رازِ مکتوم
جنوری کی شدید سردی میں، ارتضیٰ کی نئی سیاہ جیپ صوابی کی حدود سے نکل کر موٹروے پر تیز رفتاری سے دوڑ رہی تھی۔
"لالہ! ہم کہاں جا رہے ہیں؟"پچھلی سیٹ پر بیٹھی پریوش نے آخر کار اس خاموشی کو توڑا اور فرنٹ مرر میں دیکھتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ارتضیٰ سے پوچھا۔ ارتضیٰ نے کچھ نہ کہا۔ اس کے برابر بیٹھی سحر نے مڑ کر پریوش کی طرف دیکھا۔
" ہمارے بابا جان کا پتا لگ گیا ہے۔ ان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا،وہ اتنے مہینوں سے لاہور کے ایک ہسپتال میں داخل تھے اور آج ڈسچارج ہو رہے ہیں۔ ہم ان سے ملنے جا رہے ہیں۔"
" تو۔۔۔ تو ہم دونوں کیوں ساتھ جا رہے ہیں؟" پریوش نے اپنے برابر میں بیٹھے مرتضیٰ کو دیکھ کر الجھن سے پوچھا۔اس کے سوال پر ارتضیٰ نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن کچھ پل بعد جیپ کی رفتار دھیمی ہوئی اور اس نے سڑک کے کنارے ایک پرانے ڈیرے کے سامنے گاڑی روکی۔ سحر نے چونک کر ارتضیٰ کو دیکھا مگر ارتضیٰ کے چہرے پر عجیب سا سکون اور فیصلہ کن حکمت تھی۔ ارتضیٰ نے نیچے اتر کر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا اور پریوش کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
" آؤ پری!" پریوش نے اس کا چہرہ دیکھا اور ہاتھ تھام کر نیچے اتری ۔سحر اور مرتضیٰ بھی گاڑی سے باہر آ چکے تھے۔ ارتضیٰ نے انتہائی شفقت سے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔ دھوپ اس کے چہرے پر چمک رہی تھی۔ سونے کی مانند دمکتی آنکھوں میں اپنی بہن کے لیے بے پناہ محبت تھی۔
" زندگی نے بہت زیادتیاں کی ہیں تمہارے ساتھ۔" ارتضیٰ کی آواز دھیمی مگر گہری تھی۔
" آج میں اس قبیلے کے ولی عہد اور تمہارے والی کی حیثیت سے دوسری بار تمہیں کہہ رہا ہوں کہ اپنے سسرال چلی جاؤ۔" اس کی بات سن کر پریوش بری طرح چونکی جیسے اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہو ۔اس نے ارتضیٰ کی مضبوط گرفت سے ہاتھ کھینچنا چاہے،سانس حلق میں اٹک چکا تھا۔
" لالہ! آپ ۔۔۔ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟" پریوش کی آواز بری طرح لرزی۔
" ان سب کو جب سے ہارون کے بارے میں، تمہاری گود میں پلنے والے ان کے قبیلے کے وارث کے بارے میں معلوم ہوا ہے، وہ سب کچھ قربان کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔
پری! اس گھر میں تمہیں پہلے تکلیف ہوئی تھی نہ اب ہو گی۔ ان کا وارث تمہارے پاس ہے۔ وہ تمہیں سردارنی بنائیں گے اور ہارون کو ولی عہد ۔" پریوش نے بمشکل نظریں اٹھا کر ارتضیٰ کی پشت کے پیچھے دیکھا۔ دور کچھ فاصلے پر ڈیرے کے سامنے دو کالی چمکتی گاڑیاں کھڑی تھیں، جن کے سامنے افسر خان اور اس کے بیٹے انتہائی مؤدب انداز میں کھڑے تھے۔
" لالہ! یہ۔۔۔ یہ مجھ سے سلیمان کا بدلہ لیں گے۔" خوف کی ایک سرد لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی۔
" تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے، پری؟" اس نے پری کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کے خوف کو ساکن کرنا چاہا۔
" دشمنی ختم کر دی ہے میں نے۔ ہمارے باپ نے ان کے ولی عہد کو قتل کیا تھا مگر انہوں نے پلٹ کر ہمیں کبھی کوئی جانی نقصان نہیں پہنچایا۔ انہوں نے دشمنی کا حساب صرف ہمارا مالی نقصان کر کے برابر کیا تھا۔ وہ کم ظرف نہیں ہیں، پری۔"
" لیکن لالہ ۔۔۔ میرا ہارون ؟ اگر میں گھر واپس نہ گئی تو ابا سائیں اسے مار ڈالیں گے۔" اسی پل مرتضیٰ اس کے قریب آیا تو وہ سہم کر ارتضیٰ کے قریب ہوئی ۔
" میں ہارون کی ذمہ داری لیتا ہوں۔" مرتضیٰ نے پریوش کے خوف کا اثر لیے بغیر کہا۔
" نہیں ۔۔۔ بالکل نہیں، مجھے اِن پر اعتبار نہیں ہے، لالہ ۔ ابا سائیں نے ان کو کہا تو یہ میرے ہارون کو مار ڈالیں گے۔" وہ ارتضیٰ کے بازو سے چپک کر گڑگڑاتے ہوئے بولی۔
" لالہ، مجھے اپنے ساتھ واپس لے چلو، میں ہارون کو اپنے ساتھ لے آؤں گی۔ آپ جو کہیں گے میں کروں گی، بس ہارون کو لانے دیں۔" ارتضیٰ نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور مرتضیٰ کی طرف دیکھا جس کا چہرہ پریوش کی بے اعتباری پر اتر گیا تھا۔
" اچھا ان سے مل لو، پھر چلتے ہیں۔ وہ سب صوابی سے یہاں تمہارے لئے آئے ہیں۔" پریوش نے گہرا سانس لے کر خود کو سنبھالا اور ان کی جانب قدم بڑھا دیے۔ سامنے وہ سارے اس کے استقبال کے لئے کھڑے تھے۔ پریوش نے بھیگی آنکھیں اٹھا کر ان سب کو دیکھا۔ وہ سلیمان جیسی اٹھان والے اس کے دیور، وہ سلیمان جیسی آنکھوں والی اس کی نند ۔ افسر خان نے جیسے ہی اس کو اس جانب آتے دیکھا، ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا سر چوما۔
" بابا سائیں !" پریوش نے جھک کر ان کے ہاتھ کی پشت کو آنکھوں سے لگایا۔
" رونا نہیں ہے، میرا بچہ!
بابا سائیں ہے نا، سب ٹھیک ہو جائے گا۔
بس اب سے تم میرے ساتھ رہو گی۔"
" ہاں بھابھی، آپ سلیمان لالہ کی نشانی ہو۔ آپ ہماری حویلی کی سردارنی ہو۔ بس، اب سے ہارون اور آپ ہمارے ساتھ رہوگے۔" اپنے دیور کی بات سن کر اس کی آنکھوں میں دوبارہ پانی جمع ہونے لگا۔
" ابھی نہیں۔۔۔" پریوش نے اپنے آنسو پونچھے۔
" میں ہارون کو لے کر آؤں گی۔ وہ سلیمان کی آخری نشانی ہے، میں اسے حویلی میں نہیں چھوڑ سکتی۔"
" آپ واپس جائیں گی تو حسن داد آپ کو واپس نہیں آنے دے گا۔" سلیمان کی چھوٹی بہن، نورا نے اس سے ملتے ہوئے کہا۔
" میرے لالہ میرے ساتھ ہیں، کچھ نہیں ہو گا۔" پریوش نے بھرپور مان سے کہا اور پلٹ کر مسکراتے ہوئے ارتضیٰ کا چہرہ دیکھا۔ مرتضیٰ نے پریوش کے چہرے پر ارتضیٰ کے لیے وہ اندھا اعتبار دیکھا تو ارتضیٰ کے قریب آیا۔
" بھائی، تم پر اتنا اعتبار کیوں ہے اس کو؟"
" کیوں کہ میں نے اس پر کبھی طاقت نہیں آزمائی۔ میں نے اسے ہمیشہ انسان سمجھا، کوئی ادنیٰ مخلوق نہیں، میں نے ہمیشہ اس کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا اور اس کی زندگی کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں دیا۔" ارتضیٰ نے سامنے دیکھتے ہوئے طنز بھرے لہجے میں کہا۔
" اگر میں بھی یہ سب کروں تو وہ مجھ پر اعتبار کرے گی؟" ارتضیٰ نے اس بات پر رخ پھیر کر مرتضیٰ کا چہرہ دیکھا۔
" تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے کہ وہ تم سے کتنا پیار کرتی ہے۔ تم اس کو ایک دفع اعتبار دلاؤ تو سہی۔تم نے کبھی خود کو ایک اچھا بھائی ثابت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ تم بس اچھے بیٹے کے خطاب کے پیچھے بھاگتے رہے ۔ " پریوش ان سب سے مل کر واپس ارتضیٰ تک آ ئی تھی۔
" لالہ! آپ مجھ پر دوسری دفع احسان کر رہے ہیں، ابا کو معلوم ہوا تو قیامت آئے گی۔ اپنا بہت خیال رکھنا۔" وہ جذباتی ہوکر ارتضیٰ سے لپٹ گئی۔ ارتضیٰ حسن اس کا واحد سائبان تھا۔ پھر آنسو صاف کیے اور گاڑی کی جانب قدم بڑھانے لگی تو ایک نرم مگر بوجھل آواز نے اسے روکا۔
" میں بھائی نہیں ہوں تمھارا؟" مرتضیٰ کا لہجہ کچی مٹی کی طرح نرم تھا۔ پریوش نے مڑ کر دیکھا، مرتضیٰ وہیں کھڑا تھا مگر آج اس کی آنکھوں میں وہ تپتی دوپہر جیسا غصہ نہیں تھا۔
" لالہ! آپ بھی بھائی ہو۔" پریوش نے دبی ہوئی آواز میں گڑبڑا کر کہا۔
" تو پھر ،میرے گلے کیوں نہیں لگتیں ؟" مرتضیٰ کی آواز میں لرزش آئی۔
" مجھے پیار کیوں نہیں کرتی، پری ؟ مجھے کیوں نہیں کہتی کہ لالہ اپنا خیال رکھنا ؟" پریوش کا سانس حلق میں اٹک گیا۔ اس نے اپنی آدھی زندگی اس کے سائے سے بھی ڈر ڈر کر گزاری تھی۔ اس نے لرزتی نظروں سے ارتضیٰ کو دیکھا۔ ارتضیٰ نے ایک گہرا سانس لیا اور پلکیں جھپکا کر اسے یقین دہانی کروائی ۔ مرتضیٰ نے ایک قدم اس کی طرف بڑھایا، اس کی آنکھوں میں ندامت کا دریا اتر آیا تھا۔
" کیا مرتضیٰ داد کو پریوش سلیمان نظر آتی ہے؟" پریوش کی آواز میں برسوں کا کرب ڈھل کر نکلا۔
"لالہ ! ہم تو ایک ہی کوکھ سے، ایک ہی وقت میں، اس دنیا میں آئے تھے۔ تو پھر ہمارے درمیان یہ ابا سائیں کی نفرتوں نے اتنی اونچی دیوار کیسے بنا دی کہ آپ کو پری بھول گئی ؟ آپ نے کہا تھا آپ کو میری آنکھوں سے نفرت ہے۔ اسی لیے مجھے اتنا رلایا نا؟ لیکن لالہ ان آنکھوں میں میرا کیا قصور تھا؟ یہ تو خدا نے بنائی ہیں۔ یہ تو بالکل آپ جیسی ہیں۔" مرتضیٰ نے تڑپ کر پریوش کے دونوں کندھے تھام لیے۔
" میں نے تمہیں ہمیشہ تکلیف دی نا ؟ میں نے تم سب کو کبھی بہنیں نہیں سمجھا۔ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو گی ؟" پریوش کا ضبط اس ایک لفظ نفرت پر ٹوٹ گیا، وہ ایک سسکی بھر کر اپنے جڑواں بھائی کے سینے سے جا لگی۔
" میں نے آپ سے کبھی نفرت نہیں کی لالہ! کبھی بھی نہیں۔۔۔" پریوش کی ہچکیاں مرتضیٰ کے سینے کو بھگونے لگیں۔
" مجھے بس آپ سے ڈر لگتا ہے۔ پری نے کبھی آپ سے نفرت نہیں کی۔ آپ کو بس میری زندگی، میری خوشیوں سے زیادہ ابا سائیں کا حکم پیارا ہے۔ ابا سائیں کہیں تو آپ کھڑے کھڑے میری جان لے لیں گے، میں جانتی ہوں۔" اس کے سوالات نے مرتضیٰ کے وجود کی کرچیاں اڑا دیں۔ اس نے پریوش کو اتنی شدت سے خود میں بھینچا جیسے اس کی تمام تر اذیت، تمام زخم اپنے اندر جذب کر لینا چاہتا ہو۔ اس نے دیوانہ وار اپنی بہن کا سر چوما اور اپنے لرزتے ہاتھوں سے اس کے آنسو پونچھے۔
" اب نہیں، پری! اب ایسا نہیں ہوگا۔ اب میں ابا کے کہنے پر کچھ نہیں کروں گا۔" ارتضیٰ اور سحر خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔سحر کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ رہے تھے جبکہ ارتضیٰ کے چہرے پر ایک اداس مگر گہرا سکون تھا۔ وہ سکون جو ایک بکھرے ہوئے خاندان کو، ایک کوکھ سے جنم لینے والی دو روحوں کو دوبارہ جڑتے دیکھ کر ملتا ہے۔
☆ ☆ ☆
لاہور پہنچ کر وہ ایک نجی ہسپتال کی راہداریوں سے گزرتے ہوئے ایک پرائیویٹ روم کے سامنے رک گئے۔سحر تیزی سے کمرے کے اندر داخل ہوئی،اس کی آنکھوں میں برسوں کی پیاس اور اپنے باپ کے سینے سے لگ جانے کی تڑپ تھی۔ مرتضیٰ اور پریوش باہر ہی رک گئے،ارتضیٰ اس کے پیچھے داخل ہوا۔ سامنے سراج بیٹھے تھے۔ ان کے ساتھ مختار اور وہ بھی جسے وہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سب سے پہلے سَحر کو حسینہ نے دیکھا اور پھر مختار نے۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔
" تم؟" سوال بے اختیار تھا۔ سراج نے بوجھل نظروں سے پلٹ کر دیکھا۔ سامنے ان کی بیٹی کھڑی تھی اور اس کے پیچھے وہ شخص موجود تھا جس کی متعدد ویڈیوز اور تصاویر داؤد نے انہیں دکھا کر ان کا سر شرم سے جھکا دیا تھا۔وہ بے اختیار اٹھ کھڑے ہوئے۔
" سَحر !" مختار نے اس کی طرف قدم بڑھائے۔
سحر نے کسی کی پرواہ نہ کی، وہ اپنی ازلی پناہ گاہ کی طرف لپکی۔ اس سے پہلے کہ وہ سراج کے سینے سے لگ کر اپنے سارے دکھ رو دیتی، سراج کا ہاتھ بجلی کی تیزی سے فضا میں بلند ہوا اور ہوا میں ہی معلق رہ گیا ، وہ ضبط کر گئے۔ سَحر نے گھبرا کر اپنے چہرے کے بچاؤ میں ہاتھ اٹھائے اور ان کا چہرہ دیکھا۔
" بابا جان؟"اس کے حلق سے نکلی یہ پکار ایک سوالیہ نشان تھی۔وہ سمجھ ہی نہیں سکی تھی کہ یہ اس کا وہ شفیق باپ ہے یا کوئی اجنبی جس کی آنکھوں میں اپنی بیٹی کے لیے صرف حقارت تھی۔
" تمھاری اتنی جرات کہ تم اپنے اس یار کو لے کر ہمارے سامنے کھڑی ہو؟ کس قدر بےحیا اور بد۔۔۔"
" بکواس بند کرو اپنی۔ " ارتضیٰ کی بلند آواز نے مختار کے منہ میں اس گالی کو روکا۔ اس سے پہلے وہ کوئی صفائی دیتا سراج نے سَحر کو بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا ۔ وہ پوری ہل کر رہ گئی تھی۔
" ہماری تربیت اور سالوں کا مان توڑتے ہوئے آپ کو ذرا حیا نہیں آئی ؟ آپ کون ہیں ، سحر ؟ ہم آپ کو نہیں پہچانتے۔ آئندہ ہمارے سامنے نہ آئیے گا۔ دفع ہو جائیں ہماری نظروں سے۔"انہوں نے نفرت سے سحر کو خود سے دور دھکیلا۔ وہ لڑکھڑا کر حسینہ کے قدموں میں جا گری۔ حسینہ کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی، مگر سحر نے آنسوؤں سے لبریز آنکھیں اٹھا کر ارتضیٰ کو دیکھا اور ایک ہاتھ مدد کے لیے بلند کیا۔ اس نے سحر کو زمین سے اٹھایا اور سراج کے پاس گیا۔
" انکل آپ اس آدمی کی بات سن کر سَحر ۔۔۔" اس کا جملہ آدھا منہ میں ہی رہ گیا تھا۔ سراج کی دائیں ہاتھ کی انگوٹھی نے اس کے گال پر ایک گہرا گھاؤ دیا۔ وہ پورا دائیں جانب کو جھکا لیکن کچھ نہیں بولا۔ سیدھا ہوتے ہوئے اس نے پھر صفائی دینا چاہی ۔
" انکل سَحر بے قصور ۔۔۔" ایک اور تھپڑ ارتضیٰ کے چہرے پر پڑا مگر اس کے ماتھے پر ایک شکن تک نہ آئی۔ سحر تڑپ کر سراج کی طرف بڑھی۔
" بابا ، وہ حاکم ہیں، صوابی کے ولی عہد ہیں۔۔۔ "
" بکواس بند کریں۔"سراج کا پارا آسمان پر تھا۔
" انکل نکاح کیا ہے ہم نے، یہ بیوی۔۔۔" اب سراج نے اسے ہاتھ روکے بغیر مارنا شروع کیا ۔ وہ اسے گریبان سے پکڑے مارے جا رہے تھے ۔
" بابا چھوڑیں ان کو، یہ شوہر ہیں ہمارے ۔ بابا ہم محبت کرتے ہیں ان سے۔ بابا خدا کے لیے بس کریں۔ بابا جان آپ کو ہماری قسم چھوڑیں انہیں!"ارتضیٰ چاہتا تو ایک ہاتھ سے اس بوڑھے وجود کو پیچھے ہٹا سکتا تھا، مگر وہ سحر کے بابا تھے، اس کے لئے حسن کے بعد سب سے قابل احترام شخصیت تھے۔ سحر دیوانہ وار ان کے ہاتھوں سے ارتضیٰ کا گریبان چھڑوا رہی تھی۔
" آپ غلط کر رہے ہیں، بابا۔"اس کی چیخیں ہسپتال کے اس کمرے کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں، مگر سراج کے کانوں پر داؤد کی پھیلائی نفرت کے پردے پڑے تھے۔
" ایسی ـــــ - - - بیٹی ہونے سے بہتر تھا کہ ہم بےاولاد رہتے۔ اگر - - - ، - - - ، - - - ہی کرنا تھا تو ایک شریف مرد کی زندگی نہ تباہ کرتی۔ اگر اسی سے شادی کرنی تھی تو بتا دیتی ہم اسی سے شادی کروا دیتے۔" سراج کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کسی زہریلے تیر کی طرح سحر کے سینے میں پیوست ہو رہے تھے۔ وہ ایسے الفاظ منہ سے نکال رہے تھے کہ سَحر کا دل چاہا کانوں پر ہاتھ رکھ دے۔
" انکل ، ایک گالی اور نہیں ۔"ارتضیٰ کے لہجے میں جلال آ چکا تھا۔ "میرے پاس نکاح نامہ ہے۔ ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا۔" سراج نے اس کے چہرے پر ایک اور تھپڑ دے مارا۔
ـ " آپ مجھے جتنا مرضی مار لیں لیکن میری بیوی کے لئے ایک لفظ نہیں! آپ نے اپنی بیٹی کے لیے غلط فیصلہ کیا تھا ۔ آپ نے اسے ایک جانور کو سونپا تھا۔ میں نے آپ کی بیٹی کو بچایا ہے۔" انہوں نے نظر گھما کر سَحر کو دیکھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلا کر یقین دہانی کروائی۔
" نکاح پر نکاح کون کرتا ہے، بدبخت؟ " انہوں نے سحر کو بازوں سے پکڑ کر بری طرح جھنجھوڑا۔ وہ بری طرح لڑکھڑا کر ارتضیٰ کے سینے ٹکرائی۔
" سراج، اس بد چلن ۔۔۔"
" بس! ایک لفظ اور بولا نا۔۔۔ تو یہیں زندہ گاڑھ دوں گا۔ " ارتضیٰ نے مختار کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور دھکیل کر چھوڑ دیا۔ اس کی آواز میں اس کے لہو کی پشت پناہی ابھری، انداز بالکل پٹھان مردوں سا ہوا۔
" داؤد نے طلاق دی تھی سَحر کو۔ آپ پوچھیں ان سے۔
سَحر ! طلاق دی تھی نا اس نے آپ کو ۔" وہ چلا رہا تھا۔
" تم دونوں کی راتوں کو ملنے کی ، بالکنی میں داؤد کی غیر موجودگی میں آنے جانے کی ساری وڈیوز داؤد، سراج کو دکھا چکا ہے، اب تمہارے چلانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ سَحر اسی لیے تم نے داؤد کے ساتھ لندن جانے سے انکار کیا تھا کہ تم اس شخص کے ساتھ نا جائز ۔۔۔" اس سے پہلے کہ وہ اور کچھ کہتا، سَحر کی برداشت ختم ہوئی۔ مختار کی زبان اب مرتضیٰ ہی بند کروا سکتا تھا۔
" مرتضیٰ!" اس نے بلند آواز میں دروازے کی جانب ہانک لگائی اور ایک پل کی بھی جو دیر ہوئی ہو ۔ تیزی سے دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔ آنکھوں نے منظر سکین کیا اور اس کی آنکھوں میں بھیڑیے جیسی بے رحمی اتری۔
" جی بھابھی؟" وہ سامنے کھڑے مرد کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر بولا۔ اس سے پہلے سَحر کچھ بولتی مختار چلائے۔
" یہ ہے وہ حرام۔۔۔ اسی نے گھر میں گھس کر مارا تھا میرے داود کو ۔ یہی ہے وہ، سراج ۔" وہ مرتضیٰ کو دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہوا۔ مرتضیٰ اس کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹنے کے انداز میں پیچھے دیوار تک لے گیا۔ گلاک 19 کی نال اس کی کنپٹی پر تھی۔ وہ برف کا مجسمہ بنا کھڑا تھا اور حسینہ نے بھی اپنے ہاتھ روک لیے تھے۔
" چھوڑو اس کو۔" سراج نے مرتضیٰ سے کہا مگر اس پر کوئی اثر نا ہوا۔ آج ارتضیٰ کو مرتضیٰ کا جارہانہ انداز برا نہیں لگا۔ اس نے موقع کا فائدہ اٹھایا ۔
" اب آپ میری بات سنیں ۔ انکل آپ کی بیٹی کو داؤد نے اسی دن طلاق دے دی تھی جس دن اس کی فلائٹ تھی۔ اور نہ صرف طلاق بلکہ اس قدر جارہانہ رویہ اور بیلٹ کا استعمال کہ سَحر نے اپنی اولاد کھو دی۔ " اس نے سَحر کو اپنے قریب کھینچا اور اس کی وہ آستین اوپر کی جس بازو پر بیلٹ کی ضربوں کے گہرے نشان آج بھی موجود تھے۔ سراج نے وہ نشان دیکھے تو تھم گئے۔
" سَحر کی کوکھ خالی کرکے، انہیں موت کے منہ میں تڑپتا چھوڑ کر یہ حیوان انہیں گھر میں لاک کرکے لندن چلا گیا۔ اس سے پہلے کہ سَحر بھوک پیاس سے مر جاتی ، میری پھوپھو جو ان کے گھر میں ملازمہ تھیں انہوں نے مجھے اطلاع کی اور میں نے انہیں کھانا پینا اور دوائیں پہنچائیں اور پھر یہ روز ہونے لگا۔ اور عدت ختم ہونے کے بعد یہ واپس آیا اور اس نے سَحر سے حلالے کی خواہش کی اور سَحر کا نکاح زبردستی میرے ساتھ کر دیا۔ میں سَحر کو صوابی ۔۔۔"
" یہ جھوٹ بول رہے ہیں، سراج ۔ میرے بیٹے نے تمھیں سنایا نہیں دکھایا تھا۔ یہ روز کتنی کتنی دیر سَحر کے ساتھ ایک کمرے میں رہتا تھا ۔ تم اس سے پوچھو یہ دونوں لڈو کھیلتے تھے کیا ؟ " مرتضیٰ نے پستول پوری قوت سے اس کے تیزی سے چلتے منہ میں کھبوئی ۔ مختار کو لگا کہ وہ حلق سے پار ہو جائے گی، اس نے تڑپ کر ہاتھ پیر مارنا شروع کر دیے۔
" بابا ، ارتضیٰ نے کبھی ہمیں غلط نظر سے دیکھا تک نہیں ۔" سحر نے سراج کا بازو پکڑ کر یقین دہانی کروائی۔ اسی پل حسینہ نے سامنے سے ایک سرجیکل قینچی اٹھا کر سَحر کو اپنی جانب کھینچا۔
" میرے شوہر کو چھوڑ۔" وہ مرتضیٰ کی آنکھوں میں دیکھ کر چلائی۔ قینچی کا ایک پٹ سَحر کی گردن پر رکھا ہوا تھا ۔
" مرتضیٰ، انہیں چھوڑو ۔" ارتضیٰ نے بلند اور حتمی لہجے میں حکم دیا۔ مرتضیٰ نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ سحر کی گردن پر قینچی کی دھار دیکھ کر اس کی گرفت مختار کے گریبان پر ڈھیلی پڑی۔
اسی پل کسی نے پیچھے سے حسینہ کے بالوں کو اپنی گرفت میں لیا۔ گرفت اتنی مضبوط تھی کہ ان کے ہاتھ سے قینچی چھوٹ کر زمین پر گری اور وہ اپنے بال چھڑوانے کی جد و جہد کرنے لگیں۔ سحر نے چھوٹتے ہی پلٹ کر دیکھا تو پریوش مضبوطی سے بال پکڑے حسینہ کو جھنجھوڑ رہی تھی۔ سحر نے حیران سی نظروں سے پری کو دیکھا۔ دل میں ایک عجیب سی گدگداہٹ اٹھی مگر وہ مسکرائی نہیں۔
ارتضیٰ نے سَحر کا ہاتھ پکڑا اور دروازے سے باہر کی جانب بڑھا۔ وہ جانتے تھے کے پیچھے کے معاملات مرتضیٰ سنبھال لے گا۔ تبھی سراج کی آواز گونجی ۔
" رک جائیں!" ارتضیٰ اور سَحر نے پلٹ کر ان کا چہرہ سوالیہ نظر سے دیکھا۔ وہ سَحر کے قریب آئے اور اس کی کلائی اپنے ہاتھ میں لی ۔
" یہ ہمارے ساتھ جائیں گئی۔ "
" تاکہ آپ انہیں غیرت کے نام پر مار ڈالیں ؟" ارتضیٰ کا لہجہ غصے سے پھٹ رہا تھا۔
" ارتضیٰ !" سَحر نے بے یقینی سے اسے ٹوکا ۔
" ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں !" اس کے لہجے میں مان تھا، وہی مان جو ابھی کچھ دیر پہلے ٹوٹ چکا تھا۔
" یہ آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں !" اس نے سراج کی آنکھوں میں دیکھتے جیسے کوئی گہرا راز کھولا ۔
" سَحر، آپ ہمارے ساتھ جائیں گی نا ؟"سراج نے ارتضیٰ کو نظرانداز کرتے ہوئے سحر سے پوچھا۔ ان کے لہجے میں اب وہ حکیمانہ غصہ نہیں تھا۔
" سَحر ، یہ داؤد کی طرح دھوکہ دے رہے ہیں ۔" سحر نے اپنی کلائی ارتضیٰ کی آہنی گرفت سے نکلنا چاہی۔ارتضیٰ نے اپنی گرفت مزید مضبوط کی۔
" ارتضیٰ پلیز چھوڑیے ۔" ارتضیٰ نے سحر کا چہرہ دیکھا۔ وہاں موجود التجا اور باپ کے لئے تڑپ دیکھ کر اس کے حوصلے پست ہوگئے۔ اس کی گرفت بے اختیار ڈھیلی پڑ گئی۔سحر کی کلائی آزاد ہوئی اور ارتضیٰ کا ہاتھ خالی ہو کر پہلو میں جا گرا۔ باپ کی محبت غالب آ گئی تھی ۔ ارتضیٰ کی آنکھیں اب بھی اس نور نظر کے چہرے پر تھیں ۔
" اس عورت کی خاطر تم نے دستار چھوڑی،لالہ؟ جو تمہارے ساتھ مخلص بھی نہیں تھی ؟" پریوش نے سارا ڈرامہ دیکھنے کے بعد برداشت جواب دے جانے پر چوٹ کی۔
" یہ اس قابل ہیں کہ ان کے لئے دنیا چھوڑی جائے، پری ۔" ارتضیٰ نے پریوش کا چہرہ دیکھ کر کہا، آنکھوں کے بھورے پیالوں میں عشق کا اک جہاں آباد تھا۔
" ہم کسی کو نہیں چھوڑ رہے، کیا لڑکیاں اپنے میکے نہیں جاتیں ؟ "
" شوہر سے اجازت لیے بغیر نہیں جاتیں۔ تمہارا والی اب لالہ ہے، تمہارا باپ نہیں۔" سحر نے پریوش کی بات سن کر پہلے سراج کا چہرہ دیکھا پھر ارتضیٰ کا،جو اب اس کے ساتھ نہیں بلکہ سامنے کھڑا تھا، اب وہ اس کا چہرہ واضح دیکھ سکی۔ اس نے سراج کا ہاتھ چھوڑ دیا، پھر آگے بڑھ کر ٹیبل سے ٹشو اٹھایا اور ارتضیٰ کے گال سے بہتے خون کو پونچھا۔
" بابا جان، آپ کل ہمارے گھر آ جائیے گا۔ ابھی ہم لاہور میں ہی ہیں۔ "
" آپ ہمارے ساتھ نہیں جائیں گی؟" سراج نے بے یقینی سے پوچھا۔
" داؤد اجازت نہیں دیتے تھے تب تو آپ کو اعتراض نہیں ہوتا تھا۔ ارتضیٰ اجازت نہیں دے رہے تو کیا بدلا ؟ آپ کل ہمارے گھر آئیے گا۔"
" ٹھیک ہے۔" انہوں نے نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا مگر تیکھی نظریں ارتضیٰ کے چہرے پر تھیں۔ وہ سحر سے مل کر جانے لگے جب سحر نے پیچھے سے پکارا۔
" بابا جان، آپ کے پاس فون نہیں ہے؟ آپ کا نمبر تو بند تھا۔"
" آپ اپنا نمبر دے دیں۔ ہم آپ سے خود رابطہ کر لیں گے۔" ارتضیٰ نے اپنی جیب سے ایک بزنس کارڈ نکال کر ان کے آگے بڑھا دیا۔ سراج نے کارڈ پکڑا اور کمرے سے اپنی ڈسچارج فائل اٹھا کر راہداریوں میں غائب ہو گئے۔سراج کے جاتے ہی ارتضیٰ کی توجہ ہسپتال کے اسی نجی کمرے کی طرف گئی، جہاں مرتضیٰ اب کرسی پر براجمان تھا، اس کی کرسی کے سامنے مختار گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔
" اب فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے ، ورنہ ۔۔۔" وہ مختار سے مخاطب تھا ۔
" مرتضیٰ اسے چھوڑ دو ۔"
" بھائی ؟"
" لیکن نظر رکھنا! جیسے ہی کچھ بھی الٹا کرے، اسے عبرت کا نشان بنا دینا۔ ایسے لوگوں کے لئے دوسرا موقع نہیں ہوتا ۔" وہ مختار کو آخری وارننگ دے رہا تھا ۔
" میں کچھ نہیں کروں گا ۔ مجھے جانے دو۔ خدا کی قسم کسی کو نہیں بتاؤں گا۔"
" چلو!" ارتضیٰ کمرے سے باہر آ گیا ۔ وہ سب ہسپتال کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی تک آئے۔اس بار اسٹیرنگ مرتضیٰ نے سنمبھالا تھا، ارتضیٰ اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا تھا۔گاڑی لاہور کی سڑکوں پر ایک بار پھر روانہ تھی۔ کچھ دیر بعد ارتضیٰ کو راستہ انجان محسوس ہوا تو اس نے مرتضیٰ کو مخاطب کیا۔
" ہم میرے اپارٹمینٹ کی طرف تو نہیں جا رہے ۔ تم راستہ بھول گئے ہو؟"
" بھائی ، میں آپ لوگوں کو کہیں اور لے کر جا رہا ہوں ۔"
" کہاں؟"
" جا کر دیکھ لینا، ویسے آپ نے اچھا کیا جو بھابھی کو جانے نہیں دیا۔ مجھے نہیں لگتا وہ آدمی ان کو واپس آنے دیتا۔" ارتضیٰ نے ٹشو سے اپنے گال سے بہتا خون پونچھ کرمرتضیٰ کی جانب دیکھا جو پشتو میں بات کر رہا تھا۔
" وہ اپنے باپ سے بہت محبت کرتی ہیں، مرتضیٰ۔ دنیا کا ہر باپ ہمارے باپ کی طرح سنگدل نہیں ہوتا۔ ان کے باپ نے انھیں بہت لاڈ ، پیار سے پالا ہے۔ وہ مجھے اکثر ان کی محبت کے قصے سناتی ہیں۔"
" لاڈ پیار سے پالا تو اعتبار کیوں نہیں کیا؟ "
" کیونکہ وہ ایک مرد ہیں اور ان کی غیرت یہ گوارا نہیں کر رہی کہ ان کی بیٹی نے ان کی پسند کے شخص کو چھوڑ کر اپنی پسند کے شخص سے شادی کر لی ہے۔" پریوش کی اس دانشمندانہ بات پر ان دونوں نے پیچھے مڑ کر اس جوان لڑکی کو دیکھا جو ادھیڑ عمر عورتوں سی باتیں کرتی تھی۔
