قارئین کے نام
یہ کہانی محض صفحات کا مجموعہ یا کسی روایتی رومانس کی داستان نہیں تھی، یہ ایک تزکیہِ نفس کاسفر تھا۔ یہ سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ جب تک ہم اپنے اندر کی انا، جاہ پسندی، تکبر اور جبر کے بتوں کو پاش پاش نہیں کرتے، تب تک ہماری روح پاکیزہ نہیں ہو سکتی۔ انسان کی اصل اور سب سے بڑی فتح اپنے نفس پر قابو پانا اور عاجزی کو چننا ہے۔
یہ تحریر اس تلخ معاشرتی سچائی کا نوحہ بھی تھی جہاں نکاح کے پاکیزہ رشتے کو حقِ ملکیت یا اپنی ہی شریکِ حیات کے وجود پر زبردستی اور ذہنی و جسمانی تشدد کرنے کا لائسنس سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ سفر اس سوچ کو بدلنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش تھی کہ تقدسِ نکاح، تسخیر اور جبر کا نام نہیں بلکہ تحفظ، تکریم اور باہمی رضا کا نام ہے۔
میرے پیارے قارئین! اس تحریر کا سب سے بڑا حاصل نماز کی تلقین ہے۔ انسان جب تک اپنے دکھوں اور زخموں کا گلہ دنیا سے کرتا ہے، وہ تڑپتا رہتا ہے، لیکن جیسے ہی وہ اپنے آنسوؤں کا رخ مصلّے کی طرف موڑتا ہے اور نمازِ نیم شب (تہجد) کو اپنی اصل پناہ گاہ بنا لیتا ہے، اس کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ اگر آج آپ کی زندگی میں بھی کوئی اندھیرا ہے، کوئی آپ کی روح کو زخمی کر رہا ہے یا کوئی آپ کا مان توڑ رہا ہے، تو دنیا کے دروازوں پر دستک دینا چھوڑ دیں اور جائے نماز بچھائیں۔ دنیا کے ہر مسئلے کا حل، ہر گہرے زخم کی شفا صرف اور صرف سجدوں میں ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
"اپنے حالات لوگوں کے سامنے بیان نہ کرو، کیونکہ جو شخص تم سے ہمدردی بھی کرے گا وہ اندر ہی اندر تمہاری آزمائش پر خوش ہوگا، اور لوگوں کو تمہاری کمزوریوں کا پتا چل جائے گا۔"
اور آخری بات۔۔۔ خدا کے تھام لینے پر کامل یقین رکھیے!
جب دنیا آپ کو اکیلا چھوڑ دے، جب آپ کو لگے کہ آپ کسی مقتل میں کھڑے ہیں اور اب بچنے کا کوئی راستہ نہیں، تب یاد رکھیے گا کہ عرش والا سب دیکھ رہا ہے۔ وہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔ وہ جب تھامتا ہے تو ظالموں اور جابروں کو خاک میں ملا دیتا ہے اور ایک سہمے ہوئے، بےبس وجود کو زمانے بھر میں سب سے معتبر بنا کر لوگوں کے دلوں پر حاکمیت عطا کر دیتا ہے۔ ربِ کعبہ کے ہاں دیر ضرور ہے، اندھیر نہیں۔ اس کے 'کُن' پر یقین رکھیے، وہ آپ کی اجڑی ہوئی دنیا کو بھی رونق بخشے گا اور نصیب کے بند تالے کھول دے گا۔
امید ہے کہ جب خدا کا کوئی وسیلہ یا مخلص بندہ آپ کو اس کی طرف بلانے آئے گا تو آپ خاموشی سے اس کی بات مان لیں گے اور اس کتاب کو بھی ایک خدائی وسیلہ سمجھ کر ہمیشہ اپنے دلوں میں محفوظ رکھیں گے۔ اگلے کسی نئے ادبی سفر، نئے جذبوں اور نئی کہانی کے ساتھ جلد میں دوبارہ حاضر ہوں گی۔ تب تک کے لیے اپنا اور اپنے دل کا بہت خیال رکھیے گا،خود کو معتبر جانتے ہوئے خود پر رحم کیجیے گا، خود کو کسی سے compare مت کرئیے گا، خدا پر کامل ایمان رکھتے اور نماز پڑھتے رہیے گا اور مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔میں اپنے تمام پیارے قارئین کی دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں جنہوں نے اس نظریاتی اور روحانی سفر میں میرا ساتھ دیا۔ آپ کی محبت اور داد ہی میرے قلم کا اصل اثاثہ ہے۔
ہمیشہ سلامت رہیے،