہے وہ ؟" وہ پھر چلایا۔
" کتنے دشمن بنا رکھے ہیں، خان صاحب؟" اس نے حقارت سے ہنستے ہوئے خون تھوک کر ارتضیٰ سے کہا۔ اس کی آنکھوں میں صرف وحشت تھی۔
" وفادار ہوں مر جاؤں گا لیکن نام نہیں بتاؤں گا۔
اور تمہیں کیا لگا تم نے اسے بچا لیا؟ جب تک تم لوگ اس تک پہنچو گے وہ جل کر راکھ ہو چکی ہوگی ۔ یہ اس کے مقدر میں لکھا ہے۔" ارتضی نے ایک جھٹکے سے اسے زمین پر پھینکا۔
" تم اور تمہارے پیچھے کھڑے لوگ میرے رب سے زیادہ طاقتور نہیں ہے اور تقدیر وہ لکھتا ہے۔"
" سائیں ، پولیس کو کال کروں؟" فراز نے فوراً اپنا فون نکالتے ہوئے پوچھا۔ ارتضیٰ نے نہایت اطمینان سے اپنا کالر درست کیا۔
" نہیں فراز ۔۔۔ آج نہیں۔ آج میری عورت کا معاملہ ہے۔ ان سب کو ڈیرے پر لے چلو، ان سے سچ تو صوابی کی مٹی ہی اگلوائے گی۔" وہ تیزی سے اپنی جیپ کی طرف بڑھا،فراز اس کے پیچھے پیچھے ہی تھا۔
" حویلی اور گھر کے تمام راستوں پر پہرا سخت کرواؤ دشمن کو اندازہ نہیں ہے کہ ارتضیٰ حسن کی عورت کا راستہ روکنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔" اس نے اسٹیئرنگ تھامتے ہوئے باہر کھڑے فراز کی
آنکھوں میں دیکھا۔
" فراز ، کیا ہم سحر پر ایک فیصد بھی رسک لے سکتے ہیں؟"
" ہرگز نہیں سائیں! سحر بی بی اب ہماری سب سے بڑی کمزوری بن چکی ہیں۔" ارتضیٰ نے لفظ کو چبایا۔
" کمزوری۔۔۔" فراز نے شدت سے سر ہلایا۔
" سائیں ، جس کو کھونے کا ڈر آپ کے دل کی دھڑکن بڑھا دے، وہ آپ کی طاقت نہیں ہوتا ۔
وہ آپ کی۔۔۔ کمزوری ہوتا ہے۔" ارتضیٰ نے انجن کی گرج کے ساتھ جیپ گیئر میں ڈالی۔
"تم کچے سے گھر کا راستہ لو ، میں ان کے پیچھے جاتا ہوں۔"
☆ ☆ ☆
مرتضیٰ کی جیپ ابھی اس کچی سڑک پر چڑھی ہی تھی کہ سامنے ایک سیاہ گاڑی مسلح آدمیوں سے بھری کھڑی تھی۔
" بھابھی! گاڑی سے باہر قدم مت نکالنا۔" سحر نے اس کا بدلا ہوا انداز اور آنکھوں کی شدت دیکھی۔مرتضیٰ کی آواز میں ایک ایسے جنگجو کی گرج تھی جس نے اپنی زمین پر دشمن کی آہٹ سن لی
ہو۔ وہ گاڑی روک کر نیچے اترا۔
" اب کس نے بلایا ہے عزرائیل کو، اور وسیلہ مجھے بنا رہا ہے؟" اس نے بونٹ کے ساتھ ٹیک لگاتے اتنے عام لہجے میں کہا کہ سحر حیران ہی رہ گئی۔اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ موت کے سامنے کوئی اتنا بے خوف کیسے ہو سکتا ہے ؟
سامنے گاڑی سے آدمی اتر کر اس کی طرف آ رہے تھے۔ اس نے اپنی واسکٹ میں سے پستول نکال کر سامنے کی اور بڑی ادا سے دائیں جانب جھاڑیوں میں پھینک دی۔ ان سب نے ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھا پھر ہاتھوں میں پکڑی بندوقیں اسی جانب پھینک دیں۔ غیرت مندوں کی لڑائی تھی، برابری پر رکھ کر مارتے تھے۔
اس نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ اب ان میں سے ایک تیزی سے مرتضیٰ کی جانب بڑھا۔
مرتضیٰ نے ایک قدم آگے بڑھایا ۔مٹی کے ذرات اس کے بھاری جوتوں تلے کچھ لے گئے ۔سامنے سے ایک آدمی اس کی جانب لپکا۔ اب لڑائی کا میدان کھلا تھا اور جیسے ہی وہ پہلا حملہ آور مرتضیٰ کے قریب آیا باقی سات آدمیوں کی حرکتیں ایک لمحے کو ساکت ہوئیں۔ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اس شیر میں کتنی جان ہے۔
پہلا مکا ہوا میں لہرایا،مرتضیٰ نے پھرتی سے گردن جھکائی اور پلٹ کر اس کے جبڑے پر ایک ایسا
بھرپور وار کیا کہ وہ آدمی لوتھڑے کی طرح دور جا گرا۔ مرتضیٰ نے اپنی قمیض کی آستینیں چڑھائی اور گردن کو جھٹکا دیا۔
" ایک، دو، تین۔۔۔صرف سات باقی؟" اس کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آئی ۔
" آؤ، صوابی کی مٹی تمہیں دفنانے کے لیے بے چین ہے۔"
مرتضیٰ نے جیسے ہی اپنا پہلا قدم بڑھایا کچی سڑک پر گرد و غبار اڑنے لگا۔ باہر کا منظر اچانک ایک خاموش مگر ہولناک فلم میں بدل گیا تھا جہاں چیخیں تو تھیں مگر بند شیشوں کے پار سحر کو سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں کسی بجلی کی طرح چل رہے تھے اور جہاں پڑتے وہاں سے تباہی کی خبر آ رہی تھی۔ سحر کے لیے گننا ناممکن تھا کہ کتنے مکے چلے ،کتنی لاتیں برسیں، اسے تو بس مرتضیٰ کے گِرد،اس کے دشمن ہوا میں اچھلتے نظر آرہے تھے۔
اس کی حرکتیں اتنی مضبوط اور اتنی مہارت سے بھری تھی کہ سحر کو لگا وہ آدمی اپنی تمام تر قوت کے باوجود اس کے سامنے مٹی کے ڈھیر سے زیادہ کچھ نہ تھے ۔ وہ اس سرزمین کا وہ شہزادہ تھا جس نے اپنی زمین کی حفاظت کے لیے ہتھیاروں کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ اس کے ہاتھ ہی ان کے لیے پیغامِ اجل بن چکے تھے۔
اسے اب سمجھ آ رہا تھا کہ یوسفزئیوں کے دشمن مرتضیٰ کے نام سے کیوں کانپتے تھے۔
ایک شخص جو اس ساری افراتفری میں کسی سائے کی طرح چھپا ہوا تھا مرتضیٰ کی نظروں سے بچ کر گاڑی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ سحر کے حلق سے چیخ نکل پاتی، دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور ایک ٹھنڈی بے رحم دھات سحر کی گردن سے آلگی۔
" نیچے اترو ، خاموشی سے۔" سحر خوف کے مارے اپنی جگہ منجمد ہوئی مگر وہ اسے گھسیٹ کر باہر لے آیا۔
مرتضیٰ کے کانوں میں جیسے ہی دروازے کے بند ہونے کی آواز پڑی۔ اس کے حواس بیدار ہوئے مگر یہی وہ لمحہ تھا جس کا دشمن کو انتظار تھا۔ سامنے موجود شخص نے موقع پاتے ہی ایک بھاری اینٹ مرتضیٰ کے سر پر دے ماری۔ایک زوردار دھماکہ اس کے دماغ میں ہوا، نظر دھندلا گئی اور وہ لڑکھڑا گیا۔ سحر نے تڑپ کر اسے لڑکھڑاتے دیکھا۔
" بھائی!" وہ بے ساختہ چلائی۔ مرتضیٰ نے خود کو سنبھالتے ہوئے، دھندلاتی نظروں سے سحر کا چہرہ
دیکھا۔ خون کی ایک لکیر اس کر سر سے بہہ کر نیلی آنکھ میں اترنے لگی۔ اس نے سامنے والے پر چند برق رفتار وار کیے اور دیوانہ وار سحر کی طرف بھاگا۔
تبھی فضا میں گولی کی دہاڑ گونجی تو سحر کا دل ساکت ہوا۔اسے لگا سب ختم ہو گیا ہو لیکن تبھی اس کی گردن پر پستول کے گرفت ایک دم ڈھیلی ہوئی، وہ شخص اپنی پستول سمیت سحر کے قدموں میں ڈھیر ہو چکا تھا۔ سحر نے لرزتے ہوئے پیچھے دیکھا تو وہاں مرسلین پستول تھامے ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ کھڑا اسے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کر رہا تھا۔ سحر نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس کی بات کی تقلید کی جبکہ مرسلین نے پھرتی سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی کو عین اس مقام کے قریب لے گیا جہاں مرتضیٰ ابھی اپنے حریف کو مٹی چٹا چکا تھا۔
مرتضیٰ نے فوراً کھلے دروازے سے اندر چھلانگ لگائی اور گہرا سانس لے کر مرسلین کو دیکھا۔
" کبھی کبھی تم اچھے لگتے ہو۔" اس نے پھولے ہوئے سانس سے مسکرا کر اس کا کندھا تھپکا۔
"سائیں کا حکم تھا۔" مرسلین نے مختصر جواب دیا۔
" سحر، جو پیچھے بیٹھی اب تک صدمے کی سی کیفیت میں تھی، اس کی نظر مرتضیٰ کے سر سے بہتے تازہ لہو پر پڑی تو اس کا دل دہل گیا ۔اس نے ایک پل کی تاخیر کیے بغیر اپنا سیاہ دوپٹہ اتارا اور اسے لپیٹ کر مرتضیٰ کے زخم پر رکھ دیا۔ مرتضیٰ نے چونک کر گردن موڑی اور وحشت زدہ آنکھوں سے سحر کے چہرے کو دیکھا۔
" کیا ہے؟" اس نے نقاہت بھری آواز میں پوچھا۔
" آپ کے سر سے خون بہہ رہا ہے۔" سحر نے دھیمی، ہمدردی سے بھری آواز میں کہا۔
" اسے دبا کر رکھیں گے تو خون کم بہے گا اور درد میں بھی کمی آئے گی۔" وہ آنکھیں جو اب تک صرف غصہ اگلنا جانتی تھی سحر کی اس اچانک ہمدردی پر جیسے ساکت سی رہ گئیں۔ اس کے لہجے کی سختی سحر کی نرمی سے ٹکرا کر کچھ ماند پڑی۔ وہ جو شاید اسے کچھ سخت کہنے والا تھا اس کے چہرے پر پھیلی ماں جیسی فکر دیکھ کر خاموش ہو گیا اور اپنا رخ دوبارہ سامنے کی طرف کر لیا۔
سحر نے بڑی نفاست سے وہ دوپٹہ اس کے سر کے گرد لپیٹا اور کان کے پاس ایک مضبوط گرہ لگا دی سیاہ دوپٹے کے دونوں پلو اس کے شانے پر لٹکنے لگے، جو اس کی سخت گیر شخصیت کے ساتھ ایک عجیب سا تضاد پیدا کر رہے تھے۔
ایک محفوظ شاہراہ پر پہنچ کر مرسلین نے گاڑی مرتضیٰ کے حوالے کی اور خود حویلی سے آئی دوسری گاڑی میں سوار ہو کر ڈیرے کی جانب روانہ ہوگیا۔ مرتضیٰ نے اب خود سٹیرنگ سنبھالا۔ کچھ سوچتے ہوئے ایک نظر آئینے میں اپنے سر پر بندھے سیاہ دوپٹے کو دیکھا اور پھر جیپ سٹارٹ کر دی۔
جتنا جلدی ممکن تھا، وہ گاڑی کو حویلی کے اندر لے آیا۔ رات کے کھانے کے بعد سب باہر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ اس کی جیپ اندر آئی تو دائیں جانب کے دونوں ٹوٹے شیشے دیکھ کر سب کی نگاہ بھٹکی۔ عام دنوں میں بھی یہ منظر کسی قیامت سے کم نہ تھاکہ کوئی مرتضیٰ کی گاڑی پر گولی چلاتا مگر آج تو قیامت کو سب نے اترتے دیکھا۔ مرتضیٰ گاڑی سے اترا تو لان میں موجود تمام افراد اسی کی جانب متوجہ تھے۔
مگر اصل دھچکا۔۔۔
اس کے پیچھے گاڑی سے اترنے والی لڑکی تھی۔
حویلی کا پروقار سکون کسی شیشے کی طرح کرچی کرچی ہوا۔ وہ لڑکی جسے اس حویلی کی دیواروں نے کبھی قبول نہیں کیا تھا، آج اسی حویلی میں کھڑی تھی۔ کسی کے لیے وہ نحوست تھی، تو کسی کے لیے خاندان کی تباہی کا استعارہ۔مگر اس وقت سحر کو ان تیکھی نظروں کی پرواہ نہیں تھی۔وہ جیسے ہی گاڑی سے اتری اس نے دیوانہ وار مرتضیٰ کی طرف قدم بڑھائے وہ شخص جو کچھ دیر پہلے اس کی جان بچاتے ہوئے خود لہو لہان ہو چکا تھا۔
" یہ لڑکی۔۔۔مرتضیٰ کے ساتھ؟ اس نے حویلی میں قدم کیسے رکھا؟" گل بانو نے منظر دیکھ کر نفرت سے کہا۔حسن کے چہرے پر بھی ناگواری لہرائی۔ ان کے لیے سحر کا وجود ایک ایسا زخم تھا جو بھرنے کا نام نہیں لے رہا تھا اور آج اسے مرتضیٰ کے ساتھ دیکھنا ان کے لیے کسی دھچکے سے کم نہ تھا۔ ارتضیٰ کی بہنوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
" یہ کیوں رو رہی ہے؟" ماہ رخ نے سحر کی روتی صورت دیکھ کر سرگوشی کی۔ ملازمائیں ہاتھ روک کر تماشہ دیکھنے لگیں۔
" مرتضیٰ، پلیز۔ " سحر کی روتی آواز لان کے سناٹے میں گونجی ۔اس کے شانوں پر حویلی کے ولی عہد کا جو حصار موجود تھا وہ اس کو ان سب ستاروں میں چاند کی سی حیثیت فراہم کیے ہوئے تھا۔
مرتضیٰ ان سب کے قریب سے گزر کر آگے بڑھ گیا۔ سحر اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی تب ہی گل بانو نے آگے بڑھ کر اس کا بازو اپنی گرفت میں لیا۔
" میرا ایک بیٹا کم تھا جو اب دوسرے کے پیچھے لگ گئی تم؟" ان کی تیکھی بات سن کر مرتضیٰ کے
قدم ساکت ہوئے، وہ پلٹنے پر مجبور ہوا۔ سحر نے ان کا چہرہ نفرت سے دیکھا اور اپنا بازو ان کی گرفت سے ایک پُر زور جھٹکے سے نکالا، کچھ کہتے کہتے رک کر وہ پھر مرتضیٰ کی جانب قدم بڑھا گئی۔
" مرتضیٰ! وہ کال نہیں اٹھا رہے۔" وہ اس کی منت کرتی اس کے قریب آئی ۔
" پلیز واپس چلیں، وہ کال کیوں نہیں اٹھا رہے؟" گل بانو نے چونک کر سحر کو دیکھا ۔ مرتضیٰ ہنوز خاموش تھا۔
" مرتضیٰ پلیز! " وہ اس کا بازو تھام کر اسے روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ مرتضیٰ تیزی سے لان کے بیچ و بیچ بنی راہ گزر سے گزر کر حویلی کے اندر جا رہا تھا تبھی سحر نے اس کا بازو تھام لیا۔
" ہم آپ سے کچھ کہہ رہے ہیں۔ مرتضیٰ اگر ہمارے شوہر کو کچھ بھی ہوا ہم آپ کی جان لے لیں گے۔" اس نے غصے سے مرتضیٰ کو بازو سے تھام کر اپنی جانب گھمایا۔ مرتضیٰ نے قدم روک کر سحر کی جانب دیکھا۔ سحر کی بلند آواز اور اس کا مرتضیٰ کو اس طرح جھنجوڑ دینا حویلی کے مکینوں کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھا۔ ملازموں نے حقا بکا ہو کر اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیے۔
یہ لڑکی۔۔۔؟ جس کا اس حویلی میں کوئی مقام نہیں تھا وہ یوسفزئیوں کے سب سے جاہ و جلال والے بیٹے، مرتضیٰ داد پر ہاتھ اٹھا رہی ہے؟ اسے دھمکی دے رہی ہے؟
گل بانو کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا، جس مرتضیٰ کے سامنے وہ خود اونچی آواز میں بات نہیں کرتی تھی۔ یہ لڑکی اس حد تک جا رہی تھی اور اس سے بھی بڑا دھچکا مرتضیٰ کا ردِ عمل تھا۔ وہ غصے سے بپھرنے یا اس کے چہرے پر ایک تھپڑ رسید کرنے کے بجائے بے تاثر چہرہ لیے اسے دیکھ رہا تھا۔
" اب پڑے گا تھپڑ۔۔۔" حسن نے پیش گوئی کی۔سحر اب بھی مرتضیٰ کے سامنے کھڑی ، اس کی آستین جھنجھوڑتے ہوئے دہائی دے رہی تھی۔
" ہم آپ سے کہہ رہے تھے ناں کہ ان کو ساتھ لے چلیں۔ آپ نے اس وقت بھی ہماری نہیں سنی۔" اسی لمحے حویلی کا بھاری بھرکم گیٹ کھلا۔ دوڑتے ہوئے قدموں کی آواز اور جوتوں کی چاپ نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچی۔
" اگر ان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا؟" سحر کا جنون اپنی انتہا پر تھا۔
" سحر !" وہ آواز سنتے ہی سحر کی انگلیاں مرتضیٰ کی آستین سے پھسل گئیں۔ وہ ایک جھٹکے سے پلٹی اور اگلے ہی لمحے وہ سارا غصہ ، ساری جرات اور ساری وحشت کسی برف کی طرح پگھل گئی۔ اس کے بالکل سامنے ارتضیٰ حسن کھڑا تھا۔ وہی پُروقار سراپا، وہی گہری آنکھیں ۔ پل بھر میں وہ سب بھول گئی، اس کے لیے کائنات صرف ایک شخص کے وجود میں سمٹ آئی ۔ وہ تیزی سے اس کی طرف لپکی اور سب کے سامنے اس کا گریبان تھام کر اسے جھٹکا دیا۔
" آپ کہاں تھے؟
آپ فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے؟
اب آپ ہمارا فون نہیں اٹھایا کریں گے؟
ہم کتنے پریشان ہو گئے تھے ، آپ کو اندازہ ہے؟" وہ جس طرح اس کا گریبان پکڑے ہوئے بے خطر، بے پرواہ، اسے جھنجوڑ رہی تھی اور وہ بے پرواہ سا گردن جھکائے خاموش تابع کھڑا تھا، کوئی بھی بتا سکتا تھا کہ محبت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ارتضیٰ نے بہت آہستگی سے اسے اپنے محافظ حصار میں لیا اور پھر خود سے لگا لیا۔اس کی ساری مزاحمت ٹوٹ گئی۔
ایک، دو، تین، پھر اس کی ٹوٹی ہوئی آواز گونجی۔
" آپ ٹھیک ہیں نا؟ ہم مر جاتے ارتضیٰ ۔۔۔ آپ کو کچھ ہو جاتا تو ہم مر جاتے۔" اس کا ہر لفظ، ہر آنسو، ہر کپکپاتی سانس، حویلی والوں کے دلوں پر ہتھوڑا بن کر گر رہی تھی۔
" بس۔۔۔ کام ڈاؤن ۔
ریلیکس ۔۔۔
اٹس اوکے ،سحر۔
آئی ایم فائن ، ایوری تھنگ از فائن۔" وہ بے حد نرمی سے سینے سے لگی اس بچوں کی طرح پھوٹ
پھوٹ کر روتی عورت کو دلاسا دے رہا تھا۔
کچھ دیر پہلے والی خبر پر حسن داد نے یقین نہ بھی کیا ہوتا تو اب ان کو اس بات پر بھی یقین آچکا تھا۔
ان کا ولی عہد،اس خاندان کا جانشین اور دستار کا وارث ایک عورت کی مریدی کو دل و جان سے قبول کیے اس پر نثار ہو چکا تھا۔ وہ زبان سے کبھی نہ پھرنے والا حویلی کی دہلیز پر دوبارہ نہ آنے کا وعدہ توڑ کر اس عورت کی خاطر حویلی کے دالان میں کھڑا تھا۔
صوابی کی سرزمین گواہ تھی ۔۔۔ ارتضیٰ حسن مارا گیا تھا۔
ارتضیٰ حسن نے محبت میں جان لٹا دی تھی۔
حسن نے لب بھینچ کر اسے دیکھا اور کچھ سخت کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ ارتضیٰ نے ان کا ارادہ جان کر خاموشی سے ان کی طرف دیکھتے ، سحر کی پشت پر اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر ان سے خاموش رہنے کی التجا کی۔
" سحر،گھر چلیں۔" اس نے نرمی سے دوبارہ اس کا سر تھپک کر کہا۔ نظریں اب تک حسن کی پھاڑ
کھانے والی آنکھوں پر جمی تھیں۔ سحر نے ایک قدم کا فاصلہ قائم کرتے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ارتضیٰ نے اس کے چہرے سے آنسو صاف کیے۔
" تمہارے سر پر کیا ہوا ہے، مرتضیٰ؟"
" ارتضیٰ، ان کا بہت خون بہہ گیا ہے۔"
" مرتضیٰ ، میرے ساتھ آؤ لیکن پہلے سب کو بتا دینا کہ میری بیوی کو تم میری اجازت کے بغیر یہاں لائے تھے۔" اس نے معذرت خواہ انداز میں ہاتھ جوڑ کر حسن کو دیکھتے ذرا جھک کر ہاتھ ماتھے پر لگائے اور واپس مڑ گیا۔ اس نے سحر کے کندھے پر ہاتھ پھیلایا اور وہاں سے قدم واپس لے لیے۔ مرتضیٰ چند لمحے اسے جاتا دیکھتا رہا پھر ان کی جانب قدم بڑھا دیے۔
" بھائی !" وہ تیزی سے اس کے پیچھے آیا، آنکھیں دھندھلا رہی تھیں۔
" مرتضیٰ، واپس آؤ۔" حسن کی آواز نے اس کے قدم روک دیے ۔ وہ حویلی کے دروازے پر رکا، سر میں اٹھتے شدید درد کو برداشت کر رہا تھا۔
" ابا، وہ زخمی ہے ، اپنی انا کو ابھی کے لیے ذرا دیر کو کنارے کریں۔" ارتضیٰ نے ضبط سے کہا۔
" باغیوں کے ساتھ جانے کا مطلب بغاوت ہوتا ہے، اندر جاؤ ۔" مرتضیٰ نے دروازے پر کھڑے اپنے بھائی کی فکرمند آنکھیں دیکھیں پھر تلخی سے مسکرا دیا اور ایک ۔۔۔ دو ۔۔۔ تین قدم پیچھے لئے۔ حسن کے کہنے پر گارڈ نے آگے بڑھ کر حویلی کے دروازے ان دونوں کے منہ پر بند کر دیے۔ ارتضیٰ نے لب بھینچ کر نظریں جھکا لیں۔ دل پر وزن بڑھ گیا تھا، مرتضیٰ کے چہرے پر بہنے والا خون اسے بے چین کر رہا تھا۔ سحر نے دلاسہ دینے کو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
" وہ میرا ۔۔۔ بھائی ہے ۔" ارتضیٰ نے ضبط سے لب بھینچ کر کہا۔" وہ تکلیف میں ہے، سحر ۔"
" ارتضیٰ !" اس چٹان سے مضبوط مرد کو اس طرح ٹوٹتا دیکھ اس کا دل ہلکان ہوا۔
" آپ ۔۔۔ آپ فراز بھائی کو بول دیں کہ ڈاکٹر کے پاس لے جائیں ان کو۔"
" فراز کی کون سنتا ہے؟"
" وہ ایک مضبوط انسان ہیں، وہ اپنے زخموں پر مرہم رکھ لیں گے۔" ارتضیٰ نے آسمان کی جانب دیکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔
کوئی مرتضیٰ کو نہیں جانتا تھا سوائے اس کے لالہ کے۔
کسی کو معلوم نہیں تھا کہ مرتضیٰ داد کیا ہے سوائے اس کے لالہ کے۔
کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ مرتضیٰ داد کس تکلیف میں تھا سوائے اس کے لالہ کے۔