" آپ لوگ یہ فرینچ بولنا بند کریں گے؟" سحر جو پیچھے بیٹھی ان کی گفتگو سے پرایا محسوس کر رہی تھی چڑ کر بولی تو ارتضیٰ نے اس کا تپتا چہرہ دیکھا۔
" کیوں ؟ آپ بور ہو رہی ہیں ؟" سحر نے اس کا مذاق نظرانداز کر کے اس کے رخسار پر لگا زخم دیکھا اور فکرمندی سے بولی۔
" مرتضیٰ ! آپ دو منٹ کسی فارمیسی پر گاڑی روکیں، ہم ان کے لئے بینڈ ایڈ لے لیتے ہیں۔" سحر کی فکرمندانہ آواز کے بعد گاڑی میں مرتضیٰ کا ایک شوخ قہقہہ گونجا۔
"ہائے میں صدقے جاؤں ، بھابھی! بالٹی لا دوں ؟ زیادہ خون نہ بہہ جائے ۔"
" سحر اس کی ضرورت نہیں ہے، میں ٹھیک ہوں ۔" ارتضیٰ نے اس کے قہقہے نظرانداز کر کے جواب دیا۔
کچھ دیر بعد گاڑی ایک پرانے سے مکان کی بیٹھک کے سامنے رکی۔ مرتضیٰ گاڑی سے اترا اور جیب سے چابی نکال کر دروازہ کھولنے لگا۔ پری، سحر اور ارتضیٰ بھی اس کے پیچھے تھے۔ ارتضیٰ نے نہ جانے کیوں پریوش کی کلائی ہاتھ میں تھامی۔وہ لوگ جیسے ہی اندر داخل ہوئے ، وہاں اندھیرا تھا مگر فضا میں لوہے، گریس اور پالش کی شناسا بو پھیلی ہوئی تھی۔ اس کمرے میں صرف دو کرسیاں اور ایک ٹیبل تھا۔ ٹیبل پر ایک پرانا tv لگا تھا۔ اس پر کرکٹ کا میچ چل رہا تھا۔پریوش نے ارتضیٰ کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔سحر اس پر اسرار جگہ کو دیکھ کر ارتضیٰ کا بازو تھامے کھڑی تھی۔ مرتضیٰ نے ہاتھ بڑھا کر کمرے کی لائٹ جلائی توکمرے میں رکھی اس بڑی سی میز پر روایتی خنجر، کسٹمائزڈ چاقو اور ان کے درمیان مخمل کے ڈبوں میں کھلی پڑی چند انتہائی خوبصورت چھوٹے سائز کی چمکتی ہوئی لیڈیز پسٹلز بکھری پڑی تھیں۔ یہ مرتضیٰ کا وہ کسٹمائزڈ گنز کا کام تھا جہاں صوابی سے آنے والے روایتی ہتھیاروں کو لاہور کی اپر کلاس مارکیٹ کے لیے فائنل لک دی جاتی تھی۔
اسی پل سامنے کچن کے دروازے سے ایک وجود ایک ہاتھ میں چاندی کے کام والا پسٹل کا ہینڈل اور دوسرے ہاتھ میں کپڑا لیے اسے پستول پر رگڑتے ہوئے نمودار ہوااور نظروں کا جان لیوا تبادلہ ہوا۔ ارتضیٰ کے ہاتھ سے پریوش کی کلائی چھوٹ گئی اور اس شخص کے ہاتھ سے پستول ۔۔۔
بلب کی تیز روشنی میں اس شخص کا خوفناک حد تک جھلسا ہوا چہرہ، اور ضائع شدہ آنکھ واضح ہوئی۔ اس پگھلے ہوئے وجود کو دیکھ کر ، دہشت کے مارے سحر کے حلق سے بلند چیخ نکلی۔ اس نے چہرہ ارتضیٰ کا بازوؤں میں چھپایا۔
" س ۔۔۔ سلیمان !" پریوش کی چیخ سحر سے مختلف تھی، وہ بھاگ کر اس جھلسے ہوئے وجود سے لپٹ گئی۔ سلیمان کی ایک آنکھ ختم ہو چکی تھی، چہرہ دیکھنے پر پہچانا نہ جاتا تھا۔ پانچ سال تک برن سینٹر میں تڑپنے کے بعد وہ اب پچھلے ایک سال سے اس بوسیدہ گھر میں مرتضیٰ داد کے اس خفیہ کارخانے میں خنجروں اور لیڈیز پسٹلز پر نقش و نگار بناتے ہوئے، اس کے ٹکڑوں پر پل رہا تھا۔
" پری تم ۔۔۔ تم زندہ ہو ؟ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہیں داد سائیں نے مار ڈالا۔" سحر نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔
" اگر میں جھوٹ نہ کہتا تو تم ایک سال یہاں اس لمحے کا انتظار کرتے ؟ تم تو اگلے ہی دن صوابی پہنچ کر دوبارہ روسٹ ہونے چل پڑتے۔
اور ایک بات میری اپنے اس ناقص دماغ میں بٹھا لو ، میں اب تمھاری ایک اور سرجری نہیں کروانے لگا۔ بہت خون چوس لیا تم نے میرا۔" مرتضیٰ نے آنکھیں گھما کر کہا۔ وہ اب بھی سلیمان کو بچا کر ہیرو بن کر داد سمیٹنے کی بجائے اپنے ازلی غیر سنجیدہ موڈ میں تھا۔ ارتضیٰ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب گھمایا اور مرتضیٰ سے لپٹ گیا۔
" یہ تھا وہ برن سینٹر جس کے لئے تم فنڈز بھیجتے تھے؟ تم نے اسے کیسے بچایا؟ تم نے اسے صوابی سے کیسے نکالا، مرتضیٰ؟"
" ابا نے جب اس کو جلایا تھا تو حکم دیا تھا کہ جب یہ مر جائے تو اسے کہیں گڑھا کھود کر دفنا دوں ۔ ابا کے جانے کے بعد جب میں نے آگ بجھائی تو یہ زندہ تھا۔ میں نے اور مرسلین نے اس کو فراز کے گھر پہنچایا جہاں حکیم سعد سے ابتدائی طبی مدد لی، اور پھر اسی رات شمالی زمینوں کے دورے کا کہہ کر ہم سلیمان کو اسلام آباد لے گئے، دو دن کے بعد انہوں نے جواب دے دیا کہ ہم ایسی منحوس شخصیت کو نہیں رکھ سکتے اور لاہور کے برن سینٹر ریفر کر دیا۔" پریوش بہت غور سے وہ ساری کہانی سن رہی تھی۔
" میں اس کو لاہور میں ایک فرضی نام سے چھوڑ کر واپس صوابی چلا گیا تاکہ ابا کو شک نہ ہو۔ پھر کبھی مرسلین چوری چھپے آ جاتا، کبھی میں ۔ پانچ سال لگے اسے مکمل طور پر اس تکلیف سے ٹھیک ہونے میں۔ جب یہ ہسپتال سے ڈسچارج ہوا تو اس کو پری سے ملنے کی آگ لگی ہوئی تھی، جو کہ ممکن نہیں تھا۔ تو میں نے جھوٹ بولا کہ پری کو ابا نے مار دیا۔۔۔ تاکہ یہ صوابی نہ جائے۔ پھر میں نے جب کاروبار شروع کیا تو اسے یہاں شفٹ کر دیا۔ اسے پستول کی ہینڈل مینوفیکچرنگ آتی تھی تو اسی پر لگا دیا۔ یوسفزئی کا بچہ ہے بندوقوں میں ہی دل لگنا تھا۔ ابھی اس کی تین سرجریاں ہو چکی ہے تب جا کر انسان دکھنے لگا ہے ورنہ تو کسی بھوتیا فلم کی آتما لگتا تھا۔" اس کی بات سن کے سلیمان ہنسا۔
" ارتضیٰ !اس سے پہلے یہ مجھے ڈراکولا ، آدم خور اور زومبی بھی کہہ چکا ہے۔" سلیمان نے پالش کا کپڑا میز پر رکھا۔ "دوسری سرجری کے بعد کہتا تھا کہ کسی زومبی والی فلم میں لیڈ رول دلوائے گا۔۔۔ "
" تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا ، مرتضیٰ ؟"
" کسی نے کہا تھا کہ نیکی دائیں ہاتھ سے کرو تو بائیں کو معلوم نہ ہو ۔۔۔"
ارتضیٰ کو اس وقت اپنے اندر اٹھنے والے جذبات بالکل اجنبی لگے۔ جہاں اسے سلیمان اور پریوش کا مل جانا کوئی خدائی معجزہ لگ رہا تھا وہیں اسے مرتضیٰ کے یہ سنگین قدم اٹھانے اور سلیمان کو اتنے عرصے سب کی نظروں سے چھپا کر رکھنا۔۔۔
مرتضیٰ کے بارے میں ارتضیٰ سمیت سب کی یہی رائے تھی کہ وہ حسن کے سامنے اپنا دماغ استعمال نہیں کرتا مگر یہ نظریہ اچانک بدل گیا تھا۔
وہ صحیح کہتا تھا، وہ صرف ان کے سر قلم کرتا تھا جو زمین میں فساد مچاتے تھے۔
' اوہ مرتضیٰ! تم کیا تھے اور یہ ظالم زمانہ تمھیں کیا سمجھتا رہا۔' ارتضیٰ کی آنکھیں فخر سے نم ہو رہی تھیں۔
☆ ☆ ☆
سلیمان کے ساتھ کچھ وقت گزر کر وہ لوگ اب اپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئے تھے۔ لیکن یہ وہ اپارٹمنٹ نہیں تھا جہاں سحر نکاح کے بعد آئی تھی۔ ارتضیٰ نے آگے بڑھ کر بیل بجائی تو چند لمحوں میں ہی دروازہ کھل گیا۔ سامنے ہاجرہ کھڑی تھی۔
ان کا چہرہ دیکھ کر سحر آگے بڑھی اور ان کے گلے لگی۔ انہوں نے سحر کو پیار کیا پھر ارتضیٰ کو۔
" یہ بھابھی کی امی ہیں ؟" پریوش نے مرتضیٰ سے پشتو میں دھیمے سے پوچھا۔
" میں ہاجرہ داد خان ہوں، حسن داد خان کی بھاگی ہوئی بہن۔" انہوں نے براہ راست پریوش سے مخاطب ہو کر روانی سے پشتو میں کہا تو وہ بری طرح گڑبڑا گئی۔
" ہاجرہ پھوپھو ؟" اس نے بے یقینی سے الفاظ چبائے۔ ہاجرہ مسکرا کر اس کی جانب بڑھیں اور اسے اپنی بانہوں میں لے لیا۔
" پری، تم بہت خوبصورت ہو۔" انہوں نے اس کی نیلی آنکھوں سے اسے پہچان کر کہا۔ پھر مرتضیٰ کے سر پر ہاتھ رکھا۔
" تم دیکھنے میں تو بہت سخت مزاج لگتے ہو، لیکن آنکھیں بہت نرمی لیے ہوئے ہیں۔" مرتضیٰ ان کی بات سن کر انھیں دیکھتا رہا جو پہلی ملاقات میں ان دونوں کے بارے میں درست رائے قائم کر رہی تھیں۔
" آؤ !" اندر یونس کچن میں کھڑے کھانا بنا رہے تھے۔ ان سب کو دیکھ کر باہر آئے اور پھر رات کا کھانا ان سب نے یونس اور ہاجرہ کے ساتھ ہی کھایا۔ کھانے کے بعد مرتضیٰ اور پریوش وہیں رک گئے تھے جبکہ ارتضیٰ اور سحر اپنے اپارٹمنٹ کی جانب روانہ ہو گئے تھے۔
☆ ☆ ☆
رات کے دس بج چکے تھے۔ ارتضیٰ نہا کر نکلا اور بستر پر دراز ہوگیا، مگر سحر کی مصروفیت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ وہ ساتھ والے کمرے میں ارتضیٰ کے بناۓ ہوئے چاقوؤں اور چھریوں کے ذخیرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ ایک فولڈنگ نائف ہاتھ میں لیے کمرے میں داخل ہوئی۔
" یہ تو ہمیں سیلف ڈیفنس کے لیے اپنے پاس رکھنا چاہیے۔ویسے بھی صوابی میں کب کہاں سے حملہ ہو جائے، معلوم نہیں ہوتا۔" وہ اس کی کلیکشن کا سب سے خوبصورت اور قیمتی چاقو اٹھائے، اسے چمکتی آنکھوں سے دیکھتے گویا تھی۔ ارتضیٰ کے لبوں پر ایک دھیمی مسکراہٹ آئی۔ وہ اٹھ کر بیٹھا اور اسے لیے دوبارہ ساتھ والے کمرے میں آیا۔ ایک دراز کھول کر اس نے ایک چھوٹا، خوبصورت لیڈیز پسٹل نکالا اور سحر کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔
" آپ کو چاقو کی نہیں، اس کی ضرورت ہے۔اس سے آپ ایک محفوظ فاصلے سے اپنا دفاع کر سکتی ہیں اور اس سے آپ کو خود کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی نہیں ہوگا۔" وہ بےحد سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔
" آپ کے پاس لیڈیز پسٹل کیا کر رہی ہے؟" سحر نے اس کا چہرہ دیکھ کر پوچھا، آنکھوں میں شک کی گہری لکیریں تھیں۔ اس کی بات اور انداز دونوں نے ارتضیٰ کو ہنسنے پر مجبور کیا۔
" آپ مجھ پر شک کر رہی ہیں؟" وہ ہنستے ہوئے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے بولا۔
" نہیں لیکن آپ گنز نہیں بناتے اور یہاں آپ اکیلے رہتے تھے۔" اس نے ٹھوس دلیل پیش کرکے سننے والے کو گہری نظروں سے دیکھا۔
" یہ مرتضیٰ کا اسٹاک ہے، ایک نہیں ہے، بہت ساری ہیں۔" اس نے آگے بڑھ کر دراز کھولا اور سحر کو دکھایا۔ وہ کچھ مطمئن ہوئی اور پستول کو ہاتھ میں گھما کر دیکھا۔ٹھنڈی دھات ایک عجیب سے تحفظ کا احساس دلا رہی تھی۔
" کیا ہم اسے اپنے پاس رکھیں؟"
" ہاں، میں آپ کو اس کا لائسنس بنوا دوں گا۔" ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔ سحر نے اس کا خوشگوار موڈ دیکھا تو فوراً اصل مدعے پر آئی۔
" ارتضیٰ! ہم بابا کے پاس ۔۔۔"
" وہ آپ سے راضی نہیں ہیں، سحر ۔" ارتضیٰ نے نرمی سے اس کی بات کاٹی۔ اس کے لہجے میں وہی مخصوص ٹھہراؤ تھا جو حقیقت پسندی کی علامت تھا۔ سحر نے کچھ کہے بغیر پستول اپنے سویٹر کی جیب میں رکھی اور دبے قدموں ارتضیٰ کے پیچھے کمرے میں آئی جہاں وہ دوبارہ بستر پر لیٹ چکا تھا۔
" ہم ان کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے تبھی تو وہ مانیں گے نا۔" سحر اس کے قریب بستر پر آ کر بیٹھی۔
" وہ آپ کے لئے کیسے الفاظ استعمال کر رہے تھے، کیا آپ اتنی جلدی بھول گئیں؟" ارتضیٰ نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔ اس کے لہجے میں محض دکھ تھا۔
"ارتضیٰ! داؤد نے انہیں تصویر کا صرف غلط رخ دکھایا ہے۔ ہم انہیں صحیح سے سب بتائیں گے تو وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔آپ کو نہیں معلوم، ہمارے بابا نے چوبیس سالوں میں ایک بار ہمیں ڈانٹا تک نہیں ہے۔وہ ہم سے ناراض ہو جائیں، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"سحر کی آواز میں پختہ یقین تھا۔ ارتضیٰ نے اس بے بس سی عورت کو دیکھا۔ وہ با اختیار تھا، چاہتا تو اسے ساری زندگی اس شخص سے نہ ملنے دیتا جس نے سحر کو اس کے سامنے گالی دینے کی جرات کی تھی لیکن وہ ایسا کر کے جابر نہیں بن سکا۔ سحر اس کے ساتھ بیٹھی ، اس کے تکیے پر انگلی سے غیر مرئی نقش و نگار بناتی، اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔
" اچھا، ایک بات بتائیں۔ کیا داؤد آپ کو انکل کے گھر جانے دیتا تھا ؟" ارتضیٰ نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
" نہیں ۔" سحر کا جواب مختصر تھا۔
" کیا آپ نے کبھی اس کی یوں منتیں کیں؟"
" ایک دفعہ کہا تھا ۔۔۔ " سحر اب نظریں جھکائے اس کی آستین سے کھیلنے لگی تھی۔ " تو انہوں نے کہاکہ' عورت کا گھر سے باہر رہنا فتنہ ہے اور وہ کسی فتنے کو اپنے گھر نہیں رکھنا چاہتے تو اگر جانا ہے تو طلاق کے کاغذات ساتھ لے جاؤ۔' اس کے بعد کبھی ہمت ہی نہیں ہوئی پوچھنے کی۔" ارتضیٰ کو اپنا یہ سوال پوچھنا حماقت لگا۔ اس نے انجانے میں سحر کے زخم تازہ کر دیے تھے۔ اس نے ایک گہری سانس لے کر سحر کی جانب کروٹ لی۔
" اور اگر میں بھی نہ جانے دوں ؟" اس نے آزمائشی لہجے میں پوچھا۔ آنکھوں میں اس کے چہرے کا اتار چڑھاؤ دیکھنے کی دلچسپی تھی، ایک لمحہ اور گزرتا اور سحر اس پر برس پڑتی! مگر ایسا نہیں ہوا۔
" تو کچھ نہیں ۔۔۔ ہم آپ کو مجبور تو نہیں کر سکتے۔" سحر کی آواز بھرا گئی۔ اس پر برسنے کی بجائے،لمحے بھر میں اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے۔
" جو آپ کہیں گے، ہمیں تو وہی کرنا ہے۔" سحر کا یوں ہتھیار ڈال دینا ارتضیٰ کے دل پر لگا، اسے اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوا۔ وہ فوراً اٹھ کر بیٹھا اور تیزی سے اس کے آنسو صاف کیے۔
" سحر میں تو ۔۔۔ " اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی سحر نے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپایا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
" آپ کو نہیں معلوم ارتضیٰ، ہم نے انہیں کتنا مس کیا ہے۔ وہ صرف ہمارے بابا نہیں ہیں، وہ ہمارے دوست بھی ہیں، ہماری ماں بھی ہیں ۔۔۔ ہماری زندگی ہیں وہ!"
" سحر! خدا کے لیے رونا بند کریں۔ میں صرف۔۔۔ میں ۔۔۔ میں مذاق کر رہا تھا۔" ارتضیٰ نے گھبرا کر اس کے دونوں ہاتھ چہرے سے ہٹائے۔
" اگر آپ اجازت نہیں دیں گے تو ہم نہیں جائیں گے۔" سحر نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا مگر اس کی آنکھیں التجا کر رہی تھیں۔
" جاناں! جس سحر کو داؤد سے ملنے کے لیے ارتضیٰ کی اجازت درکار نہیں تھی، وہ آج سراج احمد سے ملنے کے لیے ارتضیٰ کی اجازت کیوں مانگ رہی ہے؟ آپ کو بس میری رائے مانگنی چاہیے ۔ بس کریں اب۔" ارتضیٰ نے اس کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
" آپ ہمیں داؤد والی بات کا طعنہ دے رہے ہیں؟" اس کے آنسو پھر سے بہنے لگے۔
" یا خدا ! میں نے کب طعنہ دیا؟ میں صرف اتنا کہہ رہا تھا کہ آپ ۔۔۔ "
" کہ ہم پہلے آپ کو بتائے بغیر چلے گئے تھے تو اب کیوں یہ سب کر رہی ہیں ؟"
" سحر ! کم آن ، ایسا نہیں ہے۔ میں تو ۔۔۔ " ارتضیٰ کے لیے اسے یہ ایک بات سمجھانا دنیا کا مشکل ترین کام ٹھہرا۔
" سحر ! میں صرف آپ کو محفوظ رکھنا چاہتا ہوں۔
مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ ان کے پاس جائیں اور وہ آپ سے کہیں کہ اس ارتضیٰ سے طلاق لے لو۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ آپ کو ان کے سامنے میری ذات دکھائی نہیں دیتی۔"
" نہیں ارتضیٰ! ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں۔ آپ ابھی انہیں جانتے نہیں ہیں۔ اگر ہم ان سے کہہ دیں کہ ہمیں ارتضیٰ سے محبت ہے، تو ان کے لیے باقی دنیا کی ساری چیزیں بے معنی ہو جائیں گی ۔" سحر کے لہجے میں بے پناہ مان تھا۔
" یہ بات تو آپ نے صبح بھی ان سے کہی تھی۔" ارتضیٰ نے اسے یاد دلایا۔
" وہ اس وقت غصے میں تھے۔" سحر نے فوراً اپنے باپ کا دفاع کیا۔
" اچھا ٹھیک ہے ! وہ آئیں گے تو آپ چلی جانا۔ ایک دن وہاں رہنا پھر اگلے دن میں لینے آ جاؤں گا۔
ٹھیک ہے ؟ اب رونا ختم؟ خوش؟" ارتضیٰ نے اس کے گال کھینچ کر اسے مسکرانے پر مجبور کیا۔ سحر نے آنسو صاف کرکے اثبات میں سر ہلایا۔
" شکر خدا کا! اب سکون سے سو سکوں گا۔ آج بہت تھک گیا ہوں۔" ارتضیٰ نے تکیے پر سر رکھ کر ماتھا مسل کر کہا۔
" ہم پاؤں دبا دیں آپ کے؟" سحر نے بڑی معصومیت سے کہا۔ ارتضیٰ نے تکیے سے سر اٹھا کر چونک کر اس کا چہرہ دیکھا، وہ سرخ بھیگا چہرہ لیے مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی۔
" سحر؟ میں کیوں آپ سے پاؤں دبوانے لگا؟ " اس نے برا مان کر کہا۔
" اتنی گاڑی چلا چلا کر درد ہو رہا ہوگا۔" سحر نے اس کے پاؤں کی جانب بڑھتے ہوئے کہا، وہ لاشعوری طور پر اس اجازت کا احسان اتارنا چاہ رہی تھی۔
" ہونے دیں! آپ ملازمہ نہیں ہیں، میری بیوی ہیں۔
سر پر بٹھانے کے لیے لایا ہوں، پاؤں دبوانے کے لیے نہیں۔" ارتضیٰ نے اسے بازو سے پکڑ کر واپس اپنے قریب بٹھاتے ہوئے کہا۔ سحر نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ بجھا دیا۔
☆ ☆ ☆
اگلی صبح جب سراج کی گاڑی ان کی بلڈنگ کے آگے رکی تو سحر کے دل کی دھڑکنیں مچل اٹھیں۔ وہ اپارٹمنٹ کے دروازے پر پر امید آنکھیں لیے کھڑی تھی۔
سراج گاڑی سے اترے تو ان کے چہرے پر غصے کا ایک عکس تک نہ تھا۔ وہ وہی پرانے بابا تھے جن کی ایک مسکراہٹ پر سحر اپنی کائنات قربان کر سکتی تھی۔انہوں نے بازو پھیلائے تو سحر دوڑ کر ان کے سینے سے لگی، پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
" بس سحر ! بس بیٹے۔۔۔ بابا آگئے ہیں نا۔ بابا آپ کو ساری دنیا سے چھپا کر رکھ لیں گے۔" انہوں نے نرمی سے سحر کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ان کے لہجے کی مٹھاس ارتضیٰ کے سینے میں کسی خنجر کی طرح اتری۔ وہ دور کھڑا اس مقدس ڈرامے کو دیکھتا رہا۔
سراج نے سحر کو خود سے الگ کیا اور نہایت محبت سے اس کے آنسو پونچھے پھر وہ ارتضی کی طرف مڑے، ان کے چہرے پر ایک نہایت شائستہ مسکراہٹ تھی۔
" بیٹا! بہت شکریہ کہ آپ نے ہماری بیٹی کا خیال رکھا ۔ کل جو کچھ ہوا، اسے ایک باپ کی پریشانی سمجھ کر بھول جائیے۔ ہم اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے کر جا رہے ہیں، ان کا دل بہت اداس ہے۔" ارتضیٰ نے ایک نظر سراج کے دھیمے لہجے کو دیکھا اور دوسری نظر ان کے بازو سے لپٹی ہوئی سحر کو۔ اس کے پاس انکار کا کوئی جواز نہیں بچا۔
" انکل! اپنی بیوی کا خیال رکھنا مجھ پر فرض ہے۔ سحر آپ سے بہت پیار کرتی ہیں، آپ بھی ان کا خیال کیجیے گا۔"
" ان کا خیال تو ہم نے ساری زندگی اپنی جان سے بڑھ کر رکھا ہے۔" سراج نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
" چلیں سحر؟ زویا انتظار میں ہیں۔" سحر نے خوشی سے نہال ہوتے اثبات میں سر ہلایا۔ اسے لگا جیسے اس کے سارے دکھ ختم ہو گئے ہوں۔ اس نے ارتضیٰ کی طرف دیکھا تو آنکھیں چمک رہی تھیں۔
" ہم کل آ جائیں گے، ارتضیٰ!" ارتضیٰ نے صرف سر ہلا دیا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ سراج احمد کس مہارت سے سحر کو اس کے محفوظ حصار سے باہر نکال کر اپنی گاڑی کی طرف لے جا رہے تھے۔
"سَحر !" ارتضیٰ کی پکار پر سَحر نے پلٹ کر دیکھا ۔ اس نے سَحر کو ایک ، دو ، تین کا اشارہ کیا ۔ وہ مسکرا کر راہداری پار کر گئی ۔ سراج نے ایک بار بھی مڑ کر ارتضیٰ کو گھر آنے کی دعوت نہیں دی، نہ ہی سحر کو یہ احساس ہونے دیا کہ وہ اسے ہمیشہ کے لیے لے جا رہے ہیں۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
بیس منٹ بعد سَحر اپنے گھر داخل ہوئی تو اسے ایک جھٹکا لگا ۔ اس نے ارد گرد سب دیکھا، سب ویسا ہی تھا ۔ گاڑی سے اتر کر اس نے سراج سے پوچھنا چاہا مگر وہ کسی کال پر مصروف ہو گۓ ۔ زویا کی نظر اس پر گئی تو وہ فوراً آ کر اس سے ملی۔
" زویا! یہ گھر تو بابا نے بیچ نہیں دیا تھا ؟" زویا نے چونک کر اس کی جانب دیکھا ۔
" کیوں سَحر ؟"
" ارتضیٰ نے تو کہا تھا کہ یہ گھر کسی عورت نے خرید لیا تھا۔۔۔ " وہ گہری الجھن کی زد میں تھی ۔
" جھوٹ کہا تھا آپ کے ارتضیٰ نے، ہم نے یہ گھر کیوں کر بیچنا تھا ؟" سراج اس کے پیچھے آ کھڑ ے ہوئے۔
" ارتضیٰ جھوٹ نہیں بولتے، بابا ۔" سحر نے بھرپور مان سے جواب دیا۔ اس کا یہ مان سراج صاحب کو تیر کی طرح لگا۔ اگلے ہی لمحے ایک زرناٹے دار تھپڑ سحر کے چہرے پر پڑا، جس نے اس کا اپنے باپ پر رہا سہا اعتبار بھی خاک میں ملا دیا۔ پیچھے کھڑے فیروز نے صدمے سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا، زویا ایک قدم آگے بڑھی مگر سراج کے جلال کو دیکھ کر رک گئی۔
" وہ جھوٹ نہیں بولتا تو کیا ہم جھوٹ بول رہے ہیں ؟" سَحر نے ان کی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلایا ۔
" تو پھر آپ کو دکھ کیوں نہیں رہا؟ ہم تو اسی گھر میں رہتے ہیں تو جھوٹ کون بول رہا ہے ؟" وہ اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہے تھے ۔ " کون ہے جھوٹا ؟"
" وہ ۔۔۔" سراج نے اس کا بازو چھوڑ دیا تھا وہ سمجھے کہ سَحر ارتضیٰ کی بات کر رہی ہے ۔
" زویا !"
" جی ؟"
" انہیں ان کے کمرے میں لے جاؤ اور کھڑکیوں کو اندر سے تالا لگا کر چابی ہمارے حوالے کر دینا اور بالکنی میں تو چار تالے ڈالنا۔" وہ جس انداز سے بولے تھے سَحر کو اپنا آپ زمین کی گہرائیوں میں اترتا محسوس ہوا ۔
" بابا! ایسا کچھ نہیں ہے، ہماری بات سنیں۔۔۔" اس نے سراج کا بازو تھامنے کی کوشش کی، مگر وہ بپھرے ہوئے شیر کی طرح زویا پر چلائے۔
" ہم نے کہا انہیں اوپر لے کر جاؤ،" وہ زویاپر چلائے اور خود ہی سَحر کا ہاتھ پکڑے اسے اس کے کمرے تک گھسیٹ لائے ۔
" تالے لے کر آو ۔" وہ پلٹ کر زویا سے مخاطب تھے ۔ سراج کے ان الفاظ نے سحر کے اعصاب پر ہتھوڑے کی طرح کام کیا۔ کمرے میں کھڑکیوں کے بند ہونے کی آواز ، چٹخنیوں کا گرنا،لوہے اور کانچ کی وہ مخصوص آواز۔۔۔ سحر کے لیے یہ سراج کا گھر نہیں رہا تھا۔ اچانک دیواریں سکڑنے لگیں، چھت نیچی ہونے لگی تھی، اسے اپنی گردن پر داؤد کی وہ پرانی گرفت محسوس ہونے لگی۔ اس کے کانوں میں سراج کی آواز نہیں بلکہ داؤد قہقہے کے گونجنے لگے۔
قید۔۔۔ تالے ۔۔۔ بند کمرہ۔ سحر کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔اسے لگا اگر وہ اس کمرے سے ابھی نہ نکلی، تو وہ دم توڑ دے گی۔ یہ صرف خوف نہیں تھا، یہ ایک وحشت تھی جو اس کے خون میں اب دوڑنے لگی تھی۔ سَحر کے کانوں میں ایک ہی آواز گونج رہی تھی ، " یہ آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔" ایک بار پھر ارتضیٰ کی بات نہ ماننا مہنگا پڑ گیا تھا ۔
" آپ ہمیں قید کر دیں گے؟"
" ہم نے آپ کی ٹانگیں نہیں توڑ دیں اس بات کا شکر کریں ۔ " سَحر نے دروازے کی جانب دیکھا ۔ کیا وہ ایک اور دفعہ وقت کو دہرائے جانے کی اجازت دیتی ؟
" آپ نے دھوکہ دیا ہمیں، ارتضیٰ کبھی جھوٹ نہیں بولتے ۔ " اس نے ارتضیٰ کے نام کی چادر سے خود کو لپیٹا اور سیڑھیوں کی طرف دوڑ لگا دی ۔ سراج نے پلٹ کر اسے بھاگتے دیکھا تو کھڑکی کھولی۔
" فیروز ، اسے باہر مت جانے دینا ، اگر نہ مانے تو گولی مار دینا۔" فیروز فوراً چوکس ہوا ۔ جیسے ہی سَحر نے لان عبور کیا اس نے بندوق تان لی۔
" سَحر بی بی ، واپس چلی جائیں۔" اس کا چہرہ شرمندہ سا التجا کر رہا تھا۔
" ہمیں جانے دیں فیروز چچا! خدا کے لیے ہمیں جانے دیں، ہم یہاں مر جائیں گے!" سحر نے ہاتھ جوڑ کر فیروز سے کہا۔ فیروز نے نگاہ اٹھا کر کھڑکی کی طرف دیکھا۔
" بابا ہمیں قید کر دیں گے۔ ہمیں قید سے ڈر لگتا ہے۔ہمیں جانے دیں ۔" فیروز نے بے بس ہو کر اوپر دوبارہ دیکھا، جہاں سے سراج نے نفی میں سر ہلا کر حتمی اشارہ دے دیا تھا۔
سَحر نے پلٹ کر کھڑکی کی جانب دیکھا ، اسے سمجھ نہ آئی کہ کیا کہے ، سراج کھڑکی سے ہٹ گئے تھے ۔ سحر نے ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھیں بند کیں۔ اسے احساس ہوا کہ یہاں منتوں سے کام نہیں چلے گا۔ اس نے پھرتی سے اپنے سویٹر میں رکھی پستول نکالی اور اس کا رخ فیروز کی جانب کر دیا۔
" ہمارے راستے سے ہٹ جائیں چچا! ہمیں مجبور نہ کریں۔" اسی لمحے سراج نیچے پہنچ چکے تھے۔ اس سے پہلے کہ سحر گیٹ کی طرف بڑھتی ، سراج نے پیچھے سے آ کر ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے پستول کھینچ لی۔ سحر کے ہاتھ سے پستول کیا چھینی جیسے اس کی سانس کی ڈور کٹ گئی تھی۔ وہ لڑکھڑا کر سراج کے قدموں میں گری۔
" بابا ، جانے دیں ۔ سَحر مر جائے گی، جانے دیں۔ ہم اس حبس میں نہیں رہ پائیں گے۔ ہم قیدی نہیں بن سکتے، ہمیں قیدی نہیں بننا۔ ہمیں آزاد فضاؤں کی عادت لگ گئی ہے۔ ہمیں اس کے ساتھ کی عادت لگ گئی ہے ۔"
" عادات ختم ہو جاتی ہیں۔ کوئی کسی کے بغیر نہیں مرتا۔" سراج کا لہجہ برف کی طرح ٹھنڈا اور بنجر تھا۔
" بابا ، سَحر مر جائے گی ۔" وہ ہچکیوں سے رونے لگی تو سراج نے فوراً پستول اپنی کن پٹی پر رکھی۔
" ابھی اسے فون لگایں اور کہیں کہ آپ اس کے ساتھ نہیں رہیں گی، آپکو ہمارے ساتھ رہنا ہے ۔ "
" بابا اس کو چھوڑیں ،ہم آپ کے ساتھ رہنے ہی آئے ہیں۔ ہماری بات کا یقین تو کریں ۔۔۔ ہم قید میں نہیں رہیں گے۔ " سحر کا حلق خشک ہوا۔
" سحر ! ہم تین تک گنیں گے۔ اگر اسی کے پاس جانا ہے تو ہماری لاش پر سے گزر کر جائیں ۔" سراج کی آنکھوں میں جنون تھا۔
" بابا ہم کرتے ہیں آپ ۔۔۔" اس نے دونوں ہاتھ اٹھا کر سراج کو روکنا چاہا۔
" ایک ۔۔۔"
" بابا !"
" دو ۔۔۔ "
" فون اندر گر گیا ہے ، ہم کر رہے ہیں نا ۔۔۔ بابا پلیز اس کو نیچے کریں ۔" وہ تیزی سے اندر کی طرف بھاگی، سراج اس کے پیچھے تھے ۔ وہ دیوانہ وار پلٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔ اندر آتے ہی اس نے زمین پر گرے پرس میں سے فون نکالا اور وائس میسج کے لئے منہ کے قریب کیا۔
" ارتضیٰ ہم اپنے بابا کے پاس ہی رہیں گے۔ آپ ہمیں بھول جایں ۔" روتے ہوئے اس نے کہا تو سراج نے ٹوکا ۔
" اتنا روئیں گی تو اسے شک ہو گا، دوبارہ بھیجیں ۔" اس نے میسج ڈیلیٹ کیا ۔ آنسو صاف کیے اور پھر بولی ۔
" ارتضیٰ! ہم اپنے بابا کے ساتھ ہی رہیں گے ، آپ ہمیں بھول جایں ۔"
" نہیں، اسے بولیں کہ اس نے آپ کو دھوکہ دیا ہے اسی لیے آپ اب اس کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتیں۔" سَحر نے میسج ڈلیٹ کیا پھر التجائی نظروں سے سراج کو دیکھا ۔
" وہ مر جائیں گے بابا جان !" جواب میں سراج نے پستول لوڈ کی اور اپنے سینے پر رکھ لی۔ کڑک کی آواز سحر کے اعصاب پر ہتھوڑے کی طرح لگی۔ خوف اس حد تک حاوی ہوا کہ فون اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گرا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے دوبارہ فون اٹھایا ہی تھا کہ اسکرین پر ارتضیٰ کا نام جگمگانے لگا۔سحر نے سراج کو دیکھا، ان کی آنکھوں میں موت کا پیغام اور آخری وارننگ تھی۔ سحر نے لرزتے ہاتھ سے کال ریسیو کی اور فون سپیکر پر لگایا۔
" ہیلو !" دوسری طرف ارتضیٰ کی وہ مضبوط، پُرسکون اور اپنائیت بھری آواز آئی جس نے سحر کو ہمیشہ زندگی دی تھی۔
"سحر! آپ کہاں ہیں؟ سب ٹھیک ہے نا؟" سحر نے اپنے باپ کو دیکھا جنہوں نے پستول کا دباؤ اپنے سینے پر مزید بڑھا دیا تھا۔ سحر نے گہرا سانس لیا جیسے اپنی آخری وصیت کر رہی ہو۔
" ارتضیٰ ، ہم اب اپنے بابا کے ساتھ رہیں گے۔ "
" ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن کیا وہ صوابی جانے کے لئے تیار ہیں ؟" سَحر نے سراج کا چہرہ دیکھا وہ دونوں اسے سن رہے تھے ۔
" ہم آپ کے ساتھ نہیں رہیں گے ۔"
" سَحر ؟" اس کی آواز کی جوت بجھی ۔
" جی ؟"
" آپ نے کیا کہا ابھی ؟ "
" ہم اپنے بابا کے ساتھ رہیں گے آپ ہمارا انتظار مت کرنا۔" اس نے کال کاٹ دی تھی ۔ سراج نے اپنے سینے سے پستول ہٹا دی پھر اس کے ہاتھ سے فون کھینچا جو دوبارہ بجنے لگا تھا ۔ فون زمیں پر مار کر وہ آگے بڑھ گئے ۔
" آپ کون ہیں ؟ ہم آپ کو پہچان ہی نہیں سکے۔"
" وہی جس کی عزت رولتے ہوئے آپ نے ایک لمحے کو نہیں سوچا۔"
" بابا جان ؟ آپ کی سَحر ایسی نہیں ہے۔ داؤد نے زبردستی ہمارا نکاح ارتضیٰ سے کروایا تھا۔"
" زبردستی ؟ ایک مرد اپنی بیوی کا نکاح کیسے کروا سکتا ہے اور وہ جو سب بالکونی میں ہوتا رہا، وہ سب ؟ کیسے یقین کروں آپ کا ؟"
" زندگی کے چوبیس سال آپ کے سامنے گزارے ہیں ۔ کبھی آپ کا اعتبار نہیں توڑا ، بابا ۔۔۔"
" ہمارا اعتبار تو تب ہی ڈگمگا گیا تھا جب آپ نے داؤد پر جھوٹا الزام لگایا تھا کہ انہوں نے آپ کو مارا ہے ۔"
" انہوں نے مارا تھا بابا ، یہ دیکھیں ۔ انہوں نے ہماری اولاد کو مار ڈالا۔۔۔ بابا جان بات سنیں۔۔۔" وہ اپنی بات کہتی سراج کے پیچھے بھاگی لیکن وہ اپنے کمرے کا دروازہ بند کر چکے تھے ۔ سحر کافی دیر دروازہ بجاتی رہی مگر کوئی جواب نہیں آیا ۔ اب کے وہ تھک کر دروازے کے سامنے بیٹھ گئی۔
" بابا جان سحر مر جائے گی۔ آپ تو ایسا نہ کریں۔ بابا جان داؤد نے ہمیں توڑ دیا ہے۔ ہم جڑنے کے لیے آپ کے پاس آئے تھے۔
ہمارا اعتبار کریں نا۔ آپ اعتبار نہیں کریں گے تو کون کرے گا ؟ بابا، سحر ایسی نہیں ہے۔
ہم نے کچھ نہیں کیا! ہم آپ کا خون ہیں، بابا جان۔ ہم پر بھروسہ کریں۔ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں، ہم کبھی آپ کا سر نہیں جھکائیں گے۔ بابا یقین کریں، دروازہ کھولیں ۔۔۔ " وہ روتے ہوئے دروازہ پیٹتی ابھی مزید دہائیاں دیتی جب باہر سے گیٹ کھلنے کی آواز آئی۔ ساتھ ہی سراج کے کمرے کا دروازہ کھلا۔ انہوں نے سحر کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھا۔
" قسم کھائیں سحر !آپ اس کے ساتھ نہیں جائیں گی۔ اگر آپ گئیں تو ہم اس کو گولیوں سے بھون ڈالیں گے۔"
" کیا کہہ رہے ہیں ، بابا؟"
" قسم کھائیں!" انہوں نے پسٹل کا رخ دروازے کی جانب کرکے ٹریگر پر زور دیا۔ سحر ایک دم ان کے پیروں میں گری۔
" بابا ایسا مت کریں۔"
" ایک!"
" آپ کی قسم! سحر نہیں جائے گی۔۔۔ اس کو ہمیں دے دیں۔" وہ جیسے تھک کر بولی۔ سراج نے لمحے بھر کو اس کا چہرہ دیکھا اور گن اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔
" سحر! سحر!" ارتضیٰ ہانک لگاتا ہوا گھر میں داخل ہوا۔ سحر چند قدم چل کر سامنے گئی۔ سراج کمرے کے اندر کو ہو گئے، سحر بیچ میں کھڑی ان دونوں کو دیکھ سکتی تھی۔
" سحر؟ کیا کہہ رہی ہیں آپ ؟ فون کیوں نہیں اٹھا رہیں ؟"
" ہم آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے!"
" آپ اپنے بابا کو وقت دیں وہ ہمارے رشتے کو قبول کر لیں گے۔ داود نے ان کا برین واش کر دیا ہے۔"
" ہم اب اپنے بابا کے پاس رہیں گے، ہمیں معاف کر دیں۔ ہم نے آپ کو صرف استعمال کیا ہے۔ ہمیں ہمارے بابا مل گئے اب آپ کا کام ختم ۔ آپ جائیے ۔"
" جھوٹ تو کوئی بہتر بول لیتیں۔ اچھا ابھی ہم چلتے ہیں۔ گھر جا کر ۔۔۔ "
" ہمارے گھر سے چلے جائیے۔"
" سحر ! آپ کے بابا کہاں ہیں؟ میں ان سے بات کرتا ہوں۔"
" جاؤ ۔۔۔" سحر نے پستول کی نال اپنی کنپٹی پر رکھی۔
" اس سے پہلے ہم خود کو ختم کر لیں آپ ہماری زندگی سے چلے جائیے۔" ارتضیٰ حسن نے اس کی آنکھوں سے تیزی سے بہتے آنسوؤں کو دیکھا۔
" جوگ دے رہی ہیں؟" اس نے دو قدم سحر کی جانب بڑھائے ۔
" اگر آپ اپنے بابا کو منانے کے لیے وقت چاہتی ہیں تو وقت لے لیں۔ منائیں ان کو مگر مجھ سے باتیں نہ چھپائیں ۔ ایک دفعہ پہلے بھی یہی غلطی کی ہے نا اب غلطی مت دہرائیں ۔ میں جا رہا ہوں۔ جب بابا مان جائیں تو کال کرنا میں لینے آ جاؤں گا۔ آپ کی بات مان رہا ہوں۔ٹھیک ہے؟
اور یہ جس سے آپ مجھے ڈرا رہی ہیں نا چار سال کی عمر سے کھلونوں کی طرح کھیلتا آ رہا ہوں ان سے۔ یوسفزائیوں کے سامنے ان پستولوں کا مذاق نہیں چلتا۔ میں جا رہا ہوں مگر واپس آنے کے لئے۔ " وہ آہستہ آہستہ قدم پیچھے کو لے رہا تھا۔
" بڑے ناراض ہو جاتے ہیں، ان کو وقت دیں، نرمی سے سمجھائیں، مان جائیں گے۔ پریشان نہیں ہونا۔ وہ اب چار ماہ بعد بیماری سے باہر آئے ہیں، انکو اتنا سب کچھ ہضم کرنے کے لیے وقت چاہیے۔" وہ اسے سمجھا کر واپس پلٹ گیا۔ سحر تیزی سے اس کے پیچھے بھاگی تو سراج نے اس کی کلائی پکڑی کر اسے واپس اندر کو کھینچا۔
" بابا!" وہ رو پڑی۔ گیٹ بند ہونے کی آواز پر انھوں نے سحر کی کلائی چھوڑی اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔ وہ وہاں کھڑی رو رو کر تھک گئی تو اپنے کمرے کی جانب قدم بڑھا دیے پھر دروازے کو اندر سے بند کیا اور کچھ سوچ کر لاک کر لیا ۔
" آپ کیا ہمیں قید کریں گے؟ ہم خود کو خود ہی قید کر لیتے ہیں۔ آخر یہ سب ہم نے ہی تو کیا ہے۔"
دن سے رات ہو گئی، مگر سحر کے کمرے میں اب بھی وہی بوجھل خاموشی تھی۔ وہ بیڈ پر تکیے میں منہ دیے پڑی تھی، رو رو کر سوجی ہوئی آنکھیں اس کی اذیت کی گواہ تھیں۔ظہر ، عصر ، مغرب اور اب عشاء کی اذان مگر وہ تو پتھر کا مجسمہ بنی ملالِ یار میں بیٹھی تھی۔ اگر اسے مر جانے کی اجازت ہوتی تو آج سراج کے لبوں سے وہ سب سن کر مر جاتی ۔ کمرے کا لاک کیا ہوا دروازہ جہاں سراج کے لیے ایک خاموش احتجاج تھا، وہیں سحر کے لیے کسی محاذ سے کم نہیں تھا۔
اس نے تکیے سے سر اٹھایا اور کمرے کی دیواروں کو تکنے لگی۔ اس کے کانوں میں اب بھی ارتضیٰ کی آواز گونج رہی تھی۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ رگڑ کر صاف کیا۔
" وہ مان جائیں گے!" اس نے لرزتے لبوں سے خود کو ہی دلاسہ دیا۔
" وہ ہمارے بابا ہیں، وہ ہم سے زیادہ دیر نفرت نہیں کر سکتے۔ ہمیں انہیں وقت دینا ہوگا، داؤد کے ہر جھوٹ سے پردہ اٹھانا ہوگا۔ ان کا دل صاف کرنا پڑے گا پھر وہ پرانے والے بابا بن جائیں گے۔ یہ سب صرف ایک بدگمانی کا نتیجہ ہے۔ یہ سب داؤد کا قصور ہے، بابا کا نہیں۔ ہمارے بابا بہت اچھے ہیں، ہم جانتے ہیں۔" اس کے ذہن میں ایک ہی نقشہ تھا۔ وہ صبح ہوتے ہی بابا کے پیروں میں بیٹھے گی، انہیں داؤد کے ظلم کے وہ نشانات دکھائے گی، انہیں اپنے ٹوٹے ہوئے مان اور اجڑی کوکھ کی قسم دے گی اور وہ مان جائیں گے۔ اسے اپنی سچائی اور بابا کی محبت پر پورا بھروسہ تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ سراج کا یہ غصہ صرف ایک عارضی بادل ہے جو سچائی کی تپش سے چھٹ جائے گا۔
وہ اس خوش فہمی کی چادر اوڑھ کر خود کو قائل کر رہی تھی کہ یہ جدائی صرف ایک سچی دلیل کی مار ہے۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ دوسری طرف سراج کے کمرے میں اعتبار کے تمام چراغ بجھ چکے تھے اور وہاں صرف غیرت کی آگ جل رہی تھی۔ باہر دروازے پر دستک ہوئی تو اس کی توجہ ارتضیٰ حسن سے ہٹی۔
" زویا، واپس جائیے۔" زویا نے اس کی آواز سن کر تعجب سے دیکھا، ایسا پہلی بار ہوا تھا۔
" سَحر ، کھانا کھا لو۔"
" نہیں کھانا !"
" مہربانی کرو سحر۔ خود پر بھی اور اپنے بابا پر بھی ۔"
" جائیے ۔" زویا نے جانے سے انکار کیا اور کچھ دیر دروازہ بجاتی رہی ۔ اب سَحر نے جواب دینا بھی بند کر دیا ۔ تھک کر وہ لوٹ گئی۔
رات کا آخری پہر تھا جب اس کی آنکھ کھلی، باہر سناٹا تھا ۔ کسی کے سانس لینے کی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اس نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ رات کے تین بج رہے تھے ۔ تہجد کا وقت تھا ۔
وہ جانتی تھی کہ اس وقت ارتضیٰ حسن کیا کر رہا ہوگا۔
ایک لمحے کے لیے دماغ نے بھی سوچا کہ مصلیٰ بچھایا جائے مگر دل نے نفی کر دی۔ بہت دیر کمرے کی دیواروں کو گھورنے کے بعد اس نے خدا سے شکوہ کیا۔
" جب دینا نہیں تھا تو ہماری زندگی میں بھی نہ لاتے۔
ہمیں وہیں داؤد کے ہاتھوں مروا دیتے ۔
ہم مر جاتے تو آج پل پل نہ وہ مرتے نہ ہم ۔
کیوں نہیں مانی ہم نے ارتضیٰ کی بات ؟ ہمیں نہیں آنا چاہیے تھا ۔" وہ خدا سے ناراض ہو گئی تھی۔ کچھ لمحوں بعد اسے احساس ہوا کہ وہ خدا سے شکوے کر رہی تھی۔
" نہیں ، ابھی بابا غصے میں ہیں ۔ ہم ان کو منا لیں گے ۔
ہاں، وہ ہمارے بابا ہیں ، اتنے اچھے تو ہیں ۔ بس ایک غلط فہمی ہوگئی ہے ورنہ تو وہ اچھے ہیں۔
ہم بابا کو منائیں گے پھر ارتضیٰ کے پاس جا کر ان کو بھی منا لیں گے۔ " خود سے باتیں کرتے جیسے اس نے خود ہی حل نکال لیا۔ اس نے آنسو صاف کیے پھر اٹھ کر وضو کر آئی ۔ اب مصلیٰ تو اس کے کمرے میں موجود نہ تھا تو ارتضیٰ حسن کی چادر کو اس نے مصلیٰ بنایا اور نیت باندھ لی۔
ابھی صرف دو رکعات پڑھ کر اس نے اگلی دو رکعات کی نیت کی تھی کہ دروازے پر کچھ آہٹ ہوئی اور دروازہ کھل گیا۔ سراج نے اندر آتے ساتھ ہی اسے بازو سے پکڑ کر اپنی جانب گھمایا ۔
" کیا کر رہی تھیں آپ ؟" اس نے ہڑبڑا کر سراج کا چہرہ دیکھا ۔ کیا وہ نماز اور خدا کا احترام بھی بھول گئے تھے؟
اسے اس وقت ایک ہی بات یاد تھی۔ ارتضیٰ حسن کی آواز میں بولی گئی ایک خوبصورت سطر ۔
' ہر چیز پر سمجھوتا کیا جا سکتا ہے لیکن احترام خدا پر نہیں ۔'
" بابا چھوڑیں ہمیں ، ہم یہاں کیا کر رہے تھے ؟ کیا آپ دیکھ نہیں سکے کہ ہم نماز ادا ۔۔۔" وہ بلند آواز میں بولی تھی۔
اس نے سراج کے ہاتھ سے اپنا بازو نکالنا چاہا ہی تھا کہ چہرے پر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا گیا۔ کچھ لمحوں کے لیے بصارت دھندھلی ہوئی۔
" اچھا ؟ جیسے ساری زندگی ہم نے آپ کو جانا نہیں ۔ جمعے، عید اور رزلٹ کے علاوہ کبھی مصلے کی شکل تک نہ دیکھنے والی کو اس وقت نماز پڑھنی ہے جب نماز کا وقت ہی نہیں ہے؟" وہ حلق کے بل چلائے۔ سَحر ان کی گرفت میں ساکت تھی۔
" بابا ہم تہجد پڑھ ۔۔۔" اب اس نے نرمی سے کہنا چاہا۔
" تہجد ؟ کسے بےوقوف بنا رہی ہیں آپ ؟" وہ بےبسی سے چلائے،ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ اسے مار ڈالتے۔ وہ اسے سننا چاہتے تھے مگر پھر اس کی کوئی نہ کوئی غلطی سامنے آ جاتی تھی۔
" ہم جھوٹ نہیں بول رہے بابا ۔ ہم سچ میں نماز ہی پڑھ رہے تھے۔ " سَحر نے اب پیار سے ان کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر یقین دلایا ۔ انہوں نے سَحر کا ہاتھ چھوڑا اور کھڑکیوں کو دیکھنے لگے ۔ وہ بند تھیں ۔
" معلوم ہے بابا جان، جب ارتضیٰ ۔۔۔"
" ہمارے سامنے اس کا نام مت لیں۔"
"اب تو ساری زندگی کے لیے وہ نام ہماری شناخت بن چکا ہے۔ اب چاہ کر بھی ہم اسے خود سے جدا نہیں کر سکتے۔" سراج کا ہاتھ ایک لمحے کو رکا۔ چہرے پر وہی سختی، مگر آنکھوں کے اندر ۔۔۔ کہیں بہت اندر ایک لرزش سی تھی۔
"ہمیں بس ایک موقع دے دیں، ہم آپ کو ثبوت لا کر دیں گے۔ ہم سب ٹھیک کر دیں گے۔ " سحر کی آواز بھیگ چکی تھی۔
" ثبوت؟" سراج کا لہجہ طنزیہ ہنسی میں بدل گیا۔ " جس بیٹی نے چوبیس سال کی تربیت کو ایک جھٹکے میں ثبوتوں کا محتاج کر دیا ہو، وہ ہمیں کیا خاک یقین دلائے گی؟" سحر نے تڑپ کر ان کا ہاتھ تھام لیا۔
" بابا ! ہم نے کچھ نہیں چھپایا۔ داؤد نے آپ کو وہ سب دکھایا ہے جو وہ دکھانا چاہتا تھا، مگر وہ نہیں دکھایا جو ہم نے سہا ہے۔"
" شکر خدا کا کہ اس نے اس سے زیادہ کچھ نہیں دکھایا، سحر آپ کو ذرا حیا نہیں آ رہی؟ آپ ہمارے سامنے کھڑی ہو کر اپنے ان سیاہ رشتوں کا دفاع کر رہی ہیں؟"
" بابا! آپ ہمیں مار دیں ، ہمیں قید کر دیں، مگر خدا کے واسطے اس پاکیزہ رشتے کو گالی نہ دیں۔"
"بس!" سراج چلائے۔
"اگر اس گھر میں رہنا ہے تو اپنے دل میں اس نام کو دفن کر دو ورنہ۔۔۔"انہوں نے پستول کی جانب اشارہ کیا۔
" ورنہ ہم آپ کی کمزوری نہیں بنیں گے، سحر ۔ مر جائیں گے مگر آپ کو اس کی طرف نہیں جانے دیں گے۔ بےشک اس گھر سے قدم باہر رکھ کر دیکھ لیں۔ اسی پل ہم خود کو ختم کر دیں گے۔"سحر کی سانسیں اٹک گئیں۔ وہ تھک کر صوفے پر بیٹھ گئی۔
"بابا جان۔۔۔
کیا روحیں بدل سکتی ہیں؟
کیا محبتیں مٹ سکتی ہیں؟
کیا یادیں جل سکتی ہیں؟"سحر نے سر اٹھائے بغیر پوچھا۔ سراج خاموش رہے۔
"جو آگ ان سب کو مٹا دے، وہ صرف قبر میں ہوتی ہے۔"اس نے بھیگی آنکھوں سے اپنی سانسوں کو سنبھالتے ہوئے بات مکمل کی۔
"اور ہم ابھی زندہ ہیں۔" کمرے میں ایک لمحے کو موت جیسی خاموشی چھا گئی۔ سراج نے اسے دیکھا اور ایک طویل، گہرے لمحے تک دیکھتے رہے۔
" یا تو ہمیں قبر میں اتار دیں یا پھر ہم سے ایسی امید نہ رکھیں ۔
ویسے بابا کیا آپ نے داؤد کی وہ وائرل ویڈیو نہیں دیکھی جس میں وہ پانچ لاکھ میں ۔۔۔"
" وہ ویڈیو AI (اے آئی) سے بنی تھی۔"
" اوہ! وہ اے آئی تھی، اور بالکنی والی بالکل حقیقی ؟ کمال ہے بابا !" وہ طنزیہ ہنسی، اس کی آنکھوں میں نمی تھی، افسوس تھا، رنج و ملال تھا۔
" آپ کو ہمارا کوئی خوف نہیں رہا ؟"
" خوف ؟ بابا جان آپ نے تو ہمیشہ سَحر کو محبت دی تھی۔ سَحر آپ سے کبھی ڈرتی تو نہیں تھی۔
ہم تو ہمیشہ سے دوست تھے نا۔"
" پھر بھی باپ کا خوف ہونا چاہیے ، اب ہم دوست نہیں رہے۔"
" ارتضیٰ کہتے تھے کہ خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے۔ " اس نے غرور بھرے لہجے میں کہا۔ سراج چند لمحے اس ڈھیٹ کا چہرہ دیکھتے رہے پھر کمرے سے چلے گئے تھے، دروازہ کھلا ہوا تھا ۔
سراج کے جانے کے بعد کمرے میں پھیلی خاموشی کسی قبرستان کے سناٹے سے کم نہ تھی۔ وہ دروازہ جو ہمیشہ سحر کے لیے کھلا رہتا تھا۔ آج وہاں لٹکتی چابیاں سحر کے نصیب پر نوحہ کناں تھیں۔
ٹک ٹک ۔۔۔ ٹک ٹک ۔۔۔
لاک میں لٹکتی چابی دروازے پر لگ لگ کر واحد آواز پیدا کر رہی تھی۔ سَحر نے ایک گہرا سانس لیا تبھی اسے ایک مانوس آواز آئی ۔ لوہے کی سلاخ پر ماری گئی چابی کی ٹک ٹک ۔۔۔
اس نے جھٹکے سے پلٹ کر دیکھا مگر یہ وہ کمرہ نہیں تھا ، یہ وہ وقت نہیں تھا اور وہ شخص بھی نہیں تھا ۔
ابھی اس نے خود کو مکمل طور پر حال میں واپس نہیں موڑا تھا جب اس کی نظر مصلیٰ پر گئی۔ ارتضیٰ حسن کی چادر زمین پر پڑی اپنے بخت کو رو رہی تھی۔
اس نے بھاگ کر چادر اٹھائی پھر جھاڑ کر جیسے احترام سے سینے سے لگالی اور پناہ کی خاطر خود کو اس میں سمیٹ لیا۔
☆ ☆ ☆
صبح آنکھ کھلی تو زویا سامنے کھڑی پوچا لگا رہی تھی ۔ سَحر نے خود پر لپٹی چادر دیکھی ۔ رات کے منظر یاد آئے تو اداسی نے اس کے وجود کو جھنجھوڑ ڈالا ۔ گھڑی پر نظر ڈالی، دس بج رہے تھے ۔
اس کو اٹھتا دیکھ کر زویا کمرے سے چلی گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئی تو ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھی ۔ سَحر خاموشی سے اٹھ کر منہ ہاتھ دھونے چلی گئی۔ واپس آئی تو زویا نے ساتھ بیٹھ کر ہی اسے ناشتہ کروایا ۔ سحر نے ابھی چند نوالے ہی لیے تھے کہ اسے متلی محسوس ہوئی۔ وہ کھانا وہیں چھوڑ کر اٹھی اور سنک پر جھک گئی ۔ زویا فوراً اس کے پیچھے آئی۔ اس کی کمر سہلاتے اس نے مشکوک سے لہجے میں پوچھا۔
" سحر ! کہیں تم پرگنینٹ تو نہیں ہو ؟" سحر نے ہلکان ہوا چہرہ اٹھا کر زویا کو دیکھا۔ ایک ٹیس اس کے دل سے گزری اور وہ نقاہت میں بھی مسکرا دی۔
" ہم کبھی ماں نہیں بن سکتے۔" اس نے دکھتا سر اٹھا کر اپنے شوہر کی خامی کو اپنے سر لے لیا تھا۔
" لیکن تم نے کہا کہ داؤد بھائی نے ۔۔۔ "
" مار دیا اس نے ہماری اولاد کو بھی اور ہمارے اندر کی ممتا کو بھی۔ ہم اس کے بعد کبھی اولاد نہیں پیدا کر سکتے۔" زویا نے آنکھوں میں ڈھیروں آنسو لیے اسے خود سے لگایا۔ بمشکل ناشتہ کر کے وہ نہانے چلی گئی، زویا نے پورا کمرہ صاف کیا، دو ماہ پرانی بیڈ شیٹ اتار کر نئی بچھائی ۔ کھڑکیوں کو کھول کر سارے شیشے صاف کیے ۔ اب وہ کھڑکیوں کو سوکھے کپڑے سے خشک کر رہی تھی۔ سَحر سر پر تولیہ باندھے واپس آئی اور الماری سے ایک دوپٹہ نکال کر تولیہ اتارا، دوپٹہ لپیٹا اور جائے نماز بچھانے کا سوچا ۔
" زویا، جائے نماز لا دیجئے ؟"
" لاتی ہوں ۔تم ٹھیک ہو ؟" سحر نے اثبات میں سر ہلایا۔
کچھ دیر بعد وہ نفل کی نیت باندھے کھڑی تھی ۔ ساڑھے گیارہ سے بارہ ہوئے تو وہ رکی ۔ کچھ سوچ کر زویا سے قرآن منگوا لیا ۔ زویا نے اسے ایک سرخ جلد والا قرآن لا کر دیا جس پر سبز پتے بنے تھے ۔ وہ کافی دیر جد و جہد کرتی رہی ، سَحر قرآن میں وہ سکون ڈھونڈ رہی تھی جو اسے ارتضیٰ حسن کے ساتھ قرآن پڑھنے سے ملتا تھا۔
"یا اللہ۔۔۔ہمیں ہمت دے۔۔۔" اس نے ادب سے قرآن کو اپنی سلائی مشین کے ساتھ رکھا اور واپس جائے نماز پر بیٹھ گئی۔
" ان کے بغیر تو ہم قرآن بھی نہیں پڑھ سکتے، زندگی کیسے گزاریں گے ؟" وہ رو پڑی تھی ۔ شاید رونا ہی اب نصیب میں رہ گیا تھا۔ ظہر کی اذانوں نے اس کے اشکوں کو کنارا دیا ۔ اس نے نماز پڑھی پھر حاجت کے نوافل کی نیت باندھ لی۔ عصر کی اذان کے بعد زویا چائے لے کر اس کے پاس آئی مگر وہ فارغ نہیں تھی ۔
دماغ سوچوں کی زد میں تھا، ذہن کبھی ادھر کبھی ادھر بھٹک رہا تھا مگر اس نے مصلیٰ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔
چائے قریب پڑی ٹھندی ہوتی رہی، زویا اس کے کمرے کے چکر کاٹتی رہی مگر وہ جائے نماز سے نہ اٹھی۔ یہاں تک کہ مغرب کی اذانیں ہونے لگیں۔ زویا اب اس کے قریب ہی بیٹھ گئی تھی۔ جیسے ہی سَحر نے سلام کیا اس سے پہلے وہ دوبارہ نیت باندھتی، زویا نے اسے روک لیا۔
" خدا پر کس چیز کا غصہ ہے؟" سَحر نے اس کا چہرہ دیکھا، آنکھیں سرخ انگارہ ہو رہی تھیں۔
" خدا پر غصہ ؟ ہم تو اسے منا رہے ہیں زویا ، اسے منا رہے ہیں کہ وہ مان جائے گا تو بابا بھی مان جائیں گے۔ "
" خدا کو ایسے نہیں مناتے ، سَحر ۔ خدا کو صرف دل سے پکارنے کی ضرورت ہے۔ بس آنکھیں بند کرکے اس پر یقین رکھنا کہ جو مانگا ہے وہ مل جائے گا۔ "
" آنکھیں بند نہیں کر سکتے ہم۔ ارتضیٰ کہتے تھے اپنی آنکھیں ہمیشہ کھلی رکھتے ہیں ۔ اپنے لیے کوشش ہمیشہ کرتے رہتے ہیں۔ خدا سے دعا کرنے کے مقصد یہ نہیں ہوتا کہ خدا کے بھروسے ٹانگ پر ٹانگ دھرے بیٹھ جاؤ ۔ اپنے حصے کی محنت سب کو کرنی ہوتی ہے۔" اس نے زویا کی گرفت سے بازو نکالا اور نیت باندھ لی ۔
ایک گھنٹہ مزید یہ سلسلہ جاری رہا، اب اس میں کھڑے ہونے کی سکت بھی ختم ہو گئی تھی۔
وہ بیٹھ کر نفل پڑھ رہی تھی تبھی سراج آ کر پیچھے صوفے پر بیٹھ گئے۔ سَحر کے نتھنوں سے ان کے کولون کی خوشبو ٹکرائی تو سلام کرکے اس نے پلٹ کر دیکھا۔ سراج نے اسے اشارے سے پاس بلایا۔ وہ دیوار کا سہارا لے کر اٹھی اور بمشکل قدم اٹھاتی ان تک آئی ۔
سراج نے ہاتھ میں ایک خاکی لفافہ پکڑ رکھا تھا۔ سَحر صوفے پر بیٹھی تو انہوں نے کاغذات نکال کر اس کے سامنے رکھے اور قلم نکالا۔ سَحر کی آنکھیں کاغذ کی شہہ سرخی پڑھ کر پتھر ہوئیں ۔انہوں نے قلم کھول کر اس کا ڈھکن پیچھے لگایا اور سَحر کے ہاتھ میں قلم تھما دیا۔ سَحر نے ہوش میں واپس آتے ہی کرنٹ کھا کر قلم کو ہاتھ سے دور کیا۔
" بابا !" وہ اس قدر ششدر تھی کہ الفاظ بھول گئی۔
" سَحر ، بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ۔ اگر آپ نے ہمیں یہ کاغذات خالی لوٹا دیے تو اگلے پل ہمارا جنازہ اٹھانے کے لیے تیار رہیے گا۔" وہ قلم اس کے ہاتھ میں دبا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابھی ایک قدم ہی بڑھایا تھا کہ اس کی توثیق کرتی آواز آئی ۔
" اگر ہم نے دستخط کر دیے تو اگلے پل آپ ہمارا جنازہ اٹھانے کو تیار رہیے گا۔"
" باپ سے زیادہ عزیز ہے وہ؟"
" اگر وہ زیادہ عزیز ہوتے تو ہم اس وقت ان کے گھر پر ان کے پہلو میں بیٹھے ہوتے۔ یہاں بیٹھ کر آنسو نہ بہا رہے ہوتے۔ آپ سے زیادہ نہیں لیکن وہ ہمیں ہماری جان سے زیادہ عزیز ہے۔ وہ ہمارے ساتھ تب تھے جب آپ بھی نہیں تھے۔ انہوں نے ہمارے چہرے پر داؤد کا دیا ایک ایک زخم دیکھا ہے۔" اس نے اپنے آنسو صاف کیے۔
" ہم ان سے عشق کر بیٹھے ہیں، بابا جان! ان سے جدا ہوئے تو مر جائیں گے۔"
" تو مر جائیے نا ! ہم بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ مر جائیے۔ ہمارے سینے سے یہ ذلت کا بوجھ کم کیجئے ۔ مر جائیے۔" وہ اس قدر نفرت سے بولے کہ سَحر ان کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔ وہ سر جھٹک کر واپس مڑ گئے۔ پیچھے صدمے نے اس کے سینے پر دباؤ ڈالا، سانس اس قدر تنگ ہو گئی کہ سینے کا زور کم پڑا۔ ایک طویل سانس کھینچ کر وہ خود کو توڑ بیٹھی ۔ شدت سے روتے اس نے پیچھے سے ہانک لگائی۔
" ہم مر گئے تو کفن بھی اسی کے ہاتھ کا پہنیں گے۔"
" آپ پر ہمیں دیکھنا بھی حرام ٹھہرا ! سمجھے آپ۔۔۔" وہ ہچکیوں سے روتے بلند آواز میں بولی ۔ سراج نے پلٹ کر اس کی آنکھوں میں بغاوت کے شعلے بھڑکتے ہوئے دیکھے۔ یہ سَحر سراج نہیں تھی۔ جس بیٹی کے منہ میں انہوں نے چوبیس سال زبان نہیں ڈلنے دی تھی، جس کی آواز کبھی اونچی ہوتے نہیں سنا تھا، جسے بحث کے لفظ سے واقف ہی نہ ہونے دیا تھا آج وہ ۔۔۔
" آپ ہم سے ہمارا شوہر، ہمارا مسیحا چھیننا چاہتے ہیں نا ۔ ہم اسے خدا سے مانگ لیں گے پھر آپ خدا سے لڑ کر دکھائیے گا۔ آپ کی محبت میں کھوٹ تھا بابا جان، اس کی محبت میں کھوٹ نہیں تھا۔
آپ کی محبت مشروط تھی اور اس کی غیر مشروط!