گیٹ بند ہوا تو حسن نے پلٹ کر چند قدم مرتضیٰ کی جانب لیے اور اس کے سر پر بندھے سیاہ دوپٹے کو نوچ کر اتار پھینکا۔ تکلیف کی ایک شدید لہر مرتضیٰ کے پورے وجود میں دوڑی۔ اس نے کراتے ہوئے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
" تم نے پہلے ہی پیدا ہو کر میرا منہ کم کالا کیا ہے جو اب ایک جوان لڑکی کا دوپٹہ سر پر باندھے پھر رہے ہو؟" حسن کے لفظوں میں چھپی حقارت نے مرتضیٰ کے زخم کو مزید گہرا کیا۔
" بھابھی ہے میری۔۔۔ ماں جیسی ہے!" مرتضیٰ نے دھندلاتی آنکھوں سے ان کا سفاک چہرہ دیکھا اور نقاہت کے باوجود دفاع کیا مگر جواب میں حسن کا ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پر پڑا۔ مرتضیٰ نے لڑکھڑا کر سہارے کے لیے ان کے بازو کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر انہوں نے اسے کسی ناپاک شے کی طرح جھٹک دیا۔
وہ پورے قد سے زمین پر گرا،حویلی کے در و دیوار لرز اٹھے۔ حسن ایک فاتحانہ سرد مہری کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔ پیچھے سے گلِ جاناں ، ماہ رخ ، پلوشہ اور پری دیوانہ وار اس کی طرف بھاگیں۔ پلوشہ نے تڑپ کر اپنی چادر کا پلو اس کے زخم پر رکھنا چاہا مگر مرتضیٰ نے پوری قوت سے اسے پیچھے دھکیل دیا۔
" دور رہو مجھ سے!" اس کی آواز میں وحشت تھی جو حسن کے تھپڑ سے زیادہ خوفناک تھی۔ پلوشہ دور جاگری ۔اس کی آنکھوں میں بھائی کے لیے موجود تڑپ ایک دم خوف میں بدلی۔ اس نے خون آلود نظروں سے اپنی بہنوں کو دیکھا جن کے دوپٹے اس کے لیے مرہم بننا چاہتے تھے۔ اسے ان کی ہمدردی سے گھن آئی۔
" لالہ، آپ کو چوٹ لگی ہے۔" ماہرخ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا مگر مرتضیٰ نے کسی زخمی شیر کی طرح دھاڑ کر اسے وہیں روک دیا۔
" معلوم ہے اور تمہارے ان آنسوؤں سے میرا زخم نہیں بھرے گا! ہٹو یہاں سے۔" اس نے اپنے لہجے کے زہر سے ان معصوم بہنوں کے دل چھلنی کیے۔
وہ بمشکل اٹھا اور لڑکھڑاتے قدموں سے حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھا۔ دالان کے دروازے پر پہنچ کر اس نے ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا، جو کسی پتھر کے بت کی طرح کرسی پر بیٹھی یہ سب تماشہ دیکھ رہی تھی۔ مرتضیٰ کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آئی اور وہ اندھیری راہداریوں میں گم ہو گیا۔
☆ ☆ ☆
ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ آج صبح بھی ارتضیٰ فجر پڑھنے کے بعد کچن میں کھڑا ناشتہ بنا رہا تھا۔ سَحر کرسی پر بیٹھی چہرے کے گرد دوپٹہ لپیٹے قرآن ہاتھ میں اٹھائے ہوئے تھی۔
"سورت مکمل ہوگئی ہے، اب بس؟" اس نے پوچھا۔
"ہاں بس۔" ارتضیٰ نے اجازت دی تو وہ قرآن بند کرکے کچن سے نکلنے لگی لیکن اچانک پلٹی، تیزی سے آئی اور اسی کی نقل اتارتے ہوئے، اس کے چہرے پر زور سے پھونک ماری، ارتضیٰ کے ماتھے پر بکھرے بال ایک لمحے کو اڑ کر واپس بکھر گئے۔ وہ مسکراتے ہوئے کچن سے باہر بھاگ گئی۔ ارتضیٰ چونکا اور بے ساختہ ہنس دیا۔
یہ وہی سَحر تھی جو کبھی خوف میں لپٹی رہتی تھی، مگر اب دوبارہ سراج احمد کی لاڈلی بیٹی بن چکی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ واپس آئی تو اس کا سراپا بدل چکا تھا۔ اب دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا اور نم بال کندھوں پر بکھرے تھے۔ وہ فطری مہارت سے برتن لگانے لگی، ارتضیٰ نہایت اطمینان سے انڈے پھینٹ رہا تھا۔ کوئی دیکھتا تو یقین نہ کرتا کہ یہ وہی مرد ہے جو حویلی میں کبھی باورچی خانے کے قریب تک نہ پھٹکتا تھا۔ آج وہ ایک عام سے انسان کی طرح کھڑا ناشتہ بنا رہا تھا۔
ناشتے کے لیے جب وہ دونوں زمین پر دسترخوان بچھا کر بیٹھے تو ایک عجیب سی اپنائیت فضا میں رچی ہوئی تھی۔ ارتضیٰ نے نوالہ توڑتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔
"میں آج لاہور جاؤں گا۔ اگر خبر سچی ہوئی تو مرتضیٰ آپ کو لینے آ جائے گا، پھر آپ بھی میرے پاس آجانا۔"سحر کا نوالہ بیچ میں ہی رک گیا۔ اس نے چونک کر پوچھا، "کون سی خبر؟" ارتضیٰ کے چہرے پر ایک پراسرار سنجیدگی آئی۔ "وہ وقت آنے پر بتاؤں گا۔ فی الحال جب تک میں واپس نہیں آتا، آپ کے پاس پلوشہ رہے گی۔"سحر نے فوراً بات کاٹی، اس کے چہرے پر تھوڑی سی ہچکچاہٹ تھی۔
"آپ ماہرخ کو بھیج دیں نا؟ ان سے ہماری اچھی دوستی ہے۔ پلوشہ کو شاید ہم اچھے نہیں لگتے۔" ارتضیٰ نے اپنا ہاتھ روک کر گہری نظروں سے اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ اس کی صاف گوئی پر حیران بھی تھا اور متاثر بھی۔ وہ جانتا تھا کہ سحر وہی کہہ رہی ہے جو وہ محسوس کرتی ہے۔
"ایسی بات نہیں ہے۔ اصل میں پلوشہ اور پری کی دوستی گل سے بہت گہری ہے، اسی لیے وہ
آپ سے بدگمان ہیں۔ لیکن آپ چاہیں تو اپنے اچھے رویے سے ان کے دل بدل سکتی ہیں۔" سَحر نے اس کی طرف خفگی سے دیکھا۔
"آپ کو کہنا چاہیے تھا کہ سَحر! جیسے آپ کی مرضی۔" اس نے نروٹھے پن سے کہا جیسے اس کا مان ٹوٹا ہو۔
" کیا رشتوں سے یوں جان چھڑانا آسان راستہ ہے؟ خدا نے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے۔ آپ جانتی ہیں کیوں؟"سَحر خاموش ہو گئی، نظریں جھکا لیں۔ ارتضیٰ نے اس کی ٹھوڑی اونچی کی پھر نوالہ بنا کر سَحر کی طرف بڑھایا۔
"دیکھیں سَحر ۔۔۔ رشتے ہمارا امتحان ہوتے ہیں۔ کبھی ہمیں صبر آزمانا پڑتا ہے، کبھی انا قربان کرنی پڑتی ہے۔ مگر آخرکار یہی قربانیاں اللہ کی رضا دیتی ہیں۔"
سَحر نے نوالہ لے کر آہستہ سے کہا،" آپ اپنی بہنوں کی طرف داری میں ایسا کہہ رہے ہیں؟"
" بہنوں اور بیوی میں فرق رکھنا مجھے خوب آتا ہے مگر میں کبھی بھی یہ نہیں چاہوں گا کہ جس کو میری
بہنیں اپنا دشمن اور بھائی سے دوری کی وجہ کہتی ہیں وہ ایک دفعہ ان کو اپنی حقیقت بھی نہ دکھائے۔"
" ہم ان کو یقین نہیں دلا سکتے۔ آپ ان سے پیار کریں مگر ہمارے لیے ماہ رخ ہی کافی ہے۔ وہ ہمیں سمجھتی ہے۔" ارتضیٰ نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما، وہی ہاتھ جس کی کھال ہتھیلی سے جھلسی ہوئی تھی۔
"نہیں، آپ صرف ڈری ہوئی ہیں۔ رشتوں سے، محبتوں سے، لیکن محبت اور رشتے ڈر کر نہیں، جرات اور صبر کے ساتھ نبھائے جاتے ہیں۔ جہاں آپ ماہرخ کے دل میں جگہ بنا سکتی ہیں وہاں باقی دو کے دل میں بھی اتر سکتی ہیں۔"
" لیکن اگر انہوں نے ہمیں اسی طرح ڈانٹا تو ہم دوبارہ آپ کی بات نہیں مانیں گے۔ "
" ! Irtaza, It’s my last try "
" جناب عالی، آپ کا احسان ہو گا۔"
☆ ☆ ☆
کچھ گھنٹوں بعد، ارتضیٰ رختِ سفر باندھ کر نکلنے ہی والا تھا کہ دروازے پر ایک جانی پہچانی دستک ہوئی۔ یہ دستک ایک بھائی کے کانوں کے لیے اجنبی نہیں تھی، وہ جانتا تھا باہر کون ہو سکتا ہے۔ اس نے سحر کو اشارہ کیا اور خود آخری باراپنا بیگ چیک کرنے کمرے میں چلا گیا ۔
سحر نے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے ماہرخ کھڑی تھی۔اس کے چہرے پر مانوس سی مسکراہٹ اور جوش تھا۔ اس کے پیچھے پلوشہ اور پریوش بھی تھے۔
" السلام علیکم!" سحر نے اپنی فطری سادگی سے چہرے پر مسکراہٹ لئے استقبال کیا۔
" وعلیکم السلام!" ماہرخ نے گرمجوشی سے جواب دیا اور اندر داخل ہوئی۔ ان تینوں کو صحن میں بٹھا کر وہ کچن سے چائے لے آئی۔ فضا میں عجب خاموشی تھی، جیسے سب کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا مگر الفاظ ابھی راستہ تلاش کر رہے تھے۔ چائے کا کپ اٹھاتے پریوش نے سحر کا نرم چہرہ دیکھا۔
" سحر!" چائے کا ایک گھونٹ لے کر اس نے پکارا۔
" جی؟ اچھی نہیں بنی؟" اس نے گڑبڑا کر پوچھا۔
" نہیں ، چائے اچھی ہے اور تم بھی۔ اس دن جو کچھ بھی ہوا، اس کے لیے مجھے معاف کر دو۔ میں کسی اور کے جرم کا حساب تم سے لینے چلی تھی ۔"
" کوئی بات نہیں، ہم بچ گئے بس یہی کافی ہے۔" اس کی نرم گفتار اور شکوے سے پاک لہجے نے ان دونوں کے دلوں سے بوجھ کم کیا۔ اسی لمحے ارتضیٰ اپنا بیگ اٹھائے کمرے سے باہر آیا۔ اسے دیکھتے ہی تینوں بہنیں احتراماً کھڑی ہو گئیں۔باری باری انہوں نے اپنے بھائی کے سامنے سر جھکایا۔ ارتضیٰ نے شفقت سے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا۔ چائے پینے کے بعد ارتضیٰ سب کو الوداع کہہ کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس کے جاتے ہی پریوش صوفے پر پاؤں سمٹ کر بیٹھ گئی۔ ماہرخ اور پلوشہ کرسیوں پر بیٹھی تھیں۔ سحر ان کے پاس جا بیٹھی۔
" لڈو کھیلیں ؟" سحر کی اس معصومانہ تجویز پر پلوشہ نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا، جیسے اسے کوئی بہت ہی انوکھی بات سجھائی دی ہو۔ وہ اٹھی اور دروازے سے باہر نکل گئی۔ کچھ دیر بعد واپس آئی تو اس کے پیچھے دو گارڈز تھے۔ انہوں نے دو لکڑی کے باکس لا کر صحن میں رکھے۔
" سحر! ہمارے ہاں کھیل لڈو کی گوٹیوں سے نہیں، ان سے کھیلے جاتے ہیں۔" پلوشہ نے اشارہ کیا تو گارڈ نے صحن کے بیچوں بیچ رائفلیں سجا دیں۔ دھوپ میں چمکتی سیاہ دھات دیکھ کر سحر کا رنگ اڑا۔
" یہ ۔۔۔ یہ کھیل ہے؟" اس نے گھبراہٹ سے پوچھا۔
" تمہیں کس نے کہا تھا کہ یوسفزئی قبیلے میں شادی کرو؟ ہم تو انہی کے ساتھ کھیلتے ہیں۔" پریوش نے شرارتی لہجے میں کہا۔
"ہاں بھئی ! ہم تو انہی کے ساتھ کھیلتے ہیں۔" ماہرخ نے کمال لاپرواہی سے ایک رائفل اٹھائی اور اس کی میگزین چیک کرتے ہوئے کہا۔
" تم بھی آؤ، آج تمہیں بھی معلوم ہو کہ یوسفزائیوں کی عورتیں دل کیسے بہلاتی ہیں، آخر اب تم بھی انہی میں شمار ہوتی ہو۔"پلوشہ نے پرجوش انداز میں کہا۔
" نہیں۔۔۔ ہم ٹھیک ہیں۔" سحر نے فوراً اپنے ہاتھ پیچھے کر لئے۔
" آؤ سحر! یہ صرف طاقت کا مظاہرہ نہیں، حوصلے کی بات ہے۔" پلوشہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے آگے کھینچا۔ پلوشہ عمر میں اس سے بڑی تھی تو سحر سے اس کا ہاتھ جھٹکا نہ گیا۔ وہ بےبسی سے ان کے ساتھ صحن کی جانب بڑھی۔
" آپ نہیں کھیلیں گی ؟"سحر نے پلٹ کر صوفے پر بیٹھی پریوش کو دیکھا۔
" اس نے جتنا کھیلنا تھا، اپنی زندگی سے کھیل لیا ہے۔ اسے چھوڑ دو۔" پلوشہ نے کہہ کر رائفل اٹھائی، نظر ہدف پر جمائی اور ٹریگر دبا دیا۔ ٹھاہ کی گونجدار آواز کے ساتھ سامنے لٹکی مٹی کی ہانڈی کرچی کرچی ہوئی۔ پھر ماہرخ نے اپنی رائفل اٹھائی، مہارت سے ہدف بدلا اور عین درمیان میں نشانہ مارا۔ سحر کے دل میں خوف تھا مگر ان دونوں کی ہنسی اور جوش نے اسے تجسس میں مبتلا کیا۔ اس کے کانوں میں ایک دلربا آواز گونجی۔
" مجھے آپ کی یہ بےخبری بالکل پسند نہیں ہے۔" اب باری اس کی تھی، پلوشہ نے رائفل اس کے نزاکت بھرے ہاتھوں میں تھما دی۔ سحر کے دل میں ارتضیٰ حسن کی تمنا پوری کرنے کی خواہش
پیدا ہوئی، لیکن خوف تھا کہ اعصاب پر حاوی ہونے لگا۔
" چلو سحر ۔"
" اس پاس کے لوگ جمع ہو جائیں گے کہ یہاں کون گولیاں چلا رہا ہے ۔" سحر نے آخری دفاع کی کوشش کی۔
" وہ آس پاس کے لوگ جب باہر حویلی کی گاڑی دیکھیں گے تو ان کے قدم خود بخود واپس ہو جائیں گے۔" پریوش کی بات میں وہی حاکمانہ غرور جھلکا جو ان کے خاندان کا خاصا تھا۔
" چلو، بابی ڈر کے آگے جیت ہے۔"سحر نے ہتھیار ڈالتے ہوئے ماہرخ کے ہاتھ سے رائفل سنبھالی۔ اس کی پوریں ٹھنڈی پڑ رہی تھیں ۔ سَحر نے کانپتے ہاتھوں سے نشانہ باندھا، پہلا فائر خطا گیا۔ سَحر رائفل کے جھٹکے سے تین قدم پیچھے گئی۔ پلوشہ اور ماہرخ اس کی شاک ہوئی صورت دیکھ کر ہنس پڑیں۔
"پھر سے، سحر !" پلوشہ نے زور دیا۔ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی اور ساتھ ہی دروازہ کھل گیا۔ سامنے سے مرتضیٰ داخل ہوا۔ سب نے اسے سلام کیا، اس نے ایک گہری، تیکھی اور حیران سی نظر سے پری کو دیکھا اور سَحر کے قریب آیا پھر اس کی چادر کا پلو پکڑے کر آنکھوں سے لگایا ۔
" سلام ، بھابھی۔"
" یہ کیا کر رہے ہو، لالہ ؟" ماہرخ نے تعجب سے پوچھا۔
" بھائی نے کہا تھا عزت سے ملنا۔ بھابھی ،ماں ہوتی ہے۔"
" آپ بیٹھیں ہم چائے بناتے ہیں۔ " سَحر نے تکلف سے کہا تو وہ ہنس دیا۔
" ارے بھا بھی، چھوڑیں چائے کو آپ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟"
" ہم؟ لالہ ! وہ ہم بھابھی کو رائفل چلانا سکھا رہے ہیں۔" پلوشہ نے آنکھیں سحر پر رکھ کر کہا۔
" باری بھابھی کی ہے؟ چلیں بھابھی! ذرا مجھے بھی دکھائیں ۔" وہ سَحر کے ہاتھ میں بندوق دیکھ کر بولا۔ ان تینوں نے اس کا سحر کے ساتھ اتنا نرم انداز دیکھا تو چونک گئیں۔
" ہم سے یہ سب نہیں ہونے والا، مرتضیٰ ۔ اس کے جھٹکے سے ہماری بازو ٹوٹ جائے گی۔" اس نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔
" اچھا اس کو چھوڑیں ، یہ پکڑیں ۔" اس نے سَحر کے ہاتھ سے رائفل لے کر رکھی اور اپنی واسکٹ سے گلاک 19 نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔
" بندوق چلانے کا ایک اصول ہے۔ آپ بس سوچیں کہ سامنے مٹی کے برتن میں کوئی ایسا قید ہے جس نے آپ کو بہت دکھ دیے ۔ جس نے آپ کو بہت رلایا، بہت ازیت دی ۔" سَحر نے چونک کر اس کا چہرہ دیکھا۔
" ہاں، سب کی زندگی میں ایک ایسا انسان ہوتا ہے جس سے وہ نفرت کرتا ہے۔ اب آپ چلائیں گولی۔" اس نے گن کی نال کو مٹی کی ہانڈی کی طرف کیا۔
" شوٹ !" مرتضیٰ کی بلند آواز پر سَحر نے ٹریگر دبایا اور ایک دھماکے کی آواز سے مٹی کے ٹکرے صحن میں بکھرے۔ پلوشہ خوشی سے اچھلنے لگی تھی۔
" واہ سَحر، تم تو سیکھ گئی۔" مرتضیٰ نے ایک نظر پلوشہ کو اور دوسری مگر گہری نظر سے سَحر کو دیکھا جو چند لمحے بالکل ساکت کھڑی رہی پھر بےیقینی سے ہنس دی۔ اب وہ سنبھل کر دوبارہ پستول کی نال اٹھاتی، نشانے پر آنکھ جماتی اور گولی چلاتی۔کچھ ہی دیر میں وہ دونوں کے ساتھ برابر کی شریک ہو گئی۔ قہقہے، شور اور گولیوں کی آوازوں سے صحن گونج اٹھا۔
ایسے میں مؤذن کی پُرسوز آواز ابھری،
"الله اكبر ۔۔۔ الله اكبر۔۔۔" سَحر نے فوراً گن رکھ دی۔
" ہم نماز پڑھ کر آتے ہیں۔" وہ وضو کے لیے باتھروم کی طرف بڑھ گئی۔ ماہرخ اور پلوشہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
" ویا ۔۔۔ " مرتضیٰ فون پر بات کرتے گھر سے باہر نکل گیا تھا۔ سحر وضو کر چکی تو پلواشہ اس کے قریب آئی۔
" تمہیں بھی لالہ نے فورا فورا نماز پڑھنے کی عادت لگا دی ؟" پلوشہ نے پیچھے سے سوال کیا۔
" جی، اول وقت میں نماز پڑھنا پہلی آواز پر جی کہنے جیسا ہوتا ہے۔ " سحر نے مسکرا کر جواب دیا۔
" ہمم ، مجھے دکھ رہا ہے کہ لالہ نے تم سے شادی کیوں کی ہے ؟ لالہ نے جب سے آغا کے پاس جانا شروع کیا ہے تب سے وہ بہت نماز والا ہو گیا ہے۔ " نماز اور ارتضیٰ، دونوں سحر کے لیے ایسا موضوع تھے جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ یہ کسی طرح بھی ایک دوسرے سے جدا تھے، نہ ہو سکتے تھے۔۔۔ مگر پلواشہ کے لہجے میں اس کے لیے کوئی فخر نہیں بلکہ طنز تھا۔
ارتضیٰ حسن، اس کو خدا سے ملوانے کے لیے اس کی زندگی میں آیا تھا۔
وہ صحیح کہتاتھا، خدا تو تھام لیتا ہے۔۔۔
ہاں، خدا واقعی تھام لیتا ہے۔۔۔ لیکن ان کو جو اس کی طرف آنا چاہیں۔
ابھی وہ سب نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ دروازے پر ایک خوفناک دستک ہوئی، سحر نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو سامنے حسن کھڑے تھے۔ ان کا چہرہ غصے سے تپا ہوا تھا اور آنکھوں میں اتنی وحشت تھی کہ سحر کی مسکراہٹ بجھ گئی۔
" میری بیٹیاں کہاں ہیں؟"ان کی گرجدار آواز کی ہیبت تھی کہ سحر کے الفاظ حلق میں اٹکے ، اس نے پیچھے کی طرف اشارہ کر دیا۔ وہ اسے دھکیل کر طوفان کی طرح آگے بڑھے۔
" کس سے پوچھ کر تم نے حویلی سے قدم باہر رکھا ہے؟" حسن نے سامنے بیٹھی پریوش کے قریب جاتے پوچھا۔
" ابا سائیں، لالہ نے بلایا ۔۔۔ " پریوش نے صفائی دینا چاہی تھی کہ انہوں نے اس کے چہرے پر ایک زناٹے دار تھپڑ دے مارا۔
" تو نے میری اجازت کے بغیر قدم باہر کیسے نکالا؟
مرتضیٰ سے کہتا ہوں میں، ٹانگیں توڑ دے گا وہ آج تیری۔" وہ اسے بالوں سے پکڑ کر گھر سے باہر لے گئے۔ سحر کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔اس نے کبھی کسی باپ کو اپنی بیٹی سے ایسا سلوک کرتے نہیں دیکھا تھا۔ شور سن کر پلوشہ اور ماہ رخ کمرے سے باہر نکل آئیں۔ حسن اسے چھوڑ کر واپس آئے۔
" دونوں چادریں لے کر باہر آؤ ۔" وہ کہہ کر چلے گئے تھے۔ سحر نے اچھنبے سے ان کے رویے کی منافقت دیکھی۔ وہ دونوں تیزی سے باہر نکلی، ماہرخ جاتے ہوئے پریوش کی چادر ساتھ لے گئی۔ گھر فوراً خالی ہوا تو سحر نے بھاگ کر ارتضیٰ کو کال کرنے کا سوچا مگر اسے طویل سفر کی پریشانی سے بچانے کے لئے فون واپس رکھ دیا۔
☆ ☆ ☆
مغرب کی اذان کے بعد سائے گہرے ہو رہے تھے تبھی مرتضیٰ گھر پہنچ گیا۔ ہاتھ میں کھانے کے تھیلے تھے اور چہرے پر بھائی کے حکم کی تعمیل کا سکون ۔ دسترخوان پر دونوں نے خاموشی سے کھانا کھایا،رخصت ہوتے وقت مرتضیٰ دہلیز پر رکا اور ایک گہری، محترم نظر سے سحر کو دیکھا۔
" آپ اندر سے دروازہ بند کر لیں۔ کچھ بھی چاہیے ہو تو بس ایک آواز دیجئے گا۔ میں باہر ہی ہوں۔"
" باہر ؟" سحر حیرانی سے بولی۔
" جی، بالکل ایک چوکیدار کی طرح۔" اس نے اپنی ازلی لاپرواہی سے کہا۔
" اس کی ضرورت نہیں ہے، مرتضیٰ۔ ہم سنبھال لیں گے۔ بس دروازہ لاک کرنا ہی کافی ہوگا۔"
" مجھے بھی یقین ہے کہ آپ ہمت والی عورت ہیں لیکن بھائی کا دل نہیں مانے گا ۔ پچھلے حملے کے زخم ابھی تازے ہیں ۔میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا۔ میرے بھائی کی جان بستی ہے آپ میں!"