انہوں نے ہمارے لیے سرداری چھوڑی، حویلی چھوڑی، اپنی ماں تک چھوڑ دی۔ آپ ارتضیٰ جیسے نہیں داؤد جیسے ہیں تبھی آپ کو داؤد شریف اور بےداغ دکھتا ہے۔" وہ اس قدر بلند اور خاردار لہجے میں بول رہی تھی کہ سراج اسے دیکھے اور سنے گئے۔
" آپ ایک برے انسان ہیں، بابا جان۔اور برے لوگ ہمیشہ اچھے لوگوں سے حسد کرتے ہیں۔
آپ سیاہ ہیں، بالکل سیاہ ۔" وہ زور سے چلا کر ہانپتی ہوئی صوفے پر گر پڑی۔ سراج نے اس کے پھولے ہوئے سانس کو دیکھا، آنکھوں سے بہتے نمکین پانی کو دیکھا۔ کانپتے ہاتھوں کو دیکھا پھر اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھا جن میں جنون سوار تھا۔ وہ واپس پلٹے، دروازہ تک جا کر زور سے دروازہ پٹخا اور چلے گئے۔
وہ صالحہ سراج کی بیٹی تھی، کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔
" ہم پتا نہیں خود کو کیا سمجھ بیٹھے تھے؟ ارتضیٰ جیسے شخص کی بیوی بننے کی اوقات تک نہ تھی ہماری لیکن پھر بھی ہم خود کو برتر سمجھنے لگے۔ پتا نہیں ہم خود کو کیا سمجھ رہے تھے؟
ہمیں ارتضیٰ حسن ملا یہ ہمارا مقدر تھا مگر اسے سنبھالنے کے لیے ہمیں بھی اس کا ہمپلہ ہونا تھا۔ اور ہم۔۔۔ ہم نے ان کے ساتھ کو عروج سمجھ لیا تھا، اللہ تعالیٰ ہم بھول گئے تھے کہ ہم خاک ہیں اور خاک کو کبھی عروج نہیں ملتا۔ ہم خاکی خود کو جانے کیا سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ ایک بوند پانی کی ہمیں کیچڑ بنانے کے لیے کافی ہے۔" وہ وہاں کافی دیر بیٹھی رہی، جسم اس قدر کانپ رہا تھا کہ اسے معلوم نہ ہوا کہ کب وہ ہوش کھو بیٹھی۔ عشاء کی اذانوں پر زویا پھر اسے دیکھنے آئی تو اسے صوفے پر بےہوش و حواس دیکھا۔
کچھ دیر بعد وہ اور سمیرا اسے نیم بیہوشی کی حالت میں پانی پلا رہے تھے۔ اس کے چہرے پر چھینٹے مار رہے تھے۔ مگر سحر کے اندر کا وہ طوفان اب شانت ہو چکا تھا۔ وہ صالحہ سراج کی بیٹی تھی جو ٹوٹ تو سکتی تھی مگر اب مزید جھک نہیں سکتی تھی۔ اس رات کے بعد ۔۔۔ وقت جیسے پر لگا کر اڑ گیا۔
☆ ☆ ☆
تاریخ: آٹھ نومبر ،
گیارہ مہینے ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل چکے تھے۔ یہ گیارہ مہینے سحر کے لیے گیارہ صدیوں جیسے تھے، جو اس نے اس گھر کے ایک ہی کمرے میں خود کو بند کرکے گزارے تھے۔ ان گیارہ مہینوں میں اس نے اپنے آنسوؤں کو کینوس پر ڈھال کر اپنے ڈیزائنز کی ایک نئی کلیکشن تیار کر لی تھی۔ یہ نہ تھا کہ سراج نے تعلق توڑ لیا تھا مگر جتنا تعلق بچا تھا وہ اجنبیوں جیسا تھا۔ کئی کئی دن گزر جاتے وہ سحر کی آواز تک نہ سن پاتے تھے۔ وہ فجر پر ناشتہ اور مغرب پر کھانا کھانے کی عادی ہو چکی تھی اور سراج اپنی روٹین سے ہٹنا نہیں جانتے تھے۔ لان میں لگے پھول پودے جنہیں کبھی سحر اپنے ہاتھوں سے سینچتی تھی، عدم توجہ کا شکار ہو کر مر گئے تھے ۔
آج صبح بھی ٹھنڈی ہوا کمرے کا پردہ اڑا رہی تھی۔ سحر سجدے میں سر رکھے اپنے پروردگار کے حضور حاضر تھی۔پس منظر میں فجر کے بعد مساجد سے آتی درود و سلام کی آوازیں مدھم ہو رہی تھیں۔
نماز مکمل کر کے وہ تسبیح پڑھنے کے بعد اب مناجات کر رہی تھی۔ سورج طلوع ہوا تو زویا ناشتہ بنا لائی۔ اس کے پاس رکھ کر وہ نیند سے چور آنکھیں لئے واپس بستر پر لیٹ گئی تھی۔
سحر نے ناشتے کی ٹرے پر نظر ڈالی تو آنکھوں میں ایک منظر چلنا شروع ہوا۔ سحر اپنا جلا ہوا ہاتھ لے کر کرسی پر بیٹھی تھی۔ وہ نوالے بنا بنا کر اس کے منہ میں ڈال رہا تھا۔
" زیادہ دیر بھوکے رہ کر خود کو اذیت نہیں دینی چاہیے۔ خدا کی دی ہوئی چیزوں کی قدر کرتے ہیں ورنہ نعمتیں روٹھ جاتی ہیں۔" اسے احساس ہوا کہ ارتضیٰ حسن بھی ایک نعمت تھا جس کی اس نے قدر نہیں کی تھی اور اب وہ نعمت روٹھ گئی تھی۔ تکلیف ہوئی، سر میں درد ہوا ، وہ خاموشی سے بستر پر جا کر لیٹ گئی ۔
☆ ☆ ☆
صبح اس کی آنکھ کھلی تو سر بری طرح دکھ رہا تھا۔ اس نے بمشکل اٹھ کر بیٹھتے چادر خود پر سے اتاری ۔ وہ چکراتے سر کے ساتھ اپنے بستر سے اتری۔ بیڈ کے ستونوں کا سہارا لے کر باتھروم کی طرف بڑھی لیکن واپس بیڈ پر آ بیٹھی۔
آج تاریخ۔۔۔ آٹھ نومبر ، نکاح کی تاریخ ، ارتضیٰ حسن اور سحر سراج کے ملن کی تاریخ۔
سحر کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے، بصارت دھندلائی۔ آج ان کی شادی کو پورا ایک سال ہو چکا تھا۔ پہلی ویڈنگ انیورسری۔ وہ دن جب ارتضی حسن نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے ایک نئی زندگی دی تھی۔ اور آج کا دن وہ اسی زندگی کی برسی منا رہی تھی۔
" ارتضیٰ ؟ آپ کہاں ہیں؟" وہ ہچکی بھر کر رہ گئی۔
" ہم تو اتنے طاقتور نہ تھے کہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا جاتا۔ آپ تو جانتے تھے نا کہ بابا ہمیں دھوکہ دے رہے ہیں۔ آپ نے ہمیں آنے ہی کیوں دیا؟
ارتضیٰ سَحر مر جائے گی۔
ہمیں یہ عشق کھا جائے گا، ارتضیٰ۔ سَحر مر جائے گی۔" اس کے کانوں میں ایک آواز گونجی۔
" تو مر جائیے نا! ہم بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ مر جائیے ہمارے سینے سے یہ ذلت کا بوجھ کم کیجئے ۔ مر جائیے۔" گیارہ ماہ پہلے بولا گیا سراج کا تلخ جملہ سحر کی سماعتوں میں آج بھی شاداب تھا اور اس تمام وقت میں وو اسی جملے کی صلیب پر لٹک کر خود کو ختم کر رہی تھی۔
آج اسی جملے نے اس کے اندر سوئی ہی ارتضیٰ حسن کی مظبوط عورت کو جھنجھوڑ ڈالا تھا۔
" نہیں بابا، اگر سَحر کو مرنا ہوتا تو ارتضیٰ ہماری زندگی میں نہ آتے ۔ " اس نے چٹخدار آواز میں خود سے کہا۔
"سَحر کو جینا تھا۔
سَحر کی زندگی لکھی تھی۔
اور اب سَحر اپنی اس زندگی کو بچانے کے لیے اپنے حصے کی محنت کرے گی۔
سَحر اپنی محبت پر گو آپ نہیں کرے گی۔ سَحر اپنے حصے کی کوشش کرے گی ۔ " اس نے اٹھ کر منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے اور تولیے سے منہ رگڑتی باہر آئی ۔ سامنے آئینے میں اس کا عکس اسے دیکھ رہا تھا۔
" مانا کہ ہم عام لڑکیوں کی طرح مضبوط اور اپنے فیصلے ڈنکے کی چوٹ پر کرنے کے عادی نہیں ہیں۔ مگر محبت تو ڈنکے کی چوٹ پر ہی ہوتی ہے۔ " اس نے اپنی چمکتی پر عزم آنکھوں میں جھانکا ۔
" ہم کمزور ہیں تو کیا؟ ہم اپنے آپ کو نہیں بدلیں گے، سب مضبوط نہیں ہوتے مگر کمزوری میں بھی اپنے لیے صحیح فیصلہ لینے کی ہمت ہونی چاہیے۔ " اس کی آنکھوں میں ایک منظر لہرا رہا تھا۔ ارتضیٰ حسن اسے ایک ، دو ، تین کا اشارہ کر رہا تھا۔
" نہیں ارتضیٰ! اس بار ہمیں خود کچھ کرنا ہوگا۔" کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہلتے وہ ماضی سے نکل کر حال میں واپس آ کر کوئی ترکیب سوچ رہی تھی۔ کچھ وقت گزرا اور اس کے دماغ کی بتی جل اٹھی۔
سحر کے لبوں پر ایک پر اسرار مسکراہٹ آئی۔
اس نے دراز کھول کر خاکی لفافے سے طلاق کے کاغذات نکالے، قلم اٹھایا اور دستخط کرنے شروع کیے۔ کاغذات مکمل کرکے اس نے خاکی لفافے پر ایک ہندسہ لکھا، تین کا ہندسہ ۔۔۔
کاغذات اس خاکی لفافے میں ڈالے اور آگے بڑھ گئی۔ سر پر دوپٹہ رکھا، دروازہ کھولا اور اسی طرح نیچے اتری۔ سراج اپنے کمرے میں بیٹھے چائے پی رہے تھے ۔سَحر دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوئی ۔ سراج اس کا یہ روپ دیکھ کر چونکے۔
" بابا جان! ہم نے دستخط کر دیے ہیں۔ کیا اب آپ ہم سے راضی ہیں؟" اس قدر عام لہجہ کہ الامان!
" اس رات تو کچھ اور کہہ رہی تھی۔" سراج اس قدر طویل عرصے کے بعد اس کے منہ سے یہ بات سن کر گڑبڑا گئے۔
" معاف کر دیں، لیکن جو کہا تھا وہ غلط نہیں تھا۔ آپ رشتہ ختم کروا رہے ہیں، محبت نہیں ۔
محبت تو لازوال ہوتی ہے،ایک سال ہونے کو ہے مگر محبت وہیں کی وہیں ہے، محبت کبھی ختم نہیں ہوتی بابا ، اس کمبخت نے آبِ حیات پی رکھا ہے۔ " وہ کاغذ ان کے سامنے رکھ کر بولی ۔
" بہت محبت، محبت کرنے لگیں ہیں آپ؟ ابھی تک بخار نہیں اترا؟"
" محبت زندگی ہوتی ہے،بابا جان۔ ہر موڑ پر خوشیاں ہمارا انتظار نہیں کرتی مگر ہم زندگی سے دستبردار نہیں ہوتے۔ ہم جیتے ہیں۔۔۔ ایسے ہی محبت سے بھی دستبردار نہیں ہوا جاتا۔ محبوب چلے جاتے ہیں لیکن محبتیں رہ جاتی ہیں۔ "
" محبتیں قائم ہیں تو دستخط کیوں کیے ہیں ؟" سراج نے شک اور حیرت کے ملے جلے تاثر کے ساتھ پوچھا۔
" زندگی میں پہلی بار آپ سے کسی چیز کی ضد کی تھی، سوچا تھا آپ پوری کر دیں گے، لیکن آپ نے نہیں کی۔۔۔ تو اب ہم نے ہار مان لی۔ آپ رشتہ ختم کرنا چاہتے ہیں نا؟ کر دیں!
لیکن محبت۔۔۔ محبت ہم ساری زندگی اسی سے کریں گے۔ "
" رشتہ ختم ہو گا تو ایک نہ ایک دن محبت بھی دم توڑ جائے گی۔"انہوں نےسنگدلی سے کہتے ہوئے کاغذات باہر نکال کر اس لفافے کو الٹ کر جھاڑا کہ آیا کوئی خط تو نہیں چھپا رکھا مگر اندر سے کچھ نہ نکلا۔
" اس قدر خوف ہے اس کا؟ لیکن آپ جتنے مرضی پہرے بٹھا دیں ،
وہ آئے گا۔
آپ دروازوں میں سیسہ پگھلا کر بھی ڈال دیں گے تب بھی،
وہ آئے گا۔
وہ یوسفزئیوں پر حکومت کرنے والا ہے، وہ آپ کے قابو نہیں آئے گا۔
وہ آئے گا۔" وہ کہتے کہتے قدم پیچھے کو لے رہی تھی۔دوپٹہ سر سے سرک کر کندھے پر گرا، اس کی آنکھوں کا وہ عجیب، ماورائی جنون دیکھ کر سراج کا دل دہل گیا، انہیں اس کی ذہنی حالت پر شک ہوا۔
" سَحر !" اس کے کھلے سر پر نگاہ گئی تو وہ فکر کے مارے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
" آپ کو خلع کے کاغذ چاہیے تھے نا، کر دیے دستخط لیکن وہ آئے گا۔" وہ مسکرائی،اس کی مسکراہٹ میں اک چیلنج تھا۔
" وہ آئے گا۔ " وہ ان کی انا کو خاک میں ملا کر،ان کو چیلینج کرتی باہر نکل گئی۔ سراج ساکت کھڑے رہے، ان کی نظر دور کھڑی زویا پر پڑی، جو سحر کے اس جنونی اور باغی روپ سے بری طرح دہل گئی تھی۔
" زویا ! زویا !" انہوں نے بلند آواز میں زویا کو بلایا۔
" قسم لے لیں، اس کا ارتضیٰ سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ پتا نہیں کیا بول کر گئی ہے۔" زویا اپنے دفاع میں بولی۔
" سحر کے بالوں کو کیا ہوا ہے؟"سراج نے آگے بڑھ کر زویا کے شانے دبوچے۔ ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں، چہرے کی جھریاں خوف سے تَن گئی تھیں۔
"ان کے بال ؟ ان کے بال سفید کیسے ہو گئے، زویا؟" سراج کے لہجے میں اب شدید پریشانی اور ہراس تھا۔ زویا نے تڑپ کر سراج کی طرف دیکھا۔ مارے تکلیف کے اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرا۔
"اسے ہجر کا روگ لگ گیا ہے!" زویا نے سسکتے ہوئے سراج احمد کے پاؤں تلے سے زمین نکال دی۔
" وہ غم ہجر میں اپنے پچیسویں برس میں بوڑھی ہو گئی ہے۔" زویا کے الفاظ نے سراج کا روم روم ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ کچھ پل اس کا چہرہ دیکھتے رہے پھرایک جھٹکے سے اسے پرے دھکیل کر انہوں نے وہ خاکی لفافہ اٹھایا اور کمرے سے نکل گئے۔
☆ ☆ ☆
سحر واپس اپنے کمرے میں آئی اور سکون سے ایل سی ڈی لگا کر بیٹھ گئی۔ سامنے کوئی ڈراما چل رہا تھا۔ اس نے زویا سے ناشتہ بنوایا اور ڈراما دیکھتے ہوئے ہی ناشتہ کیا ۔ پھر دوسرا، پھر تیسرا ، ڈرامے بدلتے رہے ۔ وہ پر سکون سی بیٹھی ڈرامے دیکھے گئی۔ یہاں تک کہ ظہر کی اذان ہونے لگی۔ اس نے ڈرامے کی قسط ختم ہونے کا انتظار کرنا چاہا، میوٹ پر لگائے وہ ڈراما دیکھنے میں مگن تھی جب مؤذن کا جملہ اس کے کان میں پڑا۔
حی علی الصلاۃ
حی علی الفلاح
اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے، ایک عجیب سا رعب طاری ہوا اور کانوں میں ایک آواز گونجی۔
" جب اذان ہوتی ہے اور مؤذن کہتا ہے ’حیّ علی الصلاۃ‘ تو مجھے لگتا ہے جیسے خدا بلا رہا ہے۔ اور اگر میں اُس وقت نماز نہ پڑھوں۔۔۔ تو ایسا لگتا ہے جیسے خدا نے مجھے پکارا اور میں نے منہ موڑ لیا۔" ارتضیٰ حسن بالکونی میں بیٹھا اسے بتا رہا تھا۔
" اور ایک بات یاد رکھیں۔۔۔ نماز صرف سکون نہیں دیتی، بلکہ ہمت بھی دیتی ہے۔ جب ایک بار شروع کریں گی نا تو دیکھیں گی، ہر دروازہ خود بخود کھلتا جائے گا۔" سحر فوراً سب کچھ ہٹاتی اٹھی اور وضو کرنے چلی گئی۔
" ہاں، ہمیں اس وقت ہمت چاہیے ، بند دروازے کھلوانے ہیں ۔" نماز پڑھ کر اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔
" اللہ تعالیٰ ارتضیٰ کو ہمارا پیغام جلد پہنچا دینا۔ اللہ تعالیٰ وہ آج ہی آ جائیں۔ ہم ان کے ساتھ چلے جائیں گے۔"
دعا کرنے کے بعد اس نے قرآن اٹھایا اور قرآن پڑھنا چاہا مگر مسئلہ اتنے عرصے بعد بھی وہیں کا وہیں تھا۔ اسے اس بے چینی کا توڑ نہیں مل رہا تھا ۔ جو سکون وہ ڈرامے دیکھتے وقت محسوس کر رہی تھی، کلامِ الہی سامنے آتے ہی وہ تڑپ اور بے چینی میں بدل گیا تھا۔ اس نے تھک کر قرآن پاک بند کر دیا۔
" شاید ہمیں قرآن پڑھنا آتا ہی نہیں ہے، اسی لیے ارتضیٰ ہمیں خود پڑھاتے تھے۔ " اس نے قرآن اپنی کتابوں کے ساتھ شیلف پر رکھا تو نظر سامنے موجود اپنے ایک ناول پر گئی وہی جسے اس نے بیچ میں ہی چھوڑ دیا تھا۔ شادی کی مصروفیات میں وہ اسے بھول گئی تھی۔ اس نے کتاب اٹھائی اور اپنے کمرے کا حصار توڑ کر نیچے لان میں جا بیٹھی۔
سراج واپس آئے تو وہ لان میں بیٹھی کتاب میں منہ دیے مگن تھی۔ وہ اس کے سامنے والی کرسی پر جا بیٹھے پھر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی ۔ وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھے، نظریں اس کے دوپٹے کے نیچے چھپی ان سفید جڑوں کو دیکھنا چاہتی تھی۔
" کیا پڑھ رہی ہیں؟" انہوں نے خود خاموشی کو توڑا۔
" ناول ۔" اس نے سر اٹھائے بغیر کہا۔
" اس کے بارے میں نہیں بتائیں گی کچھ؟"
" ابھی تو ساری کہانی بھول گئے تھے تو پیچھے سے دوبارہ پڑھ رہے ہیں۔ آپ بتائیں کاغذات جمع کروا دیے؟" وہ عام سے انداز میں بولی۔
" ہاں، کل تک اسے پہنچ جائیں گے۔ "
" پھر کل تک وہ بھی پہنچ جائے گا۔" وہ اسی انداز میں بولی۔
" اسے بھول جائیے، سحر ۔ زندگی میں بہت کچھ اور بھی ہے۔"
" وہ بھولنے والا ہوتا تو ہمیں اس سے محبت نہ ہوتی۔ "
" آپ کے لیے ایک کام ہے میرے دوست کی بیٹی ہے اسے اپنی مہندی کا لہنگا ڈیزائن کروانا ہے۔" شاید وہ اسے مصروف رکھنے کی غرض سے کہہ رہے تھے۔
" بھول جائیے بابا جان، اب ہماری زندگی میں بہت کچھ اور بھی ہے۔" اس نے کتاب سے نظر ہٹا کر ان کی آنکھوں میں دیکھا۔ سراج نے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک میں جمتے اسے ٹھٹھر کر دیکھا۔ وہ ایسے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے والی لڑکی نہیں تھی۔ اس سے پہلے وہ برف کی سِل میں تبدیل ہوتے انہوں نے جگہ چھوڑ دی۔
" ہم نے محسوس کیا ہے کہ آپ ان سے ڈرتے ہیں ۔ کیااس کی وجہ ہم ہیں یا ۔۔۔" سحر کی آواز پر ان کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے،انہوں نے پلٹ کر اس کی بات کاٹی۔
" اس مرد کے لیے آپ نے ہمارا مان توڑا ہے ۔ ڈرتے نہیں ہیں، اذیت ہوتی ہے اس کے نام سے۔"
" ہم سے جھوٹ نہیں بول سکتے آپ ۔" وہ ہنسی، سراج نے اس کی جھوٹی ہنسی دیکھی پھر پلٹ گئے۔ چند قدم اندر کی جانب چل کر رکے اور بےبس ہو کر پلٹے۔
" سَحر !"
" جی ؟"
" ایک سال ہو گیا آپ پتھر کا بت بنی بیٹھی تھیں، تو آج یہ بدلاؤ کیوں ؟
کچھ پلین کیا ہے آپ نے ؟ کہیں خودکشی تو نہیں کرنے والیں؟" ان کے لہجے کا خوف واضح تھا۔
" نہیں! دراصل آج ہماری شادی کی سالگرہ ہے۔ اس لیے آج ایک بڑا فیصلہ کرنا ہمیں آسان لگا۔" وہ اٹھی، کتاب سامنے پڑی لوہے کی میز پر رکھی اور ان کے گلے لگ گئی ویسی ہی جیسے ہمیشہ لگا کرتی تھی۔
" ارتضیٰ کہتے تھے کہ جو معاملہ خدا کے سپرد کر دیا جائے اس کا وارث خدا ہوتا ہے۔ پھر اس معاملے سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ " سراج نے ارتضیٰ کا نام سن کر اسے خود سے دور کرنا چاہا لیکن رک گئے۔
" وہ کہتے تھے کہ نصیب خدا کے ہاتھ میں ہے اور دعا ہمارے ہاتھ میں ۔ ہمیں دعا کرکے اس پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ پھر بےفکر ہوکر اس پر ایمان رکھنا چاہیے اور جو ہو اسے خدا کی رضا سمجھ کر قبول کر لینا چاہیے۔ یہ ایمان کے اونچے درجوں میں سے ایک ہے۔ " سراج نے سحر کے چہرے پر پھیلے اس غضب کے سکون کو حیرت سے دیکھا۔
" کیا وہ ہر وقت ایمان کی ہی باتیں کرتے تھے؟" ان کے لہجے میں اب بھی اس گلی سڑی سوچ کا شائبہ تھا۔
" نہیں، بابا!" سحر نے دور افق پر چمکتے سورج کو دیکھا۔ " صرف ایمان نہیں ۔۔۔ عدل، انصاف، نماز، محبت، پاکیزگی اور رحمدلی بھی۔ وہ کہتے تھے کہ والدین کا دل نہیں دکھاتے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ " وہ سراج سے دور ہوئی جیسے اسے اب بیساکھیوں کی ضرورت نہ رہی ہو۔
" کیا وہ داؤد سے بہت بہتر ہیں؟" سحر کی آنکھوں میں ایک پُر وقار چمک ابھری۔
" بابا جان! بات کبھی داؤد اور ارتضیٰ کے موازنے کی تھی ہی نہیں۔ بات تو محض اتنی تھی کہ شوہر انسان ہو اور ہمیں بھی انسان سمجھے۔وہ خود کو حاکم اور ہمیں رعایا نہ سمجھے، خود کو اعلیٰ اور ہمیں ادنیٰ نہ سمجھے۔" سحر کی آواز کسی دریا کی طرح رواں تھی۔
" شوہر وہ ہو بابا جان! جو چائے میں چینی کم ہو تو خود ڈال لے، کوئی برتن ٹوٹ جائے تو اسے برتن سے زیادہ ہمارے ہاتھ کی فکر ہو۔ وہ اپنی روزمرہ کی ضرورتوں کو زمہ داری کہہ کر ہماری کمر نہ توڑے۔وہ ایسا ہو جو غلطی پر معاف کر دے اور گناہ پر رحم کرے۔ جس کا لہجہ تنہائی میں بھی ویسا ہو جیسا بھرے مجمع میں ہو۔ وہ ہماری طہارت کو ہمارے بالوں کی لمبائی سے نہ ناپے۔شوہر وہ ہو بابا جان جس کے گھر آنے کی آہٹ پر ہماری جان نکلنے کی بجائے، اس کے استقبال کے لیے ہم پورا دن پلکیں بچھا کر انتظار کریں۔" سراج ساکت کھڑے اپنی بیٹی کو سن رہے تھے، جیسے وہ اسے پہلی بار ایک شخصیت کے طور پر پہچان رہے ہوں۔
" آپ پوچھتے ہیں نا کہ ارتضیٰ کون ہے ؟ ارتضیٰ اس چادر کی طرح مضبوط اور پناہ دینے والا تھا،جس کے اندر رہ کر ہمیں اپنی عریانیت اور دکھوں کا ڈر نہیں تھا۔۔۔ جبکہ داؤد ؟" اس نے اپنی آستین موڑ کر اپنی کلائیوں پر لگے ان مستقل نشانات کو بےنقاب کیا۔
" یہ تھا داؤد !" سحر کی آواز کا سکون سراج کے ضمیر کے پرخچے اڑا گیا۔
" داؤد ایک ایسا مالک تھا جو اپنے غلام کو مسخ کرکے سکون پاتا تھا اور ارتضیٰ وہ رفیق ہیں جس نے ان نشانات کو دیکھ کر بھی ہم سے نظریں نہیں پھیریں۔ اس نے مجرد (غیر شادی شدہ) ہوتے ہوئے ہمیں ان سب کے ساتھ قبول کیااور ہمیں بھی اس حقیقت کو قبول کرنا سکھایا۔ ان کا حق بنتا ہے کہ ان سے محبت کی جائے، ان سے محبت کرنا فرض ہے۔"
" ہمیں معاف کر دیں بابا ، ہم نے آپ کو بہت ہرٹ کیا ہے ۔ بےشک ہم بے گناہ ہیں لیکن آپ ہرٹ ہوئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں۔" سراج احمد بالکل گونگے ہو کر اس کا چہرہ دیکھتے رہ گئے۔ یہ لڑکی کون تھی؟ کہاں گئی وہ ڈری سہمی سحر؟اور وہ لڑکا کون تھا جس نے ان کی چوبیس سال کی محنت اور دعووں پر چند ماہ میں پانی پھیر دیا تھا۔ ارتضیٰ حسن نے ایسا کیا جادو کر دیا تھا کہ وہ سراب ایک سال سے اس لڑکی کے وجود سے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا؟ وہ جتنا اسے ارتضیٰ سے دور کر رہے تھے، وہ اتنی ہی اس کے رنگ میں ڈھلتی جا رہی تھی۔
" آپ کی پہلی غلطی سمجھ کر ہم نے آپ کو معاف کیا۔ " انہوں نے سَحر کو خود سے لپیٹا ، اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے۔
☆ ☆ ☆
دو ہفتے بعد :
دو ہفتے صبر شکر سے گزرنے کے بعد اب سحر کا سکون اضطراب میں بدلنے لگا تھا۔ طلاق کے کاغذات بھیجنے کے بعد، سراج کا رویہ بدل گیا تھا۔اب وہ نرم لہجے میں بات کرتے، اکثر اس کی پسند کا کھانا بنواتے اور وہ بھی چپ چاپ ان کے پاس بیٹھتی، باتیں کرتی، کھانا کھاتی، اور کتابیں پڑھتی جیسے زندگی ٹھہر سی گئی ہو، وہاں نہ ارتضیٰ تھا نہ داؤد، صرف سراج احمد تھے لیکن کیا حقیقت ایسی ہی تھی؟
ہر دن وہی معمول نماز، قرآن، گھر ، سراج اور شام پھولوں کے ساتھ گزر جاتی۔ جب بھی دروازہ کھلنے کی آواز آتی، اس کا دل ایک لمحے کو ٹھہر جاتا پھر خود ہی مسکرا دیتی، "یہ تو بابا ہیں ۔"
لیکن دل کا ایک گوشہ اب بھی کسی جواب کا منتظر تھا۔ راتوں کو، نیم شب کی نمازوں میں جب وہ سجدے میں جاتی، آنکھیں اسی کے نام کے موتی برساتی تھیں۔ انتظار کتنا بڑا عذاب تھا اسے ان گیارہ ماہ کے مقابل، ان دو ہفتوں نے اچھے سے سمجھا دیا تھا۔
اگر کاغذات پہنچ گئے ہوتے، تو وہ ضرور آتا۔
ضرور۔۔۔ مگر وہ نہیں آیا۔
وہ روز خود کو تسلی دیتی اور روز ایک ہی خیال اس کے دماغ میں آتا کہ کہیں ارتضیٰ نے اس کا پیغام نہ سمجھا ہو اور اس طلاق کو قبول کر لیا ہو۔ ۔۔
مگر ارتضیٰ حسن کے مضبوط ایمان اور بے پناہ محبت کی جو تصویر اس کے دماغ میں تھی، وہ اس بات کی نفی کرتی تھی۔ وہ داؤد نہیں تھا جو اس کو ایک غلطی پر طلاق دے دیتا۔ وہ ارتضیٰ حسن تھا جو اس کے لیے دستار، حویلی اور رشتے چھوڑ دیا کرتا تھا۔
جو اس کا ایک حرف پر مبنی پیغام پڑھ کر بھاگا دوڑا چلا آتا تھا۔
جو شرمندگی کی گہری کھائیوں سے اسے پل بھر میں نکال لیتا تھا۔
جو اس کی تکلیف کو نیند کی گہرائیوں میں بھی محسوس کر لیتا تھا۔
سَحر کیسے اس بات پر یقین کرتی کہ وہ تکلیف میں ہے اور ارتضیٰ حسن بے خبر ہے؟
ارتضیٰ حسن نے کہا تھا کہ خدا کو جلدباز لوگ پسند نہیں ۔۔۔
اور وہ اب خدا کی پسندیدہ بننے کی کوشش کر رہی تھی۔
ابھی وہ عصر کی نماز پڑھ کر لان میں بیٹھی تھی۔ ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے، وہ گلاب کے پھولوں کو دیکھتی بائیں ہاتھ پر کوئی ورد کر رہی تھی۔ تسبیح ختم ہوئی تو اس نے پھر بے چینی سے دروازے کو دیکھا۔ کوئی پیغام نہیں تھا۔ اس نے دسویں بار بھی مایوس ہو کر ورد شروع کر دیا۔ خاموشی کے باعث وہ آہستہ آہستہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔ سر پر لپٹا دوپٹہ سرک کر کندھوں پر گر گیا تھا۔ بالوں کی سفید جڑیں دِکھنے لگی تھیں۔ دماغ نے اسے ماضی کا ایک منظر دکھانا شروع کیا۔
وہ اپنا جلا ہوا ہاتھ لے کر صحن میں بیٹھی تھی۔ ارتضیٰ اس پر نرمی سے ٹیوب لگا رہا تھا۔ ساتھ ساتھ کچھ بول رہا تھا۔
" سَحر! اللہ نے یہ نہیں کہا کہ آپ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤ اور وہ آپ کے لیے راستے نکالے گا۔
محنت کرنی پڑتی ہے، مدد کا وعدہ اس نے کیا ہے۔ وہ راستے دکھاتا ہے مگر چلنا ہم نے خود ہوتا ہے۔
ایمان کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ آپ بستر پر بیٹھ کر انتظار کریں کہ فرشتے آپ کا رزق لے کر آپ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ آپ کو خود ہی محنت کرنی پڑتی ہے۔"
" چوٹ لگتی ہے تو ڈاکٹر کے پاس خود جانا پڑتا ہے، دوا لینی پڑتی ہے۔ شفا اللہ دیتا ہے۔ " وہ ٹیوب لگا چکا تو ٹیوب بند کی اور پھر نرمی سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
سَحر کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے ہڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھا۔ ہاتھ سے کپ چھوٹ گیا تھا، ٹھنڈی چائے اس کے پاؤں پر گر گئی تھی۔ وہ اٹھی اور کپ کے ٹکڑے سمیٹ کر لان میں لگے بڑے کچرےدان میں پھینک دیے۔ ساتھ لگی کھڑکی سے اندر جھانکا تو کچن میں کھڑی زویا نظر آئی ۔ وہ آٹا گوندھ رہی تھی۔
☆ ☆ ☆
رات بھی وہ صوفے پر بیٹھی ایک کتاب کا مطالعہ کرتی رو رہی تھی، شاید کسی پسندیدہ کردار کا غم منا رہی تھی۔ تبھی سراج پیچھے سے آئے تو اسے روتے دیکھ کر تیزی سے اس کے پاس آئے۔
" سحر؟ کیا ہوا ہے؟" اس نے فوراً آنسو پونچھ کر ان کی جانب دیکھا۔ جواب کوئی نہیں۔
" کیا ہوا ہے بیٹا؟"
" بابا جان یہ سب محبت کرنے والوں کے نصیب میں جدائی ہی کیوں لکھی ہوتی ہے؟ حرم شہزاد کو بھی مرنا تھا۔۔۔"
" محبت امتحان ہوتی ہے۔اچھا آپ اس سب کو چھوڑیں ہمارے پاس ایک خوشخبری ہے۔" سراج احمد نے اس کے چہرے کی اداسی کو جھٹکنے کے لیے لہجے میں مصنوعی چمک پیدا کی۔
" ہم نے آپ کے سارے ڈیزائنز فارہ جان کو بھیجے تھے۔ پچھلے سال تو نہیں جیتے تھے مگر اس سال آپ کے ڈیزائنز جیت گئے ہیں۔" سحر کے چہرے پر کوئی خوشی یا حیرت کا جذبہ نہ دیکھتے ہوئے سراج آگے بڑھے۔
" سحر آپ اتنے مہینوں سے یادوں کے سائے میں جی رہی ہیں۔ نماز ، صبر اچھا ہے لیکن اللہ نے ہمیں خود کو ضائع کرنے کا حکم نہیں دیا۔ کیا آپ کے ارتضیٰ نے آپ کو یہ نہیں بتایا ؟" سحر نے آدھی بھیگی پلکیں اٹھا کر ان کو دیکھا ۔ لبوں کو بے ساختہ مدہم سی مسکراہٹ نے چھو لیا تھا۔
" دنیا آپ کو اور آپ کی محنت دونوں کو دیکھنا چاہتی ہے۔" سراج نے دیکھا کہ لوہا گرم ہے، انہوں نے دوسرا وار کیا۔
" ایک اور چیز۔۔۔" انہوں نے سحر کے ہاتھ سے کتاب لے کر رکھی پھر پیار سے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔
" ایک بڑا فیشن شو ہو رہا ہے اگلے ہفتے۔ فارہ جان نے آپ کے ڈیزائنز وہاں بھیجے تھے۔" سحر چونکی اور سراج کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ نکالنا چاہے۔
" پہلے نتائج تو دیکھ لیں۔" انہوں نے ایک لفافہ لہرا کر دکھایا۔
" سحر آپ کا چناؤ ہو گیا ہے اور صرف آپ کے کپڑے نہیں۔ وہ چاہتے ہیں آپ خود بھی شو میں آئیں۔ رن وے کے آخر میں کھڑی ہوں جیسے ہر بڑا ڈیزائنر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔ یہی تو آپ کے بچپن کا خواب تھا۔" سحر سانس رو کے، حیران سی سراج میں آئی تبدیلی کو دیکھ رہی تھی۔ وہ اسے اپنے سراج لگے، اپنا دوست، اپنا باپ اور سب سے بڑا ساتھی۔
" اپنے آپ کو روک روک کر آپ نے بہت وقت ضائع کر دیا ہے ۔اب بس۔۔۔ بس اور نہیں۔ دنیا آپ کو بڑی سطح پر دیکھنا چاہتی ہے، سحر۔" سحر کی آنکھیں نم ہونے لگی۔
" ہمیں یہ کرنا چاہیے ہمیں ایسے اور نہیں جینا۔۔۔" اس سے پہلے آنسو رخسار کو چھو لیتے ۔ وہ سراج سے لپٹ گئی۔
' تھینک یو اللہ تعالی! آپ نے ہمیں یہ موقع دیا۔
ہم ۔۔۔ ہم اب اپنی زندگی واپس لیں گے۔
اپنے شوق ۔۔۔ اپنی پہچان اور اپنے ارتضیٰ کو بھی۔ وہ ہر چیز جس پر ہمارا حق ہے ہمیں واپس چاہیے۔' سراج احمد سے لپٹی وہ اپنے باپ کی بساط پر اپنے ہی انداز کی ایک خوفناک بغاوت کا فیصلہ کر چکی تھی۔
☆ ☆ ☆
ہال کی روشنیاں مدھم تھیں۔
Backdrop پر بڑے حروف میں لکھا تھا،
"Sahar _The Modest Revolution"
یہ اس کی خاموش محنت کا پہلا قدم تھا۔۔۔ لیکن آج پہلی بار اس کا دل خوف سے نہیں، قرار سے دھڑک رہا تھا۔ اسٹیج کے پیچھے کھڑی وہ آئینے میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی۔
شیشہ سلک کا بنا ہلکے آسمانی رنگ کا عبایا، نفیس سفید موتیوں کا کام جو کندھوں سے کلائیوں تک جا رہا تھا۔ گلے پر روپہلی کڑھائی، اور اس کے اوپر ہم رنگ حجاب سے بال ڈھانپے، وہ گلے میں لٹکتے لاکٹ کو درست کر رہی تھی ۔
اس کا چہرہ ہلکے میک آپ میں خوبصورت اور پر سکون تھا۔ دراز قامت ہونے کے باوجود اس نے چار انچ کی ہیل پہن رکھی تھی۔ فارہ جان نے آ کر اس کا ہاتھ دبایا۔
“Sahar, you're closing the show yourself. Are you ready?”