" لیکن آپ تھک جائیں گے ،کسی گارڈ کو کہہ دیتے ہیں۔" مرتضیٰ کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آئی، آنکھوں میں عجیب سی عقیدت بھری چمک ابھری۔
" بھابھی ! میرا بھائی اگر مجھے کوہِ قراقرم کی برف باری میں بھی کھڑا ہونے کا کہے گا تو میں آپ کو وہیں ملوں گا۔ میرا بھائی میری زندگی کا وہ چراغ ہے جس کو تیل دینے کے لیے میں اپنی رگوں سے خون بھی نکال کر بیچ سکتا ہوں۔" وہ اتنا کہہ کر دہلیز پار کر گیا۔
☆ ☆ ☆
رات گہری ہوتی گئی اور گھر میں خاموشی چھائی رہی، مرتضیٰ باہر جیپ کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا، کھلے دروازے کی کھڑکی میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے سگریٹ پھونک رہا تھا۔ سَحر اپنے کمرے میں بیٹھی کپڑے سمیٹ رہی تھی۔
ارتضیٰ کے کپڑے رکھنے کے لیے الماری میں جگہ بنانے لگی توالماری کے ایک کونے سے اسے بھورے چمڑے کی پرانی سی ڈائری نظر آئی۔ گرد آلود، مگر جیسے اپنے اندر کئی راز چھپائے بیٹھی ہو۔ سَحر کے ہاتھ ایک پل کو رکے، پھر انجانے تجسس نے اسے ڈائری اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ وہ آہستگی سے بیڈ پر جا بیٹھی اور ڈائری کھولی۔
پہلا ہی صفحہ پڑھتے ہوئے اسے حیرت کے جھٹکے لگے۔
"اماں سے محبت ہمیشہ کمزور سی لگتی ہے۔ کاش ایک بار وہ میرے سر پر ہاتھ رکھتیں، ایک بار میری کامیابی دیکھ کر مسکرا دیتیں۔وہ میری ہر خوشی، ہر خواہش کے بیچ دیوار کیوں کھڑی کر دیتی ہیں؟"سَحر کے ہونٹوں پر ہلکی لرزش ابھری۔ وہ اگلا صفحہ پلٹ گئی۔
"جب بھی میں کسی امتحان میں کامیاب ہوتا ہوں تو سب سے پہلے دل چاہتا ہے اماں کو جا کے بتاؤں۔ مگر وہ بس ایک ٹھنڈی نظر ڈال کر کہتی ہیں، ‘ٹھیک ہے۔’ کبھی فخر کی وہ چمک نہیں دیکھی جو دوسروں کی ماؤں کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کیا میری اماں مجھ سے پیار نہیں کرتیں؟" سَحر کی آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے۔ وہ چاہ کر بھی سوچ نہ سکی کہ یہ مضبوط اور نرم مزاج سا شخص اندر سے اتنا تنہا بھی ہو سکتا ہے۔ چند اور صفحات پلٹے تو دل جیسے لرزنے لگا۔
"اللہ۔۔۔ میں تجھے تیرے محبوب ﷺ کا واسطہ دیتا ہوں۔ مجھے اپنی محبت عطا کر۔ مجھے وہ ذائقہ چکھا جو دنیا کی ساری محبتوں کو بھلا دے۔ میں تیرا ہو کر جینا اور تیرے نام پر مرنا چاہتا ہوں۔" مزید کچھ صفحے پلٹنے کے بعد اس پر ایک اور راز آشکار ہوا۔
" الله تعالیٰ ! میں نے اتنی کوشش کی۔ ۔ ۔ مگر میں پری کو ابا کو قہر سے نہیں بچا پایا۔ میں نے تو ان دونوں کو سب کی نظروں سے چھپا لیا تھا، اگر تو چاہتا تو وہ ابا کے ہاتھ نہ لگتے۔ ۔ ۔ پر میری تگ و دو تیرے فیصلوں کے سامنے خاک ہے ، میرے مالک ! "
" آج میں نے اپنے پاؤں میں پڑی، سرداری اور روایت کی زنجیر توڑ دی۔ ابا نے کہا کہ پری کا نکاح چھپانے کا جرم کیا ہے میں نے۔ ان کا فیصلہ اٹل تھا کہ حویلی میں یا تو ارتضیٰ حسن رہے گا یا پری اور اس کے وجود میں پلتی سلیمان کی اولاد۔ میں اسے اس حالت میں، بیوگی کا دکھ اٹھانے کے بعد ، اب حویلی کے سائبان سے محروم نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میں نے حویلی کی چھت پری کے نام کر دی اور خود کو اس مٹی سے بے دخل کر لیا ۔ "
اور چند ہی صفحے مزید پلٹنے کے بعد اس نے خود کو بھی اس خاص واقعات کے مجموعے کا حصّہ پایا۔
"یا اللہ! میں نہیں جانتا وہ لڑکی کون ہے؟ نہ اس کے بارے میں کچھ جانتا ہوں۔۔۔ مگر میرا دل اب میرے اختیار میں نہیں رہا۔ اگر اس کے قریب گیا تو مریض بن جاؤں گا، اور اگر پیچھے ہٹا تو گناہگار۔ مجھے میرے نفس پر غالب کر دے۔ اے رب! وہ کسی اور کی امانت ہے، مجھے بس اس کی مدد کرنی ہے۔۔۔ محبت میں نہیں پڑنا۔"
سحر کے ہاتھ کانپ گئے۔ ڈائری اس کی گود میں دھری رہ گئی۔ یہ شخص ۔۔۔ کتنا مختلف تھا۔
" اے میرے رب! میں اسے شادی شدہ سمجھ کر اس سے دور بھاگ رہا تھا مگر وہ تو طلاق یافتہ ہے۔اگر اب بھی میں اس کے پاس جاتا رہا تو مریض ہو جاؤں گا۔ یا الله ! مجھے اس شہر کے فتنوں سے بچا۔۔۔ میں تیری مخلوق کی مدد کر رہا ہوں، مگر میرے دل پر اب میرا اختیار نہیں ہے۔"
" یا الله۔ ۔ ۔ میں نے تجھ سے دعا کی تھی کہ مجھے سحر سے محبت نہ ہو۔ تو نے وہ دعاقبول نہیں کی اور آج میں وہی عورت تجھ سے مانگ رہا ہوں۔ مجھے وہ لڑکی عطا فرما جسے دیکھتے ہی دنیا کی آوازیں مدھم ہو جاتی ہیں۔ جس کے چہرے کے زخموں پر خود مرہم رکھنے کو جی چاہتا ہے۔ یا اللہ! مجھے سحر سراج عطا کر۔ میں اسے اتنی محبت دوں گا کہ داؤد جیسے شخص کی دی ہوئی ہر اذیت وہ بھول جائے گی۔" سحر کے ہاتھ بے اختیار لرزنے لگے، دل مطمئن ہوتا جا رہا تھا۔ آنکھوں سے آنسو ٹپک ٹپک کر کاغذ میں جذب ہو رہے تھے۔
" یا اللہ! میری نظر کو پاک رکھ اور میرے نصیب میں سحر سراج لکھ دے۔ میں اسے اس کے زخموں کے ساتھ قبول کر لوں گا۔ میں اسے چاہتا ہوں۔۔۔ اس کی معصومیت، اس کی صاف گوئی، اس کی شفاف دلی کی وجہ سے اور اگر اس میں کوئی خامی بھی ہے تو میں اسے اس کی ہر برائی کے ساتھ قبول کر لوں گا۔"
اور پھر قلم کی سیاہی میں شکر کے الفاظ اترنے لگے۔
" یا اللہ! میں تیرے آگے اس قدر جھک گیا ہوں کہ اگر پوری زندگی تیرا شکر ادا کروں ، اور شکر کرتے کرتے مر جاؤں، تب بھی کم ہے۔
تو نے میری دعا قبول کی، میری پسندیدہ عورت میرے عقد میں دے دی۔ تو نے میرے دل پر رحم کیا اور مجھے اس محبت سے دور کرکے کسی کڑے امتحان میں نہیں ڈالا۔ یا اللہ !تو ہی سب سے بڑا کارساز ہے۔" سَحر نے ڈائری بند کی۔
کیا کوئی اس جیسی گناہگار اور عام سی لڑکی کو بھی اس طرح اپنے رب سے مانگ سکتا تھا ؟
وہ غیر شادی شدہ ہوتے ہوئے ایک طلاق یافتہ لڑکی کو بیاہنے کے لیے اتنے جتن سے دعائیں کرتا تھا؟
یہ شخص کون تھا؟ جسے بدن کی ہوس نہیں تھی۔ جسے کسی چیز سے فرق نہیں پڑتا تھا۔
☆ ☆ ☆
رات کے تین بج رہے تھے۔ پورا گھر اندھیرے اور سکون میں ڈوبا ہوا تھا۔ نیند نہ آنے کی وجہ سے سحر ٹی وی پر کوئی ڈرامہ لگائے بیٹھی، اپنی زندگی کے سب سے بڑے سچ کو ہضم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ بہت کوشش کے بعد بھی دل نہ لگا تو اس نے فون اٹھایا اور ارتضیٰ کو کال کی۔
"السلام علیکم!" اس نے اپنے لہجے کو حد درجہ نرم اور شوخ رکھا۔ کچھ لمحوں تک دوسری طرف گہری خاموشی رہی۔ صرف اس کی سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔
" ہیلو؟ کیا ہوا، خاموش کیوں ہو گئے آپ؟"
"وعلیکم سلام ! خاموش نہیں ہوا، سحر میں آج آغا کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ نماز روح کی غذا ہے۔۔۔لیکن اب سمجھ آیا کہ روح کو غذا نماز نہیں دیتی،نماز میں ملنے والی محبت دیتی ہے۔" سحر نے پلکیں جھپکیں۔ اس کو اب ارتضیٰ کی ان باتوں کی عادت ہو چکی تھی۔ وہ جب بھی تنہائی ،میں کچھ وقت گزارتا تھا، اس پر معرفت کے نئے انکشاف ہوتے تھے اور وہ ان سب کو سحر سے بانٹنا پسند کرتا تھا۔
" ہم لوگ سمجھتے ہیں نماز صرف فرض ہے۔۔۔ ذمہ داری ہے۔۔۔ پر اصل راز یہ ہے کہ نماز وہ جگہ ہے جہاں اللہ ہمیں محبت دیتا ہے۔
وہ محبت جو انسان کو اندر سے بھر دیتی ہے۔
ہم خالی دامن لے کر اس کے پاس جاتے ہیں ۔
اور وہ ہمارا دامن بھر دیتا ہے، محبت سے اور ہم اس محبت کو سکون کا نام دے دیتے ہیں۔
ہم نماز کو روح کی غذا سمجھ لیتے ہیں حالانکہ غذا تو وہ محبت ہوتی ہے جس سے اللہ تعالی ہمارا دامن بھر دیتا ہے ۔" اس کے لہجے میں ایک عجیب سی نرمی اُتری ہوئی تھی۔ وہ جائے نماز سے اٹھ کر اب اسے تہہ کر رہا تھا۔
" روح کی غذا محبت ہے، سحر۔
اللہ کی محبت۔۔۔"
" آپ ٹھیک تو ہیں ؟"
" شاید میں آپ کو مس کر رہا تھا، آپ کی آواز سنی تو جیسے بے چین روح کو قرار سا آ گیا ہے۔ اسے بھی تو محبت کہتے ہیں۔"
" اچھا چھوڑیں یہ سب باتیں۔ آپ بتائیں کیسی ہیں آپ ؟"
" ہم بہت اچھے ۔" سحر نے آنکھوں میں موجود نمی چھپانے کے لیے کھلتی آواز میں کہا۔
" اچھا، مجھے لگا آپ کہیں گی کہ ارتضیٰ ہم آپ کے بغیر اداس ہیں۔"
" اتنی بھی عادت نہیں پڑی آپ کی کہ ایک دن میں اداس ہونے لگیں۔"
" آپ ابا سے ڈر گئی تھیں؟" سحر کو اس سوال کی توقع نہیں تھی، وہ اس کی اداسی بھانپ گیا تھا۔
" نہیں، ہم نہیں ڈرے مگر ۔۔۔ آپ کو کیسے پتا لگا؟"
" فراز نے بتایا تھا۔"
" آپ کو انہیں ایسے گھر کے باہر نہیں بٹھانا چاہیے تھا۔کل صبح لینے آ جاتے ہمیں ۔"
" مرتضیٰ گھر کے باہر بیٹھا ہے؟ میں نے اسے نہیں کہا۔ فجر کے فوراً بعد یعنی پو پھوٹتے ہی ، آپ تیار رہیے گا آپ کو اس کے ساتھ لاہور آنا ہے۔"
" ہم نے کب کہا کہ باہر مرتضیٰ ہیں؟"
" کیونکہ اس کے علاوہ کوئی مجھے بتائے بغیر ایسا نہیں کرے گا۔ میں نے اس کو کہا تھا کہ آپ اب اکیلی ہیں تو مجھے آپ کی فکر ہو رہی ہے، آپ کو وقت پر کھانا پہنچا دے ۔ اور وہ پاگل خود ہی چوکیداری کرنے پہنچ گیا۔"
" ہمیں نہیں جانا، لاہور! ہمیں نفرت ہے لاہور سے۔" اس نے بات کا رخ پلٹا ۔
" میں بلاؤں گا تب بھی نہیں آئیں گی؟" وہ کچھ دیر خاموش رہی، آنسو صاف کیے اور ایک گہرا سانس لے کر بولی ۔
" آپ کے بلانے پر تو ہم فرات و نیل میں بھی اتر آئیں گے۔" ایک جاندار مسکراہٹ اس کے
نازک لبوں پر بکھری۔
" مطلب آپ آئیں گی ؟"
" آف کورس !"
" زار دے شم ! ( قربان جاؤں !) "
" کیا؟"
" تیار رہیے گا، خدا حافظ!"
" اللہ حافظ!"
☆ ☆ ☆
فجر کی نماز ختم کر کے ابھی وہ جائے نماز سمیٹ ہی رہی تھی کہ صحن میں گاڑی کے رکنے کی آواز آئی۔ وہ نکل کر کمرے سے باہر آئی ۔
" تیاری مکمل؟ " مرتضیٰ نے سَحر کی طرف دیکھا۔ وہ خاموشی سے مسکرا کر سر ہلا گئی۔ اس کے سر پر رکھا سیاہ دوپٹہ دیکھ کر اسے اپنے زخم کی یاد آئی۔ اسے تکلیف میں دیکھ کر اس نازک سی عورت کی آنکھ میں پانی آنا محض اتفاق نہیں تھا، وہ احساس کرنے والوں میں سے تھی۔۔۔ وہ ایک سچی عورت تھی۔ اس کی اپنی ماں سے زیادہ سچی۔
چائے کے مختصر وقفے کے بعد وہ باہر نکلے۔ مرتضیٰ نے پہلی بار آگے بڑھ کر کسی عورت کی تعظیم میں اس کے لئے دروازہ کھولا۔ تبھی اسے ڈیش بورڈ پر رکھی اپنی سیگرٹ کی ڈبی نظر آئی۔ سحر گھر کو تالا لگا رہی تھی، اس نے تیزی سے وہاں سے ڈبی غائب کی۔ سحر گاڑی میں آ بیٹھی اور گاڑی دھیرے دھیرے گلیوں سے نکل کر ہائی وے پر دوڑنے لگی ۔ سَحر خاموش بیٹھی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اسے پہلی بار سفر میں بوریت کا احساس ہوا۔
" بھابھی، آپ خوش ہیں بھائی کے ساتھ ؟"
" الحمد اللہ ، خدا کا احسان ہے کہ ہمیں ارتضیٰ ملے۔"
" اُس کا بھی یہی حال ہے ۔" سَحر نے تعجب سے اس کا چہرہ دیکھا۔
" اچھا بھابھی، آپ ۔۔۔ عم۔۔۔ میں کہنا چاہ رہا ہوں کہ آپ کو حویلی میں جگہ نہیں ملی بلکہ ایک چھوٹے سے گھر میں۔" اس کے اٹکنے سے معلوم ہوتا تھا کہ اس کے پاس بات کرنے کو موضوع بہت مختصر تھے۔
" مرتضیٰ ، ہمیں آپ کے بھائی کا ساتھ چاہیے ۔ ہم محل میں بھی اذیتوں سے گزرے ہیں ۔ ہمیں وہ پُرسکون چھوٹا سا گھر بہت عزیز ہے۔ اور وہ آپ کو چھوٹا لگتا ہو گا ہمارے لیے وہ کافی ہے۔ ہم اس گھر میں رہنے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔"
" تو بھائی آپ کے ڈریم پارٹنر ہیں؟"
" اگر ہم ہاں کہیں تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ مرتضیٰ ۔۔۔ سچ کہیں تو ہم جب بھی اپنے ہمسفر کے لیے خدا سے دعا کرتے تھے بس یہی کہتے تھے کہ ہمیں کوئی خوبصورت ، ہینڈسم ، مسکلر، یا کوئی امیر زادہ نہیں چاہیے۔ " وہ کچھ پل خاموش رہی ۔
" ہمیشہ خدا سے اپنے ہمسفر کے لیے ایک ہی چیز مانگنی چاہیے کہ وہ اعلیٰ ظرف ہو ۔ کیونکہ زندگی خوبصورتی ، پیسے اور مسلز کے سہارے نہیں گزرتی ۔ آپ کو ایک ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو درگزر کرے۔ جو آپ کی چھوٹی موٹی غلطیوں کو معاف کرنے کا ظرف رکھتا ہو ۔ جو آپ کو روبوٹ نہیں انسان سمجھے اور غلط کرنے کی گنجائش دے۔" اس نے مرتضیٰ کی طرف دیکھا تو آنکھیں نم تھیں۔
" ارتضیٰ ایسے ہی ہیں، وہ ہماری چینی کے بغیر والی چائے میں خود اٹھ کر چینی ڈال لیتے ہیں۔ ہمیں کھانا پکانا نہیں آتا تو خود پکا لیتے ہیں۔ ہم سے ان کی پسندیدہ تسبیح ٹوٹی تو انہوں نے ہمیں کسی لقب سے نہیں نوازا ۔ وہ اعلیٰ ظرف ہیں۔
مردوں کو اعلیٰ ظرف ہی ہونا چاہیے ورنہ عورت ان کی حاکمیت میں ماں بھی ہوتی ہےاور بیوی بھی مگر کبھی انسان نہیں بن پاتی۔
اعلیٰ ظرف مردوں کے ہاں عورتیں ضائع نہیں ہوتیں۔
ارتضیٰ حسن کے ساتھ زندگی ضائع نہیں ہوگی۔"
" لیکن بھابھی ، آپ کو میری اماں تو بری لگتی ہیں ناں؟" اس نے ماحول کا تناؤ کم کرنے کے لیے سوال بدلا۔
" نہیں ۔"
" جھوٹ مت بولیں۔ ایک تو وہ آپ کی ساس ہیں ،اوپر سے انہوں نے آپ کو جلایا اور آپ کو حویلی سے بھی نکالا۔"
" ہمیں وہ بری نہیں لگتیں ۔ بس ان سے تھوڑا خوف محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اگر ارتضیٰ کے ساتھ رہنے کی قیمت ان کے ساتھ رہنا ہوتا تو ہم خوشی سے رہ لیتے۔"
" آپ مجھ سے تنگ تو نہیں ہو رہی ہیں؟ اگر ہو رہی ہیں تو بتا دیں، میں چپ ہو جاؤں گا مگر بھائی کو نہ بتانا، مار ڈالے گا؟"
" وہ مار سکتے ہیں آپ کو؟"
" ہاں، آپ کے آنے کے بعد نہ ممکن چیزیں ہونے لگی ہیں۔
جب آپ کے پیچھے دستار چھوڑ سکتا ہے تو کچھ بھی کر سکتا ہے ۔" سَحر خاموش ہو گئی بس اس کا چہرے دیکھتی رہی پھر کھڑکی کی طرف چہرہ موڑ لیا۔ رخساروں پر گلال اتر آیا تھا۔
" آپ اپنے بھائی سے یکسر مختلف ہیں۔"
" ہاں جانتا ہوں۔
" بھائی کو دستار لے لینی چاہیے۔ میرا دستار پر کوئی حق نہیں ہے۔"
" سرداری کی خواہش تو سب کو ہوتی ہے۔ آپ کو کیوں نہیں ؟"
" سرداری کی خواہش ہمیشہ سے ہے مگر بھائی کے سر سے اتری ہوئی دستار پہننے کی نہیں ہے۔"
" آپ اپنے بھائی سے بہت پیار کرتے ہیں؟"
" میں اپنے سب رشتوں سے، ماں، باپ، بہنیں، بھائی اور اب آپ بھی، میں سب سے ہی بہت پیار کرتا ہوں۔ لیکن بھابھی یہ دستار قیمت مانگتی ہے۔ خون کی، رشتوں کی، انصاف کا جنازہ اٹھانا پڑتا ہے۔ اور میں ظالم نہیں ہوں۔ کسی بے گناہ کی جان نہیں لیتا اور گناہگار کو عہدے کا رتبے کی خاطر بخشش کا حق بھی نہیں دیتا۔" اس کی گرفت اسٹیرنگ پر سخت ہوئی۔
" سچ کہو تو یہ دستار۔۔۔ جو اپنی بہن سے ساری زندگی کے لئے لا تعلق کر دے، جو دین پر چلنے کی وجہ سے اپنے ہی بیٹے کو گھر سے نکال دے، جو اپنا حق مانگنے پر معصوم لوگوں کی فصل کو آگ لگا دے
اور جو پسند کی شادی کرنے پر بیٹے کی دستار اتار دے، نہیں چاہیے ایسی دستار ۔۔۔"
" لیکن مرتضیٰ آپ اپنی سرداری میں یہ سب ٹھیک کر سکتے ہیں۔ آپ خود کو منصف اور رحم دل بنا کر سب تبدیل کر سکتے ہیں۔ " سحر نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
" آپ لوگوں کو ان کا حق واپس کر کے سب ٹھیک کر دیں۔ ارتضیٰ دستار کو چھوڑ رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس ہم وجہ ہیں پر آپ کے پاس کوئی وجہ نہیں، آپ دستار پہنیں اور سب ٹھیک کر دیں۔ پھر ہم خود آپ کی شادی کسی حسین لڑکی سے کروائیں گے ۔" شادی اور حسین لڑکی سنتے ہی مرتضیٰ کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ آئی ۔
" میری شادی کی فکر چھوڑ دیں، بھابھی ۔۔۔ میں تو لالہ کو دیکھ کر ہی رج گیا۔
ایک دفعہ کیا ہوا۔۔۔ لالہ نے مجھے کسی کام سے لاہور بلایا تھا۔ وہ کام زرہ لیٹ ہو گیا تو میں رات وہیں رک گیا۔ اب رات کو ہم مووی دیکھ رہے تو بار بار اپنا فون دیکھے۔۔۔ بار بار۔ میں تنگ آیا تو پوچھا بھائی کیا تکلیف پیش آئی ہے؟
کہنے لگا انہیں کوئی مسئلہ پریشانی ہوئی تو میسج کریں گی۔ کال نہیں کرتیں۔"
" میں کہا بھائی تو تم نوٹیفیکیشن آن رکھو۔ ایسے جلے پیر کی بلی کیوں بنے ہو تو بھی نہیں سنا ۔ لیکن اس دن مجھے یہ سمجھ آ گیا تھا کہ لالہ عاشق بن چکا ہے۔ میری اس عشق معاشقے سے پہلے بھی نہیں لگتی تھی مگر لالہ کو دیکھنے کے بعد۔۔۔ توبہ رب سائیں۔" اس نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
" آپ کے پاس بہت انفارمیشن ہے۔" سحر نے مسکرا کر اسے سراہا۔
" ہاں مجھے سب معلوم ہوتا ہے۔ میں تو داؤد ۔۔۔" وہ ایک دم خاموش ہوا تو سَحر نے بری طرح چونک کر اس کا چہرہ دیکھا۔ دونوں کو مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔
مرتضیٰ کی آنکھو ں کے سامنے ایک منظر آیا ۔
نکاح کے دن ارتضیٰ اور سَحر کی گاڑی گھر سے نکلی تو اس کی نظر سحر پر گئی پھر ارتضیٰ پر جس کے چہرے پر تھکن اور کرب تھا۔ مرتضیٰ کے خون میں ابال اٹھا۔ گاڑی کے گلی سے باہر نکلتے ہی وہ طیش میں جیپ سے اترا اور داؤد کے گھر داخل ہوا۔ یونس نے اسے دیکھا تو فوراً اس کے پاس آئے لیکن وہ ان کو نظر انداز کر کے بپھرے ہوئے بھیڑیے کی طرح اندر کی جانب بڑھا۔
لاؤنج میں سامنے صوفے پر داؤد بیٹھا سگار کے دھوئیں میں اپنی انا پال رہا تھا ۔ مرتضیٰ نے قریب جاتے ہی اسے گریبان سے گھسیٹ کر اٹھایا اور کسی وحشی عقاب کی طرح اس کے منہ پر مکے برسانا شروع کیے ۔ داود نے ہڑبڑا کے اسے دیکھا لیکن سنبھل کر اس سے خود کو چھڑوایا اور ہاتھ پیر مارنے لگا۔
" میرے بھائی کو اذیت دینے والے کی جگہ زمین کے اوپر نہیں، نیچے ہے!" مرتضیٰ دھاڑا اور داؤد کے چہرے پر ٹھپ، ٹھپ، ٹھپ مکے برسنے لگے ۔ چہرے پر سرخ دھبے ابھرتے گئے اور سانس بے ربط ہونے لگی ۔
" یونس۔۔۔ یونس ۔۔۔ کہاں مر گیا ۔۔۔ ؟" داؤد نے خون تھوکتے ہوئے چیخ کر پکارا مگر باہر سے کوئی جواب نہ آیا۔
" ابے کون ہے تو ؟"
" تیری موت! " مرتضیٰ رکنے کی قوت ہی کھو بیٹھا تھا ۔ غصے سے جواب دے کر ، اس کے اوپر سوار وہ پھر اسے پیٹنا شروع ہوا۔ چہرہ روشنی میں تیکھا، آنکھوں میں غیرت کی آگ لیے، وہ اپنے بھائی کے رقیب سے بدلہ لے رہا تھا۔
"میں تیری جان لے لوں گا۔" اس نے اپنی گن نکال کر لوڈ کی تو پیچھے سے یونس نے سختی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
" اسے چھوڑ دو مرتضیٰ ، اب اس کی سَحر تک رسائی ممکن نہیں ۔ اب یہ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ جاؤ مرتضیٰ ورنہ تمھارا باپ سَحر اور ارتضیٰ کے ساتھ بھی وہی کرے گا جو اس نے حاجرہ اور میرے ساتھ کیا تھا۔۔۔ اسے چھوڑو ، تم جاؤ ۔۔۔"
" تو آپ دونوں بھائیوں میں بہت راز و نیاز ہوتے ہیں ؟" سَحر کی آواز پر مرتضیٰ کی نظروں سے منظر تحلیل ہوا ۔
" جی، لیکن بھابھی، اس نے مجھے ایک کمزور لمحے میں یہ سب بتایا۔ اس نے کہا تھا کہ داؤد نے آپ
کو اتنے زخم دیے ہیں کہ شاید اب آپ بھائی سے شادی نہ کریں۔ شاید آپ شادی کے نام سے ڈر جائیں۔ " وہ کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھتا رہا پھر گاڑی کی رفتار کم کردی۔
" ہم نہیں بتائیں گے ، ارتضیٰ کو۔ " مرتضیٰ کا چہرہ کھلا، روشنی واپس آئی ۔
" آپ کو بھائی اور داؤد میں کیا فرق لگتا ہے ، مطلب داؤد تو۔" سَحر نے اس کا چہرہ دیکھا۔
" ہاں، داؤد اور ارتضیٰ میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔
داؤد کے اندر جہالت بھری پڑی تھی جبکہ ارتضیٰ حکمت سے کام لیتے ہیں۔
داؤد بزدل تھا اور ارتضیٰ ۔۔۔ وہ شجاع ہیں
داؤد شہوت پرست تھا جبکہ ارتضیٰ میں عفت و پاکدامنی پائی جاتی ہے ۔
داؤد ظلم و زیادتی کا پیکر تھا اور ارتضیٰ ۔۔۔ ارتضیٰ انصاف پسند ہیں ۔
اور سب سے بڑی بات داؤد سے ہمیں محبت نہیں تھی ۔۔۔"
" اور بھائی سے لو میرج کی ہے ۔" وہ بلند آواز میں بولا تو سَحر بھی ہنس دی ۔
صبح کے ساڑھے سات بجے وہ کلر کہار کے مقام پر ایک ہوٹل سے ناشتہ کر رہے تھے ۔ سَحر غیر آرام دے سی بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی جب مرتضیٰ نے اس کی بےچینی کا مشاہدہ کیا ۔
" بھابھی ، کوئی مسئلہ ہے ؟"
" کہیں داؤد دیکھ نہ لے ہمیں۔ وہ ہمیں مار ڈالے گا!" مرتضیٰ نے اپنی جیب سے پسٹل نکال کر میز پر اس کے آگے ڈالی ۔
" یہ کس دن کام آئے گی ؟ جہاں نظر آئے کھوپڑی اڑا دینا باقی آپ کا بھائی دیکھ لے گا۔"
" دل تو یہی کرتا ہے مگر۔ "
" مگر کیا اتنا اچھا نشانہ تو لگا لیتی ہیں آپ۔ " وہ ایک دم سنجیدہ ہوا ۔ " آپ کے آس پاس بھی نظر آیا تو خدا کی قسم۔۔۔ مار ڈالوں گا! " وہ ہاتھ جھاڑ کر گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔ سَحر اس کے پیچھے بھاگی ۔
" قتل کرنا گناہ ہے۔ "
" زمین میں فساد ڈالنے والوں کو قتل کر دینا چاہیے۔ اور میری لغت میں بہن بیٹی کے نام پر سب جائز ہے۔" سَحر نے بےساختہ ہاتھ میں پکڑی پستول اپنی چادر میں سمیٹ لی ۔ کوئی بھروسہ نہیں یہ لڑکا کیا کر جائے ۔ مرتضیٰ نے اس کی معصوم حرکت دیکھی اور کمر کے پاس اڑی دوسری پستول کو نکلنے کے لئے ہاتھ بڑھایا پھر سر جھٹک کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ دس منٹ بعد سحر کا فون بجا۔
" السلام علیکم !" سَحر نے اپنا فون کان سے لگایا ۔
" وعلیکم السلام ، کیسی ہیں آپ ؟"
" آپ کو کیسی لگتی ہوں؟" وہ مسکرا کر بولی۔
" جانِ جہان، نورِ نظر، ماہ جبین ، نورِ چمن ، جانِ دلم ، روح حسین ۔ "
" بس بس، کام بتاؤ خان ، باتیں نہ بناؤ ۔"
" یا خدا!" وہ ہنسا ۔
" کچھ کھایا ؟"
" جی، کھایا ہے۔ "
" ابا سائیں کی کال آ رہی ہے، میں آپ سے بات کرتا ہوں۔ " اتنی ہی دیر میں مرتضیٰ کا فون بھی بجنے لگا۔ اس نے گاڑی کی سپیڈ آہستہ کی اور فون کان سے لگایا۔
" ویا ۔۔۔"
" کون سے ہسپتال ؟ میں آ رہا ہوں۔ " اس نے فون جھولی میں پھینکا اور قریبی ٹرن سے گاڑی موڑ لی۔
" کیا ہوا مرتضیٰ ؟"
" اماں سائیں کو دل کا مسئلہ ہے ان کی طبیعت خراب ہوئی ہے۔ ہم واپس جا رہے ہیں ؟"
" آپ پریشان نہ ہوں، وہ ٹھیک ہو جائیں گی ۔"
" ہمم ۔" اس نے مختصر جواب دے کر سپیڈ تیز کر دی۔ سَحر نے بے ساختہ ہو کر سیٹ بیلٹ کس لی ۔ سو کی سپیڈ میں گاڑی بھگاتے وہ ڈیڑھ گھنٹے میں صوابی میں داخل ہو چکے تھے۔
اگلے دس منٹ بعد وہ ہسپتال کی سفید، اداس راہداری میں موجود تھے ماہ رخ، گلِ جاناں اور حسن وہاں بیٹھے تھے جبکہ فراز اور مرسلین خاموشی سے ایک طرف کھڑے تھے ۔ مرتضیٰ سیدھا مرسلین کے پاس گیا۔
" کیا ہوا ہے؟" اس کی آواز میں دبا ہوا اضطراب تھا۔
" ہارٹ اٹیک بتایا ہے ڈاکٹرز نے۔" مرسلین نے سر جھکا کر جواب دیا۔
" وجہ؟"
" معلوم نہیں، سائیں۔"
" کچھ معلوم ہوتا ہے تمہیں؟" مرتضیٰ نے ماتھا مسل کے کمرے کی طرف قدم بڑھائے۔ وہ شیشے
کے پیچھے سے اپنی ماں کے ساکت وجود کو دیکھ رہا تھا جہاں مشینوں کی بیپ فضا کے سناٹے کو مزید گہرا کر رہی تھی۔
" سحر بیٹھو نا۔" گلِ جاناں کی آواز پر سحر نے گڑبڑا کر اسے دیکھا۔ گل نے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔
" السلام علیکم!" سحر کی آواز لرز رہی تھی۔
" گھبراؤ مت! ارتضیٰ راستے میں ہی ہیں، بہت جلد پہنچ جائیں گے۔" گل کا لہجہ حیرت انگیز حد تک نارمل تھا۔
" چچی ٹھیک ہیں، تم پریشان مت ہو۔"
" آپ ہم سے خفا نہیں ہیں؟"
" نہیں سحر ، میں بس اس دن شاک میں تھی اس لیے غصہ کر گئی۔ اب ایسا نہیں ہوگا اور ہاں پری کی وجہ سے بھی پریشان نہ ہونا، وہ ولن نہیں ہے وہ بھی ایک وکٹم ہے۔" سحر ابھی اس کی بات سن کر اٹھی اور دو قدم آگے بڑھی ہی تھی کہ سامنے والے کمرے سے دو ڈاکٹرز باہر نکلے۔ وہ انگریزی میں دھیمے لہجے میں بات کرتے ہوئے سحر کے بالکل قریب سے گزرے۔
" Yes, I am certain there are signs of physical abuse .Look at the marks on her wrist and neck."
(مجھے یقین ہے کہ ان پر تشدد ہوا ہے۔ گردن اور کلائیوں کے نشانات دیکھو )
ان کی بات سن کر لمحے بھر کو سحر کا خون منجمند ہوا۔ اس نے بے اختیار اپنی کلائیوں کو چادر میں چھپایا لیکن تبھی اسے احساس ہوا کہ اس کی بات نہیں کی جا رہی بلکہ اندر لیٹی مریضہ کی بات ہو رہی تھی۔ بالکل اسی لمحے حسن کی غصیلی آواز گونجی۔
" اس لڑکی کو یہاں کیوں لائے ہو؟ بہت شوق ہے نا تمہیں اس کے ساتھ چپکے رہنے کا؟ دفع ہو جاؤ یہاں سے اور اسے بھی ساتھ لے جاؤ۔" انہوں نے مرتضیٰ کو بری طرح جھڑکا۔
" ابا میں بس بھابھی کے ساتھ تھا جب گل کی کال آئی۔ میں پریشانی میں سیدھا یہاں آ گیا ۔" مرتضیٰ نے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی مگر حسن کا پارہ آسمان پر تھا۔
" اب سیدھا یہاں سے دفع بھی ہو جاؤ ورنہ میں اسے اور تجھے دھکے دے کر نکالوں گا!" انہوں نے مرتضیٰ کو بازو سے پکڑ کر دھکا دیا۔ راہداری میں موجود ہر شخص کی نظریں ان پر تھیں، ڈاکٹرز اور عملہ سہم کر رک گیا تھا مگر مرتضیٰ داد ساکت تھا۔وہ اپنے باپ کے اس تحقیر آمیز سلوک پر بھی ٹس سے مس نہ ہوا ۔ اس کے چہرے کی رگیں تنیں مگر اس کی آنکھوں میں غصہ نہیں بلکہ ایک عجب خون کے گھونٹ سی جان لیوا تابعداری تھی۔ سحر نے دیکھا کہ مرتضیٰ کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں ،وہ شاید کچھ کہنا چاہتا تھا، کوئی صفائی دینا چاہتا تھا مگر حسن نے اسے موقع ہی نہیں دیا۔
"میں نے کہا دفع ہو جاؤ!" حسن کی آواز پوری راہداری میں گونجی۔ مرتضیٰ نے ایک لفظ نہیں کہا۔ وہ مڑا اور تیز قدموں سے راہداری کے باہر نکل گیا جیسے اپنے باپ کی نظروں سے اوجھل ہو کر وہ اسے سکون دینا چاہتا تھا۔ سحر خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑی۔ آدھے گھنٹے بعد ارتضیٰ وہاں پہنچا مگر حسن نے اسے بھی ماں کے پاس زیادہ دیر رکنے کی اجازت نہ دی۔ وہ بھی بوجھل دل کے ساتھ گھر واپس لوٹ آیا۔
☆ ☆ ☆
سحر اور مرتضیٰ خاموشی سے بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ دانور کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھی۔فضا میں ایک بوجھل سی خاموشی تھی۔ارتضیٰ گھر میں داخل ہوا تو سحر نے ایک پیالی اسے بھی تھما دی۔
" ابا کو کس چیز پر غصہ ہے اب؟" ارتضیٰ نے سنجیدگی سے پوچھا۔
" معلوم نہیں !" مرتضیٰ نے سپاٹ لہجے میں کہا، نظریں چائے کی پیالی پر گڑھی ہوئی تھیں۔
" میں ایک بات پوچھوں ؟ اگر آپ لوگ برا نہ مانیں تو ۔ ۔ ۔ " سحر نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
" برا ماننے والی بات ہی نہ کریں، اس وقت دماغ پہلے ہی قابو میں نہیں ہے۔" مرتضیٰ نے تلخی سے کہا، مگر جب ارتضیٰ کی تنبیہی نظریں اس کی نظروں سے ٹکرائیں تو لہجہ نرم پڑا،" اچھا، کہیے۔"
" آپ کے بابا ۔ ۔ ۔ آنٹی پر ہاتھ کیوں اٹھاتے ہیں؟ داؤد کی طرح؟" اس کے اس سوال پر دونوں بھائی ساکت رہ گئے۔ پیالیاں تھامے ہاتھ فضا میں معلق ہوئے۔" ہمیں غلط نہ سمجھیں۔ وہ ہسپتال میں ڈاکٹرز آپس میں بات کر رہے تھے ۔ ہم نے بھی سنا کہ آنٹی کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں۔" سحر کا جملہ ابھی مکمل ہی ہوا تھا کہ مرتضیٰ ایک جھٹکے سے کھڑا ہو گیا۔ غصے کی ایک لہر اس کے ماتھے کی رگوں میں ابھری۔ وہ تیزی سے باہر کی طرف لپکا مگر ارتضیٰ نے عقاب جیسی تیزی سے اسے بازو سے دبوچ لیا۔
" چھوڑیں مجھے بھائی! بس بہت ہو گیا۔" مرتضیٰ نے خود کو چھڑوانے کی جنونی کوشش کی۔
" جذباتی ہو کر فیصلہ کرنے کا یہ وقت نہیں ہے۔" ارتضیٰ نے اسے شانوں سے پکڑ کر زور سے جھنجھوڑا جیسے اسے ہوش میں لا رہا ہو ۔
" سحر پانی لائیں اور دانور، تم جاؤ!" سحر بھاگ کر کچن سے پانی کا گلاس لائی۔ اس نے مرتضیٰ کو زبردستی کرسی پر بٹھایا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا، پورا گلاس اس کے سر پر انڈیل دیا ۔ ٹھنڈا پانی مرتضیٰ کے چہرے سے ہوتا ہوا، اس کے گریبان میں اترا تو اس نے ہکا بکا ہو کر اٹھ کھڑا ہوتے، ارتضیٰ کا چہرہ دیکھا۔
" دماغ بہت گرم تھا تمہارا ، اسے ٹھنڈا کیا ہے۔" ارتضیٰ نے اسی وقت فون نکالا اور پلوشہ کو کال کی۔ کال کٹ گئی ، پریوش کا نمبر بند تھا۔
" پری کو ابا نے کل بہت مارا تھا، اس کا فون بھی توڑ دیا۔" ارتضیٰ نے اس کی بات سنی تو آخری کوشش کے طور پر ماہرخ کا نمبر ملایا۔
" سلام لالہ!" دوسری طرف سے سہمی ہوئی آواز آئی ۔
" اماں کو کیا ہوا ہے، بچے؟ سچ بتانا۔"
" وہ۔۔۔ پری آپا آپ کے گھر گئی تھی تو ابا نے انہیں اس بات پر بہت مارا اور جب اماں بیچ میں آئی تو ابا نے کہا تم جیسی ہو ویسی ہی تمہاری بیٹی ہے۔ اماں نے بس اتنا کہا کہ ان کے کردار پر کیچڑ نہ اچھالیں تو ابا نے انہیں بھی مارنا شروع کر دیا۔ اسی دوران اماں گر گئی اور بے ہوش ہو گئی۔"
ارتضیٰ نے ہونٹ کاٹتے ہوئے فون بند کر دیا۔
" بھائی! آپ کو یاد ہے جب میں 12 سال کا تھا توابا نے مجھے دالان میں سب کے سامنے کھڑا کر کے کہا تھا کہ ' تمہاری شکل مجھ سے نہیں ملتی، جاؤ آئینے میں دیکھو تم کس کا عکس ہو؟' " وہ خود پر ہنسا۔
"اس دن سے میں نے آئینہ دیکھنا چھوڑ دیا تھا، مگر اپنی غیرت کو اتنا اونچا کر لیا کہ کوئی میری طرف دیکھ نہ سکے۔کوئی میری آنکھوں کے رنگ میں میرے باپ کا نام نہ ڈھونڈھے۔ " وہ ارتضیٰ کے بلکل سامنے کھڑا ، اس کی آنکھوں میں دیکھتے ، زہر میں بجھی ہوئی ہنسی ہنسا۔
" میں نے ان کے دشمنوں کے سر کاٹے، میں نے ان کی زمینوں کی حفاظت کی، میں نے اپنا بچپن قربان کر دیا تاکہ وہ مجھے قبول کریں۔ مگر آج۔۔۔ آج انہوں نے اماں کو ہسپتال پہنچا دیا؟ میرا سارا زور، میری ساری طاقت، میرا سارا رعب۔۔۔ سب راکھ ہو گیا بھائی! " وہ تھک کر زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھا اور بچوں کی طرح رونے لگا۔
" مرتضیٰ !"
"میں ابا کو کیسے سمجھاؤں کہ یہ سب ان کا وہم ہے؟ بولو لالہ! میں کیسے ثابت کروں؟" اس کی آواز میں ایک بچے جیسی بے بسی تھی۔ "ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ ان کے منہ پر ماری، پھر بھی انہیں یقین نہیں آتا۔ اگر میری آنکھوں کا رنگ ماں باپ کی بجائے تایا پر چلا گیا ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ کیا آنکھوں کا رنگ میری پہچان چھین لے گا؟" سحر نے اس کی بات سنی اور تڑپ کر آنکھیں میچ لیں ۔
" تم ارتضیٰ حسن ہو تو میں مرتضیٰ داد کیوں ہوں؟
میں مرتضیٰ حسن کیوں نہیں ؟" ارتضیٰ نے اسے سینے سے لگایا۔ پھر بچوں کی طرح تھپک کر اس کے چہرے سے آنسو صاف کیے۔
" میں کرتا ہوں تمہارا یقین، میرے بچے۔" ارتضیٰ نے نرمی سے اس کا گال چوما۔ اس نے اپنا بھاری ہاتھ مرتضیٰ کے لرزتے ہوئے شانے پر رکھا۔ ایک بڑا بھائی، ایک محافظ اور ایک رہنما کے طور پر۔ اس لمس میں کوئی ہمدردی نہیں تھی، بلکہ ایک عہد تھا۔
"سر اٹھاؤ، مرتضیٰ حسن خان!" ارتضیٰ کی آواز دھیمی تھی مگر اس میں وہ گونج تھی جو بکھرے ہوئے حوصلوں کو یکجا کر دیتی ہے۔
"بھائی، میں کتنا کھوکھلا ہوں نا؟" ارتضیٰ کے لبوں پر ایک تلخ مگر پر اعتماد مسکراہٹ ابھری۔
"تم کھوکھلے نہیں ہو، تم زخمی ہو۔ اور زخمی شیر جب دھاڑنا چھوڑ دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کمزور ہو گیا، اس کا مطلب ہے کہ وہ اب وار کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔"اس نے مرتضیٰ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، "تم نے کہا نا کہ تمہاری آنکھوں کا رنگ تایا جیسا ہے؟ تو سنو، آنکھوں کا رنگ وراثت ہو سکتا ہے، مگر ان آنکھوں میں موجود غیرت تمہاری اپنی ہے۔ باپ بیٹا پیدا کر سکتا ہے، مگر اس کا ضمیر اور اس کی ہمت تخلیق نہیں کر سکتا۔ تم ابا کا عکس نہیں ہو، مرتضیٰ! تم ایک یوسفزئی ہو۔" مرتضیٰ نے ایک طویل، لرزتا ہوا سانس لیا۔ اس کی نظریں ایک لمحے کے لیے سحر پر پڑیں جو خاموش آنسوؤں کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ اسے تذلیل کا احساس ہوا۔ اس نے ایک جھٹکے سے خود کو سنبھالا، چہرہ صاف کیا اور بنا کچھ کہے، تیزی سے گھر سے باہر نکل گیا۔
مرتضیٰ کے تیز قدموں کی چاپ باہر گلی میں گم ہوئی تو صحن میں جیسے حبس بڑھ گیا۔ ارتضیٰ ابھی تک وہیں فرش پر بیٹھا تھا، اس کے ہاتھوں پر اب بھی مرتضیٰ کے آنسوؤں کی نمی باقی تھی۔ اس نے اپنے لرزتے ہوئے ہاتھوں کو مٹھی میں بھینچا اور ایک لمبا، سرد سانس لیا۔سحر جو اب تک خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی، دھیرے سے اس کے قریب آئی۔ اس کی اپنی آنکھیں سرخ تھیں۔
"آپ نے انہیں جانے کیوں دیا؟" اس کی آواز میں فکر تھی۔ "وہ جس حال میں ہیں ، وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔" ارتضیٰ نے سر اٹھا کر سحر کو دیکھا جس کی آنکھوں میں وہ مخصوص ہمدردی تھی جو ان آنکھوں کا خاصا تھی ۔
"وہ کچھ کرنے نہیں گیا سحر، وہ خود کو سمیٹنے گیا ہے۔" ارتضیٰ کی آواز میں ایک عجیب سا یقین تھا۔
"کبھی کبھی انسان کو اپنی پہچان ڈھونڈنے کے لیے تنہائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ برسوں سے ایک ایسے جرم کی سزا کاٹ رہا ہے جو اس نے کیا ہی نہیں۔۔۔ آج پہلی بار اس نے وہ بوجھ میرے کندھے پر رکھا ہے۔"
"اب کیا ہوگا؟" اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔
"اب انصاف ہوگا، میں کروں گا، انصاف۔ اب مجھے بڑا بھائی ہونے کا ثبوت دینا پڑے گا۔ " ارتضیٰ نے باہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ سحر نے محسوس کیا کہ ارتضیٰ کا لہجہ جتنا نرم تھا، اس کے پیچھے چھپا ارادہ اتنا ہی فولادی تھا۔
☆ ☆ ☆
چار دن بعد ، آج گل بانو کو ہسپتال سے ڈسچارج کیا جانا تھا۔ وہ صبح نو بجے کا گھر سے گیا تھا اور اب تک لوٹ کر نہ آیا تھا۔ ارتضیٰ کے گھر آنے کا انتظار کرتے، وہ صوفے پر بیٹھ کر غنودگی میں جا رہی تھی۔ تبھی فون کی مانوس سی رنگ ٹون نے اسے بیدار کیا۔ اس نے انجان نمبر دیکھا اور فون کان سے لگایا۔
" السلام علیکم! جی کون ؟"
" وعلیکم السلام!" دوسری جانب سے سنائی دینے والا مخصوص لہجہ ۔۔۔ سحر کا سانس روک گیا۔
" د۔۔۔ داؤد ؟"
" تمھیں کیا لگا سَحر کہ میں تمھیں ڈھونڈ نہیں سکوں گا؟ میں تمھیں پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا۔ تمھیں تو تمھارا باپ بھی نہیں بچا سکتا ۔"
" داؤد ؟"
" سَحر تمھارے بابا ؟ اوہ تمھیں تو معلوم ہی نہیں ہے۔" اس کے لہجے کا طنز سَحر کو سمجھ آیا ۔
" بابا جان کہاں ہیں ؟ کیا وہ زندہ ہیں ؟" سحر کی آواز دوسری جانب کی خاموشی سن کر چیخ میں بدلی۔
" بولتے کیوں نہیں؟"
" بابا سے ملنا ہے تو پہلے مجھ سے ملنا پڑے گا۔ " داؤد سفاکی سے ہنسا۔
" معافی مانگنی پڑے گی، گڑگڑا کر معافی مانگو، پھر تمھارے باپ کو چھوڑوں گا۔"
" ہم آپ سے ملنے نہیں آئیں گے، اگر ہمارے بابا زندہ ہوتے تو ارتضیٰ ان کو ڈھونڈ نکالتے۔" اس کے حواس بیدار ہو چکے تھے۔
" اس دو ٹکے کے مرد کے لیے تم نے مجھے ناراض کیا؟ کیا ہو اگر میں اسے مار ڈالوں ؟"
" ہمارے اندر کی ایک جان تو تم لے ہی چکے داؤد، اگر تم نے ارتضیٰ کی جان لینا چاہی تو اب ہم تمھاری جان لے لیں گے۔ " دوسری طرف ایک زوردار قہقہہ سنائی دیا ۔
" ہاں، داؤد ہم سَحر سراج نہیں رہے۔ ہم سَحر ارتضیٰ حسن بن چکے ہیں۔ ہمیں اپنی طرف بڑھتے ہوئے طوفان کا رخ موڑنا آ گیا ہے ۔ "
" مجھے امید تھی کہ چڑیا کے پر نکل آئے ہوں گے۔ کچھ بھیجا ہے تمھیں، ذرا دیکھنا۔" اس کی آواز کی خباثت نے سَحر کو اضطراب میں مبتلا کیا۔ سَحر نے فون کان سے ہٹا کر اس کی بھیجی ایک نہیں، دو نہیں،نوے ویڈیوز دیکھیں تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں۔ دل دھڑک کر حلق میں اٹکا، آواز نکلنے سے قاصر ہوگئی۔ آنسو بے یقینی سے بہنے لگے۔ چار منٹ داؤد اس کے پھولے ہوئے سانس اور سسکیوں کی آواز سنتا رہا۔
" داؤد ؟" سحر کی آواز میں ایسا کرب تھا کہ مانو ڈوب مرنے کا مقام دیکھا ہو۔
" میں بیوی تھی آپ کی۔۔۔" اس نے اذیت ناک لہجے میں کہا۔
" دیکھو ! آج کل نا سوشل میڈیا کا دور ہے اور تم نے شادی بھی ایک پٹھان سے کی ہے جو غیرت کے نام پر لڑکیوں کو قتل کر دیتے ہیں ۔ کیا خیال ہے ؟ بھیج دو اسے یہ ویڈیوز ؟"
" داؤد نہیں !" اس بار لہجے میں منت یا شاید التجا تھی۔
" تو بتاؤ، آنا کہاں ہے؟"
" ہم نہیں آ سکتے۔"اس نے خوفزدہ لہجے میں کہا، چہرہ سفید پڑ گیا تھا۔
" مگر میرے پاس ارتضیٰ کا نمبر ہے!"