اس نے آہستہ سر جھکا کر کہا،
" ہم کبھی اتنے ہجوم میں نہیں گئے، ہمیں شرم آ رہی ہے۔ کیا ہم ۔۔۔"
لائٹس اچانک روشن ہوئیں۔
میوزک بدلا۔
Runway پر ماڈلز جلوہ گر ہونا شروع ہوئیں،
سحر کے عبایا۔۔۔ ہر ڈیزائن پُر وقار، باپردہ مگر شاہانہ۔
" سحر ، تمہیں جانا ہو گا، یہ سب تمہارے لئے آئے ہیں۔ تم بس یہ سوچو کہ دنیا تمہیں دیکھے گی، وہ بھی جو تمہیں اتنی بلندی پر نہیں دیکھنا چاہتے تھے، سارے دشمن جل کر راکھ ہو جائیں گے۔ جاؤ اور اپنی کامیابی سے سب کو جلا کر راکھ کر دو۔" ہال میں بیٹھے لوگ سرگوشیاں کر رہے تھے،
“Who designed this collection?”
“Modesty has never looked this powerful….”
سحر کے دماغ میں کوئی دشمن نہیں آیا تھا، اس کے دماغ میں وہ محافظ چہرہ تھا جس نے اس کی ہر دشمن سے حفاظت کی تھی۔ آخر میں اناؤنسر کی آواز گونجی،
“And now... the designer herself… Miss Sahar Siraj.”
پردہ ہٹا اور سحر نے ہولے سے اپنا قدم آگے بڑھایا۔
Runway پر قدم رکھتے ہی اس نے اپنی تھوڑی اونچی کی, قدم مضبوط کیا اور پورے وقار کے ساتھ رن وے پر چلنے لگی۔ ہال میں تالیاں گونجنے لگیں، کیمرے فلیش کرنے لگے، رن وے کے آخر میں رک کر سحر نے ہلکا سا سلام کیا۔
اس کی آنکھوں میں چمک تھی اور سراج کے چہرے پر ایک ناقابلِ بیان فخر ۔ اس نے دائیں بائیں اپنے رنگ میں رنگی ماڈلز کو دیکھا پھر مسکرا کر دو انگلیوں سے وکٹری کا نشان بنایا۔ کچھ پل بعد اس نے وہ دو انگلیاں تین کیں، مسکراہٹ سمٹی لیکن وہ پھر بھی دل جمی سے مسکرا کر پلٹ گئی۔
ابھی وہ پردے کے پیچھے آئی ہی تھی کہ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں۔لبوں سے پروردگار کے حضور دعا پھسلنے لگی۔
" الله تعالیٰ، ہم آپ کا شکر کیسے ادا کریں؟ ہمیں لگتا تھا ہم یہ سب ڈیزائن غم بھلانے کے لئے بناتے ہیں مگر آپ نے ہمارے ہر آنسو کا صلہ ہمیں ہمارا خواب پورا کر کے دے دیا۔
الله تعالیٰ ! اب ارتضیٰ بھی دے دیں۔ بابا کے دل میں رحم پیدا کریں۔ "
" سحر !"
" جی بابا جان؟"
" آپ یہاں پر ہیں، فارہ آپ کو ڈھونڈ رہی ہیں۔ "
" جی چلیں ۔"
☆ ☆ ☆
رات کے ساڑھے گیارہ بجے وہ سراج کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی فیشن شو سے واپس آ رہی تھی۔ سراج کے چہرے پر چمک تھی۔ وہ دونوں باتیں کرتے خوش تھے کہ اچانک ایک سیاہ بائیک ان کی گاڑی کے ساتھ چلتی ہارن دینے لگی۔ سراج نے رفتار بڑھا کر اسے پیچھے چھوڑنا چاہا مگر وہ سیاہ yamaha R1 ان کی گاڑی سے زیادہ رفتار رکھتی تھی۔ بائیک سوار نے بائیک ان کے سامنے چلاتے ہوئے ایک تنگ روڈ پر ان کا راستہ روکا اور بائیک گاڑی کے بالکل سامنے کھڑی کر دی۔ پھر تیزی سے اتر کر پستول نکالی اور سراج کی جانب تان لی اور دوسرے ہاتھ سے سحر کو باہر آنے کا اشارہ کیا۔ سحر نے ہاتھ دروازے کی جانب بڑھایا تو سراج نے اس کی کلائی تھام لی۔
" آپ کا دماغ خراب ہے ؟ یہ کیا کر رہی ہیں؟" اتنی دیر میں اس بائیک سوار نے گاڑی کے سائیڈ مرر پر گولی چلاتے انہیں وارننگ دی۔
" آپ اندر رہیں، ہم آتے ہیں ۔" سحر ان سے کلائی چھڑوا کر نیچے اترنے لگی ۔
" یہ ارتضیٰ ہے؟" انہوں نے سحر کے چہرے پر وہ پُر سکون سا تاثر دیکھ کر کہا۔
" نہیں !" سحر نے سامنے کھڑے شخص کو سر تا پیر دیکھ کر پُر اعتماد لہجے میں کہا۔سراج نے اس کمزور سی چڑیا کی عقابی نظریں دیکھیں۔ وہ گاڑی سے نکل کر باہر اس کے قریب گئی۔ ہیلمٹ کے سیاہ شیشے سے اس کا چہرہ بالکل ڈھکا ہوا تھا، لیکن سحر اس کو جسامت سے پہچانتی تھی۔
" کیا ہوا، مرتضیٰ ؟" اس نے کہہ کر مرتضیٰ کے ہیلمٹ کا شیشہ اٹھایا۔ کچھ کہے بغیر مرتضیٰ گھٹنوں کے بل، اس کے پیروں میں بیٹھ گیا۔
" بھابھی ! مجھے معاف کر دیں۔ میں آپ کی منت کرتا ہوں، پلیز ۔
میں جانتا ہوں، میں نے آپ کا دل بہت دکھایا تھا۔ میں نے آپ کے کردار پر بات کی تھی۔
میں معافی کے قابل نہیں تھا، اسی لیے کبھی معافی نہیں مانگی تھی لیکن میں بہت مجبور ہو کر آیا ہوں۔" سحر کا دل تڑپ کر دھڑکا۔اس نے مرتضیٰ کو بازو سے کھینچ کر زمین سے اٹھایا۔
" وہ ٹھیک ہیں ؟" مرتضیٰ کی آنکھوں میں سایہ سا اترا۔
" نہیں، وہ ٹھیک نہیں ہے۔
وہ آپ کے بغیر نہ پہلے ٹھیک تھا نہ اب ہے۔"
" کیا ہوا ہے؟" سحر نے گھبرا کر اس کا بازو جھنجھوڑا۔
"آپ بھائی کو مت چھوڑیں نا ۔ اس نے طلاق کے کاغذ دیکھے تو وہ مر جائے گا، بھابھی۔ ایک سال ہونے کو ہے، وہ بہت پریشان اور اکیلا ہے۔ نہ وہ حویلی آتا ہے، نہ دستار کی حامی بھرتا ہے۔
وہ بہت محبت کرتا ہے آپ سے، خدا کے لیے اس کا کوئی ایک احسان ہی یاد کر لیں۔ خدا کے لیے ہم پر رحم کریں۔" سحر یک ٹک اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ اس نے دوبارہ زمین پر بیٹھتے سحر کے پاؤں پر ہاتھ رکھا۔
" بھابھی میری امی کا ایک ہفتے پہلے انتقال ہو گیا ہے۔ وہ بہت غم زدہ ہے، اس کے پاس رونے کے لیے کوئی کندھا نہیں۔ آپ کے بھیجے کاغذ اس نے دیکھے تو وہ مر جائے گا ۔ خدا کے لیے میرے بھائی کے ساتھ ایسا نہ کریں۔"
" طلاق کے کاغذات ملتے ہی میں نے ان سے بات کی تھی! بولا تھا کہ لالہ ، بھابھی واپس نہیں آئے گی، آپ اس کو بھول جائیں ۔
تو کہنے لگے ' مطلب مر جاؤں ؟' اور ان کی آنکھیں اس بات کی وضاحت خوب کر رہی تھیں۔"
" آپ اٹھیں پہلے تو۔" اس نے مرتضیٰ کو کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا۔
" آپ نے وہ کاغذ ارتضیٰ کو نہیں دکھایا؟ " مرتضیٰ نے انکار میں سر ہلایا۔
" اف الله ! مرتضیٰ ۔" اس نے غصے سے مرتضیٰ کے کندھے پر ایک چپٹ لگائی۔
" وہ صرف طلاق کے کاغذات نہیں تھے، ان میں ایک پیغام تھا۔ آپ بہت ہی احمق ۔۔۔"
" سحر ؟" سراج مارے تشویش کے باہر نکلنے لگے تھے کہ مرتضیٰ نے دوبارہ بندوق تانی۔
" اے ! واپس اندر ۔" اس نے بدتہذیب لہجے میں کہا تو سراج واپس اندر ہو گئے۔
" ارتضیٰ سے کہنا، کوئی اپنی چیزوں کو اتنے عرصے تک دوسروں کے حوالے کرتا ہے؟ اور اگر کرتا ہے تو پلٹ کر پوچھتا نہیں ہے؟"
" بھابھی، اس نے کہا کہ آپ خود رابطہ کریں گی اور اگر آپ نے رابطہ نہ کیا تو وہ ایک سال پورا کرے گا اور اسی تاریخ کو آپ کو لینے آئے گا۔"
" آپ کو کیا کام ہے پھر ؟"
" بھابھی میں آپ کو منانے آیا ہوں۔بھائی نے بولا تھا کہ آپ کی دہلیز نہیں پار کرنی تو بس انتظار کر رہا تھا کہ آپ مجھے اس دہلیز کے پار مل جائیں۔
خدا کے لئے میرے ساتھ چلیں۔ یہ شخص آپ سے محبت نہیں کرتا ۔ یہ میرے باپ کی طرح صرف اپنی اولاد کو اپنی ملکیت سمجھ رہا ہے۔"
" ارتضیٰ کو وہ کاغذات دیکھا دیں۔"
" وہ مر جائے گا، بھابھی۔"
" جتنا کہا ہے بس اتنا کریں۔ہمیشہ اپنی چلانا بند کریں۔ جائیں جا کر اپنے بھائی کو بولیں کہ آج ہمیں ارتضیٰ حسن نہیں، صوابی کا ولی عہد اپنی دہلیز پر چاہیے۔ " اس نے مرتضیٰ کو بائیک کی جانب دھکیلا اور خود گاڑی کی جانب بڑھ گئی۔
" اور میں؟" مرتضیٰ نے آس بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
" بھائی کہا تھا نا؟ تو بھائی کو معاف کیا۔" وہ مسکرا کر کہہ کر گاڑی کی جانب آ گئی۔
" چلیں بابا ۔"
" کون تھا یہ ؟" سراج نے شدید مشکوک لہجے میں پوچھا۔
" ہمارا بھائی !"
" بھائی ؟ سیدھا بتائیں ۔ کون تھا ؟ کیا کہہ رہا تھا؟"
" مرتضیٰ تھے، کہہ رہے تھے کہ ارتضیٰ سے طلاق نہ لیں ۔"
" آپ نے کیا کہا؟"
" ہم نے کہا کہ ان کو طلاق نامہ دے دو ۔"
" ٹھیک کیا۔"
☆ ☆ ☆
رات کے بارہ بجے وہ لوگ گھر کے قریب پہنچے تو سحر نے سراج کو مخاطب کیا۔
" بابا ! زویا تو سو گئی ہوگی، روٹی کون بنائے گا؟ ایک کام کرتے ہیں ہم کھانا گرم کرتے ہیں، آپ تندور سے روٹی لے آئیں۔"
" روٹی ملنا تو مشکل ہے، جو بھی ملا ہم لے آئیں گے۔" سراج اسے دروازے سے اندر کرکے خود کھانا لینے چلے گئے۔ سحر اندھیرے میں چلتی ہوئی اندر داخل ہوئی تو کچن میں کھڑی زویا اور سمیرا کے درمیان کوئی بحث چھڑی ہوئی تھی۔ سحر نے ادھر جانا چاہا مگر قدم اپنا نام سن کر رک گئے۔
"یہ کیا کر دیا تو نے سحر کے ساتھ؟ تو پاگل ہوگئی ہے باجی؟
صاحب کو معلوم پڑا نا کہ تو نے ان کی بیماری کے دوران ان کی لاڈلی کو یہاں سے جھوٹ کہلوا کر نکالا تھا تو کھڑے کھڑے طلاق دے دے گا تجھے! جس نے اپنی بیوی کو مار دیا کل کو وہ اپنی دوسری بیوی کو بھی مار کر یہیں، اسی جگہ گاڑ دے گا۔ تو کل ہی سحر سے معافی مانگ لے۔ تو نے بہت زیادتی کر دی اس بیچاری کے ساتھ۔" زویا کے جملے تھے کہ لاوا، سَحر کو اپنا پور پور جلتا محسوس ہوا۔
" ارے دفع ہو، تو تو جاہل ہے۔ ساری زندگی سوتیلی اولاد کی ملازمہ بن کر گزار دی، صرف اس لئے کہ سراج میرے ساتھ رہے، اور اب یہ مجھے طلاق دے دے گا؟ میں ایسا ہونے دوں گی؟ بس ہم نے سحر سے یہی بولا تھا نا کہ سراج اب یہاں نہیں رہتے۔ تو کون سا جھوٹ کہا تھا، وہ تو ہسپتال میں تھے۔" سمیرا کے لہجے سے شدید نفرت ٹپک رہی تھی۔
" اس نے اپنی بیوی کے ساتھ کیا کیا تھا تم بھول گئی باجی؟ اور اب وہ بیچاری سَحر کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟ اور اگر سحر کو اس کے گھر بھیجنا ہی تھا تو پہلے ہی جانے دیتی نا، اب تو وہ یہیں ہے اور تم ذمہ دار ہو اس کی زندگی برباد کرنے کی۔ " زویا نے دبے ہوئے لہجے میں سختی سے کہا۔
"تم دونوں نے صرف صالحہ باجی کی تیز زبان سے بچنے کے لئے سحر کے منہ میں کبھی زبان نہیں پڑنے دی، تم لوگ اس کی اس کمزور اور خوفزدہ شخصیت کے مجرم ہو۔
مگر ایک بات یاد رکھنا، سحر نے جس سے شادی کی ہے نا اس نے سحر کے منہ میں زبان ڈال دی ہے۔ اب جب کہ سحر خلع لے ہی رہی ہے اور ان دونوں باپ بیٹی کی بننے لگی ہے تو اس سے پہلے کہ وہ صاحب سے سوال جواب کرے جا کر اس سے معافی مانگ۔ " سَحر کے کان لہو لہان ہونے لگے۔
یہ کیسا سچ تھا جو بےنقاب ہو رہا تھا۔
یہ کیسی حقیقت تھی جو سننے میں آئی تھی۔
ارتضیٰ صحیح کہتا تھا انسانوں کے بہت سے چہرے ہوتے ہیں۔
وہ وہیں دیوار کا سہارا لے کر بیٹھ گئی۔ آنکھوں کی نمی اب چہرے کے بعد گردن کو بھی بھگو رہی تھی۔ اس نے خود کو پاگلوں کی طرح ان سرخ و سفید پھولوں کو اکھاڑ کر اس جگہ کو ہاتھوں سے کھودتے دیکھا، مگر خدا والوں کا ضبط مضبوط ہوا کرتا تھا۔
اندر سے ان دونوں کی سراج احمد پر بحث اب بھی جاری تھی۔ وہ اٹھی اور دیوار کا سہارا لیتی بمشکل پلٹ کر دوسری منزل کی سیڑھیوں کی جانب بڑھی ، تبھی پیچھے سے کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی۔
" سحر!" سراج کی آواز کے ساتھ اسے اپنے بازوؤں پر ان کی گرفت بھی محسوس ہوئی۔ وہ اسے گرتا پڑتا دیکھ کر سہارا دے رہے تھے۔
سَحر نے ان کا چہرہ دیکھا، دھندلا اور خون آلود ، وہ سَحر سے کچھ کہہ رہے تھے مگر وہ سن نہ سکی۔ ٹانگوں سے جان بالکل ختم ہوگئی۔ وہ مکمل طور پر سراج کے سہارے پر تھی۔ وہ اسے صوفے تک لائے پھر لٹا کر سمیرا کو آواز دینے لگے۔ وہ بھاگتی ہوئی کچن سے آئی تو سامنے سَحر کو دیکھا۔
" دودھ میں چینی ڈال کر لاؤ ۔ اس کا بلڈ پریشر لو ہو رہا ہے۔" وہ اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کی وجہ سے ناواقف تھے۔ اگر واقف ہوتے تو ڈوب مرتے۔
بہت دیر بعد سَحر کو مکمل طور پر ہوش آیا ۔وہ سراج کے کمرے میں تھی۔ سراج اس کا ہاتھ تھامے ساتھ ہی بیٹھے تھے۔
" ہماری جان، اس قدر نازک طبیعت کی کیا وجہ ہے؟ دن کا کھانا نہیں کھایا آپ نے؟"
" کھایا تو تھا، بابا جان!" اس نے کچھ توقف کے بعد بمشکل کہا۔
" تو پھر کیا ہوا تھا؟"
" ہمیں داؤد یاد آ گئے تھے۔" اس نے سراج کی بے خبر آنکھوں میں کچھ پڑھنا چاہا۔
" آپ کو معلوم ہے، بابا جان! جب داؤد ہمیں یہاں سے لے کر گئے تھے نا تو انہوں نے کہا تھا کہ ' سَحر تم نے کبھی مکمل سفید لباس پہنا ہے؟'
ہم نے کہا کہ شاید وہ عبایا کی بات کر رہے ہیں ۔تو کہنے لگے ' نہیں کفن کی۔' پھر انہوں نے ہم سے کہا کہ تم جیسی تیز زبان کی بیوی جو اپنے شوہر کی شکایت اپنے باپ سے لگائے، اسے مار کر میں یہاں گاڑ دوں گا۔" سراج کی گرفت اس کے ہاتھ پر یکدم ڈھیلی ہوئی۔ ان کی آنکھوں میں ابھرنے والا خوف سَحر نے ایسے دیکھا جیسے کسی کو موت کی آخری اور تکلیف دہ ہچکی لیتے دیکھا ہو۔ اس نے ان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال لیا۔
" بابا جان اگر ارتضیٰ نہ ہوتے تو داؤد ہمیں مار کر اپنے لان میں ہماری قبر بنا دیتے۔" اس نے تکیے کی ٹیک چھوڑی۔
" لیکن بابا جان ہم نے تو کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا اور آپ نے بھی کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تو یہ کس کا مکافات عمل کاٹا ہے ہم نے؟" وہ اپنے آنسو روکنے سے قاصر ہوئی۔ سراج اس کا چہرہ ایسے دیکھ رہے تھے جیسے موت کے فرشتے کو سامنے کھڑا دیکھا ہو۔
" ہم اپنے کمرے میں چلتے ہیں ۔ یہ دکھ تو اب ساری عمر کا ہے۔
داؤد کے ظلم کا بھی اور ارتضیٰ کے احسانات کے بدلے انہیں غم دینے کا بھی۔ ۔ ۔
یہ غم اب عمر بھر کے ہیں۔ جیسے اماں کا غم کبھی ختم نہیں ہو سکتا ویسے ہی یہ غم بھی کبھی ختم نہیں ہوگا۔" وہ کہہ کر بستر سے اٹھی اور باہر جانے لگی تبھی سراج نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے جھٹکے سے روکا۔ وہ چکرا کر ان کے بازو سے ٹکرائی ۔
" آپ کیا جانتی ہیں؟"
" سب کچھ !"
" سب کیا۔۔۔ ؟"
" وہی جس کی وجہ سے آپ نے ساری زندگی ہمیں اماں کی قبر نہیں دکھائی۔ وہی جس کی وجہ سے آپ نے سحر کو کبھی بولنا نہیں سیکھنے دیا۔ وہی جس کی وجہ سے ہم آپ کو اب بابا جان نہیں کہنا چاہتے۔"
" سیدھی بات کریں ۔" ان کی گرفت اس کے بازو پر اتنی سخت ہوئی کہ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ مگر اس نے سراج کی آنکھوں سے نظر نہ ہٹائی۔
" نظر نیچے رکھیں۔"
" کیوں؟ ہماری آنکھوں میں سوال دکھ رہے ہیں؟ یا سچائی؟ یا اماں کے خون میں تراپنے ہاتھ دکھ رہے ہیں؟" سراج نے اس کے چہرے پر تھپڑ دے مارا۔ وہ صوفے پر گری اور اسی لمحے دوبارہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
" آپ سچ کہہ رہی تھیں ! داؤد نے بالکل مارا ہو گا آپ کو۔" سراج غصے اور ہٹدھرمی سے ہوش کھو بیٹھے تھے۔
" یہ جو صالحہ جیسی گز بھر کی زبان نکل آئی ہے نا، اسی کی وجہ سے داؤد نے آپ کے پر کاٹے تھے اور صحیح کیا تھا انہوں نے جو تم جیسی سرکش عورت کی اولاد کو دنیا میں نہیں آنے دیا، ورنہ کل کو وہ بھی تمہاری طرح اپنے باپ کے سامنے کھڑی ہوتی۔" ان کی بات سحر کی ممتا کو گھائل کر گئی۔ اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اس تلخی کو پیا۔
" ہم نے ایک عرصے پہلے، آپ کی حقیقت جانے بغیر ہی کہہ دیا تھا کہ آپ ارتضیٰ جیسے نہیں ، داؤد جیسے ہیں۔
آپ سیاہ ہیں، بالکل سیاہ۔ بھیڑ کی کھال میں چھپے ہوئے بھیڑیے ہیں ۔" اس سے پہلے وہ دوسرا تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کرتے، سمیرا کھلے دروازے کے پار سے چلائی ۔
" صاحب ! یہ کیا کر رہے ہیں؟ جوان بیٹی پر ۔۔۔ "
" ارے بس کریں، آپ بھی۔ اپنے شوہر کو شوہر کہنے کی جرات تو ہے نہیں آپ میں، اور ہمیں بچانے چلی ہیں ۔ اور دلچسپ بات کہ ان میں بھی آپ کو بیوی کہنے کا دم نہیں۔ ہمیں دیکھیں جس کے شوہر نے پورے گاؤں کے سامنے ہمیں اون کیا۔ ہمارا ہاتھ تھاما اور ہمارا ساتھ بھی دیا۔ ہمیں ملازمہ بنا کر نہیں رکھا۔ افسوس آپ کا شوہر ایک بزدل انسان ہے، جو ایک عورت سے ڈرتا ہے، جو اپنی ہی بیٹی سے ڈرتا ہے۔"
" سحر !"