" ہم سچ کہہ رہے ہیں داؤد ۔ ہم اس وقت لاہور میں نہیں، صوابی میں ہیں۔ ہم نہیں آ سکتے۔"اس نے پتھرائی نظروں سے گھر کے دروازے کو دیکھا۔
"میں صوابی آ جاؤں گا۔ لوکیشن بھیجو ذرا۔ میں خود دیکھ لوں گا۔" اس کی سفاک آواز نے سَحر کو مجبور کیا اور وہ لوکیشن بھیج بیٹھی۔ ایک مختصر پیغام اور ایک دل جو برابر تھرتھرا رہا تھا۔
" تمھارے گھر کے قریب یہ ریسٹورنٹ ہے ، 'شب وصل' یہاں ملتے ہیں۔ ڈیرہ نواب کے
قریب ۔" پھر اس نے پتھر سے انداز میں کہا، "کل ایک بجے ۔۔۔ مجھ سے معافی مانگو اوراس ح
۔۔۔ کو مت بتانا، اگر کسی کو کچھ پتہ چلا نا سحر تو تم بہت پچھتاؤ گی۔" اور کال کاٹ دی گئی تھی ۔
گھر خاموش ، ہوا بھی کچھ ساکت سی محسوس ہوئی۔ سَحر نے صوفے سے ٹیک لگائی اور اپنے اندر کے شور کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ وہ جانتی تھی کہ ارتضیٰ کو بتانا عقل مندی تھی، مگر اس عقلمندی کے چکر میں اس کا رشتہ کس سمت جاتا اسے اندازہ نہیں تھا۔
خود جانا، حالات دیکھنا بہتر تھا، شاید کچھ بچ جائے ۔۔۔
داؤد اگر معافی ہی چاہتا تھا تو وہ مانگ سکتی تھی ، وہ اپنی انا کو روند سکتی تھی۔
اس نے فیصلہ کر لیا ، وہ جائے گی ، ارتضیٰ کو بتائے بغیر ۔۔۔
ایک فیصلہ ، غلط مگر لازم۔
☆ ☆ ☆
رات کو ارتضیٰ تھکا ہوا گھر آیا۔ واسکٹ اتار کر الماری پر ٹانگ کر وہ کمرے کے اندر داخل ہوا ۔ سامنے سَحر صوفے پر سو رہی تھی ۔ اب تک وہ سَحر کے جگہ جگہ سوجانے کا عادی ہو چکا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کرسحر کے ماتھے پر نرم سا بوسہ دیا اور وہ بیدار ہو گئی ۔ ارتضیٰ کا چہرہ دیکھ کر اس کا سانس رک کر بحال ہوا۔ اس نے خود کو نارمل ظاہر کرنا چاہا۔
" کھانا کھائے بغیر کیوں سو رہی ہیں؟ "
" آپ کو کیسے معلوم کہ ہم نے کھانا نہیں کھایا؟" وہ اٹھ بیٹھتے ہوئے بولی۔
" دانور ، آج چھٹی پر ہے اور آپ کو کھانا بنانا نہیں آتا۔ " ارتضیٰ نے اس کے بکھرے بال سمیٹتے ہوئے کہا۔
" آپ ہمیں بھول گئے تھے نا ؟ گل تین بجے کھانا لے کر آئی تھی ۔ شام کی چاۓ بھی ہم دونوں نے ساتھ ہی پی ۔" وہ اپنے بالوں کو باندھتی ہوئی اسے بتا رہی تھی۔
" گل؟ آپ کے لیے کھانا لائی تھی ؟ کیوں ؟"
" کیونکہ آپ سب ہمیں بھول گئے تھے ۔ لیکن وہ نہیں بھولی تھی۔ "
" میں آپ کو نہیں بھولا تھا سحر ، میں نے بارہ بجے ہی کھانا بھیج دیا تھا لیکن گل کھانا تین بجے کیوں لائی ؟ آپ نے کھایا تو نہیں ؟ "
" ہم دونوں نے ساتھ ہی کھا لیا تھا، کیوں؟ کیا نہیں کھانا تھا ؟" وہ تیزی سے کچن کی طرف آیا ۔ برتنوں کے چھنے میں وہی برتن رکھے تھے جو اس نے خود بھیجے تھے۔ تسلی کے بعد ارتضیٰ نے سکون کا سانس لیا۔
" اتنی بھی کیا بے اعتباری ؟" سحر نے دبی ہوئی آواز میں پوچھا۔
" میں مرتضیٰ، فراز اور آپ کے علاوہ کسی پر اعتبار نہیں کرتا ۔"
" اور اگر ہم نے آپ کا اعتبار توڑ دیا ؟"
" آپ میرا اعتبار نہیں توڑ سکتیں!" اس کے لہجہ کا مان سحر کو منوں مٹی تلے دفن کر گیا۔ وہ ایک کال ملاتا ہوا کچن سے باہر نکلا۔ سامنے صحن میں رکھی لوہے کی کرسی پر بیٹھ کر سپیکر پر فون ڈالا۔ چند بیلوں کے بعد کال پک ہوئی ۔
" سلام لالہ ! " گل نے جس طرز تخاطب سے بلایا، ارتضیٰ حیرت سے مسکرا دیا ۔ وہ اس سے آنے کا مقصد پوچھنا چاہتا تھا مگر اس کی بھیگی آواز نے کچھ اور اندیشہ پیش کیا۔
" خیریتا گل ؟"
" گل نے آپ سے کبھی محبت نہیں کی۔" اس کے الفاظ کسی تیز دھار آلے کی طرح سپیکر سے نکلے۔
" آپ ہمیشہ کہتے تھے کہ آپ مجھ سے شادی نہیں کریں گے۔ مگر میں ۔۔۔ میں نے خود کو آپ کی جاگیر سمجھا ہوا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ محبت گل نے کسی اور سے کی ۔"
" گل ۔۔۔"
" ہمیشہ آپ کی سنی ہے، آج آپ گل کی سن لیں۔"ارتضیٰ خاموش ہوا، وہ جانتا تھا گل رو رہی ہے۔
" ساری زندگی چچی نے مجھے ایک سانچے میں ڈھالا ، ارتضیٰ کو یہ پسندہے یہ کرو ، ارتضیٰ کو یہ پسند نہیں تو یہ نہ کرو۔
ارتضیٰ ۔۔۔ارتضیٰ ۔۔۔ارتضیٰ ۔۔۔ میں نے وہ پہنا جو آپ کی آنکھوں کو بھاتا، وہ پکایا جو آپ کو پسند تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ جیسے میں ارتضیٰ کی ہوں ، ارتضیٰ بھی میرا ہو گا لیکن نہیں حویلی کی سب عورتیں سیاہ بخت ہیں۔ میں بھی۔۔۔ میں تو آپ کے نام کی لکھی وہ عبارت تھی جسے آپ مٹاتے رہے اور چچی لکھتی رہیں۔
میری زندگی کا ہر دن آپ کے نام سے شروع ہو کر آپ کی راہ دیکھتے ختم ہوتا گیا۔ "ارتضیٰ نے لوہے
کی کرسی پر گرفت سخت کی۔ احساس ندامت شدید تھا، ایک زندگی اس کے نام پر ختم ہوتی رہی اور اسے معلوم تک نہیں ہوا۔
" چھ سال پہلے پری نے اپنی مرضی سے شادی کی تو تھوڑا حوصلہ ہوا کہ میں انکار کر دوں، مگر اس کا اور سلیمان کا انجام دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی لیکن اب آپ کی شادی نے مجھے اس خوف سے بھی آزاد کر دیا۔ اب گل قربانی کا بکرا نہیں بنے گی۔ شکر کیا گل نے کہ آپ سحر کو یہاں سے لے گئے ورنہ چچی تو مجھے اس کا گھر اجاڑنے کا ایندھن بنا دیتی۔ ابھی صرف ہاتھ جلایا تھا، کل کو اس کا گھر بھی جلا دیتیں۔"
" گل تمہیں کون پسند ہے؟"
" یہ آپ کا معاملہ نہیں ۔ "
" میں تمھاری مدد کر سکتا ہوں۔"
" آپ نے تو پری کی بھی مدد کی تھی مگر آپ کی مدد پھر کوئی نہیں کرتا، آپ ہم عورتوں کے سیاہ بختوں پر چراغ نہیں جلا سکتے ۔"
" میں اماں سائیں کی طرف سے معذرت کرتا ہوں۔" ارتضیٰ کی آواز میں پہلی بار خستگی تھی۔
" آپ کی معذرت اس قبر پر فاتحہ جیسی ہے جس میں مردہ پہلے ہی سڑ چکا ہو۔" گل نے برہمی سے اس کی بات کاٹی۔ ارتضیٰ نے کچھ دیر اس کے بولنے کا انتظار کیا۔
" گل ؟"
" آپ نے گل پر بہت احسان کیے ہیں۔ مجھے اپنی بہنوں کے ساتھ پڑھایا، لکھایا، مجھ پر اعتبار کیا۔ آپ نے چچا سائیں کے سامنے ہماری تعلیم کا دفاع کیا۔ ڈرائیور کی طرح ہمارے آنے جانے کا پہرا دیا۔ آج ایک احسان گل آپ پر کرتی ہے۔" ارتضیٰ نے سامنے کچن میں کھڑی سحر کی پشت کو دیکھا، خطرے کی بو اس کی ناک میں چڑھی۔
" اپنی محبت کو اپنے باپ سے بچا لیں، لالہ۔ اس دن سحر بچ گئی تھی، اگلی بار شاید آپ کا دامن خالی ہو جائے۔"
" گل، تمہیں معلوم ہے کہ تم کیا کہہ رہی ہو؟"
" وہ لوگ پری کے سسرال سے نہیں، سحر کے سسرال سے آئے تھے۔ وہ لوگ افسر علی خان نے نہیں حسن داد خان نے بھیجے تھے۔ " گل کی آواز سپاٹ تھی، بے رحم، بےلحاظ۔
" آپ نے سحر کی وجہ سے دستار کو ٹھکرایا، وہ چھوڑ دیں گے اسے ؟ سلیمان کے قاتل سحر کو ہضم کر لیں گے؟ " لمحے کو ایسا سکوت چھایا جیسے کائنات نے اپنی حرکت روک دی ہو۔
"سحر کو واپس اسی دنیا میں لے جائیں جہاں کی وہ ہے۔ وہ یوسفزائیوں کی تلخیوں کی بھینٹ چڑھ جائے گی، لالہ۔" کال کٹ چکی تھی مگر ارتضیٰ کے اعصاب پر گل کے لفظ ہتھوڑوں کی طرح برس رہے تھے۔ اسے سحر کے چہرے کی سرخی میں اپنے باپ کے گناہوں کی تپش محسوس ہو رہی تھی۔
سَحر نے ارتضیٰ کا لایا ہوا کھانا ڈبوں سے نکال کر گرم کیا اور بے چینی سے میز پر لگانے لگی، اس کی نظریں بار بار ارتضیٰ کی طرف اٹھتیں اور پھر اس کے سپاٹ چہرے کو دیکھ کر تیزی سے جھک جاتیں۔ ارتضیٰ اسے دیکھ رہا تھا اور اس کے اندر ندامت کا زہر پھیلتا جا رہا تھا۔اسے یقین ہوتا جا رہا تھا کہ سحر جانتی ہے وہ سب جو گل نے اسے ابھی بتایا ہے۔ مگر اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ براہ راست اس کمزور دل کی عورت سے اتنا بھاری سوال کر جاتا۔
کھانے کی میز پر بھی خاموشی چھائی رہی۔ سحر نے زبردستی چند نوالے زہر مار کیے، ارتضیٰ کی
نظروں کی تپش تھی کہ کھانا حلق میں پھنس رہا تھا۔ ارتضیٰ نے ایک لقمہ نہیں توڑا۔ وہ صرف اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کا ذہن صوابی کے نقشے بن رہا تھا، پناہ گاہیں ڈھونڈ رہا تھا، اور ہر بار اس کا اپنا باپ ایک رکاوٹ بن کر سامنے آ کھڑا ہوتا۔ سحر اس دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر ڈال بیٹھی تھی۔
سحر اس دم گھٹتی خاموشی سے گھبرا کر اٹھی اور بےچینی سے برتن دھونے لگی۔ اپنے ذہن سے سارے خیالات جھٹکنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔ ارتضیٰ کرسی دھکیل کر اٹھا اور عین اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔
" سَحر ، طبیعت ٹھیک ہے ؟" یہ اس کی طبیعت کا حال نہیں بلکہ اس کی بے چینی کی وجہ جاننے کی کوشش تھی۔
" جی ۔"
" پھر کیا ہوا ؟" وہ اس کے قریب آیا پھر ماتھے پر ہاتھ رکھا تو جل اٹھا۔
" آپ کو بخار ہے۔" اس نے سَحر کے ہاتھ سے صابن والا کپڑا لے کر رکھا اور ہاتھ دھلا کر باہر آیا۔
" تبھی آپ کا چہرہ سرخ ہو رہا ہے، ادھر بیٹھیں ۔" اس کو بیڈ پر بیٹھا کر وہ اپنی الماری سے ایک ڈبہ
نکال لا یا ۔ سحر کی نظریں زمین میں گڑی تھیں، جیسے وہ ارتضیٰ کے چہرے پر لکھا اپنا انجام پڑھنے
سے ڈر رہی ہو۔
ارتضیٰ نے دو گولیاں اس کی ہتھیلی پر رکھیں اور پانی کا گلاس تھما دیا۔ سحر نے خاموشی سے دوا حلق سے نیچے اتاری اور وہیں بیڈ پر بت بنی بیٹھی رہی۔ ارتضیٰ اپنی بے چینی چھپانے کے لئے الماری میں مصروف ہو گیا مگر سحر کی نظروں کی تپش اسے اپنی پشت پر محسوس ہو رہی تھی۔ اسے لگا وہ نظریں اس سے سوال کر رہی ہیں، اسے ملامت کر رہی ہیں۔ ارتضیٰ نے خود کو سنبھالا اور مسکرا کر اس کے پاس جا بیٹھا۔ بائیں ہاتھ سے عقیق کی انگوٹھی اتار کر میز پر رکھی اور لیٹ گیا۔ سحر سوچوں میں کھوئی ساکت سی بیٹھی تھی۔ ارتضیٰ نے ہمت جمع کرکے اس کا چہرہ دیکھا۔
" جو کہنا ہے کہہ دیں، سحر۔ اتنا کیوں سوچ رہی ہیں؟" سحر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کچھ لمحوں بعد وہ دھیرے سے قریب ہوئی،خود پر چادر لی اور اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ کر لیٹ گئی۔ اس نے سحر کے بالوں میں انگلیاں چلانا شروع کیں۔ کچھ دیر بعد ارتضیٰ سوچوں کی منجھدار سے باہر نکلا تو اسے اپنی قمیض پر نمی محسوس ہوئی۔ اس نے کہنیوں کے بل اٹھ کر سحر کا چہرہ دیکھا۔ وہ سو چکی تھی یا شاید شدت غم نے اسے سلا دیا تھا۔
اس نے کچھ کہے بغیر اس کے نیند میں ڈوبے وجود کو نرمی سے خود میں بھینچ لیا۔ وہ سحر کو اپنے باپ سے بچانے کی کوشش میں تھا اور سحر خود کو داؤد سے ۔ تھکاوٹ اس کے اعصاب پر حاوی تھی مگر آدھے گھنٹے تک اسے نیند نے نہیں چھوا۔ ہر چند سیکنڈ بعد وہ آنکھیں کھول کر سحر کا چہرہ دیکھتا مگر اسے تسلی نہیں ہوتی۔ تنگ آ کر، اس نے ہاتھ بڑھاکر لیمپ بجھا دیا۔ پورا کمرہ گھپ اندھیرے میں ڈوب گیا۔
☆ ☆ ☆
اگلی صبح ، فجر پڑھنے کے بعد ارتضیٰ گھر لوٹا مگر وہاں کا ماحول اب بھی رات کی گھٹن میں قید تھا۔
" سَحر ، آپ ابھی تک نہیں اٹھیں؟ نماز قضا ہو رہی ہے۔" سَحر نے پھر سے آنکھیں مل کر اسے دو منٹ رکنے کا کہا۔ وہ اسے کیسے بتاتی کہ اپنا ناپاک وجود جائے نماز جیسی پاک جگہ پر لے جانے کے لئے بہت ہمت چاہیے تھی۔
" خدا کو انتظار نہیں کرواتے، خدا کی پہلی آواز پر اٹھا جاتا ہے۔"
" بہت گہری نیند ہے ۔" اس نے ایک اور بہانہ بنایا۔
" غفلت کی نیند گہری ہی ہوتی ہے ۔ نمازیں قضا ہونے لگیں تو دل غافل ہو جاتے ہیں ۔" سَحر اس
کی بات سن کر بمشکل اٹھ بیٹھی ، جسم میں شدید درد کے باوجود اس نے دو رکعات نماز پڑھ لی پھر واپس بستر میں آ بیٹھی۔
" چائے بنا دوں؟ کچھ کھا لیں پھر دوبارہ دوا لیں ۔"
" ہم بنا لیں گے ۔"
" کم آن! ایسے شوہر سے خدمت کروانے کے مواقع ہاتھ سے گنوانے نہیں چاہیے۔ " اس نے مسکرا کر سحر کو چھیڑا۔
" آپ سے خدمت نہیں کروانی، شوہر کی تو خدمت کرتے ہیں نا۔ " وہ یک دم بےحد اداس دکھنے لگی۔
" سحر ! کچھ ہوا ہے ؟"
" ہمیں ہمارا ماضی ہانٹ کر رہا ہے، داؤد۔" وہ نام ارتضیٰ کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اترا، مسکراہٹ پھیکی پڑی، حلق میں جیسے کانٹے اگ آئے۔ وہ جلن جو اس کے سینے سے شروع ہوئی تھی، پلک جھپکتے پورے وجود کو راکھ کرنے لگی۔ اس نے سحر کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔
" سحر ، ادھر دیکھیں۔ میرا نام لیں !"
" ارتضیٰ !"
" پورا نام، سحر ! مکمل نام لیں۔" وہ سحر کو اس حقیقت میں واپس کھینچنا چاہتا تھا جہاں داؤد کا کوئی وجود نہ تھا۔
" ارتضیٰ حسن خان یوسفزئی !" سحر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں وحشت تھی۔ " آپ کو ہماری ذہنی حالت پر شک ہو رہا ہے؟"
" تو جاناں ۔۔۔ آپ کو آپ کا ماضی ہانٹ کر رہا ہے؟" ارتضیٰ نے اسے دوبارہ اسی مقام پر لا کھڑا کیا۔
" ارتضیٰ ہمارا سر درد سے پھٹ رہا ہے۔" سحر نے موضوع بدلنا چاہا۔
" پہلے کچھ کھا لیں پھر دوا دوں گا۔" سحر نے اس کی بات سن کر بھی جھکا ہوا سر نہ اٹھایا۔
" سحر!" اس کی آواز بےحد نرم تھی مگر تبھی سحر کی آنکھ سے بہتا ہوا ایک آنسو اس کی نظروں میں آیا۔
" کیا ہوا ہے، سحر؟ کیوں رو رہی ہیں؟"
" ہمیں آپ سے بہت محبت ہوگئی ہے، ارتضیٰ ۔" وہ اس کے ہاتھ کی پشت پر پیشانی رکھے رونے
لگی۔ ارتضیٰ ساکت رہ گیا۔
" یہ۔۔۔ یہ تو خوشی کی بات نہیں ہے ؟" ارتضیٰ نے اس کا بھیگا چہرہ دیکھ کر کہا۔
" ہمارے آپ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ آپ ہمیں چھوڑنا نہیں، ہم مر جائیں گے۔" ارتضیٰ کی حواس باختگی اب جنون بننے لگی۔
" کوئی بات ہوئی ہے؟ گل نے کچھ کہا ہے؟
کیا ہوا ہے سحر؟ کچھ تو بولیں ۔ آپ مجھے پاگل کر دیں گی۔"
" کچھ نہیں، بس ہم صبح سے اکیلے تھے تو ہمیں احساس ہوا کہ آپ کے علاؤہ ہمارا کوئی نہیں ہے۔" ارتضیٰ کو جیسے اس پر ترس آیا۔ اس نے سحر کا سر اپنے کندھے سے لگا کر تھپکا۔
" اچھا بس ، اب تو میں پاس ہوں نا۔
سحر آپ سے دور تو جا ہی نہیں سکتا یہ دیوانہ، پتہ نہیں کون سا جادو کر دیا ہے۔"
سحر نے نظریں جھکا لیں۔ ارتضیٰ کے ہاتھوں کی وہ گرمی، اس کے لہجے کی وہ شہد جیسی مٹھاس۔۔۔ یہ سب اسے کسی خواب جیسا لگا۔ اگر یہ اس کی پہلی شادی ہوتی تو شاید نہیں مگر داؤد جیسے انسان کے ساتھ رہنے کے بعد اسے ارتضیٰ حسن کی یہ محبت انعام بھی لگتی تھی اور سراب بھی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ آنکھ کھولے گی تو سب راکھ ہو جائے گا۔
" ارتضیٰ، ہمیں چھوڑیں گے تو نہیں نا ؟" اس نے سوال دوبارہ کرکے خود کو یقین دلانا چاہا۔
" کوئی بدبخت ہی ہوگا جو آپ جیسی لڑکی کو کھو دے۔ آپ انعام ہیں،نور ہیں،آپ سحر ہیں ۔" اس نے سحر کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
" آپ کی خاطر تو میں نے دنیا چھوڑ دی، آپ کو چھوڑ کر تو ارتضیٰ حسن فقیر ہو جائے گا۔ آپ جانتی ہیں میرے پاس بھی آپ نے علاؤہ کوئی نہیں ہے۔" ارتضیٰ اس کے ہاتھ سہلاتے ہوئے اسے تسلیاں دے رہا تھا۔
کچھ دیر بعد سحر بیڈ پر بیٹھی ارتضیٰ کی بنائی ہوئی چائے پی رہی تھی۔ ارتضیٰ سامنے بیٹھا کلامِ الٰہی کی تلاوت کر رہا تھا۔ کمرہ اس کی خوبصورت آواز سے گونج رہا تھا مگر سحر کو وہ سکون آج سزا لگ رہا تھا۔ اسے اپنی خوش قسمتی پر رونا آنے لگا۔وہ جتنا اس مرد کی پاکیزگی کو دیکھتی، اسے اپنا ماضی اتنا ہی غلیظ نظر آتا۔ اس سے پہلے کہ ارتضیٰ کی نظر اس کے آنسوؤں پر پڑتی، اس نے تکیے میں منہ دیا اور لیٹ گئی۔
☆ ☆ ☆
نو بجے اس کی آنکھ کھلی تو کمرہ روشن تھا۔ مگر سحر کے اندر اب بھی وہی رات والا اندھیرا بسا تھا۔ ارتضیٰ آئینے کے سامنے کھڑا گیلے بالوں میں کنگا کر رہا تھا۔ آئینے میں اس کا عکس لہرایا تو ارتضیٰ نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
"گڈ مارننگ!" اس کے لہجے میں وہ تازگی تھی جو صرف ان لوگوں کے پاس ہوتی ہے جن کا ضمیر صاف ہو۔ وہ مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا اور ماتھے پر ہاتھ رکھ کر تپش محسوس کی۔
"طبیعت کیسی ہے اب؟"
"ہمم!" سحر نے زبردستی لبوں پر مسکراہٹ سجائی۔
" میں ایک میٹنگ کے لیے ڈیرے پر جا رہا ہوں۔ آج عصر کے بعد فراز کا نکاح ہے، میں مغرب پڑھ کر ہی گھر آؤں گا۔ اگر طبیعت ٹھیک نہ ہو تو مجھے کال کرنی ہے ۔ دوپہر کو کھانا بھیج دوں گا ۔ اگر کچھ اور کھانا ہو تو بتا دینا، ٹھیک ہے؟" سَحر نے پھر اثبات میں سر ہلا دیا ۔ وہ اس سے مل کر چلا گیا ۔ دروازہ بند ہونے کی آواز سحر کو اپنے تابوت میں آخری کیل جیسی محسوس ہوئی، وہ وہیں دوبارہ لیٹ گئی۔
☆ ☆ ☆
سَحر کے کان میں ساڑھے بارہ کی اذان گونجی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ تیزی سے لباس نکالا اور کپڑے تبدیل کر لیے۔ بال سنوارنے آئینے کے سامنے آئی تو عکس میں وہ عورت کھڑی تھی جسے وہ برسوں پہلے داؤد کے قید خانے میں چھوڑ آئی تھی۔ چہرہ دیکھا تو وہی سہمی ہوئی آنکھیں، وہی زرد چہرہ، وہی عورت جو داؤد کے بند کمرے کے شیشے میں اپنا زخم آلود چہرہ دیکھ کر چونک جایا کرتی تھی۔ ارتضیٰ نے اس سارے وقت میں اس کے وجود میں جو نور بھرا تھا، داؤد کی ایک فون کال نے اس سارے اجالے کو چاٹ لیا تھا۔
اس نے بال سلجھا کر کندھوں سے پیچھے ڈالے، میز پر پڑا موبائل اٹھایا، پرس میں ہاتھ ڈالا، اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔سامنے تار پر لٹکتی ارتضیٰ کی بھوری چادر کندھوں پر ڈال کر وہ باہر نکلی، تالا ڈالا اور چابی پرس میں رکھ کر پلٹی۔
اسی لمحے دور کہیں سے اذانِ ظہر کی آہستہ مگر واضح آواز آئی، گاؤں کی چھوٹی سی مسجد سے نکلتی ہوئی آواز جیسے اسے خدا کی طرف متوجہ کر رہی تھی، عقل نے فوراً حکم دیا، "رک جاؤ، پہلے نماز پڑھ
لو۔" وہ جانتی تھی نماز قضا ہو جائے تو دل غافل ہو جاتے ہیں مگر دماغ میں ایک آواز اور بھی تھی۔
لوکیشن۔۔۔ داود۔۔۔ شبِ وصل۔۔۔
اس روح پرور آواز نے اس کی روح کو جکڑ لیا۔ اذان کی ہر لہر اس کے اندر کسی احساس کو زندہ کر رہی تھی۔ ایک طرف خدا کی حکمرانی، دوسری طرف انسانوں کی بے حسی تھی۔ سَحر کے پاوں خود بخود گلی کی جانب بڑھے۔ شرم، خوف، اور جلدی یہ تینوں مل کر اس کی حرکات پر غالب آگئے۔
باہر گاؤں کی سڑک خاموش تھی، صرف دور کہیں بھینسوں کی گھنٹیوں کی مدھم آواز آ رہی تھی۔ اسی وقت ایک رکشہ گزرا، دھول اڑتی گئی۔ ڈرائیور نے آواز دی، "بی بی کہاں جانا ہے؟"
"شبِ وصل۔"ڈرائیور نے حیرت سے اسے دیکھا۔
"دو سو میں چھوڑ دوں گا۔" وہ اپنی سوچوں میں گم رکشے میں بیٹھ گئی تھی تبھی فون کی دھیمی رنگ ٹون نے اسے بری طرح چونکایا۔
"ہیلو۔" اس نے خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کی، آواز بھاری مگر پرسکون رکھی۔
"کہاں ہو؟"
"راستے میں۔"
"میں پہنچ گیا ہوں۔ انتظار کر رہا ہوں۔" رکشہ رکا۔ سامنے ایک ریسٹورنٹ تھا۔ باہر بورڈ پر ہلکی سی روشنی جل رہی تھی۔
" شب وصل"
وہ جگہ اپنے نام جیسی ہی تھی، بہت سے مرد ایک کونے میں بیٹھے حقہ پی رہے تھے ۔ ایک پل کو اسے وہ جگہ نامناسب لگی مگر کیا لوٹ جانے کا آپشن موجود تھا؟ وہ لمحہ بھر سوچ کر اندر داخل ہوئی۔
ہوا میں چائے، سگریٹ اور پراٹھوں کی ملی جلی خوشبو تھی۔کرسیوں پر چند مزدور بیٹھے تھے، جنہوں نے اس پر نظر پڑتے ہی اسے ایک گہری نظر سے دیکھا اور اٹھ کر وہاں سے چلے گئے۔ داؤد سیدھا سامنے، اس کی طرف پشت کیے بیٹھا تھا۔
سَحر نے ایک پل کو اپنی سانس روکی۔ پھر چلتی ہوئی اس ٹیبل تک گئی ، کرسی کھینچی اور نظر جھکائے بیٹھے گئی۔
"سلام کرو سَحر، تم تو تمیز بھی بھول گئی ہو۔" اس کا لہجہ نرم تھا مگر لفظوں میں زہر بھرا کاٹ محسوس ہوا۔ سحر نے موبائل رکھا اور نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ سفید دوپٹے کو چہرے کے گرد لپٹے ، وہ ایک اضافی چادر سے خود کو مکمل طور پر ڈھانپے ہوئے تھی۔ آنکھوں میں پھیلا سا کاجل، چہرے پر اداس سا گلال۔ وہ حسین لگ رہی تھی،بالکل ویسی جیسی شادی سے پہلے لگی تھی۔ معصوم ، پاکیزہ، ڈھکی چھپی۔داؤد کی مسکراہٹ پھیکی پڑی ۔
"ہمیں معاف کر دیں، داؤد۔۔۔ وہ ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں، پلیز۔" اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا۔ داؤد کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔ وہ اسے جیسا بنانا چاہتا تھا وہ ویسی بن چکی تھی مگر کسی اور کی قربت میں۔
"تم اس سے طلاق لے لو، پھر آ جاؤ میرے پاس۔ تمہاری قسم، ویڈیو مٹا دوں گا۔" داؤد نے ہاتھ بڑھا کر اس کے سر کی قسم اٹھانا چاہی۔ سَحر ایک دم پیچھے ہوئی، دل دہل گیا۔
"یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ بات صرف معافی کی تھی۔۔۔ آپ ہمیں دھوکہ دے رہے ہیں۔"
"دھوکہ۔۔۔ تم نے دیا تھا ۔۔۔ مجھے، سَحر سراج!" اس نے سَحر کی کلائی دبوچی۔ وہ چیخ بھی نہ سکی صرف سسک کر رہ گئی۔ داؤد نے فون اٹھایا ،سوشل میڈیا کھولا، ویڈیو پوسٹ ہونے کو تیار تھی۔
"ایک کلک، اور تمہاری دنیا ختم۔"
"داؤد، ہم بھی یہی کہنا چاہ رہے تھے کہ ایک کلک، اور تمہاری دنیا ختم۔" سحر نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے دانت میچ کر ، ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا اور داؤد کے ہاتھ سے کلائی چھڑوائی تو داؤد نے اس کے چہرے پر ایک پرزور تماچہ رسید کیا۔ اس کا سر پیچھے دیوار سے ٹکرایا مگر آج کچھ مختلف تھا۔ رخ واپس داؤد مختار کی جانب کرتے اس نے بھی اپنے ہاتھ کو تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دینے سے نہیں روکا۔
" تمھاری اتنی ہمت کہ تم ہمارے شوہر کی سرزمین پر بیٹھ کر ہمیں تھپڑ مارو گے۔
اتنی جرات تمھاری۔۔۔ تمھیں مر جانا چاہیے ، داؤد مختار۔ تم جیسوں کو مر جانا چاہیے۔
تم ایک کلک میں ہماری دنیا ختم کرو گے؟" اس نے پرس میں موجود کسی لوہے کی چیز پر گرفت مضبوط کی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ لرزتے ہاتھوں سے شیڈو ٹو پسٹل کا رخ اس کی جانب کیے کھڑی تھی۔
" ہماری اولاد کو، ہمارے بابا کو مار ڈالنے کے بعد، ہم پر اس قدر ظلم کرنے کے بعد بھی تم ہم سے نرمی کی امید رکھتے ہو؟ داؤد مختار ایک کلک اور تمھاری دنیا ختم!" داؤد نے سانس روک کر آنکھیں پھاڑے اسے دیکھا۔
" تم گولی چلا کر دیکھ لو ، گولی چلنے میں تین سیکنڈ لگیں گے اور مجھے اسے اپلوڈ کرنے میں ایک سیکنڈ ۔۔۔
میں مر کر بھی تمہاری زندگی کا سب سے بھیانک حادثہ رہوں گا۔ ایک شوہر مر جائے گا اور دوسرے کو لوگ ڈوب مرنے پر مجبور کر دیں گے۔" وہ سفاک تھا لیکن اتنا سَحر کو اندازہ نہیں تھا۔
اس کی آنکھوں میں موت کا خوف نہیں، سحر کو برباد کرنے کا جنون تھا۔ سحر کی گرفت پسٹل پر ڈھیلی پڑنے لگی، آنسو اس کے گالوں پر بہنے لگے۔ وہ جان گئی کہ داؤد کو مار کر بھی وہ خود کو نہیں بچا سکتی۔ شیطانیت میں انسان اتنا گم ہو جاتے ہیں کہ اپنے اندر کا شیطان دیکھ ہی نہیں پاتے لیکن خدا، وہ تو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
" آپ کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا ؟" وہ تھکے ہوئے انداز میں واپس بیٹھی۔ پستول کو پرس میں رکھا اور اس سے پہلے وہ رخ داؤد کی جانب سے ہٹاتی، اس کی نگاہ داؤد کے پیچھے ٹھہر گئی۔
ایک سایہ ابھر رہا تھا، دراز قامت اور خوفناک جیسے ہر سو اندھیرا چھانے لگا ہو۔ سحر کا سانس رک گیا۔ یہ شخص ہر جگہ کیسے موجود ہوتا تھا، اسے سب کی خبر کیوں ہوتی تھی؟
سرمائی پینٹ پر سفید آدھے بازو کی شرٹ پہنے ، ہلکے بڑھے ہوئے بالوں میں طیش سے ہاتھ پھیر کر، وہ تیزی سے چلتا آ رہا تھا۔ پھاڑ کھانے والی نیلی آنکھیں سَحر کے چہرے پر جمی تھیں۔
مرتضیٰ داد خان !
" ہمیں گولی چلانے کی نوبت ہی نہیں آئی، آپ کی موت خود چل کر آئی ہے ۔" مرتضیٰ آگے بڑھا، کالر پکڑا، اور ایک جھٹکے سے داؤد کو اٹھا کھڑا کیا۔ داؤد کے ہونٹوں پر ابھی حیرت بھی پوری نہ اتری تھی کہ ایک زوردار مکا اس کے چہرے پر پڑا۔ وہ کرسی سمیت زور سے زمین پر گرا ، شیشے کا گلاس زمین بوس ہوا۔ افراتفری کے اس عالم میں سحر نے پھرتی سے داؤد کا موبائل اٹھایا اور پرس میں چھپا لیا۔ یہ اس کی آزادی کا پروانہ تھا۔
"کہا تھا نا ، چار فٹ کے فاصلے پر بھی نظر آیا تو مار ڈالوں گا۔" اس کے لہجے میں آگ تھی۔ ایسا بلند لہجہ کہ الامان!