" معلوم ہے ، ہمیں داؤد کیوں اچھے لگے تھے؟ کیونکہ ان میں ہمیں آپ کی پرچھائی دکھتی تھی، بابا ۔ آپ دونوں برابر کی عورت دشمن ذہنیت کے مالک تھے۔ آپ کی وجہ سے ہم نے اس شخص کے ہاتھوں دھوکہ کھایا! ایک جتنی تکلیف دی آپ دونوں نے اپنی بیویوں کو ! "
" سحر ، تمیز سے بات کرو اپنے بابا جان سے۔"
" ساری زندگی آپ نے ہمیں باہر کی دنیا اور لوگوں سے ڈرا کر رکھا۔ آپ بھی برابر کی گنہگار ہیں، سمیرا ۔ آپ رکھیں اپنا شوہر اپنے پاس، ہمارا شوہر بھی ہمیں لینے آتا ہی ہوگا۔" وہ کہہ کر تیزی سے کمرے سے باہر نکلی۔
" جو ایک سال سے نہیں آیا، اب خاک آئے گا۔" وہ رکی اور پلٹ کر سراج کا چہرہ دیکھا۔
" ایک سال سے ہم نے انھیں بلایا ہی کہاں تھا، بابا جان؟ ہم تو اپنے باپ کے گھر تھے، اپنی مرضی سے ۔ مگر اب ہم اسے بلائیں گے، اور وہ آئے گا۔" پھر پتھر ہوئے قدموں کو گھسیٹتے وہ سیڑھیوں تک پہنچی۔ لکڑی کی گرل کا سہارا لے کر خود کو کھینچتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں لے آئی ۔ کمرے کا دروازہ بند کیا، لاک لگایا اور وہیں چوکھٹ کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی۔
آج اسے غم کرنے کا پورا حق تھا۔
صالحہ سراج کا غم۔
سراج احمد کا غم ۔
قاتل اور مقتول کا غم۔
ایک گھنٹہ ٹھنڈ میں بیٹھنے کے بعد فجر کی اذانیں ہونے لگیں۔ رات گزر چکی تھی۔ وہ بےہوشی سے کافی دیر بعد جاگی تھی۔ اس نے اذان ختم ہونے کا انتظار نہ کیا۔ وضو کیا، جائے نماز بچائی اور اپنا تپتا ہوا سر سجدے میں رکھ دیا۔
اسے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی یہ تو وہ جانتی تھی۔
وہ آنکھیں نہ رکھنے والا اسے دیکھ رہا تھا۔
وہ کان نہ رکھنے والا اس کی ہچکیاں سن رہا تھا۔
وہ دل نہ رکھنے والا اس کے دل کا درد جانتا تھا۔
وہ اتنا روئی۔۔۔ اتنا روئی کہ آہستہ آہستہ آنکھیں خشک ہونے لگی، ہچکیاں سسکیوں میں بدل کر اب خاموش ہوگئی تھیں۔ اسے صبر آنے لگا، حلق میں پڑی گرہیں کھلنے لگی تھیں۔ ایک گہری سانس سینے میں اتار کر اس نے چہرہ صاف کیا۔ پاؤں پر ٹھنڈی ہوا محسوس ہوئی تو اس نے تیزی سے اٹھ کر آدھی کھلی کھڑکی بند کرنا چاہی۔ سامنے چاند پر نظر پڑی جو اب بھی اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ وہ مسکرا دی۔
اسے ہر خوبصورت چیز دیکھ کر ارتضیٰ حسن یاد آتا تھا۔
اندر واپس ہو کر اس نے کھڑکی کے پٹ بند کیے اور مصنوعی سا مسکراتی ہوئی جائے نماز پر کھڑی ہوگئی۔ نماز پڑھ کر اس نے تسبیح اور دعائیں پڑھیں اور پھر رحل پر قرآن کھول کر بیٹھ گئی۔ الحمد سے شروع کرکے وہ اگلے دو گھنٹے قرآن پڑھتی رہی۔ آج اسے قرآن میں وہی سکون ملا تھا جو ارتضیٰ حسن کے پڑھانے سے ملتا تھا۔
پچھلے گیارہ ماہ سے وہ جتنے بھی سجدے کر رہی تھی، ان میں ایک ادھورا پن تھا۔ اس کا دل اپنے باپ کی جھوٹی محبت اور ارتضی کے عشق کے بیچ بٹا ہوا تھا، اسی لیے اسے کہیں سکون نہیں مل رہا تھا۔
مگر آج ۔۔۔ رشتوں کا جھوٹا نقاب اترتے ہی اس کی وہ ساری الجھن ختم ہو گئی تھی۔ جب انسان دنیا کے سارے سہارے ٹوٹنے پر مکمل طور پر خدا کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے، تو وہ اسے تھام لیتا ہے ۔
یہی وجہ تھی کہ جب اس نے قرآن کھولا تو اسے ان الفاظ میں بالکل وہی سکون ملا جو کبھی صوابی میں ارتضیٰ حسن کے پڑھانے سے ملتا تھا۔ اب اس کے دل میں کوئی دوسرا بھرم باقی نہیں تھا۔ صرف اس کا خدا تھا اور اس کا ایمان۔۔۔
تبھی زویا نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
" سَحر ، ناشتہ لگ گیا ہے۔" اس نے قرآن بند کرکے رحل پر رکھا اور اٹھ کر دروازہ کھولا۔
" ہم کسی قاتل کے گھر کا کھانا نہیں کھانا چاہتے۔"
" ٹھیک ہے ۔ " وہ زویا مزید کچھ بھی کہے بغیر چلی گئی تھی۔ سحر نے ایک گہرا سانس لے کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔
" اللہ اب ارتضیٰ کو بھیج دے ورنہ سَحر مر جائے گی۔
اب سَحر مر جائے گی۔
اللہ ہم تجھے کیسے پکاریں ؟
یا اللہ تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ ہمیں ارتضیٰ حسن لوٹا دے۔
اللہ ہم کبھی غرور نہیں کریں گے۔ ہم ہمیشہ تیرا شکر کریں گے، ہمیشہ عاجزی سے ان کے ساتھ رہیں گے۔ پلیز ۔۔۔ ہم اب اور صبر نہیں کر سکتے ۔ اس سے کہیں کہ اب آ جائے۔ " اس نے ہچکی بھری۔
" ہم ان کا راستہ دیکھیں گے۔ آج بھی، کل بھی ، جب تک وہ نہیں آئیں گے تب تک ہم ان کا راستہ دیکھیں گے۔" اس نے روتے ہوئے اٹھ کر قرآن میز پر رکھا پھر اپنی آنکھیں پونچھتی، کھڑکی کی طرف آ گئی اور سوچتے ہوئے کھڑکی سے نیچے جھانکا۔ دروازہ تنہا، فیروز پر سکون بیٹھا چائے پی رہاتھا۔
" ہم ان کے منتظر ہیں،الله تعالیٰ ۔" اس نے جیسے اس کچھ نہ بھولنے والے کو یاد دہانی کروائی۔ واپس پلٹ کر جائے نماز پر آئی اور اس نے حاجت کے نفل کی نیت کر لی۔ دوسری رکعت کے آخری سجدے میں تھی جب اسے ایک زور دار آواز نے بری طرح سہمایا، اس نے تیزی سے نماز مکمل کر کے کھڑکی سے نیچے جھانکا۔ سامنے دروازے کو بری طرح مسخ کر کے ایک سیاہ جیپ اندر داخل ہوئی تھی۔
سَحر اسے پہچانتی تھی، وہ اسی کو تو پہچنتی تھی۔ ارتضیٰ کی سیاہ جیپ۔۔۔
وہ پلٹی، جائے نماز کی طرف بڑھ کر بے ساختہ گھٹنوں کے بل سجدے میں گری۔
" یا اللہ ۔۔۔" الفاظ ختم ہو گئے تھے، وہ کیسے اس رب کا شکر کرتی ، اسے سمجھ نہیں آیا ۔
" ہم اس احسان کے لیے ساری زندگی تیرا شکر کریں گے۔" وہ کہہ کے تیزی سے اٹھی اور نیچے کی جانب بھاگی ۔ سیڑھیاں اترتے وہ بھاگتی ہوئی بالکل اس کے سامنے کھڑی ہوئی ۔ ارتضیٰ حسن کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ تھا۔ بھوری آنکھوں میں تپش تھی۔ سیاہ پینٹ پر سفید کوٹ پہن رکھا تھا، معمول سے زیادہ بڑھے بال پونی میں قید تھے۔ داڑھی نفاست سے بنائی گئی تھی۔ وہ آج بھی وجیہہ تھا۔
" سَحر ، معاف کیجئے گا، آپ نے بلایا اور مجھے معلوم نہ ہوسکا۔" وہ خاکی لفافہ کی طرف اشارہ کرکے بولا۔
" ہم نے آپ کو بہت درد دیا نا ؟"
" پسندیدہ عورت ہیں نا، آپ کو حق ہے۔ آپ کو ہی تو حق ہے۔" وہ بے ساختہ اس کے سینے سے جا لگی۔
" ہمیں معاف کر دیں، ہم نے آپ کی بات نہیں مانی ۔ ارتضیٰ، بابا اب ہمارے بابا نہیں رہے، آپ نے صحیح کہا تھا۔۔۔ وہ کوئی اور ہیں۔ ظالم، جابر، قاتل ۔
ہماری خوشیوں کے قاتل ۔۔۔"
" تم ؟" پیچھے سے سراج کی آواز پر وہ دونوں دائیں جانب مڑے ۔ پیچھے کچن سے زویا گھبرا کر باہر آئی۔
" آپ نے مجھے پہچاننے میں بہت بڑی غلطی کر دی ، آپ کو کیا لگا تھا اس دو ٹکے کے کاغذ کے پیچھے میں اپنی بیوی چھوڑ دوں گا ؟
یہ میری ملکیت ہے ، آپ تو کیا آپ کا پورا صوبہ بھی اس کو مجھ سے الگ نہیں کر سکتا ۔ " ارتضیٰ نے اس خاکی لفافے کے ٹکرے کر کے ہوا میں اڑائے ۔
" یہ اوقات ہے اس کاغذ کی میری نظر میں!"سراج احمد نے آگے بڑھ کر سحر کا ہاتھ تھامنا چاہا،ان کے لہجے میں اب کوئی اکڑ نہیں تھی۔ سحر ان سے چند قدم دور ہوئی۔
" سحر! ہماری جان! ہماری بات سنو، ہم سے گناہ ہوا تھا۔ ہم اندھے ہوگئے تھے۔ اگر آپ ان کے ساتھ جانا چاہتیں ۔۔۔"
" میں یہاں آپ سے بھیک میں اپنی محبت نہیں لینے آیا، اپنا حق آپ کے حلق سے ہاتھ ڈال کر نکال لوں گا۔ ایک سال کم نہیں ہوتا آپ جیسوں کو برداشت کرنے کے لئے۔"
" تم مجھے غلط سمجھ رہے ہو؟ میری بیٹی ۔۔۔ "
" ہم ان کی بیٹی نہیں ہیں، ارتضیٰ! ہمیں لے چلیں۔ ہم کبھی ان کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ قاتل ہیں ۔۔۔" وہ اس کے بازو میں چہرہ چھپا کر بولی۔
" میری بیوی اب ایک منٹ بھی اس گھر میں نہیں رہے گی!" ارتضیٰ کی کڑک دار آواز فضا میں گونجی۔
وہ سحر کا ہاتھ تھام کر پراعتماد قدموں سے مڑا۔ سراج احمد کے اعصاب پر اس وقت جنون سوار تھا۔ 24 سال کا گناہ، داؤد کا مکر اور اب ارتضیٰ کے ہاتھوں سے اپنی انا کا یوں سرعام کچلا جانا وہ برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔ وہ تیزی سے کمرے میں گئے اور اپنی دراز سے سحر کی وہ لیڈز پسٹل نکال لائے۔
" ارتضیٰ! پیچھے ہٹیں ۔" سحر نے کھڑکی کے عکس میں سراج کو دیکھا تو چیخی مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔
" ٹھاہ !" فضا ایک خوفناک دھماکے سے لرز اٹھی۔
گولی ارتضیٰ کے دائیں کندھے کو چیرتی ہوئی گئی اور خون کا ایک فوارہ ابلا۔ صوابی کا وہ مضبوط حاکم جو خدا کے علاوہ کسی کے سامنے نہیں جھکتا تھا،ایک دم لڑکھڑا کر گھٹنوں کے بل زمین پر گرا۔ اس کا دایاں ہاتھ بے جان ہو کر لٹک گیا۔ آنکھیں اب ابھی سراج کو گھور رہی تھی۔
" ارتضیٰ ۔۔۔!" سحر کے حلق سے ایک دل خراش چیخ نکلی۔اوپر سیڑھیوں سے سمیرا بھاگتی ہوئی نیچے آئی۔ سراج نے ایک نظر اسے دیکھا اور کسی بپھرے ہوئے بھیڑیے کی طرح آگے بڑھے، ان کا ارادہ ارتضیٰ پر دوسرا وار کرنے کا تھا مگر اگلے ہی سیکنڈ میں جو ہوا اس نے وہاں موجود ہر شخص کا سانس روک دیا۔
سحر اپنی ساری نقاہت بھول کر سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں نیچے جھکی ،ارتضیٰ کے کوٹ سے اس کی گن نکالی اور دونوں ہاتھوں سے اسے تھام کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔ گن کی کالی، ٹھنڈی نال کا رخ بالکل سراج پر تھا۔ اس کے ہاتھ میں ذرا سی بھی لرزش نہیں تھی۔
" ایک قدم بھی آگے مت بڑھنا! واللہ ،ہم گولی چلا دیں گے بابا۔" سحر کی آواز میں اب کوئی نرمی نہیں تھی صرف ایک زخمی شیر نی تھی جس کی کائنات پر حملہ ہوا تھا۔
" تمہیں یہ چیزیں چلانی نہیں آتیں۔" سراج نے مسکرا کر اس کی انا کو للکارنا چاہا۔
ٹھاہ! ٹھاہ !
اگلے ہی لمحے سحر نے ان کے پیچھے پڑے گلدان پر فائر کیا۔ وہ اڑتے ہوئے ٹکڑوں میں چور چور ہو گیا۔ اس نے رکے بغیر دوسرا فائر دیوار پر لگے بلب پر کیا، جو ایک دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس کی اس ماہر نشانہ بازی نے فضا میں سکتہ طاری کر دیا تھا، سراج احمد کا حلق جیسے سوکھ کر کانٹا ہوا۔
" یہ چیز نہیں ہے، گلوک 42 ہے۔ ہم AK47 بھی چلا چکے ہیں۔ ہمارے شوہر نے ہمیں سب سکھایا ہے ۔
گن نیچے کریں، ہم آخری بار کہہ رہے ہیں۔" سمیرہ سراج کی یہ حالت دیکھ کر فوراً بھاگتی ہوئی آئی اور ان کے ہاتھ سے گن کھینچنے لگی۔
" چھوڑیں اسے سراج! وہ پاگل ہو گئی ہے۔ وہ کچھ بھی کر دے گی۔" سراج احمد کے پاؤں وہیں جم چکے تھے۔ وہ اپنی لاڈلی، اپنی ڈرپوک بیٹی کی آنکھوں میں یہ پاگل پن اور ہاتھوں میں مہارت دیکھ کر برے طریقے سے گڑبڑا رہے تھے۔ زویا نے کچن کے دروازے پر ہاتھ رکھ کر سہارا لیا۔
" سحر ہماری جان! آپ اپنے بابا پر گن تان رہی ہیں؟" سراج نے لرزتی آواز سے اسے دوبارہ بہلانا چاہا۔
" آپ ہمارے بابا نہیں ہیں۔ آپ ہماری اماں کے قاتل ہیں اور آج ہمارے سہاگ کے بھی قاتل بننا چاہتے ہیں۔ پیچھے ہٹیں۔" اس نے ٹرگر دبانے کے لیے انگلی کا دباؤ بڑھایا۔
" پیچھے ہٹیں ورنہ ہم اپنی ماں کا حساب یہیں برابر کر دیں گے۔" سراج احمد اب اس کے مضبوط لہجے سے واقعی خوفزدہ ہو گئے تھے۔
سحر نے ایک لمحے کے لیے گن کا رخ بدلے بغیر نیچے دیکھا، جہاں ارتضیٰ زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے نیم بے ہوشی کی حالت میں جا رہا تھا۔ مگر اس کی آنکھوں میں اپنی محبت کے لیے بے پناہ مان اور فخر جھلک رہا تھا کہ اس کی سحر اب واقعی کمزور نہیں رہی۔ وہ چٹان بن چکی تھی۔
سحر نے ارتضیٰ کی کمر کے گرد ہاتھ باندھ کر اسے اٹھانا چاہا مگر ایک بھاری بھر کم مرد کو اٹھانا آسان نہیں تھا۔ اس نے اپنی ہستی کا پورا زور لگاتے ہوئے ارتضیٰ کے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں پر رکھے اور ایک زور دار جھٹکے سے اسے اٹھا کر کھڑی ہو گئی۔ اپنی پوری قوت مجتمع کر کے وہ اسے کھینچتے ہوئے کھلے ہوئے گیٹ کے پاس کھڑی سیاہ جیپ تک لے آئی ۔اس کا اپنا وجود خون سے لت پت ہوا مگر اعصاب اب لوہے کے بن چکے تھے۔ اس نے ارتضیٰ کو شدید مشقت کے بعد گاڑی کی سیٹ پر بٹھایا اور سیٹ بیلٹ لگا دی۔ اسی پل سراج بھی سمیرہ سے خود کو چھڑاتے باہر آ چکے تھے۔
سحر خود گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آئی اور ایک ہاتھ سے سٹیرنگ تھام لیا۔
" سمیرا چھوڑو ہمیں!
ہماری بیٹی چلی جائے گی۔۔۔ ہم اسے جانے نہیں دے سکتے ۔" سراج تڑپ کر چلائے۔
" وہ نہیں جا سکتی ، اسے گاڑی چلانے نہیں آتی، سراج !" سمیرہ نے انہیں روکتے ہوئے کہا۔ دور رسی سے بندھا فیروز خود کو آزاد کروانے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ زویا کی نظر پڑی تو وہ بھاگ کر اس کی طرف گئی۔
" پتا نہیں کیا کیا سکھا دیا ہے اس نے سحر کو! وہ چلی جائیں گی، چھوڑو ہمیں!" سراج نے چیخ کر سمیرہ کو دھکیلا مگر جتنی دیر میں وہ بھاگے بہت دیر ہو چکی تھی۔سحر نے گاڑی سٹارٹ کی ،ایک گہرا سانس لیا اور مہارت کے ساتھ گاڑی کو ریورس کر کے باہر نکال لے گئی۔ سراج دیکھتے رہ گئے اور جیپ مٹی اڑاتی ان کی پہنچ سے دور چلی گئی۔ پیچھے فضا میں صرف گاڑی کے ٹائروں کی اڑتی ہوئی گرد باقی رہ گئی جو سراج احمد کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئے ۔ ان کے 24 سالوں کا بنایا ہوا جھوٹا قلعہ خاک میں مل چکا تھا۔
" خدا پوچھے اسے ۔۔۔ خدا اسے کہیں کا نہ چھوڑے۔
خدا کرے یہ تڑپ تڑپ کر مر جائے۔ اس نے ہماری سحر کو ہم سے نفرت کروا دی۔" سراج نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر کہا۔
" سحر ٹھیک کہتی تھی ۔۔۔ وہ اپنی چیز لینے آئے گا۔" زویا شاک کی حالت میں بڑبڑائی۔
"وہ آیا اور اپنا حق چھین کر لے بھی گیا۔"
" بکواس بند کرو، زویا!" سراج احمد غصے اور ذلت کی انتہا پر چلائے مگر اب ان کی اونچی دیواروں کے پیچھے ان کا یہ خوفناک سچ سننے والا کوئی باقی نہیں بچا تھا۔ سحر اپنا حق چھین کر اپنی زندگی کی طرف روانہ ہو چکی تھی اور اس بار وہ خود اپنے سہاگ کی محافظ تھی۔
〰〰〰 🖤⚪🖤〰〰〰
جیپ لاہور کی سڑکوں پر سنسناتی ہوئی دوڑ رہی تھی۔ سحر کے ہاتھ سٹیرنگ پر جمے ہوئے تھے اور اس کی نظریں سامنے سڑک پر تھیں مگر دل سیٹ پر بے ہوش پڑے ارتضیٰ حسن کے وجود میں اٹکا ہوا تھا۔ ارتضیٰ کا سفید فارمل کوٹ سرخ ہو چکا تھا اور اب خون بہتا ہوا اس کی آستین سے نیچے ٹپک رہا تھا۔
" ارتضیٰ ۔۔۔ بس دو منٹ۔ ہم ہسپتال پہنچنے والے ہیں ۔
آنکھیں بند مت کریں ۔ خدا کے لیے ہماری طرف دیکھیں۔" وہ ہوتے ہوئے بار بار بائیں ہاتھ سے اس کا چہرہ چھوتی مگر ارتضیٰ شدید درد اور خون بہنے کی وجہ سے بے ہوش ہو چکا تھا۔
لاہور کے ایک بڑے پرائیویٹ ہاسپٹل کے ایمرجنسی گیٹ پر جب سیاہ جیپ رکی تو سحر کے اترنے سے پہلے ہی وارڈ بوائز سٹریچر لے کر خود ہی ارتضیٰ کو سنبھالنے لگے۔
" پلیز میرے شوہر کو دیکھیں۔ انہیں گولی لگی ہے۔" وہ قریب آتے ڈاکٹر کو دیکھ کر بولی۔
آپریشن تھیٹر کا سرخ بلب روشن ہوتے ہی سحر کے گھٹنے جواب دے گئے۔ وہ وہیں پنجوں کے بل، ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھ گئی اس کے اپنے کپڑے ارتضی کے خون سے رنگ چکے تھے ۔اسی لمحے اس کی نظر ارتضیٰ کے کوٹ کی جیب سے نکلتی روشنی پر پڑی۔ اس نے فون نکالا تو سکرین پر ایک جانی پہچانی تصویر چمک رہی تھی اور نیچے نام لکھا تھا، مرتضیٰ۔
سحر نے کال ریسیو کی اور کان سے فون لگایا۔ ابھی وہ کچھ بول بھی نہ پائی تھی کہ دوسری طرف سے مرتضیٰ حسن کی پاگل کرتی ہوئی فکر مند آواز ابھری۔
" لالہ! کہاں ہو؟ بھابھی کہاں ہے؟" مرتضیٰ کی پشتون بولی سحر کو سمجھ نہ آئی مگر اس کی آواز سنتے ہی ضبط ٹوٹ گیا اور وہ پھٹ پڑی۔
" مرتضیٰ!" اس کی زبان سے بس ایک ہی لفظ ادا ہوا۔
" بھابھی ؟" مرتضیٰ کا سانس جیسے رک گیا۔" بھابھی آپ رو کیوں رہی ہیں؟
لالہ کہاں ہے ؟ فون اس کے پاس کیوں نہیں ہے؟"
" مرتضیٰ بابا نے۔۔۔ بابا نے ارتضیٰ پر گولی چلائی ہے ۔انہیں گولی لگی ہے، مرتضیٰ ۔وہ آپریشن تھیٹر میں ہیں۔ بہت خون بہہ گیا ہے۔ خدا کے لیے یہاں آ جائیں ۔ ہم مر جائیں گے، پلیز یہاں آ جائیں ۔" وہ ہسپتال کی راہداری میں زمین پر پنجوں کے بل بیٹھی بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی۔
" کیا ؟" دوسری طرف جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔ مرتضیٰ کی آواز میں ایک خوف اترا جو سحر نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ "لاہور کا کون سا ہسپتال ہے، بھابھی ؟
آپ وہیں رہیں ۔ ہمت نہیں ہارنی۔آپ لالہ کے پاس رہیں۔ میں آ رہا ہوں، بھابھی۔"
☆ ☆ ☆
ٹھیک تین گھنٹے بعد، وہ ہسپتال کے ایمرجنسی بلاک میں ہانپتا ہوا سحر کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اس کا چہرہ خوف سے تر تھا، بال بکھرے ہوئے تھے۔ تبھی اس کی نظر آپریشن تھیٹر کی ریسپشن پر کھڑی سحر پر پڑی۔ وہ بھاگتا ہوا سحر کے پاس آیا۔ کاؤنٹر کا عملہ اسے فارم دکھا کر ایڈوانس پیمنٹ کا تقاضا کر رہا تھا۔
" بھابھی ! لالہ ؟"سحر نے مرتضیٰ کو سامنے پایا تو اسے لگا جیسے ارتضیٰ کی کوئی مضبوط ، ناقابلِ تسخیر دیوار اس کے تحفظ کے لیے آ کھڑی ہوئی ہو۔
" مرتضیٰ، ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، کچھ بھی نہیں ہے۔ کاؤنٹر والے کہہ رہے ہیں کہ جب تک ایڈوانس پیمنٹ جمع نہیں ہوگی، وہ آگے کی ادویات اور سرجری کے لوازمات روک دیں گے۔" اس نے روتے ہوئے مرتضیٰ سے کہا۔ مرتضیٰ نے اپنے بھائی کے خون میں لت پت کھڑی اس روتی، بےبس عورت کا حلیہ دیکھا تو اس کا دل کٹ کر رہ گیا۔
"آپ یہاں بیٹھیں، میں سب دیکھ لیتا ہوں۔" اس نے سحر کو قریبی کرسی پر بٹھایا اور خود کاؤنٹر کی جانب چلا گیا۔
☆ ☆ ☆
اگلا پورا دن اور رات ایک قیامت کی طرح بیتے۔ ارتضیٰ کو آئی سی یو میں ہی رکھا گیا۔ مرتضیٰ اور سحر شیشے کے پار سے اس بیمار وجود کو دیکھ دیکھ کر مرتے رہے۔ ایک دن بعد جب ارتضیٰ کی سانسیں کچھ بحال ہوئیں، تو ڈاکٹرز نے اسے آئی سی یو سے پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا، مگر آفت ابھی ٹلی نہیں تھی۔ زخم میں ہونے والے انفیکشن نے ایسا سر اٹھایا کہ ارتضیٰ کا وجود تپتے کوئلے کی طرح دہکنے لگا۔
ان اڑتالیس گھنٹوں میں ارتضیٰ حسن نے ایک پل کے لیے بھی اپنی آنکھیں نہیں کھولیں اور نہ ہی وہ جان لیوا بخار ایک ڈگری کم ہوا۔ دو دن اور دو راتیں بیت گئیں، سحر اور مرتضیٰ نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی اپنی آنکھیں بند نہیں کیں۔ مرتضیٰ راہداری میں کسی محافظ کی طرح پهرے دیتا، ڈاکٹروں کے گریبان پکڑ کر انہیں اندر کھینچ لاتا اور جب تھک جاتا تو بے بسی سے اپنے آنسو ضبط کیے ارتضیٰ کے تپتے پاؤں دبانے لگتا۔اس کی نیلی آنکھیں اپنے مضبوط بھائی کو اس طرح بےجان دیکھنے کی تاب نہیں لا پا رہی تھیں۔ سحر کا مصلہ کمرے کے کونے میں بچھا ہوا تھا جہاں وہ ہر نماز کے بعد ارتضیٰ کی زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی۔ مرتضیٰ اپنی بھابھی کی یکسوئی دیکھ کر اندر ہی اندر ارتضیٰ کے انتخاب پر فخر کر رہا تھا کہ سحر واقعی صوابی کے اس حقیقی حاکم کے عشق کے قابل تھی۔
☆ ☆ ☆
ارتضیٰ نے تین دن کے بعد جب اپنی بوجھل پلکیں اٹھائیں تو اسے اپنے اس پاس ایک بالکل پرسکون جگہ دکھی۔ کمرے میں صندل کی دھیمی سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی اور باہر صبح کے پرندوں کی چہچاہٹ تھی۔ سحر رات بھر اس کے سرہانے بیٹھ کر اس کے تپتے وجود پر پٹیاں رکھتی رہی تھی۔ارتضی نے رخ بدلا تو سامنے ہی سحر بستر کے کنارے سے سر ٹکائے بیٹھی تھی۔
ارتضیٰ نے نقاہت سے اپنا بایاں ہاتھ بڑھا کر اس کے گال کو چھوا۔ لمس ملتے ہی سحر ہڑ بڑا کر اٹھی، اس کا دل اب بھی اسی مقتل کے خوف میں دھڑک رہا تھا مگر جیسے ہی اس نے ارتضیٰ کی جاگتی، مخمور آنکھیں دیکھیں، اس کے وجود میں اطمینان کی ایک ٹھنڈی لہر دوڑ گئی۔
" ارتضیٰ!" وہ بغیر کچھ سوچے بے ساختہ آگے بڑھی اور اپنا سر اس کے چوڑے، غیر زخمی کندھے پر رکھ دیا۔ ارتضیٰ نے نقاہت کے باوجود اپنے بائیں بازو کو اس کے گرد پھیلایا۔ دائیں کندھے پر سفید پٹی بندھی تھی جس پر خون کے نشان اب بھی واضح تھے۔ ایک طویل عرصے کا ہجر اور پچھلی تین راتوں کا وہ خون آ شام منظر ۔۔۔ سحر کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ ارتضیٰ نے کوئی بات نہیں کی وہ بس خاموشی سے اپنے بائیں ہاتھ سے اس کے سر کو سہلاتا رہا۔
کچھ لمحوں بعد سحر آنسو پوچھتے ہوئے اس سے دور ہوئی تو آنکھیں سرخ تھیں۔
" آپ ٹھیک ہیں نا ؟"
" آپ کو دیکھ کر۔۔۔ ہمیشہ !" وہ اس کی پریشانی کم کرنا چاہتا تھا مگر وہ اپنا آپ اور نہ سمیٹ سکی۔
" ہمیں اب سمجھ آئی ہے، ارتضیٰ ۔۔۔" اس کی آواز لرز رہی تھی۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے سے آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔
" ہم نے آپ کی بات نہیں مانی! ہم نے آپ پر اپنے بابا جان کو فوقیت دی کیونکہ ہمیں لگتا تھا وہ بہت اچھے ہیں لیکن جب ان کا وہ جھوٹا خول اترا تو ہمیں اپنی نادانی پر بہت پچھتاوا ہوا۔ انہوں نے ہمارا فون توڑ دیا، انٹرنیٹ کاٹ دیا، ہم تڑپتے رہے کہ کسی طرح آپ سے رابطہ کریں، آپ سے معافی مانگیں مگر ہم اپنے ہی گھر میں قید ہو گئے تھے۔" ارتضیٰ نے بائیں ہاتھ سے اس کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹ کو پیچھے کیا، اس کی آنکھیں سحر کے لیے بالکل نرم تھیں۔
" آپ کہتے تھے نا کہ نماز ہماری بقا کے لیے بنائی گئی ہے؟" سحر نے ارتضیٰ کا تپتا ہوا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا۔
" اس سارے وقت میں۔۔۔اگر وہ پانچ وقت کے سجدے نہ ہوتے ارتضیٰ، تو ہم مر جاتے۔ جب تک انسان ٹوٹ کر سجدے میں نہیں گرتا اسے اپنی اوقات یاد نہیں آتی کہ وہ کیا ہے ۔۔۔صرف خاک کا پتلا! " اس نے ارتضیٰ کے سامنے اپنے ہاتھ جوڑنے چاہے، آنکھیں سیلاب بہا رہی تھیں۔
" ہمیں معاف کر دیں ارتضیٰ، ہماری وجہ سے آپ کو گولی لگی، ہم نے آپ کو بہت درد دیا ہے۔"
" سحر۔۔۔ معافی کیسی؟ اپنے باپ سے محبت کرنے پہ کیسی معافی؟
اگر آپ کی جگہ کوئی بھی اچھی بیٹی ہوتی تو وہ اپنے بابا کو منانے کی کوشش کرتی۔ آپ نے کوشش کی۔۔۔ آپ حق پر تھیں پھر بھی آپ نے سب سہا، جو وقت بیت گیا سو بیت گیا، اب اس پر ملال کیسا؟" ارتضیٰ کے دل میں سحر کے لیے کوئی منفی خیال نہیں آیا تھا، وہ اس کے لیے مزید معتبر ہو گئی تھی۔
" ہمیں آپ کی بات سن لینی چاہیے تھی۔"
" سحر ! ہر انسان کی آزمائش مختلف ہوتی ہے۔ آپ کی آزمائش آپ کے بابا تھے! آپ نے ان کی خاطر بہت دکھ سہا ہے، خدا آپ کو اس کا اجر بہت بڑا دے گا۔"
ہر انسان پر زندگی میں کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی طرح قیامت ضرور آتی ہے جو اسے اندر سے بدل ڈالتی ہے۔ سحر سراج پر بھی قیامت آئی تھی اور اس قیامت نے اسے سحر سراج سے سحر ارتضیٰ حسن بنا دیا تھا۔ وہ لڑکی جو کبھی داؤد کے جھوٹے اسلام سے خوفزدہ ہو گئی تھی اب ارتضیٰ حسن کے نقش قدم پر چلتے چلتے خدا تک پہنچ چکی تھی۔
داؤد اور سراج کے قید خانوں کی ٹھوکریں کھا کر، سرد و گرم سے واقف ہو کر، اسے آخر کار خدا کی معتدل ہوا میں آنا ہی تھا اور اس پاکیزہ راستے کا سرا اس کے ہاتھ میں ارتضیٰ حسن نے تھمایا تھا۔ جب خدا کا کوئی مخلص بندہ آپ کو اس کی طرف بلانے آ جائے، تو خاموشی سے اس کی بات مان لینی چاہیے، سحر نے بات مان لی تھی۔
☆ ☆ ☆
چار دن بعد، سیاہ جیپ صوابی کی مٹی پر دوڑتی ہوئی حویلی داخل ہوئی، مرتضیٰ کی ضد پر وہ ارتضیٰ کے گھر کی بجائے حویلی آئے تھے جہاں گل بانو کا تخت خالی پڑا تھا۔ حویلی میں اب بھی سوگ کا سماں تھا۔ حویلی کی تمام عورتیں اپنے رنگین لباس چھوڑ کر سفید ملبوسات میں،صف ماتم بچائے بیٹھی تھیں اور فضا قرآن کی تلاوت کی آوازوں سے گونج رہی تھی۔
مرتضیٰ نے اپنے بھائی کے بائیں شانے کے نیچے اپنا مضبوط ہاتھ دے کر اسے سہارا دیا ہوا تھا۔ ارتضیٰ کا دایاں بازو پٹیوں میں جکڑا گلے سے لٹک رہا تھا۔
جیسے ہی دالان میں بیٹھی ماہرخ اور حویلی کی دوسری عورتوں کی نظر اپنے زخمی ، نڈھال بھائی پر پڑی، حویلی میں ایک نیا کہرام مچ گیا۔ تلاوت کرتی عورتوں کی زبانیں رک گئیں۔ ماہرخ اپنی سفید چادر سنبھالتی ہوئی تڑپ کر ارتضیٰ کے پاس پہنچی۔
" لالہ۔۔۔! یہ کیا ہوا؟ میرے لالہ کو کیا ہوا ہے؟" ماہرخ روتے ہوئے ارتضیٰ کے زخمی ہاتھ کا معائنہ کرتے ہوئے، صدمے سے پاگل ہونے کو تھی۔ ماں پہلے ہی جا چکی تھی اور اب واحد ڈھال جیسے بھائی کو اس حال میں دیکھ کر اس کا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔
" مرتضیٰ لالہ! ہمارے بھائی کو کس کی نظر لگ گئی ہے؟" پلوشہ اپنے آنسو پونچتی ہوئی مرتضیٰ سے سوال کر رہی تھی۔ حویلی کی باقی خواتین بھی ارتضیٰ کی گرد اکٹھی ہو گئی تھیں۔
ارتضیٰ نے شدید نقاہت کے باوجود اپنا بایاں ہاتھ ماہرخ کے سر پر رکھا۔ وہ سب سے چھوٹی، حساس اور لاڈلی تھی۔ وہ حویلی کی واحد بیٹی تھی جس پر حسن داد نے کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔ گل بانو کی موت کا سب سے زیادہ اثر ارتضیٰ کے بعد اس نے لیا تھا۔
" ماہرخ، کچھ نہیں ہوا، مجھے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ دیکھو، تمھاری بھابھی آئی ہیں، خوش آمدید کہو!"