" کلمہ پڑھ لے!" اس نے کمر کی طرف سے پستول نکال کر داؤد کے سینے پر پاؤں رکھا اور اوپر نیچے چار گولیاں اس کے سر، حلق، دل اور پیٹ میں اتار دیں۔ ہر کلک کے ساتھ خون کا فوارہ چھوٹ رہا تھا۔ سَحر بے ساختہ خوف کے مارے سفید چہرہ لیے چند قدم پیچھے ہوئی کہ کمر دیوار کو جا لگی۔
کچھ لمحوں میں داؤد کا تڑپتا وجود ساکت ہوگیا۔ سَحر اب بھی آنکھیں پھیلائے مرتضیٰ کو ہی دیکھ رہی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس نے خود پر جہنم کا دروازہ کھول دیا ہے۔ جو شخص بھرے مجمعے میں اپنی بہن کو تھپڑ مار سکتا تھا، وہ اس کے ساتھ کیا کرتا وہ سوچ بھی نہ پائی ۔ اسے اس وقت نماز نہ پڑھنے کا سنگین احساس ہوا، اگر وہ گھر پر کچھ اور وقت گزار لیتی تو یہاں اس کا سامنا مرتضیٰ سے نہ ہوتا۔ مرتضیٰ کی نظریں اب سَحر پر جا ٹکی۔ داؤد کے خون سے بھری زمین اور فضا میں بارود کی بو پھیلی ہوئی اس کے بیچ وہ، ساکت، زرد چہرہ لیے کھڑی تھی۔
اب باری سَحر کی تھی۔سَحر نے آنکھیں بند کرکے زیرِ لب کلمہ دہرایا۔ انسان کو مرنے کے بعد سات منٹ تک اس کی زندگی کی سب سے حسین یادیں نظر آتی ہیں ۔ ارتضیٰ حسن کے ساتھ اس نے اتنا وقت گزار لیا تھا کہ سات منٹ پورے ہو جاتے۔
"تمہیں تو گھر جا کر دیکھوں گا۔" اس نے سَحر کی کلائی پکڑی اور تیزی سے وہاں سے باہر نکلا ۔ سَحر کوبالکل سامنے ڈیرہ نواب کے باہر گاڑیوں کے ہجوم میں ارتضیٰ کی جیپ بھی دکھائی دی ۔(IRT-512 ) نمبر پلیٹ دیکھ کر شک کی گنجائش نہیں تھی۔ پیچھے لگا ' ڈیرہ نواب ' کا بورڈ اب اس کی سمجھ میں آیا تھا۔ یہ وہی نام تھا جس سے اس کی ساری دنیا منسوب تھی۔
یہ نواب ارتضیٰ حسن کا ڈیرہ تھا، اس کی سلطنت ۔۔۔
یوسفزئی خاندان کے نواب کا ڈیرہ ۔۔۔
مرتضیٰ نے اسے جیپ میں بٹھایا، خود دوسری طرف جا کر بیٹھا اور دروازہ زور سے بند کیا۔انجن گرجا، گاڑی ریورس ہوئی۔
"مرتضیٰ۔۔۔"سَحر کی کپکپاتی آواز گونجی۔
"میرا نام مت لینا!" وہ دھاڑا، اس کی آواز میں ایسا زلزلہ تھا کہ سَحر کا جسم لرز گیا۔ وہ ہڑبڑا کر پیچھے ہوئی، دل کی دھڑکن سینہ چیر رہی تھی۔ اس کے دماغ میں ارتضیٰ کا چہرہ گھوم گیا۔
وہی چہرہ جو چوک میں کھڑے شخص کو تازیانے سے مار رہا تھا، وہی چہرہ جو بندوق کی ہتھی کو فراز کے خون سے رنگ رہا تھا۔ وہی چہرہ جو نکاح کی رات داؤد کو مار رہا تھا۔ اس کے لبوں سے سسکی نکلی۔
"ارتضیٰ کو مت بتائیے گا، پلیز۔۔۔ ہمیں معاف کر دیں۔" اس کی بات سن کر مرتضیٰ کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔
"میرے بھائی کی چادر پہن کر، تم یہ سب کرو گی؟
اور تمہیں لگتا ہے کہ تمھیں معافی مل جائے گی؟
ہمارے ہاں معافی نہیں ہوتی، صرف سزا ہوتی ہے۔
اور ایسی عورتوں کو تو موت کی سزا ہوتی ہے۔"
"مرتضیٰ۔۔۔ پلیز۔۔۔" سَحر نے لرزتے ہاتھوں سے اس کے کندھے کو چھونا چاہا۔
"حد میں رہو، بےحیا عورت! " مرتضیٰ نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا، پھر گاڑی کے بریک اس زور سے لگائے کہ سَحر کا جسم جھٹکے سے آگے کو جھکا۔ وہ ایک پل میں نیچے اترا، سَحر کی طرف کا دروازہ کھولا اور اسے تقریباً گھسیٹ کر باہر نکالا۔ ایک لمحے کو سَحر کو محسوس ہوا کہ مرتضیٰ کی انگلیاں گوشت میں پیوست ہو جائیں گی لیکن اس کے منہ سے آواز نہیں نکلی۔ سامنے اس کا گھر تھا، دروازے پر تالا جھول رہا تھا۔
سَحر ہکلاتی ہوئی بولی، "ہم۔۔۔ چابی۔۔۔" ابھی لفظ پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ مرتضیٰ نے تالا لات مار کر توڑنے کی کوشش کی۔دروازہ ہل کر پیچھے کو دھنسا، مگر کنڈی ابھی بھی اٹکی تھی۔سَحر نے جلدی سے پرس کھولا، چابی ڈھونڈی۔ اسی لمحے مرتضیٰ نے دو وار اور کیے، کنڈی کا دستہ ٹوٹ کر زمین پر گرا ۔
دروازہ کھلا، وہ سَحر کو اندر لے گیا۔ سَحر نے بائیں جانب بنا ایک ستون پکڑ کر خود کو روکنا چاہا۔ ہاتھ میں موجود پرس اور داؤد کا موبائل وہیں گر گیا۔
"ارتضیٰ کو مت بتائیے گا۔۔۔"اس کی آواز کانپ رہی تھی، آنسو گالوں پر پھسل رہے تھے، وہ روتے ہوئے اس کے بازو کے ساتھ گھسٹتی چلی گئی۔
" سارا گاؤں جانتا ہے کہ میرا بھائی بغاوت کر کے ایک غیر خون کی لڑکی کو لایا ہے۔
اس لڑکی کے لیے اس نے سرداری چھوڑی، حویلی چھوڑی، ہمیں سب کو چھوڑ دیا اور تم ؟"
" تم اس لائق ہی نہیں تھی کہ میرا بھائی تمہارے لئے اتنا سب چھوڑتا۔ تم جیسی عورتیں صرف تباہی لاتی ہیں۔ تم دیکھو اب میں تمہارے ساتھ کرتا کیا ہوں!" مرتضیٰ نے اسے کمرے میں دھکیلا اور جھٹکے سے دروازہ بند کیا، کنڈی چڑھائی، اور بغیر کچھ کہے پلٹ گیا۔
کمرے کے اندر سَحر ایک پل کو دروازے کے آگے پڑی رہی جیسے جسم سے روح نکل گئی ہو۔ پھر آہستہ آہستہ وہ زمین سے اٹھی۔ وہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ مرتضیٰ کے چلنے کی چاپ باہر اب بھی سنائی دے رہی تھی، بھاری، فیصلہ کن، اور بےرحم۔ اسے ارتضیٰ کا وہ تلاوت کرتا چہرہ یاد آیا، وہ پیار بھری نظریں یاد آئیں، اور پھر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
" کاش ہم نماز پڑھنے کے لئے رک جاتے۔" اسے لگا کہ اس کی ایک نافرمانی نے اسے خدا کی پناہ سے محروم کر دیا ہے جو اسے مرتضیٰ کی غیرت نامی جہنم سے بچا سکتی تھی۔ سَحر نے لرزتے ہاتھوں سے دروازہ چھوا۔
"ارتضیٰ کو مت بتائیے گا۔۔۔" یہ جملہ اس کے لبوں سے پھر پھسلا، وہ کس چیز سے ڈر رہی تھی یہ اسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔ ارتضیٰ حسن اور داؤد مختار میں زمین آسمان کا فرق تھا مگر اس کے دل میں جو خوف مرتضیٰ کی ذات سے جڑ تھا وہ اب ارتضیٰ کے نام پر منتقل ہو رہا تھا۔ اس نے اردگرد نظر دوڑائی، چادر اب بھی اس کے جسم پر تھی، مگر لگتا تھا جیسے وہ بہت جلد چھن جائے گی ۔
آئینے میں اپنی جھلک دیکھی تو خود کو پہچاننا مشکل تھا۔آنکھوں میں وہی وحشت، جو تھوڑی دیر پہلے داؤد کے مردہ چہرے پر تھی۔
"یہ ہم نے کیا کر دیا؟ ہم نے ارتضیٰ کو اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا۔" اس نے سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ باہر برآمدے میں مرتضیٰ چکر لگا رہا تھا، اپنے اندر کے طوفان کو قید رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ غصے سے کانپ رہے تھے۔اس نے ہاتھوں کی پشت سے ماتھے کا پسینہ پونچھا۔
"یہ عورت۔۔۔" اس نے دانت بھینچے۔
"میرے بھائی کی چادر میں، کسی اور کے ساتھ! " اس نے دیوار پر مکا مارا۔ آواز کمرے کے اندر تک پہنچی۔ سَحر نے چونک کر سر اٹھایا۔
"یا اللہ، ہمیں بچا لے، ہمیں چھپا لے۔۔۔" اس نے دل ہی دل میں کہا۔خوف کے مارے جسم میں خون جمنے لگا تھا، اسے اپنا سانس اٹکتا محسوس ہوا ۔
" غلطی ہو گئی ۔۔۔ بہت بڑی غلطی ہو گئی ۔ معاف کر دیں ۔ "
باہر غصے سے اس کا تنفس تیز ہو گیا تھا۔ ٹھنڈے موسم میں بھی وہ پسینے میں شرابور تھا۔ وہیں لوہے کی کرسی پر بیٹھ کر ، سر پیچھے کو پھینک کر گہرے سانس لینے لگا۔ اس نے جیب سے فون نکالا اور تیزی سے فون ملایا ۔
" مرتضیٰ پلیز ، آپ ہمیں غلط سمجھ رہے ہیں ۔ ہم مجبور ہو کر گئے تھے۔ پلیز ، ایک بار ہماری بات تو
سن لیں۔" سَحر کی آواز کی وجہ سے اسے کال کاٹنی پڑی۔ وہ مجبور ہو کر چھت پر گیا اور کال ملائی ۔
" لالہ ؟"
" مرتضیٰ ، خیر ہے نا ؟ ایسا کیا کہا مرسلین نے کہ تم سر پر پاؤں رکھ کر دوڑ پڑے؟" اس کا لہجہ سنجیدہ تھا مگر پیچھے کا شور مرتضیٰ کو سب بتا رہا تھا۔
" آپ مسجد میں ہیں؟"
" ہاں، تم بتاؤ کوئی کام ہے؟"
" نہیں ، نماز کے بعد کہاں جائیں گے آپ ؟ "
" واپس ڈیرے پر، تم کہاں ہو ؟"
" خود ہی بولا تھا کہ بھابھی کی جان کو خطرہ ہے، گھر کا خیال رکھوں۔ گھر میں ہی ہوں۔ نکاح کے فوراً بعد گھر آنا۔ کچھ کام ہے۔"
" اچھا ۔" فون بند کرکے وہ واپس نیچے آیا، فون ٹیبل پر پٹخا اور سامنے والی کرسی پر ٹانگیں سیدھی کرکے بیٹھ گیا۔ دو بجے ہر سو اذانیں شروع ہو چکی تھیں۔ اندر سے اب بھی مدھم رونے کی آواز آ رہی تھی۔
وہ ایک پل کو ٹھٹھکا مگر خود کو روک لیا۔جیسے ہی آخری اذان ختم ہوئی اس نے کانوں میں ائیر پیس ٹھونس کر تیز آواز میں گانا چلایا اور سر پیچھے کو ٹیک دیا۔ وہ اب نہ سحر کی سسکیاں سننا چاہتا تھا، نہ اپنے ضمیر کی آواز ۔ وہ بس ارتضیٰ کے آنے کا انتظار کرنا چاہتا تھا۔
عصر کے وقت اذانوں کے احترام میں اس نے گانے بند کیے۔ اندر سے سسکیوں کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو وہ بے چین ہوا۔ اٹھ کر دروازے کے پاس گیا اور بلند آواز لگائی ۔
" آہستہ آواز میں رونا دھونا کرو ، میں ڈسٹرب ہو رہا ہوں۔" آواز اسی پل دم توڑ گئی۔ اذانیں بھی ختم ہو گئیں تھی۔ وہ واپس اسی کرسی پر آ بیٹھا۔ دھوپ اب دیواروں پر چڑھ گئی تھی۔ مرتضیٰ کی کمر اس لوہے کی کرسی پر بیٹھے تختہ ہوئی مگر وہ وہاں سے ہلنے سے انکاری تھا۔
وقت مانو اس کی ہیبت سے سست ہو گیا تھا۔سورج ڈھلنے لگا، دیوار پر سایہ لمبا ہوتا گیا۔گھر کے باہر سے کبھی کبھار گزرنے والی موٹر سائیکل کی آواز آتی، پھر سب کچھ تھم جاتا۔ سَحر اندر کمرے میں بیٹھے بیٹھے پتھر بن گئی تھی۔کبھی دیوار سے ٹک جاتی، کبھی دروازے کے قریب جاتی۔ایک وقت ایسا آیا کہ وہ رونے کی طاقت بھی کھو بیٹھی بس سانس باقی رہ گئی تھی۔
سورج ڈھل چکا تھا۔مرتضیٰ اب بھی اسی کرسی پر بیٹھا تھا۔ گن کو ہاتھ میں تھامے وہ اس سے کھیل رہا تھا۔کبھی آنکھیں بند کرتا، کبھی کھول کر آسمان کو دیکھتا۔ مغرب کی اذان ہوئی تو اس نے ائیر پیس کان سے نکالے۔دور مسجد سے آتی آواز فضا میں پھیل رہی تھی ۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔ایک لمحے کو نظر کمرے کے دروازے پر گئی جہاں سے ہلکی سی روشنی باہر آ رہی تھی۔
بیس منٹ بعد اچانک دروازے کی ہلکی سی آہٹ سنائی دی۔مرتضیٰ نے گن رکھی،اور قمیض درست کر کے پاؤں ٹیبل سے نیچے رکھے ۔دروازہ آہستہ سے کھلا سامنے سے ارتضیٰ آتا دکھائی دیا۔ اس کے قدموں کی چاپ پرسکون مگر وزن دار تھی۔
" تم پہلے ہی پہنچ گئے۔ پہلے مجھے سکون کا سانس تو لینے دیتے۔" وہ سیدھا اس کے پیچھے سے گزر کر کچن میں داخل ہوا، ایک گلاس پانی لیے باہر آیا اور کرسی پر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے ایک گھونٹ پانی پیا تھا جب مرتضیٰ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔ دائیں جانب کے دروازے کی کنڈی کھولی اور اندر داخل ہوا۔ سحر سامنے زمین پر سر گھٹنوں میں پھنسائے بیٹھی تھی۔ مرتضیٰ پر نظر پڑی تو اٹھ کھڑی ہوئی۔ مرتضیٰ نے اس کے کلائی پکڑی اور اسے کھینچتا ہوا ارتضیٰ کے سامنے لے گیا اور کسی حقیر فقیر کی طرح اسے ارتضیٰ کے قدموں میں الٹ دیا۔
" پوچھو اس بدبخت عورت سے کہ یہ کس سے ملنے گئی تھی آج ؟ تمھاری ناک کے نیچے یہ کیا کرتی پھر رہی ہے؟" وہ اس کی طرف اشارہ کرکے اپنے اندر جلتی آگ کو ارتضیٰ کے کانوں میں انڈیل رہا تھا۔ مرتضیٰ کی اس حرکت پر اس مضبوط اعصاب کے مرد کے ہاتھ سے گلاس چھوٹا۔ اس نے فوراً سَحر کو زمین سے اٹھایا۔ سحر کو یقین تھا کہ یہ اس کی آنکھوں میں دکھنے والی آخری فکر کی لکیر ہے۔
" ارتضیٰ ہم۔۔۔" وہ صفائی دینا چاہتی تھی مگر مرتضیٰ کی آواز نے اسے خاموش کروایا۔ اس کا دل چاہا کہ کچھ پل کے لئے قدرت مرتضیٰ کی زبان سے قوت گویائی چھین لے۔ اس وقت اس کا ایک جملہ اسے ارتضیٰ سے ہمیشہ کے لئے دور کر سکتا تھا۔
" کیا کرنے گئی تھی یہ بے حیا داؤد کے پاس ؟" سحر کو لگا کے اب وہ زندگی میں کبھی سر اٹھا کر جی نہیں سکے گی۔
" تم نے میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی جرت کیسے کی؟" ارتضیٰ کی زبان سے وہ جملہ نہیں ادا ہوا تھا جس کی اسے توقع تھی۔ چہرے پر پڑنے والا تھپڑ مرتضیٰ کو خاموش کر گیا تھا۔ سحر نے جھکا سر چونک کر اٹھایا۔
" لالہ ، میں خود اسے پکڑ کر لایا ہوں، یہ شب وصل میں داؤد کے ساتھ۔۔۔" اس نے ہونٹ بھینچ کر کسی سخت جملے کو روکا۔
" اس کو سزا دینے کا حق بھی مجھے ہے۔ قیامت بھی آ گئی تھی تب بھی تم مجھے بتاتے۔ تم نے کیسے چھوا اس عورت کو؟
اس عورت کو قبر میں اتارنے کا حق بھی صرف مجھے ہے۔ اگر مارنا بھی ہوا تو میں خود مار دوں گا لیکن تم میری بیوی کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔" وہ چلا رہا تھا مگر اتنا بلند نہیں کر آواز چار دیواری پار کرتی۔
" تو پھر شکر کرو، ارتضیٰ حسن۔ تمھاری بیوی کو ہاتھ لگائے بغیر دو گولیاں اس کے سینے میں اتار کر اسے وہیں پھینک نہیں آیا۔تمھاری چادر کی لاج میں اسے گھر لے کر آیا ۔" پیچھے سے سَحر کی ہچکی کی آواز پر ارتضیٰ نے اس کے طرف پلٹ کر دیکھا۔ سَحر نے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر کچھ کہنا چاہا مگر صرف سر جھکا دینے پر اکتفا کیا۔
عقل والے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں اور جاہل ہمیشہ اپنی غلطی پر ڈٹ جاتے ہیں۔ وہ غلطیاں قبول کر لینے والوں میں سے تھی۔ وہ اپنی غلطی کو کبھی جسٹیفائی نہیں کیا کرتی تھی اور ارتضیٰ حسن یہ بات بہت اچھے سے جانتا تھا۔
" بھابھی سے معافی مانگو ۔"
" تمھارا تو دماغ خراب ہو گیا ہے۔ تم اندھے اور پاگل ہو چکے ہو، لالہ ۔ یہ عورت تمھاری ناک کے نیچے کیا کر رہی ہے تم دیکھ نہیں سکتے ؟
معافی مانگتی ہے میری جوتی، اسے وہیں کھڑے کھڑے زمین میں نہیں گاڑھ دیا اس بات کا شکر کرو۔" اس نے ٹیبل سے گن اٹھائی اور کرسی کو ٹھوکر سے الٹ کر ، گھر سے باہر نکل گیا۔
" رکو !" ارتضیٰ نے پیچھے سے آواز دی مگر وہ باہر نکل گیا۔ ارتضیٰ تیزی سے اس کے پیچھے بڑھا۔ سَحر اس کو روکنا چاہتی تھی، صفائی دینا چاہتی تھی۔ مگر کیا وہ اس کی صفائی سننے کو تیار تھا؟
وہ شخص جو غیرت کے نام پر اپنے بھائی کو تھپڑ مار سکتا ہے، وہ سچ سامنے آنے پر اس کے ساتھ کیا کرے گا؟
سَحر بہت دیر وہیں کھڑی رہی، سرد ہوا نے پاؤں کو سرخ کر دیا تھا۔ وہ تیزی سے اندر آئی اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس کے دامن میں اس پل آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ دل دھڑک دھڑک کر سینہ توڑنے کو تھا، آنکھوں کے پپوٹے پھول کر دُکھنے لگے تھے۔
بہت دیر ویسے ہی بیٹھنے کے بعد عشاء کی اذان اس کے کانوں میں پڑی تو اسے لگا جیسے اسے ہی پکارا گیا ہو، فلاح کی طرف بلایا گیا ہو۔ اسے ہمیشہ خدا نے ہی تھاما تھا اور آج اس طوفان سے تو خدا ہی اسے بچا سکتا تھا۔ اس نے وضو کیا اور ارتضیٰ کا مصلہ دانستہ طور پر بچھا کر اس پر کھڑی ہوگئی۔ نیت باندھتے اس نے نمی کو آنکھوں سے بہتے پایا مگر اب وہ آنسو بہانے کی صحیح جگہ پر کھڑی تھی۔ یہی وہ بارگاہ ہے جہاں آنسو رائیگاں نہیں جاتے ۔
نماز مکمل کرکے اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔
" اللہ یہ کیسا امتحان ہے، ہم عزت بچانے گئے تھے اور ہمارا نکاح ، ہمارا سہاگ ہی خطرے میں پڑ گیا۔ ہم اپنے بھائی اور شوہر کی نظروں میں گر گئے ۔ ہماراتو دامن خالی ہو گیا، اللہ تعالیٰ ۔ ہمارے پاس تو اب بابا بھی نہیں ہیں، ہم کہاں جائیں گے؟" وہ روتے ہوئے ہر زاویہ سے سوچ رہی تھی۔
" اللہ تعالیٰ ، ایک موقع دلوا دیں۔ ارتضیٰ سے کہیں ہماری بات سن لیں۔
اللہ جی، ہم نے اپنی پرانی زندگی کا ہر رنگ چھوڑ کر ایک نیک عورت والی زندگی شروع کر دی تھی۔ ہمیں لگا تھا کہ ہم پلٹ جائیں گے تو سارے گناہ دھل جائیں گے۔ ہم اپنے گناہوں کو فراموش کر بیٹھے تھے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے گناہوں کے لیے معاف کر دے۔ تو معاف نہیں کرے گا تو ہم جانتے ہیں کہ ارتضیٰ بھی ہمیں معاف نہیں کریں گے، ہم در بدر ہو جائیں گے۔ " اس نے چھت کی طرف دیکھا یوں کہ جیسے خدا کو دیکھ رہی ہو۔
" پلیز معاف کر دیں۔ ہم خاکی انسان ہیں محض ایک مٹی کا پتلا ۔ ہم سے ہی تو خطائیں ہوں گی۔
اللہ تو تو جانتا ہے نا کہ سَحر نے غلط نیت سے کچھ نہیں کیا، اللہ ہمیں بچا لو نا۔ ہمارے دامن پر سے اس داؤد نامی داغ کو مٹا دو نا۔" دعا کرتے کرتے ایک لمحہ ایسا آیا کہ اس کا دل یک دم ٹھہر سا گیا۔ سسکیاں تھم گئیں اور آنکھوں سے بہتے آنسو خشک ہو گئے۔ اسے ارتضیٰ کی کہی ہوئی بات یاد آئی۔
" جب روتے روتے یکدم دل کو سکون مل جائے تو سمجھ لیں کہ آپ نور کے حصار میں آ چکے ہیں، دعا سن لی گئی ہے، کن کہہ دیا گیا ہے۔" اس نے کانپتے ہاتھوں سے چہرہ صاف کیا اور آیت الکرسی پڑھ کر اٹھ گئی۔ جائے نماز تہہ کی اور صوفے پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی۔ تھکن اور ذہنی اذیت نے اسے چور کر دیا تھا، کچھ ہی دیر میں وہیں بیٹھے بیٹھے اس کی آنکھ لگ گئی۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
داؤد کی لاش پولیس کے حوالے کرنے کے بعد ارتضیٰ اس کے پیچھے ڈیرے پر آیا۔ ڈیرا اس وقت ویران پڑا تھا۔ مرتضیٰ اندر کرسی پر ٹانگیں چوڑی کیے بیٹھاتھا، لبوں میں سگریٹ دبائے وہ گٹار پر کوئی تیکھی دھن بجا رہا تھا۔تیز، بلند ایک اونچا نوٹ۔۔۔
قدموں کی چاپ پر آنکھیں کھول کر دیکھا تو ارتضیٰ سامنے سے آ رہا تھا۔ اس نے سگریٹ نا محسوس انداز میں مٹھی میں دبا لی اور گٹار سائیڈ پر رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ ارتضیٰ اس کے سامنے رکھی چار پائی پر بیٹھ گیا۔
" بھائی ۔" ارتضیٰ نے ہاتھ اٹھا کر اسے کچھ کہنے سے روکا ۔
" تم نے داؤد کو کیوں گولیاں ماری؟ اس کے ساتھ جو بھی سلسلہ تھا وہ میرا تھا، تم کیوں بیچ میں پڑے؟"
" یہ اپنی بیوی سے کیوں نہیں پوچھتے؟"
" بکواس کی تو دوسرا چانٹا الٹے ہاتھ کا دوں گا ۔ "
" میں نے اسے پہلے بھی کہا تھا کہ اگر بھابھی کے چار فٹ کے فاصلے پر نظر آیا تو مار دوں گا، اب اس کی آئی تھی تو میں کیا کروں؟" اس نے کندھے اچکا کر بےپرواہی سے کہا۔
" اور سَحر ؟"
" اس کو تو میں نے لے جا کر کمرے میں پھینک کر کنڈی لگا دی تھی۔ میرا بس چلتا۔"
" تمھاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو قید کرنے کی؟ تمھیں نہیں معلوم کہ وہ بند کمروں سے ، تنہائی اور قید سے کس قدر خوفزدہ ہے ؟"
" اگر اتنا ہی خوف ہوتا تو اس سے ملنے نہ جاتی، اتنا ہی خوف ہوتا تو شریف عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھتی ، اپنے سابقہ شوہر سے تعلقات استوار نہ کر رہی ہوتی۔"اس کی آنکھوں میں باغیانہ چمک تھی۔
" مرتضیٰ !" اس نے مرتضیٰ کو تنبیہی نظروں سے دیکھا۔
" میں جانتا ہوں، وہ۔۔۔ ایسی۔۔۔ نہیں۔۔۔ ہے ۔ تمھاری اس حرکت کی وجہ سے کل پنچائیت میں مجھے سَحر کے ساتھ بلایا گیا ہے۔ صرف تمھاری ایک حرکت کی وجہ سے مجھے اپنے گھر کی عزت کے کردار کی صفائیاں پنچائیت کو دینی پڑیں گی۔
مرتضیٰ اگر وہ غلط بھی ہے تب بھی وہ میری عزت ہے۔ تمھیں خیال کرنا چاہیے تھا۔"
" تم اسے معاف کر دوگے ؟"
" اس نے کچھ غلط کیا ہی نہیں ہے کہ اسے میری معافی کی ضرورت پڑے۔ " ارتضیٰ نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔
" وہ اپنے سابقہ شوہر سے ملنے ۔ ۔ ۔ "
" تو ملنے میں کیا گناہ ہے ؟" ارتضیٰ نے شعلہ بار آنکھوں سے اس کا چہرہ دیکھا۔" کوئی وجہ ہو سکتی ہے، کوئی ضروری کام ہو سکتا ہے، کوئی پرانا حساب ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں اسے کٹہرے میں کھڑا کر دوں۔"
" مرتضیٰ ،تم نے میرا مان توڑ دیا، یار ۔" وہ افسوس سے کہتا کھڑا ہوا ۔
" میں پنچائیت نہیں بیٹھنے دوں گا۔" وہ مڑا تو مرتضیٰ پیچھے سے بولا ۔
" بکواس!"
" میں سب کچھ اپنے سر لے لوں گا۔"
" ضرورت نہیں ۔"
" میں خود کو غلط ثابت کر دوں گا، بھائی ۔"
" جو چیز ہاتھ جلا دے اسے پھینک دینا چاہیے ۔" اس نے پلٹے بغیر کہا تو مرتضیٰ نے ہتھیلی کھول دی۔ سگریٹ زمین پر گر گئی۔
"مرتضیٰ۔۔۔ خدا نے عورت کو بہت نرمی سے بنایا ہے، اتنی نرمی کے ساتھ کہ وہ ہم جیسوں کی پوری زندگی کا سکون اپنے دل میں سمیٹ سکتی ہے۔اور اگر اس کا دل زخمی ہو جائے تو زندگی ایسے ویران ہو جاتی ہے جیسے کبھی آباد تھی ہی نہیں۔ جو عورت کے ساتھ نرمی برتا ہے ، خدا اُس کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھلے رکھتا ہے۔"
" تم نے سَحر کو غلط سمجھا،ان کی بات نہیں سنی اور پھر ان کی کمزوری کا فائدہ بھی اٹھایا۔
عورت کمزور نہیں ہوتی،بس وہ نرم ہوتی ہے، پگھل جانے والی، معاف کر دینے والی، محبت کرنے والی۔
تم نے ان کی نرمی کا فائدہ اٹھایا۔" اس بار ارتضیٰ حسن دہلیز پار کر گیا تھا ۔ کمرے میں مرتضیٰ اور اس کی آدھی جلی سگریٹ بچی تھی۔
" اور اگر عورت مرد کا دل توڑ دے تو کوئی سزا نہیں؟" مرتضیٰ تیزی سے اس کے پیچھے آیا ۔ آواز بلند اور تنفس تیز تھا۔ بخار زدہ انا کی طرح ہر قدم پر بھڑکتے ہوئے۔
" عورت کو سارے حق ملے ہوئے ہیں؟ ہماری عزت سرِعام نیلام کرتی پھریں اور ہم تماشہ دیکھتے رہیں؟"
" میری بیوی جو بھی کرے گی وہ میرے ساتھ رہے گا تمہاری عزت کو کچھ نہیں ہوگا ،مرتضیٰ۔ مگر چلو ایک بات بتاؤ، اگر یہاں سحر کی جگہ پری ہوتی تو تم کیا کرتے؟"
" میں اسے وہیں زندہ گاڑ ھ دیتا۔" مرتضیٰ کا چہرہ تن گیا۔ وہ طیش سے بولا، لہجہ مزید بلند ہوا لیکن چہرے پر پڑنے والا تھپڑ زناٹے دار تھا۔
" بہن کو گاڑھ دو گے؟ تم اپنی سگی بہن کو زمین میں گاڑھ دو گے؟" ارتضیٰ کے لہجے کی وحشت نے پورا ڈیرہ ساکت کر دیا۔
" ہاں، گاڑھ دوں گا، اگر اس دن اسے سلیمان کے ساتھ میں نے پکڑا ہوتا تو اسے وہیں گاڑھ دیتا۔ وہ تم تھے جس نے اسے بچا کر رکھا ہوا تھا۔" دوسرا تھپڑ پہلے سے زیادہ بھاری تھا۔مرتضیٰ نے ہاتھ کی پشت سے ناک سے بہتا خون صاف کیا مگر نظریں نہ جھکیں۔ وہ جیسےکسی چھوٹے بچے کی طرح مار کھانے کے بعد ضد کی سی کیفیت میں کھڑا تھا۔
ارتضیٰ آگے بڑھااور دائیں ہاتھ سے اس کا گریبان دبوچا۔
" پکڑا ہوتا؟ یہ لفظ تم اپنی بہن کے لیے استعمال کرو گے؟
نکاح کیا تھا اس نے، کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔
اگر ابا اس کی شادی کے لیے مان جاتے تو وہ کیوں کرتی ایسا ؟
اور تم بتاؤ تمہیں کس نے حق دیا کہ تم اس کی زندگی کا فیصلہ کرو ؟
تم ہو کون جو یہ فیصلہ کرو گے کہ وہ کیا کرے گی اور کیا نہیں ؟
کس سے شادی کرے گی کس سے نہیں؟
خدا بننے کی کوشش کیوں کرتے ہو جب خدا نے عورت کو خود choices دی ہیں؟" مرتضیٰ رک سا گیا۔ جیسے پہلی بار کوئی اس کے گھٹن زدہ ذہن میں روشنی ڈال رہا ہو۔
" تم مرتضیٰ ہو، تمہیں حسن داد نہیں بننا۔ تمہیں جاہل اور ظالم نہیں بننا ۔۔۔
مرتضیٰ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تم انسان ہو یا جانور بن چکے ہو؟" ارتضیٰ کی آواز میں اب خالص آگ تھی۔
" اور اگر انسان ہو تو کیسے انسان ہو؟ جو اپنے گھر کی عورتوں کو اعتماد ہی نہیں دے سکتا؟
جس کی موجودگی میں گھر کی عورتیں پرسکون اور محفوظ نہیں ہیں۔
اور جس بہن کو تم مار ڈالنے کی بات کر رہے ہو نا اس نے ماں بن کر پالا ہے تمہیں۔
جب تم ابا سے پٹ کر بخار میں تپتے ہوئے آتے تھے تو راتوں کو جاگ جاگ کر تمھیں اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ٹھنڈی پٹیاں کرتی تھی وہ۔
تمھاری ہم عمر تھی نا پھر بھی تمھارے ہر دکھ کا احساس کرتی تھی۔ اپنی سالگرہ کے دن وہ تمھاری پسند کا کھانا پکاتی تھی۔ وہ بھی تو اسی دکھ سے گزری جس سے تم گزرے، اس نے بھی تو وہی گالی کھائی جو تم نے کھائی۔ اسے بھی اپنی آنکھوں کے رنگ سے نفرت ہے مگر اس نے کبھی تمھاری طرح ابا کی محبت کے لیے لالچ نہیں کی۔ " ارتضیٰ کی آنکھوں میں برسوں کا دکھ نمی بنا تیر رہا تھا ۔
" یہ بہنیں ماں بن کر تم جیسوں کی پرورش کرتی ہیں اور بعد میں تم اونٹ جتنے قد نکال کر ان کے سامنے کھڑے ہو کر انہی بہنوں سے کردار کی صفائیاں مانگتے ہو؟ ڈوب مرنا چاہیے تم جیسے بھائیوں کو۔" مرتضیٰ کا سانس تیز اور آنکھیں سرخ ہونے لگیں۔مگر ارتضیٰ رکا نہیں، اس نے وہ پردہ کھینچ ڈالا جو مردانہ غیرت کے نام پر بہنوں کی قبروں پر ڈالا جاتا ہے۔
" تم جیسے ناقدرے بھائیوں کو بہنوں جیسی نعمت ملنی ہی نہیں چاہیے ۔"
" ایک بات میری یاد رکھنا، میری بیوی یا میری بہن کسی کو بھی تم نے غصے سے پکارا بھی تو میں تمہاری جان لے لوں گا۔ میری بہن اپنی زندگی کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرے گی۔
میری بیوی جہاں جائے گی مجھے بتا کر جائے گی، تم سے اجازت نہیں لے گی اور تم ان کے معاملات میں بولو گے بھی نہیں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تمہیں یہاں چھوڑنا اتنا خطرناک ثابت ہوگا کہ تم انسان سے جانور بن جاؤ گے بالکل ابا سائیں کی طرح۔
تم وکٹم تھے۔۔۔ تمہیں ولن نہیں بننا چاہیے تھا۔" وہ دانت میچ کر بولا، اسے دھکیل کر اس کا گریبان چھوڑا اور تیزی سے پلٹ گیا۔
" ب ۔۔۔ بھائی!" مرتضیٰ کی آواز پہلی بار کمزور ہوئی، شرمندگی سے لرزتی ہوئی۔
" بھائی میں نے اسے صرف اس لیے مارا تاکہ تمہارے صاف دامن پر چھینٹیں نہ پڑیں۔ میں تو داغدار، گناہگار ہوں نا۔ تم پاک دامن تھے، تم ۔۔۔" ارتضیٰ نہیں رکا، وہ دروازہ پار کرکے گاڑی میں بیٹھا اور چلا گیا۔ مرتضیٰ اس کے پیچھے بھاگا جیسے ہمیشہ بھاگا کرتا تھا۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
سَحر کی آنکھ کھلی تو اس نے چونک کر گھڑی پر وقت دیکھا، رات کے گیارہ بج رہے تھے، کمرہ اب بھی خالی تھا۔ وہ تیزی سے اٹھ کر باہر آئی تو وہ صحن میں پڑی لوہے کی کرسی پر سر ٹیکے بیٹھ تھا۔ پاؤں سامنے میز پر سیدھا کیے شاید وہ نقاہت کے مارے سو چکا تھا۔ سَحر کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے ۔ وہ اس تک آئی اور دونوں ہاتھ اس نے گھٹنوں پر رکھے ، زمین پر بیٹھ گئی۔ ارتضیٰ گہری نیند میں تھا۔ وہ دھیرے دھیرے اسے دبانے لگی۔ جوں ہی اس کے ہاتھ ارتضیٰ کے پیروں پر پڑے، وہ نسوانی ہاتھ محسوس کرتے یک دم اٹھ گیا۔ سَحر نے اس کا چہرہ دیکھا آنسو یک دم بہہ نکلے تھے۔
" ہمیں معاف کر دیں ، ہم سے خطا ہوگئی ہے ۔ہم اپنی غلطی مان رہے ہیں۔ آئی ایم سو سوری۔" اس کی بات سن کر ارتضیٰ نے اس کے ہاتھوں سے پاؤں نکال کر زمین پر رکھے۔
" اوپر بیٹھیں ۔" سَحر نے تیزی سے اس کی بات مانی اور ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
" مجھے یہ بات ہضم کرنے دیں کہ جس عورت پر میں نے سب سے زیادہ اعتبار کیا، اس نے مجھ پر اعتبار ہی نہیں کیا۔"
" ہمیں معاف کر دیں ۔"
" سَحر ! اس گاؤں کی ہر عورت مجھ پر اعتبار کرتی ہے اور میری بیوی ۔۔۔ میری اپنی من چاہی بیوی نے مجھ پر اعتبار نہیں کیا۔ مجھے تو ڈوب مرنا چاہیے ۔" وہ خفا تھا،اس نے خدا کا شکر ادا کیا کہ وہ مرتضیٰ جیسا نہیں تھا۔ باہر دروازہ کھٹکا تو وہ دونوں اس طرف متوجہ ہوئے۔
" بھائی، مجھے معاف کر دیں۔ بھائی دروازہ کھولیں، میں بھابھی سے معافی مانگ لوں گا۔ بھائی مجھ سے ناراض مت ہوں، میں کہاں جاؤں گا؟" ارتضیٰ نے اس کی بات کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔
" ارتضیٰ ، معاف کر دیں ۔ ہم سے بھول ہوگئی۔"
" میں کل پنچائیت میں کیا کہوں گا کہ میری بیوی نے مجھ پر اعتبار نہیں کیا ؟ جس عورت کے پیچھے میں نے سب کچھ چھوڑ دیا، اس عورت کو اتنا یقین بھی نہ دلا سکا کہ وہ مجھ پر اعتبار کر لے ۔ " وہ شکوہ کر رہا تھا۔
" ارتضیٰ، غلطی ہو گئی۔"
" اب آپ مجھے بتائیں کہ آپ کا داؤد سے رابطہ کیسے ہوا؟ اور آپ نے اس بات کو مجھ سے کیوں چھپایا؟"
" کل ہوا تھا، ہم جھوٹ نہیں بولنا چاہتے تھے ارتضیٰ، ہم بس ڈر گئے تھے ۔۔۔
ہم ان کی باتوں سے ڈر گئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہم ان سے ملنے نا آئے تو وہ سب ختم کر دیں گے۔"
" جھوٹ !
آپ یہ بات بہت اچھے سے جانتی ہیں کہ میں اس سے زیادہ با اختیار ہوں۔ اگر آپ مجھے بتا دیتیں تو وہ آپ کا سایا بھی نا دیکھ پاتا ۔ کیا میں یہ سمجھوں کہ آپ نے خود ؟" اس نے تیزی سے اٹھ کر زمین
پر بیٹھتےارتضیٰ کے منہ پر ہاتھ رکھا ۔
" نہیں ارتضیٰ ، ہم نے خود نہیں رابطہ کیا۔"
" اوپر بیٹھیں! یہ آپ کا مقام نہیں۔"
" ہم نے اپنے آپ کو خود ہی اپنے مقام سے گرا لیا ہے۔ ہم سے بھول ہوئی ہے، گناہ نہیں۔ مرتضیٰ ہمیں غلط سمجھ رہے ہیں۔ ہم گناہگار نہیں ہیں۔ آپ تو ہمیں جانتے ہیں نا، ارتضیٰ ۔"
" یہی تو مسئلہ ہے کہ میں آپ کو جنتا ہوں۔ کوئی آپ کو دھمکی دے کر بلائے اور آپ چلی جائیں ۔۔۔آپ ایسی نہیں تھیں۔ "
" ہم ڈر گئے تھے۔ ہم آپ کو بتانا چاہتے تھے لیکن۔۔۔" باہر سے دروازہ مزید شدت سے بجنے لگا۔
"If you don't want to listen to me, fine! I'll stay right here… all night or all my life, I don't care!"
" اگر آپ میری بات نہیں سننا چاہتے تو ٹھیک ہے، میں بھی یہیں بیٹھا رہوں گا، ساری رات یا ساری زندگی، مجھے پرواہ نہیں۔" مرتضیٰ بلند آواز میں انگریزی میں بول رہا تھا۔ ارتضیٰ نے پھر اسے نظرانداز کیا۔
" تو جب کل میں بار بار پوچھ رہا تھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ کیوں رو رہی ہیں؟ کسی نے کچھ کہا ہے تو بتائیں۔
تو پھرآپ نے اس وقت مجھے کیوں نہیں بتایا، سَحر ؟ کیوں آپ نے مجھے بتائے بغیر گھر سے قدم باہر نکالا ؟" سَحر کے پاس اس کے سوالوں کا جواب نہیں تھا۔ وہ سر جھکا کر رونے لگی ۔
" کمرے میں جائیں، ہم صبح بات کریں گے۔"
" آئی ایم سوری نا۔"
" سچ نہیں بتائیں گی تو کوئی معافی نہیں ہے۔"
" ہم سچ میں ڈر گئے تھے ارتضیٰ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے بابا ان کے پاس ہیں۔ ہم بس ڈر گئے تھے۔"
" آپ کے بابا کہاں ہے یہ میں جانتا ہوں۔ ان کے پل پل کی خبر ہے مجھے۔
آپ کے بابا داؤد کے پاس نہیں ہیں، اور آپ نے جھوٹ بول کر میرا بچا کھچا اعتماد بھی توڑ دیا۔" اس کی بات سن کر سَحر کا دل مزید زور سے دھڑکا۔ اس سے پہلے وہ دوبارہ اس کے پاؤں پکڑ لیتی، ارتضیٰ سختی سے بولا۔
" کمرے میں جائیں ! " سَحر چند لمحے اس کا چہرہ دیکھنے کے بعد آنسو پونچھ کر کمرے میں چلی گئی۔ اندر آ کر بیڈ پر بیٹھے وہ سسکیوں سے رونے لگی ۔
ارتضیٰ کو سچ بتانے کے لئے جو الفاظ درکار تھے وہ سَحر کے منہ سے نکلنے سے انکاری تھے۔
وہ ارتضیٰ کو وجہ دکھا دیتی تو ارتضیٰ ویسے ہی برداشت نہ کر پاتا اور خود وہ کبھی اس کے سامنے سر نہ اٹھا سکتی۔ وہ اسے اس اذیت سے بچا رہی تھی۔ ارتضیٰ باہر بیٹھا آنکھیں میچے اس کی سسکیاں سنتا رہا ۔
☆ ☆ ☆
صبح سورج نکلنے کے بعد ،آج سب پنچایت کے ڈیرے کی بجائے کپاس کے کھیتوں کے بیچ بنے ڈیرہ نواب میں جمع تھے۔ ڈیرے میں چار چارپائیاں آمنے سامنے لگی تھی۔
" تمہاری بیوی کی کل والی حرکت کے بعد تم کیا جواز لائے ہو؟" پنچائیت کے سربراہ نے اپنا تیسرا سوال اچھالا ۔
" میری بیوی نے کچھ غلط نہیں کیا۔" اس نے تیسری دفعہ بھی وہی جواب دیا۔ سَحر اندر پردے میں کھڑی اس گفتگو کو سن رہی تھی۔ یہ کیا شخص تھا، خود اس سے ناراض ہونے کے باوجود اس کا دفاع کر رہا تھا۔ ایک داود تھا جو سرِمحفل اسے جھٹلا دیتا تھا اور ایک یہ شخص ہے ۔۔۔ایک مرد جو اس دنیا کی جلتی دھوپ میں اس پر مسرت بخش سایہ بنا کھڑا تھا،اور بدلے میں اس نے ارتضیٰ کو کیا دیا تھا؟
" ارتضیٰ خان، ہم نے آپ کو کبھی جھوٹ کا ساتھ دیتے نہیں دیکھا۔ معیار خراب مت کریں۔ " پنچائیت کے دوسرے سربراہ نے بولا تو ارتضیٰ نے گہرا سانس لیا۔
" میں سچ کہہ رہا ہوں۔ میری بیوی نے کچھ غلط نہیں کیا۔" ارتضیٰ اٹھا اور دیوار پر نصب پروجیکٹر (جو صبح ہی لگوایا تھا) کی طرف اشارہ کیا۔
"ملک سائیں! باتیں تو بہت ہو گئیں، اب ذرا منظر بھی دیکھ لیں کہ در اصل وہاں ہوا کیا تھا۔" اس نے ریموٹ دبایا۔ دیوار پر شبِ وصل کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلنے لگی۔ ویڈیو میں صاف نظر آ رہا تھا کہ سحر اکیلی نہیں بیٹھی تھی،داؤد سامنے تھا، وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ رہی تھی۔
" دیکھیں یہاں سحر نے میرے اس دشمن ، داؤد کو یقین دلایا کہ وہ بالکل اکیلی ہیں۔ وہی مظلوم عورتوں والا کام ۔۔۔"جیسے ہی ویڈیو میں سحر نے داؤد کو زوردار تھپڑ مارا اور پھر اپنے پرس سے پسٹل نکال کر اس کے سینے پر تانی، پنچایت کے ہجوم میں ایک اجتماعی حیرت دوڑ گئی۔ارتضیٰ نے ویڈیو وہیں روکی اور
مڑ کر پنچایت کے معززین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔
"دیکھ لیں! یہ ہے میری بیوی۔" ارتضیٰ کی آواز میں فخر اور جلال کا ایسا امتزاج تھا کہ سب کی نظریں جھک گئیں۔
"میری بیوی یہاں کی ان عورتوں کی طرح نہیں ہے جو چار دیواری میں رونا جانتی ہیں۔ وہ ایک پڑھی لکھی، ذہین اور نڈر عورت ہے جو مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دشمن کا خاتمہ کرنا جانتی ہے۔ کسی ایسی ویسی عورت کے لئے دستار نہیں چھوڑی میں نے۔"وہ چند قدم آگے بڑھااور پنچایت کے سربراہ کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
" ملک سائیں، آپ کو اعتراض تھا کہ وہ اکیلی کیوں گئی؟ وہ اکیلی اس لیے گئی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ گیدڑ کسی مرد کو دیکھ کر بل میں گھس جائے گا۔ اس نے خود کو چارے کے طور پر استعمال کیا تاکہ اس فتنے کو باہر نکالا جا سکے۔" اسی لمحے مرتضیٰ نے موقع پا کر زوردار آواز میں اضافہ کیا، "اور ملک سائیں! ایک اور بات ان سب کو سمجھا دیں۔ پچھلی بار بھابھی پر جو حملہ ہوا تھا، وہ بھی اسی داؤد مختار نے کروایا تھا۔ اس وقت وہ میرے ہاتھوں بچ گیا تھا، مگر اس بار بھابھی نے اسے اپنی
عقاب جیسی نظروں سے ڈھونڈ نکالا۔"
" اب بتائیں، کیا آپ میں سے کسی میں اتنی ہمت ہے کہ وہ اس عورت کے وقار پر سوال اٹھائے جس نے وہ کام کیا جو آپ کی پولیس اور پنچائیت نہ کر سکی؟" ملک سائیں اور باقی معتبرین کے پاس اب کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ ویڈیو ثبوت بن گئی تھی اور ارتضیٰ کی دلیل نے سحر کو ایک مشکوک عورت سے علاقائی ہیروئن بنا دیا تھا۔ ملک سائیں نے ارتضیٰ کا ہاتھ تھام لیا۔
" نواب ! آپ کی ذہانت کا جواب نہیں۔ ہم معذرت خواہ ہیں کہ ہم نے ایک سرداری حکمتِ عملی کو کچھ اور سمجھ لیا۔میں اس بہادر بچی سے ملنا چاہوں گا۔ " ارتضیٰ کے ماتھے پر ایک پل کے لیے لکیر ابھری۔ وہ جانتا تھا کہ سَحر وہ شیرنی نہیں ہے جس کا ڈھونگ اس نے ابھی باہر رچایا تھا۔ وہ تو کانپتی ہوئی ایک چڑیا تھی جو ذرا سی آہٹ پر سہم جاتی تھی۔ وہ مسکرا کر پردے کے پیچھے آیا۔ سَحر دیوار سے لگ کر کھڑی تھی، اس کا رنگ زرد تھا اور وہ اپنے دوپٹے کے پلو کو اتنی سختی سے مروڑ رہی تھی کہ اس کی پوریں سفید پڑ گئی تھیں۔
"ارتضیٰ۔۔۔ ہم باہر نہیں جائیں گے۔ ہمیں بہت ڈر لگ رہا ہے۔" اس کی آواز اتنی نحیف تھی کہ
لگ رہا تھا ابھی دم توڑ دے گی۔ارتضیٰ نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھا۔ اس کی نظروں کی تیزی اب نرمی میں بدل گئی تھی۔
"سَحر، اگر آج آپ باہر نہ آئیں،تو باہر بیٹھے لوگ زندگی بھر آپ کو ایک گناہگار عورت کے طور پر یاد رکھیں گے ۔ میں نے ان کے سامنے آپ کو ایک جنگجو بنا دیا ہے، آپ کو صرف چند لمحوں کے لیے وہ نقاب اوڑھنا ہے۔"
"مگر ہم جھوٹے ہیں۔۔۔"
"یہ جھوٹ نہیں ہے سَحر، یہ آپ کی بقا ہے!" ارتضیٰ نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر اسے حوصلہ دیا۔
"بس نظریں نیچی رکھیے گا، لوگ سمجھیں گے کہ یہ آپ کا وقار اور حیا ہے۔ میں آپ کے ساتھ ہوں ۔" سَحر نے لرزتے قدموں کے ساتھ ارتضیٰ کے پیچھے پردہ پار کیا۔ باہر موجود مردوں کے ہجوم کو دیکھ کر اسے لگا کہ وہ گر جائے گی، اس کا دم گھٹنے لگا۔
"السلام علیکم۔۔۔" اس کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ بمشکل سنائی دی، مگر ارتضیٰ نے اسے اس کی
شرافت اور عاجزی بنا کر پیش کیا۔ ملک سائیں نے لرزتے بوڑھے ہاتھوں سے ایک ریشمی قیمتی چادر سحر کے کندھوں پر ڈالی۔
"میں نے سوچا تھا کہ یہ تحفہ سردار کی بیوی کو دوں گا، مگر آپ کی بہادری نے ہمیں مجبور کر دیا کہ میں آج آپ کو ہی یہ تحفہ دے دوں ۔" ملک سائیں نے سحر کے سر پر ہاتھ رکھا۔
" Thank you! " اس نے مدھم آواز میں کہا۔
" ان کا مطلب، شکریہ !" ارتضیٰ نے تشریح کر کے بتایا۔
" اتنی انگریزی ہمیں بھی آتی ہے، نواب۔" وہ ہنسے تو فضا کا تناؤ کم ہوا، سب نرم پڑے ۔ ارتضیٰ نے سب سے رخصت لی۔ باہر نکلتے ہوئے اس نے سحر کو اشارہ کیا، اور وہ کسی سائے کی طرح اس کے پیچھے چل دی۔ جیپ کا دروازہ کھلنے سے لے کر انجن اسٹارٹ ہونے تک، ارتضیٰ کے لب سلے ہوئے تھے۔ وہ خاموشی سے ڈرائیو کر رہ تھا۔ سَحر کی دھیمی سی سسکی کانوں میں پڑی تو اس کا چہرہ دیکھا۔
" اب کیوں رو رہی ہیں ؟"
" ہم نے آپ کی عزت خراب کر دی۔ ہم سے سب خراب ہو جاتا ہے۔ ہم کسی قابل نہیں ہیں۔ آپ ہمیں لاہور چھوڑ دیں۔ ہم پہلے ہی جانتے تھے کہ ہم آپ کے قابل نہیں ہیں۔"
" ہو گیا؟ اب میں ڈرائیو کر لوں یا آپ کو کوئی اور خیالی پلاؤ بھی سنانا ہے؟"
" ہم خیالی پلاؤ نہیں بنا رہے۔"
" ہاں ، عورتوں کا فضول سوچتے رہنے کی عادت ہوتی ہے۔ اوور تھنکنگ ۔۔۔ آئی نو ۔" سحر اس کے چہرے کا سکون دیکھ کر خاموش ہوگئی۔
جیسے ہی جیپ گھر کے صحن میں رکی، ارتضیٰ نے انجن بند کیا اور اسٹیرنگ پر سر ٹیک دیا۔
" اندر جائیں!" اس نے سر اٹھائے بغیر کہا۔سحر خاموشی سے اتری اور کمرے میں آ گئی ۔اس نے وہ قیمتی چادر اتار کر بیڈ پر رکھی۔ کمرے کا سکوت اس وقت ٹوٹا ہے جب ارتضیٰ کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ بند کر دیا۔ سحر نے نظر اٹھا کر دیکھا وہ دروازے کی کنڈی چڑھا رہا تھا۔ پھر وہ پلٹا اور بالکل اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس کی آنکھوں میں وہی سوال تھا جو اب ایک طوفان بن چکا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ لب کشائی کرتا، سحر نے اس سے کہا۔
" کیا آپ ہمیں معاف نہیں کر سکتے؟" ارتضیٰ اس کو نظر انداز کرکے سامنے راکنگ چیئر پر جا بیٹھا۔
" سحر انسان کی فطرت میں ہی ٹریپ ہو جانا ہے۔ اٹس اوکے!