" جس نے بی میرے لالہ کو گولی مارا، اللہ سائیں کرے اس کو دس گولیاں لگے۔ " ماہرخ روتے ہوئے ارتضیٰ سے لپٹی اس کے مجرم کو بد دعائیں دے رہی تھی اور ارتضیٰ حسن سحر سراج کا تاریک پڑتا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ مرتضیٰ نے روتی ہوئی بہن کو روکا اور آگے بڑھا۔
" ماہرخ! ابھی صبر کرو! لالہ بہت لمبا سفر کر کے آئیں ہیں اور ابھی ٹانکے کچے ہیں ۔ ڈاکٹر نے آرام کا کہا ہے ۔میں لالہ کو کمرے میں لے کے جا رہا ہوں۔"
ارتضیٰ سے دھیان ہٹا تو ماہرخ نے اپنی روتی آنکھوں سے سحر کی طرف دیکھا، جو اس سارے منظر میں کسی مجرم کی طرح ایک طرف کھڑی اپنے وجود کو سکیڑ رہی تھی۔ اس نے سحر کے دونوں ہاتھ تھام لیے، اس کی آنکھوں میں ماں کا غم بھی تھا اور بھائی کی جدائی کا خوف بھی۔
" بابھی! آپ آگئی ہو نا اب ہمارے لالہ کو سنبھال لینا۔ ہم نے اماں سائیں کو کھو دیا ، اب لالہ کو کچھ ہوا تو میں مر جائے گی۔"
مرتضیٰ نے بہت احتیاط سے اسے کمرے میں لے جا کر بستر کے سرہانے ٹیک لگا کر بٹھایا، اس کے چہرے کی زردی اب بھی نمایاں تھی۔ جیسے ہی سحر نے کمرے میں قدم رکھا مرتضیٰ فوراً کمرے سے باہر چلا گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس وقت ارتضی کو صرف سحر سراج کے مرہم کی ضرورت ہے۔
کمرے میں اب صرف ارتضیٰ حسن کی بھاری سانسیں اور پچھتاوے میں گِھری سحر سراج رہ گئے تھے۔ ارتضیٰ نے اپنا بایاں ہاتھ بلند کر کے اسے اپنی جانب بلایا۔ سحر نے نمی سے لرزتی آنکھیں اٹھا کر اس کا ہاتھ دیکھا، پھر اس کا چہرہ، پھر چند قدم آگے بڑھ کر ہاتھ اس کی ہتھیلی پر رکھا اور اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔
" ارتضیٰ ۔۔۔ آئی ایم سو سوری۔۔۔ ہمیں معاف کر دیں!" ارتضیٰ نے چند لمحے بالکل خاموشی سے، گہری ویران نظروں سے سحر کا چہرہ دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ماں کو کھو دینے کے دکھ کا ایسا سمندر تھا کہ سحر کو اپنا ہی دل ڈوبتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ اس نے ٹیک چھوڑی ، نقاہت سے تھوڑا آگے جھک کر اپنا ماتھا سحر کے کندھے پر رکھ دیا۔ چند لمحے خاموشی میں گزرے اور ارتضیٰ کا پورا وجود بری طرح کانپنے لگا۔ اس کے بند لبوں سے ایک دھیمی سی سسکی ابھری اور وہ رونے لگا۔ صوابی کا حاکم ، یوسفزئیوں کا وہ نڈر اور باغی بیٹا، ارتضیٰ حسن خان، اپنی ماں کے غم میں کسی ننھے بچے کی طرح رو رہا تھا۔ سحر کی زبان جیسے پتھر کی ہو گئی تھی۔ اس نے ارتضیٰ کو کبھی یوں ٹوٹتے نہیں دیکھا تھا۔
" اا۔۔۔ ارتضیٰ ۔۔۔!" اس نے کانپتے ہاتھوں سے ارتضیٰ کے بالوں کو چھوا پھر اس کے شانوں کو دھیمے دھیمے تھپکنے لگی۔
" میں زندگی میں سب کچھ کھونے کے لیے تیار تھا، سحر! مگر مجھے میری ماں کی محبت چاہیے تھی۔ میں ساری زندگی ان کی ایک شاباش ، ان کے ایک پیار بھرے بوسے کے لیے ترسا ہوں اور اب؟ اب وہ مجھے اس عمر بھر کے خلا کے ساتھ اکیلا چھوڑ کر چلی گئیں۔" سحر کو پہلی بار اس پر ترس آیا۔
" میں جب بھی انہیں دیکھتا تھا، میرے اندر ایک امید تھی کہ کبھی تو وہ مجھے بھی پیار سے بیٹا کہہ کر پکاریں گے۔۔۔ مگر میری وہ خواہش ہمیشہ کے لیے حسرت بن کر ان کے ساتھ ہی منوں مٹی تلے دفن ہو گئی۔ کچھ رشتے ہمارے بخت میں نہیں ہوتے سحر، ہم جتنا مرضی انتظار کر لیں، ہمیں کبھی ان کا پیار نصیب نہیں ہوتا۔ "
" ارتضیٰ ! خدا کے لیے خود کو یوں ہلکان مت کیجئے۔" سحر نے تڑپ کر اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں اٹھایا۔ارتضیٰ کی آنکھیں بالکل سرخ ہو رہی تھیں۔
" ہم جانتے ہیں کہ ماں کا سایہ کیا ہوتا ہے۔ اور اس سائے سے محرومی کیا ہوتی ہے۔ ہم نے تو کبھی اپنی ماں کا چہرہ تک نہیں دیکھا۔ آپ تو خوش قسمت ہیں کہ آپ کے پاس ان کی یادیں تو ہیں، ان کا چہرہ آپ کے ذہن میں نقش تو ہے نا۔۔۔ آپ ان یادوں کے سنگ زندگی گزار سکتے ہیں۔ "
" یہ یادیں تو سب سے بڑا عذاب ہیں، سحر!" ارتضی نے تلخی سے ہنس کر اپنی سرخ آنکھیں رگڑیں اور دوبارہ اس کے کندھے پر سر ٹکا دیا۔
" یہ یادیں انسان کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہیں، جینے نہیں دیتی یہ یادیں۔"
" نہیں ارتضیٰ!یادیں دیمک نہیں ہوتیں۔ یادیں تو انسان کا آخری سہارا ہوتی ہیں۔" سحر نے اس کے لرزتے ہوئے شانے کو مضبوطی سے تھاما۔ " اگر یادیں نہ ہوں تو انسان صبر کرنا بھول جائے ۔ اماں سائیں چلی گئیں ارتضیٰ مگر وہ آپ کو اس حویلی کا وارث بنا کر گئی ہیں۔ اب آپ کو ان کے لیے صرف مغفرت کی دعا کرنی ہے۔" ارتضیٰ نے گہرا سانس لیا اور سحر کے وجود سے اٹھتی ہوئی اس مانوس خوشبو کو اپنے اندر اتارا۔ ایک طویل ہجر کے بعد، اس کی اجڑی ہوئی کائنات میں اس کی پسندیدہ عورت واپس آ چکی تھی، اور شاید یہی گل بانو کے جانے کے بعد اس کے زخمی دل کے لیے خدا کا سب سے بڑا مرہم تھا۔
☆ ☆ ☆
دو گھنٹے بعد،ارتضیٰ کمرے میں شدید نقاہت اور زخم کے درد کی وجہ سےابھی سویا تھا، سحر نے فوراً اپنے قدم کمرے سے باہر نکالے اور نیچے ماہرخ کے پاس آ گئی۔ اس نے کمرے کا دروازہ کھٹکایا تو ماہ رخ سامنے ہی بیٹھی تھی۔ کچھ دیر گل بانو کی باتیں کرنے کے بعد اسے احساس ہوا کہ پریوش کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔
" ماہرخ ! پری کہاں ہے؟"
" آپ کو نہ معلوم ، بابھی؟" وہ دوبارہ رنجیدہ ہوئی۔
" آپا کو مرتضیٰ لالہ نے قتل کر دیا تھا۔ ابا سائیں مشرقی زمینوں کے دورے پر گئے تھے، پیچھے سے آپا نے گھر سے باگنے کی کوشش کی لیکن لالہ نے پکڑ لیا اور اسے مار کر سلیمان لالہ کے ساتھ اس کا قبر بنا دیا۔ "
" کیا ؟ اور ہارون ؟"
" اسے ارتضیٰ لالہ نے لاہور کے کسی یتیم خانے میں دے دیا تھا۔ معلوم نہی سچ کیا ہے، لیکن لالہ نے بولا تا کہ آپ نے مرتضیٰ لالہ کو آپا کا قتل کرتے دیکھا تھا تبھی آپ گھر چوڑ کر چلی گئی تی۔ " سحر نے اس کا چہرہ دیکھا۔
" آہ۔۔۔ ہاں، وہ ۔۔۔ ہم نے ان کو قتل کرتے دیکھا تھا، یہ نہیں دیکھا تھا کہ کس کوقتل کیا تھا۔" باہر دالان سے کچھ شور کی آواز آئی تو ان دونوں نے فوراً قدم کمرے سے باہر رکھے۔ نیچے پہنچے تو حسن، گلِ جاناں کو بالوں سے گھسیٹ کر دالان کے پچھلے حصے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ بہت سے ملازم گونگے بنے کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔ پلوشہ کونے میں سمٹ کر کھڑی تھی۔ وہ گلِ جاناں کو گھسیٹتے ہوئے پچھلے دالان میں لے گئے، جہاں انہوں نے اسے ایک درخت کے ساتھ کھڑا کر کے موٹے رسے سے جکڑنا شروع کر دیا۔ گلِ جاناں زور زور سے چلا کر دہائی دے رہی تھی۔
اسی لمحے مرتضیٰ، جو باہر سے آرہا تھا، شور سن کر وہاں پہنچا۔ حسن کی خونخوار نظر جیسے ہی مرتضیٰ پر پڑیں، وہ چنگاڑے۔
" مرتضیٰ، ادھر آؤ ! اس بے حیا کو آج یہیں جلا کر راکھ کر دو! اس کی اتنی مجال کے میرے سامنے اپنے معاشقے کے قصّے سنائے۔"
" کون سا معاشقہ ؟" مرتضیٰ نے ان کا چہرہ دیکھا پھر گلِ جاناں کا، جو اس کی موجودگی سے مزید خوف زدہ ہو چکی تھی۔
" یہ بد بخت مجھ سے کہتی ہے کہ مرسلین سے شادی کرے گی!" مرتضیٰ کے ساتھ ساتھ وہاں کھڑے ہر شخص کے لئے یہ بات قیامت سی تھی۔ مرسلین تو ان کا ملازم اور وفادار تھا، ایک حاکم کی بیٹی اس کے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتی تھی؟
" مرتضیٰ! دیکھ کیا رہا ہے۔ یہ زندہ رہی تو میری بیٹیوں کو بھی بدکار بنا دے گی۔"
" بدکار نہیں ہوں میں، چچا! شادی کرنا چاہتی ہوں۔" گلِ جاناں کی بھیگی ہوئی آواز پر اس کے منہ پر زبردست تماچہ رسید کرنے کے بعد وہ مرتضیٰ کی جانب پلٹے۔
" تمہیں میری بکواس سمجھ نہیں آ رہی؟ ادھر آؤ !" اس بار حسن نے اس کو شدید سختی سے بلایا۔ وہ بیٹا جو ان کی آنکھوں سے حکم پڑھ کر عمل کر دیتا تھا۔ آج زبان سے بلانے پر بھی اس کا نہ آنا، حسن داد کو آگ لگا رہا تھا۔
" نہیں ابّا ، آپ کو جو کرنا ہے خود کریں ۔ میں اس گناہ میں آپ کا ساتھ نہیں دینے والا۔" مرتضیٰ نے سپاٹ جواب دیا۔
" اے بد نسل ! بد ذات آدمی، دیکھا! دکھا دی ناں اپنی اوقات!
مجھے پہلے ہی معلوم تھا تو میری اولاد ہے ہی نہیں۔۔۔" حسن نے اپنی انا پر لگی ضرب کا بدلہ سب کے بیچ اس کے سینے میں تیر اتار کر لیا۔
" انکل ! یہ آپ کیسی بات کر رہے ہیں سب کے بیچ؟" سحر نے سب کے بیچ انھیں ٹوکا۔
" اے بھگوڑی، خبردار میرے گھر کے معاملات میں دخل دیا ۔"
" اور تو ۔۔۔ تجھے تو میں دیکھتا ہوں۔" مرتضیٰ سے کہہ کر انہوں نے زمین سے پیٹرول کا کین اٹھایا اور اس کے سر پر پٹرول ڈالنا شروع کر دیا۔ گلِ جاناں خوف سے ہاتھ پاؤں مارنے لگی۔
" ایسا مت کریں چچا، خدا کے لئے ایسا نہ کریں۔
آپ مجھے گھر سے نکال دیں، آپ میرے ابا کی ساری زمینیں رکھ لیں۔ مجھے جانے دیں، چچا ۔" وہ اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی۔ اوپر کمرے میں یہ خوفناک چیخیں سنتے ہی ارتضیٰ حسن کے ہوش اڑ گئے۔ وہ شدید نقاہت اور زخم کے باوجود ، اٹھ کر سیڑھیاں اترنے لگا۔
" چچا ، آپ ہاجرہ پھوپھو کی طرح مجھے حویلی میں کبھی نہ آنے دینا،میری ڈگری منسوخ کروا دینا، مجھے محتاج کر دینا، پر مجھے قتل مت کرو۔ چچا، خدا سےڈرو ۔" انہوں نے پورا کین الٹ کر اب جیب سے لائٹر نکالا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتے ایک مضبوط گرفت نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔
" ابا ! عورت کو مرضی کی شادی کرنے کا حق ہے۔ خدا نے دیا ہے۔ اسے بے قصور قتل ۔۔۔" حسن نے اس کی گرفت سے ہاتھ نکال کر ایک زوردار تھپڑ مرتضیٰ کے چہرے پر دے مارا۔
" بد ذات، بد نسل ، اب تو مجھے بتائے گا کہ عورت کو کون سا حق دینا ہے؟ دفع ہو یہاں سے۔" حسن نے تیزی سے لائٹر جلایا۔اس سے پہلے وہ جلتا ہوا لائٹر گل پر پھینک کر کسی کی دنیا راکھ کر دیتے، مرتضیٰ دوبارہ ان کی طرف لپکا۔
" ابا سائیں ! رک جائیں ! ایسا مت کریں !" ابھی حسن کا ہاتھ لائٹر کو دوبارہ جلانے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ اچانک حویلی کے در و دیوار ایک خوفناک گن شوٹ کی آواز سے لرز اٹھے۔ ابھی ملازمین کی چیخیں بھی نہیں نکلی تھیں کہ دوسرا اور پھر تیسرا لگاتار فائر ہوا۔ تینوں گولیاں حسن کے سینے کے پار ہوئیں تھیں۔ ان کے ہاتھ سے لائٹر چھوٹ کر مرتضیٰ کی گرفت میں ہی رہ گیا۔ حسن کا تڑپتا ہوا وجود ایک ہی لمحے میں زمین بوس ہوا تھا۔
پوری حویلی پر جیسے موت کا سکوت طاری ہوا۔ سب سے آگے کھڑے مرتضیٰ، اس سے پیچھے کھڑی سحر، سیڑھیوں سے ہانپتے ہوئے اترنے والا زخمی ارتضیٰ حسن اور تمام ملازمین نے سکتے کی حالت میں پلٹ کر دیکھا۔
ان سب کے پیچھے مرسلین کھڑا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں پکڑی بندوق کی نال سے اب بھی ہلکا سا دھواں اٹھ رہا تھا اور وہ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ، خون آلود آنکھوں سے ارتضیٰ کو دیکھ رہا تھا۔
" محض ایک معصوم عورت کواس شخص کے ظلم سے بچانے کے جرم میں اس نے مجھ سے میرے ماں باپ، میرا بچپن اور آزادی سب چھین لیا۔ اور آج جب میں نے اتنے سالوں بعد جینے کا حوصلہ کیا تو یہ مجھ سے میری محبت بھی چھیننے چلے ہیں؟ ساری زندگی ان کا کتا بن کر گزار دی اور اب یہ مجھ سے، میرا سب دوبارہ سے چھین لیں۔" وقت جیسے حویلی کے اس آنگن میں ٹھہر گیا تھا۔سحر نے بھاگ کر زمین پر گرتی ماہرخ کو سنبھلا۔فراز، پلوشہ اور سب نوکر چا کر۔۔۔ سب سانس رو کے کھڑے تھے، کیونکہ اب دالان کے وسط میں مرتضیٰ حسن اپنی زندگی کی سب سے بڑی جنگ ہار رہا تھا۔مرتضیٰ گھٹنوں کے بل اپنے باپ کی تڑپتی لاش پر گرا۔
" مرسلین یہ کیا کیا تم نے؟
ابا ۔۔۔ ابا سائیں! آنکھیں کھولیں۔" مرتضیٰ کا ذہنی توازن جیسے جواب دے رہا تھا، اس نے تڑپ کر حسن کا سفید چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
" مرسلین! تم ابا کو نہیں مار سکتے ۔۔۔ میرے ابا سائیں نے ابھی مجھے بیٹا نہیں بولا۔۔۔
ابا ۔۔۔ ابا اٹھیں ، مجھے بیٹا بولیں !
ابا ۔۔۔ میں آپ کا بیٹا ہوں نا ۔۔۔ میں نا جائز نہیں ہوں، ابا!
ابا آنکھیں کھولیں نا ۔۔۔" مرسلین نے آگے بڑھ کر گلِ جاناں کو رسیوں سے آزاد کیا تو وہ روتے ہوئے اس سے لپٹ گئی تھی۔
" مرتضیٰ سمبھالو خود کو۔" ارتضیٰ نے اس کا بازو پکڑ کر اسے زمین سے اٹھانا چاہا۔
" لالہ ! ابا کو اٹھاؤ نا، لالہ !" مرتضیٰ نے پاگلوں کی طرح اس کا دامن تھام کر کہا، اس کی آنکھوں میں کچی عمر کی ٹوٹی ہوئی امیدوں کی کرچیاں تھیں۔ ارتضیٰ اب مشکل سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر زمین پر بیٹھا۔
" ان سے کہو صرف ایک بار مجھے بھی بیٹا بول دیں جیسے تمہیں بولتے ہیں۔
ابا ۔۔۔ ابا اٹھیں نا ۔۔۔"
" مرتضیٰ! میرا بچہ، سمبھالو خود کو۔" ارتضیٰ نے اسے سینے سے لگایا پھر نمناک آنکھیں لئے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
" تم ناجائز نہیں ہو، میرے بچے! تمہاری آنکھیں قدرت نے نیلی بنائی ہیں۔ حوصلہ رکھ میرے بھائی !"
" بھائی ۔۔۔ میں نے بہت سے برے کام ان کے کہنے پر صرف اس لئے کیے کہ یہ مجھے ایک بار بیٹا بول دیں۔ ان کو اٹھاؤ ۔۔۔ یہ ایسے مجھے اس پچھتاوے کی دلدل میں دھکیل کر نہیں جا سکتے۔"
☆ ☆ ☆
حویلی کا وہ وسیع دالان، جو کبھی حسن داد خان کے رعب اور تکبر سے لرزتا تھا، آج ان کے بیٹے کے بین سے گونج رہا تھا۔ خون کی لکیر صوابی کی مٹی پر پھیلتی جا رہی تھی، مگر اس خون نے حویلی پر مسلط برسوں پرانے جبر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا تھا۔
مرسلین ایک طرف خاموشی سے سر جھکائے، بندوق زمین پر ڈالے کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر حسن کو قتل کرنے کا نہیں بلکہ ارتضیٰ کی آنکھوں میں دکھنے والے صدمے کا پچھتاوا تھا۔ گلِ جاناں دالان کے کونے میں گھٹنوں کے بل بیٹھی، پیٹرول کی بو اور آنسوؤں کے سنگ اپنے محافظ کو دیکھ رہی تھی۔
ارتضیٰ نے اپنے زخمی دائیں شانے کے کھنچاؤ کی پروا کیے بغیر، اپنے بائیں مضبوط بازو سے مرتضیٰ کو خود میں بھینچ رکھا تھا، جیسے وہ دنیا کا ہر طوفان اپنے چھوٹے بھائی تک پہنچنے سے پہلے ہی خود پر روک لینا چاہتا ہو۔
ماہ رخ کو اس کے کمرے میں پہنچا کر سحر واپس آئی تو دالان کے ستون کے پیچھے سے اس نے نم آنکھوں سے ان دو بھائیوں کو دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ کیسے ارتضیٰ اپنے کچے ٹانکوں اور ٹوٹتی سانسوں کے باوجود، مرتضیٰ کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ سہارے کے بغیر بیٹھ نہیں سکتا تھا، یہ اس کے لئے بہت تکلیف دہ تھا۔
سحر نے دھیرے دھیرے اپنے قدم آگے بڑھائے اور دالان کے وسط میں، ارتضیٰ کی کمر سے کمر جوڑ کر بیٹھ گئی۔ ارتضیٰ نے خاموشی سے اپنی آغوش میں تڑپتے بھائی کو دیکھا اور پھر پیچھے ٹیک لگا کرسحر کی کمر کا سہارا لے لیا۔ اس کی آنکھوں سے بے تحاشا آنسو بہہ رہے تھے۔
کچھ دیر بعد فراز، مرتضیٰ کو سنبھال کر دالان سے حویلی کے اندر لے گیا تھا۔ سحر نے سہارا دے کر ارتضیٰ کو زمین سے اٹھایا۔
آج حویلی سے ایک جنازہ بھی اٹھنا تھا اور برسوں کا پچھتاوا بھی۔ مگر اس ہولناک مقتل کے ملبے تلے، محبت اور اعتبار کی اک نئی کونپل پھوٹنے کو تیار تھی۔ سحر نے نظریں اٹھا کر ارتضیٰ کو دیکھا، جس کی سرخ، نمناک آنکھیں اب سحر پر تھیں۔ اس ویران دالان میں، جہاں ہر رشتہ بکھر چکا تھا، ان دونوں کی نظروں کا یہ ٹکراؤ ایک خاموش وعدہ تھا کہ اب وہ مل کر حویلی کے ان زخموں کو بھریں گے۔
صوابی کی فضا میں غروب ہوتے سورج کی لالی پھیل رہی تھی، جو اک ہولناک دور کے خاتمے اور ایک نئے، پرسکون آغاز کا پیش خیمہ تھی۔
☆ ☆ ☆
ایک ماہ بعد
زخم بھر چکے تھے، درد کی جگہ اب لازوال سکون نے لے لی تھی اور صوابی کی حویلی پہلی بار انصاف پر مسکرا رہی تھی۔ ایک دلکش شام، جب سورج حویلی کے اونچے برجوں کے پیچھے غروب ہو رہا تھا۔ارتضیٰ حسن نے سفید کلف لگی شلوار قمیض کے اوپر بھوری چادر پہن رکھی تھی۔وہ مکمل طور پر صحت مند ہو چکا تھا۔ شام کی چائے کے بعد اس نےسحر کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی جیپ کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا۔ سحر نے تجسس سے اس کے وجیہہ چہرے کو دیکھا۔
" ارتضیٰ! آپ ہمیں کہاں لے کر جا رہے ہیں؟" سحر نے اپنے دوپٹے کو سر پر درست کرتے ہوئے پوچھا۔ ارتضیٰ نے ایک نظر اپنی بیوی پر ڈالی، اس کے لبوں پر وہی مخصوص ، گہری مسکراہٹ ابھری۔
" بس چند منٹ اور سحر ! میں آج اپنی پسندیدہ عورت کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ دکھانے جا رہا ہوں۔"
" آپ نے پھر ہمیں عورت کہا؟"
" اوکے ۔۔۔ میں اپنی پسندیدہ بیوی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ دکھانے جا رہا ہوں۔"
" آپ کی کتنی بیویاں ہیں جن میں سے ہم پسندیدہ ہیں؟" سحر نے ایک اور دفعہ برا مانا۔
" یا خدا! میں ارتضیٰ حسن ، مسز ارتضیٰ حسن کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ دکھانے جا رہا ہوں جو میں نے ان محترمہ کی غیر موجودگی میں تعمیر کیا ہے۔" ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام کر ڈرامائی انداز میں کہا تو وہ ہنس پڑی۔
کچھ دیر بعد، جیپ ایک بہت بڑی سفید رنگ کی شاندار اور پر وقار عمارت کے سامنے آ کر رکی۔ جس کی چاروں طرف سبزہ اور رنگ برنگے پھولوں کی قطاریں لگی تھیں۔ عمارت کے مرکزی، بھاری لوہے کے گیٹ پر سنہری جلی حروف میں لکھا تھا: "رشتہِ الفت: تربیت گاہ برائے ازدواجی زندگی"
سحر نے حیرت سے اس خوبصورت عمارت کو دیکھا جو کسی ماڈرن کالج جیسی لگ رہی تھی، مگر اس کا نام اور مقصد بالکل اچھوتا تھا۔ وہاں کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آمنے سامنے بنی ان دو جڑواں عمارتوں کے الگ الگ ہالز کی طرف جا رہے تھے۔
" ارتضیٰ ؟ یہ کیا ہے؟ یہ کوئی سکول ہے؟" سحر نے گاڑی سے اترتے ہی تجسس اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ارتضیٰ نے آگے بڑھ کر اس کا نرم ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لیا اور اسے عمارت کے اندر لے آیا ۔ وسیع، چمکتے ہوئے کاریڈور میں قدم رکھتے ہی ارتضیٰ نے ایک گہرا اور پُرسکون سانس لیا اور کہنا شروع کیا۔
" یہ ایک Pre- Wedding School ( شادی سے پہلے کی تربیت گاہ)ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے سحر ، جس کی بنیادیں میں نے جب کھڑی کی تھیں تو سوچا تھا کہ اسے ایک عام سا سکول بناؤں گا لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس کو میں نے پچھلے کئی مہینے لگا کر، دن رات ایک کر کے اس سانچے میں ڈھالا ہے۔
یہاں صوابی اور اس کےگردونواح کے ان تمام نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو لایا جاتا ہے جن کی شادیاں طے پا چکی ہوتی ہیں یا جو شادی کا ارادہ رکھتے ہیں۔" سحر نے حیرت کے اتھاہ سمندر میں ڈوبتے اس کا چہرہ دیکھا۔
" ہم سمجھے نہیں! تربیت گاہ؟ یہاں کیا سکھایا جاتا ہے؟"
" یہاں انہیں وہ سکھایا جاتا ہے جو ہمارے معاشرے کا کوئی باپ ، کوئی استاد اور کوئی کتاب نہیں سکھاتی۔" ارتضی کی آواز میں سنجیدگی اور ایک عزم تھا۔
" یہاں لڑکوں کو سکھایا جاتا ہے کہ عورت کی عزت اور تکریم کیا ہوتی ہے۔
نکاح کوئی قید یا مال غنیمت نہیں بلکہ ایک مقدس ترین ذمہ داری ہے۔
انہیں سکھایا جاتا ہے کہ بیوی پر ہاتھ اٹھانا، اسے ذہنی اذیت دینا یا داؤد جیسے گھٹیا ہتھکنڈوں سے کسی معصوم کی زندگی برباد کرنا مردانگی نہیں بلکہ مردانگی کی سب سے بڑی توہین ہے۔
اور لڑکیوں کو سکھایا جاتا ہے کہ اپنے جائز حقوق کے لیے کب اور کیسے کھڑا ہونا ہے اور اپنے شوہر کا مان کیسے رکھنا ہے۔اس کے کون سے حقوق پورے کرنے ہیں اور کون سی بات ماننی ہے۔ " وہ اسے ایک بڑے کشادہ کانفرنس ہال کے پاس لے آیا جہاں شیشے کے پار ایک ماہر نفسیات کھڑا نوجوان لڑکوں کے ایک گروپ کو اولاد کی تربیت اور ذہنی صحت پر لیکچر دے رہا تھا۔
" یہاں بورڈ پر (کورس پارٹ ٹو) کیوں لکھا ہے؟" سحر نے اس ہال کے باہر لگی سٹینڈی کو دیکھ کر پوچھا۔ ارتضیٰ نے رخ بدل کر سحر کی حیرت سے چمکتی آنکھوں کو دیکھا، اس کی نظروں میں اعتراف محبت تھا۔
" یہاں تین ماہ کا بنیادی کورس مکمل کرنے کے بعد نوجوانوں کا ایک کڑا امتحان ہوتا ہے۔ نفسیاتی، اخلاقی اور دینی امتحان! جو شخص اس امتحان میں پاس ہوتا ہے ،اسے اس تربیت گاہ سے باقاعدہ ایک سرٹیفیکیٹ ملتا ہے۔ اگر کوئی اس امتحان میں فیل ہو جائے تو میں اس کی شادی کی منظوری نہیں دیتا۔۔۔ اور جب تک اس سرٹیفکیٹ پر میرا سائن نہ ہوں، مرتضیٰ بطور ہونے والا سردار، اس پورے علاقے میں اس شخص کا نکاح پڑھانے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔
کوئی مولوی ، کوئی پنچائت مرتضیٰ کی اجازت کے بغیر یہاں نکاح نہیں کروا سکتی۔ فیل ہونے والے کو دوبارہ کورس کرنا پڑتا ہے جب تک وہ ایک اچھا انسان اور ذمہ دار شریک حیات بننے کے قابل نہ ہو جائے۔" اس نے سامنے ہال کی جانب اشارہ کیا جہاں سب سنجیدگی سے پڑھ رہے تھے۔
" ان سب کے فائنل ٹیسٹ کا نتیجہ ابھی نہیں آیا ۔اب چونکہ یہ سب ایک اچھے شریک حیات بننے کے قابل ہو چکے ہیں تو اس پارٹ ٹو میں انہیں مستقبل کا ماں باپ بننا، اولاد کی بہترین پرورش کرنا اور اس اولاد کو اپنا غلام یا جائیداد نہیں بلکہ خدا کی امانت سمجھنے کا کانسپٹ سکھایا جاتا ہے تاکہ صوابی کی مٹی پر پھر کبھی کوئی ماں باپ کے ظلم کا شکار نہ ہو۔ " سحر کا دل ارتضی کی اس دور اندیشی اور اتنے بڑے قدم پر فخر سے لرزنے لگا۔ اس کی مخملی آنکھوں میں آنسوؤں کی ایک چمک ابھر آئی ۔
" آپ نے اتنا بڑا فیصلہ کیوں لیا، ارتضیٰ ؟ پورا صوابی ، یہاں کے صدیوں پرانے خیالات کے لوگ آپ کے خلاف کھڑے ہو سکتے تھے، مرتضیٰ کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔۔۔ کیا آپ نے یہ سب ہماری وجہ سے کیا؟" ارتضیٰ نے اس کا نمناک لہجہ دیکھا، اس کی اپنی گہری آنکھوں میں ایک سال کا وہ سارا درد، وہ تڑپ اور سحر کے وہ آنسو لہرائے جو اس نے لاہور کے اس قید خانے میں دیکھے تھے۔
" میں نے یہ سب اس لیے کیا، تاکہ جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا، وہ اس مٹی کی کسی اور بیٹی کے ساتھ نہ ہو۔" اس کا لہجہ اتنا پراثر اور بھاری تھا کہ سحر کا وجود اندر تک کانپ اٹھا۔
" جب میں نے پہلی بار آپ کو داؤد کے کمرے میں بے پناہ زخموں میں چور دیکھا۔۔۔
جب میں نے داؤد کو آپ سے حلالہ کرنے کی خواہش کرتے دیکھا۔۔۔
جس دن میں نے پہلی بار آپ کے بدن پر سگریٹ کے وہ نشانات دیکھے تھے۔
تب مجھے شدت سے احساس ہوا تھا کہ معاشرہ مرد تو پیدا کر رہا ہے مگر شوہر اور باپ پیدا نہیں کر رہا۔"
" میں یہاں کا حاکم نہیں ہوں، سحر! مگر خدا نے مجھے مقام اور اختیار دونوں دیا ہے۔ اگر میں اپنے علاقے کی عورتوں کو داؤد جیسے درندوں اور سراج انکل جیسے جابر مردوں سے تحفظ نہیں دے سکتا تو میرے اس اختیار پر، میرے اس مقام پر تف ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی اور معصوم لڑکی شادی کے نام پر کسی مقتل میں اتاری جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہاں کی ہر بیٹی جب رخصت ہو تو اسے معلوم ہو کہ اس کا شوہر اس کا محافظ ہے، کوئی جلاد نہیں۔" سحر نے اپنے جذبات پر قابو پانے کی ناکام کوشش کی مگر اس کے آنسو بے ساختہ بہہ نکلے۔ یہ پشیمانی کے آنسو نہیں تھے یہ اس مان کے آنسو تھے جو خدا نے اسے ارتضیٰ حسن کی صورت میں بخشا تھا۔
وہ لڑکی جو کبھی داؤد مختار کی حاکمیت کے خوف سے کانپتی تھی، آج صوابی کے سب سے معزز انسان کی بیوی تھی، جس نے اس کے درد کو ایک عظیم تحریک میں بدل دیا تھا۔ وہ اس سرزمین پر حاکم تھا نہ سردار مگر خدا نے اسے لوگوں کے دلوں پر حکومت دی تھی۔ وہ جو کہتا تھا لوگ اسے سنتے تھے، اس کا کہا مانتے تھے اور اسے معتبر سمجھتے تھے۔
" کیوں رو رہی ہیں ؟ اب سب ٹھیک ہوگیا ہے۔"
" ہمیں آپ پر بہت مان ہے، ارتضیٰ! " ارتضیٰ نے اپنی چادر کے کنارے سے اس کے آنسو صاف کیے۔
" آپ واقعی خدا کا بہترین انتخاب ہیں، خدا نے ہمارا ہاتھ بالکل صحیح اور سچے انسان کے ہاتھ میں تھمایا ہے۔ " ارتضیٰ نے اپنا بازو اس کے کندھے پر پھیلایا اور آگے چل دیا۔ عمارت کے شیشوں سے چھنتی ہوئی روشنی مسکرا رہی تھی۔ صوابی کی فضا گواہ تھی کہ اب یہاں کسی اور 'سحر ' کا سورج کبھی غروب نہیں ہوگا۔
☆ ☆ ☆
برسوں کا سوگ حویلی کے در و دیوار سے اتر چکا تھا۔ صوابی کی مٹی پر بہنے والا وہ آخری خون اپنے ساتھ حویلی کا سارا جبر، تاریکی اور خوف بہا لے گیا تھا۔ اب وہاں درد کی جگہ ایک لازوال، پرسکون اور پاکیزہ سحر نے لے لی تھی۔
آج صوابی کی حویلی ایک بار پھر اپنا حاکم پانے جا رہی تھی۔ حویلی کے وسیع صحن کو رنگ برنگے پھولوں، سفید چادروں اور روشنیوں سے سجایا گیا تھا، جہاں پورے علاقے کے معززین جمع ہو رہے تھے۔ یہ دن تھا مرتضیٰ حسن خان کی دستار بندی کا۔۔۔ وہ دن جب حویلی کو اس کا نیا سردار ملنے جا رہا تھا۔
ارتضیٰ حسن، سفید کلف لگی شلوار قمیض پر سیاہ واسکٹ پہنے، اپنے کمرے کے بڑے آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ خود کو آئینے میں دیکھتا اپنی واسکٹ کے بٹن درست کر رہا تھا جب کمرے کا بھاری دروازہ کھلا اور صندل کی خوشبو فضا میں بکھر گئی۔
ارتضیٰ نے آئینے کے عکس میں دیکھا سحر گلابی ریشمی لباس میں ملبوس، شال کندھوں پر درست کرتی ہوئی، محبت کے دل فریب رنگ سجائے اندر داخل ہوئی تھی۔ اسے یوں اپنے سامنے دیکھ کر ارتضیٰ کے لبوں پر وہی مخصوص گہری مسکراہٹ ابھری۔ وہ مڑا اور چند قدم چل کر اس کے بالکل قریب آگیا ۔ وہ اپنے نئے لباس پر جو سحر نے اسے تحفے میں دیا تھا، اب سحر کی داد چاہتا تھا۔
" ہم نیچے جا رہے ہیں۔ آپ جلدی سے نیچے آئیں، پھر ایک ساتھ باہر چلتے ہیں۔" وہ اس کے لباس پر غور کے بغیر عجلت میں جیسے ہی پلٹنے لگی ارتضیٰ نے اس کی کہنی تھام کر اسے روکا۔
" آپ آج کل مجھ پر توجہ بہت کم نہیں دیتیں؟" ارتضیٰ نے اپنی گہری نظریں خفگی سے اس کے چہرے پر ٹکائیں۔
" یا خدا! ہم نے کب آپ پر توجہ نہیں دی؟" سحر نے حیرت سے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں پھیلائیں۔
" کل شام ۔۔۔ جب مرتضیٰ لان میں گٹار بجا کر سب کو اپنا گیت سنا رہا تھا۔" ارتضیٰ نے نروٹھے پن سے اسے یاد دلایا۔
" آپ کی پوری توجہ اپنے دیور کی سروں پر تھی، میں نے تین دفعہ آپ کو کہا کہ آپ میرے ساتھ آ کر بیٹھ جائیں اور آپ نے مڑ کر دیکھا تک نہیں۔ " سحر کے لبوں پر ایک دلنشین اور گہری مسکراہٹ ابھری، اس نے آگے بڑھ کر ارتضیٰ کی خفا آنکھوں میں جھانکا، جہاں اس کے لیے کائنات بھر کا مان چھپا تھا۔
" دنیا دکھاوا اس چیز پر کرنا چاہیے جسے کھونے کا حوصلہ ہو اور ہم میں ارتضیٰ حسن کو کھونے کا حوصلہ نہیں ہے۔" ارتضیٰ کا ہاتھ اس کی کہنی پر منجمد ہو گیا، اس کے وجیہہ چہرے پر ایک بے ساختہ، روح پرور مسکراہٹ پھیل گئی۔
" جلدی آ جائیں!" وہ اس کو مسکراتا چھوڑ کر اجلت میں کمرے سے نکل گئی۔
ارتضیٰ کچھ دیر وہیں کھڑا آئینے کے سامنے اس کی بات کی گہرائی میں ڈوبتا رہا۔ زندگی سے جب مشکلات، خوف اور انتقام کے یہ کالے بادل چھٹے تھے، تب کہیں جا کر وہ سحر کی حقیقی اور اصل شخصیت سے واقف ہو رہا تھا۔
وہ بلا کی ذہین، خوش مزاج اور ہنسنے ہنسانے والی ایک بہادر لڑکی بن کر ابھری تھی۔ بچپن کی محرومیاں اور ماضی کے دیے گئے تمام زخم کہیں نہ کہیں اس کی شخصیت کے کسی گوشے میں اب بھی موجود تھے مگر اب وہ ان زخموں سے مغلوب نہیں ہوتی تھی۔ ارتضی کی بے پناہ محبت نے اس کے اندر کے سارے زخموں کو آہستہ آہستہ شفا دے دی تھی اور وہ اس سہمے ہوئے وجود سے نکل کر ایک پُراعتماد، کھلکھلاتی ہوئی ، زندگی سے بھرپور لڑکی بن چکی تھی۔
" ارتضیٰ ۔۔۔ جلدی آئیں نا ۔ سب انتظار کر رہے ہیں!" حویلی کے اندرونی صحن سے سحر کی بے باک پکار سنائی دی، وہ سوچوں سے نکل کر نیچے کی جانب بڑھا۔
☆ ☆ ☆
" سنیں، ایسے منہ کیوں لٹکائے ہوئے ہیں آپ ؟" سحر نے دبی دبی مسکراہٹ سے ارتضیٰ کو دیکھا۔
" نہیں، منہ نہیں لٹکا ہوا میرا ، بس کچھ تھکا ہوا ہوں۔" ارتضیٰ نے دھیمے سے جواب دیا، وہ دونوں حویلی کے پچھلے دالان میں داخل ہونے ہی والے تھے۔
" لوگ تو باہر یہی سمجھیں گے کہ آپ اپنے چھوٹے بھائی کی دستار بندی سے خوش نہیں ہیں ۔" سحر نے اس کے تاثرت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
" میں اب ان کا سردار نہیں ، جو سمجھتے ہیں سمجھتے رہیں ۔" اس کے لہجے میں بے نیازی تھی۔
" پر ہمارے تو سردار آپ ہی ہیں نا۔۔۔ ہماری خاطر ہی سہی، تھوڑا مسکرا دیں۔" ارتضیٰ نے چونک کر اس کا چہرہ دیکھا، وہ دلکش انداز میں مسکرا رہی تھی۔ ارتضی کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری۔ اس نے اپنا بازو سحر کی شانوں کے گرد پھیلایا اور اسے اپنے ساتھ لیے دالان میں داخل ہوا۔
وہ دونوں جیسے ہی تقریب میں داخل ہوئے ، وہاں موجود ہر ایک آنکھ ان کی طرف متوجہ ہو گئی۔ پورا ہجوم جیسے مرتضیٰ کو بھول کر ان کی طرف لپکا۔ لوگ عقیدت اور احترام سے جھک جھک کر ارتضیٰ کے ہاتھوں کا بوسہ لے رہے تھے۔ سحر نے رشک اور فخر سے اس شخص کو دیکھا،جس کے سر پر آج دستار تھی نہ ہاتھ میں ظاہری طاقت، مگر وہ صوابی کے لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتا تھا۔
سحر نے ارتضیٰ کا چہرہ دیکھا تو وہ سامنے سٹیج پر بیٹھے مرتضیٰ کو دیکھ رہا تھا۔ سحر نے ایک نظر اپنے کندھے پر موجود اس کے مضبوط ہاتھ پر ڈالی۔
" یہ سب سرداری کے بغیر بھی آپ کی کتنی عزت کرتے ہیں۔" سحر نے رشک سے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
" جی! کیونکہ خدا نے عزت کو نماز ِ نیم شب (تہجّد) کی ادائیگی میں رکھا ہے اور لوگ اسے حکومت میں تلاش کرتے ہیں۔" ارتضیٰ نے مسکرا کر ایک لازوال سچ اس کے گوش گزار کیا۔
کچھ ہی دیر بعد تقریب میں پورے صوابی کے معززین اور سفید رش بزرگوں کی آمد کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا تھا۔ حویلی میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اور تبھی حویلی کے بھاری مرکزی گیٹ پر ایک دم سے شور اٹھا۔ لوگوں نے مڑ کر دیکھا اور اگلے ہی پل پورے ہجوم کی جیسے سانس حلق میں اٹک چکی تھی۔
حویلی کے مرکزی دروازے سے ارتضیٰ حسن کے برابر میں ایک کم سن بچہ اور اس کے ساتھ وہ عورت داخل ہوئی تھی جسے پورے صوابی نے برسوں پہلے مردہ فرض کر لیا تھا۔
" پ۔۔۔ پریوش ؟ سردار حسن داد کی بیٹی؟" ایک بوڑھے خان کی لرزتی آواز گونجی تو جیسے پورے مجمے میں بم پھٹ گیا۔
" یہ کیسے ممکن ہے؟ اسے تو مرتضیٰ نے اپنے ہاتھوں سے قتل کیا تھا!! پھر یہ زندہ۔۔۔؟" دستار بندی کی روایتی خاموشی ایک پر شور محفل میں بدل گئی۔ لوگ صدمے سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اور مردوں کی نظریں گھوم کر سٹیج پر بیٹھے مرتضیٰ کی طرف اٹھیں جس کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔ پریوش، ماہرخ سے مل رہی تھی۔
مگر تہلکہ ابھی شروع ہوا تھا ابھی لوگ اس صدمے کو ہضم بھی نہیں کر پائے تھے کہ گیٹ کی دہلیز پر ایک اور قدم پڑا۔ اور اس بار تو جیسے صوابی کی مٹی پر سچ مچ قیامت ٹوٹ پڑی۔ سفید چادر اوڑھے وقار اور جلال کا پیکر بنے سلیمان محفل میں داخل ہو رہا تھا۔
" سلیمان خان؟ خداوند! یہ تو افسر خان کا بڑا بیٹا ہے، اسے تو سردار حسن نے جلا کر مار دیا تھا؟" پورے مجمے پر جیسے قیامت طاری ہو چکی تھی جو مرد اور پنچایتی سردار کبھی حسن داد کے جابرانہ فیصلوں پر آواز تک نہیں اٹھاتے تھے، آج خاموش نہیں تھے یہ صرف ایک عورت یا ایک مرد کی واپسی نہیں تھی، یہ حسن داد کی پرانے جبر، ان کے جھوٹ اور نام نہاد غیرت کی سلطنت پر مرتضیٰ اور ارتضیٰ کا آخری اور سب سے مہلک وار تھا!