حضرت آدم بھی شیطان کے بہکاوے میں آگئے تھے۔ اپ بھی ان کی اولاد ہیں، ٹریپ ہو سکتی ہیں۔ میں آپ کو بلیم نہیں کروں گا۔ میں صرف آپ سے سچ سننا چاہتا ہوں۔" ارتضیٰ کی یہ شفقت سحر کے لیے کسی سزا سے کم نہیں تھی ۔ وہ سچ سنے بغیر ماننے والا نہیں تھا اور وہ سچ بولنے سے قاصر تھی۔ وہ اس کی کرسی کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔
" ہم جھوٹ نہیں بول رہے اگر آپ ہمیں معاف نہیں کر سکتے تو سزا دے دیں۔" سحر نے ہانپتے ہوئے کہا۔ ارتضیٰ نے رخ پھیر کر اس کا چہرہ دیکھا، پھر جھپٹ کر اس کی کلائی پکڑی لی۔
" آہہہ!" سَحر کی سسکی نکلی۔ ارتضیٰ نے گرفت نرم کرکے اسے اپنی طرف کھینچا، اس کا چہرہ اب سحر کے لرزتے ہوئے چہرے کےبالکل قریب تھا۔
" سزا؟" اس کی سرگوشی زہر سے زیادہ مہلک تھی۔
" سحر، یوسفزئیوں کی سزا اتنی آسان نہیں ہوتی کہ آپ اسے مانگ لیں اور ہم دے دیں۔اتنی سی جان ہے اور میرے پاس سزا لینے آئی ہیں۔ پختون خون ہوتا تو بات سزا کی کرتے آپ جچتیں بھی ۔ مجھے آپ کو کوئی سزا نہیں دینی، میں خدا نہیں ہوں۔ مجھے صرف اس سچ تک پہنچنا ہے جو آپ کے حلق سے باہر نہیں آ رہا۔" سحر بےبسی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔
" بولو جاناں، بولو!
بتاؤ کیا چھپا رہی ہو؟
میں مدد کرنا چاہتا ہوں ۔"
" ارتضیٰ، ہمیں لگا تھا آپ کو بتایا تو آپ جانے نہیں دیں گے اور اگر ہم گئیں نہ تو داؤد وہ کر دے گا جو اس نے کہا ہے۔ ہم بس ڈر گئے تھے۔"
" کیا کرنے کا کہا تھا اس نے؟"
" اس نے کہا تھا کہ وہ بابا جان کو مار دے گا۔"
" آپ کو پہلے ہی معلوم تھا کہ آپ کے بابا مر چکے ہیں۔ یہ بکواس تو داؤد پہلے کر چکا تھا۔ آپ پھر جھوٹ بول رہی ہیں۔" ارتضیٰ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ سَحر نے گردن اٹھا کر اس کا چہرہ دیکھا، دھوپ کی کچی روشنی میں اس کی سونے کی مانند دہکتی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
" ارتضیٰ !" وہ پھر سے رونے لگی۔ ارتضیٰ نے بے بسی بھرے غصے سے اس کے دونوں شانوں کو اپنی گرفت میں لے کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
"رونا بند کریں سحر! ان انسوؤں کے پیچھے اب آپ سچ نہیں چھپا سکتیں۔ مجھے اس ڈر کی جڑ تک پہنچنا ہے جس نے آپ کو مجھ سے جھوٹ بولنے پر مجبور کیا۔ وہ کیا ہے جسے کھونے کے ڈر سے آپ نے اپنی محبت داؤ پر لگا دی؟"
" ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا، یقین کریں۔"
" جانتا ہوں جب آپ اس سے طلاق کے بعد میرے ساتھ میرے گھر نہیں رہ سکتی تو آپ میرے عقد میں ہوتے ہوئے اس کے پاس بھی نہیں جا سکتیں۔ یہی تو میں پوچھ رہا ہوں کہ ایسا کیا ہوا تھا؟"
" ہم سے بس غلطی ہو گئی۔"
" آپ مجھ پر اعتبار کیوں نہیں کرتیں ، کیوں مجھ پر بھروسہ نہیں کرتیں؟ میں عام مردوں جیسا نہیں ہوں۔ میں ہمیشہ آپ کا اعتبار کروں گا۔ آپ کہیں گی کہ رات کو سورج نکلتا ہے تو میں حامی بھروں گا۔ سَحر خدا کے لیے مجھ پر اعتبار کریں۔ " اس کی آنکھیں سرخ پڑ چکی تھیں۔ خدا جانے وہ کتنا ضبط کر رہا تھا۔ اس نے چونک کر اپنی ہاتھوں کو دیکھا پھر سحر کے کندھوں پر مضبوط گرفت کو۔ وہ فوراً اس کے کندھوں سے ہاتھ ہٹا کر پیچھے ہٹ گیا۔
" سَحر زندگی میں ایک شخص تو ہونا چاہیے نا جس سے ہم صرف سچ بولیں۔ جس سے ہمیں کوئی ڈر نہ ہو کہ وہ ہمارا سچ ہضم کرے گا یا نہیں ؟ ہونا چاہیے نا؟ میں آپ کے لیے وہ شخص ہوں، مجھ سے سچ کہہ دیں،سحر ۔شوہر نہ سمجھیں، دوست سمجھ لیں، میں آپکی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ " وہ اب نرمی سے اس سے التجا کر رہا تھا۔
" ارتضیٰ، ہم آپ کو نہیں بتا سکتے ۔" وہ بے بس ہو کر بول گئی ارتضیٰ نے اس کا چہرہ دیکھا ۔
" کیا نہیں بتا سکتیں ؟"
" کچھ نہیں ۔"
" یا خدا !" ارتضیٰ نے اپنا سر پیٹا۔
" ارتضیٰ ، پلیز !"
" کچھ تو ہے سحر ورنہ اس کے فون میں ایسا کیا تھا جس دیکھ کر آپ نے گن نیچے کر لی تھی۔ مجھے سچ کی اچھائی یا برائی سے فرق نہیں پڑتا مجھے صرف آپ کی اس خاموشی سے فرق پڑتا ہے ۔
خدا کے لیے مجھے بتائیں داؤد کے پاس کیا تھا؟ کس چیز سے بلیک میل ہو رہی ہیں آپ ؟" سحر اب بھی بت بنی کھڑی رہی۔ اس کے مسلسل بہتے آنسو ارتضیٰ کے ضبط کی آخری دیوار کو چاٹ رہے تھے۔ ارتضیٰ نے ایک فیصلہ کن جھٹکے سے اپنی جیب سے سحر کا فون نکالا اور اسے آن کیا۔ سحر نے منظر دیکھا تو ہڑبڑا کر اس کی طرف لپکی مگر ارتضیٰ نے اسے دور کر رکھا تھا اور دوسرا ہاتھ سے اب میسنجر کی چیٹ کھنگالنے لگا۔سحر ایک زخمی پرندے کی طرح مچل رہی تھی مگر ارتضی فون کو ہوا میں بلند کیے اب داؤد کے نمبر پر ان ٩٠ ویڈیوز کی طویل قطار کو دیکھ رہا تھا۔
موبائل کی سکرین پر ابھی پہلا منظر ہی ابھرا تھا کہ ارتضیٰ کا پورا جسم برف ہو گیا۔ اس کی آنکھیں صدمے سے پھیل گئی۔ اس نے ویڈیوز پلے نہیں کی تھیں، مگر ان نے کور اس کا کلیجہ چاٹنے کو کافی تھے۔ ان ساکت پڑی ویڈیوز میں وہ سحر کی بےبسی، اس کا ہراس اور داؤد کے اس وحشیانہ روپ کو دیکھ رہا تھا جو نکاح کے معتبر رشتے کی آڑ میں محض جبر تھا۔ اسے لگا جیسے اس کے سینے میں کسی نے تپتا ہوا لوہا اتار دیا ہو۔ارتضیٰ نے ایک پتھرائی ہوئی نظر اٹھا کر سحر کو دیکھا، مگر وہاں کا منظر اس کے لیے جیتے جی مر جانے کے برابر تھا۔ سحر اپنے دونوں ہاتھوں میں ارتضیٰ کی ہی گن تھامے، اسے کن پٹی پر رکھے کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اب آنسوؤں کے ساتھ ساتھ طنز بھی تھا۔
ارتضیٰ نے موبائل بند کرکے اسے میز پر پٹخا، اس کی آنکھیں اب خون آلود ہو کر دہک رہی تھیں۔ وہ تیزی سے سحر کی جانب بڑھا اور تبھی اس نے اپنے پورے زور سے ٹریگر دبا دیا۔ فضا میں نہ گولی چلی، نہ موت آئی۔
ارتضیٰ نے اس میگزین سے خالی پستول کو اس کے ہاتھ سے لیا اور ایک جھرجھری کے ساتھ اس کی گردن کے گرد لپٹا دوپٹے اتارا۔ سحر نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ بس کھڑی روتی رہی۔ ارتضیٰ نے دوپٹے صوفے پر پھینک کر اس کے لباس کا کالر پکڑ کر کندھے سے سرکا دیا۔ سحر کے حلق سے ایک گھٹی ہوئی ادھوری چیخ نکلی۔ ارتضیٰ کی نظر ان نشانات پر جم گئی جو چار ماہ گزرنے کے باوجود مٹنے سے انکاری تھے۔
وہاں صرف نیل نہیں تھے، بلکہ سگریٹ سے جلائے گئے زخموں کے گہرے نشانات تھے جو ویڈیو میں تو سرخ تھے مگر اب سفیدی مائل گلابی داغوں کی صورت اختیار کر چکے تھے۔ گردن کی ہڈی کے قریب ناخنوں کی خراشیں اب بھی موجود تھیں۔ وہ کندھا جہاں کبھی نفاست تھی وہاں اب بیلٹ کے بکل سے بنے مستقل گھاؤ واضح تھے۔
یہ وہ نشانات تھے جو صرف تشدد کے نہیں بالکل اس جبری تسلط کے تھے جو کسی بھی عورت کو جیتے جی مار سکتے تھے۔
سحر اپنی آنکھیں سختی سے بند کیے کھڑی تھی۔ ارتضیٰ نے لرزتے ہاتھوں سے اس کے لباس کو واپس اس کے کندھے پر رکھا۔ اس بار اس کی گرفت میں محض پچھتاوا تھا۔ اسے اب سمجھ آیا تھا کہ وہ کیوں اس کے شفقت سے بڑھائے ہاتھ سے بھی خوف زدہ ہو جاتی تھی،وہ کیوں اندھیرے سے ڈرتی تھی اور وہ کیوں داؤد کے نام پر مفلوج ہو جاتی تھی۔
ارتضیٰ نے اسے اپنے حصار میں لیا، اس کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ سحر کا وجود زمین سے آدھا فٹ بلندی پر ہوا میں معلق ہوا۔
" آپ کو بلیک میل ہونے کی ضرورت نہیں تھی ،سحر۔ آپ کو مجھے بتانا چاہیے تھا۔" ارتضیٰ کا لہجہ سسکیوں میں بھیگا ہوا تھا۔ " میں آپ کو انسان سمجھ کر لایا تھا، اور آپ کو غلطی کرنے کی گنجائش بھی دوں گا۔ لیکن اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اس میں بھلا آپ کا کیا قصور ہے جو ڈر رہی تھیں؟" اس کی آواز بے پناہ دکھ میں ڈوبی ہوئی تھی۔
" چھوڑ دیں ہمیں ارتضیٰ! ہمیں مر جانا چاہیے۔" سحر اس سے دور ہونے کی کوشش میں لگی تھی۔ " ہم نے آپ کی عزت بھی خاک کر دی اور اپنی بھی۔" ارتضیٰ نے اسے مزید شدت سے خود میں بھینچ لیا،جیسے وہ اس کے تمام دکھ اپنے اندر جذب کرنا چاہتا ہو۔
" آپ کو مجھ پر اعتبار کرنا چاہیے تھا۔ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ میں آپ کی ہر بات مانتا۔ ۔ ۔ کاش آپ نے مجھے ایک موقع دیا ہوتا۔"
" داؤد نے کیوں کیا یہ سب ؟ کوئی اپنی بیوی کے ساتھ ایسا کرتا ہے؟ کوئی ایسی ویڈیوز بناتا ہے؟
وہ اس قدر بدذات کیوں تھا؟ اس شخص نے ہمیں برباد کر دیا۔ ہم مرتضیٰ کی نظروں سے گر گئے ، ہم آپ کی بھی نظروں سے گر گئے، ہم خود کے سامنے بھی ۔ ۔ ۔ "
" بس ۔ ۔ ۔ خاموش ہو جائیں۔" ارتضیٰ نے اس کے ماتھے پر سر ٹیکا۔
" کبھی کبھی ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ ہم صرف سروائیو کرنے کی جنگ میں ہوتا ہیں اور سحر ان حالات میں سروائیو کر جانا ہی سب سے بڑی جیت ہے۔ آپ نے کچھ نہیں کیا، آپ نے بس اس جانور کے ساتھ سروائیو کیا ہے۔" وہ کچھ دیر کو خاموش ہوا، آنکھوں کے پیچھے شدید پچھتاوا تھا۔
" آئی ایم سوری ۔ ۔ ۔ میں آپ کی تکلیف نہیں سمجھ سکا۔ پچھلے ایک ماہ سے میں نے آپ کو بند کالر
اور یوں دوپٹہ لپیٹے دیکھا، مجھے لگا آپ صرف مجھے سے دوری اختیار کر رہی ہیں۔ میں یہ سب کیوں نہیں سوچ سکا؟" اچانک اس کے دماغ میں ایک جھماکا ہوا۔ ڈی اینڈ سی کے دن ڈاکٹر کی کہی بات اس کے دماغ میں گونجی۔
" لالہ ! ڈی اینڈ سی کے دوران کچھ ایسی علامات ملی ہیں جو صاف بتاتی ہیں کہ اس پر بدترین تشدد ہوتا رہا ہے۔ اس کا شوہر انسان ہے یا جانور ؟" ارتضیٰ نے اپنا سر پیٹ لیا۔
" میں اس دنیا کا سب سے احمق اور بےوقوف ترین انسان ہوں !"
" ہمارا دل چاہتا ہے ہم داؤد کی جان لے لیں۔" سحر نے ہزیانی انداز میں کہا۔
" تو لی کیوں نہیں؟" ارتضیٰ نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر پوچھا۔
" ہم نہیں لے سکے ارتضیٰ۔ ۔ ۔ اس آدمی نے ہمیں ذہنی اور جسمانی طور پر اتنا مسخ کر دیا ہے۔"
" بھول جائیں سب ۔ ۔ ۔ اب کچھ یاد رکھنے کی ضرورت نہیں۔"
"ہم تو نہیں بھول سکتے ارتضیٰ، کبھی نہیں۔ آپ بتائیں، کیا یہ سب آپ بھول سکتے ہیں ؟" اس نے خود پر سے کپڑا ہٹانا چاہا۔ ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
" ایک ایسی لڑکی سے شادی کر کے آپ کو پچھتاوا ۔ ۔ ۔ "
" شش ۔ ۔ ۔ " ارتضیٰ نے دوسرے ہاتھ کی انگلی اس کے لبوں پر رکھی۔
" آپ تو ان آنکھوں کا نور ہیں، سحر۔ میں نے خدا سے آپ کو مانگتے وقت یہ شرط نہیں رکھی تھی کہ مجھے کوئی جنت کی حور چاہیے ۔ اپنے پورے ہوش و حواس میں آپ کے ماضی کو جانتے ہوئے آپ سے نکاح کیا تھا۔ اگر داؤد یہاں آپ کا شوہر نہ بھی ہوتا تب بھی میں آپ کو اسی عزت و حرمت سے اپناتا جیسے آج اپنایا ہے۔"
" آپ کیوں کر رہے ہیں یہ سب ؟ کسی اپنے جیسی پاکیزہ لڑکی سے شادی کر لیں۔"
"میرے لئے اس دنیا میں سحر سراج سے زیادہ پاکیزہ کوئی نہیں ہو سکتا، کیوں کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ یقین کریں، یہ زخم بھر جائیں گے، سحر ۔ "سحر نے بےیقینی سے ارتضیٰ کا چہرہ دیکھا۔ اس کے لئے اس دنیا کا کوئی شخص ارتضیٰ حسن نہیں ہو سکتا تھا۔
" ریلکس ! " ارتضیٰ نے اسے نرمی سے خود سے لگایا۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں صوفے پر بیٹھے تھے، سحر کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا۔
" آپ کو پتا ہے ؟ میرے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی وہ لوگ داؤد کی لاش کو کچرے کے ڈھیر پر پھینک چکے تھے۔ جب میں وہاں پہنچا تو اس کے وجود پر کتوں کا ایک ہجوم تھا۔ اس وقت میں نے سوچا کہ اس نے زندگی میں اتنا برا کیا ہی کیا ہو گا کہ اسکے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے۔ مگر اب ۔ ۔ ۔ اب مجھے وجہ معلوم ہو رہی ہے۔"اس نے سحر کی آنکھوں سے آنسو پونچھے۔
" آپ کے آنسوؤں نے عرش کے مالک تک آپ کی فریاد پہنچا دی تھی۔ اور وہ ۔ ۔ ۔ وہ منصفِ اعلیٰ ہے، سحر۔ اس نے انصاف کر دیا۔ عقد میں بیٹھی عورت کو انسان نہ سمجھنے والے حیوانوں کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے کہ ان کا گوشت کتے نوچتے ہیں اور انہیں دو گز زمین بھی میسر نہیں آتی۔ داؤد کے معاملات اب خدا کے حوالے۔
آئیں، ہم آج سے ایک نئی اور پاکیزہ زندگی شروع کرتے ہیں۔"
☆ ☆ ☆
عشاء کی نماز کے بعد مسجد خالی ہو چکی تھی۔ سنسان پڑی مسجد کے بیچ و بیچ لگے اس زرد بلب کی روشنی اطراف میں پھیلتے ہوئے سیاہی میں بدل رہی تھی۔ ارتضیٰ حسن، اب بھی سجدے میں پڑا تھا،اس کی سسکیاں خالی مسجد کی دیواروں سے ٹکرا کر بازگشت بن رہی تھی۔
مسجد کا خادم، گھر جانے کے لیے راہداری سے گزرا تو ارتضیٰ کو اس حال میں دیکھ کر ٹھٹک گیا۔
اس نے کبھی صوابی کے اس خوددار ولی عہد کو یوں روتے نہیں دیکھا تھا۔ وہ کچھ دیر پریشانی میں کھڑا سوچتا رہا پھر خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا کہ یہ بندے اور رب کے درمیان کا کوئی ایسا معاملہ ہے جہاں تیسرے کی گنجائش نہیں تھی۔
ارتضیٰ دونوں ہاتھوں سے سر تھامے سجدے میں تھا اس کی آنکھیں خون آلود تھی۔ اس نے چہرہ اٹھایا تو وہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اس نے آسمان کی طرف منہ کر کے آہ بھری۔
" حساب غلط ہو رہا ہے۔۔۔
دو مہینے میں نوے راتیں نہیں ہوتی ۔۔۔
یا اللہ!دو مہینے میں نوے راتیں نہیں ہوتی۔۔۔"
وہ بار بار یہی ایک جملہ دہراتا اور رونے لگتا جیسے اس کا دماغ اس بوجھ تلے کچلا جا رہا ہو۔ وہ 90 ویڈیوز اس کے ذہن میں کسی خنجر کی طرح پیوست ہو چکی تھی جو ہر لمحہ اسے یہ یاد دلا رہی تھی کہ تشدد صرف روزانہ نہیں بلکہ دن میں کئی بار ہوا تھا۔
" وہ کیسے یہ سب سہتی رہی؟ وہ بہت نازک مزاج عورت ہے۔ وہ کیسے یہ سب سہتی رہی؟ " اس
نے اپنا سر دوبارہ سجدے میں دے مارا اور ہچکیوں سے رونے لگا۔
☆ ☆ ☆
ایک ہفتے بعد:
شام کے سائے صحن میں طویل ہو رہے تھے۔وہ دونوں چائے کی پیالیاں تھامے بیٹھے تھے۔ سحر کی چند دن پہلے کی گئی خواہش اب حقیقت بن چکی تھی۔ صحن تازہ پھولوں سے مہک رہا تھا۔
" ارتضیٰ ، جب ہمارا بیٹا ہوگا نا تو ہم اسے سب سے پہلے آپ کی طرح نرم مزاجی اور اپنی طرح اس دنیا میں محبت بانٹنا سکھائیں گے۔ " سحر کی آواز میں ایک نئی زندگی کی امنگ تھی، وہ گلاب کی ایک کلی کو چھوتے ہوئے جیسے اپنے مستقبل کے خواب بن رہی تھی۔
" آپ کا بیٹا؟" ارتضیٰ نے دھیمے سے دہرایا ۔
" ہم دونوں کا بیٹا!" وہ جوش مسرت سے اس کی تصحیح کرتے ہوئے چہکی ۔
" پتا ہے ارتضیٰ، ہمیں شادی کا تو اتنا کوئی شوق نہیں تھا مگر یہ آرزو ہمیشہ سے تھی کہ ہمارا ایک بیٹا ہو۔" ارتضیٰ نے اس کے دمکتے ہوئے چہرے کو دیکھا مگر اس کی سماعتوں میں اس وقت ڈاکٹر کا وہ زہریلا جملہ گونج رہا تھا۔
" لالہ ، ہم نے ڈی اینڈ سی تو کر دی ہے مگر شاید اب وہ دوبارہ کبھی ماں نہ بن سکے۔"سحر کی پرجوش نظریں ارتضیٰ کے جواب کی منتظر تھیں۔ ارتضیٰ کو لگا کہ اگر اس نے سچ کہہ دیا تو سحر کی زندگی میں آئی یہ بہار ابھی اور اسی وقت خزاں میں بدل جائے گی۔ وہ اسے دوبارہ ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس نے گہرا سانس لیا اور ایک ایسی قربانی دینے کا فیصلہ کیا جس کے لیے بہت بڑا دل چاہیے تھا ۔
" سحر!" اس کا لہجہ بوجھل تھا ۔
"جی؟" سحر نے اس کا پھیکا پڑتا چہرہ دیکھا تو قریب جا بیٹھی۔
" در اصل ، سحر۔۔۔ میں آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں۔" وہ رکا ،سحر کے ساتھ گزارے ہوئے تمام اچھے برے لمحے ایک فلم کی طرح اس کی نظروں سے گر گئے گزرے۔ اس نے سحر کے حصے کا کرب اپنے نام کرنے کا تہیہ کر لیا۔
"سحر، جس خواب کی آپ بات کر رہی ہیں۔۔۔ وہ مجھ سے جڑ کر کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ "
" کیا مطلب؟" سحر کے چہرے کی مسکراہٹ منجمد ہوئی۔
" سحر میں کبھی ۔۔۔ میں کبھی اولاد نہیں پیدا کر سکتا۔" اس کے الفاظ کے ختم ہوتے ہی اس چہکتی مہکتی فضا میں موت جیسا سناٹا چھا گیا۔ سحر کے ہاتھ میں موجود گلاب کی کلی جیسے وہیں مرجھا گئی۔ اس نے اپنی پلکیں جھپکیں جیسے وہ ارتضیٰ کے کہے ہوئے الفاظ کے معنی سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ وہ جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بول کر اس کے وجود کی اس سب سے بڑی محرومی کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا چکا ہے۔
"پلیز مجھے چھوڑ کر نہ جائیے گا، میں مر جاؤں گا آپ کے بغیر۔۔۔" ارتضیٰ نے وہی جملہ دوہرایا جو اپنی محرومیوں کی وجہ سے سحر کئی دفع اس سے کہہ چکی تھی۔
سحر نے ایک لمحے کے لیے اس کے چہرے کو دیکھا، پھر مسکرا کر اٹھی اور ارتضیٰ کے پاس آ کر اسے کسی بچے کی طرح تھپکنے لگیں۔ "محبت اولاد کی شرط پر نہیں ہوتی ارتضیٰ! محبت بس محبت ہوتی ہے۔ جب محبوب اولاد نہ دے سکے، تو محبوب بدلے نہیں جاتے، بچے گود لیے جاتے ہیں۔"اس نے ارتضیٰ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ جملہ کہا جو صدیوں کے عشق کا نچوڑ تھا۔
"ہم آپ کو کبھی نہیں چھوڑنے لگے۔ ویسے بھی، شاید اولاد ہمارے نصیب میں ہی نہیں تھی۔ آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں؟ ہم کوئی بچہ گود لے لیں گے۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔"ارتضیٰ نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنے دونوں بازو سحر کے گرد پھیلا کر اسے اپنے حصار میں لے لیا۔
"ہم ایک بات بتائیں آپ کو؟" اس نے دھیرے سے پوچھا۔
"جی؟" ارتضیٰ نے جواب دیا۔
"ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے آج تک اس کائنات میں جتنی بھی محبت بانٹی ہے نا۔۔۔ پھولوں سے، پودوں سے، انسانوں یا پرندوں سے؛ وہ تمام تر محبتیں اب یکجا ہو کر 'ارتضیٰ حسن' کی شکل میں ہمارے پاس آ گئی ہیں۔
ارتضیٰ! ہمارا دامن اب اس محبت سے اتنا بھر چکا ہے کہ کسی بچے کے ہونے یا نہ ہونے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔"
ارتضیٰ نے اسے حیرت سے دیکھا، "مجھے لگا تھا آپ بچہ گود لینے کی حامی نہیں بھریں گی۔۔۔"
"ہم بچہ گود لیں گے۔"سحر کے چہرے پر ایک عزمِ نو کی چمک ابھری۔
" اور آپ اس کی تربیت ایسی فولادی کرنا کہ دنیا کی کوئی آندھی اسے جھکا نہ سکے۔ اس کی سیرت میں محمد مصطفیٰ ﷺ جیسی صداقت اور امانت ہو، وہ علی ابنِ ابی طالب ع کی طرح شجاع ہو، جس کے سینے میں حسین ابنِ علی ع جیسا وہ جگر ہو جو حق کی خاطر سارے زمانے سے ٹکرا جائے۔ وہ محمّد ابنِ ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن کر دکھائے جو مصلحتوں کے بت توڑ کر حق کی جانب قدم بڑھانا جانتا ہو۔"وہ ایک پل کو رکی اور پھر اس کا لہجہ مزید دبنگ ہو گیا۔
" ہمیں ایسا بیٹا چاہیے ارتضیٰ، جس کے لیے حق کی خاطر تنہا کھڑا ہونا ہی اس کی سب سے بڑی جیت ہو۔" ارتضیٰ نے اس کے ہاتھوں کی پشت کو چوما۔
" جس کی تربیت آپ جیسی عورت کرے گی وہ بچہ ایسا ہی ہو گا۔"
" ہمیں عورت مت کہیں !" اس نے تنبیہی نظروں سے ارتضیٰ کو دیکھتے وارننگ دینے کے انداز میں کہا۔
" عورت نہ کہوں تو۔۔۔ مرد کہوں ؟" سحر نے ہاتھ میں پکڑی پھول کی کلی اسے دے ماری تو وہ بے ساختہ ہنس دیا۔
؟