ارتضیٰ نے اس گہما گہمی اور تہلکے کے بیچ ایک گہرا سانس لیا اور مڑ کر سحر کو دیکھنا چاہا۔ مگر نظروں کو مطلوبہ لہر نہ ملی ، اسے سحر کہیں نظر نہ آئی۔ وہ بے چینی سے پلوشہ کے پاس آیا ۔
" پلوشہ ، سَحر کہاں ہیں ؟ "
" یہاں ہی تھی ابھی ، اندر نہ گئی ہو۔" ارتضیٰ حویلی کے اندر داخل ہوا ۔
" سَحر !"
" جی ؟"
" کہاں تھیں آپ ؟"
" ہم یہیں تھے ، کیوں ؟"
" ساتھ ساتھ رہا کریں ، پہلے ہی اتنی مشکل سے حاصل کیا ہے ، گم گئی تو کیا کروں گا ؟"
" توبہ ہےسردار سائیں ، کتنی باتیں بنانی آ گئی ہیں ۔" وہ اسے ساتھ لیے باہر آ رہا تھا، اس کی بات سن کر قدم تھم گئے۔
" کیا کہا ؟"
" میرے سردار سائیں !" وہ ہنس کر اس کے ہاتھ کو دونوں ہاتھوں میں تھامے عقیدت سے چوم رہی تھی۔ اس کی آنکھیں روشن دیوں کی مانند چمک رہی تھیں۔ چند قدم چل کر باہر آئے تو سامنے کا منظر بالکل بدل چکا تھا۔
" آپ دونوں بھائیوں نے تو پورے صوابی کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ دیکھیں کیسے سب حیرت اور صدمے میں ہیں۔" ارتضیٰ نے مسکرا کر اس کا چہرہ دیکھا مگر جب اگلی نظر ہجوم پر پڑی تو اس کی زیرک اور زمانہ شناس نظروں نے اس ہجوم میں اٹھنے والی غصے، بغاوت اور اعتراضات کی بو کو سونگ لیا۔ بزرگوں کے چہروں پر جلال اتر رہا تھا اور سرگوشیاں بڑھ رہی تھیں۔
" سحر ! یہ سب حیرت میں نہیں ہیں۔ ان سب کو اُس جھوٹ سے شدید اختلاف ہو رہا ہے۔ یہ سب قبیلے کے لوگ۔۔۔" اس نے فکر مند نظریں اٹھا کر اسٹیج پہ بیٹھے مرتضیٰ کو دیکھا جس کا چہرہ اس طوفان کے سامنے بالکل سنجیدہ اور سپاٹ تھا۔ ماحول کسی بھی وقت مقتل بن سکتا تھا، بندوقیں نکل سکتی تھیں لیکن وہ پُرسکون بیٹھا تھا۔ سحر نے ارتضیٰ کے چہرے پر ابھرنے والے اس تناؤ کو دیکھا۔
" اگر ایسا ہے ارتضیٰ ۔۔۔تو جائیں !اور جا کر اذان دے دیں۔" سحر کی آواز میں ایک عجیب سا یقین تھا۔
" اذان ؟" ارتضیٰ نے چونک کر اس کا چہرہ دیکھا۔
" جی، اذان! آپ نے ہی تو بتایا تھا کہ تاریخ میں جب بھی کوئی نیا شہر یا قلع فتح ہوتا تھا تو سب سے پہلے اس کی اونچی دیوار پر کھڑے ہو کر اذان دی جاتی تھی تاکہ وہاں کے پرانے مہیب اثرات اور وحشت ختم ہو سکے۔" سحر نے اس کی پریشان آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
" یہ صوابی کے پرانے خیالات، یہ جابرانہ روایات اور ظلم و ستم کے اثرات بھی تو اس قلعے کے آسیب ہیں، ارتضیٰ! جائیں ۔۔۔اور ان سخت دلوں کو فلاح کی طرف بلائیں۔" ارتضیٰ نے اپنی اس بے حد ذہین اور صائب رائے رکھنے والی شریک حیات کا چہرہ دیکھا۔ دل کے کونے کونے میں اس کی محبت کے سو دیے اور جل اٹھے۔ ارتضیٰ کے لبوں پر ایک دل پذیر مسکراہٹ ابھری اور وہ سر ہلاتا ہوا، پورے وقار کے ساتھ تیزی سے اسٹیج کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے سٹیج پر جا کر مائک کے سامنے، قبلہ رخ کھڑے ہوتے ہوئے، اپنے ہاتھ کانوں تک اٹھائے اور پورے صوابی کے شور پر اس کی حاکمانہ جادوئی آواز سحر بن کر گونجی۔
" اللہ اکبر ۔۔۔ اللہ اکبر!"
پہلے ہی تکبیر کی گونج صوابی کی فضاؤں کو چیرتی ہوئی جب حویلی کے شاہی برجوں سے ٹکرائی تو جیسے پورے مجمعے پر ایک سحر طاری ہو گیا۔ وہ شور، وہ طوفان، وہ سب کا غصہ۔۔۔سب ایک سیکنڈ میں زمین بوس ہو گئے تھے۔ مائک سے چھنتی ہوئی ارتضیٰ کی آواز میں ایک ایسی کشش اور جاہ و جلال تھا کہ سب کے دل موم ہوئے۔
جب تک اذان کے آخری الفاظ حویلی کے دلان میں گونج کر خاموش ہوئے پورے صوابی کی فضا پاک و صاف ہو چکی تھی، ہر دل پر ایک سکونِ قلب اتر چکا تھا، ہر طرف امن امان ہو چکا تھا۔
دستار بندی کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے، ارتضیٰ نے چاندی کی تھال سے وہ شاہی دستار اٹھائی اور سٹیج پر بچھے تخت پر بیٹھے مرتضیٰ کے قریب آیا ۔ رواج کے مطابق باپ کی غیر موجودگی میں بھائی کو بھائی کے سر پر دستار سجانی تھی جیسے ہی ارتضیٰ دستار اٹھائے آگے بڑھا، مرتضیٰ اسی پل اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور ارتضیٰ کے ہاتھ سے دستار لے لی۔
اگلے ہی لمحے، اس نے ارتضیٰ کا بازو مضبوطی سے پکڑا اور اسے یک دم دھکیل کر خود اس تخت پر بیٹھا دیا۔ تمام لوگ حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔
" لالہ ! خدا کے لئے یہ دستار تم پہن لو۔۔۔ میں یہ بوجھ نہیں اٹھانا چاہتا۔" مرتضیٰ نے دھیمی آواز میں التجا کی، اس کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں۔ ارتضیٰ نے لوگوں کے سامنے ا پنی خفت مٹانے کے لیے لبوں پر ایک مصنوعی مسکراہٹ سجائی اور دانتوں میں چبا کر مرتضیٰ کو ڈپٹا۔
" مرتضیٰ !بیٹا بکواس بند کرو اور چپ چاپ یہاں بیٹھ کر دستار پہن لو، تماشا نہیں بناؤ سب کے سامنے۔"
" لالہ ، مجھے سنگر بننا ہے! مجھے یہ سیاست، خاندانی دشمنیاں ، یہ سرداری۔۔۔ نہیں چاہیے۔" مرتضیٰ نے باغیانہ مگر بے بس لہجے میں کہا۔ " میرے خواب مت توڑو، لالہ ۔۔۔ مجھے اس سب سے آزاد کر دو۔ مجھے جینے دو !"
" مرتضیٰ ، میں یہ دستار چھوڑ چکا ہوں اور میں اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ میں اسے واپس نہیں لوں گا۔" اس بار ارتضیٰ کا لہجہ سخت اور حاکمانہ ہوا۔ سب لوگ سانس روکے ان دونوں بھائیوں کی اس خاموش جنگ کو دیکھ رہے تھے۔ تبھی اسٹیج کے قریب کھڑی سحر اسٹیج کے اوپر آئی۔
" ارتضیٰ !" اس نے پکارا ۔
" جی ؟" ارتضیٰ نے چونک کر مرتضیٰ کے باغی چہرے سے نظر ہٹائی ۔
" یہ دستار آپ نے ہماری خاطر ، ہم سے شادی کی بغاوت میں چھوڑی تھی نا ؟" سحر کی آواز اسٹیج کے ساتھ بیٹھے پنچایت کے چند بزرگ ہی سن پائے تھے۔ " اگر ہم آج خود آپ سے یہ ریکویسٹ کریں، تب بھی آپ یہ دستار نہیں لیں گے؟" ارتضیٰ نے سحر کی آنکھوں میں دیکھا جہاں ڈھیروں مان تھا۔
" سحر میں اپنی زبان سے نہیں مکرنے والا، میں نے فیصلہ کر لیا تھا۔"
" تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ لوگ ساری زندگی ہمیں طعنے دیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ صوابی کا ہر شخص یہ کہے کہ سحر کی وجہ سے ان کے نواب سائیں کی دستار اتر گئی؟ کیا آپ ہمیں اس مجرمانہ احساس کے ساتھ جینے دینا چاہتے ہیں؟" ارتضیٰ کا دل سحر کے اس پنترا بدلنے پر دھک سے رہ گیا۔ وہ اس حویلی کا ہی خون تھا اور ضد پر اڑے رہنا اس کے خون میں شامل تھا۔ وہ ارتضیٰ حسن تھا۔ اسی حویلی کا بڑا بیٹا، وہ کسی کے سامنے بے بس نہیں تھا۔ اس نے مرتضیٰ اور سحر دونوں کو باری باری دیکھا جو اسے اپنے خلوص اور محبت کے گھیرے میں لینا چاہتے تھے۔
" آپ دونوں مل کر مجھے بلیک میل نہیں کر سکتے ۔" ارتضیٰ نے چبا چبا کر کہا۔
" لیکن میں تمہیں حکم دے سکتا ہوں، ارتضیٰ!" اسی لمحے سٹیج کے قریب سے ایک ضعیف مگر جاندار آواز سنائی دی۔ سب نے مڑ کر دیکھا وہ ملک سائیں تھے۔ پنچائت کے سب سے معزز ، معتبر اور سفید ریش بزرگ۔ وہ اپنی لاٹھی کا سہارا لیے، دھیمے قدموں سے چلتے ہوئے اسٹیج پر آئے ۔
" ملک سائیں ؟" ارتضیٰ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ملک سائیں نے آگے بڑھ کر اس کے چوڑے کندھے پر اپنا شفقت بھرا ہاتھ رکھا۔ " یہ سب لوگ جو یہاں جمع ہیں، یہ تمہارے لیے آئے ہیں، ارتضیٰ۔"
" نہیں ملک سائیں ! یہ سب اس کی دستاربندی کے لیے آئے ہیں۔" اس نے مرتضیٰ کی جانب اشارہ کیا جو اپنے وجود پر لگی بندشوں سے آزاد ہونا چاہتا تھا۔
" نہیں! یہ سب تمہاری ہی دستار بندی کے لیے آئے ہیں۔" ملک سائیں نے دھیرے سے نفی میں سر ہلا کر ارتضیٰ کے سر پر بم پھوڑا۔
" بیٹا! مرتضیٰ وہ بچہ ہے جو ساری زندگی حسن خان کے سخت اصول اور نفرتوں کے ہاتھوں مسخ ہوتا آیا ہے۔ اب اسے اگر اپنی زندگی جینے کا، اپنے خواب پورے کرنے کا موقع مل ہی رہا ہے تو ایک اچھے بھائی بنو ۔کیوں اس سے اس کا ایک آخری خواب چھین رہے ہو؟" ارتضیٰ نے اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھا جو واقعی اس دنیاوی تخت اور سیاست سے بھاگ کر سروں کی دنیا میں پناہ لینا چاہتا تھا۔ اس سے پہلے ارتضیٰ پلٹ کر ان کے آگے کوئی اور جواز پیش کرتا انہوں نے مجمعے کی طرف رخ کیا۔
" سنو سب لوگ، تمہیں کس کو اپنا سردار بنانا ہے؟"
" نواب سائیں کو!" پورے دالان میں ایک مشترکہ فلک شگاف نعرہ ابھرا، حویلی کی پرانی دیواریں اس آواز کی گونج سے لرز اٹھیں۔ ملک سائیں نے دوبارہ پوچھا، " تمہیں کس کو یہ دستار دینی ہے؟"
" نواب سائیں کو۔" لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے لائق تھا، ہر شخص ہاتھ اٹھا کر اپنی محبت کا نظرانہ پیش کرتے ہوئے، ارتضیٰ کا نام لے رہا تھا۔ صوابی نے اپنا سچاسردار خود چن لیا تھا۔ ملک سائیں مسکرائے اور ارتضی کی طرف مڑے۔
" چلو نواب! اب یہ ضد چھوڑ دو ! ہمیں ، صوابی کو اور یہاں کی رعایا کو تم جیسے عادل، مخلص اور رحم دل سردار کی سخت ضرورت ہے۔" سحر نے ایک نظر اپنے وجیہہ شوہر کو دیکھا جس کے جلال اور اخلاق کے سامنے پورا صوابی جھک چکا تھا مگر وہ اب ابھی بظاہر ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔
" ملک سائیں! ان کے تو نخرے ہی ختم نہیں ہوتے ۔ آپ اب دیر مت کریں ، دستار پہنائیں۔" اس کی اس بے باک شرارت پر اسٹیج پر ایک زوردار قہقہا گونجا، ملک سائیں نے ہنستے ہوئے دستار مرتضیٰ کے ہاتھوں سے لی ۔
اور پھر صوابی کے اصل حاکم اور دلوں کے سچے بادشاہ، نواب ارتضیٰ حسن یوسفزئی نے پورے عجز و وقار کے ساتھ اپنے سر کو جھکا دیا۔ ملک سائیں نے مسکراتے ہوئے وہ شاہی دستار اس کے سر پر سجا دی۔ وہ شخص جس نے ایک عورت کی سچی محبت کے لیے تخت چھوڑا تھا، آج ہزاروں لوگوں کی محبت کی بدولت ، دوبارہ اسی تخت پر سب سے معتبر ہو کر جلوہ افروز ہوچکا تھا!
☆ ☆ ☆
تقریب کو ختم ہوتے ہوتے رات کے دو بج گئے تھے۔ تمام لوگ اپنے کاموں سے فارغ ہو کر اپنے کمروں میں سونے کو جا چکے تھے۔ حویلی اب اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی مگر ایک کمرہ تھا جہاں پر اب بھی روشنی تھی، نور تھا، اجالا تھا اور وہ تھا ارتضیٰ حسن کا کمرہ۔
ارتضیٰ ابھی ابھی نمازِ نیم شب سے فارغ ہوا تھا اور جائے نماز پر بیٹھا اپنی انگلیوں کے پوروں پر تسبیح پڑھ رہا تھا۔سحر نماز پڑھ چکی تھی اور اس سے کچھ دور صوفے پر بیٹھی، اس کی دستار کو ہاتھوں میں لیے چمکتی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ ارتضیٰ نے دعا کے بعد ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرے تو سحر فوراً بولی۔
" ارتضیٰ ! کیا ہم آپ کو یہ دستار اپنے ہاتھوں سے پہنا سکتے ہیں؟"
" آپ کو پوچھنے کی ضرورت ہے؟" سحر نے فوراً دستار اٹھائی اور جائے نماز پر اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔
"ارتضیٰ ! جب ہم لاہور میں تھے جب ماضی کے آسیب اور داؤد کا ظلم ہمیں جینے نہیں دے رہا تھا تو ہمیں لگتا تھا کہ ہماری زندگی کا اندھیرا کبھی ختم نہیں ہوگا۔لیکن پھر۔۔۔ آپ نے ہماری زندگی میں نماز کو شامل کیا۔ ہم نے اپنے سارے دکھ، سارے آنسو اور سارے خوف مصلے پر خدا کے سامنے رونا شروع کر دیے۔" وہ اس کے سر پر دستار کے پیج باندھتی جاتی اور روتی جاتی۔
" اور جانتے ہیں کیا ہوا؟ جیسے ہی ہمارے سجدے سچے ہوئے۔ خدا نے ہمارے نصیب کے سارے بند تالے کھول دیے۔اس نے ہمیں بابا کے خوف سے نجات دی، ہمیں آپ جیسا رحم دل انسان دیا۔سچ میں ارتضی انسان دنیا کے سارے مسئلوں کے حل دنیا میں ڈھونڈتا ہے مگر ہر مسئلے کا حل صرف نماز میں ہے، صرف نماز میں۔۔۔ اور جسے یہ نماز مل جائے، اس پر واجب ہے کہ وہ خدا کا شکر کرے۔ الحمدللہ!" وہ دستار باندھ چکی تو اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔ ارتضیٰ نے اس کے چہرے سے آنسو صاف کیے اور اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔
" اور خدا نے میری نمازِ نیم شب کی دعاؤں کا صلہ مجھے آپ جیسی مومن عورت کی صورت میں عطا کیا ہے۔ صحیح کہا جسے یہ نماز مل جائے، اس پر واجب ہے کہ وہ خدا کا شکر کرے۔ الحمدللہ ! الحمدللہ!"
☆ ☆ ☆
اس خوبصورت رات کے بعد صوابی کی حویلی پر وقت کا پہیہ تیزی سے گھما اور دو سال کا عرصہ بیت گیا۔ ان دو سالوں میں سراج احمد پر چلنے والا کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔ لاہور والے گھر سے صالحہ کی باقیات ملنے اور ارتضیٰ پر قاتلانہ حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج برآمد ہونے کے بعد، سراج احمد کو 14 سال کی قید کی سزا سنا دی گئی تھی مگر لوہے کی سرد سلاخوں کے پیچھے اب بھی ان کا تکبر کم ہونے کو تیار نہیں تھا۔
وہ ایک ایسے جابر مرد تھے جو گھر کی عورتوں کو انسان نہیں بلکہ اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے تھے جسے اپنے اشاروں پر نچانا، ان کے نزدیک ان کا حق تھا۔ وہ جیل کی کوٹھری میں بھی پاگلوں کی طرح بس یہی کہتے تھے ۔۔۔
" اس ارتضیٰ نے میری سحر کو مجھ سے چھینا ہے۔
میں اپنی سحر کو واپس لاؤں گا۔
میں اس ارتضیٰ کو مار ڈالوں گا۔
مجھے میری معصوم سحر واپس چاہیے۔
میری بیٹی مجھ سے نفرت نہیں کر سکتی۔" 14 سال کی ذلت بھری سزا سننے کے بعد بھی وہ خود کو مجرم نہیں بلکہ ارتضیٰ کو قصوروار مانتے تھے۔ سحر ان کے اس زہریلے چہرے کو پہچان کر ان سے تمام رشتے تعلق ہمیشہ کے لیے ختم کر چکی تھی۔
برسوں پہلے محض ایک عورت کو کنٹرول کرنے کی خاطر صالحہ کی جان لینے اور پھر ساری زندگی اس راز پر پردہ ڈالنے کے لیے سمیرہ کو اپنے نکاح میں رکھنے والے سراج احمد پر اب مکافاتِ عمل کی چکی گھوم چکی تھی اور اب انہیں عمر بھر اس میں پسنا تھا۔
☆ ☆ ☆
مرتضیٰ اب تک اپنی ایک الگ ہی دنیا بسا چکا تھا۔ سرداری ،حویلی اور زندگی کے تمام پرانے جھنجھٹوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے خواب کی تکمیل کی راہ پر گامزن تھا۔ اس کی آواز کا جادو جو پہلے حویلی کی دیواروں میں محدود تھا،اب دنیا بھر میں دھوم مچا رہا تھا۔ اس کے مداحوں نے اس کا نیا نامMDK رکھا تھا اور یہ نام اسے مرتضیٰ داد اور مرتضیٰ حسن کی جنگ سے بالکل آزاد کر چکا تھا۔ ایک سخت گیر ، بے پرواہ اور بے لگام لڑکا، سروں کی دنیا میں قدم رکھتے ہی موم ہو گیا تھا اور اس کے لہجے کی پرانی کرختگی اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی تھی۔
عنقریب پلوشہ کی شادی اس کے پسندیدہ شخص سے ہونے والی تھی وہ ہر ہفتے حویلی آتا اور اپنی بہن کے لیے کوئی نیا گیت سنا تھا ۔ ہاجرہ پورا ہفتہ اس کا انتظار کرتیں اور جب وہ آتا تو گل اور مرسلین بھی جو حویلی کے قریب ہی ایک خوبصورت گھر میں ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہے تھے، حویلی پہنچ جاتے۔ پریوش اور سلیمان بھی ہارون کے ساتھ حویلی چلے آتے۔ برسوں بعد حویلی کی بیٹیاں اپنے بھائیوں کے ساتھ بے خوف بیٹھا کرتیں اور پھر پورا خاندان ارتضیٰ حسن کے پاک و حلال دسترخوان پر اکھٹے کھانا کھاتا۔
وقت بدل گیا تھا اور لوگ بھی۔۔۔ سب نے اب پرانی جابرانہ روایات کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر ذہنی سکون اور خوشیوں کو چن لیا تھا۔
☆ ☆ ☆
یوسفزئی خاندان کا دلیر بیٹا، ارتضیٰ حسن ۔۔۔ ان دو سالوں میں صوابی کو عدل و انصاف کا گہوارہ بنا چکا تھا جس کی مثال اس پاس کے اضلاع میں نہیں ملتی تھی۔ اس نے نہ صرف حویلی سے بلکہ پورے صوابی سے ان بوسیدہ روایات کو ختم کر دیا تھا۔
سحر نے ان دو سالوں میں نہ صرف اپنے بچپن کے خواب کو پورا کیا تھا بلکہ جس جس طرح سے ممکن تھا ارتضیٰ کا ساتھ دیا تھا، رشتہ الفت کی بنیاد مضبوط کرنے سے لے کر پنچایت سے عورت دشمن ذہنیت کے لوگوں کو نکلوانے تک وہ ارتضی کے شانہ بشانہ رہی تھی۔
مغرب کے بعد کا وقت تھا جب سحر فیشن شو کی ایک طویل اور کامیاب تقریب سے فارغ ہو کر تھکی ہاری حویلی آئی تو قبیلے کی چند عورتیں اپنے مسائل لیے سردارنی کا انتظار کر رہی تھیں۔اس نے نماز ادا کی اور ان کے پاس چلی گئی اور پھر وقت کہاں گیا، خدا جانے۔۔۔
رات کے آخری پہر اس کی واپسی ہوئی، وہ نہا کر غسل خانے سے باہر نکلی تو ارتضیٰ ہمیشہ کی طرح اول وقت پر مصلے پر موجود، اپنے رب کے حضور حاضر تھا۔ سحر نے مسکرا کر اپنے سر پر دوپٹہ درست کیا اور ارتضیٰ کے پیچھے اپنا مصلہ بچھا لیا۔ ارتضیٰ نے نماز ختم کر کے جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو سحر نے بھی اپنے ہاتھ پھیلا دیے، ان کی زندگی میں خدا کا دیا سب کچھ تھا۔۔۔ عزت، حکومت ، معتبری، کامیابیاں اور بے پناہ محبت۔ لیکن اس وقت بھی مصلے پر بیٹھے سحر کی آنکھوں میں ایک ہی معصوم سی التجا چمک رہی تھی۔ اسے اب بھی اپنے رب پر کامل یقین تھا کہ جس خدا نے اس کے نصیب کے اتنے بڑے بڑے بند تالے کھول دیے، وہ ایک دن اس کی گود بھی ضرور ہری کرے گا اور انہیں اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمائے گا۔ اس کے دل میں مایوسی کا عکس بھی نہیں تھا صرف ایمان اور امید کا ایک سمندر تھا۔ ارتضیٰ نے سحر کے چہرے پر پھیلی اس امید کو دیکھا تو محبت سے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا۔
" میں یہ نہیں کہتا سحر کہ خدا مجھے اولاد نہیں دے گا، لیکن آپ کی دعاؤں کی شدت سے لگتا ہے کہ آپ بہت جلد خدا سے کن کہلوا لیں گی۔" سحر نے اس کے برابر میں بیٹھتے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا۔
" خدا کے ہاں دیر ہے ارتضیٰ، اندھیر نہیں۔ جس نے ہماری کوکھ میں ایک دفعہ اولاد دی تھی، وہ دوسری دفعہ بھی ضرور دے گا۔" حویلی کے در و دیوار پر فجر کی روح پرور اذان گونجنے لگی جو ان دونوں کے دلوں کو اسی یقین سے بھر رہی تھی کہ جب تک زندگی میں سجدے اور نماز شامل ہیں، ان کی زندگی کے اجالے کبھی اندھیر نہیں ہو سکتے۔
✨ (الْحَمْدُ لِلّٰہ ۔ تمام شد) ✨